You are on page 1of 281

Qura’an Al-Kareem (Urdu)

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

:Documented By
Zafar Iqbal Khan
Dated: 27th March, 2007

Page 1 of 281
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬

‫سورة الفَا ِتحَة‬


‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫سککب طرح کککی تعریککف خدا ہی کککو (سککزاوار) ہے جککو تمام مخلوقات کککا پروردگار ہے (‪ )۱‬بڑا مہربان نہایککت رحککم وال (‪)۲‬‬
‫انصکاف ککے دن ککا حاککم (‪( )۳‬اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتکے ہیکں اور تجکھ ہی سکے مدد مانگتکے ہیکں (‪ )۴‬ہم ککو‬
‫سیدھے رستے چل (‪ )۵‬ان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا (‪ )۶‬نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ‬
‫گمراہوں کے (‪)۷‬‬

‫‪Page 2 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬

‫سورة ال َب َقرَة‬
‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫الم (‪ )۱‬یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلمِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ( ‪ )۲‬جو غیب پر‬
‫ایمان لتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھ تے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہ یں ( ‪ )۳‬اور‬
‫جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لتے اور آخرت‬
‫کا یقین رکھ تے ہ یں (‪ )۴‬یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہ یں اور یہی نجات پانے والے ہ یں (‪ )۵‬جو لوگ‬
‫کافکر ہ یں انہیکں تم نصکیحت کرو یکا نکہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہ یں لنکے ککے (‪ )۶‬خدا نکے ان کے دلوں اور کانوں‬
‫پککر مہر لگککا رکھھی ہے اور ان کککی آنکھوں پککر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان ککے لیکے بڑا عذاب (تیار) ہے (‪ )۷‬اور بعککض لوگ‬
‫ایسے ہ یں جو کہ تے ہ یں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھ تے ہ یں حالنکہ وہ ایمان نہ یں رکھ تے ( ‪ )۸‬یہ (اپنے پندار‬
‫میں) خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کو چکما نہیں دیتے اور اس سے بے خبر ہیں‬
‫(‪ )۹‬ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض ت ھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو‬
‫دکھ دینے وال عذاب ہوگا (‪ )۱۰‬اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں‪ ،‬ہم تو اصلح کرنے والے‬
‫ہیں (‪ )۱۱‬دیکھو یہ بلشبہ مفسد ہیں‪ ،‬لیکن خبر نہیں رکھتے (‪ )۱۲‬اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان‬
‫لے آئے‪ ،‬تم ب ھی ایمان لے آؤ تو کہ تے ہ یں‪ ،‬بھل جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہ یں اسی طرح ہم ب ھی ایمان لے آئیں؟ سن‬
‫لو کہ یہی بےوقوف ہ یں لیکن نہ یں جانتے (‪ )۱۳‬اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہ یں تو کہ تے ہ یں کہ ہم ایمان لے آئے ہ یں‪،‬‬
‫اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہ یں تو (ان سے) کہ تے ہ یں کہ ہم تمھارے ساتھ ہ یں اور (پیروا نِ محمد ﷺ سے) تو ہم ہنسی‬
‫کیکا کرتکے ہیکں (‪ )۱۴‬ان (منافقوں) سکے خدا ہنسکی کرتکا ہے اور انہیکں مہلت دیئے جاتکا ہے ککہ شرارت وسکرکشی میں پڑے بہک‬
‫رہے ہیں (‪ )۱۵‬یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی‪ ،‬تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ‬
‫وہ ہدایت یاب ہی ہوئے (‪ )۱۶‬ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلئی۔ جب آگ نے اس‬
‫کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل ککر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہ یں‬
‫دیکھتے (‪( )۱۷‬یہ) بہرے ہیں‪ ،‬گونگے ہیں‪ ،‬اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے ( ‪ )۱۸‬یا‬
‫ان ککی مثال مینکہ ککی سکی ہے ککہ آسکمان سکے (برس رہا ہو اور) اس میکں اندھیرے پکر اندھیرا (چھھا رہا) ہو اور (بادل) گرج‬
‫(رہا) ہو اور بجلی (کونکد رہی) ہو تکو یکہ کڑک سکے (ڈر ککر) موت ککے خوف سکے کانوں میکں انگلیاں دے لیکں اور ال کافروں‬
‫کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے (‪ )۱۹‬قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔‬
‫جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑ تے ہ یں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے‬
‫رہ جاتے ہیں اور اگر ال چاہ تا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک‬
‫ال ہر چیز پر قادر ہے (‪ )۲۰‬لوگو! اپنے پروردگار کی عبات کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم‬
‫(اس کے عذاب سے) بچو (‪ )۲۱‬جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر‬
‫تمہارے کھانکے ککے لیکے انواع و اقسکام ککے میوے پیدا کئے۔ پکس کسکی کو خدا ککا ہمسکر نکہ بناؤ۔ اور تکم جانتکے تکو ہو ( ‪ )۲۲‬اور‬
‫اگکر تکم ککو اس (کتاب) میکں‪ ،‬جو ہم نکے اپنکے بندے (محمدﷺ عربکی) پکر نازل فرمائی ہے کچکھ شکک ہو تو اسکی طرح ککی ایکک‬
‫سورت تم بھی بنا لؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بللو اگر تم سچے ہو (‪ )۲۳‬لیکن اگر (ایسا) نہ کر‬
‫سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار‬
‫کی گئی ہے (‪ )۲۴‬اور جو لوگ ایمان لئے اور نیک عمل کرتے رہے‪ ،‬ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے)‬
‫باغ ہیں‪ ،‬جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے‪ ،‬یہ تو‬
‫وہی ہے جکو ہم ککو پہلے دیکا گیکا تھھا۔ اور ان ککو ایکک دوسکرے ککے ہم شککل میوے دیئے جائیکں گکے اور وہاں ان ککے لیکے پاک‬

‫‪Page 3 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہ یں گے (‪ )۲۵‬ال اس بات سے عار نہ یں کرتا کہ مچ ھر یا اس سے بڑھ کر کسی‬
‫چیز (مثلً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں‪ ،‬وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے‬
‫سچ ہے اور جو کافر ہ یں وہ کہ تے ہ یں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور‬
‫بہتوں کو ہدایکت بخشتکا ہے اور گمراہ بھھی کرتکا تکو نافرمانوں ہی ککو (‪ )۲۶‬جکو خدا ککے اقرار ککو مضبوط کرنکے ککے بعکد توڑ‬
‫دیتے ہ یں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھ نے کا ال نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین‬
‫میں خرابی کرتے ہ یں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہ یں (‪( )۲۷‬کافرو!) تم خدا سے کیوں کر منکر ہو سکتے ہو جس حال‬
‫میں ککہ تکم بےجان ت ھے تو اس نے تم کو جان بخشکی پھھر وہی تم کو مارتکا ہے پھھر وہی تکم کو زندہ کرے گا پھھر تکم اسکی کی‬
‫طرف لوٹ کر جاؤ گے (‪ )۲۸‬وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہ یں تمہارے لیے پیدا کیں پ ھر آسمان کی طرف‬
‫متوجکہ ہوا تکو ان ککو ٹھیکک سکات آسکمان بنکا دیکا اور وہ ہر چیکز سکے خکبردار ہے ( ‪ )۲۹‬اور (وہ وقکت یاد کرنکے ککے قابکل ہے)‬
‫جکب تمہارے پروردگار نکے فرشتوں سکے فرمایکا ککہ میکں زمیکن میکں (اپنکا) نائب بنانکے وال ہوں۔ انہوں نکے کہا۔ کیکا تُو اس میکں‬
‫ایسکے شخکص ککو نائب بنانکا چاہتکا ہے جکو خرابیاں کرے اور کشکت وخون کرتکا پھرے اور ہم تیری تعریکف ککے سکاتھ تسکبیح‬
‫وتقدیس کرتے رہ تے ہ یں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہ یں جانتے (‪ )۳۰‬اور اس نے آدم کو سب (چیزوں‬
‫کے) نام سکھائے پ ھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مج ھے ان کے نام بتاؤ ( ‪ )۳۱‬انہوں نے‬
‫کہا‪ ،‬تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے‪ ،‬اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت وال ہے (‬
‫‪( )۳۲‬تکب) خدا نکے (آدم ککو) حککم دیکا ککہ آدم! تکم ان ککو ان (چیزوں) ککے نام بتاؤ۔ جکب انہوں نکے ان ککو ان ککے نام بتائے تکو‬
‫(فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو‬
‫تکم ظاہر کرتکے ہو اور جکو پوشیدہ کرتکے ہو (سکب) مجکھ ککو معلوم ہے (‪ )۳۳‬اور جکب ہم نکے فرشتوں ککو حککم دیکا ککہ آدم ککے‬
‫آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا ( ‪ )۳۴‬اور ہم نے کہا کہ‬
‫اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا‬
‫نہیکں تکو ظالموں میکں (داخکل) ہو جاؤ گکے (‪ )۳۵‬پھھر شیطان نکے دونوں ککو وہاں سکے پھسکل دیکا اور جکس (عیکش ونشاط) میکں‬
‫تھھے‪ ،‬اس سکے ان ککو نکلوا دیکا۔ تکب ہم نکے حککم دیکا ککہ (بہشکت بریکں سکے) چلے جاؤ۔ تکم ایکک دوسکرے ککے دشمکن ہو‪ ،‬اور‬
‫تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے (‪ )۳۶‬پ ھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ‬
‫کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے وال (اور) صاحبِ رحم‬
‫ہے (‪ )۳۷‬ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا‬
‫کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ( ‪ )۳۸‬اور جنہوں نے (اس کو)‬
‫قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلیا‪ ،‬وہ دوزخ میں جانے والے ہ یں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہ یں گے ( ‪ )۳۹‬اے یعقوب‬
‫کی اولد! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں‬
‫اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا ت ھا اور مج ھی سے ڈرتے رہو (‪ )۴۰‬اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول‬
‫محمدﷺ پکر) نازل ککی ہے جکو تمہاری کتاب تورات ککو سکچا کہتکی ہے‪ ،‬اس پکر ایمان لؤ اور اس سکے منکرِ اول نکہ بنکو‪ ،‬اور‬
‫میری آیتوں میکں (تحریکف ککر ککے) ان ککے بدلے تھوڑی سکی قیمکت (یعنکی دنیاوی منعفکت) نکہ حاصکل کرو‪ ،‬اور مجھھی سکے‬
‫خوف رک ھو (‪ )۴۱‬اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملؤ‪ ،‬اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ (‪ )۴۲‬اور نماز پڑھا کرو‬
‫اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھ کا کرو (‪( )۴۳‬یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو‬
‫نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کئے دیتے ہو‪ ،‬حالنکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟ (‬
‫‪ )۴۴‬اور (رنکج وتکلیکف میکں) صکبر اور نماز سکے مدد لیکا کرو اور بکے شکک نماز گراں ہے‪ ،‬مگکر ان لوگوں پکر (گراں نہیکں)‬
‫جو عجز کرنے والے ہیں (‪ )۴۵‬اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ‬
‫کر جانے والے ہیں (‪ )۴۶‬اے یعقوب کی اولد! میرے وہ احسان یاد کرو‪ ،‬جو میں نے تم پر کئے تھے اور یہ کہ میں نے تم کو‬
‫جہان ککے لوگوں پکر فضیلت بخشکی تھھی (‪ )۴۷‬اور اس دن سکے ڈرو جکب کوئی کسکی ککے کچکھ کام نکہ آئے اور نکہ کسکی ککی‬
‫سکفارش منظور ککی جائے اور نکہ کسکی سکے کسکی طرح ککا بدلہ قبول کیکا جائے اور نکہ لوگ (کسکی اور طرح) مدد حاصکل ککر‬
‫سکیں (‪ )۴۸‬اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قو مِ فرعون سے نجات بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ‬
‫دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہ نے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی‬

‫‪Page 4 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫طرف سکے بڑی (سکخت) آزمائش تھھی (‪ )۴۹‬اور جکب ہم نکے تمہارے لیکے دریکا ککو پھاڑ دیکا تکم ککو نجات دی اور فرعون ککی‬
‫قوم کو غرق کر دیا اور تم دیکھ ہی تو رہے تھے (‪ )۵۰‬اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے‬
‫پیچ ھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کر لیا اور تم ظلم کر رہے ت ھے (‪ )۵۱‬پ ھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کر دیا‪ ،‬تاکہ تم‬
‫شکر کرو (‪ )۵۲‬اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے‪ ،‬تاکہ تم ہدایت حاصل کرو (‪ )۵۳‬اور جب موسیٰ‬
‫نکے اپنکی قوم ککے لوگوں سکے کہا ککہ بھائیکو‪ ،‬تکم نکے بچھڑے ککو (معبود) ٹھہرانکے میکں (بڑا) ظلم کیکا ہے‪ ،‬تکو اپنکے پیدا کرنکے‬
‫والے ککے آگکے توبکہ کرو اور اپنکے تئیکں ہلک ککر ڈالو۔ تمہارے خالق ککے نزدیکک تمہارے حکق میکں یہی بہتکر ہے۔ پھھر اس نکے‬
‫تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے وال (اور) صاحبِ رحم ہے ( ‪ )۵۴‬اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ‬
‫موسیٰ‪ ،‬جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے‪ ،‬تم پر ایمان نہیں لئیں گے‪ ،‬تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے‬
‫ت ھے (‪ )۵۵‬پ ھر موت آ جانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرِ نو زندہ کر دیا‪ ،‬تاکہ احسان مانو ( ‪ )۵۶‬اور بادل کا تم پر سایہ کئے‬
‫رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں‪ ،‬ان کو کھاؤ (پیو) مگر‬
‫تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے (‬
‫‪ )۵۷‬اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو‪ ،‬خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا)‬
‫دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہ نا‪ ،‬ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ‬
‫دیں گے (‪ )۵۸‬تو جو ظالم ت ھے‪ ،‬انہوں نے اس لفظ کو‪ ،‬جس کا ان کو حکم دیا ت ھا‪ ،‬بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہ نا شروع‬
‫کیا‪ ،‬پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا‪ ،‬کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے (‪ )۵۹‬اور جب موسیٰ نے اپنی‬
‫قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لٹھی ماری) تو پھر اس میں سے‬
‫بارہ چشمکے پھوٹ نکلے‪ ،‬اور تمام لوگوں نکے اپنکا اپنکا گھاٹ معلوم ککر (ککے پانکی پکی) لیکا۔ (ہم نکے حککم دیکا ککہ) خدا ککی (عطکا‬
‫فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیکو‪ ،‬مگکر زمیکن میکں فسکاد نکہ کرتکے پھرنکا (‪ )۶۰‬اور جکب تکم نکے کہا ککہ موسکیٰ! ہم سکے ایکک‬
‫(ہی) کھانے پر صبر نہ یں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز‬
‫(وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں‪ ،‬ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھل عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض‬
‫ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو‪ ،‬وہاں جو مانگتے ہو‪ ،‬مل جائے گا۔‬
‫اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چم ٹا دی گئی اور وہ ال کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔‬
‫یہ اس لیے کہ وہ ال کی آیتوں سے انکار کرتے ت ھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے ت ھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ‬
‫نافرمانکی کئے جاتکے اور حکد سکے بڑھھے جاتکے تھھے (‪ )۶۱‬جکو لوگ مسکلمان ہیکں یکا یہودی یکا عیسکائی یکا سکتارہ پرسکت‪( ،‬یعنکی‬
‫کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لئے گا‪ ،‬اور نیک عمل کرے گا‪ ،‬تو ایسے لوگوں کو‬
‫ان (ککے اعمال) ککا صکلہ خدا ککے ہاں ملے گکا اور (قیامکت ککے دن) ان ککو نکہ کسکی طرح ککا خوف ہوگکا اور نکہ وہ غکم ناک ہوں‬
‫گے (‪ )۶۲‬اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو‬
‫دی ہے‪ ،‬اس کو زور سے پکڑے رہو‪ ،‬اور جو اس میں (لکھا) ہے‪ ،‬اسے یاد رکھو‪ ،‬تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو (‪ )۶۳‬تو تم‬
‫اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے (‬
‫‪ )۶۴‬اور تکم ان لوگوں ککو خوب جانتکے ہوں‪ ،‬جکو تکم میکں سکے ہفتکے ککے دن (مچھلی ککا شکار کرنکے) میکں حکد سکے تجاوز ککر‬
‫گئے ت ھے‪ ،‬تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ (‪ )۶۵‬اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لیے اور جو ان‬
‫کے بعد آنے والے ت ھے عبرت اور پرہ یز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا (‪ )۶۶‬اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے‬
‫کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو۔ وہ بولے‪ ،‬کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ میں ال کی‬
‫پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں (‪ )۶۷‬انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح‬
‫کا ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا‪ ،‬بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو۔‬
‫جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے‪ ،‬ویسا کرو (‪ )۶۸‬انہوں نے کہا کہ پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ ب ھی بتائے کہ اس‬
‫کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ نے کہا ‪ ،‬پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کر‬
‫دیتکا ہو (‪ )۶۹‬انہوں نکے کہا ککہ (اب ککے) پروردگار سکے پھھر درخواسکت کیجئے ککہ ہم ککو بتکا دے ککہ وہ اور ککس ککس طرح ککا‬
‫ہو‪ ،‬کیونککہ بہت سکے بیکل ہمیکں ایکک دوسکرے ککے مشابکہ معلوم ہوتکے ہیکں‪( ،‬پھھر) خدا نکے چاہا تکو ہمیکں ٹھیکک بات معلوم ہو‬
‫جائے گی (‪ )۷۰‬موسیٰ نے کہا کہ خدا فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو‪ ،‬نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی‬

‫‪Page 5 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫دیتا ہو۔ اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو۔ کہ نے لگے‪ ،‬اب تم نے سب باتیں درست بتا دیں۔ غرض (بڑی مشکل سے) انہوں‬
‫نکے اس بیکل ککو ذبکح کیکا‪ ،‬اور وہ ایسکا کرنکے والے تھھے نہیکں (‪ )۷۱‬اور جکب تکم نکے ایکک شخکص ککو قتکل کیکا‪ ،‬تکو اس میکں باہم‬
‫جھگڑ نے لگے۔ لیکن جو بات تم چھ پا رہے ت ھے‪ ،‬خدا اس کو ظاہر کرنے وال ت ھا (‪ )۷۲‬تو ہم نے کہا کہ اس بیل کا کوئی سا‬
‫ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو‬
‫(‪ )۷۳‬پھھر اس ککے بعکد تمہارے دل سکخت ہو گئے۔ گویکا وہ پتھھر ہیکں یکا ان سکے بھھی زیادہ سکخت۔ اور پتھھر تکو بعضکے ایسکے‬
‫ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں‪ ،‬اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں‪،‬اور ان میں سے پانی نکلنے‬
‫لگتکا ہے‪ ،‬اور بعضکے ایسکے ہوتکے ہیکں ککہ خدا ککے خوف سکے گکر پڑتکے ہیکں‪ ،‬اور خدا تمہارے عملوں سکے بکے خکبر نہیکں (‪)۷۴‬‬
‫(مومنکو) کیکا تکم امیکد رکھتکے ہو ککہ یکہ لوگ تمہارے (دیکن ککے) قائل ہو جائیکں گکے‪( ،‬حالنککہ) ان میکں سکے کچکھ لوگ کلمِک خدا‬
‫(یعنی تورات) کو سنتے‪ ،‬پ ھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہ یں (‪ )۷۵‬اور یہ لوگ جب‬
‫مومنوں سکے ملتکے ہیکں تو کہتکے ہیکں‪ ،‬ہم ایمان لے آئے ہیکں۔ اور جب آپکس میں ایک دوسکرے سے ملتکے ہیکں تو کہتکے ہیکں‪ ،‬جو‬
‫بات خدا نکے تکم پکر ظاہر فرمائی ہے‪ ،‬وہ تکم ان ککو اس لیکے بتائے دیتکے ہو ککہ (قیامکت ککے دن) اسکی ککے حوالے سکے تمہارے‬
‫پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہ یں؟ (‪ )۷۶‬کیا یہ لوگ یہ نہ یں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو‬
‫کچھ ظاہر کرتے ہ یں‪ ،‬خدا کو (سب) معلوم ہے (‪ )۷۷‬اور بعض ان میں ان پڑھ ہ یں کہ اپنے باطل خیالت کے سوا (خدا کی)‬
‫کتاب سے واقکف ہی نہ یں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہ یں (‪ )۷۸‬تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب‬
‫لکھتکے ہیکں اور کہتکے یکہ ہیکں ککہ یکہ خدا ککے پاس سکے (آئی) ہے‪ ،‬تاککہ اس ککے عوض تھوڑی سکے قیمکت (یعنکی دنیوی منفعکت)‬
‫حاصل کریں۔ ان پر افسوس ہے‪ ،‬اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے‪ ،‬اس لیے‬
‫ککہ ایسکے کام کرتکے ہیکں (‪ )۷۹‬اور کہتکے ہیکں ککہ (دوزخ ککی) آگ ہمیکں چنکد روز ککے سکوا چھھو ہی نہیکں سککے گکی۔ ان سکے‬
‫پوچ ھو‪ ،‬کیا تم نے خدا سے اقرار لے رک ھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلف نہ یں کرے گا۔ (نہ یں)‪ ،‬بلکہ تم خدا کے بارے میں‬
‫ایسی باتیں کہ تے ہو جن کا تمہ یں مطلق علم نہ یں (‪ )۸۰‬ہاں جو برے کام کرے‪ ،‬اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھ یر لیں تو‬
‫ایسکے لوگ دوزخ (میکں جانکے) والے ہیکں (اور) وہ ہمیشکہ اس میکں (جلتکے) رہیکں گکے ( ‪ )۸۱‬اور جکو ایمان لئیکں اور نیکک کام‬
‫کریں‪ ،‬وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہ یں گے (‪ )۸۲‬اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد‬
‫لیا کہ خدا کے سوا کسکی کی عبادت نہ کرنکا اور ماں باپ اور رشتکہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلئی کرتے‬
‫رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا‪ ،‬اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہنا‪ ،‬تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے)‬
‫منہ پھیر کر پھر بیٹھے (‪ )۸۳‬اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت وخون نہ کرنا اور اپنے کو ان کے وطن سے‬
‫نہ نکالنا تو تم نے اقرار کر لیا‪ ،‬اور تم (اس بات کے) گواہ ہو (‪ )۸۴‬پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کر دیتے ہو اور اپنے‬
‫میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرکے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو‪ ،‬اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو‬
‫کر آئیں تو بدلہ دے کر ان کو چھڑا ب ھی لیتے ہو‪ ،‬حالنکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام ت ھا۔ (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتا بِ‬
‫(خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو‪ ،‬تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں‪ ،‬ان کی سزا‬
‫اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال‬
‫دیئے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو‪ ،‬خدا ان سے غافل نہ یں (‪ )۸۵‬یہ وہ لوگ ہ یں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی‬
‫خریدی۔ سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی (‪ )۸۶‬اور ہم نے موسیٰ کو‬
‫کتاب عنایکت ککی اور ان ککے پیچھھے یککے بعکد دیگرے پیغمکبر بھیجتکے رہے اور عیسکیٰ بن مریکم کو کھلے نشانات بخشکے اور‬
‫روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔ تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے‪ ،‬جن کو تمہارا جی‬
‫نہ یں چاہ تا ت ھا‪ ،‬تو تم سرکش ہو جاتے رہے‪ ،‬اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے‬
‫(‪ )۸۷‬اور کہتکے ہیکں‪ ،‬ہمارے دل پردے میکں ہیکں۔ (نہیکں) بلککہ ال نکے ان ککے کفکر ککے سکبب ان پکر لعنکت ککر رکھھی ہے۔ پکس یکہ‬
‫تھوڑے ہی پکر ایمان لتکے ہیکں (‪ )۸۸‬اور جکب ال ککے ہاں سکے ان ککے پاس کتاب آئی جکو ان ککی (آسکمانی) کتاب ککی بھھی‬
‫تصدیق کرتی ہے‪ ،‬اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے‪ ،‬تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے‪ ،‬جب ان کے‬
‫پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہو گئے۔ پس کافروں پر ال کی لعنت (‪ )۸۹‬جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈال‪ ،‬وہ‬
‫بہت بری ہے‪ ،‬یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہ تا ہے‪ ،‬اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل‬
‫کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالئے غضب میں مبتل ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے‬

‫‪Page 6 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫وال عذاب ہے (‪ )۹۰‬اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے‪ ،‬اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ‬
‫جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے‪ ،‬ہم تو اسی کو مانتے ہ یں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہ یں مانتے‪،‬‬
‫حالنکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے‪ ،‬اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم‬
‫صاحبِ ایمان ہوتے تو ال کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے (‪ )۹۱‬اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات‬
‫لے کر آئے تو تم ان کے (کوہِ طور جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے (‬
‫‪ )۹۲‬اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے‬
‫تم کو دی ہے‪ ،‬اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہ یں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے ت ھے) کہ نے لگے کہ‬
‫ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے)‬
‫کہہ دو ککہ اگکر تکم مومکن ہو تکو تمہارا ایمان تکم ککو بری بات بتاتکا ہے (‪ )۹۳‬کہہ دو ککہ اگکر آخرت ککا گھھر اور لوگوں (یعنکی‬
‫مسلمانوں) کے لیے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لیے مخصوص ہے تو اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو (‪)۹۴‬‬
‫لیکن ان اعمال کی وجکہ سکے‪ ،‬جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چککے ہیکں‪ ،‬یہ کب ھی اس کی آرزو نہیکں کریکں گے‪ ،‬اور خدا ظالموں‬
‫سکے (خوب) واقکف ہے (‪ )۹۵‬بلککہ ان ککو تکم اور لوگوں سکے زندگکی ککے کہیکں حریکص دیکھھو گکے‪ ،‬یہاں تکک ککہ مشرکوں سکے‬
‫ب ھی۔ ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ ہزار برس جیتا رہے‪ ،‬مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل ب ھی جائے‬
‫تکو اسکے عذاب سکے تکو نہیکں چھڑا سککتی۔ اور جکو کام یکہ کرتکے ہیکں‪ ،‬خدا ان ککو دیککھ رہا ہے (‪ )۹۶‬کہہ دو ککہ جکو شخکص‬
‫جبرئیل کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مر جانا چاہیئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے‬
‫جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے‪ ،‬اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے (‪ )۹۷‬جو شخص خدا کا اور اس کے‬
‫فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا خدا دشمن ہے ( ‪ )۹۸‬اور ہم نے‬
‫تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہ یں‪ ،‬اور ان سے انکار وہی کرتے ہ یں جو بدکار ہ یں (‪ )۹۹‬ان لوگوں نے جب‬
‫(خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر‬
‫بکے ایمان ہیکں (‪ )۱۰۰‬اور جکب ان ککے پاس ال ککی طرف سکے پیغمکبر (آخرالزماں) آئے‪ ،‬اور وہ ان ککی (آسکمانی) کتاب ککی‬
‫بھھی تصکدیق کرتکے ہیکں تکو جکن لوگوں ککو کتاب دی گئی تھھی‪ ،‬ان میکں سکے ایکک جماعکت نکے خدا ککی کتاب ککو پیٹھھ پیچھھے‬
‫پھینکک دیکا‪ ،‬گویکا وہ جانتکے ہی نہیکں (‪ )۱۰۱‬اور ان (ہزلیات) ککے پیچھھے لگ گئے جکو سکلیمان ککے عہدِ سکلطنت میکں شیاطیکن‬
‫پڑھھا کرتکے تھھے اور سکلیمان نکے مطلق کفکر ککی بات نہیکں ککی‪ ،‬بلککہ شیطان ہی کفکر کرتکے تھھے ککہ لوگوں ککو جادو سککھاتے‬
‫تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور‬
‫وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے‪ ،‬جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض‬
‫لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے‪ ،‬جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے‬
‫کسکی ککا کچکھ بھھی نہیکں بگاڑ سککتے تھھے۔ اور کچکھ ایسکے (منتکر) سکیکھتے جکو ان ککو نقصکان ہی پہنچاتکے اور فائدہ کچکھ نکہ‬
‫دیتے۔ اور وہ جانتے ت ھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا‪ ،‬اس کا آخرت میں کچھ‬
‫حصہ نہ یں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈال‪ ،‬وہ بری ت ھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے (‪)۱۰۲‬‬
‫اور اگکر وہ ایمان لتکے اور پرہیکز گاری کرتکے تکو خدا ککے ہاں سکے بہت اچھھا صکلہ ملتکا۔ اے کاش‪ ،‬وہ اس سکے واقکف ہوتکے (‬
‫‪ )۱۰۳‬اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو‪ ،‬اور کافروں‬
‫ککے لیکے دککھ دینکے وال عذاب ہے (‪ )۱۰۴‬جکو لوگ کافکر ہیکں‪ ،‬اہل کتاب یکا مشرک وہ اس بات ککو پسکند نہیکں کرتکے ککہ تکم پکر‬
‫تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے‪ ،‬اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا‬
‫ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے (‪ )۱۰۵‬ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا‬
‫ویسکی ہی اور آیکت بھیکج دیتکے ہیکں۔ کیکا تکم نہیکں جانتکے ککہ خدا ہر بات پکر قادر ہے (‪ )۱۰۶‬تمہیکں معلوم نہیکں ککہ آسکمانوں اور‬
‫زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے‪ ،‬اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہ یں (‪ )۱۰۷‬کیا تم یہ چاہ تے ہو کہ اپنے‬
‫پیغمکبر سکے اسکی طرح ککے سکوال کرو‪ ،‬جکس طرح ککے سکوال پہلے موسکیٰ سکے کئے گئے تھھے۔ اور جکس شخکص نکے ایمان‬
‫(چھوڑ ککر اس) ککے بدلے کفکر لیکا‪ ،‬وہ سکیدھے رسکتے سکے بھٹھک گیکا ( ‪ )۱۰۸‬بہت سکے اہل کتاب اپنکے دل ککی جلن سکے یکہ‬
‫چاہتکے ہیکں ککہ ایمان ل چکنکے ککے بعکد تکم ککو پھھر کافکر بنکا دیکں۔ حالنککہ ان پکر حکق ظاہر ہو چککا ہے۔ تکو تکم معاف کردو اور‬
‫درگزر کرو۔ یہاں تکک ککہ خدا اپنکا (دوسکرا) حککم بھیجکے۔ بکے شکک خدا ہر بات پکر قادر ہے (‪ )۱۰۹‬اور نماز ادا کرتکے رہو‬

‫‪Page 7 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫اور زکوٰة دیتکے رہو۔ اور جکو بھلئی اپنکے لیکے آگکے بھیکج رکھھو گکے‪ ،‬اس ککو خدا ککے ہاں پکا لو گکے۔ کچکھ شکک نہیکں ککہ خدا‬
‫تمہارے سکب کاموں ککو دیککھ رہا ہے (‪ )۱۱۰‬اور (یہودی اور عیسکائی) کہتکے ہیکں ککہ یہودیوں اور عیسکائیوں ککے سکوا کوئی‬
‫بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو (‬
‫‪ )۱۱۱‬ہاں جکو شخکص خدا ککے آگکے گردن جھککا دے‪( ،‬یعنکی ایمان لے آئے) اور وہ نیککو کار بھھی ہو تکو اس ککا صکلہ اس ککے‬
‫پروردگار ککے پاس ہے اور ایسکے لوگوں ککو (قیامکت ککے دن) نکہ کسکی طرح ککا خوف ہوگکا اور نکہ وہ غمناک ہوں گکے ( ‪)۱۱۲‬‬
‫اور یہودی کہتکے ہیکں ککہ عیسکائی رسکتے پکر نہیکں اور عیسکائی کہتکے ہیکں ککہ یہودی رسکتے پکر نہیکں۔ حالنککہ وہ کتاب (الہٰی)‬
‫پڑھ تے ہ یں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہ تے ہ یں جو (کچھ) نہ یں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ‬
‫لوگ اختلف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا (‪ )۱۱۳‬اور اس سے بڑھ کر ظالم کون‪ ،‬جو خدا کی‬
‫مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان‬
‫میں داخل ہوں‪ ،‬مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ( ‪ )۱۱۴‬اور مشرق اور مغرب‬
‫سب خدا ہی کا ہے۔ تو جد ھر تم رخ کرو۔ اد ھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے ( ‪ )۱۱۵‬اور یہ‬
‫لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولد رکھتا ہے۔ (نہیں) وہ پاک ہے‪ ،‬بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے‪ ،‬سب اسی کا‬
‫ہے اور سکب اس ککے فرماں بردار ہیکں (‪( )۱۱۶‬وہی) آسکمانوں اور زمیکن ککا پیدا کرنکے والہے۔ جکب کوئی کام کرنکا چاہتکا ہے‬
‫تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے (‪ )۱۱۷‬اور جو لوگ (کچھ) نہ یں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہ تے ہ یں‬
‫ککہ خدا ہم سکے کلم کیوں نہیکں کرتکا۔ یکا ہمارے پاس کوئی نشانکی کیوں نہیکں آتکی۔ اسکی طرح جکو لوگ ان سکے پہلے تھھے‪ ،‬وہ‬
‫بھھی انہی ککی سکی باتیکں کیکا کرتکے تھھے۔ ان لوگوں ککے دل آپکس میکں ملتکے جلتکے ہیکں۔ جکو لوگ صکاحبِ یقیکن ہیکں‪ ،‬ان ککے‬
‫(سکمجھانے ککے) لیکے نشانیاں بیان کردی ہیکں (‪( )۱۱۸‬اے محمدﷺ) ہم نکے تکم کو سکچائی ککے سکاتھ خوشخکبری سکنانے وال اور‬
‫ڈرانکے وال بنکا ککر بھیجکا ہے۔ اور اہل دوزخ ککے بارے میکں تکم سکے کچکھ پرسکش نہیکں ہوگکی (‪ )۱۱۹‬اور تکم سکے نکہ تکو یہودی‬
‫کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی‪ ،‬یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت‬
‫(یعنی دین اسلم) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں‬
‫پکر چلو گکے تکو تکم ککو (عذاب) خدا سکے (بچانکے وال) نکہ کوئی دوسکت ہوگکا اور نکہ کوئی مددگار (‪ )۱۲۰‬جکن لوگوں ککو ہم نکے‬
‫کتاب عنایت کی ہے‪ ،‬وہ اس کو (ایسا) پڑھ تے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں‪،‬‬
‫اور جو اس کو نہ یں مانتکے‪ ،‬وہ خسارہ پانکے والے ہ یں (‪ )۱۲۱‬اے بنی اسرائیل ! میرے وہ احسان یاد کرو‪ ،‬جو میں نے تم پکر‬
‫کئے اور یکہ ککہ میکں نکے تکم ککو اہلِ عالم پکر فضیلت بخشکی ( ‪ )۱۲۲‬اور اس دن سکے ڈرو جکب کوئی شخکص کسکی شخکص ککے‬
‫کچھ کام نہ آئے‪ ،‬اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے اور نہ لوگوں کو (کسی اور‬
‫طرح ککی) مدد مل سککے (‪ )۱۲۳‬اور جکب پروردگار نکے چنکد باتوں میں ابراہیکم ککی آزمائش ککی تو ان میں پورے اترے۔ خدا‬
‫نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولد میں سے بھی (پیشوا بنائیو)۔ خدا نے‬
‫فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہ یں ہوا کرتا (‪ )۱۲۴‬اور جب ہم نے خانہٴ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن‬
‫پانے کی جگہ مقرر کیا اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے‪ ،‬اس کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور‬
‫اسکمٰعیل ککو کہا ککہ طواف کرنکے والوں اور اعتکاف کرنکے والوں اور رکوع کرنکے والوں اور سکجدہ کرنکے والوں ککے لیکے‬
‫میرے گ ھر کو پاک صاف رک ھا کرو (‪ )۱۲۵‬اور جب ابراہ یم نے دعا کی کہ اے پروردگار‪ ،‬اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور‬
‫اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لئیں‪ ،‬ان کے کھانے کو میوے عطا کر‪ ،‬تو خدا نے فرمایا‬
‫کہ جو کافر ہوگا‪ ،‬میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا‪( ،‬مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار‬
‫کردوں گا‪ ،‬اور وہ بری جگہ ہے (‪ )۱۲۶‬اور جب ابراہ یم اور اسمٰعیل بیت ال کی بنیادیں اونچی کر رہے ت ھے (تو دعا کئے‬
‫جاتے تھے کہ) اے پروردگار‪ ،‬ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو سننے وال (اور) جاننے وال ہے (‪ )۱۲۷‬اے پروردگار‪،‬‬
‫ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو‪ ،‬اور (پروردگار) ہمیں‬
‫طریکق عبادت بتکا اور ہمارے حال پکر (رحکم ککے سکاتھ) توجکہ فرمکا۔ بکے شکک تکو توجکہ فرمانکے وال مہربان ہے ( ‪ )۱۲۸‬اے‬
‫پروردگار‪ ،‬ان (لوگوں) میکں انہیکں میکں سکے ایکک پیغمکبر مبعوث کیجیکو جکو ان ککو تیری آیتیکں پڑھ پڑھ ککر سکنایا کرے اور‬
‫کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے ( ‪)۱۲۹‬‬
‫اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے‪ ،‬بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا‬

‫‪Page 8 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے (‪ )۱۳۰‬جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلم لے آؤ‬
‫تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں (‪ )۱۳۱‬اور ابرہ یم نے اپنے بیٹوں کو اسی‬
‫بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو‬
‫مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا (‪ )۱۳۲‬بھل جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود ت ھے‪ ،‬جب انہوں نے اپنے‬
‫بیٹوں سکے پوچھھا ککہ میرے بعکد تکم ککس ککی عبادت کرو گکے‪ ،‬تکو انہوں نکے کہا ککہ آپ ککے معبود اور آپ ککے باپ دادا ابراہیکم‬
‫اور اسکمٰعیل اور اسکحاق ککے معبود ککی عبادت کریکں گکے جکو معبود یکتکا ہے اور ہم اُسکی ککے حککم بردار ہیکں ( ‪ )۱۳۳‬یکہ‬
‫جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے ت ھے ان کی‬
‫پرسکش تکم سکے نہیکں ہوگکی (‪ )۱۳۴‬اور (یہودی اور عیسکائی) کہتکے ہیکں ککہ یہودی یکا عیسکائی ہو جاؤ تو سکیدھے رسکتے پکر لگ‬
‫جاؤ۔ (اے پیغمکبر ان سکے) کہہ دو‪( ،‬نہیکں) بلککہ (ہم) دیکن ابراہیکم (اختیار کئے ہوئے ہیکں) جکو ایکک خدا ککے ہو رہے تھھے اور‬
‫مشرکوں می کں س کے ن کہ تھھھے (‪( )۱۳۵‬مسککلمانو) کہو ک کہ ہم خدا پککر ایمان لئے اور جککو (کتاب) ہم پککر اتری‪ ،‬اس پککر اور جککو‬
‫(صکحیفے) ابراہیکم اور اسکمٰعیل اور اسکحاق اور یعقوب اور ان ککی اولد پکر نازل ہوئے ان پکر اور جکو (کتابیکں) موسکیٰ اور‬
‫عیسی کو عطا ہوئیں‪ ،‬ان پر‪ ،‬اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں‪ ،‬ان پر (سب پر ایمان لئے) ہم‬
‫ان پیغمروں میں سکے کسی میں کچھ فرق نہ یں کرتے اور ہم اسکی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہ یں (‪ )۱۳۶‬تو اگر یہ لوگ‬
‫ب ھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھ یر لیں (اور نہ مانیں) تو‬
‫وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے وال (اور) جاننے وال ہے (‪( )۱۳۷‬کہہ دو‬
‫کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر لیا ہے) اور خدا سے بہ تر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے‬
‫ہ یں (‪( )۱۳۸‬ان سے) کہو‪ ،‬کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑ تے ہو‪ ،‬حالنکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم‬
‫ککو ہمارے اعمال (ککا بدلہ ملے گکا) اور تکم ککو تمھارے اعمال (ککا) اور ہم خاص اسکی ککی عبادت کرنکے والے ہیکں ( ‪( )۱۳۹‬اے‬
‫یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہ یم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولد یہودی یا عیسائی‬
‫تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھل تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون‪ ،‬جو خدا کی شہادت کو‪ ،‬جو‬
‫اس ککے پاس (کتاب میکں موجود) ہے چھپائے۔ اور جکو کچکھ تکم ککر رہے ہو‪ ،‬خدا اس سکے غافکل نہیکں ( ‪ )۱۴۰‬یکہ جماعکت گزر‬
‫چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا‪ ،‬اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے‪ ،‬اس کی پرسش تم سے‬
‫نہیکں ہوگکی (‪ )۱۴۱‬احمکق لوگ کہیکں گکے ککہ مسکلمان جکس قبلے پکر (پہلے سکے چلے آتکے) تھھے (اب) اس سکے کیوں منکہ پھیکر‬
‫بیٹھھے۔ تکم کہہ دو ککہ مشرق اور مغرب سکب خدا ہی ککا ہے۔ وہ جکس ککو چاہتکا ہے‪ ،‬سکیدھے رسکتے پکر چلتکا ہے ( ‪ )۱۴۲‬اور‬
‫اسکی طرح ہم نکے تکم ککو امتِک معتدل بنایکا ہے‪ ،‬تاککہ تکم لوگوں پکر گواہ بنکو اور پیغمکبر (آخرالزماں) تکم پکر گواہ بنیکں۔ اور جکس‬
‫قبلے پر تم (پہلے) ت ھے‪ ،‬اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا ت ھا کہ معلوم کریں‪ ،‬کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہ تا ہے‪ ،‬اور کون‬
‫ال ٹے پاؤں پ ھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی‪ ،‬مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ‬
‫اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ‬
‫رحمت ہے (‪( )۱۴۳‬اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھ یر پھ یر کر دیکھ نا دیکھ رہے ہ یں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے‬
‫کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو‪ ،‬منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔‬
‫اور تم لوگ جہاں ہوا کرو‪( ،‬نماز پڑھ نے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی‬
‫ہے‪ ،‬وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں‪ ،‬خدا ان سے بے‬
‫خبر نہ یں (‪ )۱۴۴‬اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں ب ھی لے کر آؤ‪ ،‬تو ب ھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔‬
‫اور تم ب ھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہ یں ہو۔ اور ان میں سے ب ھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہ یں۔ اور اگر‬
‫تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے‪ ،‬ان کی خواہشوں کے پیچ ھے چلو گے تو ظالموں میں‬
‫(داخکل) ہو جاؤ گکے (‪ )۱۴۵‬جکن لوگوں ککو ہم نکے کتاب دی ہے‪ ،‬وہ ان (پیغمکبر آخرالزماں) ککو اس طرح پہچانتکے ہیکں‪ ،‬جکس‬
‫طرح اپنکے بیٹوں کو پہچانا کرتکے ہیکں‪ ،‬مگر ایک فریق ان میں سکے سکچی بات کو جان بوجکھ ککر چھپکا رہا ہے ( ‪( )۱۴۶‬اے‬
‫پیغمکبر‪ ،‬یکہ نیکا قبلہ) تمہارے پروردگار ککی طرف سکے حکق ہے تکو تکم ہرگکز شک کرنکے والوں میکں نکہ ہونکا (‪ )۱۴۷‬اور ہر ایکک‬
‫(فرقکے) ککے لیکے ایکک سکمت (مقرر) ہے۔ جدھھر وہ (عبادت ککے وقکت) منکہ کیکا کرتکے ہیکں۔ تکو تکم نیکیوں میکں سکبقت حاصکل‬
‫کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے (‪ )۱۴۸‬اور تم جہاں سے نکلو‪( ،‬نماز‬

‫‪Page 9 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کر لیا کرو بےشک وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ‬
‫کرتکے ہو۔ خدا اس سکے بکے خکبر نہیکں (‪ )۱۴۹‬اور تکم جہاں سکے نکلو‪ ،‬مسکجدِ محترم ککی طرف منکہ (کرککے نماز پڑھھا) کرو۔‬
‫اور مسلمانو‪ ،‬تکم جہاں ہوا کرو‪ ،‬اسکی (مسکجد) کی طرف رخ کیکا کرو۔ (یکہ تاکیکد) اس لیے (کی گئی ہے) ککہ لوگ تم کو کسکی‬
‫طرح کا الزام نہ دے سکیں۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں‪( ،‬وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے‬
‫رہنکا۔ اور یکہ بھھی مقصکود ہے ککہ تکم ککو اپنکی تمام نعمتیکں بخشوں اور یکہ بھھی ککہ تکم راہِ راسکت پکر چلو (‪ )۱۵۰‬جکس طرح‬
‫(منجملہ اور نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمھیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور‬
‫تمہیکں پاک بناتکے اور کتاب (یعنکی قرآن) اور دانائی سککھاتے ہیکں‪ ،‬اور ایسکی باتیکں بتاتکے ہیکں‪ ،‬جکو تکم پہلے نہیکں جانتکے تھھے (‬
‫‪ )۱۵۱‬سکو تکم مجھھے یاد کرو۔ میکں تمہیکں یاد کیکا کروں گکا۔ اور میرے احسکان مانتکے رہنکا اور ناشکری نکہ کرنکا ( ‪ )۱۵۲‬اے‬
‫ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ( ‪ )۱۵۳‬اور جو لوگ خدا کی راہ میں‬
‫مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہ نا کہ وہ مرے ہوئے ہ یں (وہ مردہ نہ یں) بلکہ زندہ ہ یں لیکن تم نہ یں جانتے ( ‪ )۱۵۴‬اور ہم کسی‬
‫قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں ککے نقصکان سکے تمہاری آزمائش کریکں گکے توصکبر کرنکے والوں ککو‬
‫(خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو (‪ )۱۵۵‬ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہ تے ہ یں کہ ہم خدا ہی کا‬
‫مال ہ یں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہ یں (‪ )۱۵۶‬یہی لوگ ہ یں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت‬
‫ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہ یں (‪ )۱۵۷‬بے شک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہ یں۔ تو جو شخص خانہٴ‬
‫کعبکہ ککا حکج یکا عمرہ کرے اس پکر کچکھ گناہ نہیکں ککہ دونوں ککا طواف کرے۔ (بلککہ طواف ایکک قسکم ککا نیکک کام ہے) اور جکو‬
‫کوئی نیکک کام کرے تکو خدا قدر شناس اور دانکا ہے (‪ )۱۵۸‬جکو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں ککو جکو ہم نکے نازل ککی ہیکں‬
‫(کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہ یں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر‬
‫بیان کردیکا ہے۔ ایسکوں پکر خدا اور تمام لعنکت کرنکے والے لعنکت کرتکے ہیکں (‪ )۱۵۹‬ہاں جکو توبکہ کرتکے ہیکں اور اپنکی حالت‬
‫درسکت کرلیتکے اور (احکام الہیکٰ ککو) صکاف صکاف بیان کردیتکے ہیکں تکو میکں ان ککے قصکور معاف کردیتکا ہوں اور میکں بڑا‬
‫معاف کرنکے وال (اور) رحکم وال ہوں (‪ )۱۶۰‬جکو لوگ کافکر ہوئے اور کافکر ہی مرے ایسکوں پکر خدا ککی اور فرشتوں اور‬
‫لوگوں کی سب کی لعنت (‪ )۱۶۱‬وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے۔ ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور‬
‫نکہ انہیکں (کچکھ) مہلت ملے گکی (‪ )۱۶۲‬اور (لوگکو) تمہارا معبود خدائے واحکد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحکم کرنکے ککے سکوا‬
‫کوئی عبادت ککے لئق نہیکں (‪ )۱۶۳‬بےشکک آسکمانوں اور زمیکن ککے پیدا کرنکے میکں اور رات اور دن ککے ایکک دوسکرے ککے‬
‫پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں‬
‫جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور‬
‫زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلنے میں اور ہواؤں کے چلنےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے‬
‫رہتکے ہیکں۔ عقلمندوں ککے لئے (خدا ککی قدرت ککی) نشانیاں ہیکں (‪ )۱۶۴‬اور بعکض لوگ ایسکے ہیکں جکو غیکر خدا ککو شریکک‬
‫(خدا) بناتکے اور ان سکے خدا ککی سکی محبکت کرتکے ہیکں۔ لیککن جکو ایمان والے ہیکں وہ تکو خدا ہی ککے سکب سکے زیادہ دوسکتدار‬
‫ہیں۔ اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھ یں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے۔ اور‬
‫یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے وال ہے (‪ )۱۶۵‬اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور (دونوں)‬
‫عذاب (الہیکٰ) دیککھ لیکں گکے اور ان ککے آپکس ککے تعلقات منقطکع ہوجائیکں گکے ( ‪( )۱۶۶‬یکہ حال دیککھ ککر) پیروی کرنکے والے‬
‫(حسرت سے) کہ یں گے کہ اے کاش ہمیں پ ھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہ یں اسی طرح‬
‫ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے‬
‫(‪ )۱۶۷‬لوگکو جکو چیزیکں زمیکن میکں حلل طیکب ہیکں وہ کھاؤ۔ اور شیطان ککے قدموں پکر نکہ چلو۔ وہ تمہارا کھل دشمکن ہے (‬
‫‪ )۱۶۸‬وہ تکو تکم ککو برائی اور بےحیائی ہی ککے کام کرنکے ککو کہتکا ہے اور یکہ بھھی ککہ خدا ککی نسکبت ایسکی باتیکں کہو جکن ککا‬
‫تمہیکں (کچکھ بھھی) علم نہیکں (‪ )۱۶۹‬اور جکب ان لوگوں سکے کہا جاتککا ہے ککہ جکو (کتاب) خدا نکے نازل فرمائی ہے اس ککی‬
‫پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھل اگرچہ ان‬
‫کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب ب ھی وہ انہ یں کی تقلید کئے جائیں گے) (‪ )۱۷۰‬جو لوگ‬
‫کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔‬
‫(یکہ) بہرے ہیکں گونگکے ہیکں اندھھے ہیکں ککہ (کچکھ) سکمجھ ہی نہیکں سککتے ( ‪ )۱۷۱‬اے اہل ایمان جکو پاکیزہ چیزیکں ہم نکے تکم ککو‬

‫‪Page 10 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫عطکا فرمائیکں ہیکں ان کو کھاؤ اور اگکر خدا ہی ککے بندے ہو تکو اس (ککی نعمتوں) ککا شککر بھھی ادا کرو ( ‪ )۱۷۲‬اس نکے تکم پکر‬
‫مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے ہاں جو‬
‫ناچار ہوجائے (بشرطیککہ ) خدا کککی نافرمانککی نکہ کرے اور حککد (ضرورت) سکے باہر نکہ نکککل جائے اس پککر کچکھ گناہ نہیکں۔‬
‫بے شک خدا بخشنے وال (اور) رحم کرنے وال ہے (‪ )۱۷۳‬جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس‬
‫نے نازل فرمائی ہ یں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت)حاصل کرتے ہ یں وہ اپنے پیٹوں میں‬
‫محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلم کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان‬
‫ککے لئے دککھ دینکے وال عذاب ہے (‪ )۱۷۴‬یکہ وہ لوگ ہیکں جنہوں نکے ہدایکت چھوڑ ککر گمراہی اور بخشکش چھوڑ ککر عذاب‬
‫خریدا۔ یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے والے ہیں! (‪ )۱۷۵‬یہ اس لئے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی۔‬
‫اور جکن لوگوں نکے اس کتاب میکں اختلف کیکا وہ ضکد میکں (آککر نیککی سکے) دور (ہوگئے) ہیکں (‪ )۱۷۶‬نیککی یہی نہیکں ککہ تکم‬
‫مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں‬
‫پکر اور (خدا ککی) کتاب پکر اور پیغمکبروں پکر ایمان لئیکں۔ اور مال باوجود عزیکز رکھنکے ککے رشتکہ داروں اور یتیموں اور‬
‫محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة‬
‫دیں۔ اور جکب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریکں۔ اور سختی اور تکلیکف میکں اور (معرکہ) کارزار ککے وقت ثابکت قدم رہ یں۔‬
‫یہی لوگ ہیکں جکو (ایمان میکں) سکچے ہیکں اور یہی ہیکں جکو (خدا سکے) ڈرنکے والے ہیکں (‪ )۱۷۷‬مومنکو! تکم ککو مقتولوں ککے‬
‫بارےمیں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ)آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلم‬
‫ککے بدلے غلم اور عورت ککے بدلے عورت اور قاتکل ککو اس ککے (مقتول) بھائی (ککے قصکاص میکں) سکے کچکھ معاف کردیکا‬
‫جائے تکو (وارث مقتول) ککو پسکندیدہ طریکق سکے (قرار داد ککی) پیروی (یعنکی مطالبہٴ خون بہا) کرنکا اور (قاتکل ککو) خوش‬
‫خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے‬
‫اس ککے لئے دککھ ککا عذاب ہے (‪ )۱۷۸‬اور اے اہل عقکل (حککم) قصکاص میکں (تمہاری) زندگانکی ہے ککہ تکم (قتکل و خونریزی‬
‫سے) بچو (‪ )۱۷۹‬تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے‬
‫وال ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے‬
‫(‪ )۱۸۰‬جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہ یں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور‬
‫بے شک خدا سنتا جانتا ہے (‪ )۱۸۱‬اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی‬
‫ککا اندیشکہ ہو تکو اگکر وہ (وصکیت ککو بدل ککر) وارثوں میکں صکلح کرادے تکو اس پکر کچکھ گناہ نہیکں۔ بےشکک خدا بخشنکے وال‬
‫(اور) رحم وال ہے (‪ )۱۸۲‬مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے‬
‫تاکہ تم پرہیزگار بنو (‪( )۱۸۳‬روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہ یں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو‬
‫دوسکرے دنوں میکں روزوں ککا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنکے ککی طاقکت رکھیکں (لیککن رکھیکں نہیکں) وہ روزے‬
‫کے بدلے محتاج کو کھانا کھل دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچ ھا ہے۔ اور اگر سمجھو‬
‫تو روزہ رکھ نا ہی تمہارے حق میں بہ تر ہے (‪( )۱۸۴‬روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل‬
‫ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے وال ہے تو‬
‫جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رک ھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو‬
‫دوسکرے دنوں میکں (رککھ ککر) ان ککا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حکق میکں آسکانی چاہتکا ہے اور سکختی نہیکں چاہتکا اور (یکہ‬
‫آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی‬
‫ہے تکم اس ککو بزرگکی سکے یاد ککر واور اس ککا شککر کرو (‪ )۱۸۵‬اور (اے پیغمکبر) جکب تکم سکے میرے بندے میرے بارے میکں‬
‫دریافت کریں تکو (کہہ دو کہ) میکں تو (تمہارے) پاس ہوں جکب کوئی پکارنے وال مج ھے پکارتکا ہے تو میکں اس کی دعا قبول‬
‫کرتکا ہوں تکو ان ککو چاہیئے ککہ میرے حکموں ککو مانیکں اور مجکھ پکر ایمان لئیکں تاککہ نیکک رسکتہ پائیکں (‪ )۱۸۶‬روزوں ککی‬
‫راتوں میکں تمہارے لئے اپنکی عورتوں ککے پاس جانکا کردیکا گیکا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیکں اور تکم ان ککی پوشاک ہو خدا ککو‬
‫معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے ت ھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات‬
‫سکےدرگزرفرمائی۔اب (تکم ککو اختیار ہے ککہ) ان سکے مباشرت کرو۔ اور خدا نکے جکو چیکز تمہارے لئے لککھ رکھھی ہے (یعنکی‬
‫اولد) اس ککو (خدا سکے) طلب کرو اور کھاؤ پیکو یہاں تکک ککہ صکبح ککی سکفید دھاری (رات ککی) سکیاہ دھاری سکے الگ نظکر‬

‫‪Page 11 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫آنکے لگکے۔ پھھر روزہ (رککھ ککر) رات تکک پورا کرو اور جکب تکم مسکجدوں میکں اعتکاف بیٹھھے ہو تکو ان سکے مباشرت نکہ‬
‫کرو۔ یکہ خدا ککی حدیکں ہیکں ان ککے پاس نکہ جانکا۔ اسکی طرح خدا اپنکی آیتیکں لوگوں ککے (سکمجھانے ککے) لئے کھول کھول ککر‬
‫بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں (‪ )۱۸۷‬اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس‬
‫پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر ک ھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے ب ھی ہو ( ‪( )۱۸۸‬اے محمدﷺ) لوگ تم‬
‫سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور‬
‫حج ککے وقت معلوم ہونکے ککا ذریعکہ ہے اور نیکی اس بات میں نہ یں ککہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے‬
‫ککی طرف سکے آؤ۔ بلککہ نیکوکار وہ ہے جکو پرہیکز گار ہو اور گھروں میکں ان ککے دروازوں سکے آیکا کرو اور خدا سکے ڈرتکے‬
‫رہو تاککہ نجات پاؤ (‪ )۱۸۹‬اور جکو لوگ تکم سکے لڑتکے ہیکں تکم بھھی خدا ککی راہ میکں ان سکے لڑو مگکر زیادتکی نکہ کرنکا ککہ خدا‬
‫زیادتکی کرنکے والوں ککو دوسکت نہیکں رکھتکا (‪ )۱۹۰‬اور ان ککو جہاں پاؤ قتکل کردو اور جہاں سکے انہوں نکے تکم ککو نکال ہے‬
‫(یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے‬
‫اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں‬
‫تکو تکم ان ککو قتکل کرڈالو۔ کافروں ککی یہی سکزا ہے (‪ )۱۹۱‬اور اگکر وہ باز آجائیکں تکو خدا بخشنکے وال (اور) رحکم کرنکے وال‬
‫ہے (‪ )۱۹۲‬اور ان سکے اس وقکت تکک لڑتکے رہنکا ککہ فسکاد نابود ہوجائے اور (ملک میکں) خدا ہی ککا دیکن ہوجائے اور اگکر وہ‬
‫(فسکاد سکے) باز آجائیکں تکو ظالموں ککے سکوا کسکی پکر زیادتکی نہیکں (کرنکی چاہیئے) (‪ )۱۹۳‬ادب ککا مہینکہ ادب ککے مہینکے ککے‬
‫مقابکل ہے اور ادب ککی چیزیکں ایکک دوسکرے ککا بدلہ ہیکں۔ پکس اگکر کوئی تکم پکر زیادتکی کرے تکو جیسکی زیادتکی وہ تکم پکر کرے‬
‫ویسکی ہی تکم اس پکر کرو۔ اور خدا سکے ڈرتکے رہو اور جان رکھھو ککہ خدا ڈرنکے والوں ککے سکاتھ ہے (‪ )۱۹۴‬اور خدا ککی راہ‬
‫میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بے شک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھ تا ہے‬
‫(‪ )۱۹۵‬اور خدا (کککی خوشنودی) ک کے لئے حککج اور عمرے کککو پورا کرو۔ اور اگککر (راسککتےمیں) روک لئے جاؤ تککو جیسککی‬
‫قربانکی میسکر ہو (کردو) اور جب تکک قربانی اپنکے مقام پکر نہ پہ نچ جائے سکر نکہ منڈاؤ۔ اور اگکر کوئی تکم میکں بیمار ہو یا اس‬
‫کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈالے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر‬
‫جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی‬
‫میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔‬
‫یکہ حککم اس شخکص ککے لئے ہے جکس ککے اہل وعیال مککے میکں نکہ رہتکے ہوں اور خدا سکے ڈرتکے رہو اور جان رکھھو ککہ خدا‬
‫سخت عذاب دینے وال ہے (‪ )۱۹۶‬حج کے مہینے (معین ہ یں جو) معلوم ہ یں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو‬
‫حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے‬
‫وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہ تر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے‬
‫اور اے اہل عقککل مجکھ سکے ڈرتکے رہو (‪ )۱۹۷‬اس کککا تمہیکں کچکھ گناہ نہیکں ککہ (حککج ککے دنوں میکں بذریعکہ تجارت) اپنکے‬
‫پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفے) میں خدا کا ذکر کرو‬
‫اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا۔ اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف ت ھے‬
‫(‪ )۱۹۸‬پ ھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہ یں سے تم ب ھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بے شک خدا بخشنے وال‬
‫اور رحمکت کرنکے وال ہے (‪ )۱۹۹‬پھھر جکب حکج ککے تمام ارکان پورے کرچککو تکو (منیکٰ میکں) خدا ککو یاد کرو۔ جکس طرح‬
‫اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے ت ھے بلکہ اس سے ب ھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہ یں جو (خدا سے) التجا کرتے ہ یں کہ اے‬
‫پروردگار ہم کو (جو دنیکا ہے) دنیکا ہی میکں عنایکت ککر ایسکے لوگوں ککا آخرت میں کچھ حصکہ نہیکں (‪ )۲۰۰‬اور بعضکے ایسکے‬
‫ہیکں ککہ دعکا کرتکے ہیکں ککہ پروردگار ہم ککو دنیکا میکں بھھی نعمکت عطکا فرمکا اور آخرت میکں بھھی نعمکت بخشیکو اور دوزخ ککے‬
‫عذاب سکے محفوظ رکھیکو (‪ )۲۰۱‬یہی لوگ ہیکں جکن ککے لئے ان ککے کاموں ککا حصکہ (یعنکی اجکر نیکک تیار) ہے اور خدا جلد‬
‫حسکاب لینکے وال (اور جلد اجکر دینکے وال) ہے (‪ )۲۰۲‬اور (قیام منیکٰ ککے) دنوں میکں (جکو) گنتکی ککے (دن میکں) خدا ککو یاد‬
‫کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر ب ھی کچھ گناہ نہ یں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس‬
‫پر ب ھی کچھ گناہ نہ یں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہ یں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رک ھو‬
‫کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔ (‪ )۲۰۳‬اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو‬
‫دلککش معلوم ہوتکی ہے اور وہ اپنکی مانکی الضمیکر پکر خدا ککو گواہ بناتکا ہے حالنککہ وہ سکخت جھگڑالو ہے (‪ )۲۰۴‬اور جکب‬

‫‪Page 12 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫پیٹھ پھیر کر چل جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں‬
‫اور حیوانوں ککی) نسکل ککو نابود کردے اور خدا فتنکہ انگیزی ککو پسکند نہیکں کرتکا (‪ )۲۰۵‬اور جکب اس سکے کہا جاتکا ہے ککہ خدا‬
‫سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہ نم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے ( ‪)۲۰۶‬‬
‫اور کوئی شخکص ایسکا ہے ککہ خدا ککی خوشنودی حاصکل کرنکے ککے لئے اپنکی جان بیکچ ڈالتکا ہے اور خدا بندوں پکر بہت مہربان‬
‫ہے (‪ )۲۰۷‬مومنو! اسلم میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچ ھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے ( ‪)۲۰۸‬‬
‫پ ھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانکے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ خدا غالب (اور) حکمت وال ہے ( ‪ )۲۰۹‬کیا یہ لوگ‬
‫اسکی بات ککے منتظکر ہیکں ککہ ان پکر خدا (کاعذاب) بادل ککے سکائبانوں میکں آنازل ہو اور فرشتکے بھھی (اتکر آئیکں) اور کام تمام‬
‫کردیکا جائے اور سکب کاموں ککا رجوع خدا ہی ککی طرف ہے (‪( )۲۱۰‬اے محمکد) بنکی اسکرائیل سکے پوچھھو ککہ ہم نکے ان ککو‬
‫کتنی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے وال ہے‬
‫(‪ )۲۱۱‬اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو‬
‫پرہ یز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہ تا ہے بےشمار رزق دیتا ہے (‪( )۲۱۲‬پہلے تو سب)‬
‫لوگوں ککا ایکک ہی مذہب تھھا (لیککن وہ آپکس میکں اختلف کرنکے لگکے) تکو خدا نکے (ان ککی طرف) بشارت دینکے والے اور ڈر‬
‫سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلف کرتے تھے ان کا ان‬
‫میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلف ب ھی انہ یں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی ت ھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے‬
‫ہوئے احکام آچککے تھھے (اور یکہ اختلف انہوں نکے صکرف) آپکس ککی ضکد سکے (کیکا) تکو جکس امکر حکق میکں وہ اختلف کرتکے‬
‫تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے (‪)۲۱۳‬‬
‫کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہ شت میں داخل ہوجاؤ گے اور اب ھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی‬
‫ہی نہیکں۔ ان ککو (بڑی بڑی) سکختیاں اور تکلیفیکں پہنچیکں اور وہ (صکعوبتوں میکں) ہل ہل دیئے گئے۔ یہاں تکک ککہ پیغمکبر اور‬
‫مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آیا چاہ تی)‬
‫ہے (‪( )۲۱۴‬اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتکے ہ یں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو‬
‫خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور‬
‫یتیموں کککو اور محتاجوں کککو اور مسککافروں کککو (سککب کککو دو) اور جککو بھلئی تککم کرو گ کے خدا اس کککو جانتککا ہے (‪)۲۱۵‬‬
‫(مسلمانو) تم پر (خدا کے رستے میں) لڑ نا فرض کردیا گیا ہے وہ تمہ یں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہ یں کہ ایک چیز تم کو‬
‫بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو۔ اور ان‬
‫باتوں ککو) خدا ہی بہتکر جانتکا ہے اور تکم نہیکں جانتکے (‪( )۲۱۶‬اے محمدﷺ) لوگ تکم سکے عزت والے مہینوں میکں لڑائی کرنکے‬
‫ککے بارے میکں دریافکت کرتکے ہیکں کہہ دو ککہ ان میکں لڑنکا بڑا (گناہ) ہےاور خدا ککی راہ سکے روکنکا اور اس سکے کفکر کرنکا اور‬
‫مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا)۔ اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا‬
‫کے نزدیک اس سے ب ھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے ب ھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑ تے‬
‫رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر‬
‫(کافکر ہو) جائے گکا اور کافکر ہی مرے گکا تکو ایسکے لوگوں ککے اعمال دنیکا اور آخرت دونوں میکں برباد ہوجائیکں گکے اور یہی‬
‫لوگ دوزخ (میکں جانکے) والے ہیکں جکس میکں ہمیشکہ رہیکں گکے (‪ )۲۱۷‬جکو لوگ ایمان لئے اور خدا ککے لئے وطکن چھوڑ گئے‬
‫اور (کفار سے) جنگ کرتکے رہے وہی خدا ککی رحمکت ککے امیدوار ہ یں۔ اور خدا بخشنکے وال (اور) رحمکت کرنکے وال ہے (‬
‫‪( )۲۱۸‬اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہ یں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہ یں اور لوگوں‬
‫کے لئے کچھ فائدے ب ھی ہ یں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہ یں زیادہ ہ یں اور یہ ب ھی تم سے پوچھ تے ہ یں کہ (خدا کی راہ‬
‫میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر‬
‫بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (‪( )۲۱۹‬یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو)۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں‬
‫دریافکت کرتکے ہیکں کہہ دو ککہ ان ککی (حالت ککی) اصکلح بہت اچھھا کام ہے۔ اور اگکر تکم ان سکے مکل جکل ککر رہنکا (یعنکی خرچ‬
‫اکھٹھا رکھنکا) چاہو تکو وہ تمہارے بھائی ہیکں اور خدا خوب جانتکا ہے ککہ خرابکی کرنکے وال کون ہے اور اصکلح کرنکے وال‬
‫کون۔ اور اگر خدا چاہ تا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بے شک خدا غالب (اور) حکمت وال ہے (‪ )۲۲۰‬اور (مومنو) مشرک‬
‫عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لئیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن‬

‫‪Page 13 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫لونڈی بہتکر ہے۔ اور (اسکی طرح) مشرک مرد جکب تکک ایمان نکہ لئیکں مومکن عورتوں ککو ان ککو زوجیکت میکں نکہ دینکا کیونککہ‬
‫مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھل لگے مومن غلم بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلتے ہیں۔‬
‫اور خدا اپنکی مہربانکی سکے بہشکت اور بخشکش ککی طرف بلتکا ہے۔ اور اپنکے حککم لوگوں سکے کھول کھول ککر بیان کرتکا ہے‬
‫تاکہ نصیحت حاصل کریں (‪ )۲۲۱‬اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہ یں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام‬
‫حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس‬
‫طریکق سکے خدا نکے ارشاد فرمایکا ہے ان ککے پاس جاؤ۔ کچکھ شکک نہیکں ککہ خدا توبکہ کرنکے والوں اور پاک صکاف رہنکے والوں‬
‫ککو دوسکت رکھتکا ہے (‪ )۲۲۲‬تمہاری عورتیکں تمہارای کھیتکی ہیکں تکو اپنکی کھیتکی میکں جکس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنکے لئے‬
‫(نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے‬
‫پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو (‪ )۲۲۳‬اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں ک ھا ک ھا کر‬
‫سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا‬
‫ہے (‪ )۲۲۴‬خدا تمہاری لغو قسکموں پر تم سے مواخذہ نکہ کرے گکا۔ لیکن جو قسمیں تم قصکد دلی سکے کھاؤ گے ان پکر مواخذہ‬
‫کرے گکا۔ اور خدا بخشنکے وال بردبار ہے (‪ )۲۲۵‬جکو لوگ اپنکی عورتوں ککے پاس جانکے سکے قسکم کھالیکں ان ککو چار مہینکے‬
‫تکک انتظار کرنکا چاہیئے۔ اگکر (اس عرصکے میکں قسکم سکے) رجوع کرلیکں تکو خدا بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۲۲۶‬اور اگکر‬
‫طلق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے (‪ )۲۲۷‬اور طلق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔‬
‫اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس‬
‫ککو چھپائیکں۔ اور ان ککے خاونکد اگکر پھھر موافقکت چاہیکں تکو اس (مدت) میکں وہ ان ککو اپنکی زوجیکت میکں لے لینکے ککے زیادہ‬
‫حقدار ہیکں۔ اور عورتوں ککا حکق (مردوں پکر) ویسکا ہی ہے جیسکے دسکتور ککے مطابکق (مردوں ککا حکق) عورتوں پکر ہے۔ البتکہ‬
‫مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے (‪ )۲۲۸‬طلق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو‬
‫دفعکہ طلق دے دی جائے تو) پ ھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائسکتہ (نکاح میں) رہنکے دینا یا بھلئی کے ساتھ چھوڑ دینا۔‬
‫اور یکہ جائز نہیکں ککہ جکو مہر تکم ان ککو دے چککے ہو اس میکں سکے کچکھ واپکس لے لو۔ ہاں اگکر زن و شوہر ککو خوف ہو ککہ وہ‬
‫خدا کی حدوں کو قائم نہ یں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو‬
‫دونوں پر کچھ گناہ نہ یں۔ یکہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیکں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا ککی حدوں سکے باہر‬
‫نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے (‪ )۲۲۹‬پ ھر اگر شوہر (دو طلقوں کے بعد تیسری) طلق عورت کو دے دے تو اس کے‬
‫بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلل نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی‬
‫طلق دے دے اورعورت اور پہل خاوند پ ھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہ یں بشرطیکہ دونوں‬
‫یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہ یں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو‬
‫دانکش رکھتکے ہیکں (‪ )۲۳۰‬اور جکب تکم عورتوں ککو (دو دفعکہ) طلق دے چککو اور ان ککی عدت پوری ہوجائے تکو انہیکں یکا تکو‬
‫حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ‬
‫انہیکں تکلیکف دو اور ان پکر زیادتکی کرو۔ اور جکو ایسکا کرے گکا وہ اپنکا ہی نقصکان کرے گکا اور خدا ککے احکام ککو ہنسکی (اور‬
‫کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں‬
‫نصکیحت فرماتکا ہے ان ککو یاد کرو۔ اور خدا سکے ڈرتکے رہو اور جان رکھوککہ خدا ہر چیز سکے واقف ہے (‪ )۲۳۱‬اور جب تکم‬
‫عورتوں کو طلق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور‬
‫پکر راضکی ہوجائیکں نکاح کرنکے سکے مکت روککو۔ اس (حککم) سکے اس شخکص ککو نصکیحت ککی جاتکی ہے جکو تکم میکں خدا اور‬
‫روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‬
‫(‪ )۲۳۲‬اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلئیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا‬
‫چاہے۔ اور دودھ پلنے والی ماؤں ککا کھانکا اور کپڑا دستور کے مطابکق باپ کے ذمکے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقکت‬
‫سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس‬
‫کی اولد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں‬
‫باپ) آپس کی رضامندی اور صلح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولد کو دودھ‬
‫پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلنے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے‬

‫‪Page 14 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے (‪ )۲۳۳‬اور جو لوگ تم میں سے‬
‫مرجائیکں اور عورتیکں چھوڑ جائیکں تکو عورتیکں چار مہینکے دس دن اپنکے آپ ککو روککے رہیکں۔ اور جکب (یکہ) عدت پوری‬
‫کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہ یں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف‬
‫ہے (‪ )۲۳۴‬اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی‬
‫رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا‬
‫ککہ دسکتور ککے مطابکق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پکر ان سکے قول واقرار نکہ کرنکا۔ اور جکب تک عدت پوری نکہ ہولے نکاح‬
‫کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان‬
‫رکھھو ککہ خدا بخشنکے وال اور حلم وال ہے (‪ )۲۳۵‬اور اگکر تکم عورتوں ککو ان ککے پاس جانکے یکا ان ککا مہر مقرر کرنکے سکے‬
‫پہلے طلق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور وال اپنے مقدور‬
‫کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے (‪ )۲۳۶‬اور اگر تم عورتوں کو‬
‫ان کے پاس جانے سے پہلے طلق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا‬
‫مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ‬
‫اپنکا حکق چھوڑ دو تکو یکہ پرہیزگاری ککی بات ہے۔ اور آپکس میکں بھلئی کرنکے ککو فراموش نکہ کرنکا۔ کچکھ شکک نہیکں ککہ خدا‬
‫تمہارے سکب کاموں ککو دیککھ رہا ہے (‪( )۲۳۷‬مسکلمانو) سکب نمازیکں خصکوصاً بیکچ ککی نماز (یعنکی نماز عصکر) پورے التزام‬
‫کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو (‪ )۲۳۸‬اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار‬
‫(جکس حال میکں ہو نماز پڑھ لو) پھھر جکب امن (واطمینان) ہوجائے تکو جکس طریکق سکے خدا نکے تکم کو سککھایا ہے جکو تکم پہلے‬
‫نہیکں جانتکے تھھے خدا ککو یاد کرو (‪ )۲۳۹‬اور جکو لوگ تکم میں سکے مرجائیکں اور عورتیکں چھوڑ جائیکں وہ اپنکی عورتوں ککے‬
‫حکق میکں وصکیت کرجائیکں ککہ ان ککو ایکک سکال تکک خرچ دیکا جائے اور گھھر سکے نکہ نکالی جائیکں۔ ہاں اگکر وہ خود گھھر سکے‬
‫نککل جائیکں اور اپنکے حکق میکں پسکندیدہ کام (یعنکی نکاح) کرلیکں تکو تکم پکر کچکھ گناہ نہیکں۔ اور خدا زبردسکت حکمکت وال ہے (‬
‫‪ )۲۴۰‬اور مطلقکہ عورتوں ککو بھھی دسکتور ککے مطابکق نان و نفقکہ دینکا چاہیئے پرہیزگاروں پکر (یکہ بھھی) حکق ہے (‪ )۲۴۱‬اسکی‬
‫طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو (‪ )۲۴۲‬بھل تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں)‬
‫ہزاروں ہی ت ھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے ت ھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پ ھر ان کو‬
‫زندہ بھھی کردیککا۔ کچکھ شککک نہیکں ککہ خدا لوگوں پککر مہربانککی رکھتککا ہے۔ لیکککن اکثککر لوگ شکککر نہیکں کرت کے (‪ )۲۴۳‬اور‬
‫(مسلمانو) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) جانتا ہے (‪ )۲۴۴‬کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے‬
‫کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم‬
‫اسکی ککی طرف لوٹ ککر جاؤ گکے (‪ )۲۴۵‬بھل تکم نکے بنکی اسکرائیل ککی ایکک جماعکت ککو نہیکں دیکھھا جکس نکے موسکیٰ ککے بعکد‬
‫اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم‬
‫کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ‬
‫ہم وطکن سکے (خارج) اور بال بچوں سکے جدا کردیئے گئے۔ لیککن جکب ان ککو جہاد ککا حککم دیکا گیکا تکو چنکد اشخاص ککے سکوا‬
‫سب پ ھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے (‪ )۲۴۶‬اور پیغمبر نے ان سے (یہ ب ھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو‬
‫بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہ یں اور اس کے‬
‫پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا‬
‫ہے اس نکے اسکے علم بھھی بہت سککا بخشککا ہے اور تککن و توش بھھی (بڑا عطککا کیککا ہے) اور خدا (کککو اختیار ہے) جسکے چاہے‬
‫بادشاہی بخشکے۔ وہ بڑا کشائش وال اور دانکا ہے (‪ )۲۴۷‬اور پیغمکبر نکے ان سکے کہا ککہ ان ککی بادشاہی ککی نشانکی یکہ ہے ککہ‬
‫تمہارے پاس ایکک صکندوق آئے گکا جکس ککو فرشتکے اٹھائے ہوئے ہوں گکے اس میکں تمہارے پروردگار ککی طرف سکے تسکلی‬
‫(بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو‬
‫تکو یکہ تمہارے لئے ایکک بڑی نشانکی ہے (‪ )۲۴۸‬غرض جکب طالوت فوجیکں لے ککر روانکہ ہوا تکو اس نکے (ان سکے) کہا ککہ خدا‬
‫ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے وال ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ)‬
‫وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب‬
‫وہ لوگ نہر پکر پہنچکے) تکو چنکد شخصکوں ککے سکوا سکب نکے پانکی پکی لیکا۔ پھھر جکب طالوت اور مومکن لوگ جکو اس ککے سکاتھ‬

