‫بسم اّٰللہ الرحمن الرحیم‬

‫ؒ‬
‫ح‬
‫سواد اعظم اہ ِل سنّت ق یقی کی اپیل پر‬
‫موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) اور ِ‬
‫ہر سال م ِاہ رجب کے تیسرے حمعۃ المیارک کو‬
‫عالمی ی ِوم حطنب ِ اعظم ناکسیان‬
‫ہ ّ‬
‫حسن‬
‫میانا جانا ہے ‪ -‬ملک و بیرون ملک اہ ِل سنّت و حماعت کی تمام مساجد میں اتمہ و حطیاء کرام‪ ،‬حطی ِ‬
‫ات حمعہ میں مج ِدد مسلک ِ ا ِل سنت‪ ،‬م ِ‬
‫ملک و ملت‪ ،‬عاسق رسول (ﷺ)‪ُ ،‬م ّ‬
‫وب اولیاء‪ ،‬حطنب ِ اعظم ناکسیان حضرت الجاج عالمہ قیلہ موالنا محمد شق یع اوکاڑوی‬
‫و‬
‫ہ‬
‫اب‬
‫ج‬
‫ِ‬
‫حب‬
‫آل پ تول‪ ،‬مح ت ِ‬
‫ص‬
‫ِ‬
‫ِ‬
‫ّٗ‬
‫اج عقیدت و محنت تیش کرتے ہیں اور ایص ِال یواب کے لئے قاتحہ خوانی کرتے ہیں ‪ -‬ان کا بہ عمل‬
‫ُق ّدس‬
‫سرہ الیاری ورفع اّٰللہ درجتہ کو خر ِ‬
‫ اہ ِل سنّت و حماعت کے محسن و ممدوح سے اظہ ِار محنت و عقیدت بھی ہے اور مسلک ِ خق کی ناپید بھی‬‫ُ‬
‫گ‬
‫گ‬
‫ان ساء اّٰللہ یعالی حسب ِسایق اِ س سال بھی م ِاہ رجب کی تیسری حمعرات و حمعہ کو جامع مسجد ل ِزار حب نب (ﷺ)‪ ،‬لسی ِان اوکاڑوی (سولرر‬
‫نازار) کراچی‪ ،‬میں ساالبہ دو روزہ مرکزی عرس میارک کی یقرپیات ہوں گی ‪ -‬آپ سے گزارش ہے کہ اہ ِل سنّت کے مراکز اور مساجد و مدارس‬
‫ع‬
‫والرضوان کو ایص ِال یواب کے لئے‬
‫میں حضرت حطنب ِ ا ظم ناکسیان علتہ الرحمۃ ِ‬
‫حمعہ ‪ 32‬مئی ‪3102‬ء کو ی ِوم حطنب ِ اعظم‬
‫ٰ‬
‫میاتے کا اہیمام کرکے عیداّٰللہ ماخور ہوں ‪( -‬خزاکم اّٰللہ یعالی)‬

‫ب‬
‫)احیارات و خراند کو اس سلسلے میں م یعقدہ یقرپیات کی یفصیالت پراتے اساعت ضرور ھجواتیں(‬

‫‪ 1103 30 2333 2323‬رایطہ ‪:‬‬
‫‪ 1212-3318202‬مونانل ‪:‬‬
‫یوجہ فرماتیں‬

‫مج ِدد مسلک ِاہ ِل سنّت‪،‬عاس ِق رسول (ﷺ)‪ ،‬حطنب ِاعظم ناکسیان حضرت عالمہ مو النا محمد شق یع اوکاڑوی رحمۃ اّٰللہ علتہ تے ‪ ۲۱‬رجب ‪۰۴۰۲‬ھ‬
‫تمطایق ‪ ۰۱‬اپرنل ‪۰۹۸۲‬ء کو اس ِدار قانی سے ُج ِلد پریں کی طرف رجلت فرمانی ‪ -‬ان کے دوسرے ساالبہ عرس سرانا قدس کے موفع پر انک‬
‫میسوط اور صحیم کیاب ”حطنب ِناکسیان (ا پئے معاضرین کی یظر میں)“سا یع کی گئی ‪ -‬حس میں عماندی ِن جکومت‪ ،‬علما و مساتخ‪ ،‬ساعروں‪،‬‬
‫‪ -‬اد پ توں اور عقیدت میدوں کے مساہدات و نأپرات سامل بھے‬

‫حضرت قیلہ عالم حطنب ِ اعظم علتہ الرحمہ کے خوالے سے اب نک حمع ہوتے والی تررپروں پر مسیمل انک محموعہ اساعت کے لئے پیار ہے ‪-‬‬
‫ُ‬
‫آپ سے گزارش ہے کہ حضرت حطنب ِ اعظم ناکسیان علتہ الرحمۃ والرضوان کی ِدپئی و ملی جدمات‪ ،‬ان کی تے میال حطاپت‪ ،‬مسلک ِ خق کے‬
‫ی‬
‫ات جاربہ‪ ،‬سیاسی و سماچی مساعی‪ ،‬تحق تق و یصب یف اور ذات و صقات‬
‫لئے تجدندی و ایقالنی کار گزاری‪ ،‬ملک و قوم کی عمیر و پرقی و دنگر صدق ِ‬
‫ب‬
‫کے نارے میں ا پئے مساہدات و نأپرات (بیر و یظم) میں نالناجیر ہمیں ھجوادیں ‪ -‬آپ کے ناس ان کی کونی یقرپر و تررپر نا یصوپر محفوظ ہو یو‬
‫‪ -‬ہمیں اس کی یقل ضرور فراہم کریں ‪ -‬ہم اس کے لئے آپ کے سکر گزار ہوں گے‬

‫موالنا اوکاڑوی ؒ اکادمی (العالمی)‬
‫نی‪ ،‬سیدھی مسلم سوساپئی‪ ،‬کراچی ‪۵۳-02211 -‬‬
‫‪53-B, S.M.C.H.Society, Karachi - 74400‬‬
‫قون‪03 +)130(0232 2233 , 2 3222 233 :‬‬
‫‪Email: maulanaokarviacademy@yahoo.com‬‬

‫َ‬
‫اہ ِل اتمان‪ ،‬اہ ِل محنت سے گزارش ہے کہ وہ ساالبہ عرس سریف کی محقل میں احیماعی طورپر ایص ِال یواب (ہدبہ کرتے میں)سمولنت جاہیں یو‬
‫ب‬
‫فر ِآن کریم‪ُ ،‬دردو سریف‪ ،‬کلمہ طنتہ اور دنگر اوراد و وظایف پڑھ کر اس کی صحیح یفصیل تررپری طور پر ہمیں ھجواتیں ناکہ ِدین و ملت کے عطیم‬
‫‪ -‬محسن کو زنادہ سے زنادہ پیک توں کا ایص ِال یواب کیا جاتے‬

‫ٰ‬
‫ِدپئی مدارس میں اگر عرس کے انام میں فرآن خوانی کا حصوصی اہیمام کیا جاتے یو یقبیا بہ نہاپت میارک و مسیحسن ہوگا ‪ -‬خزاکم اّٰللہ یعالی‬

‫درس فر ِآن کریم‬
‫ِ‬
‫مجاہد ِاہ ِل سنت‪ ،‬عالمی میل ِغ اسالم‪ ،‬حطنب ِملت حضرت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی مدظلہ العالی ہر حمعہ کو تماز سے قیل دونہر انک تجے جامع‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫ی‬
‫ی‬
‫گ‬
‫ہ‬
‫م‬
‫درس صوف‬
‫درس فر ِآن کر م پیان فرماتے یں اور ہر ایوار کو تم ِاز عساء کے قورا یعد ِ‬
‫مسجد ل ِزار حب نب (ﷺ)‪ ،‬لسیان اوکاڑوی‪ ،‬کراچی یں ِ‬
‫ُ‬
‫پیان کرتے ہیں اور ح ِیم غوپتہ کا ِورد ہونا ہے‪ ،‬عالوہ ازیں ہر ماہ گیارہویں شب کو گیارہویں سریف کا روجانی احیماع ہونا ہے ‪(-‬خواتین کے‬
‫لئے ناپردہ بشست کا اہیمام ہونا ہے)‬

‫اظالع‬

‫ُ‬
‫گ‬
‫درس فرآن کی ریکارڈنگ کی جارہی ہے‪ ،‬وہ تمام سی ڈپز مکنتہ ل ِزار‬
‫گزشتہ کحھ پرس سے عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی کے پیان ہوتے والے ِ‬
‫‪ -‬حب نب (ﷺ)‪ ،‬گلسی ِان اوکاڑوی (سولرر نازار) کراچی میں دشت ناب ہیں‬

‫بسم اّٰللہ الرحمن الرحیم‬
‫عٰ ٰ‬
‫الصلوۃ والسالم علیک نارسول اّٰللہ و لی الک واصجانک ناحب نب ا ہّٰلل‬
‫“دشت بستہ”‬
‫ح‬
‫اّٰللہ یعالی جل جدہ الکریم‪ ،‬چی و ق توم‪ ،‬سم یع و یصیر‪ ،‬رحمن و رحیم ّ‬
‫عزوجل ہمارا مع ت ِود ق یقی وجدہ السرنک ہے‪ ،‬جالق کاپیات کی اس‬
‫م‬
‫ی‬
‫وسیع و عریض کاپیات میں کبئی عمتیں ہیں‪ ،‬کونی ِگن ہی نہیں سکیا‪ ،‬اس کے فصل و کرم کا سمار ہو ہی نہیں سکیا‪ ،‬اس کا احسان عطیم‬
‫ہی ہے کہ اس تے حس ہسئی کی جاطر بہ شب کحھ پیانا اور اپیا رب ہونا ظاہر فرمانا‪ ،‬اس تے وہ مح توب ہسئی بھی ہمیں عطا فرمادی اور ہمیں‬
‫ان کے امئی اور عالم ہوتے کے اعزاز و اق جار سے یوازا۔ رسول کریم‪ ،‬رؤف و رحیم حصور یدنا محمد رسول اّٰللہ صلی اّٰللہ علتہ وسلم ہمارے ّ‬
‫رب‬
‫س‬
‫ی‬
‫ِ‬
‫ع‬
‫کریم کی شب سے افصل و اعلی یعم ِت ظمی ہیں‪ ،‬وہ یور اّٰللہ ہیں‪ ،‬مظہر اّٰللہ ہیں‪ ،‬فصل اّٰللہ ہیں‪ ،‬وہ حب نب اّٰللہ ہیں (ﷺ)۔ مجلوق میں وہ تے‬

‫ی‬
‫میل و تے میال ہیں‪ ،‬ان کی سان کی جد ہی نہیں۔ ان کی محنت و عطیم ہمارے اتمان کی جان ہیں۔ ان کی ازواج‪ ،‬ان کے اصجاب‪ ،‬ان‬
‫ہ‬
‫ی ہ‬
‫رسول ناک ﷺ کی ندولت ملی ہے‪ ،‬وہ جالق و مجلوق‬
‫کے ا ِل پ نت اور ان کی ہر بسنت ہمارے لئے محیرم ہے۔ اّٰللہ یعالی کی ہر عمت میں ِ‬
‫للع‬
‫کے درمیان وسیلہ و واشطہ ہیں‪ ،‬وہ رحمۃ لمین ہیں‪ ،‬جایم االتبیاء والمرسلین ہیں (ﷺ)۔‬
‫ج‬
‫ہ‬
‫ہ‬
‫رسول کریم ﷺ کی بسنت سے جیر االمم ہوتے کے سرف‬
‫اّٰللہ یعالی ل سابہ تے میں دی ِن اسالم عطا فرمانا اور میں ا پئے پیارے ِ‬
‫سے یوازا‪ ،‬اّٰللہ یعالی جل سابہ کا فصل و کرم ہی ہے کہ اس تے اپئی اور ا پئے پیاروں کی محنت ہمیں عطا فرمانی۔ ہمیں صحیح العقیدہ اہ ِل سنّت‬
‫و حماعت پیانا‪ ،‬ہمیں ہمارے صحیح عقاند کی رہ تمانی اور ان میں تحیگی ہمارے آقاے یعمت‪ ،‬مرسد و مرنی‪ ،‬قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم‪ ،‬مجدد‬

‫ہ ّ‬
‫آل پ تول عالمہ موالنا محمد شق یع اوکاڑوی رحمۃ اّٰللہ علتہ کی بسنت‬
‫مسل ِک ا ِل سنت‪ ،‬محسن ملک و ملت‪ ،‬مجاہد و عازی‪ ،‬عاس ِق رسول‪ ،‬محب صجابہ و ِ‬
‫اور وابسیگی سے ملی‪ ،‬ہم ا پئے مع ت ِود کریم اّٰللہ جل سابہ کا سکر ادا کرتے ہیں کہ اس تے ہمیں اس شعادت سے یوازا۔ اّٰللہ یعالی جل مجدہ ہمارا‬
‫بہ اعزاز سالمت ر کھے‪ ،‬ہمارے اتمان کی حقاظت فرماے اور ہمیں ِراہ خق میں ناپت قدمی عطا فرماے۔ آمین‬

‫کیانی سلسلہ ”الحطنب“ کا ‪ 20‬واں ساالبہ نادگاری مجلہ آپ کی جدمت میں تیش کرتے ہوے ہمیں انک نار ب ھر بہ احساس ہے‬
‫کہ ہم تے ناجال کسی قانل ذکر کارکردگی کا مطاہرہ نہیں کیا۔ کراچی شہر میں خو جاالت رہے ان کا نذکرہ ہر محقل اور ہر زنان پر ہے‪ ،‬کسے‬
‫روتیں اور کبیا روتیں؟ نہاں یو ابسانی زندگی سے ارزاں کونی جیز بہ رہی۔ بہ یو وہ شہر ہی بہ رہا حس کی میالیں دی جانی بھیں۔ ہمارے قیلہئ عالم‬
‫حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرحمہ بھے یو نہاں رویقیں بھیں‪ ،‬زندگی بھی‪ ،‬سچ ہے کہ کسی کا دم غبیمت ہونا ہے‪ ،‬پرکتیں‪ ،‬رحمتیں کسی کے دم‬
‫٭‬

‫قدم سے ہونی ہیں‪ ،‬اب خو ماخول ہے اس میں کونی کیا کرسکیا ہے؟ بہ مجلہ پیار کرلبیا بھی ہمارے لئے آسان نہیں۔ اب یو عالمہ بیرزادہ‬
‫اقیال احمد قاروقی بھی بہ رہے خو ہمارے خوصلے مہمیز کرتے بھے۔ ن ِدر اسرق نت حضرت بیر ڈاکیر سید محمد مطاہر اسرف بھی رجلت فرما گئے خو‬

‫ہمیں نہت دعاتیں د پئے بھے۔ بہ یو ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم کے الیق و قایق فرزند و جابسین حضرت حطنب ِ ملت حضرت‬
‫عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی کی شفقتیں اور مہرناپیاں ہیں‪ ،‬ان کی سرپرسئی ہے کہ ہم کسی قدر اپئی ہمت قایم ر کھے ہوے ہیں اور دراصل بہ یو‬
‫ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم کا ق یصان ہے کہ بہ بسلسل قایم ہے‪ ،‬اّٰللہ یعالی عزوجل ہم شب پر اپیا فصل و کرم فرماے۔‬
‫ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ اس جہان میں ہمارے لئے اّٰللہ یعالی کی رحمت و پرکت بھے‪ ،‬وہ ہمارے لئے‬
‫للع‬
‫نالشتہ تیش نہا یعمت بھے۔ رحمۃ لمین آقا ﷺ کی جاص عیاپت بھے۔ اّٰللہ یعالی عزوجل تے انہیں نہت یوازا بھا۔ نہت کم عرصے میں انہوں‬
‫تے میالی جدمات اتجام دیں‪ ،‬وہ ملت کا اغبیار و اقیجار بھے۔ ان کا نام اور کام آج بھی اہ ِل سنّت کے لئے ناعث عزت و اقیجار ہے۔‬

‫اس مجلے کی اساعت ہر سال ہم اہ ِل محنت و عقیدت سے را یطے اور ساالبہ عالمی ی ِوم حطنب ِ اعظم میاتے کی پرع نب کے لئے‬

‫٭‬

‫کرتے ہیں‪ ،‬زنادہ سے زنادہ ایصال یواب ہی ہماری کوشش ہے۔ الحمد ّٰللہ ہمیں اس میں کام نانی ہونی ہے۔ ناکسیان ب ھر اور جالیس سے زنادہ‬

‫ممالک میں اہ ِل سنّت کی مساجد‪ ،‬مدارس‪ ،‬اداروں‪ ،‬جایقاہوں اور گ ھروں میں احیاب فرآن خوانی اور احیماعی قاتحہ خوانی کرکے ایصال یواب‬
‫نہ‬
‫کرتے ہیں۔ پیلے قون‪ ،‬ای میل‪ ،‬ابس ایم ابس‪ ،‬فیس نک‪َ ،‬وھیس اپپ وعیرہ کے ذر یعے ہم نک م یعدد افراد کی طرف سے یفصیل بھی یحئی‬
‫ہے۔ ح تونی افریقا میں حضرت الجاج بیر محمد قاسم اسرقی‪ ،‬الجاج اپراہیم اسمال قادری اور حضرت موالنا مقئی محمد اکیر ہزاروی‪ ،‬موالنا جافظ محمد‬
‫اسمعیل ہزاروی اور امریکا میں الجاج محمد پروپز اسرف اور سید سمیم تے احیارات میں ساالبہ ی ِوم حطنب ِ اعظم کے استہارات بھی سا یع کئے۔‬
‫می‬
‫انڈنا میں حضرت موالنا مح توب عالم اور حضرت موالنا لیاقت رصا م یعدد شہروں میں عرس سریف کی یقرپیات م یعقد کرواتے ہیں۔ پر گھم پرظاپیا‬
‫می‬
‫سے حضرت الجاج بیر سید م تور حسین ساہ حماعئی تے قون پر پیانا کہ ہر سال وہ جایقاہ میں فرآن خوانی کا اہیمام فرماتے ہیں۔ پر گھم میں‬
‫حضرت موالنا محمد یوسیان القادری بھی ہر سال اپئی عقیدت و محنت کا بھریور اظہار کرتے ہیں۔ م یعقدہ یقرپیات کی جیروں پر مسیمل احیاری‬
‫ب‬
‫پراسے بھی ہمیں ھجواتے ہیں۔ پ یگال دبش سے حضرت موالنا سید ایوالبیان ہاسمی بھی قون کرکے یفصیالت پیاتے ہیں۔ امریکا سے صاجب زادہ‬
‫سید م تور حسین ساہ تجاری‪ ،‬صاجب زادہ ڈاکیر عیمان علی صدیقی‪ ،‬صاجب زادہ معین الدین‪ ،‬موالنا مفصود احمد قادری‪ ،‬ڈاکیر ضیاء الجق ضیاء‪،‬‬
‫الجاج عالم قاروق رحمانی اور شق تق مہر کی کاوسیں بھی اس خوالے سے قانل قدر ہیں۔ آس پرے لیا سے محمد بسیم بھی ای میل میں یفصیل‬
‫ب‬
‫ھیحئے ہیں۔‬
‫گزشتہ پرس مرکزی عرس سریف کی یقرپب میں اہ ِل محنت و عقیدت کی طرف سے تیش کئے جاتے والے ایصال یواب میں حیاب‬
‫دغوت اسالمی (کراچی)‪ ،‬الجاج‬
‫سیخ عمر علی (الہور)‪ ،‬الجاج ضوقی سردار محمد (اوکاڑا)‪ ،‬الجاج سیخ محمد اسرف و رفقاء (بیرمجل)‪ ،‬مرکز ق یص ِان مدپتہ‪ِ ،‬‬
‫محمد ایور عرف اوکاڑوی (کراچی)‪ ،‬موالنا قاری گل جہاں صدیقی (کراچی)‪ ،‬موالنا قاری عیدالق توم محمود (کراچی)‪ ،‬موالنا قاری عالم عیاس یقش پیدی‬

‫٭‬

‫مع فرزندان(یوشہرہ ورکاں)‪ ،‬جافظ محمد ناضر (کراچی)‪ ،‬سیخ پیک محمد (سرق یور سریف)‪ ،‬پرکانی قاؤنڈبسن کے جاچی محمد عارف پرکانی (کراچی)‪ ،‬بیر‬
‫محمد راسد ایوب فربسی (کراچی)‪ ،‬موالنا قاری عالم علی (کراچی)‪ ،‬موالنا قاری ناج نہادر جان (کراچی)‪ ،‬جافظ محمد شق تق یورانی (ملیان)‪ ،‬محیرمہ سیدہ‬
‫آفرین اہلتہ الجاج الماس عطاری‪ ،‬م یعدد خواتین اور م یعدد احیاب تے جاصی یعداد میں حیمات فرآن کا ہدبہ تیش کیا اور ُدرود سریف کا شب سے‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫ج‬
‫لس خواتین گل ِزار حب نب کی طرف سے بھا۔‪ 21‬ویں ساالبہ عرس میارک کی وہ روداد خو ناک و ہید کے م یعدد تماناں احیارات و خراند‬
‫زنادہ ہدبہ م ِ‬
‫‪:‬اور رسانل میں سا یع ہونی‪ ،‬وہ ہم نہاں ب ھر درج کررہے ہیں‪ ،‬مالحطہ ہو‬

‫حماعت ِ اہ ِل سنّت کے نانی حطنب ِ اعظم حضرت موالنا محمد شق یع اوکاڑوی رحمۃ اّٰللہ علتہ کا ‪21‬واں ساالبہ دو روزہ مرکزی عرس میارک جامع ”‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫م‬
‫م‬
‫ح‬
‫مسجد ل ِزار حب نب‪ ،‬گلسی ِان اوکاڑوی (سولرر نازار) کراچی میں حسب ِ سایق م ِاہ رجب کی تیسری عرات و حمعہ تمطایق ‪ 21‬اور ‪ 20‬ئی‬

‫ُ‬
‫گ‬
‫ف‬
‫‪3102‬ء کو موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) اور ل ِزار حب نب پرشٹ کے زپر اہیمام والہابہ عقیدت و اجیرام سے میانا گیا۔ اس مو ع پر کیانی‬
‫ُ‬
‫رون ملک سے علماء و مساتخ اور عقیدت مید حضرات و خواتین کی پڑی یعداد تے‬
‫سلسلہ ”الحطنب“ کا ساالبہ نادگاری مجلہ سا یع ہوا۔ ملک اور بی ِ‬
‫ّ‬
‫عرس میارک کی یقرپیات میں سرکت کی۔ م یعدد جایقاہوں‪ ،‬درس گاہوں‪ ،‬سئی پ یطیموں اور جلفوں کی طرف سے حضرت حطنب ِ اعظم علتہ‬
‫ُ‬
‫ع‬
‫الرحمہ کے مرق ِد اقدس پر جادر یوسی و گل ناسی کی گئی۔ حضرت سیدنا دانا گیج تحش اور حضرت شیِر ّرنانی سرق یوری رحمۃ اّٰللہ لتہم کے مزارات‬
‫ب‬
‫سے ھیجی گئی حصوصی جادروں کو عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی تے علما و مساتخ اور عقیدت میدوں کے ہمراہ ا پئے والدین کرتمین علتہما الرحمہ‬

‫ذکر ا ِسم الہی اور صلوۃ و سالم کا ِورد کیا گیا۔‬
‫کے مرقد میارک پر خڑھاکر عرس میارک کی یقرپیات کا آعاز کیا۔ جادر یوسی کے وقت یعت سریف‪ِ ،‬‬

‫(عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی کے اعالن کے مطایق تمام اہ ِل عقیدت تے مزار سریف پر کیڑوں کی زنادہ جادریں خڑھاتے کی تجاتے حضرت‬
‫ی‬
‫حطنب ِ اعظم کے ایص ِال یواب کے لئے م یعدد مسیجق افراد کو یوساکیں قسیم کیں)۔ عرس کے احیماع سے تبیرہئ اعلی حضرت موالنا ساہ میان‬
‫ی‬
‫رصا جان پرنلوی‪ ،‬مجدوم بیر جکیم سید اسرف حیالنی‪ ،‬موالنا سید مظقر حسین ساہ‪ ،‬جاچی محمد حب یف طنب‪ ،‬مقئی محمد اسلم عیمی‪ ،‬موالنا سید حمزہ علی‬
‫قادری‪ ،‬پروفیسر عقیل احمد سیخ‪ ،‬سید رق تق ساہ‪ ،‬الجاج ظارق مح توب صدیقی‪ ،‬موالنا اپرار احمد رحمانی‪ ،‬موالنا اپراہیم سامی اور عالمہ کوکب یورانی‬
‫اوکاڑوی تے حطاب کیا۔ ا پئے حطیات میں مقررین تے کہا کہ حطنب ِ اعظم موالنا محمد شق یع اوکاڑوی دین و ملت کے عطیم محسن اور اہ ِل‬
‫سنّت کا سرمانہئ اقیجار بھے‪ ،‬وہ ضراط مسیقیم کے سجے رہ تما اور اہ ِل خق کے قاقلہ ساالر بھے۔ انہوں تے عزتمت و اسیقامت اور خرأت و ہمت‬
‫مرد میدان ناپت ہوے۔ ان کی زندگی خق و صداقت کی‬
‫سے تے ناک‪ ،‬تے لجک‪ ،‬تے خوف سجے پرحمان کا نہیرین کردار ادا کیا اور ہر مجاذ پر ِ‬
‫سرنلیدی کے لئے مسلسل اور ان بھک جدوجہد میں گزری‪ ،‬اپئی تررپر و یقرپر سے انہوں تے تجدندی ایقالب پیا کیا‪ ،‬وہ تے میال محفق و‬
‫مصیف اور تے ندل حطنب بھے۔ ان کے نام اور کام کی سم توں میں آج بھی دھوم ہے۔ انہوں تے عقاند حقہ کی ناس نانی کی اور ِراہ خق‬

‫میں ہر یکل یف حیدہ تیسانی سے پرداشت کی۔ اصالح عقاند و اعمال کے خوالے سے انہوں تے میالی جدمات اتجام دیں ان کی مق تولنت اور وجہ‬
‫امبیاز ان کا عسق رسول بھا اور وہ اسی کو بھیالتے رہے‪ ،‬ان کی وجہ سے اہ ِل سنّت میجد اور قوت ناپت ہوے آج بھی ان کی آواز و انداز کی‬
‫یقلید کی جانی ہے اور ان سے بسنت پر فرر کیا جانا ہے۔‬
‫ُ‬
‫تبیرہئ اعلی حضرت تے بھی ا پئے تچین میں سئے ہوے حضرت حطنب ِ اعظم کے اشعار اسی پریم سے پڑھے اور خوب داد نانی۔ انہوں تے پیانا‬
‫کہ پرنلی اور یورے بھارت میں بھی حضرت حطنب ِ اعظم کو نہت سوق سے سیا جانا ہے ا ور وہ وہاں بھی نہت مق تول ہیں۔‬
‫احیماع میں ایص ِال یواب کرتے ہوتے ناون الکھ ابھارہ ہزار سات سو خوالیس (‪ )33,08,022‬فر ِآن کریم٭ پیاسی الکھ اکیس ہزار آبھ سو‬
‫ِپراسی (‪ )83,30,882‬فرآنی سورتیں ٭ انک کروڑ سولہ الکھ پتبتیس ہزار تین سو ناون (‪ )0,02,23,233‬فرآنی آنات ٭ یو سو خوالیس‬

‫ُ‬
‫َ‬
‫(‪ )022‬فرآنی نارے ٭پتبیالیس کروڑ خوہیرالکھ اکیالیس ہزار یو سو اڑتیس (‪ُ )22,02,20,028‬درود سریف ٭ انک کروڑ ابھاتیس الکھ اناسی‬
‫َ‬
‫ٰ‬
‫ہزار دو سو سولہ(‪ )0,38,00,302‬کلمہ طنتہ٭ انک کروڑ (‪ )0,11,11,111‬اسماے حسئی اور محیلف م یعدد اوراد و اذکار کے ِورد اور دو‬

‫ق‬
‫ج‬
‫لس خواتین گل ِزار حب نب کاحصہ تماناں بھا۔احبیامی دعا‬
‫الکھ (‪ )3,11,111‬یوا ل اور ‪ 2‬عمروں کا ہدبہ تیش کیا گیا۔ ایص ِال یواب میں م ِ‬

‫عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی تے کی۔ حمعہ ‪20‬مئی ‪3102‬ء کو دپیا ب ھر کے ‪ 23‬ممالک میں عقیدت و اجیرام سے مساجد و مر ِاکز اہل سنت‬
‫میں ساالبہ عالمی یوم حطنب اعظم میانا گیا اور احیماعی طورپر ایصال یواب کے لئے قاتحہ خوانی ہونی۔‬

‫مرکزی عرس سریف کی یقرپیات میں حضرت الجاج بیر سوکت حسن جاں یوری‪ ،‬صاجب زادہ فرجت حسن یوری‪ ،‬موالنا گل جہاں صدیقی‪ ،‬ضوقی‬
‫علی حسن یقش پیدی‪ ،‬موالنا محمد سریف یقش پیدی‪ ،‬موالنا محیار اسرقی‪ ،‬صاجب زادہ سید مکرم اسرف حیالنی‪ ،‬صاجب زادہ ڈاکیر محمد سیجانی اوکاڑوی‪،‬‬
‫الجاج محمد یعیم یقش پیدی‪،‬موالنا عیدالق توم محمود‪ ،‬موالنا محمد عرقان ضیانی‪ ،‬موالنا محمد اسرف گورمانی‪ ،‬موالنا ایوب الرحمن اوکاڑوی‪ ،‬موالنا اسالم‬
‫الدین‪ ،‬محمد اشقاق اسرقی‪ ،‬موالنا شیر محمد حسئی‪ ،‬جاچی یوق تق قایم جانی‪ ،‬سید ایعام الجق ساہ‪ ،‬قاری ناج نہادر جاں‪ ،‬الجاج جاوند اقیال‪ ،‬موالنا رناض‬
‫الدین قادری‪ ،‬جاچی عیدالرؤف میمن‪ ،‬سیخ محمد آقیاب اقیال‪ ،‬الجاج جاوند معرقانی‪ ،‬قاری عالم علی گولڑوی‪ ،‬الہور سے مرزا محمد ارساد معل‪ ،‬محمد‬
‫اوصاف اور محمد ناضر‪ ،‬ضوقی ضوبہ جان‪ ،‬پ ِزم ق یص ِان وارپتہ کے سید عیدالماجد وارنی مع احیاب‪ ،‬اتحمن مجاہدین مصظقی کے محمد اکیر یقش پیدی‪،‬‬

‫جافظ محمد حب یف اسرقی‪ ،‬موالنا محمد اجیر علی یوری‪ ،‬موالنا سید ناضر ساہ‪ ،‬الجاج ساہ رخ قادری‪ ،‬یصیف موسانی‪ ،‬محمد ق یصان قادری‪ ،‬ملک پیار احمد‪،‬‬
‫محمد رق یع اّٰللہ‪ ،‬سید اسد ساہ‪ ،‬موالنا محمد شہ زاد پرانی‪ ،‬الجاج رحیم الدین‪ ،‬محمد عطیم (یعت خواں)‪ ،‬سیخ سکیل ا حمد‪ ،‬حیاب عیدالعقار داؤد‪ ،‬سید اسجق‬

‫عادل ساہ‪ ،‬جاچی عالم حیدر‪ ،‬الجاج رق تق سلیمان‪ ،‬الجاج محمد ایوب فربسی‪ ،‬جاچی محمد ایور اوکاڑوی‪ ،‬ملک پیار احمد قادری‪ ،‬سید حستین ساہ کاظمی اور‬

‫م یعددمعززین تے حصوصی سرکت کی۔ اتحمن یوخوانان اہل سنت‪ ،‬اتحمن ظلیاء اسالم اور پزم ق یصان وارپتہ تے ا پئے مراکز میں عرس سریف کی‬
‫یقرپیات م یعقد کیں۔ احیارات و خراند تے ساالبہ عالمی یوم حطنب اعظم کے موفع پر حصوصی مصامین سا یع کئے اور پیلے وژن چے نلز تے‬
‫حصوصی پروگرام تیش کئے۔ ان ساء اّٰللہ یعالی حضرت حطنب اعظم کا ‪ 20‬واں ساالبہ عرس میارک م ِاہ رجب کی تیسری حمعرات و حمعہ ‪-32‬‬
‫“‪ 33‬مئی‪3102‬ء کومیانا جاتے گا۔ (ریورٹ‪ :‬حمید اّٰللہ قادری‪ ،‬حیدر علی قادری)‬
‫عرس سریف کی یقرپیات میں ملک و بیرون ملک سے عقیدت میدوں تے ب ھریور سرکت کی اور دپیا کے ‪ 23‬ملکوں میں اور ملک کے‬
‫ہر پڑے حھوتے شہر میں ایصال یواب کے لئے ساالبہ عالمی ی ِوم حطنب ِ اعظم میانا گیا۔ ممیاز اشکالر حیاب ڈاکیر عامر لیاقت حسین تے ا پئے‬
‫مشہور پروگرام ”عالم اور عا َلم“ کا انک حصوصی پروگرام حضرت ح ب ِ اع‬
‫ظ‬
‫م‬
‫م‬
‫ع‬
‫اج عقیدت‬
‫ر‬
‫خ‬
‫ں‬
‫ی‬
‫از‬
‫د‬
‫ن‬
‫ا‬
‫ہ‬
‫اب‬
‫ہ‬
‫وال‬
‫اور‬
‫ا‬
‫دن‬
‫ب‬
‫ر‬
‫پ‬
‫ں‬
‫ی‬
‫اد‬
‫ن‬
‫کی‬
‫ہ‬
‫ت‬
‫ّٰلل‬
‫ہ‬
‫ا‬
‫رحمۃ‬
‫م‬
‫پ‬
‫ن‬
‫طن‬
‫ل‬
‫ِ‬
‫تیش کیا۔ اس پروگرام میں حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی تے بھی سرکت کی۔ اس پروگرام کو نہت بسید کیا گیا۔ دھوم نی‬
‫ع‬
‫ب‬
‫ب‬
‫اج‬
‫وی تے ھی اپئی بسرنات میں عرس سریف کا نذکرہ کیا۔ ک تو نی وی تے ھی پروگرام تیش کئے اور حضرت حطنب ِ ا ظم رحمۃ اّٰللہ علتہ کو خر ِ‬
‫٭‬

‫عقیدت تیش کیا۔ روزنامہ حیگ کراچی‪ ،‬الہور‪ ،‬لیدن‪ ،‬روزنامہ یواے وقت کراچی‪ ،‬الہور‪ ،‬ماہ نامہ عقیدت (حیدر آناد)‪ ،‬ماہ نامہ جہ ِان رصا (الہور) ماہ‬

‫مصظ‬
‫اروان وطن (حیدر آناد) تے حصوصی‬
‫ارض ناک (حیدر آناد)اور ہفت روزہ ک ِ‬
‫نامہ رصاے قی (گوخراں واال)‪ ،‬ماہ نامہ تحفظ (کراچی)‪ ،‬ہفت روزہ ِ‬
‫مصامین اور ساالبہ ی ِوم حطنب ِ اعظم کے استہار سا یع کئے۔‬
‫دپیا بھر کے م یعدد ممالک کی مساجد اہ ِل سنّت اور مراکز میں علما و مساتخ‪ ،‬اسانذہ و ظلیا‪ ،‬محیلف پ یطیموں کے سرپراہان و کارکیان‬
‫اور عقیدت میدوں تے ‪ 20‬مئی ‪3102‬ء کو ‪ 21‬واں ساالبہ عالمی ی ِوم حطنب ِ اعظم میاتے کا اہیمام کیا۔ اوکاڑا میں حضرت موالنا محمد اقیال‬
‫حسئی‪ ،‬جافظ محمد اکرم‪ ،‬ضوقی الجاج سردار محمد‪ ،‬ساہی وال میں جکیم سیخ محمد شعید‪ ،‬الجاج سیخ م یظور احمد اور ان کے احیاب و رفقاء‪ ،‬پ توکی میں سیخ‬
‫٭‬

