‫شیخ سید امام‬

‫کے‬
‫متعلق چند‬
‫کلمات‬
‫عبدالمنعم مصطفی ٰ حلیم ہ‬
‫ابوبصیر الطرطوسی‬

‫منحرف شیخ سید‬
‫امام‬

‫والصل والسلم علی من ل نبی بعد ہ وبعد‪:‬‬
‫ۃ‬
‫الحمد ّللٰہ‬
‫سید امام ج و عبدالقاد ر ب ن عبدالعزیزاو ر ڈاکٹ ر فضل‬
‫ک ے نام س ے مش ہور ہیں ان ک ے چند مقالت اورکلمات‬
‫ک ے متعلق ب ہ ت س ے سوالت پیدا ہوگئ ے ہیں خاص طور‬
‫پر جب س ے طاغوتی حکام اور ان ک ے فاسد نظام ک ے‬
‫مذموم مقاصد ومفادات کی خاطر ان ک ےے مذکور ہ‬
‫مقالت پر ظلم ڈھاتےے ہوئےے بڑےے پیمانےے پر سیکولر ‪،‬‬
‫ظالمان ہ اور منافقان ہ پروپیگن ڈ ہ کیاگیا اور ابتداءاسلمی‬
‫ج ہاد اور مجا ہدین پر لعن وتشنیع س ے کی گئی ۔‬
‫شیخ سید امام ک ے خطابات س ے متعلق کچ ھ ک ہن ے س ے‬
‫قبل میں تشکیکانہے ماحول جس کےے متعلق مجھےے علم‬
‫ہوا ہ ے ک ہ بار ے میں کچ ھ اشار ے دینا چا ہوں گا بعض لوگ‬
‫ک ہت ے ہیں اگرچ ہ زبان قال س ے ن ہ س ہی زبان حال س ے ہی‬
‫س ہ ی کہے شی خ سی د اما م ک ا تعاق ب ن ہی ں کیاجاسکت ا و ہ‬
‫استاذ الساتذ ہ ہیں شیخ المجا ہدین ہیں جب و ہ بات ک ہیں‬
‫تو دیگر شیوخ کوبلتردد وتوق ف ا ن ک ی ہ ر با ت مان‬
‫لینی چا ہیئ ے اور اس کی مکمل اتباع کرنی چا ہیئ ے ان‬
‫سےے زیادہے درست بات اور کسی کی ن ہی ں ہوسکتی و ہ‬
‫جیل جان ے س ے پ ہل ے ب ھ ی امام ت ھ ے بعد ب ھ ی امام ہیں ان‬
‫مقالت سےے قبل ب ھی امام تھےے بعد ب ھی امام ‪،‬جیل‬
‫جان ے س ے قبل ہر مرحل ہ افراط (یعنی سخت موقف)اور‬
‫مرحل ہ تفریط (یعنی ڈھیل موقف)میں ب ھی امام ہیں ان‬
‫‪1‬‬

‫کی ہر مثبت ومنفی بات کی اتباع کی جانی چا ہیئ ے اور‬
‫کسی کویہے حق ن ہیں کہے وہے ان پر انکار کرےے یا ان ہیں‬
‫غلطی پر سمج ھ ے یا ان کی مخالفت کر ے‪............‬آخر‬
‫کیوں؟‬
‫میں ک ہتا ہوں ‪:‬ی ہ عقل ونقل ہ ر اعتبار س ے مذموم غلو‬
‫ہ ے ہمارا یعنی ا ہ ل السن ۃ والجماع ۃ کا متفق ہ عقید ہ ہ ے ک ہ‬
‫ہر ایک خوا ہ اس کی بزرگی ورعلمیت کعب ۃ الل ہ س ے بڑ ھ‬
‫کر ہ ی ہ و غلطی ب ھ ی کرسکتا ہ ے اور درست ب ھ ی کرتا‬
‫ہ ے اس کی بات لی ب ھ ی جاسکتی ہ ے اور ردّ ب ھ ی کی‬
‫جاسکتی ہ ے ج ہاں و ہ درست ہ و اس ے درست ک ہاجائ ے گا‬
‫اورج ہاں و ہ غلط ہوتو غلط ماسوا نبی ک ے ان کی ہر‬
‫بات اور ہر سنت واجب التباع ہےے ظا ھرا ً اور باطناً‬
‫دونوں طرح ۔ی ہ تو روافض شیع ہ کا وطیر ہ ہ ے ک ہ و ہ اپن ے‬
‫بزرگوں کی ہر جائز و ناجائز بات کو حق مانت ے ہیں اور‬
‫ان درویشوں اور ان صوفیاءکاطرز عمل ہ ے جو دنیا کو‬
‫اپنی شیخ کی نگا ہوں س ے دیک ھت ے ہیں من ہ ج وعقید ہ ا ہل‬
‫السن ۃ والجماع ۃ اس طرز فکر عمل س ے منز ہ وبری ہے ۔‬
‫ّ‬
‫وللٰہ الحمد ۔‬
‫ایسےے ہی ہم ظالم سیکولر حضرات سےے اور ان ک ے‬
‫پیچ ھ ے چ ھپ ے منافقین س ے ب ھ ی ک ہیں گ ے ک ہ تم ہیں ن ہ تو‬
‫زیاد ہ خوش ہون ے کی ضرورت ہ ے ن ہ ہ ی کم ک ہ شیخ ن ے‬
‫اس اس طرح ک ہ ا اور مقال ے لک ھ ے کیونک ہ اس دین کا‬
‫رب اس کی حفاظت وحمایت شیخ ک ےے ذریع ےے ب ھی‬
‫کرسکتا ہے اور ان ک ے بغیر ب ھی ی ہ تو الل ہ کی سنت ہے ک ہ‬
‫وہے کوئی نہے کوئی پودا لگادیتا ہےے جسےے پ ھر وہے اپنی‬
‫اطاعت وتوحید او ر اپن ی راہے می ں ج ہاد او ر اپنےے ظالم‬
‫طاغوتی دشمنوں ک ےے خلف تصادم میں استعمال‬
‫کرتا ہے‪........‬تاقیام ت ایس ا ہ ی رہےے گا ۔یہے جا ن لینےے ک ے‬
‫بعد میں ک ہوں گا ک ہے شیخ سید امام ک ےے کلمات‬
‫اورمقالوںک ے تین پ ہلو ہیں ‪:‬‬
‫مثبت ‪:‬اس پر ان کا شکری ہ ادا کرنا چا ہیئ ے ۔‬
‫‪1‬‬
‫منفی‪:‬اس پر ان کا ردّ کرناچا ہیئ ے ۔‬
‫‪2‬‬
‫متشاب ہ‪:‬اس پر ان س ے مناقش ہ کرناچا ہیئ ے۔‬
‫‪3‬‬

‫‪ 1‬مثبت پ ہلو‬
‫امن پسند افراد کی حرمتوں کو شریعت محفوظ قرارد‬
‫یتی ہےے خاص طور پر جب ک ہے کسی ب ھی قسم کا‬
‫عسکری عمل شرع کیاجائےے اور ان کی حرمتوں کو‬
‫‪2‬‬

‫پامال کرنےے کی اجازت ن ہیں دیتی نیز معا ہدوں اور‬
‫حلفوں اور غداری ن ہ ے کرن ے ے کا اعتبار کرتی نیز‬
‫مسلمانوں اور کفار ممالک میں ویز ہ اور پاسپورٹ ک ے‬
‫سات ھ سیاح اورطالب علم یا تاجر وغیر ہ کی حیثیت س ے‬
‫سفر کرتےے ہیں وہے اس معاشرےے میں ایک معا ہدےے ک ے‬
‫تحت امان میں ہوتےے ہیں ان پر ان کےے ا ہل وعیال اور‬
‫اموال وغیرپر حمل ہ کرنا جائز ن ہیں ایس ے ہی غیر مسلم‬
‫کفار جن کا تعلق جنگ وقتال وغیر ہ س ے ن ہیں ہوتا اور‬
‫وہے ب ھ ی ویزہے او ر پاسپور ٹ کےے ساتھے مسلما ن مل ک کا‬
‫سفر کرت ے ہیں و ہ مسلمانوں کی امان میں ہوت ے ہیں ان‬
‫ک ے خلف کاروائی کرنی جائز ن ہیں ایس ے قوم اورنسل‬
‫اور رنگت وغیر ہ کی بناءپر کسی کی حرمت کو پامال‬
‫کرنا جائز ن ہیں ان امور کی رعایت کرت ے ہوئ ے ی ہ پ ہلواور‬
‫دیگر دو پ ہلوو¿ں کی بنسبت واضح اور صریح ہےے ۔‬
‫محترم شیخ کو ب ھی فضیلت وبرتری حاصل ر ہی ہے‬
‫جیسا کہے ہم اپنی کتاب ”الستحلل“ودیگر کتب میں‬
‫بار ہ ا اشار ہ کرچک ے ہیں اس بات کو دس سال س ے زیاد ہ‬
‫کا عرص ہ گزرچکا ہے کچ ھ لوگ ان ک ے کلمات اور مقالوں‬
‫کو ہلکا کرک ے پیش کرت ے ہیں جن میں س ے بعض کوالل ہ‬
‫ن ے ہدایت ب ھی د ے دی ہے ۔ ّ‬
‫وللٰہ الحمد‬
‫حق کی طرف رجوع کرنا واجب ہ ے اگرچ ہ تاخیرس ے ہو‬
‫چنانچ ہ ہ م شیخ سید امام س ے امید کرت ے ہیں ک ہ و ہ اپن ے‬
‫خطابات اورمقالوں کو لوگوں ک ے سامن ے و ہ ی وضاحت‬
‫کردیں گ ے جو ہ م ذکر کرآئ ے ہیں کیونک ہ اب و ہ آزاد ہیں‬
‫جیل س ے با ہ ر ہیں نیز و ہ باتیں ان ہوں ن ے جیل میں اس‬
‫وقت کی ت ھیں جب ان ہیں جیل میں بدترین تشدد کا‬
‫نشانہے بنای ا ا س اعتبا ر سےے ا ن کلما ت ک ی کچھے حیثیت‬
‫ن ہیں ر ہ جاتی بلک ہ ان کی ب ھ ی و ہ ی حالت ہوئی جو اس‬
‫وقت ان ک ے قائل کی ت ھ ی ۔میر ے علم اور اطلع ک ے‬
‫مطابق شیخ نےے جیل جانےے س ے قبل ایسی کوئی بات‬
‫ن ہیں ک ہ ی جو مذکور ہ امور ک ے خلف ہ و ی ہ ممکن ہ ے ک ہ‬
‫ان امور س ے متعلق اس قدر واضح اور صریح الفاظ ن ہ‬
‫استعمال کئ ےے ہوں جو اپن ےے بعد ک ےے مقالوں میں‬
‫استعمال کئ ے اسی لئ ے ان ہیں لیکچر ہی ک ہا جاتا ہے لیکن‬
‫کچ ھ ظالم لوگ ان ہیں اپن ے موقف س ے رجوع کانام دیت ے‬
‫ہیں گویا ک ہ شیخ اس س ے قبل اس ک ے برعکس ک ہت ے ت ھے‬
‫ان دونوں مثبت اورمنفی پ ہلوؤں میں میرےے نزدیک‬
‫‪3‬‬

‫مثبت پ ہلو معتبر ہ ے کیونک ہ اس میں وضاحت وصراحت‬
‫اور نصیحت ومصالحت اور ان لوگوں ک ے سامن ے معذرت‬
‫کا پ ہلو جو ایک عرص ے تک ان کی کوتا ہ بیانی س ے اذیت‬
‫میں مبتل ر ہے تاآنک ہ ی ہ وضاحت وصراحت آگئی ۔‬

