‫‪12/14/2010‬‬

‫…‪kitabosunnat.com/blog/index.php?view=article&type=ra‬‬

‫‪ LAST_UPDATED2‬اتوار‪ 12 ,‬دسمبر ‪03:59 2010‬‬

‫صوم عاشوراء‬
‫محرم الحرام کے فضائل ومسائل اور‬
‫ِ‬
‫حافظ مبشر حسين الہوری‬

‫محرم الحرام ہجری تقويم کا پہال مہينہ ہے جس کی بنياد نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم کے واقعہ ہجرت پر ہے۔ گويا مسلمانوں کے نئے سال کی ابتداء محرم کے ساتھ ہوتی ہے۔ ماهِ محرم کے‬
‫جو فضائل و مناقب صحيح احاديث سے ثابت ہيں‪ ،‬ان کی تفصيل آئنده سطور ميں رقم کی جائے گی اور اس کے ساتھ ان بدعات و خرافات سے بھی پرده اُٹھايا جائے گا جنہيں اسالم کا لباده‬
‫اوڑھ کر دين حق کا حصہ بنانے کی مذموم کوششيں کی گئی ہيں۔‬
‫‪1‬۔محرم‪ ،‬حرمت و تعظيم واالمہينہ ہے‬

‫قرآن مجيد ميں ہے کہ‬
‫ﺴ ﹸﮑﻢْ﴾)التوبہ‪(۳۶:‬‬
‫ﻼ َﺗ ﹾﻈ ِﻠ ُﻤﻮْﺍ ﻓِﻴ ﹺﻬ َﻦّ ﺃْﻧ ﹸﻔ َ‬
‫ﮏ ﺍﻟ ِﺪّﻳ ُﻦ ﺍﹾﻟﻘﹶﻴ ُﻢ ﹶﻓ ﹶ‬
‫ﺽ ِﻣْﻨﻬَﺎ ﺃ ْﺭَﺑ َﻌﺔﹲ ﺣُﺮُ ﹴﻡ ﺫِٰﻟ َ‬
‫ﺕ ﻭَﺍﹾﻟﹶﺎ ْﺭ َ‬
‫ﺴّﻤٰﻮَﺍ ِ‬
‫ﺏ ﺍﻟﻠﹼٰ ِﻪ ﻳ ْﻮ َﻡ َﺧ ﹶﻠ َﻖ ﺍﻟ َ‬
‫ﺸ َﺮ َﺷ ْﻬﺮًﺍ ِﻓ ْﯽ ِﮐﺘَﺎ ﹺ‬
‫ﺸّﻬُ ْﻮ ﹺﺭ ِﻋْﻨ َﺪ ﺍﻟﻠﹼٰ ِﻪ ﺍﹾﺛﻨَﺎ َﻋ َ‬
‫﴿ﺇ ﹶﻥّ ِﻋ َﺪّ ﹶﺓ ﺍﻟ ُ‬
‫لوح محفوظ( ميں مہينوں کی گنتی باره ہے‪ ،‬اسی دن سے جب سے آسمان و زمين کو اس نے پيدا کيا ہے۔ ان ميں سے چار مہينے ادب و احترام کے‬
‫”ﷲ‬
‫ٰ‬
‫تعالی کے ہاں اس کی کتاب )يعنی ِ‬
‫الئق ہيں‪ ،‬يہی درست دين ہے ٰلہذا ان مہينوں ميں تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔“‬
‫تعالی نے باره مہينے مقرر فرما رکھے ہيں۔ جن ميں چار کو خصوصی ادب و احترام اورعزت و تکريم سے نوازا گيا۔ يہ چار مہينے کون سے ہيں‪ ،‬ان کی‬
‫يعنی ابتدائے آفرينش ہی سے ﷲ‬
‫ٰ‬
‫تفصيل صحيح بخاری و صحيح مسلم ميں حضرت ابوہريره رضی ﷲ عنہ سے مروی اس حديث سے ہوتی ہے کہ نبی صلی ﷲ عليہ وسلم نے فرمايا‪:‬‬
‫تعالی نے آسمانوں اور زمين کی تخليق فرمائی تھی۔ سال کے باره مہينے ہيں جن ميں چار حرمت والے ہيں‪،‬‬
‫”زمانہ اپنی اسی حالت پر واپس لوٹ آيا ہے کہ جس پر وه اس وقت تھا جب ﷲ‬
‫ٰ‬
‫تين تو لگاتار ہيں يعنی ذوالقعده ‪ ،‬ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا مضر قبيلے کا ما هِ رجب جو جمادی اآلخر اور شعبان کے درميان ہے۔“ )بخاری‪:‬کتاب التفسير‪ ،‬سورة التوبہ ؛‪ /۴۶۶٢‬مسلم‪ :‬کتاب‬
‫القسامہ‪ ،‬باب تغليظ تحريم الدماء ؛ ‪(١۶٧٩‬‬
‫مذکوره حديث ميں دو باتيں قابل توجہ ہيں‪ :‬ايک تو يہ کہ محرم بھی حرمت والے مہينوں ميں شامل ہے اور دوسری يہ کہ زمانہ اپنی سابقہ حالت و ہيئت پر واپس لوٹ آيا ہے۔ اس کا پس منظر‬
‫دور جاہليت ميں بھی لوگ حرمت والے مہينوں کا احترام کرتے اور جنگ و جدل‪ ،‬قتل و غارت گری اور خون ريزی وغيره سے اجتناب کرتے تھے۔ البتہ اگر کبھی حرمت‬
‫کچھ يوں ہے کہ‬
‫ِ‬
‫والے مہينے ميں انہيں جنگ و جدل اور قتل و غارت گری کی ضرورت محسوس ہوتی تو وه اپنے طور پر مہينوں کی تقديم و تاخير کرليتے۔ اگر بالفرض محرم کا مہينہ ہے تو اسے صفر‬
‫قرار دے ليتے اور )محرم ميں اپنے مقصد پورے کرنے کے بعد( اگلے ماه يعنی صفر کو محرم قرار دے کر لﮍائی جھگﮍے موقوف کرديتے۔ قرآن مجيد نے اس عمل کو نسيئ قرار دے کر‬
‫زيادتِ کفر سے تعبير فرمايا۔ )التوبہ‪(٣٧:‬‬
‫جس سال نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم نے حج فرمايا‪ ،‬اس سال ذوالحجہ کا مہينہ قدرتی طور پراپنی اصلی حالت پر تھا۔ اس لئے آپ نے مہينوں کے َادل بدل کے خاتمے کا اعالن کرتے‬
‫تعالی نے ابتدائے آفرينش سے جاری فرما‬
‫ہوئے فرمايا کہ زمانہ گھوم گھما کر اپنی اصلی حالت پر واپس لوٹ آيا ہے۔ يعنی اب اس کے بعد مہينوں کی وہی ترتيب جاری رہے گی جسے ﷲ‬
‫ٰ‬
‫رکھا ہے۔‬
‫تعالی نے اسے ادب و احترام واال بنايا جبکہ اس کے آخری رسول صلی ﷲ عليہ وسلم نے اس کی حرمت کو جاری‬
‫دونوں باتوں کا حاصل يہی ہے کہ محرم ادب و احترام واالمہينہ ہے۔ ﷲ‬
‫ٰ‬
