‫قرآن کریم میں جو وقف کے مقامات ہیں جیسے ‪ O‬م‪ ،‬ج‪ ،‬ز‪ ،‬ص‪ ،‬صلے‪ ،‬ق‪ ،‬صل‪ ،‬قف‪

،‬س یا سکتہ‪ ،‬وقفہ‪ ،‬ل‪ ،‬ک‪،‬‬
‫ان پر وقف کرنا یا نہ کرنا حرام یا مکروہ تحریمی ہے۔ قرآن مجید میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں وقف کرنا یا نہ‬
‫کرنا فرض‪ ،‬واجب یا سنت موٴکدہ ہے؟ )‪ (۲‬وقف لزم پر کہتے ہیں وقف نہ کرنے سے مطلب بدل جاتا ہے‪ ،‬یہ کہاں‬
‫تک صحیح ہے اور اس کا گناہ ہوتا ہے یا نہیں؟)‪ (۳‬سکتوں کے مقامات پر سکتہ کرنا فرض ہے‪ ،‬واجب ہے یا سنت‬
‫موٴکدہ ہے؟ مد کرنا فرض ہے یا واجب ہے یا سنت موٴکدہ ہے؟)‪ (۴‬غنہ کرنا فرض ہے یا واجب ہے یا سنت موٴکدہ‬
‫ہے؟ برائے مہربانی آپ ان سوالوں کا جلد جواب ارسال فرمادیں۔ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو دنیا‬
‫اور آخرت میں کامیاب کرے۔ آمین‬
‫‪19 Apr, 2010‬‬
‫‪Answer: 21269‬‬

‫فتوی)د(‪5/1431-449=592 :‬‬
‫اس سوال کا اصل جواب یہ ہے کہ تجوید کے قواعد خواہ وقف سے متعلق ہوں یا غنہ اخفاء وغیرہ سے آیت کریمہ ?‬
‫ل? اور حدیث ?اقرأوا القرآن بلحون العرب? اور ?زّینوا القرآن بأصواتکم? جیسی حدیثوں سے‬
‫ن َتْرِتْی ً‬
‫ل اْلُقْرآ َ‬
‫َوَرّت ِ‬
‫ن تلوت سب کی رعایت حسب‬
‫نیز حضور اکرم اور صحابہٴ کرام سے مروی طریقہٴ تلوت سے ماخوذ ہیں۔ دوار ِ‬
‫مراتب کرنی چاہیے‪ ،‬ان میں سے کوئی حکم شرعًا واجب‪ ،‬فرض‪ ،‬مستحب یا مکروہ نہیں‪ ،‬بلکہ فن قراء ت کے‬
‫ماہرین نے مراتب کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اس کو وضع کیا ہے۔‬
‫ہاں اگر کسی جگہ وقف کرنے سے دوسرے معنی کا وہم ہو اور کوئی بدعقیدہ آدمی اس معنی کی نیت کرے تو‬
‫وہاں وصل لزم ہوجاتا ہے اور وقف حرام ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی جگہ وصل کرنے سے دوسرے معنی کا‬
‫وہم ہو اور قاری بھی اسی فاسد معنی کی نیت کرے تو وقف لزم ہوجاتا ہے۔ مزید معلومات کیے لیے ?جامع‬
‫الوقف? اور ?فوائد مکیہ? کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔‬
‫واللہ تعال ٰی اعلم‬
‫دارالفتاء‪ ،‬دارالعلوم دیوبند‬

Sign up to vote on this title
UsefulNot useful