‫‪ 2‬منفی پ ہلو‬

‫جس ے ہ م شیخ کا طاغوتی‪،‬ظالم ‪،‬کافر اور مرتد حکام‬
‫س ے متعلق سابق ہ موقف س ے رجوع ک ہ ہ سکت ے ہیں اپن ے‬
‫مقالوں کی نویں قسط تک ان ہوں ن ےے کب ھی ب ھی‬
‫طاغوتی یاکافر حاکم کو صراحت کےے ساتھے مسلمان‬
‫ن ہیں ک ہ ا ایس ے ہ ی ان کی تکفیر اور کفر کی ان جرائم‬
‫ک ے باوجود و ہ خود اپن ے سات ھ دین ک ے سات ھ او رامت ک ے‬
‫سات ھ کرت ے ہیں صراحت ن ہیں کی بلک ہ ایس ے اشار ے دیئ ے‬
‫جن س ے ان ک ے مسلمان ہون ے کا و ہ م ہوتا ہ ے اور بندوں‬
‫پر ان ک ے کفر اور جرائم کی حقیقت واضح ن ہیں ہوتی‬
‫نیز ان ک ے کافر ہون ے کی طرف اشار ہ دیئ ے بغیر ان ہیں‬
‫سلطان اور سلطین کا نام دیئےے ہیں جیساکہے عنوان‬
‫”سلطان کا کفر اور اس ک ے خلف خروج“س ے متعلق‬
‫کلما ت می ں ان ہو ں نےے ایس ا کی ا ہےے ۔تو ” سلطا ن “ایک‬
‫شرعی اصطلح ہ ے جس کا انطباق صرف ان حکام پر‬
‫ہوت ا ہےے جو الل ہ کےے نازل کرد ہ نظم ک ے ذریع ے حکومت‬
‫کرتےے ہوں اگرچ ہ وہے فاسق وفاجر او ر ظالم ہوں جبک ہ‬
‫طاغوت جو الل ہ اور اس ک ے رسول اور ا ہ ل ایمان ک ے‬
‫خلف مصروف جنگ ہ و اور خودکو الل ہ کاشریک بنالیتا‬
‫ہ و اس کا شرعی اور لغوی اعتبار س ے صرف ایک ہی‬
‫نام ہ ے یعنی طاغوت شیخ ن ے اسی چیز س ے احتراز کیا‬
‫اور ی ہ ایسا فریب اور حق پوشی اور کتمان علم ہ ے جو‬
‫قبل ازیں شیخ س ے متعلق معروف ن ہیں ایس ے ہ ی ایک‬
‫حدیث جس میں کافر ‪،‬طاغوتی اور مرتد حکام جن کا‬
‫کفر واضح ہ و ک ے خلف خروج ک ے واجب ہون ے کا تذکر ہ‬
‫ہےے مثلً”ال ان ترواکفرا بواحا عندکم من ا ﷲے فی ہ‬
‫َ‬
‫بر ھان“یعنی‪(:‬امی ر ک ی اطاع ت واج ب ہےے )ا ِ ّل یہے کہے تم‬
‫اس میں کسی ایسےے واضح کفرکو دیکھے لوجس( ک ے‬
‫کفر ہون ے )پر تم ہار ے پاس الل ہ کی جانب س ے کوئی دلیل‬
‫ہو“اس حدیث کو نقل کرن ے ک ے فورا ً بعد شیخ اس حکم‬
‫شرع ی سےے روکنےے لگتےے ہی ں او ر ا س ک ا انکا ر کردیت ے‬
‫ہیں اور پ ھر اس حکم ک ے مطابق فکر وعمل کو ناممکن‬
‫اور محال قرار دیت ے ہیں اور پ ھر ایسی ڈھیلی اور ہلکی‬
‫‪4‬‬

‫باتیں کرت ے ہیں جو اس س ے قبل ن ہیں کرت ے ت ھ ے ک ہ ہم‬
‫عاجز ہیں کمزور ہیں لچار ہیں یعنی ان ہوں نےے اپن ے‬
‫استدلل کا محور عجز (یعنی ہماری طاقت وقوت س ے‬
‫با ہر ہونا)اور فق ہ العجز کو بنایا ہ ے اور اس کی بنیاد پر‬
‫ج ہاد کو معطل اور باطل قرار دیا ہ ے گویا ک ہ عجز ی ہ‬
‫ایسی صفت بن چکی ہ ے جو امت س ے کسی ب ھی حالت‬
‫میں جدا ن ہیں ہوتی اس کےے بعد ان حکام کےے خلف‬
‫خروج وبغاوت کےے نتیجےے میں پیدا ہونےے والےے مفاسد‬
‫ونقصانات کافی طویل بحث کی ہے اور ی ہ نتیج ہ نکال ہے‬
‫ک ہ ان حکام اور طاغوتوں کو ان ک ے نظام باطل سمیت‬
‫قبول کرنا ان ک ے خلف خروج کی بنسبت عین مصلحت‬
‫ہےے اس ک ے بعد ان حکام اورطواغیت ک ے خل ف خروج‬
‫وبغاوت کو ان مسلم حکام ک ے خلف خروج ک ے مترادف‬
‫قرار دیا ہےے جو فقط ظالم ہوں لیکن کفر بواح ک ے‬
‫مرتکب ن ہ ہوں جبک ہ عصر حاضر ک ے مرتد اور طاغوتی‬
‫حکام اور تاریخ کےے مسلم اور ظالم حکمرانوں میں‬
‫واضح فرق ہے ی ہ تمام باتیں اور نظریات شیخ ک ے سابق ہ‬
‫نظریات واقوال س ے یکسر مختلف ہیں اس س ے زیاد ہ‬
‫ا ہم ی ہ ہ ے ک ہ ی ہ تمام نظریات نقل صحیح اور عقل سلیم‬
‫ک ے ب ھ ی مخالف ہیں اسی لئ ے ہ م ن ے ان ک ے ان مقالوں‬
‫کو منفی پ ہلو شمار کیا ہےے اور اسےے ان کےے سابق ہ‬
‫نظریات س ے رجوع قرار دیا ہ ے علو ہ ازیں شیخ ن ے ج ہاد‬
‫او ر مجا ہ د جماعتو ں (جو کہے امت کےے لئےے حقیق ی خیر‬
‫ہیں)اور عملی ج ہاد ک ے ے وجوب کو قائم کرک ے‬
‫کافر‪،‬مرتد‪،‬طاغوتی اور ظالم حکام کو معزول کرن ے کا‬
‫متبادل ب ھ ی تجویز کیا ہ ے و ہ ی ہ ک ہ تمام ج ہادی تحریکیں‬
‫(جو کہے دراصل طائفہے منصورہے اور غالبہے کا ہی ایک‬
‫لزمی جزو ہیں جن کی نبی ن ے تعریف فرمائی ہ ے اور‬
‫جبک ہ الل ہ تعالی ٰ ان ہیں ج ہاد کی بدولت غلب ہ عطا فرمار ہا‬
‫ہے)تبلیغی جماعتوں میں ضم ہوجائیں تو تبلیغی‬
‫جماعتوں کو شیخ اور ان ک ے نئ ے نظریات ک ے متبعین‬
‫مبارک ہوں ہم قاری کی خدمت میں گزشت ہ س ے پیوست ہ‬
‫شیخ ک ے چند اقوال پیش کرر ہے ہیں فرمات ے ہیں ‪:‬‬
‫”گذشت ہ عشروں س ے اسلمی ممالک میں نظام شریعت‬
‫ک ے قیام ک ے پیش نظر حکام ک ے خلف بغاوت ک ے ب ہت‬
‫س ے واقعات سامن ے آئ ے ہیں جن کی وج ہ س ے ان ممالک‬
‫اور و ہاں موجود اسلمی تحریکوں کو اچ ھےے خاص ے‬
‫‪5‬‬

‫نقصانات اٹ ھان ےے پڑ ےے ہیں حالنک ہے جبک ہے موجود غیر‬
‫شرعی صورتحال ک ے مقابل ے ک ے لئ ے محض ج ہاد ہی واحد‬
‫شرعی حل ن ہیں ہے کچ ھ اور ب ھی شرعی حل ہیں جیس ے‬
‫دعوت ‪ ،‬ہجرت ‪،‬عزلت نشینی ‪،‬درگزر‪،‬عدم توج ہ ‪،‬صبر اور‬
‫ایمان کو مخفی رک ھنا کیونک ہ اکثر اسلمی ممالک میں‬
‫نفاذ شریعت ک ےےے لئ ےےے کوشاں اسلمی تحریکیں‬
‫کمزوراور ب ے بس ہیں جس ک ے ب ہترین شا ہ د ماضی ک ے‬
‫چند واقعات ہیں ی ہ تو انسان کی خود فریبی ہ ے ک ہ و ہ‬
‫خود کوکسی ایس ے عمل میں مشغول رک ھے جس کی و ہ‬
‫استطاعت ن ہیں رک ھتا ہم مسلم ممالک میں نفاذ‬
‫شریعت کےے لئےے ج ہاد کےے نام پر و ہاں کےے حکام س ے‬
‫تصادم کوجائز ن ہیں سمج ھت ے عملی طور پر ایسا کچ ھ‬
‫کرنا دین س ہ ل ک ے پسندید ہ امور میں س ے ن ہیں ل ہٰذا ی ہ‬
‫واجب ن ہیں البت ہ دعوت و تبلیغ واجب ہےے ‪،‬شریعت ک ے‬
‫مطابق حکومت ن ہ کرنا کفر ہ و یا دون کفر یا نافرمانی‬
‫ہ م ب ہرصورت اسلمی ممالک میں نفاذ شریعت ک ے لئ ے‬
‫ج ہاد ک ے نام پر و ہاں ک ے حکام س ے تصادم کو جائز ن ہیں‬
‫سمج ھتےے ل ہٰذامصر میں یا دیگر اسلمی ممالک میں‬
‫ایسی کوئی ب ھی کوشش سابقہے وجو ہات کی بناءپر‬
‫واجب ن ہیں ہ ے خوا ہ و ہ ج ہاد ک ے نام پر کی جائ ے یا بزور‬
‫قوت منکرات ک ے ازال ے ک ے نام پر ایسا کچ ھ ب ھ ی واجب‬
‫تو کجا جائز ب ھ ی ن ہیں اور حکومتی قوتوں(فوج‪،‬پولیس‬
‫اور سیکیورٹی فورسز وغیر ہ )کوکسی طرح کی تکلیف‬
‫دیناجائز ن ہیں کیونک ہ اس میں ب ہ ت س ے مفاسد ہیں ہم‬
‫تمام مسلمانوں کو ی ہی نصیحت کرت ے ہیں کرت ے ہیں اور‬
‫دعوتی عمل اور ان ہیں اس طور پر ان کےے دین س ے‬
‫قریب کرن ے کو جائز سمج ھت ے ہیں جس س ے نقصانات کا‬
‫سامنا کم س ے کم کرنا پڑ ے بلک ہ ی ہ اسلم اور ا ہل اسلم‬
‫دونوں ک ے لئ ے نفع بخش ہے“ ۔‬
‫درحقیقت ی ہ سب امت کو ب ے حس اور معذور کردین ے‬
‫اور طاغوت اور اس ک ے نظام کو مضبوط کرنا ہوا خوا ہ‬
‫شیخ یہے جانتےے ہوں یا اس سےے نابلد ہی ہوں ۔اب ہم‬
‫مذکور ہ مغالطو ں اور شب ہات کاچند طور س ے رد ّ کرت ے‬
‫ہیں ‪:‬‬
‫نص اور اجماع س ے ثابت ہ ے ک ہ مسلم ممالک‬
‫‪1‬‬
‫ک ےے ظالم‪،‬مرتد اور طاغوتی حکام ک ےے خلف خروج‬
‫کرناواجب ہ ے اور اس ک ے وجوب کو محض ظن وتخمین‬
‫‪6‬‬