‫رکھا اور عرب کے جاہل بھی اس کا اس قدر احترام کرتے کہ احترام کے منافی کسی عمل کے جواز کے لئے کم از کم اتنا حيلہ ضرور کرليتے کہ فرضی طور پر حرمت والے مہينے کو‬
‫کسی دوسرے غير حرمت والے مہينے سے بدل ليتے۔‬
‫حجة الوداع کے موقع پر نبی کريم صلی ﷲ عليہ وسلم کے اس فرمان سے يہ بات از خود سمجھ آجاتی ہے کہ ما ِه محرم کی حرمت و تعظيم کا حضرت حسين کے واقعہ شہادت سے کوئی‬
‫ت حسين رضی ﷲ عنہ سے مالتے ہيں۔ اس لئے کہ ما ِه محرم کی حرمت تو اس دن‬
‫تعلق نہيں اور وه لوگ غلط فہمی کا شکار ہيں جو اس مہينے کی حرمت کی کﮍياں واقعہ کربال اور شہاد ِ‬
‫ﺕ ﻭَﺍ ﹶﻻ ْﺭﺽَ…﴾ سے واضح ہے۔‬
‫ﺴّﻤٰﻮَﺍ ِ‬
‫سے قائم ہے جس دن سے يہ کائنات بنی ہے۔ جيسا کہ سورئہ توبہ کی گذشتہ آيت‪﴿ :‬ﻳ ْﻮ َﻡ َﺧ ﹶﻠ َﻖ ﺍﻟ َ‬

‫عالوه ازيں سانحہ کربالء‪ ،‬قطع نظر اس سے کہ اس ميں حضرت حسين رضی ﷲ عنہ کی مظلومانہ شہادت ہوئی‪ ،‬کا دين اسالم سے اس معنی ميں کوئی تعلق نہيں کہ اس ميں دين کی حفاظت‬
‫اول تو دين اسالم حضرت حسين رضی ﷲ عنہ کے واقعہ شہادت سے کئی عشروں پہلے ہی نبی اکرم ص لی ﷲ علي ہ وس لم کی زندگی ميں مکم ل ہوچک ا‬
‫کا کوئی مسئلہ درپيش تھا بلکہ ّ‬
‫تھا‪،‬جيسا کہ‬
‫ﺖ ﹶﻟﮑﹸﻢُ ﺍﻹ ْﺳﻠﹶﺎ َﻡ ﺩِﻳﻨًﺎ﴾ ) ﺍﳌﺎﺋﺪﺓ‪(۲:‬‬
‫ﺖ ﹶﻟ ﹸﮑ ْﻢ ﺩِﻳَﻨ ﹸﮑ ْﻢ َﻭﹶﺍْﺗ َﻤ ْﻤﺖُ َﻋﻠﹶﻴ ﹸﮑ ْﻢ ﹺﻧ ْﻌ َﻤِﺘ ْﯽ َﻭ َﺭﺿِﻴ ُ‬
‫قرآن مجيد ميں ہے‪﴿ :‬ﹶﺍﻟﹾﻴ ْﻮ َﻡ ﺃ ﹾﮐ َﻤ ﹾﻠ ُ‬
‫ِ‬
‫اور دوم يہ کہ دين کی حفاظت کا ذمہ خود ﷲ‬
‫ﺤﻦُ َﻧ َﺰّﹾﻟﻨَﺎ ﺍﻟ ِﺬّ ﹾﮐ َﺮ ﻭَﺇَﻧّﺎ ﻟﹶﻪ ﹶﻟﺤَﺎ ِﻓ ﹸﻈ ْﻮﻥﹶ﴾ معلوم ہوا کہ يہ تصور جہالت والعلمی پر مبنی ہے کہ‬
‫ٰ‬
‫تعالی نے اُٹھا رکھا ہے‪ ،‬جيسا کہ قرآن مجيد ميں ہے‪﴿ :‬ﺇَﻧّﺎ َﻧ ْ‬
‫ت حسين رضی ﷲ عنہ سے پہلے اسی ماه کی يکم تاريخ کو عمر فاروق رضی ﷲ عنہ ايسے‬
‫ت حسين رضی ﷲ عنہ کا‬
‫مرہون منت سمجھا جائے بلکہ شہاد ِ‬
‫ما ِه محرم کا ادب و احترام شہاد ِ‬
‫ِ‬
‫خليفہ راشد کی شہادت کا المناک واقعہ پيش آچکا تھا۔ مگر اس وقت سے آج تک کبھی حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کا واقعہ شہادت اس انداز سے پيش نہيں کيا گيا۔‬
‫حاالنکہ اگر کسی بﮍے آدمی کی موت يا شہادت کسی مہينے کے ادب و احترام کی عالمت ہوتی تو عمرفاروق رضی ﷲ عنہ ايسے صحابی ٔرسول صلی ﷲ عليہ وسلم اپنے علمی‪ ،‬دينی‪،‬‬
‫روحانی اور خليفہ ثانی ہونے کے حوالے سے اس بات کے حضرت حسين رضی ﷲ عنہ نے بھی زياده مستحق ہوتے کہ ان کی شہادت پر وه سب کچھ کيا جاتا جو حضرت حسين رضی ﷲ‬
‫عنہ کی شہادت پرکيا جاتا ہے۔ مزيد برآں حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ ‪ ،‬حضرت حمزه رضی ﷲ عنہ ‪ ،‬حضرت علی رضی ﷲ عنہ اور ديگر اکابر و جليل القدر صحابہ کرام کی شہادتيں‬
‫اولی يہ استحقاق رکھتی ہيں مگر اہل ِسنت ان تمام شہادتوں پر نوحہ وماتم اور مجالس عزا وغيره کا اہتمام اس لئے نہيں کرتے کہ اسالم ان چيزوں کی اجازت نہيں ديتا اور جو ايسا‬
‫بدرجہ ٰ‬
‫کرتا ہے اس کا دين و ايمان خطرے ميں ہے اور اسالم کا نوحہ وماتم سے کوئی تعلق نہيں۔‬
‫محرم کی بے حرمتی‬

‫ويسے تو جنگ و جدل‪ ،‬قتل و غارت گری‪ ،‬خونريزی اور فتنہ و فساد کی کسی بھی مہينے‪ ،‬ہفتے اور دن ميں اجازت نہيں تاہم حرمت والے مہينوں ميں فتنہ و فساد کی ہرممکنہ شکل سے‬
‫اجتناب کرنے کا تاکيدی حکم ہے۔ ليکن افسوس کہ بہت سے لوگ ما هِ محرم کی حرمت کو اتنا ہی پامال کرتے ہيں جتنا کہ اس کا لحاظ رکھنے کی تاکيد کی گئی۔‬
‫ماه محرم کی حرمت کی پامالی کی ايک صورت تو يہ ہے کہ حضرت حسين رضی ﷲ عنہ کے واقعہ شہادت پر نالہ و شيون اور نوحہ و ماتم کيا جاتا ہے۔ اپنے جسم کو از خود سخت تکليفيں‬
‫دی جاتی ہيں۔ تيز دھاری آالت سے جسم کو زخمی کيا جاتا ہے۔ شہادتِ حسين رضی ﷲ عنہ کے رنج و غم ميں آه و بکا کا ايسا عجيب وحشيانہ اور خوفناک منظر برپا کيا جاتا ہے کہ االمان‬
‫والحفيظ! اس کا يہ معنی ہرگز نہيں کہ کسی کی وفات يا شہادت پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار نہ کيا جائے ليکن يہ اظہار شرعی حدو د ميں رہتے ہوئے ہونا چاہئے جبکہ نوحہ و ماتم‬