‫محمد جلیل‪ ،‬ملیان میں جافظ محمد شق تق یورانی‪ ،‬نہاول یور میں حبید رصا قادری‪ ،‬سیال کوٹ میں الجاج خواجہ محمد یعیم اور الہور میں حضرت بیر زادہ‬
‫عالمہ اقیال احمد قاروقی تے ا پئے جلقہئ احیاب میں اور اح ھرہ الہور کے موالنا قاری محمد حق یظ‪ ،‬قاری محمد یعیم‪ ،‬یوخوان رہ تما حیاب محمد یواز ک ھرل‪،‬‬
‫مجاقل یعت کے خوالے سے ممیاز سحصنت حیاب ملک محمد جلیل‪ ،‬سیخ ق یصل ظہیر‪ ،‬سیخ عمر علی‪ ،‬حیاب میاں احمد‪ ،‬سیخ عقیل احمد‪ ،‬قاری محمد‬
‫یوبس قادری‪ ،‬راول پیڈی اور اس کے فرب و خوار میں حیاب موالنا قاری مظہر عیاس اور ان کے رفقاء تے م یعدد مقامات پر ساالبہ ی ِوم حطنب ِ‬
‫اعظم میاکر ایصال یواب کا اہیمام کیا۔ کراچی شہر میں اتحمن یوخوان ِان اسالم کے سرپراہ حیاب الجاج ظارق مح توب تے اپئی پ یطیم کے ہر یوپٹ‬
‫میں ساالبہ ی ِوم حطنب ِ اعظم میاتے کا حسب سایق اہیمام رکھا۔ پزم ق یصان وارپتہ کے حیاب سید عیدالماجد وارنی تے اپئی عقیدت کا تماناں‬
‫اظہار کیا۔سرر قاؤنڈبسن کے زپر اہیمام بھی ساالبہ ی ِوم حطنب ِ اعظم میانا گیا اور حصوصی پروگرام م یعقد ہوا حس میں وابس جبیرمین حیاب سید‬
‫رق تق ساہ اور دنگر تے حطاب کیا‪ ،‬اس پروگرام کی احیارات میں تماناں جیریں سا یع ہوتیں۔ پرظاپیا کے ناناے اہ ِل سنّت موالنا ایویعیم محمد یوسیان‬
‫القادری‪ ،‬بیرزادہ مصیاح المالک لقمایوی‪ ،‬الجاج مقئی مح توب الرحمن‪ ،‬موالنا قاری حق یظ الرحمن حسئی‪ ،‬الجاج محمد عرقان یقش پیدی‪ ،‬بھارت میں‬
‫تررنک ق ِکر رصا کے حیاب محمد زبیر قادری‪ ،‬موالنا عالم مصظقی رضوی‪ ،‬سیخ فرند پیار اور ان کے وابسیگان‪ ،‬حضرت بیر زادہ محمد عیدالیاقی اسرقی اور‬

‫ان کے وابسیگان‪ ،‬حضرت موالنا لیاقت رصا اور موالنا مح توب عالم اور ان کے مرندین‪ ،‬پ یگال دبش میں رصا اسالمک اکاڈمی کے موالنا محمد ند یع العالم‬
‫رضوی‪ ،‬موالنا محمد عیداّٰللہ‪ ،‬احسن العلوم جامعہ غوپتہ جاٹ گام کے موالنا سید ایوالبیان ہاسمی‪ ،‬موالنا محمد عیدالمیان‪ ،‬آس پرے لیا میں موالنا اقیجار‬
‫ّ‬
‫ہزاروی‪ ،‬راجا عیدالحمید‪ ،‬محمد بسیم جاں‪ ،‬موالنا محمد یواز اسرقی‪ ،‬ماری شس میں سئی رضوی سوساپئی کے ارکان‪ ،‬موالنا مق تول احمد اسرقی‪ ،‬زم ناب‬
‫ش‬
‫وے میں الجاج م یصور رصا قادری‪ ،‬ڈرین ح تونی افریکا میں موالنا محمد نانا ق یعی قادری‪ ،‬الجاج احمد رسید‪ ،‬الجاج اپراہیم اسمال قادری‪ ،‬پ توپر ہاسم‬
‫م یصور‪ ،‬رصا اکادمی کے ارکان‪ ،‬موالنا آقیاب قاسم‪ ،‬کنپ ناؤن میں حضرت الجاج بیر محمد قاسم ذالگا ؤنکر اسرقی‪ ،‬الجاج محمد اسجق اسرقی اور موالنا‬
‫محمد محسن اسرقی‪ ،‬پری یورنا میں دارالعلوم پری یورنا کے سرپراہ حضرت موالنا مقئی محمد اکیر ہزاروی‪ ،‬موالناجافظ محمد اسمعیل ہزاروی اور ان کے‬
‫رفقاء‪ ،‬الجاج زاہد اپراہیم کریم‪ ،‬الجاج ایونکر کریم‪ ،‬خوہابس پرگ میں موالنا اسلم سلیمان‪ ،‬الجاج ڈاکیر عیداّٰللہ م یصور‪ ،‬امریکا میں الجاج اے لب تق‬
‫پیگ‪ ،‬حیاب عالم قاروق رحمانی‪ ،‬صاجب زادہ ڈاکیر عیمان علی صدیقی‪ ،‬حیاب محمد پروپز اسرف‪ ،‬محمد شق تق مہر‪ ،‬سید م تور علی ساہ تجاری‪ ،‬محمد‬

‫الیاس‪ ،‬موالنا مفصود احمد قادری عالوہ ازیں مالوی‪ ،‬اِ س تین‪ ،‬ری یوتین‪ ،‬میجدہ عرب امارات‪ ،‬کو پت وعیرہ سے احیاب تے پیلے قون‪ ،‬ای میل‬

‫اور حظوط کے ذر یعے ہمیں ساالبہ ی ِوم حطنب ِ اعظم (علتہ الرحمہ) میاتے جاتے کی یفصیالت سے آ گاہ کیا۔ اّٰللہ کریم احیاب کی ان کاوسوں کو‬
‫سرف ق تولنت سے یوازے اور ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرحمہ کے درجات نلید فرماے‪ ،‬آمین‬

‫گزشتہ پرس ساالبہ نادگاری مجلہ ط یع ہوحکا بھا اور ملک میں سیاسی کھیل اپئی خوالپیاں دکھارہا بھا۔ نہاں وہ کحھ ہونا ہے خو ناپت کرنا‬
‫ہے کہ ”ابسان“ کہالتے والوں سے ابساپ نت یقرپیا رحصت ہوگئی ہے۔ ملک کا قایون حتہیں ملزم بھہرانا ہے وہی اعلی عہدوں پر ”قاپز“ ہوتے‬
‫ہیں‪ ،‬ان کے لئے ”مسلط“ ہوتے کا لفظ نہیں کہیا جا ہئے ک توں کہ کام نانی کا زپتہ ”کارکردگی“ ہے‪ ،‬خواہ م یقی ہی ک توں بہ ہو۔ نہاں نہی‬
‫ی‬
‫جلن ہے۔ لوٹ مار اور ند ظمی و ند جلئی کے ناتچ سال یورے کرکے نگران جکومت پیادی گئی۔ نہی کہا گیا کہ ”مبیڈپٹ“ ناتچ سال کا دنا گیا‬
‫٭‬

‫بھا اس لئے اپئی مدت پرداشت کرنا ضروری ہے‪ ،‬خواہ اس عرصے میں کحھ بھی ہونا رہے‪ ،‬بہ کونی ادارہ نا پ یطیم یو نہیں کہ خراب نا م یقی‬
‫کارکردگی پر یکال دنا جاے نا نا اہل فرار دے دنا جاے۔ ملک یو کھلونا ہے اور کھیلئے کے لئے ہے‪ ،‬حبیا علط اور خراب کھیلو گے اپئی ہی‬

‫”م یفعت“ ہوگی۔ نہاں ڈھیانی اور ڈھنٹ کام ناب ہیں۔ وہ پراتے حیال بھے کہ جکمران ”ا حھے“ ہوتے جاہتیں‪ ،‬قایون کی عمل داری ہونی‬
‫َ‬
‫جا ہئے‪ ،‬قایون شب کے لئے ہے …………‪ ،‬بہ ناتیں کیایوں میں احھی لگئی ہیں‪ ،‬انہیں زندگی کا حصہ نہیں ہونا جا ہئے …… نگران سنٹ اپ‬
‫َ‬
‫تے بھی ا پئے حصے کا ”اپ سنٹ“ کیا اور اپئی مدت یوری کی۔‬
‫اس دوران احیار‪ ،‬خراند و رسانل اور پرقی ذرا یع انالغ (الیک پرانک می ڈنا) حیحئے جالتے اور حیگھاڑتے رہے۔ ”سوسیل می ڈنا“ کی اپئی‬

‫زنان اور اپیا مزاج ہے‪ ،‬وہ خو بہ کرے وہ کم ہے۔ من مانی کا رواج ہے۔ صحیح اور علط کون دنکھیا ہے؟ عمرہ اور حج کا شقر کرتے والے ناس‬
‫یورٹ بہ ملئے پر آہ و فعان کرتے رہے۔ نہی وہ ناس یورٹ (خواز السقر) ہے خو کونی وقت بھا کہ اسے جاصل کرنا مسکل پرین کام کہا جانا بھا۔‬
‫یصدیق‪ ،‬یقتیش اور تحق تق کے کبئے مراجل جاصی مدت میں یورے ہوتے بھے‪ ،‬حید ملکوں کے لئے شقر کی اجازت مال کرنی بھی‪ ،‬ملکوں کی یعداد‬
‫پڑھاتے کے لئے نار نار محصول ادا کرکے درخواشت دی جانی بھی‪ ،‬کہا جانا بھا کہ شقر کرنا ہو یو ناس یورٹ پ توانا جاے وربہ کون اپئی یکل یقیں‬
‫ابھاے۔ ب ھر شقر کہاں آسان بھا؟ اسب نٹ تبیک سے نی قارم م یظور کروانا پڑنا بھا‪ ،‬سال ب ھر میں انک سے زنادہ مرپتہ شقر کی اجازت جاصل‬
‫کرنا بھی آسان بہ بھا‪ ،‬رسوت اور شقارش سے وہ َدور بھی جالی بہ بھا۔ ”کرپ شن“ (یگاڑ) تے ابھی معیست اور معاسرت میں اپئی جگہ نہیں‬

‫پیانی بھی کہ ضرف اسی کا جلن ہونا۔ ”خرام“ اپیا میسر بھی نہیں بھا اور اپیا ”مرغوب“ بھی نہیں بھا۔ بہ اس وقت کی ناتیں ہیں جب گیاہ کو‬
‫س‬
‫گیاہ کہئے اور گیاہ محھئے کا رواج بھا‪ ،‬اب یو گیاہ کو گیاہ کہیا بھی گیاہ ہوگیا ہے۔ اس ملک کی عمر اپئی زنادہ نہیں مگر اس میں ند لئے اور‬
‫نگڑتے والی قدروں کی یعداد نہت زنادہ ہے۔ خرم بھی اب مہارت اور کارکردگی سمار ہوتے ہیں۔‬

‫کہا جانا ہے کہ اب ناکسیان ہی وہ ملک ہے جہاں ناس یورٹ جاصل کرنا شب سے آسان ہے‪ ،‬ذمہ داروں کی عقلت اور الپرواہی‬
‫سے کبئے یفصان ہورہے ہیں؟ حید افراد کی وجہ سے سیھی کو کیا کیا بھگبیا پڑنا ہے؟ قایون کے رکھ والے ہی قایون کی ناس داری اور ناس نانی‬
‫نہیں کریں گے یو پیاتج نہی ہوں گے۔‬
‫٭‬
‫بیرونی ممالک میں ُسؤر کے اخزاء ”جکن پرگر“ میں ناے گئے‪ ،‬می ڈنا تے بہ جیر بھی تماناں کی۔ جیر دو دن یعد پرانی ہوگئی اور‬
‫ی‬
‫”پرگر“ کی فروجت میں کونی ”گڑ پڑ“ نہیں ہونی۔ پرسوں نہلے انک یوشیر قسیم ہوا بھا‪ ،‬اس میں درج بھا کہ ”پتیسی کوال“ کا تبیادی خزو ”پَ نپ‬
‫ُ‬
‫کے لفظ کے ‪ِ Pepsin‬شن“ ہے خو ُسؤر کے معدے سے جاصل کیا جانا ہے اور ہاضمے کے لئے زود اپر ہے۔ انگرپزی لعات میں بھی‬

‫ٰ‬
‫سا مئے نہی یفصیل یظر آنی۔ ناکسیان کی اعلی عدلتہ (شیریم کورٹ) میں بھی بہ نات واصح ہوجکی ہے کہ یول پری قارم کی مرع توں کی عذا میں‬
‫ُسؤر کے اخزاء سامل ہیں …… ساند عیر مسلموں کو معلوم ہوگیا ہے کہ ”خرام“ عذا سے تے حیانی آجانی ہے۔ ہمارے معاسرے میں تے‬
‫حیانی اور فجاسی کا پڑھیا رحجان نہی پیانا ہے کہ نہاں خرام کھلے عام کھالنا جارہا ہے۔ کمانی بھی کم ہی کی جالل ہے اس پر خرام اور تحس عذا‬
‫کے یعد کیا کسر رہ جاے گی؟ کبئے ہی نی وی چے نلز بہ مالوٹ‪ ،‬تجاشت‪ ،‬عالظت سے پیار کی جاتے و الی اسیاء کی روز ہی یفصیل دکھانی جانی‬
‫ُ‬
‫ہے مگر ّ‬
‫سدناب یو ُدور کی نات ہے ان مررموں کے جالف کونی کارروانی بھی نہیں ہونی۔ دنکھئے سبئے والے بھی ”تے حسی“ کا شکار ہیں یو‬
‫جکمران ک توں پرواہ کریں‪ ،‬بہ شب جلیا ہے اور ساند جلیا رہے گا‪ ،‬اسی کا نام دپیا ہے۔‬

‫ملک میں اپیجانات کا ”جؤا“ انک نار ب ھر کھیال گیا۔ ربیرپیگ آفیسرز تے اپیجانات میں حصہ لبئے والوں سے یقرتح کرتے ہوے‬
‫سواالت کئے اور اس یضحیک و تحفیر کی نہت بشہیر بھی ہونی۔ گزشتہ مدت کی اسمیلی کے ارکان کی حعلی ڈگریوں کی نازگست ابھی حیم نہیں‬
‫٭‬

‫َ‬
‫ہونی بھی کہ ان ارکان کا نارلی مب نٹ الخز سے قومی خزاتے کے نی وی‪ ،‬کم پ توپر‪ ،‬فرنی خر‪ ،‬قالین‪ ،‬پیکھے اور گملے وعیرہ نک ا پئے گ ھروں میں لے‬
‫جاتے کا ”کارنامہ“ بھی سیا گیا۔ انہی نارلی مب نٹ الخز میں انہی ”قومی تماپیدگان“ کی کارسیاپیاں اور سیاہ کارناں بھی م یظر عام پر موضوع ین‬
‫جکی ہیں۔ قوم و ملک کے بہ ”ہم درد“ ماہابہ بھاری رقمیں اور مراعات لبئے کے ناوخود اسمیلی کے اجالس سے اکیر عاپب ر ہئے ہیں‪ ،‬غوامی‬

‫ُ‬
‫مسانل سے ان کی رع نت کا اخوال کسی سے یوسیدہ نہیں۔ اپیجانات حتبئے کے ہیھ کیڈے ان افراد سے سئے جاسکئے ہیں خو یولیگ مراکز میں‬
‫یعبیات ہوتے ہیں۔ کبئے ووٹ کاشٹ ہوتے ہیں اور کبئے کا گوش وارہ جاری ہونا ہے۔ بہ ناتیں یو واصح ہوجکی ہیں کہ انک انگو بھے کے بسان‬
‫سے سیکڑوں ووٹ کاشٹ ہوے ہیں۔ بہ مح یضر اخوال ہی ناور کرانا ہے کہ اس قوم کی اتمانی اجالقی بسئی کس جد نک ہے۔ کیا اب بھی کونی‬
‫! ُشتہ رہ جانا ہے کہ قیر و حسر کا ہر خوف اس معاسرے سے رحصت ہوحکا‬

‫ی‬
‫نلوحسیان اس ملک کا ر قئے کے لجاظ سے پڑا ضوبہ ہے اور اب نک عرپت میں تماناں ہے‪ ،‬وہاں سے جاصل ہوتے والی عم توں کو یو‬
‫ُ‬
‫انابہ سمحھا جانا ہے لیکن وہاں بسئے والوں کی گونا قکر ہی نہیں۔ تررنک ِ ناکسیان کے قاند اعظم محمد علی حیاح اسی ضوتے کے پرفصا مقام‬

‫٭‬

‫زنارت میں کحھ عرصہ رہے۔ اس رہابش گا ہ کو بھی بسابہ پیانا گیا۔ بہ حملہ یو دہست گردی کا وافعہ پیانا گیا لیکن قاند اعظم کے مزار کو فجاسی‬

‫و ندکاری کے لئے اسیعمال کروانا یو ”ذمہ داروں“ کا ذریعہ آمدن بھا۔ اس جیر کے عام ہوتے پر کیا کونی سرمیدگی ہونی؟ کم شن تح توں سے‬
‫زنادنی کے وافعات کا بسلسل می ڈنا سے بسر ہونا رہا‪ ،‬قیرسیان سے کم ِشن تجوں کی یعسیں عاپب ہوتے اور ُمردوں کے گوشت کھاتے کی جیریں‬
‫اور مررموں کی شکلیں بھی می ڈنا تے ُسیاتیں اور دکھاتیں۔ بہ شب یو کیا‪ ،‬اسی شہر میں قیرسیان میں دفن ُمردہ خواتین سے قیروں میں ندفعلی کے‬
‫مررم کو بھی عیرت کا بسان نہیں پیانا گیا۔ نہاں یو خرم کی بسان دہی ”خرم“ ہوسکئی ہے‪ ،‬خرم کا اریکاب کبیا ہی گھیاؤنا ک توں بہ ہو‪ ،‬خرم‬
‫نہیں۔ تبیگ لو پئے واال تحہ یو گرقیار کرلیا جانا ہے لیکن مزار قاند پر خرام کاری کرتے پر کونی کارروانی نہیں ہونی۔ اس معاسرے تے یو َدور‬
‫جاہلنت کو مات د پئے میں کسر نہیں رکھی۔‬

‫نلوحسیان میں مے ڈی کل کالج پر حملہ عیر معمولی ساتحہ بھا۔ اسی ضوتے میں انک ط یقے پر دہست گردی کی مسلسل نلعار ہونی‪،‬‬
‫مارے جاتے والوں کی یعسیں لئے ان کے ورناء سڑکوں پر سدند سردی میں دھرنا د پئے رہے۔ جبیر تح تون خوا ضوتے میں دھماکوں اور ابسانی‬
‫ُ‬
‫جایوں کے ضیاع کی انک یفصیل ہے۔ کراچی شہر میں نارگٹ کلیگ اور لوٹ مار کا بہ حیم ہوتے واال سلسلہ ہے۔ انک زمابہ بھا کہ احساس کا‬
‫پیاشب دنکھا جانا بھا‪ ،‬اب تے حسی کا پیاشب دنکھا جارہا ہے۔ اقیدار پر ”قاپز“ کیا وافعی عیرت سے جالی ہو جکے؟ کونی ہے ان سے مواجذہ‬
‫کرتے واال؟‬
‫پیا مبیڈپٹ لے کر پئی جکومت آنی۔ ”انہیں پرسوں کے اپ یطار کے یعد بھر اقیدار مال ہے بہ ضرور کحھ کریں گے‪ ،‬ملک میں نہیری‬
‫ہوگی“۔ ابسی ہی آوازوں کی گوتج بھی۔ حید ہق توں میں جار مرپتہ بیرول کی قیمتیں پڑھاکر مایوسی بھیالتے والی اس جکومت تے حج حیسے مقدس‬
‫م‬
‫شقر کو بھی پیکس سے جالی نہیں رہئے دنا۔ نالشتہ حج و عمرہ جکمرایوں اور ناخروں کے لئے کمل کارونار ہوگیا ہے۔ واصح رہے کہ مسلمان کہالتے‬
‫٭‬

‫والے ہی حج اور عمرہ کے شقر کو مہ یگا کرتے ہیں جب کہ عیر مسلم اس خوالے سے مسلمایوں کو رعاپت د پئے ہیں۔ عیر مسلم ا پئے مذہئی‬

‫پ توہار میاتے ہوے رعاپت اور آسانی اپیاتے ہیں جب کہ مسلمان کہالتے والے ا بسے موفعوں پر مالی م یفعت کو اہمنت د پئے اور پرخ پڑھاتے‬
‫ہیں۔ اس جکومت تے ناجال اپئی کارکردگی سے عام آدمی کو کونی قاندہ نہیں نہیجانا‪ ،‬ابسانی زندگی کی قدر و قیمت اس دور میں بھی کحھ نہیں۔‬
‫کحھ وافعات کے سِ وا داد رسی اور اسک سونی کی کونی میال نہیں۔ قوم کے انک مررم (سایق قوچی صدر) کی حقاظت پر تے در یغ خرچ ہورہا ہے‬
‫لیکن عام آدمی اب بھی شسک رہا ہے۔ نلک رہا ہے۔ سوبس جکومت کو گزشتہ جکومت تے سایق صدر کے خوالے سے حط لکھئے کا خو ڈرامہ‬
‫ُ‬
‫کیا‪ ،‬وہ تے یقاب ہوا‪ ،‬کیا اس ڈرامے کی ناداش کسی تے بھگئی؟ قومی خزابہ لو پئے کو جب خرم سمحھا ہی نہیں جانا بھر بہ واونال ک توں؟ جہاں‬
‫بھاتے نکئے ہوں‪82 ،‬کروڑ روتے یومتہ بھیا ضرف کراچی شہر میں لیا جانا ہو اور اس میں یولیس سرفہرشت ہو‪ ،‬ق یصہ ماقیا‪ ،‬میسیات‪ ،‬بھیلے‬

‫پیھارے‪ ،‬ناوان‪ ،‬نانی کے تبیکرز …… تجلی خوری‪ ،‬جالیس روتے یومتہ پیکسی رکسا‪ ،‬جہاں بہ شب حقایق ہوں اور ”پڑوں“ کی سرپرسئی اور آشیر ناد‬
‫سے ہوں وہاں شب سے پڑا تمسرر ”قایون“ ہے حس کی کونی عمل داری نہیں۔ امن و امان کے خواب کیسے سرمیدہئ یعبیر ہوں جب یوجا ہی‬

‫َ‬
‫َدھن دولت کی ہونی ہو؟ سیھی جا پئے ہیں کہ ”نل کی جیر نہیں“ ب ھر بھی سامان سو پرس ہی کا کررہے ہیں۔ جدپث سریف ہے‪ :‬دپیا ُمردار‬
‫ہے اور اس کے ظالب ” ّکئے“ ہیں۔‬

‫آ تین پیاتے والوں تے خود ہی م یفقہ طور پر طے کیا بھا کہ ملک کی اسمیل توں کے امیدوار کیسے ہوتے جاہتیں۔ سق ‪ 23‬اور ‪ 22‬کا‬
‫ُ‬
‫ٰ‬
‫ذکر نہت ُسیا گیا۔ انہی لوگوں تے اس کی دھحیاں بھی خوب اڑاتیں۔ اعلی پرین عہدے بھی انہی لوگوں کے حصے میں آے خو زنادہ پڑے ملزم‬

‫٭‬

‫بھہراے گئے اور انہیں آتے جاتے ”اعزاز“ بھی دنا گیا۔ دپیا ب ھر میں کرپ شن کو ساند قومیا لیا گیا ہے۔ وقت گزر جاے گا لیکن دپیا کو دوام‬
‫ُ‬
‫نہیں۔ گیاہوں پر راصی ہوجانا کونی خونی نہیں‪ ،‬حماقت اور پرا حسارہ ہے۔ اجاد پث میں واصح ہے کہ پروں کی عزت ان کے َسر سے تحئے کے‬
‫ُ‬
‫لئے کی جاتے گی۔ اور بہ بھی کہ حیسے لوگ ہوں گے ان پر و بسے ہی جاکم مسلط کئے جاتیں گے۔ من حنث الفوم یعئی انک قوم کی حتب نت‬
‫سے ہم شب بھی گیاہوں سے مایوس ہوتے جارہے ہیں۔ فراء‪ ،‬یعت خواں اور علما کہالتے والے کبئے ہیں خو ا پئے د پئی م یصب اور وقار کی‬
‫ُ‬
‫ناس داری بھول جکے ہیں؟ نی وی اسکرین پر روتمانی کے ”سوق“ تے کب توں کی نہجان ہی ندل دی ہے۔ کمرسیالپزے شن سے کونی شعتہ‬
‫نہیں تجا۔ خود کو ند لئے سے ند کئے والے دین کو ندلیا جاہ رہے ہیں۔ تجارت‪ ،‬کھیل کون سا شعتہ ہے جہاں کرپ شن کی نذپرانی نہیں ہونی؟‬
‫سیاشت کے نام پر کون سا خرم ہے خو نہیں کیا جارہا؟ ّکئے کو شہید اور ملعون پزند نلید کو صجانی کہئے کی حسارت کرتے والے بھی نادم و‬
‫بسیماں نہیں‪ ،‬یوبہ کے خواشت گار نہیں۔ جدپث سریف پیانی ہے کہ جب یم میں حیا نہیں رہی یو خو جاہے کرو۔ اسالمی حمہوربہ ناکسیان میں‬

‫می ڈنا پر تحث ہونی رہی کہ کون شہید ہے اور تحث وہ کرتے رہے حتہیں ساند ظہارت کے اپیدانی ضروری مسانل بھی یورے معلوم نہیں۔‬
‫نہاں ظلم‪ ،‬دہست گردی اور فساد کے مرنکب سے یو خوف کیا جانا ہے لیکن اّٰللہ یعالی کا کونی خوف نہیں۔ خوپیاں اور کردار کیایوں کہاپ توں میں‬
‫رہ گئے‪ ،‬خرام اور ظلم کے خوگر لوگوں سے عدل و یفوی اور صدق و اجالص کی کیسی یوفع؟ اسمیلیاں اپئی مدت یوری کریں‪ ،‬قوم و ملک کی‬
‫ف‬
‫سوداگری ہونی رہے‪ ،‬قایون‪ ،‬اقدار اور اتمان و اجالص نامال ہوتے رہیں۔ اس دپیا تے کس سے وقا کی ہے؟ کیا ہوا خو بہ خوش ہمی میں ہیں‪،‬‬
‫س‬
‫فرغون کی یعش آج بھی بس ِان عیرت ہے مگر دنکھئے والی آنکھ اور محھئے واال قلب و ذہن دپیا پرستوں کے ناس نہیں ہے۔‬

‫اہ ِل اسالم کے پزدنک کیا مقام و مرپ نت رکھیا ہے؟ م یعدد اجاد پث گواہ ہیں۔ اتبیاء اولیاء کی سرزمین )‪ Syria‬سی رنا( مل ِک سام‬

‫٭‬

‫کو وہاں کے موخودہ جکمرایوں کی وجہ سے جن اخوال کا سامیا ہے وہ نہت یکل یف دہ ہیں۔ ساہ زادی رسول حضرت سیدہ زپ نب اور صجانی رسول‬
‫حضرت سیدنا جالد رصی اّٰللہ عتہما کے مزارات پر حملہ کونی معمولی وافعہ بہ بھا۔ احیجاچی مطاہرے ہوے‪ ،‬یعرے لگے اور فصہ نارپتہ ہوگیا۔ آج‬
‫بھی اس سرزمین پر خون کی ہولی جاری ہے۔ پرسوں ہو گئے پ نت المقدس اور قلسطین کو آزادی بہ مل سکی‪ ،‬عراق اپران حیگ تے الکھوں جاتیں‬
‫نلف کرواتیں۔ افعابسیان آج بھی مقیل پیا ہوا ہے۔ مضر‪ ،‬لتبیا …… کس کس ملک کا نام لیں۔ کیا وجہ ہے کہ ضرف مسلم ممالک ہی‬
‫َ‬
‫ی‬
‫ناراج ہورہے ہیں؟ ڈپڑھ ارب سے زنادہ مسلمان کہالتے والے قیادت سے مرروم ہیں نا خواب عقلت میں ہیں؟ مسلم ممالک کی پ طیمیں‬

‫ا پئے حفوق کے لئے‪ ،‬مسلمایوں کے تحفظ کے لئے‪ ،‬دوسرے مسلمان ملک کے لئے ہم آواز ک توں نہیں ہوتیں‪ ،‬مسلم ممالک کو پتہا ک توں کیا‬
‫جانا ہے؟ ابسانی حفوق کی پ یطیموں کو خ ِون مسلم کی بہ ارزانی ک توں یظر نہیں آنی؟ کسمیر ک توں ابھی نک ال پیجل مسیلہ ہے؟ کراتمیا کو آزاد‬
‫رناشت بسلیم کرلیا گیا مگر قلسطین اور کسمیر کے لئے بہ بیزی اور ب ھرنی ک توں نہیں دکھانی جانی؟ اپتہا بسیدی‪ ،‬تبیاد پرسئی اور دہست گردی کے‬
‫اصل مرنکب ک توں مع توب نہیں؟ یوین ناورز کیا ڈھاے گئے‪ ،‬دپیا سے امن کی قاجتہ رحصت ہوگئی۔ آج ہر کسی کا زنادہ خرچ ”سیک تورنی“ پر‬
‫ہورہا ہے۔ ابسان خود ابسان سے خوف زدہ ہے۔ اس ابسان سے ابساپ نت گم ہوگئی ہے اور مسلمان کو اپیا بسحص ناد نہیں رہا‪ ،‬نا بسید نہیں‬

‫ہے۔ اّٰللہ یعالی کے وعدوں پر اس مسلمان کا اتمان ک توں نہیں؟ اس مسلمان کی اّٰللہ یعالی کے دسم توں سے امیدیں وابستہ ک توں ہوگتیں۔‬
‫مسلم ممالک کو مسلمایوں کے حفوق ک توں عزپز نہیں؟ اسالمی ملکوں کے سرپراہان کو یعیسات اور ”شہوات“ ہی ک توں مرغوب ہیں؟ عہدے‬
‫اور م یصب ضرف لوٹ کھسوٹ ہی کے لئے ک توں ہو کر رہ گئے؟ مسلمان کے ناس یو ابسانی قواتین سے نہت زنادہ نہیر جدانی فرامین کا محموعہ‬
‫للع‬
‫موخود ہے‪ ،‬رحمۃ لمین جایم التبتین ﷺ کا دین ہے‪ ،‬ب ھر وہ ک توں بھیک رہا ہے؟ اسی دین کی ناپیدی سے ک توں گرپزاں ہے خو اس کی قوز‬
‫و قالح کا صامن ہے۔ عیروں کو نہی جدشہ ہے کہ مسلمان ا پئے دین کا ناپید بہ ہوجاے اسی لئے وہ اسے نہکاتے بھ یکاتے کو ہمہ دم‬
‫…… مسعول ہیں۔ کاش کہ بہ مسلمان پیدار ہوجاے اور اسے اپئی نہجان ہوجاے‬

‫‪0020‬ء سے ‪3102‬ء نک یصف صدی سے زنادہ عرصہ گزر جاتے کے ناوخود ناکسیان رنل وے مسلسل بیزلی اور ابیری کا شکار‬
‫ُ‬
‫ہے۔ کراچی سے بساور نک ڈنل پرنک بھی نہیں پیانا جاشکا۔ کبئے ہی روٹ پید کرد پئے گئے اور کرپ شن کی اس مجکمے میں بھی ”میالی‬

‫٭‬

‫روانات“ قایم ہوتیں۔ گزشتہ پرس بھی رنلوے جادنات میں کبئی ابسانی جاتیں لقمہ اجل ہوگتیں۔ ا پئے پیاروں سے مرروم ہوجاتے والے دھاڑیں‬
‫مار کے روتے ہوے سیھی کو یظر آتے ہیں‪ ،‬می ڈنا ا بسے یطارے اہیمام سے دکھانا سیانا ہے‪ ،‬لیکن ذمہ داروں پر کونی اپر نہیں ہونا۔ ڈراؤر نا‬
‫کسی مالزم کو سزاوار بھہراکر وہ ساند گمان کرتے ہیں کہ انہوں تے اس جادبہ کا ونال خود سے انار دنا۔ اب انہیں مظعون نہیں کیا جاسکیا‪ ،‬وہ‬
‫مورد عیاب و عذاب نہیں رہے۔ نہی سوچ خراپ توں کو پڑھانی ہے۔ احساس ذمہ داری سے عاری سحص کسی م یصب کا اہل نہیں ہوا کرنا۔‬
‫ملک کے سرپراہ کا کام ضرف ہدانات و احکام ہی جاری کرنا نہیں نلکہ ہر لمجے ان پر عمل داری کو الزمی پیانا بھی ہے‪ ،‬ہر خرانی کا بھی وہ اپیا‬

‫ہی ذمہ دار ہے حبیا ہر خونی کا وہ خود کو حصہ دار بھہرانا ہے۔ لوگوں کی زنان پر ہے کہ اپئی پرابس یورٹ کے کارونار کو پڑھاتے کے لئے‬
‫رنلوے کے سایق وزپر تے اس مجکمے کو پیاہ کیا۔ زن ِان جلق پر جاری ابسی ناتیں محض ”اقواہیں“ نہیں ہوتیں۔ پیلے قون کے مجکمے کے خوالے‬
‫سے بھوس پ توت می ڈنا سے عام ہوے مگر مجال ہے کہ کونی یوبس لیا گیا ہو۔ اب بھی بیرون ملک سے آتے والی کالز کے کالر آنی ڈی پر‬

‫ملکی پ نٹ ورک کے قون تمیرز یظر آتے ہیں جب کہ کالر کا اپیا تمیر نا جار ہیدسوں کا کونی کوڈ نا پرانی و پٹ تمیر کی عیارت یظر آنی جا ہئے۔ قومی‬
‫ُ‬
‫خزاتے کی اس لوٹ مار سے ا پئے ذجیرہئ مال و اعمال میں آگ ب ھرتے والے کس کی ”مہرنانی“ سے بہ کررہے ہیں؟ کیا سرپر ِاہ مملکت ابسی‬

‫پراپ توں سے حسم یوسی کرکے پری الذمہ ناپت ہوسکیں گے؟ جہاں ذانی و گروہی مقاد پرسئی‪ ،‬حھوٹ اور میاففت‪ ،‬افرنا پروری اور یوکر ساہی مح توب‬
‫و مطلوب ہو‪ ،‬وہاں نہیری نہیں‪ ،‬ابیری ہی آنی ہے۔‬

‫مونانل (سیل) قون حسے عرنی والے ”خوال“ کہئے ہیں‪ ،‬آج یقرپیا اریوں کی یعداد میں ہوگا۔ کہا جانا ہے کہ نہت بیزی سے اس اتجاد‬
‫م‬
‫تے خود کو ہر انک کی ”ضرورت“ پیالیا ہے‪ ،‬کیا وافعی بہ ہر انک کی ضرورت ہے؟ کیا اس کے یعیر زندگی نا کمل ہے؟ اس کے قاندے اور‬
‫یفصان کبئے ہیں اس کا اندازہ اسی نات سے کرلیا جاے کہ ہر انک پ توہار پر اس کے اسیعمال پر ناپیدی لگادی جانی ہے یعئی اسے پید کردنا‬

‫٭‬

‫جانا ہے‪ ،‬اس کی کارکردگی روک دی جانی ہے۔ اس قون کے یقبئی قاندے بھی ہوں گے مگر اس کے یفصانات اس کے قاندے سے نہت‬
‫زنادہ ہیں۔ طئی یفصانات ہی کم نہیں مگر اتمانی‪ ،‬اجالقی اور معاسرنی یفصانات کحھ زنادہ اندوہ ناک ہیں۔ مسلمان کہالتے والے اس قون کا‬

‫خرم پ توی مدپتہ م تورہ میں حس طرح کرتے یظر آرہے ہیں وہ نہت سرم ناک اور مع توب ہے۔ موسیقی والی‬
‫اسیعمال مکہ مکرمہ‪ ،‬جابہ کعتہ اور ِ‬
‫دوران طواف دوسروں سے ناتیں‪ ،‬نامیاشب یصوپر کسی اور خرم میں تبیھے بھی قون پر مسعول رہیا‪ ،‬شب سے زنادہ لرزا‬
‫رنگ یون‪ ،‬خرم سریف میں ِ‬
‫ُ‬
‫د پئے واال فعل بہ کہ روضہئ رسول (ﷺ) کی ستہری جال توں کی طرف بست کرکے اپئی یصوپر پ توانا اور مواجہ سریف میں بھی قون پر ناتیں کرتے‬
‫ات مقدشہ کے عکس کو محفوظ کرکے اس کا ادب بہ کرنا‪ ،‬اع یکاف میں بھی اس‬
‫ات فرآنی‪ ،‬مقدس اوراد اور مقام ِ‬
‫رہیا …… قون کی اسکرین پر آن ِ‬
‫بہ کرنا‪ ،‬نہی نہیں نلکہ دین کے خوالے سے عیر ‪ Silent‬قون کا تے در یغ اسیعمال کرتے رہیا‪ ،‬تماز کے دوران بھی قون پید نا ساے لنٹ‬

