‫اللھم انی اسا لک و اتوجہ الیک بمحمد نبی‬

‫الرحمۃ یا محمد انی قد توجھت بک الی ربی فی‬
‫حاجتی ھذہ لتقضی اللھم فشفعہ فی ۔‬
‫ابن ماجہ‪،‬ترمذی‪،‬احمد ‪،‬حاکم ‪،‬امام بہیقی‪،‬امام نسائی۔‬
‫وھابیت‪/‬دیوبندیت ‪:‬مسلمان علماء کی نظر میں‬
‫حِیم‬
‫ن الّر ِ‬
‫ِبسم ِ اللهِ الّر ح ٰم ِ‬
‫” واذ اقیل لھم اتبعو اما انزل الله‪ ،‬قالو ا‪ :‬بل نّتبع ما وجدنا علیہ آبائنا‪،،‬‬
‫”لقد کنتم انتم وآباوٴ کم فی ضلل مبین ‪ ( ،،‬القر آن الحکیم(‬
‫ُ‬
‫” اور جب ان سے کھا گیا کہ خدا نے جو )دین ( نازل کیا ھے اس کی پیروی کرو ) تو ( ان‬
‫لوگوں نے جواب دیا کہ ) نھیں ( بلکہ ھم اس ) دین ( کی پےروی کر تے ھیں جس پر ھم نے‬
‫اپنے بزرگوں کو پایا ھے ‪ ” ،،‬یقینا تم لوگ کھلی ھوئی گمراھی میں ھو اور تمھارے بزرگ بھی‬
‫کھلی ھوئی گمراھی میں تھے ‪) ،،‬قرآن کریم )‬
‫مسلمان بھائیوں‬
‫کیا آپ وھابیت کی حقیقت سے آگاہ ھیں ؟‬
‫اور کیا آپ جانتے ھیں کہ وھابی مسلک کو محمد ابن عبدالوھاب نجدی متوفی ‪۱۲ ۰۶‬ئہ نے‬
‫ایجاد کیا ھے ۔ اور اس نے اپنے تمام اصول احمد ابن تیمیہ حرانی کے افکار سے حاصل کئے‬
‫ھیں ۔؟‬
‫اور کیا آپ یہ بھی جانتے ھیں کہ یہ مذ ھب مسلمانوں کے چاروں مذاھب کے خلف ھے ؟‬
‫اور کیا اس سے بھی با خبر ھیں کہ چاروں مذاھب وھابی مسلک کے قائدین اور اس کے پیرو‬
‫کاروں کو گمراہ اور راہ ایمان سے خارج بتاتے ھیں ؟‬
‫خدا وند عالم نے فرمایا ‪:‬‬
‫ّ‬
‫ّ‬
‫”ومن یشاقق الّرسول من بعد ما تبّین لہ الھد ٰی ویتبع غیر سبیل الموٴ منین نولہ ماتول ٰی ‪،‬‬
‫ونصلہ جھّنم وسائت مصیرا۔ ‪ ،،‬صدق الله العظیم‬
‫” اور جو شخص راہ ھدایت روشن ھو جانے کے بعد رسول خدا کی مخالفت کرے اور اھل‬
‫ایمان کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرے تو ھم اسے اس کے باطل راستہ پر‬
‫چھوڑ دیں گے اور جھنم میں جلئیں گے اور یہ کتنا برا ٹھکانا ھے ‪،،‬۔‬
‫اور کیا آپ لوگ جانتے ھیں کہ ھمارے اھل سّنت علماء کی ایک بڑی جماعت نے آپس میں‬
‫اختلف مذاھب کے با وجود وھابی مسلک کے مو جد اور اس کے استاد اور امام ‪ ،‬ابن تیمیہ‬
‫کی رد میں بھت سی کتابیں لکھی ھیں ۔اور وھابی مسلک کو باطل قرار دیا ھے ۔؟‬
‫محمد ابن عبدالوھاب نجدی اور اس کے عقائد‬
‫کیا آپ جانتے ھیں ؟کہ علماء مکہ نے محمد ابن عبد الوھاب کے ملحد ھو نے کا فتو ٰی دیا ھے‬
‫اور اسے خبیث ‪،‬بے شرم ‪،‬بے بصیرت اور گمراہ بتایا ھے۔ اور بتایا ھے کہ یہ شخص جھوٹا تھا‬
‫‪،‬قرآن و حدیث کے معنی میں تحریف کیا کرتا تھا خدا پر بھتان باندھتا تھااور قرآن کا منکر‬

‫تھا ُانھوں نے اس پر بارھا لعنت کی ھے ۔‬
‫ھاں!یہ تمام باتیں حق کے حامی شاہ فضل رسول قادری نے اپنی کتاب ”سیف الجبار‬
‫المسلوک عل ٰی اعداء البرار ‪،،‬میں لکھی ھے ۔یہ کتاب ‪۱۹۷۹‬ءء میں ایک غیرت مند مسلمان‬
‫حسین حلمی استانبولی نے تر کیہ میں شائع کی تھی ۔‬
‫عراق کی ایک مسّلم ومتفق علیہ عظیم علمی شخصیت شیخ جمیل آفندی زھاوی نے اپنی‬
‫کتاب ”الفجر الصادق ‪،،‬میں صفحھ‪۱۷،‬پر محمد ابن عبدالوھاب کے حالت میںتحریر فرمایا‬
‫ھے ‪:‬یہ محمد ابن عبد الوھاب شروع میں ایک طالب علم تھا ‪،،‬علماء سے علم حاصل کرنے‬
‫کی خاطر مکہ ‪،‬مدینہ آتا جاتا رھتا تھا۔مدینہ میںجن علماء سے اس نے تحصیل علم کیاوہ یہ ھیں‬
‫‪:‬شیخ محمد ابن سلیمان کردی ‪،‬شیخ محمد حیاةسندی ‪،‬یہ دونوں استاد اور دوسرے جن‬
‫علماء سے یہ پڑھتا تھا‪،‬وہ حضرات اس کے اندر گمراھی و الحاد کو بھانپ گئے تھے اور کھتے‬
‫تھے کہ خدا عنقریب اسے گمراہ کرے گا اور اس کے ذریعہ دوسرے بدنصیب بندے بھی گمراہ‬
‫ھوںگے چنانچہ ایسا ھی ھوا۔اور اسکے باپ عبد الوھاب جو علماء صالحین میں تھے‪،‬انھوںنے‬
‫بھی اس کی بے دینی کا اندازہ لگا لیا تھا اور لوگوںکو اس سے دور رھنے کا حکم دیتے تھے۔‬
‫اسی طرح اس کے بھائی شیخ سلیمان بھی اس کے خلف تھے بلکہ انھوں نے تو محمدابن‬
‫عبدالوھاب کی ایجاد کردہ بدعتوں اور منحرف عقیدوں کی رد میں ایک کتاب بھی لکھی ۔وہ‬
‫اسی کتاب کے صفحھ ‪۱۸‬میں لکھتے ھیں کہ اس)محمد ابن عبدالوھاب (پر خدا کی لعنت ھو یہ‬
‫اکثر پیغمبر اسلم کی مختلف الفاظ میں توھین کرتا تھا ً‪ ،‬آپ کو پیغمبر کے بجائے‬
‫”طارش‪،،‬کھتا تھا جس کا مطلب عوام کی زبان میں وہ شخص ھے جسے کوئی کسی کے‬
‫پاس بھیجے۔ حالنکہ عوام بھی صاحب عزت وقابل احترام شخصیت کے لئے یہ کلمہ نھیں‬
‫استعمال کرتے ۔یھاں تک کہ اس کے بعض پیرو پیغمبر کی شان میں کھتے ھیں ‪”:‬میرا یہ عصا‬
‫محمد سے بھتر ھے ۔کیونکہ میں اس سے کام لیتا ھوںاور محمد مر گئے ھیں۔اب ان سے کوئی‬
‫فائدہ حاصل نھیں ھوسکتا۔ محمد ابن عبد الوھاب یہ سب سن کر خاموش رھتا تھا اور اپنی‬
‫رضا ظاھر کرتا تھا آپ جانتے ھیں یہ بات مذاھب اربعہ میں کفر مانی جاتی ھے۔‬
‫اسی طرح یہ پیغمبر اسلم پر درود بھیجنے کو برا سمجھتا اور شب جمعہ میں رسول الله‬
‫صلی الله علیہ و آلہ و سّلم پر درود پڑھنے سے روکتا تھا ۔منبروں پر بلند آواز سے درود پڑھنے‬
‫سے منع کرتا اور اگر کوئی شخص ایسا کر تا تو اسے سخت سزا دیتا تھا یھاں تک اس نے‬
‫ایک نابینا موٴذن کواسی بات پر قتل کردیا تھا کہ اسے اذان کے بعد درود پڑھنے سے منع کیا‬
‫تھا لیکن وہ باز نھیں آیا تھا ۔‬
‫آپ کو جان کر بھی حیرت ھوگی اسماعیل پاشا بغدادی نے ”ھدیةالعا رفین ‪،،‬میں جو پھلے‬
‫استانبول ‪،‬ترکیہ میں ‪۱۹۵۱‬ئئمیں طبع ھوئی پھر دوبارہ بیروت میں ‪۱۴۰۲‬ھئمیں آفسیٹ سے‬
‫طبع ھوئی ‪،‬کی ج ‪۲‬صفحہ ‪۳۵۰‬پرذکر کیا ھے ‪:‬محمد ابن عبدالوھاب نے ایک کتاب ان مسائل‬
‫سے متعلق لکھی ھے جس میں اس نے پیغمبر کی مخالفت کی تھی ‪،‬اور پیغمبر کی مخالفت‬
‫کا مطلب آپ سے دشمنی کرنا ھے جس کے متعلق خدا نے فرمایا ھے ‪”:‬ومن یشاقق‬
‫الّرسول من بعد ما تبّین لہ الھد ٰی ویتبع غیر سبیل الموٴ منین نول ّہ ماتول ّ ٰی ‪ ،‬ونصلہ جھّنم‬
‫وسائت مصیرا۔‬
‫جوراہ ھدایت روشن ھوجانے کے بعد پیغمبرکی مخالفت کرے اس کا ٹھکانا جھّنم ھے۔‬
‫محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھی گئی کتابیں‬
‫قارئین کرام جانتے ھیں کہ شیخ سلیمان ابن عبدالوھاب ‪،‬محمد ابن عبدالوھاب کے حقیقی‬
‫بھائی نے سب سے پھلے اس بد عت ایجاد کرنے والے کی رد میں کتاب لکھی جس کا نام ”‬
‫فصل الخطاب فی الرد عل ٰی محمد ابن عبدالوھاب ‪ ،،‬رکھا تھا ۔ اس کا اسماعیل پاشا نے ”‬
‫ایضاح المکنون ج ‪ ۲‬ص ‪ ۱۹۰‬طبع بیروت دار الفکر ‪ ۱۴۰۲‬ئ‬
‫اور عمر رضا کحالہ نے ” معجم الموٴ لفین ‪ ،،‬ج ‪ ۴‬ص ‪ ۲۶۹‬طبع بیروت ” دارا حیاء الترات‬
‫العربی ‪ ،،‬میں ذکر کیا ھے‬
‫اور محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک شیخ عبدالله بن عیس ٰی‬
‫صغانی ھیں ۔ انھوں نے جو کتاب لکھی اس کا نام ” السیف الھندی فی ابانة طریقةالشیخ‬

‫النجدی ‪ ،،‬ھے۔ اس کا ذکر بھی اسماعیل پاشا نے ” ھدیة العارفین ‪ ،،‬ج ‪ ۱‬ص ‪ ۴۸۸‬میں کیا‬
‫ھے‬
‫اس کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک سید علوی ابن حداد بھی ھیں جنھوں نے کتاب‬
‫”مصباح النام ‪،،‬و ”جلء الظلم فی رد شبہ البدعی النجدی التی اض ّ‬
‫ل بھا العوام‪،،‬یہ کتاب‬
‫مطبع عامر کے توسط سے ‪۱۳۲۵‬ھئمیں طبع ھوئی ۔اس کا ابو حامد ابن مرزوق نے اپنی‬
‫کتاب ”التوسل بالنبی وبالصالحین ‪،،‬میںکیا ھے۔ یہ کتاب بھی ابن عبد الوھاب کے عقائد کی رد‬
‫میں لکھی گئی ھے ۔موصوف نے ایک اور کتاب بھی بنام ”السیف الباتر لعنق المنکر علی‬
‫الکابر ‪،،‬لکھی ھے اس کا ذکر بھی کتاب ”التوسل بالنبی وبالصالحین ‪،،‬صفحھ ‪۲۵۰‬پر ھے ۔‬
‫محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں لکھنے والوں میںسے ایک احمد ابن علی البصری ھیں جو‬
‫قبائی کے نام سے مشھورتھے۔ انھوں نے اس کے ایک رسالہ کی رد میں ”فصل الخطاب فی‬
‫رد ضل لت ابن عبد الوھاب ‪،،‬کے نام سے ایک کتاب لکھی ھے۔ اس کا تذکرہ بھی ابو حامد‬
‫مرزوق نے” التوسل بالنبی وبالصالحین‪،،‬میں صفحھ ‪۲۵۰‬پرکیا ھے اور اسماعیل پاشا بغدادی‬
‫نے ”ایضاح المکنون‪،،‬میں ج ‪۲‬صفحھ ‪۱۹۰‬پراس کتاب کا نام ”فصل الخطاب‪ ،،‬ذکر کیا ھے۔‬
‫محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک بزر گوار سید احمد ابن زینی‬
‫دحلن ‪،‬مفتی مکہ مکّرمہ بھی ھیں۔ انھوں نے ”فتوحات اسلمیھ‪،،‬کی ج ‪۲‬طبع مصر‬
‫‪۱۳۵۴‬ھئمطبع مصطفی محمد میں اس کی رد کی ھے اوراس پر طعن کیا ھے )صفحھ‬
‫‪۲۵۱‬سے ‪۲۶۹‬تک دیکھئے (‬
‫مر حوم زینی دحلن نے لکھا ھے کہ محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں بھت سی کتابیں‬
‫اوررسالے لکھے گئے ھیں لیکن موصوف نے ان کتابوں کے نام نھیں ذکر کئے ۔‬
‫شیخ یوسف نبھانی نے بھی اس کی رد میں ”شواھدالحق فی التوسل بسید الخلق‪،،‬کے نام‬
‫سے ایک کتاب لکھی ھے جوایک جلد میں طبع ھوئی ھے ۔اس کا ذکر بھی ”التوسل بالنبی‬
‫وبالصالحین‪،،‬صفحھ ‪۲۵۲‬پر ھے۔ اس کتاب کے ص ‪۱۵۱‬پر سید احمد ابن دحلن کی کتاب‬
‫”خلصةالکلم فی امراء البلد الحرام ‪،،‬سے نقل ھے۔‬
‫ان شبھات کا ذکر جن سے وھابیت نے تمسک کیا‬
‫مناسب یہ ھے کہ پھلے ان شبھات کا ذکر کریںجن سے محمد ابن عبد الوھاب نے لوگوں کو‬
‫گمراہ کرنے کی خاطر تمسک کیا۔‬
‫پھر ان کی رد پیش کریں گے اور یہ بیان کریں گے کہ جن باتوں کو اس نے دلیل بنایا ھے وہ‬
‫سب جھوٹ ‪،‬افتراء اور عوام فریبی ھے ۔‬
‫پھر ”شواھد الحق‪،،‬کے ص ‪۱۷۶‬میں لکھاھے۔‬
‫محمد ابن عبدالوھاب کے پاس اس کے استاد کردی کا خط‬
‫محمد ابن عبدالوھاب کی رد کر نے والوں میں سے ایک اس کے استاد شیخ محمد ابن‬
‫سلیمان کردی شافعی ھیں انھوں نے منجملہ ان باتوں کے جو خط میں اس کی رد کرتے‬
‫ھوئے لکھا تھا یہ باتیں بھی لکھی تھیں ‪:‬‬
‫عبدالوھاب کے بیٹے !سلم ھو اس پر جس نے راہ راست کی پیروی کی‪ ،‬میں تمھیں الله کے‬
‫لئے نصیحت کرتا ھوں کہ اپنی زبان کو مسلمانوں کی ایذا رسانی سے باز رکھو !‬
‫چنانچہ اگر کسی شخص کے بارے میں سنو کہ وہ غیر خدا جس سے مدد مانگی جائے اس کے‬
‫موثر ھونے کا عقیدہ رکھتا ھے تو اسے حق پھچنواؤ اور دلیل پیش کرو کہ غیر خدا میں تاثیر‬
‫نھیں ھے ۔ اب اگر وہ انکار کرے تو صرف اسے کافر قرار دو ۔ تمھیں مسلمانوں کے سواد‬
‫اعظم کو کافر قرار دینے کا کوئی حق نھیں ھے جبکہ تم خود سواد اعظم سے منحرف ھو‬
‫اور جو شخص سواد اعظم سے منحرف ھو اس طرف کفر کی نسبت دینا زیادہ مناسب‬
‫ھے ‪،‬کیوں کہ اس نے اھل ایمان کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کی پیروی کی ھے خدا‬
‫وند عالم نے فرمایا ھے ‪:‬‬
‫” ومن یشاقق الّرسول من بعد ما تبّین لہ الھدی ویّتبع غیر سبیل المو منین نول ّہ ما توّل ّ ٰی و‬
‫نصل ّہ جھّنم و سائت مصیرا ‪،،‬‬

