You are on page 1of 82

Electronic Version

‫پطر س کے مضامین‬

‫پط رس ب خاری‬

moc.ilanamuon.www
‫‪Electronic Version‬‬

‫پطر س کے مضامین‬

‫پط رس ب خاری‬

‫فہرست‬

‫ہاسٹل میں پڑنا‪3.................................................................................................................................... .........‬‬
‫سویرے جو کل آنکھ میری کھلی ‪15.................................................................................... ..................‬‬
‫ّ‬
‫کتے‪22...................................................................................................................................... .......................‬‬
‫اردو کی آخری کتاب‪26............................................................................................................................ .....‬‬
‫میں ایک میاں ہوں‪29.......................................................................................................................... .......‬‬
‫مریدپور کا پیر ‪36.......................................................................................................................................... ...‬‬
‫انجام بخیر‪46.......................................................................................................................................... ..........‬‬
‫سینما کا عشق‪52.............................................................................................................................. ...........‬‬
‫میبل اور میں‪57................................................................................................................................. ............‬‬
‫مرحوم کی یاد میں‪61.................................................................................................................. ..................‬‬
‫لہور کا جغرافیہ‪76.................................................................................................................................. .....‬‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ہاسٹ ل م یں پڑنا‬

‫ہم نے کالج میں تعلیم تو ضرور پائی اور رفتہ رفتہ بی اے بھی پاس کرلیا‪ ،‬لیکن اس نصف‬
‫صدی کے دوران میں جو کالج میں گزارنی پڑی۔ ہاسٹل میں داخل ہونے کی اجازت ہمیں‬
‫صرف ایک ہی دفعہ ملی۔‬
‫خدا کا یہ فضل ہم پر کب اور کس طرح ہوا؟ یہ سوال ایک داستان کا محتاج ہے۔ جب ہم نے‬
‫انٹرنس پاس کیا تو مقامی اسکول کے ہیڈماسٹر صاحب خاص طور پر مبارکباد دینے کے لیے‬
‫آئے۔ قریبی رشتہ داروں نے دعوتیں دیں۔ محلے والوں میں مٹھائی بانٹی گئی اور ہمارے گھر‬
‫والوں پر یک لخت اس بات کا انکشاف ہوا کہ وہ لڑکا جسے آج تک اپنی کوتاہ بینی کی وجہ‬
‫سے ایک بےکار اور نالئق فرزند سمجھتے رہے تھے‪ ،‬دراصل لمحدود قابلیتوں کا مالک‬
‫ہے۔ جس کی نشوونما پر بےشمار آنے والی نسلوں کی بہبودی کا انحصار ہے۔ چنانچہ‬
‫ہماری آئندہ زندگی کے متعلق طرح طرح کی تجویزوں پر غور کیا جانے لگا۔‬
‫تھرڈ ڈویژن میں پاس ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی نے ہم کو وظیفہ دینا مناسب نہ سمجھا۔‬
‫چونکہ ہمارے خاندان نے خدا کے فضل سے آج تک کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں‬
‫ً‬
‫پھیلیا اس لیے وظیفے کا نہ ملنا خصوصا ان رشتہ داروں کے لیے جو رشتے کے لحاظ سے‬
‫خاندان کے مضافات میں بستے تھے‪ ،‬فخرومباہات کا باعث بن گیا۔ اور "مرکزی رشتے داروں"‬
‫نے تو اس کو پاس وضع اور حفظ مراتب سمجھ کر ممتحنوں کی شرافت ونجابت کو بے انتہا‬
‫سراہا۔ بہرحال ہمارے خاندان میں فالتوں روپے کی بہتات تھی۔ اس لیے بلتکلف یہ‬
‫فیصلہ کرلیا گیا کہ نہ صرف ہماری بلکہ ملک وقوم اور شاید بنی نوع انسان کی بہتری کے‬
‫لیے یہ ضروری ہےکہ ایسے ہونہار طالب علم کی تعلیم جاری رکھی جائے۔‬
‫اس بارے میں ہم سے بھی مشورہ کیا گیا۔ عمر بھر میں اس سے پہلے ہمارے کسی‬
‫معاملے میں ہم سے رائے طلب نہ کی گئی تھی لیکن اب تو حالت بہت مختلف تھے۔ اب‬
‫تو ایک غیرجانبدار اور ایماندار مصنف یعنی یونیورسٹی ہماری بیدار مغزی کی تصدیق‬
‫کرچکی تھی۔ اب بھل ہمیں کیونکہ نظرانداز کیا جاسکتا تھا۔ ہمارا مشورہ یہ تھا کہ ہمیں‬
‫ً‬
‫فورا ولیت بھیج دیا جائے۔ ہم نے مختلف لیڈروں کی تقریروں سے یہ ثابت کیا کہ ہندوستان‬
‫کا طریقہ تعلیم بہت ناقص ہے۔ اخبارات میں سے اشتہار دکھا دکھا کر یہ واضح کیا کہ‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ولیت میں کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ فرصت کے اوقات میں بہت تھوڑی تھوڑی فیسیں‬
‫دے کر بیک وقت جرنلزم‪ ،‬فوٹو گرافی‪ ،‬تصنیف وتالیف‪ ،‬دندان سازی‪ ،‬عینک سازی‪ ،‬ایجنٹوں‬
‫کا کام غرض یہ کہ بےشمار مفید اور کم خرچ بالنشیں پیشے سیکھے جاسکتے ہیں۔ اور‬
‫تھوڑے عرصے کے اندر انسان ہرفن مول بن سکتا ہے۔‬
‫ً‬
‫لیکن ہماری تجویز کو فورا رد کردیا گیا۔ کیونکہ ولیت بھیجنے کے لیے ہمارے شہر میں‬
‫کوئی روایات موجود نہ تھیں۔ ہمارے گردونواح میں کسی کا لڑکا ابھی تک ولیت نہ گیا تھا‬
‫ً‬
‫اس لئے ہمارے شہر کی پبلک وہاں کے حالت سے قطعا ناواقف تھی۔‬
‫اس کے بعد پھر ہم سے رائے طلب نہ کی گئی اور ہمارے والد‪ ،‬ہیڈماسٹر صاحب اور‬
‫تحصیلدار صاحب ان تینوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں لہور بھیج دیا جائے۔‬
‫جب ہم نے یہ خبر سنی تو شروع شروع میں ہمیں سخت مایوسی ہوئی۔ لیکن جب ادھر‬
‫ُ‬
‫ادھرکے لوگوں سے لہور کے حالت سنے تو معلوم ہوا کہ لندن اور لہور میں چنداں فرق‬
‫نہیں۔ بعض واقف کار دوستوں نے سینما کے حالت پر روشنی ڈالی۔ بعض نے تھیٹروں کے‬
‫مقاصد سے آگاہ کیا۔ بعض نے ٹھنڈی سڑک وغیرہ کے مشاغل کو سلجھا کر سمجھایا۔‬
‫بعض نے شاہدرے اور شالمار کی ارمان انگیز فضا کا نقشہ کھینچا۔ چنانچہ جب لہور کا‬
‫ٰ‬
‫جغرافیہ پوری طرح ہمارے ذہن نشین ہوگیا تو ثابت یہ ہوا کہ خوشگوار مقام ہے۔ اور اعلی‬
‫درجے کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بےحدموزوں۔ اس پر ہم نے اپنی زندگی کا پروگرام‬
‫وضع کرنا شروع کردیا۔ جس میں لکھنے پڑھنے کو جگہ تو ضرور دی گئی‪ ،‬لیکن ایک مناسب‬
‫حد تک‪ ،‬تاکہ طبعیت پر کوئی ناجائز بوجھ نہ پڑے۔ اور فطرت اپنا کام حسن وخوبی کے ساتھ‬
‫کرسکے۔‬
‫لیکن تحصیلدار صاحب اور ہیڈماسٹر صاحب کی نیک نیتی یہیں تک محدود نہ رہی۔ اگر وہ‬
‫ایک عام اور مجمل سا مشورہ دے دیتے کہ لڑکے کو لہور بھیج دیا جائے تو بہت خوب تھا۔‬
‫لیکن انہوں نے تو تفصیلت میں دخل دینا شروع کردیا۔ اور ہاسٹل کی زندگی اور گھر کی‬
‫زندگی کا مقابلہ کرکے ہمارے والد پر یہ ثابت کردیا کہ گھر پاکیزگی اور طہارت کا ایک‬
‫کعبہ اور ہاسٹل گناہ ومعصیت کا ایک دوزخ ہے۔ ایک تو تھے وہ چرب زبان‪ ،‬اس پر انہوں نے‬
‫بےشمار غلط بیانیوں سے کام لیا۔ چنانچہ گھر والوں کو یقین سا ہوگیا کہ کالج کا ہاسٹل‬
‫جرائم پیشہ اقوام کی ایک بستی ہے۔ اور جو طلباء باہر کے شہروں سے لہور جاتے ہیں اگر ان‬
‫ُ‬
‫کی پوری طرح نگہداشت نہ کی جائے تو وہ اکثر یاتوشراب کے نشے میں چور سڑک کے کنارے‬
‫کسی نالی میں گرے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ یا کسی جوئے خانہ میں ہزارہا روپے ہار کر‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫خودکشی کرلیتے ہیں یا پھر فرسٹ ائیر کا امتحان پاس کرنے سے پہلے دس بارہ شادیاں‬
‫کربیٹھے ہیں۔‬
‫چنانچہ گھر والوں کو یہ سوچنے کی عادت پڑ گئی کہ لڑکے کو کالج میں تو داخل کیا‬
‫جائےلیکن ہاسٹل میں نہ رکھا جائے۔ کالج ضرور مگر ہاسٹل ہرگز نہیں۔ کالج مفید۔ مگر‬
‫ہاسٹل مضر۔ وہ بہت ٹھیک مگر یہ ناممکن۔ جب انہوں نے اپنی زندگی کا نصب العین ہی‬
‫یہ بنالیا کہ کوئی ایسی ترکیب سوچی جائے جس سے لڑکا ہاسٹل کی زد سے محفوظ رہے تو‬
‫کسی ترکیب کا سوجھ جانا کیا مشکل تھا۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ چنانچہ ازحد‬
‫غوروخوض کے بعد لہور میں ہمارے ایک ماموں دریافت کئے گئے۔ اور ان کو ہمارا‬
‫سرپرست بنادیا گیا۔ میرے دل میں ان کی عزت پیدا کرنے کے لیے بہت سے شجروں کی‬
‫ورق گردانی سے مجھ پر یہ ثابت کیا کہ وہ واقعی میرے ماموں ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ جب‬
‫میں ایک شیرخوار بچہ تھا تو وہ مجھ سے بےانتہا محبت کیا کرتے تھے۔ چنانچہ فیصلہ یہ‬
‫ہوا کہ ہم پڑھیں کالج میں رہیں ماموں کے گھر۔‬
‫ُ‬
‫اس سے تحصیل علم کا جو ایک ولولہ سا ہمارے دل میں اٹھ رہا تھا وہ کچھ بیٹھ سا گیا۔‬
‫ہم نے سوچا یہ ماموں لوگ اپنی سرپرستی کے زعم میں والدین سے بھی زیادہ احتیاط برتیں‬
‫ٰ‬
‫گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے دماغی اور روحانی قوی کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ‬
‫ملے گا۔ اور تعلیم کا اصلی مقصد فوت ہوجائے گا۔ چنانچہ وہی ہوا جس کا ہمیں خوف‬
‫تھا۔ ہم روزبروز مرجھاتے چلے گئے۔ اور ہمارے دماغ پر پھپھوندی سی جمنے لگی۔ سینما‬
‫جانے کی اجازت کبھی کبھار مل جاتی تھی لیکن اس شرط پر کہ بچوں کو بھی ساتھ لیتا‬
‫جاؤں۔ اس صحبت میں‪ ،‬میں بھل سینما سے کیا اخذ کرسکتا تھا۔ تھیٹر کے معاملے میں‬
‫ہماری معلومات اندرسبھا سے آگے بڑھنے نہ پائیں۔ تیرنا ہمیں نہ آیا کیونکہ ہمارے‬
‫ماموں کا ایک مشہور قول ہے کہ ڈوبتا وہی ہے جو تیراک ہو جسے تیرنا نہ آتا ہو وہ پانی میں‬
‫گھستا ہی نہیں۔ گھر پر آنے جانے والے دوستوں کا انتخاب ماموں کے ہاتھ میں تھا۔ کوٹ‬
‫کتنا لمبا پہنا جائے‪ ،‬اور بال کتنے لمبے رکھے جائیں۔ ان کے متعلق ہدایات بہت کڑی‬
‫تھیں۔ ہفتے میں دوبار گھر خط لکھنا ضروری تھا۔ سگریٹ غسل خانے میں چھپ کر پیتے‬
‫تھے۔ گانے بجانے کی سخت ممانعت تھی۔‬
‫یہ سپاہیانہ زندگی ہمیں راس نہ آئی۔ یوں تو دوستوں سے ملقات بھی ہوجاتی تھی۔ سیر کو‬
‫بھی چلے جاتے تھے۔ ہنس بول بھی لیتے تھے لیکن وہ جو زندگی میں ایک آزادی ایک‬
‫فراخی‪ ،‬ایک وارفتگی ہونی چاہئے وہ ہمیں نصیب نہ ہوئی۔ رفتہ رفتہ ہم اپنے ماحول پر غور‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬
‫ً‬
‫کرنا شروع کیا کہ ماموں جان عموما کس وقت گھر میں ہوتے ہیں‪ ،‬کس وقت باہر جاتے ہیں‪،‬‬
‫کس کمرے سے کس کمرے تک گانے کی آواز نہیں پہنچ سکتی‪ ،‬کس دروازے سے‬
‫کمرے کے کس کونے میں جھانکنا ممکن ہے۔ گھر کا کون سادروزہ رات کے وقت باہر سے‬
‫کھول جاسکتا ہے‪ ،‬کون سا ملزم موافق ہے‪ ،‬کون سا نمک حلل ہے۔ جب تجربے اور‬
‫مطالعے سے ان باتوں کا اچھی طرح اندازہ ہوگیا تو ہم نے اس زندگی میں بھی نشوونما کے‬
‫لیے چند گنجائشیں پیدا کرلیں۔ لیکن پھر بھی ہم روز دیکھتے تھے کہ ہاسٹل میں رہنے و الے‬
‫طلباء کس طرح اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر زندگی کی شاہراہ پر چل رہے ہیں۔ ہم ان کی‬
‫زندگی پر رشک کرنے لگے۔ اپنی زندگی کو سدھارنے کی خواہش ہمارے دل میں روزبروز‬
‫بڑھتی گئی۔ ہم نے دل سے کہا والدین کی نافرمانی کسی مذہب میں جائز نہیں۔ لیکن ان کی‬
‫خدمت میں درخواست کرنا‪ ،‬ان کے سامنے اپنی ناقص رائے کا اظہار کرنا‪ ،‬ان کو صحیح‬
‫واقعات سے آگاہ کرنا میرا فرض ہے۔ اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اپنے فرض کی ادائیگی‬
‫سے باز نہیں رکھ سکتی۔‬
‫چنانچہ جب گرمیوں کی تعطیلت میں‪ ،‬میں وطن کو واپس گیا تو چند مختصر مگر جامع اور‬
‫مؤثر تقریریں اپنے دماغ میں تیار رکھیں۔ گھروالوں کو ہاسٹل پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ‬
‫وہاں کی آزادی نوجوانوں کے لیے ازحد مضر ہوتی ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے‬
‫ہزارہا واقعات ایسے تصنیف کئے جن سے ہاسٹل کے قواعد کی سختی ان پر اچھی طرح روشن‬
‫ہوجائے۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب کے ظلم وتششد کی چند مثالیں رقت انگیز اور ہیبت خیز‬
‫پیرائے میں سنائیں۔ آنکھیں بند کرکے ایک آہ بھری اور بیچارے اشفاق کا واقعہ بیان کیا کہ‬
‫ایک دن شام کے وقت بیچارا ہاسٹل کو واپس آرہا تھا۔ چلتے چلتے پاؤں میں موچ آگئی۔ دو‬
‫ً‬
‫منٹ دیر سے پہنچا۔ صرف دو منٹ۔ بس صاحب اس پر سپرنٹنڈنٹ صاحب نے فورا تار دے‬
‫کر اس کے والد کو بلوایا۔ پولیس سے تحقیقات کرنے کو کہا۔ اور مہینے بھر کے لیے اس کا‬
‫ٰ‬
‫جیب خرچ بند کروادیا۔ توبہ ہے الہی!‬
‫لیکن یہ واقعہ سن کر گھر کے لوگ سپرنٹنڈنٹ صاحب کے مخالف ہوگئے۔ ہاسٹل کی خوبی‬
‫ان پر واضح نہ ہوئی۔ پھر ایک دن موقع پا کر بیچارے محمود کا واقعہ بیان کیا کہ ایک دفعہ‬
‫شامت اعمال بیچارا سینما دیکھنے چل گیا۔ قصور اس سے یہ ہوا کہ ایک روپے والے درجے‬
‫میں جانے کی بجائے دو روپے والے درجے میں چل گیا۔ بس اتنی سی فضول خرچی پر اسے‬
‫عمر بھر کو سینما جانے کی ممانعت ہوگئی ہے۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬
‫ً‬
‫لیکن اس سے بھی گھر والے متاثر نہ ہوئے۔ ان کے روئے سے مجھے فورا احساس ہوا کہ ایک‬
‫روپے اور دو روپے کی بجائے آٹھ آنے اور ایک روپیہ کہنا چاہئے تھا۔‬
‫ان ہی ناکام کوششوں میں تعطیلت گزر گئیں اور ہم نے پھر ماموں کی چوکھٹ پر آکر سجدہ‬
‫کیا۔‬
‫اگلی گرمیوں میں جب ہم پھر گھر گئے تو ہم نے ایک نیا ڈھنگ اختیار کیا۔ دو سال تعلیم‬
‫پانے کے بعد ہمارے خیالت میں پختگی سی آگئی تھی پچھلے سال ہاسٹل کی حمایت‬
‫میں جو دلئل ہم نے پیش کی تھیں‪ ،‬وہ اب ہمیں نہایت بودی معلوم ہونے لگی تھیں۔ اب‬
‫کے ہم نے اس موضوع پر ایک لیکچر دیا کہ جو شخص ہاسٹل کی زندگی سے محروم ہو اس‬
‫کی شخصیت نامکمل رہ جاتی ہے۔ ہاسٹل سے باہرشخصیت پنپنے نہیں پاتی۔ چند دن تو‬
‫ہم اس پر فلسفیانہ گفتگو کرتے رہے۔ اور نفسیات کے نقطہ نظر سے اس پر بہت کچھ‬
‫روشنی ڈالی۔ لیکن ہمیں محسوس ہوا کہ بغیر مثالوں کے کام نہ چلے گا۔ اور جب مثالیں‬
‫دینے کی نوبت آئی‪ ،‬تو ذرا وقت محسوس ہوئی۔ کالج کے جن طلبا کے متعلق میرا ایمان تھا‬
‫کہ وہ زبردست شخصیتوں کے مالک ہیں‪ ،‬ان کی زندگی کچھ ایسی نہ تھی کہ والدین کے‬
‫سامنے بطور نمونے کے پیش کی جاسکے۔ ہر وہ شخص جسے کالج میں تعلیم حاصل کرنے‬
‫کا موقع ملہے‪ ،‬جانتا ہے کہ "والدینی اغراض" کے لیے واقعات کو ایک نئے اور اچھوتے‬
‫پیرائے میں بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن اس پیرائے کا سوجھ جانا الہام اور‬
‫اتفاق پر منحصر ہے۔ بعض روشن خیال بیٹے اپنے والدین کو اپنے حیرت انگیز اوصاف کا‬
‫قائل نہیں کرسکتے اور بعض نالئق سے نالئق طالب علم والدین کو کچھ اس طرح مطمئن‬
‫کردیتے ہیں کہ ہر ہفتے ان کے نام منی آرڈر چل آتا ہے۔‬
‫بناداں آں چناں روزی رساند‬
‫کہ دانا اندراں حیراں بماند‬
‫جب ہم ڈیڑھ مہینے تک شخصیت اور ہاسٹل کی زندگی پر اس کا انحصار‪ ،‬ان پر مضمونوں پر‬
‫ً ً‬
‫وقتافوقتا اپنے خیالت کا اظہار کرتے رہے تو ایک والد نے پوچھا‪:‬‬
‫"تمہارا شخصیت سے آخر مطلب کیا ہے؟"‬
‫میں تو خدا سے یہی چاہتا تھا کہ وہ مجھے عرض ومعروض کا موقع دیں۔ میں نے کہا۔‬
‫ً‬
‫"دیکھئے نا۔ مثل ایک طالب علم ہے‪ ،‬وہ کالج میں پڑھتا ہے۔ اب ایک تو اس کا دماغ ہے‬
‫دوسرا اس کا جسم ہے۔ جسم کی صحت بھی ضروری ہے۔ اور دماغ کی صحت تو ضروری ہے‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ہی۔ لیکن ان کے علوہ ایک اور بات بھی ہوتی ہے جس سے آدمی کو پہچانا جاتا ہے۔ میں‬
‫اس کو شخصیت کہتا ہوں۔ اس کا تعلق نہ جسم سے ہوتا ہے نہ دماغ سے‪ ،‬ہوسکتا ہے کہ‬
‫ایک آدمی کی جسمانی صحت بالکل خراب ہو اور اس کا دماغ بھی بالکل بیکار ہو‪ ،‬لیکن پھر‬
‫بھی اس کی شخصیت۔۔۔ نہ خیر دماغ تو بیکار نہیں ہونا چاہئے ورنہ انسان خبطی ہوتا ہے‬
‫لیکن پھر بھی اگر ہو بھی۔ تو بھی۔۔۔ گویا شخصیت ایک ایسی چیز ہے۔۔۔ ٹھہرئیے‪ ،‬میں ابھی‬
‫ایک منٹ میں آپ کو بتاتا ہوں۔"‬
‫ایک منٹ کی بجائے والد نے مجھے آدھ گھنٹے کی مہلت دی جس کے دوران میں وہ‬
‫ُ‬
‫خاموشی کے ساتھ میرے جواب کا انتظار کرتے رہے‪ ،‬اس کے بعد وہاں سے اٹھ کر چلآیا۔‬
‫تین چار دن کے بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا‪ ،‬مجھے شخصیت نہیں سیرت کہنا‬
‫چاہئے۔ شخصیت ایک بےرنگ سا لفظ ہے۔ سیرت کے لفظ سے نیکی ٹپکتی ہے۔ چنانچہ‬
‫میں نے سیرت کو اپنا تکیہ کلم بنالیا۔ لیکن یہ بھی مفید ثابت نہ ہوا۔ والد کہنے لگے۔ "کیا‬
‫سیرت سے تمہارا مطلب چال چلن ہے یا کچھ اور؟" میں نے کہا "چال چلن کہہ لیجئے۔"‬
‫"تو گویا دماغی اور جسمانی صحت کے علوہ چال چلن بھی اچھا ہونا چاہئے۔"‬
‫میں نے کہا۔ "بس یہی تو میرا مطلب ہے۔"‬
‫"اور یہ چال چلن ہاسٹل میں رہنے سے بہت اچھا ہوجاتا ہے!"‬
‫ً‬
‫میں نسبتا نحیف آواز سے کہا۔ "جی ہاں۔"‬
‫"یعنی ہاسٹل میں رہنے والے طالب علم نماز‪ ،‬روزے کے زیادہ پابند ہوتے ہیں‪ ،‬ملک کی‬
‫زیادہ خدمت کرتے ہیں ‪ ،‬سچ زیادہ بولتے ہیں‪ ،‬نیک زیادہ ہوتے ہیں۔"‬
‫میں نے کہا۔ "جی ہاں"۔‬
‫کہنے لگے۔ "وہ کیوں؟"‬
‫اس سوال کا جواب ایک دفعہ پرنسپل صاحب نے تقسیم انعامات کے جلسے میں نہایت‬
‫وضاحت کے ساتھ بیان کیا تھا‪ ،‬اے کاش میں نے اس وقت توجہ سے سنا ہوتا!‬
‫اس کے بعد پھر سال بھر میں ماموں کے گھر میں "زندگی ہے تو خزاں کے بھی گزر جائیں کے‬
‫دن۔" گاتا رہا۔‬
‫ہر سال میری درخواست کا یہی حشر ہوتا رہا لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ ہر سال ناکامی کا‬
‫منہ دیکھنا پڑا۔ لیکن اگلے سال گرمی کی چھٹیوں میں پہلے سے بھی زیادہ شدومد کے‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ساتھ تبلیغ کا کام جاری رکھتا۔ ہر دفعہ نئی نئی دلیلیں پیش کرتا‪ ،‬نئی نئی مثالیں کام میں‬
‫لتا۔ جب شخصیت اور سیرت والے مضمون سے کام نہ چل تو اگلے سال ہاسٹل کی زندگی‬
‫کے انضباط اور باقاعدگی پر تبصرہ کیا۔ اس سے اگلے سال یہ دلیل پیش کی کہ ہاسٹل‬
‫میں رہنے سے پروفیسروں کے ساتھ ملنے جلنے کے موقعے زیادہ ملتے رہتے ہیں۔ اور ان‬
‫"بیرون از کالج" ملقاتوں سے انسان پارس ہوجاتا ہے۔ اس سے اگلے سال یہ مطلب یوں ادا‬
‫کیا کہ ہاسٹل کی آب وہوا بڑی اچھی ہوتی ہے۔ صفائی کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے۔‬
‫مکھیاں اور مچھر مارنے کے لیے کئی کئی افسر مقرر ہیں۔ اس سے اگلے سال یوں سخن پیرا‬
‫ہوا کہ جب بڑے بڑے حکام کالج کا معائنہ کرتے آتے ہیں تو ہاسٹل میں رہنے والے طلباء‬
‫ً ً‬
‫سے فردا فردا ہاتھ ملتے ہیں‪ ،‬اس سے رسوخ بڑھتا ہے لیکن جوں جوں زمانہ گزرتا گیا‪ ،‬میری‬
‫تقریروں میں جوش بڑھتا گیا‪ ،‬معقولیت کم ہوتی گئی۔ شروع شروع میں ہاسٹل کے مسئلے پر‬
‫والد مجھ سے باقاعدہ بحث کیا کرتے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے یک لفظی انکار‬
‫کا رویہ اختیار کیا۔ پھر ایک آدھ سال مجھے ہنس کے ٹالتے رہے۔ اور آخر میں یہ نوبت آن‬
‫پہنچی کہ وہ ہاسٹل کا نام سنتے ہی طنز آمیز قہقہے کے ساتھ مجھے تشریف لے جانے کا‬
‫حکم دے دیا کرتے تھے۔‬
‫ان کے اس سلوک سے آپ یہ اندازہ نہ لگائیے کہ ان کی شفقت کچھ کم ہوگئی تھی‪ ،‬ہر گز‬
‫نہیں حقیقت صرف اتنی ہے کہ بعض ناگوار حادثات کی وجہ سے گھر میں میرا اقتدار کچھ‬
‫کم ہوگیا تھا۔‬
‫اتفاق یہ ہوا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ بی۔اے کا امتحان دیا‪ ،‬تو فیل ہوگیا۔ اگلے سال‬
‫ایک مرتبہ پھر یہی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد بھی جب تین چار دفعہ یہی قصہ ہوا تو گھر‬
‫والوں نے میری امنگوں میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ بی۔اے میں پےدرپے فیل ہونے کی‬
‫وجہ سے میری گفتگو میں ایک سوز تو ضرور آگیا تھا‪ ،‬لیکن کلم میں وہ پہلے جیسی شوکت‬
‫اور میری رائے وہ پہلی جیسی وقعت اب نہ رہی تھی۔‬
‫میں زمانۂ طالب علمی کے اس دور کا حال ذرا تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ اس‬
‫سے ایک تو آپ میری زندگی کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہوجائیں گے اور اس کے‬
‫علوہ اس سے یونیورسٹی کی بعض بےقاعدگیوں کا راز بھی آپ پر آشکار ہو جائے گا۔‬
‫میں پہلے سال بی۔اے میں کیوں فیل ہوا؟ اس کا سمجھنا بہت آسان ہے۔ بات یہ ہوئی کہ‬
‫جب ہم نے ایف۔اے کا امتحان دیا تو چونکہ ہم نے کام خوب دل لگا کر کیا تھا‪ ،‬اس لیے ہم‬
‫اس میں "کچھ" پاس ہی ہوگئے۔ بہرحال فیل نہ ہوئے‪ ،‬یونیورسٹی نے یوں تو ہمارا ذکر بڑے‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫اچھے الفاظ میں کیا لیکن ریاضی کے متعلق یہ ارشاد ہوا کہ صرف اس مضمون کا امتحان‬
‫ً‬
‫ایک آدھ دفعہ پھر دے ڈالو۔ (ایسے امتحان کو اصطلحا کمپارٹمنٹ کا امتحان کہا جاتا‬
‫ہے۔ شاید اس لیے کہ بغیر رضامندی اپنے ہمراہی مسافروں کے اگر کوئی اس میں سفر کر‬
‫رہے ہوں‪ ،‬نقل نویسی کی سخت ممانعت ہے۔ )‬
‫اب جب ہم بی۔اے میں داخل ہونے لگے تو ہم نے یہ سوچا کہ بی۔اے میں ریاضی لیں گے۔‬
‫اس طرح سے کمپارٹمنٹ کے امتحان کے لیے فالتو کام نہ کرنا پڑےگا۔ لیکن ہمیں سب‬
‫لوگوں نے یہ مشورہ دیا کہ تم ریاضی مت لو۔ جب ہم نے اس کی وجہ پوچھی تو کسی نے‬
‫ہمیں کوئی معقول جواب نہ دیالیکن جب پرنسپل صاحب نے بھی مشورہ دیا تو ہم رضامند‬
‫ہوگئے۔ چنانچہ بی۔اے میں ہمارے مضامین انگریزی‪ ،‬تاریخ اور فارسی قرار پائے۔ ساتھ‬
‫ساتھ ہم ریاضی کے امتحان کی بھی تیاری کرتے رہے۔ گویا ہم تین کی بجائے چار مضمون‬
‫پڑھ رہے تھے۔ اس طرح سے جو صورت حال پیدا ہوئی اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں‬
‫جنہیں یونیورسٹی کے امتحانات کا کافی تجربہ ہے۔ ہماری قوت مطالعہ منتشر ہوگئی اور‬
‫خیالت میں پراگندگی پیدا ہوئی۔ اگر مجھے چار کی بجائے صرف تین مضامین پڑھنے‬
‫ہوتےتو جو وقت میں فی الحال چوتھے مضمون کو دے رہا تھا۔ وہ بانٹ کر ان تین مضامین کو‬
‫دیتا۔ آپ یقین مانئے اس سے بڑا فرق پڑ جاتا اور فرض کیا اگر میں وہ وقت تینوں کو بانٹ کر نہ‬
‫دیتا بلکہ سب کا سب ان تینوں میں سے کسی ایک مضمون کے لیے وقف کردیتا تو کم از کم‬
‫اس مضمون میں تو ضرور پاس ہو جاتا۔ لیکن موجودہ حالت میں تو وہی ہونا لزم تھا جو ہوا۔‬
‫یعنی یہ کہ میں کسی مضمون پر بھی کماحقہٗ توجہ نہ کرسکا۔ کمپارٹمنٹ کے امتحان‬
‫میں تو پاس ہوگیا لیکن بی۔اے میں ایک تو انگریزی میں فیل ہوا۔ وہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ‬
‫انگریزی ہماری مادری زبان نہیں۔ اس کے علوہ تاریخ اور فارسی میں بھی فیل ہوگیا۔ اب آپ‬
‫ہی سوچئے ناکہ جو وقت مجھے کمپارٹمنٹ کے امتحان پر صرف کرنا پڑا وہ اگر میں وہاں‬
‫صرف نہ کرتا بلکہ اس کے بجائے۔۔۔ مگر خیر یہ بات میں پہلے عرض کرچکا ہوں۔‬
‫فارسی میں کسی ایسے شخص کا فیل ہونا جو ایک علم دوست خاندان سے تعلق رکھتا ہو‬
‫لوگوں کے لیے ازحد حیرت کا موجب ہوا۔ اور سچ پوچھئے تو ہمیں بھی اس پر سخت ندامت‬
‫ہوئی۔ لیکن خیر اگلے سال یہ ندامت دھل گئی۔ اور ہم فارسی میں پاس ہوگئے اور اس سے‬
‫اگلے سال تاریخ میں پاس ہوگئے اور اس سے اگلے سال انگریزی میں۔‬
‫اب قاعدے کی رو سے ہمیں بی۔اے کا سرٹیفکیٹ مل جانا چاہئے تھا۔ لیکن یونیورسٹی‬
‫کی اس طفلنہ ضد کا کیا علج کہ تینوں مضمونوں میں بیک وقت پاس ہونا ضروری ہے۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫بعض طبائع ایسی ہیں کہ جب تک یکسوئی نہ ہو‪ ،‬مطالعہ نہیں کرسکتے۔ کیا ضروری ہے‬
‫کہ ان کے دماغ کو زبردستی ایک کھچڑی سا بنا دیا جائے۔ ہم نے ہر سال صرف ایک مضمون‬
‫پر اپنی تمام تر توجہ دی اور اس میں وہ کامیابی حاصل کی کہ بایدوشاید‪ ،‬باقی دو مضمون ہم‬
‫نے نہیں دیکھے لیکن ہم نے یہ تو ثابت کردیا کہ جس مضمون میں چاہیں پاس ہوسکتے‬
‫ہیں۔‬
‫اب تک تو دو دو مضمونوں میں فیل ہوتے رہے تھے لیکن اس کے بعد ہم نے تہیہ کرلیا کہ‬
‫جہاں تک ہوسکا اپنے مطالعے کو وسیع کریں گے۔ یونیورسٹی کے بیہودہ اور بےمعنی قواعد‬
‫کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں بناسکتے تو اپنی طبعیت پر ہی کچھ زور ڈالیں۔ لیکن جتنا‬
‫غور کیا اس نتیجے پر پہنچے کہ تین مضمونوں میں بیک وقت پاس ہونا فی الحال مشکل‬
‫ہے۔ پہلے دو میں پاس ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔ چنانچہ ہم پہلے سال انگریزی اور‬
‫فارسی میں پاس ہوگئے۔ اور دوسرے سال فارسی اور تاریخ میں۔‬
‫جن جن مضامین میں ہم جیسے جیسے فیل ہوئے وہ اس نقشے سے ظاہر ہیں‪:‬‬
‫(‪ )۱‬انگریزی ۔۔۔ تاریخ۔۔۔ فارسی‬
‫(‪ )۲‬انگریزی۔۔۔ تاریخ‬
‫(‪ )۳‬انگریزی۔۔۔ فارسی‬
‫(‪ )۴‬تاریخ۔۔۔ فارسی‬
‫گویا جن جن طریقوں سے ہم دو دو مضامین میں فیل ہوسکتے تھے وہ ہم نے سب پورے کر‬
‫دئے۔ اس کے بعد ہمارے لیے دو مضامین میں فیل ہونا ناممکن ہوگیا۔ اور ایک ایک‬
‫مضمون میں فیل ہونے کی باری آئی۔ چنانچہ اب ہم نے مندرجہ ذیل نقشے کے مطابق فیل‬
‫ہونا شروع کردیا‪:‬‬
‫(‪ )۵‬تاریخ میں فیل‬
‫(‪ )۶‬انگریزی میں فیل‬
‫اتنی دفعہ امتحان دے چکنے کے بعد جب ہم نے اپنے نتیجوں کو یوں اپنے سامنے رکھ کر‬
‫غور کیا تو ثابت ہوا کہ غم کی رات ہونے والی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ اب ہمارے فیل ہونے کا‬
‫صرف ایک ہی طریقہ باقی رہ گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فارسی میں فیل ہوجائیں۔ لیکن اس کے‬
‫بعد تو پاس ہونا لزم ہے ہرچند کہ یہ سانحہ ازحد جانکاہ ہوگا۔ لیکن اس میں یہ مصلحت تو‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ضرور مضمر ہے کہ اس سے ہمیں ایک قسم کا ٹیکا لگ جائے گا۔ بس یہی ایک کسر باقی‬
‫رہ گئی ہے۔ اس سال فارسی میں فیل ہوں گے اور پھر اگلے سال قطعی پاس ہوجائیں گے۔‬
‫چنانچہ ساتویں دفعہ امتحان دینے کے بعد ہم بیتابی سے فیل ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ یہ‬
‫انتظار دراصل فیل ہونے کا انتظار نہ تھا بلکہ اس بات کا انتظار تھا کہ اس فیل ہونے کے‬
‫بعد ہم اگلے سال ہمیشہ کے لیے بی۔اے ہوجائیں گے۔‬
‫ہر سال امتحان کے بعد جب گھر آتا تو والدین کو نتیجے کے لیے پہلے ہی سے تیار کردیتا۔‬
‫ً‬
‫رفتہ رفتہ نہیں بلکہ یکلخت اور فورا‪ ،‬رفتہ رفتہ تیار کرنے سے خواہ مخواہ وقت ضائع ہوتا ہے۔‬
‫اور پریشانی مفت میں طول کھینچتی ہے۔ ہمارا قاعدہ یہ تھا کہ جاتے ہی کہہ دیا کرتے‬
‫تھے کہ اس سال تو کم از کم پاس نہیں ہوسکتے‪ ،‬والدین کو اکثر یقین نہ آتا۔ ایسے موقعوں پر‬
‫طبعیت کو بڑی الجھن ہوتی ہے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے میں پرچوں میں کیا لکھ کر‬
‫آیا ہوں۔ اچھی طرح جانتا ہوں کہ ممتحن لوگ اگر نشے کی حالت میں پرچے نہ دیکھیں تو‬
‫ً‬
‫میرا پاس ہونا قطعا ناممکن ہے۔ چاہتا ہوں کہ میرے تمام بہی خواہوں کو بھی اس بات کا‬
‫یقین ہوجائے تاکہ وقت پر انہیں صدمہ نہ ہو۔ لیکن بہی خوا ہ ہیں کہ میری تمام تشریحات‬
‫ً‬
‫کو محض کسر نفسی سمجھتے ہیں۔ آخری سالوں میں والد کو فورا یقین آجایا کرتا تھا کیونکہ‬
‫ُ‬
‫تجربہ سے ان پر ثابت ہوچکا تھا کہ میرا انداز غلط نہیں ہوتا‪،‬لیکن ادھر ادھر کے لوگ "اجی‬
‫نہیں صاحب" اجی کیا کہہ رہے ہو"۔ "اجی یہ بھی کوئی بات ہے"۔ ایسے فقروں سے ناک‬
‫میں دم کردیتے۔ بہرحال اب کے پھر گھر پہنچتے ہی ہم نے حسب دستور اپنے فیل ہونے‬
‫کی پیشن گوئی کردی۔ دل کو یہ تسلی تھی کہ بس یہ آخری دفعہ ہے۔ اگلے سال ایسی پیش‬
‫گوئی کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔‬
‫ساتھ ہی خیال آیاکہ وہ ہاسٹل کا قصہ پھر شروع کرنا چاہئے۔ اب تو کالج میں صرف ایک‬
‫ہی سال باقی رہ گیا ہے۔ اب بھی ہاسٹل میں رہنا نصیب نہ ہواتو عمر بھر گویا آزادی سے‬
‫محروم رہے۔ گھر سے نکلے تو ماموں کے ڈربے میں اور جب ماموں کے ڈربے سے نکلے تو‬
‫شاید اپنا ایک ڈربا بنانا پڑےگا۔ آزادی کا ایک سال۔ صرف ایک سال اور یہ آخری موقعہ‬
‫ہے۔‬
‫آخری درخواست کرنے سے پہلے میں نے تمام ضروری مصالحہ بڑی احتیاط سے جمع کیا‪،‬‬
‫جن پروفیسروں سے مجھے اب ہم عمری کا فخر حاصل تھا‪ ،‬ان کے سامنے نہایت بےتکلفی‬
‫سے اپنی آرزوؤں کا اظہار کیا اور ان سے والد کو خطوط لکھوائے کہ اگلے سال لڑکے کو ضرور‬
‫آپ ہاسٹل میں بھیج دیں۔ بعض کامیاب طلباء کے والدین سے بھی اس مضمون کی‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫عرضداشتیں بھجوائیں۔ خود اعدادوشمار سے ثابت کیا کہ یونیورسٹی سے جتنے لڑکے پاس‬
‫ہوتے ہیں‪ ،‬ان میں سے اکثر ہاسٹل میں رہتے ہیں‪ ،‬اور یونیورسٹی کا کوئی وظیفہ یا تمغہ یا انعام‬
‫تو کبھی ہاسٹل سے باہر گیا ہی نہیں۔ میں حیران ہوں کہ یہ دلیل مجھے اس سے پیشتر‬
‫کبھی کیوں نہ سوجھی تھی۔ کیونکہ یہ بہت کارگر ثابت ہوئی۔ والد کا انکار نرم ہوتے ہوتے‬
‫غورغوص میں تبدیل ہوگیا‪ ،‬لیکن پھر بھی ان کے دل سے شک رفع نہ ہوا۔ کہنے لگے۔‬
‫"میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جس لڑکے کو پڑھنے کا شوق ہو وہ ہاسٹل کی بجائے گھر پر‬
‫کیوں نہیں پڑھ سکتا۔"‬
‫میں نے جواب دیا کہ ہاسٹل میں ایک علمی فضا ہوتی ہے‪ ،‬جو ارسطو اور افلطون کے گھر‬
‫کے سوا اور کسی کے گھر میں دستیاب نہیں ہوسکتی۔ ہاسٹل میں جسے دیکھو بحر علوم‬
‫میں غوطہ زن نظر آتا ہے باوجود اس کے کہ ہر ہاسٹل میں دو دو تین تین سو لڑکے رہتے ہیں‬
‫پھر بھی وہ خموشی طاری ہوتی ہے کہ قبرستان معلوم ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے‬
‫پنے کام میں لگا رہتا ہے۔ شام کے وقت ہاسٹل کے صحن میں جابجا طلبا علمی مباحثوں‬
‫میں مشغول نظر آتے ہیں۔ علی الصبح ہر ایک طالب علم کتاب ہاتھ میں لیے ہاسٹل کے‬
‫چمن میں ٹہلتا نظر آتا ہے۔ کھانے کے کمرے میں‪ ،‬کامن روم میں‪ ،‬غسل خانوں میں‪،‬‬
‫برآمدوں میں‪ ،‬ہر جگہ لوگ فلسفے اور ریاضی اور تاریخ کی باتیں کرتے ہیں‪ ،‬جن کو ادب انگریزی‬
‫کا شوق ہے وہ دن رات آپس میں شیکسپیئر کی طرح گفتگو کرنے کی مشق کرتے ہیں۔‬
‫ریاضی کے طلباء اپنے ہر ایک خیال کو الجبرے میں ادا کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔‬
‫فارسی کے طلباء رباعیوں میں تبادلہ خیالت کرتے ہیں۔ تاریخ کے دلدادہ۔۔۔"‬
‫والد نے اجازت دے دی۔‬
‫اب ہمیں یہ انتظار کہ کب فیل ہوں‪ ،‬اور کب اگلے سال کے لیے عرضی بھیجیں۔ اس دوران‬
‫میں ہم نے ان تمام دوستوں سے خط وکتابت کی جن کے متعلق یقین تھا کہ اگلے سال پھر‬
‫ان کی رفاقت نصیب ہوگی اور انہیں یہ مژدہ سنایا کہ آئندہ سال ہمیشہ کے لیے کالج کی‬
‫تاریخ میں یادگار رہے گا کیونکہ ہم تعلیمی زندگی کا ایک وسیع تجربہ اپنے ساتھ لیے‬
‫ہاسٹل میں آرہے ہیں۔ جس سے ہم طلباء کی نئی پود کو مفت مستفید فرمائیں گے۔ اپنے‬
‫ذہن میں ہم نے ہاسٹل میں اپنی حیثیت ایک مادر مہربان کی سی سوچ لی جس کے اردگرد‬
‫ناتجربہ کار طلباء مرغی کے بچوں کی طرح بھاگتے پھریں گے۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب جو کسی‬
‫زمانے میں ہمارے ہم جماعت رہ چکے تھے لکھ بھیجا کہ جب ہم ہاسٹل میں آئیں تو‬
‫فلں فلں مراعات کی توقع آپ سے رکھیں گے‪ ،‬اور فلں فلں قواعد سے اپنےآپ کو‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬
‫ً‬ ‫ٰ‬
‫مستثنی سمجھیں گے۔ اطلعا عرض ہے۔ اور یہ سب کچھ کرچکنے کے بعد ہماری‬
‫بدنصیبی دیکھئے کہ جب نتیجہ نکل تو ہم پاس ہوگئے۔‬
‫ہم پہ تو جو ظلم ہوا سو ہوا‪ ،‬یونیورسٹی والوں کی حماقت ملحظہ فرمائیے کہ ہمیں پاس‬
‫کرکے اپنی آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ ہاتھ سے گنوا بیٹھے۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫و کل آنکھ میری کھلی‬ ‫سو یرے ج‬