‫مصدقہ اور علط نایوں کو بھیالنا سیگین ناتیں ہیں۔ رقتہ رقتہ تے ادنی اور تے حسی سے پڑھ کر تے سرمی و تے حیانی نک لے جاتے میں‬
‫مونانل قون کا نہت دجل ہے۔ گ ھر ب ھر کے افراد مل تبیھئے اور آبس میں نایوں کے تجاے ا پئے ا پئے قون پر مسعول رہئے کو پرحیح د پئے ہیں۔‬
‫ُ‬
‫مہمان و میزنان بھی اس سے جالی نہیں۔ کال نہیں آنی مگر نار نار قون دنکھیا بھی گونا پیماری ہوگیا ہے۔ فیس نک اور یوی پر پرے بسے ہی کی‬
‫ن ُ‬
‫طرح ہیں۔ انک دوسرے کا قون دنکھئے پر ح ھڑپ اور عصہ و لڑانی کی یوپت بھی د کھی سئی جانی ہے۔ کوڈ لگاکر محفوظ کی گئی یصاوپر اور پ یعامات‬
‫کو حھیانا جانا ہے۔ خوان نہن تبئی نہو کس سے کس طرح چے پیگ کررہی ہے‪ ،‬کونی جا پئے کی کوشش کرے یو احھا جاصا حھگڑا سروع ہوجانا‬
‫ُ‬
‫ہے۔ اس قون تے کبئے ازدواچی رستوں کو یوڑا ہے‪ ،‬اس کی بھی آے دن کہاپیاں سبئے دنکھئے میں آنی ہیں۔ میاں پ توی کے رسئے کے پیار اور‬
‫اغبیار حیم کرتے میں بھی کئی گ ھراتے اسی قون کے سکوہ کیاں ہیں۔ نہاں نک ُسیا گیا ہے کہ یعض گ ھرایوں میں رشتہ طے کرتے ہوے بہ‬
‫سرط رکھی جارہی ہے کہ دلہن مونانل قون اسیعمال نہیں کرے گی۔ ابسی سرط پیانی ہے کہ کحھ دلہ توں کے علط اسیعمال ہی سے بہ یوپت‬
‫آنی ہے۔ اسی قون سے کون کس کی نات رکارڈ کررہا ہے نا کس کی وڈیو پیارہا ہے؟ اس کا الگ حھگڑا ہے۔ بہ قون ضرورت سے کہیں زنادہ‬

‫مصب نت ہونا جارہا ہے۔ مشہور سحصیات کا اس کے خوالے سے رونا الگ ہے۔ لوگ ان کا قون تمیر معلوم کرتے کی یوہ میں رہئے ہیں‪ ،‬حس‬
‫کسی کو کہیں سے نا کسی طرح تمیر مل جاے یو تے دھڑک قون کرتے ہیں اور اپیا خق حیاتے ہیں۔ مشہور سحصیات قون بہ ستیں یو انہیں‬
‫ُ‬
‫نداجالق گردان لیا جانا ہے‪ ،‬سبئے رہیں یو ا پئے کام اور آرام نہیں کرناتے۔ کبئی سحصیات کو دنکھا کہ وہ زنادہ پر قون پید رکھئے ہیں ناکہ‬

‫”نداجالقی“ کے ” تمعے (یعمے)“ سے تجے رہیں۔ انہیں بہ بھی سکوہ کرتے سیا گیا کہ ان کی اجازت کے یعیر ان کے قون تمیرز کحھ لوگ ا پئے‬

‫خراند و رسانل میں سا یع کرد پئے ہیں۔ کیا ہم اس قون کے تے جا اسیعمال سے خود کو روک نہیں سکئے؟ وقت اور تیسہ ہی نہیں اپئی صحت‬
‫بھی عزپز ہو یو اس قون کو نال ضرورت اسیعمال نہیں کیا جاے۔ اس کے طئی یفصانات کی یفصیل خو کونی جان لے یو وہ یقبیا نال ضرورت اسے‬
‫اسیعمال کرنا بسید نہیں کرے گا۔‬

‫الگ ضویوں کے مطا لئے بھی نہت ہوے اور ہورہے ہیں مگر اپ یطامی تبیادوں پر نہیں نلکہ ذات‪ ،‬پرادری‪ ،‬زنان وعیرہ کے خوالے‬
‫ُ‬
‫سے ہیں‪ ،‬مسلمایوں میں رسئے نایوں میں بھی نہی یعصیات اور یقرقات د نکھے سئے جاتے ہیں۔ سیاشت کا یو جال ہی بہ یوحھئے۔ زنادہ ضوتے‬

‫٭‬

‫ُ‬
‫پیاتے کا مطالتہ پرا نہیں لیکن اس ملک میں عصب نت اور قوم پرسئی کی پیماری ک توں راہ نارہی ہے؟ مسلمان کہالکر ان پیماریوں میں مبیال ہونا یو‬
‫ا پئے مسلمان ہوتے کی یقی کرنا ہے۔ سچ یو نہی ہے کہ ہم نام کے مسلمان ہیں‪ ،‬مسلمایوں والی خوپ توں سے ہم جالی ہوتے جارہے ہیں۔‬
‫ح‬
‫عدال توں میں تیش پر مقدمات ناہمی جاندانی اور مالی پیازعات کے ہیں۔ ق یقی فراپت دار انک دوسرے کا خق د پئے سے گرپزاں ہیں۔ آزادی‬
‫ُ‬
‫بسواں کے نام سے تے حیانی نلکہ تے عیرنی کی طرف لیک رہے ہیں۔ لڑکیاں حسن اور خوانی کی قیمت لگاتے پر نلی ہیں‪ ،‬خوان لڑکے حیسے‬
‫کونی نہجان ہی نہیں رکھئے‪ ،‬ہر تے راہ روی انہیں مرغوب ہے۔ ناخروں کو مالوٹ یو کجا اب خرام کی بھی پرواہ نہیں۔ دولت کا حصول عالیا‬
‫صد زندگی ہے اور اس کے لئے ناجاپز طر یقے ہی بسید ہیں۔ خواہسات ہی اب قایون ہیں۔ زندگی کے جلن ہی ند لئے جارہے ہیں۔ اتمان اور‬
‫مف ِ‬

‫وطن کی بسنت سے زنادہ ہمیں یقرتیں اور یعصیات عزپز ہو گئے ہیں۔ ساند ہم خود ہی اپئی پیاہی کے لئے کوساں ہیں‪ ،‬کونی بھالنی اور سجانی‬
‫ہمیں مطلوب نہیں‪ ،‬جیر االمم ہوتے کی عزت ساند گوارا نہیں۔‬

‫ماللہ یوشف زنی کو حس طرح پرنا گیا ہے اس کے یعد اس سے کونی ہم دردی یو کیا ہوگی مالل ضرور ہے۔ دپیا یعیر مکر کے ہابھ‬

‫٭‬

‫نہیں آنی۔ اس ملک کے می ڈنا سے بہ سوال ہر مسلمان ضرور کرنا جاہے گا کہ وہ دین اور وطن کو مقدم جا پئے اور اہمنت د پئے ہیں نا ادھر‬
‫ہی جلیا جا ہئے ہیں جدھر کو ہوا جلئی ہے؟ مرزب اجالق استہار اور پروگرام‪ ،‬سوز اور ڈرامے وعیرہ پیا اور دکھاکر وہ کیا جاہ رہے ہیں؟ وہ ا پئے اتمان‬
‫اور اس کے یقاضوں سے مرروم ہو جکے ہیں نا عاقل ہیں؟ انہیں حھن حھوڑا گیا لیکن وہ اپئی روش پر بہ ضرف قایم ہیں نلکہ بیزی اور دلیری‬

‫دکھارہے ہیں۔ م ِاہ رمصان ہو نا مررم اور رپ یع االول‪ ،‬رجب ہو نا شعیان‪ ،‬ان کے پزدنک کونی یقدس کونی اجیرام ہر گز نہیں۔ سیاشت کار ط یقے کا‬
‫اخوال ان سوپز والوں سے زنادہ سرم ناک ہے۔ کبئے مذہئی کہالتے والے بھی ”مقدس ی ِوم حمعہ“ کو ی ِوم احیجاج پیاتے میں ”سرگرم“ ہیں۔‬
‫گبیز نک آف ورلڈ رکارڈ کو دپیا کی آنادی کا کبئے قی صد پڑھیا دنکھیا ہے خو اس میں اپیا نام درج کراتے کی دھن سوار ہے؟ قومی خزاتے کی رقم‬
‫اشکالر پیار کراے مگر ان پر تحق تق کی ‪ Ph-D‬کیا اسی کے لئے ہے؟ ساتیس اور پیک نالوچی کی وزارت تے الکھوں روتے خرچ کرکے کبئے‬
‫راہیں پید ہیں‪ ،‬انہیں عصو معطل کی طرح رکھا ہوا ہے‪ ،‬ان کے لئے کونی قیڈز نہیں‪ ،‬وژن رکھئے والوں کی کونی نذپرانی نہیں۔ ”ہمیں کیا ملے‬

‫گا“ بس نہی اہم ہے۔ ملک و قوم کی کسے پرواہ! ہر ضوتے کی اور وقاقی جکومت کے خوالے سے ساہ خرح توں کی ”داسیاتیں“ ہیں لیکن عام‬
‫ی‬
‫آدمی کی زندگی ند سے ندپر ہورہی ہے۔ سادگی کی ناتیں بھی خواب و حیال ہوگتیں۔ علیم پر خرچ اس جکومت کو بھی بسید نہیں۔ وزارت مذہئی‬
‫امور پئی یو ہر سال پڑے اہیمام سے نارہ رپ یع االول کو قومی شیرت کایقربس کا ایعقاد عید میالدالبئی ﷺ کے موفع پر ہونا رہا مگر اب اس کا وہ‬

‫اہیمام بھی گوارا نہیں کیا گیا اور تحٹ کا نہابہ پراش لیا گیا‪ ،‬اس کے سوا کبئے اجالس یورے ظم طراق سے م یعقد کئے گئے۔ می ڈنا کیسی‬
‫جیروں کو تماناں کرنا ہے اور کیسی اہم جیروں کو حھیانا اور دنانا ہے؟ نہی می ڈنا اپیا تے لگام ہے کہ اب استہاروں میں ہیدو اور عیر مسلم‬
‫لڑک توں کو پیم پرہتہ ضرف تیش نہیں کرنا نلکہ ان کے نارے میں نامیاشب جیریں بھی نالحھجک عام کرنا ہے۔ اس می ڈنا کے پزدنک بھی سرم‬
‫ق‬
‫و حیا ساند اب دقیایوسی اور فرسودہ ناتیں ہوگئی ہیں۔ ناکسیان آنی ڈل بھی وہ ین رہے ہیں خو بھارنی لمی گنت گاتے ہیں۔ ناکسیان ساجتہ‬
‫ق‬
‫جیزوں کی ماڈلیگ بھارنی لمی اداکاراؤں سے کروانی جانی ہے۔ انک کرکیر کو بہ کہئے دکھانا جانا ہے کہ ”اب اّٰللہ بھی اوپر سے پیجے آکر مدد نہیں‬
‫کرے گا“۔(معاذ اّٰللہ) می ڈنا کی مب نت کارکردگی یقبیا سراہے جاتے کے الیق ہے مگر م یقی کی بسان دہی کرنا اور انہیں لگام د پیا بھی ضروری‬
‫ہے۔ انہیں ماللہ کی طرف سے ملئے والے مالل پر ک توں جپ لگ جانی ہے؟‬

‫کراچی شہر کو اق یصادی و معاسی اور سیاسی لجاظ سے نہت اہم کہا جانا ہے اور اس شہر کی آنادی و آناد کاری اور ہر طرح اس کے‬
‫معا ملے میں الپرواہی بھی ”دندنی“ ہے۔ کیھی بہ شہر رویفوں اور مچب توں کی میال ہوا کرنا بھا‪ ،‬اب ندجالی میں میالی ہے۔ اس شہر کے ناسیدے‬
‫ا پئے ”سادہ لوح“ ہیں کہ خوف میں بھی نل رہے ہیں۔ اس شہر میں انک مدت سے آپ رے شن جاری ہے‪ ،‬نہاں لوگوں کو پرنا جانا ہے اور‬
‫٭‬

‫پر پئے کے یعد انہیں گوارا نہیں کیا جانا۔ نہاں عدل و ایصاف کے سوا سیھی کحھ وافر ہے۔ ملک ب ھر سے نہاں ہر زنان اور عالقے کے لوگ‬

‫آکر مالزمت اور تجارت کرتے بھے اور خوسی خوسی رہئے بھے مگر اب یقرتیں ہیں اور ان میں سدتیں ہیں‪ ،‬سیاشت کار اور جکمران اس پر نانی‬
‫ُ‬
‫ڈا لئے کی تجاے بیرول ڈا لئے اور مزند بھڑکاتے یظر آتے ہیں۔ کحھ آنادیوں اور لبیڈ ماقیا کی کارسیاپیاں بھی نہاں کم نہیں‪ ،‬اس شہر کو نار نار لونا‬
‫گیا ہے اور بہ سلسلہ بھما نہیں۔ گزشتہ دو تین دہاپ توں میں اس شہر کا مزاج اور ماخول اپیا ندل دنا گیا ہے کہ جاری آپ َرے شن سے اس‬
‫میں کونی مب نت پیدنلی کی امید کم ہی ہے ک توں کہ آپ َرے شن حس طرز اور ڈھیگ سے ہورہا ہے اسے ا حھے القاظ سے یعبیر نہیں کیا جاسکیا‪،‬‬
‫ُ‬
‫ب ھریور آپ َرے شن بہ ہوتے کی وجہ وہی وابسیگیاں‪ ،‬مقادات اور کرپ شن۔ میں نا میرا کونی خرم کرے یو یظر انداز کرو‪ ،‬معاف کرو‪ ،‬دوسرا نا‬
‫ش‬
‫ان کا کونی کرے یو اسے ہر طرح بس ِان عیرت پیادو‪ ،‬نا طح زمین سے زپ ِر زمین بھیج دو۔ پرقیانی کاموں کی نہت گوتج بھی لیکن سیھی تے دنکھ‬
‫لیا کہ کیا ہوا بھا۔ شہر میں عیروں کی یقالی میں انڈر ناسز اور قالنی اوور یو کحھ پیاے گئے لیکن کبئے معیاری ہیں اور کب توں کے لئے ”عذاب“‬

‫ہیں‪ ،‬اخوال کسی سے یوسیدہ نہیں۔ جہاں کہیں یوپرن پید کئے گئے اور جہاں کہیں مبیادل را سئے د پئے یعیر نک طرقہ پریقک کی گئی وہاں جالف‬

‫ورزی اور تے ہیگم پریقک کونی ”عذاب“ ہی لگیا ہے۔ سیگل فری کورے ڈور پیاتے کا جاتے کون سا بسہ بھا کہ ہزاروں کے را سئے پید‬

‫کرد پئے گئے اور ان سڑکوں‪ ،‬خوراہوں نلکہ ہست راہوں پر پریقک کے پرے جال اور پری جال سے روزابہ کبئی جاتیں جارہی ہیں اور کوقت سوا‬
‫ُ‬
‫ہونی ہے۔ نارش ہونی یو سیھی شہر کی جال زار پر حیخ ا بھے۔ رنڈیو کنب کے ڈراؤرز ‪ 32‬گھبئے مسلسل ڈیونی پر مالزمت کرتے ہیں اور ابسانی‬
‫جایوں کی نازی لگئی ہے۔ رہابسی عالقے حید سکوں کے غوض کمرسیل کئے جارہے ہیں‪ ،‬خو جاہے اپئی گلی کو یوگو اپرنا پیالبیا ہے‪ ،‬حبئی جاہے‬
‫اوتجی عمارت پیالبیا ہے۔ دیواریں اوتجی کرنا نا قٹ نابھ گ ھیر لبیا یو ساند کسی سمار ہی میں نہیں‪ ،‬کبئے نارک اور میدان ق یصہ گروپ تے ہڑپ‬
‫لئے‪ ،‬عصب کی ہونی زمین پر جہاں جاہا مسجد نا مدرشہ پیالیا‪ ،‬مسجدوں پر ق یصہ یو نہاں ساند پیکی سمحھ کر کیا جانا ہے۔ کونی ”قایون“ ہو نا کونی‬
‫قایون کا رکھ واال ہو یو قایون کی عمل داری بھی ہو۔ حید جاص سڑکوں کے سِ وا ناقی حھونی پڑی سڑکیں پرسوں یونی رہئی ہیں اگر کیھی پیادی‬

‫جاتیں یو اگلے روز کسی اور مجکمے کے افراد قورا یوڑتے نہیچ جاتے ہیں۔ نازاروں کے کھلئے اور پید ہوتے کے اوقات بھی نہاں من ماتے ہیں۔ کیڈا‬
‫شسیم کہاں کہاں ہے اور کس کی اجازت سے ہے؟ ندکاری اور خوے کے اڈے اور بسہ آور اسیاء کی فروجت بھی بھاری بھئے لے کر کون‬
‫جلوارہا ہے؟ کم ِشن تحیاں اغوا کی جانی ہیں اور زنادنی کے یعد قیل کردی جانی ہیں۔ شیر خوار تجے بھیک ما نگئے کے لئے ”کراتے“ پر د پئے‬
‫جاتے ہیں۔ کسے خرأت ہے کہ لب کسانی کرے؟ اِ س پرپٹ کراتمز میں ہر پئے دن اصاقہ ہونا جال جارہا ہے۔ ہانڈرپٹ کیسے نانی کا اور کیسا‬

‫کارونار کررہے ہیں؟ کیا سیم ہے کہ اب صاف تبئے کا نانی ہر کونی خرند کر جاصل کرنا ہے۔ (سی بیر ساتبئی قک آفیسر ڈاکیر ظاہر رق تق کا کہیا‬
‫ُ‬
‫ہے کہ ‪ 01‬ڈگری نک انال لبئے سے نانی میں پیک تے رناز حیم ہوجاتے ہیں) خرایم میں یولیس کے ملوث ہوتے کی بھی جیریں روز ہی آرہی‬
‫ُ‬
‫( ِسم)پر “‪ ”Sim‬ہیں۔ کربسی کے کارونار کا الگ ہ یگامہ ہے۔ تبیک اور الکرز کبئے مزے اور آسانی سے لوتے جارہے ہیں‪ ،‬مونانل قوپز کی‬
‫بھی قایون کی گرقت نہیں ہورہی۔ گیدگی اور عالظت کے ڈھیر یعفن بھیالرہے ہیں‪ ،‬حفط ِان صحت کی کونی ناس داری نہیں‪ ،‬تجاوزات پر کونی‬
‫س‬
‫ش‬
‫قایو نہیں‪ ،‬آپ رے شن کی اصلنت رین خرز کے مقامی سرپراہ کے پیان ہی سے محھی جاسکئی ہے کہ انہیں احبیارات ضرف کاعذی طح‬
‫نک جاصل ہیں‪ ،‬عملی طور پر نہیں‪ ،‬اس سے اندازہ کیا جاسکیا ہے کہ اتج ِام گلسیان کیا ہوگا۔ کیا بہ ابسایوں کا شہر ہے؟ کیا نہاں کونی‬
‫جکومت ہے؟‬

‫پرسوں سے ملک میں اپرانی نافص پیل کی ”اِ س مگ لیگ“ کھلے عام ہورہی ہے‪ ،‬نہلے بہ ضرف نلوحسیان نک بھی اب ملک ب ھر میں‬
‫ہورہی ہے‪ ،‬اس پیل کی وجہ سے گاڑیوں اور ماخول کا ”ناس“ یو ہو ہی رہا بھا اب اس تے کبئی ابسانی جاتیں بھی لے لی ہیں۔ پیا رکسا ”روزگار‬
‫اِ س کیم“ کے نام سے بھیالنا گیا اس سے پرسوں نہلے پیلی پیک سی بھیالنی گئی بھی۔ ”اناڑیوں“ کے ذر یعے پریقک اور ندجال کی گئی۔ حیگ‬

‫٭‬

‫چی رکساؤں تے خو ماخول پیانا ہے اس پر بھی می ڈنا تے خوب سور کیا۔ سمحھ میں نہیں آنا کہ دابستہ طور پر بہ شب ک توں ہورہا ہے؟ یوبھ فرصہ‬
‫اِ س کیم کے ع توان سے یطاہر قاندہ نہیجاتے کی ناتیں ہونی لیکن کونی ”قاندہ“ م یظر عام پر نہیں آنا۔ کھیلوں کی دپیا بھی ”کرپ شن“ ہی کے‬

‫فصے سیانی ہے۔ کبئے عہدے جالی ہیں اور کیا وجہ ہے کہ موزوں اور سی ھرے لوگ نہیں مل رہے؟ کبئے یفع تحش مجکمے اور ادارے آج‬
‫حسارے اور پیاہی کے شکار ہیں۔ عدال توں کے اجاطے بھی دہست گردی سے محفوظ نہیں۔ اسالم آناد کی ساہ راہ پر انک سحص گھب توں نک ملک‬
‫ن‬
‫کے ”مجافظوں“ کو للکارنا ہے‪ ،‬کیھی ابسا ہی م یظر کسی اور شہر میں روتما ہونا ہے‪ ،‬مطال توں کی کمیل کے لئے تجلی کے کھم توں پر خڑھیا بھی‬
‫انک رسم ہوگیا ہے۔ عدل و ایصاف بہ ملئے پر لڑکیاں سڑک پر کربسی یوٹ جالد پئی ہیں‪ ،‬کیھی خود کو ن ِذر آبش کرد پئی ہیں۔ کیا بہ درندوں کا‬

‫معاسرہ ہے؟ آواز نہی گوتحئی ہے کہ قایون شب کے لئے ہے‪ ،‬قایون کی یظر میں شب نکساں ہیں۔ قی الوافع ابسا ہی ہے یو ملکی دولت لو پئے‬
‫کے الزام واال سحص ناتچ پرس نک ملک کا صدر کیسے رہا؟ اس کا اپیجاب کیسے ہوگیا؟ اسے اعزاز کے سابھ رحصت کرتے کا ”ڈھونگ“ بھی‬
‫انہوں تے رجانا خو اسے الیا ل یکاتے کی ناتیں کرتے بھے‪ ،‬قایون کی عمل داری ہے یو مررموں کو سزا ک توں نہیں ملئی؟ قایون شب کے لئے‬
‫ہے یو سایق قوچی صدر ک توں مزے سے ہے؟ اس مررم پر اب بھی کروڑوں روتے خرچ ہورہے ہیں۔ سچ یو بہ ہے کہ قایون بھی ضرف‬
‫کاعذوں میں ہے‪ ،‬ملک میں کہیں اگر ہے یوبہ ندجالی ک توں ہے؟‬

‫اس ملک میں بہ ایوکھا وافعہ بھی تیش آنا اور نارتخ کا حصہ ہوگیا کہ ”ظالیان“ سے مذاکرات ہوے۔ دیوپیدی وہانی مسلک کے سرکردہ‬
‫”علماء“ تے ا پئے ان ظالیان کو کیھی ”دہست گرد‪ ،‬اپتہا بسید اور ظالم“ نہیں کہا جب کہ دپیاب ھر اور ملک کے جکمران اور سیاشت کار انہیں‬
‫پرسوں سے انہی ع توانات سے ناد کرتے ہیں۔ نامعلوم حتہیں کہا جانا رہا‪ ،‬خو ہالک توں اور دھماکوں کی علی االعالن ذمہ داری ق تول کرتے رہے‬

‫٭‬

‫ہیں‪ ،‬خو آ تین کو بسلیم نہیں کرتے‪ ،‬خو ہیھیار پردار ہیں ان کے علما تے ان سے خو اپیل کی وہ بھی احیارات کی زپ نت پئی۔ بہ لوگ اور اس‬
‫ّ‬
‫کا مین بھی کیھی ضرور موضوع پتیں گے (انہی کے پڑوں تے ناکسیان کے قیام کی مجالفت کی بھی)۔ الل مسجد کے پرفع یوش مالں کو اور کحھ‬

‫نہیں سوحھا یو ”محی ِار کاپیات“ پئی اکرم ﷺ ہی کی سان اور ان کے احبیار کا ایکار کردنا۔ اس نادہیدہ کو می ڈنا تے کورتج دی یو بہ ساند خود کو‬
‫اسالم کا بھیکے دار سمحھ تبیھا‪ ،‬سیھی تے دنکھا کہ اسالم کا جہرہ کن لوگوں تے یگاڑ کر دپیا کو دکھانا‪ ،‬وہ کون ہیں خو دین کے نام پر قیل و عارت‬
‫اور فنتہ و فساد کرتے کراتے ہیں؟ امن و سالمئی کا یصور عدل و ایصاف‪ ،‬احسان اور بھالنی سے وابستہ ہے‪ ،‬دھماکوں اور خون رپزی سے نہیں۔‬
‫بہ مذاکرات کیا وافعی امن قایم کرسکیں گے؟ بہ لوگ ک توں ہیھیار ابھاتے ہوے ہیں؟ جکمرایوں کی نالیسیاں دین اور وطن کے مقاد میں ک توں‬
‫نہیں؟ اس ملک کو ا پئے قیام ہی سے خود محیاری جاصل نہیں رہی۔ نہاں تیش پر جکمرایو ں تے عیروں ہی کی نالیسی کو انہی کی خوش یوی‬
‫کے لئے انہی کا آلہ کار ین کر اپیاتے میں بسر کی ہے۔‬

‫بھارت سے دو حیگیں ہوتیں لیکن ملک کے اندر ہوتے والی حیگوں کی یعداد نہت زنادہ ہے اور سلسلہ جاری ہے۔ لسانی اور عالقانی‬
‫یقرتیں اور یعصیات کی حیگیں بھی نہاں مسلمان کہالتے والوں کا شعارہوگئی ہیں۔ کھلم کھال دین کے جالف اس اسالمی حمہوربہ ناکسیان میں وہ‬
‫کحھ ہوا ہے خو اس طرح ساند ہی کہیں ہوا ہوگا۔ فرآن و جدپث کے جالف درندہ دہئی کی ”پیگمات“ کو کھلی آزادی دی گئی۔ فجاسی‪ ،‬عرنانی اور‬
‫تے حیانی و تے عیرنی نہاں یوں کی گئی حیسے وہ زندگی کے لئے الزمی ہو۔ پڑے پڑے نام میسیات اور اسمگلیگ اور پڑے پڑے خرایم کے‬

‫خوالے سے زنان زد عام ہیں۔ مذہب کے نام پر فرقہ وارابہ کسیدگی کو نہاں جکمرایوں اور سیاشت کار ط یقے تے ا پئے مقادات کے لئے خوب‬

‫بھڑکانا اور پرنا اور فصا کو یقرت آلود کیا۔ سرکاری سرپرسئی میں وہ شب کحھ ہوا خو آج معاسرے کے لئے ناسور ین حکا ہے۔ حید جکمرایوں کے‬
‫ُ‬
‫علط ق یصلوں تے اس ملک سے اس کی نہاریں لوٹ لیں۔ ظالیان نا ان کے ہم یوا خود انہی جکمرایوں کی پیداوار ہیں‪ ،‬عسکرپت بسید ط یقے یونہی‬
‫ی‬
‫نہیں َدن َدناتے رہے۔ سوال بہ بھی ہے کہ قوچی اور سول ادارے اور افراد کو بسابہ پیاتے والے بہ لوگ ملک کے جکمرایوں کے لئے ح لیج‬
‫بھے ب ھر ان سے مذاکرات کا کیا خواز بھا؟ جدند پرین اسلحہ اور شہولیات سے لیس بہ لوگ کس کے پروردہ ہیں؟ بہ ملک یو خوہری یوانانی رکھیا ہے‬
‫الف راے ہے‪ ،‬حبئے موبھ اپئی‬
‫خود اس ملک کا تحفظ ہی داؤ پر لگ گیا۔ کہا گیا کہ کلمہ گو لوگوں کے جالف کاروانی کرتے پر قوج میں احی ِ‬
‫ناتیں۔ بہ شب کیا ہے؟ جدا و رسول کا واشطہ حتہیں دنا گیا ان سے کیھی یوحھا کہ وہ خو کحھ کررہے ہیں کیا جدا و رسول تے ابسا ہی کرتے‬
‫کو فرمانا ہے؟ کیا بہ لوگ خود وہی کحھ کرتے اور کررہے ہیں خو جدا و رسول کا فرمان ہے؟ ملک میں دین کے عملی یقاذ نا اصالح معاسرہ کی‬
‫کوشش کیں اسی طرح ہونی اور کرنی جاہتیں؟ ظالیان کا یعارف کیا ہے؟ حق یفت کیا ہے؟ کیا سچ کیھی آشکار ہوگا؟‬

‫ملک کے وزپر اعظم تے قومی خزاتے کا تے در یغ اسیعمال کرتے ہوے امرنکی صدر سے مالقات کے لئے امریکا کے شقر سے لو پئے‬
‫ہی ب ھر شقر کیا بھا۔ ملکی نکوایوں اور کام و دہن کی لذت کی ناتیں یو خوب ہوتیں لیکن ملکی وقار‪ ،‬خود محیاری اور معیست کی نہیری کے خواب‬

‫٭‬

‫ادھورے ہی رہے۔ پرکی‪ ،‬حین اور جاتے کن کن ممالک سے کیا کیا امیدیں وابستہ کی گتیں۔ جدا یعالی کے پیدے جدا یعالی ہی کے پیدے‬
‫نہیں تبئے‪ ،‬نارگ ِاہ الہی میں رخوع نہیں کرتے۔ تجلی‪ ،‬نانی حیسی تبیادی ضرورتیں یوری کرتے کے لئے ملک میں نہیرین صالحب توں والے موخود‬

‫ہیں لیکن پرحیجات کحھ اور ہیں ……؟ پیک نالوچی کا اخوال بھی دنکھا کہ مالے سیا کا ‪ 22‬مبیر لمیا طیارہ ‪ 320‬مسافروں سمنت دو ہقئے نک‬
‫َ‬
‫معما پیارہا کہ تررپب کاری ہونی نا جادبہ تیش آنا؟ ڈپڑھ ارب ڈالرز کے لئے بھی فساتے سیاے گئے۔ اپیکرز می ڈنا پر ا پئے راگ اال پئے رہے اور‬
‫جکمران اپئی یولیاں یو لئے رہے۔ ملک و قوم کے پ توناری خو بھہرے‪ ،‬خو جاہیں کریں۔ کہئے ہیں ُسدھار وہی جاہیں گے حتہیں بہ اعیراف ہوگا کہ‬
‫س‬
‫وہ درشت نہیں۔ نہاں یو سیھی ا پئے زعم میں خود کو جاتے کیا محھے تبیھے ہیں۔‬
‫َ‬
‫ب ھر کے عالقے کو صررا اور ح یگل بھی کہا جانا ہے۔ ‪ 083‬ارب ین کو نلے کی موخودی کی وجہ سے اس حطے کو نہت اہم بھی سمحھا‬
‫َ ّ‬
‫جانا ہے۔ ب ھر کے اس صررا کا ساند تیس ق یصد ناکسیان میں ہے‪ ،‬اسی ق یصد بہ صررا بھارت میں ہے اور سر شیز ہے۔ قی ِام ناکسیان سے اب‬
‫نک اس حطے کے ناستوں کو تبئے کا وہ نانی بھی مہیا نہیں کیا جاشکا خو اپیا مضر بہ ہو کہ خوانی ہی میں معذور پیادے۔ حسک سالی کے شکار ان‬

‫٭‬

‫لوگوں کو بھوک کا مداوا کرتے کے تجاے حید میل کے قاصلے پر اریوں روتے خرچ کرکے حسن میانا گیا وہ بھی اس جگہ پر جہاں عذاب نازل‬
‫ہوا بھا۔ گیدم کا ذجیرہ بھا لیکن بھوک سے جاتیں نلف ہونی رہیں۔ اپئی عقلت اور کوناہی کا اعیراف بھی جکمرایوں کو گوارا بہ ہوا‪ ،‬ماؤں کی‬
‫ُ‬
‫گودیں اخڑنی رہیں اور جکمران داد غیش د پئے رہے۔ میاپرین کے سابھ قویو سے شن کے لئے جاتے کبئے گئے مگر بھوک اور موت کا بسلسل‬

‫اسی طرح رہا۔ عدل اور ایصاف کا ذکر ہی کیا‪ ،‬ابساپ نت ہی کے یقاصے بھی کیا اس معاسرے میں نہیں رہے؟ کیا وجہ ہے کہ مسانل خوں‬
‫ی‬
‫کے یوں ہیں؟ ط یقانی قسیم اور وڈپرا ساہی کے میاطر یو ہر لمجے یظر آتے ہیں۔ بہ ملک کیا ضرف حید افراد کی ملکنت ہے؟‬
‫م ِاہ مررم ان مہب توں میں سے ہے جن کی عزت و خرمت سروع سے ہے۔ پرعطیم ناک و ہید میں اس ماہ کے لئے نہلے عسرے اور‬
‫ی ِوم عاسورا کو حصوصی اہیمام سے میانا جانا ہے۔ اہ ِل سنّت بھی مجالس م یعقد کرتے ہیں اور لحیم کے نکوان پیار کرتے ہیں‪ ،‬نانی اور سرپت کی‬
‫سبیلیں لگاتے ہیں۔ اہ ِل بسیع کا اپیا طریقہ ہے اور پرسوں سے وہ ماتمی جلوس اور اپئی دنگر رسمیں ادا کرتے ہیں۔ انہوں تے جلوس کے را سئے‬
‫کحھ اس طرح اپیا لئے ہیں کہ ان میں معمولی سی پیدنلی بھی انہیں گوارا نہیں‪ ،‬ہر سال جلوسوں کی یعداد میں اصاقہ ہونا جال جارہا ہے اور مسانل‬
‫٭‬

‫بھی پڑھئے جلے جارہے ہیں۔ ضورت اخوال کحھ بہ ہے کہ ان مقدس مہب توں کا بہ ضرف یقدس نامال ہورہا ہے نلکہ ان مہب توں کے سروع‬
‫ہوتے ہی فساد اور کسیدگی کا خوف ظاری ہوجانا ہے۔ گزشتہ پرس بھی راول پیڈی کے راجا نازار میں ی ِوم عاسورا کے جلوس میں خو کحھ ہوا‪ ،‬وہ‬
‫نہت سرم ناک اور الم ناک بھا۔ جاتے کہاں سے رسواے زمابہ پزند نلید کے جامی تمودار ہو گئے ہیں اور اس دس ِمن اہ ِل پ نت کی یعریف و حماپت‬
‫ع‬
‫اب پ توی رضوان اّٰللہ لتہم احمعین کے جالف اور دیوپیدی وہانی‬
‫کرکے اّٰللہ یعالی اور رسول اّٰللہ ﷺ کو اذ پت نہیجاتے ہیں۔ سیعہ مجاقل میں اصج ِ‬
‫ُ‬
‫احیماعات میں پزند نلید کی حماپت نلکہ اسے حبئی فرار د پئے کی ناتیں اسیعال اور فنتہ و فساد کا سنب تبئی ہیں۔ مدارس و مساجد سے سیگ ناری‬

‫اور قاپرنگ یقبیا افسوس ناک اور ان مقامات کے یقدس کے میاقی ہے۔ مذہئی پ توہار ہی کیا نہاں یو تم ِاز حیازہ میں دھماکے اور قاپرنگ کے وافعات‬
‫روتما ہوے۔ مزارات اور مساجد میں دھماکوں پر مررموں سے جکمرایوں کی عقلت ا بسے وافعات کا سدناب نہیں ہوتے د پئی۔ سیعہ وہانی بہ‬
‫سدت بسیدی بھی جکمرایوں ہی کی علط کارکردگی اور ناایصاقی کے ناعث ہے اور اس میں سیاشت کار ط یقے کی ربسہ دواپیاں بھی سامل ہیں۔ اسی‬
‫ملک میں وہ وقت بھی بھا کہ تجے نک مررم‪ ،‬رپ یع االول اور رمصان کے مقدس مہب توں کا اپ یطار کرتے بھے اور محنت و عقیدت کا سماں ہر‬
‫طرف ہونا بھا۔ امن و محنت کے اس ماخول کو حیم کرتے والے ”نامعلوم“ نہیں لیکن جکمرایوں اور سیاشت کاروں کی نالیسیاں ضرور‬
‫”نامعلوم“ ہیں۔‬

‫ی ِوم عاسورا میں ہوتے والے اس سا تجے کے یعد می ڈنا پر مذہئی جلوس اور الؤڈ اسبیکر کے خوالے سے طرح طرح کی ناتیں ہوتے لگیں۔ پیڈی‬
‫کے اس مدرسے کی ”داسیان“ یو موضوع نہیں پیانی گئی النتہ مذہئی احیماعات اور جلوسوں پر ناپیدی کے مطا لئے کئے جاتے لگے۔ ظاہر سی‬
‫نات ہے کہ ”اسالمی حمہوربہ ناکسیان“ میں عذاب نازل والی جگہ پر اریوں روتے خرچ کرکے ناچ گاتے‪ ،‬سراب و سیاب اور خراقات ہی‬
‫مطلوب و مرغوب ہوگی‪ ،‬پیم پرہتہ لڑک توں کی ”کنٹ واک“ اور حیحئے حیگھاڑتے والے م توزک سوز ہی بسیدندہ ہوں گے۔ اس ملک میں دین و‬

‫مذہب کے میاقی سدند ناتیں کرتے اور فجاسی و تے حیانی بھیالتے والوں ہی کی وجہ سے تے امئی اور ابیری کا بہ اخوال ہمیں دنکھیا پڑرہا ہے۔‬

‫نہاں ہر کونی مہ یگانی‪ ،‬مالوٹ‪ ،‬گیدگی‪ ،‬کرپ شن اور حعل سازی وعیرہ کا رونا رو رہا ہے لیکن کونی بھی ان خراپ توں میں اپیا حصہ‬

‫٭‬

‫سمار نہیں کررہا۔ یقرپیات اور زندگی سے سادگی اور میاپت کو خود لوگوں تے حیم کیا ہے‪ ،‬فصول خرچی اور دکھاوے کو زندگی کا حصہ خود لوگوں تے‬
‫پیانا ہے۔ پراپ توں کے جالف ہمیں احیجاج بسید نہیں‪ ،‬پراپ توں کے جالف ہم دیوار نہیں تبئے‪ ،‬رسوت دے کر اپیا کام یکالیا ہی ہمارا ستوہ ہوگیا‬