‫” کہ جو شخص راہ ھدایت روشن ھو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اھل ایمان‬
‫کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کی پیروی کرے تو ھم اسے اس کے باطل راستہ پر‬
‫چھوڑ دیں گے اور اسے جھنم میں جلئیں گے اور یہ برا ٹھکانا ھوگا ‪ ،،‬اور بھیڑ یا گلہ سے الگ‬
‫ھو جانے والی بکری کو ھی کھاتا ھے ۔ انتھیٰ۔ٰ‬
‫اس کے بعد لکھتے ھیں کہ ‪ :‬مذا ھب اربعہ میں سے جن لوگوں نے اس کی رد کی ھے ۔ خواہ‬
‫مشرق کے رھنے والے ھوں یا مغرب کے ‪ ،‬بے شمار ھیں ۔ کسی نے مبسوط کتاب کی صورت‬
‫میں رد لکھی اور کسی نے مختصر اور بعض نے صرف امام احمد ابن جنبل کے نصوص سے‬
‫اس کی رد کی ھے تاکہ یہ واضح ھو جائے کہ وہ جھوٹا ھے ‪ ،‬اپنے کو امام احمد بن جنبل کے مذ‬
‫ھب کی طرف نسبت دینے میں فریب دھی سے کام لے رھا ھے اور اپنے کلم کو اس طرح‬
‫تمام کیا ھے کھ”ھم نے جو کچہ ذکر کیا اس سے وہ تمام باتیں باطل ھو جاتی ھیں جو محمد‬
‫ابن عبدالوھاب نے گڑھی ھیں اور جن کے ذریعہ مومنین کو دھوکہ دے رھا ھے اور خود اس نے‬
‫اور اس کے پیروؤںنے ان کی جان ومال کو مباح قرار دے رکھا ھے ‪،،‬۔ )خلصہ کلم سید احمد‬
‫دحلن (‬
‫کچہ اور افراد جنھوں نے اس کی رد میں کتابیں لکھیں‬
‫محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں شیخ عطاء مکی بھی ھیں ‪ ،‬انھوں نے ”‬
‫انصار الھند ی فی عنق النجدی ‪ ،،‬نام کی کتاب لکھی ۔ اس کا تذ کرہ ” التوصل بالنبی و‬
‫بالصا لحین ‪ ،،‬میںص ‪ ۲۵۰‬پر ھے ۔‬
‫اسی طرح اس کی رد میں لکھنے والوں میں بیت المقدس کے ایک عالم ھیں جنھوں نے ”‬
‫السیوف الصقال فی اعناق من انکر علی الو لیا ‪ ،‬بعد ال نتقال ‪ ،،‬لکھی اس کا تذ کرہ بھی‬
‫”التوسل بالّنبی و با لصالحین ‪،،‬میں ص ‪ ۲۵۰‬پر ھے ۔ ایک اور بزرگ شیخ ابراھیم حلمی‬
‫قادری اسکندری نے بھی اس کی رد کی ھے ‪ ،‬انھوں نے جو کتاب لکھی ھے اس کا نام ”‬
‫جلل الحق فی کشف احوال اشرار لخلق ‪ ،،‬ھے۔ یہ کتاب اسکندریہ میں ‪۱۳ ۵۵‬ء ہ میں طبع‬
‫ھوئی ھے اس کا تذ کرہ ” التوسل بالنبی وبالصالحین ‪،،‬میں ص ‪ ۲۵۳‬پر ھے ۔‬
‫شیخ مالکی جزائری نے بھی اس کی رد کی ھے۔ انھوں نے ” اظھار العقوب ممن منع التو‬
‫ل با لّنبی والو لی الصدوق ‪ ،،‬نام کی کتاب لکھی ھے۔ اسے صاحب کتاب ” التوس ّ‬
‫س ّ‬
‫ل با لّنبی‬
‫و با لصالحین ‪ ،،‬نے ص ‪ ۲۵۲‬پر ذکر کیا ھے ۔شیخ عفیف الدین عبدالله ابن داؤد جنبلی نے‬
‫صواعق والر عود ‪ ،،‬نام کی کتاب لکھی۔ اس کا ذکر ” التوس ّ‬
‫ل با‬
‫بھی اس کی رد میں ” ال ّ‬
‫لّنبی و با لصالحین ‪ ،،‬کے ص ‪ ۲۴۹‬پر ھے اور سید علوی ابن احمد حداد کا قول نقل کیا ھے کہ‬
‫’ بصرہ ‪ ،‬بغداد ‪ ،‬حلب ‪ ،‬اور احساء کے بزرگ علماء نے بھی اس کتاب کی تائید کی ھے اور‬
‫اپنی تفریظوں میں بھی اس کی تعریف کی ھے ۔اور اس کی رد لکھنے والوں میں ایک شیخ‬
‫عبدالله ابن عبد اللطیف شافعی ھیں ۔ انھوں نے ” تجرید الجھاد لمدی ال جتھاد ‪ ،،‬ص ‪۲۴۹‬‬
‫پر ھے ۔‬
‫اس کی رد کرنے والوں میں شیخ محقق محمد ابن الرحمن بن عفالق الحنبلی ھیں انھوں‬
‫دعی تجدید الدین ‪،،‬لکھی ۔اس کا ذکر” التوس ّ‬
‫ل با لّنبی و با‬
‫نے کتاب تحکم المقلدین بمن ا ّ‬
‫لصالحین‪،،‬می ںص ‪۲۴۹‬پرھے اور یہ بھی ذکر ھے کہ انھوں نے ھر اس مسئلہ کی جسے محمد‬
‫ابن عبد الوھاب نے گڑھا ھے خوب رد کی ھے۔‬
‫اسی طرح طائف کے ایک عالم شیخ عبد الله ابن ابراھیم میر غینی ھیں انھوں نے ”تحریض‬
‫الغبیاء علی الستغاثہ بالنبیاء والولیاء ‪،،‬نامی کتاب لکھی ھے اس کا ذکر” التوس ّ‬
‫ل با لّنبی و‬
‫با لصالحین‪،،‬میںصفحھ ‪ ۲۵۰‬پرھے ۔‬
‫شیخ طاھر سنبل حنفی انھوںنے ”النقصار للولیاء البرار ‪،،‬نام کی کتاب لکھی اس کا ذکر ”‬
‫التوس ّ‬
‫ل با لّنبی و با لصالحین‪،،‬میںصفحھ ‪ ۲۵۰‬پرھے ۔‬
‫شیخ مصطفی حمامی مصری نے بھی اس کی رد میں ”غوث العباد ببیان الرشاد ‪،،‬نام کی‬
‫کتاب لکھی جو طبع ھو چکی ھے اس کا ذکر” التوس ّ‬
‫ل با لّنبی و با لصالحین‪،،‬میںصفحھ ‪۲۵۳‬‬
‫پرھے ۔‬
‫اس کی رد لکھنے والوں میں علمہ محقق شیخ صالح کواشی تونسی بھی ھیںانھوں نے اس‬

‫کی ردمیں ”رسالہ مسجعہ محکمة‪،،‬لکھا اس کا ذکر ” التوس ّ‬
‫ل با لّنبی و با‬
‫لصالحین‪،،‬میںصفحھ ‪ ۲۵۱‬پرھے اور لکھا ھے کہ علمہ موصوف نے اس رسالہ کے ذریعہ ابن‬
‫عبدالوھاب کے ایک رسالہ کی رد کی ھے ۔علمہ مذکور کا یہ رسالہ ”سعادة الدار ین فی الرد‬
‫علی الفریقین ‪،،‬کے ضمن میں طبع ھواھے نیز اس کی رد تونس کے شیخ السلم اسماعیل‬
‫تمیمی مالکی نے بھی لکھی ھے ۔انھوں نے رد علی محمد ابن عبدالوھاب کے نام سے ایک‬
‫کتاب لکھی جس کا ذکر ” التوس ّ‬
‫ل با لّنبی و با لصالحین‪،،‬صفحھ ‪ ۲۵۱‬پرھے اور اس کے ساتھ‬
‫ساتھ یہ بھی ذکر کیا ھے کہ مذکورہ کتاب کافی محققانہ اور ٹھوس ھے اس کے ذریعہ ابن‬
‫عبدالوھاب کے ایک رسالہ کی ردکی گئی ھے یہ کتاب تونس میں شائع ھوئی ھے ۔‬
‫علمہ مفتی فاس الشیخ مھدی وّزانی نے بھی اس کی رد کی ھے انھوں نے جواز توسل کے‬
‫بارے میں ایک رسالہ لکھا ھے‪،‬اس کاذکر” التوس ّ‬
‫ل با لّنبی و با لصالحین‪،،‬میںصفحھ ‪۲۵۲‬‬
‫پرھے ۔‬
‫اور ابو حامد ابن مرزوق نے ” التوس ّ‬
‫ل با لّنبی و با لصالحین‪،،‬کے صفحھ ‪ ۱‬پرذکر کیا ھے جس‬
‫کے الفاظ یہ ھیں‪:‬ائمہ اربعہ کے بعض پیروٴوں نے اس کی اور اس کے مقلدین کی بھت سی‬
‫عمدہ تالیفات کے ذریعہ ردکی ھے۔‬
‫اور حنبلوں میں اس کی رد کرنے والوں میںسے اس کے بھائی سلیمان ابن عبدالوھاب ھیں‬
‫اور شام کے حنبلیوں میں سے آل شط ٰی اور شیخ عبداللهقدومی نابلسی ھیں جنھوں نے اپنے‬
‫سفرنامہ میں اس کی رد لکھی اوریہ سب کتابیں”زیارةالنّبی صلی الله تعالی علیہ وسلم‬
‫والتوسل بہ وبالصا لحین من امتھ‪،،‬کے حاشیہ پر شائع ھوئی ھیں اور کھا کہ محمد ابن‬
‫عبدالوھاب اپنے مقلدین سمیت خوارج میں سے ھے ۔ جن لوگوں نے اس مطلب پہ نص کی‬
‫ھے ان میں سے علمہ محقق سّید محمد امین بن عابدین بھی ھیں جنھوں نے اپنے حاشیہ ”‬
‫ردالمختار عل ٰی الدر المختار ‪ ،،‬میں باغیوں کے باب میں اور شیخ صاوی مصری نے جللین‬
‫کے حاشیہ میں صریحا ً لکھا ھے کہ یہ اور اس کے مقلدین خوارج میں سے ھیں کیوں کہ یہ ”‬
‫لالہ اّل اللہ محمدرسول اللہ ‪،،‬کھنے والوں کو اپنی رائے سے کافر کھتے ھیں اور اس میں‬
‫کوئی شک نھیں ھے کہ مسلمانوں کو کافر کھنا خوارج اور دوسرے بدعت کاروں کی علمت‬
‫ھے جو اھل قبلہ میں سے اپنے مخالفین کو کافر قرار دیتے ھیں ۔‬
‫محمد ابن عبدالوھاب اور اس کے ماننے والوں کی بنیادی عقائد فقط چار ھیں ۔ خدا وند‬
‫عالم کو اس کی مخلوق کے مشابہ قرار دینا ‪ ،‬الوھابیت اور ربوبیت دونوں کی توحید کو ایک‬
‫ماننا ‪ ،‬نبی صل ٰی الله علیہ وآلہ وسّلم ‪،‬کی عزت نہ کرنا ‪ ،‬اور مسلمانوں کو کافر قرار دینا ‪،‬‬
‫اور یہ ان تمام عقائد میں احمد ابن تیمیہ کا مقلد ھے اور احمد ابن تیمیہ پھلے عقیدہ میں‬
‫کرامیہ اور مجسمیہ جنبلیہ ) جو خدا کے لئے ھاتہ پاؤں وغیرہ اعضائے جسم کے قائل ھیں ( کا‬
‫مقّلد ھے اور چوتھے عقیدہ میں ان دونوں فرقوں اور فرقئہ خوارج کا پیرو ھے ۔‬
‫اور وھابیوں کے نزدیک نقل دین کے سلسلہ میں بھی ثقہ اور قابل اعتماد افراد ابن تیمیھ‪،‬‬
‫اس کے شاگرد ابن قیم اور محمد ابن عبدالوھاب ھی ھیں ۔ چنانچہ علماء مسلمین میں سے‬
‫کسی عالم پر وہ اعتماد نھیں کرتے اور اس کی کوئی قدر نھیں جانتے جب تک کہ اس کے‬
‫کلم میں کوئی ایسا شبہ نہ پایا جاتا ھو جو ان کی رائے اور خواھش کی تائید کرے چنانچہ یہ‬
‫وسیع دین اسلم ان کے نزدیک تین مذکورہ بال افراد میں محصور ھے ۔نیز کتاب التوسل‬
‫النّبی ص ‪ ۲۴۹‬پراس عنوان کے تحت ”محمد ابن عبدالوھاب کی رد کر نے والے علماء خواہ‬
‫اس کے ھم عصر ھوں یا اس کے بعد میں آنے والے ان کی ایک جماعت کا تذکرہ کیا ھے جن‬
‫میںمندرجہ ذیل نام گنائے ھیں ‪:‬علمہ عبدالوھاب ابن احمد برکات شافعی احمدی م ّ‬
‫کی ‪،‬علمہ‬
‫سید منعمی ‪،‬جب محمد ابن عبدالوھاب نے ایک ایسی جماعت کو جنھوں نے اپنے سر نھیں‬
‫منڈائے تھے قتل کردیا تو موصوف نے ایک قصیدہ کے ذریعہ اس کی رد کی تھی ۔‬
‫علمہ سید عبدالرحمن جو احساء کے بزرگ ترین علماء میں سے ھیں ‪،‬انھوں نے ایک زور دار‬
‫قصیدہ کے ذریعہ اس کی رد کی اس قصیدہ میں سرسٹہ )‪(۶۷‬اشعار ھیںجس کا مطلع یہ ھے ‪:‬‬
‫بدت فتنة اللیل قدغ ّ‬
‫طت الفق وشاعت فکادت تبلغ الغرب والشرقا‬
‫)فتنہ شب ظاھر ھوا جس نے افق کو اپنی لپیٹ میں لے لیااور پھیلتو مغرب اور مشرق تک‬
‫پھونچ گیا۔(‬

