‫ادبی ج ئزے‬

‫مقصود حسنی‬

‫ابوزر برقی کت خ نہ‬
‫م رچ‬
‫‪-‬‬ ‫اف‬ ‫کرشن چندر کی سوچ ک‬
‫رفی احمد نقش‪ :‬افس نوی کردار' مث لی ادی ‪ -‬ایک ج ئزہ ‪-‬‬
‫رنگ‪ ......‬ایک ج ئزہ ‪-‬‬ ‫خوش بو میں نہ ت‬
‫‪-‬‬ ‫پنج بی کال ک اردو ک‬ ‫حضرت س ئیں سچل سر مست ک‬
‫تن ظر میں مط ل ہ‬
‫تن ظر میں لس نی تی ‪-‬‬ ‫ب ب فرید کی ش ری زب ن ک ' اردو ک‬
‫مط ل ہ‬
‫اردو اور دیگر زب نوں ک لس نی تی اشتراک ‪-‬‬
‫‪-‬‬ ‫ب وچی کال ک لس نی تی‬ ‫اردو اور س دی ب وچست ن ک‬
‫اشتراک‬
‫ف رسی کال ک ‪-‬‬ ‫اردو ک تن ظر میں حضرت بوع ی ق ندر ک‬
‫لس نی تی مط ل ہ‬
‫حضرت خواجہ م ین الدین چشتی کی ف رسی ش عری اور اردو زب ن‪-‬‬
‫حضرت امیر خسرو ک ایک گیت اور جدید گ ئیکی‪-‬‬
‫‪-‬‬ ‫ایک قدی ی د گ ر ب رہ ام‬
‫حدود ایک ج ئزہ ‪-‬‬ ‫س ختی ت اور اس ک‬
‫ب راں م ہ غال حضور ش ہ ‪-‬‬
‫شجرہ ق دریہ ۔۔۔۔۔ ایک ج ئزہ ‪-‬‬
‫اف‬ ‫کرشن چندر کی سوچ ک‬

‫کرشن چندر بیسویں صدی ک بڑا قد آور افس نہ نگ ر ہ ۔‬
‫شخصیت کی طرح اس کی ادبی خدم ت بھی ق بل تحسین ہیں۔‬
‫اس ن زندگی کی ت خ اور کٹھور حقیقتوں کو قرط س فن پر‬
‫رکھت خو صورت اور مط بقتی زب ن ک انتخ کی ہ ۔ جو‬
‫چیز جتن اور جس قدر قری ہو گی وہ اتنی ہی کشش آور ہو گی۔‬
‫زندگی س انتہ ئی قری رہن ک ب عث کرشن چندر کو ہر‬
‫طبقہءفکر ک لوگوں س م ن ک موقع مال۔ یہ ہی وجہ ہ کہ‬
‫اس ن اپن افس نوں میں ہر طبقہ ک لوگوں کو جگہ دی ہ‬
‫اور ان ہی س داد وتحسین وصول کی ہ ۔ اس ن ن زک اور‬
‫حس س آبگینوں کو بڑی مہ رت اور س یقہ س چھیڑا ہ ۔ اس‬
‫ک کرداروں میں ق ری کو اپنی شخصیت کی پررچھ ئی نظر آتی‬
‫ہ ۔ اتنی اوریجنل فوٹوگرافی اس ل ظوں ک مصور بن دیتی ہ ۔‬
‫کرشن چندر انس نی ن سی ت س خو خو آگ ہ ہ ۔ وہ دل کی‬
‫دھڑکنوں تک کو گنن کی مہ رت رکھت ہ ۔ بدلت ح الت اور‬
‫بدلتی ذہنیت ک مط ل ہ کرن پر مہ رت رکھت ہ ۔ وہ م مولی‬
‫اورغیرمحسوس تبدی ی کو بھی نظروں س اوجھل ہون نہیں‬
‫دیت ۔ اس ک مش ہدے کی خوردبین بڑی ک رکش ہ ۔ یہ ہی‬
‫سچ ' کھرے اور بڑے فن ک ر کی پہچ ن ہوتی ہ ۔ وہ بدلت‬
‫ح الت بدلتی قدروں اور بدلت رویوں کی ج نچ کر لیت ہ ۔ ایسی‬
‫گ‬ ‫صورت میں جو کچھ بھی ق اور برش کی گرفت میں آئ‬
‫سچ اور ہو بو ہو گ ۔ م م کو ج نن ک لی قی فیہ ی‬
‫م روضہ ہی ک فی نہیں ہوت ۔ اس ک لی م م کی جڑ کی‬
‫مٹی تک ج ن پڑت ہ ۔ اندازے اور قی ف مخمصوں ک دروزے‬
‫کھولت ہیں۔ انہیں کسی بھی صورت میں سچ ئی اور حقیقت ک‬
‫درجہ نہیں دی ج سکت ۔‬
‫کرشن چندر ک کردار قی ف ی اندازے س تشکیل نہیں پ ئ ۔‬
‫وہ گ ی ب زار اور گھروں میں چ ت پھرت نظر آت ہیں۔ اس‬
‫ک ہ ں ہر طبق ک کردار دیکھن کو م ت ہیں۔ مخت ف‬
‫نوعیت ک سوچ پر گرفت حیرت انگیز عمل ہ ۔ اس ک کہن ہ ۔‬
‫انس ن کی ذہنی کی یتیں سمندر ک مدوجزر کی طرح دل ک‬
‫س حل پر اترتی ہیں اور عموم یہ مبہ سی تصویروں ک‬
‫دوسرے ری میں یوں فن ہو ج تی ہی کہ پھر ان ک ن و نش ن‬
‫بھی نہیں پ سکت ۔ ی پھر نئ نقوش اپنی تزئین امتزاج س‬
‫نئی جم لی تی کی یتیں کر دی ک آغوش میں اس س حل کی ریت‬
‫ک ہر ذرہ ہ کی ۔ اس س پہ بھی زندگی تھی ی یہ نغمہ‬
‫اضط ری ل ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ب ض نقوش اس قدر ن پیدار اورمبہ‬
‫نہیں ہوت اور س حل حی ت پر ایسی تصویریں کھینچ دیت ہیں‬
‫جو مدت تک ق ئ رہتی ہیں۔‬
‫یہ پیرہ نثر لطیف ک درج پر ف ئز ہ ۔ کرشن چندر ن اس‬
‫پیرے میں لطیف ن پیدار اور مکمل کی یتوں ک بڑی خو صورتی‬
‫س ذکر کی ہ ۔ اس س یہ حقیقت کھل ج تی ہ کہ وہ لطیف‬
‫کی یتوں اور جذبوں پر بھی گہری نظر رکھت ہیں۔ اگرچہ‬
‫کی یتیں م دی وجود س م ورا ہوتی ہیں لیکن کرشن چندر کی‬
‫نظریں ان کی ب ریک ریکھ ؤں تک چ ی ج تی ہیں اور وہ انہیں‬
‫ل ظوں ک کیمرے میں مح وظ کر لیت ہ ۔‬
‫جس طرح زندگی دکھ سکھ محبت اور محبت ک آمیزہ ہ اسی‬
‫طرح کرشن چندر ک افس ن زندگی ک مخت ف رنگوں ک گل‬
‫دستہ ہیں۔ اس گل دست میں ک نٹ بھی ہیں۔ اس آمیزے س‬
‫ہر رنگ الگ کرن آس ن نہیں۔ س دھو ی حکی کی س وف میں کی‬
‫کچھ ہ ج نن آس ن ک نہیں۔ ب لکل اسی طرح زندگی ک آمیزے‬
‫س ان ح لتوں کو الگ کرن آس ن ک نہیں۔ کرشن چندر کو یہ‬
‫کم ل ح صل ہ کہ وہ انہیں الگ الگ کرک اپن افس نوں میں‬
‫کم ل مہ رت س پیش کرت ہ ۔‬
‫‪1973‬‬
‫رفی احمد نقش‪ :‬افس نوی کردار' مث لی ادی ‪ -‬ایک ج ئزہ‬

‫ب دش ہ سیٹھ اور ان ک جدی پشتی کنقری ' ط شدہ بڑی‬
‫مخ و ہوتی ہ ۔ اسی طرح ان ک بچ خالئی مخ و ہوت‬
‫ہیں۔ ضرورت' ح الت ی ح دث تی کنکبوتی بھی ت ریخ و اد میں‬
‫بڑے ٹھہرت ہیں۔ گوی ان ک بڑا ہون پہ س ط شدہ ہ ۔‬
‫کسی بھی شدہ پر کال کی گنج ئش نہیں ہوتی' کیوں کہ ان کی‬
‫حیثیت پہ س سمجھی سمجھ ئی ہوتی ہ ۔ چوری خور‬
‫مورکھ بھی ان ک ن وہ کچھ لکھ ج ت ہ ' جس ک انہوں ن‬
‫خوا تک نہیں دیکھ ہوت ی اس نوع ک خوا سوچن کی بھی‬
‫گست خی نہیں کی ہوتی۔ اگر اچھ ئی کی سوچ' ان ک قری س‬
‫بھی گزر ج ئ ' تو جدی پشتی بڑوں کی صف س ہی نک ل ب ہر‬
‫کی ج ئیں۔ ی یوں کہہ لیں' اچھ ئی ان ک لی ریورس ک‬
‫دروازے کھول سکتی ہ ۔‬
‫ن ن جدی پشتی بڑے' ضروری نہیں' بڑے شہروں مح وں ی‬
‫بنگ وں میں جن لیں۔ وہ اپنی کوشش' زہ نت' سچی لگن اور جہد‬
