You are on page 1of 8

‫اسلم اور دہشت گردی‬

‫دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہےجس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی‬
‫کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں‪،‬وہ دہشت گردی کہلتی ہے۔ دہشت گردی کو‬
‫قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الرض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے‬
‫اور بڑےمقا صد کےلئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے‬
‫اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔‬
‫یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلم دو متضاد چیزیں‬
‫ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے‪ ،‬اسی طرح دہشت گردی اور‬
‫اسلم کا ایک جگہ اور ایک ہونا‪ ،‬نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا جہاں دہشت گردی‬
‫ہو گی وہاں اسلم نہیں ہو گا اور جہاں اسلم ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو‬
‫گی۔‬
‫اسلم کے معنی ہیں سلمتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہین اور امن اور سلمتی کی‬
‫بات کرتے ہین۔ ‘ ہمارا دین ہمیں امن اور سلمتی کا درس دیتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں‬
‫کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلمتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بنسری‬
‫بجے۔ آ نحضرت صلعم دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔‬
‫یہ امر شک اور شبہے سے بال ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت‬
‫گردی ہے اور پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے‘ جس کی وجہ سے‬
‫پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی‬
‫کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان‬
‫میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دہشت گردی کے عمل کو‬
‫کسی بھی مذہب یا قوم کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔‬
‫اسلم امن وسلمتی کا دین ہے اور اس حد تک سلمتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے‬
‫والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں‬
‫کہ جن کے ساتھ اس کی جان ‪،‬مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔طالبان اور القائدہ‬
‫ت محمدی‬
‫دہشت گردوں کا ایک گروہ ہے جو اسلم کے نفاز کے نام پر اور شریع ت‬
‫کے نام پر‪ ،‬لوگوں کی املک جل رہا ہے اورقتل و غارت کا ارتکاب کر رہا ہے۔‬
‫کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں امن و امان قائم رکھنا اور‬
‫شہریوں کی جان و املک کی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔دہشت گرد‪ ،‬دہشت گردی‬
‫کے ذریعے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے اور شہریوں کے جان و‬
‫مال کو نقصان پہنچا کر خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں تاکہ حکو‬
‫مت کو دباو میں ل کرحکومت سےاپنے مطالبات منوا لیں۔‬
‫اسلم خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ‬
‫گمراہ گروہ اسلم کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلم‬
‫دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے‬
‫اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلم خواتین کا‬

‫احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ‪،‬عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے‬ ‫ہیں۔بچیوں کے اسکول جلتے ہیں۔‬ ‫کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلم میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل‬ ‫مذمت ہے‪ ،‬اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ‬ ‫بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔‬ ‫اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق‬ ‫ہیں۔ دہشت گردی کا اسلم سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلم‬ ‫میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور‬ ‫القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلم کے چہرے کو مسخ‬ ‫کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پپوری دنیا میں اسلم طاقت سے نہیں‪،‬بلکہ تبلیغ اور‬ ‫نیک سیرتی سے پھیلجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلم کا چہرہ مسخ‬ ‫کررہے ہیں۔‬ ‫مسلمان کی جان کا‬ ‫مسلمان دوسرے پ‬ ‫ملک میں ایک پ‬ ‫مسلم معاشرے اور پ‬ ‫ایک پ‬ ‫پدشمن ۔پمسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ‬ ‫کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔‬ ‫چند برسوں سے وطن عزیز پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔‬ ‫بے گناہ لوگوں کا قتل اور املک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔ الللہ کے فرامین‬ ‫کو پس پشت ڈال دیا جائے اور احکام قرانی کا اتباع نہ کیا جائےتو ایسے حالت‬ ‫پیدا ہو جاتے ہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں‪،‬‬ ‫یہ عذاب الہی کی ایک شکل ہے۔ اللہ تعالہ فرماتے ہیں‬ ‫جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد )پھیلنے کی سزا(‬ ‫کے بغیر‪ ،‬ناحق( قتل کر دیا تو گویا اس نے )معاشرے کے( تمام لوگوں کو قتل کر‬ ‫ڈال۔‘‘( المائدة‪32 : 5 ،‬‬ ‫کہو‪ ،‬وہ )اللہ( اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے‪ ،‬یا‬ ‫تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے‪ ،‬یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک‬ ‫گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔)سورۃ النعام (‬ ‫وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے‬ ‫جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے پاسکے‬ ‫لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔)سورۃ النساء(‬ ‫‪:‬رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا‬ ‫تم )مسلمانوں( کے خون‪ ،‬اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں‪ ،‬تاس دن‬ ‫)عرفہ(‪ ،‬اس شہر )ذوالحجۃ( اور اس شہر)مکہ( کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے‬ ‫تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔‬ .

‫مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔‬ ‫مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ‬ ‫بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔‬ ‫جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم‬ ‫میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے‬ ‫)اس لیے جہنم میں جائے گا( لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس‬ ‫نے اپنے )مسلمان( ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔‬ ‫مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک‬ ‫نہیں ہ ونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے‬ ‫کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلم کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ‬ ‫نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلم اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں‬ ‫لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلم کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا‬ ‫جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری‬ ‫ی نے فرمایا ہے۔‬ ‫انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعال ی‬ ‫جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلنے کے سوا کسی‬ ‫اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے‬ ‫کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔)المائدۃ(‬ ‫تمام اہل دانش اور علمائے کرام کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اسلم اور‬ ‫جہاد کے صحیح اسلمی عقیدے سے آگاہ کریں اور انہیں طالبان اور القائدہ کے‬ ‫ہاتھوں میں کھلونا بننے سے بچائیں جو نہ کسی حرمت کا لحاظ کر رہے ہیں نہ‬ ‫قرآن و حدیث کے واضح فرامین کا پاس رکھتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی ان‬ ‫نصوص پر غور کر کے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ پدشمنوں کے‬ ‫ہ اتھوں کھلونا بننے والوں کو بھی‪ ،‬اور جوش انتقام میں اندھا ہو جانے والوں کو‬ ‫بھی۔‬ ‫ہمیں روم کے نیرو کی طرح‪ ،‬بنسری بجاتے ہوئے اپنے ملک کو جلتا اور تباہ ہوتا‬ ‫نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ آ گے بڑہ کر مردانہ وار اسلم اور ملک کے دشمنوں کا‬ ‫مقابلہ کرنا چاہیے۔‬ .

‫دہشت گردی فارسی زبان کا لفظ ہے اس کے لیے عر بی میں ارہاب اور انگریزی‬ ‫دہشت گردکی تعبیر استعمال کی جاتی ہے۔دہشت گردی ‪ ’’””terrorism‬میں‬ ‫کیا ہے ؟ اقوام متحدہ نے اپنے اجلس مورخہ ‪۸۱‬۔ستمبر ‪۲۷۹۱‬ءسے لے کر ۔‪ ۷‬۔‬ ‫دسمبر ‪۷۸۹۱‬ءتک پندرہ سال دہشت گردی کی تعریف میں گزارے مگر دہشت‬ ‫گردی کی صحیح تعریف اور اس کے سیاسی انطباق پر اب تک اتفاق نہ ہو سکا ۔‬ ‫اسلمی نقطہ نظر سے دہشت گردی نام ہے بے قصور اور معصوم افراد پر ظلم‬ ‫و ستم کرنا اور ہر وہ عمل جو امن وآشتی اور چین و سکو ن کے خل ف ہو۔‬ ‫اسلم کیا ہے؟ اسلم عربی زبان کا لفظ ہے ‪،‬جس کا مادہ ”س ل م “ ترجمہ امن‬ ‫ہے۔سلم یسلم سلما و سلمة‪) ،‬یعنی حفاظت کر نا (امن و آ شتی کا پیغام دینا‬ ‫ی کیا جا سکتا ہے‬ ‫ہے۔اسلم اور دہشت گردی کا معنی بیان کر نے کے بعد یہ دعو ی‬ ‫کہ اسلم اور دہشت گردی دونوں باہم متضاد ہیں ‪،‬ان دونوں لفظوں کے مابین‬ ‫کسی بھی جہت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیو ں کہ اسلم ایک ایسی شئی ہے‬ ‫جس کے ہرہر گو شہ میں امن و سلمتی ہے جب کہ دہشت گردی میں سراسر‬ ‫ہولناکی وہیبت اورقتل اور خونریزی ہے۔