‫گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی طرف دوڑتا ہے۔ ہماری جو شامت آئی تو ایک دن اپنے‬
‫پڑوسی للہ کرپا شنکرجی برہمچاری سے برسبیل تذکرہ کہہ بیٹھے کہ "للہ جی امتحان کے‬
‫دن قریب آتے جاتے ہیں‪ ،‬آپ سحرخیز ہیں‪ ،‬ذرا ہمیں بھی صبح جگادیا کیجئے۔"‬
‫ُ‬
‫وہ حضرت بھی معلوم ہوتا ہے نفلوں کے بھوکے بیٹھے تھے۔ دوسرے دن اٹھتے ہی انہوں‬
‫نے ایشور کا نام لے کر ہمارے دروازے پر مکابازی شروع کردی کچھ دیر تک تو ہم سمجھے‬
‫کہ عالم خواب ہے۔ ابھی سے کیا فکر‪ ،‬جاگیں تو لحول پڑھ لیں گے۔ لیکن یہ گولہ باری لمحہ‬
‫بہ لمحہ تیز ہوتی گئی۔ اور صاحب جب کمرے کی چوبی دیواریں لرزنے لگیں‪ ،‬صراحی پر رکھا‬
‫گلس جلترنگ کی طرح بجنے لگا اور دیوار پر لٹکا ہوا کیلنڈر پنڈولم کی طرح ہلنے لگا تو‬
‫بیداری کا قائل ہونا ہی پڑا۔ مگر اب دروازہ ہے کہ لگاتار کھٹکھٹایا جا رہا ہے۔ میں کیا‬
‫ُ‬
‫میرے آباؤاجداد کی روحیں اور میری قسمت خوابیدہ تک جاگ اٹھی ہوگی۔ بہتر آوازیں دیتا‬
‫ہوں۔۔۔ "اچھا!۔۔۔ اچھا!۔۔۔ تھینک یو!۔۔۔ جاگ گیا ہوں!۔۔۔ بہت اچھا! نوازش ہے!" آنجناب‬
‫ہیں کہ سنتے ہی نہیں۔ خدایا کس آفت کا سامنا ہے؟ یہ سوتے کو جگا رہے ہیں یا مردے‬
‫ٰ‬
‫کو جل رہے ہیں؟ اور حضرت عیسی بھی تو بس واجبی طور پر ہلکی سی آواز میں "قم" کہہ دیا‬
‫کرتے ہوں گے‪ ،‬زندہ ہوگیا تو ہوگیا‪ ،‬نہیں تو چھوڑ دیا۔ کوئی مردے کے پیچھے لٹھ لے کے‬
‫ُ‬
‫پڑجایا کرتے تھے؟ توپیں تھوڑی داغا کرتے تھے؟ یہ تو بھل ہم سے کیسے ہوسکتا تھا کہ اٹھ‬
‫کر دروازے کی چٹخنی کھول دیتے‪ ،‬پیشتر اس کے کہ بستر سے باہر نکلیں‪ ،‬دل کو جس قدر‬
‫سمجھانا بجھانا پڑتا ہے۔ اس کا اندازہ کچھ اہل ذوق ہی لگا سکتے ہیں۔ آخرکار جب لیمپ‬
‫جلیا اور ان کو باہر سے روشنی نظر آئی‪ ،‬تو طوفان تھما۔‬
‫اب جو ہم کھڑکی میں سے آسمان کو دیکھتے ہیں تو جناب ستارے ہیں‪ ،‬کہ جگمگا رہے‬
‫ہیں! سوچا کہ آج پتہ چلئیں گے‪ ،‬یہ سورج آخر کس طرح سے نکلتا ہے۔ لیکن جب گھوم‬
‫گھوم کر کھڑکی میں سے اور روشندان میں سے چاروں طرف دیکھا اور بزرگوں سے صبح‬
‫کاذب کی جتنی نشانیاں سنی تھیں۔ ان میں سے ایک بھی کہیں نظر نہ آئی‪ ،‬تو فکر سی لگ‬
‫گئی کہ آج کہیں سورج گرہن نہ ہو؟ کچھ سمجھ میں نہ آیا‪ ،‬تو پڑوسی کو آواز دی۔ "للہ‬
‫جی!۔۔۔ للہ جی؟"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫جواب آیا۔ "ہوں۔"‬
‫میں نے کہا "آج یہ کیا بات ہے۔ کچھ اندھیرا اندھیرا سا ہے؟"‬
‫کہنے لگے "تو اور کیا تین بجے ہی سورج نکل آئے؟"‬
‫تین بجے کا نام سن کر ہوش گم ہوگئے‪ ،‬چونک کر پوچھا۔ "کیا کہا تم نے؟ تین بجے ہیں۔"‬
‫کہنے لگے۔ "تین۔۔۔ تو۔۔۔ نہیں۔۔۔ کچھ سات۔۔۔ ساڑھے سات۔۔۔ منٹ اوپر تین ہیں۔"‬
‫میں نے کہا۔ "ارے کم بخت‪ ،‬خدائی فوجدار‪ ،‬بدتمیز کہیں کے‪ ،‬میں نے تجھ سے یہ کہا تھا‬
‫کہ صبح جگا دینا‪ ،‬یا یہ کہا تھا کہ سرے سے سونے ہی نہ دینا؟ تین بجے جاگنا بھی کوئی‬
‫ُ‬
‫شرافت ہے؟ ہمیں تو نے کوئی ریلوے گارڈ سمجھ رکھا ہے؟ تین بجے ہم اٹھ سکا کرتے تو‬
‫ُ‬
‫اس وقت دادا جان کے منظور نظر نہ ہوتے؟ ابے احمق کہیں کے تین بجے اٹھ کے ہم زندہ رہ‬
‫سکتے ہیں؟ امیرزادے ہیں‪ ،‬کوئی مذاق ہے‪ ،‬لحول ولقوة"۔‬
‫دل تو چاہتا تھا کہ عدم تشدد کو خیرباد کہہ دوں لیکن پھر خیال آیا کہ بنی نوع انسان کی‬
‫اصلح کا ٹھیکہ کوئی ہمیں نے لے رکھا ہے؟ ہمیں اپنے کام سے غرض۔ لیمپ بجھایا اور‬
‫بڑبڑاتے ہوئے پھر سوگئے۔‬
‫ُ‬
‫اور پھر حسب معمول نہایت اطمینان کے ساتھ بھلے آدمیوں کی طرح اپنے دس بجے اٹھے‪،‬‬
‫بارہ بجے تک منھ ہاتھ دھویا اور چار بجے چائے پی کر ٹھنڈی سڑک کی سیر کو نکل گئے۔‬
‫شام کو واپس ہِاسٹل میں وارد ہوئے۔ جوش شباب تو ہے ہی اس پر شام کا ارمان انگیز وقت۔‬
‫ہوا بھی نہایت لطیف تھی۔ طبعیت بھی ذرا مچلی ہوئی تھی۔ ہم ذرا ترنگ میں گاتے ہوئے‬
‫کمرےمیں داخل ہوئے کہ‬
‫بلئیں زلف جاناں کی اگر لیتے تو ہم لیتے‬
‫کہ اتنے میں پڑوسی کی آواز آئی۔ "مسٹر"۔‬
‫ہم اس وقت ذرا چٹکی بجانے لگے تھے۔ بس انگلیاں وہیں پر رک گئیں۔ اور کان آواز کی طرف‬
‫لگ گئے۔ ارشاد ہوا "یہ آپ گا رہے ہیں؟" (زور "آپ" پر)‬
‫میں نے کہا۔ "اجی میں کس لئق ہوں۔ لیکن خیر فرمائیے؟" بولے "ذرا۔۔۔ وہ میں۔۔۔ میں‬
‫ً‬
‫ڈسٹرب ہوتا ہوں ۔ بس صاحب۔ ہم میں جو موسیقیت کی روح پیدا ہوئی تھی فورا مر گئی۔‬
‫دل نے کہا۔ "اونابکار انسان دیکھ پڑھنے والے یوں پڑھتے ہیں "صاحب‪ ،‬خدا کے حضور گڑگڑا‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫کر دعا مانگی کہ "خدایا ہم بھی اب باقاعدہ مطالعہ شروع کرنے والے ہیں۔ہماری مدد کر اور‬
‫ہمیں ہمت دے۔"‬
‫آنسو پونچھ کر اور دل کو مضبوط کرکے میز کے سامنے آبیٹھے‪ ،‬دانت بھینچ لئے‪ ،‬نکٹائی‬
‫کھول دی‪ ،‬آستینیں چڑھا لیں‪ ،‬لیکن کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کریں کیا؟ سامنے سرخ سبز‪،‬‬
‫زرد سب ہی قسم کی کتابوں کا انبار لگا تھا۔ اب ان میں سے کوئی سی پڑھیں؟ فیصلہ یہ ہوا‬
‫کہ پہلے کتابوں کو ترتیب سے میز پر لگادیں کہ باقاعدہ مطالعہ کی پہلی منزل یہی ہے۔‬
‫بڑی تقطیع کی کتابوں کو علیحدہ رکھ دیا۔ چھوٹی تقطیع کی کتابوں کو سائز کے مطابق الگ‬
‫قطار میں کھڑا کردیا۔ ایک نوٹ پیپر پر ہر ایک کتاب کے صفحوں کی تعداد لکھ کر سب کو‬
‫جمع کیا پھر ‪۱۵‬۔اپریل تک کے دن گنے۔ صفحوں کی تعداد کو دنوں کی تعداد پر تقسیم کیا۔‬
‫ساڑھے پانچ سو جواب آیا‪ ،‬لیکن اضطراب کی کیا مجال جو چہرے پر ظاہر ہونے پائے۔ دل‬
‫ُ‬
‫میں کچھ تھوڑا سا پچھتائے کہ صبح تین بجے ہی کیوں نہ اٹھ بیٹھے لیکن کم خوابی کے‬
‫ً‬
‫طبی پہلو پر غور کیا۔ تو فورا اپنے آپ کو ملمت کی۔ آخرکار اس نتیجے پر پہنچے کہ تین بجے‬
‫ُ‬ ‫ُ‬
‫اٹھنا تو لغویات ہےالبتہ پانچ‪ ،‬چھ‪ ،‬سات بجے کے قریب اٹھنا معقول ہوگا۔ صحت بھی قائم‬
‫رہے گی‪ ،‬اور امتحان کی تیاری بھی باقاعدہ ہوگی۔ ہم خرماد ہم ثواب۔‬
‫ُ‬
‫یہ تو ہم جانتے ہیں کہ سویرے اٹھنا ہو تو جلدی ہی سو جانا چاہئے۔ کھانا باہر سے ہی کھا‬
‫آئے تھے۔ بستر میں داخل ہوگئے۔‬
‫چلتے چلتے خیال آیا‪ ،‬کہ للہ جی سے جگانے کے لیے کہہ ہی نہ دیں؟ یوں ہماری اپنی‬
‫ُ‬
‫قوت ارادی کافی زبردست ہے جب چاہیں اٹھ سکتے ہیں‪ ،‬لیکن پھر بھی کیا ہرج ہے؟‬
‫ڈرتے ڈرتے آواز دی۔ "للہ جی!"‬
‫انہوں نے پتھر کھینچ مارا "یس!"‬
‫ہم اور بھی سہم گئے کہ للہ جی کچھ ناراض معلوم ہوتے ہیں‪ ،‬تتل کے درخواست کی کہ‬
‫للہ جی‪ ،‬صبح آپ کو بڑی تکلیف ہوئی‪ ،‬میں آپ کا بہت ممنون ہوں۔ کل اگر ذرا مجھے‬
‫چھ بجے یعنی جس وقت چھ بجیں۔۔۔"‬
‫جواب ندارد۔‬
‫میں نے پھر کہا "جب چھ بج چکیں تو۔۔۔ سنا آپ نے؟"‬
‫چپ۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫"للہ جی!"‬
‫کڑکتی ہوئی آواز نے جواب دیا۔ "سن لیا سن لیا چھ بجے جگا دوں گا۔ تھری گاما پلس فور‬
‫ایلفا پلس۔۔۔"‬
‫"ہم نے کہا ب۔۔۔ ب۔۔۔ ب۔۔۔ بہت اچھا۔ یہ بات ہے۔"‬
‫توبہ! خدا کسی کا محتاج نہ کرے۔‬
‫للہ جی آدمی بہت شریف ہیں۔ اپنے وعدے کے مطابق دوسرے دن صبح چھ بجے انہوں‬
‫نے دروازو ں پر گھونسوں کی بارش شروع کردی۔ ان کا جگانا تو محض ایک سہارا تھا ہم خود‬
‫ہی انتظار میں تھے کہ یہ خواب ختم ہولے تو بس جاگتے ہیں۔ وہ نہ جگاتے تو میں خود ایک‬
‫دو منٹ کے بعد آنکھیں کھول دیتا۔ بہر صورت جیسا کہ میرا فرض تھا۔ میں نے ان کا شکریہ‬
‫ادا کیا۔ انہوں نے اس شکل میں قبول کیا کہ گولہ باری بند کردی۔‬
‫اس کے بعد کے واقعات ذرا بحث طلب سے ہیں اور ان کے متعلق روایات میں کسی قدر‬
‫اختلفات ہیں۔ بہرحال اس بات کا تو مجھے یقین ہے۔ اور میں قسم بھی کھا سکتا ہوں کہ‬
‫آنکھیں میں نے کھول دی تھیں۔ پھر یہ بھی یاد ہے کہ ایک نیک اور سچے مسلمان کی طرح‬
‫ُ‬
‫کلمۂ شہادت بھی پڑھا۔ پھر یہ بھی یاد ہے کہ اٹھنے سے پیشتر دیباچے کے طور پر ایک آدھ‬
‫کروٹ بھی لی۔ پھر کا نہیں پتہ۔ شاید لحاف اوپر سے اتار دیا۔ شاید سر اس میں لپیٹ دیا۔ یا‬
‫شاید کھانسایا خراٹا لیا۔ خیر یہ تو یقین امر ہے کہ دس بجے ہم بالکل جاگ رہے تھے۔ لیکن‬
‫للہ جی کے جگانے کے بعد اور دس بجے سے پیشتر خدا جانے ہم پڑھ رہے تھے یا شاید سو‬
‫رہے تھے۔ نہیں ہمارا خیال ہے پڑھ رہے تھے یا شاید سو رہے تھے۔ بہرصورت یہ نفسیات کا‬
‫مسئلہ ہے جس میں نہ آپ ماہر ہیں نہ میں۔ کیا پتہ‪ ،‬للہ جی نے جگایا ہی دس بجے ہو۔ یا‬
‫اس دن چھ دیر میں بجے ہوں۔ خدا کے کاموں میں ہم آپ کیا دخل دے سکتے ہیں۔ لیکن‬
‫ہمارے دل میں دن بھر یہ شبہ رہا کہ قصور کچھ اپنا ہی معلوم ہوتا ہے۔ جناب شرافت‬
‫ملحظہ ہو‪ ،‬کہ محض اس شبہ کی بناء پر صبح سے شام تک ضمیر کی ملمت سنتا رہا۔ اور‬
‫اپنے آپ کو کوستا رہا۔ مگر للہ جی سے ہنس ہنس کر باتیں کیں ان کا شکریہ ادا کیا۔ اور اس‬
‫خیال سے کہ ان کی دل شکنی نہ ہو‪ ،‬حد درجے کی طمانیت ظاہر کی کہ آپ کی نوازش سے‬
‫میں نے صبح کا سہانا اور روح افزا وقت بہت اچھی طرح صرف کیا ورنہ اور دنوں کی طرح آج‬
‫ُ‬
‫بھی دس بجے اٹھتا۔ "للہ جی صبح کے وقت دماغ کیا صاف ہوتا ہے‪ ،‬جو پڑھو خدا کی قسم‬
‫ً‬
‫فورا یاد ہوجاتا ہے۔ بھئی خدا نے صبح بھی کیا عجیب چیز پیدا کی ہے یعنی اگر صبح کے‬
‫بجائے صبح صبح شام ہوا کرتی تو دن کیا بری طرح کٹا کرتا۔"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫للہ جی نے ہماری اس جادوبیانی کی داد یوں دی کہ آپ پوچھنے لگے۔ "تو میں آپ کو چھ‬
‫بجے جگا دیا کروں نا؟"‬
‫میں نے کہا۔ "ہاں ہاں‪ ،‬واہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ بےشک۔"‬
‫شام کے وقت آنے والی صبح کے مطالعہ کے لیے دو کتابیں چھانٹ کر میزپر علیحدہ جوڑ‬
‫دیں۔ کرسی کو چارپائی کے قریب سرکالیا۔ اوورکوٹ اور گلوبند کو کرسی کی پشت پر آویزاں کر‬
‫لیا۔ کنٹوپ اور دستانے پاس ہی رکھ لیے۔ دیاسلئی کو تکئے کے نیچے ٹٹول۔ تین دفعہ آیت‬
‫الکرسی پڑھی‪ ،‬اور دل میں نہایت ہی نیک منصوبے باندھ کر سوگیا۔‬
‫صبح للہ جی کی پہلی دستک کے ساتھ ہی جھٹ آنکھ کھل گئی‪ ،‬نہایت خندہ پیشانی‬
‫کے ساتھ لحاف کی ایک کھڑکی میں سے ان کو "گڈمارننگ" کیا‪ ،‬اور نہایت بیدارانہ لہجے‬
‫میں کھانسا‪ ،‬للہ جی مطمئن ہو کر واپس چلے گئے۔‬
‫ُ‬ ‫ً‬
‫ہم نے اپنی ہمت اور اولوالعزمی کو بہت سراہا کہ آج ہم فورا ہی جاگ اٹھے۔ دل سے کہا کہ‬
‫ُ‬
‫"دل بھیا‪ ،‬صبح اٹھنا تو محض ذرا سی بات ہے ہم یوں ہی اس سے ڈرا کرتے تھے"۔ دل نے کہا‬
‫"اور کیا؟ تمہارے تو یوں ہی اوسان خطا ہوجایا کرتے ہیں"۔ ہم نے کہا "سچ کہتے ہو یار‪ ،‬یعنی‬
‫اگر ہم سستی اور کسالت کو خود اپنے قریب نہ آنے دیں تو ان کی کیا مجال ہے کہ ہماری‬
‫باقاعدگی میں خلل انداز ہوں۔ اس وقت لہور شہر میں ہزاروں ایسے کاہل لوگ ہوں گے جو‬
‫ُ‬
‫دنیا ومافیہا سے بےخبر نیند کے مزے اڑاتے ہوں گے۔ اور ایک ہم ہیں کہ ادائے فرض کی‬
‫خاطر نہایت شگفتگہ طبعی اور غنچہ دہنی سے جاگ رہے ہیں۔ "بھئی کیا برخوردار سعادت‬
‫آثار واقع ہوئے ہیں۔" ناک کو سردی سی محسوس ہونے لگی تو اسے ذرا یو ں ہی سا لحاف اوٹ‬
‫میں کر لیا اور پھر سوچنے لگے۔۔۔ "خوب۔ تو ہم آج کیا وقت پر جاگے ہیں بس ذرا اس کی‬
‫عادت ہوجائے تو باقاعدہ قرآن مجید کی تلوت اور فجر کی نماز بھی شروع کردیں گے۔ آخر‬
‫مذہب سب سے مقدم ہے ہم بھی کیا روزبروز الحاد کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں نہ خدا کا‬
‫ڈر اور نہ رسول کا خوف۔ سمجھتے ہیں کہ بس اپنی محنت سے امتحان پاس کرلیں گے۔ اکبر‬
‫بیچارا یہی کہتا کہتا مرگیا لیکن ہمارے کان پر جوں تک نہ چلی۔۔۔ (لحاف کانوں پر سرک‬
‫آیا)۔۔۔ تو گویا آج ہم اور لوگوں سے پہلے جاگے ہیں۔۔۔ بہت ہی پہلے۔۔۔ یعنی کالج شروع‬
‫ہونے سے بھی چار گھنٹے پہلے۔ کیا بات ہے! خداوندان کالج بھی کس قدر سست ہیں ایک‬
‫ُ‬
‫مستعد انسان کو چھ بجے تک قطعی جاگ اٹھنا چاہئے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کالج سات‬
‫بجے کیوں نہ شروع ہوا کرے۔۔۔ (لحاف سر پر)۔۔۔ بات یہ ہے کہ تہذیب جدید ہماری تمام‬
‫ٰ‬
‫اعلی قوتوں کی بیخ کنی کر رہی ہے۔ عیش پسندی روزبروز بڑھتی جاتی ہے۔۔۔ (آنکھیں‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫بند)۔۔۔ تو اب چھ بجے ہیں تو گویا تین گھنٹے تو متواتر مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ سوال صرف‬
‫یہ ہے کہ پہلے کون سی کتابیں پڑھیں۔ شیکسپیئر یا ورڈزورتھ؟ میں جانوں شیکسپیئر بہتر‬
‫ہوگا۔ اس کی عظیم الشان تصانیف میں خدا کی عظمت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اور‬
‫صبح کے وقت ال میاں کی یاد سے بہتر چیز کیا ہوسکتی ہے؟ پھر خیال آیا کہ دن کو‬
‫جذبات کے محشرستان سے شروع کرنا ٹھیک فلسفہ نہیں۔ ورڈزورتھ پڑھیں۔ اس کے اوراق‬
‫میں فطرت کو سکون واطمینان میسر ہوگا اور دل اور دماغ نیچر کی خاموش دلویزیوں سے‬
‫ہلکے ہلکے لطف اندوز ہوں گے۔۔۔ لیکن ٹھیک ہی رہے گا شیکسپیئر۔۔۔ نہیں ورڈزورتھ۔۔۔‬
‫لیڈی میکبتھ۔۔۔ دیوانگی۔۔۔ سبزہ زار۔۔۔ سنجر سنجر۔۔۔ بادبہاری۔۔۔ صید ہوس۔۔۔ کشمیر۔۔۔‬
‫میں آفت کا پرکالہ ہوں۔۔۔‬
‫یہ معمہ اب مابعد الطبعیات ہی سے تعلق رکھتا ہے کہ پھر جو ہم نے لحاف سے سر باہر‬
‫نکال اور ورڈزورتھ پڑھنے کا ارادہ کیا تو وہی دس بج رہے تھے۔ اس میں نہ معلوم کیا بھید‬
‫ہے!‬
‫کالج ہال میں للہ جی ملے۔ "مسٹر! صبح میں نے آپ کو پھر آواز دی تھی‪ ،‬آپ نے جواب نہ‬
‫دیا؟"‬
‫میں نے زور کا قہقہہ لگا کر کہا۔ "اوہو۔ للہ جی یاد نہیں۔ میں نے آپ کو گڈمارننگ کہا تھا؟‬
‫میں تو پہلے ہی سے جاگ رہا تھا"۔‬
‫بولے "وہ تو ٹھیک ہے لیکن بعد میں۔۔۔ اس کے بعد!۔۔۔ کوئی سات بجے کے قریب میں نے‬
‫آپ سے تاریخ پوچھی تھی‪ ،‬آپ بولے ہی نہیں۔"‬
‫ہم نے نہایت تعجب کی نظروں سے ان کو دیکھا۔ گویا وہ پاگل ہوگئے ہیں۔ اور پھر ذرا متین‬
‫چہرہ بنا کر ماتھے پر تیوریاں چڑھائےغوروفکر میں مصروف ہوگئے۔ ایک آدھ منٹ تک ہم‬
‫اس تعمق میں رہے۔ پھر یکایک ایک محجومانہ اور معشوقانہ انداز سے مسکراکے کہا۔ "ہاں‬
‫ٹھیک ہے‪ ،‬ٹھیک ہے‪ ،‬میں اس وقت۔۔۔ اے۔۔۔ اے‪ ،‬نماز پڑھ رہا تھا۔"‬
‫للہ جی مرعوب سے ہو کر چل دئے۔ اور ہم اپنے زہد واتقا کی مسکینی میں سر نیچا کئے‬
‫کمرے کی طرف چلے آئے۔ اب یہی ہمارا روزمرہ کا معمول ہوگیا ہے۔ جاگنا نمبر ایک‬
‫چھ بجے۔ جاگنا نمبر دو دس بجے۔ اس دوران للہ جی آواز دیں تو نماز۔‬
‫جب دل مرحوم ایک جہان آرزو تھا تو یوں جاگنے کی تمنا کیا کرتے تھے کہ "ہمارا فرق ناز‬
‫ُ‬
‫محو بالش کمخواب" ہو اور سورج کی پہلی کرنیں ہمارے سیاہ پرپیچ بالوں پر پڑ رہی ہیں۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫کمرے میں پھولوں کی بوئے سحری روح افزائیاں کر رہی ہو۔ نازک اور حسین ہاتھ اپنی‬
‫انگلیوں سے بربط کے تاروں کو ہلکے ہلکے چھیڑ رہے ہوں۔ اور عشق میں ڈوبی ہوئی سریلی‬
‫اور نازک آواز مسکراتی ہوئی گا رہی ہو!‬
‫تم جاگو موہن پیارے‬
‫خواب کی سنہری دھند آہستہ آہستہ موسیقی کی لہروں میں تحلیل ہوجائے اور بیداری‬
‫ایک خوشگوار طلسم کی طرح تاریکی کے باریک نقاب کو خاموشی سے پارہ پارہ کردے چہرہ‬
‫کسی کی نگاہ اشتیاق کی گرمی محسوس کر رہا ہو۔ آنکھیں مسحور ہو کر کھلیں اور چار‬
‫ہوجائیں۔ دلویز تبسم صبح کو اور بھی درخشندہ کردے۔ اور گیت "سانوری صورت توری من‬
‫کو بھائی" کے ساتھ ہی شرم وحجاب میں ڈوب جائے۔‬
‫نصیب یہ ہے کہ پہلے "مسٹر! مسٹر!" کی آواز اور دروازے کی دنادن سامعہ نوازی کرتی ہے‪،‬‬
‫اور پھر چار گھنٹے بعد کالج کا گھڑیال دماغ کے ریشے ریشے میں دس بجانا شروع کردیتا‬
‫ُ‬
‫ہے۔ اور اس چار گھنٹے کے عرصہ میں گڑویوں کے گرنے۔ دیگچیوں کے الٹ جانے‪ ،‬دروازوں‬
‫ُ‬
‫کے بند ہونے‪ ،‬کتابوں کے جھاڑنے‪ ،‬کرسیوں کے گھسیٹنے‪ ،‬کلیاں اور غرغرے کرنے‪،‬‬
‫کھنکھارنے اور کھانسنے کی آوازیں تو گویا فی البدیہہ ٹھمریاں ہیں۔ اندازہ کرلیجئے کہ ان‬
‫ُ‬
‫سازوں میں سرتال کی کس قدر گنجائش ہے!‬
‫موت مجھ کو دکھائی دیتی ہے‬
‫جب طبعیت کو دیکھتا ہوں میں‬