‫مس سل ک بل پر' بڑے قرار پ ت ہیں۔ انہیں زندگی ک ہر موڑ‬
‫پر' تندی ب د مخ لف س نبردآزم ہون پڑت ہ ۔ ان کی ٹ نگیں‬
‫کھنچن وال ' اطراف میں موجود رہت ہیں۔ اس کھنچو کھنچی‬
‫میں' ان ک قد بڑھت ہی چال ج ت ہ ۔ هللا ان کی محنت اور خ وص‬
‫نیتی کو' برکت عط فرم ت ہ ۔ وہ کسی سرک ری' سیٹھی ی ش ہی‬
‫گم شت ک ' ن خواندہ اعزاز و اکرا ک محت ج نہیں رہت ۔‬
‫اصل حقیقت یہ بھی ہ ' کہ زمین ک کسی وڈیرے کی عط ئی‬
‫برکی' ان کی فکری اپروچ ک لی ' س ق تل س ک نہیں ہوتی۔‬
‫سرک ری برکی ن ' فردوسی کو عوامی نم ئندہ نہ رہن دی ۔ اس‬
‫ک کہ کو' اس عہد کی ش ہی ج ہ و حش ک گواہ قرار دی ج‬
‫سکت ہ ۔ اس عوا ک دکھ سکھ ک شہ دتی قرار دین ' اس کی‬
‫عظمت پر ک لک م ن ک مترادف ہو گ ۔‬
‫رفی احمد نقش ک شم ر ان لوگوں میں ہوت ہ ' جو جھونپڑوں‬
‫س اٹھ کر بھوک و پی س ک اژدھوں س ' نبردآزم ہوت‬
‫ہوئ ' محنت اور مشقت کی پرخ ر وادیوں س گزرت ' شن خت‬
‫ک ج وہ کدوں میں اپنی اق مت ک س م ن کرت ہیں۔ محل‬
‫من رے' آج کی ش ن ہوت ہیں اور کل ک کھنڈرات۔ کت ب‬
‫ن صرف وہ ں بسیرا کرت ہیں' بل کہ وہ ان کی غالظت گ ہ بھی‬
‫ٹھہرت ہیں۔ آت وقتوں میں ان ک لی مرک ۔۔۔۔۔ سن ہ ۔۔۔۔۔۔‬
‫است م ل میں آت ہ ۔ ان کی شخصی پہچ ن خت ہو ج تی ہ ۔‬
‫رفی احمد نقش ن ' جس بستی میں بسیرا کی وہ ں کی شن خت'‬
‫گ رے چون س بنی عم رتیں نہیں ہیں بل کہ اس عہد' اس‬
‫عہد ک لوگوں اور ان ک م مالت س مت شہ دتیں ہوتی‬
‫ہیں۔ ل ظوں س ت میر ہون وال یہ پیکر' حرفکر کی شن خت‬
‫ہوت ہیں۔ ان ک س من ت ج محل اور نور محل سی خون خور‬
‫عم رتیں' شرمندگی کی عالمت بنی ہوتی ہیں۔‬
‫اس ذیل میں رفی احمد نقش ک یہ ش ر مالحظہ ہو‪:‬‬
‫درخت ا ک‬ ‫بہ ر میں جو گرائ‬
‫کئی ن س تھ س تھ ان پر‬ ‫تھ‬ ‫کھدے ہوئ‬
‫درخت چھ ؤں آکسیجن اور ہری لی فراہ کرت ہیں۔ یہ ح دث تی‬
‫طور گرے نہیں' بل کہ گرائ گئ ہیں۔ ل ظ درخت ک عالمتی‬
‫است م ل' بڑی گری ت ہی ک تق ض کرتی ہ ۔‬
‫ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش' ک اردو ک ب دار مغز اہل ق میں‬
‫شم ر ہوت ہ ۔ س س بڑی ب ت یہ کہ وہ ش ہ ی ش ہ ک‬
‫کنکبوتیوں س ' دور ک شخص ہیں۔ وہ ک اور ک پر یقین‬
‫رکھن والوں میں س ہیں۔ میری اس ب ت ثبوت کت‬
‫۔۔۔۔۔۔ رفی احمد نقش‪ :‬افس نوی کردار' مث لی کردار۔۔۔۔۔۔‬
‫ہ اس کت کو دیکھت اور پڑھت ہوئ ' اندازہ ہوت ہ ' کہ‬
‫بندے ن ک کی ہ اور ج ن م ری ہ ۔ انہوں ن ' کت کو‬
‫بڑے س یق اور ہنرمندی س مخت ف حصوں میں تقسی کی‬
‫ہ ۔‬
‫کت ک آغ ز ن ت و سال س کی گی ہ ۔ یہ دونوں رفی احمد‬
‫نقش ک ق ک نتیجہ ہیں۔ عقیدت احتر اور آق کری س محبت'‬
‫اپنی جگہ لس نی تی اعتب ر س بھی' یہ دونوں ق پ رے کچھ ک‬
‫نہیں ہیں۔ نمونہ ک فقط ایک ش ر مالحظہ ہو۔ اس ایک ش رس '‬
‫کہ وہ زب ن پر کس سطع کی دسترس رکھت‬ ‫اندازہ ہو ج ت ہ‬
‫تھ ۔‬
‫ق بل‬ ‫تق ید ک‬ ‫ہر طرح س‬ ‫اسی کی ذات ہ‬
‫وہی خ وت گزیں بھی ہ‬ ‫کہ وہ مح ل نشیں بھی ہ‬
‫تکرار حرفی و تکرار ل ظی ک س تھ دو مرکب ت' مصرع ث نی‬
‫میں دو ہ صوت ل ظوں ک است م ل' ج کہ صن ت تض د ک کم ل‬
‫خوبی س است م ل کی گی ۔ صرف اس ایک ش ر س ' اس امر‬
‫ک ب خوبی اندازہ کی ج سکت ہ ' کہ مرحو اردو زب ن اور اس‬
‫کی جڑوں س کتن اور کس قدر قری تھ ۔‬
‫پہال حصہ رفی احمد نقش کی حی ت اور ی دوں س مت ہ ۔‬
‫اس میں ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش سمیت' اکتیس جید اہل ق کی‬
‫تحریریں ش مل ہیں۔ انہیں پڑھ کر' رفی احمد نقش کی حی ت اور‬
‫ع دات و اطوار س مت ' بہت سی م وم ت' دستی ت ہو سکتی‬
‫ہیں۔ ان تحریروں کی حصولی' جمع بندی اور ترتی ک لی‬
‫انہوں ن ' بالشبہ بڑی محنت اور خ وص نیتی س ک لی ہ ۔‬
‫اس حوالہ س ' ان کی تحسین نہ کرن زی دتی ک مترادف ہو گ ۔‬
‫چند اک اقتب س ب طور نمونہ مالحظہ ہوں۔ ان مختصر ٹکڑوں‬
‫ک مط ل ہ س ' رفی نقش کی شخصیت ک بہت س پہ و'‬
‫بالتک ف اور لگی لپٹی س ب ال س من آ ج ئیں گ ۔‬
‫رفی احمد نقش ن‬
‫پندرہ م رچ ‪ 1959‬کو میرپور خ ص میں جن لی ۔ ص‪13 :‬‬
‫اردو زب ن و اد اور ہم ری اعال اقدار ک یہ روشن ست رہ اپنی‬
‫روشنی س لوگوں ک ق و واذہ ن منور کرک ‪ 15‬مئی ‪2013‬‬
‫کو دائمی ابر آلودگی میں چھپ گی ۔ ص‪16 :‬‬
‫اردو اد ک حوال س رفی نقش ک بیش تر ک ش عری'‬
‫ترجم ' تنقیدی و تحقیقی مض مین' فنی تدوین اور ادارت س‬
‫مت ہ ۔‬
‫سوانح نقش پر ایک نظر از ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ص ‪16‬‬
‫وہ بڑے ص ف گو ب کہ منہ پھٹ آدمی تھ ۔ لگی لپٹی ہرگز نہیں‬
‫رکھت تھ ۔ زم نہ س زی انہیں ہرگز نہیں آتی تھی۔‬
‫نہ از دل م از ڈاکٹر یونس حسنی ص‪17 :‬‬ ‫رفتید ول‬
‫ہیں۔‬ ‫ب د آپ کی محسوس کرت‬ ‫سوال‪ :‬رفی نقش کی موت ک‬
‫جوا ‪ :‬اردو ک بہت بڑا نقص ن ہوا ہ ۔ لوگوں کو اس ک احس س‬
‫نہیں ہ ۔ یہ میں ج نت ہوں۔ وہ لس نی ت ک آدمی تھ ۔ مجھ‬
‫ج کسی ل ظ ک ب رے میں م و کرن ہوت تو میں فون کرک‬
‫پوچھت تھ کہ است د یہ ل ظ کس طرح ہ ۔ وہ بت دی کرت تھ ۔‬
‫گ تگو' ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ص‪23 :‬‬ ‫شکیل ع دل زادہ س‬
‫رات گئ اچ نک کوئی خی ل آت ی کسی کت ک سرا م ت تو ان‬
‫حضرات س بالتک ف تب دلہءخی ل کرت اور کبھی ان ک لہج‬
‫میں ن گواری ک ت ثر محسوس نہیں ہوا۔‬