‫کیونک ہ ےےےے ی ہ‬
‫جاسکتا‬
‫کیا‬
‫ن ہیں‬
‫س ے ےےےے ردّ‬
‫بزدلی‪ ،‬ڈر‪،‬کمزوری‪،‬دنیاس ےےے محبت اورنفس پرستی‬
‫کانتیج ہ ہے ۔‬
‫اگر ی ہ مان ب ھ ی لیا جائ ے ک ہ ج ہاد ک ے ذریع ے ان‬
‫‪2‬‬
‫حکام کومعزول کرنےے اور ان کےے خلف خروج کرن ے‬
‫(جوکہے شرعی واجب ہے)سےے عاجز ہیں اور اس کی‬
‫ول ً اس عجز وعدم‬
‫استطاعت ن ہیں رک ھت ے ے تو ا ّ‬
‫استطاعت کو دورکرن ا چا ہیئےے کیونکہے مستقل عجز کو‬
‫قبول ن ہیں کیا جاسکتا ک ہ ہم امت اسلمی ہ کو ایسی ب ھیڑ‬
‫بکر ی بنادی ں ج و طاغوت ی حکا م کےے مذب ح خانو ں میں‬
‫د ھڑا د ھڑ ذبح کی جائیں اوران ہیں اس بات کی ب ھی‬
‫اجازت ن ہ ہ و ک ہ و ہ حکام ک ے اس عمل کو جرم تک ک ہہ‬
‫سکیں ۔چنانچ ہ اگر کسی ب ھ ی ج ہادی مرحل ے میں عدم‬
‫استطاعت یا عجز کا سامنا ہ و تو پ ہل ے اس عجز وعدم‬
‫استطاعت کو دور کرنا منصوص اور واجب ہے ۔‬
‫شیخ السلم امام ابن تیمی ہ فرمات ے ہیں ‪:‬‬
‫”ج ہاد ک ے لئ ے جبک ہ و ہ عجز وعدم استطاعت کا شکار ہو‬
‫قو ت تیارکرنا اور گ ھوڑےے باند ھنا واجب ہےے کیونکہے جو‬
‫واجب ک ے حصول وتکمیل کا ذریع ہ ہو و ہ ب ھی واجب ہوتا‬
‫ہے ۔“(فتاوی ‪)259/8:‬‬
‫عدم استطاعت کب ھ ی ب ھی شرعی تکالیف کو ساقط‬
‫ن ہیں کرسکی جبک ہ اس عجز اور عدم استطاعت کو دور‬
‫کرن ے کی طاقت ہو اور عجز کو دور کئ ے بغیر عمل کرنا‬
‫ممکن ن ہ ہو الل ہ تعالی ٰ ن ے فرمایا‪:‬‬
‫‪(    ‬التغابن‪)16:‬‬
‫‪  ‬‬
‫‪‬‬
‫تم الل ہ س ے ڈرو جس قدر طاقت رک ھت ے ہو ۔‬
‫نیز فرمایا‪:‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫(النفال‪)60:‬‬
‫ان (کفار )ک ے خلف قوت تیار کرو جس قدر استطاعت‬
‫رک ھو ۔‬
‫ان نصوص قرآن ی میں امت سےے مطالبہے ہےے کہے حسب‬
‫طاقت واستطاعت الل ہے س ےے ڈریں اور عجز و عدم‬
‫استطاعت کو دور کرن ے کی کوشش کریں اور فریض ہ‬
‫ج ہاد فی سبیل الل ہ کی ادائیگی ک ے لئ ے حسب طاقت‬
‫تیاری رک ھیں اورپستی وذلت اور ظلم کا مقابل ہ کریں‬
‫ن ہ ک ہ ی ہ ان ہیں گل ے س ے لگالیں اور ہات ھ پر ہات ھ رک ھ کر بیٹ ھ‬
‫‪7‬‬

‫‪‬‬

‫جائیں اور د ھرےے کےے د ھرےے ر ہیں ۔تو جو شخصیت امت‬
‫س ے ان کی کمزوری وعدم استطاعت اورلچارگی ک ے‬
‫حوال ے س ے خطاب کر ے اور عجز ک ے نام پر ان ک ے لئ ے‬
‫پستی کو جائز قرار د ےے جب ک ہے اس س ےے تو عدم‬
‫استطاع ت می ں اضافہے ہوگ ا کہے مر ض بڑ ھت ا چلجائےے گا‬
‫اور امت س ے عمل اور اعداد فی سبیل الل ہ اور بیداری‬
‫ونشا ط ک ی رو ح ہ ی فن ا ہوجائےے گ ی ایسےے ت و وہے کچ ھ‬
‫ب ھی ن ہیں کرپائےے گی تو وہے ایس ےطبیب کی طرح ہوا‬
‫جوبستر س ے چمٹ ے ہوئ ے مریض س ے ک ہتا ہوک ہ بستر پر‬
‫ہ ی پڑ ے ر ہودوا ءکی ضرورت ن ہیں تاک ہ تم ہاری بیماری‬
‫دور ن ہ ہو اور مستقل بیمار بن جاؤ ۔‬
‫اگرک ہیں کسی مرحل ےے یا کسی فریق میں‬
‫‪3‬‬
‫استطاعت ن ہیں ہے ک ہ و ہ ج ہاد وقتال میں حص ہ ل ے تو پ ھر‬
‫ج ہاد وقتال فی سبیل الل ہ کی ترغیب دینا واجب ہوجاتا‬
‫ہےے اورامت کو اللہے کےے دین‪،‬اسلمی ممالک ‪ ،‬ان ک ے‬
‫باشندوں ‪،‬اور دشمن اور قابض (خواہے وہے دشمن یا‬
‫قابض اصل ً کافر ہو یا مرتد اور زندیق ہون ے کی وج ہ س ے‬
‫کافر ہو)کےے حوالےے سےے اس کی ذمہے داریوں کامکمل‬
‫احساس دلنا واجب ہےے زبان وتحریر سےے اور حق کا‬
‫اعلن کرک ے ج ہاد کرنا واجب ہ ے اس میں خیر کثیر ہے‬
‫بشرطیکہے علماءاور داعیان حق اس کا التزام کریں‬
‫جیسا ک ہ الل ہ تعالی ٰ ن ے فرمایا‪:‬‬
‫‪‬‬

‫‪ ‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪ ‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪   ‬‬
‫‪ ‬‬

‫‪‬‬
‫‪ ‬‬
‫‪ ‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪ ‬‬

‫‪  ‬‬

‫(النساء‪)84:‬‬
‫آپ ا ہل ایمان کو قتال کی ترغیب دیں یقینا الل ہ‬
‫کافروں کی تکالیف روک دےے گا او ر اللہے سخت عذاب‬
‫اور عبرت بنادین ے وال ہے۔‬
‫نیز نبی ن ے فرمایا‪:‬‬
‫ان المومن یجا ھد بسیف ہ ولسان ہ(صحیح الجامع ‪)1934 :‬‬
‫مومن اپنی تلوار اور زبان ک ے ذریع ے ج ہاد کرتا ہے ۔‬
‫نیز فرمایا‪:‬‬
‫افضل الج ھاد کلم ۃ حق عند سلطان جائر(صحیح الجامع‪:‬‬
‫‪)1100‬‬
‫ظالم حاکم ک ے روبرو کلم ہ حق ک ہنا افضل ج ہاد ہے۔‬
‫‪8‬‬

‫یہے ہےے عدم استطاعت اور عجز کی صور ت میں اصل‬
‫شرعی متبادل ن ہ ک ہ فرار اور عزلت نشینی اختیار کرنا‬
‫یا تہہے خانوں میں داخل ہوجانا یا حق اور ایمان کو‬
‫چ ھپارک ھنا تاک ہ ظالم و مفسد خوب موج مستی کریں‬
‫مزید ظلم وفساد کریں اور سفین ہ اسلم کو بالکل ہی‬
‫غرق کردیں جیسا ک ہ شیخ ن ے تجویز دی ہے ۔‬
‫عجز وعدم استطاعت جو شرعی عذر بن‬
‫‪4‬‬
‫سکتی ہ و و ہ تو فرد میں ہوتی ہ ے یا کسی جماعت میں‬
‫اگر کسی ایسی جماعت میں ی ہ چیز ہوجس کی تعداد‬
‫روز بروز بڑ ھتی جار ہ ی ہ ے اور ایک آد ھ کروڑ ہ و اورتو‬
‫پ ھر ی ہ عجز وعدم استطاعت ان کی ایسی لزمی صفت‬
‫بن جائ ے جو ان س ے جدا ن ہ ہوسکتی ہو اور پ ھر اس ے اس‬
‫بناءپر معذور یا عاجز قرار د ے دیا جائ ے توی ہ نقل وعقل‬
‫ک ے خلف ہے کیونک ہ امت اسلمی ہ گمرا ہی پر اک ھٹی ن ہیں‬
‫ہوسکتی ایس ے ہی و ہ کسی ایس ے عجز وعدم استطاعت‬
‫پر یکجا ن ہیں ہوسکتی ہ ے جو اس ے ظالم اور طاغوت کو‬
‫طاغوت ک ہن ے س ے ب ھی باز رک ھے بایں طور ک ہ پوری امت‬
‫جس کی تعداد سواارب س ےے زائد ہوس ےے ی ہے مطالب ہ‬
‫کردیاجائ ےے ک ہے و ہے اس عجز وعدم استطاعت کو اپنا‬
‫لزمی خاصہے مان لےے اور ظلم وسربریت (حاشی ہ‪:‬عام‬
‫مہ‬
‫طور پر لفظ بربریت لک ھاجاتا ہ ے جو ک ہ ایک مسلم ا ّ‬
‫بربر کی فتوحات س ے گ ھبراکر صلیبیوں ن ے اختیار کیا‬
‫چنانچ ہے ہم ن ےے سربریت لک ھا ہےے سربی صلیبیوں ک ے‬
‫مظالم کی نسبت س ے)س ے لتعلق ہوجائ ے اس کی پروا ہ‬
‫ن ہ کر ے اور تہہے خانوں میں جاچ ھپ ے اپن ے ایمان کو چند‬
‫ظالم طاغوتوں ک ے خوف س ے چ ھپائ ے رک ھ ے ی ہ تو عقلً‬
‫وشرعا ً ہ ر طرح ناجائز وحرام ہ ے مثل ً مصر ک ے صرف‬
‫ایک طاغوت کی وج ہ س ے و ہاں ک ے ست ّر ملین س ے زائد‬
‫مسلمانوں س ے ی ہ مطالب ہ کریں ک ہ و ہ اپن ے گ ھروں میں‬
‫بیٹ ھ ے ر ہیں اور اپن ے ایمان کو چ ھپائ ے ر ہیں اور خود پر‬
‫عجز و ضعف اوربزدلی طاری کرلیں تف ہےے ایسی‬
‫ہولناک فکر پر جو عوام الناس س ے پ ہل ے خواص الناس‬
‫پر طاری ہوگئی ۔نبی ن ے ارشاد فرمایا‪:‬‬
‫اذا رایت امتی ت ھاب الظالم ان تقول ل ہ انت ظالم وفی‬
‫لفظ‪ :‬انک انت الظالم فقد تودع من ہم (مسند احمد)‬