‫ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدار پیدا‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫کت ّ ے‬

‫علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا۔ سلوتریوں سے دریافت کیا۔ خود سرکھپاتے رہے۔‬
‫لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کافائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجئے دودھ دیتی‬
‫ہے۔ بکری کو لیجئے‪ ،‬دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے‬
‫کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو‬
‫بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لیے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے۔تو ہم‬
‫لنڈورے ہی بھلے‪ ،‬کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت‬
‫جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے‬
‫بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کردیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق‬
‫استاد کو جو غصہ آیا‪ ،‬ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل‬
‫مقطع تک کہہ گئے۔ اس پر شمال مشرق کی طرف ایک قدر شناس کتےنے زوروں کی داد‬
‫دی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہواکہ کچھ نہ پوچھئے‪ ،‬کم بخت بعض تو دو غزلے سہ‬
‫غزلے لکھ لئے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے‪ ،‬وہ ہنگامہ‬
‫گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ "آرڈر آرڈر" پکارا‬
‫لیکن کبھی ایسے موقعوں پر پر دھان کی بھی کوئی بھی نہیں سنتا۔ اب ان سے کوئی پوچھئے‬
‫کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں‬
‫جاکر طبع آزمائی کرتے یہ گھروں کے درمیان آکر سوتوں کو ستانا کون سی شرافت ہے۔‬
‫اورپھر ہم دیسی لوگوں کے کتے بھی کچھ عجیب بدتمیز واقع ہوئے ہیں۔ اکثر تو ان میں‬
‫ایسے قوم پرست ہیں کہ پتلون کوٹ کو دیکھ کر بھونکنے لگ جاتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک حد‬
‫تک قابل تعریف بھی ہے۔ اس کا ذکر ہی جانے دیجئے اس کے علوہ ایک اور بات ہے یعنی‬
‫ہمیں بارہا ڈالیاں لے کر صاحب لوگوں کے بنگلوں پر جانے کا اتفاق ہوا‪ ،‬خدا کی قسم ان کے‬
‫کتوں میں وہ شائستگی دیکھی ہے کہ عش عش کرتے لوٹ آئے ہیں۔ جوں ہی ہم بنگلے‬
‫کے اندر داخل ہوئے کتے نے برآمدے میں کھڑے کھڑے ہی ایک ہلکی سی "بخ" کردی اور‬
‫پھر منہ بند کرکے کھڑا ہوگیا۔ہم آگے بڑھے تو اس نے بھی چار قدم آگے بڑھ کر ایک نازک اور‬
‫پاکیزہ آواز میں پھر "بخ" کردی۔ چوکیداری کی چوکیداری موسیقی کی موسیقی۔ ہمارے‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬
‫ُ‬
‫کتے ہیں کہ نہ راگ نہ سر۔ نہ سر نہ پیر۔ تان پہ تان لگائے جاتے ہیں‪ ،‬بےتالے کہیں کے نہ موقع‬
‫دیکھتے ہیں‪ ،‬نہ وقت پہچانتے ہیں‪ ،‬گل بازی کیے جاتے ہیں۔ گھمنڈ اس بات پر ہے کہ تان‬
‫سین اسی ملک میں تو پیدا ہوا تھا۔‬
‫اس میں شک نہیں کہ ہمارے تعلقات کتوں سے ذرا کشیدہ ہی رہے ہیں۔ لیکن ہم سے‬
‫قسم لے لیجئے جو ایسے موقع پر ہم نے کبھی سیتا گرہ سے منہ موڑا ہو۔ شاید آپ اس کو‬
‫ُ‬ ‫ّ‬
‫تعلی سمجھیں لیکن خدا شاہد ہے کہ آج تک کبھی کسی کتے پر ہاتھ اٹھ ہی نہ سکا۔ اکثر‬
‫دوستوں نے صلح دی کہ رات کے وقت لٹھی چھڑی ضرور ہاتھ میں رکھنی چاہئے کہ دافع‬
‫بلیات ہے لیکن ہم کسی سے خواہ مخواہ عداوت پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ کتے کے بھونکتے‬
‫ہی ہماری طبعی شرافت ہم پر اس درجہ غلبہ پا جاتی ہے کہ آپ اگر ہمیں اس وقت‬
‫ً‬
‫دیکھیں تو یقینا یہی سمجھیں گے کہ ہم بزدل ہیں۔ شاید آپ اس وقت یہ بھی اندازہ لگا لیں‬
‫کہ ہمارا گل خشک ہوا جاتا ہے۔ یہ البتہ ٹھیک ہے ایسے موقع پر کبھی گانے کی کوشش‬
‫ُ‬
‫کروں تو کھرج کے سروں کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔ اگر آپ نے بھی ہم جیسی طبیعت پائی‬
‫ُ‬
‫ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے موقع پر آیت الکرسی آپ کے ذہن سے اتر جائے گی اس کی‬
‫جگہ آپ شاید دعائے قنوت پڑھنے لگ جائیں۔‬
‫بعض اوقات ایسا اتفاق بھی ہوا ہے کہ رات کے دو بجےچھڑی گھماتے تھیٹر سے واپس‬
‫آرہے ہیں اور ناٹک کے کسی نہ کسی گیت کی طرز ذہن میں بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں‬
‫چونکہ گیت کے الفاظ یاد نہیں اور نومشقی کا عالم بھی ہے اس لیے سیٹی پر اکتفا کی ہے‬
‫کہ بےسرے بھی ہوگئے تو کوئی یہی سمجھے گا کہ انگریزی موسیقی ہے‪ ،‬اتنے میں ایک‬
‫موڑ پر سے جو مڑے تو سامنے ایک بکری بندھی تھی۔ ذرا تصور ملحظہ ہو آنکھوں نے اسے‬
‫بھی کتا دیکھا‪ ،‬ایک تو کتا اور پھر بکری کی جسامت کا۔ گویا بہت ہی کتا۔ بس ہاتھ پاؤں‬
‫پھول گئے چھڑی کی گردش دھیمی دھیمی ہوتے ہوتے ایک نہایت ہی نامعقول‪ ،‬زاوئیے پر‬
‫ہوا میں کہیں ٹھہر گئی۔ سیٹی کی موسیقی بھر تھرتھرا کر خاموش ہوگئی لیکن کیا مجال جو‬
‫َ‬
‫ہماری تھوتھنی کی مخروطی شکل میں ذرا بھی فرق آیا ہو۔گویا ایک بےآواز لے ابھی تک نکل‬
‫رہی ہے ۔طب کا مسئلہ ہے کہ ایسے موقعوں پر اگر سردی کے موسم میں بھی پسینہ‬
‫آجائے تو کوئی مضائقہ نہیں بعد میں پھر سوکھ جاتا ہے۔‬
‫ً‬
‫چونکہ ہم طبعا ذرا محتاط ہیں۔ اس لیے آج تک کتے کے کانٹے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔‬
‫یعنی کسی کتے نے آج تک ہم کو کبھی نہیں کاٹا اگر ایسا سانحہ کبھی پیش آیا ہوتا تو اس‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫سرگزشت کی بجائے آج ہمارا مرثیہ چھپ رہا ہوتا۔ تاریخی مصرعہ دعائیہ ہوتا کہ "اس کتے‬
‫کی مٹی سے بھی کتا گھاس پیدا ہو" لیکن۔۔۔‬
‫کہوں کس سے میں کہ کیا ہے سگ رہ بری بل ہے‬
‫مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا‬
‫ُ‬
‫جب تک اس دنیا میں کتے موجود ہیں اور بھونکنے پر مصر ہیں سمجھ لیجئے کہ ہم قبر‬
‫میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں اور پھر ان کتوں کے بھونکنے کے اصول بھی تو کچھ نرالے ہیں۔‬
‫یعنی ا یک تو متعدی مرض ہے اور پھر بچوں اور بوڑھوں سب ہی کو لحق ہے۔ اگر کوئی بھاری‬
‫بھرکم اسفندیار کتا کبھی کبھی اپنے رعب اور دبدبے کو قائم رکھنے کے لیے بھونک لے تو ہم‬
‫بھی چاروناچار کہہ دیں کہ بھئی بھونک۔ (اگرچہ ایسے وقت میں اس کو زنجیر سے بندھا ہونا‬
‫چاہئیے۔) لیکن یہ کم بخت دو روزہ‪ ،‬سہ روزہ‪ ،‬دو دو تین تین تولے کے پلے بھی تو بھونکنے سے‬
‫باز نہیں آتے۔ باریک آواز ذراسا پھیپھڑا اس پر بھی اتنا زور لگا کر بھونکتے ہیں کہ آواز کی لرزش‬
‫ُ‬
‫دم تک پہنچتی ہے اور پھر بھونکتے ہیں چلتی موٹر کے سامنےآکر گویا اسے روک ہی تو لیں‬
‫ً‬
‫گے۔ اب اگر یہ خاکسار موٹر چل رہا ہوتو قطعا ہاتھ کام کرنے سے انکار کردیں لیکن ہر کوئی یوں‬
‫ان کی جان بخشی تھوڑا ہی کردے گا؟‬
‫ٰ‬
‫کتوں کے بھونکنے پر مجھے سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ان کی آواز سوچنے کے تمام قوی‬
‫ً‬
‫معطل کردیتی ہے خصوصا جب کسی دکان کے تختے کے نیچے سے ان کا ایک پورا خفیہ‬
‫جلسہ باہر سڑک پر آکر تبلیغ کا کام شروع کردے تو آپ ہی کہیے ہوش ٹھکانے رہ سکتے‬
‫ہیں؟ ہر ایک کی طرف باری باری متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ کچھ ان کا شور‪ ،‬کچھ ہماری صدائے‬
‫احتجاج (زیرلب) بےڈھنگی حرکات وسکنات (حرکات ان کی‪ ،‬سکنات ہماری۔) اس ہنگامے‬
‫میں دماغ بھل خاک کام کرسکتا ہے؟ اگرچہ یہ مجھے بھی نہیں معلوم کہ اگر ایسے موقع پر‬
‫دماغ کام کرے بھی تو کیا تیر مارلے گا؟ بہرصورت کتوں کی یہ پرلےدرجے کی ناانصافی‬
‫میرے نزدیک ہمیشہ قابل نفرین رہی ہے۔ اگر ان کا ایک نمائندہ شرافت کے ساتھ ہم‬
‫سے آکر کہہ دے کہ عالی جناب‪ ،‬سڑک بند ہے تو خدا کی قسم ہم بغیر چون وچرا کئے‬
‫واپس لوٹ جائیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہم نے کتوں کی درخواست پر کئی راتیں سڑکیں‬
‫ناپنے میں گزاردی ہیں لیکن پوری مجلس کا یوں متفقہ و متحدہ طور پر سینہ زوری کرنا ایک‬
‫کمینہ حرکت ہے (قارئین کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر ان کا کوئی عزیزومحترم کتا‬
‫کمرے میں موجود ہو تو یہ مضمون بلند آواز سے نہ پڑھا جائے مجھے کسی کی دل شکنی‬
‫مطلوب نہیں۔)‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬
‫ٰ‬
‫خدا نے ہر قوم میں نیک افراد بھی پیدا کئے ہیں۔ کتے اس کے کلئے سے مستثنی نہیں۔ آپ‬
‫ّ‬
‫نے خدا ترس کتا بھی ضرور دیکھا ہوگا‪ ،‬اس کے جسم میں تپسیا کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں‪،‬‬
‫جب چلتا ہے تو اس مسکینی اور عجز سے گویا بارگناہ کا احساس آنکھ نہیں اٹھانے دیتا۔‬
‫دم اکثر پیٹ کے ساتھ لگی ہوتی ہے۔ سڑک کے بیچوں بیچ غوروفکر کے لیے لیٹ جاتا ہے‬
‫اور آنکھیں بندکرلیتا ہے۔ شکل بالکل فلسفروں کی سی اور شجرہ دیوجانس کلبی سے ملتا‬
‫ہے۔ کسی گاڑی والے نے متواتر بگل بجایا‪ ،‬گاڑی کے مختلف حصوں کو کھٹکھٹایا‪ ،‬لوگوں‬
‫سے کہلوایا‪ ،‬خود دس بارہ دفعہ آوازیں دیں تو آپ نے سرکو وہیں زمین پر رکھے سرخ مخمور‬
‫آنکھوں کو کھول ۔ صورت حال کو ایک نظر دیکھا‪ ،‬اور پھر آنکھیں بند کرلیں۔ کسی نے ایک‬
‫ُ‬
‫چابک لگا دیاتو آپ نہایت اطمینان کے ساتھ وہاں سے اٹھ کر ایک گز پرے لے جالیٹے اور‬
‫خیالت کے سلسلے کو جہاں سے وہ ٹوٹ گیا تھا وہیں سے پھر شروع کردیا۔ کسی بائیسکل‬
‫والے نے گھنٹی بجائی‪ ،‬تو لیٹے لیٹے ہی سمجھ گئے کہ بائیسکل ہے۔ ایسی چھچھوری‬
‫چیزوں کے لیے وہ راستہ چھوڑ دینا فقیری کی شان کے خلف سمجھتے ہیں۔‬
‫رات کے وقت یہی کتا اپنی خشک‪ ،‬پتلی سی دم کو تابحد امکان سڑک پھیل کر رکھتا ہے۔‬
‫اس سے محض خدا کے برگزیدہ بندوں کی آزمائش مقصود ہوتی ہے۔ جہاں آپ نے غلطی‬
‫سے اس پر پاؤں رکھ دیا‪ ،‬انہوں نے غیظ وغیب کے لہجہ میں آپ سے پرسش شروع کردی‪،‬‬
‫"بچہ فقیروں کو چھیڑتا ہے‪ ،‬نظر نہیں آتا‪ ،‬ہم سادھو لوگ یہاں بیٹھے ہیں"۔ بس اس فقیر کی‬
‫بددعا سے سے اسی وقت رعشہ شروع ہوجاتا ہے۔ بعد میں کئی راتوں تک یہی خواب نظر‬
‫آتے رہتے ہیں کہ بےشمار کتے ٹانگوں سے لپٹے ہوئے ہیں اور جانے نہیں دیتے۔ آنکھ کھلتی‬
‫ہے تو پاؤں چارپائی کی ادوان میں پھنسے ہوتے ہیں۔‬
‫ٰ‬
‫اگر خدا مجھے کچھ عرصے کے لیے اعلی قسم کے بھونکنے اور کاٹنے کی طاقت عطا‬
‫فرمائے‪ ،‬تو جنون انتقام میرے پاس کافی مقدار میں ہے۔ رفتہ رفتہ سب کتے علج کے لیے‬
‫کسولی پہنچ جائیں۔ ا یک شعر ہے‪:‬‬
‫عرفی تو میندیش زغو غائے رقیباں‬
‫آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا‬
‫یہی وہ خلف فطرت شاعری ہے‪ ،‬جو ایشیا کے لیے باعث ننگ ہے‪ ،‬انگریزی میں ایک مثل‬
‫ہے‪ ،‬کہ "بھونکتےہوئے کتے کاٹا نہیں کرتے" یہ بجا سہی۔ لیکن کون جانتا ہے‪ ،‬کہ ایک‬
‫بھونکتا ہوا کتا کب بھونکنا بند کردے‪ ،‬اور کاٹنا شروع کردے!‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫اردو کی آخری کتاب‬
‫ماں کی مصیبت‬

‫ماں بچے کو گود میں لیے بیٹھی ہے۔ باپ انگوٹھا چوس رہا ہے اور دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا‬
‫ہے۔ بچہ حسب معمول آنکھیں کھولے پڑاہے۔ ماں محبت بھری نگاہوں سے اس کے منہ‬
‫کو تک رہی ہے اور پیار سے حسب ذیل باتیں پوچھتی ہے‪:‬‬
‫‪۱‬۔ وہ دن کب آئے گا جب تو میٹھی میٹھی باتیں کرے گا؟‬
‫‪۲‬۔ بڑا کب ہوگا؟ مفصل لکھو۔‬
‫‪۳‬۔ دولہا کب بنے گااور دلہن کب بیاہ کر لئے گا؟ اس میں شرمانے کی ضرورت نہیں۔‬
‫‪۴‬۔ ہم کب بڈھے ہوں گے؟‬
‫‪۵‬۔ تو کب کمائے گا؟‬
‫‪۶‬۔ آپ کب کھائے گا؟ اور ہمیں کب کھلئے گا؟ باقاعدہ ٹائم ٹیبل بنا کر واضح کرو۔‬
‫بچہ مسکراتاہے اور کیلنڈر کی مختلف تاریخوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تو ماں کا دل باغ‬
‫باغ ہوجاتا ہے۔ جب ننھا سا ہونٹ نکال نکال کر باقی چہرے سے رونی صورت بناتا ہے۔ تو‬
‫یہ بےچین ہوجاتی ہے۔ سامنے پنگورا لٹک رہا ہے۔ سلنا ہو‪ ،‬تو افیم کھل کر اس میں لٹا‬
‫دیتی ہے۔ رات کواپنے ساتھ سلتی ہے ۔(باپ کے ساتھ دوسرا بچہ سوتا ہے) جاگ اٹھتا ہے‬
‫تو جھٹ چونک پڑتی ہے اور محلے والوں سے معافی مانگتی ہے۔ کچی نیند میں رونے لگتا‬
‫ُ‬
‫ہے۔ تو بےچاری مامتا کی ماری آگ جل کر دودھ کو ایک اور ابال دیتی ہے۔ صبح جب بچے‬
‫ُ‬
‫کی آنکھ کھلتی ہے تو آپ بھی اٹھ بیٹھتی ہے‪ ،‬اس وقت تین بجے کا عمل ہوتا ہے۔ دن‬
‫چڑھے منہ دھلتی ہے۔ آنکھوں میں کاجل لگاتی ہے اور جی کڑا کرکے کہتی ہے کیا چاند‬
‫سا مکھڑا نکل آیا واہ واہ۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫کھانا خودبخود پک رہا ہے‬

‫دیکھنا۔ بیوی آپ بیٹھی پکا رہی ہے۔ ورنہ دراصل یہ کام میاں کا ہے۔ ہر چیز کیا قرینے سے‬
‫ُ‬
‫رکھی ہے۔ دھوئے دھائے برتن صندوق پر چنے ہیں تاکہ صندوق نہ کھل سکے‪ ،‬ایک طرف‬
‫نیچے اوپر مٹی کے برتن دھرے ہیں۔ کسی میں دال ہے اور کسی میں آٹا‪ ،‬کسی میں چوہے‪،‬‬
‫پھکنی اور پانی کا لوٹا پاس ہے تاکہ جب چاہے آگ جلئے‪ ،‬جب چاہے پانی ڈال کر بجھا‬
‫دے۔ آٹا گندھا رکھا ہے‪ ،‬چاول پک چکے ہیں۔ نیچے اتار کر رکھے ہیں۔ دال چولہے پر چڑھی‬
‫ہے۔ غرض یہ کہ سب کام ہوچکا ہے۔ لیکن یہ پھر بھی پاس بیٹھی ہے۔ میاں جب آتا ہے‬
‫ُ‬
‫تو کھانا ل کر سامنے رکھتی ہے۔ پیچھے کبھی نہیں رکھتی‪ ،‬کھا چکتا ہے۔ تو کھانا اٹھا لیتی‬
‫ہے۔ ہر روز یوں نہ کرے تو میاں کے سامنے ہزاروں رکابیوں کا ڈھیر لگ جائے۔ کھانے پکانے‬
‫سے فارغ ہوتی ہے تو کبھی سینا لے بیٹھی ہے۔ کبھی چرخہ کاتنے لگتی ہے‪ ،‬کیوں نہ ہو‪،‬‬
‫مہاتماگاندھی کی بدولت یہ ساری باتیں سیکھی ہیں۔ آپ ہاتھ پاؤں نہ ہلئے تو ڈاکٹر سے‬
‫علج کروانا پڑے۔‬

‫دھوبی آج کپڑے دھو رہا ہے‬

‫بڑی محنت کرتا ہے۔ شام کو بھٹی چڑھاتا ہے‪ ،‬دن بھر بیکار بیٹھا رہتا ہے۔ کبھی کبھی بیل پر‬
‫لدی لدتا ہے اور گھاٹ کا رستہ لیتا ہے۔ کبھی نالے پر دھوتا ہے‪ ،‬کبھی دریا پر تاکہ کپڑوں‬
‫والے کبھی پکڑ نہ سکیں۔ جاڑا ہو تو سردی ستاتی ہے‪ ،‬گرمی ہو تو دھوپ جلتی ہے۔ صرف‬
‫بہار کے موسم میں کام کرتا ہے۔ دوپہر ہونے آئی‪ ،‬اب تک پانی میں کھڑا ہے اس کو ضرور‬
‫سرسام ہوجائے گا۔ درخت کے نیچے بیل بندھا ہے۔ جھاڑی کے پاس کتا بیٹھا ہے۔ دریا کے‬
‫اس پار ایک گلہری دوڑ رہی ہے۔ دھوبی انہیں سے اپنا جی بہلتا ہے۔‬
‫دیکھنا دھوبن روٹی لئی ہے۔ دھوبی کو بہانہ ہاتھ آیا ہے۔ کپڑے پٹرے پر رکھ کر اس سے‬
‫باتیں کرنے لگا۔ کتے نے بھی دیکھ کر کان کھڑے کئے۔ اب دھوبن گانا گائے گی۔ دھوبی‬
‫دریا سے نکلے گا۔ دریا کا پانی پھر نیچا ہوجائے گا۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫میاں دھوبی! یہ کتا کیوں پال رکھا ہے؟ صاحب کہاوت کی وجہ سے اور پھر یہ تو ہمارا‬
‫چوکیدار ہے دیکھئے! امیروں کے کپڑے میدان میں پھیلے پڑے ہیں‪ ،‬کیا مجال کوئی پاس‬
‫تو آجائے‪ ،‬جو لوگ ایک دفعہ کپڑے دے جائیں پھر واپس نہیں لےجاسکتے۔ میاں دھوبی!‬
‫تمہارا کام بہت اچھا ہے۔ میل کچیل سے پاک صاف کرتے ہو‪ ،‬ننگا پھراتے ہو۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫میں ایک میاں ہوں‬