‫دو درویش از سید ج م ی ص‪29 :‬‬
‫وہ اکثر اتوار کو ریگل اور فریئر ب ل پرانی کت بیں خریدن ک‬
‫لی ج ت تھ ۔ کت بوں س انھیں جنون کی حد تک شو تھ ۔‬
‫ان کی ذاتی الئبریری میں دس ہزار س زی دہ کت بیں اور رس ل‬
‫ہ ی ں۔‬
‫رفی احمد نقش ازایک من رد شخص ص‪35 :‬‬
‫اپن رفی ن تم عمر' اپنی انوکھی' من رد اور یکت وسیع‬
‫شخصیت کو جس ل ظ میں قید کرن پر صرف کر دی' وہ ل ظ‬
‫تھ اصول۔‬
‫نہ از دل م از ی قو خ ور ص‪38 :‬‬ ‫رفتید ول‬
‫رفی احمد نقش کت بوں ک تح ہ دین ک م م ہ میں بڑے فراخ‬
‫دل تھ ۔ وہ اپن دوستوں کو اد میں ہر وقت ف ل دیکھن پسند‬
‫کرت تھ ۔‬
‫پیرہن از بشیر عنوان ص‪55 :‬‬ ‫ک غذی ہ‬
‫رفی فل کمٹ منٹ ک آدمی تھ ۔ ایک اچھ ط ل ع اور‬
‫ایک اچھ است د' وہ ن صرف اپنی تدریسی ذمہ داری ں بڑی تن‬
‫دہی س نبھ ت ب کہ است دوں کی فالح ک لی ک کرن والی‬
‫تنظیموں س بھرپور ت ون کرت ۔‬
‫رفی ' رفی احمد نقش از کرن سنکھ ص‪61 :‬‬ ‫رفیقوں ک‬
‫میں ن اپنی س ری زندگی میں ص ف گوئی میں رفی ک کوئی ہ‬
‫سر نہیں دیکھ ۔ برجستگی اس ک وسیع مط ل کی مرہون‬
‫منت تھی' ج کہ ح گوئی اس ک سچ اور صرف سچ پر‬
‫مکمل ایم ن ک ثبوت تھی۔‬
‫رفی احمد نقش کی ص ف گوئی اور برجستگی از ڈاکٹر نصیر‬
‫احمد ن صر ص‪63 :‬‬
‫رفی کی زندگی میں جتنی بھی عورتیں آئیں وہ ی تو خوش فہ‬
‫تھیں ی غ ط فہمی ک شک ر ہوئیں۔ رفی ن اگر کسی س اچھ‬
‫برت ؤ کی تو غ ط م نی اخذ کر لین یقین ب وقوفی تھی اور ہ ۔‬
‫جس طرح میری کوئی بھی ب ت رفی س پوشیدہ نہ تھی' اسی‬
‫طرح انہوں ن ہر چھوٹی بڑی ب ت س ب خبر رکھ ۔ یہ رفی کی‬
‫عظمت تھی کہ انھوں ن کبھی میری بڑی س بڑی بھول پر‬
‫بھی مجھ ط نہ نہ دی ' نہ خود س دور رکھ ۔ آفرین ہ اس‬
‫شخص پر' بہت بڑے حوص واال تھ ۔‬
‫ہر چند کہیں کہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔ از زکیہ س ط نہ ص‪73 :‬‬
‫مس سل مط ل ہ' ع کی پی س' دوسروں کو ع ب نٹن ‪ .‬اصول‬
‫پسندی اور اجتم عی سم جی خدمت جیسی خوبیوں ن رفی‬
‫احمد نقش کو ع و اد ک حقیقی است د بن دی تھ ۔‬
‫میرا دوست رفی احمد نقش از احمد س ید ق ئ خ نی ص‪:‬‬
‫وہ ب لوث' پرخ وص اور ہ درد انس ن تھ ۔ وہ حقیقی طور پر‬
‫مولوی عبدالح ک ج نشین نہیں تو اس ک رواں ک ایک فرد‬
‫ضرور تھ ۔‬
‫کچھ ی دیں از ڈاکٹر ممت ز عمر ص‪81 :‬‬
‫ب یک بورڈ پر روزانہ بہت خو صورت' اش ر لکھ کرت تھ ۔‬
‫اس کی لکھ ئی بھی بہت خو صورت تھی۔ وہ اکثر میرپور‬
‫خ ص س حیدرآب د آت تھ اور س رے رست کچھ ن کچھ پڑھت‬
‫ہوا ہی آت تھ ۔ کت س اس کی محبت ک اندازہ مجھ اس وقت‬
‫ہو گی تھ ۔ وہ ہم را جونیر تھ ۔‬
‫از ع ت ب نو ص‪82 :‬‬ ‫جھروک‬ ‫م ضی ک‬
‫رفی احمد نقش س بہت سی ب توں پر اختالف ہون ممکن ہ ۔‬
‫ان س کچھ شک یتوں ک ہون سمجھ میں آت ہ ۔ ان س ن راض‬
‫ہون کی کئی وجوہ میں یقین م قولیت ہ ' لیکن ان س ک‬
‫ب وجود ہ اس لی ان کی قدر کرت ہیں' ان ک ذکر کرت ہیں'‬
‫ان کی مث ل دیت ہیں کہ وہ کئی روائتوں ک امین تھ ۔ انھوں‬
‫ن ان کی خدمت کی' ان کی ح ظت کی ہ ۔ ان ک وق ر ک‬
‫لی قرب نی ں دی ہیں۔ ان میں س ایک روایت پ بندی وقت ہ ۔‬
‫پ س دار از حسن غزالی ص‪17 :‬‬
‫نقش ایک کھ ی کت تھ ۔ جس ہر شخص پڑھ سکت تھ ۔ ایک‬
‫چشمہءرواں تھ ' جس س ہر ایک بقدر ظرف سیرا ہو سکت‬
‫تھ ۔ وہ محبتوں ک س یر تھ اور ش قت' دری دلی' سچ ئی خ وص‬
‫اور ہ دردی اس ک م تبر حوالہ تھیں۔‬
‫از مجید ارشد ص‪116 :‬‬ ‫دل پہ نقش تری محبت ک نقش ہ‬
‫رفی نقش کو بس اس قدر سمجھ ' آدمی ک مشین تھ ۔‬ ‫میں ن‬
‫دید و ب زدید از س ی اقب ل ص‪91 :‬‬
‫رفی نقش ایک پرخ وص اور محبت بھرا دل رکھن وال‬
‫انس ن تھ ' پھر ان کی ع می ق ب یت ن ان کو مزید م تبر بن‬
‫دی ۔‬
‫آہ! رفی احمد نقش از افروزہ خضر ص‪92 :‬‬
‫رفی بھ ئی ایک ایس شخص ک ن ہ جو مس سل کسی‬
‫نقط ' کسی ع می و ادبی اصطالح' کوئی سم جی پہ و' کسی‬
‫ش ر کی ت ہی اور اس قس ک م مالت میں غور و فکر کرت‬
‫دکھ ئی دیں گ ۔ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھن سکھ ن کی‬
‫جستجو میں رہت تھ ۔‬
‫کہ ں مستقل قی از نوید سروش ص‪95 :‬‬ ‫اک سرائ‬ ‫دنی ہ‬
‫رفی ص ح طنزومزاح ک ایک خ ص ذو رکھت تھ ۔ ج‬
‫کبھی موڈ میں ہوت تو خو لطی سن ت ۔ انھینب شم ر‬
‫لط ئف از بر تھ ۔ آپ ج گ تگو کرت تو مح ل کشت زع ران‬
‫بن ج تی۔ رنجیدہ ہون ' ان ک ہ ں ممنوع تھ ' وہ کسی کو دکھی‬
‫کو اپن مسگہ‬ ‫مس‬ ‫نہیندیکھ سکت تھ ۔ ہر کسی ک‬
‫سمجھت اور ہر ممکن مدد کرت ۔‬
‫س ک رفی از ص بر عدن نی ص‪125 :‬‬
‫کہ‬ ‫وہ کہ کرت تھ کہ ہمیں حتی المقدور کوشش کرنی چ ہی‬
‫اردو بولیں تو تم گ تگو اردو ہی میں ہو‬
‫۔ انگریزی ک غیر ضروری ال ظ ک است م ل س احتزاز‬
‫کریں۔ اسی طرح اگر انگریزی میں ب ت کی ج رہی ہو تو پھر‬
‫تم گ تگو انگریزی ہی میں ہو۔ آدھ تیتر آدھ بٹیر والی ب ت نہ‬
‫ہو۔‬
‫رفی اردو۔۔۔۔ رفی نقش از شکیل احمد بھوج ص‪132 '131 :‬‬
‫انھوں ن ت د مرگ طبق تی فر کو نہ صرف رد کی ب کہ اس ک‬
‫عم ی ثبوت بھی فراہ کی ۔‬
‫رفی احمد نقش; چند ت ثرات از ع بد ع ی ص‪137 :‬‬
‫رفی احمد نقش کی زندگی ک کئی پہ و تھ ۔ مراس ک خی ل‬
‫رکھن وال ' روایت پرست اور مذہ کی اعال روای ت ک پ س‬
‫رکھن وال ۔‬
‫کچھ ی دیں نقش ہیں از عزیز احمد ص‪140 :‬‬