‫‪Page 15 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫تھھے نہر ککے پار ہوگئے۔ تکو کہنکے لگکے ککہ آج ہم میکں جالوت اور اس ککے لشککر سکے مقابلہ کرنکے ککی طاقکت نہیکں۔ جکو لوگ‬
‫یقین رکھ تے ت ھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہ نے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم‬
‫سکے بڑی جماعکت پکر فتکح حاصکل ککی ہے اور خدا اسکتقلل رکھنکے والوں ککے سکاتھ ہے (‪ )۲۴۹‬اور جکب وہ لوگ جالوت اور‬
‫اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں)‬
‫ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر (‪ )۲۵۰‬تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد‬
‫نے جالوت کو قتل کر ڈال۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک‬
‫دوسکرے (پکر چڑھائی اور حملہ کرنکے) سکے ہٹاتکا نکہ رہتکا تکو ملک تباہ ہوجاتکا لیککن خدا اہل عالم پکر بڑا مہربان ہے (‪ )۲۵۱‬یکہ‬
‫خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلشبہ پیغمبروں میں سے ہو (‪)۲۵۲‬‬
‫یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہیں ہیں) ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے‬
‫خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں‬
‫عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر خداچاہ تا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد‬
‫آپکس میکں نکہ لڑتکے لیککن انہوں نکے اختلف کیکا تکو ان میکں سکے بعکض تکو ایمان لے آئے اور بعکض کافکر ہی رہے۔ اور اگکر خدا‬
‫چاہ تا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن خدا جو چاہ تا ہے کرتا ہے (‪ )۲۵۳‬اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا‬
‫ہے اس میکں سکے اس دن ککے آنکے سکے پہلے پہلے خرچ کرلو جکس میکں نکہ (اعمال ککا) سکودا ہو اور نکہ دوسکتی اور سکفارش ہو‬
‫سکے اور کفر کرنکے والے لوگ ظالم ہیکں (‪ )۲۵۴‬خدا (وہ معبود برحکق ہے ککہ) اس کے سوا کوئی عبادت ککے لئق نہیکں زندہ‬
‫ہمیشہ رہنے وال اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو‬
‫اس ککی اجازت ککے بغیکر اس سکے (کسکی ککی) سکفارش ککر سککے جکو کچکھ لوگوں ککے روبرو ہو رہا ہے اور جکو کچکھ ان ککے‬
‫پیچھھے ہوچککا ہے اسکے سکب معلوم ہے اور وہ اس ککی معلومات میکں سکے کسکی چیکز پکر دسکترس حاصکل نہیکں ککر سککتے ہاں‬
‫جس قدر وہ چاہ تا ہے (اسکی قدر معلوم کرا دیتکا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمیکن سکب پر حاوی ہے اور اسے‬
‫ان کی حفاظت کچھ ب ھی دشوار نہ یں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے (‪ )۲۵۵‬دین (اسلم) میں زبردستی نہ یں ہے ہدایت‬
‫(صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لئے اس‬
‫نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے‬
‫(‪ )۲۵۶‬جو لوگ ایمان لئے ہ یں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر‬
‫ہ یں ان کے دوست شیطان ہ یں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہ یں یہی لوگ اہل دوزخ ہ یں کہ اس میں‬
‫ہمیشہ رہیں گے (‪ )۲۵۷‬بھل تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی‬
‫تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلتا اور مارتا ہے۔‬
‫وہ بول کہ جل اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے‬
‫نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا (‪ )۲۵۸‬یا اسی طرح اس شخص کو‬
‫(نہیکں دیکھھا) جسکے ایکک گاؤں میکں جکو اپنکی چھتوں پکر گرا پڑا تھھا اتفاق گزر ہوا۔ تکو اس نکے کہا ککہ خدا اس (ککے باشندوں)‬
‫کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رک ھا) پ ھر‬
‫اس کو جل اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے)رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا‬
‫(نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں‬
‫اور اپنے گد ھے کو ب ھی دیک ھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی)‬
‫نشانکی بنائیکں اور (ہاں گدھھے) ککی ہڈیوں ککو دیکھھو ککہ ہم ان ککو کیونککر جوڑے دیتکے اور ان پکر (ککس طرح) گوشکت پوسکت‬
‫چڑھھا دیتکے ہیکں۔ جکب یکہ واقعات اس ککے مشاہدے میکں آئے تکو بول اٹھھا ککہ میکں یقیکن کرتکا ہوں ککہ خدا ہر چیکز پکر قادر ہے (‬
‫‪ )۲۵۹‬اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا‬
‫کیا تم نے (اس بات کو) باور نہ یں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہ یں۔ لیکن (میں دیکھ نا) اس لئے (چاہ تا ہوں) کہ میرا دل اطمینان‬
‫کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پ ھر ان کا ایک‬
‫ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پ ھر ان کو بلؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑ تے چلے آئیں گے۔ اور جان رک ھو کہ خدا غالب اور‬
‫صاحب حکمت ہے۔ (‪ )۲۶۰‬جو لوگ اپنا مال خدا ککی راہ میں خرچ کرتکے ہیکں ان (ککے مال) ککی مثال اس دانکے کی سی ہے‬

‫‪Page 16 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی‬
‫کشائش وال اور سب کچھ جاننے وال ہے (‪ )۲۶۱‬جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہ یں پ ھر اس کے بعد نہ‬
‫اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھ تے ہ یں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہ یں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار)‬
‫ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (‪ )۲۶۲‬جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے‬
‫کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار‬
‫ہے (‪ )۲۶۳‬مومنو! اپنے صدقات (وخیرات)احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں‬
‫کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہ یں رکھ تا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان‬
‫ککی سکی ہے جکس پکر تھوڑی سکی مٹھی پڑی ہو اور اس پکر زور ککا مینکہ برس ککر اسکے صکاف ککر ڈالے۔ (اسکی طرح) یکہ‬
‫(ریاکار) لوگ اپنکے اعمال ککا کچکھ بھھی صکلہ حاصکل نہیکں کرسککیں گکے۔ اور خدا ایسکے ناشکروں ککو ہدایکت نہیکں دیکا کرتکا (‬
‫‪ )۲۶۴‬اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ‬
‫کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو(جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لئے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی‬
‫سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے (‪ )۲۶۵‬بھل تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ‬
‫ہو جس میکں نہریکں بہہ رہی ہوں اور اس میکں اس کے لئے ہر قسکم ککے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپکا آپکڑے اور اس ککے‬
‫نن ھے نن ھے بچے ب ھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگول چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھ یر ہو) جائے۔ اس‬
‫طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو) ( ‪ )۲۶۶‬مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ‬
‫مال تکم کماتکے ہوں اور جکو چیزیکں ہم تمہارے لئے زمیکن سکےنکالتے ہیکں ان میکں سکے (راہ خدا میکں) خرچ کرو۔ اور بری اور‬
‫ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو‬
‫کبھھی نکہ لو۔ اور جان رکھھو ککہ خدا بےپروا (اور) قابکل سکتائش ہے (‪( )۲۶۷‬اور دیکھنکا) شیطان (ککا کہنکا نکہ ماننکا وہ) تمہیکں‬
‫تنکگ دسکتی ککا خوف دلتکا اور بےحیائی ککے کام ککر نکے ککو کہتکا ہے۔ اور خدا تکم سکے اپنکی بخشکش اور رحمکت ککا وعدہ کرتکا‬
‫ہے۔ اور خدا بڑی کشائش وال (اور) سکب کچکھ جاننکے وال ہے (‪ )۲۶۸‬وہ جکس ککو چاہتکا ہے دانائی بخشتکا ہے۔ اور جکس ککو‬
‫دانائی ملی بےشکک اس ککو بڑی نعمکت ملی۔ اور نصکیحت تکو وہی لوگ قبول کرتکے ہیکں جکو عقلمنکد ہیکں ( ‪ )۲۶۹‬اور تکم (خدا‬
‫کی راہ میں) جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اس کو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (‪ )۲۷۰‬اگر تم‬
‫خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا)‬
‫تمہارے گناہوں ککو بھھی دور کردے گکا۔ اور خدا ککو تمہارے سکب کاموں ککی خکبر ہے (‪( )۲۷۱‬اے محمدﷺ) تکم ان لوگوں ککی‬
‫ہدایت کے ذمہ دار نہ یں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہ تا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا‬
‫فائدہ تمہیکں ککو ہے اور تکم جکو خرچ کرو گکے خدا ککی خوشنودی ککے لئے کرو گکے۔ اور جکو مال تکم خرچ کرو گکے وہ تمہیکں‬
‫پورا پورا دے دیککا جائے گککا اور تمہارا کچککھ نقصککان نہیککں کیککا جائے گککا‪( )۲۷۲( ،‬اور ہاں تککم جککو خرچ کرو گککے تککو) ان‬
‫حاجتمندوں ککے لئے جکو خدا ککی راہ میکں رککے بیٹھھے ہیکں اور ملک میکں کسکی طرف جانکے ککی طاقکت نہیکں رکھتکے (اور‬
‫مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے‬
‫ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم‬
‫جکو مال خرچ کرو گکے کچکھ شکک نہیکں ککہ خدا اس ککو جانتکا ہے (‪ )۲۷۳‬جکو لوگ اپنکا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر‬
‫(راہ خدا میکں) خرچ کرتکے رہتکے ہیکں ان ککا صکلہ پروردگار ککے پاس ہے اور ان ککو (قیامکت ککے دن) نکہ کسکی طرح ککا خوف‬
‫ہوگا اور نہ غم (‪ )۲۷۴‬جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے‬
‫لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہ تے ہ یں کہ سودا بیچنا ب ھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا)‬
‫حالنککہ سکودے ککو خدا نکے حلل کیکا ہے اور سکود ککو حرام۔ تکو جکس شخکص ککے پاس خدا ککی نصکیحت پہنچکی اور وہ (سکود‬
‫لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے‬
‫لوگ دوزخکی ہیکں ککہ ہمیشکہ دوزخ میکں (جلتکے) رہیکں گکے (‪ )۲۷۵‬خدا سکود ککو نابود (یعنکی بےھبرکت) کرتکا اور خیرات (ککی‬
‫برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہ یں رکھ تا (‪ )۲۷۶‬جو لوگ ایمان لئے اور نیک عمل کرتے‬
‫اور نماز پڑھتکے اور زکوٰة دیتکے رہے ان ککو ان ککے کاموں ککا صکلہ خدا ککے ہاں ملے گکا اور (قیامکت ککے دن) ان ککو نکہ کچکھ‬
‫خوف ہوا اور نکہ وہ غمناک ہوں گکے (‪ )۲۷۷‬مومنکو! خدا سکے ڈرو اور اگکر ایمان رکھتکے ہو تکو جتنکا سکود باقکی رہ گیکا ہے اس‬

‫‪Page 17 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کو چھوڑ دو (‪ )۲۷۸‬اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو)‬
‫اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور‬
‫تمہارا نقصکان (‪ )۲۷۹‬اور اگر قرض لینکے وال تنکگ دست ہو تکو (اسکے) کشائش (کے حاصل ہونکے) تک مہلت (دو) اور اگکر‬
‫(زر قرض) بخکش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھھا ہے بشرطیککہ سکمجھو (‪ )۲۸۰‬اور اس دن سکے ڈرو جکب ککہ تکم خدا ککے‬
‫حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا ( ‪)۲۸۱‬‬
‫مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھ نے وال تم میں‬
‫(کسکی ککا نقصکان نکہ کرے بلککہ) انصکاف سکے لکھھے نیکز لکھنکے وال جیسکا اسکے خدا نکے سککھایا ہے لکھنکے سکے انکار بھھی نکہ‬
‫کرے اور دسکتاویز لککھ دے۔ اور جکو شخکص قرض لے وہی (دسکتاویز ککا) مضمون بول ککر لکھوائے اور خدا سکے ککہ اس ککا‬
‫مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے وال بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون‬
‫لکھوانے کی قابلیت نہ رکھ تا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں‬
‫کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی‬
‫ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلدے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں‬
‫تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت‬
‫قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے‬
‫گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ‬
‫نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معامل‬
‫ہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو‬
‫اور (دیکھھو ککہ) وہ تکم ککو (کیسکی مفیکد باتیکں) سککھاتا ہے اور خدا ہر چیکز سکے واقکف ہے (‪ )۲۸۲‬اور اگکر تکم سکفر پکر ہواور‬
‫(دستاویز) لکھنے وال مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے‬
‫(یعنکی رہن ککے بغیکر قرض دیدے) تکو امانتدار ککو چاہیئے ککہ صکاحب امانکت ککی امانکت ادا کردے اور خدا سکے جکو اس ککا‬
‫پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھ نا) شہادت کو مت چھپانکا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب‬
‫کاموں سے واقف ہے (‪ )۲۸۳‬جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو‬
‫ظاہر کرو گکے تکو یکا چھپاؤ گکے تکو خدا تکم سکے اس ککا حسکاب لے گکا پھھر وہ جسکے چاہے مغفرت کرے اور جسکے چاہے عذاب‬
‫دے۔ اور خدا ہر چیکز پکر قادر ہے (‪ )۲۸۴‬رسکول (خدا) اس کتاب پکر جکو ان ککے پروردگار ککی طرف سکے ان پکر نازل ہوئی‬
‫ایمان رکھتکے ہیکں اور مومکن بھھی۔ سکب خدا پکر اور اس ککے فرشتوں پکر اور اس ککی کتابوں پکر اور اس ککے پیغمکبروں پکر‬
‫ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے‬
‫ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے (‬
‫‪ )۲۸۵‬خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ یں دیتا۔ اچ ھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے‬
‫کرے گکا تکو اسکے ان ککا نقصکان پہنچکے گکا۔ اے پروردگار اگکر ہم سکے بھول یکا چوک ہوگئی ہو تکو ہم سکے مؤاخذہ نکہ کیجیکو۔ اے‬
‫پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈال ت ھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں‬
‫طاقکت نہیکں اتنکا ہمارے سکر پکر نکہ رکھیکو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سکے درگزر ککر اور ہمیکں بخکش دے۔ اور ہم پکر‬
‫رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما (‪)۲۸۶‬‬

‫‪Page 18 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬

‫سورة آل عِمرَان‬
‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫الم (‪ )۱‬خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لئق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے وال ( ‪ )۲‬اس نے (اے محمدﷺ) تم‬
‫پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی (‪( )۳‬یعنی)‬
‫لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے وال (ہے)‬
‫نازل کیکا جکو لوگ خدا ککی آیتوں ککا انکار کرتکے ہیکں ان ککو سکخت عذاب ہوگکا اور خدا زبردسکت (اور) بدلہ لینکے وال ہے (‪)۴‬‬
‫خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہ یں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (‪ )۵‬وہی تو ہے جو (ماں کے‬
‫پیٹ میں) جیسی چاہ تا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لئق نہ یں (‪ )۶‬وہی تو‬
‫ہے جکس نکے تکم پکر کتاب نازل ککی جکس ککی بعکض آیتیکں محککم ہیکں (اور) وہی اصکل کتاب ہیکں اور بعکض متشابکہ ہیکں تکو جکن‬
‫لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہ یں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالنکہ مراد‬
‫اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لئے یہ‬
‫سکب ہمارے پروردگار ککی طرف سکے ہیکں اور نصکیحت تکو عقکل منکد ہی قبول کرتکے ہیکں (‪ )۷‬اے پروردگار جکب تکو نکے ہمیکں‬
‫ہدایکت بخشکی ہے تکو اس ککے بعکد ہمارے دلوں میکں کجکی نکہ پیدا ککر دیجیکو اور ہمیکں اپنکے ہاں سکے نعمکت عطکا فرمکا تکو تکو بڑا‬
‫عطا فرمانے وال ہے (‪ )۸‬اے پروردگار! تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ ب ھی شک نہ یں سب لوگوں کو (اپنے حضور‬
‫میکں) جمکع کرلے گکا بکے شکک خدا خلف وعدہ نہیکں کرتکا (‪ )۹‬جکو لوگ کافکر ہوئے (اس دن) نکہ تکو ان ککا مال ہی خدا (ککے‬
‫عذاب) سے ان کو بچا سکے گا اور نہ ان کی اولد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہ نم) کا ایند ھن ہوں گے (‪)۱۰‬‬
‫ان کا حال ب ھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ت ھی تو خدا نے ان کو‬
‫ان کے گناہوں کے سبب (عذاب میں) پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے وال ہے (‪( )۱۱‬اے پیغمبر) کافروں سے کہدو کہ‬
‫تکم (دنیکا میکں بھھی) عنقریکب مغلوب ہو جاؤ گکے اور (آخرت میکں) جہنکم ککی طرف ہانککے جاؤ گکے اور وہ بری جگکہ ہے (‪)۱۲‬‬
‫تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں ب ھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی ت ھی ایک گروہ‬
‫(مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا‬
‫مشاہدہ کر رہا ت ھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہ تا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہ یں ان کے لیے اس (واقعے) میں‬
‫بڑی عکبرت ہے (‪ )۱۳‬لوگوں ککو ان ککی خواہشوں ککی چیزیکں یعنکی عورتیکں اور بیٹھے اور سکونے اور چاندی ککے بڑے بڑے‬
‫ڈھ یر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہ یں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی‬
‫کے سامان ہیں اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے (‪( )۱۴‬اے پیغمبر ان سے) کہو کہ بھل میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو‬
‫ان چیزوں سے کہ یں اچ ھی ہو (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہ یں ان کے لیے خدا کے ہاں باغات (بہ شت) ہ یں جن کے نیچے نہریں‬
‫بہہ رہی ہیکں ان میکں وہ ہمیشکہ رہیکں گکے اور پاکیزہ عورتیکں ہیکں اور (سکب سکے بڑھ ککر) خدا ککی خوشنودی اور خدا (اپنکے‬
‫نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے (‪ )۱۵‬جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف‬
‫فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ (‪ )۱۶‬یہ وہ لوگ ہ یں جو (مشکلت میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت‬
‫میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں ( ‪ )۱۷‬خدا تو اس بات‬
‫ککی گواہی دیتکا ہے ککہ اس ککے سکوا کوئی معبود نہیکں اور فرشتکے اور علم والے لوگ جکو انصکاف پکر قائم ہیکں وہ بھھی (گواہی‬
‫دیتکے ہیکں ککہ) اس غالب حکمکت والے ککے سکوا کوئی عبادت ککے لئق نہیکں (‪ )۱۸‬دیکن تکو خدا ککے نزدیکک اسکلم ہے اور اہل‬
‫کتاب نے جو (اس دین سے) اختلف کیا تو علم ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے‬
‫تو خدا جلد حساب لینے وال (اور سزا دینے وال) ہے (‪ )۱۹‬اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑ نے لگیں تو کہ نا کہ میں اور‬
‫میرے پیرو تکو خدا ککے فرمانکبردار ہو چککے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سکے کہو ککہ کیکا تکم بھھی (خدا ککے فرمانکبردار‬

‫‪Page 19 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫بنتکے ہو) اور اسکلم لتکے ہو؟ اگکر یکہ لوگ اسکلم لے آئیکں تکو بکے شک ہدایکت پالیکں اور اگکر (تمہارا کہا) نکہ مانیکں تکو تمہارا کام‬
‫صکرف خدا ککا پیغام پہنچکا دینکا ہے اور خدا (اپنکے) بندوں ککو دیککھ رہا ہے (‪ )۲۰‬جکو لوگ خدا ککی آیتوں ککو نہیکں مانتکے اور‬
‫انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے‬
‫عذاب ککی خوشخکبری سکنا دو (‪ )۲۱‬یکہ ایسکے لوگ ہیکں جکن ککے اعمال دنیکا اور آخرت دونوں میکں برباد ہیکں اور ان ککا کوئی‬
‫مددگار نہ یں (ہوگا) (‪ )۲۲‬بھل تم نے ان لوگوں کو نہیں دیک ھا جن کو کتاب (خدا یعنی تورات سے) بہرہ دیا گیا اور وہ (اس)‬
‫کتاب ال ککی طرف بلئے جاتکے ہ یں تاککہ وہ (ان کے تنازعات ککا) ان میکں فیصکلہ کر دے تو ایکک فریکق ان میکں سے کج ادائی‬
‫ککے سکاتھ منکہ پھیکر لیتکا ہے (‪ )۲۳‬یکہ اس لیکے ککہ یکہ اس بات ککے قائل ہیکں ککہ (دوزخ ککی) آگ ہمیکں چنکد روز ککے سکوا چھھو ہی‬
‫نہ یں سکے گی اور جو کچھ یہ دین کے بارے میں بہتان باندھ تے رہے ہ یں اس نے ان کو دھوکے میں ڈال رک ھا ہے ( ‪ )۲۴‬تو‬
‫اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنکی) اس روز جس (کے آنے) میں کچھ ب ھی شک نہ یں اور ہر نفس‬
‫اپنکے اعمال ککا پورا پورا بدلہ پائے گکا اور ان پکر ظلم نہیکں کیکا جائے گکا (‪ )۲۵‬کہو ککہ اے خدا (اے) بادشاہی ککے مالک تکو جکس‬
‫ککو چاہے بادشاہی بخشکے اور جکس سکے چاہے بادشاہی چھیکن لے اور جکس ککو چاہے عزت دے اور جسکے چاہے ذلیکل کرے ہر‬
‫طرح ککی بھلئی تیرے ہی ہاتکھ ہے اور بکے شکک تکو ہر چیکز پکر قادر ہے (‪ )۲۶‬تکو ہی رات ککو دن میکں داخکل کرتکا اور تکو ہی‬
‫دن کو رات میں داخل کرتا ہے تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے اور توہی‬
‫جس کو چاہ تا ہے بے شمار رزق بخشتا ہے (‪ )۲۷‬مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو‬
‫ایسکا کرے گکا اس سکے خدا ککا کچکھ (عہد) نہیکں ہاں اگکر اس طریکق سکے تکم ان (ککے شکر) سکے بچاؤ ککی صکورت پیدا کرو (تکو‬
‫مضائقہ نہ یں) اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے ( ‪( )۲۸‬اے پیغمکبر‬
‫لوگوں سے) کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو خدا اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں‬
‫میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے (‪ )۲۹‬جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی‬
‫نیککی ککو موجود پالے گکا اور ان ککی برائی ککو بھھی (دیککھ لے گکا) تکو آرزو کرے گکا ککہ اے کاش اس میکں اور اس برائی میکں‬
‫دور ککی مسکافت ہو جاتکی اور خدا تکم ککو اپنکے (غضکب) سکے ڈراتکا ہے اور خدا اپنکے بندوں پکر نہایکت مہربان ہے (‪( )۳۰‬اے‬
‫پیغمکبر لوگوں سکے) کہہ دو ککہ اگکر تکم خدا ککو دوسکت رکھتکے ہو تکو میری پیروی کرو خدا بھھی تمہیکں دوسکت رکھھے گکا اور‬
‫تمہارے گناہ معاف ککر دے گکا اور خدا بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۳۱‬کہہ دو ککہ خدا اور اس ککے رسکول ککا حککم مانکو اگکر نکہ‬
‫مانیکں تکو خدا بھھی کافروں ککو دوسکت نہیکں رکھتکا (‪ )۳۲‬خدا نکے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیکم اور خاندان عمران ککو تمام‬
‫جہان ککے لوگوں میکں منتخکب فرمایکا تھھا (‪ )۳۳‬ان میکں سکے بعکض بعکض ککی اولد تھھے اور خدا سکننے وال (اور) جاننکے وال‬
‫ہے (‪( )۳۴‬وہ وقکت یاد کرنکے ککے لئق ہے) جکب عمران ککی بیوی نکے کہا ککہ اے پروردگار جکو (بچکہ) میرے پیکٹ میکں ہے میکں‬
‫اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے وال‬
‫(اور) جاننے وال ہے (‪ )۳۵‬جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا ت ھا خدا کو خوب معلوم ت ھا تو کہ نے‬
‫لگیں ککہ پروردگار! میرے تو لڑ کی ہوئی ہے اور (نذر ککے لیکے) لڑککا (موزوں ت ھا کہ وہ) لڑککی ککی طرح (ناتواں) نہیکں ہوتکا‬
‫اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں (‪)۳۶‬‬
‫تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچ ھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا‬
‫زکریکا جکب کبھھی عبادت گاہ میکں اس ککے پاس جاتکے تکو اس ککے پاس کھانکا پاتکے (یکہ کیفیکت دیککھ ککر ایکک دن مریکم سکے)‬
‫پوچھ نے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے‬
‫شمار رزق دیتکا ہے (‪ )۳۷‬اس وقکت زکریکا نکے اپنکے پروردگار سکے دعکا ککی (اور) کہا ککہ پروردگار مجھھے اپنکی جناب سکے‬
‫اولد صکالح عطکا فرمکا تکو بکے شکک دعکا سکننے (اور قبول کرنکے) وال ہے (‪ )۳۸‬وہ ابھھی عبادت گاہ میکں کھڑے نماز ہی پڑھ‬
‫رہے تھھے ککہ فرشتوں نکے آواز دی ککہ (زکریکا) خدا تمہیکں یحییکٰ ککی بشارت دیتکا ہے جکو خدا ککے فیکض یعنکی (عیسکیٰ) ککی‬
‫تصکدیق کریکں گکے اور سکردار ہوں گکے اور عورتوں سکے رغبکت نکہ رکھنکے والے اور (خدا ککے) پیغمکبر (یعنکی) نیککو کاروں‬
‫میکں ہوں گکے (‪ )۳۹‬زکریکا نکے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑککا کیونککر پیدا ہوگکا ککہ میکں تکو بڈھھا ہوگیکا ہوں اور میری بیوی‬
‫بانجکھ ہے خدا نکے فرمایکا اسکی طرح خدا جکو چاہتکا ہے کرتکا ہے (‪ )۴۰‬زکریکا نکے کہا ککہ پروردگار (میرے لیکے) کوئی نشانکی‬
‫مقرر فرما خدا نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کر سکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے‬
‫پروردگار ککی کثرت سکے یاد اور صکبح و شام اس ککی تسکبیح کرنکا (‪ )۴۱‬اور جکب فرشتوں نکے (مریکم سکے) کہا ککہ مریکم! خدا‬

‫‪Page 20 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫نکے تککم کککو برگزیدہ کیککا ہے اور پاک بنایککا ہے اور جہان کککی عورتوں میکں منتخککب کیککا ہے (‪ )۴۲‬مریککم اپنکے پروردگار کککی‬
‫فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا (‪( )۴۳‬اے محمدﷺ) یہ باتیں اخبار غیب میں‬
‫سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو‬
‫تکم ان ککے پاس نہیکں تھھے اور نکہ اس وقکت ہی ان ککے پاس تھھے جکب وہ آپکس میکں جھگکڑ رہے تھھے ( ‪( )۴۴‬وہ وقکت بھھی یاد‬
‫کرنے کے لئق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس‬
‫کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا (‬
‫‪ )۴۵‬اور ماں ککی گود میکں اور بڑی عمکر ککا ہو ککر (دونوں حالتوں میکں) لوگوں سکے (یکسکاں) گفتگکو کرے گکا اور نیککو‬
‫کاروں میکں ہوگکا (‪ )۴۶‬مریکم نکے کہا پروردگار میرے ہاں بچکہ کیونککر ہوگکا ککہ کسکی انسکان نکے مجھھے ہاتکھ تکک تو لگایکا نہیکں‬
‫فرمایکا ککہ خدا اسکی طرح جکو چاہتکا ہے پیدا کرتکا ہے جکب وہ کوئی کام کرنکا چاہتکا ہے تکو ارشاد فرمکا دیتکا ہے ککہ ہوجکا تکو وہ ہو‬
‫جاتا ہے (‪ )۴۷‬اور وہ انہ یں لکھ نا (پڑھ نا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا (‪ )۴۸‬اور (عیسیٰ) بنی اسرائیل کی‬
‫طرف پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) کہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے‬
‫سامنے مٹی کی مورت بشکل پرند بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہو جاتا‬
‫ہے اور اند ھے اور ابرص کو تندرست کر دیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان ڈال دیتا ہوں اور جو کچھ تم ک ھا‬
‫ککر آتکے ہو اور جکو اپنکے گھروں میکں جمکع ککر رکھتکے ہو سکب تکم ککو بتکا دیتکا ہوں اگکر تکم صکاحب ایمان ہو تکو ان باتوں میکں‬
‫تمہارے لیے (قدرت خدا کی) نشانی ہے (‪ )۴۹‬اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں‬
‫اور (میں) اس لیے بھی (آیا ہوں) کہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لیے حلل کر دوں اور میں تو تمہارے‬
‫پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو (‪ )۵۰‬کچھ شک نہ یں کہ خدا ہی میرا اور‬
‫ےھھھھ ان ککی طرف سکے نافرمانکی اور‬ ‫تمہارا پروردگار ہے تکو اسکی ککی عبادت کرو یہی سکیدھا رسکتہ ہے (‪ )۵۱‬جکب عیسکیٰ نک‬
‫(نیت قتل) دیک ھی تو کہنکے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرف دار اور میرا مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار‬
‫اور آپ کے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لئے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں (‪ )۵۲‬اے پروردگار جو (کتاب) تو نے‬
‫نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہو چکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ ( ‪ )۵۳‬اور‬
‫وہ (یعنکی یہود قتکل عیسکیٰ ککے بارے میکں ایکک) چال چلے اور خدا بھھی (عیسکیٰ ککو بچانکے ککے لیکے) چال چل اور خدا خوب‬
‫چال چلنکے وال ہے (‪ )۵۴‬اس وقکت خدا نکے فرمایکا ککہ عیسکیٰ! میکں تمہاری دنیکا میکں رہنکے ککی مدت پوری کرککے تکم ککو اپنکی‬
‫طرف اٹھھا لوں گکا اور تمہیکں کافروں (ککی صکحبت) سکے پاک ککر دوں گکا اور جکو لوگ تمہاری پیروی کریکں گکے ان ککو‬
‫کافروں پکر قیامکت تکک فائق (وغالب) رکھوں گکا پھھر تکم سکب میرے پاس لوٹ ککر آؤ گکے تکو جکن باتوں میکں تکم اختلف کرتکے‬
‫ت ھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردوں گا (‪ )۵۵‬یعنکی جو کافکر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دوں‬
‫گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا (‪ )۵۶‬اور جو ایمان لئے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا پورا پورا صلہ دے گا اور‬
‫خدا ظالموں ککو دوسکت نہیکں رکھتکا (‪( )۵۷‬اے محمدﷺ) یکہ ہم تکم ککو (خدا ککی) آیتیکں اور حکمکت بھری نصکیحتیں پڑھ پڑھ ککر‬
‫سکناتے ہیکں (‪ )۵۸‬عیسکیٰ ککا حال خدا ککے نزدیکک آدم ککا سکا ہے ککہ اس نکے (پہلے) مٹھی سکے ان ککا قالب بنایکا پھھر فرمایکا ککہ‬
‫(انسان) ہو جا تو وہ (انسان) ہو گئے (‪( )۵۹‬یہ بات) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں‬
‫میں نہ ہونا (‪ )۶۰‬پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چلی ہے‬
‫تو ان سے کہنا کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلئیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلؤ اور ہم خود بھی آئیں اور تم‬
‫خود بھھی آؤ پھھر دونوں فریکق (خدا سکے) دعکا والتجکا کریکں اور جھوٹوں پکر خدا ککی لعنکت بھیجیکں ( ‪ )۶۱‬یکہ تمام بیانات‬
‫صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحبِ حکمت ہے ( ‪ )۶۲‬تو اگر یہ لوگ پھر جائیں‬
‫تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے (‪ )۶۳‬کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم‬
‫ککی گئی) ہے اس ککی طرف آؤ وہ یکہ ککہ خدا ککے سکوا ہم کسکی ککی عبادت نکہ کریکں اور اس ککے سکاتھ کسکی چیکز کو شریکک نکہ‬
‫بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ‬
‫دو ککہ تکم گواہ رہو ککہ ہم (خدا ککے) فرماں بردار ہیکں (‪ )۶۴‬اے اہلِ کتاب تکم ابراہیکم ککے بارے میکں کیوں جھگڑتکے ہو حالنککہ‬
‫تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہو چکے ہیں) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے ( ‪ )۶۵‬دیکھو ایسی بات میں تو‬
‫تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑ تے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم‬

‫‪Page 21 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫نہیکں اور خدا جانتکا ہے اور تکم نہیکں جانتکے (‪ )۶۶‬ابراہیکم نکہ تکو یہودی تھھے اور نکہ عیسکائی بلککہ سکب سکے بکے تعلق ہو ککر ایکک‬
‫(خدا) کے ہو رہے ت ھے اور اسی کے فرماں بردار ت ھے اور مشرکوں میں نہ ت ھے (‪ )۶۷‬ابراہ یم سے قرب رکھ نے والے تو وہ‬
‫لوگ ہیکں جکو ان ککی پیروی کرتکے ہیکں اور پیغمکبر (آخرالزمان) اور وہ لوگ جکو ایمان لئے ہیکں اور خدا مومنوں ککا کارسکاز‬
‫ہے (‪( )۶۸‬اے اہل اسلم) بعضے اہلِ کتاب اس بات کی خواہش رکھ تے ہ یں کہ تم کو گمراہ کر دیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ‬
‫کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے (‪ )۶۹‬اے اہلِ کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو‬
‫اور تکم (تورات ککو) مانتکے تکو ہو (‪ )۷۰‬اے اہلِ کتاب تکم سکچ ککو جھوٹ ککے سکاتھ خلط ملط کیوں کرتکے ہو اور حکق ککو کیوں‬
‫چھپاتکے ہو اور تکم جانتکے بھھی ہو (‪ )۷۱‬اور اہلِ کتاب ایکک دوسکرے سکے کہتکے ہیکں ککہ جکو (کتاب) مومنوں پکر نازل ہوئی ہے‬
‫اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو اور اس کے آخر میں انکار کر دیا کرو تاکہ وہ (اسلم سے) برگشتہ ہو جائیں (‬
‫‪ )۷۲‬اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ‬
‫بھھی کہتکے ہیکں) یکہ بھھی (نکہ ماننکا) ککہ جکو چیکز تکم ککو ملی ہے ویسکی کسکی اور ککو ملے گکی یکا وہ تمہیکں خدا ککے روبرو قائل‬
‫معقول کر سکیں گے یہ ب ھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہ تا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش وال (اور)‬
‫علم وال ہے (‪ )۷۳‬وہ اپنکی رحمکت سکے جکس ککو چاہتکا ہے خاص ککر لیتکا ہے اور خدا بڑے فضکل ککا مالک ہے (‪ )۷۴‬اور اہلِ‬
‫کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس (روپوں کا) ڈھ یر امانت رکھ دو تو تم کو (فوراً) واپس دے دے اور‬
‫کوئی اس طرح ککا ہے ککہ اگکر اس ککے پاس ایکک دینار بھھی امانکت رکھھو تکو جکب تکک اس ککے سکر پکر ہر وقکت کھڑے نکہ رہو‬
‫تمہ یں دے ہی نہ یں یہ اس لیے کہ وہ کہ تے ہ یں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہ یں ہوگا یہ خدا پر محض جھوٹ بولتے‬
‫ہیکں اور (اس بات ککو) جانتکے بھھی ہیکں (‪ )۷۵‬ہاں جکو شخکص اپنکے اقرار ککو پورا کرے اور (خدا سکے) ڈرے تکو خدا ڈرنکے‬
‫والوں کو دوست رکھ تا ہے (‪ )۷۶‬جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہ یں اور ان) کے عوض تھوڑی‬
‫سی قیمت حاصل کرتے ہ یں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہ یں ان سے خدا نہ تو کلم کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی‬
‫طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے وال عذاب ہوگا (‪ )۷۷‬اور ان (اہلِ کتاب) میں بعضے ایسے‬
‫ہیکں ککہ کتاب (تورات) ککو زبان مروڑ مروڑ ککر پڑھتکے ہیکں تاککہ تکم سکمجھو ککہ جکو کچکھ وہ پڑھتکے ہیکں کتاب میکں سکے ہے‬
‫حالنکہ وہ کتاب میں سے نہ یں ہے اور کہ تے ہ یں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) ہے حالنکہ وہ خدا کی طرف سے نہ یں‬
‫ہوتکا اور خدا پکر جھوٹ بولتکے ہیکں اور (یکہ بات) جانتکے بھھی ہیکں (‪ )۷۸‬کسکی آدمکی ککو شایاں نہیکں ککہ خدا تکو اسکے کتاب اور‬
‫حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار‬
‫ہے کہ اے اہلِ کتاب) تم (علمائے) ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتابِ (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو ( ‪ )۷۹‬اور اس کو یہ بھی نہیں‬
‫کہنا چاہیے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا بنالو بھل جب تم مسلمان ہو چکے تو کیا اسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو‬
‫کہے (‪ )۸۰‬اور جکب خدا نکے پیغمکبروں سکے عہد لیکا ککہ جکب میکں تکم ککو کتاب اور دانائی عطکا کروں پھھر تمہارے پاس کوئی‬
‫پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھ یں ضرور اس پر ایمان لنا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی‬
‫اور (عہد لینے کے بعد) پوچ ھا کہ بھل تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مج ھے ضامن ٹہرایا) انہوں نے‬
‫کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد وپیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں (‪ )۸۱‬تو‬
‫جکو اس ککے بعکد پھھر جائیکں وہ بکد کردار ہیکں (‪ )۸۲‬کیکا یکہ (کافکر) خدا ککے دیکن ککے سکوا کسکی اور دیکن ککے طالب ہیکں حالنککہ‬
‫سب اہلِ آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرماں بردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ( ‪)۸۳‬‬
‫کہو کہ ہم خدا پر ایمان لئے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہ یم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور‬
‫ان ککی اولد پکر اترے اور جو کتابیں موسکیٰ اور عیسکیٰ اور دوسکرے انبیاء کو پروردگار کی طرف سکے ملیکں سب پکر ایمان‬
‫لئے ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرماں بردار ہیں (‪ )۸۴‬اور جو‬
‫شخکص اسکلم ککے سکوا کسکی اور دیکن ککا طالب ہوگکا وہ اس سکے ہرگکز قبول نہیکں کیکا جائے گکا اور ایسکا شخکص آخرت میکں‬
‫نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا (‪ )۸۵‬خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لنے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے)‬
‫اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہے اور ان کے پاس دلئل بھی آگئے اور خدا بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیتا‬
‫(‪ )۸۶‬ان لوگوں ککی سکزا یکہ ہے ککہ ان پکر خدا ککی اور فرشتوں ککی اور انسکانوں ککی سکب ککی لعنکت ہو ( ‪ )۸۷‬ہمیشکہ اس لعنکت‬
‫میں (گرفتار) رہیں گے ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دے جائے گی ( ‪ )۸۸‬ہاں جنہوں نے اس کے بعد‬
‫توبہ کی اور اپنی حالت درست کر لی تو خدا بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۸۹‬جو لوگ ایمان لنے کے بعد کافر ہو گئے پھر کفر‬

‫‪Page 22 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫میں بڑھ تے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہ یں (‪ )۹۰‬جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت‬
‫میکں مکر گئے وہ اگکر (نجات حاصکل کرنکی چاہیکں اور) بدلے میکں زمیکن بھھر ککر سکونا دیکں تکو ہرگکز قبول نکہ کیکا جائے گکا ان‬
‫لوگوں کو دکھ دینے وال عذاب ہو گا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا (‪( )۹۱‬مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو‬
‫تمھ یں عزیز ہ یں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کب ھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا‬
‫اس کو جانتا ہے (‪ )۹۲‬بنی اسرائیل کے لیے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلل تھیں بجز ان کے‬
‫جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو) (‬
‫‪ )۹۳‬جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹے افترا کریں تو ایسے لوگ ہی بےانصاف ہیں (‪ )۹۴‬کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمایا دیا‬
‫پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے (‪ )۹۵‬پہل‬
‫گھھر جکو لوگوں (ککے عبادت کرنکے) ککے لیکے مقرر کیکا گیکا تھھا وہی ہے جکو مککے میکں ہے بابرککت اور جہاں ککے لیکے موجبِک‬
‫ہدایت (‪ )۹۶‬اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جو شخص اس (مبارک)‬
‫گ ھر میں داخل ہوا اس نے امن پا لیا اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گ ھر تک جانے کا مقدور رک ھے‬
‫وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا ب ھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے ( ‪ )۹۷‬کہو کہ اہلِ کتاب! تم‬
‫خدا ککی آیتوں سکے کیوں کفکر کرتکے ہو اور خدا تمہارے سکب اعمال سکے باخکبر ہے (‪ )۹۸‬کہو ککہ اہلِ کتاب تکم مومنوں ککو خدا‬
‫کے رستے سے کیوں روکتے ہو اور باوجود یہ کہ تم اس سے واقف ہو اس میں کجی نکالتے ہو اور خدا تمھارے کاموں سے‬
‫بےخبر نہیں (‪ )۹۹‬مومنو! اگر تم اہلِ کتاب کے کسی فریق کا کہا مان لو گے تو وہ تمھیں ایمان لنے کے بعد کافر بنا دیں گے‬
‫(‪ )۱۰۰‬اور تکم کیونککر کفکر کرو گکے جبککہ تکم ککو خدا ککی آیتیکں پڑھ پڑھ ککر سکنائی جاتکی ہیکں اور تکم میکں اس ککے پیغمکبر‬
‫موجود ہیکں اور جکس نکے خدا (ککی ہدایکت ککی رسکی) ککو مضبوط پککڑ لیکا وہ سکیدھے رسکتے لگ گیکا (‪ )۱۰۱‬مومنکو! خدا سکے‬
‫ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا (‪ )۱۰۲‬اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو‬
‫مضبوط پکڑے رہ نا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن ت ھے تو اس نے‬
‫تمہارے دلوں میکں الفکت ڈال دی اور تکم اس ککی مہربانکی سکے بھائی بھائی ہوگئے اور تکم آگ ککے گڑھھے ککے کنارے تکک پہنکچ‬
‫چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ ( ‪)۱۰۳‬‬
‫اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلئے اور اچ ھے کام کرنے کا حکم دے اور برے‬
‫کاموں سکے منکع کرے یہی لوگ ہیکں جکو نجات پانکے والے ہیکں (‪ )۱۰۴‬اور ان لوگوں ککی طرح نکہ ہونکا جکو متفرق ہو گئے اور‬
‫احکام بین آنے کے بعد ایک دوسرےسے (خلف و) اختلف کرنے لگے یہ وہ لوگ ہیں جن کو قیامت کے دن بڑا عذاب ہوگا (‬
‫‪ )۱۰۵‬جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے منہ سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا)‬
‫کیکا تکم ایمان ل ککر کافکر ہوگئے تھھے؟ سکو (اب) اس کفکر ککے بدلے عذاب (ککے مزے) چکھھو ( ‪ )۱۰۶‬اور جکن لوگوں ککے منکہ‬
‫سفید ہوں گے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے (‪ )۱۰۷‬یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم‬
‫کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہ یں اور خدا اہلِ عالم پر ظلم نہ یں کرنا چاہ تا ( ‪ )۱۰۸‬اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو‬
‫کچکھ زمیکن میکں ہے سکب خدا ہی ککا ہے اور سکب کاموں ککا رجوع (اور انجام) خدا ہی ککی طرف ہے (‪( )۱۰۹‬مومنکو) جتنکی‬
‫امتیکں (یعنکی قومیکں) لوگوں میکں پیدا ہوئیکں تکم ان سکب سکے بہتکر ہو ککہ نیکک کام کرنکے ککو کہتکے ہو اور برے کاموں سکے منکع‬
‫کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھ تے ہو اور اگر اہلِ کتاب ب ھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچ ھا ہوتا ان میں ایمان لنے‬
‫والے ب ھی ہ یں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہ یں (‪ )۱۱۰‬اور یہ تمہ یں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہ یں پہنچا‬
‫سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی ( ‪)۱۱۱‬‬
‫یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں‬
‫آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہ یں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار‬
‫کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے‬
‫تھے (‪ )۱۱۲‬یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہلِ کتاب میں کچھ لوگ (حکمِ خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا‬
‫ککی آیتیکں پڑھتکے اور (اس ککے آگکے) سکجدہ کرتکے ہیکں (‪( )۱۱۳‬اور) خدا پکر اور روز آخرت پکر ایمان رکھتکے اور اچھھے کام‬
‫کرنے کو کہ تے اور بری باتوں سے منع کرتےاور نیکیوں پر لپکتے ہ یں اور یہی لوگ نیکوکار ہ یں (‪ )۱۱۴‬اور یہ جس طرح‬
‫کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہ یں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے ( ‪ )۱۱۵‬جو لوگ کافر ہ یں ان‬

‫‪Page 23 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ککے مال اور اولد خدا ککے غضکب ککو ہرگکز نہیکں ٹال سککیں گکے اور یکہ لوگ اہلِ دوزخ ہیکں ککہ ہمیشکہ اسکی میکں رہیکں گکے (‬
‫‪ )۱۱۶‬یکہ جکو مال دنیکا ککی زندگکی میکں خرچ کرتکے ہیکں اس ککی مثال ہوا ککی سکی ہے جکس میکں سکخت سکردی ہو اور وہ ایسکے‬
‫لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے ت ھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہ یں کیا بلکہ یہ‬
‫خود اپنکے اوپکر ظلم ککر رہے ہیکں (‪ )۱۱۷‬مومنکو! کسکی غیکر (مذہب ککے آدمکی) ککو اپنکا رازداں نکہ بنانکا یکہ لوگ تمہاری خرابکی‬
‫اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی‬
‫زبانوں سکے تکو دشمنکی ظاہر ہوہی چککی ہے اور جکو (کینکے) ان ککے سکینوں میکں مخفکی ہیکں وہ کہیکں زیادہ ہیکں اگکر تکم عقکل‬
‫رکھتکے ہو تو ہم نکے تکم کو اپنکی آیتیکں کھول کھول ککر سکنا دی ہ یں (‪ )۱۱۸‬دیک ھو تکم ایسکے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں‬
‫سکے دوسکتی رکھتکے ہو حالنککہ وہ تکم سکے دوسکتی نہیکں رکھتکے اور تکم سکب کتابوں پکر ایمان رکھتکے ہو (اور وہ تمہاری کتاب‬
‫ککو نہیکں مانتکے) اور جکب تکم سکے ملتکے ہیکں تکو کہتکے ہیکں ہم ایمان لے آئے اور جکب الگ ہوتکے ہیکں تکو تکم پکر غصکے ککے سکبب‬
‫انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتکے ہیکں (ان سکے) کہہ دو ککہ (بدبختکو) غصکے میکں مکر جاؤ خدا تمہارے دلوں ککی باتوں سکے خوب واقکف‬
‫ہے (‪ )۱۱۹‬اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں‬
‫ککی برداشکت اور (ان سکے) کنارہ کشکی کرتکے رہو گکے تو ان ککا فریکب تمھیکں کچکھ بھھی نقصکان نکہ پہنچکا سککے گکا یکہ جکو کچکھ‬
‫کرتے ہ یں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے (‪ )۱۲۰‬اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گ ھر روانہ ہو کر ایمان‬
‫والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ( ‪ )۱۲۱‬اس وقت‬
‫تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے‬
‫(‪ )۱۲۲‬اور خدا نے جن گِ بدر میں ب ھی تمہاری مدد کی ت ھی اور اس وقت ب ھی تم بے سرو وسامان ت ھے پس خدا سے ڈرو‬
‫(اور ان احسکانوں ککو یاد کرو) تاککہ شککر کرو (‪ )۱۲۳‬جکب تکم مومنوں سکے یکہ کہہ (ککر ان ککے دل بڑھھا) رہے تھھے ککہ کیکا یکہ‬
‫کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے (‪ )۱۲۴‬ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے)‬
‫ڈرتکے رہو اور کافکر تکم پکر جوش ککے سکاتھ دفعتہً حملہ کردیکں تکو پروردگار پانکچ ہزار فرشتکے جکن پکر نشان ہوں گکے تمہاری‬
‫مدد ککو بھیجکے گکا (‪ )۱۲۵‬اور اس مدد ککو خدا نکے تمھارے لیکے (ذریعہٴ) بشارت بنایکا یعنکی اس لیکے ککہ تمہارے دلوں ککو اس‬
‫سکے تسکلی حاصکل ہو ورنکہ مدد تکو خدا ہی ککی ہے جکو غالب (اور) حکمکت وال ہے (‪( )۱۲۶‬یکہ خدا نکے) اس لیکے (کیکا) ککہ‬
‫کافروں ککی ایکک جماعکت ککو ہلک یکا انہیکں ذلیکل ومغلوب ککر دے ککہ (جیسکے آئے تھھے ویسکے ہی) ناکام واپکس جائیکں (‪)۱۲۷‬‬
‫(اے پیغمبر) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہ یں (اب دو صورتیں ہ یں) یا خدا انکے حال پر مہربانی کرے یا انہ یں عذاب دے‬
‫کہ یہ ظالم لوگ ہیں (‪ )۱۲۸‬اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش‬
‫دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۱۲۹‬اےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے‬
‫ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو (‪ )۱۳۰‬اور (دوزخ کی) آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے (‪ )۱۳۱‬اور خدا اور‬
‫اس ککے رسکول ککی اطاعکت کرو تاککہ تکم پکر رحمکت ککی جائے ( ‪ )۱۳۲‬اپنکے پروردگار ککی بخشکش اور بہشکت ککی طرف لپککو‬
‫جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے ( ‪ )۱۳۳‬جو آسودگی‬
‫اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہ یں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہ یں اور‬
‫خدا نیککو کاروں ککو دوسکت رکھتکا ہے (‪ )۱۳۴‬اور وہ ککہ جکب کوئی کھل گناہ یکا اپنکے حکق میکں کوئی اور برائی ککر بیٹھتکے‬
‫ہیکں تکو خدا ککو یاد کرتکے اور اپنکے گناہوں ککی بخشکش مانگتکے ہیکں اور خدا ککے سکوا گناہ بخکش بھھی کون سککتا ہے؟ اور جان‬
‫بوجکھ ککر اپنکے افعال پکر اڑے نہیکں رہتکے (‪ )۱۳۵‬ایسکے ہی لوگوں ککا صکلہ پروردگار ککی طرف سکے بخشکش اور باغ ہیکں جکن‬
‫کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے ( ‪۱۳۶‬‬
‫) تم لوگوں سے پہلے ب ھی بہت سے واقعات گزر چکے ہ یں تو تم زمین کی سیر کرکے دیکھ لو کہ جھٹلنے والوں کا کیسا‬
‫انجام ہوا (‪ )۱۳۷‬یہ (قرآن) لوگوں ککے لیکے بیان صکریح اور اہلِ تقویکٰ ککے لیکے ہدایکت اور نصکیحت ہے ( ‪ )۱۳۸‬اور (دیک ھو)‬
‫بکے دل نکہ ہونکا اور نکہ کسکی طرح ککا غکم کرنکا اگکر تکم مومکن (صکادق) ہو تکو تکم ہی غالب رہو گکے ( ‪ )۱۳۹‬اگکر تمہیکں زخکم‬
‫(شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس‬
‫سکے یکہ بھھی مقصکود تھھا ککہ خدا ایمان والوں ککو متمیکز ککر دے اور تکم میکں سکے گواہ بنائے اور خدا بےانصکافوں ککو پسکند نہیکں‬
‫کرتا (‪ )۱۴۰‬اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے اور کافروں کو نابود کر دے (‪ )۱۴۱‬کیا تم‬
‫یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہ شت میں جا داخل ہو گے حالنکہ اب ھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچ ھی‬

‫‪Page 24 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫طرح معلوم کیکا ہی نہیکں اور (یکہ بھھی مقصکود ہے) ککہ وہ ثابکت قدم رہنکے والوں ککو معلوم کرے (‪ )۱۴۲‬اور تکم موت (شہادت)‬
‫کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا ( ‪ )۱۴۳‬اور محمد (صلی ال علیہ وسلم)‬
‫تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہ یں ان سے پہلے ب ھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہ یں بھل اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم‬
‫ال ٹے پاؤں پ ھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو ال ٹے پاؤں پ ھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا‬
‫شککر گزاروں ککو (بڑا) ثواب دے گکا (‪ )۱۴۴‬اور کسکی شخکص میکں طاقکت نہیکں ککہ خدا ککے حککم ککے بغیکر مکر جائے (اس نکے‬
‫موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے‬
‫اور جو آخرت میں طال بِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچ ھا) صلہ دیں‬
‫گے (‪ )۱۴۵‬اور بہت سے نبی ہوئے ہ یں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل ال (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہ یں تو جو مصبتیں ان‬
‫پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہ مت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلل‬
‫رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے (‪ )۱۴۶‬اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار‬
‫ہمارے گناہ اور زیادتیاں جکو ہم اپنکے کاموں میکں کرتکے رہے ہیکں معاف فرمکا اور ہم ککو ثابکت قدم رککھ اور کافروں پکر فتکح‬
‫عنایت فرما (‪ )۱۴۷‬تو خدا نے ان کو دنیا میں ب ھی بدلہ دیا اور آخرت میں ب ھی بہت اچ ھا بدلہ (دے گا) اور خدا نیکو کاروں‬
‫کو دوست رکھ تا ہے (‪ )۱۴۸‬مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو ال ٹے پاؤں پھ یر کر (مرتد کر) دیں گے‬
‫پھھر تکم بڑے خسکارے میکں پکڑ جاؤ گکے (‪( )۱۴۹‬یکہ تمہارے مددگار نہیکں ہیکں) بلککہ خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ سکب سکے بہتکر‬
‫مددگار ہے (‪ )۱۵۰‬ہم عنقریکب کافروں ککے دلوں میکں تمہارا رعکب بٹھھا دیکں گکے کیونککہ یکہ خدا ککے سکاتھ شرک کرتکے ہیکں‬
‫جس ککی اس نکے کوئی ب ھی دلیل نازل نہیکں کی اور ان ککا ٹھکانکہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانکا ہے ( ‪ )۱۵۱‬اور‬
‫خدا نکے اپنکا وعدہ سکچا ککر دیکا (یعنکی) اس وقکت جبککہ تکم کافروں ککو اس ککے حککم سکے قتکل ککر رہے تھھے یہاں تکک ککہ جکو تکم‬
‫چاہتکے تھھے خدا نکے تکم ککو دکھھا دیکا اس ککے بعکد تکم نکے ہمکت ہار دی اور حککم (پیغمکبر) میکں جھگڑا کرنکے لگکے اور اس ککی‬
‫نافرمانکی ککی بعکض تکو تکم میکں سکے دنیکا ککے خواسکتگار تھھے اور بعکض آخرت ککے طالب اس وقکت خدا نکے تکم ککو ان (ککے‬
‫مقابلے) سکے پھیکر (ککر بھگکا) دیکا تاککہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نکے تمہارا قصکور معاف ککر دیکا اور خدا مومنکو پکر بڑا‬
‫فضل کرنے وال ہے (‪( )۱۵۲‬وہ وقت ب ھی یاد کرنے کے لئق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے ت ھے اور کسی کو پیچ ھے‬
‫پ ھر کر نہ یں دیکھ تے ت ھے اور رسول ال تم کو تمہارے پیچ ھے کھڑے بل رہے ت ھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ‬
‫جکو چیکز تمہارے ہاتکھ سکے جاتکی رہی یکا جکو مصکیبت تکم پکر واقکع ہوئی ہے اس سکے تکم اندوہ ناک نکہ ہو اور خدا تمہارے سکب‬
‫اعمال سکے خکبردار ہے (‪ )۱۵۳‬پھھر خدا نکے غکم ورنکج ککے بعکد تکم پکر تسکلی نازل فرمائی (یعنکی) نینکد ککہ تکم میکں سکے ایکک‬
‫جماعکت پکر طاری ہو گئی اور کچکھ لوگ جکن ککو جان ککے للے پکڑ رہے تھھے خدا ککے بارے میکں ناحکق (ایام) کفکر ککے سکے‬
‫گمان کرتے ت ھے اور کہ تے ت ھے بھل ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بے شک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں‬
‫ہ یں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھ تے ہ یں جو تم پر ظاہر نہ یں کرتے ت ھے کہ تے ت ھے کہ ہمارے بس کی بات‬
‫ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ‬
‫اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ ت ھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو‬
‫کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے (‪ )۱۵۴‬جو لوگ تم‬
‫میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو‬
‫ان ککے بعکض افعال ککے سکبب شیطان نکے ان ککو پھسکل دیکا مگکر خدا نکے ان ککا قصکور معاف ککر دیکا بےشکک خدا بخشنکے وال‬
‫اور بردبار ہے (‪ )۱۵۵‬مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی جب (خدا کی راہ میں)‬
‫سفر کریں (اور مر جائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہ تے ہ یں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہ تے تو نہ‬
‫مرتکے اور نکہ مارے جاتکے۔ ان باتوں سکے مقصکود یکہ ہے ککہ خدا ان لوگوں ککے دلوں میکں افسکوس پیدا ککر دے اور زندگکی اور‬
‫موت تکو خدا ہی دیتکا ہے اور خدا تمہارے سکب کاموں ککو دیککھ رہا ہے (‪ )۱۵۶‬اور اگکر تکم خدا ککے رسکتے میکں مارے جاؤ یکا‬
‫مرجاؤ تکو جکو (مال و متاع) لوگ جمکع کرتکے ہیکں اس سکے خدا ککی بخشکش اور رحمکت کہیکں بہتکر ہے ( ‪ )۱۵۷‬اور اگکر تکم‬
‫مرجاؤ یکا مارے جاؤ خدا ککے حضور میکں ضرور اکھٹھے کئے جاؤ گکے (‪( )۱۵۸‬اے محمدﷺ) خدا ککی مہربانکی سکے تمہاری‬
‫افتاد مزاج ان لوگوں ککے لئے نرم واقکع ہوئی ہے۔ اور اگکر تکم بدخکو اور سکخت دل ہوتکے تکو یکہ تمہارے پاس سکے بھاگ کھڑے‬
‫ہوتکے۔ تکو ان ککو معاف کردو اور ان ککے لئے (خدا سکے) مغفرت مانگکو۔ اور اپنکے کاموں میکں ان سکے مشورت لیکا کرو۔ اور‬

‫‪Page 25 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫جکب (کسکی کام ککا) عزم مصکمم کرلو تکو خدا پکر بھروسکا رکھھو۔ بےشکک خدا بھروسکا رکھنکے والوں ککو دوسکت رکھتکا ہے (‬
‫‪ )۱۵۹‬اور خدا تمہارا مددگار ہے تکو تکم پکر کوئی غالب نہیکں آسککتا۔ اور اگکر وہ تمہیکں چھوڑ دے تکو پھھر کون ہے ککہ تمہاری‬
‫مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں (‪ )۱۶۰‬اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔‬
‫اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لحاضر کرنی ہوگی۔ پ ھر ہر شخص کو‬
‫اس کے اعمال کا پورا پورا بدل دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی (‪ )۱۶۱‬بھل جو شخص خدا کی خوشنودی کا‬
‫تابع ہو وہ اس شخص کی طرح(مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ‬
‫ہے‪ ،‬اور وہ برا ٹھکانکا ہے (‪ )۱۶۲‬ان لوگوں ککے خدا ککے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجکے ہیکں اور خدا ان ککے سکب اعمال‬
‫کو دیکھ رہا ہے (‪ )۱۶۳‬خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہ یں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا‬
‫کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہ یں اور پہلے تو یہ لوگ صریح‬
‫گمراہی میں ت ھے (‪( )۱۶۴‬بھل یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالنکہ‬
‫(جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چل اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے‬
‫آپڑی کہہ دو ککہ یکہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر ککے حککم ککے خلف کیکا) بےشکک خدا ہر چیکز پکر قادر ہے (‬
‫‪ )۱۶۵‬اور جکو مصکیبت تکم پکر دونوں جماعتوں ککے مقابلے ککے دن واقکع ہوئی سکو خدا ککے حککم سکے (واقکع ہوئی) اور (اس‬
‫سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم (‪ )۱۶۶‬اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا‬
‫کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم‬
‫ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں‬
‫نہ یں ہ یں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہ یں خدا ان سے خوب واقف ہے (‪ )۱۶۷‬یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بی ٹھ ہی رہے ت ھے‬
‫مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں ب ھی کہ تے ہ یں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو‬
‫قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا ( ‪ )۱۶۸‬جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو‬
‫مرے ہوئے نکہ سکمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیکں ہیکں) بلککہ خدا ککے نزدیکک زندہ ہیکں اور ان ککو رزق مکل رہا ہے ( ‪ )۱۶۹‬جکو کچکھ‬
‫خدا نکے ان ککو اپنکے فضکل سکے بخکش رکھھا ہے اس میکں خوش ہیکں۔ اور جکو لوگ ان ککے پیچھھے رہ گئے اور( شہیکد ہوککر) ان‬
‫میں شامل نہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک‬
‫ہوں گے (‪ )۱۷۰‬اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہ یں۔ اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہ یں کرتا‬
‫(‪ )۱۷۱‬جنہوں نکے باوجود زخکم کھانکے ککے خدا اور رسکول (ککے حککم) ککو قبول کیکا جکو لوگ ان میکں نیکوکار اور پرہیزگار‬
‫ہ یں ان کے لئے بڑا ثواب ہے (‪( )۱۷۲‬جب) ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے لشکر کثیر)‬
‫جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ اور کہ نے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے‬
‫(‪ )۱۷۳‬پھھر وہ خدا ککی نعمتوں اور اس ککے فضکل ککے سکاتھ (خوش وخرم) واپکس آئے ان ککو کسکی طرح ککا ضرر نکہ پہنچکا۔‬
‫اور وہ خدا ککی خوشنودی ککے تابکع رہے۔ اور خدا بڑے فضکل ککا مالک ہے (‪ )۱۷۴‬یکہ (خوف دلنکے وال) تکو شیطان ہے جکو‬
‫اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا ( ‪ )۱۷۵‬اور جو لوگ کفر میں‬
‫جلدی کرتکے ہیکں ان (ککی وجہ) سکے غمگین نکہ ہونکا۔ یہ خدا ککا کچھ نقصان نہ یں کرسکتے خدا چاہتکا ہے کہ آخرت میکں ان کو‬
‫کچکھ حصکہ نکہ دے اور ان ککے لئے بڑا عذاب تیار ہے (‪ )۱۷۶‬جکن لوگوں نکے ایمان ککے بدلے کفکر خریدا وہ خدا ککا کچکھ نہیکں‬
‫بگاڑ سککتے اور ان ککو دککھ دینکے وال عذاب ہوگکا (‪ )۱۷۷‬اور کافکر لوگ یکہ نکہ خیال کریکں ککہ ہم جکو ان ککو مہلت دیئے جاتکے‬
‫ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں۔ آخرکار ان کو ذلیل کرنے‬
‫وال عذاب ہوگکا (‪( )۱۷۸‬لوگکو) جکب تکک خدا ناپاک ککو پاک سکے الگ نکہ کردے گکا مومنوں ککو اس حال میکں جکس میکں تکم ہو‬
‫ہرگکز نہیکں رہنکے دے گکا۔ اور ال تکم کوغیکب ککی باتوں سکے بھھی مطلع نہیکں کرے گاالبتکہ خدا اپنکے پیغمکبروں میکں سکے جسکے‬
‫چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے۔ تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لؤاور اگر ایمان لؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو‬
‫تم کو اجر عظیم ملے گا (‪ )۱۷۹‬جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہ یں وہ اس‬
‫بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن‬
‫اس ککا طوق بنکا ککر ان ککی گردنوں میکں ڈال جائے گکا۔ اور آسکمانوں اور زمیکن ککا وارث خدا ہی ہے۔ اور جکو عمکل تکم کرتکے‬
‫ہوخدا کو معلوم ہے (‪ )۱۸۰‬خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہ تے ہ یں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہ یں۔ یہ جو کہ تے‬

‫‪Page 26 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت‬
‫ککے روز) کہیکں گکے ککہ عذاب (آتکش) سکوزاں ککے مزے چکھتکے رہو (‪ )۱۸۱‬یکہ ان کاموں ککی سکزا ہے جکو تمہارے ہاتکھ آگکے‬
‫بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا (‪ )۱۸۲‬جو لوگ کہ تے ہی کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب‬
‫تکک کوئی پیغمکبر ہمارے پاس ایسکی نیاز لے ککر نکہ آئے جکس ککو آگ آککر کھھا جائے تکب تکک ہم اس پکر ایمان نکہ لئیکں گکے (اے‬
‫پیغمکبر ان سکے) کہہ دو ککہ مجکھ سکے پہلے کئی پیغمکبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے ککر آئے اور وہ (معجزہ) بھھی لئے‬
‫جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟ ( ‪ )۱۸۳‬پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے‬
‫بہت سکے پیغمکبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صکحیفے اور روشکن کتابیکں لے ککر آچککے ہیکں اور لوگوں نکے ان ککو بھھی سکچا نہیکں‬
‫سکمجھا (‪ )۱۸۴‬ہر متنفکس کو موت ککا مزا چکھنکا ہے اور تکم کو قیامکت ککے دن تمہارے اعمال ککا پورا پورا بدل دیکا جائے گکا۔‬
‫تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا‬
‫سامان ہے (‪( )۱۸۵‬اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں‬
‫سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ اور تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بڑی ہمت کے کام‬
‫ہیکں (‪ )۱۸۶‬اور جکب خدا نکے ان لوگوں سکے جکن ککو کتاب عنایکت ککی گئی تھھی اقرار کرلیکا ککہ (جکو کچکھ اس میکں لکھھا ہے)‬
‫اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے‬
‫بدلے تھوڑی سکی قیمکت حاصکل ککی۔ یکہ جکو کچکھ حاصکل کرتکے ہیکں برا ہے (‪ )۱۸۷‬جکو لوگ اپنکے (ناپسکند) کاموں سکے خوش‬
‫ہوتے ہ یں اور پسندیدہ کام) جو کرتے نہ یں ان کے لئے چاہ تے ہ یں کہ ان ک تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ‬
‫عذاب سے رستگار ہوجائیں گے۔ اور انہیں درد دینے وال عذاب ہوگا (‪ )۱۸۸‬اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کو‬
‫ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے (‪ )۱۸۹‬بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے‬
‫میکں عقکل والوں ککے لیکے نشانیاں ہیکں (‪ )۱۹۰‬جکو کھڑے اور بیٹھھے اور لیٹھے (ہر حال میکں) خدا ککو یاد کرتکے اور آسکمان‬
‫اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک‬
‫ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو (‪ )۱۹۱‬اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈال اسے رسوا کیا‬
‫اور ظالموں ککا کوئی مددگار نہیکں (‪ )۱۹۲‬اے پروردگارہم نکے ایکک ندا کرنکے والے ککو سکنا ککہ ایمان ککے لیکے پکار رہا تھھا‬
‫(یعنکی) اپنکے پروردگار پکر ایمان لؤ تکو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرمکا اور ہماری برائیوں ککو ہم سکے‬
‫محکو ککر اور ہم ککو دنیکا سکے نیکک بندوں ککے سکاتھ اٹھھا (‪ )۱۹۳‬اے پروردگار تکو نکے جکن جکن چیزوں ککے ہم سکے اپنکے‬
‫پیغمکبروں ککے ذریعکے سکے وعدے کیکے ہیکں وہ ہمیکں عطکا فرمکا اور قیامکت ککے دن ہمیکں رسکوا نکہ کیجکو کچکھ شکک نہیکں ککہ تکو‬
‫خلف وعدہ نہیں کرتا (‪ )۱۹۴‬تو ان کے پرردگار نے ان کی دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے‬
‫عمکل ککو مرد ہو یکا عورت ضائع نہیکں کرتکا تکم ایکک دوسکرے ککی جنکس ہو تکو جکو لوگ میرے لیکے وطکن چھوڑ گئے اور اپنکے‬
‫گھروں سکے نکالے گئے اور سکتائے گئے اور لڑے اور قتکل کیکے گئے میکں ان ککے گناہ دور کردوں گکا اور ان ککو بہشتوں میکں‬
‫داخکل کروں گکا جکن ککے نیچکے نہریکں بکہ رہی ہیکں (یکہ) خدا ککے ہاں سکے بدلہ ہے اور خدا ککے ہاں اچھھا بدلہ ہے ( ‪( )۱۹۵‬اے‬
‫پیغمبر) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہ یں دھوکا نہ دے (‪( )۱۹۶‬یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پ ھر (آخرت میں) تو ان‬
‫کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے (‪ )۱۹۷‬لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہے جن کے‬
‫نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) خدا کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے‬
‫وہ نیککو کاروں ککے لیکے بہت اچھھا ہے (‪ )۱۹۸‬اور بعکض اہلِ کتاب ایسکے بھھی ہیکں جکو خدا پکر اور اس (کتاب) پکر جکو تکم پکر‬
‫نازل ہوئی اور اس پکر جکو ان پکر نازل ہوئی ایمان رکھتکے ہیکں اور خدا ککے آگکے عاجزی کرتکے ہیکں اور خدا ککی آیتوں ککے‬
‫بدلے تھوڑی سکی قیمکت نہیکں لیتکے یہی لوگ ہیکں جکن ککا صکلہ ان ککے پروردگار ککے ہاں تیار ہے اور خدا جلد حسکاب لینکے وال‬
‫ہے (‪ )۱۹۹‬اے اہل ایمان (کفار ککے مقابلے میکں) ثابکت قدم رہو اور اسکتقامت رکھھو اور مورچوں پکر جمکے رہو اور خدا سکے‬
‫ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو (‪)۲۰۰‬‬

‫‪Page 27 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬

‫سورة النّسَاء‬
‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اول) اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں‬
‫سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیل دیئے۔ اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت بر آری کا‬
‫ذریعکہ بناتکے ہو ڈرو اور (قطکع مودت) ارحام سکے (بچکو) کچکھ شکک نہیکں ککہ خدا تمہیکں دیککھ رہا ہے ( ‪ )۱‬اور یتیموں ککا مال‬
‫(جکو تمہاری تحویکل میکں ہو) ان ککے حوالے کردو اور ان ککے پاکیزہ (اور عمدہ) مال ککو (اپنکے ناقکص اور) برے مال سکے نکہ‬
‫بدلو۔ اور نکہ ان ککا مال اپنکے مال میکں مل ککر کھاؤ۔ ککہ یکہ بڑا سکخت گناہ ہے (‪ )۲‬اور اگکر تکم ککو اس بات ککا خوف ہو ککہ یتیکم‬
‫لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح‬
‫کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی‬
‫جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے (‪ )۳‬اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔ ہاں‬
‫اگکر وہ اپنکی خوشکی سکے اس میکں سکے کچکھ تکم ککو چھوڑ دیکں تکو اسکے ذوق شوق سکے کھالو ( ‪ )۴‬اور بےعقلوں ککو ان ککا مال‬
‫جسے خدا نے تم لوگوں کے لئے سبب معیشت بنایا ہے مت دو (ہاں) اس میں سے ان کو کھلتے اور پہناتے رہے اور ان سے‬
‫معقول باتیں کہ تے رہو (‪ )۵‬اور یتمیوں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رک ھو پ ھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل‬
‫کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا‬
‫مال واپکس لے لیکں گکے) اس ککو فضول خرچکی اور جلدی میکں نکہ اڑا دینکا۔ جکو شخکص آسکودہ حال ہو اس ککو (ایسکے مال سکے‬
‫قطعی طور پر) پرہیز رکھنا چاہیئے اور جو بے مقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا‬
‫مال ان ککے حوالے کرنکے لگکو تکو گواہ کرلیکا کرو۔ اور حقیقکت میکں تکو خدا ہی (گواہ اور) حسکاب لینکے وال کافکی ہے ( ‪ )۶‬جکو‬
‫مال ماں باپ اور رشتکہ دار چھوڑ مریکں تھوڑا ہو یکا بہت۔ اس میکں مردوں ککا بھھی حصکہ ہے اور عورتوں ککا بھھی یکہ حصکے‬
‫(خدا کے) مقرر کئے ہوئے ہیں (‪ )۷‬اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو‬
‫ان ککو بھھی اس میکں سکے کچکھ دے دیکا کرو۔ اور شیریکں کلمکی سکے پیکش آیکا کرو (‪ )۸‬اور ایسکے لوگوں ککو ڈرنکا چاہیئے جکو‬
‫(ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد‬
‫ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں (‪ )۹‬لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور‬
‫پر کھاتے ہ یں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہ یں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے (‪ )۱۰‬خدا تمہاری اولد کے بارے میں تم کو‬
‫ارشاد فرماتکا ہے ککہ ایکک لڑککے ککا حصکہ دو لڑکیوں ککے حصکے ککے برابر ہے۔ اور اگکر اولد میکت صکرف لڑکیاں ہی ہوں‬
‫(یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑ کی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت‬
‫کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولد ہو۔ اور اگر اولد نہ ہو اور‬
‫صکرف ماں باپ ہی اس ککے وارث ہوں تکو ایکک تہائی ماں ککا حصکہ۔ اور اگکر میکت ککے بھائی بھھی ہوں تکو ماں ککا چھٹھا‬
‫حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس‬
‫کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہ یں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون‬
‫تکم سکے زیادہ قریکب ہے‪ ،‬یکہ حصکے خدا ککے مقرر کئے ہوئے ہیکں اور خدا سکب کچکھ جاننکے وال اور حکمکت وال ہے (‪ )۱۱‬اور‬
‫جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولد ہو تو ترکے میں‬
‫تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو‬
‫ان ککے ذمکے ہو‪ ،‬ککی جائے گکی) اور جکو مال تکم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگکر تمہارے اولد نکہ ہو تکو تمہاری عورتوں ککا اس میکں‬
‫چوتھا حصہ۔ اور اگر اولد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور‬
‫(ادائے) قرض ککے (بعکد تقسکیم کئے جائیکں گکے) اور اگکر ایسکے مرد یکا عورت ککی میراث ہو جکس ککے نکہ باپ ہو نکہ بیٹھا مگکر‬

‫‪Page 28 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں‬
‫گے (یہ حصے ب ھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا‬
‫کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم وال (اور) نہایت حلم وال ہے (‪( )۱۲‬یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہ یں۔ اور جو شخص خدا‬
‫اور اس ککے پیغمکبر ککی فرمانکبرداری کرے گکا خدا اس ککو بہشتوں میکں داخکل کرے گکا جکن میکں نہریکں بہہ رہی ہیکں وہ ان میکں‬
‫ہمیشہ رہ یں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے (‪ )۱۳‬اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے‬
‫نککل جائے گکا اس ککو خدا دوزخ میکں ڈالے گکا جہاں وہ ہمیشکہ رہے گکا۔ اور اس ککو ذلت ککا عذاب ہوگکا (‪ )۱۴‬مسکلمانو تمہاری‬
‫عورتوں میکں جکو بدکاری ککا ارتکاب ککر بیٹھیکں ان پکر اپنکے لوگوں میکں سکے چار شخصکوں ککی شہادت لو۔ اگکر وہ (ان ککی‬
‫بدکاری ککی)گواہی دیکں تکو ان عورتوں ککو گھروں میکں بنکد رکھھو یہاں تکک ککہ موت ان ککا کام تمام کردے یکا خدا ان ککے لئے‬
‫کوئی اور سکبیل (پیدا) کرے (‪ )۱۵‬اور جکو دو مرد تکم میکں سکے بدکاری کریکں تکو ان ککو ایذا دو۔ پھھر اگکر وہ توبکہ کرلیکں اور‬
‫نیکوکار ہوجائیکں تکو ان ککا پیچھھا چھوڑ دو۔ بےشکک خدا توبکہ قبول کرنکے وال (اور) مہربان ہے (‪ )۱۶‬خدا انہیکں لوگوں ککی‬
‫توبکہ قبول فرماتکا ہے جکو نادانکی سکے بری حرککت ککر بیٹھھے ہیکں۔ پھھر جلد توبکہ قبول کرلیتکے ہیکں پکس ایسکے لوگوں پکر خدا‬
‫مہربانی کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت وال ہے (‪ )۱۷‬اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہ یں ہوتی جو (ساری‬
‫عمر) برے کام کرتے ہ یں۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی موت آموجود ہو تو اس وقت کہ نے لگے کہ اب میں توبہ کرتا‬
‫ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے‬
‫(‪ )۱۸‬مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو‬
‫دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں‬
‫(تکو روکنکا مناسکب نہیکں) اور ان ککے سکاتھ اچھھی طرح رہو سکہو اگکر وہ تکم ککو ناپسکند ہوں تکو عجکب نہیکں ککہ تکم کسکی چیکز ککو‬
‫ناپسکند کرو اور خدا اس میکں بہت سکی بھلئی پیدا کردے (‪ )۱۹‬اور اگکر تکم ایکک عورت ککو چھوڑ ککر دوسکری عورت کرنکی‬
‫چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھل تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم‬
‫سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟ (‪ )۲۰‬اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ‬
‫صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق ب ھی لے چکی ہے (‪ )۲۱‬اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان‬
‫نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات ت ھی۔ اور بہت‬
‫برا دستور ت ھا (‪ )۲۲‬تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالئیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ‬
‫مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلیا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہ یں اور جن عورتوں سے تم مباشرت‬
‫کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو‬
‫تکو (ان ککی لڑکیوں ککے سکاتھ نکاح ککر لینکے میکں) تکم پکر کچکھ گناہ نہیکں اور تمہارے صکلبی بیٹوں ککی عورتیکں بھھی اور دو‬
‫بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے وال (اور) رحم کرنے وال ہے (‪۲۳‬‬
‫) اور شوہر والی عورتیں ب ھی (تم پر حرام ہ یں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں‬
‫(یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلل ہ یں اس طرح سے کہ مال خرچ کر‬
‫کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھ نا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل‬
‫کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم‬
‫پکر کچکھ گناہ نہیکں بےشکک خدا سکب کچکھ جاننکے وال (اور) حکمکت وال ہے (‪ )۲۴‬اور جکو شخکص تکم میکں سکے مومکن آزاد‬
‫عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح‬
‫کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچ ھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان‬
‫ککے مالکوں سکے اجازت حاصکل کرککے نکاح ککر لو اور دسکتور ککے مطابکق ان ککا مہر بھھی ادا کردو بشرطیککہ عفیفکہ ہوں نکہ‬
‫ایسی کہ کھلم کھل بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو‬
‫جکو سکزا آزاد عورتوں (یعنکی بیبیوں) ککے لئے ہے اس ککی آدھھی ان ککو (دی جائے) یکہ (لونڈی ککے سکاتھ نکاح کرنکے ککی)‬
‫اجازت اس شخکص ککو ہے جسکے گناہ ککر بیٹھنکے ککا اندیشکہ ہو اور اگکر صکبر کرو تکو یکہ تمہارے لئے بہت اچھھا ہے اور خدا‬
‫بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۲۵‬خدا چاہتکا ہے ککہ (اپنکی آیتیکں) تکم سکے کھول کھول ککر بیان فرمائے اور تکم ککو اگلے لوگوں ککے‬
‫طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے وال (اور) حکمت وال ہے (‪ )۲۶‬اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی‬