‫رسوت کے نارے میں علماے اسالم تے واصح کیا ہے کہ‪” :‬خو پرانا خق دناتے کے لئے دنا جاے‪ ،‬رسوت‬
‫ہے۔ یوں ہی خو اپیا کام پیاتے کے لئے جاکم کو دنا جاے‪ ،‬رسوت ہے۔ لیکن ا پئے اوپر سے دفع ظلم کے لئے خو کحھ دنا جاے‪ ،‬د پئے والے‬
‫کے خق میں رسوت نہیں‪ ،‬بہ دے سکیا ہے لیکن لبئے والے کے خق میں وہ بھی رسوت ہے اور اسے لبیا خرام ہے۔“ کبئے ادارے اور مجکمے‬
‫ہے۔ ب ھر واونال ک توں؟‬

‫ہیں کہ یعیر رسوت کے وہاں لین دین ہی نہیں۔ خرام لبئے د پئے والے وقئی طور پر کام یکال لبئے ہیں لیکن اس کے اپرات و مضمرات سے‬
‫ا پئے دویوں جہان خراب کرلبئے ہیں۔ خرام کھاتے والے ہی تے حسی اور تے حیانی پر راعب ہوتے ہیں۔ حھوٹ اس معاسرے میں یوں َرچ‬
‫بس گیا ہے حیسے زندگی کا الزمہ ہو اور اس کے یعیر گزارا ہی نہیں ہوسکیا ہو۔ سادی پیاہ کی فصول رسمیں ہمیں جاتے ک توں اپئی مرغوب ہوگئی‬
‫ہیں؟ َمردوں تے غوریوں کے سے لیاس اور نال اپیا لئے ہیں‪ ،‬زیور نہبیا سروع کرد پئے ہیں۔ یعیر یونی کے تماز پڑھیا رواج ہونا جارہا ہے‪ ،‬دعا کے‬
‫لئے ادب اور عاخزی سے ہابھ ابھانا اور بھیالنا ساند ناگوار گزرنا ہے۔ یوکری اور ڈیونی پر وقت پر آنا اور یورا کام کرنا ک ِسر سان سمحھا جاتے لگا ہے۔‬
‫م‬
‫صدق مقال اور اکل جالل (سچ کہیا اور اور جالل کھانا) اہم نہیں رہا۔ انک ربستورپٹ میں کھاتے کے لئے جاتے والے تے اس ظعم کے مالک‬
‫م‬
‫سے یوحھا کہ کھانا جالل ملے گا؟ ظعم والے تے خواب دنا کہ یقبیا نہاں کھانا جالل ہے اور میں امید کرنا ہوں کہ آپ اس جالل کھاتے کے‬
‫لئے خو ادا کریں گے وہ بھی جالل ہوگا یعئی آپ کی کمانی بھی جالل ہوگی۔ ہمارے گ ھروں اور ماخول میں ہر طرح کی گیدگی ہماری اپئی ہی پیدا‬
‫کردہ ہے۔ صقانی کو یصف اتمان کہئے والے ہی صقانی بسید نہیں۔ سو آف (دکھاوے) تے ہمیں وقار اور سادگی سے مرروم کردنا ہے۔ اپئی زندگی‬
‫خود ہم تے مسکل اور خراب کرلی ہے۔ خرام اور جالل کی تمیز ہم خود حیم کرتے جارہے ہیں۔ جکمران بھی ہم ہی میں سے ہیں اور ہر خرانی‬
‫کے ہم شب ہی ذمہ دار ہیں۔ پرانی اور خرانی پر جاموسی اس خرانی و پرانی پر راصی ہونا ہے۔ اور نہی ہورہا ہے۔‬

‫ّ‬
‫اہ ِل سنّت و حماعت نا عام لوگوں میں اہ ِل سنّت والحماعت کے القاظ و القاب سروع ہی سے ضرف سئی پرنلوی لوگوں کے لئے‬
‫ُ‬
‫سئے جاتے بھے لیکن اب دیوپیدی وہانی گروہ ”اہ ِل سنّت والحماعت“ نام سے اپیا یعارف جاہ رہے ہیں اور انہوں تے گونا کونی ”پ یطیم“ بھی‬
‫٭‬

‫اس نام سے پیالی ہے۔ اگر بہ نام ”رحسیرڈ“ ہوا ہے یو کیسے ہوگیا؟ رحسیربسن والے یو کونی احیار‪ ،‬رسالے‪ ،‬خرندے اور ادارے کا نام القاظ کے‬
‫واصح فرق کے یعیر م یظور نہیں کرتے ب ھر انہوں تے کسی پ یطیم کے نام کو واصح فرق کے یعیر کیسے م یظور کرلیا؟ اسے تے احبیاطی‪ ،‬عیر ذمہ‬

‫داری نہیں یقبیا سازش اور سرارت ہی کہا جاے گا۔ می ڈنا پر اس ”پ یطیم“ کی نالحیر کورتج تے اس پ یطیم کا اصلی یعارف یو کرواہی دنا ہے اور‬
‫غوام کی اکسرپت تے انہیں نہجان بھی لیا ہے‪ ،‬لیکن اپ یطامتہ کی طرف سے اس سازش کو ک توں ق تول کیا گیا؟ صحیح العقیدہ اہ ِل سنّت و‬
‫حماعت تے اس پر ابھی نک ضروری قایونی جارہ خونی ک توں نہیں کی؟‬

‫ہمیں اس موفع پر صحیح العقیدہ اہ ِل سنّت و حماعت کے ہر فرد سے نہی کہیا ہے کہ وہ خواب عقلت سے پیدار ہوکر اپئی اتمانی‬
‫ّ‬
‫مسلکی ذمہ داری کا احساس کرے اور دھڑے پیدیوں کو حیم کرکے حماع ِت اہ ِل سنّت کو مصتوط اور م یظم کرتے میں فعال ہو۔ ہر سئی کو‬
‫ّ‬
‫سبّ توں کے لئے ”مچیسب“ دنکھا جارہا ہے لیکن اس کا بہ مطلب نہیں ہونا جا ہئے کہ ا پئے ا پئے مزاج اور ّرویوں کی وجہ سے ہر سئی یونہی‬

‫دوسروں سے ناالں رہے۔ اہ ِل سنّت یوں ہی نکھرے رہے یو عیروں کی نلعار کا مقانلہ نہیں کرسکیں گے‪ ،‬عقاند میں یصلب ضروری ہے۔‬
‫ّ‬
‫دنگر کمزوریوں کی اصالح کا سامان کیا جاے‪ ،‬لیکن اخوال دگر گوں ہیں۔ حعلی بیروں اور علط نایوں کا قلع قمع کرتے کے لئے ہر سئی کو ب ھریور‬

‫کردار ادا کرنا ہوگا۔ علما و مساتخ میں وہ لوگ خو تے جا تح توں میں الحھ رہے ہیں انہیں اپئی اس روش کو پرک کرد پیا جا ہئے۔ اّٰللہ یعالی کے آخری‬
‫اور شب سے پیارے پئی ﷺ ناع ِث تجل تق کاپیات ہیں اور اّٰللہ یعالی تے انہیں ساری کاپیات سے نہلے ا پئے یور سے پیانا‪ ،‬وہ اس وقت بھی پئی‬
‫الن پ توت سے قیل نالفوۃ اور نالفعل پ توت کی تحث الجاصل اور فصول ہے۔ ان پر مہِر پ توت پیدا ہوتے ہی لگانی‬
‫بھے۔ رسول اّٰللہ ﷺ کے لئے اع ِ‬
‫ج‬
‫ب‬
‫الن پ توت کے یعد نہیں۔ ل یقہئ رسول سیدنا ایونکر الصدیق رصی اّٰللہ عتہ نالشتہ تب توں رسولوں کے یعد افصل الیسر ہیں۔ حضرت‬
‫گئی ھی‪ ،‬اع ِ‬
‫سیدنا امیر معاوبہ رصی اّٰللہ عتہ نالشتہ صجانی رسول ہیں۔ حضرت سیدنا غوث اعظم رصی اّٰللہ عتہ نالشتہ اولیاء کے سردار ہیں اور ان کا قدم میارک‬
‫تمام اولیاء کی گردن پر ہے۔ اگر آج کونی انک نا حید علما و مساتخ ان نایوں سے ایقاق نہیں کرتے یو ان سے نہی عرض ہے کہ وہ اپئی تحق تق‬
‫س‬
‫خرف آخر“ بہ محھیں۔ فرآن کریم میں واصح ارساد ہے ”وقوق کل ذی علم علیم “ (یوشف‪ )02 :‬اور ہر علم والے سے‬
‫اور ا پئے دالنل کو ” ِ‬
‫ع‬
‫اوپر انک عالم واال ہے۔ اور بہ لوگ احماع کے جالف ناتیں کرکے امت کو پربسان بہ کریں‪ ،‬ا بسے لوگ اپئی ابسی تحق تق سے اپئی لمی دھاک‬
‫پیھاتے نا کونی مرپتہ و مقام ناتے میں ہر گز کام ناب نہیں ہوسکیں گے‪ ،‬ان لوگوں کی ابسی تحق تق خود ان لوگوں اور امت کے لئے کسی یفع‬
‫و یواب کا موجب نہیں‪ ،‬بہ ہی امت کو ابسی تحق تق کی کونی ضرورت ہے۔‬

‫حماعت ِ اہ ِل سنّت ‪0032‬ء میں ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ تے پیانی بھی۔ وہی پتہا اس کے نانی‬
‫ب‬
‫رون ملک کارہاے تماناں اتجام د پئے۔ اپئی ‪ 33‬پرس کی مح یضر سی عمر میں‬
‫بھے اور امیر اول ھی۔ انہوں تے اس کے لئے ملک ب ھر اور بی ِ‬
‫ی‬
‫انہوں تے صدیوں کے کام کئے اور پتہا وہ جدمات اتجام دیں خو کئی ادارے اور پ طیمیں مل کر نہیں کرناتیں۔ انہوں تے خود کو جاہ و حسم اور‬
‫٭‬

‫عہدہ و م یصب سے الگ رکھا اور ضرف کام سے شعف رکھا۔ انہیں ق تولنت عام جاصل ہونی اور ان کی محنت سے الکھوں افراد آج بھی اسیقادہ‬
‫کررہے ہیں۔ اس حماعت کو آج م یظم اور فعال کرتے میں ہم شب کو سرگرم عمل ہونا جا ہئے۔ حماعت ِ اہ ِل سنّت کے سرکردہ افراد کو غوام‬
‫اہ ِل سنّت کو اتیسار و اقیراق سے تجاتے اور تے جا تح توں کے سدناب کے لئے اپئی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوے قوری اور ضروری‬
‫ع‬
‫کارروانی کرنی جا ہئے۔ م یفقہ د پئی‪ ،‬لمی اور سیاسی قیادت بہ ہوتے سے شیرازہ پیدی نہیں ہورہی۔ مبیازع امور اور افراد کے خوالے سے کونی‬
‫م یفقہ موفف نہیں‪ ،‬ہر کونی اپئی نات کررہا ہے۔ وہ ناتیں خو مکا لمے اور مذاکرے سے پید کمرے میں جل ہونی جا ہئے وہ سڑکوں اور خوراہوں پر‬

‫موضوع پئی ہونی ہیں اور طرح طرح کی مط توعات سا مئے آرہی ہیں۔ ناداپ توں اور کوناہ توں پر پروقت یوجہ بہ کی جاے یو نہت یفصان ابھاتے‬
‫پڑتے ہیں۔ اہ ِل سنّت کی مساجد پر ق یصہ کرنا دیوپیدی وہاپ توں کا ظالمابہ شعل ہے اور اب وہ کھلے عام اسلجے کے زور پر بہ کام کرتے لگے‬
‫ہیں۔ حماع ِت اہ ِل سنّت کو اس نارے میں قوری ضروری اقدام ابھاتے جاہتیں۔‬

‫ّ‬
‫سئی پرنلویوں کو جا ہئے کہ وہ اپئی بسلوں کو ندعقیدگی اور گم راہی سے تجاتے کے لئے جدوجہد کریں۔ الیک پرانک می ڈنا پر گمراہی کے‬

‫لئے عیروں تے پیجے حماے ہوے ہیں‪ ،‬وہ جالل و خرام اور جاپز و ناجاپز سے تے پرواہ ہوکر اپئی ربسہ دواپ توں میں مسعول ہیں۔ اِ دھر اس ملک‬
‫ُ‬
‫میں قومی زنان ”اردو“ کو دھیرے دھیرے رحصت کیا جارہا ہے۔ قومی اسمیلی ہو نا ضونانی سیھی میں انگرپزی کو بیزی سے جگہ دی جارہی ہے۔‬
‫ُ‬
‫ع‬
‫ق‬
‫ع‬
‫لمی اور لمی دپیا میں اردو کبیا دم لے گی؟ آسیایوں اور جایقاہوں میں ”خوہر قانل“ تمودار نہیں ہوں گے یو آ پیدہ بسلوں کو لمی اور روجانی‬
‫وراپت کیسے مب یقل ہوگی؟ مساجد و مدارس میں مبیر و مصلی اور مسید ندربس پر کون پراحمان ہوں گے؟ حماعت ِ اہ ِل سنّت کو ایقالنی کار‬
‫ّ‬
‫گزاری تیش کرنی جا ہئے اور سئی پرنلویوں کو اس وقت اتجاد و ایقاق کا میالی مطاہرہ کرنا جا ہئے۔‬

‫گزشتہ سماروں میں بھی جکمرایوں کو ناور کراتے کی کوشش کی گئی کہ مذہئی فرقہ وارپت میں جکمرایوں اور سیاشت کاروں کی دجل‬

‫٭‬

‫اندازی اور جاپب داری حیم بہ ہونی یو اس کے سدند یفصان ہوں گے۔ احیاروں میں کبئے کالم سا یع ہوے کہ کون کون سے ممالک ناکسیان‬
‫ّ‬
‫مل‬
‫واج ناکسیان میں سئی پرنلوی علماء‬
‫میں فرقہ وارپت کے لئے مالی امداد کرتے رہے ہیں‪ ،‬کیا جکمرایوں کے لئے کی اسیحکام اور امن اہم نہیں؟ اق ِ‬
‫اور ان کی کنب ک توں م یظور نہیں کی جاتیں؟ جکمران ا پئے اقیدار کے تحفظ کے لئے مذہئی سیاسی گروہوں سے اتجاد کرتے ہوے ان کو کھلی‬
‫ُ‬
‫حھوٹ د پئے ہیں یو وہ جکومت کے لئے پربسر گروبس ناپت ہوتے ہیں اور یوں جکومت کی جاپب داری اور سرپرسئی سے فرقہ وارابہ کسیدگی میں‬
‫اصاقہ ہونا جال جانا ہے‪ ،‬حمہورپت کا دم ب ھرتے والے ملک کی اکیرپئی آنادی کو ان کے حفوق سے مرروم کرکے نلحیاں ہی پڑھاتے ہیں۔ فنتہ‬
‫گروں کو یو کحھ نہیں کہا جانا‪ ،‬خواب د پئے والوں کو َدھر لیا جانا ہے۔ جکمرایوں سے عدل و ایصاف بہ ملئے پر غوام میں اسیعال کی آگ بھڑکئی‬
‫ع‬
‫ہے اور معاسرنی امن پیاہ ہونا ہے۔ واصح رہے کہ حس قدر یقرتیں‪ ،‬صتبتیں اور سدتیں سیاشت کاری سے ہورہی ہیں اپئی کسی اور وجہ سے‬

‫نہیں ہوتیں۔ نہاں سیاشت اور حمہورپت ا پئے ذانی اور گروہی مقادات کے حصول اور تحفظ کا نام ہے‪ ،‬غوام کی قالح و نہ تود کا ہر گز نہیں۔‬

‫موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) کی طرف سے ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرحمہ کی شہرہئ آقاق کیاب تماز میرحم‬
‫ی‬
‫کے انگرپزی پرحمہ میں قارتین کی طرف سے بسان دہی پر از سر یو ضحیح کرکے دونارہ اساعت کی گئی۔ حضرت قیلہئ عالم کی کیاب ”یواب‬
‫ی‬
‫العیادات“ کے انگرپزی پرحمہ کی بھی ضحیح کے یعد جدند اساعت ہونی۔ حضرت حطنب ِ اعظم کی ساہ کار یصب یف ”ذ ِکر حمیل“‪” ،‬س ِام کرنال“‬
‫ی‬
‫ُ‬
‫اور ”ای ِوار رسالت“ کی تررتج و ضحیح کے یعد اردو کم پ توپر سے کم یوزنگ کے سابھ جدند طیاعت کا اہیمام ہوا۔ اس سے قیل بہ کنب پرسوں نہلے‬
‫٭‬

‫کی گئی کیاپت (دسئی حطاطی) میں سا یع ہونی رہی بھیں۔‬

‫گزشتہ پرس عرس سریف میں آتے والے اور اس وقت سے اب نک ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ کے مزار‬
‫ُ‬
‫ات تحسین ہی سئے گئے۔ حطنب ِ ملت حضرت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی تے‬
‫سریف کی زنارت کرتے والے ہر سحص سے یفصلہ یعالی کلم ِ‬
‫ن‬
‫ا پئے والدین کرتمین کے مزار سریف کی یعمیر و کمیل اور پزتین و آرابش میں اپئی محنت و عقیدت کا خوب خوب مطاہرہ کیا ہے۔ مزار سریف‬
‫کی عمارت کے اطراف لوہے کی خوش تما جالی بھی لگادی گئی ہے۔ می ڈنا کی مشہور اور ہر دل عزپز سحصنت ڈاکیر عامر لیاقت حسین اپئی اہلتہ‬

‫٭‬

‫اور تجوں کے سابھ مزار سریف پر بسریف الے اور یعمیر و پزتین کو نہت زنادہ سراہا۔ ان کا کہیا بھا کہ وہ اسی جگہ انک پروگرام رکارڈ کریں گے۔‬
‫مزار سریف کے یعونذ کا کام مارنل مارکنٹ کے حیاب محمد الیاس کی معرقت حیاب ذوالفقار علی کو یومیر ‪3102‬ء میں دنا گیا بھا‪ ،‬انہوں تے‬
‫ن‬
‫از خود ناتچ ماہ میں کمیل کا وعدہ کیا بھا لیکن طرح طرح کی مسکالت کا عذر کرکے انہوں تے پیدرہ ماہ کا عرصہ گزار دنا اور اب بھی وہ مزند‬
‫وقت کا یقاصا کررہے ہیں۔ ان ساء اّٰللہ یعالی یوفع ہے کہ ‪ 20‬ویں ساالبہ عرس میارک کی یقرپیات نک یعونذ بھی پیار ہوجاے گا۔‬

‫حمعہ‪ 03 ،‬اپرنل ‪3102‬ء کو احیماع حمعہ سے قیل جامع مسجد گل ِزار حب نب کے اطراف نگرانی کرتے والے یوخوایواں کو مسجد‬
‫کے مبیر کے پیحھے انک مسنتہ بھیلی یظر آنی‪ ،‬جاتحئے والے آلے تے بھی بسان دہی کی‪ ،‬اس بھیلی میں نایم یم یصب بھا اور حطتہئ حمعہ کا‬
‫وقت اس یم میں لگانا گیا بھا۔ یوخوایواں تے قورا یولیس اور ”یم ِڈس یوزل اِ س کواڈ“ سے رایطہ کیا اور حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی‬
‫٭‬

‫اوکاڑوی کی آمد سے قیل اسے ناکارہ پیادنا گیا۔ الیک پرانک می ڈنا والوں تے اسی وقت اس کی بشہیر کردی بھی‪ ،‬دپیا بھر سے حضرت حطنب ِ‬

‫ملت عال مہ کوکب یورانی اوکاڑوی کی جیر و عاق نت جا پئے کے لئے قون کالز کی ب ھرمار ہوگئی۔ اّٰللہ یعالی کا تے پیاہ سکر کہ حضرت حطنب ِ ملت‬
‫عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی محفوظ رہے اور بہ سازش و سرارت ناکام ہونی۔ احیارات میں اس جیر کی اساعت کے یعد کئی دن نک احیاب اور‬

‫عقیدت مید حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی کی جیرپت معلوم کرتے آتے رہے۔ ممیاز اشکالر اور می ڈنا کی عالمی شہرت ناقتہ‬

‫سحصنت ڈاکیر عامر لیاقت حسین تے ح تو نی وی سے حصوصی پروگرام پیلے کاشٹ کیا‪ ،‬حضرت حطنب ِ ملت تے اپیا کونی جلسہ مل توی نا میسوخ‬
‫ن‬
‫رسول کریم ﷺ کا ذکر میارک آخری سابس نک کرتے رہیں گے۔ جکمرایوں‬
‫ہیں کیا اور اسی عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ان ساء اّٰللہ ا پئے پیارے ِ‬
‫تے اس وا فعے کو بھی معمول کا جادبہ سمحھا اور کونی کارروانی نہیں کی۔ یولیس تے یم کی بسان دہی کرتے والے یوخوان کو تجاس ہزار روتے‬
‫ایعام دنا‪ ،‬اس یوخوان تے وہ رقم مسجد کو ہدبہ کردی۔‬

‫حضرت ح ب ِ م ت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی نال تہ عیر یازع سح ت ہیں۔ کسی طرح بھی ّ‬
‫مروجہ سیاشت اور کسی نارنی سے‬
‫صن‬
‫طن ل‬
‫ش‬
‫مب‬
‫ان کا کونی یعلق نہیں۔ م یعدد مرپتہ انہیں وزپر و مسیر کے عہدوں کی تیش کش ہونی مگر انہوں تے کونی عہدہ ق تول نہیں کیا اور واصح طور پر‬
‫کہا کہ وہ حھوٹ نہیں یول سکئے‪ ،‬بہ ہی میاففت کرسکئے ہیں۔ کراچی یونی ورسئی کے سبیڈی کنٹ کی رکب نت کی تین مرپتہ تیش کش ہونی۔‬
‫ع‬
‫انہوں تے یو حماعت ِ اہ ِل سنّت میں بھی م یعدد مرپتہ تیش کش کے ناوخود کیھی کونی عہدہ ق تول نہیں کیا۔ ان کی شہرت ہی جالص لمی‬
‫خوالے سے ہے‪ ،‬وہ تررپر و تحق تق اور حطاپت میں مسعول رہئے ہیں۔ یفصلہ یعالی انہیں جاص و عام میں مق تولنت جاصل ہے۔ ا پئے دھیمے‪،‬‬

‫ع‬
‫مبیھے لہجے اور مدلل لمی گقیگو کے خوالے سے الیک پرانک می ڈنا میں وہ شب سے زنادہ بسیدندہ ہیں۔ خق گونی و تے ناکی انہیں ا پئے ناکمال‬
‫والد ِ گرامی رحمۃ اّٰللہ علتہ سے ورتے میں ملی ہے۔ دپیا ب ھر کے تجاس سے زنادہ ممالک میں انہوں تے میالی جدمات اتجام دی ہیں۔ ان کی‬
‫مق تولنت سے جایف لوگوں کی اس سازش پر جکمرایوں کی تے یوجہی افسوس ناک ہے۔‬
‫ُ‬
‫ن‬
‫ی‬
‫ب‬
‫ک‬
‫ی‬
‫گ‬
‫م‬
‫ن‬
‫ع‬
‫جامع مسجد ل ِزار حب نب کی بیرونی جار دیواری خو د گر عمارنی ل کے یعد پیانی جانی ھی‪ ،‬اس جادتے کے قورا یعد اس کی میر کا‬

‫ج‬
‫رسول اکرم ﷺ‬
‫آعاز کردنا گیا اور مسجد اور تمازیوں کے تحفظ کے لئے ضروری ندابیر احبیار کی گتیں۔ اّٰللہ یعالی ل سابہ ا پئے پیارے اور آخری ِ‬
‫کے صدقے حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی کی حقاظت فرماے‪ ،‬انہیں صحت و ین درسئی کے سابھ سالمت ر کھے اور ان کے‬
‫ذر یعے نادپر اپئی مجلوق کو یفع کبیر نہیجاے۔ آمین‬

‫ن‬
‫ممیاز اشکالر اور می ڈنا میں بسیدندگی کی نلیدیوں پر ہیحئے والے ڈکیر عامر لیاقت حسین تے حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی‬

‫٭‬

‫اوکاڑوی کی روزنامہ حیگ کے انڈبسیز میں جار نادگاری تررپروں کی اساعت کی‪ ،‬ی ِوم عاسورا کے انڈبسن میں ”جدپث فسطن طی پتہ“ کے خوالے‬
‫ح‬
‫سے ت ق یقی مقالہ ”حق یفت ِ اندی ہے مق ِام سبیری؛ ند لئے رہئے ہیں انداز کوقی و سامی“ کے ع توان سے سا یع ہونی۔ جل یقہ دوم امیر المومتین‬
‫سیدنا عمر قاروق رصی اّٰللہ عتہ کے ی ِوم شہادت پر ”شہید مرراب و مبیر“ کے ع توان سے اور نارہ رپ یع االول کو عید میالدالبئی ﷺ میاتے کے‬
‫خوالے سے دالنل سے ب ھریور تررپر ”حس شہانی گھڑی حمکا طنتہ کا جاند“ کے ع توان سے سا یع ہونی اور حیگ میگزین میں انک مضمون یعت‬

‫سریف اور اس کے آداب کے خوالے سے سا یع ہوا۔ ان تررپروں کو نہت سراہا گیا۔‬
‫ْ‬
‫ع‬
‫ی‬
‫ی‬
‫٭‬
‫ات حمعہ میں قسیر فرآن کا پیان سروع فرمانا‬
‫ہمارے ق لہئ عالم حضرت حطنب ِ ا ظم رحمۃ اّٰللہ علتہ تے کراچی آمد کے یعد احیماع ِ‬
‫بھا‪ ،‬یفصلہ یعالی ‪ 38‬پرسوں میں انہوں تے سورہئ یوبہ کی اپیدانی آنات نک مسلسل یقسیِر فرآن پیان فرمانی۔ ان کی رجلت کے یعد حضرت‬
‫حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی تے سورہئ یوبہ سے اب نک ‪ 21‬پرس میں سورۃ الحج نک کی مسلسل یقسیر پیان کی ہے اور اب سورۃ‬
‫الموم تون نارہ ‪ 08‬کی یقسیر کا پیان جاری ہے۔ اّٰللہ یعالی انہیں اپئی جاص رحم توں پرک توں سے یوازے اور وہ یورے فرآن سریف کی یقسیر پیان‬
‫فرماتیں۔‬

‫ُ‬
‫ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ کی نادگار یصب یف ”یعارف علماے دیوپید“ کا اردو مین گررانی اِ مال میں الجاج‬
‫عالم رسول رنگ مرخوم انڈبیر روزنامہ ملت گررانی‪ ،‬کراچی تے پرسوں نہلے مب یقل کیا بھا۔ حمعنت اساعت ِ اہ ِل سنّت کے سرپراہ موالنا محمد‬
‫عرقان ضیانی اس کیاب کی کم پ توپر سے کم یوزنگ کے یعد اس کی اساعت کا اہیمام کررہے ہیں۔‬

‫٭‬

‫ح‬
‫رون ملک مقیم حیاب جاچی اشقاق علی جداد تے ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ کی سان دار ت ق یقی کیاب‬
‫بی ِ‬

‫ب‬
‫”امام ناک اور پزند نلید“ سے میاپر ہوکر از خود اس کا سیدھی زنان میں پرحمہ کیا اور حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی کو ھجوانا۔‬
‫ی‬
‫ی‬
‫اس پرحمہ کی ضحیح و یظر نانی کے لئے قاصل محیرم موالنا عطاء اّٰللہ عیمی کی جدمات جاصل کی گتیں۔ بہ کیاب بھی کم یوز کی جارہی ہے۔ ان‬
‫ساء اّٰللہ نہت جلد بہ کیاب بھی م یظر عام پر آے گی۔‬

‫گزشتہ پرس اس مجلے کی اساعت کے قورا یعد اپرنل کے آخر میں حضرت حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب یورانی اوکاڑوی ح تونی افریقا‬
‫اور میجدہ عرب امارات کے َدورے پر روابہ ہو گئے۔ اس شقر میں انہوں تے م یعدد احیماعات سے حطاب کیا اور احیاب سے مالقات کی۔ ان کی‬
‫م‬
‫وطن وابسی پر ساالبہ مجلے کی دپیا ب ھر میں پرسیل کی گئی اور دپیا ب ھر میں ساالبہ عالمی ی ِوم حطنب ِ اعظم میاتے کے لئے رایظوں کا کام کمل‬
‫٭‬

‫ُ‬
‫ہوا۔ م ِاہ یومیر کے آخر میں حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی تے زنارت و عمرہ کی شعادت جاصل کی۔‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫ح‬
‫٭‬
‫موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) تے فیس نک پر اکادمی کے عالوہ حضرت حطنب ِ اعظم‪ ،‬حطنب ِ ملت اور جامع مسجد ل ِزار ب نب‬
‫کے آفیسیل فین پیج پیاے ہوے ہیں لیکن دنکھا گیا ہے کہ حضرت حطنب ِ ملت کے نام پر کحھ لوگوں تے ازخود فین پیج پیار کھے ہیں اور ان‬

‫میں وہ اپئی مرصی سے یصاوپر اور معلومات خڑھاتے رہئے ہیں۔ ان کی محنت و عقیدت پر شتہ نہیں لیکن ا بسے دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ‬
‫ف‬
‫حیال رکھیں کہ ان کی کونی نادانی کسی علط ہمی‪ ،‬ندگمانی نا م یقی ناپر کا ناعث ہوسکئی ہے اور سحصنت نا کام کو یفصان نہیجا سکئی ہے۔ احبیاط‬
‫ف‬
‫کا نہی یقاصا ہے کہ ا بسے تمام دوشت ا پئے پیاے ہوے فین پیج حیم کردیں ناکہ کسی علط ہمی کی گیجابش ہی بہ رہے۔‬
‫نی اتچ ڈی اشکالر حیاب سیخ عقیل احمد تے ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ پر اپیا نی ا تچ ڈی کی ڈگری کے‬
‫م‬
‫لئے مقالہ کمل کرکے داجل کردنا ہے۔ کراچی یونی ورسئی سے ابھوں تے بہ مقالہ حیاب پروفیسر جالل الدین یوری اور ڈکیر محید اّٰللہ قادری کی‬
‫م‬
‫نگرانی میں کمل کیا۔‬

‫٭‬

‫اس سال بھی م ِاہ رجب‪ ،‬م ِاہ شعیان‪ ،‬م ِاہ رمصان‪ ،‬م ِاہ مررم اور م ِاہ رپ یع ال تور اور اس کے عالوہ بھی نی نی وی‪ ،‬ون نی وی‪ ،‬آج نی‬

‫٭‬

‫وی‪ ،‬اے آر وانی ڈی چی نل‪ ،‬ح تو نی وی‪ ،‬ح تو پ توز‪ ،‬ڈان نی وی‪ ،‬سماء نی وی‪ ،‬انکس پربس نی وی‪ ،‬سی این نی سی‪ ،‬وقت نی وی‪ ،‬اِ ن ڈس‬
‫نی وی‪ ،‬منٹ رو َون نی وی‪ ،‬اے نی وی‪ ،‬ک تو نی وی سے حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی کے م یعدد پروگرام پیلے کاشٹ‬
‫ہوے اور نہت بسید کئے گئے۔ گزشتہ پرس بھی ہم نی وی چے نل تے م ِاہ رمصان ‪0222‬ھ میں رحمت ِ رمصان کے نام سے یورا مہبیا‬
‫روزابہ افطار سے قیل پروگرام تیش کیا گیا حس کے میزنان حیاب محمد یور الحسن ملک بھے اور مہمان حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی‬

‫اوکاڑوی بھے۔ اس پروگرام کو دپیا ب ھر میں نہت نذپرانی ملی۔ م ِاہ رمصان میں نی نی وی سے طونل دورا پئے کے پروگراموں میں حضرت حطنب ِ‬
‫ملت تے سرکت کی اور ممیاز اشکالر ڈاکیر عامر لیاقت حسین کے سابھ سرری بسرنات میں بھی سرکت کی۔‬

‫ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ کی رہابش گاہ کے لئے سارع ق یصل سے آمد و رقت کا راشتہ پید کئے سات‬
‫پرس ہورہے ہیں‪ ،‬ہمیں نہیں معلوم کہ مبیادل معفول راشتہ دتے یعیر انک پڑی آنادی کا راشتہ پید کرد پیا کون سا قایونی‪ ،‬اجالقی‪ ،‬ایصاف اور‬
‫٭‬

‫کون سا ”پرقیانی کام“ ہے؟ نارش اور وی آنی نی موومنٹ میں اس عالقے کے مکب توں کے لئے سارع ق یصل کے آر نار جاتے کی کونی راہ‬
‫نہیں رہ جانی۔ سیدھی مسلم سوساپئی کا خوراہا پید کرتے والوں تے اس عالقے کے لوگوں کے لئے مسلسل آزار کا خو سامان کیا ہے اس کا‬
‫”یوبس“ لبئے واال کونی نہیں۔ ہزاروں لوگوں کے را سئے پید کرکے سگیل فری کورے ڈور پیاتے والے ک توں بھول جاتے ہیں کہ وہ جاتے‬

‫کبئے لوگوں کی خق نلقی کے مررم بھہرتے ہیں اور ان کے لئے مسلسل اذ پت کا سامان کرتے ہیں۔‬
‫ُ‬
‫ب‬
‫گ‬
‫م‬
‫ہر سال عید میالد البئی ﷺ کے موفع پر نارہ رپ یع ال تور کو جامع مسجد ل ِزار حب نب یں افطاری کا اہیمام ھی احیاب کی طرف سے‬

‫٭‬

‫کیا جانا ہے حس میں ہزاروں افراد سرکت کرتے ہیں۔ کراچی کے مجدوش جاالت کے تیش یظر مسجد کے اندر اور اطراف سیک تورنی کیمرے بھی‬
‫لگاے گئے ہیں اور کوشش کی جانی ہے کہ مسجد میں آتے والے تمازیوں کو ہر طرح شہولت اور آسانی رہے۔ مسجد کے اطراف کی دیوار کا‬
‫م‬
‫انک حصہ یفصلہ یعالی مسجد پ توی سریف کے یقسے کے مطایق پیالیا گیا ہے‪ ،‬ان ساء اّٰللہ ناقی حصے کی یعمیر کا کام بھی جلد کمل کیا جاے‬
‫م‬
‫گا۔ مسجد کے مبیار کی یعمیر بھی ابھی نا کمل ہے۔ آپ سے اسیدعا ہے کہ یعمیر میں یعاون فرماتیں اور دعا بھی فرماتیں کہ جلد بہ کام نانہئ‬
‫ن‬
‫کمیل کو نہیجے۔‬

‫ُ‬
‫ُ‬
‫جامع م جد گل ِزار حب نب میں خواتین کے لئے ”مج‬
‫لس خواتین گل ِزار حب نب“ کی کارکردگی بھی قان ِل سیابش ہے۔ خواتین میں دین‬
‫س‬
‫ِ‬

‫٭‬

‫ی‬
‫ی‬
‫گ‬
‫ج‬
‫لس خواتین تے گزشتہ پرسوں میں تماناں کام کیا ہے۔ ہر ماہ جاند کی ‪3‬‬
‫سے آ ہی اور زندگی میں پ کی سے وابس گی کا سوق پڑھاتے کے لئے م ِ‬
‫اور ‪ 30‬نارتخ کو ظہر اور عضر کے درمیان جلقہئ ُدرود سریف کا بسلسل گزشتہ کئی پرس سے اس مجلس کے زپر اہیمام جاری ہے۔ دو گھبئے کی‬
‫اس بشست میں حص ِور اکرم ﷺ کے میارک نام کے عدد کی میاسنت سے ‪ 03‬منٹ ُدرود سریف کا ِورد ہونا ہے اور ضروری عقاند اور مسانل‬
‫سے آ گاہ کرتے کے لئے مح یضر درس الزمی رکھا گیا ہے۔ ُدرود سریف کا ِورد اور احیماعی ُدعا مسانل و مسکالت کے جل میں تحمدہ یعالی اکسیر‬
‫ُ‬
‫درس فرآن سبئے اور جلقہئ ُدرود سریف میں سرنک ہوتے والی بہ خواتین اور کم شن‬
‫ناپت ہونی اور سیکڑوں خواتین ق یض ناب ہوتیں۔ سال ب ھر ِ‬
‫تحیاں یعت خوانی اور یقرپر کی پرپ نت بھی نہاں جاصل کرنی ہیں اور ہر سال ساالبہ محق ِل میالد سریف بھی م یعقد کرنی ہیں۔ گزشتہ آبھ پرس‬
‫سے حضرت ماں چی قیلہ رحمۃ اّٰللہ علیھا کا ساالبہ عرس میارک بھی اِ سی محقل میں میانا جانا ہے۔ اس سال بھی ہفتہ نکم فروری ‪3102‬ء کو‬
‫حق‬
‫ج‬
‫ج‬
‫لس خواتین کی کارکیان اور ان کی سابھ توں‬
‫لس خواتین کی نگراں کے کلیدی حطاب کے عالوہ م ِ‬
‫ساالبہ م ل و عرس سریف کا ایعقاد ہوا۔ م ِ‬
‫تے والہابہ عقیدت و اجیرام کے سابھ یعت و میاقب تیش کئے‪ ،‬بہ یقرپب ناتچ گھبئے جاری رہی۔ اس محقل میں کونی مہمان حطنتہ نا یعت‬