‫میں ایک میاں ہوں۔ مطیع وفرمانبردار‪ ،‬اپنی بیوی روشن آراء کو اپنی زندگی کی ہر ایک بات‬
‫سے آگاہ رکھنا اصول زندگی سمجھتا ہوں اور ہمیشہ اس پر کاربند رہا ہوں۔ خدا میرا انجام‬
‫بخیر کرے۔‬
‫چنانچہ میری اہلیہ میرے دوستوں کی تمام عادات وخصائل سے واقف ہیں۔ جس کا نتیجہ‬
‫یہ ہے کہ میرے دوست جتنے مجھ کو عزیز ہیں اتنے ہی روشن آراء کو برے لگتے ہیں۔‬
‫میرے احباب کی جن اداؤں نے مجھے محسور کررکھا ہے انہیں میری اہلیہ ایک شریف‬
‫انسان کے لیے باعث ذلت سمجھتی ہیں۔‬
‫آپ کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ خدانحواستہ وہ کوئی ایسے آدمی ہیں‪ ،‬جن کا ذکر کسی معزز‬
‫مجمع نہ کیا جاسکے۔ کچھ اپنے ہنر کے طفیل اور کچھ خاکسار کی صحبت کی بدولت‬
‫سب کے سب ہی سفید پوش ہیں۔ لیکن اس بات کو کیا کروں کہ ان کی دوستی میرے گھر‬
‫کے امن میں اس قدر خلل انداز ہوتی ہے کہ کچھ کہہ نہیں سکتا۔‬
‫ً‬
‫مثل مرزا صاحب ہی کو لیجئے‪ ،‬اچھے خاصے اور بھلے آدمی ہیں۔ گو محکمہ جنگلت میں‬
‫ایک معقول عہدے پر ممتاز ہیں لیکن شکل وصورت ایسی پاکیزہ پائی ہے کہ امام مسجد‬
‫معلوم ہوتے ہیں۔ جواٴ وہ نہیں کھیلتے‪ ،‬گلی ڈنڈے کا ان کو شوق نہیں۔ جیب کترتے ہوئے‬
‫کبھی وہ نہیں پکڑے گئے۔ البتہ کبوتر پال رکھے ہیں‪ ،‬ان ہی سے جی بہلتے ہیں۔ ہماری‬
‫اہلیہ کی یہ کیفیت ہے کہ محلے کا کوئی بدمعاش جوئے میں قید ہوجائے تو اس کی ماں‬
‫کے پاس ماتم پرسی تک کو چلی جاتی ہیں۔ گلی ڈنڈے میں کسی کی آنکھ پھوٹ جائے تو‬
‫مرہم پٹی کرتی رہتی ہیں۔ کوئی جیب کترا پکڑا جائے تو گھنٹوں آنسو بہاتی رہتی ہیں‪ ،‬لیکن وہ‬
‫بزرگ جن کو دنیا بھر کی زبان میں مرزا صاحب کہتے تھکتی ہے وہ ہمارے گھر میں "موئے‬
‫کبوترباز" کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں کبھی بھولے سے بھی میں آسمان کی طرف نظر اٹھا‬
‫ً‬
‫کر کسی چیل‪ ،‬کوئے‪ ،‬گدھ‪ ،‬شکرے کو دیکھنے لگ جاؤں تو روشن آراء کو فورا خیال ہوجاتا‬
‫ہے کہ بس اب یہ بھی کبوترباز بننے لگا۔‬
‫اس کے بعد مرزا صاحب کی شان میں ایک قصیدہ شروع ہوجاتا ہے۔ بیچ میں میری جانب‬
‫گریز۔ کبھی لمبی بحر میں‪ ،‬کبھی چھوٹی بحر میں۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ایک دن جب یہ واقعہ پیش آیا‪ ،‬تو میں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ اس مرزا کمبخت کو کبھی‬
‫پاس نہ پھٹکنے دوں گا‪ ،‬آخر گھر سب سے مقدم ہے۔ بیوی کے باہمی اخلص کے مقابلے‬
‫میں دوستوں کی خوشنودی کیا چیز ہے؟ چنانچہ ہم غصے میں بھرے ہوئے مرزا صاحب‬
‫کے گھر گئے‪ ،‬دروازہ کھٹکھٹایا۔ کہنے لگے اندر آجاؤ۔ ہم نے کہا‪ ،‬نہیں آتے تم باہر آؤ۔ خیر‬
‫اندر گیا۔ بدن پر تیل مل کر ایک کبوتر کی چونچ منہ میں لئے دھوپ میں بیٹھے تھے۔ کہنے‬
‫لگے بیٹھ جاؤ ہم نے کہا‪ ،‬بیٹھیں گے نہیں‪ ،‬آخر بیٹھ گئے معلوم ہوتا ہے ہمارے تیور‬
‫کچھ بگڑے ہوئے تھے‪ ،‬مرزا بولے کیوں بھئی؟ خیرباشد! میں نے کہا کچھ نہیں۔ کہنے لگے‬
‫اس وقت کیسے آنا ہوا؟‬
‫اب میرے دل میں فقرے کھولنے شروع ہوئے۔ پہلے ارادہ کیا کہ ایک دم ہی سب کچھ‬
‫کہہ ڈالو اور چل دو‪ ،‬پھر سوچا کہ مذاق سمجھے گا اس لیے کسی ڈھنگ سے بات شروع کرو۔‬
‫لیکن سمجھ میں نہ آیا کہ پہلے کیا کہیں‪ ،‬آخر ہم نے کہا۔‬
‫"مرزا‪ ،‬بھئی کبوتر بہت مہنگے ہوتے ہیں؟"‬
‫یہ سنتے ہی مرزا صاحب نے چین سے لے کر امریکہ تک کے تمام کبوتروں کو ایک ایک‬
‫کرکے گنوانا شروع کیا۔ اس کے بعد دانے کی مہنگائی کے متعلق گل افشانی کرتے رہے اور‬
‫پھر محض مہنگائی پر تقریر کرنے لگے۔ اس دن تو ہم یوں ہی چلے آئے لیکن ابھی کھٹ پٹ‬
‫کا ارادہ دل میں باقی تھا۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ شام کو گھر میں ہماری صلح ہوگئی۔ ہم نے‬
‫کہا‪ ،‬چلو اب مزرا کے ساتھ بگاڑنے سے کیا حاصل؟ چنانچہ دوسرے دن مرزا سے بھی صلح‬
‫صفائی ہوگئی۔‬
‫لیکن میری زندگی تلخ کرنے کے لیے ایک نہ ایک دوست ہمیشہ کارآمد ہوتا ہے۔ ایسا‬
‫معلوم ہوتا ہے کہ فطرت نے میری طبیعت میں قبولیت اور صلحیت کوٹ کوٹ کر بھر دی‬
‫ہے کیونکہ ہماری اہلیہ کو ہم میں ہر وقت کسی نہ کسی دوست کی عادات قبیحہ کی‬
‫جھلک نظر آتی رہتی ہے یہاں تک کہ میری اپنی ذاتی شخصی سیرت بالکل ہی ناپید‬
‫ہوچکی ہے۔‬
‫شادی سے پہلے ہم کبھی کبھی دس بجے اٹھا کرتے تھے ورنہ گیارہ بجے۔ اب کتنے بجے‬
‫اٹھتے ہیں؟ اس کا اندازہ وہی لوگ لگاسکتے ہیں جن کے گھر ناشتہ زبردستی صبح کے سات‬
‫بجے کرا دیا جاتا ہےاور اگر ہم کبھی بشری کمزوری کے تقاضے سے مرغوں کی طرح تڑکے‬
‫ً‬ ‫ُ‬
‫اٹھنے میں کوتاہی کریں تو فورا ہی کہہ دیا جاتا کہ ہے کہ یہ اس نکھٹو نسیم کی صحبت کا‬
‫نتیجہ ہے۔ ایک دن صبح صبح ہم نہا رہے تھے‪ ،‬سردی کا موسم ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے‪،‬‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫صابن سر پر ملتے تھے تو ناک میں گھستا تھا کہ اتنے میں ہم نے خدا جانے کس پراسرار‬
‫جذبے کے ماتحت غسل خانے میں الپنا شروع کیا۔ اور پھر گانے لگے کہ "توری چھل بل ہے‬
‫نیاری۔۔۔"اس کو ہماری انتہائی بدمذاقی سمجھا گیا‪ ،‬اور اس بدمذاقی کا اصل منبع‬
‫ہمارے دوست پنڈت جی کو ٹھہرایا گیا۔‬
‫لیکن حال ہی میں مجھ پر ایک ایسا سانحہ گزرا ہے کہ میں نے تمام دوستوں کو ترک کر‬
‫دینے کی قسم کھالی ہے۔‬
‫تین چار دن کا ذکر ہے کہ صبح کے وقت روشن آراء نے مجھ سے میکے جانے کے لیے‬
‫اجازت مانگی۔ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے‪ ،‬روشن آراء صرف دو دفعہ میکے گئی ہے‬
‫اور پھر اس نے کچھ اس سادگی اور عجز سے کہا کہ میں انکار نہ کرسکا۔ کہنے لگی تو پھر‬
‫میں ڈیڑھ بجے کی گاڑی میں چلی جاؤں؟ میں نے کہا اور کیا؟‬
‫وہ جھٹ تیاری میں مشغول ہوگئی اور میرے دماغ میں آزادی کے خیالت نے چکر لگانے‬
‫شروع کئے۔ یعنی اب بےشک دوست آئیں‪ ،‬بےشک ادوھم مچائیں‪ ،‬میں بےشک گاؤں‪،‬‬
‫ُ‬
‫بےشک جب چاہوں اٹھوں‪ ،‬بےشک تھیٹر جاؤں‪ ،‬میں نے کہا۔‬
‫"روشن آراء جلدی کرو‪ ،‬نہیں تو گاڑی چھوٹ جائے گی۔" ساتھ اسٹیشن پر پر گیا۔ جب گاڑی‬
‫میں سوار کراچکا تو کہنے لگی "خط روز لکھتے رہئے!" میں نے کہا"ہر روز اور تم بھی!"‬
‫"کھانا وقت پہ کھا لیا کیجئے اور وہاں دھلی ہوئی جرابیں اور رومال الماری کے نچلے خانے‬
‫میں پڑے ہیں"۔ اس کے بعد ہم دونوں خاموش ہوگئے۔ اور ایک دوسرے کے چہرے کو‬
‫دیکھتے رہے۔ اس کی آنکھو میں آنسو بھر آئے‪ ،‬میرا دل بھی بیتاب ہونے لگا اور جب گاڑی‬
‫روانہ ہوئی تو میں دیر تک مبہوت پلیٹ فارم پر کھڑا رہا۔‬
‫آخر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا کتابوں کی دکان تک آیا اور رسالوں کے ورق پلٹ پلٹ کر‬
‫تصویریں دیکھتا رہا۔ ایک اخبار خریدا‪ ،‬تہہ کرکے جیب ڈال اور عادت کے مطابق گھر کا ارادہ‬
‫کیا۔‬
‫پھر خیال آیا کہ اب گھر جانا ضروری نہیں رہا۔ اب جہاں چاہوں جاؤں‪ ،‬چاہوں تو گھنٹوں‬
‫اسٹیشن پر ہی ٹہلتا رہوں‪ ،‬دل چاہتا تھا قلبازیاں کھاؤں۔‬
‫کہتے ہیں‪ ،‬جب افریقہ کے وحشیوں کو کسی تہذیب یافتہ ملک میں کچھ عرصہ رکھا جاتا‬
‫ہے تو گو وہ وہاں کی شان وشوکت سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن جب واپس جنگلوں میں‬
‫پہنچتے ہیں تو خوشی کے مارے چیخیں مارتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی کیفیت میرے دل کی‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫بھی ہو رہی تھی۔ بھاگتا ہوا اسٹیشن سے آزادانہ باہر نکل‪ ،‬آزادی کے لہجہ میں تانگے والے کو‬
‫بلیا اور کود کر تانگے میں سوار ہوگیا۔ سگریٹ سلگا لیا‪ ،‬ٹانگیں سیٹ پر پھیل دیں اور کلب‬
‫کو روانہ ہوگیا۔‬
‫رستے میں ایک بہت ضروری کام یاد آیا‪ ،‬تانگہ موڑ کر گھر کی طرف پلٹا‪ ،‬باہر ہی سے نوکرکو‬
‫آواز دی۔‬
‫"امجد"‬
‫"حضور!"‬
‫"دیکھو‪ ،‬حجام کو جاکے کہہ دو کہ کل گیارہ بجے آئے۔"‬
‫"بہت اچھا۔"‬
‫"گیارہ بجے سن لیا نا؟ کہیں روز کی طرح پھر چھ بجے وارد نہ ہوجائے۔"‬
‫"بہت اچھا حضور۔"‬
‫"اور اگر گیارہ بجے سے پہلے آئے‪ ،‬تو دھکے دے کر باہر نکال دو۔"‬
‫یہاں سے کلب پہنچے‪ ،‬آج تک کبھی دن کے دو بجے کلب نہ گیا تھا‪ ،‬اندر داخل ہوا تو‬
‫سنسان۔ آدمی کا نام ونشان تک نہیں سب کمرے دیکھ ڈالیے۔ بلیرڈ کا کمرہ خالی‪،‬‬
‫شطرنج کا کمرہ خالی۔ تاش کا کمرہ خالی‪ ،‬صرف کھانے کے کمرے میں ایک ملزم چھریاں‬
‫تیز کررہا تھا۔ اس سے پوچھا"کیوں بے آج کوئی نہیں آیا؟"‬
‫کہنے لگا "حضور آپ جانتے ہیں‪ ،‬اس وقت بھل کون آتا ہے؟"‬
‫بہت مایوس ہوا باہر نکل کر سوچنے لگا کہ اب کیا کروں؟ اور کچھ نہ سوجھا تو وہاں سے مرزا‬
‫صاحب کے گھر پہنچا معلوم ہوا ابھی دفتر سے واپس نہیں آئے‪ ،‬دفتر پہنچا دیکھ کر بہت‬
‫حیران ہوئے‪ ،‬میں نے سب حال بیان کیا کہنے لگے۔ "تم باہر کے کمرے میں ٹھہرو‪ ،‬تھوڑا سا‬
‫کام رہ گیا ہے‪ ،‬بس ابھی بھگتا کے تمہارے ساتھ چلتا ہوں‪ ،‬شام کا پروگرام کیا ہے؟"‬
‫میں نے کہا۔ "تھیٹر!"‬
‫کہنے لگے۔ "بس بہت ٹھیک ہے‪ ،‬تم باہر بیٹھو میں ابھی آیا۔"‬
‫باہرکے کمرے میں ایک چھوٹی سی کرسی پڑی تھی‪ ،‬اس پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا اور جیب‬
‫سے اخبار نکال پڑھنا شروع کردیا۔ شروع سے آخر تک سب پڑھ ڈال اور ابھی چار بجنے میں‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ایک گھنٹہ باقی تھا‪ ،‬پھر سے پڑھنا شروع کردیا۔ سب اشتہار پڑھ ڈالےاور پھر سب اشتہاروں کو‬
‫دوبارہ پڑھ ڈال۔‬
‫آخر کار اخبار پھینک کر بغیر کسی تکلف یا لحاظ کے جمائیاں لینے لگا۔ جمائی پہ جمائی۔‬
‫ٰ‬
‫جمائی پہ جمائی۔ حتی کہ جبڑوں میں درد ہونے لگا۔‬
‫اس کے بعد ٹانگیں ہلنا شروع کیا لیکن اس سے بھی تھک کیا۔‬
‫پھر میز پر طبلے کی گتیں بجاتا رہا۔‬
‫بہت تنگ آگیا تو دروازہ کھول کر مرزا سے کہا۔ "ابے یار اب چلتا بھی ہے کہ مجھے انتظار ہی‬
‫میں مار ڈالے گا‪ ،‬مردود کہیں کا‪ ،‬سارا دن میرا ضائع کردیا۔"‬
‫ُ‬
‫وہاں سے اٹھ کر مرزا کے گھر گئے۔ شام بڑے لطف میں کٹی۔ کھانا کلب میں کھایا۔ اور وہاں‬
‫سے دوستوں کو ساتھ لیے تھیٹر گئے‪ ،‬رات کے ڈھائی بجے گھر لوٹے‪ ،‬تکئے پر سر رکھا ہی‬
‫تھا‪ ،‬کہ نیند نے بےہوش کردیا۔ صبح آنکھ کھلی تو کمرے میں دھوپ لہریں مار رہی تھی۔‬
‫گھڑی کو دیکھا تو پونے گیارہ بجے تھے۔ ہاتھ بڑھا کر میز پر سے ایک سگریٹ اٹھایا اور سلگا‬
‫کر طشتری میں رکھ دیا اور پھر اونگھنے لگا۔‬
‫گیارہ بجے امجد کمرے میں داخل ہوا کہنے لگا "حضور حجام آیا ہے۔"‬
‫ہم نے کہا۔ "یہیں بل لؤ"۔ یہ عیش مدت بعد نصیب ہوا‪ ،‬کہ بستر میں لیٹے لیٹے حجامت‬
‫بنوالیں‪ ،‬اطمینان سے اٹھے اور نہا دھو کر باہر جانے کےلیے تیار ہوئے لیکن طبیعت میں وہ‬
‫شگفتگی نہ تھی‪ ،‬جس کی امید لگائے بیٹھے تھے‪ ،‬چلتے وقت الماری سے رومال نکال تو‬
‫خدا جانے کیا خیال۔ دل میں آیا‪ ،‬وہیں کرسی پر بیٹھ گیا۔ اور سودائیوں کی طرح اس رومال کو‬
‫دیکھتا رہا۔ الماری کا ایک اور خانہ کھول تو سردئی رنگ کا ایک ریشمی دوپٹہ نظر آیا۔ باہر‬
‫نکال‪ ،‬ہلکی ہلکی عطر کی خوشبو آرہی تھی۔ بہت دیر تک اس پر ہاتھ پھیرتا رہا دل بھرآیا‪،‬‬
‫گھر سونا معلوم ہونے لگا۔ بہتر اپنے آپ کو سنبھال لیکن آنسو ٹپک ہی پڑے۔ آنسوؤں کا‬
‫گرنا تھا کہ بیتاب ہوگیا۔ اور سچ مچ رونے لگا۔ سب جوڑے باری باری نکال کر دیکھے لیکن نہ‬
‫معلوم کیا کیا یاد آیا کہ اور بھی بےقرار ہوتا گیا۔‬
‫آخر نہ رہا گیا‪ ،‬باہر نکل اور سیدھا تار گھر پہنچا۔ وہاں سے تار دیا کہ میں بہت اداس ہوں تم‬
‫ً‬
‫فورا آجاؤ!‬
‫تار دینے کے بعد دل کو کچھ اطمینان ہوا‪ ،‬یقین تھا کہ روشن آراء اب جس قدر جلد ہوسکے‬
‫گا‪ ،‬آجائے گی۔ اس سے کچھ ڈھارس بندھ گئی اور دل پر سے جیسے ایک بوجھ ہٹ گیا۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫دوسرے دن دوپہر کو مرزا کے مکان پر تاش کا معرکہ گرم ہونا تھا۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا‬
‫کہ مرزا کے والد سے کچھ لوگ ملنے آئے ہیں اس لیے تجویز یہ ٹھہری کہ یہاں سے کسی اور‬
‫جگہ سرک چلو۔ ہمارا مکان تو خالی تھا ہی‪ ،‬سب یار لوگ وہیں جمع ہوئے۔ امجد سے کہہ‬
‫دیا گیا کہ حقے میں اگر ذرا بھی خلل واقع ہوا تو تمہاری خیر نہیں۔ اور پان اس طرح سے‬
‫متواتر پہنچے رہیں کہ بس تانتا لگ جائے۔‬
‫اب اس کے بعد کے واقعات کو کچھ مرد ہی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ شروع شروع‬
‫میں تو تاش باقاعدہ اور باضابطہ ہوتا رہا۔ جو کھیل بھی کھیل گیا بہت معقول طریقے سے‬
‫قواعدوضاوبط کے مطابق اور متانت وسنجیدگی کے ساتھ۔ لیکن ایک دو گھنٹے کے بعد‬
‫کچھ خوش طبعی شروع ہوئی‪ ،‬یار لوگوں نے ایک دوسرے کے پتے دیکھنے شروع کردئے۔ یہ‬
‫ُ‬
‫حالت تھی کہ آنکھ بچی نہیں اور ایک آدھ کام کا پتہ اڑا نہیں اور ساتھ ہی قہقہےپر قہقہے‬
‫ُ‬
‫اڑنے لگے۔ تین گھنٹے کے بعد یہ حالت تھی کہ کوئی گھٹنا ہل ہل کر گا رہا ہے کوئی فرش پر‬
‫بازو ٹیکے بجا رہا ہے۔ کوئی تھیٹر کا ایک آدھ مذاقیہ فقرہ لکھوں دفعہ دہرا رہا ہے۔ لیکن‬
‫تاش برابر ہورہا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد دھول دھپا شروع ہوا‪ ،‬ان خوش فعلیوں کے دوران میں‬
‫ایک مسخرے نے ایک ایسا کھیل تجویز کردیا۔ جس کے آخر میں ایک آدمی بادشاہ بن جاتا‬
‫ہے۔ دوسرا وزیر‪ ،‬تیسرا کوتوال اور جو سب سے ہار جاتا ہے۔ وہ چور۔ سب نے کہا "واہ واہ کیا بات‬
‫کہی ہے"۔ ایک بول۔ "پھر آج جو چور بنا‪ ،‬اس کی شامت آجائے گی"۔ دوسرے نے کہا۔ "اور‬
‫نہیں تو کیا بھل کوئی ایسا ویسا کھیل ہے۔ سلطنتوں کے معاملے ہیں سلطنتوں کے!"‬
‫کھیل شروع ہوا۔ بدقسمتی سے ہم چور بن گئے۔ طرح طرح کی سزائیں تجویز ہونے لگیں۔‬
‫کوئی کہے‪" ،‬ننگے پاؤں بھاگتے ہوئے جائیے اور حلوائی کی دکان سے مٹھائی خرید کر‬
‫لئیے"۔ کوئی کہے‪" ،‬نہیں حضور‪ ،‬سب کے پاؤں پڑئے‪ ،‬اور ہر ایک سے دو دو چانٹے کھائیے۔"‬
‫دوسرے نے کہا "نہیں صاحب ایک پاؤں پر کھڑا ہو کر ہمارے سامنے ناچئے۔" آخر میں‬
‫بادشاہ سلمت بولے۔ "ہم حکم دیتے ہیں کہ چور کو کاغذ کی ایک لمبوتری نوک دار ٹوپی‬
‫پہنائی جائے اور اس کے چہرے پر سیاہی مل دی جائے۔ اور یہ اس حالت میں جاکر اندرسے‬
‫حقے کی چلم بھر کر لئے۔" سب نے کہا۔ "کیا دماغ پایا ہے حضور نے۔ کیا سزا تجویز کی ہے!‬
‫واہ واہ!"‬
‫ہم بھی مزے میں آئے ہوئے تھے‪ ،‬ہم نے کہا "تو ہوا کیا؟ آج ہم ہیں کل کسی اور کی باری‬
‫آجائے گی۔" نہایت خندہ پیشانی سے اپنے چہرے کو پیش کیا۔ ہنس ہنس کر وہ بیہودہ سی‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ٹوپی پہنی‪ ،‬ایک شان استغنا کے ساتھ چلم اٹھائی اور زنانے کا دروازہ کھول کر باورچی خانے کو‬
‫چل دئے اور ہمارے پیچھے کمرہ قہقہوں سے گونج رہا تھا۔‬
‫صحن پر پہنچےہی تھے کہ باہر کا دروازہ کھل اور ایک برقعہ پوش خاتون اندر داخل ہوئی‪ ،‬منہ‬
‫سے برقعہ الٹا تو روشن آراء!‬
‫دم خشک ہوگیا‪ ،‬بدن پر ایک لرزہ سا طاری ہوگیا‪ ،‬زبان بند ہوگئی‪ ،‬سامنے وہ روشن آراء جس‬
‫ً‬
‫کو میں نے تار دے کر بلیا تھا کہ تم فورا آجاؤ میں بہت اداس ہوں اور اپنی یہ حالت کو منہ پر‬
‫سیاہی ملی ہے‪ ،‬سر پر وہ لمبوتری سی کاغذ کی ٹوپی پہن رکھی ہے اور ہاتھ میں چلم اٹھائے‬
‫کھڑے ہیں‪ ،‬اور مردانے سے قہقہوں کا شور برابر آرہا ہے۔‬
‫روح منجمد ہوگئی اور تمام حواس نے جواب دے دیا۔ روشن آراء کچھ دیر تک چپکی کھڑی‬
‫دیکھتی رہی اور پھر کہنے لگی۔۔۔ لیکن میں کیا بتاؤں کہ کیا کہنے لگی؟ اس کی آواز تو‬
‫میرے کانوں تک جیسے بیہوشی کے عالم میں پہنچ رہی تھی۔‬
‫اب تک آپ اتنا تو جان گئے ہوں گے‪ ،‬کہ میں بذات خود از حد شریف واقع ہوا ہوں‪ ،‬جہاں‬
‫تک میں‪ ،‬میں ہوں مجھ سے بہتر میاں دنیا پیدا نہیں کرسکتی‪ ،‬میری سسرال میں سب کی‬
‫یہی رائے ہے۔ اور میرا اپنا ایمان بھی یہی ہے لیکن ان دوستوں نے مجھے رسوا کردیا ہے۔ اس‬
‫لیے میں نے مصمم ارادہ کرلیا ہے کہ اب یا گھر میں رہوں گا یا کام پر جایا کروں گا۔ نہ کسی‬
‫سے ملوں گا اور نہ کسی کو اپنے گھر آنے دوں گا سوائے ڈاکیے یا حجام کے۔ اور ان سے بھی‬
‫نہایت مختصر باتیں کروں گا۔‬
‫"خط ہے؟"‬
‫"جی ہاں"‬
‫"دے جاؤ‪ ،‬چلے جاؤ۔"‬
‫"ناخن تراش دو۔"‬
‫"بھاگ جاؤ۔"‬
‫بس‪ ،‬اس سے زیادہ کلم نہ کروں گا‪ ،‬آپ دیکھئے تو سہی ٴ!‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫مری دپو ر کا پیر‬

‫اکثر لوگوں کو اس بات کا تعجب ہوتا ہے کہ میں اپنے وطن کا ذکر کبھی نہیں کرتا۔ بعض‬
‫اس بات پر بھی حیران ہیں کہ میں اب کبھی اپنے وطن کو نہیں جاتا۔ جب کبھی لوگ مجھ‬
‫سے اس کی وجہ پوچھتے ہیں تو میں ہمیشہ بات کو ٹال دیتا ہوں۔ اس سے لوگوں کو طرح‬
‫طرح کے شبہات ہونے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے وہاں اس پر ایک مقدمہ بن گیا تھا اس کی‬
‫وجہ سے روپوش ہے۔ کوئی کہتا ہے وہاں کہیں ملزم تھا‪ ،‬غبن کا الزام لگا‪ ،‬ہجرت کرتے ہی‬
‫بنی۔ کوئی کہتا ہے والد اس کی بدعنوانیوں کی وجہ سے گھر میں نہیں گھسنے دیتے۔‬
‫غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ آج میں ان سب غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے وال ہوں۔ خدا‬
‫آپ پڑھنے والوں کو انصاف کی توفیق دے۔‬
‫قصہ میرے بھتیجے سے شروع ہوتا ہے۔ میرا بھتیجا دیکھنے میں عام بھتیجوں سے‬
‫مختلف نہیں۔ میری تمام خوبیاں اس میں موجود ہیں اور اس کے علوہ نئی پود سے تعلق‬
‫رکھنے کے باعث اس میں بعض فالتو اوصاف نظر آتے ہیں۔ لیکن ایک صفت تو اس میں‬
‫ایسی ہے کہ آج تک ہمارے خاندان میں اس شدت کے ساتھ کبھی رونما نہیں ہوئی تھی۔‬
‫وہ یہ کہ بڑوں کی عزت کرتا ہے۔ اور میں تو اس کے نزدیک بس علم وفن کا ایک دیوتا ہوں۔ یہ‬
‫خبط اس کے دماغ میں کیوں سمایا ہے؟ اس کی وجہ میں یہی بتا سکتا ہوں کہ نہایت‬
‫ٰ‬ ‫ٰ‬
‫اعلی سے اعلی خاندانوں میں بھی کبھی کبھی ایسا دیکھنے میں آجاتا ہے۔ میں شائستہ‬
‫سے شائستہ دو زمانوں کے فرزندوں کو بعض وقت بزرگوں کا اس قدر احترام کرتے دیکھا‪ ،‬کہ‬
‫ان پر پنچ ذات کا دھوکا ہونے لگتاہے۔‬
‫ایک سال میں کانگریس کے جلسے میں چل گیا۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کانگریس کا‬
‫جلسہ میرے پاس چل آیا۔ مطلب یہ کہ جس شہر میں‪ ،‬میں موجود تھا وہیں کانگریس والوں‬
‫نے بھی اپنا سالنہ اجلس منعقد کرنے کی ٹھان لی۔ میں پہلے بھی اکثر جگہ اعلن کرچکا‬
‫ہوں‪ ،‬اور اب میں بیانگ دہل یہ کہنے کو تیار ہوں کہ اس میں میرا ذرا بھی قصور نہ تھا۔ بعض‬
‫لوگوں کو یہ شک ہے کہ میں نے محض اپنی تسکین نخوت کے لیے کانگریس کا جلسہ اپنے‬
‫پاس ہی کرالیا لیکن یہ محض حاسدوں کی بدطینتی ہے۔ بھانڈوں کو میں نے اکثر شہر میں‬
‫بلوایا ہے۔ دو ایک مرتبہ بعض تھیٹروں کو بھی دعوت دی ہے لیکن کانگریس کے مقابلے‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫میں میرا رویہ ہمیشہ ایک گمنام شہری کا سا رہا ہے۔ بس اس سے زیادہ میں اس موضوع پر‬
‫کچھ نہ کہوں گا۔‬
‫جب کانگریس کا سالنہ جلسہ بغل میں ہو رہا ہو تو کون ایسا متقی ہوگا جو وہاں جانے سے‬
‫گریز کرے‪ ،‬زمانہ بھی تعطیلت اور فرصت کا تھا چنانچہ میں نے مشغل بیکاری کے طور پر‬
‫اس جلسے کی ایک ایک تقریری سنی۔ دن بھر تو جلسے میں رہتا۔ رات کو گھر آکر اس دن کے‬
‫مختصر سے حالت اپنے بھتیجے کو لکھ بھیجتا تاکہ سند رہے اور وقت ضرورت کام آئے۔‬
‫بعد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ بھتیجے صاحب میرے ہر خط کو بےحد ادب‬
‫واحترام کے ساتھ کھولتے‪ ،‬بلکہ بعض بعض باتوں سے تہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس افتتاحی‬
‫تقریب سے پیشتر وہ باقاعدہ وضو بھی کرلیتے۔ خط کو خود پڑھتے پھر دوستوں کو سناتے۔‬
‫پھر اخباروں کے ایجنٹ کی دکان پر مقامی لل بجھکڑوں کے حلقے میں اس کو خوب بڑھا‬
‫چڑھا کر دہراتے پھر مقامی اخبار کے بےحد مقامی ایڈیٹر کے حوالے کردیتے جو اس کو بڑے‬
‫اہتمام کے ساتھ چھاپ دیتا۔ اس اخبار کا نام"مریدپور گزٹ" ہے۔ اس کا مکمل فائل کسی‬
‫کے پاس موجود نہیں‪ ،‬دو مہینے تک جاری رہا۔ پھر بعض مالی مشکلت کی وجہ سے بند‬
‫ہوگیا۔ ایڈیٹر صاحب کا حلیہ حسب ذیل ہے۔ رنگ گندمی‪ ،‬گفتگو فلسفیانہ‪ ،‬شکل سے‬
‫چور معلوم ہوتے ہیں۔ کسی صاحب کو ان کا پتہ معلوم ہو تو مریدپور کی خلفت کمیٹی کو‬
‫اطلع پہنچادیں اور عندال ماجور ہوں۔ نیز کوئی صاحب ان کو ہرگز ہرگز کوئی چندہ نہ دیں‬
‫ورنہ خلفت کمیٹی ذمہ دار نہ ہوگی۔‬
‫یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اس اخبار نے میرے ان خطوط کے بل پر ا یک کانگریس نمبر‬
‫بھی نکال مارا۔ جو اتنی بڑی تعداد میں چھپا کہ اس کے اوراق اب تک بعض پنساریوں کی‬
‫دکانوں پر نظر آتے ہیں۔ بہرحال مریدپور کے بچے بچے نے میری قابلیت‪ ،‬انشاء پردازی‪ ،‬صحیح‬
‫الدماغی اور جوش قومی کی داد دی۔ میری اجازت اور میرے علم کے بغیر مجھ کو مریدپور کا‬
‫ً‬ ‫ً‬
‫قومی لیڈر قرار دیا گیا۔ ایک دو شاعروں نے مجھ پر نظمیں بھی لکھیں۔ جو وقتا فوقتا مریدپور‬
‫گزٹ میں چھپتی رہیں۔‬
‫میں اپنی اس عزت افزائی سے محض بےخبر تھا۔ سچ ہے خدا جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا‬
‫ہے‪ ،‬مجھے معلوم تھا کہ میں اپنے بھتیجے کو محض چند خطوط لکھ کر اپنے ہم وطنوں‬
‫کے دل میں اس قدر گھر کرلیا ہے۔ اور کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ معمولی سا انسان جو ہر‬
‫ُ‬
‫روز چپ چاپ سر نیچا کئے بازاروں میں سے گزر جاتا ہے مرید پور میں پوجا جاتا ہے۔ میں وہ‬
‫ً‬
‫خطوط لکھنے کے بعد کانگریس اور اس کے تمام متعلقات کو قطعا فراموش کرچکا تھا۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫مریدپور گزٹ کا میں خریدار نہ تھا۔ بھتیجے نے میری بزرگی کے رعب کی وجہ سے بھی‬
‫برسبیل تذکرہ اتنا بھی نہ لکھ بھیجا کہ آپ لیڈر ہوگئے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ‬
‫سے یوں کہتا تو برسوں تک اس کی بات میری سمجھ میں نہ آتی بہرحال مجھے کچھ تو‬
‫معلوم ہوتا کہ میں ترقی کرکے کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہوں۔‬
‫کچھ عرصے بعد خون کی خرابی کی وجہ سے ملک میں جابجا جلسے نکل آئے جس کسی‬
‫کو ایک میز‪ ،‬ایک کرسی اور گلدان میسر آیا اسی نے جلسے کا اعلن کردیا۔ جلسوں کے اس‬
‫موسم میں ایک دن مریدپور کی انجمن نوجوانان ہند کی طرف سے میرے نام اس مضمون کا‬
‫ایک حظ موصول ہواکہ آپ کے شہر کے لوگ آپ کے دیدار کے منتظر ہیں۔ ہر کہ دمہ آپ‬
‫کے روئے انور کو دیکھنے اورآپ کے پاکیزہ خیالت سے مستفید ہونے کےلیے بےتاب ہیں۔‬
‫مانا ملک بھر کو آپ کی ذات بابرکات کی ازحد ضرورت ہے۔ لیکن وطن کا حق سب سے‬
‫زیادہ ہے۔ کیونکہ "خار وطن از سنبل و ریحان خوشتر۔۔۔" اسی طرح کی تین چار براہین قطعہ‬
‫کے بعد مجھ سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ آپ یہاں آکر لوگوں کو ہندومسلم اتحاد کی‬
‫تلقین کریں۔‬
‫خط پڑھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ لیکن جب ٹھنڈے دل سے اس بات پر غور‬
‫کیا تو رفتہ رفتہ باشندگان مریدپور کی مردم شناسی کا قائل ہوگیا۔‬
‫میں ایک کمزور انسان ہوں اور پھر لیڈری کا نشہ ایک لمحے ہی میں چڑھ جاتا ہے۔ اس‬
‫لمحے کے اندر مجھے اپنا وطن بہت ہی پیارا معلوم ہونے لگا۔ اہل وطن کی بےحسی پر بڑا‬
‫ترس آیا۔ ایک آواز نے کہا کہ ان بیچاروں کی بہبودی اور رہنمائی کا ذمہ دار تو ہی ہے۔ تجھے‬
‫ُ‬
‫خدا نے تدبر کی قوت بخشی ہے۔ ہزارہا انسان تیرے منتظر ہیں۔ اٹھ کہ سینکڑوں لوگ تیرے‬
‫لیے ماحضر لئے بیٹھے ہوگے۔ چنانچہ میں نے مریدپور کی دعوت قبول کرلی۔ اور لیڈرانہ‬
‫انداز میں بذریعہ تار اطلع دی‪ ،‬کہ پندرہ دن کے بعد فلں ٹرین سے مریدپور پہنچ جاؤں گا‪،‬‬
‫اسٹیشن پر کوئی شخص نہ آئے۔ ہر ایک شخص کو چاہئے کہ اپنے اپنے کام میں مصروف‬
‫رہے۔ ہندوستان کو اس وقت عمل کی ضرورت ہے۔‬
‫اس کے بعد جلسے کے دن تک میں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنی ہونے والی تقریر‬
‫کی تیاری میں صرف کردیا‪ ،‬طرح طرح کے فقرے دماغ میں صبح وشام پھرتے رہے۔‬
‫"ہند اور مسلم بھائی بھائی ہیں۔"‬
‫"ہندو مسلم شیروشکر ہیں۔"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫"ہندوستان کی گاڑی کے دو پہیے۔ اے میرے دوستو! ہندواور مسلمان ہی تو ہیں۔"‬
‫"جن قوموں نے اتفاق کی رسی کو مضبوط پکڑا‪ ،‬وہ اس وقت تہذیب کے نصف النہار پر ہیں۔‬
‫جنہوں نے نفاق اور پھوٹ کی طرف رجوع کیا۔ تاریخ نے اس کی طرف سے اپنی آنکھیں بند‬
‫کرلی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔"‬
‫بچپن کے زمانے میں کسی درسی کتاب میں "سنا ہے کہ دو بیل رہتے تھے اک جا" وال واقعہ‬
‫پڑھا تھا۔ اسے نکال کر نئے سرے سے پڑھا اور اس کی تمام تفصیلت کو نوٹ کرلیا۔ پھر یاد‬
‫آیا‪ ،‬کہ ایک اور کہانی بھی پڑھی تھی‪ ،‬جس میں ایک شخص مرتے وقت اپنے تمام لڑکوں کو‬
‫بل کر لکڑیوں کا ا یک گٹھا ان کے سامنے رکھ دیتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ اس گٹھے کو‬
‫توڑو۔ وہ توڑ نہیں سکے۔ پھر اس گٹھے کو کھول کر ایک ایک لکڑی ان سب کے ہاتھ میں دے‬
‫دیتا ہے۔ جسے وہ آسانی سے توڑ لیتے ہیں۔ اس طرح وہ اتفاق کا سبق اپنی اولد کے ذہن‬
‫نشین کرتا ہے۔ اس کہانی کو بھی لکھ لیا‪ ،‬تقریر کا آغاز سوچا۔ سو کچھ اس طرح کی تمہید‬
‫مناسب معلوم ہوئی کہ‪:‬‬
‫"پیارے ہم وطنو!"‬
‫گھٹا سر پہ ادبار کی چھا رہی ہے‬
‫فلکت سماں اپنا دکھل رہی ہے‬
‫نحوست پس و پیش منڈل رہی ہے‬
‫یہ چاروں طرف سے ندا آ رہی ہے‬
‫کہ کل کون تھے آج کیا ہوگئے تم‬
‫ابھی جاگتے تھے ابھی سو گئے تم‬
‫ہندوستان کے جس مایۂ ناز شاعر یعنی الطاف حسین حالی پانی پتی نے آج سے کئی برس‬
‫پیشتر یہ اشعار قلمبند کئے تھے۔ اس کو کیا معلوم تھا‪ ،‬کہ جوں جوں زمانے گزرتا جائے گا‪،‬‬
‫اس کے المناک الفاظ روزبروز صحیح تر ہوتے جائیں گے۔ آج ہندوستان کی یہ حالت ہے۔۔۔‬
‫وغیرہ وغیرہ۔‬
‫اس کے بعد سوچا کہ ہندوستان کی حالت کا ایک دردناک نقشہ کھینچوں گا‪ ،‬افلس‪،‬‬
‫غربت‪ ،‬بغض وغیرہ کی طرف اشارہ کروں گا اور پھر پوچھوں گا‪ ،‬کہ اس کی وجہ آخر کیا ہے؟‬
‫ً‬
‫ان تمام وجوہ کو دہراؤں گا‪ ،‬جو لوگ اکثر بیان کرتے ہیں۔ مثل غیرملکی حکومت‪ ،‬آب وہوا‪،‬‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫مغربی تہذیب۔ لیکن ان سب کو باری باری غلط قرار دوں گا‪ ،‬اور پھر اصل وجہ بتاؤں گا کہ‬
‫اصل وجہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا نفاق ہے‪ ،‬آخر میں اتحاد کی نصیحت کروں گا اور تقریر کو‬
‫اس شعر پر ختم کروں گا کہ‪:‬‬
‫آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں‬
‫تو ہائے گل پکار میں چلؤں ہائے دل‬
‫دس بارہ دن اچھی طرح غور کرلینے کے بعد میں نے اس تقریر کا ایک خاکہ سا بنایا۔ اور اس‬
‫کو ایک کاغذ پر نوٹ کیا‪ ،‬تاکہ جلسے میں اسے اپنے سامنے رکھ سکوں۔ وہ خاکہ کچھ اس‬
‫طرح کا تھا‪،‬‬
‫(‪ )۱‬تمہید اشعار حالی۔ (بلند اور دردناک آواز سے پڑھو۔)‬
‫(‪ )۲‬ہندوستان کی موجودہ حالت۔‬
‫(الف) افلس‬
‫(ب‌) بغض‬
‫(ج‌) قومی رہنماؤں کی خودغرضی‬
‫(‪ )۳‬اس کی وجہ۔‬
‫کیا غیرملکی حکومت ہے؟ نہیں۔‬
‫کیا آب و ہوا ہے؟ نہیں۔‬
‫کیا مغربی تہذیب ہے؟ نہیں۔‬
‫تو پھر کیا ہے؟ (وقفہ‪ ،‬جس کے دوران میں مسکراتے ہوئے تمام حاضرین جلسہ پر ایک نظر‬
‫ڈالو۔)‬
‫(‪ )۴‬پھر بتاؤ‪ ،‬کہ وجہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا نفاق ہے۔ (نعروں کے لیے وقفہ۔)‬
‫اس کا نقشہ کھینچو۔ فسادات وغیرہ کا ذکر رقت انگیز آواز میں کرو۔‬
‫(اس کے بعد شاید پھر چند نعرے بلند ہوں‪ ،‬ان کے لیے ذرا ٹھہر جاؤ۔)‬
‫(‪ )۵‬خاتمہ۔ عام نصائح۔ خصوصیات اتحاد کی تلقین‪ ،‬شعر‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫(اس کے بعد انکسار کے انداز میں جا کر اپنی کرسی پر بیٹھ جاؤ۔ اور لوگوں کی داد کے جواب‬
‫میں ایک ایک لمحے کے بعد حاضرین کو سلم کرتے رہو۔ )‬
‫اس خاکے کو تیار کرچکنے کے بعد جلسے کے دن تک ہر روز اس پر نظر ڈالتا رہا اور آئینے کے‬
‫سامنے کھڑے ہوکر بعد معرکہ آرا فقروں کی مشق کرتا رہا۔ نمبر ‪ ۳‬کے بعد کی مسکراہٹ‬
‫کی خاص مشق بہم پہنچائی۔ کھڑے ہو کر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں گھومنے کی‬
‫عادت ڈالی تاکہ تقریر کے دوران میں آواز سب تک پہنچ سکے اور سب اطمینان کے ساتھ‬
‫ایک ایک لفظ سن سکیں۔‬
‫مریدپور کا سفر آٹھ گھنٹے کا تھا۔ رستے میں سانگا کے اسٹیشن پر گاڑی بدلنی پڑتی تھی۔‬
‫انجمن نوجوان ہند کے بعض جوشیلے ارکان وہاں استقبال کو آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے ہار‬
‫پہنائے۔ اور کچھ پھل وغیرہ کھانے کو دئے۔ سانگا سے مریدپور تک ان کے ساتھ اہم سیاسی‬
‫مسائل پر بحث کرتا رہا۔ جب گاڑی مریدپور پہنچی تو اسٹیشن کے باہر کم از کم تین ہزار آدمیوں‬
‫کا ہجوم تھا۔ جو متواتر نعرے لگا رہا تھا۔ میرے ساتھ جو والنٹیئر تھے‪ ،‬انہوں نے کہا‪" ،‬سر باہر‬
‫نکالئے‪ ،‬لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔" میں نے حکم کی تعمیل کی۔ ہار میرے گلے میں تھے۔‬
‫ایک سنگترہ میرے ہاتھ میں تھا‪ ،‬مجھے دیکھا تو لوگ اور بھی جوش کے ساتھ نعرہ زن‬
‫ہوئے۔ بمشکل تمام باہر نکل۔ موٹر پر مجھے سوار کرایاگیا۔ اور جلوس جلسہ گاہ کی طرف‬
‫پایا۔‬
‫جلسہ گاہ میں داخل ہوئے‪ ،‬تو ہجوم پانچ چھ ہزار تک پہنچ چکا تھا۔ جو ایک آواز ہو کر میرا‬
‫نام لے لے کر نعرے لگاتا رہا تھا۔ دائیں بائیں‪ ،‬سرخ سرخ جھنڈیوں پر مجھ خاکسار کی تعریف‬
‫ً‬
‫میں چند کلمات بھی درج تھے۔ "مثل ہندوستان کی نجات تمہیں سے ہے۔" "مریدپور کے‬
‫فرزند خوش آمدید۔" "ہندوستان کو اس وقت عمل کی ضرورت ہے۔"‬
‫مجھ کو اسٹیج پر بٹھایا گیا ہے۔ صدر جلسہ نے لوگوں کے سامنے مجھے سے دوبارہ‬
‫مصافحہ کیا اور میرے ہاتھ کو بوسہ دیا اور پھر اپنی تعارفی تقریر یوں شروع کی‪:‬‬
‫"حضرات! ہندوستان کے جس نامی اور بلند پایہ لیڈر کو آج جلسے میں تقریر کرنے کے لیے‬
‫بلیا گیا ہے۔۔۔"‬
‫تقریر کا لفظ سن کر میں نے اپنی تقریر کے تمہیدی فقروں کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ لیکن‬
‫اس وقت ذہن اس قدر مختلف تاثرات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا‪ ،‬کہ نوٹ دیکھنے کی ضرورت‬
‫پڑی۔ جیب میں ہاتھ ڈال تو نوٹ ندارد۔ ہاتھ پاؤں میں یک لخت ایک خفیف سی خنکی‬
‫محسوس ہوئی۔ دل کو سنبھال کہ ٹھہرو‪ ،‬ابھی اور کئی جیبیں ہیں گھبراؤ نہیں رعشے کے‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫عالم میں سب جیبیں دیکھ ڈالیں۔ لیکن کاغذ کہیں نہ مل۔تمام ہال آنکھوں کے سامنے‬
‫چکر کھانے لگا‪ ،‬دل نے زور زور سے دھڑکنا شروع کیا‪ ،‬ہونٹ خشک ہوتے محسوس ہوئے۔‬
‫دس بارہ دفعہ جیبوں کو ٹٹول۔ لیکن کچھ بھی ہاتھ نہ آیا جی چاہا کہ زور زور سے رونا شروع‬
‫کردوں۔ بےبسی کے عالم میں ہونٹ کاٹنے لگے‪ ،‬صدر جلسہ اپنی تقریر برابر کر رہے تھے۔‬
‫مریدپور کا شہر ان پر جتنا بھی فخر کرے کم ہے ہر صدی اور ہر ملک میں صرف چند ہی‬
‫آدمی ایسے پیدا ہوتے ہیں‪ ،‬جن کی ذات نوع انسان کے لیے۔۔۔"‬
‫خدایا اب میں کیا کروں گا؟ ایک تو ہندوستان کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس سے پہلے‬
‫یہ بتانا ہے‪ ،‬کہ ہم کتنے نالئق ہیں۔ نالئق کا لفظ تو غیرموزوں ہوگا‪ ،‬جاہل کہنا چاہئے‪ ،‬یہ‬
‫ٹھیک نہیں‪ ،‬غیرمہذب۔‬
‫ٰ‬
‫"ان کی اعلی سیاست دانی‪ ،‬ان کا قومی جوش اور مخلصانہ ہمدردی سے کون واقف نہیں۔ یہ‬
‫سب باتیں تو خیر آپ جانتے ہیں‪ ،‬لیکن تقریر کرنے میں جو ملکہ ان کو حاصل ہے۔۔۔"‬
‫ہاں وہ تقریر کا ہے سے شروع ہوتی ہے؟ ہندومسلم اتحاد پر تقریر چند نصیحتیں ضرور کرنی‬
‫ہیں‪ ،‬لیکن وہ تو آخر میں ہیں‪ ،‬وہ بیچ میں مسکرانا کہاں تھا؟‬
‫"میں آپ کو یقین دلتا ہوں‪ ،‬کہ آپ کے دل ہل دیں گے‪ ،‬اور آپ کو خون کے آنسو رلئیں‬
‫گے۔۔۔"‬
‫صدر جلسہ کی آواز نعروں میں ڈوب گئیں۔ دنیا میری آنکھوں کے سامنے تاریک ہورہی‬
‫تھی۔ اتنے میں صدر نے مجھ سے کچھ کہا مجھے الفاظ بالکل سنائی نہ دئے۔ اتنا‬
‫محسوس ہوا کہ تقریر کا وقت سر پر آن پہنچا ہے۔ اور مجھے اپنی نشست پر سے اٹھنا‬
‫ہے۔چنانچہ ایک نامعلوم طاقت کے زیراثر اٹھا۔ کچھ لڑکھڑایا‪ ،‬پھر سنبھل گیا۔ میرا ہاتھ‬
‫کانپ رہا تھا۔ ہال میں شور تھا‪ ،‬میں بیہوشی سے ذرا ہی دور تھا۔ اور نعروں کی گونج ان لہروں‬
‫کے شور کی طرح سنائی دے رہی تھی جو ڈوبتے ہوئے انسان کے سر پر سے گزر رہی ہوں۔‬
‫تقریر شروع کہاں سے ہوتی ہے؟ لیڈروں کی خودغرضی بھی بیان کرنی ہے۔ اور کیا کہنا ہے؟‬
‫ایک کہانی بھی تھی بگلے اور لومڑی کی کہانی۔ نہیں ٹھیک ہے دو بیل۔۔۔"‬
‫اتنے میں ہال میں سناٹا چھا گیا۔ لوگ سب میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے اپنی‬
‫آنکھیں بند کرلیں اور سہارے کے لیے میز کو پکڑ لیا میرا دوسرا ہاتھ بھی کانپ رہا تھا‪ ،‬وہ بھی‬
‫میں نے میز پر رکھ دیا۔ اس وقت ایسا معلوم ہو رہا تھا‪ ،‬جیسے میز بھاگنے کو ہے۔ اور میں‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫اسے روکے کھڑا ہوں۔ میں نے آنکھیں کھولیں اور مسکرانے کی کوشش کی‪ ،‬گل خشک تھا‪،‬‬
‫بصد مشکل میں نے یہ کہا۔‬
‫"پیارے ہم وطنو!"‬
‫آواز خلف توقع بہت ہی باریک اور منحنی سی نکلی۔ ایک دو شخص ہنس دئے۔ میں نے‬
‫گلے کو صاف کیا تو اور کچھ لوگ ہنس پڑے۔ میں نے جی کڑا کرکے زور سے بولنا شروع کیا۔‬
‫پھیپھڑوں پر یک لخت جو یوں زور ڈال تو آواز بہت ہی بلند نکل آئی‪ ،‬اس پر بہت سے لوگ کھل‬
‫کھل کر ہنس پڑے۔ ہنسی تھمی‪ ،‬تو میں نے کہا۔‬
‫"پیارے ہم وطنو!"‬
‫اس کے بعد ذرا دم لیا‪ ،‬اور پھر کہا‪ ،‬کہ‪:‬‬
‫"پیارے ہم وطنو!"‬
‫کچھ نہ آیا‪ ،‬کہ اس کے بعد کیا کہنا ہے۔ سینکڑوں باتیں دماغ میں چکر لگارہی تھیں‪ ،‬لیکن‬
‫زبان تک ایک نہ آتی تھی۔‬
‫"پیارے ہم وطنو!"‬
‫اب کے لوگوں کی ہنسی سے میں بھنا گیا۔ اپنی توہین پر بڑا غصہ آیا۔ ارادہ کیا‪ ،‬کہ اس دفعہ‬
‫جو منہ میں آیا کہہ دوں گا‪ ،‬ایک دفعہ تقریر شروع کردوں‪ ،‬تو پھر کوئی مشکل نہیں رہے گی۔‬
‫"پیارے ہم وطنو! بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہندوستان کی آب و ہوا خراب یعنی ایسی ہے‪ ،‬کہ‬
‫ہندوستان میں بہت سے نقص ہیں۔۔۔ سمجھے آپ؟ (وقفہ۔۔۔) نقص ہیں۔ لیکن یہ بات یعنی‬
‫امر جس کی طرف میں نےاشارہ کیا ہے گویا چنداں صحیح نہیں۔" (قہقہہ )‬
‫حواس معطل ہو رہے تھے‪ ،‬سمجھ میں نہ آتا تھا‪ ،‬کہ آخر تقریر کا سلسلہ کیا تھا۔ یک لخت‬
‫بیلوں کی کہانی یاد آئی‪ ،‬اور راستہ کچھ صاف ہوتا دکھائی دیا۔‬
‫"ہاں تو بات دراصل یہ ہے‪ ،‬کہ ایک جگہ دو بیل اکھٹےرہتے تھے‪ ،‬جو باوجود آب وہوا اور غیر‬
‫ملکی حکومت کے۔" (زور کا قہقہہ)‬
‫یہاں تک پہنچ کر محسوس کیا‪ ،‬کہ کلم کچھ بےربط سا ہو رہا ہے۔ میں نے کہا‪ ،‬چلو وہ‬
‫لکڑی کے گٹھے کی کہانی شروع کردیں۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬
‫ً‬
‫"مثل آپ لکڑیوں کے ایک گٹھے کو لیجئے لکڑیاں اکثر مہنگی ملتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ‬
‫ہندوستان میں افلس بہت ہے۔ گویا چونکہ اکثر لوگ غریب ہیں‪ ،‬اس لئے گویا لکڑیوں کا‬
‫گٹھا یعنی آپ دیکھئے نا۔ کہ اگر۔" (بلند اور طویل قہقہہ )‬
‫"حضرات! اگر آپ نے عقل سے کام نہ لیا تو آپ کی قوم فنا ہو جائے گی۔ نحوست منڈل رہی‬
‫ہے۔ (قہقہے اور شور وغوغا۔۔۔ اسے باہر نکالو۔ ہم نہیں سنتے ہیں۔)‬
‫شیخ سعدی نے کہا ہے۔ کہ‪:‬‬
‫چو از قوم یکے بیدانشی کرد‬
‫(آواز آئی کیا بکتا ہے۔) خیر اس بات کو جانے دیجئے۔ بہرحال اس بات میں تو کسی کو شبہ‬
‫نہیں ہوسکتا۔ کہ‪:‬‬
‫آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں‬
‫تو ہائے دل پکار میں چلؤ ہائے گل‬
‫اس شعر نے دوران خون کو تیز کردیا‪ ،‬ساتھ ہی لوگوں کا شور بھی بہت زیادہ ہوگیا۔ چنانچہ‬
‫میں بڑے جوش سے بولنے لگا‪:‬‬
‫"جو قومیں اس وقت بیداری کے آسمان پر چڑھی ہوئی ہیں‪ ،‬ان کی زندگیاں لوگوں کے لیے‬
‫شاہراہ ہیں۔ اور ان کی حکومتیں چار دانگ عالم کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔ (لوگوں کا شور اور‬
‫ہنسی اور بھی بڑھتی گئی۔) آپ کے لیڈروں کے کانوں پر خودغرضی کی پٹی بندھی ہوئی‬
‫ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے‪ ،‬کہ زندگی کے وہ تمام شعبے ۔۔۔"‬
‫لیکن لوگوں کا غوغا اور قہقہے اتنے بلند ہوگئے کہ میں اپنی آواز بھی نہ سن سکتا تھا۔ اکثر‬
‫ُ‬
‫لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اور گل پھاڑ پھاڑ کر کچھ کہہ رہے تھے۔ میں سر سے پاؤں تک‬
‫کانپ رہا تھا۔ ہجوم میں سے کسی شخص نے بارش کے پہلے قطرے کی طرح ہمت کرکے‬
‫سگریٹ کی ایک خالی ڈبیا مجھ پر پھینک دی۔ اس کے بعد چار پانچ کاغذ کی گولیاں‬
‫میرے اردگرد اسٹیج پر آگیں‪ ،‬لیکن میں نے اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھا۔‬
‫"حضرات! تم یاد رکھو۔ تم تباہ ہوجاؤ گے! تم دو بیل ہو۔۔۔"‬
‫لیکن جب بوچھاڑ بڑھتی ہی گئی ‪ ،‬تو میں نے اس نامعقول مجمع سے کنارہ کشی ہی‬
‫مناسب سمجھی۔ اسٹیج سے پھلنگا‪ ،‬اور زقند بھر کے دروازے میں باہر کا رخ کیا‪ ،‬ہجوم بھی‬
‫ً‬ ‫ً‬
‫میرے پیچھے لپکا۔ میں نے مڑ کر پیچھے نہ دیکھا۔ بلکہ سیدھا بھاگتا گیا۔ وقتا فوقتا‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫بعض نامناسب کلمے میرے کانوں تک پہنچ رہے تھے۔ ان کو سن کر میں نے اپنی رفتار اور‬
‫بھی تیز کردی۔ اور سیدھا اسٹیشن کا رخ کیا‪ ،‬ایک ٹرین پلیٹ فارم پر کھڑی تھی میں بےتحاشہ‬
‫اس میں گھس گیا‪ ،‬ایک لمحے کے بعد وہ ٹرین وہاں سے چل دی۔‬
‫ُ‬
‫اس دن کے بعد آج تک نہ مریدپور نے مجھے مدعو کیا ہے۔ نہ مجھے خود وہاں جانے کی‬
‫خواہش پیدا ہوئی ہے۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ان جام بخیر‬