‫‪Page 29 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو ( ‪)۲۷‬‬
‫خدا چاہ تا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے ( ‪ )۲۸‬مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ‬
‫کھاؤ ہاں اگکر آپکس ککی رضامندی سکے تجارت ککا لیکن دیکن ہو (اور اس سکے مالی فائدہ حاصکل ہو جائے تکو وہ جائز ہے) اور‬
‫اپنکے آپ ککو ہلک نکہ کرو کچکھ شکک نہیکں ککہ خدا تکم پکر مہربان ہے (‪ )۲۹‬اور جکو تعدی اور ظلم سکے ایسکا کرے گکا ہم اس ککو‬
‫عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے (‪ )۳۰‬اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے‬
‫اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے‬
‫(‪ )۳۱‬اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں‬
‫ککا ثواب ہے جکو انہوں نکے کئے اور عورتوں ککو ان کاموں ککا ثواب ہے جکو انہوں نکے کئے اور خدا سکے اس ککا فضکل (وکرم)‬
‫مانگتکے رہو کچکھ شکک نہیکں ککہ خدا ہر چیکز سکے واقکف ہے (‪ )۳۲‬اور جکو مال ماں باپ اور رشتکہ دار چھوڑ مریکں تکو (حکق‬
‫داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان‬
‫کا حصہ دو بے شک خدا ہر چیز کے سامنے ہے (‪ )۳۳‬مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہ یں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض‬
‫سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں‬
‫اور ان کے پی ٹھ پیچ ھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہ یں اور جن عورتوں کی نسبت تمہ یں معلوم‬
‫ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہ یں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پ ھر ان کے ساتھ سونا‬
‫ترک کردو اگر اس پر ب ھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پ ھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ‬
‫مت ڈھونڈو بے شک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے (‪ )۳۴‬اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو‬
‫ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں‬
‫گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے (‪ )۳۵‬اور خدا‬
‫ہی ککی عبادت کرو اور اس ککے سکاتھ کسکی چیکز کو شریکک نکہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابکت والوں اور یتیموں اور محتاجوں‬
‫اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے‬
‫قبضکے میکں ہوں سکب ککے سکاتھ احسکان کرو ککہ خدا (احسکان کرنکے والوں ککو دوسکت رکھتکا ہے اور) تککبر کرنکے والے بڑائی‬
‫مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا (‪ )۳۶‬جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان‬
‫کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے (‬
‫‪ )۳۷‬اور خرچ ب ھی کریں تو (خدا کے لئے نہ یں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لئیں اور نہ روز آخرت پر‬
‫(ایسے لوگوں کو ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہ یں کہ) وہ برا ساتھی ہے (‪ )۳۸‬اور اگر‬
‫یکہ لوگ خدا پکر اور روز قیامکت پکر ایمان لتکے اور جکو کچکھ خدا نکے ان ککو دیکا تھھا اس میکں سکے خرچ کرتکے تکو ان ککا کیکا‬
‫نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے (‪ )۳۹‬خدا کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا اور اگر نیکی (کی) ہوگی تو اس‬
‫کو دوچند کردے گا اور اپنے ہاں سے اجرعظیم بخشے گا (‪ )۴۰‬بھل اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال‬
‫بتائے والے ککو بلئیکں گکے اور تکم ککو ان لوگوں ککا حال (بتانکے ککو) گواہ طلب کریکں گکے (‪ )۴۱‬اس روز کافکر اور پیغمکبر ککے‬
‫نافرمان آرزو کریکں گکے ککہ کاش ان ککو زمیکن میکں مدفون کرککے مٹھی برابر کردی جاتکی اور خدا سکے کوئی بات چھپکا نہیکں‬
‫سکیں گے (‪ )۴۲‬مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے‬
‫پاس نکہ جاؤ اور جنابکت ککی حالت میکں بھھی (نماز ککے پاس نکہ جاؤ) جکب تکک ککہ غسکل (نکہ) کرلو ہاں اگکر بحالت سکفر رسکتے‬
‫چلے جارہے ہو اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو سفر میں ہو یا تم‬
‫میں سے کوئی بیت الخلء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہ یں پانی نہ ملے تو پاک م ٹی لو اور‬
‫منہ اور ہاتھوں پر مسح (کرکے تیمم) کرلو بےشک خدا معاف کرنے وال اور بخشنے وال ہے (‪ )۴۳‬بھل تم نے ان لوگوں کو‬
‫نہ یں دیک ھا جن کو کتاب سکے حصکہ دیکا گیکا تھھا ککہ وہ گمراہی کو خریدتکے ہیکں اور چاہتکے ہ یں ککہ تکم بھھی رسکتے سکے بھٹک‬
‫جاؤ (‪ )۴۴‬اور خدا تمہارے دشمنوں سکے خوب واقکف ہے اور خدا ہی کافکی کارسکاز ہے اور کافکی مددگار ہے (‪ )۴۵‬اور یکہ جکو‬
‫یہودی ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا‬
‫اور نہیکں مانکا اور سکنیئے نکہ سکنوائے جاؤ اور زبان ککو مروڑ ککر اور دیکن میکں طعکن ککی راہ سکے (تکم سکے گفتگکو) ککے وقکت‬
‫راعنا کہتے ہیں اور اگر (یوں) کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے)‬

‫‪Page 30 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی بہت درست ہوتی لیکن خدان نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو‬
‫یکہ کچکھ تھوڑے ہی ایمان لتکے ہیکں (‪ )۴۶‬اے کتاب والو! قبکل اس ککے ککہ ہم لوگوں ککے مونہوں ککو بگاڑ ککر ان ککی پیٹھھ ککی‬
‫طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہاری‬
‫کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لے آؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا (‪ )۴۷‬خدا اس گناہ کو نہیں‬
‫بخشکے گکا ککہ کسکی ککو اس ککا شریکک بنایکا جائے اور اس ککے سکوا اور گناہ جکس ککو چاہے معاف کردے اور جکس نکے خدا ککا‬
‫شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باند ھا (‪ )۴۸‬کیا تم نے ان لوگوں کو نہ یں دیک ھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہ تے ہ یں (نہ یں) بلکہ‬
‫خدا ہی جس کو چاہ تا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے کے برابر ب ھی ظلم نہ یں ہوگا (‪ )۴۹‬دیک ھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ‬
‫(طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے (‪ )۵۰‬بھل تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا‬
‫ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں (‬
‫‪ )۵۱‬یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے (‪ )۵۲‬کیا‬
‫ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے تو لوگوں کو تل برابر ب ھی نہ دیں گے (‪ )۵۳‬یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے‬
‫دے رک ھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم کو کتاب اور دانائی عطا فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی‬
‫بخشی تھی (‪ )۵۴‬پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو نہ ماننے والوں‬
‫(کے جلنے) کو دوزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے (‪ )۵۵‬جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں‬
‫داخکل کریکں گکے جکب ان ککی کھالیکں گکل (اور جکل) جائیکں گکی تکو ہم اور کھالیکں بدل دیکں گکے تاککہ (ہمیشکہ) عذاب (ککا مزہ‬
‫چکھتکے) رہیکں بےشکک خدا غالب حکمکت وال ہے (‪ )۵۶‬اور جو ایمان لئے اور نیکک عمکل کرتکے رہے ان ککو ہم بہشتوں میکں‬
‫داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ان کو‬
‫ہم گھنکے سائے میکں داخل کریں گکے (‪ )۵۷‬خدا تکم کو حککم دیتا ہے ککہ امانکت والوں کی امانتیکں ان ککے حوالے کردیا کرو اور‬
‫جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور‬
‫دیکھتا ہے (‪ )۵۸‬مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی‬
‫اور اگر کسی بات میں تم میں اختلف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھ تے ہو تو اس میں خدا اور اس کے‬
‫رسکول (ککے حککم) ککی طرف رجوع کرو یکہ بہت اچھھی بات ہے اور اس ککا مآل بھھی اچھھا ہے (‪ )۵۹‬کیکا تکم نکے ان لوگوں ککو‬
‫نہ یں دیک ھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہ یں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر‬
‫ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالنکہ ان کو حکم دیا گیا تھا‬
‫کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے (‪ )۶۰‬اور جب ان سے کہا‬
‫جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھ تے‬
‫ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں (‪ )۶۱‬تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے)‬
‫ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ وال ہمارا مقصود تو بھلئی اور‬
‫موافقکت تھھا (‪ )۶۲‬ان لوگوں ککے دلوں میکں جکو کچکھ ہے خدا اس ککو خوب جانتکا ہے تکم ان (ککی باتوں) ککو کچکھ خیال نکہ کرو‬
‫اور انہیں نصیحت کرو اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں میں اثر کر جائیں ( ‪ )۶۳‬اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے‬
‫اس لئے بھیجکا ہے ککہ خدا ککے فرمان ککے مطابکق اس ککا حککم مانکا جائے اور یکہ لوگ جکب اپنکے حکق میکں ظلم ککر بیٹھھے تھھے‬
‫اگکر تمہارے پاس آتکے اور خدا سکے بخشکش مانگتکے اور رسکول (خدا) بھھی ان ککے لئے بخشکش طلب کرتکے تکو خدا ککو معاف‬
‫کرنکے وال (اور) مہربان پاتکے (‪ )۶۴‬تمہارے پروردگار ککی قسکم یکہ لوگ جکب تکک اپنکے تنازعات میکں تمہیکں منصکف نکہ بنائیکں‬
‫اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے (‪)۶۵‬‬
‫اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے‬
‫اور اگر یہ اس نصیحت پر کاربند ہوتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے حق میں بہ تر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا‬
‫موجب ہوتا (‪ )۶۶‬اور ہم ان کو اپنے ہاں سے اجر عظیم بھی عطا فرماتے (‪ )۶۷‬اور سیدھا رستہ بھی دکھاتے (‪ )۶۸‬اور جو‬
‫لوگ خدا اور اس ککے رسکول ککی اطاعکت کرتکے ہیکں وہ (قیامکت ککے روز) ان لوگوں ککے سکاتھ ہوں گکے جکن پکر خدا نکے بڑا‬
‫فضکل کیکا یعنکی انبیاء اور صکدیق اور شہیکد اور نیکک لوگ اور ان لوگوں ککی رفاقکت بہت ہی خوب ہے (‪ )۶۹‬یکہ خدا ککا فضکل‬
‫ہے اور خدا جاننے وال کافی ہے (‪ )۷۰‬مومنو! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پ ھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکل کرو‬

‫‪Page 31 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫یا سب اکھٹے کوچ کیا کرو (‪ )۷۱‬اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمداً) دیر لگاتا ہے۔ پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑ‬
‫جائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ پر بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا (‪ )۷۲‬اور اگر خدا تم پر فضل کرے تو اس‬
‫طرح سے کہ گویا تم میں اس میں دوستی ت ھی ہی نہ یں (کہ افسوس کرتا اور) کہ تا ہے کہ کاش میں ب ھی ان کے ساتھ ہوتا تو‬
‫مقصد عظیم حاصل کرتا (‪ )۷۳‬تو جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں اُن کو‬
‫چاہیئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب‬
‫اس کو بڑا ثواب دیں گے (‪ )۷۴‬اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی‬
‫خاطر نہ یں لڑ تے جو دعائیں کیا کرتے ہ یں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہ نے والے ظالم ہ یں نکال کر کہ یں‬
‫اور لے جکا۔ اور اپنکی طرف سکے کسکی ککو ہمارا حامکی بنکا۔ اور اپنکی ہی طرف سکے کسکی ککو ہمارا مددگار مقرر فرمکا ( ‪)۷۵‬‬
‫جو مومن ہیں وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو۔‬
‫(اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بودا ہوتا ہے (‪ )۷۶‬بھل تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا‬
‫کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو‬
‫بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے‬
‫کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی (اے پیغمبر ان س)ے کہہ دو کہ‬
‫دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں‬
‫کیکا جائے گکا (‪( )۷۷‬اے جہاد سکے ڈرنکے والو) تکم کہیکں رہو موت تکو تمہیکں آ ککر رہے گکی خواہ بڑے بڑے محلوں میکں رہو اور‬
‫ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم‬
‫سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب ال ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں‬
‫کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے (‪ )۷۸‬اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو‬
‫نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر‬
‫بنکا ککر بھیجکا ہے اور (اس بات ککا) خدا ہی گواہ کافکی ہے (‪ )۷۹‬جکو شخکص رسکول ککی فرمانکبرداری کرے گکا تکو بےشکک اس‬
‫نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا (‪ )۸۰‬اور یہ‬
‫لوگ منہ سے تو کہ تے ہ یں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہ یں تو ان‬
‫میکں سکے بعکض لوگ رات ککو تمہاری باتوں ککے خلف مشورے کرتکے ہیکں اور جو مشورے یکہ کرتکے ہیکں خدا ان کو لککھ لیتکا‬
‫ہے تکو ان ککا کچکھ خیال نکہ کرو اور خدا پکر بھروسکہ رکھھو اور خدا ہی کافکی کارسکاز ہے (‪ )۸۱‬بھل یکہ قرآن میکں غور کیوں‬
‫نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلم) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلف پاتے ( ‪ )۸۲‬اور جب ان کے پاس امن یا‬
‫خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہ یں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے‬
‫تو تحقیکق کرنکے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پکر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے‬
‫سکوا سکب شیطان ککے پیرو ہوجاتکے (‪ )۸۳‬تکو (اے محمدﷺ) تکم خدا ککی راہ میکں لڑو تکم اپنکے سکوا کسکی ککے ذمکہ دار نہیکں اور‬
‫مومنوں ککو بھھی ترغیکب دو قریکب ہے ککہ خدا کافروں ککی لڑائی ککو بنکد کردے اور خدا لڑائی ککے اعتبار سکے بہت سکخت ہے‬
‫اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے (‪ )۸۴‬جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے‬
‫حصکہ ملے گکا اور جکو بری بات ککی سکفارش کرے اس ککو اس (ککے عذاب) میکں سکے حصکہ ملے گکا اور خدا ہر چیکز پکر قدرت‬
‫رکھتا ہے (‪ )۸۵‬اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے‬
‫دعکا دو بےشکک خدا ہر چیکز ککا حسکاب لینکے وال ہے (‪ )۸۶‬خدا (وہ معبود برحکق ہے ککہ) اس ککے سکوا کوئی عبادت ککے لئق‬
‫نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟ (‪ )۸۷‬تو کیا سبب ہے کہ تم‬
‫منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالنکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو‬
‫ککہ جکس شخکص ککو خدا نکے گمراہ کردیکا ہے اس ککو رسکتے پکر لے آؤ اور جکس شخکص ککو خدا گمراہ کردے تکو اس ککے لئے‬
‫کبھھی بھھی رسکتہ نہیکں پاؤ گکے (‪ )۸۸‬وہ تکو یہی چاہتکے ہیکں ککہ جکس طرح وہ خود کافکر ہیکں (اسکی طرح) تکم بھھی کافکر ہو ککر‬
‫(سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن‬
‫کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ ( ‪ )۸۹‬مگر‬
‫جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا‬

‫‪Page 32 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر‬
‫غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑ تے پ ھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑ یں نہ یں اور تمہاری‬
‫طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہ یں کی (‪ )۹۰‬تم کچھ‬
‫اور لوگ ایسے ب ھی پاؤ گے جو یہ چاہ تے ہ یں کہ تم سے ب ھی امن میں رہ یں اور اپنی قوم سے ب ھی امن میں رہ یں لیکن فتنہ‬
‫انگیزی کو بلئے جائیں تو اس میں اوند ھے منکہ گر پڑ یں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑ نے سے) کنارہ کشکی نہ کریں اور نہ‬
‫تمہاری طرف (پیغام) صکلح بھیجیکں اور نکہ اپنکے ہاتھوں ککو روکیکں تکو ان ککو پککڑ لو اور جہاں پاؤ قتکل کردو ان لوگوں ککے‬
‫مقابلے میکں ہم نکے تمہارے لئے سکند صکریح مقرر کردی ہے (‪ )۹۱‬اور کسکی مومکن ککو شایان نہیکں ککہ مومکن ککو مار ڈالے مگکر‬
‫بھول ککر اور جکو بھول ککر بھھی مومکن ککو مار ڈالے تکو (ایکک تکو) ایکک مسکلمان غلم آزاد کردے اور (دوسکرے) مقتول ککے‬
‫وارثوں ککو خون بہا دے ہاں اگکر وہ معاف کردیکں (تکو ان ککو اختیار ہے) اگکر مقتول تمہارے دشمنوں ککی جماعکت میکں سکے ہو‬
‫اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلم آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم‬
‫میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلم آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ‬
‫متواتکر دو مہینکے ککے روزے رکھھے یکہ (کفارہ) خدا ککی طرف سکے (قبول) توبکہ (ککے لئے) ہے اور خدا (سکب کچکھ) جانتکا اور‬
‫بڑی حکمت وال ہے (‪ )۹۲‬اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا)‬
‫رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر‬
‫رک ھا ہے (‪ )۹۳‬مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلو کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلم علیک‬
‫کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے‬
‫نزدیک بہت سے غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو‬
‫عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے (‪ )۹۴‬جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور‬
‫کوئی عذر نہ یں رکھ تے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑ تے ہ یں وہ دونوں برابر نہ یں ہو سکتے خدا نے‬
‫مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے‬
‫لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بی ٹھ رہ نے والوں پر کہ یں فضیلت بخشی ہے (‪( )۹۵‬یعنی) خدا‬
‫ککی طرف سکے درجات میکں اور بخشکش میکں اور رحمکت میکں اور خدا بڑا بخشنکے وال (اور) مہربان ہے (‪ )۹۶‬اور جکو لوگ‬
‫اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے‬
‫وہ کہتکے ہیکں ککہ ہم ملک میکں عاجکز وناتواں تھھے فرشتکے کہتکے ہیکں کیکا خدا ککا ملک فراخ نہیکں تھھا ککہ تکم اس میکں ہجرت ککر‬
‫جاتکے ایسکے لوگوں ککا ٹھکانکہ دوزخ ہے اور وہ بری جگکہ ہے (‪ )۹۷‬ہاں جکو مرد اور عورتیکں اور بچکے بےبکس ہیکں ککہ نکہ تکو‬
‫کوئی چارہ ککر سککتے ہیکں اور نکہ رسکتہ جانتکے ہیکں (‪ )۹۸‬قریکب ہے ککہ خدا ایسکوں ککو معاف کردے اور خدا معاف کرنکے وال‬
‫(اور) بخشنکے وال ہے (‪ )۹۹‬اور جکو شخکص خدا ککی راہ میکں گھھر بار چھوڑ جائے وہ زمیکن میکں بہت سکی جگکہ اور کشائش‬
‫پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب‬
‫خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے وال اور مہربان ہے (‪ )۱۰۰‬اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہ یں کہ نماز کو‬
‫کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بے شک کافر تمہارے کھلے دشمن ہ یں ( ‪ )۱۰۱‬اور‬
‫(اے پیغمبر) جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے‬
‫ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہو جائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی‬
‫جگکہ) آئے اور ہوشیار اور مسکلح ہو ککر تمہارے سکاتھ نماز ادا کرے کافکر اس گھات میکں ہیکں ککہ تکم ذرا اپنکے ہتھیاروں اور‬
‫سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں‬
‫ککہ ہتھیار اتار رکھھو مگکر ہوشیار ضرور رہنکا خدا نکے کافروں ککے لئے ذلت ککا عذاب تیار ککر رکھھا ہے (‪ )۱۰۲‬پھھر جکب تکم‬
‫نماز تمام کرچککو تکو کھڑے اور بیٹھھے اور لیٹھے (ہر حالت میکں) خدا ککو یاد کرو پھھر جکب خوف جاتکا رہے تکو (اس طرح‬
‫سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بےشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے‬
‫(‪ )۱۰۳‬اور کفار ککا پیچھھا کرنکے میکں سکستی نکہ کرنکا اگکر تکم بےآرام ہوتکے ہو تکو جکس طرح تکم بےآرام ہوتکے ہو اسکی طرح وہ‬
‫بھھی بےآرام ہوتکے ہیکں اور تکم خدا سکے ایسکی ایسکی امیدیکں رکھتکے ہو جکو وہ نہیکں رککھ سککتے اور خدا سکب کچکھ جانتکا اور‬
‫(بڑی) حکمکت وال ہے (‪( )۱۰۴‬اے پیغمکبر) ہم نکے تکم پکر سکچی کتاب نازل ککی ہے تاککہ خدا ککی ہدایکت ککے مطابکق لوگوں ککے‬

‫‪Page 33 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫مقدمات میکں فیصکلہ کرو اور (دیکھھو) دغابازوں ککی حمایکت میکں کبھھی بحکث نکہ کرنکا (‪ )۱۰۵‬اور خدا سکے بخشکش مانگنکا‬
‫بےشکک خدا بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۱۰۶‬اور لوگ اپنکے ہم جنسکوں ککی خیانکت کرتکے ہیکں ان ککی طرف سکے بحکث نکہ کرنکا‬
‫کیونککہ خدا خائن اور مرتککب جرائم ککو دوسکت نہیکں رکھتکا (‪ )۱۰۷‬یکہ لوگوں سکے تکو چھپتکے ہیکں اور خدا سکے نہیکں چھپتکے‬
‫حالنکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کے مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہ یں کرتا ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا‬
‫ان کے (تمام) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے (‪ )۱۰۸‬بھل تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کر لیتے ہو‬
‫قیامکت ککو ان ککی طرف سکے خدا ککے سکاتھ کون جھگڑے گکا اور کون ان ککا وکیکل بنکے گکا؟ (‪ )۱۰۹‬اور جکو شخکص کوئی برا‬
‫کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے وال اور مہربان پائے گا (‪ )۱۱۰‬اور‬
‫جکو کوئی گناہ کرتکا ہے تکو اس ککا وبال اسکی پکر ہے اور خدا جاننکے وال (اور) حکمکت وال ہے (‪ )۱۱۱‬اور جکو شخکص کوئی‬
‫قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہ تم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر‬
‫رکھا (‪ )۱۱۲‬اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی‬
‫تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل‬
‫فرمائی ہے اور تمہ یں وہ باتیں سکھائی ہ یں جو تم جانتے نہ یں ت ھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے ( ‪ )۱۱۳‬ان لوگوں کی بہت‬
‫سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے‬
‫کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے ( ‪ )۱۱۴‬اور جو‬
‫شخکص سکیدھا رسکتہ معلوم ہونکے ککے بعکد پیغمکبر ککی مخالف کرے اور مومنوں ککے رسکتے ککے سکوا اور رسکتے پکر چلے تکو‬
‫جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے (‪)۱۱۵‬‬
‫خدا اس کے گناہ کو نہ یں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہ یے گا بخش‬
‫دے گکا۔ اور جس نے خدا ککے سکاتھ شریک بنایکا وہ رستے سکے دور جکا پڑا (‪ )۱۱۶‬یہ جو خدا ککے سکوا پرسکتش کرتے ہ یں تکو‬
‫عورتوں کی اور پکارتے ہیں تو شیطان کی سرکش ہی کو (‪ )۱۱۷‬جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں‬
‫تیرے بندوں سکے (غیکر خدا ککی نذر دلوا ککر مال ککا) ایکک مقرر حصکہ لے لیکا کروں گکا۔ (‪ )۱۱۸‬اور ان ککو گمراہ کرتکا اور‬
‫امیدیکں دلتکا ہروں گکا اور یکہ سککھاتا رہوں گکا ککہ جانوروں ککے کان چیرتکے رہیکں اور (یکہ بھھی) کہتکا رہوں گکا ککہ وہ خدا ککی‬
‫بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں‬
‫پڑ گیا (‪ )۱۱۹‬وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے‬
‫(‪ )۱۲۰‬ایسکے لوگوں ککا ٹھکانکا جہنکم ہے۔ اور وہ وہاں سکے مخلصکی نہیکں پاسککیں گکے (‪ )۱۲۱‬اور جکو لوگ ایمان لئے اور‬
‫نیک کام کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ابدالباد ان میں رہیں گے۔ یہ خدا‬
‫ککا سکچا وعدہ ہے۔ اور خدا سکے زیادہ بات ککا سکچا کون ہوسککتا ہے (‪( )۱۲۲‬نجات) نکہ تکو تمہاری آرزوؤں پکر ہے اور نکہ اہل‬
‫کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی (طرح) کا بدل دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو‬
‫حمایتکی پائے گکا اور نکہ مددگار (‪ )۱۲۳‬اور جکو نیکک کام کرے گکا مرد ہو یکا عورت اور وہ صکاحب ایمان بھھی ہوگکا تکو ایسکے‬
‫لوگ بہ شت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر ب ھی حق تلفی نہ کی جائے گی ( ‪ )۱۲۴‬اور اس شخص سے کس کا دین‬
‫اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان‬
‫) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا (‪ )۱۲۵‬اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر‬
‫چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے (‪( )۱۲۶‬اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہ یں۔ کہہ دو‬
‫ککہ خدا تکم ککو ان ککے (سکاتھ نکاح کرنکے ککے) معاملے میکں اجازت دیتکا ہے اور جکو حککم اس کتاب میکں پہلے دیکا گیکا ہے وہ ان‬
‫یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز)‬
‫بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلئی‬
‫تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے (‪ )۱۲۷‬اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو‬
‫تکم میاں بیوی پکر کچکھ گناہ نہیکں ککہ آپکس میکں کسکی قرارداد پکر صکلح کرلیکں۔ اور صکلح خوب (چیکز) ہے اور طبیعتیکں تکو بخکل‬
‫ککی طرف مائل ہوتکی ہیکں اور اگکر تکم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گکے تکو خدا تمہارے سکب کاموں سکے واقکف ہے ( ‪)۱۲۸‬‬
‫اور تکم خوا کتنکا ہی چاہو عورتوں میکں ہرگکز برابری نہیکں کرسککو گکے تکو ایسکا بھھی نکہ کرنکا ککہ ایکک ہی ککی طرف ڈھھل جاؤ‬
‫اور دوسکری ککو (ایسکی حالت میکں) چھوڑ دو ککہ گویکا ادھھر ہوا میکں لٹھک رہی ہے اور اگکر آپکس میکں موافقکت کرلو اور‬

‫‪Page 34 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫پرہیزگاری کرو تکو خدا بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۱۲۹‬اور اگکر میاں بیوی (میکں موافقکت نکہ ہوسککے اور) ایکک دوسکرے سکے‬
‫جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش وال اور حکمت وال ہے (‪ )۱۳۰‬اور جو‬
‫کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ت ھی ان کو ب ھی‬
‫اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو‬
‫کچکھ آسکمانوں میکں اور جکو کچکھ زمیکن میکں ہے سکب خدا ہی ککا ہے۔ اور خدا بکے پروا اور سکزاوار حمدوثنکا ہے ( ‪ )۱۳۱‬اور‬
‫(پ ھر سن رک ھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور خدا کارساز کافی ہے ( ‪)۱۳۲‬‬
‫لوگو! اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔اور خدا اس بات پر قادر ہے (‪ )۱۳۳‬جو‬
‫شخص دنیا (میں عملوں) کی جزا کا طالب ہو تو خدا کے پاس دنیا اور آخرت (دونوں) کے لئے اجر (موجود) ہ یں۔ اور خدا‬
‫سککنتا دیکھتککا ہے (‪ )۱۳۴‬اے ایمان والو! انصککاف پککر قائم رہو اور خدا کککے لئے سککچی گواہی دو خواہ (اس میککں) تمہارا یککا‬
‫تمہارےماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہش نفس‬
‫ککے پیچھھے چکل ککر عدل ککو نکہ چھوڑ دینکا۔ اگکر تکم پیچیدا شہادت دو گکے یکا (شہادت سکے) بچنکا چاہو گکے تکو (جان رکھھو) خدا‬
‫تمہارے سککب کاموں س کے واقککف ہے (‪ )۱۳۵‬مومنککو! خدا پککر اور اس کککے رسککول پککر اور جککو کتاب اس نککے اپنککی پیغمککبر‬
‫(آخرالزماں) پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لؤ۔ اور جو شخص خدا اور اس کے‬
‫فرشتوں اور اس ککی کتابوں اور اس ککے پیغمکبروں اور روزقیامکت سکے انکار کرے وہ رسکتے سکے بھٹھک ککر دور جکا پڑا (‬
‫‪ )۱۳۶‬جو لوگ ایمان لئے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لئے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے‬
‫گا اور نہ سیدھا رستہ دکھائے گا (‪( )۱۳۷‬اے پیغمبر) منافقوں (یعنی دو رخے لوگوں) کو بشارت سناد دو کہ ان کے لئے دکھ‬
‫دینکے وال عذاب (تیار) ہے (‪ )۱۳۸‬جکو مومنوں ککو چھوڑ ککر کافروں ککو دوسکت بناتکے ہیکں۔ کیکا یکہ ان ککے ہاں عزت حاصکل‬
‫کرنا چاہتے ہیں تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے (‪ )۱۳۹‬اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے‬
‫کہ جب تم (کہ یں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں‬
‫(نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم ب ھی انہ یں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہ یں کہ خدا منافقوں اور کافروں‬
‫سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے وال ہے (‪ )۱۴۰‬جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے‬
‫ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہ تے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں ت ھے اور‬
‫تکم ککو مسکلمانوں (ککے ہاتکھ) سکے بچایکا نہیکں۔ تکو خدا تکم میکں قیامکت ککے دن فیصکلہ کردے گکا۔ اور خدا کافروں ککو مومنوں پکر‬
‫ہرگز غلبہ نہ یں دے گا (‪ )۱۴۱‬منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہ یں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ‬
‫انہیکں ککو دھوککے میکں ڈالنکے وال ہے اور جکب یکہ نماز ککو کھڑے ہوتکے ہیکں تکو سکست اور کاہل ہو ککر (صکرف) لوگوں ککے‬
‫دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہ یں کرتے مگر بہت کم (‪ )۱۴۲‬بیچ میں پڑے ل ٹک رہے ہ یں نہ ان کی طرف (ہوتے ہ یں) نہ‬
‫ان ککی طرف اور جکس ککو خدا بھٹکائے تکو اس ککے لئے کبھھی بھھی رسکتہ نکہ پاؤ گکے (‪ )۱۴۳‬اے اہل ایمان! مومنوں ککے سکوا‬
‫کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہ تے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو؟ (‪ )۱۴۴‬کچھ شک نہ یں کہ منافق لوگ دوزخ‬
‫کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے۔ اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے (‪ )۱۴۵‬ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی‬
‫حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمانبردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے‬
‫زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا (‪ )۱۴۶‬اگر تم (خدا کے شکرگزار رہو اور (اس پر) ایمان‬
‫لے آؤ تکو خدا تکم ککو عذاب دے ککر کیکا کرے گکا۔ اور خدا تکو قدرشناس اور دانکا ہے (‪ )۱۴۷‬خدا اس بات ککو پسکند نہیکں کرتکا ککہ‬
‫کوئی کسکی ککو علنیکہ برا کہے مگکر وہ جکو مظلوم ہو۔ اور خدا (سکب کچکھ) سکنتا (اور) جانتکا ہے ( ‪ )۱۴۸‬اگکر تکم لوگ بھلئی‬
‫کھلم کھل کرو گے یا چھ پا کر یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا ب ھی معاف کرنے وال (اور) صاحب قدرت ہے (‪)۱۴۹‬‬
‫جکو لوگ خدا سکے اور اس ککے پیغمکبروں سکے کفکر کرتکے ہیکں اور خدا اور اس ککے پیغمکبروں میکں فرق کرنکا چاہتکے ہیکں اور‬
‫کہتکے ہیکں ککہ ہم بعکض ککو مانتکے ہیکں اور بعکض ککو نہیکں مانتکے اور ایمان اور کفکر ککے بیچ میکں ایکک راہ نکالنکی چاہتکے ہیکں (‬
‫‪ )۱۵۰‬وہ بل اشتباہ کافکر ہیکں اور کافروں ککے لئے ہم نکے ذلت ککا عذاب تیار ککر رکھھا ہے (‪ )۱۵۱‬اور جکو لوگ خدا اور اس‬
‫کے پیغمبروں پر ایمان لئے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی‬
‫نیکیوں) ککے صکلے عطکا فرمائے گکا اور خدا بخشنکے وال مہربان ہے (‪( )۱۵۲‬اے محمدﷺ) اہل کتاب تکم سکے درخواسکت کرتکے‬
‫ہ یں کہ تم ان پر ایک (لک ھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے ب ھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے‬

‫‪Page 35 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر‬
‫کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا (‬
‫‪ )۱۵۳‬اور ان سکے عہد لینکے ککو ہم نکے ان پکر کوہ طور اٹھھا کھڑا کیکا اور انہیکں حککم دیکا ککہ (شہر ککے) دروازے میکں (داخکل‬
‫ہونکا تکو) سکجدہ کرتکے ہوئے داخکل ہونکا اور یکہ بھھی حککم دیکا ککہ ہفتکے ککے دن (مچھلیاں پکڑنکے) میکں تجاویکز (یعنکی حککم ککے‬
‫خلف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا (‪( )۱۵۴‬لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈال) تو ان کے عہد توڑ دینے اور‬
‫خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔‬
‫(خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ‬
‫کم ہی ایمان لتے ہ یں (‪ )۱۵۵‬اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھ نے کے سبب (‪ )۱۵۶‬اور یہ کہ نے‬
‫کے سبب کہ ہم نے مریم کے بی ٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلتے) ت ھے قتل کردیا ہے (خدا نے ان کو معلون‬
‫کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو‬
‫لوگ ان کے بارے میں اختلف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروئی ظن کے سوا ان کو اس کا‬
‫مطلق علم نہیکں۔ اور انہوں نکے عیسکیٰ ککو یقیناً قتکل نہیکں کیکا ( ‪ )۱۵۷‬بلککہ خدا نکے ان ککو اپنکی طرف اٹھھا لیکا۔ اور خدا غالب‬
‫اور حکمکت وال ہے (‪ )۱۵۸‬اور کوئی اہل کتاب نہیکں ہوگکا مگکر ان ککی موت سکے پہلے ان پکر ایمان لے آئے گکا۔ اور وہ قیامکت‬
‫کے دن ان پر گواہ ہوں گے (‪ )۱۵۹‬تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلل تھیں ان‬
‫پکر حرام کردیکں اور اس سکبب سکے بھھی ککہ وہ اکثکر خدا ککے رسکتے سکے (لوگوں ککو) روکتکے تھھے (‪ )۱۶۰‬اور اس سکبب سکے‬
‫بھھی ککہ باوجود منکع کئے جانکے ککے سکود لیتکے تھھے اور اس سکبب سکے بھھی ککہ لوگوں ککا مال ناحکق کھاتکے تھھے۔ اور ان میکں‬
‫سے جو کافکر ہ یں ان کے لئے ہم نے درد دینکے وال عذاب تیار کر رک ھا ہے (‪ )۱۶۱‬مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے‬
‫ہیکں اور جکو مومکن ہیکں وہ اس (کتاب) پکر جکو تکم پکر نازل ہوئی اور جکو (کتابیکں) تکم سکے پہلے نازل ہوئیکں (سکب پکر) ایمان‬
‫رکھتکے ہیکں اور نماز پڑھتکے ہیکں اور زکوٰة دیتکے ہیکں اور خدا اور روز آخرت ککو مانتکے ہیکں۔ ان ککو ہم عنقریکب اجکر عظیکم‬
‫دیں گے (‪( )۱۶۲‬اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں‬
‫ککی طرف بھیجکی تھھی۔ اور ابراہیکم اور اسکمعیل اور اسکحاق اور یعقوب اور اولد یعقوب اور عیسکیٰ اور ایوب اور یونکس‬
‫اور ہارون اور سکلیمان ککی طرف بھھی ہم نکے وحکی بھیجکی تھھی اور داؤد ککو ہم نکے زبور بھھی عنایکت ککی تھھی ( ‪ )۱۶۳‬اور‬
‫بہت سکے پیغمکبر ہیکں جن کے حالت ہم تم سکے پیشتکر بیان کرچککے ہ یں اور بہت سکے پیغمبر ہیکں جن ککے حالت تکم سکے بیان‬
‫نہیکں کئے۔ اور موسکیٰ سکے تکو خدا نکے باتیکں بھھی کیکں (‪( )۱۶۴‬سکب) پیغمکبروں ککو (خدا نکے) خوشخکبری سکنانے والے اور‬
‫ڈرانے والے (بنا کر بھیجا ت ھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت‬
‫وال ہے (‪ )۱۶۵‬لیککن خدا نکے جو (کتاب) تم پر نازل ککی ہے اس ککی نسکبت خدا گواہی دیتکا ہے کہ اس نے اپنے علم سکے نازل‬
‫کی ہے اور فرشتکے ب ھی گواہی دیتکے ہیکں۔ اور گواہ تو خدا ہی کافکی ہے (‪ )۱۶۶‬جکن لوگوں نکے کفکر کیکا اور (لوگوں ککو) خدا‬
‫ککے رسکتے سکے روککا وہ رسکتے سکے بھٹھک ککر دور جکا پڑے (‪ )۱۶۷‬جکو لوگ کافکر ہوئے اور ظلم کرتکے رہے خدا ان ککو‬
‫بخشنکے وال نہیکں اور نکہ انہیکں رسکتہ ہی دکھائے گکا (‪ )۱۶۸‬ہاں دوزخ ککا رسکتہ جکس میکں وہ ہمیشکہ (جلتکے) رہیکں گکے۔ اور یکہ‬
‫(بات) خدا کو آسان ہے (‪ )۱۶۹‬لوگو! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہ یں‬
‫تو (ان پر) ایمان لؤ (یہی) تمہارے حق میں بہ تر ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو (جان رک ھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین‬
‫میں ہے سب خداہی کا ہے اور خدا سب کچھ جاننے وال (اور) حکمت وال ہے (‪ )۱۷۰‬اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں‬
‫حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بی ٹے عیسیٰ (نہ خدا ت ھے نہ خدا‬
‫ککے بیٹھے بلککہ) خدا ککے رسکول اور ککا کلمہٴ (بشارت) تھھے جکو اس نکے مریکم ککی طرف بھیجکا تھھا اور اس ککی طرف سکے‬
‫ایکک روح تھھے تکو خدا اوراس ککے رسکولوں پکر ایمان لؤ۔ اور (یکہ) نکہ کہو (ککہ خدا) تیکن (ہیکں۔ اس اعتقاد سکے) باز آؤ ککہ یکہ‬
‫تمہارے حکق میکں بہتکر ہے۔ خدا ہی معبود واحکد ہے اور اس سکے پاک ہے ککہ اس ککے اولد ہو۔ جکو کچکھ آسکمانوں میکں اور جکو‬
‫کچکھ زمیکن میکں ہے سکب اسکی ککا ہے۔ اور خدا ہی کارسکاز کافکی ہے (‪ )۱۷۱‬مسکیح اس بات سکے عار نہیکں رکھتکے ککہ خدا ککے‬
‫بندے ہوں اور نکہ مقرب فرشتکے (عار رکھتکے ہیکں) اور جکو شخکص خدا ککا بندہ ہونکے ککو موجکب عار سکمجھے اور سکرکشی‬
‫کرے تکو خدا سکب ککو اپنکے پاس جمکع کرلے گکا (‪ )۱۷۲‬تکو جکو لوگ ایمان لئے اور نیکک کام کرتکے رہے وہ ان ککو ان ککا پورا‬
‫بدل دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔ اور جنہوں نے (بندوں ہونے سے) عاروانکار اور تکبر کیا ان‬

‫‪Page 36 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کککو تکلیککف دین کے وال عذاب دے گککا۔ اور ی کہ لوگ خدا ک کے سککوا اپنککا حامککی اور مددگار ن کہ پائی کں گ کے (‪ )۱۷۳‬لوگککو تمہارے‬
‫پروردگار کککی طرف سکے تمہارے پاس دلیککل (روشککن) آچکککی ہے اور ہم نکے (کفککر اور ضللت کککا اندھیرا دور کرن کے کککو)‬
‫تمہاری طرف چمکتکا ہوا نور بھیکج دیکا ہے (‪ )۱۷۴‬پکس جکو لوگ خدا پکر ایمان لئے اور اس (ککے دیکن ککی رسکی) کو مضبوط‬
‫پکڑے رہے ان ککو وہ اپنکی رحمکت اور فضکل (ککے بہشتوں) میکں داخکل کرے گکا۔ اور اپنکی طرف (پہچنکے ککا) سکیدھا رسکتہ‬
‫دکھائے گکا (‪( )۱۷۵‬اے پیغمکبر) لوگ تکم سکے (کللہ ککے بارے میکں) حککم (خدا) دریافکت کرتکے ہیکں کہہ دو ککہ خدا کللہ بارے‬
‫میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کو بھائی‬
‫کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا۔ اور اگر بہن مرجائے اور اس کے اولد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا‬
‫اور اگر (مرنے والے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی‬
‫مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اس لئے بیان فرماتا‬
‫ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے (‪)۱۷۶‬‬

‫‪Page 37 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬

‫سورة المَائدة‬
‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلل کر دیئے گئے ہیں۔ بجز‬
‫ان کے جو تمہ یں پڑھ کر سنائے جاتے ہ یں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلل نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہ تا ہے حکم دیتا ہے (‬
‫‪ )۱‬مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان‬
‫جانوروں ککی (جکو خدا ککی نذر ککر دیئے گئے ہوں اور) جکن ککے گلوں میکں پٹھے بندھھے ہوں اور نکہ ان لوگوں ککی جکو عزت‬
‫ککے گھھر (یعنکی بیکت ال) ککو جکا رہے ہوں (اور) اپنکے پروردگار ککے فضکل اور اس ککی خوشنودی ککے طلبگار ہوں اور جکب‬
‫احرام اتار دو تکو (پھھر اختیار ہے ککہ) شکار کرو اور لوگوں ککی دشمنکی اس وجکہ سکے ککہ انہوں نکے تکم ککو عزت والی مسکجد‬
‫سکے روککا تھھا تمہیکں اس بات پکر آمادہ نکہ کرے ککہ تکم ان پکر زیادتکی کرنکے لگکو اور (دیک ھو) نیککی اور پرہیزگاری ککے کاموں‬
‫میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ‬
‫خدا کا عذاب سخت ہے (‪ )۲‬تم پر مرا ہوا جانور اور (بہ تا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور‬
‫ککا نام پکارا جائے اور جکو جانور گل گھھٹ ککر مکر جائے اور جکو چوٹ لگ ککر مکر جائے اور جکو گکر ککر مکر جائے اور جکو‬
‫سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے)‬
‫ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں‬
‫آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہ یں تو ان سے مت ڈرو اور مج ھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا‬
‫دیکن کامکل ککر دیکا اور اپنکی نعمتیکں تکم پکر پوری ککر دیکں اور تمہارے لئے اسکلم ککو دیکن پسکند کیکا ہاں جکو شخکص بھوک میکں‬
‫ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۳‬تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی‬
‫چیزیں ان کے لیے حلل ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلل ہیں اور وہ (شکار) بھی حلل ہے جو تمہارے‬
‫لیے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا‬
‫ہے (اس طریکق سکے) تکم نکے ان ککو سککھایا ہو تکو جکو شکار وہ تمہارے لئے پککڑ رکھیکں اس ککو کھھا لیکا کرو اور (شکاری‬
‫جانوروں ککو چھوڑتکے وقکت) خدا ککا نام لے لیکا کرو اور خدا سکے ڈرتکے رہو۔ بےشکک خدا جلد حسکاب لینکے وال ہے (‪ )۴‬آج‬
‫تمہارے لیکے سکب پاکیزہ چیزیکں حلل ککر دی گئیکں اور اہل کتاب ککا کھانکا بھھی تکم ککو حلل ہے اور تمہارا کھانکا ان ککو حلل‬
‫ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلل ہیں) جبکہ ان کا مہر دے دو۔ اور ان سے عفت‬
‫قائم رکھنکی مقصکود ہو نکہ کھلی بدکاری کرنکی اور نکہ چھپکی دوسکتی کرنکی اور جکو شخکص ایمان سکے منککر ہوا اس ککے عمکل‬
‫ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میکں نقصکان پانکے والوں میکں ہوگکا (‪ )۵‬مومنکو! جکب تکم نماز پڑھنکے ککا قصکد کیکا کرو تکم منکہ اور‬
‫کہنیوں تک ہاتھ د ھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (د ھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو‬
‫تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخل سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں‬
‫سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہ یں پانی نہ مل سکے تو پاک م ٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔‬
‫خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم‬
‫شکر کرو (‪ )۶‬اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہ یں ان کو یاد کرو اور اس عہد کو ب ھی جس کا تم سے قول لیا ت ھا (یعنی)‬
‫جکب تکم نکے کہا تھھا ککہ ہم نکے (خدا ککا حککم) سکن لیکا اور قبول کیکا۔ اور ال سکے ڈرو۔ کچکھ شکک نہیکں ککہ خدا دلوں ککی باتوں‬
‫(تک) سے واقف ہے (‪ )۷‬اے ایمان والوں! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی‬
‫دشمنکی تکم ککو اس بات پکر آمادہ نکہ کرے ککہ انصکاف چھوڑ دو۔ انصکاف کیکا کرو ککہ یہی پرہیزگاری ککی بات ہے اور خدا سکے‬
‫ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہ یں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے (‪ )۸‬جو لوگ ایمان لئے اور نیک کام کرتے رہے ان‬
‫سکے خدا نکے وعدہ فرمایکا ہے ککہ ان ککے لیکے بخشکش اور اجکر عظیکم ہے (‪ )۹‬اور جنہوں نکے کفکر کیکا اور ہماری آیتوں ککو‬

‫‪Page 38 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫جھٹلیا وہ جہنمی ہیں (‪ )۱۰‬اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا‬
‫ککہ تکم پکر دسکت درازی کریکں تکو اس نکے ان ککے ہاتکھ روک دیئے اور خدا سکے ڈرتکے رہوں اور مومنکو ککو خدا ہی پکر بھروسکہ‬
‫رکھنکا چاہیئے (‪ )۱۱‬اور خدا نکے بنکی اسکرائیل سکے اقرار لیکا اور ان میکں ہم نکے بارہ سکردار مقرر کئے پھھر خدا نکے فرمایکا ککہ‬
‫میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لؤ گے اور ان کی مدد کرو‬
‫گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے‬
‫نیچے نہریں بہہ رہی ہ یں پ ھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا (‪ )۱۲‬تو ان لوگوں‬
‫کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات‬
‫سکے بدل دیتکے ہیکں اور جکن باتوں ککی ان ککو نصکیحت ککی گئی تھھی ان ککا بھھی ایکک حصکہ فراموش ککر بیٹھھے اور تھوڑے‬
‫آدمیوں ککے سکوا ہمیشکہ تکم ان ککی (ایکک نکہ ایک) خیانکت ککی خکبر پاتکے رہتکے ہو تو ان ککی خطائیکں معاف کردو اور (ان سکے)‬
‫درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھ تا ہے (‪ )۱۳‬اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہ تے ہ یں کہ ہم نصاریٰ ہ یں ہم‬
‫نے ان سے ب ھی عہد لیا ت ھا مگر انہوں نے ب ھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی ت ھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے‬
‫ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا (‬
‫‪ )۱۴‬اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمکبر (آخرالزماں) آ گئے ہیکں ککہ جو کچکھ تکم کتاب (الہٰی) میکں سکے چھپاتکے تھھے وہ‬
‫اس میں سکے بہت کچھ تمہ یں کھول کھول کر بتا دیتکے ہیکں اور تمہارے بہت سے قصکور معاف ککر دیتکے ہ یں بےشکک تمہارے‬
‫پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے (‪ )۱۵‬جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے‬
‫دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سکے نکال ککر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلتا ہے (‬
‫‪ )۱۶‬جو لوگ اس بات کے قائل ہ یں ککہ عیسکیٰ بکن مریکم خدا ہ یں وہ بےشکک کافکر ہ یں (ان سکے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسکیٰ بکن‬
‫مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی‬
‫ہے؟ اور آسکمان اور زمیکن اور جکو کچکھ ان دونوں میکں ہے سکب پکر خدا ہی ککی بادشاہی ہے وہ جکو چاہتکا ہے پیدا کرتکا ہے اور‬
‫خدا ہر چیکز پکر قادر ہے (‪ )۱۷‬اور یہود اور نصکاریٰ کہتکے ہیکں ککہ ہم خدا ککے بیٹھے اور اس ککے پیارے ہیکں کہو ککہ پھھر وہ‬
‫تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھ یں عذاب کیوں دیتا ہے (نہ یں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان‬
‫ہو وہ جسکے چاہے بخشکے اور جسکے چاہے عذاب دے اور آسکمان زمیکن اور جکو کچکھ ان دونوں میکں ہے سکب پکر خدا ہی ککی‬
‫حکومکت ہے اور (سکب ککو) اسکی ککی طرف لوٹ ککر جانکا ہے (‪ )۱۸‬اے اہلِ کتاب پیغمکبروں ککے آنکے ککا سکلسلہ جکو (ایکک‬
‫عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ‬
‫کہو ککہ ہمارے پاس کوئی خوشخکبری یکا ڈر سکنانے وال نہیکں آیکا سکو (اب) تمہارے پاس خوشخکبری اور ڈر سکنانے والے آ گئے‬
‫ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے (‪ )۱۹‬اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو‬
‫یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کیے اور تمہ یں بادشاہ بنایا اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو‬
‫نہیکں دیکا (‪ )۲۰‬تکو بھائیکو! تکم ارض مقدس (یعنکی ملک شام) میکں جسکے خدا نکے تمہارے لیکے لککھ رکھھا ہے چکل داخکل ہو اور‬
‫(دیکھنکا مقابلے ککے وقکت) پیٹھھ نکہ پھیکر دینکا ورنکہ نقصکان میکں پکڑ جاؤ گکے (‪ )۲۱‬وہ کہنکے لگکے ککہ موسکیٰ! وہاں تکو بڑے‬
‫زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سرزمین سے نکل نہ جائیں ہم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل‬
‫جائیں تو ہم جا داخل ہوں گے (‪ )۲۲‬جو لوگ (خدا سے) ڈرتے ت ھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت ت ھی کہ نے‬
‫لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے رستے سے حملہ کردو جب تم دروازے میں داخل ہو گئے تو فتح تمہارے ہے اور خدا ہی پر‬
‫بھروسہ رکھو بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو ( ‪ )۲۳‬وہ بولے کہ موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جا سکتے‬
‫(اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے (‪ )۲۴‬موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ‬
‫پروردگار میکں اپنکے اور اپنکے بھائی ککے سکوا اور کسکی پکر اختیار نہیکں رکھتکا تکو ہم میکں اور ان نافرمان لوگوں میکں جدائی‬
‫کردے (‪ )۲۵‬خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کر دیا گیا (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل‬
‫کی) زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کرو ( ‪ )۲۶‬اور (اے محمد) ان کو آدم‬
‫ککے دو بیٹوں (ہابیکل اور قابیکل) ککے حالت (جکو بالککل) سکچے (ہیکں) پڑھ ککر سکنا دو ککہ جکب ان دونوں نکے خدا (ککی جناب‬
‫میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ‬
‫میکں تجھھے قتکل کروں گکا اس نکے کہا ککہ خدا پرہیزگاروں ہی ککی (نیاز) قبول فرمایکا کرتکا ہے (‪ )۲۷‬اور اگکر تکو مجھھے قتکل‬

‫‪Page 39 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کرنکے ککے لیکے مجکھ پکر ہاتکھ چلئے گکا تو میکں تجھ ککو قتل کرنکے ککے لئے تجھ پر ہاتھ نہیکں چلؤں گا مج ھے تو خدائے رب‬
‫العالمیکن سکے ڈر لگتکا ہے (‪ )۲۸‬میکں چاہتکا ہوں ککہ تکو میرے گناہ میکں بھھی ماخوذ ہو اور اپنکے گناہ میکں بھھی پھھر (زمرہ) اہل‬
‫دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے (‪ )۲۹‬مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے‬
‫اسکے قتکل ککر دیکا اور خسکارہ اٹھانکے والوں میکں ہو گیکا (‪ )۳۰‬اب خدا نکے ایکک کوّا بھیجکا جکو زمیکن کریدنکے لگکا تاککہ اسکے‬
‫دکھائے کہ اپنے بھائی کی لش کو کیونکر چھپائے کہ نے لگا اے ہے مجھ سے اتنا ب ھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا‬
‫کہ اپنے بھائی کی لش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا (‪ )۳۱‬اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو‬
‫شخکص کسکی ککو (ناحکق) قتکل کرے گکا (یعنکی) بغیکر اس ککے ککہ جان ککا بدلہ لیکا جائے یکا ملک میکں خرابکی کرنکے ککی سکزا دی‬
‫جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب‬
‫ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں ل چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ‬
‫اعتدال سکے نککل جاتکے ہیکں (‪ )۳۲‬جکو لوگ خدا اور اس ککے رسکول سکے لڑائی کریکں اور ملک میکں فسکاد کرنکے ککو دوڑتکے‬
‫پھریکں ان ککی یہی سکزا ہے ککہ قتکل ککر دیئے جائیکں یکا سکولی چڑھھا دیئے جائیکں یکا ان ککے ایکک ایکک طرف ککے ہاتکھ اور ایکک‬
‫ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے‬
‫لیکے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے (‪ )۳۳‬ہاں جکن لوگوں نکے اس سکے پیشتکر ککہ تمہارے قابکو میکں آ جائیکں توبکہ ککر لی تکو جان‬
‫رک ھو کہ خدا بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۳۴‬اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلش‬
‫کرتکے رہو اور اس ککے رسکتے میکں جہاد کرو تاککہ رسکتگاری پاؤ (‪ )۳۵‬جکو لوگ کافکر ہیکں اگکر ان ککے پاس روئے زمیکن (ککے‬
‫تمام خزان کے اور اس) کککا سککب مال ومتاع ہو اور اس ک کے سککاتھ اسککی قدر اور بھ ھی ہو تاک کہ قیامککت ک کے روز عذاب (س کے‬
‫رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہ یں کیا جائے گا اور ان کو درد دینے وال عذاب ہوگا (‪( )۳۶‬ہر چند)‬
‫چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے ( ‪ )۳۷‬اور جو چوری‬
‫کرے مرد ہو یکا عورت ان ککے ہاتکھ کاٹ ڈالو یکہ ان ککے فعلوں ککی سکزا اور خدا ککی طرف سکے عکبرت ہے اور خدا زبردسکت‬
‫(اور) صاحب حکمت ہے (‪ )۳۸‬اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرے اور نیکوکار ہو جائے تو خدا اس کو معاف کر دے گا‬
‫کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۳۹‬کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے؟‬
‫جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے (‪ )۴۰‬اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی‬
‫کرتے ہ یں (کچھ تو) ان میں سے (ہ یں) جو منہ سے کہ تے ہ یں کہ ہم مومن ہ یں لیکن ان کے دل مومن نہ یں ہ یں اور (کچھ) ان‬
‫میکں سکے جکو یہودی ہیکں ان ککی وجکہ سکے غمناک نکہ ہونکا یکہ غلط باتیکں بنانکے ککے لیکے جاسکوسی کرتکے پھرتکے ہیکں اور ایسکے‬
‫لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہ یں جو اب ھی تمہارے پاس نہ یں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت‬
‫ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے‬
‫تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ ب ھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہ یں‬
‫رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا‬
‫عذاب ہے (‪( )۴۱‬یکہ) جھوٹھی باتیکں بنانکے ککے جاسکوسی کرنکے والے اور (رشوت ککا) حرام مال کھانکے والے ہیکں اگکر یکہ‬
‫تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کر دینا یا اعراض کرنا اور اگر ان سے اعراض کرو‬
‫گکے تکو وہ تمہارا کچکھ بھھی نہیکں بگاڑ سککیں گکے اور اگکر فیصکلہ کرنکا چاہو تکو انصکاف ککا فیصکلہ کرنکا ککہ خدا انصکاف کرنکے‬
‫والوں ککو دوسکت رکھتکا ہے (‪ )۴۲‬اور یکہ تکم سکے (اپنکے مقدمات) کیونککر فیصکل کرایکں گکے جبککہ خود ان ککے پاس تورات‬
‫(موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لک ھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتکے ہ یں) پ ھر اس کے بعد اس سے پ ھر جاتے ہ یں اور یہ لوگ‬
‫ایمان ہی نہیکں رکھتکے (‪ )۴۳‬بیشکک ہم نکے توریکت نازل فرمائی جکس میکں ہدایکت اور روشنکی ہے اسکی ککے مطابکق انبیاء جکو‬
‫(خدا کے) فرمانبردار ت ھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہ یں اور مشائخ اور علماء ب ھی کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر‬
‫کیے گئے ت ھے اور اس پر گواہ ت ھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھ تے ت ھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مج ھی سے ڈرتے‬
‫رہ نا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو‬
‫ایسکے ہی لوگ کافکر ہ یں (‪ )۴۴‬اور ہم نے ان لوگوں ککے لیکے تورات میکں یہ حکم لکھ دیکا تھھا ککہ جان ککے بدلے جان اور آنکھ‬
‫کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے‬
‫لیکن جو شخکص بدلہ معاف کر دے وہ اس ککے لیکے کفارہ ہوگا اور جو خدا ککے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابکق حکم نہ‬

‫‪Page 40 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہ یں (‪ )۴۵‬اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو‬
‫اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے ت ھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات‬
‫کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے ( ‪ )۴۶‬اور اہل انجیل‬
‫ککو چاہیئے ککہ جکو احکام خدا نکے اس میکں نازل فرمائے ہیکں اس ککے مطابکق حککم دیکا کریکں اور جکو خدا ککے نازل کئے ہوئے‬
‫احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرماں ہیں (‪ )۴۷‬اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو‬
‫اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان‬
‫کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا ہم نے تم میں سے ہر‬
‫ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو‬
‫حککم اس نکے تکم ککو دیئے ہیکں ان میکں وہ تمہاری آزمائش کرنکی چاہتکا ہے سکو نیکک کاموں میکں جلدی کرو تکم سکب ککو خدا ککی‬
‫طرف لوٹ کر جانا ہے پ ھر جن باتوں میں تم کو اختلف ت ھا وہ تم کو بتا دے گا (‪ )۴۸‬اور (ہم پ ھر تاکید کرتے ہ یں کہ) جو‬
‫(حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے‬
‫رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ‬
‫ان ککے بعکض گناہوں کے سبب ان پکر مصیبت نازل کرے اور اکثکر لوگ تو نافرمان ہ یں ( ‪ )۴۹‬کیکا یکہ زمانہٴ جاہلیکت ککے حککم‬
‫ککے خواہش منکد ہیکں؟ اور جکو یقیکن رکھتکے ہیکں ان ککے لیکے خدا سکے اچھھا حککم ککس ککا ہے؟ (‪ )۵۰‬اے ایمان والو! یہود اور‬
‫نصکاریٰ کو دوسکت نہ بناؤ یہ ایک دوسرے ککے دوسکت ہ یں اور جو شخکص تکم میکں سے ان کو دوسکت بنائے گا وہ ب ھی انہ یں‬
‫میکں سکے ہوگکا بیشکک خدا ظالم لوگوں ککو ہدایکت نہیکں دیتکا (‪ )۵۱‬تکو جکن لوگوں ککے دلوں میکں (نفاق ککا) مرض ہے تکم ان ککو‬
‫دیک ھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہ یں کہ تے ہ یں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہ یں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے سو‬
‫قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے‬
‫پشیمان ہو کر رہ جائیں گے (‪ )۵۲‬اور اس (وقت) مسلمان (تعجب سے) کہ یں گے کہ کیا یہ وہی ہ یں جو خدا کی سخت سخت‬
‫قسمیں کھایا کرتے ت ھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہ یں ان کےعمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑ گئے ( ‪ )۵۳‬اے ایمان والو اگر‬
‫کوئی تم میں سے اپنے دین سے پ ھر جائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن کو وہ دوست رک ھے اور جسے وہ دوست‬
‫رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی‬
‫ملمت کرنے والی کی ملمت سے نہ ڈریں یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور ال بڑی کشائش وال اور جاننے‬
‫وال ہے (‪ )۵۴‬تمہارے دوسکت تکو خدا اور اس ککے پیغمکبر اور مومکن لوگ ہی ہیکں جکو نماز پڑھتکے اور زکوٰة دیتکے اور (خدا‬
‫کے آگے) جھکتے ہیں (‪ )۵۵‬اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت‬
‫میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے (‪ )۵۶‬اے ایمان والوں! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی‬
‫تھ یں ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھ یل بنا رک ھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے‬
‫ڈرتے رہو (‪ )۵۷‬اور جب تم لوگ نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو یہ اسے ب ھی ہنسی اور کھ یل بناتے ہ یں یہ اس لیے کہ سمجھ‬
‫نہیکں رکھتکے (‪ )۵۸‬کہو ککہ اے اہل کتاب! تکم ہم میکں برائی ہی کیکا دیکھتکے ہو سکوا اس ککے ککہ ہم خدا پکر اور جکو (کتاب) ہم پکر‬
‫نازل ہوئی اس پکر اور جکو (کتابیکں) پہلے نازل ہوئیکں ان پکر ایمان لئے ہیکں اور تکم میکں اکثکر بدکردار ہیکں (‪ )۵۹‬کہو ککہ میکں‬
‫تمہ یں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے ب ھی بدتر جزا پانے والے کون ہ یں؟ وہ لوگ ہ یں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ‬
‫غضبناک ہوا اور (جکن ککو) ان میکں سکے بندر اور سکور بنکا دیکا اور جنہوں نکے شیطان ککی پرسکتش ککی ایسکے لوگوں ککا برا‬
‫ٹھکانہ ہے اور وہ سیدھے رستے سے بہت دور ہ یں (‪ )۶۰‬اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہ یں تو کہ تے ہ یں کہ ہم ایمان لے‬
‫آئے حالنکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے‬
‫(‪ )۶۱‬اور تم دیک ھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہ یں بے شک یہ جو کچھ کرتے‬
‫ہیں برا کرتے ہیں (‪ )۶۲‬بھل ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بلشبہ‬
‫وہ بھھی برا کرتکے ہیکں (‪ )۶۳‬اور یہود کہتکے ہیکں ککہ خدا ککا ہاتکھ (گردن سکے) بندھھا ہوا ہے (یعنکی ال بخیکل ہے) انہیکں ککے ہاتکھ‬
‫باند ھے جائیں اور ایسا کہ نے کے سبب ان پر لعنت ہو (اس کا ہاتھ بند ھا ہوا نہ یں) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہ یں وہ جس‬
‫طرح (اور جتنکا) چاہتکا ہے خرچ کرتکا ہے اور (اے محمکد) یکہ (کتاب) جکو تمہارے پروردگار ککی طرف سکے تکم پکر نازل ہوئی‬
‫اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے ان کے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے‬

‫‪Page 41 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ڈال دیکا ہے یکہ جکب لڑائی ککے لیکے آگ جلتکے ہیکں خدا اس کو بجھھا دیتکا ہے اور یکہ ملک میکں فسکاد ککے لیکے دوڑے پھرتکے ہیکں‬
‫اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہ یں رکھ تا (‪ )۶۴‬اور اگر اہل کتاب ایمان لتے اور پرہ یز گاری کرتے تو ہم ان سے ان‬
‫ککے گناہ محکو ککر دیتکے اور ان ککو نعمکت ککے باغوں میکں داخکل کرتکے (‪ )۶۵‬اور اگکر وہ تورات اور انجیکل ککو اور جکو (اور‬
‫کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھ تے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے‬
‫اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں (‪ )۶۶‬اے‬
‫پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہ یں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام‬
‫پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رک ھے گا بیشک خدا منکروں‬
‫کو ہدایت نہ یں دیتا (‪ )۶۷‬کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی‬
‫طرف سکے تکم لوگوں پکر نازل ہوئیکں ان ککو قائم نکہ رکھھو گکے کچکھ بھھی راہ پکر نہیکں ہو سککتے اور یکہ (قرآن) جکو تمہارے‬
‫پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ‬
‫کرو (‪ )۶۸‬جکو لوگ خدا پکر اور روز آخرت پکر ایمان لئیکں گکے اور عمکل نیکک کریکں گکے خواہ وہ مسکلمان ہوں یکا یہودی یکا‬
‫ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے (‪ )۶۹‬ہم نے بنی اسرائیل سے عہد‬
‫ب ھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر ب ھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لے کر آتا جن کو ان کے دل‬
‫نہیں چاہ تے ت ھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹل دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے ( ‪ )۷۰‬اور خیال‬
‫کرتکے تھھے ککہ (اس سکے ان پکر) کوئی آفکت نہیکں آنکے ککی تکو وہ اندھھے اور بہرے ہو گئے پھھر خدا نکے ان پکر مہربانکی فرمائی‬
‫(لیکن) پ ھر ان میں سے بہت سے اند ھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے ( ‪ )۷۱‬وہ لوگ بےشبہ‬
‫کافکر ہیکں جکو کہتکے ہیکں ککہ مریکم ککے بیٹھے (عیسکیٰ) مسکیح خدا ہیکں حالنککہ مسکیح یہود سکے یکہ کہا کرتکے تھھے ککہ اے بنکی‬
‫اسکرائیل خدا ہی ککی عبادت کرو جکو میرا بھھی پروردگار ہے اور تمہارا بھھی (اور جان رکھھو ککہ) جکو شخکص خدا ککے سکاتھ‬
‫شرک کرے گکا خدا اس پکر بہشکت حرام ککر دے گکا اور اس ککا ٹھکانکہ دوزخ ہے اور ظالموں ککا کوئی مددگار نہیکں (‪ )۷۲‬وہ‬
‫لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالنکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے‬
‫لئق نہیکں اگکر یکہ لوگ ایسکے اقوال (وعقائد) سکے باز نہیکں آئیکں گکے تکو ان میکں جکو کافکر ہوئے ہیکں وہ تکلیکف دینکے وال عذاب‬
‫پائیں گے (‪ )۷۳‬تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہ یں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہ یں مانگتے اور خدا تو بخشنے وال‬
‫مہربان ہے (‪ )۷۴‬مسیح ابن مریم تو صرف (خدا) کے پیغمبر ت ھے ان سے پہلے ب ھی بہت سے رسول گزر چکے ت ھے اور ان‬
‫کی والدہ (مریم خدا کی) ولی اور سچی فرمانبردار تھ یں دونوں (انسان ت ھے اور) کھانا کھاتے ت ھے دیک ھو ہم ان لوگوں کے‬
‫لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہ یں پ ھر (یہ) دیک ھو کہ یہ کد ھر ال ٹے جا رہے ہ یں ( ‪ )۷۵‬کہو کہ تم خدا‬
‫کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ ب ھی اختیار نہ یں؟ اور خدا ہی (سب‬
‫کچھ) سنتا جانتا ہے (‪ )۷۶‬کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں‬
‫کے پیچ ھے نہ چلو جو (خود ب ھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور ب ھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک‬
‫گئے (‪ )۷۷‬جو لوگ بنکی اسکرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سکے لعنکت ککی گئی یہ اس لیے کہ‬
‫نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے (‪( )۷۸‬اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے‬
‫نہیں تھے بلشبہ وہ برا کرتے تھے (‪ )۷۹‬تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے جو‬
‫کچکھ اپنکے واسکطے آگکے بھیجکا ہے برا ہے (وہ یکہ) ککہ خدا ان سکے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشکہ عذاب میکں (مبتل) رہیکں گکے (‪)۸۰‬‬
‫اور اگکر وہ خدا پکر اور پیغمکبر پکر اور جکو کتاب ان پکر نازل ہوئی تھھی اس پکر یقیکن رکھتکے تکو ان لوگوں ککو دوسکت نکہ بناتکے‬
‫لیکن ان میں اکثکر بدکردار ہیکں (‪( )۸۱‬اے پیغمکبرﷺ!) تکم دیکھھو گے کہ مومنوں ککے سکاتھ سکب سکے زیادہ دشمنکی کرنکے والے‬
‫یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں‬
‫یکہ اس لیکے ککہ ان میکں عالم بھھی ہیکں اور مشائخ بھھی اور وہ تککبر نہیکں کرتکے (‪ )۸۲‬اور جکب اس (کتاب) ککو سکنتے ہیکں جکو‬
‫(سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھ تے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ‬
‫انہوں نکے حکق بات پہچان لی اور وہ (خدا ککی جناب میکں) عرض کرتکے ہیکں ککہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تکو ہم کو ماننکے‬
‫والوں میکں لککھ لے (‪ )۸۳‬اور ہمیکں کیکا ہوا ہے ککہ خدا پکر اور حکق بات پکر جکو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نکہ لئیکں اور ہم امیکد‬
‫رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا (‪ )۸۴‬تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض‬

‫‪Page 42 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫(بہ شت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہ یں وہ ہمیشہ ان میں رہ یں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے (‬
‫‪ )۸۵‬اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلیا وہ جہنمی ہیں (‪ )۸۶‬مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے‬
‫لیے حلل کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا (‪ )۸۷‬اور جو‬
‫حلل طیّب روزی خدا نکے تککم کککو دی ہے اسکے کھاؤ اور خدا سکے جککس پککر ایمان رکھتکے ہو ڈرتکے رہو (‪ )۸۸‬خدا تمہاری‬
‫بےارادہ قسکموں پکر تکم سکے مواخذہ نہیکں کرے گکا لیککن پختکہ قسکموں پکر (جکن ککے خلف کرو گکے) مواخذہ کرے گکا تکو اس ککا‬
‫کفارہ دس محتاجوں ککو اوسکط درجکے ککا کھانکا کھلنکا ہے جکو تکم اپنکے اہل وعیال ککو کھلتکے ہو یکا ان ککو کپڑے دینکا یکا ایکک‬
‫غلم آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ‬
‫دو) اور (تکم ککو) چاہئے ککہ اپنکی قسکموں ککی حفاظکت کرو اس طرح خدا تمہارے (سکمجھانے ککے) لیکے اپنکی آیتیکں کھول کھول‬
‫کککر بیان فرماتککا ہے تاک کہ تککم شکککر کرو (‪ )۸۹‬اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بککت اور پاس کے (ی کہ سککب) ناپاک کام اعمال‬
‫شیطان سے ہ یں سو ان سے بچتے رہ نا تاکہ نجات پاؤ (‪ )۹۰‬شیطان تو یہ چاہ تا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس‬
‫میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے‬
‫(‪ )۹۱‬اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رک ھو کہ‬
‫ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے (‪ )۹۲‬جو لوگ ایمان لئے اور نیک کام کرتے رہے ان پر‬
‫ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکے جب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لئے اور نیک کام کیے پھر پرہیز کیا اور‬
‫ایمان لئے پھھر پرہیکز کیکا اور نیککو کاری ککی اور خدا نیککو کاروں ککو دوسکت رکھتکا ہے (‪ )۹۳‬مومنکو! کسکی قدر شکار سکے‬
‫جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا‬
‫کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے وال عذاب (تیار) ہے (‬
‫‪ )۹۴‬مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا)‬
‫بدلہ (دے اور وہ یکہ ہے ککہ) اسکی طرح ککا چارپایکہ جسکے تکم میکں دو معتکبر شخکص مقرر کردیکں قربانکی (کرے اور یکہ قربانکی)‬
‫کعبکے پہنچائی جائے یکا کفارہ (دے اور وہ) مسککینوں ککو کھانکا کھلنکا (ہے) یکا اس ککے برابر روزے رکھھے تاککہ اپنکے کام ککی‬
‫سکزا (ککا مزہ) چکھھے (اور) جو پہلے ہو چککا وہ خدا نکے معاف ککر دیکا اور جکو پھھر (ایسکا کام) کرے گکا تکو خدا اس سکے انتقام‬
‫لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے وال ہے (‪ )۹۵‬تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلل کر دیکا گیا‬
‫ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو‬
‫تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو (‪ )۹۶‬خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے‬
‫ککو لوگوں ککے لیکے موجکب امکن مقرر فرمایکا ہے اور عزت ککے مہینوں ککو اور قربانکی ککو اور ان جانوروں ککو جکن ککے گلے‬
‫میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور‬
‫یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے (‪ )۹۷‬جان رکھو کہ خدا سخت غداب دینے وال ہے اور یہ کہ خدا بخشنے وال مہربان بھی ہے‬
‫(‪ )۹۸‬پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام خدا کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا‬
‫ککو سکب معلوم ہے (‪ )۹۹‬کہہ دو ککہ ناپاک چیزیکں اور پاک چیزیکں برابر نہیکں ہوتیکں گکو ناپاک چیزوں ککی کثرت تمہیکں خوش‬
‫ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو ( ‪ )۱۰۰‬مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال‬
‫کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہ یں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی‬
‫باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور‬
‫خدا بخشنکے وال بردبار ہے (‪ )۱۰۱‬اس طرح ککی باتیکں تکم سکے پہلے لوگوں نکے بھھی پوچھھی تھیکں (مگکر جکب بتائی گئیکں تکو)‬
‫پ ھر ان سے منکر ہو گئے (‪ )۱۰۲‬خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا ہے اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا‬
‫پکر جھوٹ افترا کرتکے ہیکں اور یکہ اکثکر عقکل نہیکں رکھتکے (‪ )۱۰۳‬اور جکب ان لوگوں سکے کہا جاتکا ہے ککہ جکو (کتاب) خدا نکے‬
‫نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول ال کی طرف رجوع کرو تو کہ تے ہ یں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے‬
‫وہی ہمیں کافی ہے بھل اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟) (‪ )۱۰۴‬اے ایمان‬
‫والو! اپنکی جانوں ککی حفاظکت کرو جکب تکم ہدایکت پکر ہو تکو کوئی گمراہ تمہارا کچکھ بھھی بگاڑ نہیکں سککتا تکم سکب ککو خدا ککی‬
‫طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سکے جو (دنیا میں) کئے ت ھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے‬
‫گککا) (‪ )۱۰۵‬مومنککو! جککب تککم میکں سکے کسککی کککی موت آموجود ہو تککو شہادت (کککا نصککاب) یکہ ہے ککہ وصککیت ککے وقککت تککم‬

‫‪Page 43 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫(مسکلمانوں) میکں سکے دو عادل (یعنکی صکاحب اعتبار) گواہ ہوں یکا اگکر (مسکلمان نکہ ملیکں اور) تکم سکفر ککر رہے ہو اور (اس‬
‫وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی‬
‫نسکبت کچکھ شکک ہو تکو ان ککو (عصکر ککی) نماز ککے بعکد کھڑا کرو اور دونوں خدا ککی قسکمیں کھائیکں ککہ ہم شہادت ککا کچکھ‬
‫عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم ال کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے‬
‫(‪ )۱۰۶‬پھھر اگکر معلوم ہو جائے ککہ ان دونوں نکے (جھوٹ بول ککر) گناہ حاصکل کیکا ہے تکو جکن لوگوں ککا انہوں نکے حکق مارنکا‬
‫چاہا تھھا ان میکں سکے ان ککی جگکہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جکو (میکت سکے) قرابکت قریبکہ رکھتکے ہوں پھھر وہ خدا ککی قسکمیں‬
‫کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں (‬
‫‪ )۱۰۷‬اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان‬
‫کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گو شِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان‬
‫لوگوں ککو ہدایکت نہیکں دیتکا (‪( )۱۰۸‬وہ دن یاد رکھنکے ککے لئق ہے) جکس دن خدا پیغمکبروں ککو جمکع کرے گکا پھھر ان سکے‬
‫پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب مل تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں توہی غیب کی باتوں سے واقف ہے ( ‪۱۰۹‬‬
‫) جب خدا (عیسیٰ سے) فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرے ان احسانوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ‬
‫پکر کئے جکب میکں نکے روح القدس (یعنکی جبرئیکل) سکے تمہاری مدد ککی تکم جھولے میکں اور جوان ہو ککر (ایکک ہی نسکق پکر)‬
‫لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تم میرے حکم‬
‫سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا اور مادر زاد اندھے اور سفید‬
‫داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کر دیتے تھے اور مردے کو میرے حکم سے (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے‬
‫اور جکب میکں نکے بنکی اسکرائیل (ککے ہاتھوں) ککو تکم سکے روک دیکا جکب تکم ان ککے پاس کھلے نشان لے ککر آئے تکو جکو ان میکں‬
‫سکے کافکر تھھے کہنکے لگکے ککہ یکہ صکریح جادو ہے (‪ )۱۱۰‬اور جکب میکں نکے حواریوں ککی طرف حککم بھیجکا ککہ مجکھ پکر اور‬
‫میرے پیغمکبر پکر ایمان لؤ وہ کہنکے لگکے ککہ (پروردگار) ہم ایمان لئے تکو شاہد رہیکو ککہ ہم فرمانکبردار ہیکں (‪( )۱۱۱‬وہ قصکہ‬
‫بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تمہارا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام‬
‫ککا) خوان نازل کرے؟ انہوں نکے کہا ککہ اگکر ایمان رکھتکے ہو تکو خدا سکے ڈرو (‪ )۱۱۲‬وہ بولے ککہ ہماری یکہ خواہش ہے ککہ ہم‬
‫اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلی پائیں اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر‬
‫گواہ رہیں (‪( )۱۱۳‬تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے‬
‫(وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے‬
‫تو بہ تر رزق دینے وال ہے (‪ )۱۱۴‬خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے‬
‫کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا ( ‪ )۱۱۵‬اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو)‬
‫جکب خدا فرمائے گکا ککہ اے عیسکیٰ بکن مریکم! کیکا تکم نکے لوگوں سکے کہا تھھا ککہ خدا ککے سکوا مجھھے اور میری والدہ ککو معبود‬
‫مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے‬
‫ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے‬
‫میں نہیں جانتا بےشک تو علّم الغیوب ہے ( ‪ )۱۱۶‬میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا‬
‫ہے وہ یکہ ککہ تکم خدا ککی عبادت کرو جکو میرا اور تمہارا سکب ککا پروردگار ہے اور جکب تکک میکں ان میکں رہا ان (ککے حالت)‬
‫کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے ( ‪ )۱۱۷‬اگر تو‬
‫ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت وال ہے (‪)۱۱۸‬‬
‫خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ‬
‫رہی ہ یں ابدالباد ان میکں بستے رہ یں گکے خدا ان سکے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہ یں یکہ بڑی کامیابی ہے (‪ )۱۱۹‬آسمان‬
‫اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے (‪)۱۲۰‬‬

‫‪Page 44 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬

‫سورة الٴنعَام‬
‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫ہر طرح ککی تعریکف خدا ہی ککو سکزاوار ہے جکس نکے آسکمانوں اور زمیکن ککو پیدا کیکا اور اندھیرا اور روشنکی بنائی پھھر بھھی‬
‫کافکر (اور چیزوں کو) خدا ککے برابر ٹھیراتکے ہ یں (‪ )۱‬وہی تکو ہے جکس نے تم کو مٹھی سکے پیدا کیا پ ھر (مرنے کا) ایکک‬
‫وقکت مقرر ککر دیکا اور ایکک مدت اس ککے ہاں اور مقرر ہے پھھر بھھی تکم (اے کافرو خدا ککے بارے میکں) شکک کرتکے ہو (‪)۲‬‬
‫اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) خدا ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب‬
‫سے واقف ہے (‪ )۳‬اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں‬
‫(‪ )۴‬جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو ب ھی جھٹل دیا سو ان کو ان چیزوں کا جن سے یہ استہزا کرتے ہ یں عنقریب انجام‬
‫معلوم ہو جائے گکا (‪ )۵‬کیکا انہوں نکے نہیکں دیکھھا ککہ ہم نکے ان سکے پہلے کتنکی امتوں ککو ہلک ککر دیکا جکن ککے پاؤں ملک میکں‬
‫ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنا دیں جو ان‬
‫کے (مکانوں کے) نیچے بہہ رہی تھیں پھر ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلک کر دیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کر دیں‬
‫(‪ )۶‬اور اگکر ہم تم پکر کاغذوں پکر لکھھی ہوئی کتاب نازل کرتکے اور یکہ اسکے اپنکے ہاتھوں سکے بھھی ٹٹول لیتکے تو جو کافکر‬
‫ہیں وہ یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے (‪ )۷‬اور کہ تے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو‬
‫ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پ ھر انھ یں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی ( ‪ )۸‬نیز اگر ہم‬
‫کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے‬
‫(‪ )۹‬اور تم سے پہلے ب ھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہ یں سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے ت ھے ان کو‬
‫تمسکخر ککی سکزا نکے آگھیرا (‪ )۱۰‬کہو ککہ (اے منکریکن رسکالت) ملک میکں چلو پھرو پھھر دیکھھو ککہ جھٹلنکے والوں ککا کیکا‬
‫انجام ہوا (‪( )۱۱‬ان سکے) پوچھھو ککہ آسکمان اور زمیکن میں جکو کچکھ ہے ککس ککا ہے کہہ دو خدا ککا اس نکے اپنکی ذات (پاک) پکر‬
‫رحمکت ککو لزم ککر لیکا ہے وہ تکم سکب ککو قیامکت ککے دن جکس میکں کچکھ بھھی شکک نہیکں ضرور جمکع کرے گکا جکن لوگوں نکے‬
‫اپنکے تیئیکں نقصکان میکں ڈال رکھھا ہے وہ ایمان نہیکں لتکے (‪ )۱۲‬اور جکو مخلوق رات اور دن میکں بسکتی ہے سکب اسکی ککی ہے‬
‫اور وہ سنتا جانتا ہے (‪ )۱۳‬کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا‬
‫کرنے وال ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ‬
‫میں سب سے پہلے اسلم لنے وال ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا (‪( )۱۴‬یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے‬
‫پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے (‪ )۱۵‬جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا‬
‫اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے (‪ )۱۶‬اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا‬
‫اس کو کوئی دور کرنے وال نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے وال نہیں) وہ ہر چیز پر قادر‬
‫ہے (‪ )۱۷‬اور وہ اپنکے بندوں پککر غالب ہے اور وہ دانککا اور خککبردار ہے (‪ )۱۸‬ان سکے پوچھھو ککہ سککب سکے بڑھ کککر (قریککن‬
‫انصاف) کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس‬
‫ککے ذریعکے سکے تکم ککو اور جکس شخکص تکک وہ پہنکچ سککے آگاہ کردوں کیکا تکم لوگ اس بات ککی شہادت دیتکے ہو ککہ خدا ککے‬
‫ساتھ اور ب ھی معبود ہ یں (اے محمدﷺ!) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہ یں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور‬
‫جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں (‪ )۱۹‬جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (ہمارے پیغمبرﷺ) کو‬
‫اس طرح پہچانتکے ہیکں جکس طرح اپنکے بیٹوں ککو پہچانکا کرتکے ہیکں جنہوں نکے اپنکے تئیکں نقصکان میکں ڈال رکھھا ہے وہ ایمان‬
‫نہیکں لتکے (‪ )۲۰‬اور اس شخکص سکے زیادہ کون ظالم ہے جکس نکے خدا پکر جھوٹ افتراء کیکا یکا اس ککی آیتوں ککو جھٹلیکا۔‬
‫کچکھ شکک نہیکں ککہ ظالم لوگ نجات نہیکں پائیکں گکے (‪ )۲۱‬اور جکس دن ہم سکب لوگوں ککو جمکع کریکں گکے پھھر مشرکوں سکے‬
‫پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعویٰ تھا (‪ )۲۲‬تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز‬