‫شیخ عبد الله ابن عیس ٰی مویسی ‪،‬شیخ احمد مصری احسائی ‪،‬شیخ محمد ابن شیخ احمد‬
‫ابن عبد الطیف احسائی اور ص ‪۱۰۵‬پر اس عنوان کے تحت کھ” محمد ابن عبدالوھاب‬
‫پیغمبر پر درود بھیجنے سے منع کرتا تھا ‪،،‬لکھا ھے جس کے الفاظ یہ ھیں اور ”صاحب کتاب‬
‫”مصباح النام وجلء الظلم فی رد شبہ البدعی النجدی التی اض ّ‬
‫ل ب ِ َھا ال َْعوام ‪،،‬سید علوی‬
‫ابن احمد ابن حسین ابن سید عارف بالله عبد الله ابن علوی حداد نے اپنی کتاب میں اس کا‬
‫ذکرکیا ھے ‪،‬پھرسید احمد بن زینی دحلن نے اپنے رسالہ ”الدررالسنیةفی الرد علی‬
‫الوھابیة‪،،‬میں لکھا ھے کہ محمد ابن عبدالوھاب پیغمبراسلم صلی الله علیہ وآلہ وسلم‬
‫پرصلوات پڑھنے سے روکتا تھا اور منبروں پر بلند آواز سے صلوات پڑھنے کو روکتا تھا اور‬
‫ایسا کرنے والے کو اذّیت اور سخت سزا دیتا تھا حتی کہ اس نے ایک نابینا کو جو ایک صالح‬
‫اور خوش آوازموٴذن تھا قتل کردیا ۔اسے اذان کے بعد منارہ پر صلوات پڑھنے سے روکا تھا‬
‫لیکن وہ باز نھیں آیا نتیجہ میںاسے جان سے مار ڈال اور کھا کہ طوائف کے گھر باجہ بجانے والے‬
‫کا گناہ اس شخص کی بہ نسبت کم ھے جو منارہ پر پیغمبر اسلم پر درود پڑھے۔‬
‫اورصفحھ ‪۲۵۰‬پر لکھا ھے کہ سید علوی ابن احمد حداد نے فرمایا میں نے مذاھب اربعہ کے بے‬
‫شمار بڑے بڑے علماء کے جوابات دیکھے ھیں یہ علماء حرمین شریفین ‪،‬احساء ‪،‬بصرہ‬
‫بغداد ‪،‬حلب ‪،‬یمن اور دوسرے اسلمی شھروں کے رھنے والے تھے جنھوں نے نثر ونظم دونوں‬
‫میں جوابات لکھے ۔میرے پاس ابن عبدالّرزاق حنبلی کی اولد میں سے ایک شخص کا‬
‫مجموعہ لیا گیا اس میں بھت سے علماء کی جانب سے لکھی گئی رد موجود تھیں ۔‬
‫اس کے بعد لکھا ھے ‪:‬اور میرے پاس شیخ محدث صالح فلنی مغربی ضخیم کتاب لئے جس‬
‫میں علماء مذاھب اربعہ حنفیہ ‪،‬مالکیہ ‪،‬شافعیہ ‪،‬اور حنبلیہ کے خطوط اور جوابات تھے جو‬
‫محمد ابن عبدالوھاب کے جواب میں لکھے گئے تھے ۔اورص ‪۲۴۸‬پر ھے۔ محمد ابن عبدالوھاب‬
‫کی رد بھت سے علماء نے کی ھے ۔اس کے ھم عصر علماء نے بھی اور بعد میں آنے والے‬
‫علماء نے بھی اور اب تک علماء اسلم کے اعتراضوں کے تیر اس کو نشانہ بناتے رھتے ھیں ۔‬
‫اس کے ھم عصر رد کر نے والوں میں پیش پیش احساء کے حنبلی تھے اور درحقیقت تمام‬
‫اعتراضات ابن تیمیہ کو نشانہ بنارھے تھے ۔‬
‫موٴلف کھتا ھے ‪:‬ابوالفضل قاسم محجوب مالکی نے بھی ایک رسالہ کے ذریعہ جس کا تذکرہ‬
‫احمد ابن ضیاف کی کتاب ”اتحاف اھل الزمان باخبار ملوک تونس وعھد المان ‪،،‬میں ملتا‬
‫ھے ‪،‬محمد ابن عبدالوھاب کی رد کی ھے اور اس کے آراء اور فتاوی کو باطل قرار دیا ھے ۔‬
‫صہ حاج مالک داوٴد کی کتاب ”الحقائق السلمیةفی الرد علی المز اعم‬
‫اس رسالہ کا ایک ح ّ‬
‫الوھابیةبادّلةالکتاب والسنة النبویة ‪،،‬سے ملحق کرکے ‪ ۱۴۰۳‬ئمیں طبع ھوا تھا اور دوبارہ‬
‫آفسٹ سے ترکیہ میں ‪ ۱۴۰۵‬ئمیں طبع ھوا ۔‬
‫جھاںمیری واقفیت میں علماء مذاھب اربعہ کی جانب سے رد اور طعن محمد ابن عبدالوھاب‬
‫پرکی گئیں وہ میں نے درج کردیں ۔‬
‫احمد ابن تیمیہ حرانی اور اس پر کئے گئے اعتراضات‬
‫محمد ابن عبد الوھاب کے امام ‪ ،‬احمد ابن تیمیہ جس کے آراء و افکار کی اس نے تقلید کی‬
‫ھے اور جس کے عقائد کو اس نے اخذ کیا اور جس پر اپنے دین کی بنیاد رکھی اور نتیجہ میں‬
‫صراط مستقیم سے نہ صرف خود بھٹکا بلکہ اور بھت سے مسلمانوں کو بھی گمراہ کیا ھے‬
‫اس کے بارے میں علماء کے اقوال نقل کئے جاتے ھیں ۔‬
‫چنانچہ علماء مکہ کے بقول جیسا کہ کتاب ” سیف الجبار المسلول علی اعداء ال برار‪ ،،‬طبع‬
‫ترکیہ ‪۱۹۷۹‬ءء کے ص ‪ ۲۴‬پر ھے کہ ‪ :‬بدبخت ابن تیمیہ کے دور کے علما نے اس کی گمراھی‬
‫اور اس کے قید کر نے پر اجماع کیا ھے اور اعلن کیا گیا ھے کہ جو شخص ابن تیمیہ کے‬
‫عقیدوں پر ھو گا اس کا مال اور خون مباح ھے ۔”کشف الظنون ‪،،‬ج ‪ ۱‬ص ‪ ۲۲۰‬پر ھے کہ‬
‫علماء نے اس کی رد میں بھت مبالغہ کیا ھے یھاں تک کہ تصریح کی ھے کہ یہ شخص )ابن‬
‫تیمیہ ( جسے شیخ السلم کھا گیا ھے ‪ ،‬کافر ھے ‪ ،‬اس کی کتاب کی جلد ‪ ۲‬ص ‪ ۱۴۳۸‬پر‬
‫ھے ‪:‬ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ” العرش وصفتہ ‪ ،،‬میں ذکر کیا ھے کہ خداوند عالم کرسی پر‬
‫بیٹھتا ھے اور ایک جگہ خالی چھوڑ کر رکھی ھے جھاں رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلم‬

‫بیٹھیں گے۔ اس کو ابو حیان نے کتاب ” النھر‪ ،،‬میں قول خدا ”وسع کرسیہ الس ٰموات والرض‬
‫‪،،‬کے ذیل میں لکھا ھے ‪ :‬میں نے احمد ابن تیمیہ کی کتاب ” العرش ‪ ،،‬میں اسی طرح‬
‫پڑھاھے ۔ انتھی‬
‫اور اسی کتاب کے ص ‪ ۱۰۷۸‬پر احمد ابن تیمیہ جنبلی کی ایک کتاب بنام ”الصراط المستقیم‬
‫والرد علی اھل الجحیم ‪ ،،‬کا ذکر کیا ھے اور اسی میں ایسی باتیں لکھی ھیں جن کا تذکرہ‬
‫کرنا مناسب نھیں ھے مثل عبد الله ابن عباس کو کافر قرار دینا ۔حصینی نے اپنی کتاب میں‬
‫اس کی رد لکھی ھے ۔ جامعہ ا زھر کے ایک عالم شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی نے اپنی‬
‫کتاب ” تطھیر الفواد من دنس ال عتقاد ‪،،‬میںص ‪ ۹‬پر ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا ھے کہ اس‬
‫نے اپنی کتاب ”الواسطہ ‪ ،،‬وغیرہ کی تالیف کی تو ایسی باتیں گڑھیں جن سے مسلمانوں کے‬
‫اجماع کو پارہ کر دیا ۔اس نے کتاب خدا ‪ ،‬صریح سنت اور سلف صالح کی مخالفت کی ھے۔‬
‫اپنی فاسد عقل کا مطیع ھوا ھے اور جان بوجہ کر گمراہ ھواھے ۔اس کا معبود اس کی ھوائے‬
‫نفس ھے۔ اسے یہ گمان ھوا ھے کہ جو کچہ اس نے بیان کیا ھے حق ھے حالنکہ وہ حق نھیں ھے‬
‫بلکہ یہ جھوٹ اور قول منکر ھے ‪،‬اور اسی کتاب کے ص ‪۱۳‬پر ھے ‪:‬یہ کتاب ابن تیمیہ کی بھت‬
‫سی من گڑھت باتوں پر مشتمل ھے جوکتاب و سّنت اور جماعت مسلمین کے مخالف ھے ۔‬
‫اور صفحھ ‪۱۱/ ۱۰‬پر ھے‪:‬وہ برابر اکابر کے پیچھے پڑا رھا یھاں تک کہ اس کے زمانے والے اس‬
‫کے خلف مجتمع ھوئے اسے فاسق قرار دیا اور بدعتی ٹھھرایا بلکہ ان میں سے زیا دہ لوگوں‬
‫نے اسے کافر قرار دیا ۔‬
‫اور صفحہ ‪۱۷‬پر ھے ‪:‬اپنے زمانے میں ابن تیمیہ کا وتیرہ ادب اورھر زمانے میں اس کے پیروٴوں‬
‫کا یھی طریقہ رھا ھے کھ‪:‬‬
‫”یقولون آمّنا بالله و بالیوم الخروما ھم بمومنین ‪،‬یخادعون اللهوالذین آمنوا وما یخدعون‬
‫الانفسھم وما یشعرون ‪،،‬یہ لوگ کھتے ھیں کہ ھم الله اور روز قیامت پر ایمان لئے ھیں‬
‫حالنکہ یہ مومن نھیں ھیں ۔یہ الله کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ھیں حالنکہ یہ خود اپنے‬
‫کو دھوکہ دے رھے ھیں اور انھیں اس کا احساس نھیں ھے ۔‪،،‬‬
‫موٴلف کھتا ھے ‪:‬یہ منافقیں کی صفت ھے جسے خدا وند عالم نے اپنی کتاب قرآن کریم میں‬
‫بیان کیا ھے ۔‬
‫اور یافعی نے ”مرآةالجنان ‪،،‬ج ‪/۴‬ص ‪۲۴۰‬طبع حیدرآباد دکن ‪۱۳۳۹‬ھئمطبع دائرةالمعارف‬
‫النظامیہ میں ابن تیمیہ کے بعض مھمل اقوال کا ذکر کیا ھے مث ً‬
‫للکھا ھے‪:‬خدا حقیقتًاعرش پر‬
‫بیٹھا ھے اور الفاظ وآواز سے گفتگو کرتا ھے پھرلکھا ھے کہ دمشق میںیہ اعل ن کردیا گیا کہ‬
‫جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدہ پر ھوگا اس کی جان اور اس کا مال مباح ھے ۔‬
‫اور صفحھ ‪۲۷۸‬پر ‪ ۷۲۸‬ئکے واقعات کے سلسلہ میں ھے ‪:‬اس )ابن تیمیہ (کے عجیب وغریب‬
‫مسائل ھیں جن کے بارے میں اس پر طعن وتشنیع کی گئی ھے اورجن کے سبب مذھب اھل‬
‫سّنت ترک کرنے کی خاطر اسے قید کیا گیا ۔پھر اس کی بھت سی برائیوں کو شمار کراتے‬
‫ھوئے لکھا ھے کھ‪:‬اس کی قبیح ترین برائی یہ تھی کہ اس نے پیغبر اسلم صّلی الله علیہ وآلہ‬
‫وسلم کی زیارت سے منع کر دیا تھا ۔آپ پر اور دوسرے اولیاء خدا اور اس کے برگزیدہ‬
‫بندوں پر طعن و تشنیع کی تھی اور اسی طرح مسٴلہ طلق وغیرہ کے سلسلہ میں اس کا‬
‫مسلک اور جھت کے بارے میں اس کا عقیدہ اور اس بارے میں جوباطل اقوال اس سے نقل‬
‫ھوئے ھیں یہ سب اور اس کے علوہ اور بھی بھت سی باتیں اس کے قبائح میں سے ھیں ۔‬
‫شیخ ابن حجر ھیتمی نے ”تحفہ ‪،،‬میں لکھا ھے ‪:‬خدا کی جسمیت یا اس کے جھت میں ھونے‬
‫کا دعو ٰی ایساھے کہ اگر کوئی اس کا عقیدہ رکھے تو کافر ھے ۔سفینةالراغب ص ‪ ۴۴‬طبع‬
‫بولق مصر ‪ ۱۲۵۵‬ئ‬
‫شیخ یوسف نبھانی نے اپنی کتاب ”شواھدالحق ‪،،‬کے صفحہ ‪۱۷۷‬پر لکھا ھے ‪:‬چوتھا باب ‪،‬ابن‬
‫تیمیہ کے اوپرعلماء مذاھب اربعہ کے اعتراضات کی عبارتیں اور اس کی کتابوں پر کئے گئے‬
‫ایرادات اور بعض اھم مسائل جیسے خدا وندعالم کا ایک خاص جھت وسمت میں ھونا ‪،‬کے‬
‫بارے میں اھل سّنت کی مخالفت کے بیان میں ۔پھر ایک جماعت کا ذکر کیا ھے جنھوں نے‬
‫اس پر طعن کیاھے لکھا ھے ‪:‬‬
‫”انھیں طعن کرنے والوں میں سے امام ابوحیان ھیںجو ابن تیمیہ کے دوست تھے ۔جب اس‬