‫کرنے والے کے بارے ميں نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا‪ :‬ﻟﻴﺲ ﻣﻨﺎ ﻣﻦ ﺿﺮﺏ ﺍﳋﺪﻭﺩ ﻭﺷﻖ ﺍﳉﻴﻮﺏ ﻭﺩﻋﺎ ﺑﺪﻋﻮٰﯼ ﺍﳉﺎﻫﻠﻴﺔ‬
‫‪1/5‬‬

‫…‪kitabosunnat.com/blog/index.php?view=article&type=ra‬‬

php?view=article&type=ra‬‬ ‫دور جاہليت کے بين کئے۔“ )بخاری‪ :‬کتاب الجنائز‪ ،‬باب ليس منامن ضرب الخدود؛‪(١٢٩٧‬‬ ‫” وه شخص ہم )مسلمانوں( ميں سے نہيں جس نے رخسار پيٹے‪ ،‬گريبان چاک کئے اور‬ ‫ِ‬ ‫ما هِ محرم کی حرمت کی پامالی کی ايک صورت يہ ہے کہ‬ ‫مسلمانوں کے مختلف گروه آپس ميں نہ صرف يہ کہ دست و گريبان ہوتے ہيں بلکہ ايک دوسرے کو قتل بھی کرتے ہيں۔ تقريبا ً ہر سال ماه محرم ميں کسی نہ کسی ’مسجد‘ يا ’امام بارگاه‘‬ ‫ميں معصوم لوگ دہشت گردی کی کارروائی کا شکار ہوتے ہيں۔ حقيقت يہ کہ اسالم تو عام دنوں ميں بھی خونريزی‪ ،‬دہشت گردی اور فتنہ و فساد کی کسی بھی شکل کو پسند نہيں کرتا پھر‬ ‫بھال ما هِ محرم ميں اسے کيسے پسند کرسکتا ہے؟ اس لئے اسالم سے محبت کا تقاضا يہ ہے کہ ايسی کسی بھی دہشت گردی کی کاروائی سے کلی اجتناب کيا جائے۔ ويسے بھی يہ بات ذہن‬ ‫نشين رہے کہ اگر کوئی شخص فی الواقع کفروشرک اور ارتداد کا مرتکب ہو رہا ہو اور واقعی وه قتل کی سزا کا مستحق ہوچکا ہو تو تب بھی ايسے شخص يا گروه کو سزائے قتل دينے کی‬ ‫تعالی کی حدود کو نافذ کرنا شروع کردے!‬ ‫مجاز صرف حکومت ِوقت ہے۔ ہر کہ ومہ کو اسالم يہ اختيار نہيں ديتا کہ وه ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫يہاں يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بعض دفعہ دہشت گردی کی کارروائيوں ميں دشمن عناصر قوتوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور وه مسلمانوں کے مسلکی و گروہی اختالفات سے فائده اٹھاتے ہوئے‬ ‫جوش انتقام ميں مخالف فرقے کو نشانہ بناتا ہے‬ ‫کسی فرقے کے لوگوں کو تخريب کاری کا نشانہ بنا کر دوسرے فرقے پر اس کا الزام لگا ديتے ہيں۔ پھر دوسرا فرقہ تحقيق کئے بغير محض‬ ‫ِ‬ ‫اور اس طرح تخريب کاری کا ايک غير متناہی سلسلہ چل نکلتا ہے۔ اس لئے امن و امان کے قيام کے لئے ہميں ان تمام پہلوؤں پر سنجيدگی سے غور کرنا چاہئے۔اور يہ بھی ياد رکھنا چاہئے‬ ‫خون مسلم کی حرمت انتہائی اہم حيثيت رکھتی ہے۔‬ ‫کہ اسالم کی نگاه ميں‬ ‫ِ‬ ‫‪-2‬محرم کے روزوں کی فضيلت‬ ‫رمضان المبارک کے روزے سال بھر کے ديگر تمام روزوں سے افضل ہيں۔ البتہ رمضان کے ماسوا محرم کے روزوں کی فضيلت سب سے بﮍھ کر ہے جيسا کہ درج ذيل صحيح احاديث‬ ‫سے ثابت ہے ‪:‬‬ ‫‪ -1‬حضرت ابوہريره رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم نے فرمايا‪:‬‬ ‫”ﺃﻓﻀﻞ ﺍﻟﺼﻴﺎﻡ ﺑﻌﺪ ﺭﻣﻀﺎﻥ‪ :‬ﺷﻬﺮ ﺍﷲ ﺍﶈﺮﻡ ﻭﺍﻓﻀﻞ ﺍﻟﺼﻼﺓ ﺑﻌﺪ ﺍﻟﻔﺮﻳﻀﺔ‪:‬ﺻﻼﺓ ﺍﻟﻠﻴﻞ“ )ﻣﺴﻠﻢ‪ :‬ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻴﺎﻡ‪ :‬ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ ﺻﻮﻡ ﺍﶈﺮﻡ؛‪(۱۱۶۳‬‬ ‫”رمضان المبارک کے بعد ﷲ کے مہينے محرم کے روزے سب روزوں سے افضل ہيں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات )يعنی تہجد( کے وقت پﮍھی جانے والی نماز‬ ‫ہے۔“‬ ‫‪ -2‬صحيح مسلم ہی کی دوسری روايت ميں ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم سے سوال کيا گيا کہ‬ ‫”ﺃﻱ ﺍﻟﺼﻼﺓ ﺍﻓﻀﻞ ﺑﻌﺪ ﺍﳌﮑﺘﻮﺑﺔ ﻭﺃﻱ ﺍﻟﺼﻴﺎﻡ ﺃﻓﻀﻞ ﺑﻌﺪ ﺷﻬﺮ ﺭﻣﻀﺎﻥ؟“‬ ‫”فرض نمازوں کے بعد کون سی نما زسب سے افضل ہے اور رمضان المبارک کے بعد کون سے روزے سب سے افضل ہيں؟ تو آپ نے وہی جواب ديا جو پہلی حديث )مسلم؛ ‪ (١١۶٣‬ميں‬ ‫مذکور ہے۔“‬ ‫حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ﷲ کے رسول صلی ﷲ عليہ وسلم سے ايک آدمی نے عرض کيا‪:‬‬ ‫” اے ﷲ کے رسول! اگر رمضان کے عالوه کسی مہينے ميں‪ ،‬ميں روزے رکھنا چاہوں تو آپ کس مہينے کے روزے ميرے لئے تجويز فرمائيں گے؟ آپ نے فرمايا کہ اگر تو رمضان کے‬ ‫تعالی نے ايک قوم کی توبہ قبول‬ ‫تعالی کا مہينہ ہے۔ اس ميں ايک دن ايسا ہے کہ جس دن ﷲ‬ ‫عالوه کسی مہينے ميں روزے رکھنا چاہے تو محرم کے مہينے ميں روزے رکھنا کيونکہ يہ ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫فرمائی اور ايک قوم کی توبہ )آئنده بھی( قبول فرمائيں گے۔“ )ترمذی‪ :‬کتاب الصوم‪ ،‬باب ماجاء فی صوم المحرم ؛ ‪(٧۴١‬‬ ‫واضح رہے کہ امام ترمذی نے اس روايت کو ’حسن‘ قرار ديا ہے جبکہ اس کی سند ميں عبدالرحمن بن اسحق نامی راوی کو جمہور محدثين نے ضعيف ق را ردي اہے۔ ٰلہ ذا س نداً ي ہ روايت‬ ‫ضعيف ہے۔ تاہم محرم کا ’شہرﷲ‘ ہونا اور اس کے روزوں کا رمضان کے سوا ديگر مہينوں کے روزوں سے افضل ہونا ديگر صحيح روايات سے ثابت ہے۔‬ ‫‪ -3‬يو ِم عاشوراء کے روزے کی فضيلت‬ ‫‪ -1‬حضرت ابو قتاده رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا‪:‬‬ ‫”ﻭﺻﻴﺎﻡ ﻳﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍﺀ ﺍﺣﺘﺴﺐ ﻋﻠﯽ ﺍﷲ ﺃﻥ ﻳﮑﻔﺮ ﺍﻟﺴﻨﺔ ﺍﻟﱵ ﻗﺒﻠﻪ“‬ ‫تعالی سے اُميد ہے کہ يوم عاشورا کا روزه گذشتہ ايک سال کے گناہوں کا کفاره بن جائے گا۔“ )مسلم ‪ :‬کتاب الصيام‪ ،‬باب استحباب صيام ثالثة ايام؛ ‪(١١۶٢‬‬ ‫” مجھے ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫واضح رہے کہ ’عاشوراء‘ عشر سے ہے جس کا معنی ہے دس ‪ ١٠‬؛ اور محرم کی دسويں تاريخ کو عاشوراء کہا جاتا ہے۔ البتہ مذکوره فضيلت دسويں تاريخ کے روزے کی ہے يا نويں‬ ‫کی‪ ،‬اس ميں اہل علم کا شروع سے اختالف چال آتا ہے۔ مزيد تفصيل آگے آرہی ہے…‬ ‫‪ -2‬حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہاسے مروی ہے کہ‬ ‫دور جاہليت ميں عاشوراء کا روزه رکھا کرتے اور نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم بھی يہ روزه رکھتے تھے۔ پھر جب آپ مدينہ تشريف لے آئے تو تب بھی عاشوراء کا‬ ‫”قريش کے لوگ ِ‬ ‫روزه رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی اس دن روزه رکھنے کا آپ نے حکم دے رکھا تھا۔ البتہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کی فرضيت ختم ہوگئی۔ ل ٰہ ذا اب جو چاہے‬ ‫يہ روزه رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔“ )بخاری‪ :‬کتاب الصيام‪ ،‬باب صوم يوم عاشورا ؛‪ /٢٠٠٣‬مسلم‪ :‬کتاب الصيام‪ ،‬باب صوم يوم عاشوراء ؛‪(١١٢۵‬‬ ‫يوم عاشورا کا روزه رکھا کرتے تھے اور ﷲ کے رسول صلی ﷲ عليہ وس لم اور مس لمان بھی اس دن‬ ‫دور جاہليت ميں لوگ ِ‬ ‫‪ -3‬حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ِ‬ ‫روزه رکھتے۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا‪” :‬ﺇﻥ ﻋﺎﺷﻮﺭﺃ ﻳﻮﻡ ﻣﻦ ﺃﻳﺎﻡ ﺍﷲ ﻓﻤﻦ ﺷﺎﺀ ﺻﺎﻣﻪ ﻭﻣﻦ ﺷﺎﺀ ﺗﺮﮐﻪ“‬ ‫تعالی کے دنوں ميں سے ايک )معزز( دن ہے ٰلہذا جو اس دن روزه رکھنا چاہے‪ ،‬وه روزه رکھے اور جونہ رکھنا چاہے وه نہ رکھے۔“ )مسلم‪:‬ايضاً؛ ‪(١١٢۶‬‬ ‫”عاشورا ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ‬ ‫دور جاہليت ميں قريش دسويں محرم کا روزه کيوں رکھتے تھے؟ اس کا ايک جواب تو يہ ہوسکتا ہے کہ وه ہر سال ما ِه محرم کی اس تاريخ کو بيت ﷲ کو غالف‬ ‫ِ‬ ‫غالف کعبہ کے‬ ‫پہنايا کرتے تھے جيسا کہ صحيح بخاری ميں حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہاسے مروی ايک حديث ميں ہے )بخاری؛‪ (١۵٨٢‬ليکن اس پر پھر يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ قريش‬ ‫ِ‬ ‫لئے يہی دن کيوں خاص کرتے تھے؟ تو اس کا جواب )اور پہلے سوال ہی کا دوسرا جواب( يہ ہوسکتا ہے جو حضرت عکرمہ رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ‬ ‫”دورِ جاہليت ميں قريش نے ايک ايسے گناه کا ارتکاب کيا جو ان پر بﮍا گراں گزرا تو ان سے کہا گيا کہ تم لوگ عاشورا ءکا روزه رکھو يہ تمہارے گناه کا کفاره ہوجائے گا۔ پھر اس وقت‬ ‫سے قريش عاشوراء کا روزه رکھنے لگے۔“ )فتح الباری‪ ،۴/٧٧٣ :‬کتاب الصوم‪ ،‬باب صوم يوم عاشوراء(‬ ‫‪ -4‬حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ‬ ‫‪2/5‬‬ ‫…‪kitabosunnat.com/blog/index.‫‪12/14/2010‬‬ ‫…‪kitabosunnat.com/blog/index.php?view=article&type=ra‬‬ .