‫خوان مدغو نہیں کی جانی نلکہ مجلے ہی کی خواتین اور مسیقل نہاں درس و جلقہ میں سامل ہوتے والی خواتین کو تماپیدگی دی جانی ہے اور ان‬
‫کے د پئی اتمانی جذبہ و سوق پر ان کی خوصلہ افزانی کی جانی ہے۔ اّٰللہ یعالی کے فصل سے اس کی پرکات ان شب کی زندگی میں ظاہر ہونی ہیں‬

‫اور ان شب میں پیکی پڑھی ہے۔ نہی خواتین سال ب ھر میں فر ِآن کریم کی نالوت اور ُدرود سریف کے مسلسل ِورد کا ہدبہ سمار کرکے حضرت‬
‫ع‬
‫ج‬
‫لس خواتین کی نگران اور ان کی تمام سابھی‬
‫حطنب ِ ا ظم رحمۃ اّٰللہ علتہ کے ساالبہ عرس سریف میں ایصال یواب کے لئے تیش کرنی ہیں۔ م ِ‬
‫خواتین کی بہ کاوسیں قان ِل تحسین ہیں۔ اّٰللہ یعالی انہیں مسلک ِ خق پر اسیقامت اور ان کی پیک توں پر انہیں خزاے جیر عطا فرماے۔‬
‫موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) تے دپیا بھر میں موخود اہ ِل محنت و عقیدت کے لئے اِ ن پر پ نٹ پر حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرحمہ‬
‫ُ‬
‫ناپپ کیحئے اور گھر “‪ ”www.okarvi‬پیادنا ہے۔ لفظ )‪“ (Blog‬اور حطنب ِ ملت کی آڈیو‪ ،‬وڈیو یقارپر سبئے اور دنکھئے کے لئے ”نالگ‬
‫َ‬
‫تبیھے ق یض ناب ہوں۔ عالوہ ازیں فیس نک پر بھی فین پیج پیاے گئے ہیں۔ تین پرس قیل امریکا میں مقیم حیاب سید م تور علی ساہ تجاری تے‬
‫کے نام سے وپب ساپٹ پیانی اور علما ے اہ ِل سنّت کی یقارپر کی رکارڈنگس اس میں حمع کی ہیں۔ اس سال ‪Sunni speeches‬‬
‫٭‬

‫کے نام سے انک اور وپب ساپٹ پیانی گئی ہے۔ اس وپب ساپٹ پر ضرف حضرت حطنب ِ اعظم اور حطنب ِ ‪okarvi speeches‬‬
‫ملت کی سیکڑوں یقارپر محفوظ کی جارہی ہیں۔‬

‫ُ‬
‫گ‬
‫٭‬
‫قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرحمہ کے ساالبہ عرس سریف کی یقرپیات میں اور ہر حمعۃ المیارک کو بھی جامع مسجد ل ِزار‬
‫حب نب میں احیماعی قاتحہ خوانی کا تمام اہ ِل اتمان نالحصوص حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ کے عقیدت میدوں اور وابسیگان کو ایص ِال یواب‬
‫کیا جانا ہے۔‬

‫داغ مقارقت د پئے والی کحھ سحصیات کا صدمہ بھی عیر معمولی ہے‪ ،‬ان سے مررومی اہ ِل سنّت کا‬
‫گزشتہ عرس سریف سے اب نک ِ‬

‫٭‬

‫سدند یفصان ہے۔‬

‫ّ‬
‫مجدث ِ اعظم ناکسیان حضرت عالمہ موالنا سردار احمد صاجب آف ق یصل آناد (رحمۃ اّٰللہ علتہ) کے فرزند اصعر اور سئی اتجاد کوبسل کے‬
‫ُ‬
‫سرپراہ حضرت صاجب زادہ الجاج محمد فصل کریم خو ہمہ دم پرعزم سرگرم عمل بھے دنکھئے ہی دنکھئے جلے گئے‪ ،‬نہت کم عرصے میں انہوں تے‬
‫ملک ب ھر میں َول َولہ انگیز فصا پیانی بھی اور اہ ِل سنّت کے حفوق کے لئے صدا لگانی بھی۔ موالنا محمد یعفوب انڈوکنٹ یواب ساہ سے مجاہد ین‬
‫کر ا بھے بھے‪ ،‬شہید کرد پئے گئے۔ سرق یور سریف کے آسیابہ عالتہ یقش پیدبہ مجددبہ کے سجادہ بسین اور ممیاز پزرگ حضرت صاجب زادہ الجاج‬
‫میاں حمیل احمد سرق یوری ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ کے بیرزادے بھے‪ ،‬ملک ب ھر میں ساالبہ ی ِوم سیدنا صدی ِق اکیر‬
‫ی‬
‫رصی اّٰللہ عتہ اور ام ِام ّرنانی حضرت مجدد ال ِف نانی رحمۃ اّٰللہ علتہ کے ی ِوم میارک کے ایعقاد‪ ،‬عمدہ کنب کی اساعت‪ ،‬پ ل یعی پرتبئی اشقار اور سلسلہ‬
‫عالتہ یقش پیدبہ کے لئے تماناں جدمات ان کا وصف رہیں۔ ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ کے پر ِادر اصعر الجاج محمد‬
‫اکرام مدنی ‪0002‬ء سے مدپتہ م تورہ میں مقیم بھے‪ ،‬روزابہ ضیح و سام خرم پ توی سریف میں ناادب جاضری ان کا معمول بھا‪ ،‬مجاقل میں یعت و‬
‫سالم بھی سوق سے پڑھا کرتے۔ حمعہ کی ضیح خرم سریف میں رناض الحتۃ ہی میں اجانک سابس اکھڑی اور وہ راہی حیان ہو گئے۔ ان کی وقات‬
‫سے دو روز قیل ہی حضرت حطنب ِ ملت زنارت و عمرہ کے شقر سے وابس نہیجے بھے۔ ا پئے حجا محیرم کے لئے حضرت حطنب ِ ملت تے فیس‬

‫نک پر خو تررپر کیا‪ ،‬ہم اسے نہاں یقل کررہے ہیں‪” :‬دپیا سراے قانی ہے‪ ،‬نہاں خو بھی آنا ہے انک دن اسے وابس جانا ہے۔ موت انک‬

‫حق یفت ہے حس سے ایکار نافرار کی گیجابش نہیں۔ نالشتہ بہ ناتیں سچ ہیں۔ مگر اپئی مررومی کا رونا رورہا ہوں۔ تیس پرس نہلے انا جان علتہ الرحمہ‬
‫کا وصال ہوا‪ ،‬زندگی نہاڑ ہوگئی‪ ،‬ان کی پرکات ہی بھیں کہ میں ان کے یصب العین کو جاری رکھئے میں متہمک ہوگیا‪ ،‬اپ توں تے گایوں تے سیم‬
‫ڈھاے لیکن کام ہی میں مگن رہا‪ ،‬صلہ و سیابش سے عرض نہیں رکھی‪ ،‬مسفق اسیاد اور مہرنان ہسئی حضرت سیخ االسالم موالنا عالم علی صاجب‬
‫اسرقی اوکاڑوی بھی پردہ فرما گئے‪ ،‬حضرت قیلہ نانا چی کرماں والے بھی راہی حیان ہوے‪ ،‬جابسی ِن فطب ِ مدپتہ حضرت موالنا فصل الرحمن‬
‫ع‬
‫القادری مدنی بھی رحصت ہو گئے‪( ،‬رحمۃ اّٰللہ لتہم)‪ ،‬ا بسے میارک پزرگوں سے مررومی معمولی ساتحہ نہیں بھا‪ ،‬کحھ دل ہی جاپیا ہے کہ کیا کیا‬

‫ذکر رسول ﷺ ہی میرا شہارا اور میری یوانانی رہا۔‬
‫صدمے شہے‪ ،‬ماں چی قیلہ رحمۃ اّٰللہ علتہا کی وقات تے محھ میں زندگی کی امیگ ہی حیم کردی۔ ِ‬
‫پیارے حجا (خو دوشت بھی بھے) الجاج محمد اکرام (گزشتہ ‪ 28‬پرس سے) روز ضیح و سام مدپتۃ الرسول میں مواجہ سریف میں میرا صلوۃ و سالم‬
‫تیش کرتے بھے‪ ،‬دل سے میرے لئے جاتے کبئی دعاتیں کرتے بھے‪ ،‬حتہیں میری صحت و سالمئی کی قکر رہئی بھی‪ ،‬حمعۃ المیارک (‪ 02‬دسمیر‬
‫‪3102‬ء) کو رناض الحتۃ سے جتۃ القردوس کو جل د پئے‪ ،‬ان کی تمیا یوری ہونی‪ ،‬انہیں خ ِوار رسول (ﷺ) یصنب ہوگیا‪ ،‬وہ نہت خوش یصنب‬
‫بھے‪ ،‬وہ ساداں و فرجاں ہیں‪ ،‬اّٰللہ کریم جل سابہ ان پر مہرنان رہے۔ رو رہا ہوں‪ ،‬اب کون اس طرح روز محھے روصہ رسول (ﷺ) میں ناد کرے‬

‫رب کریم محھ سے راصی ہو‪ ،‬میرے پیارے پئی ناک ﷺ محھ سے راصی ہوں‪ ،‬میرے‬
‫گا‪ ،‬کون تحسم یم میرے لئے دعاتیں کرے گا …… میرا ِ‬
‫‘والدین کرتمین محھ سے راصی ہوں۔ اّٰللہ بس ناقی ہوس‬

‫حضرت عالمہ بیرزادہ اقیال احمد قاروقی کو ناک و ہید کے سیھی اہل علم تجونی جا پئے ہیں‪ ،‬وہ اپئی ذات میں انک عہد‪ ،‬انک نارتخ بھے۔ ان کی‬

‫وقات پر حضرت حطنب ِ ملت تے لکھا‪” :‬محیرم بیرزادہ عالمہ اقیال احمد قاروقی حمعرات ‪ 00‬دسمیر ‪3102‬ء (کحھ ساعتیں نہلے) اس جہ ِان‬
‫قانی سے رجلت فرما گئے ہیں۔ انا ّٰللہ وانا التہ راحعون۔ اّٰللہ کریم جل سابہ ان کی معقرت فرماے۔ ‪ 2‬ح توری ‪0038‬ء کو صلع گررات کے انک‬

‫ی‬
‫اگرد رسید بھے‪ ،‬ایم اے قارسی پیجاب یونی ورسئی سے کیا‪ ،‬قوج اور‬
‫گاؤں میں ان کی والدت ہونی۔ حضرت موالنا پئی تحش جلوانی قش پیدی کے س ِ‬
‫ُ‬
‫سول اداروں میں مالزمت بھی کی‪ ،‬ڈ پئی ڈاپرنکیر لبیر ونلفبیر آف پیجاب کے م یصب سے ‪0088‬ء میں رپیاپرڈ ہوے۔ عرنی‪ ،‬قارسی‪ ،‬اردو اور پیجانی‬
‫ج‬
‫لس رصا‪ ،‬الہور کے‬
‫میں کمال دشت رس رکھئے بھے۔ ناکمال حطنب اور ادپب بھے۔ حمعنت العلماے ناکسیان کے فعال رکن رہے‪ ،‬مرکزی م ِ‬
‫سرپراہ اور ماہ نامہ ”جہ ِان رصا“ کے مدپر اعلی بھے۔ الہور میں مکنتہ پ توبہ کی ‪0028‬ء میں تبیاد رکھی۔ یقسیر پ توی (پیجانی) کا اردو پرحمہ‪ ،‬نذکرہ‬
‫ن‬
‫علماے اہ ِل سنّت‪ ،‬پرحمہ الدرالیمین قی میسرات البئی االمین‪ ،‬پرحمہ پزھۃ الجواطر‪ ،‬پرحمہ کمیل اال تمان‪ ،‬پرحمہ مرج الیررین‪ ،‬پرحمہ زندۃ اآلنار‪ ،‬پرحمہ‬
‫ل‬
‫ن‬
‫ضر عرقان‪ ،‬پرحمہ خزپتۃ االصقیا‪ ،‬پرحمہ و لح یص الدولۃ المکتۃ‪ ،‬جالصہ کسف ا محجوب‪ ،‬مجالس علماء‪ ،‬قکر قاروقی‪ ،‬بسیم یطجا‪ ،‬نایوں‬
‫مقام ِ‬
‫ات ضوقیا‪ ،‬پرحمہ ف ِ‬
‫سے خوش یو آے …… حیسی کیاتیں نادگار پیاتیں۔ اعلی حضرت مجدد پرنلوی علتہ الرحمہ کے خوالے سے ان کی جدمات کی انک یفصیل ہے۔‬

‫محھ گیاہ گار سے نہت محنت رکھئے بھے اور نہت قدر دانی فرماتے بھے۔ گزشتہ کحھ عرصہ سے علیل بھے‪ ،‬میرے حجا محیرم کے‬

‫وصال پر یعرپت کے لئے قون کیا اور وہی ان سے میری آخری گقیگو ناپت ہونی۔ گزشتہ شب ‪ 00:20‬پر ان کے فرزند تے ان کے وصال کی‬
‫ٰ‬
‫“جیر سیانی‪ ،‬سماعت پر شتہ گزرا مگر مرصی موال ازھمہ اولی۔‬
‫ن ِدر اسرق نت حضرت قیلہ الجاج بیر ڈاکیر سید محمد مطاہر اسرف اسرقی الحیالنی کی وقات پر حضرت حطنب ِ ملت تے بہ تررپر کیا‪:‬‬
‫”حمعۃ المیارک ‪ 03‬رپ یع ال تور ‪0223‬ھ‪ 00 ،‬ح توری ‪3102‬ء کی شہ نہر امیر جلقہئ اسرقتہ ناکسیان‪ ،‬ن ِدر اسرق نت حضرت قیلہ بیر ڈاکیر سید محمد‬
‫ل‬
‫مطاہر اسرف اسرقی الحیالنی فصاے الہی سے وقات نا گئے۔ انا ّٰللہ وانا التہ راحعون۔ ا لھم اعقرلہ وارحمہ وسکتہ قی الحتۃ۔ ان کی عمر سریف ‪02‬‬
‫پرس بھی۔ م یعدد کیایوں کے مصیف اور ماہ نامہ آسیابہ کراچی کے مدپر اعلی بھے‪ ،‬کحھ عرصے نہلے ان کے خواں سال فرزند اکیر اور اہلتہ محیرمہ‬
‫داغ مقارقت دے گئے بھے‪ ،‬سدند عاللت کے ناوخود وہ ہمہ وقت د پئی‪ ،‬اتمانی‪ ،‬روجانی سرگرم توں میں مسعول رہئے بھے۔ مسلک ِ خق اہ ِل سنّت‬
‫ِ‬
‫اور سلسلہ عالتہ اسرقتہ کے لئے ان کی جدمات کی انک یفصیل ہے۔ ان کے جلقا و مرندین کی پڑی یعداد ناک و ہید کے عالوہ م یعدد ممالک‬
‫میں ہے۔ ان کی ندفین الہور کے فرپب ان کی یعمیر کردہ جایقاہ میں ہوگی۔ ان کے فرزند اصعر عالمہ سید مجی الدین اسرف ان کے جابسین‬
‫“ہیں۔‬

‫بھارت کے شہر ندایوں میں اہ ِل سنّت و حماعت کے یوخوان قان ِل قدر محفق‪ ،‬ناقد اور حطنب و عالم حضرت صاجب زادہ اسید الجق‬

‫عاضم قادری یعداد سریف ا پئے والد گرامی کے سابھ زنارت کے لئے گئے اور وہاں دہست گردی کا بسابہ ین گئے ان کی شہادت پر حضرت‬

‫رت خوش پر یورانی‪ ،‬سالم‬
‫حطنب ِ ملت تے موالنا خوش پر یورانی کے نام ا پئے عم و اندوہ کا اظہار کرتے ہوتے لکھا‪” :‬محب گرامی حض ِ‬
‫مستون‪،‬خرف و لفظ پر پئے کا ہیر جب سے سیکھا ہے‪ ،‬پڑھئے‪ ،‬یو لئے اور لکھئے کا شعل جاری ہے‪ ،‬پیکھے اور نلخ موضوعات بھی مسکل بہ لگے مگر‬
‫کیھی کیھی یوں لگیا ہے حیسے کحھ آنا ہی نہیں‪ ،‬کحھ لکھا جانا ہی نہیں‪ ،‬ایگلیاں اتبیھئے سی لگئی ہیں‪ ،‬ابسا ہی کحھ اس وقت اخوال ہے۔‬
‫آپ کے سابھ اسید میاں سے دہلی ابیریورٹ پر نہلی مالقات سے ممبئی میں آخری مالقات نک کا دوراپتہ تین سے جار پرس کا رہا ہوگا‪،‬‬
‫دو مرپتہ وہ کراچی میں ملئے آے‪ ،‬احبئی ہوتے کا گمان کیا نہلی مالقات ہی میں وہ دل کے فرپب ہو گئے بھے‪ ،‬بسیعل تق کہوں نا ہیرا‪ ،‬شعادت‬
‫میدی جہرے سے ہوندا بھی‪ ،‬دنکھئے میں نا نکے لگے اور جاتحئے میں گونا سمیدر‪ ،‬علم و عمل کے پیکر حمیل‪ ،‬میرے رب کریم تے انہیں نہت یوازا‬
‫بھا۔‬

‫ب‬
‫ح ن‬
‫ن‬
‫داغ مقارقت دے جاتیں گے‪ ،‬صدمے کا اظہار نہیں‬
‫ا ہیں کبئی عقیدت و محنت ھی وہ آپ سے م قی ہیں‪ ،‬وہ یوں اجانک ِ‬
‫کرناؤں گا۔ اّٰللہ کریم انہیں اعلی درجات عطا فرماے۔‬
‫“زندہ عیاد‪ ،‬رحمۃ اّٰللہ یعالی علتہ ”‪0223‬ھ‬

‫وث ناک ”‪3102‬ء“”‬
‫آہ جدا عاسق غ ِ‬

‫گزشتہ پرس سے نام دم تررپر م یعدد سحصیات اور افراد اس جہ ِان قانی سے رجلت کرگئے۔ الجاج خودھری محمد سریف (سمیدری)‪،‬‬
‫حیاب ظل احمد یطامی (کراچی)‪ ،‬آعا اسد یولیس ابسیکیر (کراچی)‪ ،‬حضرت صاجب زادہ الجاج محمد فصل کریم (ق یصل آناد)‪ ،‬حضرت صاجب زادہ‬
‫جاچی بیر عیدالواجد (کونلی)‪ ،‬یعت خوان محمود الحسن اسرقی کے والد محیرم عیدالمحید (کراچی)‪ ،‬یواے وقت کے حیاب شعید جاور کی والدہ محیرمہ‬
‫٭‬

‫(کراچی)‪ ،‬خواں سال جالد پرکانی (چے یور)‪ ،‬الجاج عالم معین الدین (مدین)صدیقی اور ان کی اہلتہ محیرمہ (راول پیڈی)‪ ،‬الجاج اپراہیم اسمال کے‬
‫والد (ح تونی افریقا)‪ ،‬بیرچی محمد رق یع کی اہلتہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬الجاج ہاسم اپراہیم نار (ح تونی افریقا)‪ ،‬ذوالفقار علی مارنل والے کی والدہ محیرمہ (کراچی)‬
‫حضرت موالنا مقئی بسیر احمد اسرقی کی اہلتہ محیرمہ (اوکاڑا)‪ ،‬حمید اّٰللہ قادری کی خوش دامن (کراچی)‪ ،‬مقئی اعظم افریقا حضرت موالنا محمد اکیر‬
‫ہزاروی کے پرادر عزپز عالم پئی شہید (عازی کوٹ)‪ ،‬جامع مسجد گل ِزار حب نب کے پڑوسی حیاب امین پیگ کی ممانی (کراچی)‪ ،‬الجاج موسی‬

‫کریم (ح تونی افریقا)‪ ،‬محیرمہ سمیمہ م یصور کے شسر (ح تونی افریقا)‪ ،‬موالنا بیر قاری صعیر احمد اغوان کی اہلتہ محیرمہ (گوخراں واال)‪ ،‬انڈوکنٹ موالنا‬
‫ٰ‬
‫ل‬
‫یعفوب قادری شہید (یواب ساہ)‪ ،‬عالمی میلغ اسالم جل یقہ اعلی حضرت موالنا ساہ عیدا علیم صدیقی کی دجیر پیک محیرمہ ڈاکیر فرندہ احمد صدیقی‬
‫(کراچی)‪ ،‬عزالی زماں حضرت عالمہ سید احمد شعید کاظمی علتہ الرحمہ کے داماد حیاب الجاج سید شعنب اجیر حعقری (امریکا)‪ ،‬مسجد یور حب نب کے‬
‫سیکربیری محمد یوشف کے والد محیرم عیدالقدپر شیرانی (کراچی)‪ ،‬سیخ االسالم حضرت موالنا عالم علی اسرقی اوکاڑوی کے داماد حضرت موالنا جافظ محمد‬
‫اسرف جاللی (کاموں کی)‪ ،‬ماہ نامہ رصاے مصظقی گوخراں واال کے مدپر حیاب حق یظ پیازی کی اہلتہ محیرمہ‪ ،‬سیخ الجدپث حضرت موالنا جافظ محمد‬
‫عالم صاجب کی دجیر پیک اور صاجب زادہ جامد رصا کی ہمسیرہ محیرمہ (سیال کوٹ)‪ ،‬آسیابہ عالتہ سرق یور سریف کے سجادہ بسین حضرت الجاج‬
‫صاجب زادہ میاں حمیل احمد سرق یوری‪ ،‬حضرت موالنا علی احمد سیدھیلوی (الہور)‪ ،‬الجاج عالم محمد اسمعیل م یصور (ح تونی افریقا)‪ ،‬خواں سال‬
‫سیخ محمد اوبس(ساہی وال)‪ ،‬انڈورناپزنگ اتچیسی آرگس کے مفصود صاجب کی اہلتہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬مسجد گل ِزار حب نب کے پڑوسی محمد ناضر‬
‫ش‬
‫(کراچی)‪ ،‬ضوقی محمد حب نب الرحمن ق یعی قادری کی بھابھی صاجتہ (کراچی)‪ ،‬حضرت موالنا محمد اسجق ہزاروی کی اہلتہ محیرمہ اور حضرت موالنا‬

‫جافظ محمد اسمعیل ہزاروی کی والدہ محیرمہ (ح تونی افریقا)‪ ،‬پروفیسر موالنا عالم پئی یقش پیدی (پیجاب)‪ ،‬الجاج مرزا احبیار پیگ کی والدہ محیرمہ قدشتہ‬
‫ی‬
‫پیگ (کراچی)‪ ،‬حیاب فہیم احمد دہلوی (بھارت)‪ ،‬حضرت الجاج سید حستین میاں ظمی مارہروی (بھارت)‪ ،‬حضرت الجاج بیر محمد قاسم اسرقی کے‬
‫پر ِادر بسبئی (ح تونی افریقا)‪ ،‬جافظ فرجان احمد کی والدہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬حطنب ِ ملت کے ماموں زاد بھانی جافظ احمد یورانی کی اہلتہ محیرمہ (حسبیاں‬
‫سریف)‪ ،‬الجاج جاوند معرقانی کی بھوبھی محیرمہ (یو اے ای)‪ ،‬حطنب ِ ملت کے بھوبھی زاد بھانی سیخ محمد جلیل کے نہ تونی (پ توکی)‪ ،‬الجاج‬

‫عیدالقادر حھونانی کی اہلتہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬موالنا اسالم الدین دہلوی (کراچی)‪ ،‬اتحمن مجاہدین مصظقی کے سرپراہ جافظ محمد حب یف اسرقی کی اہلتہ‬
‫محیرمہ (کراچی)‪ ،‬حطنب ِ ملت کی نہلی جالہ زاد نہن کے سوہر سیخ عیدالسکور (الہور)‪ ،‬الجاج جافظ سردار محمد مرخوم کے داماد (حسبیاں)‪ ،‬حیاب‬
‫سیخ پیک محمد سرق یوری کی والدہ محیرمہ (سرق یور سریف)‪ ،‬حطنب ِ ملت کے حجا محیرم الجاج محمد اکرام (مدپتہ م تورہ)‪ ،‬الجاج محمد یقیس جان‬
‫ی‬
‫اکیر آنادی (کراچی) الجاج محمد راسد کاعذی (چے یور‪ ،‬بھارت)‪ ،‬حضرت عالمہ بیرزادہ اقیال احمد قاروقی (الہور)‪ ،‬مقئی محمد اسلم عیمی (کراچی)‪،‬‬

‫مسجد گل ِزار حب نب کے پڑوسی نادر علی کے والد محیرم (کراچی)‪ ،‬عازی ملت حضرت موالنا سید محمد ہاسمی میاں کی ہمسیرہ محیرمہ (بھارت)‪ ،‬سیخ‬
‫الجدپث حضرت موالنا محمد عیداّٰللہ فصوری کے فرزند مقئی شعادت علی (فصور)‪ ،‬حضرت موالنا عالم مہر علی گولڑوی کے فرزند موالنا محمد رصا گولڑوی‬
‫(حسبیاں سریف)‪ ،‬پروفیسر عاند میر قادری (کراچی)‪ ،‬مسجد گل ِزار حب نب کے پڑوسی حیاب عرقان فربسی (کراچی)‪ ،‬ن ِدر اسرق نت حضرت بیر ڈاکیر‬
‫سید محمد مطاہر اسرف حیالنی (کراچی)‪ ،‬حطنب ِ ملت کے جالہ زاد بھانی الجاج سیخ محمد یوشف (ناک تین سریف)‪ ،‬مسجد گل ِزار حب نب کے‬
‫پڑوسی اّٰللہ مہر (کراچی)‪ ،‬حطنب ِ ملت کے جالو الجاج سیخ محمد اسرف (الہور)‪ ،‬حضرت حطنب ِ اعظم کے ساگرد موالنا محمد صدیق ملیانی (ق یصل‬
‫آناد)‪ ،‬مجذوب محمد کامل این وہاب الدین (کراچی)‪ ،‬سید عالم ناورچی (ح تونی افریقا)‪ ،‬خواں سال محمد یوقیر رحمانی (کراچی)‪ ،‬حیاب عیدالعقار کے والد‬
‫محمد سردار (کراچی)‪ ،‬حیاب ناپر حسین کے والد (ق یصل آناد)‪ ،‬پزم ق یص ِان وارپتہ کے سرپراہ سید عیدالماجد وارنی کی اہلتہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬سید قدپر‬
‫ساہ اور سید اسالم ساہ کے والد سید میر اکیر ساہ (عازی)‪ ،‬حطنب ِ اہ ِل سنّت موالنا مقئی م یظور احمد (کراچی)‪ ،‬مسجد گل ِزار حب نب کے پڑوسی‬
‫تبیک کے سرپراہ الجاج سید ناضر ‪KASB‬رضوان کے والد محیرم ملک اعظم (کراچی)‪ ،‬الجاج محمد عرقان موسی عطاری کے والد محیرم (کراچی)‪،‬‬
‫علی ساہ تجاری کی خواں سال اہلتہ محیرمہ (کراچی) جابسی ِن مجدث اعظم ناکسیان حضرت بیر فصل رسول حیدر کی اہلتہ محیرمہ (ق یصل آناد) اے آر‬
‫وانی کے سرپراہ جاچی عیدالرزاق یعفوب (کراچی)‪ ،‬الجاج یوق تق احمد قایم جانی کی والدہ محیرمہ (کوٹ عالم محمد‪ ،‬سیدھ)‪ ،‬یعت خواں سید محمد‬
‫فرقان قادری کے والد محیرم (کراچی) یق نب ِ محقل حیاب رتیس احمد کے شسر خودھری بسیر احمد (کراچی)‪ ،‬ممیاز عالم و محفق قاصل یوخوان موالنا‬
‫اسید الجق عاضم (یعداد سریف)‪ ،‬نام َور ادپب و محفق موالنا محمد عالم محیار خق (الہور)‪ ،‬حضرت حطنب ِ اعظم کے جالہ زاد بھانی الجاج محمد اسالم‬
‫عارف (الہور)‪ ،‬اسیاذ القراء حضرت موالنا قاری عالم رسول (الہور)‪ ،‬سیخ محمد آصف کی والدہ محیرمہ (الہور)‪ ،‬حضرت موالنا حب نب رصا پرنلوی‬
‫(بھارت)‪ ،‬موالنا اقیال احمد اظہری (سجاع آناد)‪ ،‬الجاج سید ظقر علی ساہ تجاری کی اہلتہ محیرمہ (بساور) …… بہ شب فصاے الہی سے وصال‬
‫فرما گئے۔ رپیا اعقر لیا وال خواپیا الذین سیفونا ناال تمان‪ ،‬آمین‬

‫اس سال کراچی کے ناگفتہ بہ جاالت میں بہ مجلہ کیسے مرپب ہوگیا بہ ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم کا ق یصان ہی ہے‬
‫وربہ ہم اس کی ہمت بہ رکھئے بھے۔ حیاب جکیم سیخ محمد شعید کی تررپر ‪ 00‬ویں مجلے میں سا یع ہونی بھی۔ اس کا انگرپزی پرحمہ اس مجلے میں‬

‫٭‬

‫سامل کیا گیا ہے‪ ،‬حضرت موالنا قاصی عیدالرحمن‪ ،‬مجاہد ِ کسمیر حضرت موالنا قاری محمد عیداّٰللہ کے پرحمان اور پ یگالدبش کے حضرت موالنا محمد‬

‫ُ‬
‫ُ‬
‫َ‬
‫ش‬
‫اعر اہ ِل سنّت حیاب‬
‫عیدالمیان کی اردو تررپریں تیش کی جارہی ہیں۔ اردو کے نام ور ساعر حیاب ایور عور تے اپئی عقیدت م یظوم کی ہے اور س ِ‬
‫ظارق سلطان یوری کا م یظوم نارتجی فظعہ بھی سامل کیا جارہا ہے۔ قاصل یوخوان موالنا محمد ساہدین اسرقی تے اپئی نادداستیں تررپر کی ہیں اس‬
‫کی نہلی فسط ہدنہئ قارتین ہے۔ اس مجلے کی مسلسل اساعت حضرت حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب یورانی اوکاڑوی کی مرہون منت ہے‪،‬‬
‫ہماری گزارش ہے کہ ان کے لئے دعاے جیر فرماتیں۔‬

‫ہم انک مرپتہ ب ھر ان تمام احیارات و خراند اور نی وی چے نلز کا سکربہ ادا کرتے ہیں حتہوں تے ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ‬
‫اعظم علتہ الرحمہ کے ساالبہ عرس سریف کے موفع پر حصوصی مصامین اور عرس میارک کی یقرپیات کی جیریں تماناں سا یع کیں۔ ان تمام‬
‫حضرات و خواتین کے لئے ہم جیر و پرکت کی دعا کرتے ہیں حتہوں تے مساجد‪ ،‬مدارس‪ ،‬مراکز‪ ،‬اداروں‪ ،‬جایقاہوں اور گ ھروں میں ایقرادی اور‬

‫ع‬
‫یل‬
‫اج عقیدت و محنت تیش‬
‫احیماعی طور پر ہمارے ق ہئ عالم حضرت حطنب ِ ا ظم رحمۃ اّٰللہ علتہ اور حضرت ماں چی قیلہ رحمۃ اّٰللہ علتہا کو خر ِ‬
‫کرتے ہوتے انہیں ایصال یواب یا۔ اّٰللہ یعالی ّ‬
‫عزوجل سیھی کا ہدبہ ق تول فرماتے اور ہمارے محسن و مرنی حضرت حطنب ِ اعظم اور حضرت‬
‫ک‬
‫ِ‬
‫اماں چی علتہما الرحمہ کے درجات نلید فرماتے‪ ،‬آمین‬

‫ُ‬
‫ج‬
‫لس خواتین گل ِزار حب نب کی نگران اور ان کی معاون خواتین کا ہم جاص طور پر سکربہ ادا کرتے ہیں کہ وہ سال ب ھر بہ ضرف‬
‫م ِ‬
‫ٰ‬
‫گ‬
‫صول پرکات کے لئے محقلیں سجانی ہیں نلکہ ک ِالم الہی‪ُ ،‬درود سریف اور وظایف کا کیرت سے ِورد کرکے ساالبہ عرس سریف کے‬
‫د پئی آ ہی اور ح ِ‬
‫موفع پر ایص ِال یواب میں تماناں حصہ لبئی ہیں۔ اّٰللہ یعالی ان شب کو تے پیاہ خزاتے جیر عطا فرماتے‪ ،‬آمین‬
‫اس مجلے میں ہم سال ب ھر میں رو تما ہوتے والے اہم وافعات اور د پئی مسلکی خوالے سے ضروری معامالت پر اظہار حیال کرتے‬
‫ہیں۔ نلخ و پرش ناتیں بھی اصالح و یعمیر کی عرض سے کرتے ہیں‪ ،‬کسی کی دل آزاری نا یضحیک و تحفیر سے ہمیں تحمدہ یعالی ہر گز کونی عالقہ‬
‫ن‬
‫نہیں۔ ہم نک ہیحئے والی تررپروں میں سے بھی کحھ اس مجلے میں سامل کی جانی ہیں۔ ہم سے اس تررپر میں کونی حطا نا کسی طرح کونی کوناہی‬
‫ل‬
‫ہونی ہو یو اس کے لئے ہم نہت معذرت خواہ ہیں۔ کونی نات اگر نادرشت کھی گئی ہو یو اس کی معاقی جا ہئے ہیں۔ اپئی کارکردگی نہیر پیاتے‬
‫٭‬

‫کے لئے ہم آپ کی م ید جاوپز اور کام نانی کے لئے آپ سے یعاون اور دعاؤں کے درخوا ت گزار ہیں۔ اّٰللہ یعالی ّ‬
‫عزوجل ہم شب پر اپیا‬
‫ش‬
‫ق ت‬
‫فصل و کرم فرماتے‪ ،‬آمین تجاہ البئی االمین صلی اّٰللہ یعالی علتہ وعلی وآلہ واصجابہ ونارک وسلم احمعین۔‬
‫من جاپب‬

‫ش‬
‫ضوقی محمد حب نب الرحمن ق یعی‬
‫ضوقی ضوبہ جان قادری‬

‫سیخ غب تق الرحمن اتچنبیر‪ ،‬یو اے ای‬
‫محمد لیاقت جان قادری‬
‫محمد رضوان عیاسی‪ ،‬افریقا‬
‫سیخ محمد رق تق یقش پیدی‪ ،‬اوکاڑا‬
‫ضوقی عالم قادر قادری‬
‫محمد ناسر اغوان‬
‫سیخ جلیل احمد‪ ،‬پ توکی‬
‫مرزا محمد ارساد معل‪ ،‬الہور‬
‫جاچی جاوند معرقانی‬
‫محمد عیمان صدیقی‪ ،‬امریکا‬
‫اظہر اقیال کامران‪ ،‬سوازی لبیڈ‬
‫موالنا محمد اکیر یقش پیدی‬
‫سید اسرف اسرقی‪ ،‬امریکا‬
‫جاچی مح توب الرحمن قادری‪ ،‬پرظاپیا‬
‫مطلوب الرحمن زاہد‬
‫جافظ شعید احمد مکی‪ ،‬پرظاپیا‬
‫سیخ محمد عرقان یقش پیدی‪ ،‬پرظاپیا‬
‫ضوقی اقیال احمد‪ ،‬پرظاپیا‬
‫موالنا شیراز ایم قادری‪ ،‬افریقا‬

‫ضوقی محمد عرب‪ ،‬یو اے ای‬
‫سیخ محمد اسرف‪ ،‬بیر مجل‬
‫موالنا قاری مظہر عیاس‪ ،‬ہری یور‬
‫ساہد ایوب فربسی‬
‫محمد سلمان فربسی‬
‫ضوقی میاں احمد‪ ،‬الہور‬
‫جاچی پئے میاں قادری‬
‫محمد جامد قادری‬
‫سیخ پیک محمد‪ ،‬سرق یور سریف‬
‫ضوقی ایو محمد قادری‬
‫سید محمد ساجد وارنی‬
‫جافظ محمد اکرم‪ ،‬اوکاڑا‬
‫موالنا محمد آصف رمصان‬
‫موالنا عالم محمد صدیقی‪ ،‬انک‬
‫سیخ پ توپر احمد‪ ،‬حسبیاں سریف‬
‫سیخ محمد عمر‪ ،‬راول پیڈی‬
‫محمد زبیر جان قادری‪ ،‬بھارت‬
‫خواجہ محمد یعیم‪ ،‬سیال کوٹ‬
‫عیداللط یف قادری‬