‫وہ جس انداز س ع کو فرو دے رہ تھ ' کسی کو کت‬
‫فراہ کر رہ ہیں' کسی کو کت بوں کی فوٹو ک پی کرا ک ع می‬
‫ڈسٹری‬ ‫ہیں۔ ایس لگت تھ کہ ع و اد ک‬ ‫م ونت کر رہ‬
‫بیوٹر ہیں۔‬
‫عظی محسن از رئیسہ شریف ص‪142 :‬‬
‫مترادف‬ ‫ک‬ ‫ان کی ایک مالق ت واق ت ڈھیروں کت بیں پڑھن‬
‫تھی۔‬
‫ایک نقش خ ص از ع ز رحم ن ص‪144 :‬‬
‫بھ ئی ج ن ک عمری میں مذہبی بھی رہ ۔ وہ پ نچ وقت کی نہ‬
‫صرف نم ز پڑھت تھ ب کہ مسجد میں ازان بھی دین ج ت‬
‫اورتب یغی جم عت ک مرکز بھی ج ت ۔‬
‫بچپن کی کچھ ی دیں از رشیدہ ص‪146 :‬‬
‫دوسرے حصہ میں‬ ‫ک‬ ‫کت‬
‫منظو خراج عقیدت ک ن س ' آٹھ ش ری منظوم ت ہیں۔ ہر‬
‫کسی ن انہیں ان کی شخصیت اور ان کی ع می و ادبی خدم ت‬
‫کو خراج عقیدت پیش کی ہ ۔ یہ منظوم ت' مق ی آزاد اور نثری‬
‫ہیں۔ یہ منظوم ت رسمی نہیں ہیں۔ ان میں ش عر کی محبت'‬
‫عقیدت' شخصی ت اور مرحو کی شخصیت س مت ' کوئی‬
‫ن کوئی پہ و ضرور موجود ہ ۔ ان منظوم ت کو لکھوان اور ان‬
‫کی جمع بندی میں' ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ن بڑے تردد س‬
‫ک لی ہوگ ۔ دو تین نمون مالحظہ فرم ئیں۔‬
‫وہ گی ایس کہ س رے گھر کو سون کر گی‬
‫چش تر گی‬ ‫ہئ‬ ‫پی سی آنکھوں کو وہ دے ک‬
‫قط ہ ت ریخ ش عر مخت ر اجمیری ص‪147 :‬‬
‫ب س ختگی' ورفتگی اور مرحو س ق بی ت ' اس ش ر پ رے‬
‫ک خصوصی وصف ہ ۔ گنتی میں یہ ش ر فقط نو ہیں لیکن کہ‬
‫میں' سیکڑوں ص ح ت پر محیط ہیں۔ م نوی حسن' اپنی جگہ‬
‫لس نی تی حظ بھی کم ل ک ہ ۔‬
‫م ہر اجمیری ک یہ ش ر دیکھیں' کس کم ل اور ہنرمندی س‬
‫مرحو کی شخصیت ک ' اہ ترین پہ و کو واضح کر رہ ہ ۔‬
‫میں کی بت ؤں تمہیں کس قدر خ ی تھ وہ‬
‫رفی ن تھ ہر شخص ک رفی تھ وہ‬
‫خوشبو کی نظ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ع آدمی کی موت۔۔۔۔۔۔ کی یہ سطور‬
‫درد' کر اور ارضی اق مت کی گرہ کھول رہی ہیں۔‬
‫کبھی اس آس میں‬
‫گ‬ ‫کہ ایک دن وہ لمحہ آئ‬
‫نج ت پ کر‬ ‫جھمی وں س‬ ‫ج وہ دنی بھر ک‬
‫گ‬ ‫اپنی ایک نئی دنی بس ئ‬
‫اس کی یہ خواہش اس وقت پوری ہوتی ہ‬
‫ج تم امیدیں د توڑ ج تی ہیں‬
‫اور ع آدمی‬
‫م ورا ہو ج ت ہ ‪......‬‬ ‫خ ص و ع کی تخصیص س‬
‫ص‪160 :‬‬
‫اس س اگال حصہ نگ رش ت نقش س مت ہ ۔ اس میں ش ر‬
‫و نثر س مت مرحو کی ک وش ہ فکر درج کی گئی ہیں۔‬
‫ش عری میں‬
‫غزلیں ‪13‬‬
‫ی نی قط ت ‪6‬‬ ‫چو مصرع‬
‫رب عی ‪1‬‬
‫شر‪1‬‬
‫آزاد نظمیں ‪2‬‬
‫ش مل کت ہیں۔ ان کی ش عری' فکری و فنی اعتب ر س ' ان کی‬
‫شخصیت اور عصری سم جی رویوں کی عک س ہ ۔ ہ ں البتہ ان‬
‫کی ش ری زب ن ک رویہ اور لوازم ت ش ر روایت س قدرے ہٹ‬
‫کر ہیں۔‬
‫ل ظی ردیف پر استوار ہ ۔ غزل ک مط ع‬ ‫ایک غزل چھ‬
‫دیکھی ۔‬
‫کی‬ ‫کراہ مگر ت کو اس س‬ ‫ہر س نس ہ‬
‫کی‬ ‫ہو زندگی تب ہ مگر ت کو اس س‬
‫پرلطف ب ت یہ ہ کہ ق فیہ اور ردیف ک آخری ل ظ فطری طور‬
‫پر اور حس ضرورت ہ صوت ہ ۔ اس س غن اور نغمیت‬
‫میں ہرچند اض فہ ہوا ہ ۔‬
‫ایک غزل ک ردیف پ نچ ل ظی ہ ۔ اس میں پہ ی صورت ح ل‬
‫نہیں ہ ۔ ق فیہ اور ردیف ک آخری ل ظ ہ صوت نہیں ہیں۔ مط ع‬
‫مالحظہ ہو۔‬
‫لگی' تیری ی د آ گئی‬ ‫طر ن ک چ ن‬ ‫آمد فصل گل پر ہوائ‬
‫لگی' تیری ی د آ‬ ‫جہ ں اپنی رنگت بدلن‬ ‫دھیرے دھیرے فض ئ‬
‫گئی‬
‫پہ ی غزل ک ردیف چہ ر ل ظی اور ہی کچھ تھ ' ہ ۔ اس س‬
‫آہنگ اور غن ک الگ س ذائقہ میسر آت ہ ۔ ب طور نمونہ فقط‬
‫ایک ش ر مالحظہ فرم ئیں۔‬
‫رفتہ رفتہ ہر اک گھ ؤ بھر ج ت ہ‬
‫بچھڑ کر اور ہی کچھ تھ‬ ‫پہل ہ تجھ س‬ ‫پہ‬
‫اس ک عالوہ ایک غزل چول ظی ج کہ دو غزلیں سہ ل ظی‬
‫ردیف رکھتی ہیں۔‬
‫س تھ س تھ صن ت تض د ک است م ل مالحظہ‬ ‫تکرار ل ظی ک‬
‫فرم ئیں۔‬
‫میں تھ درد مگر ہونٹوں پہ تبس‬ ‫سین‬
‫اندر اور ہی کچھ تھ‬ ‫ب ہر ہ کچھ اور تھ‬
‫ل ظ ہی تدبر ک متق ضی ہ ۔‬
‫ا ذرا یہ ش ر مالحظہ فرم ئیں۔‬
‫زائد ہیں ت خی ں‬ ‫سخن میں زہر س‬ ‫جس ک‬
‫بڑھ کر مٹھ س تھی‬ ‫لبوں میں شہد س‬ ‫اس ک‬
‫دونوں مصرعوں ک ' ہ صوت ال ظ س آغ ز ہوا ہ ۔ ل ظوں کی‬
‫حسین ترتی اور پرذائقہ است م ل' بصیرتی اور بص رتی حظ‬
‫میسر کرت ہ ۔‬
‫ال ظ‬ ‫مت‬
‫سخن‬ ‫پہال مصرع‬
‫لبوں‬ ‫دوسرا مصرع‬
‫مترادف ال ظ‬
‫زائد‬ ‫پہال مصرع‬
‫بڑھ کر‬ ‫دوسرا مصرع‬
‫متض د ال ظ‬
‫زہر‬ ‫پہال مصرع‬
‫شہد‬ ‫دوسرا مصرع‬
‫بھی عرف میں ہ ۔‬ ‫لی‬ ‫س تھ س تھ کڑواہٹ ک‬ ‫زہر ہالکت ک‬
‫ت خی ں‬ ‫پہال مصرع‬
‫مٹھ س‬ ‫دوسرا مصرع‬
‫پہ‬ ‫کہ یہ ں س‬ ‫سوچت ہوں میں' یہ ں س‬
‫اس مصرع میں' صن ت تکرار ل ظی ک است م ل نقش کی زب ن پر‬
‫گرفت کو' واضح کر رہ ہ ۔ فص حت اور بالغت پر' کہیں ٹیڑھ‬
‫پن ط ری نہیں ہوت ۔ اس س غن اور نغمیت میں اض فہ یوا ہ ۔‬
‫تذبذ سوچ ک دائروں کو وسیع کر دیت ہ ۔‬
‫'سوچت ہوں میں‬
‫یہ ں س‬
‫پہ‬ ‫کہ یہ ں س‬
‫ت ہی کی ذیل میں' ق ری جہ ں ل ظوں کی مہک س لطف اٹھ ت‬
‫ہ ' وہ ں وحدت ت ثر' اس ک سوچ کو رائی بھر ادھر نہیں‬
‫ہون دیت ۔ دوسرا مصرع اشتی پیدا کرن ک س تھ تذبذ کی‬
‫گھتی بھی کھولت ہ ۔‬
‫پہ‬ ‫داست ں اپنی سن ؤں تو کہ ں س‬
‫پہ مصرع میں یہ ں' ج کہ دوسرے میں کہ ں ک است م ل‬
‫س کی یتی حظ میسر آت ہ ۔ بالشبہ داد س ب التر زب ن ک‬
‫پڑھن ک ات ہوت ہ ۔‬
‫ا دو بص رتی اطوار مالحظہ فرم ئیں‬