‫منظر۔۔ ایک تنگ و تاریک کمرہ جس میں بجز ایک پرانی سی میز اور لرزہ براندام کرسی کے اور‬
‫کوئی فرنیچر نہیں۔‬
‫زمین پرایک چٹائی بچھی ہے جس پر بےشمار کتابوں کا انبار لگا ہے۔ اس میں سے جہاں‬
‫جہاں کتابوں کی پشتیں نظر آتی ہیں وہاں شیکسپیئر‪ ،‬ٹالسٹائے‪ ،‬ورڈزورتھ وغیرہ مشاہیر ادب‬
‫کے نام دکھائی دے جاتے ہیں۔ باہر کہیں پاس ہی کتے بھونک رہے ہیں۔ قریب ہی ایک‬
‫ُ‬
‫برات اتری ہوئی ہے۔ اس کےبینڈ کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے جس کے بجانے والے دق‪،‬‬
‫دمہ‪ ،‬کھانسی اور اس کے دیگر امراض میں مبتل معلوم ہوتے ہیں۔ ڈھول بجانے والے کی‬
‫صحت البتہ اچھی ہے۔‬
‫پطرس نامی ایک نادار معلم میز پر کام کر رہا ہے۔ نوجوان ہے لیکن چہرے پر گزشتہ‬
‫تندرستی اور خوش باشی کے آثار صرف کہیں کہیں باقی ہیں‪،‬آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے‬
‫پڑے ہوئے ہیں۔ چہرے سے ذہانت پسینہ بن کر ٹپک رہی ہے۔ سامنے لٹکی ہوئی ایک‬
‫جنتری سے معلوم ہوتا ہے کہ مہینے کی آخری تاریخ ہے۔‬
‫ُ‬
‫باہر سے کوئی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ پطرس اٹھ کر دروازہ کھول د یتا ہے۔ تین طالب علم‬
‫ٰ‬
‫نہایت اعلی لباس زیب تن کئے اندر داخل ہوتے ہیں۔‬
‫پطرس۔۔ حضرات اندر تشریف لے آئیے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ میرے پاس صرف ایک کرسی‬
‫ہے۔ لیکن جاہ وحشمت کا خیال بہت پوچ خیال ہے۔ علم بڑی نعمت ہے‪ ،‬لہذا اے میرے‬
‫ُ‬
‫فرزندو‪ ،‬اس انبار سے چند ضخیم کتابیں انتخاب کرلو اور ان کو ایک دوسرے کے اوپر چن کر ان‬
‫پر بیٹھ جاؤ۔ علم ہی تم لوگوں کا اوڑھنا اور علم ہی تم لوگوں کا بچھونا ہونا چاہئے۔‬
‫(کمرے میں ایک پراسرار سا نور چھا جاتا ہے۔ فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دیتی‬
‫ہے)۔‬
‫طالب علم۔۔ (تینوں مل کر) اے خدا کے برگزیدہ بندے۔ اے ہمارے محترم استاد۔ ہم‬
‫تمہارا حکم ماننےکو تیار ہیں۔ علم ہی ہم لوگوں کا اوڑھنا اور علم ہی ہم لوگوں کا بچھونا‬
‫ہونا چاہئے۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫(کتابوں کو جوڑ کر ان پر بیٹھ جاتے ہیں)‬
‫پطرس۔۔ کہو اے ہندوستان کے سپوتو! آج تم کو کون سے علم کی تشنگی میرے دروازے‬
‫تک کشاں کشاں لے آئی؟‬
‫پہل طالب علم۔۔ اے نیک انسان! ہم آج تیرے احسانوں کا بدلہ اتارنے آئے ہیں۔‬
‫دوسرا طالب علم۔۔ اے فرشتے! ہم تیری نوازشوں کا ہدیہ پیش کرنے آئے ہیں۔‬
‫تیسرا طالب علم۔۔ اے مہربان! ہم تیری محنتوں کا پھل تیرے پاس لئے ہیں۔‬
‫پطرس۔۔ یہ نہ کہو! خود میری محنت ہی میری محنت کا پھل ہے۔ کالج کے مقرر اوقات کے‬
‫علوہ جو کچھ میں نے تم کو پڑھایا اس کا معاوضہ مجھے اس وقت وصول ہوگیا جب میں‬
‫نے تمہاری آنکھوں میں ذکاوت چمکتی دیکھی۔ آہ! تم کیا جانتے ہو کہ تعلیم وتدریس کیسا‬
‫آسمانی پیشہ ہے۔ تاہم تمہارے الفاظ سے میرے دل میں ایک عجیب مسرت سی بھر‬
‫گئی ہے۔ مجھ پر اعتماد کرو۔ اور بالکل مت گھبراؤ۔ جو کچھ کہنا ہے تفصیل سے کہو۔‬
‫پہل طالب علم۔۔ (سروقد اور دست بستہ کھڑا ہو کر) اے محترم استاد!ہم علم کی بےبہا‬
‫دولت سے محروم تھے‪ ،‬درس کے مقررہ اوقات سے ہمار ی پیاس نہ بجھ سکتی تھی۔ پولیس‬
‫اور سول سروس کے امتحانات کی آزمائش کڑی ہے۔ تو نے ہماری دستگیری کی اور ہمارے‬
‫تاریک دماغوں میں اجال ہوگیا۔ مقتدر معلم! تو جانتا ہے‪ ،‬آج مہینے کی آخری تاریخ ہے‪،‬‬
‫ہم تیری خدمتوں کا حقیر معاوضہ پیش کرنے آئے ہیں۔ تیرے عالمانہ تجربے اور تیری‬
‫بزرگانہ شفقت کی قیمت کوئی ادا نہیں کرسکتا۔ تاہم اظہار تشکر کے طور پر جو کم مایہ رقم‬
‫ہم تیری خدمت میں پیش کریں اسے قبول کر کہ ہماری احسان مندی اس سے کہیں بڑھ کر‬
‫ہے۔‬
‫پطرس۔۔ تمہارے الفاظ سے ایک عجیب بےقراری میرے جسم پر طاری ہوگئی ہے۔‬
‫(پہلے طالب علم کا اشارہ پا کر باقی دو طالب علم بھی کھڑے ہوجاتے ہی۔ باہر بینڈ یک‬
‫لخت زور زور سے بجنے لگتا ہے)۔‬
‫پہل طالب علم۔۔ (آگے بڑھ کر) اسے ہمارے مہربان مجھ حقیر کی نذر قبول کر۔ (بڑے‬
‫ادب واحترام کے ساتھ اٹھنی پیش کرتا ہے)‬
‫دوسرا طالب علم۔ ۔ (آگے بڑھ کر) اسے فرشتے میرے ہدیےکو شرف قبولیت بخش۔ (اٹھنی‬
‫پیش کرتا ہے)‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫تیسرا طالب علم۔۔ (آگے بڑھ کر) اے نیک انسان مجھ ناچیز کو مفتخر فرما۔ (اٹھنی پیش‬
‫کرتا ہے)۔‬
‫پطرس۔۔ (جذبات سے بےقابو ہو کر رقت انگیز آواز سے) اے میرے فرزندو! خداواند کی‬
‫رحمت تم پر نازل ہو۔ تمہاری سعادت مندی اور فرض شناسی سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔‬
‫تمہیں اس دنیا میں آرام اور آخرت میں نجات نصیب ہو۔ اور خدا تمہارے سینوں کو علم کے‬
‫ُ‬
‫نور سے منور رکھے۔ (تینوں اٹھنیاں اٹھا کر میز پر رکھ لیتا ہے)۔‬
‫طالب علم۔۔ (تینوں مل کر) ال کے برگزیدہ بندے ہم فرض سے سبکدوش ہوگئے۔ اب ہم‬
‫اجازت چاہتے ہیں کہ گھر پر ہمارے والدین ہمارے لیے بےتاب ہوں گے۔‬
‫پطرس۔۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو اور تمہاری علم کی پیاس اور بھی بڑھتی رہے۔‬
‫(طالب علم چلے جاتے جاتے ہیں)۔‬
‫ٰ‬
‫پطرس۔۔ (تنہائی میں سربسجود ہو کر) باری تعالی تیرا لکھ لکھ شکر ہے کہ تو نے مجھے‬
‫اپنی ناچیز محبت کے ثمر کے لیے بہت دنوں انتظار میں نہ رکھا۔ تیری رحمت کی کوئی انتہا‬
‫نہیں لیکن ہماری کم مائیگی اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ تیرا ہی فضل وکرم ہے کہ تو‬
‫میرے وسیلے سے اوروں کو بھی رزق پہنچاتا ہے اور جو ملزم میری خدمت کرتا ہے اس کا‬
‫بھی کفیل تونے مجھ ہی کو بنا رکھا ہے۔ تیری رحمت کی کوئی انتہا نہیں اور تیری بخشش‬
‫ہمیشہ ہمیشہ جاری رکھنے والی ہے۔‬
‫(کمرے میں پھر ایک پراسرار سی روشنی چھا جاتی ہے اور فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ‬
‫سنائی دیتی ہے)۔‬
‫کچھ دیر کے بعد پطرس سجدے سے سر اٹھاتا ہے اور ملزم کو آواز دیتا ہے۔‬
‫پطرس۔۔ اے خدا کے دیانت دار اور محنتی بندے! ذرا یہاں تو آئیو!‬
‫ملزم۔۔ (باہر سے) اے میرے خوش خصال آقا! میں کھانا پکا کر آوں گاکہ تعجیل شیطان کا‬
‫کام ہے۔‬
‫(ایک طویل وقفہ جس کے دوران درختوں کے سائے پہلے سے دگنے لمبے ہوگئے ہیں)۔‬
‫پطرس۔۔ آہ انتظار کی گھڑیاں کس قدر شیریں ہیں۔ کتوں کے بھونکنے کی آواز کس خوش‬
‫اسلوبی سے بینڈ کی آواز کے ساتھ مل رہی ہے۔‬
‫(سربسجود گر پڑ تا ہے)۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬
‫ً‬
‫پھر اٹھ کر میز کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ اٹھنیوں پر نظر پڑتی ہے ان کو فورا کتاب کے نیچے‬
‫چھپا دیتا ہے۔‬
‫پطرس۔۔ آہ! مجھے زرودولت سے نفرت ہے۔ خدایا میرے دل کو دنیا کی للچ سے پاک‬
‫رکھیو!‬
‫(ملزم اندر آتا ہے)۔‬
‫پطرس۔۔ اے مزدور پیشہ انسان مجھے تم پر رحم آتا ہے کہ ضیائے علم کی ایک کرن بھی‬
‫ٰ‬
‫کبھی تیرے سینے میں داخل نہ ہوئی۔ تاہم خداوند تعالی کے دربار میں تم ہم سب برابر ہیں‪،‬‬
‫تو جانتا ہے آج مہینے کی آخری تاریخ ہے‪ ،‬تیری تنخواہ کی ادائیگی کا وقت سر پر آگیا۔ خوش‬
‫ہو کہ آج تجھے اپنی مشقت کا معاوضہ مل جائے گا۔ یہ تین اٹھنیاں قبول کر اور باقی کے‬
‫ساڑھے اٹھارہ روپے کے لیے کسی لطیفہ غیبی کا انتظار کرو۔ دنیا امید پر قائم ہے اور مایوسی‬
‫کفر ہے۔‬
‫(ملزم اٹھنیاں زور سے زمین پر پھینک کر گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔ بینڈ زور سے بجنے لگتا‬
‫ہے)۔‬
‫ٰ‬
‫پطرس۔۔ خدایا تکبر کے گناہ سے ہم سب کو بچائے رکھ اور ادنی طبقے کے لوگوں کا سا غرور‬
‫ہم سے دور رکھ! (پھر کام مشغول ہوجاتا ہے)۔‬
‫باورچی خانے میں کھانا جلنے کی ہلکی ہلکی بو آرہی ہے۔۔۔ ایک طویل وقفہ جس کے‬
‫دوران میں درختوں کے سائے چوگنے لمبے ہوگئے ہیں۔ بینڈ بدستور بج رہا ہے۔ یک لخت‬
‫باہر سڑک پر موٹروں کے آکر رک جانے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد کوئی شخص‬
‫دروازے پر دستک دیتا ہے۔‬
‫پطرس۔۔ (کام پر سے سر اٹھا کر) اے شخص تو کون ہے؟‬
‫ایک آواز۔۔ (باہر سے) حضور میں غلموں کا غلم ہوں اور باہر دست بدستہ کھڑا ہوں کہ‬
‫اجازت ہو تو اندر آؤں اور عرض حال کروں۔‬
‫پطرس۔۔ (دل میں) میں اس آواز سے ناآشنا ہوں لیکن لہجے سے پایا جاتا ہے کہ بولنے وال‬
‫کوئی شائستہ شخص ہے۔ خدایا یہ کون ہے (بلند آواز سے) اندر آجائے۔‬
‫(دروازہ کھلتا ہے اور ایک شخص لباس فاخرہ پہنے اندر داخل ہوتا ہے گو چہرے سے وقار‬
‫ٹپک رہا ہے لیکن نظریں زمین دوز ہیں۔ ادب و احترام سے ہاتھ باندھے کھڑا ہے)۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫پطرس۔۔ آپ دیکھتے ہیں کہ میرے پاس صرف ایک ہی کرسی ہے لیکن جاہ وحشمت کا‬
‫خیال بہت پوچ خیال ہے۔ علم بڑی نعمت ہے۔ لہذا اے محترم اجنبی اس انبار میں سے‬
‫چند ضخیم کتابیں انتخاب کرلو اور ان کو ایک دوسرے کے اوپر چن کر ان پر بیٹھ جاؤ۔ علم‬
‫ہی لوگوں کا اوڑھنا بچھونا اور علم ہی ہم لوگوں کا بچھونا ہونا چاہئے۔‬
‫اجنبی۔۔ اے برگزیدہ شخص میں تیرے سامنے کھڑے رہنے ہی میں اپنی سعادت‬
‫سمجھتا ہوں۔‬
‫پطرس۔۔ تمہیں کون سے علم کی تشنگی میرے دروازے تک کشاں کشاں لے آئی؟‬
‫اجنبی۔۔ اے ذی علم محترم! گو تم میری صورت سے واقف نہیں لیکن میں شعبہ تعلیم کا‬
‫ٰ‬
‫افسر اعلی ہوں اور شرمندہ ہوں کہ میں آج تک کبھی نیاز حاصل کرنے کے لیے حاضر نہ‬
‫ہوا۔ میری اس کوتاہی اور غفلت کو اپنے علم وفضل کے صدقے معاف کردو۔‬
‫(آبدیدہ ہوجاتا ہے)۔‬
‫پطرس۔۔ اے خدا کیا یہ سب وہم ہے کیا میری آنکھیں دھوکا کھا رہی ہیں!‬
‫اجنبی۔۔ مجھے تعجب نہیں کہ تم میرے آنے کو وہم سمجھو کیونکہ آج تک ہم نے تم‬
‫جیسے نیک اور برگزیدہ انسان سے اس قدر غفلت برتی کہ مجھے خود اچنبھا معلوم ہوتا‬
‫ہے لیکن مجھ پر یقین کرو میں فی الحقیقت یہاں تمہاری خدمت میں کھڑا ہوں اور تمہاری‬
‫آنکھیں تمہیں ہرگز دھوکہ نہیں دے رہیں۔ اے شریف اور غم زدہ انسان یقین نہ ہوتو میرے‬
‫چٹکی لے کر میرا امتحان لے لو۔‬
‫(پطرس اجنبی کے چٹکی لیتا ہے۔ اجنبی بہت زور سے چیختا ہے)۔‬
‫پطرس۔۔ ہاں مجھے اب کچھ کچھ یقین آگیا ہے لیکن حضور وال آپ کا یہاں قدم رنجہ‬
‫فرمانامیرے لیے اس قدر باعث فخر ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں دیوانہ نہ ہو جاؤں۔‬
‫اجنبی۔۔ ایسے الفاظ کہہ کر مجھے کانٹوں میں نہ گھسیٹو اور یقین جانو کہ میں اپنی گزشتہ‬
‫خطاؤں پر بہت نادم ہوں۔‬
‫پطرس۔۔ (مہبوت ہو کر) مجھے اب کیا حکم ہے؟‬
‫اجنبی۔۔ میری اتنی مجال کہاں کہ میں آپ کو حکم دوں البتہ ایک عرض ہے اگر آپ منظور‬
‫کرلیں تو میں اپنےآپ کو دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان سمجھوں۔‬
‫پطرس۔۔ آپ فرمائیے میں سن رہا ہوں گو مجھے یقین نہیں کہ یہ عالم بیداری ہے۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫اجنبی تالی بجاتا ہے چھ خدام بڑے بڑے صندوق اٹھا کر اندر داخل ہوتے ہیں اور زمین پر‬
‫رکھ کر بڑے ادب سے کورنش بجال کر باہر چلے جاتے ہیں۔‬
‫(صندوقوں کے ڈھکنے کھول کر) میں بادشاہ معظم۔۔ شاہزادہ ویلز‪ ،‬وائسرائے ہند اور‬
‫کمانڈرانچیف ان چاروں کی ایما پر یہ تحائف آپ کی خدمت میں آپ کے علم وفضل کی‬
‫قدردانی کے طور پر لے کر حاضر ہوا ہوں (بھرائی ہوئی آواز سے) ان کو قبول کیجئے اور مجھے‬
‫مایوس واپس نہ بھیجئے ورنہ ان سب کا دل ٹوٹ جائے گا۔‬
‫پطرس۔۔ (صندوق کو دیکھ کر) سونا! اشرفیاں! جواہرات! مجھے یقین نہیں آتا (آیت الکرسی‬
‫پڑھنے لگتا ہے)۔‬
‫اجنبی۔۔ ان کو قبول کیجئے اور مجھے مایوس واپس نہ بھیجئے۔ (آنسو ٹپ ٹپ کرتے ہیں)۔‬
‫(گانا۔ آج موری انکھیاں پل نہ لگیں)۔‬
‫پطرس۔۔ اے اجنبی! تیرے آنسو کیوں گر رہے ہیں اور تو کیوں گا رہا ہے؟ معلوم ہوتا ہے‬
‫تجھے اپنے جذبات پر قابو نہیں۔ یہ کمزوری کی نشانی ہے۔ خدا تجھے تقویت اور ہمت دے۔‬
‫میں خوش ہوں کہ تو اور تیرے آقا علم سے اس قدر محبت رکھتے ہیں۔ بس اب جا کہ‬
‫ہمارے مطالعے کا وقت ہے۔ کل کالج میں اپنے لیکچروں سے ہمیں چارپانسو روحوں کو‬
‫خواب جہالت سے جگانا ہے۔‬
‫اجنبی۔۔ (سسکیاں بھرتے ہوئے) مجھے اجازت ہو تو میں بھی حاضر ہو کر آپ کے خیالت‬
‫سے مستفید ہوں۔‬
‫پطرس۔۔ خدا تمہارا حامی وناصر ہو اور تمہارے علم کی پیاس اور بھی بڑھتی رہے۔‬
‫(اجنبی رخصت ہوجاتا ہے۔ پطرس صندوقوں کو کھوئی ہوئی نظروں سے دیکھتا رہتا ہے اور‬
‫پھر ایک یک لخت مسرت کی ایک چیخ مار کر گر پڑتا ہے اور مر جاتا ہے۔ کمرے میں ایک‬
‫پراسرار نور چھا جاتا ہے۔ اور فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دیتی ہے۔ باہر بینڈ‬
‫بدستور بج رہا ہے)۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫سی نم ا کا عشق‬