‫کی بدعتوں سے با خبر ھوئے تو اس کو بالکل چھوڑ دیا اور لوگوں کو اس سے دور رھنے کی‬
‫تاکید کی ۔اور انھیں میں سے امام عزالدین ابن جماعةھیں انھوں نے اس کی رد کی ھے اور‬
‫اسے برا کھا ھے ۔‪،،‬‬
‫انھیں میں سے مل علی قاری حنفی ھیں انھوں نے شفاء کی شرح میں لکھا ھے ‪ :‬حنبلیوں‬
‫میں سے ابن تیمیہ نے افراط سے کام لیا چنانچہ اس نے زیارت نبی کے لئے سفر کرنے کو‬
‫حرام قرار دیا ھے ۔اسی طرح اس کے مقابل والے نے بھی افراط سے کام لیا ھے چنانچہ کھا‬
‫ھے ‪:‬زیارت کا باعث تقرب خدا ھونا ضرویات دین میں سے ھے اور اس کا انکار کرنے وال‬
‫کافر ھے ۔اور شاید یہ دوسرا قول حق سے قریب ھے کیونکہ جس کے مستحب ھونے پر اجماع‬
‫ھو اس کا حرام قراردینا کفر ھوگاکیونکہ یہ مباح متفق علیہ کے حرام قرار دینے سے بڑہ کر‬
‫ھے۔‬
‫اور انھیں میں سے شباب الدین خفاجی حنفی ھیں جن کے کلم کو اس طرح ذکر کیا ھے‬
‫‪:‬ابن تیمیہ نے ایسی خرافات باتیں لکھی ھیں جن کا ذکر کرنا مناسب نھیں کیونکہ یہ باتیں‬
‫کسی عقلمند انسان کی ھو ھی نھیں سکتیںچہ جائیکہ ایک پڑھے لکھے آدمی کی زبان اورقلم‬
‫سے صادر ھو ں ۔چنانچہ ابن تیمیہ کا یہ کھنا کہ ”قبر پیغمبر اسلم کی زیارت حرام کام ھے‬
‫‪،،‬کذب محض‪،‬لغو ھے اوربکواس ھے ۔ اس کا یہ کھنا ”اس کے بارے مےں کوئی نقل موجود‬
‫نھیں ھے ‪،،‬باطل ھے کیونکہ امام مالک ‪،‬امام احمد ‪،‬اور امام شافعی رضی اللهعنھم کا مذھب‬
‫یہ ھے کہ سلم ودعا میںقبر شریف کی طرف رخ کرنا مستحب ھے اور یہ بات ان بزرگوں کی‬
‫کتابوںمیں درج ھے۔‬
‫اور انھیںمیں سے امام محمدزرقانی مالکی ھیں ۔)بنھانی نے ان کے کچہ کلم کو مواھب لدنیہ‬
‫کی شرح میں نقل کیا ھے جسے ھم یھاںپیش کررھے ھیں‪:‬‬
‫”لیکن ابن تیمیہ نے اپنے لئے ایک جدید مذھب ایجاد کیا ھے اور وہ ھے قبروں کی تعظیم نہ کرنا‬
‫‪ ۰۰۰‬کیا یہ شخص جس بات کا علم نھیں رکھتا اس کے جھٹلنے سے شرماتاھے ؟اور ابن تیمیہ‬
‫کی طعن وتشنیع کے سلسلے میں اپنی پھلی والی بات دھرائی ھے ۔‬
‫اور انھیں میں سے امام کمال الدین ز ملکانی شافعی متوفی ‪۷۲۷‬ھئنے کشف الظنون میں‬
‫ان کی ایک کتاب”الذرةالمضیہ فی الرد علی ابن تیمیہ ‪،،‬کا ذکر کیا ھے انھوں نے ان مسائل‬
‫میں اس سے مناظرہ کیا ھے جن میں وہ مذاھب اربعہ سے منحرف ھوگیا ھے اور ان میں قبیح‬
‫ترین مسئلہ اس کا انبیاء وصالحین خصوصًاسیدالمرسلین کی قبروں کی زیارت اور آپ کے‬
‫وسیلہ سے خدا سے مانگنے کو منع کرنا ھے ۔‬
‫اور انھیں میں سے امام کبیرشھیر تقی الدین سبکی شافعی ھیں)ابن تیمیہ پر اعتراضات کو‬
‫ان کی کتاب شفاء السقام فی زیارت خیر النام علیہ السل م سے نقل کیا ھے( اس کتاب‬
‫میں انھوں نے اسے بدعتی کھا ھے ۔ اور انھیں میں سے حافظ ابن حجر عسقلنی شافعی‬
‫ھیں)انھوں نے اپنی کتاب فتح الباری فی شرح البخاری میں اس پر رد کی ھے (اور انھیں‬
‫میں سے امام عبد الروٴوف منادی شافعی ھیں انھوں نے شرح شمائل میں کھا ھے ‪:‬اور ابن‬
‫قّیم کا اپنے شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے یہ کھناکہ ”مصطفی صّلی الله علیہ وآلہ وسلم نے‬
‫جب اپنے پرور دگارکو اپنے دونوں شانوں کے درمیان اپنے ھاتہ رکہ کر دکھائے تو خدااس جگہ‬
‫کو بالوں کو نوازا ۔اس کی ردشارح یعنی ابن حجرم ّ‬
‫کی نے اس طرح کی بات ان دو نوں‬
‫)ابن تیمیہ وابن قیم(کی بد ترین گمراھی ھے اور یہ ان دونوں کے اس عقیدہ پر مبنی ھے کہ‬
‫خدا جھت اور جسم رکھتا ھے۔خدا وند عالم ظالموں کے اس قول سے کھیں بزرگ وبرتر ھے‬
‫اس کے بعد منادی نے لکھا ھے ‪:‬اب میں کھتا ھوں ان دونوںکا بدعتیوں میں سے ھونا مسّلم‬
‫ھے۔‬
‫اور انھیں میں سے ھمارے دوست عالم با عمل ‪،‬فاضل کامل ‪ ،‬شیخ مصطفی ابن احمد‬
‫سطی جنبلی دمشقی حفظ الله وجزا ہ الله احسن الجزا ء ھیں ۔ مو صوف نے ایک‬
‫مخصوص رسالہ تالیف کیا ھے جس کا نام ) النقول الشرعیہ فی الرد علی الو ھابیة ( ھے۔‬
‫انھیں میں سے امام شھاب الدین احمد بن حجر ھیثمی مکی شافعی ھیں انھوں نے ابن تیمیہ‬
‫پر بھت سخت ردو تنقید کی ھے ۔‬
‫اور نبھانی نے شواھدالحق کے ص ‪ ۱۹۱‬پر پھلے تو ان لوگوں کے نام نقل کئے ھیں جنھوں نے‬

‫ابن تیمہ کو طعن و تشنیع کی اور جن کا ذکر ابھی گزرا ھے ۔ اس کے بعد کھتے ھیں ‪ :‬لھذا‬
‫ثابت ھوا اور آفتاب نصف النھار کی طرح روشن ھوا کہ علماء مذ ھب اربعہ نے ابن تیمیہ کی‬
‫بد عتوں کے رد کرنے پر اتفاق کیا ھے اور کچہ علماء نے اس کی نقل کی صحت پر طعن کیا‬
‫ھے تو بھل جن مسائل میں دین سے انحراف کیا ھے اور اجماع مسلمین کی مخالفت کی ھے‬
‫خاص کر ان مسائل میں جو سید المر سلین سے متعلق ھیں اس کی کھلی ھوئی غلطی پر‬
‫سخت طعن وتشنیع کیوں نہ کرتے ۔‬
‫حنفیوں میں سے جنھوں نے اس کی نقل کے صحیح ھونے پر طعن کیا ھے شھاب الدین‬
‫خفاجی شارح الشفا ء ھیں جن کا ذکر گزر چکا ھے ۔ اور مالکیوں میں سے امام زرقانی‬
‫ھیں شرح مواھب میں ‪ ،‬یہ تذ کرہ بھی گزر چکا ھے ۔ اور شافیوں میں سے امام سبکی ھیں‬
‫جیسا کہ ان کی کتاب شفاء السقام میں مذ کور ھے اس میں انھوں نے یہ واضح کیا ھے کہ نہ‬
‫صرف یہ کہ ابن تیمیہ کی رائے غلط ھے بلکہ اس کے نقل کئے ھوئے وہ احکام شرعیہ بھی‬
‫صحیح نھیں ھیں جس کے ذریعہ اس نے اپنی بدعت کی تقویت پر استدلل کیا ھے اور انھیں‬
‫مذاھب اربعہ کی طرف منسوب کیا ھے حالنکہ ائمہ مذا ھب اربعہ نے وہ احکام نھیں بیان کئے‬
‫ھیں ۔اسی طرح اس کے نقل کی عدم صحت کا ذکر امام ابن حجر ھیثمی نے بھی اس کے‬
‫اوپر اپنے اعترا ضات میں کیا ھے اور یہ بات پو شیدہ نھیں ھے کہ یہ چیز ایک عالم کے اندر‬
‫بھت بڑاعیب اور بھت بڑا اخلقی جرم ھے جو اس پر اعتماد کو ضعیف کر دیتا ھے اور اس‬
‫کے منقولت کے اعتبار کو ساقط کر دیتا ھے چاھے وہ احفظ حفاظ اورا علم علماء میں سے‬
‫ھو اور ابن تیمیہ کے منقو لت کے معتبر نہ ھونے کی تقویت اس قول سے بھی ھوتی ھے جو‬
‫اس کے بارے میں حافظ عراقی نے کھا ھے۔ کلم نھبانی تمام ھوا ۔شواھد الحق ص ‪۱۷۷‬تا‬
‫‪۱۹۱‬‬
‫ابن تیمیہ کا ذکر ڈاکٹر حامد حفنی داوؤد حنفی نے بھی اپنی کتاب ) نظرات فی الکتب‬
‫الخالدة( ص ‪ ۳۱‬مطبوعہ مصر ‪۱۳۹۹‬ء دارالمعلم للطباعة میں کیا ھے اور اسے بدعتی قرار‬
‫دیا ھے اور حاشیہ میں اس کلمہ پر نوٹ لگایا ھے کہ ‪ :‬اکثر علماء اھل سّنت نے اس کے بد‬
‫عتی ھونے کا قول اختیار کیا ھے رہ گئے صوفیہ تو انھوں نے اس پر اجماع کیا ھے ‪ ،‬امام تقی‬
‫الدین سبکی اور ابن تیمیہ کے درمیان فقہ وعقیدہ کے اکثر گوشوں کے بارے میں خط وکتابت‬
‫ھوتی ھے ۔دیکھئے ھماری کتاب )التشریع ال سلمی فی مصر ( انتھی ۔‬
‫َ‬
‫َ‬
‫ب ‪۹۱‬‬
‫ل‬
‫د‬
‫ا‬
‫ہ‬
‫سوری‬
‫طبع‬
‫عبدالغنی حمادہ اپنی کتاب ) فضل الذاکرین والرد علی المنکر ین (‬
‫ْ ْ‬
‫‪۱۳‬ء ص ‪ ۲۳‬پر اس طرح وھابیت پر طعن کر تے ھیں ‪:‬‬
‫شیخ وھابیت ابن تیمیہ کے بارے میں علمہ مصر علء الدین بخاری نے لکھاھے کہ ‪ :‬ابن تیمیہ‬
‫کافر ھے جیسا کہ اس کے زمانے کے بزر گ عالم زین الدین حنبلی نے کھا ھے کہ میرا اعتقاد یہ‬
‫ھے کہ ابن تیمیہ کافر ھے اور کھتے تھے کہ امام سبکی رضی الله عنہ ابن تیمیہ کی تکفیر سے‬
‫معذور ھیں کیونکہ اس نے امت اسلمیہ کو کافرقرار دیا ھے اور اسے قول خدا ‪”:‬اتخذ وااحبار‬
‫ھم ورھبانھم ار بابا من دون الله ‪،،‬کی تفسیر کر تے ھوئے یھودو نصار ٰی سے تشبیہ دی ھے۔‬
‫علماء مذاھب نے لکھا ھے کہ ‪ :‬ابن تیمیہ زندیق ھے کیونکہ وہ پیغمبر اسلم اور آپ کے دونوں‬
‫ساتھیوں کی توھین کرتا تھا اور اس کی کتابیں خدا وند عالم کی تشبیہ اور اسے صاحب‬
‫جسم قرار دینے سے بھری ھوئی ھیں ۔‬
‫اور اس کے زمانے کے علمہ ابن حجر رضی الله عنہ نے کھا ھے ۔ ابن تیمیہ ایک ایسا بندہ ھے‬
‫جسے خدا نے رسوا ‪ ،‬گمراھ‪ ،‬اندھا ‪ ،‬بھرا اور ذلیل کیا ھے ۔اس کے خلف مذاھب اربعہ میں‬
‫سے اس کے دور کے علماء اٹہ کھڑے ھوئے اور اکثر نے اس کو فاسق اور کافر قرار دیا ھے ۔‬
‫علماء نے کھا ھے کہ ابن تیمیہ نے صحابہ کرام رضی الله عنھم کو کافر قرار دینے میں خوارج‬
‫کے مذ ھب کا اتباع کیا ھے ۔‬
‫اور ائمہ حفاظ نے کھا ھے کہ ابن تیمیہ خوارج میں سے ھے ‪،‬جھوٹا ھے ‪ ،‬شریر ھے ‪ ،‬افترا پر داز‬
‫ھے ۔”فضل الذا کرین ‪،،‬میں لفظ بہ لفظ مو جود ھے ۔‬
‫اور ابو حامد مرزوق شامی نے اپنی کتاب ۔” التوسل بالّنبی وبا لصالحین ‪،،‬مطبوعہ تر کیہ‬
‫طبع آفسٹ ‪ ۱۹ ۸۴‬ءء کے ص ‪ ۴‬پر لکھا ھے‪:‬‬
‫” ایک بار ابن تیمیہ نے دمشق کے ممبر پر جانے کے بعد کھا ‪ ” :‬خدا وند عالم اسی طرح‬

‫عرش سے اتر تا ھے جیسے میں ممبر سے اتر رھا ھوں اور ایک زینہ نیچے اتر کر دکھایا ھے ‪، ،‬‬
‫اس کے بعد ابو حامد نے لکھا ھے کہ اس واقعہ کو دیکھنے والوں میں فقیہ سیاح ابن بطوطہ‬
‫مغری بھی ھیں اور ” التوسل بالّنبی وبالصالحین ‪،،‬کے ص ‪ ۶‬پر ابن تیمیہ سے نقل کیا ھے کہ‬
‫ابن تیمیہ نے لکھا ھے کھ” خدا حق تعال ٰی عرش کے اوپر ھے ‪ ،،‬اور اسی کتاب کے ص ‪ ۲۱۶‬پر‬
‫‪۱۳‬ہ مطبع عیس ٰی حلبی ‪ ،‬تصنیف ابو بکر‬
‫کتاب ” دفع شبہ من شب ّہ وتمّرد ‪،،‬طبع مصر ‪ ۵۰‬ء‬
‫حصنی دمشقی متوفی ‪ ۸۲۹‬ء سے نقل کر تے ھوئے لکھا ھے کہ مصنف مذکور نے ابن تیمیہ‬
‫کے بارے میں کھا ھے ‪ ”:‬میں نے اس خبیث )ابن تیمیہ ( کے کلم کو دیکھا جس کے دل میں‬
‫انحراف کا مرض ھے جو فتنہ پیدا کر نے کے لئے متشابہ آیات و احادیث کا اتباع کر تا ھے اور‬
‫عوام و غیر عوام میں سے ان لوگوں نے اس کی پیروی کی جس کے ھلک کر نے کا خدا نے‬
‫ارادہ کیا تھا ‪ ،‬میں نے اس میں ایسی باتیں پائیں جن کو ادا کر نے کی مجھ میں قدرت نھیں‬
‫ھے اور نہ میری انگلیوں اورقلم میں انھیں تحریر کر نے کی جراٴت ھے کیو نکہ اس نے پر‬
‫وردگار عالم کی اس بات پر تکذیب کی ھے کہ اس نے کتاب مبین میں اپنے کو منزہ قرار دیا‬
‫ھے ۔اسی طرح اس کے بر گزیدہ اور منتخب افراد خلفاء راشدین اور ان کے صالح‬
‫پیروکاروں کی توھین اور عیب جوئی کی ھے لھذا میں نے ان کا ذکر کرنا مناسب نہ جانا اور‬
‫صرف ان باتوں کو ذکر کیا جنھیں ائمہ متقین نے ذکر کیا تھا اور جن پر ان کا اتفاق ھے وہ یہ‬
‫کی ابن تیمیہ بد عتی اور دین سے خارج ھے ۔‬
‫حافظ ابن حجر نے ” الفتاوی الحدیثیہ ‪ ،،‬ص ‪ ۸۶‬پر لکھا ھے کہ ” ابن تیمیہ ایسا بندہ ھے جسے‬
‫خدا نے رسوا ‪ ،‬گمراہ ‪ ،‬اندھا ‪ ،‬بھرہ ‪ ،‬اور ذلیل بنا دیا ھے اور اسی بات کی تصریح ان اماموں‬
‫نے بھی کی ھے جنھوں نے اس کے فاسد ھونے اور اس کی باتوں کو جھوٹ ھونے کا بیان کیا‬
‫ھے اور جو شخص اسے جاننا چاھتا ھو وہ امام مجتھد ابوالحسن سبکی جن کی ‪،‬امامت ‪،‬‬
‫جللت ‪ ،‬شان اور مرتبہ اجتھاد تک پھنچنے پر اتفاق ھے ان کے اور ان کے فرزند تاج اور شیخ‬
‫امام عّز بن جماعہ اور شافعیہ ‪ ،‬مالکیہ ‪ ،‬حنفیہ ‪ ،‬میں سے ان کے ھم عصر علماء کے کلم کو‬
‫مل حظہ کریں ‪ ،‬ابن تیمیہ نے صرف متاخرین صوفیہ کے اوپر اعتراض کرنے پر اکتفاء نھیں کی‬
‫ھے بلکہ عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب رضی الله عنھما ‪ ،،‬جیسے حضرات پر بھی‬
‫اعتراض کیا ھے۔‬
‫خلصہ یہ کہ اس کے کلم کی کوئی قدرو قیمت نھیں ھے اور چاھئے کہ اس کے بارے میں یہ‬
‫عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بد عتی گمراہ ‪،‬گمراہ کن ‪ ،‬جاھل اور غلو کر نے وال ھے ‪ ،‬خدا اس کے‬
‫ساتھ اپنے عدل سے معاملہ کرے اور ھمیں اس کے طریقہ ‪ ،‬عقیدہ ‪ ،‬اور عمل سے محفوظ‬
‫رکھے ۔ آمین ۔‬
‫کلم ابن حجر تمام ھوا اسے ھم نے تطھیر الفواد من دنس ال عتقاد ص ‪ ۹‬طبع مصر ‪ ۱۳۱۸‬ء‬
‫ہ تصنیف شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی سے نقل کیا ھے۔‬
‫اس کے بعد کھا کہ وہ خدا کے لئے سمت کا قائل ھے جس کا لزمی نتیجہ یہ ھے کہ وہ خدا کے‬
‫لئے جسمیت ‪ ،‬محاذات ‪،‬اور استقرار کا قائل ھے ۔‬
‫کتاب ”التوسل با لّنبی وبا لصالحین ‪ ،،‬میں ابن تیمیہ پر اور بھی بھت سے طعن ھیں جن کو‬
‫چند عناوین کے تحت ذکر کیا ھے ‪ ،‬جو حسب ذیل ھیں ۔‬
‫عّلمہ شھاب الدین احمد بن یحی ٰی حلبی کی جھت کے بارے میں ابن تیمیہ پر رد۔‬
‫‪۰‬‬
‫ابن تیمیہ کے اس زعم کا ابطال کہ خدا حق تعال ٰی عرش کے اوپر ھے ۔‬
‫‪۰‬‬
‫‪ ۰‬عقیدہ ابن تیمیہ جس کے سبب اس نے جماعت مسلمین سے مخالفت کی ھے اور انھیں برا‬
‫کھا ھے جسے قر آن میں طعن کر نے والے او باش ملحدین سے حاصل کیا ھے ۔‬
‫‪ ۰‬ابن تیمیہ کی تمام علماء اسلم سے مخالفت ۔‬
‫ابن تیمیہ کے فتوٴوں کے نمو نے‬
‫عالم کبیر شیخ محمد بخیت حنفی عالم جامعہ ا زھرنے اپنی کتاب ”تطھر الفواد من دنس ال‬
‫عتقاد ‪،،‬طبع مصر مطبو عہ ‪۱۳۱۸‬ئکے ص ‪ ۱۲‬پر اس شخص کے کچہ فتوؤں کا ذکر کیا ھے جن‬
‫میں سے بعض نمو نے ھم یھاں پر پیش کر رھے ھیں تا کہ ایک غیر جانبدارقاری کو اس کے‬
‫انحراف ‪ ،‬فاسد عقیدے اور منحرف فتوؤں میں علماء اسلم سے اس کی مخالفت کا زیا دہ‬
‫سے زیا دہ علم ھو سکے ۔‬

