Poem on Valentine Day (Urdu)

‫‪Poem on Valentine Day‬‬

‫‪By Naeem Baig‬‬
‫آج ویلنٹائین ڈے ھے اور چاروں طرف پوری دنیا میں خوشبو اور پھو ل‬
‫کھلے ھیں۔ پیار کے پیغام کو پوری دنیا میں پھیالیا جا رھا ھے۔ نوجوان نسل‬
‫ِ‬
‫کا یہ رویہ انسانی رویوں کا خوبصورت اظہار ھے۔ پر کیا کریں ھمارے ھاں‬
‫آج کے دن بھی خاک و خون کی ندیاں بہائی جا رھی ھیں۔ دھشت زدہ‬
‫لرزتے معصوم دل ھاتھ میں گالب پکڑے اپنی گردنیں کٹوا رھے ھیں۔۔۔۔۔‬
‫کوئی ھے جو انہیں روکے۔۔۔۔۔‬

‫فیض نے کہا تھا۔۔۔۔‬
‫اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو‬
‫اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا‬
‫خراج عقیدت پیش کرتا ھوں اور یہ نظم آج کے دن ان‬
‫میں فیض صاحب کو‬
‫ِ‬
‫کے اور دھرتی ماں کے نام کرتا ھوں۔۔۔۔۔‬

‫اب یہاں کوئی نہیں ۔۔۔ کوئی نہیں آئے گا‬
‫ویران راھوں میں جب ھم‬
‫سر ُبریدہ رہ جائیں گے اور پھر‬
‫ِ‬
‫بہتی ندیوں کا پانی‬
‫سرخ ھو جائے گا‬
‫تب اسکے کناروں پر‬
‫جو پھول کھلیں گے‬
‫ان کی سرخی میں میرا‬
‫اور تیرا لہو ھو گا‬
‫جو پکارے گا‬
‫ھیپی ویلنٹائین ۔۔۔‬
‫کیا تمی ھو؟‬

Sign up to vote on this title
UsefulNot useful