‫کبھی رو بہ رو کبھی خوا میں دیکھن‬
‫دیکھن‬
‫کبھی رو بہ رو‬
‫کبھی خوا میں‬
‫دونوں مصرعوں میں کبھی کی تکرار' ج ری س س کو واضح‬
‫کرتی ہ ۔ گوی سکوت ی ٹھہراؤ کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔‬
‫اثر کو ترسوں‬ ‫سرخ ہونٹوں ک‬
‫اثر ک تن ظر میں' لمس س مت یہ مصرع مالحظہ فرم ئیں۔‬
‫مرک سرخ ہونٹ بص رتی وارفتگی کو بڑھ وا دیت ہ ۔‬
‫مرکب ت مالحظہ فرم ئیں۔‬ ‫چند مخت ف نوعیت ک‬ ‫ا ان ک‬
‫رفتہ رفتہ‬
‫پہل‬ ‫پہ‬
‫خوش بو ک ذائقہ‬
‫محور‬ ‫سوچ ک‬
‫ال ظ کی گرفت‬
‫ہونٹوں پہ تبس‬
‫کھنڈر س مک ں‬
‫کر ذات‬
‫خوا نگر‬
‫نقش کی نظ تشنگی پر ایک نظر ڈالیں‬
‫تیری ی د اک ب دل ہ‬
‫پر ب دل س‬
‫ک پی س بجھی‬
‫پی س کی م ری دھرتی تو بس‬
‫ب رش کی‬
‫بوچھ ڑیں م نگ‬
‫میرا دل بھی‬
‫پی سی دھرتی‬
‫!س ون بن کر آ ج ؤ ن‬
‫تشبیہی طور دیکھی‬
‫تیری ی د ‪ :‬اک ب دل ہ‬
‫میرا دل بھی ‪ :‬پی سی دھرتی‬
‫ممث لتی طور دیکھی‬
‫دھرتی‬
‫دل‬
‫دھرتی ‪ :‬پی س کی م ری‬
‫پی سی دھرتی‬ ‫دل ‪:‬‬
‫مط و‬
‫دھرتی ‪ :‬ب رش کی بوچھ ڑیں م نگ‬
‫دل ‪ :‬س ون م نگ‬
‫ل ظوں ک است م ل دیکھی‬ ‫مت‬
‫ب دل ‪ :‬ب رش‬
‫دل ‪ :‬ی د‬
‫ہ ۔‬ ‫ہوئ‬ ‫آخری سطر گیت ک طور لی‬
‫!س ون بن کر آ ج ؤ ن‬
‫اور سم عی حظ میسر‬ ‫پوری نظ پر ورفتگی کی کی یت ط ری ہ‬
‫کرتی ہ ۔‬
‫ہ ں اس‬ ‫خیر اور سکھ کی فراہمی' اتن آس ن ک نہیں۔ نقش ک‬
‫امر ک اظہ ر کم ل کی شی تگی رکھت ہ ۔‬
‫نقش‬ ‫جو بھی س یہ مہی کرت ہ‬
‫اس کو کڑی دھوپ‬ ‫جھی نی پڑتی ہ‬
‫قرب نی‬
‫ب ض ش ر تو' ورفتگی اور ب س ختگی میں اپن جوا نہیں‬
‫رکھت ۔ ب س ختہ منہ س واہ واہ نکل ج ت ہ ۔ مثال‬
‫خی ل رکھن‬ ‫پہ‬ ‫س‬ ‫پیڑوں کو ک ٹن‬
‫ش خوں پہ کوئی غنچہ حیران رہ نہ ج ئ‬
‫ہٹ کر لی گی ۔‬ ‫ل ظ حیران کو مست مل م نوں س‬
‫مک ن کو نقش' ڈھ کر‬ ‫مرے کچ‬
‫شہر ا کس لہر میں ہ‬ ‫ہوائ‬
‫مط ب لی ج ئ ۔ م م ہ‬ ‫بول چ ل ک‬ ‫لہر کی ت ہی سٹریٹ ک‬
‫بھی سٹریٹ ک ہ ۔‬
‫ا ذرا یہ دو ش ر مالحظہ فرم ئیں‬
‫سندر لڑکی‬
‫وہ سندر لڑکی‬ ‫یوں تو خ موش ہی رہتی ہ‬
‫سخنور لڑکی‬
‫میں نہیں اس سی سخنور لڑکی‬ ‫ب ت کرن‬
‫دل میں بھی کبھی نقش محبت ج گ‬ ‫اس ک‬
‫پتھر لڑکی‬
‫کسی روز وہ پتھر لڑکی‬ ‫مو ہو ج ئ‬
‫ہیں۔‬ ‫است م ل ہوئ‬ ‫لڑکی ایک' تین ص تی الحق‬
‫' چ ر تنقیدی‬ ‫نثر میں' دیوان غ ل ک نسخہء خواجہ س مت‬
‫مضمون ش مل ہیں۔ جن ک عنوان کچھ یوں ہیں۔‬
‫غ ل اور ج ل س زی‬
‫نسخہءخواجہ ی نسخہ الہور‬
‫ضمیر کی خ ش‬
‫ت و بر تو اے چرخ گرداں۔۔۔۔۔۔‬
‫یہ مس ہ متن زعہ تھ اور آج بھی ہ ۔ میں ن بھی اس موضوع‬
‫پر کچھ لکھ تھ ' ی د نہیں کہ ں ش ئع ہوا۔ اصل مس ہ‬
‫نسخہءخواجہ ی نسخہ الہور نہیں' کوئی اور تھ ۔‬
‫اس ک ب د کچھ مختصر تحریریں اداری اور ابتدای وغیرہ‬
‫ش مل ہیں۔ اس ک ب د نقش ک ف رسی' انگریزی' سندھی اور‬
‫پنج بی نظموں ک کچھ ترجم ش مل کی گی ہیں۔ ایک نظ‬
‫ش عر کی موت ک عنوان س ش مل ہ ۔ اس دیون گری س‬
‫اردو لیپی میں منتقل کی گی ہ ۔ خدا لگتی تو یہ ہی ہ ' کہ یہ‬
‫تراج ص ف' س دہ' واضح' س یس اور ش ری لواز س م ال م ل‬
‫ہیں۔ ان پر طبع زاد ہون ک گم ن گزرت ہ ۔ ب طور نمونہ فقط‬
‫ایک نظ مالحظہ ہو۔‬
‫کھڑکی کھ ی‬
‫کھڑکی بند ہوئی‬
‫'ہوا‬
‫دل پذیر تھی‬ ‫ہوائ‬
‫مگر میرا قدی دل کہ ں گی‬
‫ش عر‪ :‬محمد زہری‬
‫انگریزی' سندھی پنج بی اور سرائیکی س چ ر افس نوں ک‬
‫اردو ترجم کی ہیں۔ رم ک نت ک ایک افس ن کو دیون گری‬
‫س اردو رس الخط میں منتقل کی ہ ۔ تراج کو پڑھ کر' اندازہ‬
‫ہوت ہ کہ مرحو کو' ن صرف اردو زب ن پر قدرت ح صل تھی‬
‫بل کہ دیگر زب نوں ی نی ف رسی' انگریزی' سندھی' پنج بی اور‬
‫سرائیکی پر بھی گرفت رکھت تھ ۔ اسی طرح وہ دیون گری‬
‫رس الخط کو' اس کی ب ریکیوں ک س تھ ج نت تھ ۔ ان ک‬
‫یہ تراج ' زی سم عت و بص رت ہیں۔ اسی طرح' انتخ میں‬
‫بھی م کہ رکھت تھ ۔ اس امر س ب خوبی اندازہ لگ ی ج‬
‫سکت ہ ' کہ نقش مرحو ک ذو کیس اور کس نوعیت ک تھ ۔‬
‫ب طور نمونہ اور ان کی اردو پنج بی پر گرفت ک حوالہ س '‬
‫بیدی ک پچیس سطری پنج بی افس ن کی چند چنیدہ سطریں‬
‫‪:‬مالحظہ فرم ئیں‬
‫لڑکی ن اپنی نظریں نیچی کر لیں اور اپن ابرو' اپنی ہی پ کوں‬
‫کی پرچھ ئیوں میں مسکراتی ہوئی ہنسی۔۔۔۔۔ اندر ہی اندر گٹکتی‬
‫رہی۔‬
‫سوچ اور چال گی‬ ‫ن‬ ‫ہوں' لڑک‬
‫یہ ترسی ہوئی دھرتی' وہ س ون ک ب دل۔۔۔۔۔ اور بہ روں کی‬
‫فض ۔۔۔۔۔‬
‫‪..............‬‬
‫لڑکی ک م تھ پر س ت بل پڑے ہوئ تھ ۔ لڑک ن اس‬
‫دوسروں کی طرح ہی نک چڑھی' مغرور سی لڑکی سمجھ اور‬
‫چال گی ۔‬
‫ح الں کہ ب ت صرف اتنی سی تھی۔‬
‫بالی‬ ‫کیوں نہ مجھ‬ ‫پہ‬ ‫تو ن‬
‫اکی ی۔۔۔۔۔ وہ ابد تک اداس ۔۔۔۔۔‬ ‫وہ ازل س‬
‫تھ ۔‬ ‫کھیل رہ‬ ‫کچھ بچ‬ ‫اور س من‬
‫افس نہ ۔۔۔۔۔۔ بہ نہ ص ‪232 '231‬‬
‫ایک انگریزی اور ایک سندھی مضمون ک ترجمہ' کت میں‬
‫ش مل کی گی ہ ۔ دونوں مضمون بڑے ک ک ہیں۔ پہال مضمون‬
‫قرتہ ال ین حیدر ک ن ول ۔۔۔۔۔ چ ندنی بیگ ۔۔۔۔۔ س مت ہ ۔‬
‫بڑا اچھ اور غیرج نبدارنہ قس ک مضمون ہ ۔ دوسرا مضمون‬
‫۔۔۔۔۔ آزاد کشمیر کی زب نیں۔۔۔۔۔ مختصر مختصر ہوت ' اپن‬
‫عنوان ک ت رف ک ضمن میں ک می اور ک رکش ہ ۔ ہر دو‬
‫مض مین' کی زب ن ترجمہ کی زب ن نہیں ہ ۔ براہ راست تحقی و‬