‫)‪ ” (۰‬اگر کو ئی شخص جان بو جہ کر نماز تر ک کر دے تو اس کی قضا وا جب نھیں ھے۔“‬
‫)‪ ” (۰‬حیض والی عورت کے لئے خانہ ء کعبہ کا طواف کرنا جائز ھے اور اس پر کوئی کفارہ‬
‫نھیں ھے۔“‬
‫)‪”(۰‬تین طلق ایک طلق کی طرف پلٹایا جائے گا“ اور اس بات کا دعو ٰی کر نے سے پھلے‬
‫خود اسی نے نقل کیا ھے کہ اجماع مسلمین اس کے بر خلف ھے ۔‬
‫)‪ ” (۰‬جس اونٹ کے پیر کی موٹی والی نسیں کاٹ دی گئی ھوں وہ کاٹنے والے کے لئے حلل‬
‫ھے اور وہ جب تاجروں سے لے لیا جائے تو زک ٰوة کے عوض کافی ھے اگر چہ زک ٰوة کے نام سے‬
‫نہ لیا گیا ھو ۔‪،،‬‬
‫)‪ ”(۰‬بھنے والی چیزوں میں اگر جاندار مثل چوھا مر جائے تو یہ چیزیں نجس نھیں ھو تیں“‬
‫)‪ ”(۰‬جنب کو چاھئے کہ حالت جنا بت میں نافلہ شب پڑھے اور تا خیر نہ کرے کہ فجر سے پھلے‬
‫غسل کر کے پڑھے گا اگر چہ اپنے ھی شھر میں ھو ۔“‬
‫)‪ ” (۰‬وقف کرنے والے کی شرط کا کوئی اعتبار نھیں ھے بلکہ اگر اس نے شا فعیہ پر وقف‬
‫کیا ھے تو حنفیہ پر صرف کیا جائے گا اور بر عکس ‪،‬اور قاضیوں پر وقف کیا ھے تو صو فیہ پر‬
‫صرف کیا جائے گا ۔‪،،‬‬
‫اسی طرح عقائد اور اصول دین کے مسائل میں بھی انحراف کا مر تکب ھوا ھے۔‬
‫)‪”(۰‬خدا وند عالم محل حوا دث ھے“تعال ٰی عن ذالک علوا کبیرا‬
‫)‪”(۰‬خدا مرکب ھے اس کی ذات ویسے ھی محتاج ھے جیسے کل اپنے جزء کا محتاج ھوتا ھے‬
‫ذال ِ َ‬
‫ن َ‬
‫ک‪،،‬‬
‫”ت ََعا ل ٰی ع َ ْ‬
‫)‪”(۰‬خدا جسم رکھتا ھے‪،‬وہ خاص سمت میں ھے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ھوتا ھے ‪،‬وہ‬
‫ٹھیک عرش کے برابر ھے نہ چھوٹا نہ بڑا“)خدا وندعالم اس قبح وبد ترین افترا ء اور صریحی‬
‫کفر سے کھیں بال تر ھے ۔خدا اس کے پیروٴوں کو رسوا کرے اور اس کے معتقدین کا شیرازہ‬
‫منتشر کرے (‬
‫)‪”(۰‬جھنم فنا ھوجائے گی ‪،‬انبیاء معصوم نھیں ھیں۔“‬
‫)‪”(۰‬رسول اللهصّلی الله علیہ وآلہ وسّلم کی کوئی وقعت نھیں ھے ۔ان سے توسل نہ کیا‬
‫جائے۔“‬
‫)‪”(۰‬پیغمبر اسلم کی زیا رت کے لئے سفر کرنا معصیت ھے اس سفر میں نمازقصر نھیں‬
‫ھوگی۔“‬

‫غیر مقلدوں کا اصلی نام وہابی ہے‬
‫لقب نجدی ‪،‬‬
‫کیونکہ ان کا مورث اع ٰلی محمد ابن عبدالوہاب ہے جو نجد کا رہنے وال‬
‫تھا‪ ،‬اگر انہیں مورث اع ٰلی کی طرف نسبت کیا جاوے تو وہابی کہا جاتا ہے‬
‫اور اگر جائے پیدائش کی طرف نسبت دے جائے تو نجدی جیسے مرزا‬
‫غلم احمد قادیانی کی امت کو مرزائی بھی کہتے ہیں اور قادیانی بھی‬
‫پہلی نسبت مورث کی طرف ہے‪ ،‬دوسری نسبت جائے پیدائش کی طرف‬
‫اسی جماعت کی پیشن گوئی خود حضور صلی اللہ تعا ٰلی علیہ وسلم نے‬
‫کی تھی کہ نجد کے متعلق ارشاد فرمایا تھا۔‬

‫ھناک الزلزل والفتن ویخرج منھا قرن الشیطان۔‬

‫نجد میں زلزلے اور فتنے میں ہوں گے‪ ،‬اور وہاں سے ایک “‬
‫“شیطانی فرقہ نکلے گا۔‬

‫غرض کہ اس جماعت کا بانی محمد ابن عبد الوہاب نجدی ہے اور‬
‫اس کا ہندوستان میں پرورش کرنے وال اسماعیل دہلوی ہے‪ ،‬اس‬
‫فرقہ کے حالت ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول میں ملحظہ‬
‫فرماؤ یہ لوگ عام مسلمانوں کو مشرک اور صرف اپنی جماعت‬
‫کو موحد کہتے ہیں‪ ،‬مقلدوں کے جانی دشمن اور ائمہ اربعہ‬
‫حضرت امام ابو حنیفہ‪ ،‬امام شافعی‪ ،‬امام مالک‪ ،‬امما احمد بن‬
‫حنبل رضی اللہ تعا ٰلی عنہم اجمعین کی شان اقدس میں تبرے‬
‫کرتے ہیں۔‬

‫یہ لوگ اپنے آپ کو اہل حدیث یا عامل بالحدیث کہتے ہیں‪ ،‬پہلے تو‬
‫اپنے کو فخریہ طور پر وہابی کہتے تھے‪ ،‬چنانچہ ان کی بہت کتب‬
‫کے نام تحفہ وہابیہ وغیرہ ہیں‪ ،‬مگر اب وہابی کے نام سے چڑتے‬
‫ہیں‪ ،‬ان کے عقائد و اعمال نہایت ہی گندے اسلم اور مسلمانوں‬
‫کے دامن پر بدنما داغ ہیں‪ ،‬ہم یہاں اہل حدیث نام پر مختصر‬
‫تبصرہ کرتے ہیں‪ ،‬تا کہ معلوم ہو کہ ان کا نام بھی درست نہیں‪،‬‬
‫مسلمانوں سے امید انصاف ہے اور اللہ تعا ٰلی اور اس کے محبوب‬
‫صلی اللہ تعا ٰلی علیہ وسلم سے امید قبول ہے۔‬
‫خیال رہے کہ دنیا کا کوئی شخص اہل حدیث یا عامل بالحدیث ہو‬
‫سکتا ہی نہیں‪ ،‬کسی کا اہل حدیث یا عامل الحدیث ہونا ایسا ہی‬
‫ناممکن ہے‪ ،‬جیسے دو تقیضین یا دو ضدیں کا جمع ہونا غیر‬
‫ممکن کیونکہ حدیث کے لغوی معنی ہیں بات‪ ،‬گفتگو یا کلم رب‬

‫فرماتا ہے۔‬
‫فبای حدیث بعدہ یومنون۔‬

‫“قرآن کے بعد کونسی بار پر ایمان لئیں گے۔ “‬
‫اللہ نزل احسن الحدیث ۔‬
‫“اللہ تعا ٰلی نے سب سے اچھا کلم نازل فرمایا۔ “‬
‫ومن الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ‬
‫بعض لوگ وہ ہیں‪ ،‬جو کھیل کی باتیں و ناول‪ ،‬قصے خریدتے “‬
‫“ہیں‪ ،‬تاکہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں۔‬
‫اس تیسری آیت میں ناول قصے کہانیوں کو حدیث فرمایا گیا۔‬
‫اصطلح شریعت میں حدیث اس کلم و عبارت کا نام ہے‪ ،‬جس‬
‫میں حضور سید عالم صلی اللہ تعا ٰلی علیہ وسلم کے اقوال یا‬
‫اعمال اسی طرح صحابہ کرام کے اقوال و اعمال بیان کئے‬
‫جاویں‪ ،‬اس عامل بالحدیث فرقے سے سوال ہے کہ تم کونسی‬
‫حدیث پر عامل ہو‪ ،‬لغویپر یا اصطلحی پر ہو اگر لغوی حدیث ہو‬
‫تو چاہئے کہ ہر ناول گو قصہ خوان اہل حدیث ہو کہ وہ حدیث یعنی‬
‫باتیں کرتا ہے ہر سچی جھوٹی بات پر عمل کرتا ہے‪ ،‬اگر‬
‫اصطلحی حدیث پر عامل ہو تو پھر سوال یہ ہو گا کہ ہر حدیث پر‬
‫عامل ہو یا بعض پر دوسری بات غلط ہے کیونکہ حضور کے کسی‬
‫نہ کسی فرمان پر ہر شخص ہی عامل ہے۔ حضور صلی اللہ تعا ٰلی‬
‫علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سچ نجات دیتا ہے جھوٹ ہلک کرتا ہے‪،‬‬
‫ہر مشرک و کافر اس کا قائل ہے‪ ،‬وہ سب ہی اہل حدیث ہو گئے‪،‬‬
‫تم حنفی‪ ،‬شافعی‪ ،‬مالکی‪ ،‬حنبلی مسلمانوں کو اہل حدیث کیوں‬
‫نہیں مانتے یہ تو ہزارہا حدیثوں پر عمل کرتے ہیں‪ ،‬اگر حدیث کے‬
‫معنی ہیں حضور کی ساری حدیثوں پر عمل کرنے والے تو یہ نہ‬
‫ممکن ہے کیونکہ حضور کی بعض حدیثیں منسوخ ہیں‪ ،‬بعض‬

‫حدیثوں میں حضور کے وہ خصوصی اعمال شریف ہیں جو حضور‬
‫کے لئے مباح یا فرض تھے‪ ،‬ہمارے لئے حرام ہے جیسے منبر پر نماز‬
‫پڑھنا اونٹ پر طواف فرمایا‪ ،‬حضرت حسین سیدالشہداء خاتم‬
‫آل عبار رضی اللہ تعا ٰلی عنہ کے لئے سجدہ دراز فرمایا‪ ،‬حضرت‬
‫امامہ بنت ابی العاص کو کندھے پر لے کر نماز پڑھنا‪ ،‬نو بیویاں‬
‫نکاح میں رکھنا‪ ،‬بغیر مہر نکاح ہونا ازواج میں عدل و مہر واجب‬
‫نہ ہونا۔ بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ تعا ٰلی علیہ‬
‫‪،‬وسلم کلمہ یوں پڑھتے تھے‬

‫لالہ ال اللہ وانی رسول للہ۔ الخ‬
‫“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ “‬

‫یہ حضرات اسی حدیث پر عمل کرکے اس طرح کلمہ کا ورد نہیں‬
‫کر سکتے‪ ،‬غرضکہ حدیث میں حضور صلی اللہ تعا ٰلی علیہ وسلم‬
‫کے ایسے اقوال و اعمال بھی ذکر ہیں جو حضور کے لئے کمال‬
‫ہیں‪ ،‬ہمارے لئے کفر۔‬
‫اسی طرح حضور علیہ السلم کے وہ افعال کریمہ جو نسیان یا‬
‫اجتہادی خطاء سے سرزد ہوئے حدیث میں مذکور ہیں‪ ،‬عامل‬
‫الحدیث صاحبان کو چاہیئے کہ ان پر بھی عمل کیا کریں۔ ہر‬
‫حدیث پر جو عامل ہوئے بہرحال کوئی شخص ہر حدیث پر عمل‬
‫نہیں کر سکتا‪ ،‬جو اس معنی سے اپنے کو اہل حدیث یا عامل‬
‫بالحدیث کہے‪ ،‬وہ غلب کہتا ہے جب ہی نام جھوٹ ہے‪ ،‬تو اللہ کے‬
‫فضل سے کام بھی سارے کھوٹے ہی ہوں گے‪ ،‬اسی لئے حضور‬
‫صلی اللہ تعا ٰلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔‬

‫علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین‬

‫“لزم پکڑو میری اور خلفاءراشدین کی سنت کو۔ “‬

‫یہ نہ فرمایا کہ میری حدیث کو لزم پکڑو‪ ،‬کیونکہ ہر حدیث لئق‬
‫عمل نہیں ہر سنت لئق عمل ہے‪ ،‬حضور کے وہ اعمال طیبہ جو‬
‫منسوخ بھی نہ ہوئے ہوں‪ ،‬حضور سے خاص بھی نہ ہوں خطاء‬
‫انسیانا ً بھی درزد نہ ہوں‪ ،‬بلکہ امت کے لئے لئق عمل ہوں‪ ،‬انہیں‬
‫سنت کہا جاتا ہے‪ ،‬لٰہٰذا ہمارا نام اہل سنت بالکل حق و درست ہے‪،‬‬
‫کہ ہم بفضلہ تعا ٰلی حضور صلی اللہ تعا ٰلی علیہ وسلم کی ہر سنت‬
‫پر عامل ہیں‪ ،‬مگر وہابیوں کا نام اہل حدیث بالکل غلط ہے کہ ہر‬
‫حدیث پر عمل نا ممکن۔‬
‫اب حدیثوں کی یہ چھانٹ کہ کون سی حدیث منسوخ ہے کون‬
‫حکم کون حدیث حضور صلی اللہ تعا ٰلی علیہ وسلم کی خصائص‬
‫میں سے ہے‪ ،‬کون سب کی اتباع کے لئے کون فعل شریف اقتداء‬
‫کے لئے یے‪ ،‬کون نہیں کس فرمان کا کیا منشاء ہے‪ ،‬کس حدیث‬
‫سے کہا مسئلہصراح ًۃ ثابت ہے اور کون مسئلہاشار ًۃکون دلل ًۃ‬
‫کون اقتضاء یہ سب کچھ امام مجتہد ہی بتا سکتے ہیں‪ ،‬ہم جیسے‬
‫عوام وہاں تک نہیں پہنچ سکتے‪ ،‬جیسے قرآن عمل کرانا حدیث کا‬
‫کام ہے‪ ،‬ایسے ہی حدیث پر عمل کرانا امام مجتہد کا کام یوں‬
‫سمجھو کہ حدیث شریف رب تک پہنچنے کا راستہ ہے اور امام‬
‫مجتہد اس راستہ کا نور جیسے بغیر روشنی راہ طے نہیں ہوتا‪،‬‬
‫بغیر امام و مجتہد حضور صلی اللہ تعا ٰلی علیہ وسلم کی سنتوں‬
‫پر عمل کرنا نا ممکن ہے‪ ،‬اسی لئے علماء فرماتے ہیں۔‬

‫القر ٰان والحدیث یضلن ال بالمجتھد۔‬
‫“بغیر مجتہد قرآن و حدیث گمراہی کا باعث ہیں۔ “‬
‫رب تعا ٰلی قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے۔‬
‫یضل نہ کثیرا و یھدی نہ کثیرا ۔‬
‫اللہ تعا ٰلی قرآن کے ذریعے بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو “‬
‫“گمراہ کر دیتا ہے۔‬

‫چکڑالوی اسی لئے گمراہ ہیں کہ وہ قرآن شریف بغیر حدیث کے‬
‫نور کے سمجھنا چاہتے ہیں‪ ،‬براہ راست رب تک پہنچنا چاہتے ہیں‪،‬‬
‫وہابی غیر مقلد اسی لئے راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں کہ یہ حدیث کو‬
‫بغیر علم کی روشنی اور بغیر مجتہد کے نور کے سمجھنا چاہتے‬
‫ہیں‪ ،‬مقلدین اہل سنت کا انشاءاللہ بیڑا پار ہے‪ ،‬کہ ان کے پاس‬
‫کتاب اللہ بھی ہے سنت رسول اللہ بھی اور سراج امت امام‬
‫مجتہد کا نور بھی۔‬
‫یوم ندعوا کل اۃ ناس باما مھم۔‬
‫“اس دن ہم ہر شخص کو اس کے امام کیساتھ بلئیں گے۔ “‬
‫خیال رکھو کہ قرآن و سنت کا سمندر ہم مقلد بھی عبور کرتے‬
‫ہیں‪ ،‬اور غیر مقلد وہابی بھی‪ ،‬لیکن ہم تقلید کے جہاز کے ذریعہ‬
‫جس کے ناخذ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعا ٰلی عنہ‬
‫ہیں ان کی ذمہ داری پر سفر کر رہے ہیں‪ ،‬غیر مقلد وہابی خود‬
‫اپنی ذمہ داری پر اس سمندر میں چھلنگ لگا رہے ہیں۔‬
‫انشاءاللہ مقلدوں کا بیڑا پار ہے‪ ،‬اور وہابیوں کا انجام غرقابی ہے۔‬

‫آخر میں ہم اہل حدیث حضرات سے پوچھتے ہیں‬
‫کہ اسلم کی پہلی عبادت نماز ہے‪ ،‬براہ مہربانی‬
‫آپ احادیث صحیحہ کی روشنی میں بتا دیں کہ‬
‫فرض‪ ،‬واجب‪ ،‬سنت‪ ،‬مستحب‪ ،‬مکروہ تحریمی‬
‫اور حرام میں کیا فرق ہے‪ ،‬اور نماز میں کتنے‬
‫فرض ہیں‪ ،‬کتنے واجب‪ ،‬کتنی سنتیں‪ ،‬کتنے‬
‫مستحبات‪ ،‬کتنے مکروہ تنزیہی‪ ،‬کتنے مکروہ‬
‫تحریمی اور کتنے حرام‪ ،‬انشاءاللہ تاقیامت یہ‬
‫تمام مسائل یہ حضرات حدیث سے نہیں بتا‬
‫سکتے‪ ،‬حالنکہ دن رات ان مسائل سے واسطہ‬
‫ہوتا ہے تو دوستو ضد کیوں کرتے ہو‪ ،‬تقلید اختیار‬
‫کرو‪ ،‬جس میں دین و دنیا کی بھلئی ہے۔‬
‫خدا کا شکر ہے کہ یہ کتاب یکم رمضان سنہ ‪ 1376‬ھ اپریل‬
‫‪1957‬ء روز و شبنہ کو شروع ہو کر ‪3‬ذی الحجہ سنہ ‪1376‬ء بروز‬
‫شبنہ یعنی دو ماہ دو دن میں اختتام کو پہنچی۔ رب تعا ٰلی اپنے‬
‫حبیب صلی اللہ تعا ٰلی علیہ وسلم کے صدقے اسے قبول فرمائے‪،‬‬
‫میرے لئے کفارہ سیات اور صدقہ جاریہ بنائے‪ ،‬مسلمانوں کے لئے‬
‫اسے نافع بنائے جو کوئی اس کتاب سے فائدہ اٹھائے وہ مجھ بے‬

‫کس گنہگار کے لئے حسن خاتمہ اور معافی سیات کی دعا کرے کہ‬
‫اس ہی للچ میں میں نے یہ محنت کی ہے۔‬
‫احمد ابن تیمی ہ حرانی اور اس پر اعتراضات‬
‫احمد ابن تیمی ہ حرانی اور اس پر اعتراضات‬
‫محمد ابن عبد الو ھاب ک ے امام ‪ ،‬احمد ابن تیمی ہ جس ک ے آراء و افکار کی اس ن ے تقلید کی‬
‫ھے اور جس ک ے عقائد کو اس ن ے اخذ کیا اور جس پر اپن ے دین کی بنیاد رک ھی اور نتیج ہ‬
‫میں صراط مستقیم س ے ن ہ صرف خود ب ھٹکا بلک ہ اور ب ھت س ے مسلمانوں کو ب ھی گمرا ہ‬
‫کیا ھے اس ک ے بار ے میں علماء ک ے اقوال نقل کئ ے جات ے ھیں ۔‬
‫چنانچ ہ علماء مک ہ ک ے بقول جیسا ک ہ کتاب ” سیف الجبار المسلول علی اعداء ال برار‪،،‬‬
‫طبع ترکی ہ ‪۱۹۷۹‬ءء ک ے ص ‪ ۲۴‬پر ھے ک ہ ‪ :‬بدبخت ابن تیمی ہ ک ے دور ک ے علما ن ے اس کی‬
‫گمرا ھی اور اس ک ے قید کر ن ے پر اجماع کیا ھے اور اعلن کیا گیا ھے ک ہ جو شخص ابن‬
‫تیمی ہ ک ے عقیدوں پر ھو گا اس کا مال اور خون مباح ھے ۔”کشف الظنون ‪،،‬ج ‪ ۱‬ص ‪ ۲۲۰‬پر‬
‫ھے ک ہ علماء ن ے اس کی رد میں ب ھت مبالغ ہ کیا ھے ی ھاں تک ک ہ تصریح کی ھے ک ہ ی ہ شخص‬
‫)ابن تیمی ہ ( جس ے شیخ السلم ک ھا گیا ھے ‪ ،‬کافر ھے ‪ ،‬اس کی کتاب کی جلد ‪ ۲‬ص ‪۱۴۳۸‬‬
‫پر ھے ‪:‬ابن تیمی ہ ن ے اپنی کتاب ” العرش وصفت ہ ‪ ،،‬میں ذکر کیا ھے ک ہ خداوند عالم کرسی‬
‫پر بیٹ ھتا ھے اور ایک جگ ہ خالی چ ھوڑ کر رک ھی ھے ج ھاں رسول صلی الله علی ہ و آل ہ وسلم‬
‫بیٹ ھیں گ ے۔ اس کو ابو حیان ن ے کتاب ” الن ھر‪ ،،‬میں قول خدا ”وسع کرسی ہ الس ٰموات‬
‫والرض ‪،،‬ک ے ذیل میں لک ھا ھے ‪ :‬میں ن ے احمد ابن تیمی ہ کی کتاب ” العرش ‪ ،،‬میں اسی‬
‫طرح پڑ ھا ھے ۔ انت ھی‬

‫احمد ابن تیمی ہ حرانی اور اس پر کئ ے گئ ے اعتراضات‬
‫محمد ابن عبد الو ھاب ک ے امام ‪ ،‬احمد ابن تیمی ہ جس ک ے آراء و افکار کی اس ن ے تقلید کی‬
‫ھے اور جس ک ے عقائد کو اس ن ے اخذ کیا اور جس پر اپن ے دین کی بنیاد رک ھی اور نتیج ہ‬
‫میں صراط مستقیم س ے ن ہ صرف خود ب ھٹکا بلک ہ اور ب ھت س ے مسلمانوں کو ب ھی گمرا ہ‬
‫کیا ھے اس ک ے بار ے میں علماء ک ے اقوال نقل کئ ے جات ے ھیں ۔‬
‫چنانچ ہ علماء مک ہ ک ے بقول جیسا ک ہ کتاب ” سیف الجبار المسلول علی اعداء ال برار‪،،‬‬
‫طبع ترکی ہ ‪۱۹۷۹‬ءء ک ے ص ‪ ۲۴‬پر ھے ک ہ ‪ :‬بدبخت ابن تیمی ہ ک ے دور ک ے علما ن ے اس کی‬
‫گمرا ھی اور اس ک ے قید کر ن ے پر اجماع کیا ھے اور اعلن کیا گیا ھے ک ہ جو شخص ابن‬
‫تیمی ہ ک ے عقیدوں پر ھو گا اس کا مال اور خون مباح ھے ۔”کشف الظنون ‪،،‬ج ‪ ۱‬ص ‪ ۲۲۰‬پر‬
‫ھے ک ہ علماء ن ے اس کی رد میں ب ھت مبالغ ہ کیا ھے ی ھاں تک ک ہ تصریح کی ھے ک ہ ی ہ شخص‬
‫)ابن تیمی ہ ( جس ے شیخ السلم ک ھا گیا ھے ‪ ،‬کافر ھے ‪ ،‬اس کی کتاب کی جلد ‪ ۲‬ص ‪۱۴۳۸‬‬
‫پر ھے ‪:‬ابن تیمی ہ ن ے اپنی کتاب ” العرش وصفت ہ ‪ ،،‬میں ذکر کیا ھے ک ہ خداوند عالم کرسی‬
‫پر بیٹ ھتا ھے اور ایک جگ ہ خالی چ ھوڑ کر رک ھی ھے ج ھاں رسول صلی الله علی ہ و آل ہ وسلم‬
‫بیٹ ھیں گ ے۔‬
‫اس کو ابو حیان ن ے کتاب ” الن ھر‪ ،،‬میں قول خدا ”وسع کرسی ہ الس ٰموات والرض ‪،،‬ک ے‬
‫ذیل میں لک ھا ھے ‪ :‬میں ن ے احمد ابن تیمی ہ کی کتاب ” العرش ‪ ،،‬میں اسی طرح پڑ ھا ھے ۔‬
‫انت ھی اور اسی کتاب ک ے ص ‪ ۱۰۷۸‬پر احمد ابن تیمی ہ جنبلی کی ایک کتاب بنام ”الصراط‬
‫المستقیم والرد علی ا ھل الجحیم ‪ ،،‬کا ذکر کیا ھے اور اسی میں ایسی باتیں لک ھی ھیں‬
‫جن کا تذکر ہ کرنا مناسب ن ھیں ھے مثل عبد الله ابن عباس کو کافر قرار دینا ۔حصینی ن ے‬
‫اپنی کتاب میں اس کی رد لک ھی ھے ۔ جامع ہ ا ز ھر ک ے ایک عالم شیخ محمد نجیت مطیعی‬
‫حنفی ن ے اپنی کتاب ” تط ھیر الفواد من دنس ال عتقاد ‪،،‬میںص ‪ ۹‬پر ابن تیمی ہ ک ے بار ے‬
‫میں لک ھا ھے ک ہ اس ن ے اپنی کتاب ”الواسط ہ ‪ ،،‬وغیر ہ کی تالیف کی تو ایسی باتیں گڑ ھیں‬
‫جن س ے مسلمانوں ک ے اجماع کو پار ہ کر دیا ۔اس ن ے کتاب خدا ‪ ،‬صریح سنت اور سلف‬
‫صالح کی مخالفت کی ھے۔‬
‫اپنی فاسد عقل کا مطیع ھوا ھے اور جان بوج ہ کر گمرا ہ ھوا ھے ۔اس کا معبود اس کی‬
‫ھوائ ے نفس ھے۔ اس ے ی ہ گمان ھوا ھے ک ہ جو کچ ہ اس ن ے بیان کیا ھے حق ھے حالنک ہ و ہ حق‬
‫ن ھیں ھے بلک ہ ی ہ ج ھوٹ اور قول منکر ھے ‪،‬اور اسی کتاب ک ے ص ‪۱۳‬پر ھے ‪:‬ی ہ کتاب ابن تیمی ہ‬
‫کی ب ھت سی من گڑ ھت باتوں پر مشتمل ھے جوکتاب و سّنت اور جماعت مسلمین ک ے‬