‬ ‫دہ شت گردی جس میں ظلم و تعدی ‪،‬تشدد و عدوان اور انسانی حقوق پر دست‬ ‫درازی ہو تی ہے وہ قطعا جائز نہیں ‪ ،‬اس کے مر تکبین دنیا و آخرت ہر جگہ سزا‬ ‫کے مستحق ہے۔‬ ‫دہشت گردی کا مزاج اسلمی تعلیمات کے بالکل خلف ہے ‪ ،‬اسلم امن و‬ ‫سلمتی اور سکون کا مذہب ہے‪ ،‬کو ئی بھی ایسا عمل جو فتنہ اور فساد یا قتل‬ ‫و خونریزی کا ذریعہ ہو اسلم میں جا ئز نہیں ۔ بل وجہ کسی بھی ا نسان کی‬ ‫جان و مال یا عزت و آبرو پر ہاتھ ڈالنا خطرناک جر م ہے۔‬ ‫آج بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہو تے ہیں اور اسلم دہشت‬ ‫گردی کی تعلیم دیتا ہے ۔ انہیں معلوم ہو نا چا ہیے کہ اس کا حقیقت سے کو ئی‬ ‫واسطہ نہیں ہے‪،‬اس لیے کہ ہادی اسلم ‪ ،‬نبی رحمت ﷺکے ارشاد کے مطابق‬ ‫‪:‬مسلما ن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلما ن ‪،‬بلکہ روئے زمین‬ ‫‪ :‬کے تمام لو گ محفوظ و مامون ہوں ۔رسول اکرم ﷺارشاد فرما تے ہیں‬ ‫مسلمان وہ ہے جس کی زبان و ہاتھ سے تمام لو گ محفوظ و مامون ہوں اور‬ ‫مومن وہ ہے جس کے پاس لوگ اپنی جا ن و مال محفوظ سمجھیں۔‬ ‫انسان کے ساتھ رحمت و شفقت اور انسانی جا ن کی قدر و‬ ‫‪:‬قیمت‬ .

‫حضرات محترم!دین اسلم ہمیشہ ہر آدمی کے ساتھ رحم و کرم اور اچھا برتا ﺅ‬ ‫کر نے کا حکم دیتا ہے۔‬ ‫‪:‬چنانچہ رسول اکرم ﷺ ارشاد فرما تے ہیں‬ ‫ل یرحم ال ل یلہ من ل یرحم الناس۔ترجمہ‪:‬اللہ تعالی اس شخص پر رحم نہیں کر تاہے‬ ‫جو لو گوں رحم نہیں کرتا۔‬ ‫‪ :‬حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول اکرم ﷺ فر ماتے ہیں‬ ‫تم میں سے کو ئی اس وقت تک مو من ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھا‬ ‫ئی کے لیے بھی وہی نہ پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کر تا ہے۔‬ ‫اسلمی تعلیمات پر غور کریں‪ ،‬کہ اسلم اپنے ماننے والوں کو کس قدر فتنہ و‬ ‫فساد سے محفوظ و مامون رہنے کا درس دیتا ہے کہ اسلم اپنے بھائی کی طرف‬ ‫‪،‬ہتھیار سے اشارہ کرنے والے کو ملعون و مردود قرار دیتاہے‬ ‫‪:‬حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا‬ ‫جو شخص اپنے بھائی کی طرف کسی ہتھیار سے اشارہ کر تا ہے تو فرشتے اس‬ ‫پر اس وقت تک لعنت کر تے رہتے ہیںجب تک کہ وہ باز نہیں آجاتا‪،‬خواہ وہ اس کا‬ ‫حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو ۔‬ ‫وہ اسلم جو اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کر نے کی اجازت نہیں دیتا تو‬ ‫ہتھیار چلنے اور قتل و خون ریزی کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟اسی طرح آپ‬ ‫دیکھیںکہ اسلم خود کشی کر نے کو نا جائز و حرام اور گناہ کبیرہ قرار دیتاہے۔اللہ‬ ‫تعالی ارشاد فرماتاہے ‪:‬اور اپنی جانیں قتل نہ کرو ‪،‬بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔‬ ‫دوسری جگہ قرآن عظیم میں ہے‪ :‬اور اپنے ہاتھوں ہلکت میں نہ پڑو۔‬ ‫ان دونو ں آیتوں میں بڑے واضح انداز میں خود کشی سے منع کیا گیاہے۔لہذا عقل‬ ‫و خرد کو تعصب سے پاک و صاف رکھ کر سو چیں کہ وہ دین جس میں اپنے آپ‬ ‫کو ہلکت میں ڈالنا جائز نہیں تو دوسرے کو نقصان پہونچانا کیسے جائز ہو سکتا‬ ‫ہے ؟دوسرے کا خون بہانا کیسے جا ئز ہو سکتا ہے ؟اسلم میں انسانی جا ن کی‬ ‫قیمت یہ ہے کہ وہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتاہے۔‬ ‫‪ :‬جانوروں کے ساتھ رحمت و شفقت‬ .