php?view=article&type=ra‬‬ .php?view=article&type=ra‬‬ ‫”جب ﷲ کے رسول صلی ﷲ عليہ وسلم مدينہ تشريف الئے تو ديکھا کہ يہودی عاشوراء کے دن کا روزه رکھتے ہيں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اس دن روزه کيوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا‬ ‫تعالی نے بنی اسرائيل کو ان کے دشمن )فرعون( سے نجات بخشی )اور فرعون کو اس کے لشکر سميت بحيرئہ قلزم ميں غرقاب‬ ‫کہ يہ ايک اچھا )افضل( دن ہے اور يہی وه دن ہے جب ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫موسی عليہ السالم‬ ‫)بطور شکرانہ( اس دن روزه رکھا )اور ہم بھی روزه رکھتے ہيں( تو نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا کہ ہم حضرت‬ ‫موسی عليہ السالم نے‬ ‫کيا( تو حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫ِ‬ ‫)بخاری‪ :‬ايضا ً ؛ ‪/٢٠٠۴‬مسلم؛‪(١١٣٠‬‬ ‫کے )شريک ِمسرت ہونے ميں( تم سے زياده مستحق ہيں۔ چنانچہ آپ نے اس دن روزه رکھا اور صحابہ کو بھی روزه رکھنے کا حکم فرمايا۔“‬ ‫‪ -5‬حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ‬ ‫”ميں نے نہيں ديکھا کہ ﷲ کے رسول صلی ﷲ عليہ وسلم دنوں ميں سے دسويں محرم )يوم عاشوراء( کے اور مہينوں ميں سے ماهِ رمضان کے روزوں کے سوا کسی اور روزے ک و‬ ‫افضل سمجھ کر اس کا اہتمام کرتے ہوں۔“ )بخاری‪ ،‬ايضاً؛‪ /٢٠٠۶‬مسلم ايضاً؛‪(١١٣٢‬‬ ‫ابوموسی رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ”عاشورا کے روز يہودی عيد مناتے مگر آنحضرت صلی ﷲ عليہ وسلم نے صحابہ سے فرمايا کہ تم اس دن روزه رکھ ا ک رو۔“‬ ‫‪ -6‬حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫)بخاری ؛‪ /٢٠٠۵‬مسلم ؛‪(١١٣١‬‬ ‫ابوموسی رضی ﷲ عنہ سے مروی مسلم ہی کی دوسری روايت ميں ہے کہ ”اہل خيبر عاشوراء کے روز‪ ،‬روزه رکھتے اور ا س دن عيد مناتے اور اپنی عورتوں کو اچھے اچھے لباس‬ ‫‪-7‬‬ ‫ٰ‬ ‫اور زيورات پہناتے مگر ﷲ کے رسول صلی ﷲ عليہ وسلم نے صحابہ رضی ﷲ عنہم سے فرمايا کہ تم اس دن روزه رکھو۔“ )مسلم؛‪(٢۶۶١‬‬ ‫‪ -8‬حضرت سلمہ بن اکوع رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم نے قبيلہ بنواسلم کے ايک شخص کو حکم ديا کہ وه لوگوں ميں جاکر يہ اعالن کرے کہ‬ ‫”جس نے کچھ پی ليا ہے‪ ،‬وه اب باقی دن کھانے پينے سے رکا رہے اور جس نے کچھ نہيں کھايا‪ ،‬وه روزه رکھے کيونکہ آج عاشوراء کا دن ہے۔“ )بخاری؛‪ /٢٠٠٧‬مسلم؛‪(١١٣۵‬‬ ‫‪ -9‬حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ﷲ کے رسول صلی ﷲ عليہ وسلم نے جب دسويں محرم کا روزه رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزه رکھن ے ک ا حکم‬ ‫فرمايا تو لوگوں نے عرض کيا کہ‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫نصاری کی مخالفت کا حکم ديتے ہيں اور‬ ‫نصاری بﮍی تعظيم و اہميت ديتے ہيں۔ )يعنی ان کی مراد يہ تھی کہ آپ تو ہميں يہود و‬ ‫”اے ﷲ کے رسول صلی ﷲ عليہ وسلم ! اس دن کو يہود و‬ ‫يوم عاشوراء کے معاملہ ميں تو ان کی موافقت ہورہی ہے۔( تو آپ صلی ﷲ عليہ وسلم نے فرمايا کہ ”ﻓﺎﺫﺍ ﮐﺎﻥ ﺍﻟﻌﺎﻡ ﺍﳌﻘﺒﻞ ﺇﻥ ﺷﺎﺀ ﺍﷲ ﺻﻤﻨﺎ ﺍﻟﻴﻮﻡ ﺍﻟﺘﺎﺳﻊ“ آئنده سال اگر ﷲ نے چاہا تو ہم نويں تاريخ‬ ‫کو روزه رکھيں گے۔ ابن عباس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہيں کہ اگال سال آنے سے پہلے ﷲ کے رسول انتقال فرما گئے۔“ )مسلم؛‪(١١٣۴‬‬ ‫‪ -10‬مسلم کی ايک روايت کے لفظ يہ ہيں کہ ”ﻟﺌﻦ ﺑﻘﻴﺖ ﺇﻟﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﻷﺻﻮﻣﻦ ﺍﻟﺘﺎﺳﻊ“‬ ‫”اگر آئنده سال ميں زنده رہا تو ضرور نو کا روزه رکھوں گا۔“ )مسلم‪ :‬ايضا ً(‬ ‫روزه نو محرم کو يا دس کو؟‬ ‫عاشورا ءکے روزے کے بارے ميں اہل علم کا شروع سے اختالف چال آتا ہے کہ يہ روزه نو تاريخ کو رکھا جائے يا دس کو ؛ يا نو اور دس دونوں کے روزے رکھے جائيں؟ وجہ ِاختالف‬ ‫ٰ‬ ‫نصاری کی مخالفت کے پيش نظر آنحضرت صلی ﷲ عليہ وسلم نے فرمايا کہ ”آئنده سال ميں زنده رہا تو نو تاريخ کا روزه‬ ‫صحيح مسلم کی مندرجہ باال حديث )نمبر‪ (٩‬ہے جس ميں يہود و‬ ‫رکھوں گا۔“‬ ‫بعض اہل علم کا خيال ہے کہ اگرچہ آنحضرت صلی ﷲ عليہ وسلم کو عملی طور پر نو کا روزه رکھنے کا موقع نصيب نہ ہوسکا تاہم آپ کا يہ فرمان دسويں محرم کے روزے کے لئے‬ ‫بطور ناسخ ہے اور اب صرف اور صرف نو ہی کا روزه رکھنا چاہئے۔ جبکہ بعض اہل علم اس کے برعکس اس موقف کے حامل ہيں کہ نو اور دس دونوں کا روزه رکھنا چاہئے۔ کيونکہ‬ ‫ِ‬ ‫ٰ‬ ‫ونصاری کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے ساتھ نويں محرم ک ا روزه بھ ی ش امل ہوج ائے گ ا اور اس ط رح دون وں ص ورتوں يع نی‬ ‫اصل فضيلت واال دن تو دسويں محرم کا ہے۔ جبکہ يہود‬ ‫ٰ‬ ‫نصاری پر عمل ہوجائے گا۔ ٰلہذا نو اور دس دونوں تاريخوں کے روزے از بس فضيلت کے لئے ضروری ہيں۔ ہمارے خيال ميں اس مسئلہ ميں وسعت‬ ‫فضيلت ِعاشوراء اور مخالفت ِيہود و‬ ‫پائی جاتی ہے‪ ،‬اس لئے مندرجہ دونوں صورتوں ميں سے کسی ايک صو رت کے ساتھ ہی اسے خاص کردينا اور اس کے برعکس دوسری کو غلط قرار دينا درست معلوم نہيں ہوتا۔ اس‬ ‫لئے کہ ان دونوں صورتوں کے الگ الگ مضبوط دالئل موجود ہيں ‪ ،‬مثالً‪:‬‬ ‫صرف نو کا روزه رکھنے کی دليل صحيح مسلم کی يہ حديث ہے کہ آئنده سال ميں زنده رہا تو نو کا روزه رکھوں گا۔ اب حديث کے ظاہری الفاظ کا يہی تقاضا ہے کہ نو ہی کا روزه رکھا‬ ‫جائے باقی رہی يہ بات کہ اصل فضيلت تو دسويں محرم کی ہے تو اس کا جواب يہ ہے کہ فضيلت کا معيار شريعت ہے۔ اگر شريعت دس کی بجائے نو کو باعث ِفضيلت قرار دے دے تو پھر‬ ‫يوم عاشورا ءکے روزے کا سوال کيا تو انہوں نے جواب ديا کہ‬ ‫نو ہی کی فضيلت سمجھی جائے گی اور يہی وجہ ہے کہ جب حکم بن اَعرج نے حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہ سے ِ‬ ‫”جب محرم کا چاند ديکھ لو تو دن گننا شروع کردو اور نويں تاريخ کو روزه کے ساتھ صبح کرو۔“ سائل نے پوچھا‪ ”:‬کيا ﷲ کے رسول اسی دن روزه رکھتے تھے؟“ تو ابن عباس رضی ﷲ‬ ‫عنہ نے جواب ديا‪ :‬ہاں!“ )مسلم‪ :‬کتاب الصيام‪ ،‬باب اَی يوم الصيام فی عاشوراء؛‪(١١٣٣‬‬ ‫اگرچہ آنحضرت صلی ﷲ عليہ وسلم دسويں محرم کو روزه رکھتے رہے مگر عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہ نے نويں محرم کے روزے کی نسبت ﷲ کے رسول کی طرف اس لئے کردی‬ ‫کہ آنحضرت صلی ﷲ عليہ وسلم يہ فرما چکے تھے کہ آئنده سال ميں نو کا روزه رکھوں گا۔ گويا اب نويں کو ہی کو سنت سمجھا جائے گا‪ ،‬اگرچہ عملی طور پر حضور کو يہ موقع نہيں‬ ‫مل سکا کہ آپ نو کا روزه رکھتے۔‬ ‫دس کا روزه رکھنے والوں کی پہلی دليل تو يہی ہے کہ اصل فضيلت واال دن دس محرم ہے اور اسی دن آنحضرت صلی ﷲ عليہ وسلم اور صحابہ کرام رضی ﷲ عنہ روزه رکھتے رہے۔‬ ‫تاہم ﷲ کے رسول کا يہ فرمان کہ آئنده سال ميں نو کا روزه رکھوں گا‪ ،‬اس بات کی نفی نہيں کرتا کہ ميں دس کا روزه چھوڑ دوں گا۔ بلکہ آپ کی مراد يہ تھی کہ دسويں کے ساتھ نويں کا‬ ‫ٰ‬ ‫بھی روزه رکھوں گا تاکہ يہود و‬ ‫نصاری کی بھی مخالفت ہوسکے۔ اور عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہ سے مروی ايک روايت سے اس کی تائيد بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے فرمايا‪” :‬ﺻﻮﻣﻮﺍ‬ ‫ﺍﻟﺘﺎﺳﻊ ﻭﺍﻟﻌﺎﺷﺮ ﻭﺧﺎﻟﻔﻮﺍ ﺍﻟﻴﻬﻮﺩ“ )السنن الکبری للبيہقی ‪ :‬ص‪ /٢٧٨‬ج‪” (۴‬نو اور دس )دونوں کا( روزه رکھو اور يہود کی مخالفت کرو۔ “‬ ‫شيخ احمد عبدالرحمن البناء رحمتہ ﷲ عليہ نے اس موقوف روايت کی سند کو صحيح قرار دياہے۔ )الفتح الربانی ‪ ،١/١٨٩:‬مصنف عبدالرزاق؛‪ ،٧٨٣٩‬طحاوی‪(٢/٧٨:‬‬ ‫اس سلسلے ميں حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہ سے مروی يہ حديث بھی ذکرکی جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم نے فرمايا‪” :‬ﻟﺌﻦ ﺑﻘﻴﺖ ﻵﻣﺮﻥ ﺑﺼﻴﺎﻡ ﻳﻮﻡ ﻗﺒﻠﻪ ﺃﻭ ﻳﻮﻡ ﺑﻌﺪ ﻳﻮﻡ‬ ‫ﻋﺎﺷﻮﺭﺍﺀ“‬ ‫” اگر آئنده سال ميں زنده رہا تو ميں يہ حکم ضرور دوں گا کہ دسويں محرم سے پہلے يا اس کے بعد )يعنی گيارہويں محرم( کا ايک روزه )مزيد( رکھو۔“‬ ‫ٰ‬ ‫کبری از بيہقی )‪ (۴/٢٨٧‬ميں موجود ہے مگر اس کی سند ميں ابن ابی ليلی )جن کا نام محمد بن عبدالرحمن ہے( ضعيف راوی ہے۔ جبکہ امام ابن عدی‬ ‫يہ روايت مسندحميدی )‪ (۴٨۵‬اور سنن‬ ‫نے يہ روايت ’الکامل‘ )‪ (٣/٩۵۶‬ميں درج کی ہے اور اس کی سند ميں داود بن علی نامی راوی کو ضعيف قرار دياہے۔‬ ‫ايک تيسری صورت‬ ‫بعض اہل علم مندرجہ باال اختالف سے بچتے ہوئے ايک تيسری صورت يہ پيش کرتے ہيں کہ نو‪ ،‬دس اور گياره تينوں تاريخوں کے پے در پے روزے رکھ لئے جائيں۔ بطورِ دليل عبدﷲ بن‬ ‫عباس رضی ﷲ عنہ سے مروی يہ حديث پيش کی جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ عليہ وسلم نے فرمايا‪:‬‬ ‫‪3/5‬‬ ‫…‪kitabosunnat.com/blog/index.‫‪12/14/2010‬‬ ‫…‪kitabosunnat.com/blog/index.