‫مخالف ھے ۔‬
‫اور صفح ھ ‪۱۱/ ۱۰‬پر ھے‪:‬و ہ برابر اکابر ک ے پیچ ھے پڑا ر ھا ی ھاں تک ک ہ اس ک ے زمان ے وال ے اس‬
‫ک ے خلف مجتمع ھوئ ے اس ے فاسق قرار دیا اور بدعتی ٹ ھھرایا بلک ہ ان میں س ے زیا د ہ‬
‫لوگوں ن ے اس ے کافر قرار دیا ۔‬
‫اور صفح ہ ‪۱۷‬پر ھے ‪:‬اپن ے زمان ے میں ابن تیمی ہ کا وتیر ہ ادب اور ھر زمان ے میں اس ک ے‬
‫‪:‬پیروٴوں کا ی ھی طریق ہ ر ھا ھے ک ھ‬
‫نا بالله و بالیوم الخروما ھم بمومنین ‪،‬یخادعون اللهوالذین آمنوا وما یخدعون”‬
‫یقولون آم ّ‬
‫الانفس ھم وما یشعرون ‪،،‬ی ہ لوگ ک ھت ے ھیں ک ہ ھم الله اور روز قیامت پر ایمان لئ ے ھیں‬
‫حالنک ہ ی ہ مومن ن ھیں ھیں ۔ی ہ الله کو اور ایمان والوں کو د ھوک ہ دیت ے ھیں حالنک ہ ی ہ خود‬
‫‪،،‬اپن ے کو د ھوک ہ د ے ر ھے ھیں اور ان ھیں اس کا احساس ن ھیں ھے ۔‬
‫موٴلف ک ھتا ھے ‪:‬ی ہ منافقیں کی صفت ھے جس ے خدا وند عالم ن ے اپنی کتاب قرآن کریم‬
‫میں بیان کیا ھے ۔‬
‫اور یافعی ن ے ”مرآةالجنان ‪،،‬ج ‪/۴‬ص ‪۲۴۰‬طبع حیدرآباد دکن ‪ ۱۳۳۹‬ھئمطبع دائرةالمعارف‬
‫النظامی ہ میں ابن تیمی ہ ک ے بعض م ھمل اقوال کا ذکر کیا ھے مث ً‬
‫للک ھا ھے‪:‬خدا حقیقتًاعرش‬
‫پر بیٹ ھا ھے اور الفاظ وآواز س ے گفتگو کرتا ھے پ ھرلک ھا ھے ک ہ دمشق میںی ہ اعل ن کردیا‬
‫گیا ک ہ جو شخص ابن تیمی ہ ک ے عقید ہ پر ھوگا اس کی جان اور اس کا مال مباح ھے ۔‬
‫اور صفح ھ ‪۲۷۸‬پر ‪ ۷۲۸‬ئک ے واقعات ک ے سلسل ہ میں ھے ‪:‬اس )ابن تیمی ہ (ک ے عجیب وغریب‬
‫مسائل ھیں جن ک ے بار ے میں اس پر طعن وتشنیع کی گئی ھے اورجن ک ے سبب مذ ھب‬
‫ا ھل سّنت ترک کرن ے کی خاطر اس ے قید کیا گیا ۔پ ھر اس کی ب ھت سی برائیوں کو شمار‬
‫کرات ے ھوئ ے لک ھا ھے ک ھ‪:‬اس کی قبیح ترین برائی ی ہ ت ھی ک ہ اس ن ے پیغبر اسلم صّلی الله‬
‫علی ہ وآل ہ وسلم کی زیارت س ے منع کر دیا ت ھا ۔آپ پر اور دوسر ے اولیاء خدا اور اس ک ے‬
‫برگزید ہ بندوں پر طعن و تشنیع کی ت ھی اور اسی طرح مسٴل ہ طلق وغیر ہ ک ے سلسل ہ‬
‫میں اس کا مسلک اور ج ھت ک ے بار ے میں اس کا عقید ہ اور اس بار ے میں جوباطل اقوال‬
‫اس س ے نقل ھوئ ے ھیں ی ہ سب اور اس ک ے علو ہ اور ب ھی ب ھت سی باتیں اس ک ے قبائح‬
‫میں س ے ھیں ۔‬
‫شیخ ابن حجر ھیتمی ن ے ”تحف ہ ‪،،‬میں لک ھا ھے ‪:‬خدا کی جسمیت یا اس ک ے ج ھت میں ھون ے‬
‫کا دعو ٰی ایسا ھے ک ہ اگر کوئی اس کا عقید ہ رک ھے تو کافر ھے ۔سفینةالراغب ص ‪ ۴۴‬طبع‬
‫بولق مصر ‪ ۱۲۵۵‬ئ‬
‫شیخ یوسف نب ھانی ن ے اپنی کتاب ”شوا ھدالحق ‪،،‬ک ے صفح ہ ‪۱۷۷‬پر لک ھا ھے ‪:‬چوت ھا باب ‪،‬ابن‬
‫تیمی ہ ک ے اوپرعلماء مذا ھب اربع ہ ک ے اعتراضات کی عبارتیں اور اس کی کتابوں پر کئ ے گئ ے‬
‫ایرادات اور بعض ا ھم مسائل جیس ے خدا وندعالم کا ایک خاص ج ھت وسمت میں ھونا ‪،‬ک ے‬
‫بار ے میں ا ھل سّنت کی مخالفت ک ے بیان میں ۔پ ھر ایک جماعت کا ذکر کیا ھے جن ھوں ن ے‬
‫‪ :‬اس پر طعن کیا ھے لک ھا ھے‬
‫ان ھیں طعن کرن ے والوں میں س ے امام ابوحیان ھیںجو ابن تیمی ہ ک ے دوست ت ھے ۔جب اس”‬
‫کی بدعتوں س ے با خبر ھوئ ے تو اس کو بالکل چ ھوڑ دیا اور لوگوں کو اس س ے دور ر ھن ے‬
‫کی تاکید کی ۔اور ان ھیں میں س ے امام عزالدین ابن جماعة ھیں ان ھوں ن ے اس کی رد کی‬
‫‪،،‬ھے اور اس ے برا ک ھا ھے ۔‬
‫‪ :‬ان ھیں میں س ے مل علی قاری حنفی ھیں ان ھوں ن ے شفاء کی شرح میں لک ھا ھے‬
‫حنبلیوں میں س ے ابن تیمی ہ ن ے افراط س ے کام لیا چنانچ ہ اس ن ے زیارت نبی ک ے لئ ے سفر‬
‫کرن ے کو حرام قرار دیا ھے ۔اسی طرح اس ک ے مقابل وال ے ن ے ب ھی افراط س ے کام لیا ھے‬
‫چنانچ ہ ک ھا ھے ‪:‬زیارت کا باعث تقرب خدا ھونا ضرویات دین میں س ے ھے اور اس کا انکار‬
‫کرن ے وال کافر ھے ۔اور شاید ی ہ دوسرا قول حق س ے قریب ھے کیونک ہ جس ک ے مستحب‬
‫ھون ے پر اجماع ھو اس کا حرام قراردینا کفر ھوگاکیونک ہ ی ہ مباح متفق علی ہ ک ے حرام قرار‬
‫دین ے س ے بڑ ہ کر ھے۔‬
‫اور ان ھیں میں س ے شباب الدین خفاجی حنفی ھیں جن ک ے کلم کو اس طرح ذکر کیا‬
‫ھے ‪:‬ابن تیمی ہ ن ے ایسی خرافات باتیں لک ھی ھیں جن کا ذکر کرنا مناسب ن ھیں کیونک ہ ی ہ‬
‫باتیں کسی عقلمند انسان کی ھو ھی ن ھیں سکتیںچ ہ جائیک ہ ایک پڑ ھے لک ھے آدمی کی زبان‬
‫اورقلم س ے صادر ھو ں ۔چنانچ ہ ابن تیمی ہ کا ی ہ ک ھنا ک ہ ”قبر پیغمبر اسلم کی زیارت حرام‬
‫کام ھے ‪،،‬کذب محض‪،‬لغو ھے اوربکواس ھے ۔ اس کا ی ہ ک ھنا ”اس ک ے بار ے م ےں کوئی نقل‬
‫موجود ن ھیں ھے ‪،،‬باطل ھے کیونک ہ امام مالک ‪،‬امام احمد ‪،‬اور امام شافعی رضی اللهعن ھم‬

‫کا مذ ھب ی ہ ھے ک ہ سلم ودعا میںقبر شریف کی طرف رخ کرنا مستحب ھے اور ی ہ بات ان‬
‫بزرگوں کی کتابوںمیں درج ھے۔‬
‫اور ان ھیں میں س ے امام محمدزرقانی مالکی ھیں ۔)بن ھانی ن ے ان ک ے کچ ہ کلم کو موا ھب‬
‫‪:‬لدنی ہ کی شرح میں نقل کیا ھے جس ے ھم ی ھاںپیش کرر ھے ھیں‬
‫لیکن ابن تیمی ہ ن ے اپن ے لئ ے ایک جدید مذ ھب ایجاد کیا ھے اور و ہ ھے قبروں کی تعظیم ن ہ”‬
‫کرنا ‪ ۰۰۰‬کیا ی ہ شخص جس بات کا علم ن ھیں رک ھتا اس ک ے ج ھٹلن ے س ے شرماتا ھے؟ اور‬
‫ابن تیمی ہ کی طعن وتشنیع ک ے سلسل ے میں اپنی پ ھلی والی بات د ھرائی ھے ۔‬
‫اور ان ھیں میں س ے امام کمال الدین ز ملکانی شافعی متوفی ‪ ۷۲۷‬ھئن ے کشف الظنون‬
‫میں ان کی ایک کتاب”الذرةالمضی ہ فی الرد علی ابن تیمی ہ ‪،،‬کا ذکر کیا ھے ان ھوں ن ے ان‬
‫مسائل میں اس س ے مناظر ہ کیا ھے جن میں و ہ مذا ھب اربع ہ س ے منحرف ھوگیا ھے اور ان‬
‫میں قبیح ترین مسئل ہ اس کا انبیاء وصالحین خصوصًاسیدالمرسلین کی قبروں کی زیارت‬
‫اور آپ ک ے وسیل ہ س ے خدا س ے مانگن ے کو منع کرنا ھے ۔‬
‫اور ان ھیں میں س ے امام کبیرش ھیر تقی الدین سبکی شافعی ھیں)ابن تیمی ہ پر اعتراضات‬
‫کو ان کی کتاب شفاء السقام فی زیارت خیر النام علی ہ السل م س ے نقل کیا ھے( اس‬
‫کتاب میں ان ھوں ن ے اس ے بدعتی ک ھا ھے ۔ اور ان ھیں میں س ے حافظ ابن حجر عسقلنی‬
‫شافعی ھیں)ان ھوں ن ے اپنی کتاب فتح الباری فی شرح البخاری میں اس پر رد کی ھے (‬
‫اور ان ھیں میں س ے امام عبد الروٴوف منادی شافعی ھیں ان ھوں ن ے شرح شمائل میں ک ھا‬
‫ھے ‪:‬اور ابن قّیم کا اپن ے شیخ ابن تیمی ہ ک ے حوال ے س ے ی ہ ک ھناک ہ ”مصطفی صّلی الله علی ہ‬
‫وآل ہ وسلم ن ے جب اپن ے پرور دگارکو اپن ے دونوں شانوں ک ے درمیان اپن ے ھات ہ رک ہ کر دک ھائ ے‬
‫تو خدااس جگ ہ کو بالوں کو نوازا ۔اس کی ردشارح یعنی ابن حجرم ّ‬
‫کی ن ے اس طرح کی‬
‫بات ان دو نوں )ابن تیمی ہ وابن قیم(کی بد ترین گمرا ھی ھے اور ی ہ ان دونوں ک ے اس‬
‫عقید ہ پر مبنی ھے ک ہ خدا ج ھت اور جسم رک ھتا ھے۔خدا وند عالم ظالموں ک ے اس قول‬
‫س ے ک ھیں بزرگ وبرتر ھے اس ک ے بعد منادی ن ے لک ھا ھے ‪:‬اب میں ک ھتا ھوں ان دونوںکا‬
‫بدعتیوں میں س ے ھونا مسّلم ھے۔‬
‫اور ان ھیں میں س ے ھمار ے دوست عالم با عمل ‪،‬فاضل کامل ‪ ،‬شیخ مصطفی ابن احمد‬
‫سطی جنبلی دمشقی حفظ الله وجزا ہ الله احسن الجزا ء ھیں ۔ مو صوف ن ے ایک‬
‫مخصوص رسال ہ تالیف کیا ھے جس کا نام ) النقول الشرعی ہ فی الرد علی الو ھابیة ( ھے۔‬
‫ان ھیں میں س ے امام ش ھاب الدین احمد بن حجر ھیثمی مکی شافعی ھیں ان ھوں ن ے ابن‬
‫تیمی ہ پر ب ھت سخت ردو تنقید کی ھے ۔‬
‫اور نب ھانی ن ے شوا ھدالحق ک ے ص ‪ ۱۹۱‬پر پ ھل ے تو ان لوگوں ک ے نام نقل کئ ے ھیں جن ھوں‬
‫ن ے ابن تیم ہ کو طعن و تشنیع کی اور جن کا ذکر اب ھی گزرا ھے ۔ اس ک ے بعد ک ھت ے ھیں ‪:‬‬
‫ل ھذا ثابت ھوا اور آفتاب نصف الن ھار کی طرح روشن ھوا ک ہ علماء مذ ھب اربع ہ ن ے ابن‬
‫تیمی ہ کی بد عتوں ک ے رد کرن ے پر اتفاق کیا ھے اور کچ ہ علماء ن ے اس کی نقل کی صحت‬
‫پر طعن کیا ھے تو ب ھل جن مسائل میں دین س ے انحراف کیا ھے اور اجماع مسلمین کی‬
‫مخالفت کی ھے خاص کر ان مسائل میں جو سید المر سلین س ے متعلق ھیں اس کی‬
‫ک ھلی ھوئی غلطی پر سخت طعن وتشنیع کیوں ن ہ کرت ے ۔‬
‫حنفیوں میں س ے جن ھوں ن ے اس کی نقل ک ے صحیح ھون ے پر طعن کیا ھے ش ھاب الدین‬
‫خفاجی شارح الشفا ء ھیں جن کا ذکر گزر چکا ھے ۔ اور مالکیوں میں س ے امام زرقانی‬
‫ھیں شرح موا ھب میں ‪ ،‬ی ہ تذ کر ہ ب ھی گزر چکا ھے ۔ اور شافیوں میں س ے امام سبکی ھیں‬
‫جیسا ک ہ ان کی کتاب شفاء السقام میں مذ کور ھے اس میں ان ھوں ن ے ی ہ واضح کیا ھے ک ہ‬
‫ن ہ صرف ی ہ ک ہ ابن تیمی ہ کی رائ ے غلط ھے بلک ہ اس ک ے نقل کئ ے ھوئ ے و ہ احکام شرعی ہ ب ھی‬
‫صحیح ن ھیں ھیں جس ک ے ذریع ہ اس ن ے اپنی بدعت کی تقویت پر استدلل کیا ھے اور‬
‫ان ھیں مذا ھب اربع ہ کی طرف منسوب کیا ھے حالنک ہ ائم ہ مذا ھب اربع ہ ن ے و ہ احکام ن ھیں‬
‫بیان کئ ے ھیں ۔اسی طرح اس ک ے نقل کی عدم صحت کا ذکر امام ابن حجر ھیثمی ن ے‬
‫ب ھی اس ک ے اوپر اپن ے اعترا ضات میں کیا ھے اور ی ہ بات پو شید ہ ن ھیں ھے ک ہ ی ہ چیز ایک‬
‫عالم ک ے اندر ب ھت بڑاعیب اور ب ھت بڑا اخلقی جرم ھے جو اس پر اعتماد کو ضعیف کر‬
‫دیتا ھے اور اس ک ے منقولت ک ے اعتبار کو ساقط کر دیتا ھے چا ھے و ہ احفظ حفاظ اورا‬
‫علم علماء میں س ے ھو اور ابن تیمی ہ ک ے منقو لت ک ے معتبر ن ہ ھون ے کی تقویت اس قول‬
‫س ے ب ھی ھوتی ھے جو اس ک ے بار ے میں حافظ عراقی ن ے ک ھا ھے۔ کلم ن ھبانی تمام ھوا ۔‬
‫شوا ھد الحق ص ‪۱۷۷‬تا ‪۱۹۱‬‬