‫تنقید کی زب ن ہ ۔ کہیں ن ہمواری اور ابہ می صورت پیدا نہیں‬
‫ہوتی۔ یہ امر نقش مرحو کی' ہر سہ زب نوں پر گرفت ک غم ز‬
‫ہ ۔ گوی وہ جہ ں اچھ ش عر اچھ نث ر ہیں' وہ ں ش ر و نثر‬
‫ک اچھ مترج بھی تھ ۔‬
‫ک حصہ‬ ‫خطوط بھی کت‬ ‫گی‬ ‫ن لکھ‬ ‫پ نچ اہل ق ک‬
‫بن ئ گی ہیں۔‬
‫ن س ت خط‬ ‫بشیر عنوان ک‬
‫ن چ ر خط‬ ‫ی قو خ ور ک‬
‫ن دو خط‬ ‫ق س رحم ن ک‬
‫ن ایک خط‬ ‫حسن منظر ک‬
‫ن ایک خط‬ ‫ذوال ق ر دانش ک‬
‫گوی ت داد ک اعتب ر س یہ کل پندر خط ہیں۔ ڈاکٹر ذوال ق ر‬
‫دانش ک ن خط کی عکسی نقل پیش کی گئی ہ ۔ خطوط میں'‬
‫ب تک ی' برجستگی اور والہ نہ پن پ ی ج ت ہ ۔ یہ خطوط ادبی‬
‫حوالہ س بھی کم ل ک ہیں۔ ب طور نمونہ دو ایک مث لیں پیش‬
‫ہ ی ں۔‬
‫کہت ہیں کہ کسی کی قدر مرن ک ب د ہوتی ہ اور ی چ‬
‫ج ن ک ب د۔ ا مجھ احس س ہوا کہ دونوں صورتوں ک‬
‫عالوہ ایک تیسری صورت بھی ہ ' جس ک ظہور پذیر ہون‬
‫ک ب د کسی کی قدر و قیمت ک احس س ہوت ہ اور وہ صورت‬
‫ہ جدائی کی! ع رضی نہیں طویل جدائی کی۔‬
‫خط رفی نقش بن بشیر عنوان ص‪251 :‬‬
‫اچھ ا واق ی خدا ح فظ‬
‫خط رفی نقش بن بشیر عنوان ص‪252 :‬‬
‫پر‬ ‫تشبیہ دین‬ ‫آ س‬ ‫کشمیری صورتوں کو گال ک بج ئ‬
‫میں ت پر لکھ واری ل نت بھیجت ہوں۔‬
‫ب ب ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹی ں! ایک ب ر پھر ل نت‬
‫خط رفی نقش بن ی قو خ ور ص‪272 :‬‬
‫روٹی ج تک میسر ہ ' اس وقت تک نئی ب تیں سوجھتی ہیں‬
‫اور ج روٹی ک حصول مشکل ہو ج ئ تو حصول ن ن جویں ہی‬
‫واحد مس ہ رہ ج ت ہ ۔ اس موقع پر عش وش س دل و دم‬
‫س محو ہو ج ت ہیں۔ غ لب شیخ س دی ن اس تجرب کو بی ن‬
‫کی ہ ۔‬
‫چن ں قحط س لی شد اندر دمش‬
‫کہ ی راں فراموش کر دند‬
‫خط رفی نقش بن ق س رحم ن ص‪276 :‬‬
‫رائٹ برادران ک بن ی ہوا ہوائی جہ ز آج ک جدید طی روں ک‬
‫مق ب میں بچوں ک کھ ون م و ہوت ہ ت ہ یہ بھی حقیقت‬
‫ہ کہ اس ہوائی جہ د ک وجود میں آئ بغیر موجودہ طی روں‬
‫ک وجود میں آن ممکن نہیں تھ ۔‬
‫خط رفی نقش بن ذوال ق ر دانش ص‪280 :‬‬
‫کت ک آخر میں ۔۔۔۔۔ تیرے فن میں حسن ک اعال ہیں نقش۔۔۔۔‬
‫ک عنوان س نو تحریریں ش مل کت کی گئی ہیں۔ ان میں‬
‫ایک ڈاکٹر انورسدید ک خط بن رفی احمد نقش ہ ۔ خط ک دو‬
‫جم درج ہیں۔ مست مل میں بدل گڑبڑی ک ب عث بنت ہ دوسرا‬
‫گ ی اس قبول نہیں کرتی ہ ۔ ق ی عرف میں ہ اس لی ق ی‬
‫دیکھی ۔‬ ‫گ ۔ خیر یہ دو جم‬ ‫قبولیت کی سند نہ پ سک‬
‫ایک ذاتی گزارش یہ ہ کہ میرا ن انور سدید م رف ہ لیکن‬
‫آپ اس نئ اصول و ضوابط ک تحت سدید انور درج فرم ت‬
‫ہیں۔ درخواست ہ کہ اس انور سدید ہی درج کیجی ۔‬
‫خط انور سدید بن رفی احمد نقش ص‪283 :‬‬
‫ہیں۔‬ ‫مت‬ ‫فن س‬ ‫ب قی آٹھ تحریریں ان ک‬
‫ب رے پروفیسر انوار احمد زئی ک کہن ہ ۔‬ ‫ان کی ش عری ک‬
‫رفی نقش ب طور ش عر‬
‫رفی نقش ک ش عرانہ نقوش میں مح ک ت اور تم ثیل ک س تھ‬
‫منظرن م بھی ایس مصور م ت ہیں کہ ان کی ش عری' فکری‬
‫گی ری اور ش ری تصویر خ نہ م و ہوتی ہ ۔ میرے نزدیک‬
‫وقت ک نئ پن ک مضمون ک ب د' تشبیہ و تمثیل ک اچھوت‬
‫اور نی پن' رفی نقش کی ش عری ک دوسرا بڑا کم ل ہ ۔‬
‫نقش آئینہءمسرت میں از روفیسر انوار احمد زئی ص‪285 :‬‬
‫رفی احمد نقش اور ترجمہ نگ ری‬
‫رفی احمد نقش طب ک م یت پسند تھ ۔ وہ جو بھی ک کرت '‬
‫پوری ذمہ داری س کرت تھ ' یہی خوبی ان ک تراج میں‬
‫بھی نم ی ں ہ ‪ .‬وہ ترجم ک فن کو قدر کی نگ ہ س‬
‫دیکھت تھ اور ان فن کو حقیر سمجھن والی سوچ ک‬
‫اف دی‬ ‫فن ک‬ ‫ک‬ ‫سخت خالف تھ ۔ رفی احمد نقش ترجم‬
‫اہمیت ک ق ئل تھ ۔‬
‫رفی احمد نقش بہ حیثیت مترج ازبشیر عنوان ص‪302 :‬‬
‫رفی احمد نقش ک طور تنقید‬
‫رفی نقش دھیم ' پراثر مگر انتہ ئی جرآت مندی ک س تھ‬
‫تنقید کرن ک حوص ہ رکھت ہیں۔ ان کی ب ب کی کسی ظ ہری‬
‫عہدے ی بڑےپن س خ ئف نظر نہیں آتی' مگر وہ عزت و‬
‫احترا کو ہ تھ س نہیں ج ن دیت ۔ پہ کسی م م ک‬
‫اصل پہ و کو اج گر کرت ہیں' پھر جزئی ت ک سہ رے اس‬
‫ابھ رت ہیں۔ جہ ں کہیں غ طی ک احتم ل ہوت ہ دست نش ن‬
‫دہی کرت ہیں۔‬
‫رفی احمد نقش ک تنقیدی ش ور از ڈاکٹر ممت ز عمر ص‪314 :‬‬
‫رفی احمد نقش اور اردو امال‬
‫امال ک حوال س رفی نقش ک زی دہ تر زور اس ب ت پر رہ‬
‫ہ کہ جو بولو' وہی لکھو۔ لکھ وٹ میں ت ظ کی تق ید ان ک‬
‫لی الزمی تھی۔‬
‫رفی احمد نقش اور اردو امال از انص ر احمد شیخ ص‪331 :‬‬
‫رفی احمد نقش ک تحقیقی مزاج‬
‫تحقی کی ج ن راغ نہیں ہو‬ ‫رفی نقش پوری یک سوئی س‬
‫سک ' وہ اس ش ب کو اپن ن چ ہت تھ اور اردو اد کی‬
‫کئی حقیقتوں س پردہ کش ئی کرن ک خواہ ں تھ مگر موت‬
‫کی حقیقت ن ایک اعال پ ئ ک محق ہون س محرو کر‬
‫دی ۔‬
‫رفی احمد نقش ک تحقیقی مزاج از ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش‬
‫ص‪350 :‬‬
‫رفی احمد نقش بہ حیثیت مدیر‬
‫رفی نقش ص ح آغ ز ہی س بہ تر س بہ ترین ک خواہ ں‬
‫تھ ۔ وہ آخری د تک م ی ر کی تالش میں سرگرداں رہ ۔ آغ ز‬
‫ادارت ہی س م ی ر ک ب رے میں ان ک نقطہء نظر واضح تھ ۔‬
‫رفی احمد نقش بہ حیثیت مدیر از ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ص‪:‬‬
‫‪353‬‬
‫رفی احمد نقش بہ حیثیت مدیر ک ب د' رفی احمد نقش ک‬
‫ہ تھ س بنی ہوئی کچھ چیزیں ہیں۔ آخر میں رفی احمد نقش‬