com/blog/index.php?view=article&type=ra‬‬ .php?view=article&type=ra‬‬ ‫”يوم عاشورا ءکا روزه رکھو اور يہود کی مخالفت کرو۔ )اس مخالفت کا طريقہ يہ ہے کہ( يوم عاشورا ء)دس محرم( کے‬ ‫وخالفوا فيه اليھود وصوموا قبله يوما أو بعده يوما“‬ ‫ِ‬ ‫ساتھ ايک دن پہلے يا ايک دن بعد کا بھی روزه رکھو۔“‬ ‫ٰ‬ ‫ليلی اور داود بن علی نامی دو‬ ‫يہ روايت مسنداحمد )‪ ،(١/٢۴١‬ابن خزيمہ )‪ ، (٢٠٩۵‬الکامل )‪ ،(٣/٩۵۶‬السنن‬ ‫الکبری للبيہقی )‪ (۴/٢٨٧‬وغيره ميں موجود ہے مگر اس کی سند ميں بھی ابن ابی ٰ‬ ‫راوی ضعيف ہيں ٰلہذا يہ قابل حجت نہيں۔‬ ‫واضح رہے کہ مذکوره روايت ميں‬ ‫’ﺃﻭ‘ )ﻗﺒﻠﻪ ﻳﻮﻣﺎ ’ﺃﻭ‘ بعده يوما( بمعنی ’يا‘ ہے۔ جبکہ بعض طرق ميں يہاں ’و‘ بمعنی ’اور‘ ہے۔جس کے پيش نظر بعض اہل علم نے تين دن )‪(٩،١٠،١١‬‬ ‫کے روزے رکھنے کا رجحان ظاہر کيا ہے۔ )ديکھئے فتح الباری‪ (۴/٧٧٣:‬مگر محل استشہاد روايت ہی ضعيف ہے‪ ،‬اس لئے يہ موقف کمزور ہے۔‬ ‫احتياط کا تقاضا‬ ‫مذکوره اختالفی مسئلہ ميں اگر احتياط کا پہلو مدنظر رکھا جائے تو پھر يہ تسليم کئے بغير چاره نہيں کہ نو اور دس دونوں کا روزه رکھا جائے کيونکہ اگر شريعت کی منشا نو اور دس‬ ‫دونوں کا روزه رکھنے ميں ہوئی تو اس پر عمل ہوجائے گا اور اگر نو کا روزه رکھنے ميں ہوئی تو تب بھی نو کا روزه رکھا جائے گا اور دس کا روزه اضافی نيکی قرار پائے گا۔ عالوه‬ ‫ٰ‬ ‫نصاری کی مخالفت دونوں ہی پر عمل بھی ہوجائے گا جيسا کہ حافظ ابن حجررحمتہ ﷲ عليہ رقم طراز ہيں کہ‬ ‫ازيں اس طرح يوم عاشوراء کی فضيلت اور يہود و‬ ‫”ﻭﻗﺎﻝ ﺑﻌﺾ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﻌﻠﻢ‪ :‬ﻗﻮﻟﻪ ﻓﯽ ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﺌﻦ ﻋﺸﺖ ﺇﻟﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﻷﺻﻮﻣﻦ ﺍﻟﺘﺎﺳﻊ‪ ،‬ﳛﺘﻤﻞ ﺃﻣﺮﻳﻦ ﺃﺣﺪﳘﺎ ﺃﻧﻪ ﺃﺭﺍﺩ ﻧﻘﻞ ﺍﻟﻌﺎﺷﺮ ﺇﻟﯽ ﺍﻟﺘﺎﺳﻊ ﻭﺍﻟﺜﺎﱐ ﺃﺭﺍﺩ ﺃﻥ ﻳﻀﻴﻔﻪ ﺇﻟﻴﻪ ﻓﯽ ﺍﻟﺼﻮﻡ ﻓﻠﻤﺎ ﺗﻮﰲ ﺍ ﻗﺒﻞ ﺑﻴﺎﻥ ﺫﻟﮏ ﮐﺎﻥ ﺍﻻﺣﺘﻴﺎﻁ ﺻﻮﻡ‬ ‫ﺍﻟﻴﻮﻣﲔ“ ‪)   ‬ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ‪ :‬ﺍﻳﻀﺎﹰ(‬ ‫”بعض اہل علم کے بقول صحيح مسلم ميں مروی اس حديث نبوی کہ ”اگر آئنده سال ميں زنده رہا تو نو کا ضرور روزه رکھوں گا۔“ کے دو مفہوم ہوسکتے ہيں‪ :‬ايک تو يہ کہ آنحضرت صلی‬ ‫ﷲ عليہ وسلم کی مراد يہ تھی کہ يوم عاشوراء کے روزه کے لئے دس کی بجائے نو کا روزه مقرر کرديا جائے اور دوسرا يہ کہ آپ دس کے ساتھ نو کا روزه بھی مقرر فرمانا چاہتے تھے۔‬ ‫)اب اگر آنحضرت صلی ﷲ عليہ وسلم اس کے بعد اگلے محرم تک زنده رہتے تو آپ کے عمل سے مذکوره دونوں صورتوں ميں سے ايک صورت ضرور متعين ہوجاتی( مگر آپ کسی‬ ‫صورت کو متعين کرنے سے پہلے وفات پاگئے تھے‪ ،‬اس لئے احتياط کا تقاضا يہی ہے کہ نو اور دس دونوں کا روزه رکھا جائے۔“‬ ‫ٰ‬ ‫واضح رہے کہ‬ ‫فتوی بازی کی جائے بلکہ صرف نو کے روزه کی‬ ‫بغرض احتياط نو اور دس دونوں کا روزه رکھنے کا يہ معنی ہرگز نہيں کہ صرف نو کا روزه رکھنے والوں کے خالف‬ ‫ِ‬ ‫گنجائش بھی بہرحال موجود ہے۔ )وﷲ اعلم(‬ ‫محرم ميں روزوں کے منافی اُمور‬ ‫حتی کہ رمضان المبارک کے بعد ما هِ محرم کے روزوں کو سب سے افضل قرار‬ ‫گذشتہ احاديث سے يہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ما هِ محرم ميں روزے رکھنا مسنون اور افضل ترين عمل ہے ٰ‬ ‫ُ‬ ‫ديا گيا ہے اور محرم ميں بھی نويں اور دسويں کا روزه ديگر دنوں کے روزوں سے افضل ہے‪ ،‬ليکن افسوس کہ جيسے ہی محرم کا مہينہ شروع ہوتا ہے‪ ،‬روزوں کے منافی ا مور کا سلسلہ‬ ‫بھی شروع ہوجاتا ہے۔ شہادتِ حسين کی ياد ميں دودھ‪ ،‬پانی يا مشروبات کی سبيليں لگائی جاتی ہيں‪ ،‬ديگيں پکا کر لوگوں ميں کھانا تقسيم کيا جاتا ہے‪ ،‬خوش ذائقہ ماکوالت و مشروبات کا‬ ‫اہتمام کرکے فاتحہ خوانی کی محفليں قائم کی جاتی ہيں اور جوں جوں دسويں محرم کا دن قريب آتا ہے‪ ،‬توں توں ان امور کے دائره ميں وسعت اور تيزی آتی چلی جاتی ہے۔ گويا محرم اور‬ ‫يوم عاشوراء کے موقع پر آنحضرت صلی ﷲ عليہ وسلم جتنا اہتمام روزے کا فرمايا کرتے اور صحابہ کرام رضی ﷲ عنہم کو اس کی ترغيب دالتے‪ ،‬دورِ حاضر کے مسلمان ما هِ محرم ميں‬ ‫اتنا ہی اس کے منافی دعوتوں اور ضيافتوں کا اہتمام کرنے لگے ہيں اور پھر اسے يقينی بنانے اور مسلسل قائم رکھنے کے لئے سرکاری طور پر ملک بھر ميں چھٹی بھی منائی جاتی ہے۔