‫‪Page 45 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫اس ککے (کچکھ چارہ نکہ ہوگکا) ککہ کہیکں خدا ککی قسکم جکو ہمارا پروردگار ہے ہم شریکک نہیکں بناتکے تھھے (‪ )۲۳‬دیکھھو انہوں نکے‬
‫اپنے اوپر کیسا جھوٹ بول اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے ت ھے سب ان سے جاتا رہا (‪ )۲۴‬اور ان میں بعض ایسے ہ یں کہ‬
‫تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھ تے ہ یں۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہ یں کہ ان کو سمجھ نہ سکیں اور‬
‫کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لئیں۔ یہاں تک‬
‫ککہ جکب تمہارے پاس تکم سکے بحکث کرنکے ککو آتکے ہیکں تکو جکو کافکر ہیکں کہتکے ہیکں یکہ (قرآن) اور کچکھ بھھی نہیکں صکرف پہلے‬
‫لوگوں کی کہانیاں ہیں (‪ )۲۵‬وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں مگر (ان باتوں سے) اپنے‬
‫آپ ہی کو ہلک کرتے ہیں اور (اس سے) بےخبر ہیں (‪ )۲۶‬کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے‬
‫کئے جائیکں گکے اور کہیکں گکے ککہ اے کاش ہم پھھر (دنیکا میکں) لوٹھا دیئے جائیکں تاککہ اپنکے پروردگار ککی آیتوں ککی تکذیکب نکہ‬
‫کریکں اور مومکن ہوجائیکں (‪ )۲۷‬ہاں یکہ جکو کچکھ پہلے چھپایکا کرتکے تھھے (آج) ان پکر ظاہر ہوگیکا ہے اور اگکر یکہ (دنیکا میکں)‬
‫لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں (‪)۲۸‬‬
‫اور کہ تے ہ یں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پ ھر زندہ نہ یں کئے جائیں گے (‬
‫‪ )۲۹‬اور کاش تکم (ان ککو اس وقکت) دیکھھو جکب یکہ اپنکے پروردگار کےسکامنے کھڑے کئے جائیکں گکے اور وہ فرمائےگکا کیکا یکہ‬
‫(دوبارہ زندہ ہونکا) برحکق نہیکں تو کہیکں گے کیوں نہ یں پروردگار کی قسکم (بالککل برحکق ہے)خدا فرمائے گا اب کفکر ککے بدلے‬
‫(جو دنیا میں کرتے ت ھے) عذاب (کے مزے) چک ھو (‪ )۳۰‬جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ‬
‫گھا ٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھ یں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس‬
‫ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیک ھو جو‬
‫بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے (‪ )۳۱‬اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا‬
‫گ ھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہ یں۔ کیا تم سمجھتے نہ یں (‪ )۳۲‬ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں‬
‫تمہیکں رنج پہنچاتکی ہیکں (مگر) یکہ تمہاری تکذیکب نہیکں کرتکے بلککہ ظالم خدا کی آیتوں سکے انکار کرتکے ہ یں (‪ )۳۳‬اور تم سے‬
‫پہلے کبھھی پیغمککبر جھٹلئے جاتکے رہے تکو وہ تکذیکب اور ایذا پکر صککبر کرتکے رہے یہاں تککک ککہ ان ککے پاس ہماری مدد‬
‫پہنچتکی رہی اور خدا ککی باتوں ککو کوئی بھھی بدلنکے وال نہیکں۔ اور تکم ککو پیغمکبروں (ککے احوال) ککی خکبریں پہنکچ چککی ہیکں‬
‫(تکو تکم بھھی صکبر سکے کام لو) (‪ )۳۴‬اور اگکر ان ککی روگردانکی تکم پکر شاق گزرتکی ہے تکو اگکر طاقکت ہو تکو زمیکن میکں کوئی‬
‫سکرنگ ڈھونکڈ نکالو یکا آسکمان میکں سکیڑھی (تلش کرو) پھھر ان ککے پاس کوئی معجزہ لؤ۔ اور اگکر خدا چاہتکا تکو سکب ککو‬
‫ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا (‪ )۳۵‬بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہ یں جو سنتے ب ھی ہ یں‬
‫اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پ ھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے (‪ )۳۶‬اور کہ تے ہ یں کہ ان پر ان‬
‫ککے پروردگارککے پاس کوئی نشانکی کیوں نازل نہیکں ہوئی۔ کہہ دو ککہ خدا نشانکی اتارنکے پکر قادر ہے لیککن اکثکر لوگ نہیکں‬
‫جانتکے (‪ )۳۷‬اور زمیکن میکں جکو چلنکے پھرنکے وال (حیوان) یکا دو پروں سکے اڑنکے وال جانور ہے ان ککی بھھی تکم لوگوں ککی‬
‫طرح جماعتیکں ہیکں۔ ہم نکے کتاب (یعنکی لوح محفوظ) میکں کسکی چیکز (ککے لکھنکے) میکں کوتاہی نہیکں ککی پھھر سکب اپنکے‬
‫پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے (‪ )۳۸‬اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلیا وہ بہرے اور گونگے ہ یں (اس‬
‫ککے علوہ) اندھیرے میکں (پڑے ہوئے) جکس ککو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسکے چاہے سکیدھے رسکتے پکر چل دے (‪ )۳۹‬کہو‬
‫(کافرو) بھل دیک ھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور‬
‫کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ) (‪( )۴۰‬نہیں) بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے‬
‫پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہ تا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہ یں بھول جاتے ہو (‪)۴۱‬‬
‫اور ہم نکے تکم سکے پہلے بہت سکی امتوں ککی طرف پیغمکبر بھیجکے۔ پھھر (ان ککی نافرمانیوں ککے سکبب) ہم انہیکں سکختیوں اور‬
‫تکلیفوں میں پکڑ تے رہے تاکہ عاجزی کریں (‪ )۴۲‬تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہ یں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان‬
‫کے تو دل ہی سخت ہوگئے ت ھے۔ اور جو وہ کام کرتے ت ھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا ت ھا (‪)۴۳‬‬
‫پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو گی گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔‬
‫یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھ یں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت‬
‫مایوس ہو کر رہ گئے (‪ )۴۴‬غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار‬
‫ہے) (‪( )۴۵‬ان کافروں س کے) کہو ک کہ بھل دیکھ ھو تککو اگککر خدا تمہارے کان اور آنکھی کں چھیککن لے اور تمہارے دلوں پککر مہر‬

‫‪Page 46 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫لگادے تو خداکے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں۔‬
‫پھر بھی یہ لوگ ردگردانی کرتے ہیں (‪ )۴۶‬کہو کہ بھل بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بےخبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے‬
‫تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور بھی ہلک ہوگا؟ (‪ )۴۷‬اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوشخبری سنانے‬
‫اور ڈرانکے ککو پھھر جکو شخکص ایمان لئے اور نیکوکار ہوجائے تکو ایسکے لوگوں ککو نکہ کچکھ خوف ہوگکا اور نکہ وہ اندوہناک‬
‫ہوں گے (‪ )۴۸‬اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلیا ان کی نافرمانیوں کے سبب انہ یں عذاب ہوگا (‪ )۴۹‬کہہ دو کہ میں تم‬
‫سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس ال تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ‬
‫ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مج ھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھل اندھا اور آنکھ والے برابر‬
‫ہوتے ہ یں؟ تو پ ھر تم غور کیوں نہ یں کرتے (‪ )۵۰‬اور جو لوگ جو خوف رکھ تے ہ یں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر‬
‫کئے جائیں گے (اور جانتے ہ یں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے وال‪ ،‬ان کو اس (قرآن)‬
‫کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں (‪ )۵۱‬اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہ یں (اور)‬
‫اس ککی ذات ککے طالب ہیکں ان ککو (اپنکے پاس سکے) مکت نکالو۔ ان ککے حسکاب (اعمال) ککی جوابدہی تکم پکر کچکھ نہیکں اور‬
‫تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے (‪ )۵۲‬اور اسی‬
‫طرح ہم نکے بعکض لوگوں ککی بعکض سکے آزمائش ککی ہے ککہ (جکو دولتمنکد ہیکں وہ غریبوں ککی نسکبت) کہتکے ہیکں کیکا یہی لوگ‬
‫ہیکں جکن پکر خدا نکے ہم میکں سکے فضکل کیکا ہے (خدا نکے فرمایکا) بھل خدا شککر کرنکے والوں سکے واقکف نہیکں؟ ( ‪ )۵۳‬اور جکب‬
‫تمہارے پاس ایسکے لوگ آیکا کریکں جکو ہماری آیتوں پکر ایمان لتکے ہیکں تکو (ان سکے) سکلم علیککم کہا کرو خدا نکے اپنکی ذات‬
‫(پاک) پر رحمت کو لزم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے‬
‫اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۵۴‬اور اس طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہ یں (تاکہ تم‬
‫لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے (‪( )۵۵‬اے پیغمبر! کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا‬
‫ککے سکوا پکارتکے ہو مجھھے ان ککی عبادت سکے منکع کیکا گیکا ہے۔ (یکہ بھھی) کہہ دو ککہ میکں تمہاری خواہشوں ککی پیروی نہیکں‬
‫کروں گکا ایسکا کروں تکو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایکت یافتکہ لوگوں میکں نکہ رہوں (‪ )۵۶‬کہہ دو ککہ میکں تکو اپنکے پروردگار ککی دلیکل‬
‫روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہ یں ہے‬
‫(ایسا) حکم ال ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے وال ہے (‪ )۵۷‬کہہ دو کہ‬
‫جکس چیکز ککے لئے تکم جلدی ککر رہے ہو اگکر وہ میرے اختیار میکں ہوتکی تکو مجکھ میکں اور تکم میکں فیصکلہ ہوچککا ہوتکا۔ اور خدا‬
‫ظالموں سکے خوب واقکف ہے (‪ )۵۸‬اور اسکی ککے پاس غیکب ککی کنجیاں ہیکں جکن ککو اس ککے سکوا کوئی نہیکں جانتکا۔ اور اسکے‬
‫جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہ یں جھڑ تا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں‬
‫میکں کوئی دانکہ اور کوئی ہری اور سکوکھی چیکز نہیکں ہے مگکر کتاب روشکن میکں (لکھھی ہوئی) ہے (‪ )۵۹‬اور وہی تکو ہے جکو‬
‫رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھ تا ہے پ ھر‬
‫تمہ یں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پ ھر تم (سب) کو اسی‬
‫کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا (‪ )۶۰‬اور وہ اپنے‬
‫بندوں پکر غالب ہے۔ اور تکم پکر نگہبان مقرر کئے رکھتکا ہے۔ یہاں تکک ککہ جکب تکم میکں سکے کسکی ککی موت آتکی ہے تکو ہمارے‬
‫فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہ یں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہ یں کرتے (‪ )۶۱‬پ ھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے‬
‫مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلئے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے وال ہے (‬
‫‪ )۶۲‬کہو بھل تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی‬
‫سے پکارتکے ہو (اور کہتکے ہو) اگکر خدا ہم کو اس (تنگکی) سے نجات بخشکے تو ہم اس کے بہت شککر گزار ہوں (‪ )۶۳‬کہو کہ‬
‫خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے۔ پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو ( ‪ )۶۴‬کہہ دو کہ وہ‬
‫(اس پر ب ھی) قدرت رکھ تا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہ یں فرقہ فرقہ‬
‫کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے‬
‫ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں (‪ )۶۵‬اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلیا حالنکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا‬
‫داروغکہ نہیکں ہوں (‪ )۶۶‬ہر خکبر ککے لئے ایکک وقکت مقرر ہے اور تکم ککو عنقریکب معلوم ہوجائے گکا (‪ )۶۷‬اور جکب تکم ایسکے‬
‫لوگوں ککو دیکھھو جکو ہماری آیتوں ککے بارے میکں بیہودہ بکواس ککر رہے ہوں تکو ان سکے الگ ہوجاؤ یہاں تکک ککہ اور باتوں‬

‫‪Page 47 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫میکں مصکروف ہوجائیکں۔ اور اگکر (یکہ بات) شیطان تمہیکں بھل دے تکو یاد آنکے پکر ظالم لوگوں ککے سکاتھ نکہ بیٹھھو (‪ )۶۸‬اور‬
‫پرہیزگاروں پکر ان لوگوں ککے حسکاب ککی کچکھ بھھی جواب دہی نہیکں ہاں نصکیحت تاککہ وہ بھھی پرہیزگار ہوں ( ‪ )۶۹‬اور جکن‬
‫لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام‬
‫نہ رک ھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلکت میں‬
‫نہ ڈال جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے وال۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے‬
‫زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہ یں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلکت میں ڈالے‬
‫گئے ان ککے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانکی اور دکھ دینے وال عذاب ہے اس لئے ککہ کفکر کرتے ت ھے (‪ )۷۰‬کہو۔ کیکا ہم خدا ککے‬
‫سکوا ایسکی چیکز ککو پکاریکں جکو نکہ ہمارا بھل کرسککے نکہ برا۔ اور جکب ہم کو خدا نکے سکیدھا رسکتہ دکھھا دیکا تو (کیکا) ہم الٹھے‬
‫پاؤں پھھر جائیکں؟ (پھھر ہماری ایسکی مثال ہو) جیسکے کسکی ککو جنات نکے جنگکل میکں بھل دیکا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو)‬
‫اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلئیں کہ ہمارے پاس چل آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے‬
‫بتایکا ہے۔ اور ہمیں تو یکہ حککم مل ہے ککہ ہم خدائے رب العالمیکن ککے فرمانکبردار ہوں (‪ )۷۱‬اور یہ (بھھی) کہ نماز پڑھتکے رہو‬
‫اور اس سکے ڈرتکے رہو۔ اور وہی تکو ہے جکس ککے پاس تکم جمکع کئے جاؤ گکے (‪ )۷۲‬اور وہی تکو ہے جکس نکے آسکمانوں اور‬
‫زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور‬
‫جکس دن صکور پھونککا جائے گکا (اس دن) اسکی ککی بادشاہت ہوگکی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سکب) ککا جاننکے وال ہے اور وہی‬
‫دانا اور خبردار ہے (‪ )۷۳‬اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لئق ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا‬
‫معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو (‪ )۷۴‬اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور‬
‫زمیکن ککے عجائبات دکھانکے لگکے تاککہ وہ خوب یقیکن کرنکے والوں میکں ہوجائیکں (‪( )۷۵‬یعنکی) جکب رات نکے ان ککو (پردہٴ‬
‫تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہ نے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہ نے‬
‫لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں (‪ )۷۶‬پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار‬
‫ہے۔ لیکن جب وہ ب ھی چ ھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مج ھے سیدھا رستہ نہ یں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں‬
‫ہوجاؤں گکا جکو بھٹھک رہے ہیکں (‪ )۷۷‬پھھر جکب سکورج ککو دیکھھا ککہ جگمگکا رہا ہے تکو کہنکے لگکے میرا پروردگار یکہ ہے یکہ‬
‫سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے‬
‫بیزار ہوں (‪ )۷۸‬میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا‬
‫کیکا ہے اور میکں مشرکوں میکں سکے نہیکں ہوں (‪ )۷۹‬اور ان ککی قوم ان سکے بحکث کرنکے لگکی تکو انہوں نکے کہا ککہ تکم مجکھ سکے‬
‫خدا کے بارےمیں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے۔ اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے‬
‫ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم‬
‫خیال نہ یں کرتے۔ (‪ )۸۰‬بھل میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہ یں‬
‫ڈرتکے ککہ خدا ککے سکاتھ شریکک بناتکے ہو جکس ککی اس نکے کوئی سکند نازل نہیکں ککی۔ اب دونوں فریکق میکں سکے کون سکا فریکق‬
‫امکن (اور جمعیکت خاطکر) ککا مسکتحق ہے۔ اگکر سکمجھ رکھتکے ہو (تکو بتاؤ) (‪ )۸۱‬جکو لوگ ایمان لئے اور اپنکے ایمان ککو‬
‫(شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے امن (اور جمعیت خاطر) ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں (‪ )۸۲‬اور یہ ہماری‬
‫دلیکل تھھی جکو ہم نکے ابراہیکم ککو ان ککی قوم ککے مقابلے میکں عطکا ککی تھھی۔ ہم جکس ککے چاہتکے ہیکں درجکے بلنکد کردیتکے ہیکں۔‬
‫بےشکک تمہارا پروردگار دانکا اور خکبردار ہے (‪ )۸۳‬اور ہم نکے ان ککو اسکحاق اور یعقوب بخشکے۔ (اور) سکب ککو ہدایکت دی۔‬
‫اور پہلے نوح کککو بھھی ہدایککت دی تھھی اور ان کککی اولد میکں سکے داؤد اور سککلیمان اور ایوب اور یوسککف اور موسککیٰ اور‬
‫ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدل دیا کرتے ہیں (‪ )۸۴‬اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔‬
‫یہ سب نیکوکار ت ھے (‪ )۸۵‬اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو ب ھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت‬
‫بخشی ت ھی (‪ )۸۶‬اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولد اور بھائیوں میں سے ب ھی۔ اور ان کو برگزیدہ ب ھی کیا ت ھا‬
‫اور سیدھا رستہ ب ھی دکھایا ت ھا (‪ )۸۷‬یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلئے۔ اور اگر وہ لوگ‬
‫شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے (‪ )۸۸‬یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور‬
‫نبوت عطکا فرمائی تھھی۔ اگکر یکہ (کفار) ان باتوں سکے انکار کریکں تکو ہم نکے ان پکر (ایمان لنکے ککے لئے) ایسکے لوگ مقرر‬
‫کردیئے ہیکں ککہ وہ ان سکے کبھھی انکار کرنکے والے نہیکں (‪ )۸۹‬یکہ وہ لوگ ہیکں جکن ککو خدا نکے ہدایکت دی تھھی تکو تکم انہیکں ککی‬

‫‪Page 48 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہ یں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت‬
‫ہے (‪ )۹۰‬اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور‬
‫کتاب وغیرہ) کچھ ب ھی نازل نہیکں کیا۔ کہو جو کتاب موسکیٰ لے کر آئے تھھے اسکے ککس نکے نازل کیا ت ھا جو لوگوں کے لئے‬
‫نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو‬
‫اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب‬
‫کو) خدا ہی نے (نازل کیا ت ھا) پ ھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتکے رہ یں ( ‪ )۹۱‬اور (ویسکی ہی) یہ کتاب‬
‫ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے)‬
‫ککہ تکم مککے اور اس ککے آس پاس ککے لوگوں ککو آگاہ کردو۔ اور جکو لوگ آخرت پکر ایمان رکھتکے ہیکں وہ اس کتاب پکر بھھی‬
‫ایمان رکھتکے ہیکں اور وہ اپنکی نمازوں ککی پوری خکبر رکھتکے ہیکں (‪ )۹۲‬اور اس سکے بڑھ ککر ظالم کون ہوگکا جکو خدا پکر‬
‫جھوٹ افتراء کرے۔ یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالنکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح‬
‫ککی کتاب خدا نکے نازل ککی ہے اس طرح ککی میکں بھھی بنکا لیتکا ہوں۔ اور کاش تکم ان ظالم (یعنکی مشرک) لوگوں ککو اس وقکت‬
‫دیک ھو جب موت کی سختیوں میں (مبتل) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی‬
‫جانیں۔ آج تکم کو ذلت ککے عذاب ککی سکزا دی جائے گی اس لئے ککہ تکم خدا پر جھوٹ بول کرتکے ت ھے اور اس کی آیتوں سکے‬
‫سرکشی کرتے ت ھے (‪ )۹۳‬اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا ت ھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال‬
‫ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں‬
‫دیکھ تے جن کی نسبت تم خیال کرتے ت ھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہ یں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات‬
‫منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے (‪ )۹۴‬بے شک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے‬
‫درخکت وغیرہ) اگاتکا ہے وہی جاندار ککو بکے جان سکے نکالتکا ہے اور وہی بےجان ککا جاندار سکے نکالنکے وال ہے۔ یہی تکو خدا‬
‫ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو (‪ )۹۵‬وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو‬
‫(موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب‬
‫(اور) علم وال ہے (‪ )۹۶‬اور وہی تکو ہے جکس نکے تمہارے لئے سکتارے بنائے تاککہ جنگلوں اور دریاؤں ککے اندھیروں میکں ان‬
‫سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہ یں (‪ )۹۷‬اور وہی تو ہے جس نے‬
‫تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے‬
‫لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں (‪ )۹۸‬اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو‬
‫مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں‬
‫میکں سکے ایکک دوسکرے ککے سکاتھ جڑے ہوئے دانکے نکالتکے ہیکں اور کھجور ککے گابھھے میکں سکے لٹکتکے ہوئے گچھھے اور‬
‫انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ب ھی ہ یں۔ اور نہ یں ب ھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی‬
‫ہیکں تکو ان ککے پھلوں پکر اور (جکب پکتکی ہیکں تکو) ان ککے پکنکے پکر نظکر کرو۔ ان میکں ان لوگوں ککے لئے جکو ایمان لتکے ہیکں‬
‫(قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں (‪ )۹۹‬اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالنکہ ان کو اسی نے پیدا‬
‫کیکا اور بےسکمجھے (جھوٹ بہتان) اس ککے لئے بیٹھے اور بیٹیاں بنکا کھڑی کیکں وہ ان باتوں سکے جکو اس ککی نسکبت بیان‬
‫کرتکے ہیکں پاک ہے اور (اس ککی شان ان سکے) بلنکد ہے (‪( )۱۰۰‬وہی) آسکمانوں اور زمیکن ککا پیدا کرنکے وال (ہے)۔ اس ککے‬
‫اولد کہاں سکے ہو جکب ککہ اس ککی بیوی ہی نہیکں۔ اور اس نکے ہر چیکز ککو پیدا کیکا ہے۔ اور وہ ہر چیکز سکے باخکبر ہے (‪)۱۰۱‬‬
‫یہی (اوصاف رکھنے وال) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیداکرنے وال (ہے) تو‬
‫اسکی ککی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیککز ککا نگراں ہے (‪( )۱۰۲‬وہ ایسکا ہے ککہ) نگاہیکں اس ککا ادراک نہیکں کرسکککتیں اور وہ‬
‫نگاہوں کککا ادراک کرسکککتا ہے اور وہ بھیککد جاننکے وال خککبردار ہے (‪( )۱۰۳‬اے محمدﷺ! ان سکے کہہ دو ککہ) تمہارے (پاس)‬
‫پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہ نچ چکی ہ یں تو جس نے (ان کو آنکھ کھول کر) دیک ھا اس نے اپنا بھل کیا اور‬
‫جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں (‪ )۱۰۴‬اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر‬
‫کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کے لئے‬
‫تشریککح کردیککں (‪ )۱۰۵‬اور جککو حکککم تمہارے پروردگار کککی طرف سککے تمہارے پاس آتککا ہے اسککی کککی پیروی کرو۔ اس‬
‫(پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہ یں۔ اور مشرکوں سے کنارہ کرلو (‪ )۱۰۶‬اور اگر خدا چاہ تا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔‬

‫‪Page 49 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا۔ اور نہ تم ان کے داروغہ ہو (‪ )۱۰۷‬اور جن لوگوں کو یہ مشرک‬
‫خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم‬
‫نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا‬
‫ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے ت ھے (‪ )۱۰۸‬اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہ یں کہ اگر ان کے‬
‫پاس کوئی نشانکی آئے تکو وہ اس پکر ضروری ایمان لے آئیکں۔ کہہ دو ککہ نشانیاں تکو سکب خدا ہی ککے پاس ہیکں۔ اور (مومنکو!)‬
‫تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس) نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لئیں ( ‪ )۱۰۹‬اور ہم ان کے‬
‫دلوں اور آنکھوں ککو الٹ دیکں گے (تو) جیسکے یہ اس (قرآن) پکر پہلی دفعکہ ایمان نہیکں لئے (ویسے پھھر نکہ لئیکں گے) اور ان‬
‫کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہ یں (‪ )۱۱۰‬اور اگر ہم ان پر فرشتے ب ھی اتار دیتے اور مردے ب ھی ان سے‬
‫گفتگکو کرنکے لگتکے اور ہم سکب چیزوں ککو ان ککے سکامنے ل موجود بھھی ککر دیتکے تکو بھھی یکہ ایمان لنکے والے نکہ تھھے اِلّ‬
‫ماشائال بات یکہ ہے ککہ یکہ اکثکر نادان ہیکں (‪ )۱۱۱‬اور اسکی طرح ہم نکے شیطان (سکیرت) انسکانوں اور جنوں ککو ہر پیغمکبر ککا‬
‫دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہ تے ت ھے اور اگر تمہارا پروردگار‬
‫چاہ تا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہ یں اسے چھوڑ دو (‪ )۱۱۲‬اور (وہ ایسے کام) اس لیے ب ھی‬
‫(کرتے ت ھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہ یں رکھ تے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہ یں پسند کریں اور جو‬
‫کام وہ کرتکے تھھے وہ ہی کرنکے لگیکں (‪( )۱۱۳‬کہو) کیکا میکں خدا ککے سکوا اور منصکف تلش کروں حالنککہ اس نکے تمہاری‬
‫طرف واضککع المطالب کتاب بھیجککی ہے اور جککن لوگوں کککو ہم نککے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتکککے ہیککں کککہ وہ تمہارے‬
‫پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا (‪ )۱۱۴‬اور تمہارے پروردگار کی‬
‫باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہ یں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے وال نہ یں اور وہ سنتا جانتا ہے (‪ )۱۱۵‬اور اکثر لوگ‬
‫جکو زمیکن پکر آباد ہیکں (گمراہ ہیکں) اگکر تکم ان ککا کہا مان لو گکے تکو وہ تمہیکں خدا ککا رسکتہ بھل دیکں گکے یکہ محکض خیال ککے‬
‫پیچھھے چلتکے اور نرے اٹککل ککے تیکر چلتکے ہیکں (‪ )۱۱۶‬تمہارا پروردگار ان لوگوں ککو خوب جانتکا ہے جکو اس ککے رسکتے‬
‫سے بھٹ کے ہوئے ہ یں اور ان سے ب ھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہ یں (‪ )۱۱۷‬تو جس چیز پر (ذبح کے وقت)‬
‫خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو (‪ )۱۱۸‬اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا‬
‫کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالنکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی‬
‫ہیکں (بکے شکک ان ککو نہیکں کھانکا چاہیکے) مگکر اس صکورت میکں ککہ ان ککے (کھانکے ککے) لیکے ناچار ہو جاؤ اور بہت سکے لوگ‬
‫بےسکمجھے بوجھھے اپنکے نفکس ککی خواہشوں سکے لوگوں ککو بہککا رہے ہیکں کچکھ شکک نہیکں ککہ ایسکے لوگوں ککو جکو (خدا ککی‬
‫مقرر ککی ہوئی) حکد سکے باہر نککل جاتکے ہیکں تمہارا پروردگار خوب جانتکا ہے (‪ )۱۱۹‬اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح ککا)‬
‫گناہ ترک ککر دو جکو لوگ گناہ کرتکے ہیکں وہ عنقریکب اپنکے کئے ککی سکزا پائیکں گکے (‪ )۱۲۰‬اور جکس چیکز پکر خدا ککا نام نکہ لیکا‬
‫جائے اسکے مکت کھاؤ ککہ اس ککا کھانکا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنکے رفیقوں ککے دلوں میکں یکہ بات ڈالتکے ہیکں ککہ تکم سکے‬
‫جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے ( ‪ )۱۲۱‬بھل جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے‬
‫اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو‬
‫سککتا ہے جکو اندھیرے میکں پڑا ہوا ہو اور اس سکے نککل ہی نکہ سککے اسکی طرح کافکر جکو عمکل ککر رہے ہیکں وہ انہیکں اچھھے‬
‫معلوم ہوتے ہیں (‪ )۱۲۲‬اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو‬
‫مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں (‪ )۱۲۳‬اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو‬
‫کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان‬
‫نہ یں لئیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو‬
‫لوگ جرم کرتے ہ یں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذا بِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے ت ھے ( ‪ )۱۲۴‬تو جس شخص‬
‫کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلم کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ‬
‫اور گھٹھا ہوا ککر دیتکا ہے گویکا وہ آسکمان پکر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پکر جو ایمان نہیکں لتکے عذاب بھیجتکا ہے (‬
‫‪ )۱۲۵‬اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہ یں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول‬
‫ککر بیان ککر دی ہیکں (‪ )۱۲۶‬ان ککے لیکے ان ککے اعمال ککے صکلے میکں پروردگار ککے ہاں سکلمتی ککا گھھر ہے اور وہی ان ککا‬
‫دوسکتدار ہے (‪ )۱۲۷‬اور جکس دن وہ سکب (جنّک وانکس) ککو جمکع کرے گکا (اور فرمائے گکا ککہ) اے گروہ جنّات تکم نکے انسکانوں‬

‫‪Page 50 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سکے بہت (فائدے) حاصکل کئے تکو جکو انسکانوں میکں ان ککے دوسکتدار ہوں گکے وہ کہیکں گکے ککہ پروردگار ہم ایکک دوسکرے سکے‬
‫فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہ نچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا ت ھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ‬
‫دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بے شک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے (‪ )۱۲۸‬اور اسی‬
‫طرح ہم ظالموں ککو ان ککے اعمال ککے سکبب جکو وہ کرتکے تھھے ایکک دوسکرے پکر مسکلط ککر دیتکے ہیکں ( ‪ )۱۲۹‬اے جنّوں اور‬
‫انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہ یں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس‬
‫دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی‬
‫زندگکی نکے دھوککے میکں ڈال رکھھا تھھا اور (اب) خود اپنکے اوپکر گواہی دی ککہ کفکر کرتکے تھھے (‪( )۱۳۰‬اے محمدﷺ!) یکہ (جکو‬
‫پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہ یں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہ یں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلک کر دے‬
‫اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو (‪ )۱۳۱‬اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں اور جو کام‬
‫یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بے خبر نہیں (‪ )۱۳۲‬اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے اگر چاہے (تو اے‬
‫بندوں) تمہیکں نابود ککر دے اور تمہارے بعکد جکن لوگوں ککو چاہے تمہارا جانشیکن بنکا دے جیسکا تکم ککو بھھی دوسکرے لوگوں ککی‬
‫نسکل سکے پیدا کیکا ہے (‪ )۱۳۳‬کچکھ شکک نہیکں ککہ جکو وعدہ تکم سکے کیکا جاتکا ہے وہ (وقوع میکں) آنکے وال ہے اور تکم (خدا ککو)‬
‫مغلوب نہیں کر سکتے (‪ )۱۳۴‬کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو‬
‫معلوم ہو جائے گکا ککہ آخرت میکں (بہشکت) ککس ککا گھھر ہوگکا کچکھ شکک نہیکں ککہ مشرک نجات نہیکں پانکے ککے ( ‪ )۱۳۵‬اور (یکہ‬
‫لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال‬
‫(باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے‬
‫وہ تکو خدا ککی طرف نہیکں جکا سککتا اور جکو حصکہ خدا ککا ہوتکا ہے وہ ان ککے شریکوں ککی طرف جکا سککتا ہے یکہ کیسکا برا‬
‫انصاف ہے (‪ )۱۳۶‬اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا‬
‫ہے تاکہ انہیں ہلکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہ تا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو‬
‫چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ (‪ )۱۳۷‬اور اپنے خیال سے یہ ب ھی کہ تے ہ یں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے‬
‫اس شخص کے سوا جسے ہم چاہ یں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہ یں کہ ان کی پیٹ پر چڑھ نا منع کر دیا گیا‬
‫ہے اور بعض مویشی ایسے ہ یں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہ یں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان‬
‫کے جھوٹ کا بدلہ دے گا (‪ )۱۳۸‬اور یہ ب ھی کہ تے ہ یں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے‬
‫لئے ہے اور ہماری عورتوں ککو (اس ککا کھانکا) حرام ہے اور اگکر وہ بچکہ مرا ہوا ہو تکو سکب اس میکں شریکک ہیکں (یعنکی اسکے‬
‫مرد اور عورتیکں سکب کھائیکں) عنقریکب خدا ان ککو ان ککے ڈھکوسکلوں ککی سکزا دے گکا بےشکک وہ حکمکت وال خکبردار ہے (‬
‫‪ )۱۳۹‬جن لوگوں نے اپنی اولد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی‬
‫ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں ( ‪ )۱۴۰‬اور خدا ہی تو ہے‬
‫جکس نکے باغ پیدا کئے چھتریوں پککر چڑھائے ہوئے بھھی اور جکو چھتریوں پککر نہیکں چڑھائے ہوئے وہ بھھی اور کھجور اور‬
‫کھیتی جن کے طرح طرح کے پ ھل ہوتے ہ یں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہ یں جب یہ‬
‫چیزیکں پھلیکں تکو ان ککے پھھل کھاؤ اور جکس دن (پھھل توڑو اور کھیتکی) کاٹھو تکو خدا ککا حکق بھھی اس میکں سکے ادا کرو اور‬
‫بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ( ‪ )۱۴۱‬اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے)‬
‫بھھی پیدا کئے اور زمیکن سکے لگکے ہوئے (یعنکی چھوٹھے چھوٹھے) بھھی (پکس) خدا ککا دیکا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان ککے‬
‫قدموں پکر نکہ چلو وہ تمہارا صکریح دشمکن ہے (‪( )۱۴۲‬یکہ بڑے چھوٹھے چارپائے) آٹھھ قسکم ککے (ہیکں) دو (دو) بھیڑوں میکں‬
‫سکے اور دو (دو) بکریوں میکں سکے (یعنکی ایکک ایکک نکر اور اور ایکک ایکک مادہ) (اے پیغمکبر ان سکے) پوچھھو ککہ (خدا نکے)‬
‫دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو‬
‫تو مج ھے سند سے بتاؤ (‪ )۱۴۳‬اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں ب ھی ان سے)‬
‫پوچ ھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا‬
‫ہو اس کو بھل جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ت ھا تم اس وقت موجود ت ھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے‬
‫جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں‬
‫دیتا (‪ )۱۴۴‬کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہ یں ان میں کوئی چیز جسے کھانے وال کھائے حرام نہ یں پاتا بجز اس کے‬

‫‪Page 51 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کہ وہ مرا ہوا جانور یکا بہتکا لہو یکا سکور ککا گوشت ککہ یکہ سکب ناپاک ہیکں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا ککے سکوا کسی‬
‫اور ککا نام لیککا گیککا ہو اور اگکر کوئی مجبور ہو جائے لیککن نکہ تککو نافرمانککی کرے اور نکہ حککد سکے باہر نکککل جائے تکو تمہارا‬
‫پروردگار بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۱۴۵‬اور یہودیوں پکر ہم نکے سکب ناخکن والے جانور حرام ککر دئیکے تھھے اور گایوں اور‬
‫بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو‬
‫یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم تو سچ کہنے والے ہیں ( ‪ )۱۴۶‬اور اگر یوں لوگ تمہاری تکذیب‬
‫کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے مگر اس کا عذاب گنہ گاروں لوگوں سے نہیں ٹلے گا ( ‪ )۱۴۷‬جو‬
‫لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی‬
‫چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ‬
‫ککر رہے کہہ دو کیکا تمہارے پاس کوئی سکند ہے (اگکر ہے) تکو اسکے ہمارے سکامنے نکالو تکم محکض خیال ککے پیچھھے چلتکے اور‬
‫اٹ کل کی تیر چلتے ہو (‪ )۱۴۸‬کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہ تا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا (‪ )۱۴۹‬کہو‬
‫کہ اپنے گواہوں کو لؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آ کر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ‬
‫دینکا اور نکہ ان لوگوں ککی خواہشوں ککی پیروی کرنکا جکو ہماری آیتوں ککو جھٹلتکے ہیکں اور آخرت پکر ایمان نہیکں لتکے اور‬
‫(بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہ یں (‪ )۱۵۰‬کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہ یں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے‬
‫پروردگار نکے تکم پکر حرام ککر دی ہیکں (ان ککی نسکبت اس نکے اس طرح ارشاد فرمایکا ہے) ککہ کسکی چیکز ککو خدا ککا شریکک نکہ‬
‫بنانکا اور ماں باپ (سکے بدسکلوکی نکہ کرنکا بلککہ) سکلوک کرتکے رہنکا اور ناداری (ککے اندیشکے) سکے اپنکی اولد ککو قتکل نکہ کرنکا‬
‫کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان‬
‫(والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں‬
‫کا وہ تمہ یں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو (‪ )۱۵۱‬اور یتیم کے مال کے پاس ب ھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی‬
‫پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہ نچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی کو تکلیف نہ یں‬
‫دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار‬
‫ہی ہو اور خدا ککے عہد ککو پورا کرو ان باتوں ککا خدا تمہیکں حککم دیتکا ہے تاککہ تکم نصکحیت کرو (‪ )۱۵۲‬اور یکہ ککہ میرا سکیدھا‬
‫رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں‬
‫کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو (‪( )۱۵۳‬ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسی کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان‬
‫لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان‬
‫کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں ( ‪ )۱۵۴‬اور (اے کفر کرنکے والوں) یہ کتاب ب ھی‬
‫ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے (‪( )۱۵۵‬اور اس لیے‬
‫اتاری ہے) ککہ (تکم یوں نکہ) کہو ککہ ہم سکے پہلے دو ہی گروہوں پکر کتابیکں اتری تھیکں اور ہم ان ککے پڑھنکے سکے (معذور اور)‬
‫بے خبر ت ھے (‪ )۱۵۶‬یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر ب ھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہ یں سیدھے رستے پر ہوتے‬
‫سکو تمہارے پاس تمہارے پروردگار ککی طرف سکے دلیکل اور ہدایکت اور رحمکت آ گئی ہے تکو اس سکے بڑھ ککر ظالم کون ہوگکا‬
‫جکو خدا ککی آیتوں ککی تکذیکب کرے اور ان سکے (لوگوں ککو) پھیرے جکو لوگ ہماری آیتوں سکے پھیرتکے ہیکں اس پھیرنکے ککے‬
‫سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے (‪ )۱۵۷‬یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا‬
‫خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیکں (مگر) جکس روز تمہارے پروردگار ککی کچکھ نشانیاں آ‬
‫جائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لیا ہوگا اس وقت اسے ایمان لنا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں‬
‫نیک عمل نہ یں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم ب ھی انتظار کرو ہم ب ھی‬
‫انتظار کرتے ہیں (‪ )۱۵۸‬جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ‬
‫کام نہ یں ان کا کام خدا کے حوالے پ ھر جو کچھ وہ کرتکے رہے ہیکں وہ ان کو (سکب) بتائے گکا (‪ )۱۵۹‬اور جو کوئی (خدا ککے‬
‫حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لئے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان‬
‫پکر ظلم نہیکں کیکا جائے گکا (‪ )۱۶۰‬کہہ دو ککہ مجھھے میرے پروردگار نکے سکیدھا رسکتہ دکھھا دیکا ہے (یعنکی دیکن صکحیح) مذہب‬
‫ابراہیکم ککا جکو ایکک (خدا) ہی ککی طرف ککے تھھے اور مشرکوں میکں سکے نکہ تھھے (‪( )۱۶۱‬یکہ بھھی) کہہ دو ککہ میری نماز اور‬
‫میری عبادت اور میرا جینکا اور میرا مرنکا سکب خدائے رب العالمیکن ہی ککے لیکے ہے (‪ )۱۶۲‬جکس ککا کوئی شریکک نہیکں اور‬

‫‪Page 52 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫مجکھ ککو اسکی بات ککا حککم مل ہے اور میکں سکب سکے اول فرمانکبردار ہوں ( ‪ )۱۶۳‬کہو کیکا میکں خدا ککے سکوا اور پروردگار‬
‫تلش کروں اور وہی تکو ہر چیکز ککا مالک ہے اور جکو کوئی (برا) کام کرتکا ہے تکو اس ککا ضرر اسکی ککو ہوتکا ہے اور کوئی‬
‫شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کا جانا ہے تو جن جن باتوں‬
‫میں تم اختلف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا ( ‪ )۱۶۴‬اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے‬
‫دوسکرے پکر درجکے بلنکد کئے تاککہ جکو کچکھ اس نکے تمہیکں بخشکا ہے اس میکں تمہاری آزمائش ہے بےشکک تمہارا پروردگار جلد‬
‫عذاب دینے وال ہے اور بےشک وہ بخشنے وال مہربان بھی ہے (‪)۱۶۵‬‬

‫‪Page 53 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬

‫سورة الٴعرَاف‬
‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫المکص (‪( )۱‬اے محمدﷺ) یکہ کتاب (جکو) تکم پکر نازل ہوئی ہے۔ اس سکے تمہیکں تنکگ دل نہیکں ہونکا چاہیئے‪( ،‬یکہ نازل) اس لیکے‬
‫(ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے ( ‪( )۲‬لوگو) جو (کتاب)‬
‫تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم‬
‫کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو (‪ )۳‬اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا‬
‫جبکہ وہ سوتے ت ھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے ت ھے (‪ )۴‬تو جس وقت ان پر عذاب آتا ت ھا ان کے‬
‫منہ سے یہی نکلتا ت ھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے (‪ )۵‬تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم‬
‫ان سے ب ھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے ب ھی پوچھ یں گے ( ‪ )۶‬پ ھر اپنے علم سے ان کے حالت بیان کریں گے اور‬
‫ہم کہیں غائب تو نہ یں تھے (‪ )۷‬اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے‬
‫وہ تو نجات پانکے والے ہیکں (‪ )۸‬اور جن کے وزن ہلککے ہوں گکے تو یہی لوگ ہیکں جنہوں نے اپنے تئیں خسکارے میکں ڈال اس‬
‫لیکے ککہ ہماری آیتوں ککے بارے میکں بےانصکافی کرتکے تھھے (‪ )۹‬اور ہم ہی نکے زمیکن میکں تمہارا ٹھکانکہ بنایکا اور اس میکں‬
‫تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو (‪ )۱۰‬اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا‬
‫پ ھر تمہاری صورت شکل بنائی پ ھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ‬
‫سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا (‪( )۱۱‬خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے‬
‫سے باز رک ھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مج ھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے م ٹی سے بنایا ہے ( ‪)۱۲‬‬
‫فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ذلیل ہے ( ‪ )۱۳‬اس نے کہا کہ مجھے اس‬
‫دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے ( ‪ )۱۴‬فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے (‪)۱۵‬‬
‫(پھھر) شیطان نکے کہا مجھھے تکو تُو نکے ملعون کیکا ہی ہے میکں بھھی تیرے سکیدھے رسکتے پکر ان (ککو گمراہ کرنکے) ککے لیکے‬
‫بیٹھوں گا (‪ )۱۶‬پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے دائیں سے اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا (اور ان کی‬
‫راہ ماروں گا) اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ یں پائے گا (‪( )۱۷‬خدا نے) فرمایا‪ ،‬نکل جا۔ یہاں سے پاجی۔ مردود جو‬
‫لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہ نم میں ڈال کر) تم سب سے جہ نم کو ب ھر دوں گا (‪)۱۸‬‬
‫اور ہم نے آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہ شت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر‬
‫اس درخت کے پاس نہ جاؤ ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے (‪ )۱۹‬تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان‬
‫سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم‬
‫فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو (‪ )۲۰‬اور ان سے قسم ک ھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں (‪ )۲۱‬غرض (مردود‬
‫نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پ ھل) کو ک ھا لیا تو ان کی ستر‬
‫کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہ شت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب‬
‫ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا‬
‫کہ شیطان تمہارا کھلم کھل دشمن ہے (‪ )۲۲‬دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو‬
‫ہمیں نہ یں بخشے گا اور ہم پر رحم نہ یں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے (‪( )۲۳‬خدا نے) فرمایا (تم سب بہ شت سے) اتر جاؤ‬
‫(اب سکے) تکم ایکک دوسکرے ککے دشمکن ہو اور تمہارے لیکے ایکک وقکت (خاص) تکک زمیکن پکر ٹھکانکہ اور (زندگکی ککا) سکامان‬
‫(کر دیا گیا) ہے (‪( )۲۴‬یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر‬
‫ککے) نکالے جاؤ گکے (‪ )۲۵‬اے نبکی آدم ہم نکے تکم پکر پوشاک اتاری ککہ تمہارا سکتر ڈھانککے اور (تمہارے بدن ککو) زینکت (دے)‬
‫اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں ( ‪ )۲۶‬اے نبی آدم‬

‫‪Page 54 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫(دیکھنکا کہیکں) شیطان تمہیکں بہککا نکہ دے جکس طرح تمہارے ماں باپ ککو (بہککا ککر) بہشکت سکے نکلوا دیکا اور ان سکے ان ککے‬
‫کپڑے اتروا دیئے تاککہ ان ککے سکتر ان ککو کھول ککر دکھھا دے۔ وہ اور اس ککے بھائی تکم ککو ایسکی جگکہ سکے دیکھتکے رہے ہیکں‬
‫جہاں سے تم ان کو نہ یں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہ یں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہ یں رکھ تے (‪ )۲۷‬اور‬
‫جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم‬
‫کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہ یں دیتا۔ بھل تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہ تے‬
‫ہو جس کا تمہ یں علم نہ یں (‪ )۲۸‬کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت‬
‫سکیدھا (قبلے ککی طرف) رخ کیکا کرو اور خاص اسکی ککی عبادت کرو اور اسکی ککو پکارو۔ اس نکے جکس طرح تکم ککو ابتداء‬
‫میکں پیدا کیکا تھھا اسکی طرح تکم پھھر پیدا ہوگکے (‪ )۲۹‬ایکک فریکق ککو تکو اس نکے ہدایکت دی اور ایکک فریکق پکر گمراہی ثابکت‬
‫ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں (‪ )۳۰‬اے نبی آدم!‬
‫ہر نماز ککے وقکت اپنکے تئیکں مزّیکن کیکا کرو اور کھاؤ اور پیکؤ اور بےجکا نکہ اڑاؤ ککہ خدا بےجکا اڑانکے والوں ککو دوسکت نہیکں‬
‫رکھ تا (‪ )۳۱‬پوچ ھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہ یں‬
‫ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی‬
‫ککا حصکہ ہوں گکی۔ اسکی طرح خدا اپنکی آیتیکں سکمجھنے والوں ککے لیکے کھول کھول ککر بیان فرماتکا ہے (‪ )۳۲‬کہہ دو ککہ میرے‬
‫پروردگار نکے تکو بےحیائی ککی باتوں ککو ظاہر ہوں یکا پوشیدہ اور گناہ ککو اور ناحکق زیادتکی کرنکے ککو حرام کیکا ہے۔ اور اس‬
‫کو ب ھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہ یں کی اور اس کو ب ھی کہ خدا کے بارے میں‬
‫ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں (‪ )۳۳‬اور ہر ایک فرقے کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آ جاتا ہے‬
‫تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرسکتے ہیں نہ جلدی (‪ )۳۴‬اے نبی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے‬
‫پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لیا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان ل کر‬
‫خدا سکے) ڈرتکا رہے گکا اور اپنکی حالت درسکت رکھھے گکا تکو ایسکے لوگوں ککو نکہ کچکھ خوف ہوگکا اور نکہ وہ غمناک ہوں گکے (‬
‫‪ )۳۵‬اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلیا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے (‬
‫‪ )۳۶‬تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باند ھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلئے۔ ان کو ان کے نصیب کا لک ھا‬
‫ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا‬
‫کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے‬
‫ککہ بےشکک وہ کافکر تھھے (‪ )۳۷‬تکو خدا فرمائے گکا ککہ جنّوں اور انسکانوں ککی جکو جماعتیکں تکم سکے پہلے ہو گزری ہیکں ان ککے‬
‫ساتھ تم ب ھی داخل جہ نم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہ بی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری‬
‫جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ‬
‫اے پروردگار! ان ہی لوگوں نکے ہم ککو گمراہ کیکا تھھا تکو ان ککو آتکش جہنکم ککا دگنکا عذاب دے۔ خدا فرمائے گکا ککہ (تکم) سکب ککو‬
‫دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہ یں جانتے (‪ )۳۸‬اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ ب ھی‬
‫فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے ت ھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چک ھو (‪ )۳۹‬جن لوگوں نے ہماری آیتوں‬
‫ککو جھٹلیکا اور ان سکے سکرتابی ککی۔ ان ککے لیکے نکہ آسکمان ککے دروازے کھولے جائیکں گکے اور نکہ وہ بہشکت میکں داخکل ہوں‬
‫گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہ یں (‪ )۴۰‬ایسے‬
‫لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا‬
‫دیکا کرتکے ہیکں (‪ )۴۱‬اور جکو لوگ ایمان لئے اور عمکل نیکک کرتکے رہے اور ہم (عملوں ککے لیکے) کسکی شخکص ککو اس ککی‬
‫طاقکت سکے زیادہ تکلیکف نہیکں دیتکے۔ ایسکے ہی لوگ اہل بہشکت ہیکں (ککہ) اس میکں ہمیشکہ رہیکں گکے ( ‪ )۴۲‬اور جکو کینکے ان ککے‬
‫دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہ یں گے کہ خدا کا شکر ہے‬
‫جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگکر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بے شک ہمارا پروردگار کے‬
‫رسکول حکق بات لے ککر آئے تھھے اور (اس روز) منادی ککر دی جائے گکی ککہ تکم ان اعمال ککے صکلے میکں جکو دنیکا میکں کرتکے‬
‫تھھھے اس بہشککت ک کے وارث بنککا دیئے گئے ہو (‪ )۴۳‬اور اہل بہشککت دوزخیوں س کے پکار کککر کہی کں گ کے ک کہ جککو وعدہ ہمارے‬
‫پروردگار نکے ہم سکے کیکا تھھا ہم نکے تکو اسکے سکچا پالیکا۔ بھل جکو وعدہ تمہارے پروردگار نکے تکم سکے کیکا تھھا تکم نکے بھھی اسکے‬
‫سچا پایا؟ وہ کہ یں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے وال پکارے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت ( ‪ )۴۴‬جو خدا‬

‫‪Page 55 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ککی راہ سکے روکتکے اور اس میکں کجکی ڈھونڈتکے اور آخرت سکے انکار کرتکے تھھے (‪ )۴۵‬ان دونوں (یعنکی بہشکت اور دوزخ)‬
‫کے درمیان (اعراف نام) ایک دیوار ہو گی اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں‬
‫گکے۔ تکو وہ اہل بہشکت ککو پکار ککر کہیکں گکے ککہ تکم پکر سکلمتی ہو۔ یکہ لوگ بھھی بہشکت میکں داخکل تکو نہیکں ہوں گکے مگکر امیکد‬
‫رکھتکے ہوں گکے (‪ )۴۶‬اور جکب ان ککی نگاہیکں پلٹ ککر اہل دوزخ ککی طرف جائیکں گکی تکو عرض کریکں گکے ککہ اے ہمارے‬
‫پروردگار ہم ککو ظالم لوگوں ککے سکاتھ شامکل نکہ کیجیکو (‪ )۴۷‬اور اہل اعراف (کافکر) لوگوں ککو جنہیکں ان ککی صکورتوں سکے‬
‫شناخکت کرتکے ہوں گے پکاریکں گکے اور کہیکں گے (ککہ آج) نہ تو تمہاری جماعکت ہی تمہارے کچکھ کام آئی اور نکہ تمہارا تکبّر‬
‫(ہی سکودمند ہوا) (‪( )۴۸‬پھھر مومنوں ککی طرف اشارہ ککر ککے کہیکں گکے) کیکا یکہ وہی لوگ ہیکں جکن ککے بارے میکں تکم قسکمیں‬
‫کھایا کرتے ت ھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہ یں کرے گا (تو مومنو) تم بہ شت میں داخل ہو جاؤ تمہ یں کچھ‬
‫خوف نہیکں اور نکہ تکم ککو کچکھ رنکج واندوہ ہوگکا (‪ )۴۹‬اور وہ دوزخکی بہشتیوں سکے (گڑگڑا ککر) کہیکں گکے ککہ کسکی قدر ہم پکر‬
‫پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہ یں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں ب ھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہ شت کا‬
‫پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے (‪ )۵۰‬جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے‬
‫ان کو دھوکے میں ڈال رک ھا ت ھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے‬
‫تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھل دیں گے (‪ )۵۱‬اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ‬
‫کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے (‪ )۵۲‬کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب‬
‫کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھ یں گے کہ بےشک‬
‫ہمارے پروردگار ککے رسکول حکق لے ککر آئے تھھے۔ بھل (آج) ہمارا کوئی سکفارشی ہیکں ککہ ہماری سکفارش کریکں یکا ہم (دنیکا‬
‫میکں) پھھر لوٹھا دیئے جائیکں ککہ جکو عمکل (بکد) ہم (پہلے) کرتکے تھھے (وہ نکہ کریکں بلککہ) ان ککے سکوا اور (نیکک) عمکل کریکں۔‬
‫بےشکک ان لوگوں نکے اپنکا نقصکان کیکا اور جکو کچکھ یکہ افتراء کیکا کرتکے تھھے ان سکے سکب جاتکا رہا (‪ )۵۳‬کچکھ شکک نہیکں ککہ‬
‫تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جکس نے آسمانوں اور زمین کو چکھ دن میں پیدا کیا پ ھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن‬
‫کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چل آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم‬
‫ککے مطابکق کام میکں لگکے ہوئے ہیکں۔ دیکھھو سکب مخلوق بھھی اسکی ککی ہے اور حککم بھھی (اسکی ککا ہے)۔ یکہ خدا رب العالمیکن‬
‫بڑی برکت وال ہے (‪( )۵۴‬لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھ نے‬
‫والوں ککو دوسکت نہیکں رکھتکا (‪ )۵۵‬اور ملک میکں اصکلح ککے بعکد خرابکی نکہ کرنکا اور خدا سکے خوف کرتکے ہوئے اور امیکد‬
‫رکھ کر دعائیں مانگتے رہ نا۔ کچھ شک نہ یں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے ( ‪ )۵۶‬اور وہی تو ہے جو‬
‫اپنکی رحمکت (یعنکی مینکھ) سکے پہلے ہواؤں ککو خوشخکبری (بنکا ککر) بھیجتکا ہے۔ یہاں تکک ککہ جکب وہ بھاری بھاری بادلوں ککو‬
‫اٹھا لتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے‬
‫ہر طرح کے پ ھل پیدا کرتے ہ یں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان‬
‫کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو (‪ )۵۷‬جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی)‬
‫نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر‬
‫کر بیان کرتے ہیں (‪ )۵۸‬ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا‬
‫کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے (‪)۵۹‬‬
‫تو جو ان کی قوم میں سردار ت ھے وہ کہ نے لگے کہ ہم تمہ یں صریح گمراہی میں (مبتل) دیکھ تے ہ یں (‪ )۶۰‬انہوں نے کہا اے‬
‫قوم مجکھ میکں کسکی طرح ککی گمراہی نہیکں ہے بلککہ میکں پروردگار عالم ککا پیغمکبر ہوں (‪ )۶۱‬تمہیکں اپنکے پروردگار ککے پیغام‬
‫پہنچاتکا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتکا ہوں اور مجکھ کو خدا کی طرف سکے ایسکی باتیں معلوم ہیکں جن سکے تکم بے خبر ہو (‬
‫‪ )۶۲‬کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس‬
‫نصکیحت آئی تاککہ وہ تکم ککو ڈرائے اور تاککہ تکم پرہیزگار بنکو اور تاککہ تکم پکر رحکم کیکا جائے ( ‪ )۶۳‬مگکر ان لوگوں نکے ان ککی‬
‫تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو‬
‫جھٹلیکا تھھا انہیکں غرق ککر دیکا۔ کچکھ شکک نہیکں ککہ وہ اندھھے لوگ تھھے (‪ )۶۴‬اور (اسکی طرح) قوم عاد ککی طرف ان ککے‬
‫بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟‬
‫(‪ )۶۵‬تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں (‬

‫‪Page 56 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫‪ )۶۶‬انہوں نکے کہا ککہ بھائیکو مجکھ میکں حماقکت ککی کوئی بات نہیکں ہے بلککہ میکں رب العالمیکن ککا پیغمکبر ہوں (‪ )۶۷‬میکں تمہیکں‬
‫خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار خیرخواہ ہوں (‪ )۶۸‬کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک‬
‫شخکص ککے ہاتکھ تمہارے پروردگار ککی طرف سکے تمہارے پاس نصکیحت آئی تاککہ وہ تمہیکں ڈرائے اور یاد کرو تکو کرو جکب‬
‫اس نے تم کو قوم نوح کے بعد سردار بنایا۔ اور تم کو پھیلؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تاکہ نجات حاصل‬
‫کرو (‪ )۶۹‬وہ کہ نے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں۔ اور جن کو ہمارے باپ دادا‬
‫پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ ( ‪ )۷۰‬ہود نے کہا تمہارے‬
‫پروردگار ککی طرف سکے تکم پکر عذاب اور غضکب ککا (نازل ہونکا) مقرر ہو چککا ہے۔ کیکا تکم مجکھ سکے ایسکے ناموں ککے بارے‬
‫میکں جھگڑتکے ہو جکو تکم نکے اور تمہارے باپ دادا نکے (اپنکی طرف سکے) رککھ لئے ہیکں۔ جکن ککی خدا نکے کوئی سکند نازل نہیکں‬
‫کی۔ تو تم ب ھی انتظار کرو میں ب ھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں (‪ )۷۱‬پ ھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ت ھے‬
‫ان کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلیا ت ھا ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لنے والے ت ھے ہی نہ یں (‬
‫‪ )۷۲‬اور قوم ثمود ککی طرف ان ککے بھائی صکالح ککو بھیجکا۔ (تکو) صکالح نکے کہا ککہ اے قوم! خدا ہی ککی عبادت کرو اس ککے‬
‫سککوا تمہارا کوئی معبود نہیکں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کککی طرف سکے ایککک معجزہ آ چکککا ہے۔ (یعنککی) یہی خدا کککی‬
‫اونٹ نی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ‬
‫بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا ( ‪ )۷۳‬اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور‬
‫زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس‬
‫خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو (‪ )۷۴‬تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھ تے ت ھے‬
‫غریکب لوگوں سکے جکو ان میکں سکے ایمان لے آئے تھھے کہنکے لگکے بھل تکم یقیکن کرتکے ہو ککہ صکالح اپنکے پروردگار ککی طرف‬
‫بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلشبہ ایمان رکھتے ہیں (‪ )۷۵‬تو (سرداران)‬
‫مغرور کہ نے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لئے ہو ہم تو اس کو نہ یں مانتکے (‪ )۷۶‬آخر انہوں نے اون ٹی (کی کونچوں) کو‬
‫کاٹ ڈال اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہ نے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے ت ھے اگر تم‬
‫(خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ (‪ )۷۷‬تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوند ھے پڑے رہ گئے (‬
‫‪ )۷۸‬پھھر صکالح ان سکے (ناامیکد ہو ککر) پھرے اور کہا ککہ میری قوم! میکں نکے تکم ککو خدا ککا پیغام پہنچکا دیکا اور تمہاری خیکر‬
‫خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے (‪ )۷۹‬اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا‬
‫ککر بھیجکا تکو) اس وقکت انہوں نکے اپنکی قوم سکے کہا ککہ تکم ایسکی بےحیائی ککا کام کیوں کرتکے ہو ککہ تکم سکے اہل عالم میکں سکے‬
‫کسکی نکے اس طرح ککا کام نہیکں کیکا (‪ )۸۰‬یعنکی خواہش نفسکانی پورا کرنکے ککے لیکے عورتوں ککو چھوڑ ککر لونڈوں پکر گرتکے‬
‫ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو (‪ )۸۱‬تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ‬
‫ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں (‪ )۸۲‬تو ہم نے ان‬
‫کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی (‪ )۸۳‬اور ہم نے ان پر‬
‫(پتھروں ککا) مینکھ برسکایا۔ سکو دیککھ لو ککہ گنہگاروں ککا کیسکا انجام ہوا (‪ )۸۴‬اور مَدیکن ککی طرف ان ککے بھائی شعیکب ککو‬
‫بھیجککا۔ (تککو) انہوں نککے کہا کککہ قوم! خدا ہی کککی عبادت کرو اس کککے سککوا تمہارا کوئی معبود نہیککں۔ تمہارے پاس تمہارے‬
‫پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں‬
‫اصلح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہ تر ہے ( ‪ )۸۵‬اور ہر رستے‬
‫پکر مکت بیٹھھا کرو ککہ جکو شخکص خدا پکر ایمان نہیکں لتکا ہے اسکے تکم ڈراتکے اور راہ خدا سکے روکتکے اور اس میکں کجکی‬
‫ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی‬
‫کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا (‪ )۸۶‬اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت‬
‫ایمان نہ یں لئی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہ یں لئی۔ تو صکبر کیکے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر‬
‫دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے وال ہے (‪( )۸۷‬تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے‪ ،‬وہ کہنے لگے‬
‫کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لئے ہیں‪ ،‬ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب‬
‫میکں آجاؤ۔ انہوں نکے کہا خواہ ہم (تمہارے دیکن سکے) بیزار ہی ہوں (تکو بھھی؟) (‪ )۸۸‬اگکر ہم اس ککے بعکد ککہ خدا ہمیکں اس سکے‬
‫نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باند ھا۔ اور ہمیں شایاں نہ یں کہ ہم‬

‫‪Page 57 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہ یں)۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ‬
‫کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو‬
‫سب سے بہتر فیصلہ کرنے وال ہے (‪ )۸۹‬اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے‪ ،‬کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے‬
‫شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑگئے (‪ )۹۰‬تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوند ھے‬
‫پڑے رہ گئے (‪( )۹۱‬یکہ لوگ) جنہوں نکے شعیکب ککی تکذیکب ککی تھھی ایسکے برباد ہوئے تھھے ککہ گویکا وہ ان میکں کبھھی آباد ہی‬
‫نہ یں ہوئے ت ھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلیا وہ خسارے میں پڑگئے (‪ )۹۲‬تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا‬
‫کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہ یں اور تمہاری خیرخواہی کی ت ھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب‬
‫نازل ہونکے سکے) رنکج وغکم کیوں کروں (‪ )۹۳‬اور ہم نکے کسکی شہر میکں کوئی پیغمکبر نہیکں بھیجکا مگکر وہاں ککے رہنکے والوں‬
‫ککو (جکو ایمان نکہ لئے) دکھوں اور مصکیبتوں میکں مبتل کیکا تاککہ وہ عاجزی اور زاری کریکں (‪ )۹۴‬پھھر ہم نکے تکلیکف ککو‬
‫آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولد میں) زیادہ ہوگئے تو کہ نے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو‬
‫بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے (‪ )۹۵‬اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے‬
‫آتکے اور پرہیزگار ہوجاتکے۔ تکو ہم ان پکر آسکمان اور زمیکن ککی برکات (ککے دروازے) کھول دیتکے مگکر انہوں نکے تکو تکذیکب‬
‫ککی۔ سکو ان ککے اعمال ککی سکزا میکں ہم نکے ان ککو پککڑ لیکا (‪ )۹۶‬کیکا بسکتیوں ککے رہنکے والے اس سکے بےخوف ہیکں ککہ ان پکر‬
‫ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں (‪ )۹۷‬اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن‬
‫چڑھھے آ نازل ہو اور وہ کھیکل رہے ہوں (‪ )۹۸‬کیکا یکہ لوگ خدا ککے داؤ ککا ڈر نہیکں رکھتکے (سکن لو ککہ) خدا ککے داؤ سکے وہی‬
‫لوگ نڈر ہوتے ہ یں جو خسارہ پانے والے ہ یں (‪ )۹۹‬کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک‬
‫ہوتے ہیں‪ ،‬یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں‬
‫پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں (‪ )۱۰۰‬یہ بستیاں ہ یں جن کے کچھ حالت ہم تم کو سناتے ہ یں۔ اور ان کے پاس ان‬
‫کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹل چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا‬
‫کافروں ککے دلوں پکر مہر لگکا دیتکا ہے (‪ )۱۰۱‬اور ہم نکے ان میکں سکے اکثروں میکں (عہد ککا نباہ) نہیکں دیکھھا۔ اور ان میکں‬
‫اکثروں کو (دیک ھا تو) بدکار ہی دیک ھا (‪ )۱۰۲‬پ ھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس‬
‫کے اعیا نِ سلطنت کے پاس بھیجکا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا (‬
‫‪ )۱۰۳‬اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں (‪ )۱۰۴‬مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو‬
‫کچکھ کہوں سکچ ہی کہوں۔ میکں تمہارے پاس تمہارے پروردگار ککی طرف سکے نشانکی لے ککر آیکا ہوں۔ سکو بنکی اسکرائیل ککو‬
‫میرے ساتھ جانے کی رخصت دے دیجیے (‪ )۱۰۵‬فرعون نے کہا اگر تم نشانی لے کر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لؤ (دکھاؤ)‬
‫(‪ )۱۰۶‬موسیٰ نے اپنی لٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اژد ھا (ہوگیا) (‪ )۱۰۷‬اور اپنا ہاتھ باہر نکال تو‬
‫اسکی دم دیکھنکے والوں ککی نگاہوں میکں سکفید براق (تھھا) (‪ )۱۰۸‬تو قوم فرعون میکں جکو سکردار تھھے وہ کہنکے لگکے ککہ یکہ بڑا‬
‫علمہ جادوگر ہے (‪ )۱۰۹‬اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھل تمہاری کیا صلح ہے؟ (‪ )۱۱۰‬انہوں‬
‫نکے (فرعون سکے) کہا ککہ فکی الحال موسکیٰ اور اس ککے بھائی ککے معاملے ککو معاف رکھیکے اور شہروں میکں نقیکب روانکہ ککر‬
‫دیجیکے (‪ )۱۱۱‬ککہ تمام ماہر جادوگروں ککو آپ ککے پاس لے آئیکں (‪( )۱۱۲‬چنانچکہ ایسکا ہی کیکا گیکا) اور جادوگکر فرعون ککے‬
‫پاس آپہنچے اور کہ نے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے (‪( )۱۱۳‬فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس‬
‫ککے علوہ) تکم مقربوں میکں داخکل کرلیکے جاؤ گکے (‪( )۱۱۴‬جکب فریقیکن روزِ مقررہ پکر جمکع ہوئے تکو) جادوگروں نکے کہا ککہ‬
‫موسکیٰ یکا تکو تکم (جادو ککی چیکز) ڈالو یکا ہم ڈالتکے ہیکں (‪( )۱۱۵‬موسکیٰ نکے) کہا تکم ہی ڈالو۔ جکب انہوں نکے (جادو ککی چیزیکں)‬
‫ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا‬
‫دیکا اور بہت بڑا جادو دکھایکا (‪( )۱۱۶‬اس وقکت) ہم نکے موسکیٰ ککی طرف وحکی بھیجکی ککہ تکم بھھی اپنکی لٹھھی ڈال دو۔ وہ‬
‫فوراً (سکانپ بکن ککر) جادوگروں ککے بنائے ہوئے سکانپوں ککو (ایکک ایکک کرککے) نگکل جائے گکی ( ‪( )۱۱۷‬پھھر) تکو حکق ثابکت‬
‫ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتکے تھھے‪ ،‬باطکل ہوگیا (‪ )۱۱۸‬اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیکل ہوکر رہ گئے (‪( )۱۱۹‬یکہ کیفیت‬
‫دیکھ کر) جادوگر سجدے میں گر پڑے (‪ )۱۲۰‬اور کہ نے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لئے (‪ )۱۲۱‬یعنی موسیٰ‬
‫اور ہارون ککے پروردگار پکر (‪ )۱۲۲‬فرعون نکے کہا ککہ پیشتکر اس ککے ککہ میکں تمہیکں اجازت دوں تکم اس پکر ایمان لے آئے؟‬
‫بےشک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہلِ شہر کو یہاں سے نکال دو۔ سو عنقریب (اس کا نتیجہ) معلوم‬

‫‪Page 58 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کرلو گے (‪ )۱۲۳‬میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی‬
‫چڑھوا دوں گا (‪ )۱۲۴‬وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہ یں (‪ )۱۲۵‬اور اس کے سوا تجھ کو‬
‫ہماری کون سککی بات بری لگکی ہے ککہ جکب ہمارے پروردگار ککی نشانیاں ہمارے پاس آگئیکں تکو ہم ان پکر ایمان لے آئے۔ اے‬
‫پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو (‪ )۱۲۶‬اور قومِ فرعون میں جو‬
‫سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ‬
‫کے معبودوں سکے دسکت ککش ہوجائیں۔ وہ بولے ککہ ہم ان ککے لڑکوں کو قتکل کرڈالیں گکے اور لڑکیوں کو زندہ رہنکے دیکں گے‬
‫اور بےشکک ہم ان پکر غالب ہیکں (‪ )۱۲۷‬موسکیٰ نکے اپنکی قوم سکے کہا ککہ خدا سکے مدد مانگکو اور ثابکت قدم رہو۔ زمیکن تو خدا‬
‫کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھل تو ڈرنے والوں کا ہے (‪ )۱۲۸‬وہ بولے کہ‬
‫تمہارے آنے سے پہلے ب ھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہ یں اور آنے کے بعد ب ھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار‬
‫تمہارے دشمن کو ہلک کردے اور اس کی جگہ تمہ یں زمین میں خلیفہ بنائے پ ھر دیک ھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ( ‪)۱۲۹‬‬
‫اور ہم نکے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصکان میں پکڑا تاککہ نصکیحت حاصل کریں ( ‪ )۱۳۰‬تو جب ان کو آسکائش‬
‫حاصل ہوتی تو کہ تے کہ ہم اس کے مستحق ہ یں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔‬
‫دیک ھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہ یں جانتے (‪ )۱۳۱‬اور کہ نے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ)‬
‫کوئی ہی نشانی لؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لنے والے نہیں ہیں ( ‪ )۱۳۲‬تو ہم نے ان پر طوفان اور‬
‫ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ ت ھے ہی‬
‫گنہگار (‪ )۱۳۳‬اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہ تے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم‬
‫سکے عہد ککر رکھھا ہے۔ اگکر تکم ہم سکے عذاب ککو ٹال دو گکے تکو ہم تکم پکر ایمان بھھی لے آئیکں گکے اور بنکی اسکرائیل ککو بھھی‬
‫تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے (‪ )۱۳۴‬پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور‬
‫کردیتکے تکو وہ عہد ککو توڑ ڈالتکے (‪ )۱۳۵‬تکو ہم نکے ان سکے بدلہ لے ککر ہی چھوڑا ککہ ان ککو دریکا میکں ڈبکو دیکا اس لیکے ککہ وہ‬
‫ہماری آیتوں کو جھٹلتے اور ان سے بےپروائی کرتے ت ھے (‪ )۱۳۶‬اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے ت ھے ان کو زمین‬
‫(شام) ککے مشرق ومغرب ککا جکس میکں ہم نکے برککت دی تھھی وارث کردیکا اور بنکی اسکرائیل ککے بارے میکں ان ککے صکبر ککی‬
‫وجکہ سکے تمہارے پروردگار ککا وعدہٴ نیکک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جکو (محکل) بناتکے اور (انگور ککے باغ) جکو‬
‫چھتریوں پر چڑھاتے ت ھے سب کو ہم نے تباہ کردیا (‪ )۱۳۷‬اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں‬
‫ککے پاس جکا پہنچکے جکو اپنکے بتوں (ککی عبادت) ککے لیکے بیٹھھے رہتکے تھھے۔ (بنکی اسکرائیل) کہنکے لگکے ککہ موسکیٰ جیسکے ان‬
‫لوگوں ککے معبود ہیکں۔ ہمارے لیکے بھھی ایکک معبود بنکا دو۔ موسکیٰ نکے کہا ککہ تکم بڑے ہی جاہل لوگ ہو (‪ )۱۳۸‬یکہ لوگ جکس‬
‫(شغکل) میکں (پھنسکے ہوئے) ہیکں وہ برباد ہونکے وال ہے اور جکو کام یکہ کرتکے ہیکں سکب بیہودہ ہیکں (‪( )۱۳۹‬اور یکہ بھھی) کہا ککہ‬
‫بھل میکں خدا ککے سکوا تمہارے لیکے کوئی اور معبود تلش کروں حالنککہ اس نکے تکم ککو تمام اہل عالم پکر فضیلت بخشکی ہے (‬
‫‪( )۱۴۰‬اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ‬
‫دیتے ت ھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے ت ھے اور بیٹیوں کو زندہ رہ نے دیتے ت ھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی‬
‫طرف سککککے سککککخت آزمائش تھھھھھی (‪ )۱۴۱‬اور ہم نککککے موسککککیٰ سککککے تیککککس رات کککککی میعاد مقرر کککککی۔ اور اس دس‬
‫(راتیکککں) اور مل ککککر اسکککے پورا (چلّہ) کردیکککا تکککو اس ککککے پروردگار ککککی چالیکککس رات ککککی میعاد پوری ہوگئی۔ اور‬
‫جانکککہٰے ککککے) بعکککد تکککم میری قوم میکککں‬ ‫موسکککی نککک اپنککک ب ائی ارون سککک ک ا کککک میر (کو ِ طور پکککر‬
‫ٰےےھہےہہے‬
‫میرے جانشین ہو (ان کی) اصلح کرتے رہ نا ٹھ یک اور شریروں کے رستے نہ چلنا (‪ )۱۴۲‬اور جب موسیٰ ہمارے مقرر‬
‫کیکے ہوئے وقکت پکر (کوہ طور) پکر پہنچکے اور ان ککے پروردگار نکے ان سکے کلم کیکا تکو کہنکے لگکے ککہ اے پروردگار مجھھے‬
‫(جلوہ) دکھھا ککہ میکں تیرا دیدار (بھھی) دیکھوں۔ پروردگار نکے کہا ککہ تکم مجھھے ہرگکز نکہ دیککھ سککو گکے۔ ہاں پہاڑ ککی طرف‬
‫دیکھ تے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مج ھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ‬
‫ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہ نے لگے کہ تیری ذات پاک‬
‫ہے اور میکں تیرے حضور توبکہ کرتکا ہوں اور جکو ایمان لنکے والے ہیکں ان میکں سکب سکے اول ہوں (‪( )۱۴۳‬خدا نکے) فرمایکا‬
‫موسکیٰ میکں نکے تکم ککو اپنکے پیغام اور اپنکے کلم سکے لوگوں سکے ممتاز کیکا ہے۔ تکو جکو میکں نکے تکم ککو عطکا کیکا ہے اسکے پککڑ‬
‫رک ھو اور (میرا) شکر بجالؤ (‪ )۱۴۴‬اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی‬