‫اسلم جانورں کے ساتھ بھی رحمت و شفقت سے پیش آنے کی تلقین کرتا ہے۔‬ ‫چنانچہ ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ اس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا‬ ‫اور وہ بلی کو نہ کھا نے دیتی ‪،‬نہ پینے دیتی ‪،‬حتی کہ وہ بلی مر گئی ‪ ،‬اور حضور ﷺ‬ ‫نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایک شخص نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلیا ‪ ،‬لہذا اس‬ ‫عمل کی بنیاد پر اللہ نے اسے معاف کر دیا ‪ ،‬صحابہ کرام نے پو چھا یا رسول‬ ‫اللہﷺ !کیا ہ میں جانورں پر مہربانی کرنے پر بھی جزا ملے گی؟سرکا ر دوعالم ﷺ‬ ‫نے فر مایا کہ تمہیں ہر) ذی روح(جان دار کے ساتھ نیک برتاﺅ کرنے پر ثواب ملتا‬ ‫ہے۔‬ ‫مزید برآں مسلما نو ں کو حکم دیا گیا ہے کہ کسی جانور کو ذبح کر تے وقت اس‬ ‫طریقے سے ذبح کریں کہ جانور کو کم سے کم خوف اور تکلیف محسوس ہو۔نبی‬ ‫‪ :‬رحمت ﷺ ارشاد فر ماتے ہیں‬ ‫جب تم مو ذی جانور کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو ‪،‬اور جب جانور‬ ‫کو ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو‪ ،‬اور تم میں سے ذبح کرنے والے کو چاہیے کہ‬ ‫اپنی چھری تیز کر لے اوراپنے ذبح کیے جا نے والے جانور کو آرام پہونچائے۔‬ ‫وہ دین جو ذبح کے وقت بھی جانوروں کی تکلیف کو محسوس کر رہا ہے حتی کہ‬ ‫موذی جانور کو بھی اچھے طریقے سے قتل کر نے کا حکم دے رہا ہے‪،‬وہ بل وجہ‬ ‫قتل و غارت گیری کو کیسے برداشت کرسکتا ہے؟‬ ‫‪ :‬دشمنوں کے ساتھ رحمت و شفقت‬ ‫حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی‬ ‫غزوہ میں ایک عورت کو دیکھا کہ اسے قتل کر دیا گیا ہے ‪ ،‬تو آ پ نے صاف اور‬ ‫واضح انداز میں عورتوں اور بچوں کو قتل کر نے سے منع فر مادیا ۔اللہ کے‬ ‫رسول ﷺ نے )اپنے صحابہ کرام کو جنگ کے لیے روانہ کرتے وقت( ارشاد فر‬ ‫‪:‬مایا‬ ‫اللہ کا نام لے کر جاﺅ ‪،‬نہ کسی بوڑھے کی کو قتل کرنا‪،‬نہ کسی بچے کو قتل کر نا‬ ‫‪،‬نہ کسی نابا لغ کو قتل کرنا ‪،‬نہ کسی عورت کو قتل کرنا ‪،‬خیانت نہ کرنا ‪،‬سب‬ ‫لوگ مل کر مال غنیمت جمع کر نا اور اصلح کی کو شش کر نا اور احسان کر نا‬ ‫ی احسان کرنے والوں کو پسند فر ماتا ہے۔‬ ‫‪،‬بےشک اللہ تعال ی‬ ‫آپ نے دیکھا کہ میدان جنگ جہاں ہر انسان اپنے مخالف اور حریف کو مارنے اور‬ ‫قتل کرنے کی کو شش کر تا ہے۔لیکن واہ اسلم!تیری تعلیمات کو سلم ‪،‬کہ‬ ‫میدان جنگ میں بھی عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع کرتا ہے‪،‬چاہے وہ دشمن‬ ‫کے بچے اور عورتیں ہی کیوں نہ ہو۔‬ .

