‫ارشادات و فرمودات‬ ‫ٰ‬ ‫مصطفے خان رح‬ ‫حضرت ڈاکٹر غالم‬ ‫اﷲ پاک کا بے انتہا کرم ہے کہ اس نےاپنے بندوں

کی ہدایت کے لیے قرآن جیسی بابرکت کتاب اپنے حبیب محمد صلی اﷲ علیہ‬ ‫وسلم پر نازل فرمائی وہ ہدایت کا ذریعہ ہے‪ ،‬روشنی ہے۔ حق و باطل کا فیصلہ کرنے والی ہے شفا ہے‪ ،‬ذکر ہے ‪ ،‬نصیحت ہے‪،‬‬ ‫علم ہے‪ ،‬اور بکثرت علوم کا سر چشمہ ہے۔ بندوں کو خدا سے مالنے کا ذریعہ ہے۔ یہ کتاب جینے کے آداب سکھاتی ہے۔ مرنے‬ ‫کا طریقہ بتاتی ہے ۔ اﷲ تعالی کی رضاکے حصول کا راستہ دکھاتی ہے۔ دنیاوی و اخروی سعادت اور فوز و فالح کی ضامن ہے‬ ‫فیصلے کے خالف عمل کرتے ہیں‬ ‫امراض کے جدید ترین ماہرین بھی یہی مشورہ دیتے ہیں‬ ‫قرآن پاک و حدیث میں مفصل و مکمل موجود ہے‬

‫۔‬ ‫۔‬ ‫۔‬

‫ہم ذرا اپنے معامالت کا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ کن کن معامالت میں ہر روز ہم لوگ حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم کے‬ ‫نماز میں حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم کا طویل قیام‪ ،‬طویل رکوع اور طویل سجدہ بہت سی ورزشوں کا نعم البدل ہے۔ دل کے‬ ‫ہمارے آقا صلی اﷲ علیہ وسلم نے حق کی تبلیغ میں جو تکلیفیں اٹھائیں اور بنی نوع انسان نے جس طرح ان کے ساتھ برتاؤ کیا وہ‬

‫۔‬ ‫۔دوسرے کے فائدے اور آرام کو خود پر ترجیح دینا حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا طریقہ ہے‬ ‫۔انسان کا فرض ہے کہ وہ سب سے بڑے محسن انسانیت یعنی حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم کوپہچانے اور ان کا احسان مانے‬
‫گنہگار پر بھی لعنت نہ بھیجنا چاہیے کہ ممکن ہے اس کے دل میں خدا اور اس کے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت‬

‫۔‬ ‫۔اگر ہم آپ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے امتی ہیں تو دیکھیں کہ ہم کس کس حکم پر عمل کرتے ہیں اور کس پر نہیں کرتے‬
‫ہو‬ ‫تصور شیخ دراصل توسط شیخ ہے کہ مراقبہ میں یہ تصور کیا جائے کہ حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے فیض‪،‬‬

‫۔‬ ‫۔حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم کی شریعت پر زیادہ سے زیادہ چلنےکی کوشش کریں‬
‫میرے شیخ کے توسط سے آرہا ہے‬ ‫حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی ہماری معاشرتی زندگی کے لیے ( عین سائنس اور اصول صحت کے مطابق ) مفید‬ ‫اور ضروری ہے‬

‫۔‬

‫اﷲ ٰ‬ ‫تعالی کے حکم ماننے کو ایمان کہتے ہیں اور جو شخص اس کا حکم مانتا ہے وہ مومن کہالتا ہے‬

‫۔‬ ‫۔یقین اور اعتبار کرنے کے معنی میں بھی ایمان کا لفظ قرآن پاک میں آتا ہے‬ ‫۔اﷲ ٰ‬ ‫تعالی سے ڈرنے کے ٰ‬ ‫معنی یہ ہیں کہ انسان خود کو اپنی نفسانی خواہشات سے روکے‬ ‫۔اﷲ پر یقین رکھنے والی قوم کسی اور قوم یا کسی اور طاقت کے آگے نہیں جھک سکتی ہے‬ ‫۔‬ ‫۔اﷲ پاک کا وعدہ ہے کے وہ سنے گا‪ ،‬تو سنانے واال اور پیش کرنے واال بھی تو کوئی ہو‬
‫درخواست پیش نہ کریں گے تو کس طرح ہمارے کام بن سکتے ہیں‬

‫اﷲ پاک متقیوں اور اس سے ڈرنے والوں ہی کا عمل قبول فرماتا ہے۔ اس کی بارگاہ میں عاجزی اور انکساری سے اپنی‬

‫اﷲ پاک کے آگے سرتسلیم خم کرنا اور اپنے کاموں کو صرف اسی کی رضا کے لیے وقف کر دینا ایک مسلمان کا شیوہ ہونا‬ ‫چاہیے‬

‫۔‬

‫۔‬ ‫۔اﷲ کی راہ میں اور صرف اﷲ کی رضا کے لیے ہر سخت کوشی اختیار کرنا جہاد ہے‬
‫اﷲ پاک پر ایمان النا ہی سب سے بڑی ہدایت ہے‬ ‫اﷲ کی رسی کو مظبوط پکڑنے کے لیے بھی دشواریوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور سخت کوشی سے یہ دشواریاں رفع ہو جاتی‬ ‫ہیں۔‬ ‫اﷲتعالی کے حکم کے آگے چوں و چرا کے کوئی سواالت نہیں آسکتے اور اس کی راہ میں عقل کا نہیں عشق کا سہارا چاہیے‬