‫حیدر علی قادری‬
‫ہاسم م یصور قادری‪ ،‬ح تونی افریقا‬
‫محمد اپراہیم اسمال قادری‪ ،‬افریقا‬
‫حمید اّٰللہ قادری‬
‫راجا عیدالحمید‪ ،‬آس پرے لیا‬
‫سید م تور علی ساہ تجاری‪ ،‬امریکا‬
‫محمد الیاس‪ ،‬ہانی یواپ نٹ‬
‫پ توپر اقیال قادری‪ ،‬امریکا‬
‫زمرد یقلین‬
‫جاچی رحیم الدین فربسی‬
‫سیخ م یظور احمد قادر ی ‪ ،‬الہور‬
‫احمد رسید‪ ،‬ح تونی افریقا‬
‫جاچی محمد حسین میمن‬
‫سیخ محمد شق تق‪ ،‬الہور‬
‫سید محمد حبید قادری‬
‫محمد عیمان قلیدری‬
‫بیر مفصود احمد شعید ‪ ،‬راتے ونڈ‬
‫محمد عیمان یقش پیدی‪ ،‬یو کے‬
‫سیخ جالد رسید یقش پیدی‬

‫ضوقی م یظور احمد ‪ ،‬وزپر آناد‬
‫سید یورانی حق یظ قادری‬
‫سبیر احمد قادری‪ ،‬مابشہرہ‬
‫محمد جلیل معل‪ ،‬گوخراں واال‬
‫محمد یواز‪ ،‬امریکا‬
‫محمد مصظقی (دکن‪ ،‬بھارت)‬
‫محمد اقیجار حسن قادری‪ ،‬شعودی عرب‬
‫ملک محمد رمصان‬
‫عالم رسول قادری‬
‫محمد نادر جان قادری‬
‫سیخ فرند پیار‪ ،‬بھارت‬
‫عالم مصظقی رضوی‪ ،‬بھارت‬
‫سیخ عمر علی‪ ،‬الہور‬
‫پ توپر احمد جان‬
‫موالنا محمد عرقان قادری‬
‫ندیم پیاز‬
‫جاچی محمد ایور (اوکاڑوی)‬
‫موالنا عالء الدین قادری‬
‫محمد عالم عیاسی‬

‫محمد راسد جان قادری‬
‫محمد اقیال تبئی‪ ،‬دپئی‬
‫اصعر علی‬
‫محمد ناپر‬
‫محمد زبیر الدین‬
‫جافظ محمد ناضر قادری‬
‫محمد عارف فربسی‪ ،‬جاپیا‬
‫محمد الطاف فربسی قادری‬
‫محمد یور جان قادری‬
‫جاچی عطیم حسین‬
‫محمد ظقیل نانا‬
‫محمد فرقان جان اللی‬
‫موالنا محمد بسیم‬
‫موالنا محمد ناضر‬
‫جافظ محمد راسد قادری‬
‫سید ناقب علی‬
‫جافظ محمد شق تق یورانی‪ ،‬ملیان‬
‫حبید رصا‪ ،‬نہاول یور‬
‫ہارون رسید‪ ،‬ایو طئی‬

‫ّ‬
‫محمد سلیم سئی‬
‫عیدالعقار داؤد‬
‫سید اسجق عادل ساہ‬
‫محمد پروپز اسرف (امریکا)‬
‫خودھری محمد شق تق مہر (امریکا)‬
‫محمد وقاص درانی‬
‫عامر جاں درانی‬
‫احسن عیدالرحمن‬
‫سیخ سکیل قادری‬
‫محمد اپرار‬
‫بسیم عطاری‬
‫سید اسالم ساہ (امریکا)‬
‫محمد قاصل (یو اے ای)‬
‫محمد ساہد ملک‬
‫رضوان ملک‬
‫رق یع اّٰللہ فربسی‬
‫احسان اّٰللہ فربسی‬
‫وقاص مصظقی قادری‬
‫کاشف ایوب فربسی‬

‫سید ساہ حسین راجا‬

‫جادمین و معاوتین‬
‫موالنا اوکاڑوی ؒ اکادمی (العالمی)‬
‫‪Email: maulanaokarviacademy@yahoo.com‬‬

‫ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ تے تررنک ِ ناکسیان میں ب ھریور حصہ لیا اور قی ِام ناکسیان کے یعد مہاخرین کی آنادی کاری‬
‫میں بھی تماناں جدمات اتجام دیں‪ ،‬ا پئے مرسد ِ گرامی حضرت قیلہ نانی صاجب سرق یوری رحمۃ اّٰللہ علتہ کے سابھ وہ انک عرصہ بہ جدمات اتجام‬
‫د پئے رہے۔ تررنک ناکسیان ورکرز پرشٹ کی طرف سے اس کے اعیراف میں انہیں ”تررنک ِ ناکسیان گولڈ میڈل“ دنا گیا‪ ،‬موالنا اوکاڑوی اکادمی‬
‫(العالمی) کی طرف سے ہم مذکورہ پرشٹ کا سکربہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں تے دپر سے شہی مگر بہ اعیراف کیا اور اسے نارتخ کا حصہ پیانا۔‬

‫میل ِغ عا ِلم اسالم‪ ،‬حطنب ِ اعظم ناکسیان حضرت عالمہ موالنا مقئی‬
‫الجاج جافظ محمد شق یع اوکاڑوی رحمۃ اّٰللہ علتہ و یور اّٰللہ مرقدہ‬
‫مصظ‬
‫اران مصظقی کی للکار‪ ،‬عقیدہئ خق کی آواز‪ ،‬سبّ نت کی پرواز ین کر اپئی زندگی میں خود بھی حمکئے رہے‬
‫عاشق ِان قی کی یکار‪ ،‬جان پی ِ‬
‫اور ا پئے تے سمار سامعین کو بھی حمکاتے رہے۔ آپ کی وقات سے آج نک یوری دپیا سے آپ کے جا ہئے والوں تے ا پئے ا پئے ناپرات اور‬
‫حضرت حطنب ِ اعظم ناکسیان علتہ الرحمہ کے خوالے سے ا پئے ا پئے سابھ تیش آتے والے وافعات لکھے اور آپ کے ہر عرس سریف کے‬

‫موفع پر حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب یورانی اوکاڑوی صاجب تے عقیدت میدوں کے ان ناپرات کو ”الحطنب“ کیانی سلسلہ کے نام سے‬
‫ْ‬
‫ی‬
‫پ‬
‫ظ‬
‫ع‬
‫حھ تواکر قسیم بھی کیا‪ ،‬کسی ط یقہئ زندگی سے م یعلق ابسا کونی سمار میں نہیں آنا حس تے حضرت حطنب ِاع م ناکسیان کے لئے ا ئی قیدت و‬

‫محنت کے بھولوں کو سجاکر قلم پید بہ کیا ہو۔ ان میں جاہے غوام ہوں نا خواص‪ ،‬ظلیاء ہوں نا علماء‪ ،‬مساتخ ہوں نا اصقیا‪ ،‬واعطین نا مدرسین‪،‬‬
‫جکماء ہوں نا ڈاکیرز‪ ،‬وکالء ہوں نا صجاقی۔ عرض بہ کہ ہر شعتہ ہاے زندگی سے یعلق رکھئے والے فرد تے حطنب ِاعظم ناکسیان سے لگاؤ اور دلی‬
‫جذنات و ک یقیات کا اظہار کیا۔ میں ناجیز ہر عرس کے موفع پر اس نادگاری مجلہ کو دنکھ کر مجلیا بھا کہ میں بھی اپئی عقیدت اور محنت کا اظہار‬
‫کروں اور حضرت حطنب ِ اعظم ناکسیان‪ ،‬صاجب عرس سے اپئی دلی لگاؤ اور ک یقیات کو قلم پید کروں ناکہ ڈاکیر کوکب یورانی اوکاڑوی صاجب دنگر‬

‫جا ہئے والوں کے سابھ میرا نام بھی لکھ دیں لیکن حطنب ِ اعظم ناکسیان کے ہر عرس کے موفع پر م یظِر عام پر آتے واال رسالہ تحھلے رسالے‬
‫سے زنادہ حسین ہونا۔ ان رسالوں میں عقیدت میدوں کے تررپر کردہ مونی تما القاظ اور جاذب ِ قلب اہل علم و دابش کے سجے ہوے حملے پڑھ‬
‫کر میں اپئی کم علمی اور کم عقلی پر سرماجانا بھا اور سو یا بھا کہ یا میں ح ب ِ م ت ّ‬
‫والدین جن کی ذات واال صقات کی خوپ توں کے م یعدد نہلو‬
‫طن ل‬
‫ک‬
‫ح‬
‫ہیں کسی انک خونی کو تررپر کرتے کے لئے سان ِان سان القاظ لکھ سکیا ہوں؟ کیا خو محھے اور میرے مرخوم والد صاجب قیلہ علتہ الرحمہ کو‬
‫حطنب ِاعظم ناکسیان سے دلی لگاؤ اور عقیدت بھی اس کا ا حھے حملوں میں اظہار کرسکیا ہوں۔ کیھی کیھی محقلوں‪ ،‬جلسوں میں عالمہ ڈاکیر‬
‫کوکب یورانی اوکاڑوی صاجب سے مالقات ہونی یو وہ بھی اپئی محصوص مسکراہٹ کے سابھ سکوہ کرتے کہ آپ حیسے حضرت صاجب ِ عرس سے‬
‫فرپت رکھئے والے محنت کا دم بھرتے والے تے حضرت کے خوالے سے کحھ لکھا؟ وہ اپیا مفصد بھی پیاتے کہ ہوسکیا ہے کونی اہم وافعہ نا‬
‫نات ہم سے اوحھل ہو اور ابھی نک تررپر بہ ہونی ہو‪ ،‬وہ محفوظ ہونی جا ہئے۔ محھے پڑی ندامت کے سابھ اس کا احساس ہو ناکہ میں کبئی پڑی‬
‫عقلت میں ہوں۔ حطنب ِاعظم ناکسیان کی شفق توں‪ ،‬ان کی کرم یوازیوں کو ہم کیسے فراموش کرسکئے ہیں۔ ہماری اوالد کیسے جاتے گی کہ ان‬

‫عطیم اعلی مرپ نت سحصیات کی ہم پر کیسی کیسی یوازسات اور عیانات ہیں اور ہمیں ان سے کیا بسنت ہے اور بہ عقیدہ خق اہل سنّت ہم‬
‫ع‬
‫نک ہمارے گ ھرایوں نک کیسے نہیجا ہے۔ ہم آقاے کاپیات‪ ،‬فرر موخودات ﷺ کو آپ کی تمام ظم توں کے سابھ ما پئے والے کیسے ین گئے‬
‫کن ہسب توں تے ہمیں اعلی حضرت امام اہل سنّت مجدد دین و ملت مجدت پرنلوی الساہ موالنا احمد رصا رحمۃ اّٰللہ علتہ کے مطایق عقیدہئ خق کی‬
‫پرحمانی کرکے ہمارے گ ھرایوں‪ ،‬ہماری بسلوں کو گمراہی سے تجانا۔ اس پیل ی ِغ خق اور کارہاے تماناں میں جہاں اور معبیر ہسب توں اور ناکیزہ مقدس‬
‫سحصب توں کا نام آنا ہے ان میں میلغ عالم اسالم حطنب ِاعظم ناکسیان حضرت عالمہ مقئی الجاج موالنا محمد شق یع اوکاڑوی رحمۃ اّٰللہ علتہ و یور اّٰللہ‬
‫مرقدہ کا ن ِام نامی ا ِسم گرامی ستہری خرقوں سے لکھا ہوا یظر آے گا خو حطنب ِ شیریں پیان ا پئے وقت کے تے میل یعت خواں جافظ فرآن‬
‫ہوتے کے سابھ سابھ ا پئے عقیدہئ خق اہ ِل سنّت کی پرحمانی‪ ،‬مذہئی معلومات کے لئے غوام الیاس کے دلوں میں پیدا ہوتے والے سکوک اور‬
‫مسکالت و پربسانی دور کرتے کے لئے م یعدد مدلل کیایوں کے مصیف بھی بھے۔ حطنب ِاعظم ناکسیان تے یقرپری میدان میں ہی نہیں نلکہ‬
‫تررپری میدان میں بھی اپئی جداداد صالحب توں کا لوہا م توانا اور ندعقیدہ نام نہاد علم کا گم راہ کن گھمیڈ رکھئے والوں کے داپت کھئے کئے آپ تے‬
‫ذکر حمیل اور س ِام کرنال اور میاطرہ کرتے والوں‬
‫غوام الیاس کے لئے تماز کی کیاب اور ِراہ خق اور ِراہ عقیدت واعطین کے لئے الذکر حسین و ِ‬
‫ٰ‬
‫کے لئے امام ناک اور پزند نلید‪ ،‬یعارف علماء دیوپید حیسی مدلل کیاتیں لکھ کر ا پئے آقا و مولی سے والہابہ عسق اور عالمی بسنت کا اظہار کیا۔‬

‫آج ‪ 3‬یومیر ‪3102‬ء حضرت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی صاجب سے مالقات کرتے ان کے مقررہ وقت کے مطایق یعد تماز معرب‬

‫گ‬
‫ن‬
‫م‬
‫عرس مجدوم سید‬
‫جا ع مسجد ل ِزار حب نب سولرر نازار میں ا ہیں سرک ِار کالں قاؤنڈبسن کے زپر اہیمام ‪ 21‬یومیر ‪3102‬ء کو م یعقد ہوتے والے ِ‬
‫دغوت حطاب د پئے کے لئے جاضر ہوا۔ حضرت پڑی محنت سے یعل گیر ہوے اور بھی لوگ وہاں‬
‫اسرف جہانگیر سمیانی رحمۃ اّٰللہ علتہ کے لئے ِ‬
‫موخود بھے ان میں دو احیاب مدپتہ سریف کے رہابش رکھئے والے بھی حضرت سے ملئے کے لئے آے بھے۔ حضرت تے محھ کم پرین کا یعارف‬

‫ُ‬
‫ان سے کرانا یو کوکب یورانی صاجب کی ملن ساری سے یو دلی مسرت ہونی ہی بھی لیکن دن ِار مصظقی میں رہئے والوں کے پریور جہرے دنکھ کے‬
‫مزند دل ناغ ناغ ہوگیا اور ک توں کہ عالمہ کوکب یورانی حیسی ہسئی ا بسے عاس ِق رسول کے لح ِت جگر ہیں کہ کیھی ان کی گقیگو میں مد پئے والے‬
‫کے اور مد پئے کے وافعات ہوتے ہیں کیھی بہ خود مد پئے میں اور کیھی ان کے گ ھر پر مد پئے کے افراد ہوتے ہیں۔ جیر جب دنگر آے ہوے‬
‫س‬
‫لوگوں سے لسلہئ گقیگو بھہرا یو میں تے اپئی گزارش تیش کی حضرت تے ب ھر حطنب ِ اعظم ناکسیان کے لئے لکھئے کی ناددہانی کرانی میں تے‬
‫پڑی سرمیدگی سے کہا حیسا بھی محھ سے لکھا جاشکا اس نار ضرور لکھ کر تیش کروں گا۔ میں ب ھر وہاں عساء کی تماز پڑھ کر پریقک کے َرش کی‬
‫وجہ سے نہت بھک کر گ ھر آکر لنٹ یو گیا لیکن پڑی تے حبئی کی کروٹ لے رہا بھا حین نہیں مل رہا بھا اور نار نار حطنب ِاعظم ناکسیان علتہ‬
‫الرحمہ کا حیال آرہا بھا۔ جلسوں میں ان کا حطاب سبیا کیھی ان کے گ ھر جانا‪ ،‬کیھی کیھی حضرت کا حقا ہوجانا …… ہم حیسے ناکارہ کے لئے‬
‫ُ‬
‫دوران یقرپر ہماری اصالح کرنا ناد آرہا بھا۔ جب رات انک‬
‫اگر ان کے سا مئے یقرپر کا اعالن ہونا حضرت کا گقیگو کو سبیا ب ھر وہیں تبیھے ہوے نا ِ‬
‫تجے کا وقت ہوا اور تبید نہیں آنی یو میں کاعذ قلم لے کر تبیھ گیا بہ سوچ کر القاظ وصع دار ہوں نا تے وصع ہوں پڑھئے والوں کے لئے معیار‬
‫کے ہوں نا عیر معیاری‪ ،‬حطنب ِاعظم ناکسیان علتہ الرحمہ یو ا پئے روجانی یضرف سے محھ ناجیز کی عقیدت کو ق تول فرماہی لیں گے ک توں کہ‬
‫ل‬
‫ب‬
‫ی‬
‫والن نارگاہ پیدوں‬
‫عض کیایوں میں کھے ہوے وافعات کے مطایق اّٰللہ والے کسی کی یقرپر نا تررپر سے ھی خوش ہوجاتیں یو اّٰللہ یعالی ا پئے مق ت ِ‬
‫کی خوسی کو بھی اس پیدے کے لئے تحشش کا ذریعہ پیاد پیا ہے۔‬

‫بہ ‪0022‬ء کی نات ہے کہ جب میں نہلی نار ‪ 2‬سال کی عمر میں م توہ ساہ قیرسیان کے فرپب مکرانی ناڑا کی مدپتہ مسجد میں‬
‫حضرت والد مرخوم محمد رق تق اسرقی رحمۃ اّٰللہ علتہ کے سابھ حضرت حطنب ِ اعظم ناکسیان کا حطاب سبئے گیا بھا۔ میرے والد صاجب حضرت‬
‫ع‬
‫سے والہابہ عقیدت رکھئے بھے اور اپئی کم لمی کے ناوخود اپئی قیملی ا پئے دوستوں میں حضرت اوکاڑوی صاجب کی یقرپر کا خوالہ دے کر نات کو‬

‫ی‬
‫م توالیا کرتے بھے۔ میرے ناناعلتہ الرحمہ (خو اس وقت کیر وہانی بھے اور سیدھ ‪0031‬ء میں ہیدوسیان سے پ ل یعی حماعت کا اپر لے کر‬
‫ناکسیان آے بھے) جب کراچی آے یو گ ھر کے اور فرپئی عالقہ رنکسر الین میں حضرت اوکاڑوی صاجب کا حطاب ُسیا یو نہلے ہی حطاب میں ا پئے‬
‫عقیدے سے نذنذب پیدا ہوا۔ بہ میرا نہال موفع حضرت کے دندار کا بھی اور سماع ِت حطاب کا بھی بھا۔ بھر کیا حضرت کی ضورت آنکھوں میں‬

‫اور آپ کی آواز کایوں میں ابسی رچ بس گئی کہ میں گھر میں‪ ،‬مدرسے میں عام گقیگو بھی کرنا یو حضرت کے اند ِاز پریم میں ہی کرنا بھا یعئی آپ‬
‫ُ‬
‫کے انداز پریم کے سابھ جب کونی نات کرنا اور حملہ خواب ظلب ہونا یو میں اسی انداز میں خواب د پیا۔ ہر ملئے واال پربسان اس دور کے کم سئی‬
‫کے دوشت تجے شب محھے حھونا شق یع اوکاڑوی‪ ،‬کونی تحہ اوکاڑوی کہہ کر میرا ذکر کیا کرنا۔ ب ھر محھے یقرپریں کرتے کا سوق پیدا ہوگیا جب کہ ابھی‬
‫م‬
‫میں تے ناطرہ فرآن ناک بھی کمل نہیں کیا بھا۔ ہمارے عزپزوں‪ ،‬پڑوستوں کے تجے ا پئے والدین سے خڑنا گھر جاتے کی خواہش کرتے نا دنگر‬
‫یقرتجی مقامات پر جاتے کی صد کرتے لیکن میں ا پئے والد صاجب سے بہ ہی کہیا کہ حضرت اوکاڑوی صاجب کا حطاب کہاں ہے‪ ،‬بس آپ‬
‫محھے وہاں لے کر جلیں۔ میرے والد صاجب خو انک عرپب آدمی بھے مراد آنادی پرپ توں پر یقش و یگار کا کام کرتے اور میرے نانا (خو کہ مررد‬
‫بھے) ہمارے سابھ رہئے بھے۔ دویوں کام کرتے کرتے مذہئی گقیگو سروع کرد پئے اور حطنب ِاعظم ناکسیان کا ذکر سروع ہوجانا۔ نانا صاجب‬
‫کا حھکاؤ اگرجہ ندعقیدگی‪ ،‬دیوپیدپت کی طرف زنادہ بھا لیکن حضرت اوکاڑوی صاجب رحمۃ اّٰللہ علتہ کے حطاب سے وہ آہستہ آہستہ صحیح العقیدہ‬

‫ہوتے جارہے بھے۔ حس دن ان دویوں بھاپ توں میں حضرت اوکاڑوی صاجب کا نذکرہ ہونا اسی دن دل مجلیا کہ حضرت کے حطاب کی جگہ‬
‫معلوم ہوجاے کہ کہاں ہے۔ میرے والد صاجب دن بھر میں دو تین روتے کی مزدوری کرتے یعض انام میں وہ بھی نہیں ہوتے لیکن‬

‫ح نب میں بس کا کرابہ ہو نا بہ ہو حضرت کے حطاب کا پیا لگ جاے‪ ،‬وہ جگہ کبئی ہی دور ک توں بہ ہو وہاں الزمی نہیحیا ہونا بھا۔ ہم لوگ رنکسر‬
‫الین کی حھگ توں میں رہئے بھے بس کا کرابہ انک آتے ہونا بھا یعض وقت وہ بھی نہیں ہوتے یو محھے کاندھے پر پیھاکر والد صاجب دور دور کا‬

‫ن‬
‫شقر پیدل کرکے حضرت کا حطاب سبئے ہیحئے اور آپ کی آواز کایوں میں پڑتے ہی ساری بھکن دور ہوجانی۔ حضرت اکیر ا پئے جلسوں میں‬
‫ہمیں دنکھئے کی وجہ سے احبی ِام حطاب پر لوگوں کے ہجوم میں مصافحہ کرتے ہوے حصوصی شففت کا اظہار فرماتے۔ اکیر اوقات یو جلسہ کے‬
‫احبیام پر قورا روابہ ہوجاتے لیکن اگر صاجب ِ جابہ نا اراکین جلسہ جاے وعیرہ تبئے کا اضرار کرتے یو میرے والد صاجب کو بھی فرپب نال لبئے۔‬
‫حضرت کے جلسوں میں جاتے حطاب سبئے کی وجہ سے میرا یقرپر کرتے کا سوق پڑھیا جال جارہا بھا یو قیلہ والد صاجب ا پئے انک بیر بھانی ضوقی‬
‫ُ‬
‫مسیاق اسرقی عرف کلن بھانی خو حضرت سید ساہ علی حسین المعروف اسرقی میاں رحمۃ اّٰللہ علتہ کے مرند و جل یقہ بھے۔ ان کو میرے یقرپری‬
‫سوق اور حطنب ِ اعظم کی طرز میں گقیگو کرتے کا پیانا یو انہوں تے محھے فصیلت ُدرود سریف پر انک یقرپر لکھ دی حس کو میرے والد صاجب‬
‫ُ‬
‫تے پڑی محنت سے حفظ کرادی اور ب ھر میں مارین کوارپر جہانگیر روڈ پر اسرقی سلسلے کے انک پزرگ سید ارساد علی میاں رحمۃ اّٰللہ علتہ (خو اس‬
‫ُ‬
‫وقت حیات بھے۔ بہ پڑے ہی پریور جہرے والے پڑے ہی یفوی اور پرہیز گاری اور عیادت گزاری زندگی بسر کرتے والے بھے‪ )،‬ان کے گ ھر‬
‫ماہابہ محقل ذکر و میالد ہونی بھی۔ میرے بھوبھا محمد عمر صدیقی علتہ الرحمہ ان کی محقل میں جاتے بھے اور انہی سے سرف پ یعت بھی رکھئے‬
‫ب‬
‫وث اعظم حضرت ساہ علی حسین اسرقی میاں رحمۃ اّٰللہ علتہ کے جل یقہ مجاز بھے۔ میں‬
‫بھے ک توں کہ حضرت سید ارساد علی میاں ھی سبتہہ غ ِ‬
‫تے وہ فصیلت ُدرود سریف خو یقرپر حفظ کی بھی قیلہ والد صاجب کے کہئے پر حضرت حطنب ِاعظم ناکسیان کے انداز میں وہاں ُسیادی حس پر‬
‫جاضری ِن محقل کی طرف سے پڑی خوصلہ افزانی ملی اور نانی محقل سی ِخ طریفت تے حصوصی شففت کا اظہار فرمانا ب ھر میرے نانا مرخوم عیدالقدپر‬
‫ُ‬
‫صاجب خو حطنب ِ اعظم کے حطانات سبئے سبئے نالکل صحیح العقیدہ سئی ین جکے بھے وہ اور میرے والد بھی حضرت سید ارساد علی میاں سے‬

‫ُ‬
‫حق‬
‫رود ناج ناد کرانا اور میں حطنب ِاعظم‬
‫پ یعت ہو گئے اور ناپیدی سے ہر ماہ م ل میں وہاں آنا جانا ہوگیا۔ میرے والد صاجب پڑی محنت سے محھے د ِ‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫ب‬
‫رود ناج محھ سے پڑھوانا جانا‬
‫رود ناج پڑھئے لگا اب جہاں ھی گ ھر والوں میں عزپزوں کے ہاں قاتحہ خوانی ہونی د ِ‬
‫ناکسیان کے اند ِاز پریم میں ہی د ِ‬
‫ک توں کہ انک حھ سال کی عمر دوسرے حطنب ِاعظم ناکسیان کا انداز اسی طرح سے سلسلہ محقلوں میں آتے جاتے کا پڑھیا گیا اور خو بھی محھے‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫گ حق‬
‫ن‬
‫رود ناج پڑھئے کی دغوت دے د پیا جہاں موفع ملیا میں وہ ہی فصیلت ُدرود پر ناد کی ہونی یقرپر‬
‫رود ناج پڑھیا ہوا د کھیا وہ کسی ا لی م ل میں د ِ‬
‫د ِ‬
‫بھی سیاد پیا حس سے پڑی خوصلہ افزانی تے بہ ضرف حضرات کی طرف نلکہ خواتین کی طرف سے بھی نہت زنادہ ملئی۔ میرے والد صاجب کی‬
‫پڑی خواہش بھی کہ کسی طرح محھے حطنب ِاعظم ناکسیان کے سا مئے یقرپر کا موفع مل جاے یو ضوقی مسیاق صاجب (جن کا میں ذکر کرحکا‬
‫ہوں کہ حتہوں تے محھے بہ یقرپر لکھ کر دی بھی‪)،‬وہ ہر سال رپ یع االول سریف میں ڈرگ کالونی رپیا نالٹ کی مسجد ح یفتہ میں حضرت‬
‫حطنب ِاعظم ناکسیان کا حطاب کرانا کرتے بھے۔ والد صاجب کی خواہش کے مطایق انہوں تے ا پئے جلسہ میں حطنب ِاعظم ناکسیان کے‬

‫حطاب سے قیل حضرت کے سا مئے ہی میری کم عمری کے سابھ میرے نام کا اعالن کیا جب حضرت تے محھے مانک پر جاتے ہوے دنکھا یو‬
‫پڑی خوسی اور یعحب سے دنکھا اور ان کے سابھ تبیھے دنگر علما کرام جن میں حضرت موالنا محمد حسن قادری صاجب (خو ان دیوں ہر جلسے میں‬
‫حضرت حطنب ِاعظم ناکسیان کے سابھ ہوتے بھے‪ )،‬شب تے پڑی یعحب سے محھے مانک کی طرف جاتے ہوے دنکھا جب میں اپئی تحکابہ آواز‬
‫میں حطنب ِ اعظم ناکسیان کے انداز میں حطتہ پڑھا اور فصیلت ُدرود سریف پر یقرپر کی میرا طریقہ بہ بھا کہ انک حملہ دو نار یولیا بھا۔ انک نار میں‬
‫ُ‬
‫م‬
‫ا پئے اور ب ھر اسی حملے کو انک نار اوکاڑوی پریم میں ُدہرانا۔جب دس منٹ کی یقرپر کمل ہونی یو جاضرین میں کاقی لوگوں تے انک انک روتے‬
‫والے یوٹ د پئے اور خود حطنب ِاعظم ناکسیان تے محھے ا پئے فرپب نالنا‪ ،‬گلے سے لگانا اور ناتچ روتے کا یوٹ اپئی ح نب ِ جاص سے عطا فرمانا۔‬
‫ممیر جن کا نام ساہد شق تق صاجب بھا انہوں تے بھی دس روتے کا یوٹ ‪ BT‬حضرت کو دنکھ کر اسبیج پر تبیھے دنگر علما جاص کر عالقے کے‬

‫دنا میں اس وقت ادب و آداب کی اپئی تمیز نہیں جاپیا بھا جب سارے تیسے لے کر والد صاجب کے ناس گیا یو انہوں تے ڈاپٹ کر کہا کہ یم‬
‫تے حضرت کے ہابھ نہیں خومے جب کہ انہوں تے اپئی شففت سے تمہیں ناس نالنا‪ ،‬تیسے بھی د پئے‪ ،‬جیر حضرت کاحطاب سروع ہوحکا بھا‪،‬‬
‫حطتہ پڑھئے کے یعد حضرت حطنب ِاعظم ناکسیان تے پڑی خوصلہ افزانی والے کلمات میرے لئے فرماے اور دوسروں کو بھی ا پئے تجوں کو‬
‫جلسوں میں علما کا حطاب سیاتے‪ ،‬ع ِلم دین سکھاتے کے لئے رع نت دالنی۔ جلسہ کے احبیام پر حضرت والد صاجب سے پڑی یوجہ کے سابھ‬
‫گقیگو فرمانی۔ گ ھر کے جاالت معلوم کئے ک توں کہ میرے والدہ کا انہیں دیوں اپ یقال ہوا بھا۔ ان کے لئے دعاے معقرت فرمانی اور ا پئے گھر‬

‫کا پیا دنا اور آتے کی دغوت دی خو ہم حیسوں کے لئے پڑے اعزاز کی نات بھی۔ دوسرے ہقئے ہم حضرت کے دولت کدے پر جاضر ہو گئے۔‬
‫ُ‬
‫حضرت اس وقت عسل فرمارہے بھے ہم انک کمرے میں تبیھ گئے وہاں میں تے نہلی نار پیلی قون کی گھبئی سئی۔ حضرت بسریف الے یو‬

‫پڑی شففت کا اظہار فرمانا ب ھر محھے گھر میں تجوں کے ناس لے گئے۔ شب تجوں کو آواز دی یورانی‪ ،‬سیجانی اور شب کو نالنا۔ انک حھونی تجی تے‬
‫کہا کہ کچن میں کام کررہی ہوں حضرت تے فرمانا ”سارے کاماں یو حھڈ دے اندر آجا“ تجی جلدی سے آگئی ب ھر حضرت محھ سے وہی یقرپر‬

‫کرتے کا فرمانا‪ ،‬میں سرمارہا بھا سادہ انداز میں یولیا سروع کیا یو حضرت تے فرمانا ا بسے نہیں اوکاڑوی انداز میں یولو‪ ،‬بس ب ھر کیا میں تے یولیا‬

‫سروع کیا یو حضرت کے ناتجوں تجے نہت خوش ہوے حضرت کے صاجب زادے صاجب زادناں پڑے ہی حسین و حمیل لیکن کوکب یورانی‬
‫اس وقت پیلے ُد نلے‪ ،‬لمیا سا کرنا نہئے ہوے بھے‪ ،‬انک حھونی سی ساپ یکل ان کے ناس بھی کوکب صاجب تے محھے جالتے کو کہا لیکن محھے‬
‫جالنا نہیں آبھی بھی‪ ،‬ب ھر ہم تے کھانا کھانا حضرت تے بھی ہمارے سابھ کھانا پیاول فرمانا۔ حضرت کا معمول بھا کہ جلسے سے فراعت کے یعد‬
‫ساری رات جا گئے بھے‪ ،‬مطالعہ کرتے بھے‪ ،‬ضیح فرر کے یعد سوتے بھے۔ کھاتے کے یعد ب ھر حضرت کے اوپر والے مکان میں خو لوگ رہئے‬
‫بھے حضرت محھے ان کے ناس لے گئے ان کے سا مئے یقرپر کا فرمانا یو اس گ ھر کے شب حھوتے پڑے حمع ہو گئے شب تے محھ سے یقرپر‬
‫ُ‬
‫اوکاڑوی پریم میں سئی‪ ،‬شب تے محھے انک روتے والے کڑک کڑک یوٹ د پئے۔ حضرت ب ھر ہمارے جاتے وقت والد صاجب کو گ ھر آتے‬
‫جاتے رہئے کا فرمانا اور دارالعلوم امجدبہ میں دا جلے کا مسورہ دنا۔‬

‫م‬
‫یع‬
‫ح‬
‫ب اعظم ناکسیان‬
‫ناج العلما حضرت موالنا قئی محمد عمر یمی علتہ الرحمہ خو اس وقت پڑی ا ھی صحت کے سابھ حیات بھے۔ حطن ِ‬
‫تے ان کے ہاں ماہابہ محقل میں جاتے کا مسورہ دنا ک توں کہ والد صاجب حطنب ِ اعظم ناکسیان کو اپیا آنانی یعلق مراد آناد سے پیا جکے بھے اور‬
‫ی‬
‫ناج العلما مقئی محمد عمر عیمی رحمۃ اّٰللہ علتہ کا یعلق بھی شہر مراد آناد سے ہی بھا‪ ،‬میرے والد ناظم آناد میں حضرت مقئی صاجب کی محقل میں‬

‫ُ‬
‫رود ناج پڑھئے اور والد صاجب کی خواہش کرتے پر یقرپر کرتے کی اجازت مل گئی وہاں مرزن العلوم کے حضرت مقئی‬
‫لے جاتے لگے وہاں د ِ‬
‫ی‬
‫صاجب کے نالمذہ اور موالنا حمیل احمد عیمی اور موالنا اقیال اور دنگر علما سے مالقات گاہے یگاہے ہونی رہئی۔ حضرت مقئی صاجب کو جب ہمارا‬
‫ی‬
‫س‬
‫یعلق مراد آناد اور لسلہئ اسرقتہ سے معلوم ہوا حضرت کی مزند یوجہ ہماری طرف ہوتے لگی ک توں کہ حضرت مقئی محمد عیمی رحمۃ اّٰللہ علتہ کا‬
‫یعلق بھی ہیدوسیان میں مراد آناد سے ہی بھا اور آپ مجدد سلسلہ اسرقتہ سنتہ غوث االعظم سید ساہ علی حسین اسرقی میاں رحمۃ اّٰللہ علتہ کے‬
‫جالقت ناقتہ بھے۔ ب ھر اسی دوران آرام ناغ کے فرپئی عالقے میں انک نہت عطیم السان فقید المیال جلسہ ہوا حس کی صدارت شفیِر عراق تے‬
‫کی بھی۔ کراچی کے اور ملک سے بھی پڑی شہرت کے جامل علما کرام تے ا پئے ا پئے حطانات کے خوہر دکھاے لیکن جب حطنب ِاعظم‬

‫ناکسیان کا حطاب ہوا یو سارے محمع میں انک ابسا ک یف ظاری ہوا کہ لوگوں کی حیچیں یکل گتیں۔ یعروں کی صداؤں سے سارا عالقہ گوتج ابھا۔‬
‫علما کی طرف سے و فقے و فقے سے صداے مرحیا نلید ہونی۔ شفیِر عراق حضرتبیر سید عیدالقادر الگیالنی حضرت حطنب ِاعظم ناکسیان سے پڑی‬
‫محنت فرماتے بھے کیھی ان کے گ ھر کی محقل میں حضرت کا حطاب ہونا بھا نلکہ کحھ ا بسے گ ھراتے بھی بھے کہ ان گ ھرایوں کے مرد یو اپئی‬
‫ُ‬
‫یقرپروں اور تررپروں میں میالد سریف کو ندعت کہئے لیکن ان کی خواتین ا پئے گ ھروں کی پروقار مجاقلوں میں حضرت کا حطاب کرانا کرنی بھیں۔‬
‫ب اعظم ناکسیان کے خوالے سے لکھے جاسکئے ہیں لیکن ابھی اسی پر اک یقا کرنا ہو ں کہ ؎‬
‫نہرجال نہت سے وافعات ہیں خو حضرت حطن ِ‬
‫ُ‬
‫زمابہ پڑے غور سے شن رہا بھا‬

‫یم ہی سو گئے داسیاں کہئے کہئے‬

‫از طرف‪ :‬جادم العلما محمد ساہدین اسرقی‬
‫جبیرمین مظہر العلوم اسرقتہ ونلفبیر پرشٹ‬
‫س‬
‫جل یقہ لسلہئ اسرقتہ سرکار کالں‪ ،‬کحھوحھا سریف‬

‫بسم اّٰللہ الرحمن الرحیم‬
‫س ِام کرنال“ کا پ یگال پرحمہ‪ ،‬وقت کا انک اہم مطالتہ یورا کیا ہے۔”‬