‬ ‫چنانچہ ايک طرف تو بعض لوگ مذکوره اُمور کی شرعی حيثيت کی چھان پھٹک کئے بغير ہر اس رسم‪ ،‬رواج اور طريقے کی اتباع شروع کرديتے ہيں جسے کسی قوم‪ ،‬قبيلے يا فرقے ميں‬ ‫خاصا مقام اور شہرت حاصل ہو جبکہ دوسری طرف بعض لوگ مذکوره اُمور کے ثبوت کے لئے شرعی و عقلی دالئل بھی پيش کرنے لگتے ہيں مثالً يہ کہ‬ ‫اظہار محبت کے لئے ضروری ہے کہ ان کے نام پر پانی ہی نہيں بلکہ اچھے اچھے مشروبات‬ ‫‪ -1‬يزيد کے لشکروں نے شہدائے کربالء کا پانی بند کرديا تھا‪ ،‬اس لئے شہدائےکربالء سے‬ ‫ِ‬ ‫کی بھی سبيليں لگائی جائيں۔‬ ‫ايصال ثواب کے لئے ماکوالت و مشروبات کا اہتمام کرکے فاتحہ خوانی کی محفليں قائم کرنی چاہئيں۔‬ ‫‪ -2‬شہدائے کربالء کی اَرواح کے‬ ‫ِ‬ ‫‪ -3‬يہ )من گھﮍت( روايت بھی پيش کی جاتی ہے کہ‬ ‫تعالی سال بھر اس پر کشادگی فرماتے رہيں گے۔“‬ ‫”جس شخص نے عاشوراء کے روز اپنے اہل و عيال )کے رزق کے معاملہ( پر فراخی وکشادگی کی‪ ،‬ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫اگر قرآن و سنت کی تعليمات کا غير جانبدرانہ جائزه ليا جائے تو مذکوره اُمور کے جواز کی نہ کوئی گنجائش ملے گی اور نہ ہی کوئی معقول وجہ…!‬ ‫اول تو اس لئے کہ ماهِ محرم ميں روزے رکھنا مسنون ہے جبکہ ماکوالت و مشروبات کے اہتمام سے نہ صرف روزوں کی مسنون حيثيت مجروح ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ايک بدعت‬ ‫‪ّ -1‬‬ ‫بھی رواج پاتی ہے۔‬ ‫‪ -2‬دوم اس لئے کہ شہدائے کربال ءيا ديگر فوت شدگان کی ارواح کو ثواب پہنچانے کے لئے فاتحہ خوانی کی يہ صورتيں قرآن و سنت اورعمل صحابہ سے ثابت ہی نہيں۔ ليکن اس کے‬ ‫باوجود ان صو رتوں کو دين کا حصہ اور اجروثواب کا ذريعہ سمجھ کر قائم کرنا بدعت نہيں تو پھر کيا ہے؟‬ ‫‪ -3‬رہی يہ بات کہ شہدائے کربالء کا پانی بند کيا گيا تھا تو يہ قصہ ہی جھوٹا اور بے سند ہے جبکہ خود شيعہ ہی کی بعض کتابوں سے اس کے برعکس يہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسين‬ ‫رضی ﷲ عنہ کو جب قافلے کے لئے پانی کی ضرورت محسوس ہوتی تو وه زمين کھودتے اور فوراً ميٹھے پانی کا چشمہ بہہ نکلتا۔)تفصيل کے لئے ديکھئے‪ :‬جالء العيون باب ‪ ۵‬ص‪،۴۵٩‬‬ ‫آل محمد‪ ،‬ص‪(٣١‬‬ ‫ناسخ التواريخ ص‪ ٣٢۶‬ج‪ ،٢‬تصوير کربال از سيد ِ‬ ‫اگر بالفرض بندشِ آب کے قصہ کو درست تسليم کرليا جائے تو پھر چاہئے تو يہ تھا کہ حضرت حسين رضی ﷲ عنہ سے اظہارِ محبت کے لئے ماه مح رم مي ں اتن ے دن پياس ا رہن ے ک ا‬ ‫مظاہره کيا جاتا جتنے دن ان سے پانی روکے رکھا گياتھا !‬ ‫بطور دليل پيش کی جاتی ہے وه محدثين کے ہاں باالتفاق جھوٹی )موضوع( روايت ہے۔ جيسا کہ شيخ االسالم ابن تيميہ رحمتہ ﷲ‬ ‫‪ -4‬ماکوالت و مشروبات کے خصوصی اہتمام کی جو روايت‬ ‫ِ‬ ‫عليہ فرماتے ہيں کہ‬ ‫”عاشورا کے روز فضائل کے سلسلہ ميں اہل و عيال پر فراخی و کشادگی اور مصافحہ و خضاب وغسل کی برکت وغيره کے متعلق جو روايتيں بيان کی جاتی ہيں اور کہا جاتا ہے کہ اس‬ ‫دن ايک خاص نماز پﮍھنی چاہئے … يہ سب رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وسلم پر کذب و افترا ءہے۔ محرم ميں عاشوراء کے روزے کے سوا کوئی عمل پسند صحيح ثابت نہيں۔“ )منہاج السنة‪:‬‬ ‫‪(۴/١١‬‬ ‫مذکوره مسئلہ کی مزيد تفصيل اور من گھﮍت رواي ات ک ی تحقي ق ک ے لئ ے مالحظ ہ ہ و الموض وعات الب ن ج وزی )‪ ،(٢/٢٠٣‬الآلئی المصنوعہ فی االحاديث الموض وعة )‪ (٢/٩۴‬الموضوعات‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫الفتاوی )‪(٢/٣۵۴‬‬ ‫الکبری )ص‪ (٣۴١‬اور مجموع‬ ‫سانحہ کربالء کے رنج و غم ميں رافضی وغيره اس انتہا ءکو پہنچ گئے کہ نوحہ و ماتم سے دور جہالت کی ان قبيح رسومات کو زنده کرنے لگے کہ‬ ‫‪ -5‬يہاں يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ‬ ‫ٔ‬ ‫‪4/5‬‬ ‫…‪kitabosunnat.‫‪12/14/2010‬‬ ‫…‪kitabosunnat.com/blog/index.

‫…‪kitabosunnat.com/blog/index.php?view=article&type=ra‬‬ ‫‪12/14/2010‬‬ ‫سانحہ کربالء پر خوشی کا مظاہره کرتے ہوئے ان ايام ميں ماکوالت و مشروبات‬ ‫جن سے اسالم نے سختی سے منع کيا ہے۔جبکہ ناصبی اور خارجی قسم کے لوگ رافضيوں کی عداوت ميں‬ ‫ٔ‬ ‫ايصال ثواب اور سوگ کے نام پر يہ دونوں باتيں ديگر مسلمانوں ميں بھی بﮍی تيزی سے سرايت کرگئيں۔‬ ‫کا انتظام کرنے لگے۔ پھر‬ ‫ِ‬ ‫حاالنکہ راهِ اعتدال يہی ہے کہ ان تمام بدعات و خرافات سے کناره کشی اختيار کرتے ہوئے واقعہ کربالء کو مسلمانوں کے لئے عظيم سانحہ اور حادثہ فاجعہ قرار ديا جائے۔اور حضرت‬ ‫حسين رضی ﷲ عنہ اور يزيد کے سياسی اختالفات ﷲ کے سپرد کرکے دونوں کے بارے ميں خاموشی کی راه اختيار کی جائے۔‬ ‫‪5/5‬‬ ‫…‪kitabosunnat.com/blog/index.php?view=article&type=ra‬‬ .

Sign up to vote on this title
UsefulNot useful