‫ک ایک خط بن بشیر عنوان کی عکسی نقل ہ ۔ خط ک‬
‫انتخ میں ب شک سمجھ بوجھ اور تردد س ک لی گی ہ ۔‬
‫اس خط میں کئی ایک خ ص نوعیت کی ب تیں کی گئی ہیں بل کہ‬
‫انہیں اصول ک ن دین زی دہ من س ہو گ ۔ مثال‬
‫میں تمہ ری ب ت س مت نہیں ہوں کہ انس ن جس قدر خود کؤ‬
‫ج نت ہ ' وہ دوسروں ک ج نن کی بہ نسبت زی دہ مستند‬
‫کہیں زی دہ‬ ‫ہ ۔ یہ ب ت عین ممکن ہ کہ دوسرے ہ س‬
‫ہم رے ب رے میں ج نت ہوں۔۔۔۔۔۔‬
‫میرا خی ل ہ کہ اخب روں میں ن چھپن ' نشستوں کی ت داد‬
‫میں ن نہ د اض فہ وغیرہ م ی ر کی کمی ک ب عث ہ ۔‬
‫بڑے‬ ‫اس خط میں' ایک ذاتی حوالہ بھی ہ ' جو تین طرح س‬
‫ک ک ہ ۔‬
‫ان کی شدہ زندگی کیسی اور کس نوعیت کی تھی۔‬
‫م مالت س‬ ‫ان کی زوجہ محترمہ ک مرحو اور مرحو ک‬
‫کتن اور کس نوعیت ک عمل دخل تھ ۔‬
‫اطوار کس نہج اور‬ ‫مث لی جوڑے کی زندگی کیسی اور اس ک‬
‫سطع ک ہون چ ہیں۔‬
‫خط ک یہ ٹکڑا مالحظہ فرم ئیں۔‬
‫ش دی ن میری زندگی میں ایک اطمین ن بھر دی ہ ۔ ذکیہ س‬
‫بہتر س تھی م ن ب حد مشکل تھ ۔ میں ا اپنی بہنوں ک‬
‫مستقبل کی طرف س ب فکر ہوں۔ ان کی ت ی اور تربیت میں‬
‫ذکیہ کردار ادا کر رہی ہ ۔۔۔۔۔۔ بڑی ب ت یہ کہ ہ لوگ روایتی‬
‫می ں بیوی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ ا بھی اکثر لوگ ہمیں س تھ دیکھ کر‬
‫مشکل ہی س یقین کرت ہیں کہ ہ دونوں رشتہء ازدواج میں‬
‫منس ک ہیں۔‬
‫ان تحریروں ک عالوہ رف قت ع ی ش ہ ک مضمون۔۔۔۔ رفی‬
‫احمد نقش‪ :‬بطور تدوین ک ر۔۔۔۔ اور اجمل کم ل ک ایک خط کت‬
‫میں ش مل ہیں۔ لس نی تی حوالہ س یہ خط بڑے ک ک ہ ۔‬
‫ڈاکٹر دانش کی یہ ادبی ک وش' ق ری کو پہ ی اور آخری نظر میں'‬
‫خوش آتی ہ ۔ ع می و ادبی ک کرن والوں ک لی ' یہ کت‬
‫عم ی نمون س ' کسی طرح ک نہیں۔ میں ڈاکٹر دانش ک اس‬
‫ک کو' قدر کی نگ ہ س دیکھت ہوں۔ هللا ان ک ادبی ذو کو‬
‫برکت عط فرم ئ ۔‬
‫رنگ‪ ......‬ایک ج ئزہ‬ ‫خوش بو میں نہ ت‬

‫عط ءالرحمن ق ضی اردو ک ' خوش فکر اور خوش زب ن ش عر‬
‫ہیں۔ ان کی ش عری میں' انس نی زندگی اور انس نی من ف رویوں‬
‫کی' بڑے اچھوت انداز میں' عک سی م تی ہ ۔ ت ہ کومل‬
‫جذبوں کو بھی نظرانداز نہیں کرت ۔ ان نر و مالئ جذبوں کی‬
‫حرف ک ری' ق ری کو اپنی گرفت میں ل لیتی ہ اور وہ لطف‬
‫اندوزی ک کوئی موقع ہ تھ س ج ن نہیں دیت ۔ عط ک ہ ں‬
‫اصل کم ل یہ ہ ' کہ ل ظوں ک انتخ خی ل ک مط ب کرت‬
‫ہیں۔ ذرا یہ رب عی مالحظہ فرم ئیں۔‬
‫ہ رات گئ‬ ‫تھ‬ ‫چرا الئ‬ ‫مہت‬
‫ہ رات گئ‬ ‫تھ‬ ‫چندرا چرا الئ‬
‫عط‬ ‫س‬ ‫چپک‬ ‫اس چش فسوں ک ر س‬
‫ہ رات گئ‬ ‫تھ‬ ‫اک خوا چرا الئ‬
‫عط ' عصری شخص ک عمومی چ ن اور طور کی' بڑے ہی‬
‫خو صورت انداز میں' عک سی کرت ہیں۔ ل ظ اندر ک‬
‫است رتی است م ل' ان ک کال کو فص حت و بالغت ہی میسر‬
‫نہیں کرت ' بل کہ اس وج ہت س بھی' سرفراز کرت ہ ۔ اس‬
‫ذیل میں ذرا ‪:‬یہ ش ر مالحظہ فرم ئیں‬
‫نک ت نہیں کوئی ب ہر‬ ‫اندر س‬
‫دیکھو جس ' خود میں وہ سراسر گ ہ‬
‫ل ظ اندر ک است م ل' اپن وجود میں م نویت ک رواں دری‬
‫رکھت ہ ۔ کسی کال ک ب یغ ہون میں' ایسی ب ریکی ں ہی اپن‬
‫کم ل دیکھ تی ہیں۔‬
‫عط ن ' عصری شیوخ ک دوہرے اطوار اور چ ن کو' ایک‬
‫حوال ک تحت واضح کی ہ ۔‬
‫حضور یہ دو رنگی' ی شیخ‬ ‫رندوں ک‬
‫رس شر الیہود' آخر ک تک!‬
‫عط اپنی رب عیوں میں' ع ل گیر سچ ئیوں ک بڑے خو صورت‬
‫انداز میں' اظہ ر کرت ہیں۔ مثال‬
‫کھوئی ہوئی توقیر کہ ں م تی ہ‬
‫گ گشتہ تقدیر کہ ں م تی ہ‬
‫ہر پھول میں ہوتی نہیں خوشبو ی رو‬
‫ہر خوا کی ت بیر کہ ں م تی ہ‬
‫‪.......‬‬
‫مت دیکھ' تم ش چپ چ پ‬ ‫یوں دور س‬
‫اے موج فن ! مجھ میں اتر ج چپ چ پ‬
‫عط ' کی م و !‬ ‫کس گھ ٹ اترن ہ‬
‫تنہ ' چپ چ پ‬ ‫بہت ج ت ہوں ک س‬
‫محالت کی نسبت ش ہوں س رہی ہ ۔ ان ک سوا بڑوں کی‬
‫رہ ئش و عیش گ ہوں ک لی ' کوٹھی ں' بنگ ' بڑے مک ن'‬
‫اونچ مک ن وغیرہ س ل ظ ی مرکب ت مست مل رہ ہیں۔ ہر‬
‫دو امرجہ نخوت کدے' رہ ہیں۔ ایک س اطوار رکھت ہوئ '‬
‫ان میں ل ظی شن خت ب قی رہی ہ ۔ ل ظ محل' ب دش ہ ک لی ہی‬
‫تحریر اور عرف میں رہ ہ ۔۔ ح الں کہ تکبر اور عوامی‬
‫استحص ل کی ذیل میں' دونوں متوازی چ آت ہیں۔ یہ عوا‬
‫ک م م ہ نہیں رہ ' کہ کون کس ک بن ی ی کس ک م تحت رہ‬
‫ہ ۔ عط ن اس تخصیص کو خت کی ہ ۔ گوی ان ک ہ ں ل ظ‬
‫محل وسیع اور ب یغ م نوں میں است م ل ہوا ہ ۔ المحدود ب ت'‬
‫صیغہء محدود میں کہی گئی ہ ۔ کہت ہیں‬
‫ہر کنگرہءکبر' زمیں بوس ہوا‬
‫محالت میں ا خ ک یہ ں‬ ‫اڑتی ہ‬
‫مرک کنگرہءکبر ک ' نخوت پسند مزاج پر اطال بھی ب مزا‬
‫نہیں رہ گ ۔ حرف ک ر وہ ہی ق بل تحسین ہ ' جو سچ کہت اور‬
‫لکھت آی ہ ۔ ان دو مصرعوں میں کہ گی ' ع ل گیر سچ ئی ک‬
‫درج پر ف ئز ہ ۔‬
‫شخص ک یقین اور اس ک کردار ک حوالہ س ' اس ک‬
‫شخصی المی کی' بڑے دردن ک انداز میں عک سی کی ہ ۔‬
‫کہت ہیں‬
‫ہوئ‬ ‫ہ تھوں میں خوش آہنگ دع ہوت‬
‫ہوئ‬ ‫محرو یقین رہ ' خدا ہوت‬
‫دیکھت رہ اپن زوال‬ ‫حیرت س‬
‫ہوئ‬ ‫جدا ہوت‬ ‫کردار' کہ نی س‬
‫مالحظہ ہوں‬ ‫ی پھر یہ دو مصرع‬
‫یوں بڑھ ئی پینگیں‬ ‫اک موج گم ں ن‬
‫س اہل یقیں' غرقہءاوہ ہوئ‬
‫ہیں۔‬ ‫شخصی تنہ ئی ک بڑے ہی ب ریک انداز میں اظہ ر کرت‬
‫مثال‬
‫‪........‬‬
‫بہت زور لگ ی لیکن‬ ‫دری ن‬