‫وافعہ کرنال‘ کے پیان میں من کل الوخوہ مسبید اور قانل قدر کیاب ”س ِام کرنال“ ہے‪ ،‬خو اردو زنان میں تررپر کردہ ہے‪ ،‬اس کا پ یگال ’‬
‫ّ‬
‫زنان میں پرحمہ ہوکر سا یع ہونا وقت کا انک اہم مطالتہ بھا‪ ،‬جافظ موالنا محمد اتیس الزمان تے اس کا پرحمہ کرکے بہ مطالتہ یورا کیا ہے اور اعلی‬
‫حضرت قاؤنڈبسن تے اس کو سا یع کرکے قارتین کے ہابھوں نہیجانا ہے۔ آج اس کی اساعت کا افبیاچی جلسہ ہے‪ ،‬محھ ناجیز کو کیاب مذکور پر‬
‫س‬
‫پ یضرہ ڈا لئے کا جکم دنا گیا ہے‪ ،‬حس کا میں ا پئے کو قانل نہیں محھیا ہوں‪ ،‬ناہم میدرجہ ذنل یکات کی روسئی میں ا پئے ماقی الضمیر کو تیش‬
‫کررہا ہوں۔‬
‫مصیف کیاب ‪ :‬حطنب ِ اعظم ناکسیان حضرت عالمہ موالنا محمد شق یع اوکاڑری رحمۃ اّٰللہ علتہ‬

‫‪-1‬‬

‫مہمان اعلی‪ :‬حضرت عالمہ ڈاکیر کوکب یورانی اوکاڑوی مد ظلہ ‪:‬۔ ان کی سحصنت اور کارنامے‬

‫‪-2‬‬

‫سام کرنال میرحم‪” :‬پ یگال پرحمہ“ پر پ یضرہ اور‬
‫‪ :‬آ پیدہ پروگرام‬

‫‪-3‬‬

‫‪-4‬‬

‫ع‬
‫س ِام کرنال“ کے مصیف گرامی ‪ :‬جن اہم سحصب توں کا لمی پیرر‪ ،‬جداداد ذکاوت و ذہاپت‪ ،‬ط یع کی خودت‪ ،‬مطالعہ کی وشعت‪ ،‬زور ”‬
‫حطاپت‪ ،‬تے لوث عقیدت‪ ،‬کالم کی تحیگی و لطاقت‪ ،‬جاسئی و طراقت‪ ،‬دور اندبش و نارتخ ساز ہمت‪ ،‬ا پئے مذہب و ملت سے تے پیاہ محنت‪ ،‬اپئی‬
‫ّ‬
‫الیق و قایق ذات‪ ،‬مدلل و قانل قدر مرررات اور نارتجی کارناموں کے ذریعہ آج سئی دپیا اپئی سجانی اور تحیگی کا نہار دکھارہی ہے انہی میں ہماری‬

‫ع‬
‫لمی دپیا کی پڑی قد آور سحصنت حید عالم دین‪ ،‬موپر میلغ اسالم‪ ،‬ان بھک مجاہد اور عطیم رہ تما ”سیارہ امبیاز“ عالمہ محمد شق یع اوکاڑوی علتہ‬
‫ُ‬
‫الرحمتہ کی پریور سحصنت کا ذکر شظر اول میں آنا ہے‪ ،‬ان کی روشن زندگی میں ہمارے لئے نہت سے ستق و رہ تمانی ہے۔‬
‫ح‬
‫عالمہ موضوف علتہ الرحمہ ‪0030‬ء میں مسرقی پیجاب‪ ،‬بھارت میں پیدا ہوے اور ‪0082‬ء میں ‪ 33‬پرس کی عمر میں جال ِق ق یقی‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫سے جا ملے‪ ،‬یوری زندگی حب نب ِ جدا ﷺ کی پیا خوانی میں گزار کر گل ِزار حب نب کراچی میں آرام فرما ہیں‪ ،‬اّٰللہ ناک ان کی پرپت ِ پریور پر ہمیسہ اپئی‬
‫…… رحمت پرساے‪ ،‬آمین‬

‫درس یطامی کا ناقاعدہ تحصیل‬
‫عالمہ موضوف اپئی اپیدانی عمر میں فرآن کریم کا حفظ کیا اور عرنی‪ ،‬قارسی کی اپیدانی کیاتیں پڑھ کر ِ‬
‫مساہیر و ماہرین زمابہ علماء سے کی ب ھر سیخ القرآن حضرت موالنا عالم علی اسرقی اوکاڑوی اور عزالی زماں عالمہ احمد شعید کاظمی علتہ الرحمۃ کا‬
‫ن‬
‫ع‬
‫ص‬
‫درس جدپث کی کمیل فرماکر سید ِ فراعت جاصل کی اور لمی دپیا میں پڑی مہارت و شہرت جاصل کی۔ اس کے یعد‬
‫سرف نلمذ جا ل کرکے ِ‬

‫سیابہ روز یقارپر اور امامت و حطاپت کے فرایض اتجام د پئے لگے‪ ،‬ناآلخر اہ ِل کراچی کے اضرار پر مسیقل طور پر کراچی بسریف لے آے اور وہاں‬

‫سے دین و مذہب کی تماناں جدمات اتجام د پئے رہے۔ عالمہ موضوف تے ”ذکر حب نب“ کے خرچے کو اپئی زندگی کا اہم فریصہ فرار دنا بھا‪ ،‬ان‬
‫کی حطاپت اور سرر پیانی سے ناکسیان کے گوسے گوسے‪ ،‬ابسانی ممالک‪ ،‬نلکہ یورپ اور افریقا کی فصاتیں گوتج ابھیں‪ ،‬انہوں تے دلوں میں محنت‬
‫ع‬
‫رسول پیدا کرکے دلوں کو زندہ کیا‪ ،‬اس نارے میں عالمہ احمد شعید کاظمی علتہ الرحمۃ تے فرمانا‪:‬۔ ”آپ کی یقرپر لمی اسیعداد‪ ،‬ذکاوت‪ ،‬ذہاپت‪،‬‬
‫س‬
‫خودت ط یع اور وشعت مطالعہ کا آ تنتہ دار ہونی ہے‪ ،‬انداز پیان نہاپت لحھا ہوا‪ ،‬کال م میں تحیگی‪ ،‬لطاقت اور بسا اوقات طراقت کی جاسئی نانی‬
‫“جانی ہے‪ ،‬خو سامعین کے لئے نہاپت دل حسئی ہونی ہے۔‬
‫َ‬
‫سال میں عالمہ موضوف تے حم عفیر احیماعات میں سیکڑوں موضوعات پر ‪ 08‬ہزار سے زاند حطاب کئے‪ ،‬خو اب نک انک ‪36‬‬
‫َ ج‬
‫ریکارڈ ہے۔ دین و مسلک کی پیل یغ کے لئے عالمہ تے سرق اوشط‪ ،‬لیج کی رناستوں‪ ،‬بھارت ح تونی افریقا اور ماربشس اور دوسرے ملکوں کے‬
‫دورے کئے‪ ،‬ضرف ح تونی افریقا میں ‪0081‬ء نک موالنا کی یقرپروں کے سابھ ہزار کیستیں فروجت ہو جکے بھے‪ ،‬دوسرے ممالک میں فروجت‬
‫ہوتے والے کیسب توں کی یعداد بھی کم نہیں‪ ،‬اب موالنا کے ونڈیو کیسیس بھی بھیل رہے ہیں‪ ،‬تین ہزار سے زاند لوگ ان کے ہابھوں‬
‫ی‬
‫مسلمان ہوے۔ عالمہ موضوف کی پ طیمی اور تررنکی جدمات بھی قانل ذکر ہیں۔‬

‫ی‬
‫ع‬
‫آپ تے زمابہ ظالب لمی میں تررنک ناکسیان میں ب ھریور حصہ لیا‪0020 ،‬ء میں قسیم کے یعد اوکاڑا ہررت کرکے آ گئے بھے‪،‬‬

‫‪0032‬ء میں تررنک حیم پ توت میں حصہ لیا‪ ،‬اور جکومت تے ان کو قید کرلیا بھا‪ ،‬اسی دوران میں آپ کے دو تبئے مبیر احمد اور پ توپر احمد قوت‬

‫ہو گئے‪ ،‬ان پربساپ توں کی جالت میں عالمہ تے حسبئی جذبہ کا مطاہرہ کیا کہ ڈ پئی کمسیر تے ان کو رہا کرد پئے کی سرط تیش کی کہ آپ معاقی‬
‫ی‬
‫اموس مصظقی ﷺ کے لئے کام کیا‪ ،‬میرا عقیدہ ہے کہ حص ِور اکرم‬
‫نامہ میں دسیحط کردیں‪ ،‬ل کن انہوں تے خواب دنا بھا کہ میں تے عزت و ن ِ‬
‫ﷺ آخر پئی ہیں‪ ،‬لہذا معاقی ما نگئے کا سوال ہی نہیں ہونا‪ ،‬میرے تجے اّٰللہ کو پیارے ہو گئے‪ ،‬میری جان بھی جلی جاے پب بھی اپئی عقیدے پر‬

‫قایم رہوں گا اور معاقی نہیں مانگوں گا‪ ،‬اس سے جکومت تے پرہم ہوکر مزند سحئی کی‪ ،‬مگر عالمہ تے تمام صعوپتیں پرداشت کیں‪ 00 ،‬اک توپر‬
‫ُ‬
‫دوران یقرپر اہ ِل سنّت کے مجالفوں تے موالنا پر سدند قا نالبہ حملہ کیا حس سے آپ کی گردن‪ ،‬کیدھے‪ ،‬سر اور بست پر ناتچ‬
‫‪0023‬ء میں ِ‬
‫نہاپت گہرے زحم آے‪ ،‬ناہم انہوں تے یولیس کو خو پیان دنا وہ نہاپت قانل غور ہے‪،‬انہوں تے فرمانا‪” :‬میں کونی مررم نہیں ہوں کونی خرم‬

‫حسن ابساپ نت ﷺ کی یعریف کرنا ہوں‪ ،‬انہوں تے میرا خون ناخق نہانا ہے‪ ،‬اّٰللہ یعالی اسے ق تول فرماے اور‬
‫ہے یو بہ ہے کہ میں سید ِ عالم م ِ‬
‫س‬
‫میری تجات کا ذریعہ پیاے‪ ،‬میں تے حملہ آوروں کو معاف کردنا‪ ،‬ناقی آپ لوگ یقاے امن کے لئے خو میاشب محھیں کرلیں۔“ حیگ آزادی‬
‫کے موفع پر اور محیلف مقامات میں مطلوموں کی امداد کے لئے ول ولہ انگیز یقارپر کیں‪ ،‬امدادی قیڈ حمع کئے اور اداروں کے سابھ َدورے‬
‫کرکے مصب نت زدوں کے ناس نہیچ گئے بھے۔ نادم آخر انک مجلص‪ ،‬محب وطن‪ ،‬سجے اور نکے مسلمان نلکہ ہر مسلمان کے معزز قاند و امام‬
‫رہے‪ ،‬صدر مملکت ضیاء الجق تے انہیں مجلس سوری کا معزز رکن نام زد کیا اور قواتین اسالمی کے پرپ نب د پئے اور ان کی بسکیل و پ یقیذ کے‬
‫لئے کارہاے تماناں اتجام د پئے۔ اہ ِل سنّت کے عقیدے پر مسلمایوں کو میجد کرتے کے لئے کوشش کی‪ ،‬حیاں جہ جکومت کی طرف سے ا‬
‫نہیں ”سیارہ امبیاز“ کا اعزاز عطا کیا گیا۔‬

‫عالمہ موضوف تے بہ ضرف مذکورہ ناال جدمات اتجام دیں نلکہ انہوں تے اپئی عالمابہ تحق تق اور عس ِق رسول پر مبئی م یعدد مذہئی یصاپ یف‬
‫بھی حھوڑی ہیں۔ ان میں (‪ )0‬ح‬
‫ات‬
‫درس یوحید (‪ِ )3‬راہ عقیدت (‪ )2‬امام ناک اور پزند نلید (‪ )0‬پرک ِ‬
‫ذکر میل (‪ِ )3‬‬
‫ِ‬
‫ذکر حسین (‪ِ )2‬راہ خق (‪ِ )2‬‬
‫میالد سریف (‪ )8‬تم ِاز میرحم (‪ )0‬شقنتہ یوح (‪ )01‬مسلمان جایون (‪ )00‬ای ِوار رسالت (‪ )03‬مسیلہ ظالق نالبہ (‪ )02‬یعمہ حب نب (‪)02‬‬
‫مسیلہ سیاہ حصاب (‪ )03‬اجالق و اعمال (‪ )02‬یعارف علماء دیوپید (‪ )00‬یواب العیادات (‪ )08‬مسیلہ تیس پراوتح (‪ )00‬مقاالت اوکاڑوی‬
‫اور (‪ )31‬س ِام کرنال وعیرہ نہاپت قانل ذکر ہیں۔ نہی کارنامے ہی عالمہ مرخوم کو ناقیامت زندہ رکھیں گے‪ ،‬ان ساء اّٰللہ۔ ضرف بہ نہیں نلکہ‬
‫موالنا محیرم تے علم و عقاند اور پرپ نت اسالمتہ کے لئے حید نہاپت مقید و موپر ادارے بھی قایم کئے جن میں جامعہ ح یفتہ اسرف المدارس‪،‬‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫ن‬
‫گ‬
‫م‬
‫دارالعلوم ح یفتہ غوپتہ اور ل ِزار حب نب پرشٹ نہاپت قا ل ذکر ہیں‪ ،‬اسی پرشٹ کے زپر اہیمام جا ع مسجد ل ِزار حب نب اور جامعہ اسالمتہ‬
‫ُ‬
‫گل ِزار حب نب زپر یعمیر ہیں‪ ،‬اسی کے نہلو میں آپ کی آخری آرام گاہ ہے۔‬

‫عالمہ مرخوم کی دور اندبسی اور مذہب و ملت سے تے پیاہ محنت کا تمرہ ان کے فرزند ارحمید عالمہ ڈاکیر کوکب یورانی ہیں۔‬
‫ّ‬
‫م‬
‫آج کی اس محقل کے مہمان اعلی عالمہ موضوف کے فرزند ارحمید ہیں‪ ،‬ناپ کو اپئی اوالد سے شففت انک حیلی جیز ہے‪ ،‬گر وہی‬
‫شففت ندری حیھی مقید ناپت ہونی ہے اگر اوالد اسی میں خق پرشت عمدہ ابسان ین سکیں‪ ،‬عالمہ موضوف کی شففت ندری تے ابسی الیق و‬
‫ّ‬
‫قایق اوالد قوم د مذہب کے لئے تیش کیں۔ ہمارے مہمان اعلی وافعی انک ”کوکب ِ یورانی“ ہے خو سئی دپیا کے آسمان میں حمک رہے ہیں‪ ،‬خو‬
‫انک ممیاز عالم دین‪ ،‬محفق زمان‪ ،‬مجاہد اعظم‪ ،‬میاطر اور مؤپر حطنب ِ اہ ِل سنّت ہیں‪ ،‬عرنی‪ ،‬قارسی اور انگرپزی میں ماہر بہ پزرگ ہسئی بھی رات و‬

‫یع‬
‫دن عالمی ناے میں دین و مذہب کی تماناں جدمات د پئے جارہے ہیں۔ وہ ا پئے کو ”الولد سر الپتہ“ کا مصداق ناپت کرکے لیمی و یقرپری اور‬
‫تررپری جدمات اتجام دے رہے ہیں‪ ،‬اب نک ان کی ‪ 30‬کیاتیں سا یع ہوجکی ہیں۔ خو اہ ِل علم کی یظر میں گراں قدر اور عام لوگوں میں نہاپت‬
‫مق تول و مقید ہیں۔ العرض حضرت عالمہ محمد شق یع اوکاڑوی علتہ الرحمۃ کی زندگی ہمارے لئے انک زندہ جاوند اسوہ ہے۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی علتہ الرحمہ کی مابہ ناز کیاب ”س ِام کرنال“ وعیرہ‬
‫کا پ یگال میں پرحمہ ہونا وقت کا انک اہم مطالتہ ہے‪:‬۔‬
‫واصح ہوا کہ حس ماخول اور ضرورت کو تیش یظر رکھئے ہوے عالمہ موضوف تے اپئی یقارپر اور تررپرات جاری ر کھے وہی ماخول اور‬
‫ضرورت اب بھی اور ہمارے ملک میں بھی موخود ہیں‪ ،‬حیاجہ ان کی یقرپروں اور کیایوں کو سا یع کرنا مطالتہ زمابہ ہے۔ حیاں جہ جافظ موالنا اتیس‬
‫الزمان تے ”سام کرنال“ کا پ یگال پرحمہ کرکے زماتے کا انک اہم مطالتہ یورا کیا ہے۔ اعلی حضرت قاؤنڈبش پ یگال دبش تے اس کو سا یع کیا۔‬
‫جافظ موالنا اتیس الزمان انک یوخوان عالم دین اور ماہر فن ہیں‪ ،‬انہوں تے اردو زنان کو پ یگال میں یعنتہ پرحمہ کرتے میں ہر ممکن کوشش کی‪،‬‬
‫اس میں وہ اکیر کام ناب بھی ہوا ہے‪ ،‬اس کیاب میرحم کی میدرجہ خوپیاں تماناں ہیں‪:‬۔‬
‫ُ‬
‫اردو کے سابھ مطایفت‬

‫‪-1‬‬

‫پ یگال زنان کی سالمت‬

‫‪-2‬‬

‫طیاعت و تجلید کی یقاشت‬

‫‪-3‬‬

‫کیاب کے کور پر کرنال کا خونی م یظر کی تمابش میں مہارت‬

‫‪-4‬‬

‫ُ‬
‫اردو‪ ،‬قارسی کے اشعار و مضرعے کا پرحمہ بھی پ یگال ساعری کے انداز میں کیا گیا ہے‪ ،‬اور امالؤں میں جدند طریقہ اپیانا گیا‪،‬‬
‫ناہم ناجیز کے حید مسورے‪:‬۔‬
‫ل‬
‫رصی اّٰللہ عتہ‪ ،‬رحمۃ اّٰللہ علتہ وعیرہما عیارات پ یگال میں بھی آ پیدہ یوری طور کھی جاتیں۔‬
‫عرنی خوالہ جات کی بسکیل کی جاے۔‬

‫‪-1‬‬

‫‪-2‬‬

‫آ پیدہ انڈبسن میں حید امالؤں جن میں پروف رنڈنگ میں تے یوجہی ہونی‪ ،‬اصالح کرلبیا۔‬

‫‪-3‬‬

‫العرض ان جیزوں سے فظع یظر کرکے بہ نات ضرور کہوں گا کہ سام کرنال کا بہ انک نہاپت عمدہ پرحمہ ہوا ہے‪ ،‬حیاں جہ مسیقیل‬
‫میں ہمیں خو کرنا ہے‪:‬۔‬

‫‪-5‬‬

‫عالمہ محمد شق یع اوکاڑوی علتہ الرحمہ اور ان کے فرزند ارحمید عالمہ ڈاکیر کوکب یورانی کی یقرپروں کی کیسیس اور کیایوں کی اساعت‬

‫‪-1‬‬

‫کا پیدوبست کرنا نہاپت مقید ہوگا۔‬

‫الحمد ّٰللہ‪ ،‬اب نک عالمہ اوکاڑوی علتہ الرحمہ کی میدرجہ ذنل کیاتیں پ یگال میں پرحمہ کراکر سا یع ہونی ہیں۔‬
‫جافظ معین االسالم مرخوم تے‪ ،‬انگو بھے خومئے کا مسیلہ کا پرحمہ کرانا۔‬

‫‪-3‬‬

‫ء میں موالنا محمد عالؤالدین مرخوم تے یواب العیادات کا پرحمہ کرکے سا یع کی۔‪1989‬‬
‫ء میں ”پرکات ِ میالد سریف“ کا پرحمہ پیدہ تے کیا اور سا یع کرانا۔‪1980‬‬

‫‪-2‬‬

‫‪-4‬‬
‫‪-5‬‬

‫ء میں ”ذکر حمیل“ اور ‪3112‬ء میں ”ذکر حسین“ کا پرحمہ موالنا مجی الدین صاجب تے کیا اور سا یع کیا۔‪1999‬‬
‫اب موالنا جافظ اتیس الزمان تے ”سام کرنال“ کا پرحمہ کیا‪ ،‬حس کو اعلی حضرت قاؤنڈبسن تے سا یع کیا ہے۔‬

‫‪-6‬‬
‫‪-7‬‬

‫ناقی کیایوں کے پرحمے کراتے اور سا یع کرتے کا بھی پیدوبست کیا جاتے گا‪ ،‬ان ساء اّٰللہ۔ اس سلسلے میں ا پئے مسورہ اور ارادے‬
‫کو بھی ظاہر کرتے کا سرف جاصل کررہا ہوں وہ بہ کہ‪:‬۔‬
‫عالمہ زمان ڈاکیر کوکب یورانی صاجب کا ونڈیو کیسنٹ ”دیو پیدی ازم“ کا پ یگال میں پرحمہ پیدہ تے کیا اور ع یقرپب سا یع کرتے واال‬

‫‪-1‬‬

‫ہوں‪ ،‬ان ساء اّٰللہ یعالی‬

‫عالمہ ڈاکیر کوکب یورانی صاجب مدظلہ العالی کی کیاب ”شقید و سیاہ“ نہت مقید ناپت ہوجکی ہے‪ ،‬حیاں جہ ناجیز اس کیاب کا‬

‫‪-2‬‬

‫ش‬
‫میرا مسورہ ہے کہ ہر سال عالمہ ڈاکیر کوکب یورانی اوکاڑوی صاجب قیلہ کو پ یگال دبش شقر کرانا اور ان کی قیادت میں عالمی طح پر‬

‫‪-3‬‬

‫پ یگال پرحمہ کرد پئے کا ارادہ کیا‪ ،‬اور دعا کا خواشت گار ہوں کہ اّٰللہ ناک یوق تق سے یوازے‪ ،‬آمین‬
‫سئی رایطہ قایم کرتے کا اقدام کیا جاے۔‬

‫اجیرا‪:‬۔ آ ج کی محقل کا مب یظم ”سام کرنال“ کا میرحم‪ ،‬نالحصوص محقل کے معزز صدر اور مہمان اعلی اور تمام جاضرین گرامی کو میارک ناد۔ والسالم‬
‫ع‬
‫لیکم ورحمۃ اّٰللہ وپرکابہ‬
‫احقر العیاد‪ :‬محمد عیدالمیان عقی عتہ‬
‫جاٹ گام‪ ،‬پ یگال دبش‬

‫مکرمی و محیرمی حیاب کوکب یورانی اوکاڑوی صاجب زند مجدہ‬
‫ع‬
‫السالم لیکم ورحمۃ اّٰللہ وپرکابہ‬
‫جیرپت طرفین مطلوب‬
‫المرام۔ کئی دیوں سے پیدہ کو حضرت حطنب ِاعظم اہ ِل سنّت حضرت عالمہ موالنا محمد شق یع اوکاڑوی رحمۃ اّٰللہ علتہ کا انک نادر وافعہ‬
‫ذہن بسین بھا کہ آپ کو ارسال کروں مگر اسی دوران کحھ ط یعی مسانل کے تیش یظر ارسال بہ کیا جاشکا۔ اسی اپیاء میں آپ کی ڈاک موضول‬
‫ہونی۔‬

‫وافعہ کحھ اس طرح سے ہے کہ پیدہ تے کحھ عرصہ کراچی سے پیجاب آتے کے یعد سیال کوٹ حمعۃ المیارک کی حطاپت کی۔ اس‬

‫وقت حضرت سیخ الجدپث اسیاذ االسانذہ موالنا جافظ محمد عالم صاجب رحمۃ اّٰللہ علتہ آف سیال کوٹ مسید ندربس پر پراحمان بھے۔ آپ تے محھے‬
‫جکم دنا کہ ہمیں س ِان صدیق اکیر رصی اّٰللہ یعالی عتہ پر جلسہ کا پروگرام مطلوب ہے۔ آپ ہمیں حطنب ِاعظم ناکسیان سے وقت لے دیں۔ پیدہ‬
‫تے رایطہ کیا‪ ،‬آپ بسریف الے‪ ،‬آپ تے س ِان صدی ِق اکیر رصی اّٰللہ یعالی عتہ کو ضرف فرآن سے پڑے احھوتے انداز سے پیان کیا۔ اہ ِل سیال‬
‫ُ‬
‫ات فرآنی سے پیان کو اس‬
‫کوٹ پروایوں کی طرح یوٹ پڑے اور ق توجات کی نارش ہوگئی۔ میں نذات خود اس پرنابیر پیان سے نہت محظوظ ہوا۔ آن ِ‬
‫سان دار انداز سے پرپ نب دنا کہ حس کی اس سے نہلے کونی میال نہیں بھی۔ آپ تے واصح طور پر بہ پیانا کہ میرا اولین موضوع ضرف فرآن‬
‫سے ہے۔ دوسرا موضوع ضرف جدپث ناک سے ہونا ہے۔ تیسرا نارتجی مسبید وافعات سے۔‬

‫دوسرا پروگرام ہم تے بسرور میں رکھا حس میں آپ تے مسیلہ اقک پر روسئی ڈالی۔ بہ پروگرام بھی آپ تے تے یظیر انداز میں تیش‬

‫کیا کہ اہل بسرور مسرور ہو گئے۔ مسیلہ اقک پر ابسا اسیدالل کیا خو اپئی یظیر آپ ہی بھا اور تے د پ توں کی خراقات کو طست از نام کیا۔ پڑا عطیم‬
‫َ َٰ‬
‫ُُ‬
‫َ ُّ‬
‫احیماع بھا۔ اہ ِل فصتہ آپ کی سحصنت سے آ گاہ نہیں بھے۔ طریقہ افہام اپتہانی آسان اور دل کش بھا۔ ”ک ِلموا ال َّیاس علی َق ْد ِر عفو ِلہم“ کا صحیح‬
‫مطاہرہ بھا۔ پیدہ ناجیز کو اہل فصتہ کے یعاون کی شعادت یصنب ہونی۔‬
‫حماعت ِ اہ ِل سنّت“ کی بسکیل میں حضرت حطنب ِ ناکسیان کی سرپرسئی سے م یعلق یوری یفصیالت سے وافف اور سرنک کار ”‬
‫ہوں۔ اس کی یفصیل کسی اور بشست پر موقوف کرنا ہوں۔ کحھ عرصہ سے گھب توں کی یکل یف کا شکار ہوں۔ دعاے جیر میں ناد رکھیا۔ کیھی‬
‫پیجاب آنا ہو یو آ گاہ کردنا کریں۔‬

‫والسالم مع الکرام‬
‫قاصی محمد عیدالرحمن‬
‫‪0300-6287695‬‬

‫میلغ اسالم‬
‫حطنب ِاعظم ناکسیان حضرت عالمہ موالنا محمد شق یع اوکاڑوی‬
‫کے دورہ جات مظقر آناد‪ ،‬آزاد کسمیر‬

‫سرزمین کسمیر پر عطیم میلغ اسالم حضرت حطنب ِ اعظم عالمہ موالنا محمد شق یع اوکاڑوی کی ہماری طرف سے نہلی بسریف آوری کا‬
‫سنب صاجب زادہ الجاج حضرت بیر میاں طنب الرحمن صاجب سجادہ بسین درنارہ عالتہ حھور سریف ہزارہ پئے۔‬

‫حضرت موالنا قاری محمد عیداّٰللہ یطامی مجاہد اسالم مظقر آنادی سے ان کی فرپئی بشست بھی۔ موالنا قاری محمد عیداّٰللہ یطامی المعروف‬
‫ی‬
‫مجاہد صاجب تے جامعہ اسالمتہ ہری یور ہزارہ سے اسالمی علیم جاصل کی اور وہیں مرند بھی ہوے اور مظقر آناد میں عطیم مذہئی درس گاہ‬
‫م‬
‫جامعہ یطامتہ رحماپتہ کی تبیاد رکھی۔ اس کے نانی اور ہیمم ہیں۔ انہوں تے نہلی مرپتہ مظقر آناد میں‪ ،‬خو اس وقت اپتہانی کیھن راشتہ کی وجہ‬
‫سے بس ماندہ عالقہ سمار کیا جانا بھا‪ ،‬میلغ اسالم حضرت عالمہ محمد شق یع اوکاڑوی صاجب کو ‪0008‬ء میں مدغو کیا۔ اس سے قیل بھی حضرت‬
‫حطنب ِ اعظم ‪0023‬ء سے آزاد کسمیر کے محیلف مقامات پر اور مظقر آناد بھی بسریف التے رہے بھے۔ نہاں بھی انہوں تے ہی حماعت ِ‬
‫اہ ِل سنّت پیانی اور اس کے عہدے دار مقرر فرماے بھے اور مسلک ِ خق کی خوب خوب پرحمانی کی۔ حطنب ِ اعظم تے ان عالقوں میں نہت‬
‫دسوار اور سحت یکل یف دہ شقر بھی کئے۔‬

‫مظقر آناد میں عطیم مذہئی درس گاہ جامعہ یطامتہ رحماپتہ عیدگاہ روڈ میں انک فقید المیال جلسہ معراج البئی مورجہ ‪ 03‬خون ‪0008‬ء‬
‫ب اعظم ناکسیان تے معراج البئی (ﷺ) پر یفصیلی روسئی ڈالی اور‬
‫تمطایق ‪ 3‬رجب ‪0208‬ھ پروز بیر‪ ،‬یعداز تماز عساء م یعقد ہوا‪ ،‬حس میں حطن ِ‬
‫مسلمایوں کے دلوں کو عسق رسول (ﷺ) سے م تور کیا۔ جلسہ کی صدارت صاجب زادہ محمد طنب الرحمن سجادہ بسین درنارہ عالتہ حھور سریف‪،‬‬

‫ہزارہ تے کی۔ ‪ 2‬خون ‪0008‬ء کو دوسرے دن مظقر آناد سے بھی پیحھے ‪ 81‬کلو مبیر ُدور آبھ مقام کے مقام پر بھی فقید المیال جلسہ م یعقد‬

‫ہوا۔ وہاں ساند اس سے قیل کونی حطنب و عالم ناکسیان کے کسی شہر سے نہیں گیا بھا ک توں کہ شقر نہت دسوار گزار بھا اور وسانل بہ ہوتے‬

‫کے پراپر بھے۔ بہ جلسہ بھی حضرت مجاہد صاجب کی کاوسوں سے م یعقد ہوا۔ اس کی صدارت حضرت صاجب زادہ میاں محمد سرور جان صاجب‬
‫سجادہ بسین درنارہ عالتہ کیال سریف پیلم تے فرمانی۔ حضرت حطنب ِاعظم ناکسیان تے وہاں اس قدر لوگوں کے دلوں کو م تور فرمانا کہ لوگ‬
‫دھاڑیں مار مار کر روتے رہے اور روجانی بسکین اور اسالم کی عظمت کے یور سے دل م تور کرتے رہے۔‬
‫حضرت مجاہد صاجب کی کاوسیں دنکھ کر حطنب ِاعظم ناکسیان کی محنت مجاہد صاجب کے لئے زنادہ ہوگئی اور وہ دپیا سے رجلت‬
‫ح ُ‬
‫فرماتے نک ہر سال کسمیر کا دورہ ضرور کرتے اور مجاہد صاجب کے جذتے کو یفو پت د پئے ہوے لوگوں کو اسالم کی ق یقی روح سے‬
‫ُ‬
‫روسیاس کراتے رہے۔ حضرت حطنب ِ اعظم کا نام شن کر لوگ موسم اور شقر کی سدیوں کے ناوخود ُدور ُدور سے آتے اور انہیں دنکھئے اور سبئے‬
‫ُ‬
‫کے لئے دیوابہ وار حمع ہوجاتے بھے۔ اس بس ماندہ حطے میں حطنب ِ اعظم ناکسیان تے مسلک ِ خق کا اجاال کیا۔ ان کی فرناپیاں اور جدمات‬
‫بھالنی نہیں جاسکتیں۔‬
‫اگلے سال ‪0000‬ء میں جلسہ شہادت امام حسین کا اپ یطام حضرت مجاہد صاجب تے فرمانا اس مرپتہ لوگوں کے حم عفیر کو دنکھئے‬
‫ُ‬
‫ہوے بہ جلسہ یونی ورسئی کالج گراؤنڈ مظقر آناد میں م یعقد کیا گیا۔ حسب یوفع لوگوں کا الیعداد حم عفیر امڈ آنا۔ اس جلسہ کی صدارت حضرت بیر‬
‫کبتین عیدالمیان صاجب نلنٹ مظقر آناد تے فرمانی۔‬
‫ء میں حسب رواپت حضرت مجاہد صاجب تے جلسہ عید میالدالبئی (ﷺ) م یعقد کروانا۔ بہ جلسہ مظقر آناد کی مشہور و معروف ‪1980‬‬
‫ُ‬
‫مسجد حمام والی میں م یعقد ہوا۔ حضرت حطنب ِاعظم ناکسیان کے حطاب کو سبئے کے لئے لوگوں میں والہابہ الفت کا جذبہ بھا۔ پڑا پرک یف م یظر‬
‫بھا۔ اس جلسہ کی صدارت حضرت موالنا محمد حب یف صاجب حطنب جامع مسجد قدتمی والی تے فرمانی۔‬

‫ء میں یونی ورسئی کالج گراؤنڈ مظقر آناد میں ساالبہ عطیم السان معراج البئی (ﷺ) جلسہ م یعقد ہوا۔ حضرت حطنب ِاعظم ‪1981‬‬
‫ناکسیان تے حسب رواپت لوگوں کے اتمان اور اسالمی جذبہ کو مزند جال تحسی۔ صدارت محمد اشقاق صاجب ناظم اعلی اوقاف آزاد حموں و کسمیر‬
‫تے کی۔ ‪0083‬ء میں درنار عالتہ ساتیں سجی شہیلی سرکار مظقر آناد کے مقام پر جلسہ شہادت امام حسین م یعقد ہوا حس میں حضرت‬
‫حطنب ِاعظم ناکسیان تے حصوصی حطاب فرمانا۔ ناظم اعلی اوقاف آزاد کسمیر محمد اشقاق صاجب تے سکربہ ادا کیا۔‬

‫ء میں مجاہد صاجب تے مرکزی دارالعلوم جامعہ یطامتہ رحماپتہ مظقر آناد میں شہادت حضرت امام حسین کا جلسہ م یعقد ‪1983‬‬

‫کروانا۔ اس کی صدارت صدر آزاد کسمیر میرر جیرل رپیاپرڈ عیدالرحمان صاجب تے کی۔ اس جلسہ میں مقکر اسالم حضرت عالمہ موالنا بیر عالؤالدین‬
‫صدیقی تے بھی حطاب کیا۔ اگلے سال ‪0082‬ء میں معراج البئی (ﷺ) کے ساالبہ جلسہ کا اہیمام مجاہد صاجب تے جامعہ یطامتہ رحماپتہ مظقر‬
‫آناد میں کیا اور حصوصی حطاب حیاب حطنب ِاعظم ناکسیان تے فرمانا۔ اس جلسہ کی صدارت مظقر آناد کی معروف سیاسی و سماچی سحصنت‬
‫خواجہ محمد عیمان صاجب تے کی۔ دوسرے دن وادی پیلم میں ناڑناں کے مقام پر حطاب ہوا۔ اس جلسہ کی صدارت الجاج بیر محمد ناسین‬

‫صاجب تے کی۔ تیسرے دن بھی وادی پیلم کے مشہور مقام کیڈل ساہی میں حضرت حطنب ِاعظم ناکسیان تے حطاب فرمانا۔ اس جلسہ کی‬
‫صدارت حضرت الجاج بیر محمد سرور جان صاجب درنار عالتہ کیال سریف وادی پیلم تے فرمانی۔ خو بھے دن بھی وادی پیلم آزاد کسمیر آبھ مقام‬
‫کے مقام پر جلسہ م یعقد ہوا اس میں بھی مجدد مسلک ِ اہ ِل سنّت عطیم میلغ اسالم حضرت حطنب ِاعظم ناکسیان تے حطاب فرماکر مجلس پر‬
‫وجد ظاری فرمادنا۔ اس جلسہ کی صدارت بھی حضرت الجاج بیر میاں محمد سرور جان درنار عالتہ کیال سریف وادی پیلم آزاد کسمیر تے فرمانی۔‬

‫حضرت قاری محمد عیداّٰللہ یطامی المعروف مجاہد اسالم مظقر آنادی کی کاوسوں اور د پئی جدمات کے اعیراف میں حضرت حطنب اعظم‬

‫ناکسیان تے اعالن فرمانا کہ کراچی سے کسی میمن سبیھ کی ڈیونی لگاتیں گے ناکہ مرکزی دارالعلوم کی عمارت پ تواتیں لیکن صد افسوس ان عطیم‬
‫ح‬
‫مذہئی میلغ اسالم کی زندگی تے وقا بہ کی اور وہ وابس دونارہ مظقر آناد بسریف بہ السکے اور ا پئے جالق ق یقی رب کاپیات سے جا ملے۔‬
‫ہزاروں سال پرگس اپئی تے یوری بہ رونی ہے‬
‫پڑی مسکل ہونا ہے حمن میں دندہ ور پیدا‬
‫از قلم پرحمان ‪:‬‬

‫حضرت موالنا قاری محمد عیداّٰللہ یطامی‬

‫م‬
‫ہیمم دارالعلوم جامعہ یطامتہ رحماپتہ‪ ،‬مظقر آناد آزاد کسمیر‬

‫٭٭٭‬

‫آخر احیالف ک توں؟‬
‫حطنب ِملت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی کے یعاون سے موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) تے انک وڈیو کیسنٹ اور سی ڈی پیار کی ہے حسے‬