‫‪9‬‬

‫ج ب ت و دیکھےے کہے میر ی ام ت ظال م سےے خوفزدہے ہےے ک ہ‬
‫اس ے ی ہ تک ن ہ ک ہے ک ہ توظالم ہے تو پ ھر ان ہیں عیش وآرام‬
‫ک ے لئ ے چ ھوڑ د ے ۔‬
‫الل ہ شیخ سید کو ہدایت د ے و ہ امت کو اسی درج ے پر‬
‫لنا چا ہت ے ہیں ک ہ اس ے عیش وآرام ک ے لئ ے چ ھوڑ دیاجائ ے‬
‫اور و ہ ظالم کو ظالم تک ن ہ ک ہ ے اوران ہیں اس پستی پر‬
‫جری کرر ہ ے ہیں اور اگر و ہ اس ک ے برعکس کچ ھ کرنا‬
‫چا ہے تو اس ے مجرم قرار دیت ے ہیں ۔نبی ن ے فرمایا‪:‬‬
‫والذی نفسی بید ہے لتامرن بالمعروف ولتن ھون عن‬
‫المنکر او لیوشکن ا ﷲ ان یبعث علیکم عقابا من عند ہ ثم‬
‫لتدع ہ فل یستجیب لکم(صحیح الجامع‪)7070:‬‬
‫تم ضرور بالضرور امر بالمعروف اورن ہی عن المنکر‬
‫کروگ ے وگرن ہ الل ہ ضرور بالضرور تم ہیں سزا د ے گا پ ھر‬
‫تم اس ے پکاروگ ے اور و ہ تم ہاری پکار قبول ن ہ کر ے گا ۔‬
‫شیخ نےے عجز وعدم استطاعت کےے لئےے جو دلئ ل دئی ے‬
‫(حاشی ہ‪:‬جن کامقصد امت ک ے ارادوں اور ان ک ے نفوس‬
‫کو مزید کمزور کرنا اور ان ک ے لئ ے طاغوت اور ظالم‬
‫ک ے ظلم و نخوت ک ے سامن ے سرج ھکان ے کو جائز قرار‬
‫دینا ہے)ان میں ایک دلیل بار بار پیش کرت ے ہیں عیسی ٰ‬
‫اور ان ک ے ا ہ ل ایمان رفقاءکا جب یاجوج ماجوج س ے‬
‫سابقہے پڑےے گ ا توعیسی ٰے ک و ا ن سےے قتا ل ک ا حک م ن ہ‬
‫ہوگابلک ہ ی ہ حکم ہوگا ک ہ و ہ ا ہ ل ایمان کو ل ے کر پ ہاڑ میں‬
‫چل ے جائیں کیونک ہ و ہ یاجوج ماجوج کا مقابل ہ کرن ے کی‬
‫سکت ن ہ رک ھت ے ہوں گ ے ۔جبک ہ ی ہ منفرد صورتحال ہے اور‬
‫صرف ایک ہی دفعہے ایسا ہوگا ہم اس کےے جواب میں‬
‫ک ہی ں گےے کہے یاجوج ماجوج اللہے ک ی آیات می ں سےے ایک‬
‫آیت اور قیامت کی بڑی علمات میں س ے ایک علمت‬
‫ہیں ان کی اس قدر کثرت ہوگی ک ہ حدیث میںآیا ہ ے ‪:‬ک ہ‬
‫ان کا ابتدائی ریل ہ بحر طبری ہ س ے س ے گزر ے گا اور اس‬
‫کا سارا پانی پی جائ ے گا پ ھر ان ک ے لشکر کا آخری ریل ہ‬
‫و ہاں س ے گزرت ے وقت ک ہ ے گا کب ھ ی ی ہاں پانی ہوا کرتا‬
‫ت ھا(صحیح مسلم) ۔گویا ی ہ حکم ان کی کثرت کی بناءپر‬
‫ہ ے اور پ ھ ر مومنین اس وقت عظیم جنگوں ‪،‬دجال س ے‬
‫جنگ ایس ے ہ ی دیگر شدید حالت س ے کچ ھ عرص ہ قبل‬
‫ہ ی دوچار ر ہ ے ہوں گ ے اور یاجوج ماجوج ک ے خروج تک‬
‫ان کےے پرانےے زخم ہی مندل نہے ہوئےے ہوں گےے تو الل ہ‬
‫تعالی ٰے مومنوں پر ی ہے احسان کر ےے گا ان ہیں طویل‬
‫‪10‬‬

‫جدوج ہد اور مشقت ک ے بعد آرام د ے گا اورخود ہ ی اپن ے‬
‫کسی ذریع ہ س ے یاجوج ماجوج کا خاتم ہ کر ے گا ان کی‬
‫گردنوں میں کیڑ ے ڈال د ے گا اور صبح تک ان کا خاتم ہ‬
‫ہوچکا ہوگا جیسا ک ہ صحیح مسلم کی حدیث میں اس‬
‫کی مکمل وضاحت ہ ے ہ م ک ہت ے ہیں ک ہ صحیح مسلم کی‬
‫حدیث میں اس بات پر نص موجود ہےے کہے اللہے تعالی ٰ‬
‫بذریع ہ وحی منصوص ان ہیں ان ک ے سات ھ قتال س ے روک‬
‫د ے گاارشاد فرمایا ک ہ ‪:‬‬
‫”الل ہ تعالی ٰ عیسی ٰ کی طرف وحی کر ے گا ک ہ میںن ے‬
‫اپن ے ایس ے بندوں کو نکالنا ہے جن س ے مقابل ے کی کوئی‬
‫طاقت ن ہیں رک ھتا سو تومیر ے بندوں کو پ ہاڑ پر ل ے جا ۔“‬
‫اور الل ہ کاحکم رد ّ ن ہیں کیاجاسکتا ی ہ سوال پیدا ہوتا ہے‬
‫اور شیخ س ےے اس کا جواب چا ہیئ ےے ک ہے کیا ”حسنی‬
‫مبارک مصر کا صدر“یاجوج ماجوج ہ ے ک ہ مصر ک ے آد ھے‬
‫سےے زائد ست ّ ر ملین ب ھی زائد مسلمان باشندےے اپن ے‬
‫حقو ق ودی ن او ر حرما ت می ں ا س ظال م طاغو ت س ے‬
‫خوفزد ہ ر ہیں ؟کیاملک وا ہ ل وطن پر مسلط کرد ہ ظالم‬
‫طاغوت ک ہ جن کی تعداد یاجوج ماجوج (ک ہ جن س ے الل ہ‬
‫سبحانہے وتعالیٰے لمتنا ہ ی وسعتو ں ک ی حام ل ج ہن م کو‬
‫ب ھر ے گا)ک ے مقابل ے میں ایک سو تو کیا تقابل وتماثل‬
‫کےے تصور سےے ب ھی بالتر ہو وہے اس قابل ہیں کہے ہم‬
‫کروڑ ھ ا مسلمانو ں کو ا ن کےے خلف بغاوت وج ہا د اور‬
‫اپن ے حقوق ک ے مطالب ے اور ان ک ے مظالم س ے چ ھٹکار ے‬
‫س ے خوفزد ہ کردیں اور ان ک ے ی ہ سب ناجائز قرار د ے‬
‫دیں ؟پ ھ ر کیا ان طواغیت س ے قتال ن ہ کرن ے ک ے متعلق‬
‫نص موجود ہے جیساک ہ یاجوج ماجوج ک ے متعلق ہے؟ک ہ ہم‬
‫ان کو ان پر قیاس کرسکیں؟جناب شیخ اس س ے قبل‬
‫کب ھی ہم نےے آپ سےے اس قدر کمزور اور لچک دار‬
‫اوربزدلن ہ دلئل واستدلل کا مشا ہد ہ ن ہیں کیا لیکن کیا‬
‫کیا جائ ے باطل کی دلیل ہمیش ہ کمزور ہ ی ر ہ ی ہ ے خوا ہ‬
‫دلیل پیش کرن ے وال کس قدر عظمت وفضل کا مالک‬
‫ہو ہم اللہے سےے ثابت قدمی اور اچھےے خاتمےے کےے لئ ے‬
‫دعاگو ہیں ۔‬
‫ی ہ بڑی ہ ی واضح ہ ی غلط ف ہمی اور ٹ ھوکر ہے‬
‫‪5‬‬
‫ک ہ نبی ک ے اس فرمان ‪:‬‬
‫ال ان تروا کفرا بواحا عندکم من ّ‬
‫اللٰہ فی ہ بر ھان‬

‫‪11‬‬

‫َ‬
‫(یعنی‪:‬امیر کی اطاعت واجب ہے)ا ِ ّل ی ہ ک ہ تم اس میں‬
‫کسی ایس ے واضح کفر کو دیک ھ لو جس (ک ے کفر ہون ے )‬
‫پر تم ہار ے پاس الل ہ کی جانب س ے کوئی دلیل ہو ۔‬
‫ک ے مطابق عمل کرن ے وال ے پوری امت میں صرف چند‬
‫اور‬
‫مجا ہدین‬
‫غیور‬
‫اور‬
‫علماء‪،‬مدرسین‪،‬داعیان‬
‫طلباءوغیر ہ ہیں جبک ہ ان ہی طبقات اور دیگر طبقات کی‬
‫اکثریت اس عمل کو ا ہمیت ن ہیں د ے ر ہ ے اور ن ہ اس کی‬
‫رعایت کرتےے ہی ں اس سےے یہے و ہ م پید ا ہوتا ہےے کہے امت‬
‫مجموعی طور پر اس فرمان ک ے تقاض ے پور ے کرن ے س ے‬
‫عاجز ہے۔‬
‫علماءاور داعیان حق کو درپیش مشکلت میں س ے ایک‬
‫بڑی مشکل ہ ے جبک ہ حالت ی ہ ہ ے ک ہ حق اور علم چ ھپایا‬
‫جاتا ہے تو ہرشخص کو اپنی استطاعت ک ے مطابق اپنی‬
‫ذم ہے داریوں کا احساس کرناچا ہئی ےے اوران ہیں اداکرنا‬
‫چا ہئی ے چ ہ جائیک ہ امت ک ے اس تسلسل کا حص ہ بناجائ ے‬
‫گویا ک ہ مجا ہدین کی حوصل ہ شکنی ‪،‬حق پوشی ‪،‬ظالم‬
‫طاغوتی حکام ک ے اسلمی ممالک پر کافران ہ تسلط کو‬
‫سرا ہن ے اور ان ہیں ان ممالک اور و ہاں ک ے باشندوں س ے‬
‫متعلق فتن ہ وفساد مچان ے کی ک ھلی چ ھوٹ دین ے ک ے سوا‬
‫اور کوئی جائ ے پنا ہ ہو ہی ن ہ اور گویا ک ہ ان ک ے حکام اس‬
‫قدر مضبوط اور ضروری ہیں نہے توان ہیں معزول کیا‬
‫جاسکتا ہو ن ہ ان س ے ج ھڑپ کی جاسکتی ہو؟‬
‫مقاصد شریعت جیس ےے مصالح اور مفاسد‬
‫‪6‬‬
‫توجلب مصالح اور دفاع مفاسد ک ے قاعد ے پر اس وقت‬
‫عمل کیاجاسکتا ہےے جب کہے وہے ایسےے نص کےے ذریع ے‬
‫متعین ہو جس میں ذاتی رجحانات اورنفسانی‬
‫خوا ہشات کا عمل دخل ن ہ ہو کیونک ہ اکثر ا ہل بدعت اپنی‬
‫بدعات ومفادات اورگمرا ہیوں کو جائز قرار دینےے ک ے‬
‫لئ ے جلب مصالح اور دفاع مفاسد کا ہ ی حوال ہ دیت ے ہیں‬
‫جبک ہ ے اس کا تعلق نص شرعی س ے ے ن ہیں بلک ہ‬
‫آراءوعقلیات س ے ہوتا ہ ے کیونک ہ ی ہ آسان ترین راست ہ ہے‬
‫چنانچ ہ اگر آپ ان س ے کچ ھ پوچ ھ بیٹ ھیں تو فورا ً جلب‬
‫مصالح اور دفع مضار کا قاعد ہ پیش کردیں گ ے ک ہ ہمارا‬
‫مقصدکم نوعیت کانقصان برداشت کرک ے بڑ ے نقصان‬
‫سےے بچنا ہےے لیکن جب آپ ان کےے اقوال واحوال کا‬
‫نصوص شرعیہے ک ی روشنی میں جائزہے لیں گےے توی ہی‬
‫پائیں گےے کہے ان ہو ں نےے چ ھوٹا ضر ر کےے بجائےے بڑ ا ضرر‬
‫‪12‬‬