‫۔‬ ‫۔آپ کے لیے اﷲ تعالی سے بڑھ کر کوئی دوست نہیں ہوسکتا‬

‫اﷲ تعالی کے بعد ہی جس کا درجہ سب سے بلند ہے وہ انسان ہے اور سب سے افضل انسان حضرت محمد صلی اﷲعلیہ وسلم کی‬

‫۔‬ ‫۔ایک ایک نفس‪ ،‬ایک ایک سانس اﷲ کی رضا کے لئے صرف ہو تو سمجھئے کہ آپ نے اﷲ کو پہچانا ہے ورنہ نہیں پہچانا‬ ‫۔اﷲ اﷲ دل سے کرنے والے کو کسی اور وظیفے کی ضرورت نہیں۔ اﷲ سب سے بڑا ہے اس کا وظیفہ بھی سب سے افضل ہے‬ ‫۔اﷲ تعالی کو مالک سمجھتے ہوئے اپنے نفع نقصان سے بے نیاز ہونا بے شک اعلی قسم کا توکل ہے‬ ‫۔اگر اﷲ پاک کو منظور ہو تو کچھ مشکل نہیں سب کام ہو جاتا ہے‬ ‫۔اﷲ تعالی کی مرضی کے آگے کوئی کیا کر سکتا ہے اور اس کی مرضی سب سے زیادہ مفید ہے‬ ‫؟اﷲ پاک نے سب کو روزی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔پھر کسی اور سے کیوں مانگیں‬ ‫۔انسان اﷲتعالی کی یاد کو اس قدر خود پر غالب کرے کہ اس کا نفس اسے برائی کی طرف نہ لے جاسکے‬ ‫۔اﷲ تعالی کی یاد بھی اس کی نعمت کا ایک شکرانہ ہے‬
‫ذات گرامی ہے‪ ،‬اﷲتعالی نے انسان کو اتنا بڑا مرتبہ عطا فرمایا کہ اسے اپنا نائب بنالیا‬ ‫بندہ جب شکر ادا کرتا ہے تو اﷲ تعالی اسے اور دیتاہے‬ ‫پہنچا دیتی ہے۔ ( غور کرنے کی بات ہے‬

‫۔‬

‫۔'رب 'کے لفظ میں بڑی کشش ہے اور اس کے معنی وہ ذات باری ہے جو ہر چیزکو جسے اس نے پیدا کیا ہے‪ ،‬کمال کی حد تک‬

‫۔)‬ ‫۔اگر ہم اﷲ تعالی کا خوف اپنےدل میں پیدا کریں تو ہم سے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں ہوسکتا‬ ‫۔اﷲ تعالی کے احکام پر عمل کرنا اور غیر اﷲ کے احکام سے دور رہنا بھی اﷲ تعالی کا شکر ادا کرنے کا مترادف ہے‬ ‫۔اﷲ تعالی ہی جانتا ہےکہ کونسی چیز ہمارے لیے مفید ہے یا مضر ہے یا کون سے اسباب صحیح ہیں اور کون سے صحیح نہیں‬ ‫۔اﷲ تعالی مختلـف مکسچر ہم کو دیا کرتے ہیں تاکہ ہماری اصالح ہو اور ہماری برائیاں ختم ہوں‬ ‫۔بس اﷲ تعالی کی رحمت کو ہمیشہ مانگتے رہیں‪ ،‬صرف اسی کی رحمت سے آس لگا ئیں‬
‫اﷲ پاک اس قدد قدرت اور طاقت رکھنے کے باوجود معاف فرمادیتا ہے۔ ہم کو بھی چاہیے کہ قدرت رکھتے ہوئے بھی دوسروں‬ ‫کو معاف کر دیں‬

‫۔‬

‫۔‬ ‫۔اﷲ پاک کی رضا جوئی اور اس کے حکم کی تعمیل میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی غالمی کو قائم کرنا ٰ‬ ‫تقوی ہے‬
‫اگر ہماری فکر صحیح راہ پر ہو تو خشیت پیدا ہونا مشکل نہیں‬ ‫اسباب پر اعتماد نہ ہونا چاہئے بلکہ ہمیشہ مسبب االسباب پر اعتماد ہونا چاہیئے‪( ،‬اسباب ضرور تالش کرنا چاہیئے لیکن ان اسباب‬ ‫پر اعتماد نہیں کرنا چاہیئے‬

‫۔)۔‬ ‫؟‬ ‫۔‬

‫دنیا کا ہر سمجھدارانسان خود کو اشرف المخلوقات سمجھتا ہے اور ذرا سی دیر کے لیے یہ کہنے کو تیار نہیں کہ وہ نباتات‪،‬‬ ‫جمادات اور حیوانات میں سے کسی سے کم تر ہے۔ تو جب یہ حقیقت ہے تو پھر وہ کیوں غیر اﷲ کے آگے جھکتا ہے اور خود‬ ‫کی توہین کراتا ہے‬ ‫واقعی کس قدر محرومی اور بدنصیبی کی بات ہے کہ ہم اپنی زبان سے اﷲ تعالی کے وجود کا اقرار کرتے ہیں لیکن اپنے عمل‬ ‫سے اس کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے‬