‫امریکا‪ ،‬ح تونی افریکا‪ ،‬پرظاپیا اور دنگر م یعدد ممالک میں تے پیاہ بسید کیا گیا ہے اور اس سے ہزاروں افراد کے عقاند کی اصالح ہونی ہے ‪ -‬اس‬
‫ُّ‬
‫کیسنٹ اور سی ڈی کی اہمنت اور خونی کا اندازہ آپ اسے دنکھ کر ہی کرسکیں گے‪ ،‬اس میں سئی پرنلوی اور دیوپیدی وہانی احیالف کے وہ‬

‫ُ‬
‫حقایق تیش کئے گئے ہیں خو آپ تے کسی جد نک ساند ضرف پڑھے سئے ہوں گے‪ -‬اس احیالف کے حقایق کو ناقان ِل پردند دسیاوپزی پ توت‬
‫کے سابھ دنکھئے کے لئے بہ کیسنٹ اور سی ڈی ضرور جاصل کریں اور مسلک ِ خق پر ناپت و قایم رہئے کے لئے اس کیسنٹ اور سی ڈی کو‬
‫ُ‬
‫بھیالتیں‪ ،‬بہ کیسنٹ اور سی ڈی مکنتہ گل ِزار حب نب میں دشت ناب ہے ‪ -‬عالوہ ازیں عالمہ اوکاڑوی کے اس مشہور نی وی پروگرام کی‬

‫ب‬
‫ارات اولیاء کے نارے میں دیوپیدی علماء کی کنب سے خوالے تیش کرتے ہوتے‬
‫کیسنٹ ھی دشت ناب ہے حس میں ا نہوں تے مز ِ‬
‫‪ -‬حیاب اجیرام الجق بھایوی کی ہرزہ سرانی کا خواب دنا ہے‬

‫ِمن جاپب ‪ :‬مکنتہ گل ِزار حب نب (جامع مسجد گل ِزار حب نب)‬
‫گلسیان اوکاڑوی (سولرر نازار) کراچی‬

‫ان ساء اّٰللہ یعالی‪ ،‬حضرت حطنب ِ اعظم رحمۃ اّٰللہ علتہ کا ‪ 23‬واں ساالبہ مرکزی دو روزہ عرس میارک حمعرات‪ ،‬حمعہ ‪ 8 ،0‬مئی ‪3103‬ء اور‬
‫‪ 23‬واں ساالبہ عالمی ی ِوم حطنب ِ اعظم‬
‫حمعہ‪ 8،‬مئی ‪3103‬ء کو میانا جاتے گا۔‬
‫‪ :‬فرآنی مادہئ نارتخ سال وصال‬
‫َ‬
‫ُ َّ ْ‬
‫“م ی ِقی َن ِقی ح نہت َّو َنہ ْر”‬
‫ھ ‪۰ ۴ ۰ ۲‬‬
‫ّ‬
‫اح محمد مصظقی بھا‬
‫وہ َمد ِ‬

‫زناں پر روز و شب نذک ِار طنتہ‬
‫بہ سرق و عرب بھیالنی مسلسل‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫جہاں میں نکہ ِت ل ِزار طنتہ‬
‫میالی کر گیا ہے جدمت دین‬

‫وہ مجلص جادم سرک ِار طنتہ‬
‫وہ مرغوب عاشق ِان مصظقی کا‬

‫سرو درن ِار طنتہ‬
‫گداے ح ِ‬
‫بہ صد اجالص نارت ِخ وصالش‬
‫نگ‬
‫رت ای ِوار طنتہ‬
‫“ قیم ”کی ِ‬
‫ھ ‪۰ ۴ ۰ ۲‬‬
‫نذر اجالص‪:‬۔ من جاپب‬
‫محمد عیدالق توم ظارق سلطان یوری‬
‫)حسن اندال(‬
‫٭٭٭‬
‫م یق نت‬
‫ساعر ‪ :‬ایور شعور‬
‫ُ‬
‫بھی عیادت ان کی یوری زندگی‬

‫ُ‬
‫ہر گ ھڑی رسد و ہداپت میں کئی‬
‫بھے وہ ا پئے آپ کو بھولے ہوے‬

‫ُ‬
‫عمر ان کی دوسروں کے نام بھی‬
‫ُ‬
‫روز و شب رہیا بھا ان کا َدر کھال‬

‫ق یض ابھاکر لوپیا بھا آدمی‬
‫ُ‬
‫سرنلیدی خومئی ہے ان کے ناؤں‬

‫دل سے خو کرتے ہیں جدمت جلق کی‬
‫ُ‬
‫لوگ سبئے بھے انہیں کس سوق سے‬

‫لذت یقرپر بھی نا ساخِری‬
‫ِ‬
‫خوش پیاں واعظ‪ ،‬خوش الجاں یعت خواں‬
‫گوش پر آواز رہئے بھے سیھی‬
‫ان کے علم و فصل تے ہم پر کئے‬

‫قاش اسر ِار خودی و تے خودی‬
‫وہ ُسیاتے بھے ہمیں ح ِمد جدا‬

‫وہ ُسیاتے بھے ہمیں یعت ِ پئی (ﷺ)‬

‫ ہم کیا پیاتیں اے شعور‬،‫العرض‬

‫کیا بھے موالنا شق یع اوکاڑوی‬

Bismil Laahir Rahman nir Raheem

An Unforgettable and Majestic Personality

Undoubtedly Hazrat Khateeb-e-A’zam (Allaah have mercy on him) is a
celebrated personality. He was two to three years older than me in his worldly
age. If you look at his status, in relation to his name, work, personality and
attributes than even the highest are not equal to him. Allaah Kareem had
bestowed him immensely. He was the pride and trust of us all.

I studied the Holy Qur’aan in the same masjid where he memorized the Holy
Qur’aan in the early period of his life. Hazrat Haafiz Karam Ellaahi Saahib was the
teacher of all the children and elders in our families in the city of Khem Karan. My
respected father Hakeem Muhammad Husaien Marhoom had also read the Holy
Qur’aan from him. And the respected father of Hazrat Khateeb-e-A’zam Haaji
Karam Ellaahi Saahib had also received the knowledge of the holy Qur’aan from

him. Then our time came. Hazrat Khateeb-e-A’zam was such an intelligent and
competent child that by the teacher’s order, rather than permission, he would
often teach us.

There was a large Muslim population in Khem Karan with a majority of them
Shaiekh brothers. Navaan Kot was the popular area in this city, where there was a
central masjid. Amongst the organizers of this masjid, prominent personalities
included: the respected father of Hazrat Khatee- e-A’zam, Haaji Karam Ellaahi
Saahib, and Haaji Jamaal-ud-deen Saahib. This masjid was also known as
Bambalaan Waali Masjid and its organization was called Anjuman-e-Haanafiyah
Islaamiyah. My respected father was the president of this masjid. Various
gatherings were organized there as well as the congregation for the annual Jashne-Eid Meelaad-un-Nabee (Sallal Laahu ‘Alaiehi Wa Sallam) which was held on the
ground of a nearby school. So enlightening to the faith and spiritually beneficial
these gatherings were! Everyone would enthusiastically display their devotion,
love and desire.

Hazrat Khateeb-e-A’zam was still young of age but the Almighty Allaah had
blessed him greatly with clear beauty and grace. Fair and rosy complexion with
luminance that is there was a great radiance. With beautiful features he also
received a great share from the Lahan-e-Daawoodi (Voice of Hazrat Daawood
(Salutation on him)). He was filled with the possession of a very pleasant voice
and gracefully excellent interpretation. Whilst reading Qira’at or na’at it was as if
he had cast some magic, everyone would be enthralled. His presence had become

a necessity in every congregation and gatherings were held almost every day.
Even at such a very young age he had become very popular.

Besides the annual gathering, there would sometimes be other na’at readers
beside him. Amongst them was a young na’at reader named Muhammad Yoosuf
Gujraati. According to Hazrat Khateeb-e-A’zam, “in the art of na’at reading I am
also his teacher to some extent”. I have written “to an extent” because before
meeting Muhammad Yoosuf Saahib, Hazrat Khateeb-e-A’zam would also recite
na’at shareef in a particularly lovely style. Hazrat might have taken his views only
as an opinion but besides this Hazrat considered him his teacher. This modesty
and humility of Hazrat Khateeb-e-A’zam was a greatness that was an undisputed
truth. Even as he shone like the sun in the skies of popularity he remembered
every single person and without hesitation would mention anyone who had
taught him anything, even from his childhood. Hazrat Khateeb-e-A’zam did not
make na’at recitation his profession, as many people have now made it their habit.
He worked hard with his respected father and for his religious devotion and
spiritual harmony he would read na’at.

In the era of youthfulness he associated with the elevated abode of Sharaqpur
Shareef. He was the favorite in the eyes of respected Hazrat Saani Saahib Sharqpur
Shareef. There was no insincerity or arrogance in him. He was good natured and
honest. His beard had not grown and yet he would outshine in any gatherings he
attended. I can still recall the na’at he would read in those early days. How many
tones and ways are his own inventions which are followed even now as though

he was also the leader of this art? After his religious education when he started the
series of debates and oration even then this jewel of beautiful recitation was most
prominent. I will surely say this about one na’at shareef that only Hazrat Khateebe-A’zam has the expertise to read it. It is very difficult to create its melody and to
read it eloquently. This na’at is known as: “Sweeter than honey is the name
Muhammad (Sallal Laahu ‘Alaiehi Wa Sallam).” In each verse the four letters of
the name of the Holy Prophet (Sallal Laahu ‘Alaiehi Wa Sallam) is mentioned. The
first verse is:
Meem Say Hayn Mahboob Woh Rabb Kay
Haa Say Haakim Ajam o Arab Kay
Dousree Meem Say Maalik Sab Kay
Daal Say Daataa Douno Jahaan Kay
Juud Hay Un Kaa Aam
Shehed Say Meethhaa Muhammad Naam

The last two verses of this na’at shareef are to be read together with the opening
verse (i.e. Shehed Say Meetha Muhammad Naam) in one breath with passion.
Perhaps this ability was only in the persona of Hazrat Khateeb-e-A’zam because
hardly any na’at reader could read it so well and which such great tune. Whenever
Hazrat read this na’at a harmonious ambiance would pervade. The respected
Hazrat Saani Saahib would greatly desire to listen to Hazrat Khateeb-e-A’zam
read this Na’at Shareef. Hazrat has also read a lot of prose by A’laa Hazrat Faazil-e-

Barelvi. He would read it with great comprehension and would also explain it
expertly to listeners. When he clarified the meanings of na’at shareef verses then
the pleasure from listening to them would somehow increase. He had his own
style of reading Doyhay (couplets) and see harfee (tercet). How well he read the
detailed poetry of the complete creation of the Kurtaa (from cotton seed to
stitched shirt) and when he would recite the loree (na’at shareef) written he wrote
then even the wind and atmosphere would feel joy. The people of Punjab would
especially request he read the lullaby.

He began oration at a young age and would explain matters in an exceptionally
superior way with great passion. Explaining his topics for hours without tiring
and with solid reasoning was his quality. Additionally from the start to the end he
would stay on topic and would not leave anyone thirsty for more meaning he
would fulfill the rights of that topic.

In those days most people were true believers, Sunni Hanaafi Muslims. In our
area only three people were Wahaabi (i.e. not the followers of the Imaam).
Furthermore only four to five were called Deobandis but they were in hiding
because they did not have the guts to say wrong and immoral things in front of
the public. A majority of the families in Khem Karan had great love and devotion
for the People of Allaah Aastaanah-e-Aaliyah. The elevated abode of Sharqpur,
Aastaanah-e -Aaliyah of Naqshbandiyah Karmuun Waalaa in the Ferozepur
district was established in Pakistan with the name of Hazrat Karaman wala near
Okara. These people were associated with Aastaanah-e-Aaliyah ‘Alee pur Shareef.

Elections were held in 1964 and in their area a resident of Baaghbaan puurah
Lahore named Miyaan Iftikhaar-ud-deen was a candidate of Muslim League. It is
possible he had an association with the respected Hazrat Saani Saahib Sharqpuri
who was doing great services in the Pakistan Movement. He would say, “That
person who cannot make Muslim League successful has nothing to do with us.
That person should not consider himself connected to the Aastaanah-e-Aaliyah
of Sharqpur Shareef.” A similar statement was also spoken from Aastaanah-eAaliyah ‘Aleepuur Shareef. Hazrat Khateeb-e-A’zam had the responsibility to
carry out the obligation of delivering the message of the respected Hazrat Saani
Saahib of Sharqpur Shareef to every corner. With him a few people also joined
this movement. In Masaajid, Madaarsis and gathering Hazrat Khateeb-e-A’zam
would present the accomplishment of beautiful eloquence and brilliant speech
and would also deliver this message. He had also composed very good slogans for
Pakistan and the Muslim League.I remember a huge gathering for the Muslim
league election campaign in which a very high stage was built. In this gathering
Hazrat Khateeb-e-A’zam read a Punjabi poem in relation to the Muslim League in
a very good voice. Everyone in the crowd began reading with him. The first verse
of it was something like this:

Charcha Huyaa Aeh Muslim League Daa
Wich Hindustaan Diyaan Galiyaan

I remember vividly the condition of the crowd and their level of zeal and fervor
was worth viewing. Other orators praised this poem highly in their speeches as
well as the way of Hazrat Khateeb-e-A’zam’s reading.

In the central Masjid of Khem Karan in Nawacourt Shabeenah was held for only
one night in the sacred month of Ramadaan, in which the complete recitation of
Qur’aan Shareef was presented in the nawaafil. This incident occurred a couple of
years before the founding of Pakistan; I listened to the first ten parts in the
nawaafil then I could not stop the desire to sleep and so slept there for some time.
When I opened my eyes I realized the recitation of the last part was about to start.
I did my ablution and joined in it. Hazrat Khateeb-e-A’zam was doing Qira’at with
great eloquence as he presented the thirtieth part in two rak’aat. The Masjid was
full during this time and later he did the du’aa. It is very difficult to explain the
brilliance and blessing of the delightful experience.

Amongst the friends of the respected Hazrat Khateeb-e-A’zam was Muhammad
Aalam son of Jamaal-ud-deen (Puur Khaana) who died in 1994 in Sahiwaal.
Gracious Allaah grant salvation to him. He was an admirer and follower of Hazrat
and also an honest friend. He had promised me he would also write his views and
experiences with Hazrat but some negligence prevailed and I could not document
his statement. Therefore I do not know how many stories remained in his heart.

Before the establishment of Pakistan Hazrat Khateeb-e-A’zam came to Okara
and even after migration he chose that city whereas we chose Montgomery
(Sahiwaal). Along with the respected Hazrat Saani Saahib, Hazrat Khateeb-eA’zam took part in the Pakistan Movement with complete passion and in August
1947 he remained fully active during the migration of immigrants and their
rehabilitation.

The respected Hazrat Saani Saahib Sharqpuri established a religious school
with the name of “Jaami'ah Hazrat Miyaan Saahib” in Sharqpur Shareef. By the
orders of respected Hazrat Saani Saahib Hazrat Khateeb -e-A’zam would go to
friends for assistance and therefore often come again and again to Sahiwaal. In
Sahiwaal on the roundabout of Beree Waalaa, Masjid-e-Muhaajireen remained a
center of Ahle Sunnat Wa Jama’aat. The residents of Sahiwaal asked Hazrat
Khateeb-e-A’zam (who was at that time known as the Eloquent Speaker of
Punjab) to lead the Friday prayers there and also bless them with his
heartwarming speech. Hazrat accepted the request and started leading the Friday
prayers there. In the beginning Hazrat would come on Friday at around 11 or 12
am and would remain there until three o’clock in the afternoon.

Within a few days after the Friday Masjid-e- Muhaajireen became popular near
and far and it starting looking like Eid. All the lanes and roads around the masjid
would be filled with the crowd and 40 - 50 tents were not enough. It was as if the
world had come over to hear the speech of Hazrat, not just the city. The masjid
would fill before the arrival of Hazrat and Hazrat had to spend the all of Friday

there. In the night also there would be gathering in one area or the other. This
kept happening not for a month or two but for many years, until the Deputy
Commissioner allotted a larger plot so that a bigger masjid could be build for the
people to pray in. In this new area Hazrat Khateeb-e-A’zam laid the foundation of
a new Madinah Masjid.

During this time in 1952 the Finality of the Prophet Movement began. Hazrat
Khateeb-e-A’zam was the Chief of District in this movement. Nowhere in the
whole district would there be a gathering like the one in Masjid Muhaajireen. In
those days the speeches which were made by Hazrat Khateeb-e-A’zam against the
Mirzaaiyyat and the Dajaal Qaadiani. I wish those speeches were preserved. Due
to Hazrat every Muslim became a soldier filled with passion. Why would the ruler
accept this? They ordered his arrest but Hazrat did not give himself up
immediately. It was after th inauguration of a great gathering in Eidgah in Okara.
Along with Hazrat several other people also gave themselves up. The organizers
accepted Hazrat’s popularity and were surprised to see the passion of the people.

Many renowned Mullaas and leaders were released after they signed legal
documents for forgiveness. Two young sons of Hazrat Khateeb-e-A’zam died one
after the other but this did not bring any change in the steadfastness of Hazrat,
who refused to sign the legal document for forgiveness. Therefore he was kept
prisoner for ten months and released in the end. On the day of his release Hazrat’s
welcoming was worth seeing. In the form of a procession devotees came from
Sahiwaal to Okara. After the release Hazrat Khateeb-e-A’zam said in the Friday

gathering that in the prison he gathered all the explanation of Hazrat Moosaa
from the holy Qur’aan and has put them in order. At that time of affliction he did
not even have an index of the Holy Quran to find every reference of Hazrat
Moosaa (salutation on him) therefore he spent his days conducting his own
research and hard work. Not only this, he had also summarized some of the
footnotes of Masnavi by Maulana Ruum. The guards of the prison spoke of how
Hazrat remained busy in worshiping the whole night and in reading and writing
the whole day. For a long time in Masjid-e-Mahaajireen Hazrat kept explaining
the details and incidents of Hazrat Moosaa (Salutation on him) according to the
order of his efforts.

Nearly every day Hazrat Khateeb-e-A’zam had to go to one city or another to
speak. The series of his programs would continue in villages, towns and cities.
Once regarding the rak’aat of taraweeh salaat the non-following Wahaabis sent a
challenge of Munaazarah (argumentation) to Hazrat Khateeb-e-A’zam which
Hazrat accepted without hesitation. The Wahaabi point of view of was that
[total] Taraweeh rak’aat are eight while the Ahle Sunnat view is they are twenty.
The schedule was decided, the day determined was also Friday, and the place
decided was Masjid –e-Mahaajireen. The Wahaabi gave the name of eight of their
scholars while Hazrat Khateeb-e-A’zam was by himself. Before the lecture of
Friday it was announced that after the Salaat-o-Salaam Munazarah with take
place according to the rules. After the salaat the last du’aa, two people came and
left saying they will come back and bring the rest of their people in ten to fifteen
minutes. But Hazrat waited until ‘Asr Salaat yet no one came. Even those two

people did not come back. The next Friday Hazrat Khateeb-e-A’zam also
explained the same issue with evidences. He was an excellent example of genuine
speaking and steadfastness.

The construction of Sahiwaal’s Madinah Masjid had not even start when the
people of Karachi called Hazrat Khateeb-e-A’zam. When Hazrat announced he is
leaving for Karachi people started crying. The scene on the day Hazrat had to
depart was unforgettable as people lay on the train tracks [saying] we will not let
go. Gracious Allaah had to also take a lot of work from Hazrat in Karachi for
Maslak-e-Haqq (The True Path). In Karachi the gatherings of Masjid Noor were
like Masjid-e-Mahaajireen. After Hazrat the same kind of Friday gathering was
never witnessed again. It is said and heard about other people that one of their
speeches is very good and successful but Hazrat Khateeb-e-A’zam Pakistan is so
famous and respected that every one of his speeches and every one of his
gatherings would be successful and he would be listened to again and again.

In his private life he was also very simple and pious. Amongst the friends and
family his personality was sacred, respected and popular. He was very good
natured and cordial. In relation to his qualities and virtues he was without any
doubt impossible to ignore and In Shaa Allaah will remain impossible to ignore.
May Gracious Allaah elevate his status. His worthy son is indeed his true heir and
has kept the mission of his respected father in the same way. May Allaah grant the
Light of Maslaak and Deen on this family and let there be light in every direction.

‫‪Hakeem Shaiekh Muhammad Sa’eed‬‬
‫‪Sahiwaal 1996‬‬

‫بسم اّٰللہ الرحمن الرحیم‬
‫الصلوۃ والسالم علیک نارسول اّٰللہ‬
‫ع‬
‫السالم لیکم ورحمۃ اّٰللہ وپرکابہ‬
‫س‬
‫ان تمام دوستوں کو خو فیس نک اسیعمال کرتے ہیں بہ آ گاہ کرنا ضروری محھئے ہیں کہ فیس نک پر موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی)‬
‫کے ارکان تے‬
‫اکیڈمی کے نام کا انک فین پیج اور انک حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی کے نام کا فین پیج ‪ ،‬انک فین پیج‬
‫حضرت حطنب ِ اعظم حضرت عالمہ موالنا محمد شق یع اوکاڑوی کے نام سے‬
‫اور انک فین پیج جامع مسجد گل ِزار حب نب کے نام سے پیانا ہوا ہے ۔ ان جار کے سوا کونی بھی پیج آفیسیل اور صحیح نہیں ہے ۔‬

‫ُ‬
‫جن لوگوں تے حطنب ِ ملت حضرت عالمہ کوکب یورانی اوکاڑوی کے نام سے پیج پیاے ہوے ہیں ہم ان سے عرض گزار ہیں کہ‬
‫وہ ا بسے تمام پیج پید کردیں‬

‫ناکہ کسی علط اسیعمال کی گیجابش بہ رہے ۔ احیاب سے عرض ہے کہ درج ذنل ع توانات کے سوا کسی اور پیج کو صحیح گمان بہ‬
‫کریں‬

‫اور ان کے سِ وا کسی کو ہمارے پیج جان کر کونی رایطہ بہ کریں ۔‬
‫سکربہ‬

The web pages listed below are made and managed by the members of the
Maulana Okarvi Academy (Al-Aalami). We DO NOT have any other page and
therefore are not responsible for the content on unofficial sites.

www.facebook.com/Allaamah.Kaukab.Noorani.Okarvi.FanPage
www.facebook.com/Hazrat.Maulana.Muhammad.Shafee.Okarvi
www.facebook.com/Maulana.Okarvi.Academy
www.facebook.com/Masjid.Gulzar.e.Habeeb
www.allaamahkaukabnooraniokarvi.com
www.okarvi.com
www.okarvispeeches.com
www.twitter.com/AcademyOkarvi
https://plus.google.com/+AllamahKaukabNooraniOkarvi
https://plus.google.com/+OkarviAcademy

‫حیاب شعنب پ تولی لکھئے ہیں‬:
‫ناکسیان کے لئے انک ستق‬

‫یوکراین کے صدر تے اپیمی پروگرام کے خوالے سے کیا کہا‪ ،‬اپیم یم ہونا یو آج خوار بہ ہوتے‬
‫کاش اپیمی پروگرام حیم بہ کیا ہونا۔ یوکراین‬

‫ک یف (ماتبیرنگ ڈبسک) یوکراین کے صدر اولیکسبیڈر پرچی یوو تے کہا ہے کہ ہم تے اپیم یم سے دشت پردار ہوکر علطی کی ہے اور‬
‫ضرف اس کم زوری کے ناعث بہ حظرہ موخود ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکراین پر ق یصہ کرسکیا ہے‪ ،‬ان کا کہیا کہ دپیا کے دنگر ممالک کے‬
‫کہئے پر جب یوکراین تے اپیم یم اور اپیمی اسلحہ سے دشت پرداری کا ق یصلہ کیا بھا پب ہر ملک ہمارے سابھ یقین دہانی کروارہا بھا لیکن اب‬
‫کونی بھی ہماری مدد کرتے کو پیار نہیں ہے۔ انہوں تے کہا کہ ایوار کے روز ہوتے والے ریف رن ڈم کے یعد بہ حظرہ موخود ہے کہ روس‬
‫کسی بھی وقت نہانا پیاکر یوکراین پر خڑھ دوڑے گا۔‬

‫دوسری جاپب پیم خود محیار حطے کرتمیا کی نارلی مان تے بیر کو ناصایطہ آزادی کا اعالن کردنا ہے‪ ،‬روس میں سامل ہوتے کے لئے‬

‫درخواشت دی ہے لیکن امریکا اور یورنی یوتین کی جاپب سے سحت مجالفت کا سامیا ہے۔ صدر اوناما تے روس کے سابھ اہل کاروں پر ناپیدناں‬
‫لگادی ہیں جب کہ یورنی یوتین تے کرتمیا اور روس کے ‪ 30‬اہل کاروں کے اناتے میحمد کرتے ہوے ان پر شقری ناپیدناں بھی لگادی ہیں۔‬

‫ان اہل کاروں کے نارے میں حیال ہے کہ انہوں تے کرتمیا کے ریف رن ڈم میں روس سے الجاق میں اہم کردار ادا کیا بھا۔ ایوار کو ہوتے‬
‫والے ریف رن ڈم کے یعد اعالن کیا گیا ہے حس میں یقرپیا ‪ 00‬قی صد ووپروں تے کرتمیا کے حطے کو یوکراین سے علیجدہ کرکے روس میں‬
‫سامل ہوتے کے خق میں ووٹ دنا بھا۔‬

‫یوکراین کی جکومت تے کہا ہے کہ وہ ان پیاتج کو بسلیم نہیں کرنی۔ امریکا اور یورنی یوتین تے روس میں سامل ہوتے کے لئے کئے‬

‫جاتے والے ریف رن ڈم کو یوکراین اور تین االقوامی قواتین کی جالف ورزی فرار د پئے ہوے عیر قایونی کہا ہے۔ انہوں تے ماسکو کے جالف‬
‫ناپیدی لگاتے کا بھی عہد کیا ہے۔ واصح رہے کہ یوکراین کا عالقے کرتمیا فروری کے اواخر سے روسی جامی قوح توں کے ق یصے میں ہے۔‬
‫ماسکو کا کہیا ہے کہ بہ روس جامی قوچی‪ ،‬سیلف ڈ یقیس قورس ہیں اور روس کے پراہ راشت کبیرول میں نہیں ہیں‪ ،‬دریں اپیاء‬

‫یوکراین کی نارلی مان تے دارالجکومت ک یف میں ناصایطہ طور پر ‪ 21‬ہزار قوح توں کو خزوی طور پر اکیھا کرتے کی م یظوری دے دی ہے۔ وہ ان‬
‫جاالت کو ”حیگی جاالت“ کہیا ہے۔‬
‫میرے کارواں میں سامل کونی کم طرف نہیں ہے‬
‫خو بہ مٹ سکے وطن پر وہ میرا ہم شقر نہیں ہے‬

‫ُ‬
‫ہم خرما و ہم یواب‬
‫جدد سلک ِ اہل سنّت‪ ،‬محسن ملک و ملت‪ ،‬عاسق رسول (ﷺ)‪ُ ،‬م ّ‬
‫ح‬
‫م‬
‫پ‬
‫وب اولیاء‪ ،‬حطنب ِاعظم ناکسیان حضرت الجاج‬
‫ت‬
‫ول‪،‬‬
‫ت‬
‫آل‬
‫و‬
‫ہ‬
‫اب‬
‫ج‬
‫ِ‬
‫حب‬
‫مِم‬
‫ِ‬
‫ص‬
‫ِ‬
‫ِ‬
‫ِ‬
‫ِ‬
‫ٰ‬
‫عالمہ قیلہ موالنا محمد شق یع اوکاڑوی قدس سرہ الیاری و رحمۃاّٰللہ یعالی علتہ تے حصوصی اجازت سے بہ اعالن فرمانا بھا کہ حس سحص کو کونی‬
‫ٰ‬
‫ٰ‬
‫ی‬
‫اب ندر رصی اّٰللہ یعالی عتہم احمعین کے‬
‫جاجت ہو یو وہ دو رکعت قل (تم ِاز جاجت) پڑھ کر اّٰللہ یعالی سے دعا کرے کہ ‪( 202‬تین سو بیرہ) اصج ِ‬
‫ُ‬
‫َ‬
‫ظ‬
‫اب ندر کی طرف سے جامع مسجد گل ِزار حب نب (ﷺ) گلسی ِان اوکاڑوی (سایق‬
‫قیل میری جاپز جاجت یوری فرمادے یو میں ‪ 202‬روتے اصج ِ‬
‫ سولرر نازار) کراچی کی یعمیر میں دوں گا ‪ -‬ان ساء اّٰللہ اس کی جاجت یوری ہوجاتے گی‬‫الحمد ّٰللہ! حضرت حطنب ِ اعظم ناکسیان رحمۃ اّٰللہ علتہ کی اس بسارت سے اب نک ہزاروں افراد ق یض ناب ہو جکے ہیں‪ ،‬لوگوں کا جاپز کام ہوجانا‬
‫ٰ‬
‫ہے اور مسجد بھی یعمیری مراجل طے کررہی ہے اور صدقہ جارنہئ کا یواب بھی تحمدہ یعالی ملیا ہے ‪ -‬حضرت موالنا اوکاڑوی رحمۃ اّٰللہ علتہ کی اس‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫پ‬
‫ی‬
‫م‬
‫زندہ کرامت سے آپ بھی اپئی مسکل ُدور کرسکئے ہیں ‪ -‬مسجد ل ِزار حب نب (ﷺ) کراچی شہر کی قد م اور پڑی مساجد یں ا ئی میال آپ ہے ‪-‬‬
‫ٰ‬
‫ اس کی یعمیر میں یعاون فرماتیں ‪ -‬اّٰللہ یعالی آپ کو خزاتے جیر عطا فرماتے‬‫ُ‬
‫گل ِزار حب نب پرشٹ‬
‫ڈولی کھانا‪ ،‬گلسی ِان اوکاڑوی (سولرر نازار) کراچی‬
‫) ‪ (130‬قون تمیر‪2 2323 333 :‬‬

‫اظالع‬
‫ملک ب ھر سے خو لوگ جامع مسجد گل ِزار حب نب‪ ،‬جامعہ اسالمتہ گل ِزار حب نب اور مزار سریف موالنا اوکاڑوی کی یعمیر و پرقی کے لئے عطیات‬

‫بھیحیا جاتیں‪ ،‬ان کے لئے ”آن الین تبیکیگ“ کی وجہ سے بہ شہولت ہوگئی ہے کہ وہ ا پئے ہی عالقے میں موخود یوناتبیڈ تبیک لمبیڈ کی پراتچ ہی‬

‫میں ہمارا اکاؤپٹ تمیر اور پراتچ کوڈ تمیر درج کرکے رقم حمع کرواسکئے ہیں‪ ،‬اس طرح انہیں مئی آرڈر نا تبیک ڈراقٹ پ تواتے کی ضرورت نہیں‬
‫ب‬
‫ہوگی۔ ان احیاب سے گزارش ہے کہ جب کیھی عطیات حمع کرواتیں ہمیں تبیک ڈ پیازٹ سلپ کی قویو اسب نٹ کانی ضرور ھجوادیں ناکہ‬
‫حساب میں دسواری بہ ہو۔‬

‫جامع مسجد گل ِزار حب نب ‪-1‬‬
‫‪A/c # 010-2024-7‬‬
‫‪(UBL) 0699‬‬

‫‪:‬‬

‫اکاؤپٹ تمیر‬
‫پراتچ کوڈ تمیر‬

‫‪:‬‬

‫جامعہ اسالمتہ گل ِزار حب نب ‪-2‬‬
‫‪A/c # 010-2619-5‬‬
‫‪(UBL) 0699‬‬

‫‪:‬‬

‫اکاؤپٹ تمیر‬
‫پراتچ کوڈ تمیر‬

‫‪:‬‬

‫مزار سریف موالنا اوکاڑوی ‪-3‬‬
‫‪A/c # 010-1344-9‬‬
‫‪(UBL) 0699‬‬

‫‪:‬‬
‫‪:‬‬

‫اکاؤپٹ تمیر‬
‫پراتچ کوڈ تمیر‬

‫)بہ تب توں اکاؤپٹ یوناتبیڈ تبیک لمبیڈ‪ ،‬کراچی کی کیانی شہیدروڈ پراتچ میں ہیں۔(‬

‫ُ‬
‫ن‬
‫مس‬
‫گ‬
‫ی‬
‫ت‬
‫ب‬
‫پ‬
‫ک‬
‫ہ‬
‫ع‬
‫ح‬
‫ل ِزار ب نب پرشٹ کو د پئے جاتے والے طیات ا م کس سے ئی یں۔‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫ل ِزار حب نب پرشٹ‬
‫ڈولی کھانا‪ ،‬گلسی ِان اوکاڑوی (سولرر نازار) کراچی‬
‫قون‪2323 2333 )130( :‬‬

‫خوش جیری‬
‫ؒ‬
‫موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) تے مج ِدد مسلک ِ اہ ِل سنّت‪ ،‬حطنب ِ اعظم ناکسیان حضرت موالنا محمد شق یع اوکاڑوی علتہ الرحمۃ والرضوان کے‬
‫ع‬
‫ُ‬
‫لمی پیرر‪ ،‬عس ِق رسول (ﷺ) اور محفقابہ یصیرت کی آ تنتہ دار یقارپر کو محفوظ کرتے اور بھیالتے کے لئے انک شعتہ قایم کیا ہوا ہے‪ ،‬اب نک‬
‫ٰ‬
‫یقرپیا ناتچ سو اہم موضوعات پر م یعدد یقارپر محفوظ کرلی گئی ہیں ‪ -‬ارادہ ہے کہ ان شب یقارپر کو کیایوں میں محفوظ کیا جاتے (ان ساء اّٰللہ یعالی)‬
‫ آپ ان یقارپر کی سماعت سے اندازہ کرسکیں گے کہ احقاق خق اور ایط ِال ناظل کے لئے آج بھی بہ یقرپریں تیش نہا سرمابہ ہیں‬‫عالوہ ازیں دس موضوعات پر وڈیو کیستیں بھی دشت ناب ہیں ‪ -‬یقارپر کی بہ کیستیں خود بھی جاصل کیحئے اور ا پئے احیاب کو بھی تیش کیحئے‪،‬‬
‫‪ -‬نالشتہ بہ گراں قدر تحقہ ہیں‬

‫موالنا اوکاڑوی اکادمی العالمی (ریکارڈنگ و پیلسیگ ڈوژن)‬
‫نی‪ ،‬سیدھی مسلم سوساپئی‪ ،‬کراچی ‪ -‬قون‪53- 0232 2233 :‬‬
‫اپیل‬
‫‪۵۹۸۲‬ء میں مج ِدد مسلک ِ اہ ِل سنّت‪ ،‬حطنب ِ اعظم ناکسیان‪ ،‬حضرت موالنا محمد شق یع اوکاڑوی علتہ الرحمۃ والرضوان تے ڈولی کھانا‪ ،‬گلسی ِان‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫اوکاڑوی (سولرر نازار) کراچی میں ‪0011‬ء سے مسجد کے لئے وفف فظعہ اراصی پر گل ِزار حب نب (ﷺ) پرشٹ قایم کرکے جامع مسجد گل ِزار‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫گ‬
‫س‬
‫سر یو یعمیر کا آعاز کیا بھا ‪۴۹۸۲ -‬ء میں ل ِزار حب نب (ﷺ) پرشٹ ہی کے تحت جامعہ ا المتہ ل ِزار حب نب (ﷺ) کا‬
‫حب نب (ﷺ) کی از ِ‬
‫ُ‬
‫ آعاز ہوا‬‫ن‬
‫ٰ‬
‫تحمدہ یعالی مجوزہ یقسے کے مطایق یعمیری کام مسلسل جاری ہے ‪ -‬ان اداروں کی کمیل کے لئے آپ خود یعاون فرماتیں اور ا پئے جلقہئ اپر میں‬
‫ُ‬
‫ٰ‬
‫ع‬
‫گ‬
‫ظ‬
‫ح‬
‫احیاب کو پرع نب دیں ‪ -‬اّٰللہ یعالی آپ کو خزاتے جیر عطا فرماتے ‪ -‬مسجد ل ِزار حب نب (ﷺ) ہی کے اجاطے میں حضرت ط نب ِا م کا مزار‬
‫ میارک بھی یعمیر ہورہا ہے‬‫ُ‬
‫گ‬
‫ل ِزار حب نب (ﷺ) پرشٹ‬

‫گلسی ِان اوکاڑوی (سولرر نازار) کراچی ‪ -‬قون ‪2323 2333 )130( :‬‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫)اکاؤپٹ تمیر جامع مسجد ل ِزار حب نب ‪(0-3132-101‬‬

‫ُ‬
‫گ‬
‫(جامعہ اسالمتہ‪ ،‬ل ِزار حب نب ‪ ) 3-3200-101‬یوناتبیڈ تبیک لمبیڈ‪ ،‬کیانی شہید روڈ پراتچ کراچی‬