‫"سینما کا عشق" عنوان تو عجب ہوس خیز ہے۔ لیکن افسوس کہ اس مضمون سے آپ کی‬
‫تمام توقعات مجروح ہوں گی۔ کیونکہ مجھے تو اس مضمون میں کچھ دل کے داغ دکھانے‬
‫مقصود ہیں۔ اس سے آپ یہ نہ سمجھئے کہ مجھے فلموں سے دلچسپی نہیں یا سینما کی‬
‫موسیقی اور تاریکی میں جو ارمان انگیزی ہے میں اس کا قائل نہیں۔ میں تو سینما کے‬
‫معاملے میں اوائل عمر ہی سے بزرگوں کا مورد عتاب رہ چکا ہوں لیکن آج کل ہمارے‬
‫دوست مرزا صاحب کی مہربانیوں کے طفیل سینما گویا میری دکھتی رگ بن کر رہ گیا ہے۔‬
‫جہاں اس کا نام سن پاتا ہوں بعض دردانگیز واقعات کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جس سے رفتہ‬
‫رفتہ میری فطرت ہی کج بین بن گئی ہے۔ اول تو خدا کے فضل سے ہم کبھی سینما وقت پر‬
‫نہیں پہنچ سکے۔ اس میں میری سستی کو ذرا دخل نہیں یہ سب قصور ہمارے دوست مرزا‬
‫صاحب کا ہے جو کہنے کو تو ہمارے دوست ہیں لیکن خدا شاہد ہے ان کی دوستی سے جو‬
‫نقصان ہمیں پہنچے ہیں کسی دشمن کے قبضہ قدرت سے بھی باہر ہوں گے۔‬
‫جب سینما جانے کا ارادہ ہو ہفتہ بھر پہلے سے انہیں کہہ رکھتا ہوں کہ کیوں بھئی مرزا‬
‫اگلی جمعرات سینما چلو گے نا؟ میری مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ پہلے سے تیار رہیں اور اپنی‬
‫تمام مصروفیتیں کچھ اس ڈھب سے ترتیب دے لیں کہ جمعرات کے دن ان کے کام میں‬
‫کوئی ہرج واقع نہ ہو لیکن وہ جواب میں عجب قدر ناشناسی سے فرماتے ہیں‪:‬‬
‫"ارے بھئی چلیں گے کیوں نہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ ہمیں تفریح کی ضرورت نہیں ہوتی؟‬
‫اور پھر کبھی ہم نے تم سےآج تک ایسی بےمروتی بھی برتی ہے کہ تم نے چلنے کو کہا ہو اور‬
‫ہم نے تمہارا ساتھ نہ دیا ہو؟"‬
‫ان کی تقریر سن کر میں کھسیانا سا ہوجاتا ہوں۔ کچھ دیر چپ رہتا ہوں اور پھر دبی زبان سے‬
‫کہتا ہوں‪:‬‬
‫"بھئی اب کے ہوسکا تو وقت پر پہنچیں گے۔ ٹھیک ہے نا؟"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫میری یہ بات عام طور پر ٹال دی جاتی ہے کیونکہ اس سے ان کا ضمیر کچھ تھوڑا سا بیدار‬
‫ہوجاتا ہے۔ خیر میں بھی بہت زور نہیں دیتا۔ صرف ان کو بات سمجھانے کے لیے اتنا کہہ‬
‫دیتا ہوں‪:‬‬
‫"کیوں بھئی سینما آج کل چھ بجے شروع ہوتا ہےنا؟"‬
‫مرزا صاحب عجیب معصومیت کے انداز میں جواب دیتے ہیں۔ "بھئی ہمیں یہ معلوم‬
‫نہیں۔"‬
‫"میرا خیال ہے چھ ہی بجے شروع ہوتا ہے۔"‬
‫"اب تمہارے خیال کی تو کوئی سند نہیں۔"‬
‫"نہیں مجھے یقین ہے چھ بجے شروع ہوتا ہے۔"‬
‫"تمہیں یقین ہے تو میرا دماغ کیوں مفت میں چاٹ رہے ہو؟"‬
‫اس کے بعد آپ ہی کہئے میں کیا بولوں؟‬
‫خیر جناب جمعرات کے دن چار بجے ہی ان کے مکان کو روانہ ہوجاتا ہوں اس خیال سے کہ‬
‫جلدی جلدی انہیں تیار کراکے وقت پر پہنچ جائیں۔ دولت خانے پر پہنچتا ہوں تو آدم نہ آدم‬
‫زاد۔ مردانے کے سب کمروں میں گھوم جاتا ہوں۔ ہر کھڑکی میں سے جھانکتا ہوں ہر شگاف‬
‫میں سے آوازیں دیتا ہوں لیکن کہیں سے رسید نہیں ملتی آحر تنگ آکر ان کے کمرے میں‬
‫بیٹھ جاتا ہوں۔ وہاں دس منٹ سیٹیاں بجاتا رہتا ہوں۔ دس پندرہ منٹ پنسل سے بلٹنگ‬
‫ُ‬
‫پیپر پر تصویریں بناتا رہتاہوں پھر سگریٹ سلگا لیتا ہوں اور باہر ڈیوڑھی میں نکل کر ادھر ادھر‬
‫جھانکتاہوں۔ وہاں بدستور ہو کا عالم دیکھ کر کمرے میں واپس آجاتا ہوں اور اخبار پڑھنا‬
‫شروع کردیتا ہوں۔ ہر کالم کے بعد مرزا صاحب کو ایک آواز دے لیتا ہوں۔ اس امید پر کہ‬
‫شاید ساتھ کے کمرے میں یا عین اوپر کے کمرے میں تشریف لے آئے ہوں۔ سو رہے تھے‬
‫تو ممکن ہے جاگ اٹھے ہوں۔ یا نہا رہے تھے تو شاید غسل خانے سے باہر نکل آئے ہوں۔‬
‫لیکن میری آواز مکان کی وسعتوں میں سے گونج ہر واپس آجاتی ہے آخرکار ساڑھے پانچ بجے‬
‫کے قریب زنانے سے تشریف لتے ہیں۔ میں اپنے کھولتے ہوئے خون پر قابو میں ل کر متانت‬
‫اور اخلق کو بڑی مشکل سے مدنظر رکھ کر پوچھتا ہوں‪:‬‬
‫"کیوں حضرات آپ اندر ہی تھے؟"‬
‫"ہاں میں اندر ہی تھا۔"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫"میری آواز آپ نے نہیں سنی؟"‬
‫"اچھا یہ تم تھے؟ میں سمجھا کوئی اور ہے؟"‬
‫آنکھیں بند کرکے سر کو پیچھے ڈال لیتا ہوں اور دانت پیس کر غصے کو پی جاتا ہوں اور پھر‬
‫کانپتے ہوئے ہونٹوں سے پوچھتا ہوں‪:‬‬
‫"تو اچھا اب چلیں گے یا نہیں؟"‬
‫"وہ کہاں"؟‬
‫"ارے بندۂ خدا آج سینما نہیں جانا؟"‬
‫"ہاں سینما۔ سینما۔ (یہ کہہ کر وہ کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں) ٹھیک ہے۔ سینما۔ میں بھی‬
‫سوچ رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ایسی ہے جو مجھے یاد نہیں آتی اچھا ہوا تم نے یاد‬
‫دلیا ورنہ مجھے رات بھر الجھن رہتی۔"‬
‫"تو چلو پھر اب چلیں۔"‬
‫"ہاں وہ تو چلیں ہی گے میں سوچ رہا تھا کہ آج ذرا کپڑے بدل لیتے۔ خدا جانے دھوبی کم‬
‫بخت کپڑے بھی لیا ہے یا نہیں۔ یار ان دھوبیوں کا تو کوئی انتظام کرو۔"‬
‫اگر قتل انسانی ایک سنگین جرم نہ ہوتا تو ایسے موقع پر مجھ سے ضرور سرزد ہوجاتا لیکن‬
‫کیا کروں اپنی جوانی پر رحم کھاتا ہوں بےبس ہوتا ہوں صرف یہی کرسکتا ہوں کہ‪" :‬مرزا‬
‫بھئی ل مجھ پر رحم کرو۔ میں سینما چلنے کو آیا ہوں دھوبیوں کا انتظام کرنے نہیں آیا۔ یار‬
‫بڑے بدتمیز ہوپونے چھ بج چکے ہیں اور تم جوں کے توں بیٹھے ہو۔"‬
‫مرزا صاحب عجب مربیانہ تبسم کے ساتھ کرسی پر سے اٹھتے ہیں گویا یہ ظاہر کرنا چاہتے‬
‫ہیں کہ اچھا بھئی تمہاری طفلنہ خواہشات آخر ہم پوری کر رہی دیں۔ چنانچہ پھر یہ کہہ‬
‫کراندر تشریف لےجاتے ہیں کہ اچھا کپڑے پہن آؤں۔‬
‫مرزا صاحب کے کپڑے پہنے کا عمل اس قدر طویل ہے کہ اگر میرا اختیار ہوتا قانون کی رو‬
‫سے انہیں کبھی کپڑے اتارنے ہی نہ دیتا۔ آدھ گھنٹے کے بعد وہ کپڑے پہنے ہوئے‬
‫تشریف لتے ہیں۔ ایک پان منہ میں دوسرا ہاتھ میں‪ ،‬میں بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہوں۔ دروازے‬
‫تک پہنچ کر مڑ کر جو دیکھتا ہوں تو مرزا صاحب غائب۔ پھر اندر آجاتا ہوں مرزا صاحب‬
‫کسی کونے میں کھڑے کچھ کرید رہےہوتے ہیں۔ "ارے بھئی چلو۔"‬
‫"چل تو رہا ہوں یار‪ ،‬آخر اتنی بھی کیا آفت ہے؟"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫"اور یہ تم کیا کر رہے ہو؟"‬
‫"پان کے لیے ذرا تمباکو لے رہا تھا۔"‬
‫تمام راستے مرزا صاحب چہل قدمی فرماتے جاتے ہیں۔ میں ہر دو تین لمحے کے بعد اپنے‬
‫آپ کو ان سے چارپانچ قدم آگے پاتا ہوں۔ کچھ دیر ٹھہر جاتا ہوں وہ ساتھ آملتے ہیں تو پھر‬
‫چلنا شروع کردیتا ہوں پھر آگے نکل جاتا ہوں پھر ٹھہرجاتاہوں۔ غرض یہ کہ گو چلتا دوگنی‬
‫تگنی رفتار سے ہوں لیکن پہنچتا ان کے ساتھ ہی ہوں۔‬
‫ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوتے ہیں تو اندھیرا گھپ‪ ،‬بہتیرا آنکھیں جھپکتا ہوں کچھ سجھائی‬
‫نہیں دیتا۔ ادھر سے کوئی آواز دیتا ہے۔ "یہ دروازہ بند کردو جی!" یاال اب جاؤں کہاں۔ رستہ‪،‬‬
‫کرسی‪ ،‬دیوار‪ ،‬آدمی‪ ،‬کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔ ایک قدم بڑھاتا ہوں تو سر ان بالٹیوں سے‬
‫جاٹکراتا ہے جو آگ بجھانے کے لیے دیوار پر لٹکی رہتی ہیں‪ ،‬تھوڑی دیر کے بعد تاریکی میں‬
‫کچھ دھندلے سے نقش دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جہاں ذرا تاریک تر سا دھبہ دکھائی دے‬
‫جائے۔ وہاں سمجھتا ہوں خالی کرسی ہوگی خمیدہ پشت ہو کر اس کا رخ کرتا ہوں‪ ،‬اس کے‬
‫پاؤں کو پھاند کر اس کے ٹخنوں کو ٹھکرا۔خواتین کے گھنٹوں سے دامن بچا۔ آخرکار کسی گود‬
‫میں جاکر بیٹھتا ہوں وہاں سے نکال دیا جاتا ہوں اور لوگوں کے دھکوں کی مدد سے کسی‬
‫خالی کرسی تک جاپہنچتا ہوں مرزا صاحب سے کہتا ہوں‪" :‬میں نہ بکتا تھا کہ جلدی چلو‬
‫خوامخواہ میں ہم کو رسوا کروادیانا! گدھا کہیں کا!" اس شگفتہ بیانی کے بعد معلوم ہوتا ہے‬
‫کہ ساتھ کی کرسی پر جو حضرت بیٹھے ہیں اور جن کو مخاطب کررہا ہوں وہ مرزا صاحب‬
‫نہیں کوئی اور بزرگ ہیں۔ اب تماشے کی طرف متوجہ ہوں اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں‬
‫کہ فلم کون سا ہے اس کی کہانی کیا ہے اور کہاں تک پہنچ چکی ہے اور سمجھ میں‬
‫صرف اس قدر آتا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت جو پردے پر بغلگیر نظر آتے ہیں ایک‬
‫دوسرے کو چاہتے ہوں گے۔ اس انتظار میں رہتا ہوں کہ کچھ لکھا ہوا سامنے آئے تو‬
‫معاملہ کھلے کہ اتنے میں سامنے کی کرسی پر بیٹھے ہوئے حضرات ایک وسیع وفراخ‬
‫انگڑائی لیتے ہیں جس کے دوران میں کم از کم دو تین سو فٹ فلم گزر جاتا ہے۔ جب انگڑائی‬
‫کو لپیٹ لیتے ہیں تو سر کو کھجانا شروع کردیتے ہیں اور اس عمل کے بعد ہاتھ کو سر سے‬
‫ً‬
‫نہیں ہٹاتے بلکہ بازو کو ویسے خمیدہ رکھتے ہیں۔ میں مجبورا سر کو نیچا کرکے چائے دانی‬
‫کے اس دستے کے بیچ میں سے اپنی نظر کے لیے راستہ نکال لیتا ہوں اور اپنے بیٹھنے کے‬
‫انداز سے بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ٹکٹ خریدے بغیر اندر گھس آیا ہوں اور چوروں‬
‫کی طرح بیٹھا ہوا ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد انہیں کرسی کی نشست پر کوئی مچھر یا پسو‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫محسوس ہوتا ہے چنانچہ وہ دائیں سے ذرا اونچے ہو کر بائیں طرف کو جھک جاتے ہیں۔ میں‬
‫مصیبت کا مارا دوسری طرف جھک جاتا ہوں۔ ایک دو لمحے کے بعد وہی مچھر دوسری‬
‫طرف ہجرت کرجاتا ہے چنانچہ ہم دونوں پھر سے پنیترا بدل لیتے ہیں۔ غرض یہ کہ یہ دل‬
‫لگی یوں ہی جاری رہتی ہے وہ دائیں تو میں بائیں اور وہ بائیں تو میں دائیں ان کو کیا معلوم کہ‬
‫اندھیرے میں کیا کھیل کھیل جارہا ہے۔ دل یہی چاہتا ہے کہ اگلے درجے کا ٹکٹ لے کر‬
‫ان کے آگے جابیٹھوں۔ اور کہوں کہ لے بیٹا دیکھوں تو اب تو کیسے فلم دیکھتا ہے۔‬
‫پیچھے سے مرزا صاحب کی آواز آتی ہے‪" :‬یار تم سے نچل نہیں بیٹھا جاتا۔ اب ہمیں ساتھ‬
‫لئے ہو تو فلم تو دیکھنے دو۔"‬
‫اس کے بعد غصے میں آکر آنکھیں بند کرلیتا ہوں اور قتل عمد‪ ،‬خودکشی‪ ،‬زہرخورانی وغیرہ‬
‫معاملت پر غور کرنے لگتا ہے۔ دل میں‪ ،‬میں کہتا ہوں کہ ایسی کی تیسی اس فلم کی۔ سو‬
‫سو قسمیں کھاتا ہوں کہ پھر کبھی نہ آؤں گا۔ اور اگر آیا بھی تو اس کم بخت مرزا سے ذکر تک‬
‫نہ کروں گا۔ پانچ چھ گھنٹے پہلے سے آجاؤں گا۔ اوپر کے درجے میں سب سے اگلی قطار‬
‫میں بیٹھوں گا۔ تمام وقت اپنی نشست پر اچھلتا رہوں گا! بہت بڑے طرے والی پگڑے‬
‫پہن کر آؤں گا اور اپنے اوورکوٹ کو دو چھڑیوں پر پھیل کر لٹکا دوں گا! بہرحال مرزا کے پاس‬
‫تک نہیں پھٹکوں گا!‬
‫لیکن اس کم بخت دل کو کیا کروں۔ اگلے ہفتے پھر کسی اچھی فلم کا اشتہار دیکھ کر پاتا‬
‫ہوں تو سب سے پہلے مرزا کے ہاں جاتا ہوں اور گفتگو پھر وہیں سے شروع ہوتی ہے کہ کیوں‬
‫بھئی اگلی جمعرات سے سینما چلو گےنا؟‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫میبل او ر میں‬

‫میبل لڑکیوں کے کالج میں تھی‪ ،‬لیکن ہم دونوں کیمبرج یونیورسٹی میں ایک ہی مضمون‬
‫پڑھتے تھے۔ اس لیے اکثر لیکچروں میں ملقات ہوجاتی تھی۔ اس کےعلوہ ہم دوست بھی‬
‫تھے۔ کئی دلچسپیوں میں ایک دوسرے کے شریک ہوتے تھے۔ تصویروں اور موسیقی کا‬
‫شوق اسے بھی تھا‪ ،‬میں بھی ہمہ دانی کا دعویدار اکثر گیلریوں یا کانسرٹوں میں اکھٹے جایا‬
‫کرتے تھے۔ دونوں انگریزی ادب کے طالب علم تھے۔ کتابوں کے متعلق باہم بحث ومباحثے‬
‫رہتے۔ ہم میں سے اگر کوئی نئی کتاب یا نیا "مصنف" دریافت کرتا تو دوسرے کو ضرور اس‬
‫سے آگاہ کردیتا۔ اور پھر دونوں مل کر اس پر اچھے برے کا حکم صادر کرتے۔‬
‫لیکن اس تمام یک جہتی اور ہم آہنگی میں ایک خلش ضرور تھی۔ ہم دونوں نے بیسوی‬
‫صدی میں پرورش پائی تھی۔ عورت اور مرد کی مساوات کے قائل تو ضرور تھے تاہم اپنے‬
‫خیالت میں اور بعض اوقات اپنے روئے میں ہم کبھی نہ کبھی اس کی تکذیب ضرور کردیتے‬
‫تھے۔ بعض حالت کے ماتحت میبل ایسی رعایات کو اپنا حق سمجھتی جو صرف صنف‬
‫ضعیف ہی کے ایک فرد کو ملنی چاہئیں اور بعض اوقات میں تحکم اور رہنمائی کا رویہ‬
‫اختیار کرلیتا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ گویا ایک مرد ہونے کی حیثیت سے میرا فرض یہی‬
‫ً‬
‫ہے۔ خصوصا مجھے یہ احساس بہت زیادہ تکلیف دیتا تھا کہ میبل کا مطالعہ مجھ سے‬
‫بہت وسیع ہے۔ اس سے میرے مردانہ وقار کو صدمہ پہنچتا تھا۔ کبھی کبھی میرے جسم‬
‫کے اندر میرے ایشیائی آباؤاجداد کا خون جوش مارتا اور میرا دل جدید تہذیب سے باغی ہو‬
‫کر مجھ سے کہتا کہ مرد اشرف المخلوقات ہے۔ اس طرح میبل عورت مرد کی مساوات کا‬
‫اظہار مبالغہ کے ساتھ کرتی تھی۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ایسا معلوم ہوتا کہ وہ عورتوں کو‬
‫کائنات کی رہبر اور مردوں کو حشرات الرض سمجھتی ہے۔‬
‫لیکن اس بات کو میں کیونکر نظرانداز کرتا کہ میبل ایک دن دس بارہ کتابیں خریدتی‪ ،‬اور‬
‫ہفتہ بھر کے بعد انہیں میرے کمرے میں پھینک کر چلی جاتی اور ساتھ ہی کہہ جاتی کہ‬
‫میں انہیں پڑھ چکی ہوں۔ تم بھی پڑھ چکو گے تو ان کے متعلق باتیں کریں گے۔‬
‫اول تو میرے لیے ایک ہفتہ میں دس بارہ کتابیں ختم کرنا محال تھا‪ ،‬لیکن فرض کیجئے‬
‫مردوں کی لج رکھنے کے لیے راتوں کی نیند حرام کرکے ان سب کو پڑھ ڈالنا ممکن بھی ہوتا‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫تو بھی ان میں دو یا تین کتابیں فلسفے یا تنقید کی ضروری ایسی ہوتیں کہ ان کو سمجھنے‬
‫کے لیے مجھے کافی عرصہ درکار ہوتا۔ چنانچہ ہفتے بھر کی جانفشانی کے بعد ایک عورت‬
‫کے سامنے اس بات کا اعتراف کرنا پڑتا کہ میں اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ جب تک وہ‬
‫میرے کمرے میں بیٹھی رہتی‪ ،‬میں کچھ کھسیانا سا ہو کر اس کی باتیں سنتا رہتا‪ ،‬اور وہ‬
‫نہایت عالمانہ انداز میں بھویں اوپر کو چڑھا چڑھا کر باتیں کرتی۔ جب میں اس کے لیے دروازہ‬
‫کھولتا یا اس کے سگریٹ کے لیے دیا سلئی جلتا یا اپنی سب سے زیادہ آرام دہ کرسی اس‬
‫کے لیے خالی کردیتا تو وہ میری خدمات کو حق نسوانیت نہیں بلکہ حق استادی سمجھ کر‬
‫قبول کرتی۔‬
‫میبل کے چلے جانے کے بعد ندامت بتدریج غصے میں تبدیل ہوجاتی۔ جان یا مال ایثار‬
‫سہل ہے‪ ،‬لیکن آن کی خاطر نیک سے نیک انسان بھی ایک نہ ایک دفعہ تو ضرور ناجائز‬
‫ذرائع کے استعمال پر اتر آتا ہے۔ اسے میری اخلقی پستی سمجھئے۔ لیکن یہی حالت میری‬
‫بھی ہو گئی۔ اگلی دفعہ جب میبل سے ملقات ہوئی تو جو کتابیں میں نےنہیں پڑھی تھیں‪،‬‬
‫ان پر بھی میں نے رائے زنی شروع کردی۔ لیکن جو کچھ کہتا سنبھل سنبھل کر کہتا تھا‬
‫تفصیلت کے متعلق کوئی بات منہ سے نہ نکالتا تھا‪ ،‬سرسری طور پر تنقید کرتا تھا اور بڑی‬
‫ہوشیاری اور دانائی کے ساتھ اپنی رائے کو جدت کا رنگ دیتا تھا۔‬
‫کسی ناول کے متعلق میبل نے مجھ سے پوچھا تو جواب میں نہایت لابالیانہ کہا‪:‬‬
‫"ہاں اچھی ہے‪ ،‬لیکن ایسی بھی نہیں۔ مصنف سے دور جدید کا نقطہ نظر کچھ نبھ نہ سکا‪،‬‬
‫لیکن پھر بھی بعض نکتے نرالے ہیں‪ ،‬بری نہیں‪ ،‬بری نہیں۔"‬
‫کنکھیوں سے میبل کی طرف دیکھتا گیا لیکن اسے میری ریاکاری بالکل معلوم نہ ہونے‬
‫پائی۔ ڈرامے کے متعلق کہا کرتا تھا‪:‬‬
‫"ہاں پڑھا تو ہے لیکن ابھی تک میں یہ فیصلہ نہیں کرسکا کہ جو کچھ پڑھنے والے کو‬
‫محسوس ہوتا ہے وہ اسٹیج پر جا کر بھی باقی رہے گا یا نہیں؟ تمہارا کیا خیال ہے؟"‬
‫اور اس طرح سے اپنی آن بھی قائم رہتی اور گفتگو کا بار بھی میبل کے کندھوں پر ڈال دیتا۔‬
‫تنقید کی کتابوں کے بارے میں فرماتا‪:‬‬
‫"اس نقاد پر اٹھارہویں صدی کے نقادوں کا کچھ کچھ اثر معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یوں ہی‬
‫نامعلوم سا کہیں کہیں۔ بالکل ہلکا سا اور شاعری کے متعلق اس کا رویہ دلچسپ ہے‪ ،‬بہت‬
‫دلچسپ‪ ،‬بہت دلچسپ۔"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫رفتہ رفتہ مجھے اس فن پر کمال حاصل ہوگیا۔ جس روانی اور نفاست کے ساتھ میں‬
‫ناخواندہ کتابوں پر گفتگو کرسکتا تھا اور اس پر میں خود حیران رہ جاتا تھا‪ ،‬اس سے جذبات کو‬
‫ایک آسودگی نصیب ہوئی۔‬
‫اب میں میبل سے نہ دبتا تھا‪ ،‬اسے بھی میرے علم وفضل کا متعارف ہونا پڑا۔ وہ اگر ہفتہ‬
‫میں دس کتابیں پڑھتی تھی‪ ،‬تو میں صرف دو دن کے بعد ان سب کتابوں کی رائے زنی‬
‫کرسکتا تھا۔ اب اس کے سامنے ندامت کا کوئی موقع نہ تھا۔ میری مردانہ روح میں اس‬
‫احسان فتح مندی سے بالیدگی سی آگئی تھی۔ اب میں اس کے لیے کرسی خالی کرتا یا دیا‬
‫سلئی جلتا تو عظمت وبرتری کے احساس کے ساتھ جیسے ایک تجربہ کار تنومند نوجوان‬
‫ایک نادان کمزور بچی کی حفاظت کر رہا ہو۔‬
‫صراط مستقیم پر چلنے والے انسان میرے اس فریب کو نہ سراہیں تو نہ سراہیں‪ ،‬لیکن میں‬
‫کم از کم مردوں کے طبقے سے اس کی داد ضرور چاہتا ہوں۔ خواتین میری اس حرکت کے‬
‫لیے مجھ پر دہری دہری لعنتیں بھیجیں گی کہ ایک تو میں نے مکاری اور جھوٹ سے کام لیا‬
‫اور دوسرے ایک عورت کو دھوکہ دیا۔ ان کی تسلی کے لیے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ‬
‫یقین مانئے کئی دفعہ تنہائی میں‪ ،‬میں نے اپنے آپ کو برا بھل کہا۔ بعض اوقات اپنے آپ‬
‫سے نفرت ہونے لگتی۔ ساتھ ہی اس بات کا بھلنا بھی مشکل ہوگیا کہ میں بغیر پڑھے ہی‬
‫علمیت جتاتا رہتا ہوں‪ ،‬میبل تو یہ سب کتابیں پڑھ چکنے کے بعد گفتگو کرتی ہے تو‬
‫بہرحال اس کو مجھ پر تفوق تو ضرور حاصل ہے‪ ،‬میں اپنی کم علمی ظاہر نہیں ہونے دیتا۔‬
‫لیکن حقیقت تو یہی نا کہ میں وہ کتابیں نہیں پڑھتا‪ ،‬میری جہالت اس کے نزدیک نہ سہی‪،‬‬
‫َ‬
‫میرے اپنے نزدیک تو مسلم ہے۔ اس خیال سے اطمینان قلب پھر مفقود ہوجاتا اور اپنا آپ‬
‫ایک عورت کے مقابلے میں پھر حقیر نظر آنے لگتا۔ پہلے تو میبل کو صرف ذی علم‬
‫سمجھتا تھا۔ اب وہ اپنے مقابلے میں پاکیزگی اور راست بازی کی دیوی بھی معلوم ہونے‬
‫لگی۔‬
‫عللت کے دوران میرا دل زیادہ نرم ہوجاتا ہے۔ بخار کی حالت میں کوئی بازاری سال ناول‬
‫پڑھتے وقت بھی بعض اوقات میری آنکھوں سےآنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ صحت یاب ہو کر‬
‫ُ‬
‫مجھے اپنی اس کمزوری پر ہنسی آتی ہے لیکن اس وقت اپنی کمزوری کا احساس نہیں ہوتا۔‬
‫میری بدقسمتی کہ ان ہی دنوں مجھے خفیف سا انفلوئنزا ہوا‪ ،‬مہلک نہ تھا‪ ،‬بہت تکلیف‬
‫دہ بھی نہ تھا‪ ،‬تاہم گزشتہ زندگی کے تمام چھوٹے چھوٹے گناہ کبیرہ بن کر نظر آنے لگے۔‬
‫میبل کا خیال آیا تو ضمیر نے سخت ملمت کی‪ ،‬اور میں بہت دیر تک بستر پر پیچ وتاب‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫کھاتا رہا۔ شام کے وقت میبل کچھ پھول لے کر آئی۔ خیریت پوچھی‪ ،‬دوا پلئی‪ ،‬ماتھے پر ہاتھ‬
‫رکھا‪ ،‬میرے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ میں نے کہا‪( ،‬میری آواز بھرائی ہوئی تھی) "میبل‬
‫مجھے خدا کے لیے معاف کر دو۔" اس کے بعد میں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور اپنے آپ‬
‫کو سزا دینے کے لیے میں نے اپنی مکاری کی ہر ایک تفصیل بیان کردی۔ ہر اس کتاب کا نام‬
‫لیا‪ ،‬جس پر میں نے بغیر پڑھے لمبی لمبی فاضلنہ تقریریں کی تھیں۔ میں نے کہا "میبل‪،‬‬
‫پچھلے ہفتے جو تین کتابیں تم مجھے دے گئی تھیں‪ ،‬ان کے متعلق میں تم سے کتنی‬
‫بحث کرتا رہا ہوں۔ لیکن میں نے ان کا ایک لفظ بھی نہیں پڑھا‪ ،‬میں نے کوئی نہ کوئی بات‬
‫ایسی ضرور کہی ہوگی‪ ،‬جس سے میرا پول تم پر کھل گیا ہوگا۔"‬
‫کہنے لگی۔ "نہیں تو"۔‬
‫ً‬
‫میں نے کہا۔ "مثل ناول تو میں نے پڑھا ہی نہ تھا‪ ،‬کریکٹروں کے متعلق جو کچھ بک رہا تھا‬
‫وہ سب من گھڑت تھا۔"‬
‫کہنے لگی۔ "کچھ ایسا غلط بھی نہ تھا۔"‬
‫میں نے کہا۔ "پلٹ کے متعلق میں نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ ذرا ڈھیل ہے۔ یہ بھی ٹھیک‬
‫تھا؟"‬
‫کہنے لگی۔ "ہاں‪ ،‬پلٹ کہیں کہیں ڈھیل ضرور ہے۔"‬
‫اس کے بعد میری گزشتہ فریب کاری پر وہ اور میں دونوں ہنستے رہے۔ میبل رخصت ہونے‬
‫لگی تو بولی۔ "تو وہ کتابیں میں لیتی جاؤں؟"‬
‫میں نے کہا۔ "ایک تائب انسان کو اپنی اصلح کا موقع تو دو‪ ،‬میں نے ان کتابوں کو اب تک‬
‫نہیں پڑھا لیکن اب انہیں پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ انہیں یہیں رہنے دو۔ تم تو انہیں پڑھ چکی‬
‫ہو۔"‬
‫کہنے لگی۔ "ہاں میں تو پڑھ چکی ہوں۔ اچھا میں یہیں چھوڑ جاتی ہوں۔"‬
‫اس کے چلے جانے کے بعد میں ان کتابوں کو پہلی دفعہ کھول‪ ،‬تینوں میں سے کسی کے‬
‫ورق تک نہ کٹے تھے۔ میبل نے بھی انہیں ابھی تک نہ پڑھا تھا!‬
‫مجھے مرد اور عورت دونوں کی برابری میں کوئی شک باقی نہ رہا۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫مرحوم ک ی یاد میں‬