‫‪Page 59 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫تفصیل لکھ دی پھھر (ارشاد فرمایا کہ) اسکے زور سکے پکڑے رہو اور اپنکی قوم سے ب ھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں‬
‫(مندرج ہیکں اور) بہت بہتکر ہیکں پکڑے رہیکں۔ میکں عنقریکب تکم ککو نافرمان لوگوں ککا گھھر دکھاؤں گکا (‪ )۱۴۵‬جکو لوگ زمیکن‬
‫میکں ناحکق غرور کرتکے ہیکں ان ککو اپنکی آیتوں سکے پھیکر دوں گکا۔ اگکر یکہ سکب نشانیاں بھھی دیککھ لیکں تکب بھھی ان پکر ایمان نکہ‬
‫لئیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ‬
‫اس لیکے ککہ انہوں نکے ہماری آیات ککو جھٹلیکا اور ان سکے غفلت کرتکے رہے (‪ )۱۴۶‬اور جکن لوگوں نکے ہماری آیتوں اور‬
‫آخرت کے آنے کو جھٹلیا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہ یں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا ( ‪)۱۴۷‬‬
‫اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (ت ھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی‬
‫تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود)‬
‫بنالیکا اور (اپنکے حکق میکں) ظلم کیکا (‪ )۱۴۸‬اور جکب وہ نادم ہوئے اور دیکھھا ککہ گمراہ ہوگئے ہیکں تکو کہنکے لگکے ککہ اگکر ہمارا‬
‫پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے ( ‪ )۱۴۹‬اور جب موسیٰ اپنی قوم‬
‫میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہ نے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے‬
‫اپنکے پروردگار ککا حککم (یعنکی میرا اپنکے پاس آنکا) جلد چاہا (یکہ کہا) اور (شدت غضکب سکے تورات ککی) تختیاں ڈال دیکں اور‬
‫اپنکے بھائی ککے سکر (ککے بالوں) ککو پککڑ ککر اپنکی طرف کھینچنکے لگکے۔ انہوں نکے کہا ککہ بھائی جان لوگ تکو مجھھے کمزور‬
‫سمجھتے ت ھے اور قریب ت ھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مج ھے ظالم لوگوں میں مت‬
‫ملیئے (‪ )۱۵۰‬تکب انہوں نکے دعکا ککی ککہ اے میرے پروردگار مجھھے اور میرے بھائی ککو معاف فرمکا اور ہمیکں اپنکی رحمکت‬
‫میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے وال ہے (‪( )۱۵۱‬خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‬
‫تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ‬
‫دیا کرتے ہ یں (‪ )۱۵۲‬اور جنہوں نے برے کام کیے پ ھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہ یں کہ تمہارا‬
‫پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۱۵۳‬اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی‬
‫تختیاں اٹھالیکں اور جکو کچکھ ان میکں لکھھا تھھا وہ ان لوگوں ککے لیکے جکو اپنکے پروردگار سکے ڈرتکے ہیکں۔ ہدایکت اور رحمکت‬
‫تھھی (‪ )۱۵۴‬اور موسکیٰ نکے اس میعاد پکر جکو ہم نکے مقرر ککی تھھی اپنکی قوم ککے سکتر آدمکی منتخکب (کرککے کوہ طور پکر‬
‫حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے‬
‫ہلک ککر دیتکا۔ کیکا تکو اس فعکل ککی سکزا میکں جکو ہم میکں سکے بےعقکل لوگوں نکے کیکا ہے ہمیکں ہلک کردے گکا۔ یکہ تکو تیری‬
‫آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے‬
‫گناہ) بخکش دے اور ہم پکر رحکم فرمکا اور تکو سکب سکے بہتکر بخشنکے وال ہے (‪ )۱۵۵‬اور ہمارے لیکے اس دنیکا میکں بھھی بھلئی‬
‫لککھ دے اور آخرت میکں بھھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچککے۔ فرمایکا ککہ جکو میرا عذاب ہے اسکے تکو جکس پکر چاہتکا ہوں نازل‬
‫کرتکا ہوں اور جکو میری رحمکت ہے وہ ہر چیکز ککو شامکل ہے۔ میکں اس ککو ان لوگوں ککے لیکے لککھ دوں گکا جکو پرہیزگاری‬
‫کرتکے اور زکوٰة دیتکے اور ہماری آیتوں پکر ایمان رکھتکے ہیکں (‪ )۱۵۶‬وہ جکو (محمدﷺ) رسکول (ال) ککی جکو نبکی اُمکی ہیکں‬
‫پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے‬
‫ہیکں اور برے کام سکے روکتکے ہیکں۔ اور پاک چیزوں کککو ان ککے لیکے حلل کرتکے ہیکں اور ناپاک چیزوں کککو ان پککر حرام‬
‫ٹہراتے ہ یں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) ت ھے اتارتے ہ یں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان‬
‫لئے اور ان ککی رفاقکت ککی اور انہیکں مدد دی۔ اور جکو نور ان ککے سکاتھ نازل ہوا ہے اس ککی پیروی ککی۔ وہی مراد پانکے‬
‫والے ہیکں (‪( )۱۵۷‬اے محمدﷺ) کہہ دو ککہ لوگکو میکں تکم سکب ککی طرف خدا ککا بھیجکا ہوا (یعنکی اس ککا رسکول) ہوں۔ (وہ) جکو‬
‫آسکمانوں اور زمیکن ککا بادشاہ ہے۔ اس ککے سکوا کوئی معبود نہیکں وہی زندگانکی بخشتکا ہے اور وہی موت دیتکا ہے۔ تکو خدا پکر‬
‫اور اس کے رسول پیغمبر اُمکی پکر جو خدا پر اور اس کے تمام کلم پکر ایمان رکھ تے ہ یں ایمان لؤ اور ان کی پیروی کرو‬
‫تاکہ ہدایت پاؤ (‪ )۱۵۸‬اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے‬
‫ہ یں (‪ )۱۵۹‬اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب‬
‫موسکیٰ سکے ان ککی قوم نکے پانکی طلب کیکا تو ہم نکے ان ککی طرف وحکی بھیجکی ککہ اپنکی لٹھھی پتھھر پکر مار دو۔ تو اس میکں‬
‫سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان‬
‫بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان‬

‫‪Page 60 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ یں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا (‪ )۱۶۰‬اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر‬
‫میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہ نا اور دروازے‬
‫میکں داخکل ہونکا تکو سکجدہ کرنکا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیکں گکے۔ اور نیککی کرنکے والوں ککو اور زیادہ دیکں گکے ( ‪ )۱۶۱‬مگکر‬
‫جو ان میں ظالم ت ھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا ت ھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہ نا شروع کیا تو ہم‬
‫نکے ان پکر آسکمان سکے عذاب بھیجکا اس لیکے ککہ ظلم کرتکے تھھے (‪ )۱۶۲‬اور ان سکے اس گاؤں ککا حال تکو پوچ ھو جکب لب دریکا‬
‫واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں‬
‫ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے‬
‫سبب آزمائش میں ڈالنے لگے (‪ )۱۶۳‬اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے‬
‫ہو جن کو ال ہلک کرنے وال یا سخت عذاب دینے وال ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت‬
‫کرسککیں اور عجکب نہیکں ککہ وہ پرہیزگاری اختیار کریکں (‪ )۱۶۴‬جکب انہوں نکے ان باتوں ککو فراموش کردیکا جکن ککی ان ککو‬
‫نصکیحت ککی گئی تھھی تکو جکو لوگ برائی سکے منکع کرتکے تھھے ان ککو ہم نکے نجات دی اور جکو ظلم کرتکے تھھے ان ککو برے‬
‫عذاب میکں پککڑ لیکا ککہ نافرمانکی کئے جاتکے تھھے (‪ )۱۶۵‬غرض جکن اعمال (بکد) سکے ان ککو منکع کیکا گیکا تھھا جکب وہ ان‬
‫(پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ (‪( )۱۶۶‬اور اس وقت‬
‫کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو‬
‫انہیکں بری بری تکلیفیکں دیتکا رہے۔ بےشکک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنکے وال ہے اور وہ بخشنکے وال مہربان بھھی ہے (‬
‫‪ )۱۶۷‬اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح‬
‫ککے (یعنککی بدکار) اور ہم آسککائشوں‪ ،‬تکلیفوں (دونوں) سکے ان کککی آزمائش کرتکے رہے تاککہ (ہماری طرف) رجوع کریکں (‬
‫‪ )۱۶۸‬پھھر ان ککے بعکد ناخلف ان ککے قائم مقام ہوئے جکو کتاب ککے وارث بنکے۔ یکہ (بےتامکل) اس دنیائے دنکی ککا مال ومتاع لے‬
‫لیتے ہ یں اور کہ تے ہ یں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہ یں) اگر ان کے سامنے ب ھی ویسا ہی‬
‫مال آجاتا ہے تو وہ ب ھی اسے لے لیتے ہ یں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہ یں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہ یں‬
‫کہ یں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ ب ھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گ ھر پرہیزگاروں کے لیے بہ تر‬
‫ہے کیکا تکم سکمجھتے نہیکں (‪ )۱۶۹‬اور جکو لوگ کتاب ککو مضبوط پکڑے ہوئے ہیکں اور نماز ککا التزام رکھتکے ہیکں (ان ککو ہم‬
‫اجر دیں گے کہ) ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے (‪ )۱۷۰‬اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا‬
‫وہ سکائبان تھھا اور انہوں نکے خیال کیکا ککہ وہ ان پکر گرتکا ہے تکو (ہم نکے کہا ککہ) جکو ہم نکے تمہیکں دیکا ہے اسکے زور سکے پکڑے‬
‫رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ (‪ )۱۷۱‬اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی‬
‫پیٹھوں س کے ان کککی اولد نکالی تککو ان س کے خود ان ک کے مقابلے می کں اقرار کرا لیککا (یعنککی ان س کے پوچھ ھا ک کہ) کیککا تمہارا‬
‫پروردگار نہیکں ہوں۔ وہ کہنکے لگکے کیوں نہیکں ہم گواہ ہیکں (ککہ تکو ہمارا پروردگار ہے)۔ یکہ اقرار اس لیکے کرایکا تھھا ککہ قیامکت‬
‫کے دن (کہ یں یوں نہ) کہ نے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ ت ھی (‪ )۱۷۲‬یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے‬
‫کیا ت ھا۔ اور ہم تو ان کی اولد ت ھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے)۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں‬
‫ہلک کرتا ہے (‪ )۱۷۳‬اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہ یں تاکہ یہ رجوع کریں (‪ )۱۷۴‬اور ان کو‬
‫اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہ فت پارچہٴ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس‬
‫نکے ان ککو اتار دیکا پھھر شیطان اس ککے پیچھھے لگکا تکو وہ گمراہوں میکں ہوگیکا ( ‪ )۱۷۵‬اور اگکر ہم چاہتکے تکو ان آیتوں سکے اس‬
‫(کے درجے) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچ ھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال‬
‫کتکے کککی سککی ہوگئی ککہ اگککر سککختی کرو تککو زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تککو بھھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان‬
‫لوگوں ککی ہے جنہوں نکے ہماری آیتوں کو جھٹلیکا تکو ان سکے یکہ قصکہ بیان کردو۔ تاککہ وہ فککر کریکں (‪ )۱۷۶‬جکن لوگوں نکے‬
‫ہماری آیتوں ککی تکذیکب ککی ان ککی مثال بری ہے اور انہوں نکے نقصکان (کیکا تکو) اپنکا ہی کیکا ( ‪ )۱۷۷‬جکس ککو خدا ہدایکت دے‬
‫وہی راہ یاب ہے اور جکس ککو گمراہ کرے تکو ایسکے ہی لوگ نقصکان اٹھانکے والے ہیکں (‪ )۱۷۸‬اور ہم نکے بہت سکے جکن اور‬
‫انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہ یں۔ ان کے دل ہ یں لیکن ان سے سمجھتے نہ یں اور ان کی آنکھ یں ہ یں مگر ان سے دیکھ تے‬
‫نہ یں اور ان کے کان ہ یں پر ان سے سنتے نہ یں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہ یں بلکہ ان سے ب ھی بھٹ کے ہوئے۔ یہی‬
‫وہ ہ یں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہ یں (‪ )۱۷۹‬اور خدا کے سب نام اچ ھے ہی اچ ھے ہ یں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا‬

‫‪Page 61 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا‬
‫پائیں گے (‪ )۱۸۰‬اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے‬
‫ہیں (‪ )۱۸۱‬اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلیا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا‬
‫(‪ )۱۸۲‬اور میکں ان ککو مہلت دیئے جاتکا ہوں میری تدبیکر (بڑی) مضبوط ہے (‪ )۱۸۳‬کیکا انہوں نکے غور نہیکں کیکا ککہ ان ککے‬
‫رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا ب ھی) جنون نہ یں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہ یں (‪ )۱۸۴‬کیا انہوں نے آسمان‬
‫اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں‬
‫ان (ککی موت) ککا وقت نزدیک پہنکچ گیکا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لئیں گکے (‪ )۱۸۵‬جس شخکص کو خدا‬
‫گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے وال نہ یں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھ تا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے‬
‫رہیں (‪( )۱۸۶‬یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم‬
‫تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردے گا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور‬
‫ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا‬
‫ہی ککو ہے لیککن اکثر لوگ یکہ نہیکں جانتکے (‪ )۱۸۷‬کہہ دو کہ میں اپنکے فائدے اور نقصان ککا کچکھ بھھی اختیار نہیکں رکھتکا مگکر‬
‫جو ال چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں‬
‫تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے وال ہوں (‪ )۱۸۸‬وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس‬
‫سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتکا ہے‬
‫اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پ ھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی‬
‫اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے‬
‫(‪ )۱۸۹‬جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہ یں۔‬
‫جکو وہ شرک کرتکے ہیکں (خدا ککا رتبکہ) اس سکے بلنکد ہے (‪ )۱۹۰‬کیکا وہ ایسکوں ککو شریکک بناتکے ہیکں جکو کچکھ بھھی پیدا نہیکں‬
‫کرسککتے اور خود پیدا کیکے جاتکے ہیکں (‪ )۱۹۱‬اور نکہ ان ککی مدد ککی طاقکت رکھتکے ہیکں اور نکہ اپنکی ہی مدد کرسککتے ہیکں (‬
‫‪ )۱۹۲‬اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلؤ یا چپکے ہو‬
‫رہو (‪( )۱۹۳‬مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے‬
‫ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب ب ھی دیں (‪ )۱۹۴‬بھل ان کے پاؤں ہ یں جن سے چلیں یا ہاتھ ہ یں جن سے پکڑ یں یا آنکھ یں‬
‫ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بللو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو)‬
‫کرلو اور مجھے کچھ مہلت ب ھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں) ( ‪ )۱۹۵‬میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے‬
‫کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے (‪ )۱۹۶‬اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی‬
‫مدد کی طاقت رکھ تے ہ یں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہ یں (‪ )۱۹۷‬اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلؤ تو‬
‫سن نہ سکیں اور تم انہ یں دیکھتکے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھ یں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہ یں مگر (فی الواقع) کچھ نہ یں‬
‫دیکھتکے (‪( )۱۹۸‬اے محمدﷺ) عفکو اختیار کرو اور نیکک کام کرنکے ککا حککم دو اور جاہلوں سکے کنارہ کرلو (‪ )۱۹۹‬اور اگکر‬
‫شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بے شک وہ سننے وال (اور) سب‬
‫کچکھ جاننکے وال ہے (‪ )۲۰۰‬جکو لوگ پرہیزگار ہیکں جکب ان ککو شیطان ککی طرف سکے کوئی وسکوسہ پیدا ہوتکا ہے تکو چونکک‬
‫پڑتکے ہیکں اور (دل ککی آنکھیکں کھول ککر) دیکھنکے لگتکے ہیکں (‪ )۲۰۱‬اور ان (کفار) ککے بھائی انہیکں گمراہی میکں کھینچکے‬
‫جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے (‪ )۲۰۲‬اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں‬
‫لتکے تکو کہتکے ہیکں ککہ تکم نکے (اپنکی طرف سکے) کیوں نہیکں بنالی۔ کہہ دو ککہ میکں تکو اسکی ککی پیروی کرتکا ہوں جکو میرے‬
‫پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے‬
‫ہدایت اور رحمت ہے (‪ )۲۰۳‬اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‬
‫(‪ )۲۰۴‬اور اپنکے پروردگار کککو دل ہی دل میکں عاجزی اور خوف سکے اور پسککت آواز سکے صککبح وشام یاد کرتکے رہو اور‬
‫(دیکھنا) غافل نہ ہونا (‪ )۲۰۵‬جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس‬
‫پاک ذات کو یاد کرتے اور اس کے آگے سجدے کرتے رہتے ہیں (‪)۲۰۶‬‬

‫‪Page 62 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬

‫سورة الٴنفَال‬
‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہ یں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور‬
‫اس ککے رسکول ککا مال ہے۔ تکو خدا سکے ڈرو اور آپکس میکں صکلح رکھھو اور اگکر ایمان رکھتکے ہو تکو خدا اور اس ککے رسکول‬
‫کے حکم پر چلو (‪ )۱‬مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں‬
‫پڑھ ککر سکنائی جاتکی ہیکں تکو ان ککا ایمان اور بڑھ جاتکا ہے۔ اور وہ اپنکے پروردگار پکر بھروسکہ رکھتکے ہیکں ( ‪( )۲‬اور) وہ جکو‬
‫نماز پڑھ تے ہ یں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہ یں (‪ )۳‬یہی سچے مومن ہ یں‬
‫اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے (‪( )۴‬ان لوگوں کو اپنے گھروں‬
‫سے اسی طرح نکلنا چاہیئے ت ھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گ ھر سے نکال اور (اس وقت)‬
‫مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی (‪ )۵‬وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی‬
‫طرف دھکیلے جات کے ہی کں اور اس کے دیک کھ رہے ہی کں (‪ )۶‬اور (اس وقککت کککو یاد کرو) جککب خدا تککم س کے وعدہ کرتککا تھ ھا ک کہ‬
‫(ابوسکفیان اور ابوجہل ککے) دو گروہوں میکں سکے ایکک گروہ تمہارا (مسکخر) ہوجائے گکا۔ اور تکم چاہتکے تھھے ککہ جکو قافلہ بکے‬
‫(شان و) شوککت (یعنکی بکے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتکھ آجائے اور خدا چاہتکا تھھا ککہ اپنکے فرمان سکے حکق ککو قائم رکھھے اور‬
‫کافروں ککی جکڑ کاٹ ککر (پھینکک) دے (‪ )۷‬تاککہ سکچ ککو سکچ اور جھوٹ ککو جھوٹ کردے۔ گکو مشرک ناخوش ہی ہوں (‪)۸‬‬
‫جکب تکم اپنکے پروردگار سکے فریاد کرتکے تھھے تکو اس نکے تمہاری دعکا قبول کرلی (اور فرمایکا) ککہ (تسکلی رکھھو) ہم ہزار‬
‫فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچ ھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے ( ‪ )۹‬اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت‬
‫بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو ال ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت وال ہے (‬
‫‪ )۱۰‬جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا‬
‫تاکہ تم کو اس سے (نہل کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے ب ھی کہ تمہارے دلوں کو‬
‫مضبوط کردے اور اس سکے تمہارے پاؤں جمائے رکھھے (‪ )۱۱‬جکب تمہارا پروردگار فرشتوں ککو ارشاد فرماتکا تھھا ککہ میکں‬
‫تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں‬
‫تکو ان ککے سکر مار (ککر) اڑا دو اور ان ککا پور پور مار (ککر توڑ) دو (‪ )۱۲‬یکہ (سکزا) اس لیکے دی گئی ککہ انہوں نکے خدا اور‬
‫اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا ب ھی سخت عذاب دینے‬
‫وال ہے (‪ )۱۳‬یکہ (مزہ تو یہاں) چک ھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں ککے لیکے (آخرت میں) دوزخ ککا عذاب (بھھی تیار) ہے (‬
‫‪ )۱۴‬اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سکے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پی ٹھ نہ پھیرنا (‪ )۱۵‬اور جو شخص جنگ کے‬
‫روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا‬
‫ملنا چاہے۔ ان سے پی ٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور‬
‫وہ بہت ہی بری جگکہ ہے (‪ )۱۶‬تکم لوگوں نکے ان (کفار) ککو قتکل نہیکں کیکا بلککہ خدا نکے انہیکں قتکل کیکا۔ اور (اے محمد ﷺ) جکس‬
‫وقکت تکم نکے کنکریاں پھینککی تھیکں تکو وہ تکم نکے نہیکں پھینککی تھیکں بلککہ ال نکے پھینککی تھیکں۔ اس سکے یکہ غرض تھھی ککہ‬
‫مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچ ھی طرح آزمالے۔ بے شک خدا سنتا جانتا ہے (‪( )۱۷‬بات) یہ (ہے) کچھ شک نہ یں کہ خدا‬
‫کافروں ککی تدبیکر ککو کمزور ککر دینکے وال ہے (‪( )۱۸‬کافرو) اگکر تکم (محمکد صکلی ال علیکہ وآلہ وسکلم پکر) فتکح چاہتکے ہو تکو‬
‫تمہارے پاس فتکح آچککی۔ (دیکھھو) اگکر تکم (اپنکے افعال سکے) باز آجاؤ تکو تمہارے حکق میکں بہتکر ہے۔ اور اگکر پھھر (نافرمانکی)‬
‫کرو گے تو ہم ب ھی پ ھر تمہ یں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ ب ھی کام نہ آئے گی۔‬
‫اور خدا تکو مومنوں ککے سکاتھ ہے (‪ )۱۹‬اے ایمان والو! خدا اور اس ککے رسکول ککے حککم پکر چلو اور اس سکے روگردانکی نکہ‬
‫کرو اور تکم سکنتے ہو (‪ )۲۰‬اور ان لوگوں جیسکے نکہ ہونکا جکو کہتکے ہیکں ککہ ہم نکے حککم (خدا) سکن لیکا مگکر (حقیقکت میکں) نہیکں‬

‫‪Page 63 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سنتے (‪ )۲۱‬کچھ شک نہ یں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہ یں جو کچھ نہ یں سمجھتے ( ‪ )۲۲‬اور‬
‫اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو‬
‫وہ منہ پھ یر کر بھاگ جاتے (‪ )۲۳‬مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہ یں ایسے کام کے‬
‫لیے بلتکے ہ یں جو تم کو زندگکی (جاوداں) بخشتکا ہے۔ اور جان رک ھو کہ خدا آدمکی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا‬
‫ہے اور یکہ بھھی ککہ تکم سکب اس ککے روبرو جمکع کیکے جاؤ گکے (‪ )۲۴‬اور اس فتنکے سکے ڈرو جکو خصکوصیت ککے سکاتھ انہیکں‬
‫لوگوں پر واقکع نکہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہ یں۔ اور جان رکھھو کہ خدا سخت عذاب دینے وال ہے ( ‪ )۲۵‬اور اس وقکت کو یاد‬
‫کرو جکب تکم زمیکن (مککہ) میکں قلیکل اور ضعیکف سکمجھے جاتکے تھھے اور ڈرتکے رہتکے تھھے ککہ لوگ تمہیکں اُڑا (نکہ) لے جائیکں‬
‫(یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو‬
‫دیکں تاککہ (اس ککا) شککر کرو (‪ )۲۶‬اے ایمان والو! نکہ تکو خدا اور رسکول ککی امانکت میکں خیانکت کرو اور نکہ اپنکی امانتوں میکں‬
‫خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو (‪ )۲۷‬اور جان رک ھو کہ تمہارا مال اور اولد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے‬
‫پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے (‪ )۲۸‬مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو‬
‫ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہ یں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل وال ہے (‪ )۲۹‬اور (اے محمدﷺ اس‬
‫وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے ت ھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن‬
‫سے) نکال دیں تو (اد ھر تو) وہ چال چل رہے ت ھے اور (اُد ھر) خدا چال چل رہا ت ھا۔ اور خدا سب سے بہ تر چال چلنے وال‬
‫ہے (‪ )۳۰‬اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہ یں تو کہ تے ہ یں (یہ کلم) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہ یں تو اسی‬
‫طرح کا (کلم) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں (‪ )۳۱‬اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا‬
‫اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے وال عذاب بھیج ( ‪ )۳۲‬اور‬
‫خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے (‬
‫‪ )۳۳‬اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہ یں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھ نے) سے روکتے‬
‫ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے (‪ )۳۴‬اور‬
‫ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے‬
‫بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو (‪ )۳۵‬جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو‬
‫ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر‬
‫لوگ دوزخ ککی طرف ہانککے جائیکں گکے (‪ )۳۶‬تاککہ خدا ناپاک ککو پاک سکے الگ ککر دے اور ناپاک کو ایکک دوسکرے پکر رککھ‬
‫کر ایک ڈھیر بنا دے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں (‪( )۳۷‬اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ‬
‫اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہ یں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پ ھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے‬
‫تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا) (‪ )۳۸‬اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں‬
‫تکک ککہ فتنکہ (یعنکی کفکر ککا فسکاد) باقکی نکہ رہے اور دیکن سکب خدا ہی ککا ہوجائے اور اگکر باز آجائیکں تکو خدا ان ککے کاموں ککو‬
‫دیککھ رہا ہے (‪ )۳۹‬اور اگککر روگردانککی کریکں تکو جان رکھھو ککہ خدا تمہارا حمایتکی ہے۔ (اور) وہ خوب حمایتککی اور خوب‬
‫مددگار ہے (‪ )۴۰‬اور جان رکھھو ککہ جکو چیکز تکم (کفار سکے) لوٹ ککر لؤ اس میکں سکے پانچواں حصکہ خدا ککا اور اس ککے‬
‫رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان‬
‫رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے‬
‫بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیکز پر قادر ہے (‪ )۴۱‬جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پکر ت ھے اور‬
‫کافکر بعید کے ناککے پکر اور قافلہ تم سے نیچکے (اتر گیا) تھھا۔ اور اگکر تکم (جنگ ککے لیکے) آپس میکں قرارداد کرلیتکے تو وقکت‬
‫معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور ت ھا کہ جو کام ہو کر رہ نے وال ت ھا اسے کر ہی ڈالے‬
‫تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ ب ھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔‬
‫اور کچھ شک نہ یں کہ خدا سنتا جانتا ہے (‪ )۴۲‬اس وقت خدا نے تمہ یں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور‬
‫اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش ت ھا اس) میں جھگڑ نے لگتے لیکن خدا نے (تمہ یں‬
‫اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے (‪ )۴۳‬اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو‬
‫کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا ت ھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا ت ھا تاکہ خدا کو‬

‫‪Page 64 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫جکو کام منظور کرنکا تھھا اسکے ککر ڈالے۔ اور سکب کاموں ککا رجوع خدا ککی طرف ہے (‪ )۴۴‬مومنکو! جکب (کفار ککی) کسکی‬
‫جماعککت س کے تمہارا مقابلہ ہو تککو ثابککت قدم رہو اور خدا کککو بہت یاد کرو تاک کہ مراد حاصککل کرو (‪ )۴۵‬اور خدا اور اس ککے‬
‫رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا‬
‫اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے (‪ )۴۶‬اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق‬
‫ککا مقابلہ کرنکے ککے لیکے) اور لوگوں ککو دکھانکے ککے لیکے گھروں سکے نککل آئے اور لوگوں ککو خدا ککی راہ سکے روکتکے ہیکں۔‬
‫اور جو اعمال یہ کرتکے ہیکں خدا ان پر احاطکہ کئے ہوئے ہے (‪ )۴۷‬اور جب شیطانوں نے ان ککے اعمال ان کو آراسکتہ ککر کے‬
‫دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک‬
‫دوسرے ککے مقابکل صکف آراء ہوئیکں تو پسپا ہو ککر چکل دیا اور کہنکے لگکا کہ مجھھے تکم سکے کوئی واسکطہ نہ یں۔ میں تکو ایسی‬
‫چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے وال ہے (‪ )۴۸‬اس‬
‫وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض ت ھا کہ تے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رک ھا ہے اور جو‬
‫شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت وال ہے (‪ )۴۹‬اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے‬
‫کافروں ککی جانیکں نکالتکے ہیکں ان ککے مونہوں اور پیٹھوں پکر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتکے (ہیکں اور کہتکے ہیکں) ککہ‬
‫(اب) عذاب آتکش (ککا مزہ) چکھھو (‪ )۵۰‬یکہ ان (اعمال) ککی سکزا ہے جکو تمہارے ہاتھوں نکے آگکے بھیجکے ہیکں۔ اور یکہ (جان‬
‫رک ھو) کہ خدا بندوں پر ظلم نہ یں کرتا (‪ )۵۱‬جیسا حال فرعوینوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا ت ھا ویسا ہی ان کا ہوا کہ)‬
‫انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نےان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بے شک خدا زبردست اور سخت‬
‫عذاب دینے وال ہے (‪ )۵۲‬یہ اس لیے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل‬
‫ڈالیں خدا اسے نہ یں بدل کرتا۔ اور اس لیے کہ خدا سنتا جانتا ہے (‪ )۵۳‬جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا‬
‫تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو جھٹلیا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلک کر ڈال‬
‫اور فرعونیوں کو ڈبکو دیا۔ اور وہ سکب ظالم ت ھے (‪ )۵۴‬جانداروں میں سب سے بدتکر خدا کے نزدیکک وہ لوگ ہ یں جکو کافکر‬
‫ہ یں سو وہ ایمان نہ یں لتے (‪ )۵۵‬جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پ ھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہ یں اور‬
‫(خدا سکے) نہیکں ڈرتکے (‪ )۵۶‬اگکر تکم ان ککو لڑائی میکں پاؤ تکو انہیکں ایسکی سکزا دو ککہ جکو لوگ ان ککے پکس پشکت ہیکں وہ ان ککو‬
‫دیکھ کر بھاگ جائیں عجب نہیں کہ ان کو (اس سے) عبرت ہو (‪ )۵۷‬اور اگر تم کو کسی قوم سے دغا بازی کا خوف ہو تو‬
‫(ان کا عہد) انہ یں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو) کچھ شک نہ یں کہ خدا دغابازوں کو دوست نہ یں رکھ تا (‬
‫‪ )۵۸‬اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ وہ (اپنی چالوں سے ہم کو) ہرگز عاجز نہیں کرسکتے ( ‪ )۵۹‬اور جہاں‬
‫تک ہوسکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھ نے سے ان کے (مقابلے کے) لیے مستعد رہو کہ اس‬
‫سکے خدا ککے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان ککے سکوا اور لوگوں پکر جکن ککو تکم نہیکں جانتکے اور خدا جانتکا ہے ہیبکت‬
‫بیٹھی رہے گی۔ اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان‬
‫نہ یں کیا جائے گا (‪ )۶۰‬اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم ب ھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ‬
‫رک ھو۔ کچھ شک نہ یں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے (‪ )۶۱‬اور اگر یہ چاہ یں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہ یں کفایت‬
‫کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی (‪ )۶۲‬اور ان کے دلوں میں‬
‫الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے‬
‫ان میں الفت ڈال دی۔ بے شک وہ زبردست (اور) حکمت وال ہے (‪ )۶۳‬اے نبی! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو‬
‫ہیں کافی ہے (‪ )۶۴‬اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اور اگر تم بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو‬
‫کافروں پکر غالب رہیکں گکے۔ اور اگکر سکو (ایسکے) ہوں گکے تکو ہزار پکر غالب رہیکں گکے۔ اس لیکے ککہ کافکر ایسکے لوگ ہیکں ککہ‬
‫کچکھ بھھی سکمجھ نہیکں رکھتکے (‪ )۶۵‬اب خدا نکے تکم پکر سکے بوجکھ ہلککا ککر دیکا اور معلوم کرلیکا ککہ (ابھھی) تکم میکں کسکی قدر‬
‫کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہ نے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہ یں گے۔ اور اگر ایک ہزار ہوں‬
‫گکے تکو خدا ککے حککم سکے دو ہزار پکر غالب رہیکں گکے۔ اور خدا ثابکت قدم رہنکے والوں ککا مدد گار ہے (‪ )۶۶‬پیغمکبر ککو شایان‬
‫نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا‬
‫ککے مال ککے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (ککی بھلئی) چاہتکا ہے۔ اور خدا غالب حکمکت وال ہے (‪ )۶۷‬اگکر خدا ککا حککم پہلے نکہ‬
‫ہوچککا ہوتکا تکو جکو (فدیکہ) تکم نکے لیکا ہے اس ککے بدلے تکم پکر بڑا عذاب نازل ہوتکا (‪ )۶۸‬تکو جکو مالِ غنیمکت تمہیکں مل ہے اسکے‬

‫‪Page 65 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کھاؤ (کہ وہ تمہارے لیے) حلل طیب رہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بے شک خدا بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۶۹‬اے پیغمبر جو‬
‫قیدی تمہارے ہاتکھ میکں (گرفتار) ہیکں ان سکے کہہ دو ککہ اگکر خدا تمہارے دلوں میکں نیککی معلوم کرے گکا تکو جکو (مال) تکم سکے‬
‫چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور خدا بخشنے وال مہربان ہے ( ‪۷۰‬‬
‫) اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضے میں‬
‫کر دیا۔ اور خدا دانا حکمت وال ہے (‪ )۷۱‬جو لوگ ایمان لئے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال‬
‫اور جان سکے لڑے وہ اور جنہوں نکے (ہجرت کرنکے والوں ککو) جگکہ دی اور ان ککی مدد ککی وہ آپکس میکں ایکک دوسکرے ککے‬
‫رفیق ہ یں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہ یں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ‬
‫سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملت) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لزم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے‬
‫مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہ یں کرنی چاہیئے) اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے (‬
‫‪ )۷۲‬اور جو لوگ کافر ہ یں (وہ ب ھی) ایک دوسرے کے رفیق ہ یں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ‬
‫برپکا ہو جائے گکا اور بڑا فسکاد مچکے گکا (‪ )۷۳‬اور جکو لوگ ایمان لئے اور وطکن سکے ہجرت ککر گئے اور خدا ککی راہ میکں‬
‫لڑائیاں کرتکے رہے اور جنہوں نکے (ہجرت کرنکے والوں ککو) جگکہ دی اور ان ککی مدد ککی۔ یہی لوگ سکچے مسکلمان ہیکں۔ ان‬
‫کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے (‪ )۷۴‬اور جو لوگ بعد میں ایمان لئے اور وطن سے ہجرت کرگئے‬
‫اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ ب ھی تم ہی میں سے ہ یں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسکرے‬
‫کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے (‪)۷۵‬‬

‫‪Page 66 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬

‫سورة التّوبة‬
‫(اے اہل اسلم اب) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ‬

‫کی تیاری) ہے (‪ )۱‬تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے۔ اور‬

‫یکہ بھھی ککہ خدا کافروں ککو رسکوا کرنکے وال ہے (‪ )۲‬اور حکج اککبر ککے دن خدا اور اس ککے رسکول ککی طرف سکے لوگوں ککو‬

‫آگاہ کیکا جاتکا ہے ککہ خدا مشرکوں سکے بیزار ہے اور اس ککا رسکول بھھی (ان سکے دسکتبردار ہے)۔ پکس اگکر تکم توبکہ کرلو تکو‬

‫تمھارے حق میں بہ تر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رک ھو کہ تم خدا کو ہرا نہ یں سکو گے اور (اے‬

‫پیغمکبر) کافروں ککو دککھ دینکے والے عذاب ککی خکبر سکنا دو (‪ )۳‬البتکہ جکن مشرکوں ککے سکاتھ تکم نکے عہد کیکا ہو اور انہوں نکے‬

‫تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو‬

‫اسکے پورا کرو۔ (ککہ) خدا پرہیزگاروں ککو دوسکت رکھتکا ہے (‪ )۴‬جکب عزت ککے مہینکے گزر جائیکں تکو مشرکوں ککو جہاں پاؤ‬

‫قتکل ککر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات ککی جگکہ ان ککی تاک میکں بیٹھھے رہو۔ پھھر اگکر وہ توبکہ کرلیکں اور نماز‬

‫پڑھ نے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بے شک خدا بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۵‬اور اگر کوئی مشرک تم سے‬

‫پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلم خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ‬

‫بےخبر لوگ ہیں (‪ )۶‬بھل مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈال) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم)‬

‫رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم‬

‫رہیکں تکو تکم بھھی اپنکے قول وقرار (پکر) قائم رہو۔ بےشکک خدا پرہیکز گاروں ککو دوسکت رکھتکا ہے ( ‪( )۷‬بھل ان سکے عہد)‬

‫کیونککر (پورا کیکا جائے جکب ان ککا یکہ حال ہے) ککہ اگکر تکم پکر غلبکہ پالیکں تکو نکہ قرابکت ککا لحاظ کریکں نکہ عہد ککا۔ یکہ منکہ سکے تکو‬

‫تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں (‪ )۸‬یہ خدا کی آیتوں‬

‫کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور لوگوں کو خدا کے رستے سے روکتے ہ یں۔ کچھ شک نہ یں کہ جو کام یہ کرتے‬

‫ہیں برے ہیں (‪ )۹‬یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے‬

‫‪Page 67 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫والے ہ یں (‪ )۱۰‬اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھ نے اور زکوٰة دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہ یں۔ اور سمجھنے والے‬

‫لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (‪ )۱۱‬اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور‬

‫تمہارے دیکن میکں طعنکے کرنکے لگیکں تکو ان کفکر ککے پیشواؤں سکے جنکگ کرو (یکہ یکہ بےایمان لوگ ہیکں اور) ان ککی قسکموں ککا‬

‫کچکھ اعتبار نہیکں ہے۔ عجکب نہیکں ککہ (اپنکی حرکات سکے) باز آجائیکں (‪ )۱۲‬بھل تکم ایسکے لوگوں سکے کیوں نکہ لڑو جنہوں نکے‬

‫اپنی قسموں کو توڑ ڈال اور پیغمبر (خدا) کے جل وطن کرنے کا عزم مصمم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی)‬

‫ابتدا ککی۔ کیکا تکم ایسکے لوگوں سکے ڈرتکے ہو حالنککہ ڈرنکے ککے لئق خدا ہے بشرطیککہ ایمان رکھتکے ہو (‪ )۱۳‬ان سکے (خوب)‬

‫لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے‬

‫سینوں کو شفا بخشے گا (‪ )۱۴‬اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا۔ اور خدا سب‬

‫کچکھ جانتکا (اور) حکمکت وال ہے (‪ )۱۵‬کیکا تکم لوگ یکہ خیال کرتکے ہو ککہ (بےآزمائش) چھوڑ دیئے جاؤ گکے اور ابھھی خدا نکے‬

‫ایسکے لوگوں ککو متمیکز کیکا ہی نہیکں جنہوں نکے تکم میکں سکے جہاد کئے اور خدا اور اس ککے رسکول اور مومنوں ککے سکوا کسکی‬

‫کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے (‪ )۱۶‬مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد‬

‫کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں‬

‫گے (‪ )۱۷‬خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لتے ہیں اور نماز پڑھتے اور‬

‫زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں (‪ )۱۸‬کیا تم‬

‫نے حاجیوں کو پانی پلنا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا‬

‫اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم‬

‫لوگوں ککو ہدایکت نہیکں دیکا کرتکا (‪ )۱۹‬جکو لوگ ایمان لئے اور وطکن چھوڑ گئے اور خدا ککی راہ میکں مال اور جان سکے جہاد‬

‫کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہ یں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہ یں (‪ )۲۰‬ان کا پروردگار ان کو اپنی‬

‫رحمکت ککی اور خوشنودی ککی اور بہشتوں ککی خوشخکبری دیتکا ہے جکن میکں ان ککے لیکے نعمکت ہائے جاودانکی ہے (‪( )۲۱‬اور‬

‫وہ) ان میں ابدالآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے (‪ )۲۲‬اے اہل ایمان! اگر تمہارے (ماں) باپ‬

‫‪Page 68 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رک ھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھ یں گے وہ ظالم‬

‫ہیکں (‪ )۲۳‬کہہ دو ککہ اگکر تمہارے باپ اور بیٹھے اور بھائی اور عورتیکں اور خاندان ککے آدمکی اور مال جکو تکم کماتکے ہو اور‬

‫تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں‬

‫جہاد کرنکے سکے تمہیکں زیادہ عزیکز ہوں تکو ٹھہرے رہو یہاں تکک ککہ خدا اپنکا حککم (یعنکی عذاب) بھیجکے۔ اور خدا نافرمان‬

‫لوگوں ککو ہدایکت نہیکں دیکا کرتکا (‪ )۲۴‬خدا نکے بہت سکے موقعوں پکر تکم ککو مدد دی ہے اور (جنکگ) حنیکن ککے دن۔ جکب تکم ککو‬

‫اپنکی (جماعکت ککی) کثرت پکر غرّہ تھھا تکو وہ تمہارے کچکھ بھھی کام نکہ آئی۔ اور زمیکن باوجود (اتنکی بڑی) فراخکی ککے تکم پکر‬

‫تنگ ہوگئی پ ھر تم پی ٹھ پھ یر کر پ ھر گئے (‪ )۲۵‬پ ھر خدا نے اپنے پیغمبر پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل‬

‫فرمائی (اور تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اُتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔‬

‫اور کفکر کرنکے والوں ککی یہی سکزا ہے (‪ )۲۶‬پھھر خدا اس ککے بعکد جکس پکر چاہے مہربانکی سکے توجکہ فرمائے اور خدا بخشنکے‬

‫وال مہربان ہے (‪ )۲۷‬مومنکو! مشرک تکو پلیکد ہیکں تکو اس برس ککے بعکد وہ خانہٴ کعبکہ ککا پاس نکہ جانکے پائیکں اور اگکر تکم ککو‬

‫مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بے شک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت وال‬

‫ہے (‪ )۲۸‬جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہ یں لتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھ تے ہ یں) اور نہ ان چیزوں کو حرام‬

‫سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ‬

‫ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں (‪ )۲۹‬اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا‬

‫کے بی ٹے ہ یں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہ یں پہلے کافر ب ھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے ت ھے یہ ب ھی انہ یں کی ریس کرنے‬

‫میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں (‪ )۳۰‬انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو‬

‫ال کے سوا خدا بنا لیا حالنکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی‬

‫معبود نہیکں۔ اور وہ ان لوگوں ککے شریکک مقرر کرنکے سکے پاک ہے (‪ )۳۱‬یکہ چاہتکے ہیکں ککہ خدا ککے نور ککو اپنکے منکہ سکے‬

‫(پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے (‪ )۳۲‬وہی تو‬

‫ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ‬

‫‪Page 69 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کافر ناخوش ہی ہوں (‪ )۳۳‬مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا‬

‫سے روکتے ہ یں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس‬

‫دن عذاب الیکم ککی خکبر سکنادو (‪ )۳۴‬جکس دن وہ مال دوزخ ککی آگ میں (خوب) گرم کیکا جائے گکا۔ پھھر اس سکے ان (بخیلوں)‬

‫کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم‬

‫جمع کرتکے تھھے (اب) اس ککا مزہ چک ھو (‪ )۳۵‬خدا ککے نزدیک مہینے گنتکی میکں (بارہ ہیکں یعنکی) اس روز (سکے) کہ اس نے‬

‫آسکمانوں اور زمیکن ککو پیدا کیکا۔ کتاب خدا میکں (برس ککے) بارہ مہینکے (لکھھے ہوئے) ہیکں۔ ان میکں سکے چار مہینکے ادب ککے‬

‫ہیکں۔ یہی دیکن (ککا) سکیدھا راسکتہ ہے۔ تکو ان (مہینوں) میکں (قتال ناحکق سکے) اپنکے آپ پکر ظلم نکہ کرنکا۔ اور تکم سکب ککے سکب‬

‫مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ( ‪ )۳۶‬امن کے‬

‫کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچ ھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہ تے ہ یں۔ ایک سال تو‬

‫اس کو حلل سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔‬

‫اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو‬

‫ہدایت نہ یں دیا کرتا (‪ )۳۷‬مومنو! تمہ یں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم‬

‫(کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر‬

‫دینکا ککی زندگکی پکر خوش ہو بیٹھھے ہو۔ دنیکا ککی زندگکی ککے فائدے تکو آخرت ککے مقابکل بہت ہی ککم ہیکں ( ‪ )۳۸‬اور اگکر تکم نکہ‬

‫نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا (جو خدا کے پورے فرمانبردار‬

‫ہوں گکے) اور تکم اس کو کچکھ نقصکان نکہ پہنچکا سککو گکے اور خدا ہر چیکز پکر قدرت رکھتکا ہے (‪ )۳۹‬اگکر تکم پیغمکبر ککی مدد نکہ‬

‫کرو گکے تکو خدا اُن ککا مددگار ہے (وہ وقکت تکم ککو یاد ہوگکا) جکب ان ککو کافروں نکے گھھر سکے نکال دیکا۔ (اس وقکت) دو (ہی‬

‫ایسکے شخکص تھھے جکن) میکں (ایکک ابوبکر ھھتھھھھے) اور دوسکرے (خود رسکول ال) جکب وہ دونوں غار (ثور) میکں تھھے اس‬

‫وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے ت ھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان‬

‫کو ایسکے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہ یں آتے ت ھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی‬

‫‪Page 70 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫بلنکد ہے۔ اور خدا زبردسکت (اور) حکمکت وال ہے (‪ )۴۰‬تکم سکبکبار ہو یکا گراں بار (یعنکی مال و اسکباب تھوڑا رکھتکے ہو یکا‬

‫بہت‪ ،‬گھروں سے) نکل آؤ۔ اور خدا کے رستے میں مال اور جان سے لڑو۔ یہی تمہارے حق میں اچ ھا ہے بشرطیکہ سمجھو‬

‫(‪ )۴۱‬اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر ب ھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے۔ لیکن مسافت ان کو‬

‫دور (دراز) نظکر آئی (تو عذر کریں گے)۔ اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھ تے تو آپ کے ساتھ ضرور‬

‫نککل کھڑے ہوتکے یکہ (ایسکے عذروں سکے) اپنکے تئیکں ہلک ککر رہے ہیکں۔ اور خدا جانتکا ہے ککہ جھوٹھے ہیکں (‪ )۴۲‬خدا تمہیکں‬

‫معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ ب ھی ظاہر ہو جاتے ہ یں جو سچے ہ یں اور وہ ب ھی تمہ یں معلوم ہو جاتے‬

‫جو جھو ٹے ہ یں اُن کو اجازت کیوں دی ( ‪ )۴۳‬جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھ تے ہ یں وہ تو تم سے اجازت‬

‫نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا ڈرنے والوں سے واقف ہے‬

‫(‪ )۴۴‬اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔‬

‫سو وہ اپنکے شکک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیکں (‪ )۴۵‬اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتکے ہیکں تو اس ککے لیکے سکامان تیار کرتکے‬

‫لیکن خدا نے ان کا اُٹھ نا (اور نکلنا) پسند نہ کیا تو ان کو ہلنے جلنے ہی نہ دیا اور (ان سکے) کہہ دیا گیا کہ جہاں (معذور)‬

‫بیٹھے ہ یں تکم بھھی ان کے ساتھ بیٹھھے رہو (‪ )۴۶‬اگکر وہ تکم میکں (شامل ہوککر) نکل بھھی کھڑے ہوتکے تو تمہارے حکق میں‬

‫شرارت کرتکے اور تکم میکں فسکاد ڈلوانکے ککی غرض سکے دوڑے دوڑے پھرتکے اور تکم میکں ان ککے جاسکوس بھھی ہیکں اور خدا‬

‫ظالموں کو خوب جانتا ہے (‪ )۴۷‬یہ پہلے ب ھی طالب فساد رہے ہ یں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لیے الٹ پھ یر کرتے رہے‬

‫ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے (‪ )۴۸‬اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو‬

‫کہتکا ہے ککہ مجھھے تکو اجازت ہی دیجئے اور آفکت میکں نکہ ڈالئے۔ دیکھھو یکہ آفکت میکں پڑگئے ہیکں اور دوزخ سکب کافروں ککو‬

‫گھیرے ہوئے ہے (‪( )۴۹‬اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو‬

‫کہ تے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہ یں (درست) کر لیا ت ھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہ یں (‪ )۵۰‬کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت‬

‫نہ یں پہ نچ سککتی بجز اس کے جو خدا نے ہمارے لیے لکھ دی ہو وہی ہمارا کارساز ہے۔ اور مومنوں کو خدا ہی ککا بھروسکہ‬

‫رکھنکا چاہیئے (‪ )۵۱‬کہہ دو ککہ تکم ہمارے حکق میکں دو بھلئیوں میکں سکے ایکک ککے منتظکر ہو اور ہم تمہارے حکق میکں اس بات‬

‫‪Page 71 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ککے منتظکر ہیکں ککہ خدا (یکا تکو) اپنکے پاس سکے تکم پکر کوئی عذاب نازل کرے یکا ہمارے ہاتھوں سکے (عذاب دلوائے) تکو تکم بھھی‬

‫انتظار کرو ہم بھھی تمہارے سکاتھ انتظار کرتکے ہیکں (‪ )۵۲‬کہہ دو ککہ تکم (مال) خوشکی سکے خرچ کرو یکا ناخوشکی سکے تکم سکے‬

‫ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا تم نافرمان لوگ ہو (‪ )۵۳‬اور ان کے خرچ (موال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی‬

‫سوا اس کے انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست کاہل ہوکر اور خرچ کرتے ہیں‬

‫تو ناخوشی سے (‪ )۵۴‬تم ان کے مال اور اولد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو‬

‫عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت ب ھی) وہ کافر ہی ہوں (‪ )۵۵‬اور خدا کی قسمیں کھاتے ہ یں کہ وہ تم ہی‬

‫میکں سکے ہیکں حالنککہ ہو تکم میکں سکے نہیکں ہیکں۔ اصکل یکہ ہے ککہ یکہ ڈرپوک لوگ ہیکں ( ‪ )۵۶‬اگکر ان ککی کوئی بچاؤ ککی جگکہ‬

‫(جیسے قلعہ) یا غار ومغاک یا (زمین کے اندر) گھ سنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں (‬

‫‪ )۵۷‬اور ان میں سے بعض اسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر‬

‫خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں (‪ )۵۸‬اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا‬

‫اور اس ککے رسکول نکے ان ککو دیکا تھھا۔ اور کہتکے ککہ ہمیکں خدا کافکی ہے اور خدا اپنکے فضکل سکے اور اس ککے پیغمکبر (اپنکی‬

‫مہربانی سے) ہمیں (پ ھر) دیں گے۔ اور ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو ان کے حق میں بہ تر ہوتا) ( ‪ )۵۹‬صدقات (یعنی‬

‫زکوٰة وخیرات) تکو مفلسکوں اور محتاجوں اور کارکنان صکدقات ککا حکق ہے اور ان لوگوں ککا جکن ککی تالیکف قلوب منظور ہے‬

‫اور غلموں ککے آزاد کرانکے میکں اور قرضداروں (ککے قرض ادا کرنکے میکں) اور خدا ککی راہ میکں اور مسکافروں (ککی مدد)‬

‫میکں (بھھی یکہ مال خرچ کرنکا چاہیئے یکہ حقوق) خدا ککی طرف سکے مقرر ککر دیئے گئے ہیکں اور خدا جاننکے وال (اور) حکمکت‬

‫وال ہے (‪ )۶۰‬اور ان میں بعض ایسے ہ یں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہ تے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ‬

‫دو ککہ (وہ) کان (ہے تکو) تمہاری بھلئی ککے لیکے۔ وہ خدا ککا اور مومنوں (ککی بات) ککا یقیکن رکھتکا ہے اور جکو لوگ تکم میکں‬

‫سے ایمان لئے ہ یں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہ یں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے (‬

‫‪ )۶۱‬مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالنکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے‬

‫تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہ یں (‪ )۶۲‬کیا ان لوگوں کو معلوم نہ یں کہ جو شخص خدا اور اس‬

‫‪Page 72 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے (‬

‫‪ )۶۳‬منافکق ڈرتکے رہتکے ہیکں ککہ ان (ککے پیغمکبر) پکر کہیکں کوئی ایسکی سکورت (نکہ) اُتکر آئے ککہ ان ککے دل ککی باتوں ککو ان‬

‫(مسلمانوں) پر ظاہر ککر دے۔ کہہ دو ککہ ہنسکی کئے جاؤ۔ جکس بات سکے تکم ڈرتکے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گکا (‪)۶۴‬‬

‫اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا‬

‫اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے (‪ )۶۵‬بہانے مت بناؤ تم ایمان لنے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر‬

‫ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا ب ھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہ یں ( ‪)۶۶‬‬

‫منافکق مرد اور منافکق عورتیکں ایکک دوسکرے ککے ہم جنکس (یعنکی ایکک طرح ککے) ہیکں ککہ برے کام کرنکے ککو کہتکے اور نیکک‬

‫کاموں سکے منکع کرتکے اور (خرچ کرنکے سکے) ہاتکھ بنکد کئے رہتکے ہیکں۔ انہوں نکے خدا ککو بھل دیکا تو خدا نکے ان ککو بھل دیکا۔‬

‫بےشکک منافکق نافرمان ہیکں (‪ )۶۷‬ال نکے منافکق مردوں اور منافکق عورتوں اور کافروں سکے آتکش جہنکم ککا وعدہ کیکا ہے جکس‬

‫میکں ہمیشکہ (جلتکے) رہیکں گکے۔ وہی ان ککے لئق ہے۔ اور خدا نکے ان پکر لعنکت ککر دی ہے۔ اور ان ککے لیکے ہمیشکہ ککا عذاب‬

‫(تیار) ہے (‪( )۶۸‬تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو‪ ،‬جو تم سے پہلے ہوچکے ہ یں۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال‬

‫و اولد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ‬

‫اٹھھا چککے ہیکں۔ اسکی طرح تکم نکے اپنکے حصکے سکے فائدہ اٹھھا لیکا۔ اور جکس طرح وہ باطکل میکں ڈوبکے رہے اسکی طرح تکم‬

‫باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں ( ‪۶۹‬‬

‫) کیکا ان ککو ان لوگوں (ککے حالت) ککی خکبر نہیکں پہنچکی جکو ان سکے پہلے تھھے (یعنکی) نوح اور عاد اور ثمود ککی قوم۔ اور‬

‫ابراہیکم کی قوم اور مدیکن والے اور الٹھی ہوئی بسکتیوں والے۔ ان ککے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسکا نہ‬

‫تھھا ککہ ان پکر ظلم کرتکا لیککن وہی اپنکے آپ پکر ظلم کرتکے تھھے (‪ )۷۰‬اور مومکن مرد اور مومکن عورتیکں ایکک دوسکرے ککے‬

‫دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس‬

‫کے رسول کی اطاعت کرتے ہ یں۔ یہی لوگ ہ یں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بے شک خدا غالب حکمت وال ہے (‪ )۷۱‬خدا نے‬

‫مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہ یں (وہ) ان میں ہمیشہ رہ یں گے‬

‫‪Page 73 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی‬

‫کامیابککی ہے (‪ )۷۲‬اے پیغمککبر! کافروں اور منافقوں سکے لڑو۔ اور ان پککر سککختی کرو۔ اور ان کککا ٹھکانکہ دورخ ہے اور وہ‬

‫بری جگہ ہے (‪ )۷۳‬یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہ یں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہ یں کہا حالنکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ‬

‫اسلم لنے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں‬

‫میں) عیب ہی کون سا دیک ھا ہے سوا اس کے کہ خدا نکے اپنکے فضکل سکے اور اس ککے پیغمکبر نے (اپنکی مہربانکی سے) ان کو‬

‫دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت‬

‫میں دکھ دینے وال عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا (‪ )۷۴‬اور ان میں سے بعض ایسے ہیں‬

‫جنہوں نے خدا سے عہد کیا ت ھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے‬

‫اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے (‪ )۷۵‬لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور‬

‫(اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے (‪ )۷۶‬تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا‬

‫کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیکا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا ت ھا اس کے خلف کیا‬

‫اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے (‪ )۷۷‬کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے اور‬

‫یہ کہ وہ غیب کی باتیں جاننے وال ہے (‪ )۷۸‬جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہ یں اور جو (بےچارے‬

‫غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو‬

‫(منافکق) طعکن کرتکے ہیکں اور ہنسکتے ہیکں۔ خدا ان پکر ہنسکتا ہے اور ان ککے لیکے تکلیکف دینکے وال عذاب (تیار) ہے (‪ )۷۹‬تکم ان‬

‫کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے)۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں‬

‫بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ( ‪ )۸۰‬جو‬

‫لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچ ھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلف بیٹھے رہ نے سے خوش ہوئے اور اس بات‬

‫ککو ناپسکند کیکا ککہ خدا ککی راہ میکں اپنکے مال اور جان سکے جہاد کریکں۔ اور (اوروں سکے بھھی) کہنکے لگکے ککہ گرمکی میکں مکت‬

‫نکلنکا۔ (ان سکے) کہہ دو ککہ دوزخ ککی آگ اس سکے کہیکں زیادہ گرم ہے۔ کاش یکہ (اس بات) ککو سکمجھتے ( ‪ )۸۱‬یکہ (دنیکا میکں)‬

‫‪Page 74 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫تھوڑا سا ہنس لیں اور (آخرت میں) ان کو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا (‪ )۸۲‬پھر اگر خدا تم کو‬

‫ان میکں سکے کسکی گروہ ککی طرف لے جائے اور وہ تکم سکے نکلنکے ککی اجازت طلب کریکں تکو کہہ دینکا ککہ تکم میرے سکاتھ ہرگکز‬

‫نہ یں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بی ٹھ رہ نے سے خوش ہوئے تو اب‬

‫بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو (‪ )۸۳‬اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے)‬

‫پر نماز نہ پڑھنکا اور نکہ اس ککی قکبر پر (جا ککر) کھڑے ہونا۔ یکہ خدا اور اس کے رسول ککے سکاتھ کفکر کرتے رہے اور مرے‬

‫بھھی نافرمان (ہی مرے) (‪ )۸۴‬ان ککے اولد اور مال سکے تعجکب نکہ کرنکا۔ ان چیزوں سکے خدا یکہ چاہتکا ہے ککہ ان ککو دنیکا میکں‬

‫عذاب کرے اور (جکب) ان ککی جان نکلے تکو (اس وقکت بھھی) یکہ کافکر ہی ہوں (‪ )۸۵‬اور جکب کوئی سکورت نازل ہوتکی ہے ککہ‬

‫خدا پکر ایمان لؤ اور اس ککے رسکول ککے سکاتھ ہو ککر لڑائی کرو تو جکو ان میکں دولت منکد ہیکں وہ تکم سکے اجازت طلب کرتکے‬

‫ہیں اور کہ تے ہیں کہ ہمیں تو رہ نے ہی دیجیئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم ب ھی ان کے ساتھ رہ یں ( ‪ )۸۶‬یہ اس بات‬

‫سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں۔ (گھروں میں بیٹھ) رہیں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے‬

‫تکو یکہ سکمجھتے ہی نہیکں (‪ )۸۷‬لیککن پیغمکبر اور جکو لوگ ان ککے سکاتھ ایمان لئے سکب اپنکے مال اور جان سکے لڑے۔ انہیکں‬

‫لوگوں کے لیے بھلئیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں (‪ )۸۸‬خدا نے ان کے لیے باغات تیار کر رک ھے ہیں جن کے نیچے‬

‫نہریں بہہ رہی ہ یں ہمیشہ ان میں رہی گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے (‪ )۸۹‬اور صحرا نشینوں میں سے ب ھی کچھ لوگ عذر کرتے‬

‫ہوئے (تمہارے پاس) آئے ککہ ان ککو بھھی اجازت دی جائے اور جنہوں نکے خدا اور اس ککے رسکول سکے جھوٹ بول وہ (گھھر‬

‫میں) بی ٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہ یں ان کو دکھ دینے وال عذاب پہنچے گا ( ‪ )۹۰‬نہ تو ضعیفوں پر کچھ‬

‫گناہ ہے اور نکہ بیماروں پکر نکہ ان پکر جکن ککے پاس خرچ موجود نہیکں (ککہ شریکک جہاد نکہ ہوں یعنکی) جکب ککہ خدا اور اس ککے‬

‫رسکول ککے خیراندیکش (اور دل سکے ان ککے سکاتھ) ہوں۔ نیککو کاروں پکر کسکی طرح ککا الزام نہیکں ہے۔ اور خدا بخشنکے وال‬

‫مہربان ہے (‪ )۹۱‬اور نکہ ان (بےسکروسامان) لوگوں پکر (الزام) ہے ککہ تمہارے پاس آئے ککہ ان ککو سکواری دو اور تکم نکے کہا ککہ‬

‫میرے پاس کوئی ایسی چیز نہ یں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ‬

‫تھا‪ ،‬ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے (‪ )۹۲‬الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب‬

‫‪Page 75 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کرتے ہ یں (یعنی) اس بات سے خوش ہ یں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچ ھے رہ جاتی ہ یں (گھروں میں بی ٹھ) رہ یں۔ خدا نے‬

‫ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں (‪ )۹۳‬جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے تم‬

‫کہ نا کہ مت عذر کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہ یں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے سب حالت بتا دیئے ہ یں۔ اور اب ھی خدا اور‬

‫اس کا رسول تمہارے عملوں کو (اور) دیکھ یں گے پ ھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے‬

‫جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہ یں بتائے گا (‪ )۹۴‬جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو‬

‫خدا ککی قسکمیں کھائیکں گکے تاککہ تکم ان سکے درگزر کرو سکو اُن ککی طرف التفات نکہ کرنکا۔ یکہ ناپاک ہیکں اور جکو یکہ کام کرتکے‬

‫رہے ہیں اس کے بدلہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے (‪ )۹۵‬یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ لیکن اگر‬

‫تم اُن سے خوش ہو جاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا ( ‪ )۹۶‬دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں‬

‫اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں۔ اور خدا جاننے‬

‫وال (اور) حکمت وال ہے (‪ )۹۷‬اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق‬

‫میں مصیبتوں کے منتظر ہ یں۔ ان ہی پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ اور خدا سننے وال (اور) جاننے وال ہے ( ‪ )۹۸‬اور بعض‬

‫دیہاتکی ایسکے ہیکں ککہ خدا پکر اور روز آخرت پکر ایمان رکھتکے ہیکں اور جکو کچکھ خرچ کرتکے ہیکں اس ککو خدا ککی قُربکت اور‬

‫پیغمکبر ککی دعاؤں ککا ذریعکہ سکمجھتے ہیکں۔ دیکھھو وہ بےشبکہ ان ککے لیکے (موجکب) قربکت ہے خدا ان کو عنقریکب اپنکی رحمکت‬

‫میکں داخکل کرے گکا۔ بےشکک خدا بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۹۹‬جکن لوگوں نکے سکبقت ککی (یعنکی سکب سکے) پہلے (ایمان لئے)‬

‫مہاجرین میں سے ب ھی اور انصار میں سے ب ھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش‬

‫ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں‬

‫رہیکں گے۔ یہ بڑی کامیابکی ہے (‪ )۱۰۰‬اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتکی منافکق ہیکں اور بعض مدینکے والے ب ھی نفاق‬

‫پکر اڑے ہوئے ہیکں تکم انہیکں نہیکں جانتکے۔ ہم جانتکے ہیکں۔ ہم ان ککو دوہرا عذاب دیکں گکے پھھر وہ بڑے عذاب ککی طرف لوٹائے‬

‫جائیکں گکے (‪ )۱۰۱‬اور کچکھ اور لوگ ہیکں ککہ اپنکے گناہوں ککا (صکاف) اقرار کرتکے ہیکں انہوں نکے اچھھے برے عملوں ککو مل‬

‫جل دیا ت ھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بے شک خدا بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۱۰۲‬ان کے مال میں‬

‫‪Page 76 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سے زکوٰة قبول کر لو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں ب ھی) پاک اور (باطن میں ب ھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں‬

‫دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے اور خدا سننے وال اور جاننے وال ہے (‪ )۱۰۳‬کیا یہ لوگ نہ یں‬

‫جانتکے ککہ خدا ہی اپنکے بندوں سکے توبکہ قبول فرماتکا ہے اور صکدقات (وخیرات) لیتکا ہے اور بےشکک خدا ہی توبکہ قبول کرنکے‬

‫وال مہربان ہے (‪ )۱۰۴‬اور ان سکے کہہ دو ککہ عمککل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کککا رسککول اور مومککن (سکب) تمہارے عملوں ککو‬

‫دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پ ھر جو کچھ تم کرتے رہے‬

‫ہو وہ سب تم کو بتا دے گا (‪ )۱۰۵‬اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے ان کو عذاب دے اور‬

‫چاہے ان کو معاف کر دے۔ اور خدا جاننے وال اور حکمت وال ہے (‪ )۱۰۶‬اور (ان میں سے ایسے ب ھی ہ یں) جنہوں نے اس‬

‫غرض سے مسجد بنوائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول‬

‫سکے پہلے جنکگ کرچککے ہیکں ان ککے لیکے گھات ککی جگکہ بنائیکں۔ اور قسکمیں کھائیکں گکے ککہ ہمارا مقصکود تکو صکرف بھلئی‬

‫تھی۔ مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں (‪ )۱۰۷‬تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد‬

‫جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ‬

‫ہ یں جو کہ پاک رہ نے کو پسند کرتے ہ یں۔ اور خدا پاک رہ نے والوں کو ہی پسند کرتا ہے (‪ )۱۰۸‬بھل جس شخص نے اپنی‬

‫عمارت ککی بنیاد خدا ککے خوف اور اس ککی رضامندی پکر رکھھی وہ اچھھا ہے یکا وہ جکس نکے اپنکی عمارت ککی بنیاد گکر جانکے‬

‫والی کھائی ککے کنارے پکر رکھھی ککہ وہ اس ککو دوزخ ککی آگ میکں لے گری اور خدا ظالموں ککو ہدایکت نہیکں دیتکا (‪ )۱۰۹‬یکہ‬

‫عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ ان‬

‫کے دل پاش پاش ہو جائیں اور خدا جاننے وال اور حکمت وال ہے (‪ )۱۱۰‬خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال‬

‫خرید لیے ہ یں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہ شت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑ تے ہ یں تو مارتے ب ھی ہ یں‬

‫اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور‬

‫خدا سکے زیادہ وعدہ پورا کرنکے وال کون ہے تکو جکو سکودا تکم نکے اس سکے کیکا ہے اس سکے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابکی‬

‫ہے (‪ )۱۱۱‬توبکہ کرنکے والے‪ ،‬عبادت کرنکے والے‪ ،‬حمکد کرنکے والے‪ ،‬روزہ رکھنکے والے‪ ،‬رکوع کرنکے والے‪ ،‬سکجدہ کرنکے‬

‫‪Page 77 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫والے‪ ،‬نیک کاموں کا امر کرنے والے‪ ،‬بری باتوں سے منع کرنے والے‪ ،‬خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے‪( ،‬یہی مومن‬

‫لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو (‪ )۱۱۲‬پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان‬

‫پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں ( ‪ )۱۱۳‬اور ابراہیم کا‬

‫اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ‬

‫خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہ یں کہ ابراہ یم بڑے نرم دل اور متحمل ت ھے (‪ )۱۱۴‬اور خدا ایسا نہ یں‬

‫کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بےشک خدا‬

‫ہر چیز سے واقف ہے (‪ )۱۱۵‬خدا ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگانی بخشتا ہے (وہی)‬

‫موت دیتکا ہے اور خدا ککے سکوا تمہارا کوئی دوسکت اور مددگار نہیکں ہے (‪ )۱۱۶‬بےشکک خدا نکے پیغمکبر پکر مہربانکی ککی اور‬

‫مہاجریکن اور انصکار پکر جو باوجود اس ککے ککہ ان میں سکے بعضوں ککے دل جلد پھھر جانکے کو تھھے۔ مشککل ککی گھڑی میکں‬

‫پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بےشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے وال (اور) مہربان ہے (‪۱۱۷‬‬

‫) اور ان تینوں پر ب ھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا ت ھا۔ یہاں تک کہ جب اُنہ یں زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی‬

‫اور ان کے جانیں ب ھی ان پر دوبھھر ہوگئیں۔ اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہ یں۔‬

‫پھھر خدا نکے ان پکر مہربانکی ککی تاککہ توبکہ کریکں۔ بےشکک خدا توبکہ قبول کرنکے وال مہربان ہے ( ‪ )۱۱۸‬اے اہل ایمان! خدا سکے‬

‫ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو (‪ )۱۱۹‬اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہ تے ہ یں ان کو شایاں نہ ت ھا‬

‫کہ پیغمبر خدا سے پیچ ھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھ یں۔ یہ اس لیے کہ انہ یں خدا‬

‫ککی راہ میکں تکلیکف پہنچتکی ہے پیاس ککی‪ ،‬محنکت ککی یکا بھوک ککی یکا وہ ایسکی جگکہ چلتکے ہیکں ککہ کافروں ککو غصکہ آئے یکا‬

‫دشمنوں سے کوئی چیز لیتکے ہ یں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لک ھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہ یں کہ خدا نیکو کاروں کا‬

‫اجر ضائع نہ یں کرتا (‪ )۱۲۰‬اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہ یں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہ یں تو یہ سب‬

‫کچھ ان کے لیے (اعمال صالحہ) میں لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچ ھا بدلہ دے ( ‪ )۱۲۱‬اور یہ تو ہو‬

‫نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین‬

‫‪Page 78 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ککا (علم سکیکھتے اور اس) میکں سکمجھ پیدا کرتکے اور جکب اپنکی قوم ککی طرف واپکس آتکے تکو ان ککو ڈر سکناتے تاککہ وہ حذر‬

‫کرتکے (‪ )۱۲۲‬اے اہلِ ایمان! اپنکے نزدیکک ککے (رہنکے والے) کافروں سکے جنکگ کرو اور چاہیئے ککہ وہ تکم میکں سکختی (یعنکی‬

‫محنکت وقوت جنکگ) معلوم کریکں۔ اور جان رکھھو ککہ خدا پرہیکز گاروں ککے سکاتھ ہے (‪ )۱۲۳‬اور جکب کوئی سکورت نازل‬

‫ہوتکی ہے تکو بعکض منافکق (اسکتہزاء کرتکے اور) پوچھتکے ککہ اس سکورت نکے تکم میکں سکے ککس ککا ایمان زیادہ کیکا ہے۔ سکو جکو‬

‫ایمان والے ہیکں ان ککا ایمان تکو زیادہ کیکا اور وہ خوش ہوتکے ہیکں (‪ )۱۲۴‬اور جکن ککے دلوں میکں مرض ہے‪ ،‬ان ککے حکق میکں‬

‫خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے ب ھی تو کافر کے کافکر (‪ )۱۲۵‬کیا یہ دیکھتکے نہ یں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بل میں‬

‫پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں ( ‪ )۱۲۶‬اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے ایک‬

‫دوسرے کی جانب دیکھ نے لگتے ہ یں (اور پوچھ تے ہ یں کہ) بھل تمہ یں کوئی دیکھ تا ہے پ ھر پ ھر جاتے ہ یں۔ خدا نے ان کے‬

‫دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے ( ‪( )۱۲۷‬لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک‬

‫پیغمکبر آئے ہیکں۔ تمہاری تکلیکف ان ککو گراں معلوم ہوتکی ہے اور تمہاری بھلئی ککے خواہش منکد ہیکں اور مومنوں پکر نہایکت‬

‫شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہ یں (‪ )۱۲۸‬پ ھر اگر یہ لوگ پ ھر جائیں (اور نہ مانیں) تو کہہ دو کہ خدا مج ھے کفایت کرتا‬

‫ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے (‪)۱۲۹‬‬

‫‪Page 79 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة یُونس‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫آلرا ۔ یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں (‪ )۱‬کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ‬
‫لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لنے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے‬
‫شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے (‪ )۲‬تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ‬
‫دن میکں بنائے پھھر عرش (تخکت شاہی) پکر قائم ہوا وہی ہر ایکک ککا انتظام کرتکا ہے۔ کوئی (اس ککے پاس) اس ککا اذن حاصکل‬
‫کیکے بغیکر کسکی ککی سکفارش نہیکں کرسککتا‪ ،‬یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تکو اسکی ککی عبادت کرو۔ بھل تکم غور کیوں نہیکں‬
‫کرتے (‪ )۳‬اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پ ھر وہی‬
‫اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے‬
‫لیکے پینکے ککو نہایکت گرم پانکی اور درد دینکے وال عذاب ہوگکا کیوں ککہ (خدا سکے) انکار کرتکے تھھے (‪ )۴‬وہی تکو ہے جکس نکے‬
‫سکورج ککو روشکن اور چانکد ککو منور بنایکا اور چانکد ککی منزلیکں مقرر کیکں تاککہ تکم برسکوں ککا شمار اور (کاموں ککا) حسکاب‬
‫معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیاتیں کھول کھول کر بیان فرماتا‬
‫ہے (‪ )۵‬رات اور دن کے (ایک دوسرے کے پیچھے) آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں‬
‫(سب میں) ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں (‪ )۶‬جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور‬
‫اسی پکر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہ یں (‪ )۷‬ان کا ٹھکانہ ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتکے‬
‫ہیکں دوزخ ہے (‪ )۸‬اور جکو لوگ ایمان لئے اور نیکک کام کرتکے رہے ان ککو پروردگار ان ککے ایمان ککی وجکہ سکے (ایسکے‬
‫محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہہ رہی ہوں گی (‪( )۹‬جب وہ) ان میں (ان نعمتوں‬
‫کو دیکھوں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان ال۔ اور آپس میں ان کی دعا سلمٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا)‬
‫ککہ خدائے رب العالمیکن ککی حمکد (اور اس ککا شککر) ہے (‪ )۱۰‬اور اگکر خدا لوگوں ککی برائی میکں جلدی کرتکا جکس طرح وہ‬
‫طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں‬
‫انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں (‪ )۱۱‬اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا‬
‫اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پ ھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہ یں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور)‬
‫اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کب ھی پکارا ہی نہ ت ھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان‬
‫ککے اعمال آراسکتہ کرککے دکھائے گئے ہیکں (‪ )۱۲‬اور تکم سکے پہلے ہم کئی امتوں ککو جکب انہوں نکے ظلم ککا راسکتہ اختیار کیکا‬
‫ہلک کرچککے ہ یں۔ اور ان کے پاس پیغمکبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ ت ھے کہ ایمان لتے۔ ہم گنہگار لوگوں‬
‫ککو اسکی طرح بدلہ دیکا کرتکے ہیکں (‪ )۱۳‬پھھر ہم نکے ان ککے بعکد تکم لوگوں ککو ملک میکں خلیفکہ بنایکا تاککہ دیکھیکں تکم کیسکے کام‬
‫کرتے ہو (‪ )۱۴‬اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں‬
‫کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے‬
‫بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مج ھے بڑے‬
‫(سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے (‪( )۱۵‬یہ ب ھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہ تا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر‬
‫سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح‬
‫ککا نہیکں کہا) بھل تکم سکمجھتے نہیکں (‪ )۱۶‬تکو اس سکے بڑھ ککر ظالم کون جکو خدا پکر جھوٹ افترا کرے اور اس ککی آیتوں ککو‬
‫جھٹلئے۔ بے شک گنہگار فلح نہ یں پائیں گے (‪ )۱۷‬اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہ یں جو نہ‬
‫ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھل ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے‬
‫ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک‬
‫ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے (‪ )۱۸‬اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی ملت‬
‫پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے۔ اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں‬

‫‪Page 80 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫میں وہ اختلف کرتے ہ یں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا (‪ )۱۹‬اور کہتکے ہ یں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی‬
‫نشانی کیوں نازل نہ یں ہوئی۔ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا کو ہے سو تم انتظار کرو۔ میں ب ھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا‬
‫ہوں (‪ )۲۰‬اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہ یں تو وہ ہماری آیتوں‬
‫میکں حیلے کرنکے لگتکے ہیکں۔ کہہ دو ککہ خدا بہت جلد حیلہ کرنکے وال ہے۔ اور جکو حیلے تکم کرتکے ہو ہمارے فرشتکے ان ککو‬
‫لکھ تے جاتے ہ یں (‪ )۲۱‬وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک‬
‫کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں‬
‫اور وہ ان سکے خوش ہوتکے ہیکں تکو ناگہاں زناٹھے ککی ہوا چکل پڑتکی ہے اور لہریکں ہر طرف سکے ان پکر (جوش مارتکی ہوئی)‬
‫آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے‬
‫دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں ( ‪ )۲۲‬لیکن جب‬
‫وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر‬
‫ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پ ھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم‬
‫کیا کرتے ت ھے (‪ )۲۳‬دنیا کی زندگی کی مثال مین ھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پ ھر اس کے ساتھ سبزہ‬
‫جسے آدمی اور جانور کھاتے ہ یں مل کر نکل یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے‬
‫خیال کیکا ککہ وہ اس پکر پوری دسکترس رکھتکے ہیکں ناگہاں رات ککو یکا دن ککو ہمارا حککم (عذاب) آپہنچکا تکو ہم نکے اس ککو کاٹ‬
‫(کر ایسا کر) ڈال کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں‬
‫اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہ یں (‪ )۲۴‬اور خدا سلمتی کے گ ھر کی طرف بلتا ہے۔ اور جس کو چاہ تا ہے سیدھا‬
‫راستہ دکھاتا ہے (‪ )۲۵‬جن لوگوں نے نیکو کاری کی ان کے لیے بھلئی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور ان کے مونہوں پر‬
‫نکہ تکو سکیاہی چھائے گکی اور نکہ رسکوائی۔ یہی جنتکی ہیکں ککہ اس میکں ہمیشکہ رہیکں گکے (‪ )۲۶‬اور جنہوں نکے برے کام کئے تکو‬
‫برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی۔ اور کوئی ان کو خدا سے بچانے وال نہ ہوگا۔ ان کے‬
‫مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اُڑھا دیئے گئے ہ یں۔ یہی دوزخی ہ یں کہ ہمیشہ‬
‫اس میں رہیں گے (‪ )۲۷‬اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی‬
‫اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہ یں گے کہ تم ہم کو نہ یں پوجا کرتے‬
‫تھھھے (‪ )۲۸‬ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافککی ہے۔ ہم تمہاری پرسککتش سککے بالکککل بےخککبر تھھھے (‪ )۲۹‬وہاں ہر‬
‫شخکص (اپنکے اعمال ککی) جکو اس نکے آگکے بھیجکے ہوں گکے آزمائش کرلے گکا اور وہ اپنکے سکچے مالک ککی طرف لوٹائے‬
‫جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا (‪( )۳۰‬ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین‬
‫میکں رزق کون دیتکا ہے یکا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں ککا مالک کون ہے اور بےجان سکے جاندار کون پیدا کرتکا ہے اور دنیکا‬
‫کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ ج ھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پ ھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہ یں؟ ( ‪ )۳۱‬یہی خدا‬
‫تو تمہارا پروردگار برحق ہے۔ اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو (‬
‫‪ )۳۲‬اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہ یں لئیں گے (‪( )۳۳‬ان سے) پوچ ھو کہ‬
‫بھل تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی‬
‫پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو ( ‪ )۳۴‬پوچھو کہ بھل تمہارے شریکوں‬
‫میکں کون ایسکا ہے ککہ حکق ککا رسکتہ دکھائے۔ کہہ دو ککہ خدا ہی حکق ککا رسکتہ دکھاتکا ہے۔ بھل جکو حکق ککا رسکتہ دکھائے وہ اس‬
‫قابکل ہے ککہ اُس ککی پیروی ککی جائے یکا وہ ککہ جکب تکک کوئی اسکے رسکتہ نکہ بتائے رسکتہ نکہ پائے۔ تکو تکم ککو کیکا ہوا ہے کیسکا‬
‫انصاف کرتے ہو؟ (‪ )۳۵‬اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہ یں۔ اور کچھ شک نہ یں کہ ظن حق کے مقابلے‬
‫میں کچکھ بھھی کارآمکد نہ یں ہوسککتا۔ بے شک خدا تمہارے (سکب) افعال سکے واقف ہے ( ‪ )۳۶‬اور یکہ قرآن ایسا نہیکں کہ خدا ککے‬
‫سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لئے۔ ہاں (ہاں یہ خدا کا کلم ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں۔ ان کی تصدیق‬
‫کرتا ہے اور ان ہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہ یں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا)‬
‫ہے (‪ )۳۷‬کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی‬
‫ایک سورت بنا لؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بل سکو بل ب ھی لو ( ‪ )۳۸‬حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہ یں‬
‫پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹل دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے‬