‫ابن تیمی ہ کا ذکر ڈاکٹر حامد حفنی داوؤد حنفی ن ے ب ھی اپنی کتاب ) نظرات فی الکتب‬
‫الخالدة( ص ‪ ۳۱‬مطبوع ہ مصر ‪۱۳۹۹‬ء دارالمعلم للطباعة میں کیا ھے اور اس ے بدعتی قرار‬
‫دیا ھے اور حاشی ہ میں اس کلم ہ پر نوٹ لگایا ھے ک ہ ‪ :‬اکثر علماء ا ھل سّنت ن ے اس ک ے بد‬
‫عتی ھون ے کا قول اختیار کیا ھے ر ہ گئ ے صوفی ہ تو ان ھوں ن ے اس پر اجماع کیا ھے ‪ ،‬امام‬
‫تقی الدین سبکی اور ابن تیمی ہ ک ے درمیان فق ہ وعقید ہ ک ے اکثر گوشوں ک ے بار ے میں خط‬
‫وکتابت ھوتی ھے ۔دیک ھئ ے ھماری کتاب )التشریع ال سلمی فی مصر ( انت ھی ۔‬
‫َ‬
‫َ‬
‫ب ‪۹۱‬‬
‫ل‬
‫د‬
‫ا‬
‫ہ‬
‫سوری‬
‫عبدالغنی حماد ہ اپنی کتاب ) فضل الذاکرین والرد علی المنکر ین ( طبع‬
‫ْ ْ‬
‫‪۱۳ :‬ء ص ‪ ۲۳‬پر اس طرح و ھابیت پر طعن کر ت ے ھیں‬
‫شیخ و ھابیت ابن تیمی ہ ک ے بار ے میں علم ہ مصر علء الدین بخاری ن ے لک ھا ھے ک ہ ‪ :‬ابن تیمی ہ‬
‫کافر ھے جیسا ک ہ اس ک ے زمان ے ک ے بزر گ عالم زین الدین حنبلی ن ے ک ھا ھے ک ہ میرا اعتقاد‬
‫ی ہ ھے ک ہ ابن تیمی ہ کافر ھے اور ک ھت ے ت ھے ک ہ امام سبکی رضی الله عن ہ ابن تیمی ہ کی تکفیر‬
‫س ے معذور ھیں کیونک ہ اس ن ے امت اسلمی ہ کو کافرقرار دیا ھے اور اس ے قول خدا ‪”:‬اتخذ‬
‫وااحبار ھم ور ھبان ھم ار بابا من دون الله ‪،،‬کی تفسیر کر ت ے ھوئ ے ی ھودو نصار ٰی س ے تشبی ہ‬
‫دی ھے۔ علماء مذا ھب ن ے لک ھا ھے ک ہ ‪ :‬ابن تیمی ہ زندیق ھے کیونک ہ و ہ پیغمبر اسلم اور آپ‬
‫ک ے دونوں سات ھیوں کی تو ھین کرتا ت ھا اور اس کی کتابیں خدا وند عالم کی تشبی ہ اور‬
‫اس ے صاحب جسم قرار دین ے س ے ب ھری ھوئی ھیں ۔‬
‫اور اس ک ے زمان ے ک ے علم ہ ابن حجر رضی الله عن ہ ن ے ک ھا ھے ۔ ابن تیمی ہ ایک ایسا بند ہ ھے‬
‫جس ے خدا ن ے رسوا ‪ ،‬گمرا ھ‪ ،‬اند ھا ‪ ،‬ب ھرا اور ذلیل کیا ھے ۔اس ک ے خلف مذا ھب اربع ہ میں‬
‫س ے اس ک ے دور ک ے علماء اٹ ہ ک ھڑ ے ھوئ ے اور اکثر ن ے اس کو فاسق اور کافر قرار دیا ھے ۔‬
‫علماء ن ے ک ھا ھے ک ہ ابن تیمی ہ ن ے صحاب ہ کرام رضی الله عن ھم کو کافر قرار دین ے میں‬
‫خوارج ک ے مذ ھب کا اتباع کیا ھے ۔‬
‫اور ائم ہ حفاظ ن ے ک ھا ھے ک ہ ابن تیمی ہ خوارج میں س ے ھے ‪،‬ج ھوٹا ھے ‪ ،‬شریر ھے ‪ ،‬افترا پر‬
‫داز ھے ۔”فضل الذا کرین ‪،،‬میں لفظ ب ہ لفظ مو جود ھے ۔‬
‫اور ابو حامد مرزوق شامی ن ے اپنی کتاب ۔” التوسل بالّنبی وبا لصالحین ‪،،‬مطبوع ہ تر کی ہ‬
‫‪:‬طبع آفسٹ ‪ ۱۹ ۸۴‬ءء ک ے ص ‪ ۴‬پر لک ھا ھے‬
‫ایک بار ابن تیمی ہ ن ے دمشق ک ے ممبر پر جان ے ک ے بعد ک ھا ‪ ” :‬خدا وند عالم اسی طرح ”‬
‫عرش س ے اتر تا ھے جیس ے میں ممبر س ے اتر ر ھا ھوں اور ایک زین ہ نیچ ے اتر کر دک ھایا ھے ‪،‬‬
‫‪ ،‬اس ک ے بعد ابو حامد ن ے لک ھا ھے ک ہ اس واقع ہ کو دیک ھن ے والوں میں فقی ہ سیاح ابن‬
‫بطوط ہ مغری ب ھی ھیں اور ” التوسل بالّنبی وبالصالحین ‪،،‬ک ے ص ‪ ۶‬پر ابن تیمی ہ س ے نقل‬
‫کیا ھے ک ہ ابن تیمی ہ ن ے لک ھا ھے ک ھ” خدا حق تعال ٰی عرش ک ے اوپر ھے ‪ ،،‬اور اسی کتاب ک ے‬
‫‪۱۳‬ہ مطبع عیس ٰی حلبی ‪،‬‬
‫ص ‪ ۲۱۶‬پر کتاب ” دفع شب ہ من شب ّ ہ وتمّرد ‪،،‬طبع مصر ‪ ۵۰‬ء‬
‫تصنیف ابو بکر حصنی دمشقی متوفی ‪ ۸۲۹‬ء س ے نقل کر ت ے ھوئ ے لک ھا ھے ک ہ مصنف‬
‫مذکور ن ے ابن تیمی ہ ک ے بار ے میں ک ھا ھے ‪ ”:‬میں ن ے اس خبیث )ابن تیمی ہ ( ک ے کلم کو‬
‫دیک ھا جس ک ے دل میں انحراف کا مرض ھے جو فتن ہ پیدا کر ن ے ک ے لئ ے متشاب ہ آیات و‬
‫احادیث کا اتباع کر تا ھے اور عوام و غیر عوام میں س ے ان لوگوں ن ے اس کی پیروی کی‬
‫جس ک ے ھلک کر ن ے کا خدا ن ے اراد ہ کیا ت ھا ‪ ،‬میں ن ے اس میں ایسی باتیں پائیں جن کو ادا‬
‫کر ن ے کی مج ھ میں قدرت ن ھیں ھے اور ن ہ میری انگلیوں اورقلم میں ان ھیں تحریر کر ن ے‬
‫کی جراٴت ھے کیو نک ہ اس ن ے پر وردگار عالم کی اس بات پر تکذیب کی ھے ک ہ اس ن ے‬
‫کتاب مبین میں اپن ے کو منز ہ قرار دیا ھے ۔اسی طرح اس ک ے بر گزید ہ اور منتخب افراد‬
‫خلفاء راشدین اور ان ک ے صالح پیروکاروں کی تو ھین اور عیب جوئی کی ھے ل ھذا میں ن ے‬
‫ان کا ذکر کرنا مناسب ن ہ جانا اور صرف ان باتوں کو ذکر کیا جن ھیں ائم ہ متقین ن ے ذکر‬
‫کیا ت ھا اور جن پر ان کا اتفاق ھے و ہ ی ہ کی ابن تیمی ہ بد عتی اور دین س ے خارج ھے ۔‬
‫حافظ ابن حجر ن ے ” الفتاوی الحدیثی ہ ‪ ،،‬ص ‪ ۸۶‬پر لک ھا ھے ک ہ ” ابن تیمی ہ ایسا بند ہ ھے‬
‫جس ے خدا ن ے رسوا ‪ ،‬گمرا ہ ‪ ،‬اند ھا ‪ ،‬ب ھر ہ ‪ ،‬اور ذلیل بنا دیا ھے اور اسی بات کی تصریح ان‬
‫اماموں ن ے ب ھی کی ھے جن ھوں ن ے اس ک ے فاسد ھون ے اور اس کی باتوں کو ج ھوٹ ھون ے کا‬
‫بیان کیا ھے اور جو شخص اس ے جاننا چا ھتا ھو و ہ امام مجت ھد ابوالحسن سبکی جن کی‬
‫‪،‬امامت ‪ ،‬جللت ‪ ،‬شان اور مرتب ہ اجت ھاد تک پ ھنچن ے پر اتفاق ھے ان ک ے اور ان ک ے فرزند‬
‫تاج اور شیخ امام عّز بن جماع ہ اور شافعی ہ ‪ ،‬مالکی ہ ‪ ،‬حنفی ہ ‪ ،‬میں س ے ان ک ے ھم عصر‬
‫علماء ک ے کلم کو مل حظ ہ کریں ‪ ،‬ابن تیمی ہ ن ے صرف متاخرین صوفی ہ ک ے اوپر اعتراض‬
‫کرن ے پر اکتفاء ن ھیں کی ھے بلک ہ عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب رضی الله عن ھما‬

‫‪ ،،‬جیس ے حضرات پر ب ھی اعتراض کیا ھے۔‬
‫خلص ہ ی ہ ک ہ اس ک ے کلم کی کوئی قدرو قیمت ن ھیں ھے اور چا ھئ ے ک ہ اس ک ے بار ے میں ی ہ‬
‫عقید ہ رک ھا جائ ے ک ہ و ہ بد عتی گمرا ہ ‪،‬گمرا ہ کن ‪ ،‬جا ھل اور غلو کر ن ے وال ھے ‪ ،‬خدا اس‬
‫ک ے سات ھ اپن ے عدل س ے معامل ہ کر ے اور ھمیں اس ک ے طریق ہ ‪ ،‬عقید ہ ‪ ،‬اور عمل س ے‬
‫محفوظ رک ھے ۔ آمین ۔‬
‫کلم ابن حجر تمام ھوا اس ے ھم ن ے تط ھیر الفواد من دنس ال عتقاد ص ‪ ۹‬طبع مصر ‪۱۳۱۸‬‬
‫ء ہ تصنیف شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی س ے نقل کیا ھے۔‬
‫اس ک ے بعد ک ھا ک ہ و ہ خدا ک ے لئ ے سمت کا قائل ھے جس کا لزمی نتیج ہ ی ہ ھے ک ہ و ہ خدا ک ے‬
‫لئ ے جسمیت ‪ ،‬محاذات ‪،‬اور استقرار کا قائل ھے ۔‬
‫کتاب ”التوسل با لّنبی وبا لصالحین ‪ ،،‬میں ابن تیمی ہ پر اور ب ھی ب ھت س ے طعن ھیں جن‬
‫کو چند عناوین ک ے تحت ذکر کیا ھے ‪ ،‬جو حسب ذیل ھیں ۔‬
‫عّلم ہ ش ھاب الدین احمد بن یحی ٰی حلبی کی ج ھت ک ے بار ے میں ابن تیمی ہ پر رد ۔ ‪۰‬‬
‫ابن تیمی ہ ک ے اس زعم کا ابطال ک ہ خدا حق تعال ٰی عرش ک ے اوپر ھے ۔ ‪۰‬‬
‫عقید ہ ابن تیمی ہ جس ک ے سبب اس ن ے جماعت مسلمین س ے مخالفت کی ھے اور ان ھیں ‪۰‬‬
‫برا ک ھا ھے جس ے قر آن میں طعن کر ن ے وال ے او باش ملحدین س ے حاصل کیا ھے ۔‬
‫ابن تیمی ہ کی تمام علماء اسلم س ے مخالفت ۔ ‪۰‬‬
‫ابن تیمی ہ ک ے فتوٴوں ک ے نمو ن ے‬
‫عالم کبیر شیخ محمد بخیت حنفی عالم جامع ہ ا ز ھرن ے اپنی کتاب ”تط ھر الفواد من دنس‬
‫ال عتقاد ‪،،‬طبع مصر مطبو ع ہ ‪۱۳۱۸‬ئک ے ص ‪ ۱۲‬پر اس شخص ک ے کچ ہ فتوؤں کا ذکر کیا‬
‫ھے جن میں س ے بعض نمو ن ے ھم ی ھاں پر پیش کر ر ھے ھیں تا ک ہ ایک غیر جانبدارقاری کو‬
‫اس ک ے انحراف ‪ ،‬فاسد عقید ے اور منحرف فتوؤں میں علماء اسلم س ے اس کی مخالفت‬
‫کا زیا د ہ س ے زیا د ہ علم ھو سک ے ۔‬
‫“اگر کو ئی شخص جان بو ج ہ کر نماز تر ک کر د ے تو اس کی قضا وا جب ن ھیں ھے۔ ”‬
‫حیض والی عورت ک ے لئ ے خان ہ ء کعب ہ کا طواف کرنا جائز ھے اور اس پر کوئی کفار ہ ”‬
‫“ن ھیں ھے۔‬
‫تین طلق ایک طلق کی طرف پلٹایا جائ ے گا“ اور اس بات کا دعو ٰی کر ن ے س ے پ ھل ے ”‬
‫خود اسی ن ے نقل کیا ھے ک ہ اجماع مسلمین اس ک ے بر خلف ھے ۔‬
‫جس اونٹ ک ے پیر کی موٹی والی نسیں کاٹ دی گئی ھوں و ہ کاٹن ے وال ے ک ے لئ ے حلل ”‬
‫ھے اور و ہ جب تاجروں س ے ل ے لیا جائ ے تو زک ٰوة ک ے عوض کافی ھے اگر چ ہ زک ٰوة ک ے نام‬
‫‪،،‬س ے ن ہ لیا گیا ھو ۔‬
‫“ب ھن ے والی چیزوں میں اگر جاندار مثل چو ھا مر جائ ے تو ی ہ چیزیں نجس ن ھیں ھو تیں‬
‫جنب کو چا ھئ ے ک ہ حالت جنا بت میں نافل ہ شب پڑ ھے اور تا خیر ن ہ کر ے ک ہ فجر س ے پ ھل ے‬
‫“غسل کر ک ے پڑ ھے گا اگر چ ہ اپن ے ھی ش ھر میں ھو ۔‬
‫وقف کرن ے وال ے کی شرط کا کوئی اعتبار ن ھیں ھے بلک ہ اگر اس ن ے شا فعی ہ پر وقف کیا ”‬
‫ھے تو حنفی ہ پر صرف کیا جائ ے گا اور بر عکس ‪،‬اور قاضیوں پر وقف کیا ھے تو صو فی ہ پر‬
‫‪،،‬صرف کیا جائ ے گا ۔‬
‫اسی طرح عقائد اور اصول دین ک ے مسائل میں ب ھی انحراف کا مر تکب ھوا ھے۔‬
‫خدا وند عالم محل حوا دث ھے“تعال ٰی عن ذالک علوا کبیرا ْ‬
‫خدا مرکب ھے اس کی ذات ویس ے ھی محتاج ھے جیس ے کل اپن ے جزء کا محتاج ھوتا ھے‬
‫ذال ِ َ‬
‫ن َ‬
‫ک‬
‫عا ل ٰی َ‬
‫”‪،،‬ت َ َ‬
‫ع ْ‬
‫خدا جسم رک ھتا ھے‪،‬و ہ خاص سمت میں ھے ایک جگ ہ س ے دوسری جگ ہ منتقل ھوتا ھے ‪،‬و ہ‬
‫ٹ ھیک عرش ک ے برابر ھے ن ہ چ ھوٹا ن ہ بڑا“)خدا وندعالم اس قبح وبد ترین افترا ء اور‬
‫صریحی کفر س ے ک ھیں بال تر ھے ۔خدا اس ک ے پیروٴوں کو رسوا کر ے اور اس ک ے‬
‫) معتقدین کا شیراز ہ منتشر کر ے‬
‫“ج ھنم فنا ھوجائ ے گی ‪،‬انبیاء معصوم ن ھیں ھیں ۔‬
‫رسول الله صّلی الله علی ہ وآل ہ وسّلم کی کوئی وقعت ن ھیں ھے ۔ان س ے توسل ن ہ کیا‬
‫“جائ ے۔‬
‫پیغمبر اسلم کی زیا رت ک ے لئ ے سفر کرنا معصیت ھے اس سفر میں نمازقصر ن ھیں‬
‫“ھوگی ۔‬

Sign up to vote on this title
UsefulNot useful