‫اختیارکرلیا ہےے اورمفاسد کو حاصل کرک ےے نصوص‬
‫شریعت س ے ثابت شد ہ مصالح کو ردّ کردیا ہ ے مثل ً جو‬
‫سیاسی عمل میں شریک ہوجائ ے اور اسی قاعد ے کو‬
‫دلیل بنال ے تو درحقیقت انجان ے میں ان ہوں ن ے اپن ے آپ‬
‫کو ب ھ ی اورامت کو ب ھ ی مفاسد میں لک ھڑاکیا اور اپن ے‬
‫نفوس اور امت اسلمی ہ س ے حقیقی مصلحتوں کو ب ہت‬
‫دور کردیا گویا و ہ برائی کرک ے اچ ھائی کا زعم رک ھت ے‬
‫ہیں ۔شیخ کا نیا موقف ب ھ ی ایسی ہ ی مثال ہ ے ک ہ ان ہوں‬
‫ن ےے کافر مرتد اور طاغوتی حکام ک ےے خلف خروج‬
‫وج ہادکو توبڑا فساد اور ب ھاری نقصان قرار د ے دیا اور‬
‫ان س ے ج ہاد ن ہ کرن ے‪،‬ان کو برداشت کرن ے ان ک ے ظلم‬
‫وکفر اور فسادات کو برداشت کرن ےے کو ب ہت بڑی‬
‫مصلحت قرار د ے دیا سو جب معیار اورضابط ہ ہ ی الٹ‬
‫ہوگیا تونتائج ب ھی ازخود سنگین تر ہوگئ ے۔سینکڑوں‬
‫آیات قرآنی اور احادیث صحیح ہ جن س ے یقینا شیخ سید‬
‫واقف ہیں ان ظالم اور طاغوتی حکام ک ے خلف خروج‬
‫اور ج ہاد کی دعوت دیتی ہیں اور بندگان ال ٰ ہ کو ان س ے‬
‫تعلقات استوار کرن ے اوران کی طرف میلن رک ھن ے س ے‬
‫من ع کرت ی ہی ں توجنا ب شی خ صاح ب آ پ ہ ی بتائی ں ک ہ‬
‫اس قدر قرآنی آیات واحادیث ک ے سات ھ ہم کیا کریں اور‬
‫ان س ے کیا مراد لیں؟ان طواغیت ک ے خلف ترک ج ہاد‬
‫میں ک ہاں کی مصلحت ہ ے جبک ہ امت ان ہ ی ک ے سبب اپن ے‬
‫دین وشرف اور اپن ے علقوں اور مصلحتوں س ے محروم‬
‫س ے محروم تر ہوتی جار ہ ی ہے؟ان ہ ی کی وج ہ س ے تو ہم‬
‫روز بروز اپنےے دین وشرف ‪،‬عزت وجا ہ‪،‬اموال واولد‬
‫اوراپن ےے ممالک اور علقوں س ےے محروم ہور ہےے ہیں‬
‫اورفواحش ومنکرات بڑ ھتی ہی چلی جار ہی ہیں و ہ‬
‫ظالم ان کی حمایت میں قانون بنات ے ہیں‪،‬ان ک ے لئ ے‬
‫لڑت ے ہیں ان ک ے مخالفین کو سزائیں دیت ے ہیں تو ان‬
‫س ےے ترک ج ہاد میں کون سی مصلحت ہےے جو شیخ‬
‫صاحب کو نظر آر ہ ی ہ و اور ان س ے ج ہاد کرن ے میں و ہ‬
‫کون سافساد ہ ے جن س ے و ہ خوفزد ہ ہیں امت اپنا سب‬
‫کچھے ت و ک ھوچک ی ہےے ا ب ایس ا کوئ ی فسا د ر ہا ہ ی ن ہیں‬
‫جس س ے ہم ڈریں ک ہ ک ہ امت اس میں واقع ہوجائ ے گی‬
‫کیونکہے ہر طرح کا فسادان پر ایک عرصےے سےے اپن ے‬
‫تاریک سائ ے پ ھیلئ ے ہوئ ے ہ ے جب س ے امت ان ک ے ظلم‬
‫وستم اور کفر ارتداد پر صبر کرر ہی ہے ۔چنانچ ہ شرعی‬
‫‪13‬‬

‫دلئل س ے ثابت شد ہ مقاصد شریعت پر عمل کرت ے ہوئ ے‬
‫جلب مصالح اور دفاع مفاسد اور چ ھوٹا نقصان‬
‫برداشت کرکےے بڑےے نقصان سےے بچنا ان طواغیت ک ے‬
‫خلف ج ہاد ک ے ذریع ے ہ ی ممکن ہ ے اسی ذریع ے ی ہ امید‬
‫کی جاسکتی ہےے ک ہے الل ہے اس امت پر مسلط ذلت‬
‫ورسوائی ‪،‬کمزوری وبزدلی اور ج ہل وفقر کو زائل‬
‫کرد ے گا ۔جیسا ک ہ الل ہ تعالی ٰ ن ے فرمایا‪:‬‬
‫‪   ‬‬
‫‪ ‬‬
‫‪  ‬‬

‫‪  ‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫(البقرة‪)216:‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪  ‬‬
‫‪ ‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪ ‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫تم پر قتال فرض کردیا گیا ہ ے حالنک ہ و ہ تم ہیں ناپسند‬
‫ہے اور قریب ہے ک ہ تم ایک شئ ے پسند ن ہ کرت ے ہو جبک ہ و ہ‬
‫ہی تم ہارےے لئےے ب ہتر ہو اور قریب ہےے کہے ایک شئےے تم‬
‫پسند کرت ے ہ و جبک ہ و ہ تم ہار ے لئ ے بری ہ و اورالل ہ مکمل‬
‫علم رک ھتا ہے اور تم کچ ھ ن ہیں جانت ے ۔‬
‫نیز فرمایا‪:‬‬
‫‪‬‬

‫‪  ‬‬
‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫(النفال‪)39:‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫اور ان (یعنی کفار خوا ہ ان کا کفر حقیقی ہو یا ارتداد‬
‫کی بناءپر ہو)س ے لڑت ے ر ہ و تاآنک ہ عبادت محض الل ہ ہی‬
‫کی ہو اور شرک ن ہ ر ہے ۔‬
‫نیز فرمایا‪:‬‬
‫(البقرة‪)191:‬‬
‫‪ ‬‬
‫‪‬‬
‫‪ ‬‬
‫‪   ‬‬
‫شرک قتل (یعنی شرک اورا ہل شرک ک ے خلف ج ہاد ک ے‬
‫نتیج ے میں ہون ے وال قتل مومن)س ے زیاد ہ سنگین ہے۔‬
‫امام ابن تیمی ہ فرمات ے ہیں ‪”:‬چونک ہ امربالمعروف اور‬
‫ن ہ ی عن المنکر اور ج ہاد فی سبیل الل ہ میں کچ ھ ایسی‬
‫آزمائشیں اور سختیاں آجاتی ہیں کو کسی ب ھی شخص‬
‫کو فتن ہ میں ڈال دیتی ہیں توکچ ھ لوگ ان واجبات کو‬
‫ترک کردین ے کی ی ہ علت پیش کرن ے لگ ے ک ہ و ہ سلمتی‬
‫چا ہتا ہے اور فتن ے س ے محفوظ ر ہنا چا ہتا ہے جیسا ک ہ الل ہ‬
‫تعالی ٰ فرماتا ہے ‪:‬‬
‫‪14‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪  ‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪( ‬التوب ۃ‪)49:‬‬
‫‪  ‬‬
‫ان میں س ے کچ ھ لوگ( منافقین )و ہ ہیں جو ک ہت ے ہیں ک ہ‬
‫آپ مج ھ ے رخصت دیجئ ے اور فتنہے میں ن ہ ڈالئےے خبردار‬
‫فتن ہ میں و ہ گرگئ ے اور ج ہنم کافروں کو گ ھیرن ے والی‬
‫ہے ۔ (فتاوی ابن تیمی ۃ ‪)165/28 :‬‬
‫توجوالل ہ ک ے حکم ج ہاد کو فتن ہ س ے بچن ے ک ے لئ ے چ ھوڑ‬
‫د ے گا فتن ہ میں تو و ہ پڑ ہ ی گیا اس ک ے دل میں شک‬
‫آگیا اور اس کا دل بیمار ہوگیا اور اس ن ے الل ہ ک ے حکم‬
‫ج ہاد کو ترک کردیا ۔‬
‫شیخ اور ان ک ے رفقاءکو نصرت وتمکن س ے‬
‫‪7‬‬
‫متعلق الل ہ کی سنتوں ک ے متعلق ب ھ ی کلم کرناچا ہیئ ے‬
‫ت ھ ا ا س کےے ساتھے ساتھے اگ ر چا ہتےے تو کچھے اورب ھی ک ہہ‬
‫دیت ے لیکن پ ھ ر ب ھ ی ی ہ سب ان کو یا ان ک ے رفقاءکو ی ہ‬
‫اجازت ن ہیں دیتا ک ہ و ہ ج ہاد کو حرام ک ے درج ے تک ل ے‬
‫جائیں اور اس ک ے ناجائز ہون ے کا فتوی ٰ دیں اور اس‬
‫فریضہے کو اداکرنےے والےے کو مجرم قرار دیں یا چند‬
‫کمزور اور گ ھٹیا دلئل کی بناءپر کافر ‪،‬طاغوتوں ‪،‬‬
‫مرتدوں ‪،‬ظالموں ‪،‬مشرکوں اور قا ھر حربیوں ک ے‬
‫خلف ج ہاد کا انکار کردیں ی ہ بات و ہ ک ہیں یا کوئی ب ھی‬
‫تیس مار خاں ک ہے اس کی بات مردود اور ناقابل قبول‬
‫ہے عقل ونقل ک ے خلف ہے ۔‬
‫سلم ہ بن نفیل الکندی فرمات ے ہیں ‪:‬‬
‫”میں رسول الل ہ ک ے پاس بیٹ ھا ت ھا ک ہ ایک شخص ن ے ک ہا‬
‫‪:‬یا رسول الل ہ لوگوں ن ے گ ھوڑ ے چ ھوڑ دیئ ے اور اسلح ہ‬
‫اتار پ ھینکا اور ک ہن ے لگ ے ہیں ک ہ ج ہاد ن ہیں ر ہا اب جنگ ن ے‬
‫اپن ے اوزار اتار دیئ ے ہیں ۔تو رسول الل ہ اپن ے چ ہر ے ک ے‬
‫سات ھ متوج ہ ہوکر فرمان ے لگ ے ‪:‬و ہ ج ھوٹ بولت ے ہیں اب‬
‫ب ھ ی ج ہاد ہ ے اورمیری امت کی ایک جماعت ہمیش ہ حق‬
‫کےے لئےے ج ہاد کرےے گی اوراللہے ان کی طرف سےے کچ ھ‬
‫لوگوں کےے دلوں کو ٹیڑ ھا کردےے گا اوران ہیں ان ہی ک ے‬
‫ذریع ے رزق د ے گاتاآنک ہ قیامت قائم ہوجائ ے اور الل ہ کا‬
‫وعدہے آجائےے اور گ ھوڑوں کی پیشانیوں میں تاقیامت‬
‫خیر باند ھ دی گئی ہے۔(صحیح سنن النسائی ‪)3333 :‬‬
‫ہم ب ھی شیخ سید امام اور ان جیس ے ا ن س ے پ ہل ے دیگر‬
‫شیوخ او ر مص ر ک ی اسلم ی تحریکو ں جن ہو ں نےے اپن ے‬
‫‪15‬‬