‫‪Page 81 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو ظالموں کا انجام کیسا ہوا (‪ )۳۹‬اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے‬
‫آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لتے۔ اور تمھارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے (‪ )۴۰‬اور اگر یہ تمہاری‬
‫تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کا جواب دہ‬
‫نہ یں ہو اور میکں تمہارے عملوں ککا جوابدہ نہ یں ہوں (‪ )۴۱‬اور ان میکں سے بعض ایسکے ہ یں ککہ تمہاری طرف کان لگاتکے ہیکں‬
‫تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سنتے) سمجھتے نہ ہوں (‪ )۴۲‬اور بعض ایسے ہیں کہ تمھاری طرف دیکھتے‬
‫ہ یں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ ب ھی دیکھ تے (بھالتے) نہ ہوں ( ‪ )۴۳‬خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہ یں‬
‫کرتکا لیککن لوگ ہی اپنکے آپ پکر ظلم کرتکے ہیکں (‪ )۴۴‬اور جکس دن خدا ان ککو جمکع کرے گکا (تکو وہ دنیکا ککی نسکبت ایسکا خیال‬
‫کریکں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھھر دن سکے زیادہ رہے ہی نہ یں تھھے (اور) آپکس میں ایکک دوسکرے کو شناخت بھھی کریں‬
‫گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلیا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے ( ‪ )۴۵‬اور اگر ہم‬
‫کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت‬
‫حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے ( ‪ )۴۶‬اور‬
‫ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور‬
‫ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا (‪ )۴۷‬اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب؟ (‪)۴۸‬‬
‫کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا ب ھی کچھ اختیار نہ یں رکھ تا۔ مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا)‬
‫ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں ( ‪ )۴۹‬کہہ دو کہ‬
‫بھل دیک ھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پ ھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے (‪)۵۰‬‬
‫کیکا جکب وہ آ واقکع ہوگکا تکب اس پکر ایمان لؤ گکے (اس وقکت کہا جائے گکا ککہ) اور اب (ایمان لئے؟) اس ککے لیکے تکو تکم جلدی‬
‫مچایکا کرتکے تھھے (‪ )۵۱‬پھھر ظالم لوگوں سکے کہا جائے گکا ککہ عذاب دائمکی ککا مزہ چکھھو۔ (اب) تکم انہیکں (اعمال) ککا بدلہ پاؤ‬
‫گے جو (دنیا میں) کرتے رہے (‪ )۵۲‬اور تم سے دریافت کرتکے ہ یں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم‬
‫(بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے (‪ )۵۳‬اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں‬
‫تکو (عذاب سکے بچنکے ککے) بدلے میکں (سکب) دے ڈالے اور جکب وہ عذاب ککو دیکھیکں گکے تکو (پچھتائیکں گکے اور) ندامکت ککو‬
‫چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا (‪ )۵۴‬سن رکھو‬
‫جکو کچکھ آسکمانوں اور زمینوں میکں ہے سکب خدا ہی ککا ہے۔ اور یکہ بھھی سکن رکھھو ککہ خدا ککا وعدہ سکچا ہے لیککن اکثکر لوگ‬
‫نہ یں جانتے (‪ )۵۵‬وہی جان بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے (‪ )۵۶‬لوگو تمہارے‬
‫پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے (‪)۵۷‬‬
‫کہہ دو ککہ (یکہ کتاب) خدا ککے فضکل اور اس ککی مہربانکی سکے (نازل ہوئی ہے) تکو چاہیئے ککہ لوگ اس سکے خوش ہوں۔ یکہ اس‬
‫سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں (‪ )۵۸‬کہو کہ بھل دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس‬
‫میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلل (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر‬
‫افتراء کرتکے ہو (‪ )۵۹‬اور جکو لوگ خدا پکر افتراء کرتکے ہیکں وہ قیامکت ککے دن ککی نسکبت کیکا خیال رکھتکے ہیکں؟ بےشکک خدا‬
‫لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہ یں کرتے (‪ )۶۰‬اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں کچھ پڑھ تے ہو یا تم‬
‫لوگ کوئی (اور) کام کرتکے ہو جکب اس میکں مصکروف ہوتکے ہو ہم تمہارے سکامنے ہوتکے ہیکں اور تمہارے پروردگار سکے ذرہ‬
‫برابر بھھی کوئی چیکز پوشیدہ نہیکں ہے نکہ زمیکن میکں نکہ آسکمان میکں اور نکہ کوئی چیکز اس سکے چھوٹھی ہے یکا بڑی مگکر کتاب‬
‫روشن میں (لک ھی ہوئی) ہے (‪ )۶۱‬سن رک ھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے‬
‫(‪( )۶۲‬یعنی) جو لوگ ایمان لئے اور پرہیزگار رہے (‪ )۶۳‬ان ککے لیکے دنیکا کی زندگکی میکں ب ھی بشارت ہے اور آخرت میں‬
‫بھھی۔ خدا کککی باتیکں بدلتککی نہیکں۔ یہی تککو بڑی کامیابککی ہے (‪ )۶۴‬اور (اے پیغمککبر) ان لوگوں کککی باتوں سکے آزردہ نکہ ہونککا‬
‫(کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے وہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے (‪ )۶۵‬سن رک ھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور‬
‫جکو زمیکن میکں ہے سکب خدا ککے (بندے اور اس ککے مملوک) ہیکں۔ اور یکہ جکو خدا ککے سکوا (اپنکے بنائے ہوئے) شریکوں ککو‬
‫پکارتے ہیں۔ وہ (کسی اور چیز کے) پیچھے نہیں چلتے۔ صرف ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں‬
‫(‪ )۶۶‬وہی تکو ہے جکس نکے تمہارے لیکے رات بنائی تاککہ اس میکں آرام کرو اور روز روشکن بنایکا ( تاککہ اس میکں کام کرو) جکو‬
‫لوگ (مادہٴ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لیے ان میں نشانیاں ہیں (‪( )۶۷‬بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنا لیا ہے۔ اس‬

‫‪Page 82 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کی ذات (اولد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اسی کا ہے‬
‫(اے افتراء پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطکل) ککی کوئی دلیکل نہیکں ہے۔ تکم خدا ککی نسکبت ایسکی بات کیوں کہتکے ہو جکو‬
‫جانتے نہیں (‪ )۶۸‬کہہ دو جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں فلح نہیں پائیں گے (‪( )۶۹‬ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا‬
‫میں (ہ یں) پ ھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو شدید عذاب (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر‬
‫(کی باتیں) کیا کرتے تھے (‪ )۷۰‬اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو‬
‫میرا تکم میکں رہنکا اور خدا ککی آیتوں سکے نصکیحت کرنکا ناگوار ہو تکو میکں خدا پکر بھروسکہ رکھتکا ہوں۔ تکم اپنکے شریکوں ککے‬
‫ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی)‬
‫سے پوشیدہ نہ رہے اور پ ھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مج ھے مہلت نہ دو (‪ )۷۱‬اور اگر تم نے منہ پھ یر لیا تو (تم‬
‫جانتکے ہو ککہ) میکں نکے تکم سکے کچکھ معاوضکہ نہیکں مانگکا۔ میرا معاوضکہ تکو خدا ککے ذمکے ہے۔ اور مجھھے حککم ہوا ہے ککہ میکں‬
‫فرمانبرداروں میں رہوں (‪ )۷۲‬لیکن ان لوگوں نکے ان ککی تکذیکب ککی تو ہم نے ان ککو اور جو لوگ ان ککے سکاتھ کشتکی میکں‬
‫سوار ت ھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہ یں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلیا ان‬
‫ککو غرق ککر دیکا تکو دیککھ لو ککہ جکو لوگ ڈرائے گئے تھھے ان ککا کیکا انجام ہوا (‪ )۷۳‬پھھر نوح ککے بعکد ہم نکے اور پیغمکبر اپنکی‬
‫اپنکی قوم ککی طرف بھیجکے۔ تکو وہ ان ککے پاس کھلی نشانیاں لے ککر آئے۔ مگکر وہ لوگ ایسکے نکہ تھھے ککہ جکس چیکز ککی پہلے‬
‫تکذیکب کرچککے تھھے اس پکر ایمان لے آتکے۔ اسکی طرح ہم زیادتکی کرنکے والوں ککے دلوں پکر مہر لگکا دیتکے ہیکں (‪ )۷۴‬پھھر ان‬
‫کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا‬
‫اور وہ گنہگار لوگ تھھے (‪ )۷۵‬تکو جکب ان ککے پاس ہمارے ہاں سکے حکق آیکا تکو کہنکے لگکے ککہ یکہ تکو صکریح جادو ہے (‪)۷۶‬‬
‫موسکیٰ نکے کہا کیکا تکم حکق ککے بارے میکں جکب وہ تمہارے پاس آیکا یکہ کہتکے ہو ککہ یکہ جادو ہے۔ حالنککہ جادوگکر فلح نہیکں پانکے‬
‫ککے (‪ )۷۷‬وہ بولے کیکا تکم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو ککہ جکس (راہ) پکر ہم اپنکے باپ دادا ککو پاتکے رہے ہیکں اس سکے ہم ککو‬
‫پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لنے والے نہیں ہیں (‪ )۷۸‬اور فرعون نے‬
‫حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ (‪ )۷۹‬جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا تم کو جو ڈالنکا‬
‫ہے ڈالو (‪ )۸۰‬جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لٹھیوں کو) ڈال تو موسیٰ نے کہا کہ جو چیزیں تم (بنا کر) لئے ہو جادو‬
‫ہے خدا اس کو بھی نیست ونابود کردے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا (‪ )۸۱‬اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ‬
‫ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں (‪ )۸۲‬تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لیا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ‬
‫ب ھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہ یں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر‬
‫ومتغلب اور (ککبر وکفکر) میکں حکد سکے بڑھھا ہوا تھھا (‪ )۸۳‬اور موسکیٰ نکے کہا ککہ بھائیکو! اگکر تکم خدا پکر ایمان لئے ہو تکو اگکر‬
‫(دل سکے) فرمانککبردار ہو تککو اسککی پککر بھروسکہ رکھھو (‪ )۸۴‬تکو وہ بولے ککہ ہم خدا ہی پککر بھروسکہ رکھتکے ہیکں۔ اے ہمارے‬
‫پروردگار ہم ککو ظالم لوگوں ککے ہاتکھ سکے آزمائش میکں نکہ ڈال (‪ )۸۵‬اور اپنکی رحمکت سکے قوم کفار سکے نجات بخکش (‪)۸۶‬‬
‫اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو‬
‫قبلہ (یعنککی مسککجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھھھو۔ اور مومنوں کککو خوشخککبری سککنادو (‪ )۸۷‬اور موسککیٰ نککے کہا اے ہمارے‬
‫پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازو برگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے‬
‫پروردگار ان کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو‬
‫سخت کردے کہ ایمان نہ لئیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں ( ‪ )۸۸‬خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت‬
‫قدم رہ نا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا (‪ )۸۹‬اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر‬
‫نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہ نے لگا کہ میں ایمان‬
‫لیکا ککہ جکس (خدا) پکر بنکی اسکرائیل ایمان لئے ہیکں اس ککے سکوا کوئی معبود نہیکں اور میکں فرمانکبرداروں میکں ہوں ( ‪)۹۰‬‬
‫(جواب مل ککہ) اب (ایمان لتکا ہے) حالنککہ تکو پہلے نافرمانکی کرتکا رہا اور مفسکد بنکا رہا (‪ )۹۱‬تکو آج ہم تیرے بدن ککو (دریکا‬
‫سکے) نکال لیکں گکے تاککہ تکو پچھلوں ککے لئے عکبرت ہو۔ اور بہت سکے لوگ ہماری نشانیوں سکے بےخکبر ہیکں ( ‪ )۹۲‬اور ہم نکے‬
‫بنی اسرائیل کو رہ نے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم ہونے کے اختلف کرتے‬
‫رہے۔ بےشک جن باتوں میں وہ اختلف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا (‬
‫‪ )۹۳‬اگکر تکم ککو اس (کتاب ککے) بارے میکں جکو ہم نکے تکم پکر نازل ککی ہے کچکھ شکک ہو تکو جکو لوگ تکم سکے پہلے ککی (اُتری‬

‫‪Page 83 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ہوئی) کتابیکں پڑھتکے ہیکں ان سکے پوچکھ لو۔ تمہارے پروردگار ککی طرف سکے تمہارے پاس حکق آچککا ہے تکو تکم ہرگکز شکک‬
‫کرنے والوں میں نہ ہونا (‪ )۹۴‬اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے (‬
‫‪ )۹۵‬جکن لوگوں ککے بارے میکں خدا ککا حککم (عذاب) قرار پاچککا ہے وہ ایمان نہیکں لنکے ککے (‪ )۹۶‬جکب تکک ککہ عذاب الیکم نکہ‬
‫دیککھ لیکں خواہ ان ککے پاس ہر (طرح ککی) نشانکی آجائے (‪ )۹۷‬تکو کوئی بسکتی ایسکی کیوں نکہ ہوئی ککہ ایمان لتکی تکو اس ککا‬
‫ایمان اسکے نفکع دیتکا ہاں یونکس ککی قوم۔ جکب ایمان لئی تکو ہم نکے دنیکا ککی زندگکی میکں ان سکے ذلت ککا عذاب دور کردیکا اور‬
‫ایکک مدت تکک (فوائد دنیاوی سکے) ان ککو بہرہ منکد رکھھا (‪ )۹۸‬اور اگکر تمہارا پروردگار چاہتکا تکو جتنکے لوگ زمیکن پکر ہیکں‬
‫سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں ( ‪ )۹۹‬حالنکہ کسی شخص کو‬
‫قدرت نہیکں ہے ککہ خدا ککے حککم ککے بغیکر ایمان لئے۔ اور جو لوگ بےعقکل ہیکں ان پکر وہ (کفکر وذلت ککی) نجاسکت ڈالتکا ہے (‬
‫‪( )۱۰۰‬ان کفار سکے) کہو دیکھھو تکو زمیکن اور آسکمانوں میکں کیکا کچکھ ہے۔ مگکر جکو لوگ ایمان نہیکں رکھتکے ان ککی نشانیاں‬
‫اور ڈرواے کچھ کام نہیں آتے (‪ )۱۰۱‬سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں اسی طرح کے (دنوں کے)‬
‫یہ منتظکر ہ یں۔ کہہ دو کہ تم ب ھی انتظار کرو۔ میں بھھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں (‪ )۱۰۲‬اور ہم اپنکے پیغمبروں ککو اور‬
‫مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں ( ‪( )۱۰۳‬اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو اگر‬
‫تم کو میرے دیکن میں کسکی طرح کا شک ہو تو (سن رکھھو کہ) جکن لوگوں ککی تکم خدا کے سوا عبادت کرتکے ہو میں ان کی‬
‫عبادت نہیکں کرتکا۔ بلککہ میکں خدا ککی عبادت کرتکا ہوں جکو تمھاری روحیکں قبکض کرلیتکا ہے اور مجکھ ککو یہی حککم ہوا ہے ککہ‬
‫ایمان لنکے والوں میکں ہوں (‪ )۱۰۴‬اور یکہ ککہ (اے محمککد سککب سکے) یکسککو ہو کککر دیککن (اسککلم) کککی پیروی کئے جاؤ۔ اور‬
‫مشرکوں میں ہرگز نہ ہونا (‪ )۱۰۵‬اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھل کرسکے اور نہ کچھ‬
‫بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے (‪ )۱۰۶‬اور اگر خدا تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس‬
‫کا کوئی دور کرنے وال نہیں اور اگر تم سے بھلئی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے وال نہیں۔ وہ اپنے بندوں‬
‫میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے وال مہربان ہے (‪ )۱۰۷‬کہہ دو کہ لوگو تمہارے پروردگار کے ہاں سے‬
‫تمہارے پاس حکق آچککا ہے تکو جکو کوئی ہدایکت حاصکل کرتکا ہے تکو ہدایکت سکے اپنکے ہی حکق میکں بھلئی کرتکا ہے۔ اور جکو‬
‫گمراہی اختیار کرتکا ہے تکو گمراہی سکے اپنکا ہی نقصکان کرتکا ہے۔ اور میکں تمہارا وکیکل نہیکں ہوں (‪ )۱۰۸‬اور (اے پیغمکبر) تکم‬
‫کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کئے جاؤ اور (تکلیفوں پر) صبر کرو یہاں تک کہ خدا فیصلہ کردے۔ اور وہ سب‬
‫سے بہتر فیصلہ کرنے وال ہے (‪)۱۰۹‬‬

‫‪Page 84 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة هُود‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫الٓرا۔ یکہ وہ کتاب ہے جکس ککی آیتیکں مسکتحکم ہیکں اور خدائے حکیکم وخبیکر ککی طرف سکے بکہ تفصکیل بیان کردی گئی ہے (‪)۱‬‬
‫(وہ یکہ) کہ خدا ککے سکوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس ککی طرف سے تم کو ڈر سنانے وال اور خوشخکبری دینکے وال‬
‫ہوں (‪ )۲‬اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو وہ تو تم کو ایک وقت مقررہ تک متاع نیک‬
‫سکے بہرہ منکد کرے گکا اور ہر صکاحب بزرگ ککو اس ککی بزرگکی (ککی داد) دے گکا۔ اور اگکر روگردانکی کرو گکے تکو مجھھے‬
‫تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (‪ )۳‬تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز‬
‫پر قادر ہے (‪ )۴‬دیک ھو یہ اپنے سینوں کو دوھرا کرتے ہ یں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ‬
‫کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے (‪ )۵‬اور زمین‬
‫پر کوئی چلنے پھرنے وال نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے‪ ،‬اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا‬
‫ہے اسے ب ھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لک ھا ہوا) ہے (‪ )۶‬اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں‬
‫بنایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے‬
‫لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو‬
‫کھل جادو ہے (‪ )۷‬اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب روکے ہوئے‬
‫ہے۔ دیکھھو جکس روز وہ ان پکر واقکع ہوگکا (پھھر) ٹلنکے ککا نہیکں اور جکس چیکز ککے سکاتھ یکہ اسکتہزاء کیکا کرتکے ہیکں وہ ان ککو‬
‫گھیکر لے گکی (‪ )۸‬اور اگکر ہم انسکان ککو اپنکے پاس سکے نعمکت بخشیکں پھھر اس سکے اس ککو چھیکن لیکں تکو ناامیکد (اور) ناشکرا‬
‫(ہوجاتا) ہے (‪ )۹‬اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ‬
‫سکے دور ہوگئیکں۔ بےشکک وہ خوشیاں منانکے وال (اور) فخکر کرنکے وال ہے (‪ )۱۰‬ہاں جنہوں نکے صکبر کیکا اور عمکل نیکک‬
‫کئے۔ یہی ہیکں جن کے لیے بخشکش اور اجرعظیکم ہے (‪ )۱۱‬شایکد تم کچھ چیز وحکی میکں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ‬
‫دو اور اس (خیال) سے کہ تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ نازل ہوا یا اس کے ساتھ‬
‫کوئی فرشتکہ کیوں نہیکں آیکا۔ اے محمدﷺ! تکم تکو صکرف نصکیحت کرنکے والے ہو۔ اور خدا ہر چیکز ککا نگہبان ہے (‪ )۱۲‬یکہ کیکا‬
‫کہتے ہیں کہ اس نے قرآن ازخود بنا لیا ہے؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لؤ اور خدا کے سوا جس‬
‫جس کو بلسکتے ہو‪ ،‬بل بھی لو (‪ )۱۳‬اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اُترا ہے اور یہ کہ‬
‫اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلم لے آنا چاہئیے ( ‪ )۱۴‬جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے‬
‫طالب ہوں ہم ان ککے اعمال ککا بدلہ انہیکں دنیکا میکں ہی دے دیتکے ہیکں اور اس میکں ان ککی حکق تلفکی نہیکں ککی جاتکی ( ‪ )۱۵‬یکہ وہ‬
‫لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آتش (جہنم) کے سوا کوئی چیز نہیں اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو‬
‫کچکھ وہ کرتکے رہے‪ ،‬سکب ضائع (‪ )۱۶‬بھل جکو لوگ اپنکے پروردگار ککی طرف سکے (روشکن) دلیکل رکھتکے ہوں اور ان ککے‬
‫ساتھ ایک (آسمانی) گواہ ب ھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا‬
‫وہ قرآن پر ایمان نہیں لئیں گے) یہی لوگ اس پر ایمان لتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس‬
‫ککا ٹھکانکہ آگ ہے۔ تکو تکم اس (قرآن) سکے شکک میکں نکہ ہونکا۔ یکہ تمہارے پروردگار ککی طرف سکے حکق ہے لیککن اکثکر لوگ‬
‫ایمان نہیکں لتکے (‪ )۱۷‬اور اس سکے بڑھ ککر ظالم کون ہوگکا جکو خدا پکر جھوٹ افتراء کرے ایسکے لوگ خدا ککے سکامنے پیکش‬
‫کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بول تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر ال‬
‫کی لعنت ہے (‪ )۱۸‬جو خدا کے رستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں‬
‫(‪ )۱۹‬یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) نہیں ہرا سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان‬
‫کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے ( ‪۲۰‬‬
‫) یہی ہ یں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈال اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے ت ھے ان سے جاتا رہا (‪ )۲۱‬بلشبہ یہ لوگ‬
‫آخرت میں سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہ یں (‪ )۲۲‬جو لوگ ایمان لئے اور عمل نیک کئے اور اپنے پروردگار کے آگے‬

‫‪Page 85 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫عاجزی ککی۔ یہی صکاحب جنکت ہیکں اور ہمیشکہ اس میکں رہیکں گکے (‪ )۲۳‬دونوں فرقوں (یعنکی کافرومومکن) ککی مثال ایسکی ہے‬
‫جیسے ایک اندھا بہرا ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھل دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟ (‪ )۲۴‬اور‬
‫ہم نکے نوح ککو ان ککی قوم ککی طرف بھیجکا (تکو انہوں نکے ان سکے کہا) ککہ میکں تکم ککو کھول کھول ککر ڈر سکنانے اور پیغام‬
‫پہنچانے آیا ہوں (‪ )۲۵‬کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے (‪ )۲۶‬تو ان کی‬
‫قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے‬
‫پیرو وہی لوگ ہوئے ہیکں جکو ہم میکں ادنیکٰ درجکے ککے ہیکں۔ اور وہ بھھی رائے ظاہر سکے (نکہ غوروتعمکق سکے) اور ہم تکم میکں‬
‫اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہ یں دیکھ تے بلکہ تمہ یں جھو ٹا خیال کرتے ہ یں (‪ )۲۷‬انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیک ھو تو‬
‫اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھ تا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی‬
‫حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ تو کیا ہم اس کے لیے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے‬
‫ہو (‪ )۲۸‬اور اے قوم! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہ یں ہوں‪ ،‬میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور‬
‫جو لوگ ایمان لئے ہ یں‪ ،‬میں ان کو نکالنکے وال ب ھی نہ یں ہوں۔ وہ تو اپنکے پروردگار سے ملنے والے ہ یں لیکن میں دیکھ تا‬
‫ہوں ککہ تکم لوگ نادانکی ککر رہے ہو (‪ )۲۹‬اور برادران ملت! اگکر میکں ان ککو نکال دوں تکو (عذاب) خدا سکے (بچانکے ککے لیکے)‬
‫کون میری مدد کرسککتا ہے۔ بھل تکم غور کیوں نہیکں کرتکے؟ (‪ )۳۰‬میکں نکہ تکم سکے یکہ کہتکا ہوں ککہ میرے پاس خدا ککے خزانکے‬
‫ہ یں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہ تا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی‬
‫نظکر سکے دیکھتکے ہو یکہ کہتکا ہوں ککہ خدا ان ککو بھلئی (یعنکی اعمال ککی جزائے نیکک) نہیکں دے گکا جکو ان ککے دلوں میکں ہے‬
‫اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں (‪ )۳۱‬انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا تو کیا‬
‫اور جھگڑا بھی بہت کیا۔ لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر ل نازل کرو (‪ )۳۲‬نوح نے کہا کہ اس‬
‫ککو خدا ہی چاہے گکا تکو نازل کرے گکا۔ اور تکم (اُس ککو کسکی طرح) ہرا نہیکں سککتے ( ‪ )۳۳‬اور اگکر میکں یکہ چاہوں ککہ تمہاری‬
‫خیرخواہی کروں اور خدا یکہ چاہے وہ تمہیکں گمراہ کرے تکو میری خیرخواہی تکم ککو کچکھ فائدہ نہیکں دے سککتی۔ وہی تمہارا‬
‫پروردگار ہے اور تمہیں اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے (‪ )۳۴‬کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا‬
‫ہے۔ کہہ دو ککہ اگکر میکں نکے دل سکے بنالیکا ہے تو میرے گناہ ککا وبال مجکھ پکر اور جکو گناہ تکم کرتکے ہو اس سکے میکں بری الذمکہ‬
‫ہوں (‪ )۳۵‬اور نوح کی طرف وحی ککی گئی ککہ تمہاری قوم میں جکو لوگ ایمان (لچکے)‪ ،‬ان کے سوا کوئی اور ایمان نہیکں‬
‫لئے گا تو جو کام یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے غم نہ کھاؤ ( ‪ )۳۶‬اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور‬
‫جکو لوگ ظالم ہیکں ان ککے بارے میکں ہم سکے کچکھ نکہ کہنکا کیونککہ وہ ضرور غرق کردیئے جائیکں گکے (‪ )۳۷‬تکو نوح نکے کشتکی‬
‫بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم ہم‬
‫سے تمسخر کرتے ہو تو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اس طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے ( ‪)۳۸‬‬
‫اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے اور جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے‬
‫(‪ )۳۹‬یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں‬
‫سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے‬
‫(کہ ہلک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لیا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ‬
‫ایمان بہت ہی ککم لوگ لئے تھھے (‪( )۴۰‬نوح نکے) کہا ککہ خدا ککا نام لے ککر (ککہ اسکی ککے ہاتکھ میکں اس ککا) چلنکا اور ٹھہرنکا‬
‫(ہے) اس میکں سکوار ہوجاؤ۔ بےشکک میرا پروردگار بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۴۱‬اور وہ ان ککو لے ککر (طوفان ککی) لہروں‬
‫میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھ یں) گویا پہاڑ (ت ھے) اس وقت نوح نے اپنے بی ٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ ت ھا‪ ،‬پکارا کہ‬
‫بی ٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو (‪ )۴۲‬اس نے کہا کہ میں (اب ھی) پہاڑ سے جا لگوں گا‪ ،‬وہ مج ھے‬
‫پانکی سکے بچالے گکا۔ انہوں نکے کہا ککہ آج خدا ککے عذاب سکے کوئی بچانکے وال نہیکں (اور نکہ کوئی بکچ سککتا ہے) مگکر جکس پکر‬
‫خدا رحکم کرے۔ اتنکے میکں دونوں ککے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب ککر رہ گیکا (‪ )۴۳‬اور حککم دیکا گیکا ککہ اے زمیکن اپنکا‬
‫پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ‬
‫دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت (‪ )۴۴‬اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بی ٹا ب ھی میرے‬
‫گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے ( ‪ )۴۵‬خدا نے فرمایا کہ نوح‬
‫وہ تیرے گھھر والوں میکں نہیکں ہے وہ تکو ناشائسکتہ افعال ہے تکو جکس چیکز ککی تکم ککو حقیقکت معلوم نہیکں ہے اس ککے بارے میکں‬

‫‪Page 86 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو (‪ )۴۶‬نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ‬
‫مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مج ھے معلوم نہ یں۔ اور اگر تو مج ھے نہ یں بخشے گا اور‬
‫مجکھ پکر رحکم نہیکں کرے گکا تکو میکں تباہ ہوجاؤں گکا (‪ )۴۷‬حککم ہوا ککہ نوح ہماری طرف سکے سکلمتی اور برکتوں ککے سکاتھ‬
‫(جکو) تکم پکر اور تمہارے سکاتھ ککی جماعتوں پکر (نازل ککی گئی ہیکں) اتکر آؤ۔ اور کچکھ اور جماعتیکں ہوں گکی جکن ککو ہم (دنیکا‬
‫ککے فوائد سکے) محظوظ کریکں گکے پھھر ان ککو ہماری طرف سکے عذاب الیکم پہنچکے گکا (‪ )۴۸‬یکہ (حالت) منجملہ غیکب ککی‬
‫خکبروں ککے ہیکں جکو ہم تمہاری طرف بھیجتکے ہیکں۔ اور اس سکے پہلے نکہ تکم ہی ان ککو جانتکے تھھے اور نکہ تمہاری قوم (ہی ان‬
‫سکے واقکف تھھی) تکو صکبر کرو ککہ انجام پرہیزگاروں ہی ککا (بھل) ہے (‪ )۴۹‬اور ہم نکے عاد ککی طرف ان ککے بھائی ہود (ککو‬
‫بھیجکا) انہوں نکے کہا ککہ میری قوم! خدا ہی ککی عبادت کرو‪ ،‬اس ککے سکوا تمہارا کوئی معبود نہیکں۔ تکم (شرک کرککے خدا پکر)‬
‫محض بہتان باندھ تے ہو (‪ )۵۰‬میری قوم! میں اس (وعظ و نصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہ یں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے‬
‫ذمّے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھل تم سمجھتے کیوں نہیں؟ (‪ )۵۱‬اور اے قوم! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس‬
‫ککے آگکے توبکہ کرو۔ وہ تکم پکر آسکمان سکے موسکلدھار مینکہ برسکائے گکا اور تمہاری طاقکت پکر طاقکت بڑھائے گکا اور (دیکھھو)‬
‫گنہگار بکن ککر روگردانکی نکہ کرو (‪ )۵۲‬وہ بولے ہود تکم ہمارے پاس کوئی دلیکل ظاہر نہیکں لئے اور ہم (صکرف) تمہارے کہنکے‬
‫سکے نکہ اپنکے معبودوں ککو چھوڑنکے والے ہیکں اور نکہ تکم پکر ایمان لنکے والے ہیکں (‪ )۵۳‬ہم تکو یکہ سکمجھتے ہیکں ککہ ہمارے کسکی‬
‫معبود نے تمہ یں آسیب پہنچا کر (دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم ب ھی گواہ رہو کہ جن‬
‫کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں اس سے بیزار ہوں (‪( )۵۴‬یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل‬
‫ککر میرے بارے میکں جکو تدبیکر (کرنکی چاہو) کرلو اور مجھھے مہلت نکہ دو (‪ )۵۵‬میکں خدا پکر جکو میرا اور تمہارا (سکب ککا)‬
‫پروردگار ہے‪ ،‬بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے وال ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بےشک میرا‬
‫پروردگار سیدھے رستے پر ہے (‪ )۵۶‬اگر تم روگردانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے‪ ،‬وہ میں‬
‫نکے تمہیکں پہنچکا دیکا ہے۔ اور میرا پروردگار تمہاری جگکہ اور لوگوں ککو لبسکائے گکا۔ اور تکم خدا ککا کچکھ بھھی نقصکان نہیکں‬
‫کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے (‪ )۵۷‬اور جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان‬
‫ککے سکاتھ ایمان لئے تھھے ان ککو اپنکی مہربانکی سکے بچکا لیکا۔ اور ان ککو عذاب شدیکد سکے نجات دی ( ‪ )۵۸‬یکہ (وہی) عاد ہیکں‬
‫جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا (‪ )۵۹‬تو‬
‫اس دنیا میں ب ھی لعنت ان کے پیچ ھے لگی رہے گی اور قیامت کے دن ب ھی (لگی رہے گی) دیک ھو عاد نے اپنے پروردگار‬
‫سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے (‪ )۶۰‬اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو‬
‫انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہ یں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس‬
‫میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول‬
‫کرنے وال (بھی) ہے (‪ )۶۱‬انہوں نے کہا کہ صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع‬
‫ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں؟ اور جس بات کی طرف‬
‫تم ہمیں بلتے ہو‪ ،‬اس میں ہمیں قوی شبہ ہے (‪ )۶۲‬صالح نے کہا اے قوم! بھل دیک ھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف‬
‫سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مج ھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو‬
‫اس کے سامنے میری کون مدد کرے گا؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو (‪ )۶۳‬اور یہ بھی کہا کہ اے قوم! یہ‬
‫خدا کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور‬
‫اس ککو کسکی طرح ککی تکلیکف نکہ دینکا ورنکہ تمہیکں جلد عذاب آپکڑے گکا (‪ )۶۴‬مگکر انہوں نکے اس ککی کانچیکں کاٹ ڈالیکں۔ تکو‬
‫(صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تم تین دن (اور) فائدہ اٹھا لو۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا ( ‪ )۶۵‬جب ہمارا حکم آگیا‬
‫تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لئے ت ھے ان کو اپنی مہربانی سے بچالیا۔ اور اس دن کی رسوائی سے‬
‫(محفوظ رکھا)۔ بےشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے (‪ )۶۶‬اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی‬
‫صکورت میکں عذاب) نکے آپکڑا تکو وہ اپنکے گھروں میکں اوندھھے پڑے رہ گئے (‪ )۶۷‬گویکا کبھھی ان میکں بسکے ہی نکہ تھھے۔ سکن‬
‫رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے (‪ )۶۸‬اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس‬
‫بشارت لے کر آئے تو سلم کہا۔ انہوں نے ب ھی (جواب میں) سلم کہا۔ اب ھی کچھ وقفہ نہ یں ہوا ت ھا کہ (ابراہ یم) ایک بھ نا ہوا‬
‫بچھڑا لے آئے (‪ )۶۹‬جکب دیکھھا ککہ ان ککے ہاتکھ کھانکے ککی طرف نہیکں جاتکے (یعنکی وہ کھانکا نہیکں کھاتکے) تکو ان ککو اجنبکی‬

‫‪Page 87 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سکمجھ ککر دل میکں خوف کیکا۔ (فرشتوں نکے) کہا ککہ خوف نکہ کیجیکے‪ ،‬ہم قوم لوط ککی طرف (ان ککے ہلک کرنکے ککو) بھیجکے‬
‫گئے ہیں (‪ )۷۰‬اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی‪ ،‬ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب‬
‫کی خوشخبری دی (‪ )۷۱‬اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا؟ میں تو بڑھ یا ہوں اور میرے میاں ب ھی بوڑھے ہ یں۔ یہ تو بڑی‬
‫عجیب بات ہے (‪ )۷۲‬انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی‬
‫برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے (‪ )۷۳‬جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی تو‬
‫قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے (‪ )۷۴‬بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے‪ ،‬نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے (‬
‫‪ )۷۵‬اے ابراہیکم اس بات ککو جانکے دو۔ تمہارے پروردگار ککا حککم آپہنچکا ہے۔ اور ان لوگوں پکر عذاب آنکے وال ہے جکو کبھھی‬
‫نہ یں ٹلنے کا (‪ )۷۶‬اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہ نے‬
‫لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے (‪ )۷۷‬اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑ تے ہوئے آئے اور یہ لوگ‬
‫پہلے ہی سکے فعکل شنیکع کیکا کرتکے تھھے۔ لوط نکے کہا ککہ اے قوم! یکہ (جکو) میری (قوم ککی) لڑکیاں ہیکں‪ ،‬یکہ تمہارے لیکے (جائز‬
‫اور) پاک ہ یں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی ب ھی شائستہ آدمی‬
‫نہیں (‪ )۷۸‬وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے‬
‫تم (خوب) جانتے ہو (‪ )۷۹‬لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ‬
‫سکتا (‪ )۸۰‬فرشتوں نے کہا کہ لوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہ یں۔ یہ لوگ ہرگز تم تک نہ یں پہ نچ سکیں گے تو کچھ‬
‫رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی‬
‫کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور‬
‫ہے؟ (‪ )۸۱‬تکو جکب ہمارا حککم آیکا ہم نکے اس (بسکتی) ککو (اُلٹ ککر) نیچکے اوپکر کردیکا اور ان پکر پتھھر ککی تہہ بکہ تہہ (یعنکی‬
‫پےدرپکے) کنکریاں برسکائیں (‪ )۸۲‬جکن پکر تمہارے پروردگار ککے ہاں سکے نشان کئے ہوئے تھھے اور وہ بسکتی ان ظالموں سکے‬
‫کچھ دور نہیں (‪ )۸۳‬اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو‬
‫کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم‬
‫ایمان نکہ لؤ گکے تکو) مجھھے تمہارے بارے میکں ایکک ایسکے دن ککے عذاب ککا خوف ہے جکو تکم ککو گھیکر ککر رہے گکا (‪ )۸۴‬اور‬
‫قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی‬
‫کرتے نہ پھرو (‪ )۸۵‬اگر تم کو (میرے کہ نے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لیے بہ تر ہے اور میں تمہارا نگہبان‬
‫نہیں ہوں (‪ )۸۶‬انہوں نے کہا شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو‬
‫ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو (‪ )۸۷‬انہوں نے کہا کہ اے‬
‫قوم! دیک ھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مج ھے نیک روزی دی‬
‫ہو (تو کیا میں ان کے خلف کروں گا؟) اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں۔‬
‫میں تو جہاں تک مجھ سے ہوسکے (تمہارے معاملت کی) اصلح چاہ تا ہوں اور (اس بارے میں) مج ھے توفیق کا ملنا خدا‬
‫ہی (ککے فضککل) سکے ہے۔ میکں اسککی پککر بھروسکہ رکھتککا ہوں اور اس کککی طرف رجوع کرتککا ہوں (‪ )۸۸‬اور اے قوم! میری‬
‫مخالفکت تکم سکے کوئی ایسکا کام نکہ کرادے ککہ جیسکی مصکیبت نوح ککی قوم یکا ہود ککی قوم یکا صکالح ککی قوم پکر واقکع ہوئی تھھی‬
‫ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں ( ‪ )۸۹‬اور اپنے پروردگار سے بخشش‬
‫مانگککو اور اس ککے آگکے توبکہ کرو۔ بےشککک میرا پروردگار رحککم وال (اور) محبککت وال ہے (‪ )۹۰‬اُنہوں نکے کہا ککہ شعیککب‬
‫تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہ یں آتیں اور ہم دیکھ تے ہ یں کہ تم ہم میں کمزور ب ھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ‬
‫ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو (‪ )۹۱‬انہوں نے کہا کہ قوم! کیا میرے بھائی‬
‫بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے۔ اور اس کو تم نے پی ٹھ پیچ ھے ڈال رک ھا ہے۔ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال‬
‫پر احاطہ کیے ہوئے ہے (‪ )۹۲‬اور برادران ملت! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) کام کیے جاتا ہوں۔ تم کو عنقریب‬
‫معلوم ہوجائے گکا ککہ رسکوا کرنکے وال عذاب ککس پکر آتکا ہے اور جھوٹھا کون ہے اور تکم بھھی انتظار کرو‪ ،‬میکں بھھی تمہارے‬
‫ساتھ انتظار کرتا ہوں (‪ )۹۳‬اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لئے ت ھے ان کو‬
‫تو اپنی رحمت سے بچا لیا۔ اور جو لوگ ظالم تھے‪ ،‬ان کو چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (‬
‫‪ )۹۴‬گویا ان میں کب ھی بسے ہی نہ ت ھے۔ سن رک ھو کہ مدین پر (ویسی ہی) پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار ت ھی (‪)۹۵‬‬

‫‪Page 88 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا (‪( )۹۶‬یعنی) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو‬
‫وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے۔ اور فرعون کا حکم درست نہ یں ت ھا (‪ )۹۷‬وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا‬
‫اور ان ککو دوزخ میکں جکا اُتارے گکا اور جکس مقام پکر وہ اُتارے جائیکں گکے وہ برا ہے ( ‪ )۹۸‬اور اس جہان میکں بھھی لعنکت ان‬
‫ککے پیچھھے لگکا دی گئی اور قیامکت ککے دن بھھی (پیچھھے لگکی رہے گکی)۔ جکو انعام ان ککو مل ہے برا ہے (‪ )۹۹‬یکہ (پرانکی)‬
‫بستیوں کے تھوڑے سے حالت ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا‬
‫(‪ )۱۰۰‬اور ہم نکے ان لوگوں پکر ظلم نہیکں کیکا بلککہ انہوں نکے خود اپنکے اُوپکر ظلم کیکا۔ غرض جکب تمہارے پروردگار ککا حککم‬
‫آپہنچکا تو جکن معبودوں کو وہ خدا ککے سکوا پکارا کرتکے تھھے وہ ان کے کچھ بھھی کام نکہ آئے۔ اور تباہ کرنکے کے سوا ان کے‬
‫حق میں اور کچھ نہ کرسکے (‪ )۱۰۱‬اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اس کی پکڑ اسی طرح‬
‫ککی ہوتکی ہے۔ بےشکک اس ککی پککڑ دککھ دینکے والی اور سکخت ہے (‪ )۱۰۲‬ان (قصکوں) میکں اس شخکص ککے لیکے جکو عذاب‬
‫آخرت سکے ڈرے عکبرت ہے۔ یکہ وہ دن ہوگکا جکس میکں سکب لوگ اکٹھھے کیکے جائیکں گکے اور یہی وہ دن ہوگکا جکس میکں سکب‬
‫(خدا ککے روبرو) حاضکر کیکے جائیکں گکے (‪ )۱۰۳‬اور ہم اس ککے لنکے میکں ایکک وقکت معیکن تکک تاخیکر ککر رہے ہیکں (‪)۱۰۴‬‬
‫جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے‬
‫اور کچھ نیک بخت (‪ )۱۰۵‬تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں ان کا چلنا اور دھاڑنا ہوگا‬
‫(‪( )۱۰۶‬اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں‪ ،‬اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار‬
‫جکو چاہتکا ہے کردیتکا ہے (‪ )۱۰۷‬اور جکو نیکک بخکت ہوں گکے‪ ،‬وہ بہشکت میکں داخکل کیکے جائیکں گکے اور جکب تکک آسکمان اور‬
‫زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔ اور‬
‫جو نیک بخت ہوں گے وہ بہ شت میں داخل کئے جائیں گے (اور) جب تک آسمان اور زمین ہ یں ہمیشہ اسی میں رہ یں گے۔‬
‫مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ یہ (خدا کی) بخشش ہے جو کب ھی منقطع نہ یں ہوگی ( ‪ )۱۰۸‬تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی)‬
‫پرسکتش کرتکے ہیکں۔ اس سکے تکم خلجان میکں نکہ پڑنکا۔ یکہ اسکی طرح پرسکتش کرتکے ہیکں جکس طرح پہلے سکے ان ککے باپ دادا‬
‫پرستش کرتے آئے ہیں۔ اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پورا بل کم وکاست دینے والے ہیں ( ‪ )۱۰۹‬اور ہم نے موسیٰ کو کتاب‬
‫دی تکو اس میکں اختلف کیکا گیکا اور اگکر تمہارے پروردگار ککی طرف سکے ایکک بات پہلے نکہ ہوچککی ہوتکی تکو ان میکں فیصکلہ‬
‫کردیا جاتا۔ اور وہ تو اس سے قوی شبہے میں (پڑے ہوئے) ہ یں (‪ )۱۱۰‬اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) ان‬
‫کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بے شک جو عمل یہ کرتے ہ یں وہ اس سے واقف ہے (‪ )۱۱۱‬سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو‬
‫حککم ہوتکا ہے (اس پکر) تکم اور جکو لوگ تمہارے سکاتھ تائب ہوئے ہیکں قائم رہو۔ اور حکد سکے تجاوز نکہ کرنکا۔ وہ تمہارے سکب‬
‫اعمال کو دیکھ رہا ہے (‪ )۱۱۲‬اور جو لوگ ظالم ہ یں‪ ،‬ان کی طرف مائل نہ ہونا‪ ،‬نہ یں تو تمہ یں (دوزخ کی) آگ آلپ ٹے گی‬
‫اور خدا ککے سکوا تمہارے اور دوسکت نہیکں ہیکں۔ اگکر تکم ظالموں ککی طرف مائل ہوگئے تکو پھھر تکم ککو (کہیکں سکے) مدد نکہ مکل‬
‫سکے گی (‪ )۱۱۳‬اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح اور شام کے اوقات میں) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز‬
‫پڑھا کرو۔ کچھ شک نہ یں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہ یں۔ یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے‬
‫ہ یں (‪ )۱۱۴‬اور صبر کیے رہو کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہ یں کرتا (‪ )۱۱۵‬تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہ یں‪،‬‬
‫ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (ت ھے) جن کو ہم نے‬
‫ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں‬
‫میں ڈوبے ہوئے تھھے (‪ )۱۱۶‬اور تمہارا پروردگار ایسکا نہیکں ہے کہ بستیوں کو جکب کہ وہاں ککے باشندے نیکوکار ہوں ازراہِ‬
‫ظلم تباہ کردے (‪ )۱۱۷‬اور اگککر تمہارا پروردگار چاہتککا تککو تمام لوگوں کککو ایککک ہی جماعککت کردیتککا لیکککن وہ ہمیشکہ اختلف‬
‫کرتکے رہیکں گکے (‪ )۱۱۸‬مگککر جککن پککر تمہارا پروردگار رحککم کرے۔ اور اسککی لیکے اس نکے ان کککو پیدا کیککا ہے اور تمہارے‬
‫پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے ب ھر دوں گا (‪( )۱۱۹‬اے محمدﷺ) اور پیغمبروں‬
‫کے وہ سب حالت جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس‬
‫حق پہ نچ گیا اور یہ مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت ہے (‪ )۱۲۰‬اور جو لوگ ایمان نہ یں لئے ان سے کہہ دو کہ تم اپنی‬
‫جگکہ عمکل کیکے جاؤ۔ ہم اپنکی جگکہ عمکل کیکے جاتکے ہیکں (‪ )۱۲۱‬اور (نتیجہٴ اعمال ککا) تکم بھھی انتظار کرو‪ ،‬ہم بھھی انتظار‬
‫کرتکے ہیکں (‪ )۱۲۲‬اور آسکمانوں اور زمیکن ککی چھپکی چیزوں ککا علم خدا ہی ککو ہے اور تمام امور ککا رجوع اسکی ککی طرف‬

‫‪Page 89 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو تمہارا پروردگار اس سے بےخبر نہیں (‬
‫‪)۱۲۳‬‬

‫‪Page 90 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة یُوسُف‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫الٓرا۔ یکہ کتاب روشکن ککی آیتیکں ہیکں (‪ )۱‬ہم نکے اس قرآن ککو عربکی میکں نازل کیکا ہے تاککہ تکم سکمجھ سککو (‪( )۲‬اے پیغمکبر) ہم‬
‫اس قرآن ککے ذریعکے سکے جکو ہم نکے تمہاری طرف بھیجکا ہے تمہیکں ایکک نہایکت اچھھا قصکہ سکناتے ہیکں اور تکم اس سکے پہلے‬
‫بے خبر ت ھے (‪ )۳‬جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیک ھا‬
‫ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں (‪ )۴‬انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا‬
‫نہ یں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہ یں کہ شیطان انسان کا کھل دشمن ہے (‪ )۵‬اور اسی‬
‫طرح خدا تمہ یں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی‬
‫نعمکت پہلے تمہارے دادا‪ ،‬پردادا ابراہیکم اور اسکحاق پکر پوری ککی تھھی اسکی طرح تکم پکر اور اولد یعقوب پکر پوری کرے گکا۔‬
‫بے شک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے وال (اور) حکمت وال ہے (‪ )۶‬ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں‬
‫پوچھ نے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہ یں (‪ )۷‬جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم‬
‫سے زیادہ پیارے ہیں حالنکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں (‪ )۸‬تو یوسف کو (یا‬
‫تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پ ھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم‬
‫اچ ھی حالت میں ہوجاؤ گے (‪ )۹‬ان میں سے ایک کہنکے والے نے کہا کہ یوسکف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں‬
‫ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو) (‪( )۱۰‬یہ مشورہ کر کے وہ‬
‫یعقوب سکے) کہنکے لگکے ککہ اباجان کیکا سکبب ہے ککہ آپ یوسکف ککے بارے میکں ہمارا اعتبار نہیکں کرتکے حالنککہ ہم اس ککے‬
‫خیرخواہ ہ یں (‪ )۱۱‬ککل اسکے ہمارے سکاتھ بھ یج دیجیئے ککہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس ککے نگہبان ہ یں (‪)۱۲‬‬
‫انہوں نکے کہا ککہ یکہ امکر مجھھے غمناک کئے دیتکا ہے ککہ تکم اسکے لے جاؤ (یعنکی وہ مجکھ سکے جدا ہوجائے) اور مجھھے یکہ خوف‬
‫ب ھی ہے کہ تم (کھ یل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑ یا ک ھا جائے (‪ )۱۳‬وہ کہ نے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں‬
‫کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہ یں‪ ،‬اسے بھیڑ یا ک ھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے (‪ )۱۴‬غرض جب وہ اس کو لے گئے اور‬
‫اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے‬
‫گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی ( ‪( )۱۵‬یہ حرکت کرکے) وہ رات‬
‫کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے (‪( )۱۶‬اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں‬
‫مصکروف ہوگئے اور یوسکف ککو اپنکے اسکباب ککے پاس چھوڑ گئے تکو اسکے بھیڑیکا کھھا گیکا۔ اور آپ ہماری بات ککو گکو ہم سکچ‬
‫ہی کہتکے ہوں باور نہیکں کریکں گکے (‪ )۱۷‬اور ان ککے کرتکے پکر جھوٹ موٹ ککا لہو بھھی لگکا لئے۔ یعقوب نکے کہا (ککہ حقیقکت‬
‫حال یوں نہیکں ہے) بلککہ تکم اپنکے دل سے (یہ) بات بنکا لئے ہو۔ اچ ھا صکبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتکے ہو اس‬
‫ککے بارے میکں خدا ہی سکے مدد مطلوب ہے (‪( )۱۸‬اب خدا ککی شان دیکھھو ککہ اس کنویکں ککے قریکب) ایکک قافلہ آوارد ہوا اور‬
‫انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے ل ٹک گئے) وہ بول زہے قسمت‬
‫یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا‬
‫(‪ )۱۹‬اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈال۔ اور انہ یں ان (کے بارے) میں کچھ للچ نہ ت ھا‬
‫(‪ )۲۰‬اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام‬
‫سے رک ھو عجب نہ یں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بی ٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی‬
‫اور غرض یکہ تھھی ککہ ہم ان ککو (خواب ککی) باتوں ککی تعبیکر سککھائیں اور خدا اپنکے کام پکر غالب ہے لیککن اکثکر لوگ نہیکں‬
‫جانتکے (‪ )۲۱‬اور جکب وہ اپنکی جوانکی ککو پہنچکے تکو ہم نکے ان کو دانائی اور علم بخشکا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسکی طرح بدلہ‬
‫دیکا کرتکے ہیکں (‪ )۲۲‬تکو جکس عورت ککے گھھر میکں وہ رہتکے تھھے اس نکے ان ککو اپنکی طرف مائل کرنکا چاہا اور دروازے بنکد‬
‫کرککے کہنکے لگکی (یوسکف) جلدی آؤ۔ انہوں نکے کہا ککہ خدا پناہ میکں رکھھے (وہ یعنکی تمہارے میاں) تکو میرے آقکا ہیکں انہوں نکے‬
‫مج ھے اچ ھی طرح سے رک ھا ہے (میں ایسا ظلم نہ یں کرسکتا) بے شک ظالم لوگ فلح نہ یں پائیں گے (‪ )۲۳‬اور اس عورت‬

‫‪Page 91 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے‬
‫(کیکا گیکا) ککہ ہم ان سکے برائی اور بےحیائی ککو روک دیکں۔ بےشکک وہ ہمارے خالص بندوں میکں سکے تھھے (‪ )۲۴‬اور دونوں‬
‫دروازے کی طرف بھاگکے (آگے یوسف اور پیچ ھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچ ھے سکے (پکڑ کر جو کھینچا تو)‬
‫پھاڑ ڈال اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا‬
‫ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے (‪ )۲۵‬یوسف نے کہا اسی نے مجھ‬
‫کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے‬
‫پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا (‪ )۲۶‬اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے (‪ )۲۷‬اور جب‬
‫اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم‬
‫عورتوں ککے فریکب بڑے (بھاری) ہوتکے ہیکں (‪ )۲۸‬یوسکف اس بات ککا خیال نکہ ککر۔ اور (زلیخکا) تکو اپنکے گناہوں ککی بخشکش‬
‫مانگ‪ ،‬بےشک خطا تیری ہے (‪ )۲۹‬اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلم کو اپنی طرف‬
‫مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے (‪)۳۰‬‬
‫جب زلیخا نے ان عورتوں ککی (گفتگو جو حقیقت میکں دیدار یوسکف کے لیے ایک) چال (تھھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت‬
‫کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پ ھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف‬
‫سکے) کہا ککہ ان ککے سکامنے باہر آؤ۔ جکب عورتوں نکے ان ککو دیکھھا تکو ان ککا رعکب (حسکن) ان پکر (ایسکا) چھھا گیکا ککہ (پھھل‬
‫تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان ال (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے (‬
‫‪ )۳۱‬تکب زلیخکا نکے کہا یکہ وہی ہے جکس ککے بارے میکں تکم مجھھے طعنکے دیتکی تھیکں۔ اور بےشکک میکں نکے اس ککو اپنکی طرف‬
‫مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا (‪۳۲‬‬
‫) یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ‬
‫سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا (‪ )۳۳‬تو خدا نے ان‬
‫ککی دعکا قبول کرلی اور ان سکے عورتوں ککا مککر دفکع ککر دیکا۔ بےشکک وہ سکننے (اور) جاننکے وال ہے ( ‪ )۳۴‬پھھر باوجود اس‬
‫ککے ککہ وہ لوگ نشان دیککھ چککے تھھے ان ککی رائے یہی ٹھہری ککہ کچکھ عرصکہ ککے لیکے ان ککو قیکد ہی کردیکں (‪ )۳۵‬اور ان‬
‫کے ساتھ دو اور جوان ب ھی داخل زندان ہوئے۔ ایکک نے ان میکں سے کہا ککہ (میں نکے خواب دیکھھا ہے) دیکھتکا (کیکا) ہوں ککہ‬
‫شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر‬
‫روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میکں سکے کھھا رہے (ہیکں تکو) ہمیکں ان ککی تعبیکر بتکا دیجیئے ککہ ہم تمہیکں نیکوکار‬
‫دیکھتکے ہیکں (‪ )۳۶‬یوسکف نکے کہا ککہ جکو کھانکا تکم ککو ملنکے وال ہے وہ آنکے نہیکں پائے گکا ککہ میکں اس سکے پہلے تکم ککو اس ککی‬
‫تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لتے اور‬
‫روز آخرت سے انکار کرتے ہ یں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں (‪ )۳۷‬اور اپنے باپ دادا ابراہ یم اور اسحاق اور یعقوب‬
‫کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہ یں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر ب ھی اور‬
‫لوگوں پر ب ھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہ یں کرتے (‪ )۳۸‬میرے جیل خانے کے رفیقو! بھل کئی جدا جدا آقا اچ ھے یا (ایک)‬
‫خدائے یکتا وغالب؟ (‪ )۳۹‬جن چیزوں کی تم خدا ککے سکوا پرسکتش کرتکے ہو وہ صکرف نام ہی نام ہیکں جو تکم نکے اور تمہارے‬
‫باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔‬
‫اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ( ‪ )۴۰‬میرے‬
‫جیکل خانکے ککے رفیقکو! تکم میکں سکے ایکک (جکو پہل خواب بیان کرنکے وال ہے وہ) تکو اپنکے آقکا ککو شراب پلیکا کرے گکا اور جکو‬
‫دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے‬
‫(‪ )۴۱‬اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے‬
‫میرا ذککر بھھی کرنکا لیککن شیطان نکے ان ککا اپنکے آقکا سکے ذککر کرنکا بھل دیکا اور یوسکف کئی برس جیکل خانکے میکں رہے (‪)۴۲‬‬
‫اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی‬
‫ہیکں اور سکات خوشکے سکبز ہیکں اور (سکات) خشکک۔ اے سکردارو! اگکر تکم خوابوں ککی تعبیکر دے سککتے ہو تکو مجھھے میرے‬
‫خواب کی تعبیر بتاؤ (‪ )۴۳‬انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہ یں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہ یں آتی (‪ )۴۴‬اب‬
‫وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا ت ھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس‬

‫‪Page 92 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کی تعبیر (ل) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے ( ‪( )۴۵‬غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا)‬
‫یوسکف اے بڑے سکچے (یوسکف) ہمیکں اس خواب ککی تعبیکر بتایئے ککہ سکات موٹھی گائیوں ککو سکات دبلی گائیکں کھھا رہی ہیکں۔‬
‫اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں)۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری‬
‫قدر) جانیں (‪ )۴۶‬انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے‬
‫سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا (‪ )۴۷‬پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے‬
‫کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رک ھا ہوگا وہ اس سب کو ک ھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے‬
‫رکھ چھوڑو گے (‪ )۴۸‬پ ھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑ یں گے ( ‪)۴۹‬‬
‫(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا‬
‫ککے پاس واپکس جاؤ اور ان سکے پوچھھو ککہ ان عورتوں ککا کیکا حال ہے جنہوں نکے اپنکے ہاتکھ کاٹ لیکے تھھے۔ بےشکک میرا‬
‫پروردگار ان ککے مکروں سکے خوب واقکف ہے (‪ )۵۰‬بادشاہ نکے عورتوں سکے پوچھھا ککہ بھل اس وقکت کیکا ہوا تھھا جکب تکم نکے‬
‫یوسکف ککو اپنکی طرف مائل کرنکا چاہا۔ سکب بول اٹھیکں ککہ حاش َلِ ہم نکے اس میکں کوئی برائی معلوم نہیکں ککی۔ عزیکز ککی‬
‫عورت نکے کہا اب سکچی بات تکو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصکل یکہ ہے ککہ) میکں نکے اس ککو اپنکی طرف مائل کرنکا چاہا تھھا اور‬
‫بے شک وہ سچا ہے (‪( )۵۱‬یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچ ھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس‬
‫کی پی ٹھ پیچھھے اس کی (امانکت میکں خیانت نہ یں ککی) اور خدا خیانکت کرنے والوں ککے مکروں کو روبراہ نہیکں کرتکا (‪)۵۲‬‬
‫اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم‬
‫کرے گکا۔ بےشکک میرا پروردگار بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۵۳‬بادشاہ نکے حککم دیکا ککہ اسکے میرے پاس لؤ میکں اسکے اپنکا‬
‫مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو (‬
‫‪( )۵۴‬یوسکف نکے) کہا مجھھے اس ملک ککے خزانوں پکر مقرر ککر دیجیئے کیونککہ میکں حفاظکت بھھی کرسککتا ہوں اور اس کام‬
‫سکے واقکف ہوں (‪ )۵۵‬اس طرح ہم نکے یوسکف ککو ملک (مصکر) میکں جگکہ دی اور وہ اس ملک میکں جہاں چاہتکے تھھے رہتکے‬
‫ت ھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہ تے ہ یں کرتے ہ یں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہ یں کرتے ( ‪ )۵۶‬اور جو لوگ ایمان‬
‫لئے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے (‪ )۵۷‬اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے‬
‫کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے ( ‪ )۵۸‬جب یوسف نے ان کے‬
‫لیکے ان ککا سکامان تیار ککر دیکا تکو کہا ککہ (پھھر آنکا تکو) جکو باپ ککی طرف سکے تمہارا ایکک اور بھائی ہے اسکے بھھی میرے پاس‬
‫لیتکے آنکا۔ کیکا تکم نہیکں دیکھتکے ککہ میکں ناپ بھھی پوری پوری دیتکا ہوں اور مہمانداری بھھی خوب کرتکا ہوں (‪ )۵۹‬اور اگکر تکم‬
‫اسے میرے پاس نہ لؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے ( ‪ )۶۰‬انہوں نے کہا کہ ہم‬
‫اس ککے بارے میکں اس ککے والد سکے تذکرہ کریکں گکے اور ہم (یکہ کام) کرککے رہیکں گکے (‪( )۶۱‬اور یوسکف نکے) اپنکے خدام سکے‬
‫کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہ یں کہ جب یہ اپنکے اہل وعیال میں جائیں تو‬
‫اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں (‪ )۶۲‬جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک‬
‫ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم‬
‫پ ھر غلّہ لئیں اور ہم اس کے نگہبان ہ یں ( ‪( )۶۳‬یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہ یں کرتا مگر ویسا‬
‫ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا ت ھا۔ سو خدا ہی بہ تر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے وال ہے ( ‪)۶۴‬‬
‫اور جکب انہوں نکے اپنکا اسکباب کھول تکو دیکھھا ککہ ان ککا سکرمایہ واپکس ککر دیکا گیکا ہے۔ کہنکے لگکے ابّا ہمیکں (اور) کیکا چاہیئے‬
‫(دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لئیں گے اور اپنے بھائی‬
‫ککی نگہبانکی کریکں گکے اور ایکک بار شتکر زیادہ لئیکں گکے (ککہ) یکہ غلّہ جکو ہم لئے ہیکں تھوڑا ہے ( ‪( )۶۵‬یعقوب نکے) کہا جکب‬
‫تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ‬
‫ککہ تکم گھیکر لیکے جاؤ (یعنکی بےبکس ہوجاؤ تکو مجبوری ہے) جکب انہوں نکے ان سکے عہد کرلیکا تکو (یعقوب نکے) کہا ککہ جکو قول‬
‫وقرار ہم ککر رہے ہیکں اس ککا خدا ضامکن ہے (‪ )۶۶‬اور ہدایکت ککی ککہ بیٹھا ایکک ہی دروازے سکے داخکل نکہ ہونکا بلککہ جدا جدا‬
‫دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہ یں روک سکتا۔ بے شک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ‬
‫رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے ( ‪ )۶۷‬اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے‬
‫(داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا ت ھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا ب ھی نہ یں ٹال سکتی ت ھی ہاں وہ یعقوب کے‬

‫‪Page 93 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن‬
‫اکثر لوگ نہ یں جانتے (‪ )۶۸‬اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‬
‫اور کہا ککہ میکں تمہارا بھائی ہوں تکو جکو سکلوک یکہ (ہمارے سکاتھ) کرتکے رہے ہیکں اس پکر افسکوس نکہ کرنکا (‪ )۶۹‬جکب ان ککا‬
‫اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلس رکھ دیا اور پ ھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے‬
‫والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو (‪ )۷۰‬وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے‬
‫(‪ )۷۱‬وہ بولے ککہ بادشاہ (ککے پانکی پینکے) ککا گلس کھویکا گیکا ہے اور جکو شخکص اس ککو لے آئے اس ککے لیکے ایکک بار شتکر‬
‫(انعام) اور میکں اس ککا ضامکن ہوں (‪ )۷۲‬وہ کہنکے لگکے ککہ خدا ککی قسکم تکم ککو معلوم ہے ککہ ہم (اس) ملک میکں اس لیکے نہیکں‬
‫آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں (‪ )۷۳‬بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی‬
‫سکزا کیکا (‪ )۷۴‬انہوں نکے کہا ککہ اس ککی سکزا یکہ ہے ککہ جکس ککے شلیتکے میکں وہ دسکتیاب ہو وہی اس ککا بدل قرار دیکا جائے ہم‬
‫ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں (‪ )۷۵‬پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا‬
‫پ ھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے‬
‫مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر‬
‫علم والے سے دوسرا علم وال بڑھ کر ہے (‪( )۷۶‬برادران یوسکف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہ یں‬
‫ککہ) اس ککے ایکک بھائی نکے بھھی پہلے چوری ککی تھھی یوسکف نکے اس بات ککو اپنکے دل میکں مخفکی رکھھا اور ان پکر ظاہر نکہ‬
‫ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے (‪ )۷۷‬وہ کہ نے لگے کہ اے عزیز‬
‫اس ککے والد بہت بوڑھھے ہیکں (اور اس سکے بہت محبکت رکھتکے ہیکں) تکو (اس ککو چھوڑ دیجیےاور) اس ککی جگکہ ہم میکں سکے‬
‫کسکی ککو رککھ لیجیئے۔ ہم دیکھتکے ہیکں ککہ آپ احسکان کرنکے والے ہیکں (‪( )۷۸‬یوسکف نکے) کہا ککہ خدا پناہ میکں رکھھے ککہ جکس‬
‫شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں (‪ )۷۹‬جب‬
‫وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے‬
‫خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ‬
‫دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہ یں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہ تر فیصلہ کرنے وال ہے (‬
‫‪ )۸۰‬تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی‬
‫دانسکت کے مطابکق آپ سے (اس ککے لے آنے کا) عہد کیکا تھھا مگکر ہم غیب کی باتوں کو جاننکے اور یاد رکھنکے والے تو نہیکں‬
‫تھھے (‪ )۸۱‬اور جکس بسکتی میکں ہم (ٹھہرے) تھھے وہاں سکے (یعنکی اہل مصکر سکے) اور جکس قافلے میکں آئے ہیکں اس سکے‬
‫دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہ یں (‪( )۸۲‬جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا‬
‫کہ (حقیقت یوں نہ یں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہ تر ہے۔ عجب نہ یں کہ خدا ان سب کو میرے‬
‫پاس لے آئے۔ بے شک وہ دانا (اور) حکمت وال ہے (‪ )۸۳‬پ ھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہ نے لگے ہائے افسوس یوسف‬
‫(ہائے افسکوس) اور رنکج والم میکں (اس قدر روئے ککہ) ان ککی آنکھیکں سکفید ہوگئیکں اور ان ککا دل غکم سکے بھھر رہا تھھا (‪)۸۴‬‬
‫بی ٹے کہ نے لگے کہ وال اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہ یں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں‬
‫گے (‪ )۸۵‬انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم‬
‫نہیکں جانتکے (‪ )۸۶‬بیٹھا (یوں کرو ککہ ایکک دفعکہ پھھر) جاؤ اور یوسکف اور اس ککے بھائی ککو تلش کرو اور خدا ککی رحمکت‬
‫سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہ یں (‪ )۸۷‬جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہ نے لگے‬
‫کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لئے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض)‬
‫پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ ککہ خدا خیرات کرنکے والوں ککو ثواب دیتکا ہے (‪( )۸۸‬یوسکف نکے) کہا تمہیکں معلوم‬
‫ہے جکب تکم نادانکی میکں پھنسکے ہوئے تھھے تکو تکم نکے یوسکف اور اس ککے بھائی ککے سکاتھ کیکا کیکا تھھا ( ‪ )۸۹‬وہ بولے کیکا تکم ہی‬
‫یوسکف ہو؟ انہوں نکے کہا ہاں میکں ہی یوسکف ہوں۔ اور (بنیامیکن ککی طرف اشارہ کرککے کہنکے لگکے) یکہ میرا بھائی ہے خدا نکے‬
‫ہم پکر بڑا احسکان کیکا ہے۔ جکو شخکص خدا سکے ڈرتکا اور صکبر کرتکا ہے تکو خدا نیکوکاروں ککا اجکر ضائع نہیکں کرتکا (‪ )۹۰‬وہ‬
‫بولے خدا ککی قسکم خدا نکے تکم ککو ہم پکر فضیلت بخشکی ہے اور بےشکک ہم خطاکار تھھے (‪( )۹۱‬یوسکف نکے) کہا ککہ آج ککے دن‬
‫سے تم پر کچھ عتاب (وملمت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے وال ہے (‪ )۹۲‬یہ میرا کرتہ لے جاؤ‬
‫اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ (‪ )۹۳‬اور جب‬

‫‪Page 94 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی‬
‫بکو آ رہی ہے (‪ )۹۴‬وہ بولے ککہ وال آپ اسکی قدیکم غلطکی میکں (مبتل) ہیکں (‪ )۹۵‬جکب خوشخکبری دینکے وال آ پہنچکا تکو کرتکہ‬
‫یعقوب ککے منکہ پکر ڈال دیکا اور وہ بینکا ہو گئے (اور بیٹوں سکے) کہنکے لگکے کیکا میکں نکے تکم سکے نہیکں کہا تھھا ککہ میکں خدا ککی‬
‫طرف سکے وہ باتیکں جانتکا ہوں جکو تکم نہیکں جانتکے (‪ )۹۶‬بیٹوں نکے کہا ککہ ابکا ہمارے لیکے ہمارے گناہ ککی مغفرت مانگیئے۔‬
‫بےشکک ہم خطاکار تھھے (‪ )۹۷‬انہوں نکے کہا ککہ میکں اپنکے پروردگار سکے تمہارے لیکے بخشکش مانگوں گکا۔ بےشکک وہ بخشنکے‬
‫وال مہربان ہے (‪ )۹۸‬جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر‬
‫میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا (‪ )۹۹‬اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف‬
‫کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن‬
‫میکں) دیکھھا تھھا۔ میرے پروردگار نکے اسکے سکچ ککر دکھایکا اور اس نکے مجکھ پکر (بہت سکے) احسکان کئے ہیکں ککہ مجکھ کو جیکل‬
‫خانکے سکے نکال۔ اور اس ککے بعکد ککہ شیطان نکے مجکھ میکں اور میرے بھائیوں میکں فسکاد ڈال دیکا تھھا۔ آپ ککو گاؤں سکے یہاں‬
‫لیا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہ تا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت وال ہے (‪( )۱۰۰‬جب یہ سب باتیں ہولیں‬
‫تکو یوسکف نکے خدا سکے دعکا ککی ککہ) اے میرے پروردگار تکو نکے مجکھ ککو حکومکت سکے بہرہ دیکا اور خوابوں ککی تعبیکر ککا علم‬
‫بخشکا۔ اے آسکمانوں اور زمیکن ککے پیدا کرنکے والے تکو ہی دنیکا اور آخرت میکں میرا کارسکاز ہے۔ تکو مجھھے (دنیکا سکے) اپنکی‬
‫اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو (‪( )۱۰۱‬اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں‬
‫سے ہ یں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہ یں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا ت ھا اور وہ فریب کر رہے ت ھے‬
‫تو تم ان کے پاس تو نہ ت ھے (‪ )۱۰۲‬اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لنے والے نہ یں ہ یں ( ‪ )۱۰۳‬اور‬
‫تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صل بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے (‪)۱۰۴‬‬
‫اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں (‪ )۱۰۵‬اور یہ اکثر خدا پر‬
‫ایمان نہ یں رکھتکے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہ یں ( ‪ )۱۰۶‬کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہ یں کہ ان پر خدا کا عذاب‬
‫نازل ہو ککر ان ککو ڈھانکپ لے یکا ان پکر ناگہاں قیامکت آجائے اور انہیکں خکبر بھھی نکہ ہو ( ‪ )۱۰۷‬کہہ دو میرا رسکتہ تکو یکہ ہے میکں‬
‫خدا ککی طرف بلتکا ہوں (از روئے یقیکن وبرہان) سکمجھ بوجکھ ککر میکں بھھی (لوگوں ککو خدا ککی طرف بلتکا ہوں) اور میرے‬
‫پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں (‪ )۱۰۸‬اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے‬
‫والوں میں سے مرد ہی بھیجکے ت ھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے ت ھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہ یں‬
‫کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم‬
‫سمجھتے نہ یں؟ (‪ )۱۰۹‬یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات‬
‫انہوں نے کہی ت ھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پ ھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا‬
‫عذاب (اتکر ککر) گنہگار لوگوں سکے پھرا نہیکں کرتکا (‪ )۱۱۰‬ان ککے قصکے میکں عقلمندوں ککے لیکے عکبرت ہے۔ یکہ (قرآن) ایسکی‬
‫بات نہ یں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہ یں ان کی تصدیق (کرنے وال) ہے‬
‫اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے (‪)۱۱۱‬‬

‫‪Page 95 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة الرّعد‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫الٓمرا۔ (اے محمد) یہ کتاب (الہ یٰ) کی آیتیں ہ یں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے لیکن‬
‫اکثر لوگ ایمان نہیں لتے (‪ )۱‬خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھ تے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔‬
‫پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا‬
‫کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے (اس طرح) وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے‬
‫ککا یقیکن کرو (‪ )۲‬اور وہ وہی ہے جکس نکے زمیکن ککو پھیلیکا اور اس میکں پہاڑ اور دریکا پیدا کئے اور ہر طرح ککے میوؤں ککی‬
‫دو دو قسکمیں بنائیکں۔ وہی رات ککو دن ککا لباس پہناتکا ہے۔ غور کرنکے والوں ککے لیکے اس میکں بہت سکی نشانیاں ہیکں (‪ )۳‬اور‬
‫زمیکن میکں کئی طرح ککے قطعات ہیکں۔ ایکک دوسکرے سکے ملے ہوئے اور انگور ککے باغ اور کھیتکی اور کھجور ککے درخکت۔‬
‫بعکض ککی بہت سکی شاخیکں ہوتکی ہیکں اور بعکض ککی اتنکی نہیکں ہوتیکں (باوجود یکہ ککہ) پانکی سکب ککو ایکک ہی ملتکا ہے۔ اور ہم‬
‫بعکض میوؤں ککو بعکض پکر لذت میکں فضیلت دیتکے ہیکں۔ اس میکں سکمجھنے والوں ککے لیکے بہت سکی نشانیاں ہیکں ( ‪ )۴‬اگکر تکم‬
‫عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہ نا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) م ٹی ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے؟‬
‫یہی لوگ ہیکں جکو اپنکے پروردگار سکے منککر ہوئے ہیکں۔ اور یہی ہیکں جکن ککی گردنوں میکں طوق ہوں گکے اور یہی اہل دوزخ‬
‫ہیکں ککہ ہمیشکہ اس میکں (جلتکے) رہیکں گکے (‪ )۵‬اور یکہ لوگ بھلئی سکے پہلے تکم سکے برائی ککے جلد خواسکتگار یعنکی (طالب‬
‫عذاب) ہیکں حالنککہ ان سکے پہلے عذاب (واقکع) ہوچککے ہیکں اور تمہارا پروردگار لوگوں ککو باوجود ان ککی بےانصکافیوں ککے‬
‫معاف کرنے وال ہے۔ اور بے شک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے وال ہے (‪ )۶‬اور کافر لوگ کہ تے ہ یں کہ اس (پیغمبر)‬
‫پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نازل نہ یں ہوئی۔ سو (اے محمدﷺ) تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور‬
‫ہر ایکک قوم ککے لیکے رہنمکا ہوا کرتکا ہے (‪ )۷‬خدا ہی اس بچکے سکے واقکف ہے جکو عورت ککے پیکٹ میکں ہوتکا ہے اور پیکٹ ککے‬
‫سککڑنے اور بڑھنکے سکے بھھی (واقکف ہے)۔ اور ہر چیکز ککا اس ککے ہاں ایکک اندازہ مقرر ہے (‪ )۸‬وہ دانائے نہاں وآشکار ہے‬
‫سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے (‪ )۹‬کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہ یں چ ھپ جائے یا‬
‫دن ککی روشنکی میکں کھلم کھل چلے پھرے (اس ککے نزدیکک) برابر ہے (‪ )۱۰‬اس ککے آگکے اور پیچھھے خدا ککے چوکیدار ہیکں‬
‫جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ‬
‫اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ اور خدا کے سوا‬
‫ان کا کوئی مددگار نہ یں ہوتا (‪ )۱۱‬اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلنے کے لیے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری‬
‫بادل پیدا کرتا ہے (‪ )۱۲‬اور رعد اور فرشتے سب اس کے خوف سے اس کی تسبیح و تحمید کرتے رہتے ہیں اور وہی بجلیاں‬
‫بھیجتکا ہے پھھر جکس پکر چاہتکا ہے گرا بھھی دیتکا ہے اور وہ خدا ککے بارے میکں جھگڑتکے ہیکں۔ اور وہ بڑی قوت وال ہے (‪)۱۳‬‬
‫سکودمند پکارنکا تکو اسکی ککا ہے اور جکن ککو یکہ لوگ اس ککے سکوا پکارتکے ہیکں وہ ان ککی پکار ککو کسکی طرح قبول نہیکں کرتکے‬
‫مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیل دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالنکہ‬
‫وہ (اس تکک کبھھی بھھی) نہیکں آسککتا اور (اسکی طرح) کافروں ککی پکار بیکار ہے (‪ )۱۴‬اور جتنکی مخلوقات آسکمانوں اور‬
‫زمیکن میکں ہے خوشکی سکے یکا زبردسکتی سکے خدا ککے آگکے سکجدہ کرتکی ہے اور ان ککے سکائے بھھی صکبح وشام (سکجدے کرتکے‬
‫ہیکں) (‪ )۱۵‬ان سکے پوچھھو ککہ آسکمانوں اور زمیکن ککا پروردگار کون ہے؟ (تکم ہی ان ککی طرف سکے) کہہ دو ککہ خدا۔ پھھر (ان‬
‫سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ ککر ایسکے لوگوں ککو کیوں کارساز بنایکا ہے جو خود اپنکے نفکع ونقصکان کا ب ھی اختیار نہیکں‬
‫رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں وال برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجال برابر ہوسکتا ہے؟ بھل ان لوگوں نے جن‬
‫کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی‬
‫ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے وال ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے (‪ )۱۶‬اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر‬
‫اس سے اپنکے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پ ھر نالے پر پھول ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور‬
‫سکامان بنانکے ککے لیکے آگ میکں تپاتکے ہیکں اس میکں بھھی ایسکا ہی جھاگ ہوتکا ہے۔ اس طرح خدا حکق اور باطکل ککی مثال بیان‬

‫‪Page 96 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔‬
‫اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو) (‪ )۱۷‬جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا‬
‫ان کی حالت بہت بہ تر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو‬
‫وہ سکب ککے سکب اور ان ککے سکاتھ اتنکے ہی اور (نجات ککے) بدلے میکں صکرف کرڈالیکں (مگکر نجات کہاں؟) ایسکے لوگوں ککا‬
‫حساب ب ھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا ب ھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے (‪ )۱۸‬بھل جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ‬
‫تمہارے پروردگار کی طرف سکے تکم پکر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخکص کی طرح ہے جو اندھھا ہے اور سکمجھتے تو وہی‬
‫ہیں جو عقلمند ہیں (‪ )۱۹‬جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے (‪ )۲۰‬اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے‬
‫جوڑے رکھ نے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھ تے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہ تے اور برے حساب سے خوف‬
‫رکھتے ہیں (‪ )۲۱‬اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں‬
‫اور جکو (مال) ہم نکے ان ککو دیکا ہے اس میکں سکے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتکے ہیکں اور نیککی سکے برائی دور کرتکے ہیکں یہی‬
‫لوگ ہیں جن کے لیے عاقبت کا گ ھر ہے (‪( )۲۲‬یعنی) ہمیشہ رہ نے کے باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا‬
‫اور بیبیوں اور اولد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے‬
‫سے ان کے پاس آئیں گے (‪( )۲۳‬اور کہ یں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گ ھر خوب‬
‫(گھر) ہے (‪ )۲۴‬اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اس کو توڑ ڈالتے اور (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا‬
‫نے حکم دیا ہے ان کو قطع کر دیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں۔ ایسوں پر لعنت ہے اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے‬
‫(‪ )۲۵‬خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اور کافر لوگ دنیا کی زندگی پر‬
‫خوش ہو رہے ہی کں اور دنیککا کککی زندگککی آخرت (ک کے مقابلے) می کں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے (‪ )۲۶‬اور کافککر کہت کے ہی کں ک کہ اس‬
‫(پیغمکبر) پکر اس ککے پروردگار ککی طرف سکے کوئی نشانکی کیوں نازل نہیکں ہوئی۔ کہہ دو ککہ خدا جسکے چاہتکا ہے گمراہ کرتکا‬
‫ہے اور جو (اس کی طرف) رجوع ہوتا ہے اس کو اپنی طرف کا رستہ دکھاتا ہے (‪( )۲۷‬یعنی) جو لوگ ایمان لتے اور جن‬
‫کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (ان کو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں ( ‪ )۲۸‬جو لوگ ایمان لئے اور‬
‫عمکل نیکک کئے ان ککے لیکے خوشحالی اور عمدہ ٹھکانکہ ہے (‪( )۲۹‬جکس طرح ہم اور پیغمکبر بھیجتکے رہے ہیکں) اسکی طرح‬
‫(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ (کتاب) جو ہم‬
‫نکے تمہاری طرف بھیجکی ہے پڑھ ککر سکنا دو اور یکہ لوگ رحمٰن ککو نہیکں مانتکے۔ کہہ دو وہی تکو میرا پروردگار ہے اس ککے‬
‫سوا کوئی معبود نہ یں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھ تا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (‪ )۳۰‬اور اگر کوئی قرآن ایسا‬
‫ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑ تے یا زمین پ ھٹ جاتی یا مردوں سے کلم کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے‬
‫متصکف ہوتکا مگکر) بات یکہ ہے ککہ سکب باتیکں خدا ککے اختیار میکں ہیکں تکو کیکا مومنوں ککو اس سکے اطمینان نہیکں ہوا ککہ اگکر خدا‬
‫چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چل دیتا۔ اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بل آتی رہے گی یا ان کے‬
‫مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بےشک خدا وعدہ خلف نہیں کرتا (‪ )۳۱‬اور تم سے‬
‫پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب‬
‫کیسا تھا (‪ )۳۲‬تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہباں) ہے (وہ بتوں کی طرح بےعلم وبےخبر ہوسکتا ہے)‬
‫اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) ان کے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے‬
‫ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو) اصل‬
‫یکہ ہے ککہ کافروں ککو ان ککے فریکب خوبصکورت معلوم ہوتکے ہیکں۔ اور وہ (ہدایکت ککے) رسکتے سکے روک لیکے گئے ہیکں۔ اور‬
‫جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے وال نہ یں (‪ )۳۳‬ان کو دنیا کی زندگی میں ب ھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب‬
‫تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے وال نہیں (‪ )۳۴‬جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا‬
‫ہے اس کے اوصاف یہ ہ یں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہ یں۔ اس کے پ ھل ہمیشہ (قائم رہ نے والے) ہ یں اور اس کے سائے‬
‫بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہ یں۔ اور کافروں کا انجام دوزخ ہے (‪ )۳۵‬اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ‬
‫اس (کتاب) سکے جکو تکم پکر نازل ہوئی ہے خوش ہوتکے ہیکں اور بعکض فرقکے اس ککی بعکض باتیکں نہیکں بھھی مانتکے۔ کہہ دو ککہ‬
‫مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلتا‬
‫ہوں اور اسکی ککی طرف مجھھے لوٹنکا ہے (‪ )۳۶‬اور اسکی طرح ہم نکے اس قرآن ککو عربکی زبان ککا فرمان نازل کیکا ہے۔ اور‬