‫ایک دن مرزا صاحب اور میں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چپ چاپ بیٹھے‬
‫تھے۔ جب دوستی بہت پرانی ہوجائے تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اور دوست‬
‫ایک دوسرے کی خاموشی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہی حالت ہماری تھی۔ ہم دونوں‬
‫اپنے اپنے خیالت میں غرق تھے۔ مرزا صاحب تو خدا جانے کیا سوچ رہے تھے۔ لیکن میں‬
‫زمانے کی ناسازگاری پر غور کر رہا تھا۔ دور سڑک پر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک موٹرکار‬
‫گزرجاتی تھی۔ میری طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میں جب کبھی کسی موٹرکار کو‬
‫دیکھوں‪ ،‬مجھے زمانے کی ناسازگاری کا خیال ضرور ستانے لگتا ہے۔ اور میں کوئی ایسی‬
‫ترکیب سوچنے لگتا ہوں جس سے دنیا کی تمام دولت سب انسانوں میں برابر برابر تقسیم کی‬
‫جاسکے۔ اگر میں سڑک پر پیدل جا رہا ہوں اور کوئی موٹر اس ادا سے سے گزر جاے کہ‬
‫ّ‬
‫گردوغبار میرے پھیپھڑوں‪ ،‬میرے دماغ‪ ،‬میرے معدے اور میری تلی تک پہنچ جائے تو‬
‫اس دن میں گھر آکر علم کیمیا کی وہ کتاب نکل لیتا ہوں جو میں نے ایف۔اے میں پڑھی‬
‫ُ‬
‫تھی۔ اور اس غرض سے اس کا مطالعہ کرنے لگتا ہوں کہ شاید بم بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ‬
‫آجائے۔‬
‫میں کچھ دیرتک آہیں بھرتا رہا۔ مرزا صاحب نے کچھ توجہ نہ کی۔ آخر میں نے خاموشی کو‬
‫توڑا اور مرزا صاحب سے مخاطب ہو کر کہا۔‬
‫"مرزا صاحب۔ ہم میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہے؟"‬
‫مرزا صاحب بولے۔ "بھئی کچھ ہوگا ہی نا آخر۔"‬
‫میں نے کہا۔ "میں بتاؤں تمہیں؟"‬
‫کہنے لگے۔ "بولو"۔‬
‫میں نے کہا۔ "کوئی فرق نہیں۔ سنتے ہو مرزا؟ کوئی فرق نہیں۔ ہم میں اور حیوانوں میں۔۔۔ کم‬
‫از کم مجھ میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں! ہاں ہاں میں جانتا ہوں تم مین میخ نکالنے‬
‫میں بڑے طاق ہو۔ کہہ دو گے۔ حیوان جگالی کرتے ہیں‪ ،‬تم جگالی نہیں کرتے۔ ان کے دم‬
‫ہوتی ہے۔ تمہاری دم نہیں۔ لیکن ان باتوں سے کیا ہوتا ہے؟ ان سے تو صرف یہی ثابت ہوتا‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ہے کہ وہ مجھ سے افضل ہیں لیکن ایک بات میں‪ ،‬میں اور وہ بالکل برابر ہیں۔ وہ بھی پیدل‬
‫چلتے ہیں اور میں بھی پیدل چلتا ہوں۔ اس کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟ جواب نہیں۔‬
‫کچھ ہے تو کہو۔ بس چپ ہوجاؤ۔ تم کچھ نہیں کرسکے۔ جب سے میں پیدا ہوا ہوں اور اس‬
‫دن سے پیدل چل رہا ہوں۔‬
‫پیدل۔۔ تم پیدل کے معنی نہیں جانتے۔ پیدل کے معنی ہیں سینہٴ زمین پر اس طرح سے‬
‫حرکت کرنا کہ دونوں پاؤں میں ایک ضرور زمین پر رہے۔ یعنی تمام عمر میرے حرکت کرنے‬
‫کا طریقہ یہی رہا ہے کہ ایک پاؤں زمین پر رکھتا ہوں اور دوسرا اٹھاتا ہوں۔ دوسرا رکھتا ہوں‬
‫پہل اٹھاتا ہوں۔ ایک آگے ایک پیچھے‪ ،‬ایک پیچھے ایک آگے۔ خدا کی قسم اس طرح‬
‫زندگی سے دماغ سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔ حواس بیکار ہوجاتے ہیں۔ تخیل مرجاتا ہے۔‬
‫آدمی گدھے سے بدتر ہوجاتا ہے۔"‬
‫مرزا صاحب میری اس تقریر کے دوران میں کچھ اس بےپروائی سے سگریٹ پیتے رہے کہ‬
‫دوستوں کی بےوفائی پر رونے کو دل چاہتا تھا۔ میں نے ازحد حقارت اور نفرت کے ساتھ منہ ان‬
‫کی طرف پھیر لیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مرزا کو میری باتوں پر یقین ہی نہیں آتا۔ گویا میں‬
‫اپنی جو تکالیف بیان کر رہا ہوں وہ محض خیالی ہیں یعنی میرا پیدل چلنے کے خلف‬
‫شکایت کرنا قابل توجہ ہی نہیں۔ یعنی میں کسی سواری کا مستحق ہی نہیں۔ میں نے دل‬
‫میں کہا۔ "اچھا مرزا یوں ہی سہی۔ دیکھو تو میں کیا کرتا ہوں۔"‬
‫میں نے اپنے دانت پچی کر لیے اور کرسی کے بازو پر سے جھک کر مرزا کے قریب پہنچ گیا۔‬
‫مرزا نے بھی سر میری طرف موڑا۔ میں مسکرادیا لیکن میرے تبسم کا میں زہر مل ہوا تھا۔‬
‫جب مرزا سننے کے لیے بالکل تیار ہوگیا تو میں نے چبا چبا کر کہا۔‬
‫"مرزا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔"‬
‫یہ کہہ کر میں بڑے استغنا کے ساتھ دوسری طرف دیکھنے لگا۔‬
‫مرزا پھر بولے۔ "کیا کہا تم نے؟ کیا خریدنے لگے ہو؟"‬
‫میں نے کہا۔ "سنا نہیں تم نے۔ ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔ موٹرکار ایک ایسی گاڑی ہے‬
‫جس کو بعض لوگ موٹر کہتے ہیں‪ ،‬بعض لوگ کار کہتے ہیں لیکن چونکہ تم ذراکند ذہن ہو‪،‬‬
‫اس لیے میں نے دونوں لفظ استعمال کردئے۔ تاکہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ‬
‫آئے"۔‬
‫مرزا بولے۔ "ہوں"۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫اب کے مرزا نہیں میں بےپروائی سے سگریٹ پینے لگا۔ بھویں میں نے اوپر کو چڑھا لیں۔‬
‫پھرسگریٹ وال ہاتھ منہ تک اس انداز سے لتا اور لے جاتا تھا کہ بڑے بڑے ایکٹر اس پر‬
‫رشک کریں۔‬
‫تھوڑی دیر کے بعد مرزا بولے۔ "ہوں"۔‬
‫میں سوچا اثر ہو رہا ہے۔ مرزا صاحب پر رعب پڑ رہا ہے۔ میں چاہتا تھا‪ ،‬مرزا کچھ بولے۔ تاکہ‬
‫مجھے معلوم ہو‪ ،‬کہاں تک مرعوب ہوا ہے لیکن مرزا نے پھر کہا۔ "ہوں"۔‬
‫میں نے کہا۔ "مرزا جہاں تک مجھے معلوم ہے تم نے اسکول اور کالج اور گھر پر دو تین زبانیں‬
‫سیکھی ہیں۔ اور اس کے علوہ تمہیں کئی ایسے الفاظ بھی آتے ہیں جو کسی اسکول یا کالج‬
‫یا شریف گھرانے میں نہیں بولے جاتے۔ پھر بھی اس وقت تمہارا کلم "ہوں" سے آگے نہیں‬
‫بڑھتا۔ تم جلتے ہو۔ مرزا اس وقت تمہاری جو ذہنی کیفیت ہے‪ ،‬اس کو عربی زبان میں حسد‬
‫کہتے ہیں۔"‬
‫مرزا صاحب کہنے لگے۔ "نہیں یہ بات تو نہیں‪ ،‬میں تو صرف خریدنے کے لفظ پر غور کر رہا‬
‫تھا۔ تم نے کہا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں تو میاں صاحب زادے خریدنا تو ایک ایسا‬
‫فعل ہے کہ اس کے لیے روپے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وغیرہ کا بندوبست تو بخوبی ہو‬
‫جائے گا۔ لیکن روپے کا بندوبست کیسے کرو گے؟"‬
‫یہ نکتہ مجھے بھی نہ سوجھا تھا لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں نے کہا۔ "میں اپنی کئی‬
‫قیمتی اشیاء بیچ سکتا ہوں۔"‬
‫ً‬
‫مرزا بولے۔ "کون کون سی مثل؟"‬
‫میں نے کہا۔ "ایک تو میں سگریٹ کیس بیچ ڈالوں گا۔"‬
‫مرزا کہنے لگے۔ "چلو دس آنے تو یہ ہوگئے‪ ،‬باقی ڈھائی تین ہزار کا انتظام بھی طرح ہوجائے‬
‫تو سب کام ٹھیک ہوجائے گا۔"‬
‫اس کے بعد ضروری یہی معلوم ہوا کہ گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے روک دیا جائے۔‬
‫چنانچہ میں مرزا سے بیزار ہو کر خاموش ہو رہا۔ یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ لوگ روپیہ‬
‫کہاں سے لتے ہیں۔ بہت سوچا۔ آخر اس نتیجے پر پہنچا کہ لوگ چوری کرتے ہیں۔ اس سے‬
‫ایک گونہ اطمینان ہوا۔‬
‫مرزا بولے۔ "میں تمہیں ایک ترکیب بتاؤں ایک بائسیکل لے لو۔"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫میں نے کہا۔ وہ روپیہ کا مسئلہ تو پھر بھی جوں کا توں رہا۔"‬
‫کہنے لگے۔ "مفت"۔‬
‫میں نے حیران ہو کر پوچھا۔ "مفت وہ کیسے؟"‬
‫کہنے لگے۔ "مفت ہی سمجھو۔ آخر دوست سے قیمت لینا بھی کہاں کی شرافت ہے۔ البتہ‬
‫تم احسان قبول کرنا گوارانہ کرو تو اور بات ہے۔"‬
‫ایسے موقع پر جو ہنسی میں ہنستا ہوں‪ ،‬اس میں معصوم بچے کی مسرت‪ ،‬جوانی کی خوش‬
‫دلی‪ ،‬ابلتے ہوئے فواروں کی موسیقی‪ ،‬بلبلوں کا نغمہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے‬
‫ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں یہ ہنسی ہنسا۔ اور اس طرح ہنسا کہ کھلی ہوئی باچھیں پھر گھنٹوں‬
‫تک اپنی اصلی جگہ پر واپس نہ آئیں۔ جب مجھے یقین ہوگیا کہ یک لخت کوئی خوشخبری‬
‫سننے سے دل کی حرکت بند ہوجانے کا جو خطرہ ہوتا ہے اس سے محفوظ ہوں‪ ،‬تو میں نے‬
‫پوچھا۔ "کس کی؟"‬
‫مرزا بولے۔ "میرے پاس ایک بائیسکل پڑی ہےتم لے لو۔"‬
‫میں نے کہا۔ "پھر کہنا پھر کہنا!"‬
‫کہنے لگے۔ بھئی ایک بائیسکل میرے پاس ہے جب میری ہے‪ ،‬تو تمہاری ہے‪ ،‬تم لے لو۔"‬
‫یقین مانئے مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ شرم کے مارے میں پسینہ پسینہ ہوگیا۔ چودھویں‬
‫صدی میں ایسی بےغرضی اور ایثار بھل کہاں دیکھنے میں آتا ہے۔ میں نے کرسی سرکا کر‬
‫مرزا کے پاس کرلی‪ ،‬سمجھ میں نہ آیا کہ اپنی ندامت اور ممنونیت کا اظہار کن الفاظ میں‬
‫کروں۔‬
‫میں نے کہا۔ "مرزا صاحب سب سے پہلے تو میں اس گستاخی اور درشتی اور بےادبی کے لیے‬
‫معافی مانگتا ہوں‪ ،‬جو ابھی میں نے تمہارے ساتھ گفتگو میں روا رکھی‪ ،‬دوسرے میں آج‬
‫تمہارے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ تم میری صاف گوئی کی‬
‫داد دو گے اور مجھے اپنی رحم دلی کے صدقے معاف کردوگے۔ میں ہمیشہ تم کو ازحد‬
‫کمینہ‪ ،‬ممسک‪ ،‬خودغرض اور عیار انسان سمجھتارہا ہوں۔ دیکھو ناراض مت ہو۔ انسان‬
‫سے غلطی ہوہی جاتی ہے۔ لیکن آج تم نے اپنی شرافت اور دوست پروری کا ثبوت دیا ہے اور‬
‫مجھ پر ثابت کردیا ہے کہ میں کتنا قابل نفرت‪ ،‬تنگ خیال اور حقیر شخص ہوں‪ ،‬مجھے‬
‫معاف کردو۔"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ قریب تھا کہ میں مرزا کے ہاتھ بوسہ دیتا اور اپنے آنسوؤں کو‬
‫چھپانے کے لیے اس کی گود میں سر رکھا دیتا‪ ،‬لیکن مرزا صاحب کہنے لگے۔‬
‫"واہ اس میں میری فیاضی کیا ہوتی‪ ،‬میرے پاس ایک بائیسکل ہے‪ ،‬جیسے میں سوار ہوا‪،‬‬
‫ویسے تم سوار ہوئے۔"‬
‫میں نے کہا۔ "مرزا‪ ،‬مفت میں نہ لوں گا‪ ،‬یہ ہر گز نہیں ہوسکتا۔"‬
‫مرزا کہنے لگے۔ "بس میں اسی بات سے ڈرتا تھا‪ ،‬تم حساس اتنے ہو کہ کسی کا احسان لینا‬
‫گوارا نہیں کرتے حالنکہ خدا گواہ ہے‪ ،‬احسان اس میں کوئی نہیں۔"‬
‫میں نے کہا۔ "خیر کچھ بھی سہی‪ ،‬تم سچ مچ مجھے اس کی قیمت بتا دو۔"‬
‫مرزا بولے۔ "قیمت کا ذکر کرکے تم گویا مجھے کانٹوں میں گھسیٹنے ہو اور جس قیمت پر‬
‫میں نے خریدی تھی‪ ،‬وہ تو بہت زیادہ تھی اور اب تو وہ اتنےکی رہی بھی نہیں۔"‬
‫میں نے پوچھا۔ "تم نے کتنے میں خریدی تھی؟"‬
‫ُ‬
‫کہنے لگے‪" ،‬میں نے پونے دو سو روپے میں لی تھی‪ ،‬لیکن اس زمانے میں بائیسکلوں کا رواج‬
‫ذرا کم تھا‪ ،‬اس لیے قیمتیں ذرا زیادہ تھیں۔"‬
‫میں نے کہا۔ "کیا بہت پرانی ہے؟"‬
‫بولے۔ "نہیں ایسی پرانی بھی کیا ہوتی‪ ،‬میرا لڑکا اس پر کالج آیاجایا کرتاتھا‪ ،‬اور اسے کالج‬
‫چھوڑے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے‪ ،‬لیکن اتنا ضرور ہے کہ آج کل کی بائیسکلوں سے ذرا‬
‫مختلف ہے‪ ،‬آج کل تو بائیسکلیں ٹین کی بنتی ہے۔ جہنیں کالج کے سرپھرے لونڈے‬
‫سستی سمجھ کر خریدلیتے ہیں۔ پرانی بائیسکلوں کے ڈھانچے مضبوط ہوا کرتے تھے۔"‬
‫"مگر مرزا پونے دو سو روپے تو میں ہرگز نہیں دے سکتا‪ ،‬اتنے روپے میرے پاس کہاں سے‬
‫آئے‪ ،‬میں تو اس سے آدھی قیمت بھی نہیں دے سکتا۔"‬
‫مرزا کہنے لگے۔ "تو میں تم سے پوری قیمت تھوڑی مانگتا ہوں‪ ،‬اول تو قیمت لینا نہیں چاہتا‬
‫لیکن۔۔۔"‬
‫میں نے کہا۔ "نہ مرزا قیمت تو تمہیں لینی پڑے گی۔ اچھا تم یوں کرو میں تمہاری جیب میں‬
‫کچھ روپے ڈال دیتا ہوں تم گھر جاکے گن لینا‪ ،‬اگر تمہیں منظور ہوئے تو کل بائیسکل بھیج‬
‫دینا ورنہ روپے واپس کردینا‪ ،‬اب یہاں بیٹھ کر میں تم سے سودا چکاؤں‪ ،‬یہ تو کچھ دکان‬
‫داروں کی سی بات معلوم ہوتی ہے۔"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫مرزا بولے۔ "بھئی جیسے تمہاری مرضی‪ ،‬میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں کہ قیمت ویمت‬
‫جانے دو لیکن میں جانتا ہوں کہ تم نہ مانو گے۔"‬
‫میں اٹھ کر اندر کمرے میں آیا‪ ،‬میں نے سوچا استعمال شدہ چیز کی لوگ عام طور پر آدھی‬
‫قیمت دیتے ہیں لیکن جب میں نے مرزا سے کہا تھا کہ مرزا میں تو آدھی قیمت بھی نہیں‬
‫دے سکتا تو مرزا اس پر معترض نہ ہوا تھا‪ ،‬وہ بیچارہ تو بلکہ یہی کہتا تھا کہ تم مفت ہی لے‬
‫لو‪ ،‬لیکن مفت میں کیسے لے لوں۔ آخر بائیسکل ہے۔ ایک سواری ہے۔ فٹنوں اور گھوڑوں اور‬
‫موٹروں اور تانگوں کے زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ بکس کھول تو معلوم ہوا کہ ہست وبود‬
‫کل چھیالیس روپے ہیں۔ چھیالیس روپے تو کچھ ٹھیک رقم نہیں۔ پنتالیس یا پچاس ہوں‪،‬‬
‫جب بھی بات ہے۔ پچاس تو ہو نہیں سکتے۔ اور اگر پنتالیس ہی دینے ہیں تو چالیس کیوں‬
‫نہ دئے جائیں۔ جن رقموں کے آخر میں صفر آتا ہے وہ رقمیں کچھ زیادہ معقول معلوم ہوتی‬
‫ہیں بس ٹھیک ہے‪ ،‬چالیس روپے دے دوں گا۔ خدا کرے مرزا قبول کرلے۔‬
‫باہر آیا چالیس روپے مٹھی میں بند کرکے میں نے مرزا کی جیب میں ڈال دئے اور کہا۔ "مرزا‬
‫اس کو قیمت نہ سمجھنا۔ لیکن اگر ایک مفلس دوست کی حقیر سی رقم منظور کرنا تمہیں‬
‫اپنی توہین معلوم نہ ہو تو کل بائیسکل بھجوادینا"۔‬
‫مرزا چلنے لگے تو میں نے پھر کہا کہ مرزا کل ضرور صبح ہی صبح بھجوا دینا رخصت ہونے‬
‫سے پہلے میں نے پھر ایک دفعہ کہا۔ "کل صبح آٹھ نو بجےتک پہنچ جائے‪ ،‬دیر نہ کردینا۔۔۔‬
‫خدا حافظ۔۔۔ اور دیکھو مرزا میرے تھوڑے سے روپوں کو بھی زیادہ سمجھنا۔۔۔ خداحافظ۔۔۔‬
‫اور تمہارا بہت بہت شکریہ‪ ،‬میں تمہارا بہت ممنون ہوں اور میری گستاخی کو معاف کردینا‪،‬‬
‫دیکھونا کبھی کبھی یوں ہی بےتکلفی میں۔۔۔ کل صبح آٹھ نو بجے تک۔۔۔ ضرور۔۔۔‬
‫خداحافظ۔۔۔"‬
‫مرزا کہنے لگے۔ "ذرا اس کو جھاڑپونچھ لینا اور تیل وغیرہ ڈلوا لینا۔ میرے نوکر کو فرصت‬
‫ہوئی تو خود ہی ڈلوادوں گا‪ ،‬ورنہ تم خود ہی ڈلوا لینا"۔‬
‫میں نے کہا۔ "ہاں ہاں وہ سب کچھ ہوجائے گا‪ ،‬تم کل بھیج ضرور دینا اور دیکھنا آٹھ بجے‬
‫تک ساڑھے آٹھ سات بجے تک پہنچ جائے۔ "اچھا۔۔۔ خداحافظ!"‬
‫رات کو بستر پر لیٹا تو بائیسکل پر سیر کرنے کے مختلف پروگرام تجویز کرتا رہا۔ یہ ارادہ تو پختہ‬
‫کرلیا کہ دو تین دن کے اندر اندر اردگرد کی تمام مشہور تاریخی عمارات اور کھنڈروں کو نئے‬
‫سرے سے دیکھ ڈالوں گا۔ اس کے بعد اگلے گرمی کے موسم میں ہوسکا تو بائیسکل پر‬
‫کشمیر وغیرہ کی سیر کروں گا۔ صبح صبح کی ہوا خوری کے لیے ہر روز نہر تک جایا کروں گا۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫شام کو ٹھنڈی سڑک پر جہاں اور لوگ سیر کو نکلیں گے میں بھی سڑک کی صاف شفاف‬
‫سطح پر ہلکے ہلکے خاموشی کے ساتھ ہاتھی دانت کی ایک گیند کی مانند گزرجاؤں گا۔‬
‫ڈوبتے ہوئے آفتاب کی روشنی بائیسکل کے چمکیلے حصوں پر پڑے گی تو بائیسکل‬
‫ُ‬ ‫ُ‬
‫جگمگا اٹھے گی اور ایسا معلوم ہوگا جیسے ایک راج ہنس زمین کے ساتھ ساتھ اڑ رہاہے۔‬
‫وہ مسکراہٹ جس کا میں اوپر ذکر کرچکا ہوں ابھی تک میرے ہونٹوں پر کھیل رہی تھی‪،‬‬
‫بارہا دل چاہا کہ ابھی بھاگ کر اؤں اور اسی وقت مرزا کو گلے لگالوں۔‬
‫رات کو خواب میں دعائیں مانگتا رہا کہ خدایا مرزا بائیسکل دینے پر رضامند ہوجائے۔ صبح‬
‫اٹھا تو اٹھنے کے ساتھ ہی نوکر نے یہ خوشخبری سنائی کے حضور وہ بائیسکل آگئی ہے۔‬
‫میں نے کہا۔ "اتنے سویرے؟"‬
‫نوکر نے کہا۔ "وہ تو رات ہی کو آگئی تھی‪ ،‬آپ سو گئے تھے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا‬
‫اور ساتھ ہی مرزا صاحب کا آدمی یہ ڈھبریاں کسنے کا ایک اوزار بھی دے گیا ہے"۔‬
‫میں حیران تو ہوا کہ مرزا صاحب نے بائیسکل بھجوادینے میں اس قدر عجلت سے کیوں کام‬
‫لیا لیکن اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی نہایت شریف اور دیانت دار ہیں۔ روپےلے لیے تھے تو‬
‫بائیسکل کیوں روک رکھتے۔‬
‫نوکر سے کہا۔ "دیکھو یہ اوزار یہیں چھوڑ جاؤ اور دیکھو بائیسکل کو کسی کپڑے سے خوب‬
‫اچھی طرح جھاڑو۔ اور یہ موڑ پر جو بائیسکلوں وال بیٹھتا ہے اس سے جا کر بائیسکل میں‬
‫ڈالنے کا تیل لے آؤ اور دیکھو‪ ،‬اے بھاگا کہاں جارہا ہے ہم ضروری بات تم سے کہہ رہے ہیں‪،‬‬
‫بائیسکل والے سے تیل کی ایک کپی بھی لے آنا ا ور جہاں جہاں تیل دینے کی جگہ ہے وہاں‬
‫تیل دے دینا اور بائیسکلوں والے سے کہنا کہ کوئی گھٹیا سا تیل نہ دیدے۔ جس سے تمام‬
‫پرزے ہی خراب ہوجائیں‪ ،‬بائیسکل کے پرزے بڑے نازک ہوتے ہیں اور بائیسکل باہر نکال‬
‫رکھو‪ ،‬ہم ابھی کپڑے پہن کر آتے ہیں۔ ہم ذرا سیر کو جارہےہیں اور دیکھو صاف کردینا اور‬
‫بہت زور زور سے کپڑا بھی مت رگڑنا‪ ،‬بائیسکل کا پالش گھس جاتا ہے"۔‬
‫جلدی جلدی چائے پی‪ ،‬غسل خانے میں بڑے جوش خروش کے ساتھ "چل چل چنبیلی باغ‬
‫میں" گاتا رہا اس کے بعد کپڑے بدلے‪ ،‬اوزار کو جیب میں ڈال اور کمرے سے باہر نکل۔‬
‫برآمدے میں آیا تو برآمدے کے ساتھ ہی ایک عجیب وغریب مشین پر نظر پڑی۔ ٹھیک‬
‫طرح پہچان نہ سکا کہ کیا چیز ہے‪ ،‬نوکر سے دریافت کیا۔ "کیوں بے یہ کیا چیز ہے؟"‬
‫نوکر بول۔ "حضور یہ بائیسکل ہے"۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫میں نے کہا۔ "بائیسکل؟ کس کی بائیسکل؟"‬
‫کہنے لگا۔ "مرزا صاحب نے بھجوائی ہے آپ کے لیے"۔‬
‫میں نے کہا۔ "اور جو بائیسکل رات کو انہوں نے بھیجی تھی وہ کہاں گئی؟"‬
‫کہنے لگا۔ "یہی تو ہے"؀۔‬
‫میں نے کہا۔ "کیا بکتا ہے جو بائیسکل مرزا صاحب نے کل رات کو بھیجی تھی وہ بائیسکل‬
‫یہی ہے؟"‬
‫کہنے لگا۔ "جی ہاں"۔‬
‫میں نے کہا۔ "اچھا" اور پھر اسے دیکھنے لگا۔ اس کو صاف کیوں نہیں کیا؟"‬
‫"اس کو دو تین دفعہ صاف کیا ہے؟"‬
‫"تو یہ میلی کیوں ہے؟"‬
‫نوکر نے اس کا جواب دینا شاید مناسب نہ سمجھا۔‬
‫"اور تیل لیا؟"‬
‫"ہاں حضور لیا ہوں"۔‬
‫"دیا"؟‬
‫"حضور وہ تیل دینے کے چھید ہوتے ہیں وہ نہیں ملتے"۔‬
‫"کیا وجہ ہے؟"‬
‫ُ‬
‫"حضور دھروں پر میل اور زنگ جما ہے۔ وہ سوراخ کہیں بیچ ہی میں دب دبا گئے ہیں"۔‬
‫رفتہ رفتہ میں اس چیز کے قریب آیا۔ جس کو میرا نوکر بائیسکل بتا رہا تھا۔ اس کے مختلف‬
‫پرزوں پر غور کیا تو اتنا تو ثابت ہوگیا کہ یہ بائیسکل ہے لیکن مجموعی ہیئت سے یہ صاف‬
‫ظاہر تھا کہ بل اور رہٹ اور چرخہ اور اس طرح کی ایجادات سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ پہیے‬
‫کو گھما گھما کر وہ سوراخ تلش کیا جہاں کسی زمانے میں تیل دیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس‬
‫سوراخ میں سے آمدورفت کا سلسلہ بند تھا۔ چنانچہ نوکر بول۔ "حضور وہ تیل تو سب ادھر‬
‫ُ‬
‫ادھربہہ جاتا ہے۔ بیچ میں تو جاتا ہی نہیں۔"‬
‫میں نے کہا۔ "اچھا اوپر اوپر ہی ڈال دو یہ بھی مفید ہوتا ہے"۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫آخرکار بائیسکل پر سوار ہوا۔ پہل ہی پاؤں چلیا تو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی‬
‫ہڈیاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلف زندہ ہو رہا ہے۔ گھر سے نکلتے ہی کچھ تھوڑی‬
‫سی اترائی تھی اس پر بائیسکل خودبخود چلنے لگی لیکن اس رفتار سے جیسے تارکول زمین‬
‫پر بہتا ہے اور ساتھ ہی مختلف حصوں سے طرح طرح کی آوازیں برآمد ہونی شروع ہوئی۔ ان‬
‫آوازوں کے مختلف گروہ تھے۔ چیں۔ چاں۔ چوں کی قسم آوازیں زیادہ تر گدی کے نیچے اور‬
‫پچھلے پہیے سے نکلتی تھیں۔ کھٹ‪ ،‬کھڑکھڑ۔کھڑڑ کے قبیل کی آوازیں مڈگارڈوں سے آتی‬
‫ُ‬
‫تھی۔ چر۔ چرخ۔ چر۔چرخ کی قسم کے سر زنجیر اور پیڈل سے نکلتے تھے۔ زنجیر ڈھیلی ڈھیلی‬
‫تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا تھا‪ ،‬زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی تھی جس‬
‫سے وہ تن جاتی تھی اور چڑچڑ بولنے لگتی تھی اور پھر ڈھیلی ہوجاتی تھی۔ پچھل پہیہ گھونے‬
‫کے علوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا اور اس کے علوہ دہنے سے بائیں‬
‫اور بائیں سے دہنے کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑ جاتا تھا اس کو دیکھ‬
‫کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کر نکل گیا ہے۔ مڈگارڈ تھے تو سہی‬
‫لیکن پہیوں کے عین اوپر نہ تھے۔ ان کا فائدہ صرف یہ معلوم ہوتا تھا کہ انسان شمال کی‬
‫سمت سیر کرنے کو نکلے اور آفتاب مغرب میں غروب ہورہا ہو تو مڈگارڈوں کی بدولت ٹائر‬
‫دھوپ سے بچے رہیں گے۔‬
‫اگلے پہیے کے ٹائر میں ایک بڑا سا پیوند لگا تھا جس کی وجہ سے پہیہ ہر چکر میں ایک‬
‫ُ‬
‫دفعہ لمحہ بھر کو زور سے اوپر اٹھ جاتا تھا اور میرا سر پیچھے کو یوں جھٹکے کھا رہا تھا‬
‫جیسے کوئی متواتر تھوڑی کے نیچے مکے مارے جا رہا ہو۔ پچھلے اور اگلے پہیے کو مل کر‬
‫چوں چوں پھٹ۔ چوں چوں پھٹ۔۔۔ کی صدا نکل رہی تھی۔ جب اتار پر بائیسکل ذراتیز ہوئی‬
‫توفضاء میں ایک بھونچال سا آگیا۔ اور بائیسکل کے کئی اور پرزے جو اب تک سو رہےتھے۔‬
‫ُ‬
‫بیدار ہو کر گویا ہوئے۔ ادھر ادھرکے لوگ چونکے۔ ماؤں نے اپنے بچوں کو اپنے سینوں سے لگا‬
‫لیا۔ کھڑڑکھڑڑ کےبیچ میں پہیوں کی آواز جدا سنائی رہی تھی لیکن چونکہ بائیسکل اب‬
‫پہلے سے تیز تھی اس لیے چوں چوں پھٹ‪ ،‬چوں چوں پھٹ کی آواز نے اب چچوں پھٹ‪ ،‬چچوں‬
‫پھٹ‪ ،‬کی صورت اختیار کرلی تھی۔ تمام بائیسکل کسی ادق افریقی زبان کی گردانیں دہرا رہی‬
‫تھی۔‬
‫اس قدر تیز رفتاری بائیسکل کی طبع نازک پر گراں گزری۔ چنانچہ اس میں یک لخت دو‬
‫تبدیلیاں واقع ہوگئیں۔ ایک تو ہینڈل ایک طرف کو مڑ گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں جاتو‬
‫سامنے کو رہا تھا لیکن میرا تمام جسم دائیں طرف کو مڑا ہوا تھا۔ اس کے علوہ بائیسکل کی‬
‫ً‬
‫گدی دفعتہ چھ انچ کے قریب نیچے بیٹھ گئی۔ چنانچہ جب پیڈل چلنے کے لیے میں‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ٹانگیں اوپر نیچے کر رہا تھا تو میرے گھٹنے میری تھوڑی تک پہنچ جاتے تھے۔ کمردہری ہو‬
‫کر باہر کو نکلی ہوئی تھی اور ساتھ ہی اگلے پہیے کی اٹھیکیلوں کی وجہ سے سر برابر‬
‫جھٹکے کھا رہا تھا۔‬
‫گدی کا نیچا ہوجانا ازحد تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس لیے میں نے مناسب یہی سمجھا کہ اس‬
‫کو ٹھیک کرلوں۔ چنانچہ میں نے بائیسکل کو ٹھہرا لیا اور نیچے اترا۔ بائیسکل کے ٹھہر جانے‬
‫سے یک لخت جیسے دنیا میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔ ایسا معلوم ہوا جیسے میں‬
‫کسی ریل کے اسٹیشن سے نکل کر باہر آگیا ہوں۔ جیب سے میں نے اوزار نکال‪ ،‬گدی کو اونچا‬
‫کیا‪ ،‬کچھ ہینڈل کو ٹھیک کیا اور دوبارہ سوار ہوگیا۔‬
‫دس قدم بھی چلنے نہ پایا تھا کہ اب کے ہینڈل یک لخت نیچا ہوگیا۔ اتنا کہ گدی اب‬
‫ہینڈل سے کوئی فٹ بھر اونچی تھی۔ میرا تمام جسم آگے کو جھکا ہوا تھا‪ ،‬تمام بوجھ دونوں‬
‫ہاتھوں پر تھا جو ہینڈل پر رکھے تھے اور برابر جھٹکے کھا رہے تھے۔ آپ میری حالت کو تصور‬
‫کریں تو آپ معلوم ہوگا کہ میں دور سے ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کوئی عورت آٹا گوندھ‬
‫رہی ہو۔ مجھے اس مشابہت کا احساس بہت تیز تھا جس کی وجہ سے میرے ماتھے پر‬
‫پسینہ آگیا۔ میں دائیں بائیں لوگوں کو کنکھیوں سے دیکھتا جاتا تھا۔ یوں تو ہر شخص میل‬
‫بھر پہلے ہی سے مڑ مڑ کر دیکھنے لگتا تھا لیکن ان میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کے لیے‬
‫میری مصیبت ضیافت طبع کا باعث نہ ہو۔‬
‫ہینڈل تو نیچا ہو ہی گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد گدی بھی پھر نیچی ہوگئی اور میں ہمہ تن‬
‫زمین کے قریب پہنچ گیا۔ ایک لڑکے نے کہا۔ "دیکھو یہ آدمی کیا کر رہا ہے"۔ گویا اس بدتمیز‬
‫کے نزدیک میں کوئی کرتب دکھا رہا تھا۔ میں نے اتر کر پھر ہینڈل اور گدی کو اونچا کیا۔‬
‫لیکن تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ایک نہ ایک پھر نیچا ہوجاتا۔ وہ لمحے جن کے دوران‬
‫میں میرا ہاتھ اور میرا جسم دونوں ہی بلندی پر واقع ہوں بہت ہی کم تھے اور ان میں بھی‬
‫میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ اب کہ گدی پہلے بیٹھے گی یا ہینڈل؟ چنانچہ نڈر ہو کر نہ‬
‫بیٹھتا بلکہ جسم کو گدی سے قدرے اوپر ہی رکھتا لیکن اس سے ہینڈل پر اتنا بوجھ پڑ جاتا‬
‫کہ وہ نیچا ہوجاتا۔‬
‫جب دو میل گزر گئے اور بائیسکل کی اٹھک بیٹھک نے ایک مقرر باقاعدگی اختیار کرلی تو‬
‫فیصلہ کیا کہ کسی مستری سے پیچ کسوا لینے چاہئیں چنانچہ بائیسکل کو ایک دکان پر‬
‫لے گیا۔ بائیسکل کی کھڑکھڑ سے دوکان میں جتنے لوگ کام کر رہے تھے‪ ،‬سب کے سب سر‬
‫اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگے لیکن میں نے جی کڑا کرکے کہا۔"ذرا اس کی مرمت‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫کردیجئے"۔ ایک مستری آگے بڑھا لوہے کی ایک سلخ اس کے ہاتھ میں تھی جس سے اس‬
‫نے مختلف حصوں کو بڑی بےدردی سے ٹھوک بجا کر دیکھا۔ معلوم ہوتا تھا اس نے بڑی تیزی‬
‫کے ساتھ سب حالت کا اندازہ لگا لیا ہے لیکن پھر بھی مجھ سے پوچھنے لگا۔ "کس کس‬
‫پرزے کی مرمت کرائیے گا"؟‬
‫میں نے کہا۔ "بڑے گستاخ ہو تم دیکھتے نہیں کہ صرف ہینڈل اور گدی کو ذرا اونچا کروا کے‬
‫ً‬
‫کسوانا ہے بس اور کیا؟ ان کو مہربانی کرکے فورا ٹھیک کرو اور بتاؤ کتنے پیسے ہوئے؟"‬
‫مستری نے کہا۔ "مڈگارڈ بھی ٹھیک نہ کردوں؟"‬
‫میں نے کہا۔ "ہاں‪ ،‬وہ بھی ٹھیک کردو"۔‬
‫کہنے لگا۔ " اگر آپ باقی چیزیں بھی ٹھیک کرالیں تو اچھا ہو"۔‬
‫میں نے کہا۔ "اچھا کردو"۔‬
‫بول۔ "یوں تھوڑا ہوسکتا ہے۔ دس پندرہ دن کا کام ہے آپ اسے ہمارے پاس چھوڑ جائیے۔"‬
‫"اور پیسے کتنے لو گے؟"‬
‫کہنے لگا۔ "بس چالیس روپے لگیں گے"۔‬
‫ہم نے کہا۔ "بس جی جو کام تم سے کہا ہے کردو اور باقی ہمارے معاملت میں دخل مت‬
‫دو۔"‬
‫تھوڑی دیر بعد ہینڈل اور گدی پھر اونچی کرکے کس دی گئی۔ میں چلنے لگا تو مستری نے‬
‫کہا میں نے کس تو دیا ہے لیکن پیچ سب گھسے ہوئے ہیں‪ ،‬ابھی تھوڑی دیر میں پھر ڈھیلے‬
‫ہو جائیں گے۔"‬
‫میں نے کہا۔ "بدتمیز کہیں کا‪،‬تو دو آنے پیسے مفت میں لے لیے؟"‬
‫بول۔ "جناب آپ کو بائیسکل بھی مفت میں ملی ہوگی‪ ،‬یہ آپ کے دوست مرزا صاحب کی‬
‫ّ‬
‫ہے نا؟ للو یہ وہی بائیسکل ہے جو پچھلے سال مرزا صاحب یہاں بیچنے کو لئے تھے۔‬
‫پہچانی تم نے؟ بھئی صدیاں ہی گزر گئیں لیکن اس بائیسکل کی خطاء معاف ہونے میں‬
‫نہیں آتی۔"‬
‫میں نے کہا۔ "واہ مرزا صاحب کے لڑکے اس پر کالج آیا جایا کرتے تھے اور ان کو ابھی کالج‬
‫چھوڑے دو سال بھی نہیں ہوئے۔"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫مستری نے کہا۔ "ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن مرزا صاحب خود جب کالج میں پڑھتے تھے تو ان‬
‫کے پاس بھی تو یہی بائیسکل تھی۔"‬
‫میری طبیعت یہ سن کر کچھ مردہ سی ہوگئی۔ میں نے بائیسکل کو ساتھ لیے آہستہ‬
‫آہستہ پیدل چل پڑا۔ لیکن پیدل چلنا بھی مشکل تھا۔ اس بائیسکل کے چلنے میں ایسے‬
‫ایسے پٹھوں پر زور پڑتا تھا جو عام بائیسکلوں کو چلنے میں استعمال نہیں ہوتے۔ اس لیے‬
‫ٹانگوں اور کندھوں اور کمر اور بازوؤں میں جابجا درد ہورہا تھا۔ مرزا کا خیال رہ رہ کر آتا تھا۔‬
‫لیکن میں ہر بار کوشش کرکے اسے دل سے ہٹا دیتا تھا‪ ،‬ورنہ میں پاگل ہوجاتا اور جنون کی‬
‫حالت میں پہلے حرکت مجھ سے یہ سرزد ہوئی کہ مرزا کے مکان کے سامنے بازار میں ایک‬
‫جلسہ منعقدکرتا جس میں مرزا کی مکاری‪ ،‬بےایمانی اور دغابازی پر ایک طویل تقریر کرتا۔‬
‫کل بنی نوع انسان اور آئندہ آنے والی نسلوں کی ناپاک فطرت سے آگاہ کردیتا اور اس کے بعد‬
‫ایک چتا جل کر اس میں زندہ جل کر مرجاتا۔‬
‫میں نے بہتر یہی سمجھا کہ جس طرح ہوسکے اب اس بائیسکل کو اونے پونے داموں میں‬
‫بیچ کر جو وصول ہوااسی پر صبر شکر کروں۔ بل سے دس پندرہ روپیہ کا خسارہ سہی۔ چالیس‬
‫کے چالیس روپے تو ضائع نہ ہوں گے۔ راستے میں بائیسکلوں کی ایک اور دکان آئی وہاں‬
‫ٹھہر گیا۔‬
‫دکاندار بڑھ کر میرے پاس آیا لیکن میری زبان کو جیسے قفل لگ گیا تھا۔ عمر بھر کسی‬
‫چیز کے بیچنے کی نوبت نہ آئی تھی مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسے موقع پر کیا کہتے‬
‫ہیں آخر بڑے سوچ بچار اور بڑے تامل کے بعد منہ سے صرف اتنا نکل کہ یہ "بائیسکل" ہے۔‬
‫دکاندار کہنے لگا۔ "پھر؟"‬
‫میں نے کہا۔ "لو گے"۔‬
‫کہنے لگا۔ "کیا مطلب؟"‬
‫میں نے کہا۔ "بیچتے ہیں ہم۔"‬
‫دکاندار نے مجھے ایسے نظر سے دیکھا کہ مجھے یہ محسوس ہوا مجھ پر چوری کا شبہ کر‬
‫رہا ہے۔ پھر بائیسکل کو دیکھا۔ پھر مجھے دیکھا‪ ،‬پھر بائیسکل کو دیکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا‬
‫کہ فیصلہ نہیں کرسکتا آدمی کون سا ہے اور بائیسکل کون سی ہے؟ آخرکار بول۔ "کیا کریں‬
‫گے آپ اس کو بیچ کر؟"‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ایسے سوالوں کا خدا جانے کیا جواب ہوتا ہے۔ میں نے کہا۔ "کیا تم یہ پوچھنا چاہتے ہو کہ‬
‫جو روپے مجھے وصول ہوں گے ان کا مصرف کیا ہوگا؟"‬
‫کہنے لگا۔ "وہ تو ٹھیک ہے مگر کوئی اس کو لے کر کرے گا کیا؟"‬
‫میں نے کہا۔ "اس پر چڑھے گا اور کیا کرے گا۔"‬
‫کہنے لگا۔ "اچھا چڑھ گیا۔ پھر؟"‬
‫میں نے کہا۔ "پھر کیا؟ پھر چلئے گا اور کیا؟"‬
‫دکاندار بول۔ "اچھا؟ ہوں۔ خدا بخش ذرا یہاں آنا۔ یہ بائیسکل بکنے آئی ہے۔"‬
‫جن حضرت کا اسم گرامی خدا بخش تھا انہوں نے بائیسکل کو دور ہی سے یوں دیکھا جیسے‬
‫بو سونگھ رہے ہوں۔ اس کے بعد دونوں نے آپس میں مشورہ کیا‪ ،‬آخر میں وہ جن کا نام خدا‬
‫بخش نہیں تھا میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ "تو آپ سچ مچ بیچ رہے ہیں؟"‬
‫میں نے کہا۔ "تو اور کیا محض آپ سے ہم کلم ہونے کا فخر حاصل کرنے کے لیے میں گھر‬
‫سے یہ بہانہ گھڑ کر لیا تھا؟"‬
‫کہنے لگا۔ "تو کیا لیں گے آپ؟"‬
‫میں نے کہا۔ "تم ہی بتاؤ۔"‬
‫کہنے لگا۔ "سچ مچ بتاؤں؟"‬
‫میں نے کہا۔ "اب بتاؤ گے بھی یا یوں ہی ترساتے رہو گے؟"‬
‫کہنے لگا۔ "تین روپے دوں گااس کے۔"‬
‫میرا خون کھول اٹھا اور میرے ہاتھ پاؤں اور ہونٹ غصے کے مارے کانپنے لگے۔ میں نے‬
‫کہا۔‬
‫"او صنعت وحرفت سے پیٹ پالنے والے نچلے طبقے کے انسان‪ ،‬مجھے اپنی توہین کی پروا‬
‫نہیں لیکن تونے اپنی بیہودہ گفتاری سے اس بےزبان چیز کو جو صدمہ پہنچایا ہے اس کے‬
‫لیے میں تجھے قیامت تک معاف نہیں کرسکتا۔"یہ کہہ کر میں بائیسکل پر سوار ہوگیا اور‬
‫اندھا دھند پاؤں چلنے لگا۔‬
‫مشکل سے بیس قدم گیا ہوں گاکہ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے زمین یک لخت اچھل‬
‫کر مجھ سے آلگی ہے۔ آسمان میرے سر پر سے ہٹ کر میری ٹانگوں کے بیچ میں سے گزر‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬
‫ُ‬
‫گیا اور ادھر ادھر کی عمارتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی جگہ بدل لی ہے۔ حواس‬
‫بجا ہوئے تو معلوم ہوا میں زمین پر اس بےتکلفی سے بیٹھا ہوں‪ ،‬گویا بڑی مدت سے مجھے‬
‫اس بات کا شوق تھا جو آج پورا ہوا۔ اردگرد کچھ لوگ جمع تھے جس میں سے اکثر ہنس رہے‬
‫تھے۔ سامنے دکان تھی جہاں ابھی ابھی میں نے اپنی ناکام گفت وشنید کا سلسلہ منقطع‬
‫کیا تھا۔ میں نے اپنے گردوپیش پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ میری بائیسکل کا اگلہ پہیہ‬
‫بالکل ہو کر لڑھکتا ہوا سڑک کے اس پار جاپہنچا ہے اور باقی سائیکل میرے پاس پڑی ہے۔‬
‫ً‬
‫میں نے فورا اپنے آپ کو سنبھال جو پہیہ الگ ہوگیا تھا اس کو ایک ہاتھ میں اٹھایا دوسرے‬
‫ہاتھ میں باقی ماندہ بائیسکل کو تھاما اور چل کھڑا ہوا۔ یہ محض ایک اضطراری حرکت تھی‬
‫ورنہ حاشادکل وہ بائیسکل مجھے ہرگز اتنی عزیز نہ تھی کہ میں اس کو اس حالت میں ساتھ‬
‫ساتھ لیے پھرتا۔‬
‫جب میں یہ سب کچھ اٹھا کر چل دیا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو‪،‬‬
‫کہاں جارہے ہو؟ تمہارارادہ کیا ہے۔ یہ دو پہیے کاہے کو لے جارہے ہو؟‬
‫سب سوالوں کا جواب یہی مل کہ دیکھا جائے گا۔ فی الحال تم یہاں سے چل دو۔ سب لوگ‬
‫تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ سر اونچا رکھو اور چلتے جاؤ۔ جو ہنس رہے ہیں‪ ،‬انہیں ہنسنے دو‪ ،‬اس‬
‫قسم کے بیہودہ لوگ ہر قوم اور ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ آخر ہوا کیا۔ محض ایک حادثہ۔‬
‫بس دائیں بائیں مت دیکھو۔ چلتے جاؤ۔‬
‫لوگوں کے ناشائستہ کلمات بھی سنائی دے رہے تھے۔ ایک آواز آئی۔ "بس حضرت غصہ‬
‫تھوک ڈالئے۔" ایک دوسرے صاحب بولے۔ "بےحیا بائیسکل گھر پہنچ کے تجھے مزا‬
‫چکھاؤں گا۔" ایک والد اپنے لخت جگر کی انگلی پکڑے جارہے تھے۔ میری طرف اشارا‬
‫کرکے کہنے لگے۔ "دیکھا بیٹا یہ سرکس کی بائیسکل ہے۔ اس کے دونوں پہیے الگ الگ‬
‫ہوتے ہیں۔"‬
‫لیکن میں چلتا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں آبادی سے دور نکل گیا۔ اب میری رفتار میں ایک‬
‫عزیمت پائی جاتی تھی۔ میرا دل جو کئی گھنٹوں سے کشمکش میں پیچ وتاب کھا رہا تھا‬
‫ٰ‬
‫اب بہت ہلکا ہوگیا تھا۔ میں چلتا گیا چلتا گیا حتی کہ دریا پر جاپہنچا۔ پل کے اوپر کھڑے‬
‫ہوکر میں نے دونوں پہیوں کو ایک ایک کرکے اس بےپروائی کے ساتھ دریا میں پھینک دیا‬
‫جیسے کوئی لیٹر بکس میں خط ڈالتا ہے۔ اور واپس شہر کو روانہ ہوگیا۔‬
‫سب سے پہلے مرزا کے گھر گیا۔ دروازا کھٹکھٹایا۔ مرزا بولے۔ "اندر آجاؤ"۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫میں نے کہا۔ آپ ذرا باہر تشریف لئیے۔ میں آپ جیسے خدا رسیدہ بزرگ کے گھر وضو کیے‬
‫بغیر کیسے داخل ہوسکتا ہوں۔"‬
‫باہر تشریف لئے تو میں نے وہ اوزار ان کی خدمت میں پیش کیا جو انہوں نے بائیسکل کے‬
‫ساتھ مفت ہی مجھ کو عنایت فرمایا تھا اور کہا‪:‬‬
‫"مرزا صاحب آپ ہی اس اوزار سے شوق فرمایا کیجیے میں اب سے بےنیاز ہوچکا ہوں۔"‬
‫گھر پہنچ کر میں نے پھر علم کیمیا کی اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا جو میں نے ایف۔اے‬
‫میں پڑھی تھی۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫ل ہور ک ا جغرافیہ‬