‫موقف س ے رجوع کرلیا اور اس طرح کی خرافات بکن ے‬
‫لگ ے سب س ے و ہ ی بات ک ہیں گ ے جو نبی ن ے فرمائی ک ہ‬
‫تم ج ھوٹ بولت ے ہ و اب ب ھ ی ج ہاد وقتال ہ ے اور محمد‬
‫کی امت میں ہمیشہے ایک جماعت حق فی سبیل الل ہ‬
‫پرج ہا د کرت ی رہےے گ ی او ر اللہے ا ن ک ی جان ب سےے کچ ھ‬
‫لوگوں کےے دلوں کو ٹیڑ ھا کرےے گا اوران ہیں ان ہی ک ے‬
‫ذریع ے رزق ب ھ ی د ے گاحتی ک ہ قیامت آجائ ے تم ہار ے ان‬
‫انقلبات ‪،‬بیمار افکار اور ج ہاد اور مجا ہدین ک ے خلف‬
‫لوگوں کو تم ہار ے ب ھڑکان ے ک ے باجود اس سب ک ے باجود ۔‬
‫شیخ سید ن ے جیسا ک ہ ان کا زعم ہے اور ان ک ے‬
‫‪8‬‬
‫مقالوں کےے عنوان ”عمل ج ہاد کی را ہنمائی“سےے پت ہ‬
‫چلتا ہے ان ہوں ن ے ج ہاد کو را ہ ن ہیں دک ھائی ن ہ اس کی نوک‬
‫پل ک سنوار ی بلکہے ا س ک ا انکا ر کردی ا او ر اسےے ناجائز‬
‫اورحرام قرار دیا ہےے اور احیائ ےے ج ہاد ک ےے ہر مرتکب‬
‫کومجرم شمارکیا ہ ے توو ہ کسی ایس ے عمل کو کیا را ہ‬
‫دک ھائیں گ ے جس ے خود ان ہوں ن ے لغوقرار دیا ہو اور اس ے‬
‫ناجائز وحرام بتایا ہو اور اس ک ے جواز تک کو ن ہ مانا ہو‬
‫چ ہ جائیک ہ وجوب چنانچ ہ ان ک ے مقال ے کا درست عنوان‬
‫ہونا چا ہئی ے ک ہ ”عمل ج ہاد کی تردید“ن ہ ک ہ ”عمل ج ہاد‬
‫کی را ہنمائی“ ۔‬
‫غلو کا نتیج ہ غلو ہ ی ہوتا ہ ے اور افراط (یعنی‬
‫‪9‬‬
‫سخت موقف)ک ےے حامل کو جب محاسب ہے ومعاقب ہے کا‬
‫سامنا کرنا پڑ ے اور اس ک ے دل میں الل ہ کا خوف ن ہ ہو ن ہ‬
‫ہ ی و ہ خود کو اس کی جوار رحمت میں سمج ھتا ہ و تو‬
‫وہے تفریط(یعنی ڈھیل موقف)کی راہے کو اپناتا ہےے الل ہ‬
‫جانتا ہے ک ہ اس س ے قبل شیخ سید کااس حکم ک ے متعلق‬
‫جو الل ہ ک ے نازل کرد ہ ک ے بغیر حکومت کرتا ہو کس قدر‬
‫شدید موقف ت ھ ا اس پر وہے علی العلن کفر اکبر کا‬
‫لفظ واحد استعمال کرت ے جیساک ہ ان کی حصول علم‬
‫س ے متعلق جامع کتاب میں ہ ے اس میں ان ہوں ن ے حاکم‬
‫ک ے متعلق جو الل ہ ک ے نازل کرد ہ ک ے بغیر حکومت کرتا‬
‫ہوسلف صالحین اور آثار س ے ثابت شد ہ موقف ک ہ کب ھی‬
‫ا ن ک ا کف ر ”کف ر اکب ر “ ہوت ا ہےے او ر کب ھ ی کف ر اصغر‬
‫”یعنی کفر دون کفر“کو ب ھ ی باطل قرار د ے دیا ہے۔ان‬
‫کا ی ہ قول غالی خوارج کا نظری ہ ت ھ ا اور ان ک ے مذ ہب‬
‫خبی ث ک ی اص ل بنیا د ت ھا اور آ ج ب ھ ی جب ہم اللہے ک ے‬
‫نازل کرد ہ ک ے بغیر حکم کرن ے کی دوصورتیں بیان کرت ے‬
‫‪16‬‬

‫ہی ں ج و کہے سل ف صالحی ن او ر نصوص وآثا ر سےے ثابت‬
‫ہیں ک ہ ایک صورت کفر اکبر کی ہ ے اور دوسری صورت‬
‫کفر اصغر یا کفر دون کفر کی تو اس دور ک ے غالی‬
‫خوارج ہ م س ے کس قدر شدید اختلف کرت ے ہیں ۔اور‬
‫جائ ے‬
‫کردی‬
‫مخالفت‬
‫کی‬
‫تقسیم‬
‫اس‬
‫اگر‬
‫توخلفاءراشدین ک ےے بعد ک ےے تمام ادوار کی تمام‬
‫حکومتیں اور ریاستیں اور جماعتیں کافر قرار پاتی‬
‫ہیں ہمارےے ب ھائی ابومحمد المقدسی جو آج کل قید‬
‫می ں ہیں” اللہے ان ہیں او ر دیگ ر مسلم قیدیو ں کونجات‬
‫دلئ ے ے “ان ہوں ن ے ے اپنی کتاب ”النکت اللوامع فی‬
‫ملحوظات الجوامع“میں اس غلو کا ب ہترین رد ّ کیا ہ ے ۔‬
‫اور آج شیخ سید ہمار ے سامن ے ایک اور غلوکا شکار ہیں‬
‫ج و پ ہلےے غل و کےے بالک ل برعک س ہےے یعن ی ڈھیل موقف‬
‫ج ہمی ہ اور مرجئ ہ اور درباری ملو¿ ں کا موقف اور ان‬
‫ک ے اس بعدک ے موقف ک ے متبعین ب ھ ی ہ م س ے کس قدر‬
‫اختلف اور ج ھگڑا کرت ے ہیں نیز ان ک ے اس شور وغوغا‬
‫اور حملوں ک ے ابتدائی نتائج دک ھائی د ے ر ہ ے ہیں ہم الل ہ‬
‫س ے اس کی مدد اور ثابت قدمی کا سوال کرت ے ہیں ۔‬
‫شی خ سی د اپنےے ا س انقل ب سےے قب ل غال ی خوار ج ک ے‬
‫حامی تھےے ۔اور اس انقلب کےے بعد غالی مرجئہے ک ے‬
‫حامی ہیں ول حول ول قوة البالل ہ۔ان ک ے اس انقلب‬
‫ک ےے بعد مسئل ہے تحکیم س ےے متعلق صرف ایک مثال‬
‫ملحظ ہ ہو فرمات ے ہیں ‪:‬‬
‫”شریعت ک ے مطابق حکومت ن ہ کرنا کفر ہو یا کفر دون‬
‫کفر یا نافرمانی ہم ب ہرصورت اسلمی ممالک میں نفاذ‬
‫شریعت ک ے ج ہاد ک ے نام پر و ہاں ک ے حکام س ے تصادم کو‬
‫جائزن ہیں سمج ھت ے “‬
‫شیخ کی اس اضاعت وتفریط اور خود فریبی پر غور‬
‫کیجئ ے ک ہ اگر عصر حاضر کا کوئی طاغوتی حاکم جس ے‬
‫و ہ مقتدر حکومت ک ہت ے ہیں احکام شریعت کو چ ھوڑ د ے‬
‫ان س ے اعراض کر ے بلک ہ ان ک ے اور ان ک ے حاملین ک ے‬
‫خلف جنگ کر ے اور ان ہیں اپن ے بنائ ے ہوئ ے جا ہلی قوانین‬
‫س ے بدل ڈال ے جو نفس انسانی کا شاخسان ہ ہوت ے ہیں تو‬
‫ی ہ سب شیخ ک ے نزدیک ان ک ے نئ ے ارجائ ی موقف ک ے‬
‫مطابق کفر دون کفر یا معصیت جو کفر دون کفر س ے‬
‫ب ھ ی ک م ت ر درجہے ہےے ہونےے ک ا احتما ل رک ھتا ہےے حالنک ہ‬
‫دللت اور معنی ک ے اعتبار س ے شریعت ک ے مطابق حکم‬
‫‪17‬‬

‫ن ہ کرن ے ک ے کفر بواح اور کفر اکبر ہون ے اس صورت اور‬
‫شریعت کےے مطابق کسی ایک مسئلہے میں خوا ہش یا‬
‫رشوت یا قرابت یا کسی ب ھی وج ہ س ے حکم ن ہ کرن ے اور‬
‫اس ے گنا ہ سمج ھن ے اور اپن ے اس فعل پر قابل سزا ہون ے‬
‫کا اعتراف کرن ے ک ے کفر دون کفر یا کفر اصغر ہون ے‬
‫اس صورت ک ے درمیان بڑا فرق واضح ہے جس س ے شیخ‬
‫اچ ھ ی طرح واقف ہیں ۔یعنی شیخ سید ک ے اس انقلب‬
‫سےے پ ہلےے والےے موقف اور اس انقلب کےے بعد وال ے‬
‫موقف میں بڑا واضح فرق ہ ے ک ہ و ہ ثانی الذکر موقف‬
‫میں ظالم طواغیت کی طرف میلن رک ھت ے ہیں ۔ہم الل ہ‬
‫تعالی ٰ س ے ثابت قدمی اور حسن خاتم ہ کا سوال کرت ے‬
‫ہیں ۔‬
‫ی ہ شیخ سید اس انقلب س ے قبل اپن ے مقالوں‬
‫‪01‬‬
‫می ں اپنےے ٹرینن گ کےے رفی ق مجا ہدی ن ک و سخ ت سست‬
‫ک ہت ے اور ان پر خوب طعن وتشنیع اور جرح کرت ے ت ھے‬
‫اور ان انقلبات ک ے بعد و ہ طاغوتی حکام اور حکومتی‬
‫اداروں ک ے لئ ے انت ہائی نرم گوش ہ رک ھت ے ہیں جیسا ک ہ و ہ‬
‫ا ب وسع ت نظر ی کےے نام پ ر ا ن حکام وطواغی ت اور‬
‫امن قائم کرن ے وال ے اور تشدد کرن ے وال ے اور جاسوسی‬
‫اور سراغ رسانی کرن ے وال ے اداروں کو جائز قرار دیت ے‬
‫ہیں اوریہے نہے توخیر خوا ہی ہےے اورنہے ج ہادی عمل کی‬
‫را ہنمائی ہے جیسا ک ہ و ہ ک ہت ے ہیں ۔‬
‫میر ے خیال میں شیخ سید ک ے اپن ے دیگر رفقاءک ے سات ھ‬
‫اس قدیم اختلف ہ ی اس ظلم وزیادتی کا سبب بنا ہے‬
‫لیکن کسی ب ھ ی عقل سلیم اور قلب متین رک ھن ے وال ے‬
‫مسلمان خصوصا ً شیخ سید جیسی شخصیت کو ی ہ زیب‬
‫ن ہی ں دیت ا کہے وہے اپنےے مسلما ن ب ھائیو ں خا ص ک ر مجا ہد‬
‫ب ھائیوں ک ے سات ھ ی ہ روی ہ رک ھے ۔الل ہ تعالی ٰ فرماتا ہے‪:‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪ ‬‬
‫‪ ‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪‬‬

‫‪( ‬الفتح‪)29:‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫محمد( )الل ہ ک ے رسول ہیں اورجو لوگ ان ک ے سات ھ ہیں‬
‫و ہ کفارک ے لئ ے بڑ ے سخت اورآپس میں رحم دل ہیں ۔‬
‫نیز نبی ن ے فرمایا‪:‬‬
‫ان ا ﷲ رفیق یحب الرفق فی المر کل ہ(بخاری)‬
‫اللہے بڑا ہی نرم ہےے اور ہربات میں نرمی ہی پسند‬
‫فرماتا ہے ۔‬
‫نیز فرمایا‪:‬‬
‫‪18‬‬