‫‪Page 97 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچ ھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مددگار ہوگا‬
‫اور نہ کوئی بچانے وال (‪ )۳۷‬اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے۔ اور ان کو بیبیاں اور اولد بھی‬
‫دی تھھی ۔اور کسکی پیغمکبر ککے اختیار ککی بات نکہ تھھی ککہ خدا ککے حککم ککے بغیکر کوئی نشانکی لئے۔ ہر (حککم) قضکا (کتاب‬
‫میں) مرقوم ہے (‪ )۳۸‬خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب‬
‫ہے (‪ )۳۹‬اور اگکر ہم کوئی عذاب جکس ککا ان لوگوں سکے وعدہ کرتکے ہیکں تمہیکں دکھائیکں (یعنکی تمہارے روبرو ان پکر نازل‬
‫کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا‬
‫دینکا ہے اور ہمارا کام حسکاب لینکا ہے (‪ )۴۰‬کیکا انہوں نکے نہیکں دیکھھا ککہ ہم زمیکن ککو اس ککے کناروں سکے گھٹاتکے چلے آتکے‬
‫ہیں۔ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے وال نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے وال ہے (‪)۴۱‬‬
‫جو لوگ ان سے پہلے ت ھے وہ ب ھی (بہتری) چالیں چلتے رہے ہ یں سو چال تو سب ال ہی کی ہے ہر متنفس جو کچھ کر رہا‬
‫ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گ ھر (یعنی انجام محمود) کس کے لیے ہے (‪ )۴۲‬اور کافر‬
‫لوگ کہتکے ہیکں ککہ تکم (خدا ککے) رسکول نہیکں ہو۔ کہہ دو ککہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخکص جکس ککے پاس کتاب‬
‫(آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہیں (‪)۴۳‬‬

‫‪Page 98 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة ٕابراهیم‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫الٓرٰ۔ (یہ) ایک (پُرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی‬
‫طرف لے جاؤ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے رستے کی طرف (‪ )۱‬وہ خدا کہ جو‬
‫کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے (‪ )۲‬جو آخرت‬
‫کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے‬
‫ککی گمراہی میکں ہیکں (‪ )۳‬اور ہم نکے کوئی پیغمکبر نہیکں بھیجکا مگکر اپنکی قوم ککی زبان بولتکا تھھا تاککہ انہیکں (احکام خدا) کھول‬
‫کھول کر بتا دے۔ پ ھر خدا جسے چاہ تا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہ تا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت وال‬
‫ہے (‪ )۴‬اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنکی قوم کو تاریکی سکے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور ان‬
‫کو خدا ککے دن یاد دلؤ اس میکں ان لوگوں ککے لیکے جکو صکابر وشاککر ہیکں (قدرت خدا ککی) نشانیاں ہیکں (‪ )۵‬اور جکب موسکیٰ‬
‫نکے اپنکی قوم سکے کہا ککہ خدا نکے جکو تکم پکر مہربانیاں ککی ہیکں ان ککو یاد کرو جکب ککہ تکم ککو فرعون ککی قوم (ککے ہاتکھ) سکے‬
‫مخلصککی دی وہ لوگ تمہی کں بُرے عذاب دیت کے تھھھے اور تمہارے بیٹوں کککو مار ڈالت کے تھھھے اور عورت ذات یعنککی تمہاری‬
‫لڑکیوں ککو زندہ رہنکے دیتکے تھھے اور اس میکں تمہارے پروردگار ککی طرف سکے بڑی (سکخت) آزمائش تھھی (‪ )۶‬اور جکب‬
‫تمہارے پروردگار نکے (تکم ککو) آگاہ کیکا ککہ اگکر شککر کرو گکے تکو میکں تمہیکں زیادہ دوں گکا اور اگکر ناشکری کرو گکے تکو (یاد‬
‫رکھو کہ) میرا عذاب ب ھی سخت ہے (‪ )۷‬اور موسیٰ نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہ یں‬
‫سکب ککے سکب ناشکری کرو تکو خدا بھھی بےنیاز (اور) قابکل تعریکف ہے (‪ )۸‬بھل تکم کو ان لوگوں (ککے حالت) ککی خکبر نہیکں‬
‫پہنچی جو تم سے پہلے ت ھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور جو ان کے بعد ت ھے۔ جن کا علم خدا کے سوا کسی‬
‫کو نہ یں (جب) ان کے پاس پیغمکبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنکے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیئے (کہ خاموش رہو)‬
‫اور کہ نے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہ یں کرتے اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلتے ہو ہم اس سے قوی شک‬
‫میں ہیں (‪ )۹‬ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے وال ہے۔‬
‫وہ تمہیکں اس لیکے بلتکا ہے ککہ تمہارے گناہ بخشکے اور (فائدہ پہنچانکے ککے لیکے) ایک مدت مقرر تکک تکم کو مہلت دے۔ وہ بولے‬
‫کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا یہ منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہ یں ان (کے پوجنے) سے‬
‫ہم ککو بنکد ککر دو تکو (اچھھا) کوئی کھلی دلیکل لؤ (یعنکی معجزہ دکھاؤ) (‪ )۱۰‬پیغمکبروں نکے ان سکے کہا ککہ ہاں ہم تمہارے ہی‬
‫جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں‬
‫ککہ ہم خدا ککے حککم ککے بغیکر تکم ککو (تمہاری فرمائش ککے مطابکق) معجزہ دکھائیکں اور خدا ہی پکر مومنوں ککو بھروسکہ رکھنکا‬
‫چاہیئے (‪ )۱۱‬اور ہم کیونکر خدا پر بھروسہ نہ رکھ یں حالنکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) رستے بتائے ہ یں۔ جو‬
‫تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے ( ‪ )۱۲‬اور جو کافر تھے‬
‫انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا ہمارے مذہب میں داخل ہو جاؤ۔ تو‬
‫پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلک کر دیں گے (‪ )۱۳‬اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد‬
‫کریں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے خوف‬
‫کرے (‪ )۱۴‬اور پیغمکبروں نکے (خدا سکے اپنکی) فتکح چاہی تکو ہر سکرکش ضدی نامراد رہ گیکا (‪ )۱۵‬اس ککے پیچھھے دوزخ ہے‬
‫اور اسکے پیکپ ککا پانکی پلیکا جائے گکا (‪ )۱۶‬وہ اس ککو گھونکٹ گھونکٹ پیئے گکا اور گلے سکے نہیکں اتار سککے گکا اور ہر طرف‬
‫سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہ یں آئے گا۔ اور اس کے پیچ ھے سخت عذاب ہوگا (‪ )۱۷‬جن لوگوں نے اپنے‬
‫پروردگار سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے‬
‫جائے (اس طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی۔ یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے (‪ )۱۸‬کیا تم‬
‫نکے نہیکں دیکھھا ککہ خدا نکے آسکمانوں اور زمیکن ککو تدبیکر سکے پیدا کیکا ہے۔ اگکر وہ چاہے تکو تکم ککو نابود ککر دے اور (تمہاری‬
‫جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے (‪ )۱۹‬اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں (‪ )۲۰‬اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے‬

‫‪Page 99 of 281‬‬
‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہ یں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو ت ھے۔ کیا تم خدا کا کچھ‬
‫عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد‬
‫کریکں ہمارے حکق میکں برابر ہے۔ کوئی جگکہ (گریکز اور) رہائی ککی ہمارے لیکے نہیکں ہے ( ‪ )۲۱‬جکب (حسکاب کتاب ککا) کام‬
‫فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا‬
‫تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلیا تو تم‬
‫نکے (جلدی سکے اور بےدلیکل) میرا کہا مان لیکا۔ تکو (آج) مجھھے ملمکت نکہ کرو۔ اپنکے آپ ہی ککو ملمکت کرو۔ نکہ میکں تمہاری‬
‫فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک‬
‫بناتکے تھھے۔ بےشکک جکو ظالم ہیکں ان ککے لیکے درد دینکے وال عذاب ہے (‪ )۲۲‬اور جکو ایمان لئے اور عمکل نیکک کیکے وہ‬
‫بہشتوں میکں داخکل کیکے جائیکں گکے جکن ککے نیچکے نہریکں بہہ رہی ہیکں اپنکے پروردگار ککے حککم سکے ہمیشکہ ان میکں رہیکں گکے۔‬
‫وہاں ان ککی صکاحب سکلمت سکلم ہوگکا (‪ )۲۳‬کیکا تکم نکے نہیکں دیکھھا ککہ خدا نکے پاک بات ککی کیسکی مثال بیان فرمائی ہے (وہ‬
‫ایسکی ہے) جیسکے پاکیزہ درخکت جکس ککی جکڑ مضبوط (یعنکی زمیکن ککو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیکں آسکمان میکں ( ‪ )۲۴‬اپنکے‬
‫پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت‬
‫پکڑیں (‪ )۲۵‬اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ‬
‫کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں (‪ )۲۶‬خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا‬
‫کی زندگی میں ب ھی مضبوط رکھ تا ہے اور آخرت میں ب ھی (رک ھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا‬
‫جو چاہتا ہے کرتا ہے (‪ )۲۷‬کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی‬
‫قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا (‪( )۲۸‬وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے (‬
‫‪ )۲۹‬اور ان لوگوں نکے خدا ککے شریکک مقرر کئے ککہ (لوگوں ککو) اس ککے رسکتے سکے گمراہ کریکں۔ کہہ دو ککہ (چنکد روز)‬
‫فائدے اٹھھا لو آخرکار تکم ککو دوزخ ککی طرف لوٹ ککر جانکا ہے (‪( )۳۰‬اے پیغمکبر) میرے مومکن بندوں سکے کہہ دو ککہ نماز‬
‫پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ہمارے دیئے ہوئے‬
‫مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہ یں (‪ )۳۱‬خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے‬
‫مینکہ برسکایا پھھر اس سکے تمہارے کھانکے ککے لیکے پھھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں (اور جہازوں) ککو تمہارے زیکر فرمان کیکا تاککہ‬
‫دریکا (اور سکمندر) میکں اس ککے حککم سکے چلیکں۔ اور نہروں ککو بھھی تمہارے زیکر فرمان کیکا (‪ )۳۲‬اور سکورج اور چانکد ککو‬
‫تمہارے لیے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پکر چل رہے ہ یں۔ اور رات اور دن کو ب ھی تمہاری خاطر کام‬
‫میں لگکا دیکا (‪ )۳۳‬اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سکے تکم کو عنایکت کیا۔ اور اگر خدا ککے احسکان گننکے لگو تو شمار نکہ‬
‫کرسککو۔ (مگکر لوگ نعمتوں ککا شککر نہیکں کرتکے) کچکھ شکک نہیکں ککہ انسکان بڑا بےانصکاف اور ناشکرا ہے (‪ )۳۴‬اور جکب‬
‫ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لیے) امن کی جگہ بنا دے۔ اور مجھے اور میری اولد کو اس‬
‫بات سکے ککہ بتوں ککی پرسکتش کرنکے لگیکں بچائے رککھ (‪ )۳۵‬اے پروردگار انہوں نکے بہت سکے لوگوں ککو گمراہ کیکا ہے۔ سکو‬
‫جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے۔ اور جس نے میری نافرمانی کی تو تُو بخشنے وال مہربان ہے ( ‪ )۳۶‬اے پروردگار‬
‫میں نے اپنی اولد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہ یں تیرے عزت (وادب) والے گ ھر کے پاس لبسائی ہے۔ اے پروردگار‬
‫تاککہ یکہ نماز پڑھیکں تکو لوگوں ککے دلوں کو ایسکا ککر دے ککہ ان ککی طرف جھککے رہیکں اور ان کو میوؤں سکے روزی دے تاککہ‬
‫(تیرا) شکر کریں (‪ )۳۷‬اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز‬
‫مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں (‪ )۳۸‬خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔‬
‫بےشکک میرا پروردگار سکننے وال ہے (‪ )۳۹‬اے پروردگار مجکھ ککو (ایسکی توفیکق عنایکت) ککر ککہ نماز پڑھتکا رہوں اور میری‬
‫اولد ککو بھھی (یکہ توفیکق بخکش) اے پروردگار میری دعکا قبول فرمکا (‪ )۴۰‬اے پروردگار حسکاب (کتاب) ککے دن مجکھ ککو اور‬
‫میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو (‪ )۴۱‬اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہ یں خدا ان‬
‫سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی (‪)۴۲‬‬
‫(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور‬
‫ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے (‪ )۴۳‬اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب‬
‫ظالم لوگ کہ یں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور‬

‫‪Page 100 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫(تیرے) پیغمبروں کے پیچ ھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہ یں کھایا کرتے ت ھے کہ تم کو (اس حال سے جس‬
‫میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہ یں ہوگا (‪ )۴۴‬اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ت ھے تم ان کے مکانوں‬
‫میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے)‬
‫کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں (‪ )۴۵‬اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی‬
‫ہوئی) ہ یں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھ یں کہ ان سے پہاڑ ب ھی ٹل جائیں (‪ )۴۶‬تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو‬
‫اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلف کرے گا بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے وال ہے (‪ )۴۷‬جس دن یہ زمین‬
‫دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ وزبردست کے سامنے‬
‫نککل کھڑے ہوں گکے (‪ )۴۸‬اور اس دن تکم گنہگاروں ککو دیکھھو گکے ککہ زنجیروں میکں جکڑے ہوئے ہیکں (‪ )۴۹‬ان ککے کرتکے‬
‫گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی (‪ )۵۰‬یہ اس لیے کہ خدا ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ‬
‫دے۔ بےشک خدا جلد حساب لینے وال ہے (‪ )۵۱‬یہ قرآن لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور‬
‫تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیل معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں (‪)۵۲‬‬

‫‪Page 101 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة الحِجر‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫آلرا۔ یہ خدا کی کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں (‪ )۱‬کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے (‬
‫‪( )۲‬اے محمد) ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھالیں اور فائدے اُٹھالیں اور (طول) امل ان کو دنیا میں مشغول کئے رہے‬
‫عنقریکب ان ککو (اس ککا انجام) معلوم ہو جائے گکا (‪ )۳‬اور ہم نکے کوئی بسکتی ہلک نہیکں ککی۔ مگکر اس ککا وقکت مرقوم ومعیکن‬
‫تھھا (‪ )۴‬کوئی جماعکت اپنکی مدت (وفات) سکے نکہ آگکے نککل سککتی ہے نکہ پیچھھے رہ سککتی ہے (‪ )۵‬اور کفار کہتکے ہیکں ککہ اے‬
‫شخکص جکس پکر نصکیحت (ککی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تکو دیوانکہ ہے ( ‪ )۶‬اگکر تکو سکچا ہے تکو ہمارے پاس فرشتوں ککو کیوں‬
‫نہیکں لے آتکا (‪( )۷‬کہہ دو) ہم فرشتوں ککو نازل نہیکں کیکا کرتکے مگکر حکق ککے سکاتھ اور اس وقکت ان ککو مہلت نہیکں ملتکی ( ‪)۸‬‬
‫بےشکک یکہ (کتاب) نصکیحت ہمیکں نکے اُتاری ہے اور ہم ہی اس ککے نگہبان ہیکں ( ‪ )۹‬اور ہم نکے تکم سکے پہلے لوگوں میکں بھھی‬
‫پیغمکبر بھیجکے تھھے (‪ )۱۰‬اور اُن ککے پاس کوئی پیغمکبر نہیکں آتکا تھھا مگکر وہ اُس ککے سکاتھ اسکتہزاء کرتکے تھھے ( ‪ )۱۱‬اسکی‬
‫طرح ہم اس (تکذیب وضلل) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں (‪ )۱۲‬سو وہ اس پر ایمان نہ یں لتے اور پہلوں‬
‫ککی روش بھھی یہی رہی ہے (‪ )۱۳‬اوراگکر ہم آسکمان ککا کوئی دروازہ اُن پکر کھول دیکں اور وہ اس میکں چڑھنکے بھھی لگیکں (‬
‫‪ )۱۴‬تکو بھھی یہی کہیکں ککہ ہماری آنکھیکں مخمور ہوگئی ہیکں بلککہ ہم پکر جادو ککر دیکا گیکا ہے (‪ )۱۵‬اور ہم ہی نکے آسکمان میکں‬
‫برج بنائے اور دیکھ نے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا ( ‪ )۱۶‬اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا ( ‪ )۱۷‬ہاں‬
‫اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچ ھے لپکتا ہے (‪ )۱۸‬اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلیا اور‬
‫اس پکر پہاڑ (بنکا ککر) رککھ دیئے اور اس میکں ہر ایکک سکنجیدہ چیکز اُگائی ( ‪ )۱۹‬اور ہم ہی نکے تمہارے لیکے اور ان لوگوں ککے‬
‫لیے جن کو تکم روزی نہیکں دیتکے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے ( ‪ )۲۰‬اور ہمارے ہاں ہر چیکز کے خزانکے ہیکں اور ہم ان‬
‫کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں (‪ )۲۱‬اور ہم ہی ہوائیں چلتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی ہوتی ہیں اور ہم‬
‫ہی آسمان سے مینہ برساتے ہ یں اور ہم ہی تم کو اس کا پانی پلتے ہ یں اور تم تو اس کا خرانہ نہ یں رکھ تے (‪ )۲۲‬اور ہم ہی‬
‫حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہ یں۔ اور ہم سب کے وارث (مالک) ہ یں (‪ )۲۳‬اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہ یں‬
‫ہم ککو معلوم ہیکں اور جکو پیچھھے آنکے والے ہیکں وہ بھھی ہم ککو معلوم ہیکں (‪ )۲۴‬اور تمہارا پروردگار (قیامکت ککے دن) ان سکب‬
‫کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے (‪ )۲۵‬اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے (‪)۲۶‬‬
‫اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا (‪ )۲۷‬اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا‬
‫کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے وال ہوں (‪ )۲۸‬جب اس کو (صورت انسانیہ میں) درست کر لوں‬
‫اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا ( ‪ )۲۹‬تو فرشتے تو سب کے سب‬
‫سجدے میں گر پڑے (‪ )۳۰‬مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا (‪( )۳۱‬خدا نے فرمایا)‬
‫کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ( ‪( )۳۲‬اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس‬
‫کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں (‪( )۳۳‬خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے (‪۳۴‬‬
‫) اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی) (‪( )۳۵‬اس نے) کہا کہ پروردگار مج ھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ‬
‫(مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے (‪ )۳۶‬فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے (‪ )۳۷‬وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک (‬
‫‪( )۳۸‬اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مج ھے رستے سے الگ کیا ہے میں ب ھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو‬
‫آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا (‪ )۳۹‬ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے) (‪)۴۰‬‬
‫(خدا نکے) فرمایکا ککہ مجکھ تکک (پہنچنکے ککا) یہی سکیدھا رسکتہ ہے (‪ )۴۱‬جکو میرے (مخلص) بندے ہیکں ان پکر تجھھے کچکھ قدرت‬
‫نہ یں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچ ھے چل پڑے (‪ )۴۲‬اور ان سب کے وعدے کی جگہ‬
‫جہنکم ہے (‪ )۴۳‬اس ککے سکات دروازے ہیکں۔ ہر ایکک دروازے ککے لیکے ان میکں سکے جماعتیکں تقسکیم کردی گئی ہیکں (‪ )۴۴‬جکو‬
‫متقکی ہیکں وہ باغوں اور چشموں میکں ہوں گکے (‪( )۴۵‬ان سکے کہا جائے گکا ککہ) ان میکں سکلمتی (اور خاطکر جمکع سکے) داخکل‬
‫ہوجاؤ (‪ )۴۶‬اور ان ککے دلوں میکں جکو کدورت ہوگکی ان ککو ہم نکال ککر (صکاف ککر) دیکں گکے (گویکا) بھائی بھائی تختوں پکر‬

‫‪Page 102 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہ یں (‪ )۴۷‬نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے (‬
‫‪( )۴۸‬اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے وال (اور) مہربان ہوں (‪ )۴۹‬اور یہ کہ میرا عذاب ب ھی درد دینے‬
‫وال عذاب ہے (‪ )۵۰‬اور ان ککو ابراہیکم ککے مہمانوں ککا احوال سکنادو (‪ )۵۱‬جکب وہ ابراہیکم ککے پاس آئے تکو سکلم کہا۔ (انہوں‬
‫نکے) کہا ککہ ہمیکں تکو تکم سکے ڈر لگتکا ہے (‪( )۵۲‬مہمانوں نکے) کہا ککہ ڈریئے نہیکں ہم آپ کو ایکک دانشمنکد لڑککے ککی خوشخکبری‬
‫دیتے ہ یں (‪( )۵۳‬وہ) بولے کہ جب مج ھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو (‬
‫‪( )۵۴‬انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہ یں آپ مایوس نہ ہوئیے (‪( )۵۵‬ابراہ یم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے‬
‫(میکں مایوس کیوں ہونکے لگکا اس سکے) مایوس ہونکا گمراہوں ککا کام ہے (‪ )۵۶‬پھھر کہنکے لگکے ککہ فرشتکو! تمہیکں (اور) کیکا کام‬
‫ہے (‪( )۵۷‬انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (کہ اس کو عذاب کریں) ( ‪ )۵۸‬مگر لوط کے گھر‬
‫والے کہ ان سب کو ہم بچالیں گے (‪ )۵۹‬البتہ ان کی عورت (کہ) اس کے لیے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی (‬
‫‪ )۶۰‬پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے (‪ )۶۱‬تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو (‪ )۶۲‬وہ بولے کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے‬
‫پاس وہ چیز لے کر آئے ہ یں جس میں لوگ شک کرتے ت ھے (‪ )۶۳‬اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہ یں اور ہم سچ‬
‫کہ تے ہ یں (‪ )۶۴‬تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گ ھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچ ھے چلیں اور اور آپ میں سے‬
‫کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھھے۔ اور جہاں آپ کو حککم ہو وہاں چلے جایئے (‪ )۶۵‬اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ‬
‫ان لوگوں ککی جکڑ صکبح ہوتکے ہوتکے کاٹ دی جائے گکی (‪ )۶۶‬اور اہل شہر (لوط ککے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے (‪)۶۷‬‬
‫(لوط نکے) کہا ککہ یکہ میرے مہمان ہیکں (کہیکں ان ککے بارے میکں) مجھھے رسکوا نکہ کرنکا (‪ )۶۸‬اور خدا سکے ڈرو۔ اور میری‬
‫بےآبروئی نہ کیجو (‪ )۶۹‬وہ بولے کیکا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سکے منکع نہیکں کیا (‪( )۷۰‬انہوں نکے)‬
‫کہا ککہ اگکر تمہ یں کرنا ہی ہے تو یکہ میری (قوم ککی) لڑکیاں ہیکں (ان سکے شادی کرلو) (‪( )۷۱‬اے محمد) تمہاری جان ککی قسکم‬
‫وہ اپنی مستی میکں مدہوش (ہو رہے) تھھے (‪ )۷۲‬سو ان کو سورج نکلتکے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا (‪ )۷۳‬اور ہم نے اس شہر‬
‫کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا۔ اور ان پر کھنگر کی پتھریاں برسائیں (‪ )۷۴‬بے شک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے‬
‫نشانکی ہے (‪ )۷۵‬اور وہ (شہر) اب تکک سکیدھے رسکتے پکر (موجود) ہے (‪ )۷۶‬بےشکک اس میکں ایمان لنکے والوں ککے لیکے‬
‫نشانکی ہے (‪ )۷۷‬اور بَن ککے رہنکے والے (یعنکی قوم شعیکب ککے لوگ) بھھی گنہگار تھھے (‪ )۷۸‬تکو ہم نکے ان سکے بھھی بدلہ لیکا۔‬
‫اور یہ دونوں شہر کھلے رستے پر (موجود) ہیں (‪ )۷۹‬اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی (‬
‫‪ )۸۰‬ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھرتے رہے (‪ )۸۱‬اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گ ھر بناتے ت ھے‬
‫(ککہ) امکن (واطمینان) سکے رہیکں گکے (‪ )۸۲‬تکو چیکخ نکے ان ککو صکبح ہوتکے ہوتکے آپکڑا (‪ )۸۳‬اور جکو کام وہ کرتکے تھھے وہ ان‬
‫ککے کچکھ بھھی کام نکہ آئے (‪ )۸۴‬اور ہم نکے آسکمانوں اور زمیکن کو اور جکو (مخلوقات) ان میکں ہے اس ککو تدبیکر ککے سکاتھ پیدا‬
‫کیکا ہے۔ اور قیامکت تکو ضرور آککر رہے گکی تکو تکم (ان لوگوں سکے) اچھھی طرح سکے درگزر کرو (‪ )۸۵‬کچکھ شکک نہیکں ککہ‬
‫تمہارا پروردگار (سکب کچکھ) پیدا کرنکے وال (اور) جاننکے وال ہے (‪ )۸۶‬اور ہم نکے تکم ککو سکات (آیتیکں) جکو (نماز میکں) دہرا‬
‫ککر پڑھھی جاتکی ہیکں (یعنکی سکورہٴ الحمکد) اور عظمکت وال قرآن عطکا فرمایکا ہے ( ‪ )۸۷‬اور ہم نکے کفار ککی کئی جماعتوں ککو‬
‫جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا‬
‫اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا (‪ )۸۸‬اور کہہ دو کہ میں تو علنیہ ڈر سنانے وال ہوں (‪( )۸۹‬اور ہم ان کفار‬
‫پکر اسکی طرح عذاب نازل کریکں گکے) جکس طرح ان لوگوں پکر نازل کیکا جنہوں نکے تقسکیم کردیکا (‪ )۹۰‬یعنکی قرآن ککو (کچکھ‬
‫ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈال (‪ )۹۱‬تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے (‬
‫‪ )۹۲‬ان کاموں ککی جکو وہ کرتکے رہے (‪ )۹۳‬پکس جکو حککم تکم ککو (خدا ککی طرف سکے) مل ہے وہ (لوگوں ککو) سکنا دو اور‬
‫مشرکوں ککا (ذرا) خیال نکہ کرو (‪ )۹۴‬ہم تمہیکں ان لوگوں (ککے شکر) سکے بچانکے ککے لیکے جکو تکم سکے اسکتہزاء کرتکے ہیکں کافکی‬
‫ہیکں (‪ )۹۵‬جکو خدا ککے سکاتھ معبود قرار دیتکے ہیکں۔ سکو عنقریکب ان ککو (ان باتوں ککا انجام) معلوم ہوجائے گکا (‪ )۹۶‬اور ہم‬
‫جانتکے ہیکں ککہ ان باتوں سکے تمہارا دل تنکگ ہوتکا ہے (‪ )۹۷‬تکو تکم اپنکے پروردگار ککی تسکبیح کہتکے اور (اس ککی) خوبیاں بیان‬
‫کرتکے رہو اور سکجدہ کرنکے والوں میکں داخکل رہو (‪ )۹۸‬اور اپنکے پروردگار ککی عبادت کئے جاؤ یہاں تکک ککہ تمہاری موت‬
‫(کا وقت) آجائے (‪)۹۹‬‬

‫‪Page 103 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة النّحل‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس کے لیے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہ یں وہ‬
‫اس سکے پاک اور بالتکر ہے (‪ )۱‬وہی فرشتوں ککو پیغام دے ککر اپنکے حککم سکے اپنکے بندوں میکں سکے جکس ککے پاس چاہتکا ہے‬
‫بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہ یں تو مج ھی سے ڈرو (‪ )۲‬اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی‬
‫برحکمکت پیدا کیکا۔ اس ککی ذات ان (کافروں) ککے شرک سکے اونچکی ہے (‪ )۳‬اسکی نکے انسکان ککو نطفکے سکے بنایکا مگکر وہ اس‬
‫(خالق) کے بارے میں علنیہ جھگڑ نے لگا (‪ )۴‬اور چارپایوں کو ب ھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت‬
‫سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو (‪ )۵‬اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لتے ہو اور جب صبح کو‬
‫(جنگکل) چرانکے لے جاتکے ہو تکو ان سکے تمہاری عزت وشان ہے (‪ )۶‬اور (دور دراز) شہروں میکں جہاں تکم زحمتِک شاقّہ ککے‬
‫بغیکر پہنکچ نہیکں سککتے وہ تمہارے بوجکھ اٹھھا ککر لے جاتکے ہیکں۔ کچکھ شکک نہیکں ککہ تمہارا پروردگار نہایکت شفقکت وال اور‬
‫مہربان ہے (‪ )۷‬اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق وزینت‬
‫(بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں ( ‪ )۸‬اور سیدھا رستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے۔ اور‬
‫بعض رستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے رستے پر چل دیتا (‪ )۹‬وہی تو ہے‬
‫جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت ب ھی (شاداب ہوتے ہ یں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو‬
‫چراتے ہو (‪ )۱۰‬اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور‬
‫ہر طرح ککے پھھل (پیدا کرتکا ہے) غور کرنکے والوں ککے لیکے اس میکں (قدرتِک خدا ککی بڑی) نشانکی ہے ( ‪ )۱۱‬اور اسکی نکے‬
‫تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔‬
‫سمجھنے والوں کے لیے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں (‪ )۱۲‬اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس‬
‫نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لیے اس میں نشانی ہے (‪ )۱۳‬اور وہی تو‬
‫ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے‬
‫تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار‬
‫میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلش کرو تاککہ اس کا شککر کرو ( ‪ )۱۴‬اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بنا ککر) رکھ‬
‫دیئے کہ تم کو لے کر کہ یں ج ھک نہ جائے اور نہریں اور رستے بنا دیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے)‬
‫جاسککو (‪ )۱۵‬اور (راسکتوں میکں) نشانات بنکا دیئے اور لوگ سکتاروں سکے بھھی رسکتے معلوم کرتکے ہیکں (‪ )۱۶‬تکو جکو (اتنکی‬
‫مخلوقات) پیدا کرے۔ کیکا وہ ویسکا ہے جکو کچکھ بھھی پیدا نکہ کرسککے تکو پھھر تکم غور کیوں نہیکں کرتکے؟ (‪ )۱۷‬اور اگکر تکم خدا‬
‫ککی نعمتوں ککو شمار کرنکا چاہو تکو گکن نکہ سککو۔ بےشکک خدا بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۱۸‬اور جکو کچکھ تکم چھپاتکے اور جکو‬
‫کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے (‪ )۱۹‬اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہ یں وہ کوئی چیز ب ھی تو نہ یں‬
‫بناسکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں (‪( )۲۰‬وہ) لشیں ہیں بےجان۔ ان کو یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے‬
‫(‪ )۲۱‬تمہارا معبود تو اکیل خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے‬
‫ہیکں (‪ )۲۲‬یکہ جکو کچکھ چھپاتکے ہیکں اور جکو ظاہر کرتکے ہیکں خدا اس ککو ضرور جانتکا ہے۔ وہ سکرکشوں ککو ہرگکز پسکند نہیکں‬
‫کرتا (‪ )۲۳‬اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہ تے ہ یں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں‬
‫کی حکایتیں ہیں (‪( )۲۴‬اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن‬
‫کو یہ بےتحقیکق گمراہ کرتکے ہیکں ان ککے بوجکھ ب ھی اٹھائیں گکے۔ سن رک ھو ککہ جو بوجھ اٹھھا رہے ہیکں برے ہ یں ( ‪ )۲۵‬ان‬
‫سے پہلے لوگوں نے ب ھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھ یں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چ ھت ان‬
‫پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا (‪ )۲۶‬پھر وہ ان‬
‫کو قیامت کے دن ب ھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہ یں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے ت ھے۔ جن‬
‫لوگوں کو علم دیا گیا ت ھا وہ کہ یں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے ( ‪( )۲۷‬ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتکے ان‬

‫‪Page 104 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کی روحیں قبض کرنے لگتے ہ یں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہ یں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتکے ہ یں (اور‬
‫کہ تے ہ یں) کہ ہم کوئی برا کام نہ یں کرتے ت ھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے ت ھے خدا اسے خوب جانتا ہے (‪ )۲۸‬سو دوزخ کے‬
‫دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے (‪ )۲۹‬اور (جب) پرہیزگاروں‬
‫سے پوچ ھا جاتکا ہے ککہ تمہارے پروردگار نکے کیکا نازل کیکا ہے۔ تو کہتکے ہیکں کہ بہترین (کلم)۔ جو لوگ نیکوکار ہ یں ان کے‬
‫لیکے اس دنیکا میکں بھلئی ہے۔ اور آخرت ککا گھھر تکو بہت ہی اچھھا ہے۔ اور پرہیکز گاروں ککا گھھر بہت خوب ہے (‪( )۳۰‬وہ)‬
‫بہ شت جاودانی (ہ یں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہ یں وہاں جو چاہ یں گے ان کے لیے میسر ہوگا۔‬
‫خدا پرہیزگاروں ککو ایسکا ہی بدلہ دیتکا ہے (‪( )۳۱‬ان ککی کیفیکت یکہ ہے ککہ) جکب فرشتکے ان ککی جانیکں نکالنکے لگتکے ہیکں اور یکہ‬
‫(کفر وشرک سے) پاک ہوتے ہ یں تو سلم علیکم کہ تے ہ یں (اور کہ تے ہ یں کہ) جو عمل تم کیا کرتکے ت ھے ان کے بدلے میں‬
‫بہشکت میکں داخکل ہوجاؤ (‪ )۳۲‬کیکا یکہ (کافکر) اس بات ککے منتظکر ہیکں ککہ فرشتکے ان ککے پاس (جان نکالنکے) آئیکں یکا تمہارے‬
‫پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے۔ اسی طرح اُن لوگوں نے کیا تھا جو اُن سے پہلے تھے اور خدا نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ‬
‫وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے (‪ )۳۳‬تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے ملے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا‬
‫کرتکے تھھے اس نکے ان ککو (ہر طرف سکے) گھیکر لیکا (‪ )۳۴‬اور مشرک کہتکے ہیکں ککہ اگکر خدا چاہتکا تکو نکہ ہم ہی اس ککے سکوا‬
‫کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ (اے‬
‫پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا ت ھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر سنا دینے کے سوا‬
‫اور کچھ نہ یں (‪ )۳۵‬اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب‬
‫کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل‬
‫پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلنے والوں کا انجام کیسا ہوا (‪ )۳۶‬اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کے لیے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ‬
‫کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہ یں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار ب ھی نہ یں ہوتا (‪ )۳۷‬اور یہ خدا کی سخت سخت‬
‫قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائے گا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے‬
‫اور اس ککا پورا کرنکا اسکے ضرور ہے لیککن اکثکر لوگ نہیکں جانتکے (‪ )۳۸‬تاککہ جکن باتوں میکں یکہ اختلف کرتکے ہیکں وہ ان پکر‬
‫ظاہر کردے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھو ٹے ت ھے (‪ )۳۹‬جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہ یں تو ہماری بات یہی‬
‫ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے (‪ )۴۰‬اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لیے وطن چھوڑا ہم‬
‫ان ککو دنیکا میکں اچھھا ٹھکانکا دیکں گکے۔ اور آخرت ککا اجکر تکو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسکے) جانتکے (‪ )۴۱‬یعنکی وہ لوگ جکو‬
‫صبر کرتے ہ یں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھ تے ہ یں (‪ )۴۲‬اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا‬
‫تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو (‪( )۴۳‬اور ان پیغمبروں کو)‬
‫دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں‬
‫وہ ان پکر ظاہر کردو اور تاککہ وہ غور کریں (‪ )۴۴‬کیکا جو لوگ بری بری چالیکں چلتکے ہیکں اس بات سکے بےخوف ہ یں ککہ خدا‬
‫ان ککو زمیکن میکں دھنسکا دے یکا (ایسکی طرف سکے) ان پکر عذاب آجائے جہاں سکے ان ککو خکبر ہی نکہ ہو (‪ )۴۵‬یکا ان ککو چلتکے‬
‫پھرتکے پککڑ لے وہ (خدا ککو) عاجکز نہیکں کرسککتے (‪ )۴۶‬یکا جکب ان ککو عذاب ککا ڈر پیدا ہوگیکا ہو تکو ان ککو پکڑلے۔ بےشکک‬
‫تمہارا پروردگار بہت شفقکت کرنکے وال اور مہربان ہے (‪ )۴۷‬کیکا ان لوگوں نکے خدا ککی مخلوقات میکں سکے ایسکی چیزیکں نہیکں‬
‫دیکھیکں جکن ککے سکائے دائیکں سکے (بائیکں ککو) اور بائیکں سکے (دائیکں کو) لوٹتکے رہتکے ہیکں (یعنکی) خدا ککے آگکے عاجکز ہو ککر‬
‫سجدے میں پڑے رہ تے ہ یں (‪ )۴۸‬اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہ یں اور جو زمین میں ہ یں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے‬
‫ہ یں اور فرشتے ب ھی اور وہ ذرا غرور نہ یں کرتے (‪ )۴۹‬اور اپنے پروردگار سکے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہ یں اور جو ان‬
‫کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہ یں (‪ )۵۰‬اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے۔ تو مجھ‬
‫ہی سکے ڈرتکے رہو (‪ )۵۱‬اور جکو کچکھ آسکمانوں میکں اور جکو کچکھ زمیکن میکں ہے سکب اسکی ککا ہے اور اسکی ککی عبادت لزم‬
‫ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو (‪ )۵۲‬اور جو نعمتیں تم کو میسر ہ یں سب خدا کی طرف سے ہ یں۔ پ ھر‬
‫جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلتے ہو (‪ )۵۳‬پ ھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ‬
‫لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں (‪ )۵۴‬تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری‬
‫کریکں تکو (مشرککو) دنیکا میکں فائدے اٹھالو۔ عنقریکب تکم ککو (اس ککا انجام) معلوم ہوجائے گکا (‪ )۵۵‬اور ہمارے دیئے ہوئے مال‬
‫میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہ یں جن کو جانتے ہی نہ یں۔ (کافرو) خدا کی قسم کہ جو تم افتراء کرتے ہو اس‬

‫‪Page 105 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کی تم سے ضرور پرسش ہوگی (‪ )۵۶‬اور یہ لوگ خدا کے لیے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہ یں۔ (اور) وہ ان سے پاک ہے اور‬
‫اپنے لیے (بیٹے) جو مرغوب ودلپسند ہیں (‪ )۵۷‬حالنکہ جب ان میں سے کسی کو بی ٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے‬
‫تکو اس ککا منکہ (غکم ککے سکبب) کال پکڑ جاتکا ہے اور (اس ککے دل ککو دیکھھو تکو) وہ اندوہناک ہوجاتکا ہے ( ‪ )۵۸‬اور اس خکبر بکد‬
‫سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین‬
‫میکں گاڑ دے۔ دیکھھو یکہ جکو تجویکز کرتکے ہیکں بہت بری ہے (‪ )۵۹‬جکو لوگ آخرت پکر ایمان نہیکں رکھتکے ان ہی ککے لیکے بری‬
‫باتیکں (شایان) ہیکں۔ اور خدا ککو صکفت اعلیکٰ (زیکب دیتکی ہے) اور وہ غالب حکمکت وال ہے ( ‪ )۶۰‬اور اگکر خدا لوگوں ککو ان‬
‫کے ظلم کے سبب پکڑ نے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔‬
‫جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچ ھے رہ سکتے ہ یں نہ آگے بڑھ سکتے ہ یں ( ‪ )۶۱‬اور یہ خدا کے لیے ایسی چیزیں‬
‫تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور زبان سے جھوٹ بکے جاتے ہیں کہ ان کو (قیامت کے دن) بھلئی (یعنی‬
‫نجات) ہوگی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لیے (دوزخ کی) آگ (تیار) ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے (‬
‫‪ )۶۲‬خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ‬
‫کر دکھائے تو آج ب ھی وہی ان کا دوسکت ہے اور ان ککے لیکے عذاب الیم ہے (‪ )۶۳‬اور ہم نے جو تکم پکر کتاب نازل ککی ہے تو‬
‫اس کے لیے جس امر میں ان لوگوں کو اختلف ہے تم اس کا فیصلہ کردو۔ اور (یہ) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے (‬
‫‪ )۶۴‬اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پ ھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بے شک اس میں سننے‬
‫والوں ککے لیکے نشانکی ہے (‪ )۶۵‬اور تمہارے لیکے چارپایوں میکں بھھی (مقام) عکبرت (وغور) ہے ککہ ان ککے پیٹوں میکں جکو‬
‫گوبر اور لہو ہے اس سکے ہم تککم ککو خالص دودھ پلتکے ہیکں جککو پینکے والوں ککے لیکے خوشگوار ہے (‪ )۶۶‬اور کھجور اور‬
‫انگور ککے میووں سکے بھھی (تکم پینکے ککی چیزیکں تیار کرتکے ہو ککہ ان سکے شراب بناتکے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتکے ہو) جکو‬
‫لوگ سکمجھ رکھتکے ہیکں ان ککے لیکے ان (چیزوں) میکں (قدرت خدا ککی) نشانکی ہے (‪ )۶۷‬اور تمہارے پروردگار نکے شہد ککی‬
‫مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا (‪)۶۸‬‬
‫اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس‬
‫ککے مختلف رنکگ ہوتکے ہیکں اس میکں لوگوں (ککے کئی امراض) ککی شفکا ہے۔ بےشکک سکوچنے والوں ککے لیکے اس میکں بھھی‬
‫نشانی ہے (‪ )۶۹‬اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب‬
‫عمر کو پہ نچ جاتے ہ یں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہ یں۔ بے شک خدا (سب کچھ) جاننے وال‬
‫(اور) قدرت وال ہے (‪ )۷۰‬اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی‬
‫ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہ یں نہ یں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہ یٰ کے‬
‫منکر ہیں (‪ )۷۱‬اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے‬
‫اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں (‬
‫‪ )۷۲‬اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہ یں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا ب ھی اختیار نہ یں رکھ تے‬
‫اور نکہ کسکی اور طرح ککا مقدور رکھتکے ہیکں (‪ )۷۳‬تکو (لوگکو) خدا ککے بارے میکں (غلط) مثالیکں نکہ بناؤ۔ (صکحیح مثالوں ککا‬
‫طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (‪ )۷۴‬خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلم ہے جو (بالکل) دوسرے کے‬
‫اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب‬
‫عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز‬
‫نہیکں) الحمدل لیککن ان میکں سکے اکثکر لوگ نہیکں سکمجھ رکھتکے (‪ )۷۵‬اور خدا ایکک اور مثال بیان فرماتکا ہے ککہ دو آدمکی ہیکں‬
‫ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہ یں رکھ تا۔ اور اپنے مالک‬
‫ککو دوبھھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسکے بھیجتکا ہے (خیکر سکے کبھھی) بھلئی نہیکں لتکا۔ کیکا ایسکا (گونگکا بہرا) اور وہ شخکص جکو‬
‫(سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟ (‪ )۷۶‬اور‬
‫آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی‬
‫جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے (‪ )۷۷‬اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ‬
‫نہ یں جانتے ت ھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھ یں اور دل (اور اُن کے علوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو ( ‪)۷۸‬‬
‫کیکا ان لوگوں نکے پرندوں ککو نہیکں دیکھھا ککہ آسکمان ککی ہوا میکں گھرے ہوئے (اُڑتکے رہتکے) ہیکں۔ ان ککو خدا ہی تھامکے رکھتکا‬

‫‪Page 106 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ہے۔ ایمان والوں ککے لیکے اس میکں (بہت سکی) نشانیاں ہیکں (‪ )۷۹‬اور خدا ہی نکے تمہارے لیکے گھروں ککو رہنکے ککی جگکہ بنایکا‬
‫اور اُسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ڈیرے بنائے۔ جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لتے‬
‫ہو اور اُن ککی اون‪ ،‬پشکم اور بالوں سکے تکم اسکباب اور برتنکے ککی چیزیکں (بناتکے ہو جکو) مدت تکک (کام دیتکی ہیکں) ( ‪ )۸۰‬اور‬
‫خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے‬
‫جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (ب ھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھ یں۔ اسی طرح‬
‫خدا اپنکا احسکان تکم پکر پورا کرتکا ہے تاککہ تکم فرمانکبردار بنکو ( ‪ )۸۱‬اور اگکر یکہ لوگ اعتراض کریکں تکو (اے پیغمکبر) تمہارا کام‬
‫فقط کھول کر سنا دینا ہے (‪ )۸۲‬یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہ یں۔ مگر (واقف ہو کر) اُن سے انکار کرتے ہ یں اور یہ اکثر‬
‫ناشکرے ہیں (‪ )۸۳‬اور جس دن ہم ہر اُمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت‬
‫ملے گی اور نہ اُن کے عذر قبول کئے جائیں گے ( ‪ )۸۴‬اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی‬
‫می کں تخفیککف کککی جائے گککی اور ن کہ اُن کککو مہلت ہی دی جائے گککی ( ‪ )۸۵‬اور جککب مشرک (اپن کے بنائے ہوئے) شریکوں کککو‬
‫دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلم‬
‫کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہ یں گے کہ تم تو جھو ٹے ہو ( ‪ )۸۶‬اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے‬
‫اور جو طوفان وہ باند ھا کرتے ت ھے سب اُن سے جاتا رہے گا ( ‪ )۸۷‬جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے‬
‫سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے ت ھے ( ‪ )۸۸‬اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم‬
‫ہر اُمکت میکں سکے خود اُن پکر گواہ کھڑے کریکں گکے۔ اور (اے پیغمکبر) تکم ککو ان لوگوں پکر گواہ لئیکں گکے۔ اور ہم نکے تکم پکر‬
‫(ایسکی) کتاب نازل ککی ہے ککہ (اس میکں) ہر چیکز ککا بیان (مفصکل) ہے اور مسکلمانوں ککے لیکے ہدایکت اور رحمکت اور بشارت‬
‫ہے (‪ )۸۹‬خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور‬
‫نامعقول کاموں سکے اور سکرکشی سکے منکع کرتکا ہے (اور) تمہیکں نصکیحت کرتکا ہے تاککہ تکم یاد رکھھو (‪ )۹۰‬اور جکب خدا سکے‬
‫عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔‬
‫اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے (‪ )۹۱‬اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر‬
‫اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈال۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے‬
‫گروہ سکے زیادہ غالب رہے۔ بات یکہ ہے ککہ خدا تمہیکں اس سکے آزماتکا ہے۔ اور جکن باتوں میکں تکم اختلف کرتکے ہو قیامکت ککو‬
‫اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا (‪ )۹۲‬اور اگر خدا چاہ تا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہ تا‬
‫ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہ تا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور‬
‫پوچ ھا جائے گا (‪ )۹۳‬اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا‬
‫جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے رستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے۔ اور بڑا سخت عذاب‬
‫ملے (‪ )۹۴‬اور خدا سکے جکو تکم نکے عہد کیکا ہے (اس ککو مکت بیچکو اور) اس ککے بدلے تھوڑی سکی قیمکت نکہ لو۔ (کیونککہ ایفائے‬
‫عہد کا) جو صلہ خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لیے بہ تر ہے (‪ )۹۵‬جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا‬
‫ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے کہ (کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم اُن کو ان کے اعمال کا بہت‬
‫اچھھا بدلہ دیکں گکے (‪ )۹۶‬جکو شخکص نیکک اعمال کرے گکا مرد ہو یکا عورت وہ مومکن بھھی ہوگکا تکو ہم اس ککو (دنیکا میکں) پاک‬
‫(اور آرام ککی) زندگکی سکے زندہ رکھیکں گکے اور (آخرت میکں) اُن ککے اعمال ککا نہایکت اچھھا صکلہ دیکں گکے ( ‪ )۹۷‬اور جکب تکم‬
‫قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو (‪ )۹۸‬کہ جو مومن ہ یں اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھ تے ہیں اُن‬
‫پر اس کا کچھ زور نہ یں چلتا (‪ )۹۹‬اس کا زور ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہ یں اور اس کے (وسوسے‬
‫کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہ یں (‪ )۱۰۰‬اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہ یں۔ اور خدا‬
‫جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان‬
‫میکں اکثکر نادان ہیکں (‪ )۱۰۱‬کہہ دو ککہ اس ککو روح القدس تمہارے پروردگار ککی طرف سکے سکچائی ککے سکاتھ لے ککر نازل‬
‫ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے (‪ )۱۰۲‬اور‬
‫ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے‬
‫ہیکں اس ککی زبان تکو عجمکی ہے اور یکہ صکاف عربکی زبان ہے (‪ )۱۰۳‬یکہ لوگ خدا ککی آیتوں پکر ایمان نہیکں لتکے ان ککو خدا‬
‫ہدایکت نہیکں دیتکا اور ان ککے لئے عذاب الیکم ہے (‪ )۱۰۴‬جھوٹ افتراء تکو وہی لوگ کیکا کرتکے ہیکں جکو خدا ککی آیتوں پکر ایمان‬

‫‪Page 107 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫نہیکں لتکے۔ اور وہی جھوٹھے ہیکں (‪ )۱۰۵‬جکو شخکص ایمان لنکے ککے بعکد خدا ککے سکاتھ کفکر کرے وہ نہیکں جکو (کفکر پکر‬
‫زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو‬
‫ایسکوں پکر ال ککا غضب ہے۔ اور ان ککو بڑا سکخت عذاب ہوگکا (‪ )۱۰۶‬یکہ اس لئے ککہ انہوں نکے دنیکا ککی زندگکی ککو آخرت ککے‬
‫مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (‪ )۱۰۷‬یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر‬
‫اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں (‪ )۱۰۸‬کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ‬
‫اٹھانے والے ہوں گے (‪ )۱۰۹‬پ ھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پ ھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے‬
‫تمہارا پروردگار ان ککو بےشکک ان (آزمائشوں) ککے بعکد بخشنکے وال (اور ان پکر) رحمکت کرنکے وال ہے (‪ )۱۱۰‬جکس دن ہر‬
‫متنفکس اپنکی طرف سکے جھگڑا کرنکے آئے گکا۔ اور ہر شخکص ککو اس ککے اعمال ککا پورا پورا بدلہ دیکا جائے گکا۔ اور کسکی ککا‬
‫نقصان نہیں کیا جائے گا (‪ )۱۱۱‬اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف‬
‫سے رزق بافراغت چل آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو‬
‫بھوک اور خوف ککا لباس پہنکا ککر (ناشکری ککا) مزہ چکھھا دیکا (‪ )۱۱۲‬اور ان ککے پاس ان ہی میکں سکے ایکک پیغمکبر آیکا تکو‬
‫انہوں نے اس کو جھٹلیا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے (‪ )۱۱۳‬پس خدا نے جو تم کو حلل طیّب رزق دیا ہے‬
‫اسے کھاؤ۔ اور ال کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو (‪ )۱۱۴‬اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا‬
‫گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے‬
‫تکو بشرطیککہ گناہ کرنکے وال نکہ ہو اور نکہ حکد سکے نکلنکے وال تکو خدا بخشنکے وال مہربان ہے (‪ )۱۱۵‬اور یوں ہی جھوٹ جکو‬
‫تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلل ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھ نے لگو۔ جو لوگ خدا پر‬
‫جھوٹ بہتان باندھتکے ہیکں ان ککا بھل نہیکں ہوگکا (‪( )۱۱۶‬جھوٹ ککا) فائدہ تکو تھوڑا سکا ہے مگکر (اس ککے بدلے) ان ککو عذاب‬
‫الیکم بہت ہوگکا (‪ )۱۱۷‬اور چیزیکں ہم تکم سکے پہلے بیان کرچککے ہیکں وہ ہم نکے یہودیوں پکر حرام کردی تھیکں۔ اور ہم نکے ان پکر‬
‫کچھ ظلم نہ یں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ت ھے (‪ )۱۱۸‬پ ھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پ ھر اس کے بعد‬
‫توبکہ ککی اور نیکوکار ہوگئے تکو تمہارا پروردگار (ان ککو) توبکہ کرنکے اور نیکوکار ہوجانکے ککے بعکد بخشنکے وال اور ان پکر‬
‫رحمکت کرنکے وال ہے (‪ )۱۱۹‬بےشکک ابراہیکم (لوگوں ککے) امام اور خدا ککے فرمانکبردار تھھے۔ جکو ایکک طرف ککے ہو رہے‬
‫تھھے اور مشرکوں میکں سکے نکہ تھھے (‪ )۱۲۰‬اس ککی نعمتوں ککے شکرگزار تھھے۔ خدا نکے ان ککو برگزیدہ کیکا تھھا اور (اپنکی)‬
‫سیدھی راہ پر چلیا تھا (‪ )۱۲۱‬اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی۔ اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں‬
‫گے (‪ )۱۲۲‬پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور‬
‫مشرکوں میں سے نہ تھے (‪ )۱۲۳‬ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلف کیا۔ اور‬
‫تمہارا پروردگار قیامکت ککے دن ان میکں ان باتوں ککا فیصکلہ کردے گکا جکن میکں وہ اختلف کرتکے تھھے ( ‪( )۱۲۴‬اے پیغمکبر)‬
‫لوگوں ککو دانکش اور نیکک نصکیحت سکے اپنکے پروردگار ککے رسکتے ککی طرف بلؤ۔ اور بہت ہی اچھھے طریکق سکے ان سکے‬
‫مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں‬
‫ان سکے بھھی خوب واقکف ہے (‪ )۱۲۵‬اور اگکر تکم ان ککو تکلیکف دینکی چاہو تکو اتنکی ہی دو جتنکی تکلیکف تکم ککو ان سکے پہنچکی۔‬
‫اور اگکر صکبر کرو تکو وہ صکبر کرنکے والوں ککے لیکے بہت اچھھا ہے ( ‪ )۱۲۶‬اور صکبر ہی کرو اور تمہارا صکبر بھھی خدا ہی‬
‫کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بداندیشی کرتے ہ یں اس سے تنگدل نہ ہو (‪ )۱۲۷‬کچھ شک نہ یں‬
‫کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکوکار ہیں خدا ان کا مددگار ہے (‪)۱۲۸‬‬

‫‪Page 108 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة بنیٓ اسرآئیل ‪ٕ /‬‬
‫السرَاء‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس‬
‫ککے گردا گرد ہم نکے برکتیکں رکھھی ہیکں لے گیکا تاککہ ہم اسکے اپنکی (قدرت ککی) نشانیاں دکھائیکں۔ بےشکک وہ سکننے وال (اور)‬
‫دیکھنکے وال ہے (‪ )۱‬اور ہم نکے موسکیٰ ککو کتاب عنایکت ککی تھھی اور اس ککو بنکی اسکرائیل ککے لئے رہنمکا مقرر کیکا تھھا ککہ‬
‫میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا (‪ )۲‬اے اُن لوگوں کی اولد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا ت ھا۔‬
‫بے شک نوح (ہمارے) شکرگزار بندے ت ھے (‪ )۳‬اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا ت ھا کہ زمین میں دو دفعہ فساد‬
‫مچاؤ گکے اور بڑی سکرکشی کرو گکے (‪ )۴‬پکس جکب پہلے (وعدے) ککا وقکت آیکا تکو ہم نکے سکخت لڑائی لڑنکے والے بندے تکم پکر‬
‫مسلط کردیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔ اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا (‪ )۵‬پھر ہم نے دوسری بات تم کو اُن پر غلبہ‬
‫دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی۔ اور تم کو جماعت کثیر بنا دیا (‪ )۶‬اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں‬
‫کے لئے کرو گے۔ اور اگر اعمال بد کرو گے تو (اُن کا) وبال ب ھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پ ھر جب دوسرے (وعدے) کا‬
‫وقکت آیکا (تکو ہم نکے پھھر اپنکے بندے بھیجکے) تاککہ تمہارے چہروں ککو بگاڑ دیکں اور جکس طرح پہلی دفعکہ مسکجد (بیکت المقدس)‬
‫میکں داخکل ہوگئے تھھے اسکی طرح پھھر اس میکں داخکل ہوجائیکں اور جکس چیکز پکر غلبکہ پائیکں اُسکے تباہ کردیکں ( ‪ )۷‬امیکد ہے ککہ‬
‫تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے‪ ،‬اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی (وہی پہل سلوک) کریں گے اور ہم نے‬
‫جہنکم ککو کافروں ککے لئے قیکد خانکہ بنکا رکھھا ہے (‪ )۸‬یکہ قرآن وہ رسکتہ دکھاتکا ہے جکو سکب سکے سکیدھا ہے اور مومنوں ککو جکو‬
‫نیکک عمکل کرتکے ہیکں بشارت دیتکا ہے ککہ اُن ککے لئے اجکر عظیکم ہے ( ‪ )۹‬اور یکہ بھھی (بتاتکا ہے) ککہ جکو آخرت پکر ایمان نہیکں‬
‫رکھ تے اُن کے لئے ہم نے دکھ دینے وال عذاب تیار کر رک ھا ہے ( ‪ )۱۰‬اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلئی مانگتا ہے‬
‫اسکی طرح برائی مانگتکا ہے۔ اور انسکان جلد باز (پیدا ہوا) ہے (‪ )۱۱‬اور ہم نکے دن اور رات ککو دو نشانیاں بنایکا ہے رات ککی‬
‫نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن۔ تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلش کرو اور برسوں کا‬
‫شمار اور حسککاب جانککو۔ اور ہم نکے ہر چیککز ککو (بخوبککی) تفصککیل کردی ہے (‪ )۱۲‬اور ہم نکے ہر انسککان ککے اعمال ککو (بکہ‬
‫صکورت کتاب) اس ککے گلے میکں لٹککا دیکا ہے۔ اور قیامکت ککے روز (وہ) کتاب اسکے نکال دکھائیکں گکے جسکے وہ کھل ہوا‬
‫دیکھے گا (‪( )۱۳‬کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے۔ تو آج اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے (‪ )۱۴‬جو شخص ہدایت اختیار کرتا‬
‫ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا۔ اور کوئی شخص کسی دوسرے‬
‫کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے ( ‪ )۱۵‬اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے‬
‫ہلک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش پر) مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے۔ پ ھر اس پر (عذاب‬
‫ککا) حککم ثابکت ہوگیکا۔ اور ہم نکے اسکے ہلک ککر ڈال (‪ )۱۶‬اور ہم نکے نوح ککے بعکد بہت سکی اُمتوں ککو ہلک ککر ڈال۔ اور‬
‫تمہارا پروردگار اپنکے بندوں ککے گناہوں کککو جاننکے اور دیکھنکے وال کافککی ہے (‪ )۱۷‬جککو شخککص دنیککا (کککی آسککودگی) کککا‬
‫خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہ تے ہ یں اور جتنا چاہ تے ہ یں جلد دے دیتے ہ یں۔ پ ھر اس کے لئے جہ نم کو (ٹھکانا)‬
‫مقرر کر رک ھا ہے۔ جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا (‪ )۱۸‬اور جو شخص آخرت کا‬
‫خواسکتگار ہوا اور اس میکں اتنکی کوشکش کرے جتنکی اسکے لئق ہے اور وہ مومکن بھھی ہو تکو ایسکے ہی لوگوں ککی کوشکش‬
‫ٹھکان کے لگتککی ہے (‪ )۱۹‬ہم اُن کککو اور ان کککو سککب کککو تمہارے پروردگار کککی بخشککش س کے مدد دیت کے ہی کں۔ اور تمہارے‬
‫پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہ یں (‪ )۲۰‬دیک ھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ اور‬
‫آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے (‪ )۲۱‬اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ‬
‫ملمتیں سن کر اور بےکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے (‪ )۲۲‬اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی‬
‫کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلئی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہ نچ‬
‫جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہ نا اور نہ انہ یں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا ( ‪ )۲۳‬اور عجزو نیاز سے ان کے‬
‫آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے‬

‫‪Page 109 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫تو ب ھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما ( ‪ )۲۴‬جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر‬
‫تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لنے والوں کو بخش دینے وال ہے (‪ )۲۵‬اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا‬
‫حق ادا کرو۔ اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ ( ‪ )۲۶‬کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہ یں۔ اور شیطان‬
‫اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفر ان کرنے وال (یعنی ناشکرا) ہے (‪ )۲۷‬اور اگر تم نے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی‬
‫فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہ یں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو اُن سے نرمی سے بات کہہ دیا‬
‫کرو (‪ )۲۸‬اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بند ھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کچھ دو ہی نہ یں) اور نہ بالکل کھول‬
‫ہی دو (ککہ سکبھی دے ڈالو اور انجام یکہ ہو) ککہ ملمکت زدہ اور درماندہ ہو ککر بیٹھھ جاؤ (‪ )۲۹‬بےشکک تمہارا پروردگار جکس‬
‫کی روزی چاہ تا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہ تا ہے) تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان‬
‫ککو) دیککھ رہا ہے (‪ )۳۰‬اور اپنکی اولد ککو مفلسکی ککے خوف سکے قتکل نکہ کرنکا۔ (کیونککہ) ان ککو اور تکم ککو ہم ہی رزق دیتکے‬
‫ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے (‪ )۳۱‬اور زنا کے بھی پاس نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے‬
‫(‪ )۳۲‬اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت)۔ اور جو‬
‫شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے‬
‫قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے (‪ )۳۳‬اور یتیم کے مال کے پاس ب ھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق‬
‫سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ ہو جوانی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی (‬
‫‪ )۳۴‬اور جب (کوئی چیز) ناپ ککر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تول‬
‫کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے (‪ )۳۵‬اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے‬
‫پیچھھے نکہ پکڑ۔ ککہ کان اور آنککھ اور دل ان سکب (جوارح) سکے ضرور باز پرس ہوگکی (‪ )۳۶‬اور زمیکن پکر اککڑ ککر (اور تکن‬
‫ککر) مکت چکل ککہ تکو زمیکن ککو پھاڑ تکو نہیکں ڈالے گکا اور نکہ لمبکا ہو ککر پہاڑوں (ککی چوٹھی) تکک پہنکچ جائے گکا ( ‪ )۳۷‬ان سکب‬
‫(عادتوں) ککی برائی تیرے پروردگار ککے نزدیکک بہت ناپسکند ہے (‪ )۳۸‬اے پیغمکبر یکہ ان (ہدایتوں) میکں سکے ہیکں جکو خدا نکے‬
‫دانائی ککی باتیکں تمہاری طرف وحکی ککی ہیکں۔ اور خدا ککے سکاتھ کوئی معبود نکہ بنانکا ککہ (ایسکا کرنکے سکے) ملمکت زدہ اور‬
‫(درگاہ خدا سکے) راندہ بنکا ککر جہنکم میکں ڈال دیئے جاؤ گکے (‪( )۳۹‬مشرککو!) کیکا تمہارے پروردگار نکے تکم ککو لڑککے دیئے اور‬
‫خود فرشتوں ککو بیٹیاں بنایکا۔ کچکھ شکک نہیکں ککہ (یکہ) تکم بڑی (نامعقول بات) کہتکے ہو (‪ )۴۰‬اور ہم نکے اس قرآن میکں طرح‬
‫طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں گے۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں ( ‪ )۴۱‬کہہ دو کہ اگر خدا کے‬
‫سکاتھ اور معبود ہوتکے جیسکا ککہ یکہ کہتکے ہیکں تکو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش ککی طرف (لڑنکے بھڑنکے ککے لئے) رسکتہ‬
‫نکالتکے (‪ )۴۲‬وہ پاک ہے اور جکو کچکھ یکہ بکواس کرتکے ہیکں اس سکے (اس ککا رتبکہ) بہت عالی ہے (‪ )۴۳‬سکاتوں آسکمان اور‬
‫زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں۔ اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اس کی تعریف‬
‫کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ لیکن تم ان کی تسکبیح کو نہ یں سمجھتے۔ بے شک وہ بردبار (اور) غفار ہے (‪ )۴۴‬اور جب قرآن‬
‫پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہ یں رکھ تے حجاب پر حجاب کر دیتے ہ یں (‪ )۴۵‬اور ان‬
‫کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہ یں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہ یں۔ اور جب تم قرآن میں‬
‫اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں (‪ )۴۶‬یہ لوگ جب تمہاری طرف کان‬
‫لگاتے ہ یں تو جس نیت سے یہ سنتے ہ یں ہم اسے خوب جانتے ہ یں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہ یں (یعنی) جب ظالم کہ تے‬
‫ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے ( ‪ )۴۷‬دیک ھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے‬
‫بارے میں باتیں بنائیں ہ یں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہ یں اور رستہ نہ یں پاسکتے (‪ )۴۸‬اور کہ تے ہ یں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ)‬
‫ہڈیوں اور چُور چُور ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہو کر اُٹھیں گے ( ‪ )۴۹‬کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا (‪)۵۰‬‬
‫یکا کوئی اور چیکز جکو تمہارے نزدیکک (پتھھر اور لوہے سکے بھھی) بڑی (سکخت) ہو (جھھٹ کہیکں گکے) ککہ (بھل) ہمیکں دوبارہ‬
‫کون جِلئے گا؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سرہلئیں گے اور پوچھ یں گے‬
‫کہ ایسا کب ہوگا؟ کہہ دو کہ امید ہے جلد ہوگا (‪ )۵۱‬جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے‬
‫اور خیال کرو گکے ککہ تکم (دنیکا میکں) بہت ککم (مدت) رہے (‪ )۵۲‬اور میرے بندوں سکے کہہ دو ککہ (لوگوں سکے) ایسکی باتیکں کہا‬
‫کریکں جکو بہت پسکندیدہ ہوں۔ کیونککہ شیطان (بری باتوں سکے) ان میکں فسکاد ڈلوا دیتکا ہے۔ کچکھ شکک نہیکں ککہ شیطان انسکان ککا‬
‫کھل دشمکن ہے (‪ )۵۳‬تمہارا پروردگار تکم سکے خوب واقکف ہے۔ اگکر چاہے تکو تکم پکر رحکم کرے یکا اگکر چاہے تکو تمہیکں عذاب‬

‫‪Page 110 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ (بنا کر) نہ یں بھیجا (‪ )۵۴‬اور جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہ یں تمہارا پروردگار ان‬
‫سکے خوب واقکف ہے۔ اور ہم نکے بعکض پیغمکبروں ککو بعکض پکر فضیلت بخشکی اور داؤد ککو زبور عنایکت ککی (‪ )۵۵‬کہو ککہ‬
‫(مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بل کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس‬
‫کے بدل دینے کا کچھ ب ھی اختیار نہ یں رکھ تے (‪ )۵۶‬یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہ یں وہ خود اپنے پروردگار کے‬
‫ہاں ذریعہ (تقرب) تلش کرتے رہ تے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے‬
‫ہ یں اور اس کے عذاب سے خوف رکھ تے ہ یں۔ بے شک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے (‪ )۵۷‬اور (کفر کرنے‬
‫والوں کی) کوئی بستی نہ یں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے۔ یہ‬
‫کتاب (یعنی تقدیر) میں لک ھا جاچکا ہے (‪ )۵۸‬اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لئے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی‬
‫تکذیکب ککی تھھی۔ اور ہم نکے ثمود ککو اونٹنکی (نبوت صکالح ککی کھلی) نشانکی دی۔ تکو انہوں نکے اس پکر ظلم کیکا اور ہم جکو‬
‫نشانیاں بھیجا کرتکے ہیکں تو ڈرانکے کو (‪ )۵۹‬جب ہم نے تم سکے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطکہ کئے ہوئے ہے۔ اور‬
‫جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لئے آرمائش کیا۔ اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں‬
‫لعنت کی گئی۔ اور ہم انہ یں ڈراتے ہ یں تو ان کو اس سے بڑی (سخت) سرکشی پیدا ہوتی ہے ( ‪ )۶۰‬اور جب ہم نے فرشتوں‬
‫سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بول کہ بھل میں ایسے شخص کو سجدہ کرو جس کو‬
‫تو نے م ٹی سے پیدا کیا ہے (‪( )۶۱‬اور از راہ طنز) کہ نے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔‬
‫اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولد کی جڑ کاٹ تا رہوں‬
‫گکا (‪ )۶۲‬خدا نکے فرمایکا (یہاں سکے) چل جکا۔ جکو شخکص ان میکں سکے تیری پیروی کرے گکا تکو تکم سکب ککی جزا جہنکم ہے (اور‬
‫وہ) پوری سزا (ہے) (‪ )۶۳‬اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیاروں‬
‫کو چڑھا کر لتا رہ اور ان کے مال اور اولد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے‬
‫کرتکا ہے سکب دھوککا ہے (‪ )۶۴‬جکو میرے (مخلص) بندے ہیکں ان پکر تیرا کچکھ زور نہیکں۔ اور (اے پیغمکبر) تمہارا پروردگار‬
‫کارساز کافی ہے (‪ )۶۵‬تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلتا ہے تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی)‬
‫تلش کرو۔ بےشک وہ تم پر مہربان ہے (‪ )۶۶‬اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو‬
‫جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہ یں۔ پ ھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی پر‬
‫لے جاتکا ہے تکو تکم منکہ پھیکر لیتکے ہو اور انسکان ہے ہی ناشکرا (‪ )۶۷‬کیکا تکم (اس سکے) بےخوف ہو ککہ خدا تمہیکں خشککی ککی‬
‫طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آند ھی چلدے۔ پ ھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ (‬
‫‪ )۶۸‬یکا (اس سکے) بےخوف ہو ککر تکم دوسکری دفعکہ دریکا میکں لے جائے پھھر تکم پکر تیکز ہوا چلئے اور تمہارے کفکر ککے سکبب‬
‫تمہیکں ڈبکو دے۔ پھھر تکم اس غرق ککے سکبب اپنکے لئے کوئی ہمارا پیچھھا کرنکے وال نکہ پاؤ (‪ )۶۹‬اور ہم نکے بنکی آدم ککو عزت‬
‫بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی (‪۷۰‬‬
‫) جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلئیں گے۔ تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہ نے ہاتھ میں دی‬
‫جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھ یں گے اور ان پر دھاگے برابر ب ھی ظلم نہ ہوگا (‪ )۷۱‬اور جو شخص اس‬
‫(دنیا) میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور (نجات کے) رستے سے بہت دور ( ‪ )۷۲‬اور اے پیغمبر جو وحی ہم نے‬
‫تمہاری طرف بھیجکی ہے قریکب تھھا ککہ یکہ (کافکر) لوگ تکم ککو اس سکے بچل دیکں تاککہ تکم اس ککے سکوا اور باتیکں ہماری نسکبت‬
‫بنالو۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے (‪ )۷۳‬اور اگر تم کو ثابت قدم نہ رہ نے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل‬
‫ہونے ہی لگے ت ھے (‪ )۷۴‬اس وقت ہم تم کو زندگی میں (عذاب کا) دونا اور مرنے پر ب ھی دونا مزا چکھاتے پ ھر تم ہمارے‬
‫مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے (‪ )۷۵‬اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین (مکہ) سے پھسل دیں تاکہ تمہیں وہاں سے‬
‫جلوطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچ ھے یہ ب ھی نہ رہ تے مگر کم (‪ )۷۶‬جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ت ھے ان‬
‫کا (اور ان کے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق میں تغیروتبدل نہ پاؤ گے (‪( )۷۷‬اے محمدﷺ) سورج‬
‫کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر‪ ،‬عصر‪ ،‬مغرب‪ ،‬عشا کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیوں صبح کے‬
‫وقکت قرآن ککا پڑھنکا موجکب حضور (ملئککہ) ہے (‪ )۷۸‬اور بعکض حصکہ شکب میکں بیدار ہوا کرو (اور تہجکد ککی نماز پڑھھا‬
‫کرو)۔ (یہ شب خیزی) تمہاری لئے (سبب) زیادت ہے (ثواب اور نماز تہجد تم کو نفل) ہے قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود‬
‫میکں داخکل کرے (‪ )۷۹‬اور کہو ککہ اے پروردگار مجھھے (مدینکے میکں) اچھھی طرح داخکل کیجیکو اور (مککے سکے) اچھھی طرح‬

‫‪Page 111 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫نکالیو۔ اور اپنے ہاں سے زور وقوت کو میرا مددگار بنائیو (‪ )۸۰‬اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا۔ بےشک باطل‬
‫نابود ہونے وال ہے (‪ )۸۱‬اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور‬
‫ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھ تا ہے (‪ )۸۲‬اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہ یں تو ردگرداں ہوجاتا اور‬
‫پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے (‪ )۸۳‬کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل‬
‫کرتکا ہے۔ سکو تمہارا پروردگار اس شخکص سکے خوب واقکف ہے جکو سکب سکے زیادہ سکیدھے رسکتے پکر ہے ( ‪ )۸۴‬اور تکم سکے‬
‫روح کے بارے میں سوال کرتے ہ یں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا‬
‫گیکا ہے (‪ )۸۵‬اور اگکر ہم چاہیکں تکو جکو (کتاب) ہم تمہاری طرف بھیجتکے ہیکں اسکے (دلوں سکے) محکو کردیکں۔ پھھر تکم اس ککے‬
‫لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاؤ (‪ )۸۶‬مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں‬
‫ککہ تکم پکر اس ککا بڑا فضکل ہے (‪ )۸۷‬کہہ دو ککہ اگکر انسکان اور جکن اس بات پکر مجتمکع ہوں ککہ اس قرآن جیسکا بنکا لئیکں تکو اس‬
‫جیسا نہ لسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کو مددگار ہوں (‪ )۸۸‬اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی‬
‫ہیں۔ مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ( ‪ )۸۹‬اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لئیں گے جب تک کہ‬
‫(عجیب وغریب باتیں نہ دکھاؤ یعنی یا تو) ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری کردو (‪ )۹۰‬یا تمہارا کھجوروں اور انگوروں‬
‫ککا کوئی باغ ہو اور اس ککے بیکچ میکں نہریکں بہا نکالو (‪ )۹۱‬یکا جیسکا تکم کہا کرتکے ہو ہم پکر آسکمان ککے ٹکڑے ل گراؤ یکا خدا‬
‫اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے لؤ (‪ )۹۲‬یا تو تمہارا سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ۔ اور ہم تمہارے چڑھنے کو‬
‫ب ھی نہ یں مانیں گکے جکب تک ککہ کوئی کتاب نہ لؤ جسکے ہم پڑھ ب ھی لیں۔ کہہ دو ککہ میرا پروردگار پاک ہے میکں تو صکرف‬
‫ایکک پیغام پہنچانکے وال انسکان ہوں (‪ )۹۳‬اور جکب لوگوں ککے پاس ہدایکت آگئی تکو ان ککو ایمان لنکے سکے اس ککے سکوا کوئی‬
‫چیز مانع نہ ہوئی کہ کہ نے لگے کہ کیا خدا نے آدمی کو پیغمبر کرکے بھیجا ہے ( ‪ )۹۴‬کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے‬
‫(کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم اُن کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے ( ‪ )۹۵‬کہہ دو‬
‫ککہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافکی ہے۔ وہی اپنکے بندوں سکے خکبردار (اور ان ککو) دیکھنکے وال ہے (‪ )۹۶‬اور‬
‫جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے۔ اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا اُن کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور‬
‫ہم اُن کو قیامت کے دن اوند ھے منہ اند ھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جب (اس‬
‫کی آگ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو (عذاب دینے کے لئے) اور بھڑکا دیں گے ( ‪ )۹۷‬یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری‬
‫آیتوں سکے کفکر کرتکے تھھے اور کہتکے تھھے ککہ جکب ہم (مکر ککر بوسکیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیکں گکے تکو کیکا ازسکرنو پیدا‬
‫کئے جائیں گکے (‪ )۹۸‬کیا انہوں نکے نہ یں دیکھھا ککہ خدا جس نکے آسکمانوں اور زمین کو پیدا کیکا ہے اس بات پکر قادر ہے ککہ ان‬
‫جیسے (لوگ) پیدا کردے۔ اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جس میں کچھ ب ھی شک نہ یں۔ تو ظالموں نے‬
‫انکار کرنے کے سوا (اسے) قبول نہ کیا (‪ )۹۹‬کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے‬
‫تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے (‪ )۱۰۰‬اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی‬
‫نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا‬
‫ہوں ککہ تکم پکر جادو کیکا گیکا ہے (‪ )۱۰۱‬انہوں نکے کہا ککہ تکم یکہ جانتکے ہو ککہ آسکمانوں اور زمیکن ککے پروردگار ککے سکوا ان ککو‬
‫کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلک ہوجاؤ گے‬
‫(‪ )۱۰۲‬تو اس نے چاہا کہ ان کو سر زمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا‬
‫(‪ )۱۰۳‬اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو۔ پ ھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب‬
‫کو جمع کرککے لے آئیں گکے (‪ )۱۰۴‬اور ہم نے اس قرآن ککو سچائی ککے سکاتھ نازل کیکا ہے اور وہ سکچائی ککے سکاتھ نازل ہوا‬
‫اور (اے محمدﷺ) ہم نکے تکم کو صکرف خوشخبری دینکے وال اور ڈر سکنانے وال بنا ککر بھیجکا ہے (‪ )۱۰۵‬اور ہم نکے قرآن کو‬
‫جزو جزو کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اُتارا ہے ( ‪)۱۰۶‬‬
‫کہہ دو ککہ تکم اس پکر ایمان لؤ یکا نکہ لؤ (یکہ فکی نفسکہ حکق ہے) جکن لوگوں ککو اس سکے پہلے علم (کتاب) دیکا ہے۔ جکب وہ ان ککو‬
‫پڑھ ککر سکنایا جاتکا ہے تکو وہ تھوڑیوں ککے بکل سکجدے میکں گکر پڑتکے ہیکں (‪ )۱۰۷‬اور کہتکے ہیکں ککہ ہمارا پروردگار پاک ہے‬
‫بے شک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہا (‪ )۱۰۸‬اور وہ تھوڑیوں کے بل گر پڑ تے ہ یں (اور) روتے جاتے ہ یں اور‬
‫اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے (‪ )۱۰۹‬کہہ دو کہ تم (خدا کو) ال (کے نام سے) پکارو یا رحمٰن (کے نام سے)‬
‫جس نام سے پکارو اس کے سب اچھے نام ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار‬