‫‪:‬اسلمی تعلیما ت اور دہشت گردی‬ ‫رسول اکرم ﷺنے فرمایا کہ جس نے کسی ذمی کافر کو اذیت پہنچائی ‪،‬تو میں‬ ‫اس کا مخالف ہوں اور جس کا میں مخالف ہو ںقیامت کے دن اس کی مخالفت‬ ‫ہو گی۔‬ ‫اسلم میں سختی اور تکلیف پہونچا نے کی اجازت نہیں ‪۰‬اسلم میں نہ ضرر ہے ‪۰‬‬ ‫نہ نقصان پہونچانا ہے ‪۰‬مجھے لو گوں سے نیک برتاﺅ کے لیے مبعوث کیا گیاہے‬ ‫‪۰‬زمین والوں پر رحم کرو ‪،‬اللہ تم پررحم کر ے گا۔‬ ‫دین اسلم کی تعلیمات و ہدایات میں انسانی زندگی کے لیے وہ بہترین رہنمائی‬ ‫ہے جو نہایت خوشگوار اور خوشحال ‪،‬پر امن و پر مسرت زندگی کی ضمانت‬ ‫ہے ‪،‬راستی و اشتی‪،‬سلمتی و عافیت‪،‬راحت و رحمت اور ہر فوز وفلح کی‬ ‫ضمانت ہے۔‬ ‫وہ اسلم‪،‬جو نماز کے لیے وضو میں مسواک پر زیادہ اجر سناتا ہے کہ منہ سے‬ ‫بدبوتک نہ آئے‪،‬تاکہ مسجد میں ساتھ کھڑے ہونے والے نمازی کو کراہت محسوس‬ ‫نہ ہو‪،‬وہ دین ‪،‬جو حلل جانور کو بھوکا پیاسا ذبح کرنے سے منع کرتا ہے‪،‬وہ دین‬ ‫‪،‬جو رہ گزر سے کانٹے دور کرنے پر ثواب بتاتا ہے‪،‬تاکہ چلنے والوں کو دشواری نہ‬ ‫ہ و‪،‬وہ دین‪،‬جو جانور کی جان محض تلف کرنے کے لیے شکار کو پسند نہیں کرتا‪،‬وہ‬ ‫دین‪،‬جو کسی کی عزت ‪،‬جان و مال کے ناحق معمولی سے نقصان کو گناہ بتاتا‬ ‫ہے‪،‬وہ دین‪،‬جو انسانی زندگی کی اتنی واضح اہمیت بیان کرتاہے کہ جس نے ایک‬ ‫جان بچائی‪،‬گویا اس نے تمام لوگوں کو بچا لیااور جس نے ناحق ایک جان کو‬ ‫مارا‪،‬گویااس نے تمام انسانوں کو مارا‪،‬اس پاکیزہ اور سلمتی والے دین سے‬ ‫دہشت گردی کا تصور ہر گز ہرگز وابستہ نہیں کیا جاسکتا ۔اسلم میں فی سبیل‬ ‫اللہ جہاد بہت اہم ہے‪،‬لیکن اسلم فتنہ و فساد نہیں ہے‪،‬بلکہ فتنہ کو ختم اور جڑ‬ ‫سے مٹانے کی بات کرتا ہے۔‬ ‫خود میرے آقا ﷺ کا یہ عالم ہے کہ مینڈک ٹررارہے ہیں‪،‬کچھ لوگ سوئے ہوئے‬ ‫ہیں‪،‬برسات کاموسم ہے‪،‬مینڈکوں کی آواز ان کی نیند کو خلل ڈال رہی ہے‪،‬ایک‬ ‫صاحب نے عزم بالجزم کیا ‪،‬کل میں ان مینڈکوں کو تالب سے صاف کردوں گا‪،‬تو‬ ‫اللہ کے رسول ﷺ تڑپ اٹھے اور کہا‪ :‬خبر دار! یہ مینڈک اپنے لہجے میں اللہ کی‬ ‫تسبیح کررہے ہیں‪،‬خبر دار! انھیں تکلیف نہ پہنچانا۔‬ ‫اللہ کے رسولﷺ کا قافلہ ایک جنگل سے گزر رہا ہے‪،‬جس درخت کے نیچے اللہ کے‬ ‫رسول ﷺ کے دیوانے ٹھہرے ہیں‪،‬اوپر پرندوں کے گھونسلے ہیں‪،‬جو بیٹ کرتے ہیں‬ ‫اور گندگی پھیلرہے ہیں‪،‬کچھ دیوانوں نے گھونسلوں کو بغیر سمجھے اجاڑ دیا‪،‬اللہ‬ ‫کے رسول ﷺ تڑپ اٹھے اور کہا‪ :‬خبر دار خبر دار! تم ان گھونسلوں کو اجاڑ رہے‬ .