‫ان ا ﷲ رفیق یحب الرفق ویعطی علی الرفق مال یعطی‬
‫علی العنف وما ل یعطی ما سوا ہ (مسلم)‬
‫الل ہ بڑا ہ ی نرم ہ ے نرمی کو پسند کرتا ہ ے اور نرمی پر‬
‫وہے کچھے عطاکرتا ہےے جو سختی پر یا نرمی کےے سوا‬
‫کسی ب ھی شئ ے پر عطاءن ہیں کرتا ۔‬
‫مگر شیخ میں ی ہ اوصاف ک ہاں ؟‬
‫مصری حکومت یا ان ک ے جاسوس اداروں کو‬
‫‪11‬‬
‫شیخ ک ے مقالوں ک ے مثبت پ ہلویعنی معصوم حرمتوں پر‬
‫زیادتی ن ہیں کرنی چا ہیئےے اور کشت وخون کو آسان‬
‫ن ہیں لینا چا ہیئ ے س ے بالکل دلچسپی ن ہیں ن ہ ہ ی ان کا ی ہ‬
‫ہدف ہے بلک ہ ان کا ہدف تو ی ہ ہے غلط اور ناجائز امور کو‬
‫مجا ہدین کی طرف منسوب کیا جائ ے تاک ہ ان کی ش ہرت‬
‫اور ج ہاد کی ش ہرت کو نقصان پ ہنچ ے اوری ہ اسی وقت‬
‫ممک ن ہےے جب فی الحقیقت ک ہی ں نہے ک ہی ں غلط ی اور‬
‫خطا کاوجود ہو اگر یہے غلطی مجا ہدین میں نہے مانی‬
‫جائ ے گی تولمحال ہ طاغوتی حکام اس کی زد میں آئیں‬
‫گ ے جیسا ک ہ اکثر وبیشترایسا ہوتا ہ ے ک ہ طاغوتی حکام‬
‫کسی جرم کا خود سےے ارتکاب کرکےے اس کا الزام‬
‫مجا ہدین ک ے سر د ھ ر دیت ے ہیں تاک ہ ان کی اور ج ہاد کی‬
‫ش ہرت کو نقصان پ ہنچایا جائ ے اور لوگوں کو مجا ہدین‬
‫س ے متنفر کیا جائ ے توطاغوت شیخ ک ے مقالوں ک ے اس‬
‫مثبت پ ہلو کو ا ہمیت ن ہیں دیتا ن ہ اس کی پروا ہ کرتا ہے‬
‫اس ک ے لئ ے ا ہم ی ہ ہ ے ک ہ کیا و ہ اس کی حکومت اور اس‬
‫ک ے نظام کو ایک حاکم ک ے طور پر مانت ے ہیں اور اس ے‬
‫واجب التباع حاکم مانت ے ہیں یا ن ہیں و ہ طاغوت شیخ او‬
‫ران ک ے متبعین س ے اس بات کا منتظر ہے اگر و ہ طاغوت‬
‫کی اس خوا ہ ش کی تکمیل ن ہیں کرت ے تو پ ھ ر اس س ے‬
‫کسی ب ھ ی طرح کا درگزر اور آزادی متوقع ن ہیں خوا ہ‬
‫شیخ معصوم خون کی حرمت س ے متعلق کچ ھ ب ھی ک ہت ے‬
‫ر ہیں کیونکہے ا س کےے نزدیک نہے تو معصوم خون کی‬
‫ا ہمیت ہے ن ہ ہی اس کی حرمت ۔شیخ ن ے اب تک طاغوت‬
‫کی آد ھ ی خوا ہ ش کی تکمیل کی ہ ے ک ہ اس یا اس ک ے‬
‫نظام ک ے خلف بغاوت کو مجرمان ہ قرار دین ے کو حرام‬
‫اور ناجائز قرار دیا ہ ے طاغوت اس ے ا ہمیت ب ھ ی دیتا ہے‬
‫لیکن اب ھی آد ھی خوا ہش کی تکمیل باقی ہے ک ہ اس کی‬
‫حکومت اور اس ک ےے نظام کو مکمل طور پر اور‬
‫صراحت ک ےےے سات ھےے تسلیم کرلیاجائ ےےے اورمصری‬
‫‪19‬‬

‫مسلمانوں پر اس کی اطاعت اسی طرح واجب قرار‬
‫دی جائ ے جس طرح شرعی حاکم واجب التباع ہوتا ہے‬
‫جیسا ک ہ اس سےے قبل ب ھ ی بعض مشائخ اور اسلمی‬
‫تحریکیں طاغوتی حکام اسی طرح تسلیم کرچکی ہیں‬
‫توکیا شیخ سید طاغوت کی ی ہے خوا ہش ب ھی پوری‬
‫کردیں گ ے اور پ ھ ر نئ ے مقال ے لک ھ کر اور بیانات د ے کر‬
‫ا س ک ا اعترا ف ب ھی کرلی ں گےے او ر ا س سلسلےے میں‬
‫اپن ے مخالفین کو مجرم اورگنا ہ گار قرار دیں گ ے اور ان‬
‫طاغوتی حکام ک ے کفر کو کفر دون کفر یا کفرا صغر‬
‫قرار دیں گ ے؟ان تمام امور کی وضاحت ہمار ے لئ ے آئند ہ‬
‫چند روز کردیں گ ے ۔‬
‫جیل میں تشدد جو شرعی عذرن ہیں بن سکتا‬
‫‪12‬‬
‫ایس ے جو جیل س ے با ہر ہیں ان کی عدم استطاعت ک ہ و ہ‬
‫طاغوتی حکام ک ے کسی ب ھ ی شریعت مخالف عمل کی‬
‫مخالفت کرنےے کی استطاعت ن ہیں رک ھتےے اور ایسی‬
‫مخالفت کی صورت میں جیل جان ے کاخوف ی ہ سب ان‬
‫کےے لئےے اس طرح کی طاغوتی حمایت اور حق س ے‬
‫انحراف کو جائز قرار ن ہیں د ے سکتا ک ہ و ہ حق پر ایام‬
‫قید کو ترجیح دین ے لگیں میں ک ہتا ہوں ی ہ ایسی بدعت‬
‫ہ ے جو اس س ے قبل ہمیں اسلمی تحریکوں اورمصری‬
‫شیوخ اور قائدین میں دک ھائی ن ہیں دیتی اور اس‬
‫کابوجھے خود ان پر تو ہوگا ہی لیکن جو ان کےے ان‬
‫انقلبی نظریات کی اتباع کریں گ ے ان ک ے گنا ہوں کا‬
‫بوج ھ ب ھی ان ہی پر پڑ ے گا ۔اس س ے پ ہل ے ب ھی علماءسلف‬
‫صالحین کو گرفتار کیاگیا ان پر تشددکیا گیا لیکن و ہ‬
‫حق سےے دست بردار نہے ہوئےے امام احمد ‪،‬ابن تیمیہے ‪،‬‬
‫سرخسی وغیر ہ دیگر سلف اورآج ب ھ ی کتن ے ہ ی علماء‬
‫حق ان طاغوت ی حکا م ک ی خفیہے جیلو ں می ں قی د پڑ ے‬
‫ہیں اور شاید تا قیامت ر ہیں لیکن شیخ سید اور ان ک ے‬
‫رفقاءکی طرح ن ہ تو و ہ اپن ے موقف س ے رجوع کرت ے ہیں‬
‫نہے اس میں لچک کا مظا ہرہے کرتےے ہیں مثل ً شام ک ے‬
‫نصیری طاغوت کی جیلوں میں سینکڑوں علماءنظربند‬
‫ہیں ان میں س ے بعض شدید ترین تشدد ک ے نتیج ے میں‬
‫(ان شاءالل ہ)ش ہید ب ھی ہوگئ ےے جیس ےے الشیخ المجا ہد‬
‫مروان حدید اور ان کےے ب ھائی الشیخ المجا ہد عدنان‬
‫عقل ۃ‪....‬ی ہ دونوں بیس سال س ے زیاد ہ شام کی نصیری‬
‫جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرت ے ر ہے‬
‫‪20‬‬

‫او ر ایسےے ارد ن می ں شی خ ابومحم د المقدسی او ر ان‬
‫ک ے رفقاءاپنی نصف عمر جیل میں گزارچک ے ہیں اور‬
‫ایس ے مصر شیخ کمال السنانیری ب ھ ی بدترین تشددک ے‬
‫نتیجےے می ں ش ہی د ہوگئےے او ر زین ب الغزال ی ای ک عورت‬
‫ہونےے کےے باوجود تشدد برداشت کرر ہی ہےے ب ھوکےے اور‬
‫خونخوا رکتےے ان پر چ ھوڑےے گئےے لیکن پ ھر ب ھی صبر‬
‫وثبات کا پیکر اعظم بنی ہوئی ہیں ان ہوں نےے شیخ‬
‫سید‪،‬ان ک ے رفقاءاوران س ے پ ہل ے دیگر چند شیوخ اور‬
‫اسلمی تحریکوں کی طرح اپن ے موقف س ے ن ہ تو رجوع‬
‫کی ا نہے ہ ی ا س می ں لچ ک دک ھائ ی ایسےے الشیخ المجا ہد‬
‫عمر عبدالرحمن امریکی جیلوں میں ایسےے ہی شیخ‬
‫عبدالحمید کشک اور ان سب س ے پ ہل ے را ہ حق ک ے جانباز‬
‫مجا ہ د سید قطب ش ہید ن ے تخت ہ دار کو گل ے لگالیا مگر‬
‫طاغوتی حکام ک ے سامن ے معذرت تک کرن ے کی کوشش‬
‫ن ہ کی ک ہیں اس کی حوصل ہ افزائی ن ہ ہوجائ ے اور پ ھر‬
‫اس عظیم قربانی ک ےے سبب الل ہے ن ےے زمین پران ہیں‬
‫مقبولیت عطاءفرمائی ۔سید قطب اور سیدامام ک ے‬
‫موقف میں زمین آسمان کا فرق ہ ے ایس ے ہ ی مغرب‬
‫میں شیخ محمدالفزاری اور ان ک ےے رفقاءوشیوخ‬
‫وحامیان اور جزائر میں شیخ علی بلحاج اور ان ک ے‬
‫حامیا ن او ر جزیرہے عر ب می ں شی خ خضی ر ‪،‬ناص ر الف ہد‬
‫اور ابن زعیر وغیر ہ کتن ے ہی را ہ حق ک ے جانباز مجا ہدین‬
‫ہیں جو شمار س ے با ہ ر ہیں کسی ن ے ب ھ ی اپن ے موقف‬
‫سےے رجو ع توکی ا ا س می ں لچ ک ت ک نہے دک ھائ ی اللہے ان‬
‫می ں سےے جوفو ت ہوچکےے ا ن پ ر رحمت کرےے او ر ان ہیں‬
‫ش ہداءمیں قبول فرمائ ے اور جواب تک زند ہ ہیں ان ہیں‬
‫حق پر ثابت قدم رک ھ ے اور ہمارا اوران کا خاتم ہ بخیر‬
‫فرمائ ے جس ے و ہ پسند کرتا ہواور اس س ے راضی ہوتا‬
‫ہو ۔الل ھم آمین‬
‫ہر مومن کو اس کےے دین وایمان کےے مطابق آزمایا‬
‫جاتا ہے جو محمد ک ے نقش قدم پر چل ے دعوت وج ہاد اور‬
‫حق پر ر ہ ے اس ے توضرور ہ ی آزمایا جاتا ہ ے اور اس ک ے‬
‫لئےے ضروری ب ھی ہےے کہے وہے اپنےے آپ کو ہر طرح کی‬
‫مصیب ت ک ا مقابلہے کرنےے کےے لئےے تیا ر رکھےے اگرچہے اس ے‬
‫ناپسند کر ے اور اس کاطالب ن ہ ہ و ایک عام مسلمان چ ہ‬
‫جائیک ہے وارثان انبیاءک ےے لئ ےے جائزن ہیں ک ہے و ہے معمولی‬
‫تکلیف س ے بچن ے کی خاطر را ہ حق س ے اعراض کرجائ ے‬
‫‪21‬‬

‫اور باطل کےے سرنگوں پرچموں کو بلند کرنا شروع‬
‫کرد ے الل ہ تعالی ٰ ن ے فرمایا‪:‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪   ‬‬
‫‪  ‬‬

‫‪ ‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪ ‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪ ‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪   ‬‬

‫‪‬‬

‫(العنکبوت‪)3-2:‬‬
‫کیا لوگ سمج ھت ے ہیں ک ہ ان ہیں ایس ے ہ ی چ ھوڑ دیا جائ ے‬
‫گا ک ہ و ہ ک ہیں ک ہ ہم مومن ہیں اوران ہیں آزمایا ن ہ جائ ے گا‬
‫حالنک ہ ہم ن ے ان س ے پ ہل ے لوگوں کو آزمایا ہے تو الل ہ ان‬
‫لوگوں کو جو سچ ےے ہیں ضرور ظا ہر کر ےے گا اور‬
‫ج ھوٹوں کو ضرور ب ے نقاب کر ے گا ۔‬
‫نیز فرمایا‪:‬‬
‫‪ ‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪ ‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬
‫‪‬‬