‫‪Page 112 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کرو (‪ )۱۱۰‬اور کہو ککہ سکب تعریکف خدا ہی ککو ہے جکس نکے نکہ تکو کسکی ککو بیٹھا بنایکا ہے اور نکہ اس ککی بادشاہی میکں کوئی‬
‫شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز وناتواں ہے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے‬
‫رہو (‪)۱۱۱‬‬

‫‪Page 113 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة الکهف‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫سکب تعریکف خدا ہی ککو ہے جکس نکے اپنکے بندے (محمدﷺ) پکر (یکہ) کتاب نازل ککی اور اس میکں کسکی طرح ککی کجکی (اور‬
‫پیچیدگی) نہ رک ھی (‪( )۱‬بلکہ) سیدھی (اور سلیس اتاری) تاکہ لوگوں کو عذاب سخت سے جو اس کی طرف سے (آنے وال)‬
‫ہے ڈرائے اور مومنوں ککو جکو نیکک عمکل کرتکے ہیکں خوشخکبری سکنائے ککہ اُن ککے لئے (ان ککے کاموں ککا) نیکک بدلہ (یعنکی)‬
‫بہشت ہے (‪ )۲‬جس میں وہ ابدا لآباد رہیں گے (‪ )۳‬اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا‬
‫لیکا ہے (‪ )۴‬ان ککو اس بات ککا کچکھ بھھی علم نہیکں اور نکہ ان ککے باپ دادا ہی ککو تھھا۔ (یکہ) بڑی سکخت بات ہے جکو ان ککے منکہ‬
‫سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں) کہ یہ جو کہ تے ہیں محض جھوٹ ہے ( ‪( )۵‬اے پیغمبر) اگر یہ اس کلم پر ایمان نہ لئیں‬
‫تو شاید تم کے ان پیچ ھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلک کردو گے (‪ )۶‬جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لئے‬
‫آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے وال ہے (‪ )۷‬اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس‬
‫ککو (نابود کرککے) بنجکر میدان کردیکں گکے (‪ )۸‬کیکا تکم خیال کرتکے ہو ککہ غار اور لوح والے ہمارے نشانیوں میکں سکے عجیکب‬
‫تھھے (‪ )۹‬جکب وہ جوان غار میکں جکا رہے تکو کہنکے لگکے ککہ اے ہمارے پروردگار ہم پکر اپنکے ہاں سکے رحمکت نازل فرمکا۔ اور‬
‫ہمارے کام درستی (کے سامان) مہیا کر (‪ )۱۰‬تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈالے (یعنی ان‬
‫کو سلئے) رکھا (‪ )۱۱‬پھر ان کو جگا ُاٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدّت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے‬
‫اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے (‪ )۱۲‬ہم اُن کے حالت تم سے صحیح صحیح بیان کرتے ہیں۔ وہ کئی جوان تھے جو اپنے‬
‫پروردگار پکر ایمان لئے تھھے اور ہم نکے ان ککو اور زیادہ ہدایکت دی تھھی (‪ )۱۳‬اور ان ککے دلوں ککو مربوط (یعنکی مضبوط)‬
‫کردیا۔ جب وہ (اُ ٹھ) کھڑے ہوئے تو کہ نے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی‬
‫کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی ( ‪ )۱۴‬ان ہماری قوم کے لوگوں‬
‫نے اس کے سوا اور معبود بنا رک ھے ہ یں۔ بھل یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہ یں لتے۔ تو اس سے زیادہ‬
‫کون ظالم ہے جکو خدا پکر جھوٹ افتراء کرے (‪ )۱۵‬اور جکب تکم نکے ان (مشرکوں) سکے اور جکن ککی یکہ خدا ککے سکوا عبادت‬
‫کرتے ہ یں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کردے گا اور تمہارے‬
‫کاموں میکں آسکانی (ککے سکامان) مہیکا کرے گکا (‪ )۱۶‬اور جکب سکورج نکلے تکو تکم دیکھھو ککہ (دھوپ) ان ککے غار سکے داہنکی‬
‫طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں ت ھے۔ یہ خدا کی نشانیوں‬
‫میں سے ہ یں۔ جس کو خدا ہدایت دے یا وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے‬
‫وال نکہ پاؤ گکے (‪ )۱۷‬اور تکم ان ککو خیال کرو ککہ جاگ رہے ہیکں حالنککہ وہ سکوتے ہیکں۔ اور ہم ان ککو دائیکں اور بائیکں کروٹ‬
‫بدلتے ت ھے۔ اور ان کا کتا چوک ھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلئے ہوئے ت ھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھ تے تو پی ٹھ پھ یر ککر‬
‫بھاگ جاتے اور ان سے دہ شت میں آجاتے (‪ )۱۸‬اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت‬
‫کریکں۔ ایکک کہنکے والے نکے کہا ککہ تکم (یہاں) کتنکی مدت رہے؟ انہوں نکے کہا ککہ ایکک دن یکا اس سکے بھھی ککم۔ انہوں نکے کہا ککہ‬
‫جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو‬
‫وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے‬
‫(‪ )۱۹‬اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہ یں سنگسار کردیں گے یا پ ھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم‬
‫کبھھی فلح نہیکں پاؤ گکے (‪ )۲۰‬اور اسکی طرح ہم نکے (لوگوں ککو) ان (ککے حال) سکے خکبردار کردیکا تاککہ وہ جانیکں ککہ خدا ککا‬
‫وعدہ سکچا ہے اور یکہ ککہ قیامکت (جکس ککا وعدہ کیکا جاتکا ہے) اس میکں کچکھ شکک نہیکں۔ اس وقکت لوگ ان ککے بارے میکں باہم‬
‫جھگڑنکے لگکے اور کہنکے لگکے ککہ ان (ککے غار) پکر عمارت بنکا دو۔ ان ککا پروردگار ان (ککے حال) سکے خوب واقکف ہے۔ جکو‬
‫لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھ تے ت ھے وہ کہ نے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے (‪( )۲۱‬بعض لوگ) اٹ کل‬
‫پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتّا تھا۔ اور‬
‫(بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے‬

‫‪Page 114 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ان کو جانتے ب ھی ہ یں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہ یں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو۔‬
‫اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا ( ‪ )۲۲‬اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں‬
‫گا (‪ )۲۳‬مگر (انشاء ال کہہ کر یعنی اگر) خدا چاہے تو (کردوں گا) اور جب خدا کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو۔‬
‫اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مج ھے اس سے ب ھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے (‪ )۲۴‬اور اصحاب کہف اپنے غار‬
‫میں نو اوپر تین سو سال رہے (‪ )۲۵‬کہہ دو کہ جتنی مدّت وہ رہے اسے خدا ہی خوب جانتا ہے۔ اسی کو آسمانوں اور زمین‬
‫کی پوشیدہ باتیں (معلوم) ہ یں۔ وہ کیا خوب دیکھ نے وال اور کیا خوب سننے وال ہے۔ اس کے سوا ان کا کوئی کارساز نہ یں‬
‫اور نکہ وہ اپنکے حککم میکں کسکی شریکک ککو کرتکا ہے (‪ )۲۶‬اور اپنکے پروردگار ککی کتاب جکو تمہارے پاس بھیجکی جاتکی ہے‬
‫پڑھ تے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے وال نہ یں۔ اور اس کے سوا تم کہ یں پناہ کی جگہ ب ھی نہ یں پاؤ گے ( ‪ )۲۷‬اور‬
‫جو لوگ صکبح و شام اپنکے پروردگار ککو پکارتکے اور اس ککی خوشنودی ککے طالب ہیکں۔ ان ککے سکاتھ صکبر کرتکے رہو۔ اور‬
‫تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے‬
‫دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا‬
‫کہا نکہ ماننکا (‪ )۲۸‬اور کہہ دو ککہ (لوگکو) یکہ قرآن تمہارے پروردگار ککی طرف سکے برحکق ہے تکو جکو چاہے ایمان لئے اور جکو‬
‫چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر‬
‫فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا‬
‫اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری ( ‪( )۲۹‬اور) جو ایمان لئے اور کام‬
‫ب ھی نیک کرتکے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہ یں کرتکے (‪ )۳۰‬ایسکے لوگوں کے لئے ہمیشکہ رہ نے کے باغ‬
‫ہ یں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہ یں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا‬
‫اور اطلس ککے سکبز کپڑے پہنکا کریکں گکے (اور) تختوں پکر تکیئے لگکا ککر بیٹھھا کریکں گکے۔ (کیکا) خوب بدلہ اور (کیکا) خوب‬
‫آرام گاہ ہے (‪ )۳۱‬اور ان سکے دو شخصکوں ککا حال بیان کرو جکن میکں سکے ایکک ہم نکے انگور ککے دو باغ (عنایکت) کئے تھھے‬
‫اور ان ک کے گردا گرد کھجوروں ک کے درخککت لگککا دیئے تھھھے اور ان ک کے درمیان کھیتککی پیدا کردی تھ ھی (‪ )۳۲‬دونوں باغ‬
‫(کثرت سے) پ ھل لتے۔ اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر ب ھی جاری‬
‫ککر رکھھی تھھی (‪ )۳۳‬اور (اس طرح) اس (شخکص) ککو (ان ککی) پیداوار (ملتکی رہتکی) تھھی تکو (ایکک دن) جکب ککہ وہ اپنکے‬
‫دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے‬
‫بھھی زیادہ عزت وال ہوں (‪ )۳۴‬اور (ایسکی شیخیوں) سکے اپنکے حکق میکں ظلم کرتکا ہوا اپنکے باغ میکں داخکل ہوا۔ کہنکے لگکا ککہ‬
‫میکں نہیکں خیال کرتکا ککہ یکہ باغ کبھھی تباہ ہو (‪ )۳۵‬اور نکہ خیال کرتکا ہوں ککہ قیامکت برپکا ہو۔ اور اگکر میکں اپنکے پروردگار ککی‬
‫طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا (‪ )۳۶‬تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا‬
‫کہ نے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو م ٹی سے پیدا کیا پ ھر نطفے سے پ ھر تمہ یں پورا مرد بنایا (‬
‫‪ )۳۷‬مگکر میکں تکو یکہ کہتکا ہوں ککہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میکں اپنکے پروردگار ککے سکاتھ کسکی ککو شریکک نہیکں کرتکا (‬
‫‪ )۳۸‬اور (بھل) جکب تکم اپنکے باغ میکں داخکل ہوئے تکو تکم نکے ماشاال لقوة البال کیوں نکہ کہا۔ اگکر تکم مجھھے مال واولد میکں‬
‫اپنے سے کمتر دیکھ تے ہو (‪ )۳۹‬تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہ تر عطا فرمائے اور اس (تمہارے‬
‫باغ) پکر آسکمان سکے آفکت بھیکج دے تکو وہ صکاف میدان ہوجائے (‪ )۴۰‬یکا اس (ککی نہر) ککا پانکی گہرا ہوجائے تکو پھھر تکم اسکے نکہ‬
‫لسککو (‪ )۴۱‬اور اس ککے میووں ککو عذاب نکے آگھیرا اور وہ اپنکی چھتریوں پکر گکر ککر رہ گیکا۔ تکو جکو مال اس نکے اس پکر‬
‫خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا‬
‫(‪( )۴۲‬اس وقکت) خدا ککے سکوا کوئی جماعکت اس ککی مددگار نکہ ہوئی اور نکہ وہ بدلہ لے سککا (‪ )۴۳‬یہاں (سکے ثابکت ہوا ککہ)‬
‫حکومکت سکب خدائے برحکق ہی ککی ہے۔ اسکی ککا صکلہ بہتکر اور (اسکی ککا) بدلہ اچھھا ہے (‪ )۴۴‬اور ان سکے دنیکا ککی زندگکی ککی‬
‫مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔‬
‫پ ھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہ یں۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھ تا ہے (‪ )۴۵‬مال اور بی ٹے تو‬
‫دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہ یں۔ اور نیکیاں جو باقی رہ نے والی ہ یں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے‬
‫ہاں بہت اچھھی اور امیکد ککے لحاظ سکے بہت بہتکر ہیکں (‪ )۴۶‬اور جکس دن ہم پہاڑوں ککو چلئیکں گکے اور تکم زمیکن ککو صکاف‬
‫میدان دیکھھو گکے اور ان (لوگوں ککو) ہم جمکع کرلیکں گکے تکو ان میکں سکے کسکی ککو بھھی نہیکں چھوڑیکں گکے ( ‪ )۴۷‬اور سکب‬

‫‪Page 115 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لئے جائیں گے (تو ہم ان سے کہیں گے کہ) جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا‬
‫کیا تھا (اسی طرح آج) تم ہمارے سامنے آئے لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت‬
‫مقرر ہی نہ یں کیا (‪ )۴۸‬اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رک ھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیک ھو گے کہ جو کچھ اس‬
‫میں (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ‬
‫بڑی کو۔ (کوئی بات ب ھی نہ یں) مگکر اسکے لککھ رکھھا ہے۔ اور جو عمکل کئے ہوں گے سب کو حاضکر پائیں گکے۔ اور تمہارا‬
‫پروردگار کسکی پکر ظلم نہیکں کرے گکا (‪ )۴۹‬اور جکب ہم نکے فرشتوں ککو حککم دیکا ککہ آدم ککو سکجدہ کرو تکو سکب نکے سکجدہ کیکا‬
‫مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولد کو‬
‫میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالنکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا‬
‫بدل ہے (‪ )۵۰‬میکں نکے ان ککو نکہ تکو آسکمانوں اور زمیکن ککے پیدا کرنکے ککے وقکت بلیکا تھھا اور نکہ خود ان ککے پیدا کرنکے ککے‬
‫وقکت۔ اور میکں ایسکا نکہ تھھا ککہ گمراہ کرنکے والوں ککو مددگار بناتکا (‪ )۵۱‬اور جکس دن خدا فرمائے گکا ککہ (اب) میرے شریکوں‬
‫کو جن کی نسبت تم گمان (الوہ یت) رکھ تے ت ھے بلؤ تو وہ ان کے بلئیں گے مگر وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ اور ہم‬
‫ان ککے بیکچ میں ایک ہلککت ککی جگکہ بنادیں گکے ( ‪ )۵۲‬اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھ یں گکے تو یقین کرلیں گکے ککہ وہ اس‬
‫میں پڑنے والے ہیں۔ اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے (‪ )۵۳‬اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے‬
‫لئے طرح طرح ککی مثالیکں بیان فرمائی ہیکں۔ لیککن انسکان سکب چیزوں سکے بڑھ ککر جھگڑالو ہے (‪ )۵۴‬اور لوگوں ککے پاس‬
‫جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لئیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس‬
‫بات کے منتظر ہوں کہ) انہ یں ب ھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو (‪ )۵۵‬اور ہم جو پیغمبروں‬
‫کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں۔ اور‬
‫جکو کافکر ہیکں وہ باطکل ککی (سکند) سکے جھگڑا کرتکے ہیکں تاککہ اس سکے حکق ککو پھسکل دیکں اور انہوں نکے ہماری آیتوں ککو اور‬
‫جکس چیکز سکے ان ککو ڈرایکا جاتکا ہے ہنسکی بنکا لیکا (‪ )۵۶‬اور اس سکے ظالم کون جکس ککو اس ککے پروردگار ککے کلم سکے‬
‫سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھ یر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے‬
‫ڈال دیئے ککہ اسکے سکمجھ نکہ سککیں۔ اور کانوں میکں ثقکل (پیدا کردیکا ہے ککہ سکن نکہ سککیں) اور اگکر تکم ان ککو رسکتے ککی طرف‬
‫بلؤ تو کب ھی رستے پر نہ آئیں گے (‪ )۵۷‬اور تمہارا پروردگار بخشنکے وال صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ ان کے کرتوتوں پر‬
‫ان ککو پکڑنکے لگکے تو ان پکر جھھٹ عذاب بھیکج دے۔ مگکر ان ککے لئے ایک وقکت (مقرر ککر رکھھا) ہے ککہ اس ککے عذاب سکے‬
‫کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے (‪ )۵۸‬اور یہ بستیاں (جو ویران پڑی ہ یں) جب انہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے ان کو‬
‫تباہ کر دیا۔ اور ان کی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ت ھا (‪ )۵۹‬اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک‬
‫دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہ نچ جاؤں ہٹ نے کا نہ یں خواہ برسوں چلتا رہوں (‪ )۶۰‬جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے‬
‫تکو اپنکی مچھلی بھول گئے تکو اس نکے دریکا میکں سکرنگ ککی طرح اپنکا رسکتہ بنالیکا (‪ )۶۱‬جکب آگکے چلے تکو (موسکیٰ نکے) اپنکے‬
‫شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے (‪( )۶۲‬اس نے) کہا کہ بھل آپ نے دیکھا کہ‬
‫جکب ہم نکے پتھھر ککے سکاتھ آرام کیکا تھھا تکو میکں مچھلی (وہیکں) بھول گیکا۔ اور مجھھے (آپ سکے) اس ککا ذککر کرنکا شیطان نکے‬
‫بھل دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا ( ‪( )۶۳‬موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلش کرتے‬
‫تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے (‪( )۶۴‬وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس‬
‫ککو ہم نکے اپنکے ہاں سکے رحمکت (یعنکی نبوت یکا نعمکت ولیکت) دی تھھی اور اپنکے پاس سکے علم بخشکا تھھا (‪ )۶۵‬موسکیٰ نکے ان‬
‫سکے (جکن ککا نام خضکر تھھا) کہا ککہ جکو علم (خدا ککی طرف سکے) آپ ککو سککھایا گیکا ہے اگکر آپ اس میکں سکے مجھھے کچکھ‬
‫بھلئی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں (‪( )۶۶‬خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے‬
‫(‪ )۶۷‬اور جکس بات ککی تمہیکں خکبر ہی نہیکں اس پکر صکبر ککر بھھی کیوں کرسککتے ہو ( ‪( )۶۸‬موسکیٰ نکے) کہا خدا نکے چاہا تکو‬
‫آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلف نہیں کروں گا (‪( )۶۹‬خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا‬
‫چاہو تکو (شرط یکہ ہے) مجکھ سکے کوئی بات نکہ پوچھنکا جکب تکک میکں خود اس ککا ذککر تکم سکے نکہ کروں (‪ )۷۰‬تکو دونوں چکل‬
‫پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈال۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا‬
‫ہے ککہ سکواروں ککو غرق کردیکں یکہ تکو آپ نکے بڑی (عجیکب) بات ککی (‪( )۷۱‬خضکر نکے) کہا۔ کیکا میکں نکے نہیکں کہا تھھا ککہ تکم‬
‫میرے سکاتھ صکبر نکہ کرسککو گکے (‪( )۷۲‬موسکیٰ نکے) کہا ککہ جکو بھول مجکھ سکے ہوئی اس پکر مواخذہ نکہ کیجیئے اور میرے‬

‫‪Page 116 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے (‪ )۷۳‬پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا مل تو (خضر نے) اُسے مار‬
‫ڈال۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈال۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی (‪)۷۴‬‬
‫(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ( ‪ )۷۵‬انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے‬
‫بعد (پ ھر) کوئی بات پوچھوں (یعنکی اعتراض کروں) تکو مج ھے اپنے ساتھ نکہ رکھیئے گکا ککہ آپ میری طرف سکے عذر (کے‬
‫قبول کرنے میں غایت) کو پہ نچ گئے (‪ )۷۶‬پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا‬
‫طلب کیکا۔ انہوں نکے ان ککی ضیافکت کرنکے سکے انکار ککر دیکا۔ پھھر انہوں نکے وہاں ایکک دیوار دیکھھی جکو (جھھک ککر) گرا‬
‫چاہ تی ت ھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہ تے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا‬
‫کام چلتا) (‪ )۷۷‬خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں‬
‫بھ ید بتائے دیتا ہوں (‪( )۷۸‬کہ وہ جو) کشتی (ت ھی) غریب لوگوں کی ت ھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چل کر‬
‫گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے‬
‫چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے) (‪ )۷۹‬اور وہ جو لڑ کا ت ھا اس کے ماں باپ دنوں مومن ت ھے‬
‫ہمیں اندیشکہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو ککر بدکردار ہوتا کہ یں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسکا دے (‪ )۸۰‬تو ہم نے چاہا کہ ان کا‬
‫پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہ تر ہو ( ‪ )۸۱‬اور وہ جو‬
‫دیوار ت ھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی ت ھی (جو) شہر میں (رہ تے ت ھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) ت ھا اور ان کا‬
‫باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ‬
‫تمہارے پروردگار ککی مہربانکی ہے۔ اور یکہ کام میکں نکے اپنکی طرف سکے نہیکں کئے۔ یکہ ان باتوں ککا راز ہے جکن پکر تکم صکبر نکہ‬
‫کرسککے (‪ )۸۲‬اور تکم سکے ذوالقرنیکن ککے بارے میکں دریافکت کرتکے ہیکں۔ کہہ دو ککہ میکں اس ککا کسکی قدر حال تمہیکں پڑھ ککر‬
‫سناتا ہوں (‪ )۸۳‬ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا ( ‪ )۸۴‬تو اس نے (سفر کا)‬
‫ایک سامان کیا (‪ )۸۵‬یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں‬
‫ڈوب رہا ہے اور اس (ندی) ککے پاس ایکک قوم دیکھھی۔ ہم نکے کہا ذوالقرنیکن! تکم ان ککو خواہ تکلیکف دو خواہ ان (ککے بارے)‬
‫میں بھلئی اختیار کرو (دونوں باتوں میں تم کو قدرت ہے) (‪ )۸۶‬ذوالقرنین نے کہا کہ جو (کفر وبدکرداری سے) ظلم کرے‬
‫گا اسے ہم عذاب دیں گے۔ پ ھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ ب ھی اسے بُرا عذاب دے گا ( ‪)۸۷‬‬
‫اور جو ایمان لئے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لئے بہت اچھا بدلہ ہے۔ اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی‬
‫سکختی نہیکں کریکں گکے بلککہ) اس سکے نرم بات کہیکں گکے (‪ )۸۸‬پھھر اس نکے ایکک اور سکامان (سکفر ککا) کیکا (‪ )۸۹‬یہاں تکک ککہ‬
‫سکورج ککے طلوع ہونکے ککے مقام پکر پہنچکا تکو دیکھھا ککہ وہ ایسکے لوگوں پکر طلوع کرتکا ہے جکن ککے لئے ہم نکے سکورج ککے اس‬
‫طرف کوئی اوٹ نہیکں بنائی تھھی (‪( )۹۰‬حقیقکت حال) یوں (تھھی) اور جکو کچکھ اس ککے پاس تھھا ہم ککو سکب ککی خکبر تھھی (‬
‫‪ )۹۱‬پھھر اس نکے ایکک اور سکامان کیکا (‪ )۹۲‬یہاں تکک ککہ دو دیواروں ککے درمیان پہنچکا تکو دیکھھا ککہ ان ککے اس طرف کچکھ‬
‫لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے (‪ )۹۳‬ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں‬
‫بھل ہم آپ کے لئے خرچ (ککا انتظام) کردیکں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایکک دیوار کھینچ دیکں (‪ )۹۴‬ذوالقرنیکن نے کہا‬
‫کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مج ھے بخشا ہے وہ بہت اچ ھا ہے۔ تم مج ھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمہارے اور ان کے‬
‫درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا (‪ )۹۵‬تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ‬
‫جکب اس نکے دونوں پہاڑوں ککے درمیان (ککا حصکہ) برابر ککر دیکا۔ اور کہا ککہ (اب اسکے) دھونککو۔ یہاں تکک ککہ جکب اس ککو‬
‫(دھونک دھونک) کر آگ کر دیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس تانبہ لؤ اس پر پگھل کر ڈال دوں (‪ )۹۶‬پھر ان میں یہ قدرت نہ‬
‫رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں (‪ )۹۷‬بول کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے۔‬
‫جکب میرے پروردگار ککا وعدہ آپہنچکے گکا تکو اس ککو (ڈھھا ککر) ہموار کردے گکا اور میرے پروردگار ککا وعدہ سکچا ہے (‪)۹۸‬‬
‫(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے‬
‫گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے (‪ )۹۹‬اور اُس روز جہ نم کو کافروں کے سامنے لئیں گے (‪ )۱۰۰‬جن کی آنکھیں میری یاد‬
‫سکے پردے میکں تھیکں اور وہ سکننے ککی طاقکت نہیکں رکھتکے تھھے (‪ )۱۰۱‬کیکا کافکر یکہ خیال کرتکے ہیکں ککہ وہ ہمارے بندوں ککو‬
‫ہمارے سکوا (اپنکا) کارسکاز بنائیکں گکے (تکو ہم خفکا نہیکں ہوں گکے) ہم نکے (ایسکے) کافروں ککے لئے جہنکم ککی (مہمانکی) تیار ککر‬
‫رک ھی ہے (‪ )۱۰۲‬کہہ دو کہ ہم تمہ یں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں (‪ )۱۰۳‬وہ لوگ جن کی سعی دنیا‬

‫‪Page 117 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ککی زندگکی میکں برباد ہوگئی۔ اور وہ یکہ سکمجھے ہوئے ہیکں ککہ اچھھے کام ککر رہے ہیکں (‪ )۱۰۴‬یکہ وہ لوگ ہیکں جنہوں نکے اپنکے‬
‫پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے‬
‫کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے (‪ )۱۰۵‬یہ ان کی سزا ہے (یعنی) جہنم۔ اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور‬
‫ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اُڑائی ( ‪ )۱۰۶‬جو لوگ ایمان لئے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے‬
‫(‪ )۱۰۷‬ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے (‪ )۱۰۸‬کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں‬
‫کے (لکھ نے کے) لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے اگرچہ ہم ویسا ہی‬
‫اور (سکمندر) اس ککی مدد ککو لئیکں (‪ )۱۰۹‬کہہ دو ککہ میکں تمہاری ککا ایکک بشکر ہوں۔ (البتکہ) میری طرف وحکی آتکی ہے ککہ‬
‫تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رک ھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور‬
‫اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے (‪)۱۱۰‬‬

‫‪Page 118 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة مَریَم‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫کہیٰ عص (‪( )۱‬یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان (ہے جو اس نے) اپنے بندے زکریا پر (کی ت ھی) (‪ )۲‬جب انہوں نے‬
‫اپنکے پروردگار ککو دبکی آواز سکے پکارا (‪( )۳‬اور) کہا ککہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپکے ککے سکبب کمزور ہوگئی‬
‫ہیکں اور سکر (ہے ککہ) بڑھاپکے (ککی وجکہ سکے) شعلہ مارنکے لگکا ہے اور اے میرے پروردگار میکں تجکھ سکے مانکگ ککر کبھھی‬
‫محروم نہیکں رہا (‪ )۴‬اور میکں اپنکے بعکد اپنکے بھائی بندوں سکے ڈرتکا ہوں اور میری بیوی بانجکھ ہے تکو مجھھے اپنکے پاس سکے‬
‫ایککک وارث عطککا فرمککا (‪ )۵‬جککو میری اور اولد یعقوب کککی میراث کککا مالک ہو۔ اور (اے) میرے پروردگار اس کککو خوش‬
‫اطوار بنائیکو (‪ )۶‬اے زکریکا ہم تکم ککو ایکک لڑککے ککی بشارت دیتکے ہیکں جکس ککا نام یحییکٰ ہے۔ اس سکے پہلے ہم نکے اس نام ککا‬
‫کوئی شخکص پیدا نہیکں کیکا (‪ )۷‬انہوں نکے کہا پروردگار میرے ہاں ککس طرح لڑککا ہوگکا۔ جکس حال میکں میری بیوی بانجکھ ہے‬
‫اور میکں بڑھاپکے ککی انتہا ککو پہنکچ گیکا ہوں (‪ )۸‬حککم ہوا ککہ اسکی طرح (ہوگکا) تمہارے پروردگار نکے فرمایکا ہے ککہ مجھھے یکہ‬
‫آسان ہے اور میں پہلے تم کو ب ھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ ت ھے ( ‪ )۹‬کہا کہ پروردگار میرے لئے کوئی نشانی‬
‫مقرر فرمکا۔ فرمایکا نشانکی یکہ ہے ککہ تکم صکحیح وسکالم ہو ککر تیکن (رات دن) لوگوں سکے بات نکہ کرسککو گکے (‪ )۱۰‬پھھر وہ‬
‫(عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سکے کہا کہ صبح وشام (خدا کو) یاد کرتے رہو (‬
‫‪ )۱۱‬اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی ت ھی (‪ )۱۲‬اور اپنے‬
‫پاس شفقکت اور پاکیزگکی دی تھھی۔ اور پرہیزگار تھھے (‪ )۱۳‬اور ماں باپ ککے سکاتھ نیککی کرنکے والے تھھے اور سکرکش اور‬
‫نافرمان نہ یں ت ھے (‪ )۱۴‬اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔‬
‫ان پکر سکلم اور رحمکت (ہے) (‪ )۱۵‬اور کتاب (قرآن) میکں مریکم ککا بھھی مذکور کرو‪ ،‬جکب وہ اپنکے لوگوں سکے الگ ہو ککر‬
‫مشرق ککی طرف چلی گئیکں (‪ )۱۶‬تکو انہوں نکے ان ککی طرف سکے پردہ کرلیکا۔ (اس وقکت) ہم نکے ان ککی طرف اپنکا فرشتکہ‬
‫بھیجا۔ تو ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا (‪ )۱۷‬مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ‬
‫مانگتی ہوں (‪ )۱۸‬انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہ یں‬
‫پاکیزہ لڑککا بخشوں (‪ )۱۹‬مریکم نکے کہا ککہ میرے ہاں لڑککا کیونککر ہوگکا مجھھے کسکی بشکر نکے چھوا تکک نہیکں اور میکں بدکار‬
‫بھی نہیں ہوں (‪( )۲۰‬فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی‬
‫طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہٴ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ‬
‫کام مقرر ہوچکا ہے (‪ )۲۱‬تو وہ اس (بچّے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں ( ‪ )۲۲‬پھر درد‬
‫زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہ نے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی (‬
‫‪ )۲۳‬اس وقکت ان ککے نیچکے ککی جانکب سکے فرشتکے نکے ان ککو آواز دی ککہ غمناک نکہ ہو تمہارے پروردگار نکے تمہارے نیچکے‬
‫ایک چشمہ جاری کردیا ہے (‪ )۲۴‬اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں ج ھڑ پڑ یں گی‬
‫(‪ )۲۵‬تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت‬
‫مانکی تکو آج میکں کسکی آدمکی سکے ہرگکز کلم نہیکں کروں گکی ( ‪ )۲۶‬پھھر وہ اس (بچّے) ککو اٹھھا ککر اپنکی قوم ککے لوگوں ککے‬
‫پاس لے آئیں۔ وہ کہ نے لگے کہ مریم یہ تو تُونے برا کام کیا ( ‪ )۲۷‬اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور‬
‫نکہ تیری ماں ہی بدکار تھھی (‪ )۲۸‬تکو مریکم نکے اس لڑککے ککی طرف اشارہ کیکا۔ وہ بولے ککہ ہم اس سکے ککہ گود ککا بچکہ ہے‬
‫کیونککر بات کریکں (‪ )۲۹‬بچکے نکے کہا ککہ میکں خدا ککا بندہ ہوں اس نکے مجھھے کتاب دی ہے اور نبکی بنایکا ہے (‪ )۳۰‬اور میکں‬
‫جہاں ہوں (اور جکس حال میکں ہوں) مجھھے صکاحب برککت کیکا ہے اور جکب تکک زندہ ہوں مجکھ ککو نماز اور زکوٰة ککا ارشاد‬
‫فرمایا ہے (‪ )۳۱‬اور (مج ھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے وال (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہ یں بنایا (‪ )۳۲‬اور‬
‫جکس دن میکں پیدا ہوا اور جکس دن مروں گکا اور جکس دن زندہ کرککے اٹھایکا جاؤں گکا مجکھ پکر سکلم (ورحمکت) ہے ( ‪ )۳۳‬یکہ‬
‫مریکم ککے بیٹھے عیسکیٰ ہیکں (اور یکہ) سکچی بات ہے جکس میکں لوگ شکک کرتکے ہیکں (‪ )۳۴‬خدا ککو سکزاوار نہیکں ککہ کسکی ککو‬
‫بی ٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہ تا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے (‪ )۳۵‬اور بے شک‬

‫‪Page 119 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے (‪ )۳۶‬پ ھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم‬
‫اختلف کیا۔ سو جو لوگ کافر ہوئے ہ یں ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے (‪ )۳۷‬وہ جس‬
‫دن ہمارے سامنے آئیں گے۔ کیسے سننے والے اور کیسے دیکھ نے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہ یں (‪)۳۸‬‬
‫اور ان کو حسرت (وافسوس) کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی۔ اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں)‬
‫اور ایمان نہ یں لتے (‪ )۳۹‬ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہ یں ان کے وارث ہ یں۔ اور ہماری ہی طرف ان کو‬
‫لوٹ نا ہوگا (‪ )۴۰‬اور کتاب میں ابراہ یم کو یاد کرو۔ بے شک وہ نہایت سچے پیغمبر ت ھے (‪ )۴۱‬جب انہوں نے اپنے باپ سے‬
‫کہا کہ ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہ یں جو نہ سنیں اور نہ دیکھ یں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں ( ‪ )۴۲‬ابّا مج ھے‬
‫ایسکا علم مل ہے جکو آپ ککو نہیکں مل ہے تکو میرے سکاتھ ہوجیئے میکں آپ ککو سکیدھی راہ پکر چل دوں گکا (‪ )۴۳‬ابّا شیطان ککی‬
‫پرسکتش نکہ کیجیئے۔ بےشکک شیطان خدا ککا نافرمان ہے (‪ )۴۴‬ابّا مجھھے ڈر لگتکا ہے ککہ آپ ککو خدا ککا عذاب آپکڑے تکو آپ‬
‫شیطان ککے سکاتھی ہوجائیکں (‪ )۴۵‬اس نکے کہا ابراہیکم کیکا تکو میرے معبودوں سکے برگشتکہ ہے؟ اگکر تکو باز نکہ آئے گکا تکو میکں‬
‫تجھھے سکنگسار کردوں گکا اور تکو ہمیشکہ ککے لئے مجکھ سکے دور ہوجکا (‪ )۴۶‬ابراہیکم نکے سکلم علیکک کہا (اور کہا ککہ) میکں آپ‬
‫کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بے شک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے (‪ )۴۷‬اور میں آپ لوگوں سے اور جن‬
‫ککو آپ خدا ککے سکوا پکارا کرتکے ہیکں ان سکے کنارہ کرتکا ہوں اور اپنکے پروردگار ہی ککو پکاروں گکا۔ امیکد ہے ککہ میکں اپنکے‬
‫پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا (‪ )۴۸‬اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے‬
‫ت ھے اُن سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق کو) یعقوب بخشے۔ اور سب کو پیغمبر بنایا ( ‪ )۴۹‬اور ان کو‬
‫اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں۔ اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا ( ‪ )۵۰‬اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو۔‬
‫بےشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مُرسل تھے ( ‪ )۵۱‬اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے‬
‫لئے نزدیکک بلیکا (‪ )۵۲‬اور اپنکی مہربانکی سکے اُن ککو اُن ککا بھائی ہارون پیغمکبر عطکا کیکا ( ‪ )۵۳‬اور کتاب میکں اسکمٰعیل ککا‬
‫ب ھی ذکر کرو وہ وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے نبی ت ھے (‪ )۵۴‬اور اپنے گ ھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم‬
‫کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے (‪ )۵۵‬اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو۔ وہ بھی نہایت‬
‫سچے نبی تھے (‪ )۵۶‬اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اُٹھا لیا تھا ( ‪ )۵۷‬یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے اپنے پیغمبروں میں سے‬
‫فضکل کیکا۔ (یعنکی) اولد آدم میکں سکے اور ان لوگوں میکں سکے جکن ککو نوح ککے سکاتھ (کشتکی میکں) سکوار کیکا اور ابراہیکم اور‬
‫یعقوب کی اولد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا۔ جب ان کے سامنے ہماری آیتیں‬
‫پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گر پڑتے اور روتے رہتے تھے (‪ )۵۸‬پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں‬
‫نکے نماز ککو (چھوڑ دیکا گویکا اسکے) کھھو دیکا۔ اور خواہشات نفسکانی ککے پیچھھے لگ گئے۔ سکو عنقریکب ان ککو گمراہی (ککی‬
‫سزا) ملے گی (‪ )۵۹‬ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لیا اور عمل نیک کئے تو اسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا‬
‫ذرا نقصان نہ کیا جائے گا (‪( )۶۰‬یعنی) بہ شت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو ان کی‬
‫آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے)۔ بےشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے وال ہے (‪ )۶۱‬وہ اس میں سلم کے سوا کوئی‬
‫بیہودہ کلم نہ سنیں گے‪ ،‬اور ان کے لئے صبح وشام کا کھانا تیار ہوگا (‪ )۶۲‬یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے‬
‫ایسکے شخکص ککو وارث بنائیکں گکے جکو پرہیزگار ہوگکا (‪ )۶۳‬اور (فرشتوں نکے پیغمکبر ککو جواب دیکا ککہ) ہم تمہارے پروردگار‬
‫کے حکم سوا اُتر نہیں سکتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا‬
‫پروردگار بھولنکے وال نہیکں (‪( )۶۴‬یعنکی) آسکمان اور زمیکن ککا اور جکو ان دونوں ککے درمیان ہے سکب ککا پروردگار ہے۔ تکو‬
‫اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو۔ بھل تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو (‪ )۶۵‬اور (کافر) انسان کہتا‬
‫ہے کہ جب میں مر جاؤ گا تو کیا زندہ کرکے نکال جاؤں گا؟ ( ‪ )۶۶‬کیا (ایسا) انسان یاد نہ یں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی‬
‫پیدا کیکا تھھا اور وہ کچکھ بھھی چیکز نکہ تھھا (‪ )۶۷‬تمہارے پروردگار ککی قسکم! ہم ان ککو جمکع کریکں گکے اور شیطانوں ککو بھھی۔‬
‫پ ھر ان سب کو جہ نم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھٹنوں پر گرے ہوئے (ہوں گے) ( ‪ )۶۸‬پ ھر ہر جماعت میں سے‬
‫ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے ( ‪ )۶۹‬اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو‬
‫ان میکں داخکل ہونکے ککے زیادہ لئق ہیکں (‪ )۷۰‬اور تکم میکں کوئی (شخکص) نہیکں مگکر اسکے اس پکر گزرنکا ہوگکا۔ یکہ تمہارے‬
‫پروردگار پر لزم اور مقرر ہے (‪ )۷۱‬پ ھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا‬
‫ہوا چھوڑ دیں گے (‪ )۷۲‬اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھھی جاتی ہ یں تو جو کافر ہ یں وہ مومنوں سے کہتکے‬

‫‪Page 120 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں (‪ )۷۳‬اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتیں‬
‫ہلک کردیں۔ وہ لوگ (ان سے) ٹھا ٹھ اور نمود میں کہ یں اچ ھے ت ھے (‪ )۷۴‬کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے‬
‫خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ‬
‫عذاب اور خواہ قیامت۔ تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے ( ‪ )۷۵‬اور جو لوگ‬
‫ہدایت یاب ہ یں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے۔ اور نیکیاں جو باقی رہ نے والی ہ یں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ‬
‫سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہ تر ہ یں (‪ )۷۶‬بھل تم نے اس شخص کو دیک ھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور‬
‫کہنے لگا کہ (اگر میں ازسرنو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولد مجھے (وہاں) ملے گا (‪ )۷۷‬کیا اس نے غیب کی خبر پالی‬
‫ہے یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟ (‪ )۷۸‬ہرگز نہیں۔ یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھتے جاتے اور اس کے لئے آہستہ‬
‫آہ ستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہ یں (‪ )۷۹‬اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیل ہمارے سامنے آئے گا (‬
‫‪ )۸۰‬اور ان لوگوں نکے خدا ککے سکوا اور معبود بنالئے ہیکں تاککہ وہ ان ککے لئے (موجکب عزت و) مدد ہوں (‪ )۸۱‬ہرگکز نہیکں وہ‬
‫(معبودان باطل) ان کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (ومخالف) ہوں گے (‪ )۸۲‬کیا تم نے نہ یں دیک ھا کہ ہم‬
‫نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رک ھا ہے کہ ان کو برانگیختہ کرتے رہ تے ہ یں (‪ )۸۳‬تو تم ان پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ‬
‫کرو۔ اور ہم تکو ان ککے لئے (دن) شمار ککر رہے ہیکں (‪ )۸۴‬جکس روز ہم پرہیزگاروں ککو خدا ککے سکامنے (بطور) مہمان جمکع‬
‫کریں گے (‪ )۸۵‬اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے (‪( )۸۶‬تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ‬
‫رکھیکں گکے مگکر جکس نکے خدا سکے اقرار لیکا ہو (‪ )۸۷‬اور کہتکے ہیکں ککہ خدا بیٹھا رکھتکا ہے (‪( )۸۸‬ایسکا کہنکے والو یکہ تکو) تکم‬
‫بری بات (زبان پر) لئے ہو (‪ )۸۹‬قریب ہے کہ اس (افتراء) سے آسمان پ ھٹ پڑ یں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ‬
‫ہو ککر گکر پڑیکں (‪ )۹۰‬ککہ انہوں نکے خدا ککے لئے بیٹھا تجویکز کیکا (‪ )۹۱‬اور خدا ککو شایاں نہیکں ککہ کسکی ککو بیٹھا بنائے (‪)۹۲‬‬
‫تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہ یں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے (‪ )۹۳‬اُس نے ان (سب) کو (اپنے علم‬
‫سکے) گھیکر رکھھا اور (ایکک ایکک ککو) شمار ککر رکھھا ہے (‪ )۹۴‬اور سکب قیامکت ککے دن اس ککے سکامنے اکیلے اکیلے حاضکر‬
‫ہوں گکے (‪ )۹۵‬اور جکو لوگ ایمان لئے اور عمکل نیکک کئے خدا ان ککی محبکت (مخلوقات ککے دل میکں) پیدا کردے گکا (‪)۹۶‬‬
‫(اے پیغمبر) ہم نے یہ (قرآن) تمہاری زبان میں آسان (نازل) کیا ہے تاکہ تم اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچا دو اور‬
‫جھگڑالوؤں کو ڈر سنا دو (‪ )۹۷‬اور ہم نے اس سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلک کردیا ہے۔ بھل تم ان میں سے کسی کو‬
‫دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو (‪)۹۸‬‬

‫‪Page 121 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة ط ٰه‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫طہٰ ( ‪( )۱‬اے محمدﷺ) ہم نے تم پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ (‪ )۲‬بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے‬
‫ککے لئے (نازل کیکا ہے) جو خوف رکھتکا ہے (‪ )۳‬یکہ اس (ذات برتکر) ککا اتارا ہوا ہے جکس نکے زمیکن اور اونچکے اونچکے آسکمان‬
‫بنائے (‪( )۴‬یعنی خدائے) رحمٰن جس نےعرش پر قرار پکڑا (‪ )۵‬جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور‬
‫جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور جو کچھ (زمین کی) م ٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے (‪ )۶‬اور اگر تم پکار کر‬
‫بات کہو تو وہ تو چھ پے بھ ید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے (‪( )۷‬وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود‬
‫نہ یں ہے۔ اس کے (سب) نام اچ ھے ہ یں (‪ )۸‬اور کیا تمہ یں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے (‪ )۹‬جب انہوں نے آگ دیک ھی‬
‫تو اپنے گ ھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھہرو میں نے آگ دیک ھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید اس میں سے میں تمہارے‬
‫پاس انگاری لؤں یکا آگ (ککے مقام) ککا رسکتہ معلوم کرسککوں (‪ )۱۰‬جکب وہاں پہنچکے تکو آواز آئی ککہ موسکیٰ (‪ )۱۱‬میکں تکو‬
‫تمہارا پروردگار ہوں تکو اپنکی جوتیاں اتار دو۔ تکم (یہاں) پاک میدان (یعنکی) طویکٰ میکں ہو (‪ )۱۲‬اور میکں نکے تکم ککو انتخاب‬
‫کرلیا ہے تو جو حکم دیا جائے اسے سنو (‪ )۱۳‬بے شک میں ہی خدا ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہ یں تو میری عبادت کرو‬
‫اور میری یاد ککے لئے نماز پڑھھا کرو (‪ )۱۴‬قیامکت یقیناً آنکے والی ہے۔ میکں چاہتکا ہوں ککہ اس (ککے وقکت) ککو پوشیدہ رکھوں‬
‫تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدل پائے (‪ )۱۵‬تو جو شخص اس پر ایمان نہ یں رکھ تا اور اپنی خواہش کے پیچھھے‬
‫چلتکا ہے (کہیکں) تکم ککو اس (ککے یقیکن) سکے روک نکہ دے تکو (اس صکورت میکں) تکم ہلک ہوجاؤ (‪ )۱۶‬اور موسکی یکہ تمہارے‬
‫داہنکے ہاتکھ میکں کیکا ہے (‪ )۱۷‬انہوں نکے کہا یکہ میری لٹھھی ہے۔ اس پکر میکں سکہارا لگاتکا ہوں اور اس سکے اپنکی بکریوں ککے‬
‫لئے پتے جھاڑ تا ہوں اور اس میں میرے لئے اور ب ھی کئی فائدے ہ یں (‪ )۱۸‬فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈال دو (‪ )۱۹‬تو انہوں نے‬
‫اس کو ڈال دیا اور وہ ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا (‪ )۲۰‬خدا نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت۔ ہم اس کو ابھی اس‬
‫کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے (‪ )۲۱‬اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگالو وہ کسی عیب (وبیماری)کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا)‬
‫نکلے گکا۔ (یکہ) دوسکری نشانکی (ہے) (‪ )۲۲‬تاککہ ہم تمہیکں اپنکے نشانات عظیکم دکھائیکں (‪ )۲۳‬تکم فرعون ککے پاس جاؤ (ککہ) وہ‬
‫سککرکش ہو رہا ہے (‪ )۲۴‬کہا میرے پروردگار (اس کام ک کے لئے) میرا سککینہ کھول دے (‪ )۲۵‬اور میرا کام آسککان کردے (‪)۲۶‬‬
‫اور میری زبان ککی گرہ کھول دے (‪ )۲۷‬تاککہ وہ بات سمجھ لیں (‪ )۲۸‬اور میرے گھھر والوں میں سکے (ایک ککو) میرا وزیر‬
‫(یعنکی مددگار) مقرر فرمکا (‪( )۲۹‬یعنکی) میرے بھائی ہارون ککو (‪ )۳۰‬اس سکے میری قوت ککو مضبوط فرمکا (‪ )۳۱‬اور اسکے‬
‫میرے کام میں شریک کر (‪ )۳۲‬تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں (‪ )۳۳‬اور تج ھے کثرت سے یاد کریں (‪ )۳۴‬تو ہم کو (ہر‬
‫حال میکں) دیککھ رہا ہے (‪ )۳۵‬فرمایکا موسکیٰ تمہاری دعکا قبول ککی گئی (‪ )۳۶‬اور ہم نکے تکم پکر ایکک بار اور بھھی احسکان کیکا‬
‫تھا (‪ )۳۷‬جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے (‪( )۳۸‬وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق‬
‫میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا‬
‫لے گا۔ اور (موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی ہے (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لئے کہ‬
‫تم میرے سامنے پرورش پاؤ (‪ )۳۹‬جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو‬
‫اس کو پالے۔ تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھ یں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ‬
‫کریکں۔ اور تکم نکے ایکک شخکص ککو مار ڈال تکو ہم نکے تکم ککو غکم سکے مخلصکی دی اور ہم نکے تمہاری (کئی بار) آزمائش ککی۔‬
‫پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے۔ پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آ پہنچے (‪ )۴۰‬اور میں نے تم‬
‫ککو اپنکے (کام ککے) لئے بنایکا ہے (‪ )۴۱‬تکو تکم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے ککر جاؤ اور میری یاد میکں سکستی نکہ‬
‫کرنکا (‪ )۴۲‬دونوں فرعون ککے پاس جاؤ وہ سکرکش ہو رہا ہے (‪ )۴۳‬اور اس سکے نرمکی سکے بات کرنکا شایکد وہ غور کرے یکا‬
‫ڈر جائے (‪ )۴۴‬دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے (‪۴۵‬‬
‫) خدا نے فرمایا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) سنتا اور دیکھ تا ہوں (‪( )۴۶‬اچ ھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ‬
‫ہم آپ ککے پروردگار ککے بھیجکے ہوئے ہیکں تکو بنکی اسکرائیل ککو ہمارے سکاتھ جانکے ککی اجازت دیجیئے۔ اور انہیکں عذاب نکہ‬

‫‪Page 122 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کیجیئے۔ ہم آپ ککے پاس آپ ککے پروردگار ککی طرف سکے نشانکی لے ککر آئے ہیکں۔ اور جکو ہدایکت ککی بات مانکے اس ککو‬
‫سلمتی ہو (‪ )۴۷‬ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلئے اور منہ پھیرے اس کے لئے عذاب (تیار) ہے (‪( )۴۸‬غرض‬
‫موسکیٰ اور ہارون فرعون ککے پاس گئے) اس نکے کہا ککہ موسکیٰ تمہارا پروردگار کون ہے؟ (‪ )۴۹‬کہا ککہ ہمارا پروردگار وہ‬
‫ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پ ھر راہ دکھائی (‪ )۵۰‬کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال؟ (‪ )۵۱‬کہا کہ‬
‫ان کا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے)۔ میرا پروردگار نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے (‪ )۵۲‬وہ (وہی تو‬
‫ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے رستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا۔‬
‫پھھر اس سکے انواع واقسکام ککی مختلف روئیدگیاں پیدا کیکں (‪ )۵۳‬ککہ (خود بھھی) کھاؤ اور اپنکے چارپایوں ککو بھھی چراؤ۔‬
‫بےشکک ان (باتوں) میکں عقکل والوں ککے لئے (بہت سکی) نشانیاں ہیکں (‪ )۵۴‬اسکی (زمیکن) سکے ہم تکم ککو پیدا کیکا اور اسکی میکں‬
‫تمہیکں لوٹائیکں گکے اور اسکی سکے دوسکری دفعکہ نکالیکں گکے (‪ )۵۵‬اور ہم نکے فرعون ککو اپنکی سکب نشانیاں دکھائیکں مگکر وہ‬
‫تکذیب وانکار ہی کرتا رہا (‪ )۵۶‬کہنے لگا کہ موسیٰ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے‬
‫ملک سے نکال دو (‪ )۵۷‬تو ہم ب ھی تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لئیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو‬
‫ککہ نکہ تکو ہم اس ککے خلف کریکں اور نکہ تکم (اور یکہ مقابلہ) ایکک ہموار میدان میکں (ہوگکا) (‪ )۵۸‬موسکیٰ نکے کہا آپ ککے لئے‬
‫(مقابلے ککا) دن نکو روز (مقرر کیکا جاتکا ہے) اور یکہ ککہ لوگ اس دن چاشکت ککے وقکت اکھٹھے ہوجائیکں (‪ )۵۹‬تکو فرعون لوٹ‬
‫گیکا اور اپنکے سکامان جمکع کرککے پھھر آیکا (‪ )۶۰‬موسکیٰ نکے ان (جادوگروں) سکے کہا ککہ ہائے تمہاری کمبختکی۔ خدا پکر جھوٹ‬
‫افتراء نکہ کرو ککہ وہ تمہیکں عذاب سکے فنکا کردے گکا اور جکس نکے افتراء کیکا وہ نامراد رہا ( ‪ )۶۱‬تکو وہ باہم اپنکے معاملے میکں‬
‫جھگڑانے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے (‪ )۶۲‬کہنے لگے یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور)‬
‫سکے تکم ککو تمہارے ملک سکے نککل دیکں اور تمہارے شائسکتہ مذہب ککو نابود کردیکں (‪ )۶۳‬تکو تکم (جادو ککا) سکامان اکھٹھا کرلو‬
‫اور پ ھر قطار باندھ کر آؤ۔ آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا (‪ )۶۴‬بولے کہ موسیٰ یا تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم (اپنی چیزیں)‬
‫پہلے ڈالتکے ہیکں (‪ )۶۵‬موسکیٰ نکے کہا نہیکں تکم ہی ڈالو۔ (جکب انہوں نکے چیزیکں ڈالیکں) تکو ناگہاں ان ککی رسکیاں اور لٹھیاں‬
‫موسی کے خیال میں ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان) میں اد ھر اُد ھر دوڑ رہی ہ یں ( ‪( )۶۶‬اُس وقت) موسیٰ نے اپنے دل میں‬
‫خوف معلوم کیکا (‪ )۶۷‬ہم نکے کہا خوف نکہ کرو بلشبکہ تکم ہی غالب ہو (‪ )۶۸‬اور جکو چیکز (یعنکی لٹھھی) تمہارے داہنکے ہاتکھ‬
‫میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے (یہ تو) جادوگروں کے‬
‫ہتھکنڈے ہیکں اور جادوگکر جہاں جائے فلح نہیکں پائے گکا (‪( )۶۹‬القصکہ یوں ہی ہوا) تکو جادوگکر سکجدے میکں گکر پڑے (اور)‬
‫کہنکے لگکے ککہ ہم موسکیٰ اور ہارون ککے پروردگار پکر ایمان لئے (‪( )۷۰‬فرعون) بول ککہ پیشتکر اس ککے میکں تمہیکں اجازت‬
‫دوں تکم اس پکر ایمان لے آئے۔ بےشکک وہ تمہارا بڑا (یعنکی اسکتاد) ہے جکس نکے تکم ککو جادو سککھایا ہے۔ سکو میکں تمہارے ہاتکھ‬
‫اور پاؤں (جانب) خلف سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم‬
‫میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہ نے وال ہے (‪ )۷۱‬انہوں نے کہا جو دلئل ہمارے پاس آگئے ہ یں ان پر اور‬
‫جس نے ہم کو پیدا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دے دیجیئے۔ اور آپ (جو) حکم‬
‫دے سکتے ہ یں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہ یں) (‪ )۷۲‬ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے‬
‫گناہوں کو معاف کرے اور (اسے ب ھی) جو آپ نے ہم سے زبردستی جادو کرایا۔ اور خدا بہ تر اور باقی رہ نے وال ہے (‪)۷۳‬‬
‫جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لئے جہنم ہے۔ جس میں نہ مرے گا نہ جیئے گا (‪ )۷۴‬اور‬
‫جو اس کے روبرو ایماندار ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لئے اونچے اونچے درجے ہیں‬
‫(‪( )۷۵‬یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور یہ اس شخص کا بدلہ ہے جو‬
‫پاک ہوا (‪ )۷۶‬اور ہم نکے موسکیٰ ککی طرف وحکی بھیجکی ککہ ہمارے بندوں ککو راتوں رات نکال لے جاؤ پھھر ان ککے لئے دریکا‬
‫میں (لٹھی مار کر) خشک رستہ بنا دو پ ھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آپکڑ نے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر (‬
‫‪ )۷۷‬پ ھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا (کی موجوں) نے ان پر چڑھ کر انہ یں ڈھانک لیا (یعنی‬
‫ڈبو دیا) (‪ )۷۸‬اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے رستے پر نہ ڈال (‪ )۷۹‬اے آل یعقوب ہم نے تم کو تمہارے‬
‫دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لئے تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا‬
‫(‪( )۸۰‬اور حککم دیکا ککہ) جو پاکیزہ چیزیکں ہم نکے تکم کو دی ہیکں ان کو کھاؤ۔ اور اس میں حکد سکے نکہ نکلنکا۔ ورنکہ تکم پکر میرا‬
‫غضکب نازل ہوگکا۔ اور جکس پکر میرا غضکب نازل ہوا وہ ہلک ہوگیکا (‪ )۸۱‬اور جکو توبکہ کرے اور ایمان لئے اور عمکل نیکک‬

‫‪Page 123 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫کرے پھر سیدھے رستے چلے اس کو میں بخش دینے وال ہوں (‪ )۸۲‬اور اے موسیٰ تم نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں)‬
‫کیوں جلدی ککی (‪ )۸۳‬کہا وہ میرے پیچھھے (آ رہے) ہیکں اور اے پروردگار میکں نکے تیری طرف (آنکے ککی) جلدی اس لئے ککی‬
‫کہ تو خوش ہو (‪ )۸۴‬فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے (‬
‫‪ )۸۵‬اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار‬
‫نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے‬
‫پروردگار ککی طرف سکے غضکب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تکم نکے مجکھ سکے جکو وعدہ کیکا تھھا (اس ککے) خلف کیکا (‪ )۸۶‬وہ‬
‫کہ نے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلف نہ یں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ت ھے۔‬
‫پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا (‪ )۸۷‬تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی‬
‫اس ککا) قالب جکس ککی آواز گائے ککی سکی تھھی۔ تکو لوگ کہنکے لگکے ککہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسکیٰ ککا بھھی معبود ہے۔‬
‫مگر وہ بھول گئے ہ یں (‪ )۸۸‬کیا یہ لوگ نہ یں دیکھتکے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہ یں دیتا۔ اور نہ ان کے نقصان اور‬
‫نفکع ککا کچکھ اختیار رکھتکا ہے (‪ )۸۹‬اور ہارون نکے ان سکے پہلے ہی کہہ دیکا تھھا ککہ لوگکو اس سکے صکرف تمہاری آزمائش ککی‬
‫گئی ہے۔ اور تمہارا پروردگار تکو خدا ہے تکو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانکو (‪ )۹۰‬وہ کہنکے لگکے ککہ جکب تکک موسکیٰ‬
‫ہمارے پاس واپس نہ آئیں ہم تو اس کی پوجا پر قائم رہیں گے (‪( )۹۱‬پھر موسیٰ نے ہارون سے) کہا کہ ہارون جب تم نے ان‬
‫کو دیک ھا ت ھا کہ گمراہ ہو رہے ہ یں تو تم کو کس چیز نے روکا (‪( )۹۲‬یعنی) اس بات سے کہ تم میرے پیچ ھے چلے آؤ۔ بھل‬
‫تم نے میرے حکم کے خلف (کیوں) کیا؟ (‪ )۹۳‬کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو‬
‫اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہ یں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رک ھا (‪ )۹۴‬پ ھر (سامری‬
‫سے) کہنکے لگے کہ سامری تیرا کیا حال ہے؟ (‪ )۹۵‬اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھھی جو اوروں نے نہ یں دیک ھی تو‬
‫میکں نکے فرشتکے ککے نقکش پکا سکے (مٹھی ککی) ایکک مٹھھی بھھر لی۔ پھھر اس ککو (بچھڑے ککے قالب میکں) ڈال دیکا اور مجھھے‬
‫میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا (‪( )۹۶‬موسیٰ نے) کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ‬
‫کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود (کی پوجا) پر‬
‫تکو (قائم و) معتککف تھھا اس ککو دیککھ۔ ہم اسکے جلدیکں گکے پھھر اس (ککی راککھ) ککو اُڑا ککر دریکا میکں بکھیکر دیکں گکے ( ‪)۹۷‬‬
‫تمہارا معبود خدا ہی ہے جکس ککے سکوا کوئی معبود نہیکں۔ اس ککا علم ہر چیکز پکر محیکط ہے (‪ )۹۸‬اس طرح پکر ہم تکم سکے وہ‬
‫حالت بیان کرتکے ہیکں جکو گذر چککے ہیکں۔ اور ہم نکے تمہیکں اپنکے پاس سکے نصکیحت (ککی کتاب) عطکا فرمائی ہے (‪ )۹۹‬جکو‬
‫شخکص اس سکے منکہ پھیرے گکا وہ قیامکت ککے دن (گناہ ککا) بوجکھ اُٹھائے گکا ( ‪( )۱۰۰‬ایسکے لوگ) ہمیشکہ اس (عذاب) میکں‬
‫(مبتل) رہ یں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہے (‪ )۱۰۱‬جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں‬
‫ککو اکھٹھا کریکں گکے اور ان ککی آنکھیکں نیلی نیلی ہوں گکی (‪( )۱۰۲‬تکو) وہ آپکس میکں آہسکتہ آہسکتہ کہیکں گکے ککہ تکم (دنیکا میکں)‬
‫صرف دس ہی دن رہے ہو (‪ )۱۰۳‬جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں۔ اس وقت ان میں سب سے اچھی راہ وال (یعنی‬
‫عاقکل وہوشمنکد) کہے گکا ککہ (نہیکں بلککہ) صکرف ایکک ہی روز ٹھہرے ہو (‪ )۱۰۴‬اور تکم سکے پہاڑوں ککے بارے میکں دریافکت‬
‫کرتے ہ یں۔ کہہ دو کہ خدا ان کو اُڑا کر بکھ یر دے گا ( ‪ )۱۰۵‬اور زمین کو ہموار میدان کر چھوڑے گا (‪ )۱۰۶‬جس میں نہ‬
‫تم کجی (اور پستی) دیک ھو گے نہ ٹیل (اور بلندی) (‪ )۱۰۷‬اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچ ھے چلیں گے اور اس‬
‫کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور خدا کے سامنے آوازیں پست ہوجائیں گی تو تم آواز خفی کے سوا کوئی آواز نہ‬
‫سکنو گکے (‪ )۱۰۸‬اس روز (کسکی ککی) سکفارش کچکھ فائدہ نکہ دے گکی مگکر اس شخکص ککی جسکے خدا اجازت دے اور اس ککی‬
‫بات کو پسند فرمائے (‪ )۱۰۹‬جو کچھ ان کے آگے ہے اور کچھ ان کے پیچ ھے ہے وہ اس کو جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے‬
‫خدا (ککے علم) پکر احاطکہ نہیکں کرسککتے (‪ )۱۱۰‬اور اس زندہ و قائم ککے رو برو منکہ نیچکے ہوجائیکں گکے۔ اور جکس نکے ظلم ککا‬
‫بوجکھ اٹھایکا وہ نامراد رہا (‪ )۱۱۱‬اور جکو نیکک کام کرے گکا اور مومکن بھھی ہوگکا تکو اس ککو نکہ ظلم ککا خوف ہوگکا اور نکہ‬
‫نقصان کا (‪ )۱۱۲‬اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کردیئے‬
‫ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کردے (‪ )۱۱۳‬تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے۔ اور قرآن‬
‫ککی وحکی جکو تمہاری طرف بھیجکی جاتکی ہے اس ککے پورا ہونکے سکے پہلے قرآن ککے (پڑھنکے ککے) لئے جلدی نکہ کیکا کرو اور‬
‫دعا کرو ککہ میرے پروردگار مجھھے اور زیادہ علم دے (‪ )۱۱۴‬اور ہم نکے پہلے آدم سے عہد لیکا ت ھا مگر وہ (اسکے) بھول گئے‬
‫اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا (‪ )۱۱۵‬اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو سب سجدے میں‬

‫‪Page 124 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫گر پڑے مگر ابلیس نے انکار کیا (‪ )۱۱۶‬ہم نے فرمایا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ کہیں تم دونوں کو‬
‫بہشت سے نکلوا نہ دے۔ پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ (‪ )۱۱۷‬یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے (‪ )۱۱۸‬اور‬
‫یکہ ککہ نکہ پیاسکے رہو اور نکہ دھوپ کھاؤ (‪ )۱۱۹‬تکو شیطان نکے ان ککے دل میکں وسکوسہ ڈال۔ (اور) کہا ککہ آدم بھل میکں تکم ککو‬
‫(ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کب ھی زائل نہ ہو (‪ )۱۲۰‬تو دونوں نے اس‬
‫درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم‬
‫نے اپنے پروردگار کے حکم خلف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے (‪ )۱۲۱‬پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا‬
‫تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی (‪ )۱۲۲‬فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ تم میں بعض‬
‫بعض کے دشمن (ہوں گے) پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا‬
‫وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا (‪ )۱۲۳‬اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی‬
‫اور قیامت کو ہم اسے اند ھا کرکے اٹھائیں گے (‪ )۱۲۴‬وہ کہے گا میرے پروردگار تو نے مج ھے اند ھا کرکے کیوں اٹھایا‬
‫میں تو دیکھ تا بھالتا ت ھا (‪ )۱۲۵‬خدا فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہیئے ت ھا) تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تونے ان کو بھل دیا۔‬
‫اسی طرح آج ہم تجکھ کو بھل دیکں گے (‪ )۱۲۶‬اور جو شخکص حکد سکے نککل جائے اور اپنے پروردگار ککی آیتوں پر ایمان نہ‬
‫لئے ہم اس ککو ایسککا ہی بدلہ دیتکے ہیکں۔ اور آخرت کککا عذاب بہت سکخت اور بہت دیککر رہنکے وال ہے (‪ )۱۲۷‬کیکا یکہ بات ان‬
‫لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں‬
‫یکہ چلتکے پھرتکے ہیکں۔ عقکل والوں ککے لئے اس میکں (بہت سکی) نشانیاں ہیکں (‪ )۱۲۸‬اور اگکر ایکک بات تمہارے پروردگار ککی‬
‫طرف سکے پہلے صکادر اور (جزائے اعمال ککے لئے) ایکک میعاد مقرر نکہ ہوچککی ہوتکی تکو (نزول) عذاب لزم ہوجاتکا (‪)۱۲۹‬‬
‫پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے‬
‫پروردگار ککی تسکبیح وتحمیکد کیکا کرو۔ اور رات ککی سکاعات (اولیکن) میکں بھھی اس ککی تسکبیح کیکا کرو اور دن ککی اطراف‬
‫(یعنکی دوپہر ککے قریکب ظہر ککے وقکت بھھی) تاککہ تکم خوش ہوجاؤ (‪ )۱۳۰‬اور کئی طرح ککے لوگوں ککو جکو ہم نکے دنیکا ککی‬
‫زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا۔ اور تمہاری پروردگار کی‬
‫(عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت بہتکر اور باقی رہ نے والی ہے (‪ )۱۳۱‬اور اپنے گ ھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر‬
‫قائم رہو۔ ہم تکم سکے روزی ککے خواسکتگار نہیکں۔ بلککہ تمہیکں ہم روزی دیتکے ہیکں اور (نیکک) انجام (اہل) تقویکٰ ککا ہے ( ‪)۱۳۲‬‬
‫اور کہتکے ہیکں ککہ یکہ (پیغمکبر) اپنکے پروردگار ککی طرف سکے ہمارے پاس کوئی نشانکی کیوں نہیکں لتکے۔ کیکا ان ککے پاس پہلی‬
‫کتابوں کی نشانی نہ یں آئی؟ (‪ )۱۳۳‬اور اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے) سے پیشتر کسی عذاب سے ہلک کردیتے تو وہ‬
‫کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلم‬
‫(واحکام) کی پیروی کرتے (‪ )۱۳۴‬کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال) کے منتظر ہیں سو تم بھی منتظر رہو۔ عنقریب تم کو معلوم‬
‫ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم) ( ‪۱۳۵‬‬
‫)‬

‫‪Page 125 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫سورة الٴنبیَاء‬

‫شروع ال کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم وال ہے‬

‫لوگوں ککا حسکاب (اعمال ککا وقکت) نزدیکک آپہنچکا ہے اور وہ غفلت میکں (پڑے اس سکے) منکہ پھیکر رہے ہیکں (‪ )۱‬ان ککے پاس‬
‫کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں (‪ )۲‬ان کے دل غفلت میں‬
‫پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی‬
‫ہے۔ تکو تکم آنکھوں دیکھتکے جادو (ککی لپیکٹ) میکں کیوں آتکے ہو (‪( )۳‬پیغمکبر نکے) کہا ککہ جکو بات آسکمان اور زمیکن میکں (کہی‬
‫جاتکی) ہے میرا پروردگار اسکے جانتکا ہے۔ اور وہ سکننے وال (اور) جاننکے وال ہے (‪ )۴‬بلککہ (ظالم) کہنکے لگکے ککہ (یکہ قرآن)‬
‫پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر‬
‫ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے‬
‫پاس کوئی نشانی لئے (‪ )۵‬ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلک کیا وہ ایمان نہیں لتی تھ یں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے‬
‫(‪ )۶‬اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد‬
‫رکھ تے ہ یں ان سے پوچھ لو (‪ )۷‬اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہ یں بنائے ت ھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنکے‬
‫والے تھھے (‪ )۸‬پھھر ہم نکے ان ککے بارے میکں (اپنکا) وعدہ سکچا کردیکا تکو ان ککو اور جکس ککو چاہا نجات دی اور حکد سکے نککل‬
‫جان کے والوں کککو ہلک کردیککا (‪ )۹‬ہم ن کے تمہاری طرف ایسککی کتاب نازل کککی ہے جککس می کں تمہارا تذکرہ ہے۔ کیککا تککم نہی کں‬
‫سمجھتے (‪ )۱۰‬اور ہم نکے بہت سی بسکتیوں کو جکو ستمگار تھیکں ہلک ککر مارا اور ان ککے بعکد اور لوگ پیدا کردیئے (‪)۱۱‬‬
‫جکب انہوں نکے ہمارے (مقدمکہ) عذاب ککو دیکھھا تکو لگکے اس سکے بھاگنکے ( ‪ )۱۲‬مکت بھاگکو اور جکن (نعمتوں) میکں تکم عیکش‬
‫وآسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے (اس بارے میں) دریافت کیا جائے ( ‪ )۱۳‬کہنے‬
‫لگے ہائے شامت بےشک ہم ظالم تھے (‪ )۱۴‬تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح)‬
‫کاٹ ککر (اور آگ ککی طرح) بجھھا ککر ڈھیکر کردیکا (‪ )۱۵‬اور ہم نکے آسکمان اور زمیکن ککو جکو اور (مخلوقات) ان دونوں ککے‬
‫درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا (‪ )۱۶‬اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم‬
‫کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے (‪( )۱۷‬نہ یں) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہ یں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا‬
‫ہے اور جھوٹ اسککی وقککت نابود ہوجاتککا ہے۔ اور جککو باتیکں تککم بناتکے ہو ان سکے تمہاری ہی خرابککی ہے (‪ )۱۸‬اور جککو لوگ‬
‫آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس‬
‫کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں (‪ )۱۹‬رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں‬
‫(‪ )۲۰‬بھل لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ ان کو (مرنے کے بعد) اُٹھا کھڑا‬
‫کریکں گکے؟ (‪ )۲۱‬اگکر آسکمان اور زمیکن میکں خدا ککے سکوا اور معبود ہوتکے تکو زمیکن وآسکمان درہم برہم ہوجاتکے۔ جکو باتیکں یکہ‬
‫لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے (‪ )۲۲‬وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرستش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ‬
‫کرتکے ہیکں اس ککی) ان سکے پرسکتش ہوگکی (‪ )۲۳‬کیکا لوگوں نکے خدا ککو چھوڑ ککر اور معبود بنالئے ہیکں۔ کہہ دو ککہ (اس بات‬
‫پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب ب ھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہ یں۔ ان‬
‫کی کتابیں ب ھی ہ یں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان اکثر حق بات کو نہ یں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھ یر لیتے ہ یں ( ‪ )۲۴‬اور‬
‫جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو (‬
‫‪ )۲۵‬اور کہتکے ہیکں ککہ خدا بیٹھا رکھتکا ہے۔ وہ پاک ہے (اس ککے نکہ بیٹھا ہے نکہ بیٹھی) بلککہ (جکن ککو یکہ لوگ اس ککے بیٹھے‬
‫بیٹیاں سکمجھتے ہیکں) وہ اس ککے عزت والے بندے ہیکں (‪ )۲۶‬اس ککے آگکے بڑھ ککر بول نہیکں سککتے۔ اور اس ککے حککم پکر‬
‫عمل کرتے ہیں (‪ )۲۷‬جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی)‬
‫سفارش نہ یں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہ تے ہ یں (‪ )۲۸‬اور جو‬
‫شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا‬
‫دیا کرتے ہ یں (‪ )۲۹‬کیا کافروں نے نہ یں دیک ھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے ت ھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام‬

‫‪Page 126 of 281‬‬


‫)‪Qura’an Al-Kareem (Urdu‬‬
‫جاندار چیزیکں ہم نکے پانکی سکے بنائیکں۔ پھھر یکہ لوگ ایمان کیوں نہیکں لتکے؟ (‪ )۳۰‬اور ہم نکے زمیکن میکں پہاڑ بنائے تاککہ لوگوں‬
‫(ککے بوجکھ) سکے ہلنکے (اور جھکنکے) نکہ لگکے اور اس میکں کشادہ راسکتے بنائے تاککہ لوگ ان پکر چلیکں (‪ )۳۱‬اور آسکمان ککو‬
‫محفوظ چھھت بنایکا۔ اس پکر بھھی وہ ہماری نشانیوں سکے منکہ پھیکر رہے ہیکں (‪ )۳۲‬اور وہی تکو ہے جکس نکے رات اور دن اور‬
‫سورج اور چاند کو بنایا۔ (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں (‬
‫‪ )۳۳‬اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہ یں بخشا۔ بھل اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہ یں‬
‫گکے (‪ )۳۴‬ہر متنفکس ککو موت ککا مزا چکھنکا ہے۔ اور ہم تکو لوگوں ککو سکختی اور آسکودگی میکں آزمائش ککے طور پکر مبتل‬
‫کرتے ہ یں۔ اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے (‪ )۳۵‬اور جب کافر تم کو دیکھ تے ہ یں تو تم سے استہزاء کرتے ہ یں کہ‬
‫کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالنکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں (‪)۳۶‬‬
‫انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم‬
‫جلدی نہ کرو (‪ )۳۷‬اور کہ تے ہ یں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب (آئے گا)؟ (‪ )۳۸‬اے کاش کافر‬
‫اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان‬
‫ککا کوئی مددگار ہوگکا (‪ )۳۹‬بلککہ قیامکت ان پکر ناگہاں آ واقکع ہوگکی۔ اور ان ککے ہوش کھھو دے گکی۔ پھھر نکہ تکو وہ اس ککو ہٹھا‬
‫سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی (‪ )۴۰‬اور تم سے پہلے ب ھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ‬
‫ان میں سے تمسخر کیا کرتے ت ھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا ( ‪ )۴۱‬کہو کہ رات اور دن میں‬
‫خدا سکے تمہاری کون حفاظکت کرسککتا ہے؟ بات یکہ ہے ککہ اپنکے پروردگار ککی یاد سکے منکہ پھیرے ہوئے ہیکں (‪ )۴۲‬کیکا ہمارے‬
‫سکوا ان ککے اور معبود ہیکں ککہ ان ککو (مصکائب سکے) بچاسککیں۔ وہ آپ اپنکی مدد تکو ککر ہی نہیکں سککتے اور نکہ ہم سکے پناہ ہی‬
‫دیئے جائیکں گکے (‪ )۴۳‬بلککہ ہم ان لوگوں ککو اور ان ککے باپ دادا ککو متمتکع کرتکے رہے یہاں تکک ککہ (اسکی حالت میکں) ان ککی‬
‫عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے‬
‫والے ہیکں؟ (‪ )۴۴‬کہہ دو ککہ میکں تکم ککو حککم خدا ککے مطابکق نصکیحت کرتکا ہوں۔ اور بہروں کوجکب نصکیحت ککی جائے تکو وہ‬
‫پکار کر سنتے ہی نہیں (‪ )۴۵‬اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی‬
‫ہم بےشکک سکتمگار تھھے (‪ )۴۶‬اور ہم قیامکت ککے دن انصکاف ککی ترازو کھڑی کریکں گکے تکو کسکی شخکص ککی ذرا بھھی حکق‬
‫تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر ب ھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لحاضر کریں گے۔ اور ہم‬
‫حساب کرنے کو کافی ہ یں (‪ )۴۷‬اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت اور گمراہی میں) فرق کر دینے والی اور (سرتاپا)‬
‫روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہ یز گاروں کے لئے (‪ )۴۸‬جو بن دیک ھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہ یں‬
‫اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں (‪ )۴۹‬یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے‬
‫ہھھھھلے ہی سکے ہدایکت دی تھھی اور ہم ان ککے حال سکے واقکف تھھے (‪ )۵۱‬جکب انہوں نکے اپنکے‬ ‫ہو؟ (‪ )۵۰‬اور ہم نکے ابراہیمک ککو پ‬
‫باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟ (‪ )۵۲‬وہ کہنے لگے کہ ہم‬
‫نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیک ھا ہے (‪( )۵۳‬ابراہ یم نے) کہا کہ تم ب ھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ دادا ب ھی‬
‫صریح گمراہی میں پڑے رہے (‪ )۵۴‬وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لئے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو؟‬
‫(‪( )۵۵‬ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور میں‬
‫اس (بات) ککا گواہ (اور اسکی ککا قائل) ہوں (‪ )۵۶‬اور خدا ککی قسکم جکب تکم پیٹھھ پھیکر ککر چلے جاؤ گکے تکو میکں تمہارے بتوں‬
‫سے ایک چال چلوں گا (‪ )۵۷‬پ ھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف‬
‫رجوع کریں (‪ )۵۸‬کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا؟ وہ تو کوئی ظالم ہے (‪ )۵۹‬لوگوں نے کہا کہ‬
‫ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں (‪ )۶۰‬وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لؤ تاکہ‬
‫گواہ رہیں (‪( )۶۱‬جب ابراہیم آئے تو) بت پرستوں نے کہا کہ ابراہیم بھل یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟ (‪)۶۲‬‬
‫(ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا)۔ اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو (‪ )۶۳‬انہوں نے اپنے‬
‫دل غور کیکا تکو آپکس میکں کہنکے لگکے بےشکک تکم ہی بےانصکاف ہو (‪ )۶۴‬پھھر (شرمندہ ہو ککر) سکر نیچکا کرلیکا (اس پکر بھھی‬
‫ابراہ یم سے کہ نے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہ یں (‪( )۶۵‬ابراہ یم نے) کہا پ ھر تم خدا کو چھوڑ کر کیوں ایسی چیزوں کو‬
‫پوجتے ہو جو نہ تمہ یں کچھ فائدہ دے سکیں اور نقصان پہنچا سکیں؟ (‪ )۶۶‬تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے‬
‫ہو ان پر ب ھی کیا تم عقل نہ یں رکھ تے؟ (‪( )۶۷‬تب وہ) کہ نے لگے کہ اگر تمہ یں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ‬

‫‪Page 127 of 281‬‬

<