‫تمہید‬

‫تمہید کے طور پر صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ لہور کو دریافت ہوئے اب بہت عرصہ‬
‫گزرچکا ہے‪ ،‬اس لیے دلئل و براہین سے اس کے وجودکو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ‬
‫ٰ‬ ‫ُ‬
‫کہنے کی اب ضرور نہیں کہ کرے کو دائیں سے بائیں گھمائیے۔ حتی کہ ہندوستان کا‬
‫ملک آپ کے سامنے آکر ٹھہر جائے پھر فلں طول البلد اور فلں عرض البلد کے مقام‬
‫ُ‬
‫انقطاع پر لہور کا نام تلش کیجئے۔ جہاں یہ نام کرے پر مرقوم ہو‪ ،‬وہی لہور کا محل وقوع‬
‫ہے۔ اس ساری تحقیقات کو مختصر مگر جامع الفاظ میں بزرگ یوں بیان کرتے ہیں کہ لہور‪،‬‬
‫لہور ہی ہے‪ ،‬اگر اس پتے سے آپ کو لہور نہیں مل سکتا‪ ،‬تو آپ کی تعلیم ناقص اور آپ کی‬
‫دہانت فاتر ہے۔‬

‫محل وقوع‬

‫ایک دو غلط فہمیاں البتہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں۔ لہور پنجاب میں واقع ہے۔ لیکن‬
‫پنجاب اب پنج آب نہیں رہا۔ اس پانچ دریاؤں کی سرزمین میں اب صرف چار دریا بہتے ہیں۔‬
‫اور جو نصف دریا ہے‪ ،‬وہ تو اب بہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اسی کو اصطلح میں راوی‬
‫ضعیف کہتے ہیں۔ ملنے کا پتہ یہ ہےکہ شہر کے قریب دو پل بنے ہیں۔ ان کے نیچے ریت‬
‫میں دریا لیٹا رہتا ہے۔ بہنے کا شغل عرصے سے بند ہے‪ ،‬اس لیے یہ بتانا بھی مشکل ہے‬
‫کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔ لہور تک پہنچنے کے کئی‬
‫رستے ہیں۔ لیکن دو ان میں سے بہت مشہور ہیں۔ ایک پشاور سے آتا ہے اور دوسرا دہلی سے۔‬
‫وسط ایشیا کے حملہ آور پشاور کے راستے اور یو۔پی کے رستے وارد ہوتے ہیں۔ اول الذکر اہل‬
‫سیف کہلتے ہیں اور غزنوی یا غوری تخلص کرتے ہیں مؤخر الذکر اہل زبان کہلتے ہیں۔ یہ‬
‫ٰ‬
‫بھی تخلص کرتے ہیں‪ ،‬اور اس میں یدطولی رکھتے ہیں۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫حدود اربعہ‬

‫کہتے ہیں‪ ،‬کسی زمانے میں لہور کا حدوداربعہ بھی ہوا کرتا تھا‪ ،‬لیکن طلباء کی سہولت کے‬
‫لیے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کردیا ہے۔ اب لہور کے چاروں طرف بھی لہور ہی واقعہ‬
‫ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہورہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے‪ ،‬کہ دس بیس سال کے اندر لہور ایک‬
‫صوبے کا نام ہوگا۔ جس کادارالخلفہ پنجاب ہوگا۔ یوں سمجھئے کہ لہور ایک جسم ہے‪،‬‬
‫جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہورہا ہے‪ ،‬لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع‬
‫ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لحق ہے۔‬

‫آب و ہوا‬

‫ً‬
‫لہور کی آب وہوا کے متعلق طرح طرح کی روایات مشہور ہیں‪ ،‬جو تقریبا سب کی سب غلط‬
‫ہیں‪ ،‬حقیقت یہ ہے کہ لہور کے باشندوں نے حال ہی میں یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اور‬
‫شہروں کی طرح ہمیں بھی آب و ہوا دی جائے‪ ،‬میونسپلٹی بڑی بحث وتمحیص کے بعد اس‬
‫نتیجہ پر پہنچی کہ اس ترقی کے دور میں جبکہ دنیا میں کئی ممالک کو ہوم رول مل رہا ہے‬
‫اور لوگوں میں بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں‪ ،‬اہل لہور کی یہ خواہش ناجائز نہیں۔ بلکہ‬
‫ہمدردانہ غوروخوض کی مستحق ہے۔‬
‫لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے پاس ہوا کی قلت تھی‪ ،‬اس لیے لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ‬
‫مفاد عامہ کے پیش نظر اہل شہر ہوا کا بیجا استعمال نہ کریں‪ ،‬بلکہ جہاں تک ہوسکے‬
‫کفایت شعاری سے کام لیں۔ چنانچہ اب لہور میں عام ضروریات کے لیے ہوا کے بجائے گرد‬
‫اور خاص خاص حالت میں دھواں استعمال کیا جاتا ہے۔ کمیٹی نے جابجا دھوئیں اور گرد‬
‫کے مہیا کرنے لیے مرکز کھول دئے ہیں۔ جہاں یہ مرکبات مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔ امید‬
‫کی جاتی ہے‪ ،‬کہ اس سے نہایت تسلی بخش نتائج برآمد ہوں گے۔‬
‫بہم رسائی آب کے لیے ایک اسکیم عرصے سے کمیٹی کے زیرغور ہے۔ یہ اسکیم نظام سقے‬
‫کے وقت سے چلی آتی ہےلیکن مصیبت یہ ہے کہ نظام سقے کے اپنےہاتھ کے لکھئے‬
‫ہوئے اہم مسودات بعض تو تلف ہوچکے ہیں اور جو باقی ہیں ان کے پڑھنے میں بہت دقت‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫پیش آرہی ہے اس لیے ممکن ہے تحقیق وتدقیق میں چند سال اور لگ جائیں‪ ،‬عارضی طور‬
‫پر پانی کا یہ انتظام کیا گیا ہے کہ فی الحال بارش کے پانی کو حتی الوسع شہر سے باہر نکلنے‬
‫نہیں دیتے۔ اس میں کمیٹی کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ‬
‫تھوڑے ہی عرصے میں ہر محلے کا اپنا ایک دریا ہوگا جس میں رفتہ رفتہ مچھلیاں پیدا‬
‫ہوں گی اور ہر مچھلی کے پیٹ میں کمیٹی کی ایک انگوٹھی ہوگی جو رائے دہندگی کے‬
‫موقع پر ہر رائے دہندہ پہن کر آئے گا۔‬
‫نظام سقے کے مسودات سے اس قدر ضرور ثابت ہوا ہے کہ پانی پہنچانے کے لیے نل‬
‫ضروری ہیں چنانچہ کمیٹی نے کروڑوں روپے خرچ کرکے جابجا نل لگوا دئے ہیں۔ فی الحال ان‬
‫میں ہائیڈروجن اور آکیسجن بھری ہے۔ لیکن ماہرین کی رائے ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ‬
‫گیسیں ضرور مل کر پانی بن جائیں گی۔ چنانچہ بعض بعض نلوں میں اب بھی چند قطرے‬
‫روزآنہ ٹپکتے ہیں۔ اہل شہر کو ہدایت کی گئی ہے‪ ،‬کہ اپنے اپنے گھڑے نلوں کے نیچے رکھ‬
‫چھوڑیں تاکہ عین وقت پر تاخیر کی وجہ سے کسی کو دل شکنی نہ ہو‪ ،‬شہر کے لوگ اس پر‬
‫بہت خوشیاں منا رہے ہیں۔‬

‫ذرائع آمد و رفت‬

‫جو سیاح لہور تشریف لنے کا ارادہ رکھے ہوں‪ ،‬ان کو یہاں کے ذرائع آمدورفت کے متعلق‬
‫چند ضروری باتیں ذہن نشین کرلینی چاہئیں۔ تاکہ وہ یہاں کی سیاحت سے کماحقہ اثرپذیر‬
‫ہوسکیں۔ جو سڑک بل کھاتی ہوئی لہور کے بازاروں میں سے گزرتی ہے‪ ،‬تاریخی اعتبار سے‬
‫بہت اہم ہے۔ یہ وہی سڑک ہے جسے شیرشاہ سوری نے بنایا تھا۔ یہ آثار قدیمہ میں شمار‬
‫ہوتی ہے اور بےحد احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی ہے۔ چنانچہ اس میں کسی قسم کا‬
‫ردوبدل گوارا نہیں کیا جاتا۔ وہ قدیم تاریخی گھڑے اور خندقیں جوں کی توں موجود ہیں۔‬
‫ُ‬
‫جنہں نے کئی سلطنتوں کے تختے الٹ د ئے تھے۔ آج کل بھی کئی لوگوں کے تختے یہاں‬
‫ُ‬
‫الٹتے ہیں۔ اور عظمت رفتہ کی یاد دل کر انسان کو عبرت سکھاتے ہیں۔‬
‫بعض لوگ ز یادہ عبرت پکڑنے کے لیے ان تختوں کے نیچے کہیں کہیں دو ایک پہیے لگا‬
‫لیتے ہیں۔ اور سامنے دو ہک لگا کر ان میں ایک گھوڑا ٹانگ د یتے ہیں۔ اصطلح میں اس کو‬
‫تانگہ کہتے ہیں۔ شوقین لوگ اس تختہ پر موم جامہ منڈھ لیتے ہیں تاکہ پھسلنے میں‬
‫سہولت ہو اور بہت زیادہ عبرت پکڑی جائے۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫اصلی اور خالص گھوڑے لہور میں خوراک کے کام آتے ہیں۔ قصابوں کی دوکانوں پر ان ہی‬
‫کا گوشت بکتا ہے۔ اور زین کس کو کھایا جاتا ہے۔ تانگوں میں ان کی بجائے بناسپتی‬
‫گھوڑے استعمال کئے جاتے ہیں۔ بناپستی گھوڑا شکل وصورت میں دم دار تارے سے‬
‫ملتاہے۔ کیونکہ اس گھوڑے کی ساخت میں دم زیادہ اور گھوڑا کم پایا جاتا ہے‪ ،‬حرکت‬
‫کرتے وقت اپنی دم کو دبا لیتا ہے۔ اور اس ضبط نفس سے اپنی رفتار میں ایک سنجیدہ‬
‫اعتدال پیدا کرتاہے۔ تاکہ سڑک کا ہر تاریخی گڑھا اور تانگے کا ہر ہچکول اپنا نقش آپ پر ثبت‬
‫کرتا جائے اور آپ کا ہر ایک مسام لطف اندوز ہوسکے۔‬

‫قابل دید مقامات‬

‫لہور میں قابل دید مقامات مشکل سے ملتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لہور میں ہر‬
‫عمارت کی بیرونی دیواریں دہری بنائی جاتی ہیں۔ پہلے اینٹوں اور چونے سے دیوار کھڑی کرتے‬
‫ہیں اور پھر اس پر اشتہاروں کا پلستر کردیا جاتا ہے‪ ،‬جو دبازت میں رفتہ رفتہ بڑھتا جاتا ہے۔‬
‫ً‬
‫شروع شروع میں چھوٹے سائز کے مبہم اور غیرمعروف اشتہارات چپکائے جاتے ہیں۔ مثل‬
‫"اہل لہور کو مژدہ" "اچھا اور سستا مال" اس کے بعد ان اشتہاروں کی باری آتی ہے‪ ،‬جن کے‬
‫ً‬
‫مخاطب اہل علم اور سخن فہم لوگ ہوتے ہیں مثل "گریجویٹ درزی ہاؤس" یا "اسٹوڈنٹوں کے‬
‫لیے نادر موقع"‪ ،‬یا "کہتی ہے ہم کو خلق خدا غائبانہ کیا۔" رفتہ رفتہ گھر کی چار دیواری ایک‬
‫مکمل ڈائرکٹری کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ دروازے کے اوپر بوٹ پالش کا اشتہار ہے۔‬
‫دائیں طرف تازہ مکھن ملنے کا پتہ درج ہے۔ بائیں طرف حافظ کی گولیوں کا بیان ہے۔ اس‬
‫ُ‬
‫کھڑکی کے اوپر انجمن خدام ملت کے جلسے کا پروگرام چسپاں ہے۔ اس کھڑکی پر کسی‬
‫مشہور لیڈر کے خانگی حالت بالوضاحت بیان کردئے ہیں۔ عقبی دیوار پر سرکس کے تمام‬
‫جانوروں کی فہرست ہے اور اصطبل کے دروازے پر مس نغمہ جان کی تصویر اور ان کی فلم‬
‫کے محاسن گنوا رکھے ہیں۔ یہ اشتہارات بڑی سرعت سے بدلتے رہتے ہیں اور ہر نیا مژدہ اور ہر‬
‫نئی دریافت یا ایجاد یا انقلب عظیم کی ابتل چشم زدن میں ہر ساکن چیز پر لیپ دی جاتی‬
‫ہے۔ اس لیے عمارتوں کی ظاہری صورت ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے اور ان کے پہچاننے میں‬
‫خود شہر کے لوگوں کوبہت دقت پیش آتی ہے۔‬
‫لیکن جب سے لہور میں دستور رائج ہوا ہے کہ بعض اشتہاری کلمات پختہ سیاہی سے‬
‫خود دیوار پر نقش کردئے جاتے ہیں۔ یہ دقت بہت حد تک رفع ہوگئی ہے‪ ،‬ان دائمی اشتہاروں‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫کی بدولت اب یہ خدشہ نہیں رہا کہ کوئی شخص اپنا یا اپنے کسی دوست کا مکان صرف اس‬
‫لیے بھول جائے کہ پچھلی مرتبہ وہاں چارپائیوں کا اشتہار لگا ہوا تھا اور لوٹتے تک وہاں‬
‫اہالیان لہور کو تازہ اور سستے جوتوں کا مژدہ سنایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اب وثوق سے کہا‬
‫جاسکتا ہےکہ جہاں بحروف جلی "محمد علی دندان ساز" لکھا ہے وہ اخبار انقلب کا دفتر‬
‫ہے۔ جہاں "بجلی پانی بھاپ کا بڑا ہسپتال" لکھا ہے‪ ،‬وہاں ڈاکٹر اقبال رہتے ہیں۔ "خالص‬
‫گھی کی مٹھائی" امتیاز علی تاج کا مکان ہے۔ "کرشنا بیوٹی کریم" شالمار باغ کو‪ ،‬اور‬
‫"کھانسی کا مجرب نسخہ" جہانگیر کے مقبرے کو جاتا ہے۔‬

‫صنعت و حرفت‬

‫اشتہاروں کے علوہ لہور کی سب سےبڑی صنعت رسالہ بازی اور سب سے بڑی حرفت‬
‫ً‬
‫انجمن سازی ہے۔ ہر رسالے کا ہر نمبر عموما خاص نمبر ہوتا ہے۔ اور عام نمبر صرف خاص‬
‫خاص موقعوں پر شائع کئے جاتے ہیں۔ عام نمبر میں صرف ایڈیٹر کی تصویر اور خاص نمبروں‬
‫میں مس سلوچنا اور مس کجن کی تصاویر بھی دی جاتی ہے۔ اس سے ادب کو بہت فروغ‬
‫نصیب ہوتا ہے اور فن تنقید ترقی کرتا ہے۔‬
‫لہور کے ہر مربع انچ میں ایک انجمن موجود ہے۔ پریذیڈنٹ البتہ تھوڑے ہیں اس لیے فی‬
‫الحال صرف دو تین اصحاب ہی یہ اہم فرض ادا کر رہے ہیں چونکہ انجمنوں کے اغراض‬
‫ومقاصد مختلف ہیں اس لیے بسااوقات ایک ہی صدر صبح کسی مذہبی کانفرنس کا‬
‫افتتاح کرتا ہے۔ سہ پہر کو کسی سینما کی انجمن میں مس نغمہ جان کا تعارف کراتا ہے اور‬
‫شام کو کسی کرکٹ ٹیم کے ڈنر میں شامل ہوتا ہے۔ اس سے ان کا مطمح نظروسیع رہتا ہے۔‬
‫تقریر عام طور پر ایسی ہوتی ہے جو تینوں موقعوں پر کام آسکتی ہے۔ چنانچہ سامعین کو بہت‬
‫سہولت رہتی ہے۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫پیداوار‬

‫لہور کی سب سے مشہور پیداوار یہاں کے طلباء ہیں جو بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں اور‬
‫ہزاروں کی تعداد میں دساور کو بھیجے جاتے ہیں۔ فصل شروع سرما میں بوئی جاتی ہے۔ اور‬
‫ً‬
‫عموما اواخر بہار میں پک کر تیار ہوتی ہے۔‬
‫طلباء کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے چند مشہور ہیں‪ ،‬قسم اولی جمالی کہلتی ہے‪ ،‬یہ‬
‫طلباء عام طور پرپہلے درزیوں کے ہاں تیار ہوتے ہیں بعد ازاں دھوبی اور پھر نائی کے پاس‬
‫بھیجے جاتے ہیں۔ اور اس عمل کے بعد کسی ریستوران میں ان کی نمائش کی جاتی ہے۔‬
‫غروب آفتاب کے بعد کسی سینما یا سینما کے گردونواح میں‪:‬‬
‫رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں‬
‫ُ‬
‫ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے‬
‫شمعیں کئی ہوتی ہیں‪ ،‬لیکن سب کی تصاویر ایک البم میں جمع کرکے اپنےپاس رکھ‬
‫چھوڑتے ہیں‪ ،‬اور تعطیلت میں ایک ایک کو خط لکھتے رہتے ہیں۔ دوسری قسم جللی‬
‫طلباء کی ہے۔ ان کا شجرہ جلل الدین اکبر سے ملتا ہے‪ ،‬اس لیے ہندوستان کا تخت وتاج‬
‫ان کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ شام کے وقت چند مصاحبوں کو ساتھ لیے نکلتے ہیں اور‬
‫جودوسخا کے خم لنڈھاتے پھرتے ہیں۔ کالج کی خوارک انہیں راس نہیں آتی اس لیے ہوسٹل‬
‫میں فروکش نہیں ہوتے۔ تیسری قسم خیالی طلباء کی ہے۔ یہ اکثر روپ اور اخلق اور اداگون‬
‫اور جمہوریت پر باآواز بلند تبادلہ ٴ خیالت کرتے پائے جاتے ہیں اور آفرینش اور نفسیات‬
‫جنسی کے متعلق نئے نئے نظرئے پیش کرتے رہتے ہیں‪ ،‬صحت جسمانی کو ارتقائے انسانی‬
‫کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس لیے علی البصح پانچ چھ ڈنٹر پیلتے ہیں‪ ،‬اور شام کو‬
‫ہاسٹل کی چھت پر گہرح سانس لیتے ہیں‪ ،‬گاتے ضرور ہیں‪ ،‬لیکن اکثر بےسرے ہوتے ہیں۔‬
‫چھوتھی قسم خالی طلباء کی ہے۔ یہ طلباء کی خالص ترین قسم ہے۔ ان کا دامن کسی قسم‬
‫کی آلئش سے تر ہونے نہیں پاتا۔ کتابیں‪ ،‬امتحانات‪ ،‬مطالعہ اور اس قسم کے خرخشے کبھی‬
‫ان کی زندگی میں خلل انداز نہیں ہوتے۔ جس معصومیت کو ساتھ لے کر کالج میں پہنچتے‬
‫تھے‪ ،‬اسے آخر تک ملوث ہونے نہیں دیتے اورتعلیم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں میں اس‬
‫طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح بتیس دانتوں میں زبان رہتی ہے۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬
‫‪Electronic Version‬‬

‫پچھلے چند سالوں سے طلباء کی ایک اور قسم بھی دکھائی دینے لگی ہے‪ ،‬لیکن ان کو اچھی‬
‫طرح سے دیکھنے کےلیے محدب شیشے کا استعمال ضروری ہے‪ ،‬یہ وہ لوگ ہیں جنہیں‬
‫ریل کا ٹکٹ نصف قیمت پر ملتا ہے اور اگر چاہیں تو اپنی انا کے ساتھ زنانے ڈبے میں بھی‬
‫سفر کرسکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اب یونیورسٹی نے کالجوں پر شرط عائد کر دی ہے کہ‬
‫آئندہ صرف وہی لوگ پروفیسر مقرر کئے جائیں جو دودھ پلنے والے جانوروں میں سے ہوں۔‬

‫طبعی حالت‬

‫لہور کے لوگ بہت خوش طبع ہیں۔‬

‫سوالت‬
‫لہور تمہیں کیوں پسند ہے؟ مفصل لکھو۔‬
‫لہور کس نے دریافت کیا اور کیوں؟ اس کے لیے سزا بھی تجویز کرو۔‬
‫میونسپل کمیٹی کی شان میں ایک قصیدہ مدحیہ لکھو۔‬

‫‪moc.ilanamuon.www‬‬