‫(البقرة‪)155:‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪ ‬‬
‫او ر ہ م تم ہی ں خو ف اورب ھو ک اوراموا ل اورجانو ں اور‬
‫پ ھلوں ک ے نقصان ک ے ذریع ے ضرور آزمائیں گ ے اور آپ‬
‫صبر کرن ے والوں کوخوشخبری سنادیں ۔‬
‫نیز فرمایا‪:‬‬
‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪‬‬
‫‪ ‬‬

‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪‬‬

‫‪ ‬‬
‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫(محمد‪)31:‬‬
‫او ر ہ م تم ہی ں ضرو ر ہ ی آزمائی ں گےے تاکہے تم می ں س ے‬
‫مجا ہدین اور صابرین کو ظا ہر کردیں اور ہم تم ہاری‬
‫حالتوں کو ب ھی آزمائیں گ ے ۔‬
‫نیز نبی ن ے فرمایا‪:‬‬
‫ان اعظم الجزاءمن عظم البلءوان ا ﷲ تعالی ٰ اذا احب‬
‫قوما ابتل ھم فمن رضی فلہے الرضا ومن سخط فل ہ‬
‫السخط(صحیح ترمذی‪)1954:‬‬
‫یقینا عظیم ثواب عظیم آزمائش ک ے سات ھ ہ ے اور الل ہ‬
‫تعالیٰے ج ب کس ی قوم سےے محبت کرنےے لگتا ہےے ان ہیں‬
‫آزمائشوں می ں مبتل کردیتاہےے پ ھ ر جو راضی ر ہ ے اس‬
‫ک ے لئ ے رضا ہے اور جو ناراض ہو اس ک ے لئ ے ناراضی ہے‬
‫۔‬
‫نیز رسول الل ہ س ے پوچ ھاگیا ک ہ سب س ے زیاد ہ آزمائش‬
‫کن لوگوں پر اترتی ہے تو آپ ن ے فرمایا‪:‬‬
‫‪22‬‬

‫النبیاءثم المثل فالمثل یبتلی الناس علی قدر دین ھم‬
‫فمن ثخن دین ہے اشتد بلؤ ہے ومن ضعف دین ہے ضعف‬
‫بلؤ ہ(صحیح الترغیب والتر ھیب‪)3402:‬‬
‫انبیاء پ ھ ر و ہ جوان س ے قریب ہوں پ ھ ر جو ان ک ے قریب‬
‫ہیں لوگوں کو ان کےے دین کےے مطابق آزمایا جاتا ہے‬
‫جس کا دین مضبوط ہو اس کی آزمائش سخت ہوتی ہے‬
‫اور جس کا دین کمزور ہو اس کی آزمائش کم ہوتی ہے‬
‫۔‬
‫نیز فرمایا‪:‬‬
‫کما یضاعف لنا الجر یضاعف لنا البلئ (صحیح الجامع‪:‬‬
‫‪)4577‬‬
‫جس طرح ہمار ے اجر میں اضاف ہ کیا جاتا ہ ے اسی طرح‬
‫ہمار ے آزمائش میں اضاف ہ کیاجاتا ہے ۔‬
‫نیز فرمایا‪:‬‬
‫ان معاشر النبیاءیضاعف علینا البلء (صحیح الجامع‪:‬‬
‫‪)2288‬‬
‫ہم انبیاءکی جماعت ہیں ہمارےے لئےے آزمائش بڑھے کر‬
‫ہوتی ہیں ۔‬
‫نیز فرمایا‪:‬‬
‫ما اوذی احد ما اوذیت فی ا ﷲ (السلسل ۃ الصحیح ۃ‪)2222:‬‬
‫جس قدر مجھےے اللہے کےے لئےے اذیت دی گئی کسی کو‬
‫اذیت ن ہ دی گئی ۔‬
‫صحیح ابن حبان میں ہ ے ک ہ ایک شخص رسول الل ہ ک ے‬
‫پاس آیا اورک ہن ے لگا الل ہ ک ے رسول الل ہ کی قسم میں‬
‫آپ س ے محبت کرتا ہوں تو آپ ن ے اس س ے فرمایا‪:‬‬
‫ان البلیا اسرع الی من یحبنی من السیل الی منت ھا ہ‬
‫(السلسل ۃ الصحیح ۃ‪)1586:‬‬
‫سیل ب کےے انت ہائ ی زو ر سےے ب ھ ی زیادہے تیز ی سےے مج ھ‬
‫س ے محبت کرن ے وال ے کی طرف مصائب لپکت ے ہیں ۔‬
‫یعنی اس دعوی کی دلیل چا ہیئ ے اور و ہ دلیل تیر ے آنگن‬
‫میں مصائب وآلم کا نزول ہ ے جن ہیں تج ھ ے س ہنا پڑ ے گا‬
‫اور ان پرصبر کرنا پڑےے گا اوراگر ان ہیں برداشت ن ہ‬
‫کرسکا توتیر ے دعوی محبت کی کچ ھ حقیقت ن ہیں ۔بل‬
‫مشقت دعوی محبت واتبا ع پر ہ ر شخص کو اپن ے دین‬
‫وایمان کامحاسبہے کرنا چا ہیئےے کہے وہے اپنےے دعوی ایمان‬
‫میں کس قدر سچااور مخلص ہ ے اگر کوئی ک ہ ے ک ہ شیخ‬
‫کا ی ہ انقلب جبر واکرا ہ کا نتیج ہ ہ ے او ر ایسا شخص‬
‫‪23‬‬

‫شرعاًمعذور ہوتا ہے تومیں ک ہوں گاک ہ کاش حقیقت ی ہی‬
‫ہ و ی ہی وج ہ ت ھی ک ہ ہم تحریر کو اس قدر تاخیر س ے لک ھ‬
‫رہےے ہی ں کہے شای د وہے عذ ر خوا ہ ی کری ں یا ہمی ں ہ ی مل‬
‫جائ ے لیکن افسوس احوال وقرائن س ے پت ہ چلتا ہ ے شیخ‬
‫یہے سب بخوشی ورضاکررہےے ہیں اسی لئےے تو وہے اس‬
‫سلسل ے میں اپن ے کسی مخالف کو پسند ن ہیں کرت ے اور‬
‫پ ھ ر جبر واکرا ہ جس پر کسی شخص کو معذور تسلیم‬
‫کیا جاتا ہے اس کی عبارات س ے ظا ہر ہوجاتا ہے یا پ ھر و ہ‬
‫ای ک آدھے سط ر ی ا زیادہے سےے زیادہے جابری ن وقا ھری ن ک ے‬
‫جبر وق ہر میں ایک دوصفحےے لکھے لیتا ہےے لیکن پور ے‬
‫پور ے مقال ے اور بحثیں اور کتابیں لک ھ مارنا اور پ ھ ر ان‬
‫پر فق ہ ی اصول جن ہیں ان ک ے سوا اورکوئی ن ہیں جانتا‬
‫اور ہر طریق واستدلل اختیار کرنا اوراپن ےے ذاتی‬
‫تجربات کا حوال ہ دینا اور مخالف نظری ے ک ے حامل کو‬
‫ج ھکان ے کی پ ھ ر پور جدوج ہ د کرنا اور مختلف انداز اور‬
‫ترغیب و تر ہیب ک ے ذریع ے اس ے قائل کرن ے کی کوشش‬
‫کرنا یہے سب جبر واکراہے کا نتیجہے ن ہیں ہوسکتا ۔والل ہ‬
‫تعالی ٰ اعلم ۔‬
‫مگر چونک ہ ہمیں اپن ے حبیب ک ے سک ھائ ے ہوئ ے عذر س ے‬
‫متعلق تعلیمات س ے محبت ہ ے ل ہٰذا میں ک ہوں گا ک ہ ‪:‬اگر‬
‫بع د کےے حال ت می ں ایس ا کچھے سامنےے آیاکہے شی خ نےے ی ہ‬
‫سب جبر واکراہے سےے مجبور ومکروہے ہوکرکیا اور اس‬
‫س ے راضی و ہ خوش ن ہ ت ھ ے اور الل ہ کی طرف ان سب‬
‫س ے اظ ہار براءت کردیت ے ہیں تو ہم ب ھی فورا ً ہی بلتردد‬
‫اپنی اس تحریر کا رد ّ کردیں گ ے اور اس ے کالعدم قرار‬
‫د ے دیں گ ے اور واضح طور پر ان س ے اپنی اس تحریر‬
‫ک ے سلسل ے میں عذرت خوا ہ ی کریں گ ے کیونک ہ ہماری‬
‫اس تحریر کا مقصد کسی پر ظلم ڈھانان ہیں ہےے اگر‬
‫میر ے معذرت کرن ے س ے حق کی یا مظلوم کی مدد ہو‬
‫اور اس ے انصاف مل جائ ے تومعذرت کرنا میر ے لئ ے کچ ھ‬
‫مشکل ن ہیں ۔ ّ‬
‫وللٰہ الحمد‬

‫‪ 3‬متشاب ہ پ ہلو‬
‫ی ہ پ ہلو ان ک ے مثالوں اورخطابات میں غالب ہے ان ہوں ن ے‬
‫جو مسائل پیش کئ ے ہیں اس میں حق اور باطل خلط‬
‫ملط ہے ی ہی وج ہ ہے ک ہ ان کا کلم ایس ے متشاب ہ ک ے حکم‬
‫میں ہوگا جو تفصیل ووضاحت کا محتاج ہوتاہےے اس‬
‫تفصیل وضاحت میں نئ ے سر ے س ے حق کو باطل س ے‬
‫‪24‬‬

‫الگ کردیاجاتا ہ ے اورباطل کو حق س ے جو کسی مقصد‬
‫یا مفاد کےے تحت وہے اپنےے بیان میں بطور متشابہے ک ے‬
‫ذکرکرتا ہ ے تاک ہ اس ے دیوار پر د ے مارا جائ ے لیکن اس‬
‫س ب کےے لئےے ان ہی ں م ہل ت درک ا رہےے ج س کامی ں اختیار‬
‫ن ہیں رک ھتا اگر زندگی باقی ر ہ ی اور حالت ن ے اجازت‬
‫دی اور ان ک ے مقالوں س ے متعلق دوبار ہ گفتگو کرن ے‬
‫کی نوبت آگئی تومیں ایسا ضرور کروں گا (ان شاءالل ہ‬
‫)میرےے خیا ل می ں شیخ سید امام ک ی جانب سےے پیش‬
‫کئ ے گئ ے باطل اور حق س ے انحراف ک ے ردّاور اس س ے‬
‫بچان ے اور ڈران ے ک ے لئ ے گذشت ہ تحریر کافی ہ ے خاص کر‬
‫منفی پ ہلو کی تردید اور خطرناکی اور اس ے ب ے نقاب‬
‫کرن ے کی ا ہمیت ک ے حوال ے س ے ۔‬
‫وا ﷲ من وراءالقصد و ھو ال ھادی الی سواءالسبیل‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫‪  ‬‬
‫‪   ‬‬
‫[‬
‫‪ ‬‬

‫‪‬‬

‫‪ ‬‬

‫‪  ‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫‪‬‬

‫میں محض بقدر استطاعت اصلح کا‬
‫‪‬‬
‫‪‬‬
‫خوا ہاں ہوں اور الل ہ ہ ی مج ھ ے توفیق دین ے وال ہ ے اسی‬
‫پر توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‬
‫( ھود‪]) 88:‬وآخر دعوانا ان الحمد ّللٰہ رب العالمین‬

‫عبدالمنعم مصطفی حلیم ۃ ابوبصیر‬
‫الطرطوسی‬
‫‪1428/11/19‬ھ ‪2007/11/29‬ء‬

‫‪25‬‬

www.abubaseer.bizland.com
‫مدثر احمد ابن ارشد لود ھی‬:‫ترجم ہ‬
http://www.muwahideen.tk
info@muwahideen.tk
‫مسلم ورل ڈ ڈیٹا پروسیسنگ پاکستان‬

26

Sign up to vote on this title
UsefulNot useful