‫ہو‪،‬یہ ان کے مکان ہیں‪،‬ڈرو ! کہیں اللہ ‪،‬جو ان کا بھی خالق اوررب ہے‪،‬تمھارے‬ ‫گھروں کو نہ اجاڑ دے۔‬ ‫اللہ کے رسول ‪،‬تاجدار دوعالم ﷺ ایک اونٹ پر اپنا دست شفقت پھیر رہے ہیں‪،‬اس‬ ‫کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے ہیں‪،‬آنسو صرف انسان کی خصوصیت نہیں‬ ‫ہے‪،‬تقاضاے ضبط محبت ہے آنسو‪،‬ہوا بند ہوگی‪،‬تو برسات ہوگی‪،‬جہاں کوئی غم‬ ‫ہ وگا‪،‬زخم ہوگا‪،‬درد ہوگا‪،‬وہاں برسات ہوگی‪،‬جب کوئی بھی تڑپے گا ‪،‬تو برسات‬ ‫ہوگی اور کبھی کبھی برسات ‪،‬جو آنکھوں کی ہوتی ہے‪،‬وہ اپنا حال دل کہنے‬ ‫میںزبان سے زیادہ طاقت ور ثابت ہوتی ہے۔‬ ‫اونٹ کی آنکھوں میں آنسو ہیں‪،‬حضور ﷺ اپنے دست کرم سے آنکھوں سے آنسو‬ ‫پونچھ رہے ہیں‪،‬کیا آپ نے دنیا کے کسی ایسے مصلح کو دیکھا ہے ‪،‬ایسے رہنما کو‬ ‫دیکھا ہے ‪،‬جو جانوروں کے آنسو پونچھ رہا ہو؟ یہ حضو ر رحمت عالم ﷺ اونٹ کے‬ ‫مالک کو بلتے ہیںاور کہتے ہیں کہ یہ اونٹ تمھاری شکایت کررہا ہے کہ جب یہ‬ ‫جوان تھا‪،‬تو بوجھ لدتے تھے اور کھانا بھی دیتے تھے‪،‬اب بوڑھا ہوگیا ہے‪،‬تو بوجھ‬ ‫لدنے کے قابل نہیں ‪،‬تم نے کھانا بھی بند کردیاہے ‪،‬تمھیں بھی بڑھاپا آنا ہے‪،‬اپنے‬ ‫بڑھاپے سے ڈرو‪،‬اسے پوری خوراک فراہم کرو‪،‬آج کے بعد میں اس جانور کی‬ ‫آنکھوں میں بھی آنسو نہیں دیکھ سکتا۔جو پیغمبر جانوروں کی آنکھوں کے آنسو‬ ‫نہ دیکھ سکے ‪،‬اس پیغمبر کے ماننے والے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مارے جانے‬ ‫والے لوگوں کی بیویوں ‪،‬بہنوں اور بیٹیوں کی آنکھوں میں آنسو کیسے دیکھ‬ ‫سکتے ہیں؟‬ .