‫نک ال نہ گی‬ ‫صحرا مرے اندر س‬
‫خول میں بند ہ ۔ اس ت خ حقیقت ک اظہ ر‬ ‫آج شخص ان ک‬
‫مالحظہ ہو۔‬
‫اک بوجھ اٹھ ئ ' چ ر و ن چ ر چ‬
‫آخر کو یہی کھال کہ بیک ر چ‬
‫کون ب ہر نکال‬ ‫اس قید ان س‬
‫یہ دیوار چ‬ ‫جس سمت بھی ج ئی‬
‫میں ت خی آ ج تی‬ ‫لہج‬ ‫عصری جبریت ک اظہ ر کرت ' ان ک‬
‫ہ ۔‬
‫ف نوس یہ ں‬ ‫روشن ہیں ک آگہی ک‬
‫م نوس یہ ں‬ ‫ظ س‬ ‫س لوگ ہوئ‬
‫آنکھوں میں حی رہی نہ کچھ دل میں خوف‬
‫فقط سکہ س لوس یہ ں‬ ‫چت ہ‬
‫یہ ایک ازلی حقییقت ہ ' کہ شخص اپنی شن خت ب الوسطہ‬
‫ح صل کرت ہ ۔ عط ک ہ ں اس حقیقت ک اظہ ر مالحظہ ہو۔‬
‫دیکھ جو مری سمت بغور‬ ‫اس شوخ ن‬
‫کہیں خود کو نظر آی میں‬ ‫ت ج ک‬
‫واہ۔۔۔۔۔ واہ' بہت خو ‪....‬کی ب ت ہ ۔‬
‫تخ ی آد بالشبہ بہت بڑا کم ل ہ ۔ ع آد ک شرف ٹھہرا۔ ان‬
‫دو مصرعوں میں' اس واق ک اظہ ر دیکھی ۔ ان دو‬
‫تن ظر میں'‬ ‫مصرعوں کو' سورتہ والتین اور سورتہ بقر ک‬
‫مالحظہ فرم ئیں۔‬
‫مٹی میں رکھ دی ع و م راج‬
‫نہ دی کبھی کسی ک محت ج‬ ‫ہون‬
‫ذوم نویت ک کم ل چ بک دستی است م ل کی ہ ۔ مثال‬ ‫عط ن‬
‫جو کھ ت ہی نہ تھ‬ ‫س‬ ‫دیوار گران‬
‫کھال‬ ‫س‬ ‫عقدہ وہی دیوار اٹھ ن‬
‫دیوار گران‬
‫دیوار اٹھ ن‬
‫رب عی میں' چوتھ مصرع ک ید کی حیثیت رکھت ہ ۔ عط ک‬
‫ہ ں' مخت ف صورت بھی م تی ہ ۔ پہ دو ی آخری دو‬
‫مصرعوں کو ب ق عدہ ش ر ک طور پر لی ج سکت ہ ۔ مثال‬
‫دو مصرع‬ ‫پہ‬
‫بڑھ کر نکال‬ ‫موجود بھی موجود س‬
‫اک اور ہی منظر' پس منظر نکال‬
‫آخری دو مصرع‬
‫کو جھیل میں نہ ت ہوئ ' ش‬ ‫مہت‬
‫اتر کر دیکھ‬ ‫ت روں ن‬ ‫افالک س‬
‫غزل ک س ' حسن بی ن اور ن زک خی لی مالحظہ فرم ئیں‬
‫ترے حسن ک پر تو ج س‬ ‫دیکھ ہ‬
‫آنکھوں میں کوئی نقش ٹھہرت ہی نہیں‬
‫عط‬ ‫اعج ز آگہی ک ح صل ہ‬
‫پردے میں سحر دیکھت ہوں‬ ‫میں رات ک‬
‫ہیں۔‬ ‫عط ک ہ ں ب ت ک آغ ز ک مخت ف انداز م ت‬
‫مصرعوں ک ہ صوت ال ظ س آغ ز کرت ہیں۔‬
‫یوں دشت غزل میں خوش ہوائیں ن چیں‬
‫جوں تخت ہوا پہ اسپرائیں ن چیں‬
‫‪...........‬‬
‫کون ب ہر نکال‬ ‫اس قید ان س‬
‫یہ دیوار چ‬ ‫جس سمت بھی ج ئی‬
‫‪...........‬‬
‫نک ال نہ گی‬ ‫ش ہ کوئی پتھر س‬
‫نک ال نہ گی‬ ‫نشہ کسی منظر س‬
‫بہت زور لگ ی لیکن‬ ‫دری ن‬
‫نک ال نہ گی‬ ‫صحرا مرے اندر س‬
‫آغ ز‬ ‫مصرعوں ک ایک ہی ال ظ س‬
‫اے حرف خوش خص ل' آ ج مجھ میں‬
‫اے کیف الزوال' آ ج مجھ میں‬
‫‪...........‬‬
‫مصرعوں ک ایک ہی ل ظ س آغ ز' ج کہ دونوں مصرعوں ک '‬
‫دوسرا ل ظ ہ صوت ہوت ہ ۔‬
‫اے نغمہءب ت ' ذرا اور چمک‬
‫' ذرا اور چمک‬ ‫اے ش ہءن ی‬
‫‪.........‬‬
‫ہر ج میں اک عکس ط س امک ن‬
‫ہر گ یہ دشت غزل آہنگ کھال‬
‫‪...........‬‬
‫ک طور مالحظہ ہو۔‬ ‫تین ل ظ ایک ہی است م ل کرن‬ ‫پہ‬
‫اک اؤر ہی انقال سوچ تھ مگر‬
‫اک اؤر ہی انقال دیکھ میں ن‬
‫‪........‬‬
‫مصرعوں ک آغ ز مالحظہ ہو۔‬ ‫ا ہ مرتبہ ل ظوں س‬
‫دیکھ میں ن‬ ‫قطرہ قطرہ حب‬
‫ذرا ذرا سرا دیکھ میں ن‬
‫میں' متض د ل ظوں ک برجتسہ اور امر واقع ک‬ ‫پہ مصرع‬
‫تحت است م ل‬
‫مالحظہ ہو‪:‬‬
‫چرا ' لمحوں کی فصیل‬ ‫بجھت‬ ‫جت‬
‫‪...........‬‬
‫والو‬ ‫پھولوں کو ک نٹوں میں پرون‬
‫‪...........‬‬
‫ک یت ل ظی کی دو صورتیں دیکھی ‪:‬‬
‫ہ رات گئ‬ ‫تھ‬ ‫چرا الئ‬ ‫مہت‬
‫ہ رات گئ‬ ‫تھ‬ ‫چندرا چرا الئ‬
‫عط‬ ‫س‬ ‫چپک‬ ‫اس چش فسوں ک ر س‬
‫ہ رات گئ‬ ‫تھ‬ ‫اک خوا چرا الئ‬
‫‪........‬‬
‫دیکھ میں ن‬ ‫قطرہ قطرہ حب‬
‫دیکھ میں ن‬ ‫ذرہ ذرہ سرا‬
‫اک اور ہی انقال سوچ تھ مگر‬
‫اک اور ہی انقال دیکھ میں ن‬
‫عط ن اردو کی ش ری زب ن کو' بڑے خو صورت مرک دی‬
‫ہیں۔ یہ مرک ' اچھوت اور گہری م نویت رکھت ہیں۔ مخت ف‬
‫نوعیت ک چند مرک دیکھی ۔‬
‫اف دل‬
‫اق ی م نی‬
‫تخت ہوا‬
‫دشت غزل‬
‫ط س امک ن‬
‫ع و م رج‬
‫قرط س ش‬
‫قید ان‬
‫کیف الزوال‬
‫وس ت ش‬
‫پتھر ک سکوت‬
‫خوشبو ک جھرن‬
‫اورا‬ ‫تہذی ک‬
‫شو کی تکذی‬
‫قرنوں کی دیوار‬
‫لمحوں کی فصیل‬
‫افالک پہ س غر‬
‫الزم ں وس ت‬
‫حرف خوش خص ل‬
‫اہل زوال‬
‫اہل نی ز‬
‫زاویہ نشیں‬
‫ل ظ پرست‬
‫ش ہءن ی‬
‫کنگرہءکبر‬
‫نشہءپندار‬
‫کہکش نی‬ ‫ادائ‬
‫تشبیہ‬ ‫ورائ‬
‫عط کی زب ن ک مح ورہ; ش ئستہ' شگ تہ' برمحل اور نئی فکر ک‬
‫ح مل ہوت ہ ۔ چند مث لیں ب طور نمونہ مالحظہ ہوں۔‬
‫یوں بڑھ ئی پینگیں‬ ‫پ کیں بڑھ ن ‪ :‬اک موج گم ں ن‬
‫جو کھ ت ہی نہ تھ‬ ‫س‬ ‫دیوار گرن ‪ :‬دیوار گران‬
‫کھال‬ ‫س‬ ‫دیوار اٹھ ن ‪ :‬عقدہ وہی دیوار اٹھ ن‬
‫میں اتر آی میں‬ ‫س نچ‬ ‫میں اترن ‪ :‬موجود ک‬ ‫س نچ‬
‫دل میں ات رن ‪ :‬خوشبو بھرے لمحوں کو ات را دل میں‬
‫بوجھ اٹھ ن ‪ :‬اک بوجھ اٹھ ئ ' چ ر و ن چ ر چ‬
‫فقط سکہءس لوس یہ ں‬ ‫سکہ چ ن ‪ :‬چ ت ہ‬
‫اٹھ ک '‬ ‫پ کوں س‬ ‫اٹھ ن ‪ :‬کی خوا تھ‬ ‫پ کوں س‬
‫جھونک‬
‫عط کی رب عیوں میں' مق میت بھی پ ئی ج تی ہ ۔ س تھ میں'‬
‫بہت بڑی حقیقت بی ن کر گی ہیں۔‬
‫پھوہڑ کی ہو جھ ڑو کہ سگھڑ ک لیپ‬
‫کوئی‬ ‫نہیں گو الکھ چھپ ئ‬ ‫چھپت‬
‫کہ نی کہ وت بھی ان کی رب عی ت میں نظر انداز نہیں ہوئی۔ مثال‬
‫چ روں ج ن‬ ‫میں صندو ک‬ ‫تہ خ ن‬
‫ک س‬ ‫کسی ن گ ک ج ن‬ ‫پہرا ہ‬
‫عط ت میح ک تشبیہی است م ل' بڑے ہی طری ہ س یقہ س کرت‬
‫ہیں۔ کئی ایک روم ن پرور من ظر' آنکھوں ک س من گھو‬
‫گھو ج ت ہیں۔ ذرا تصور کیجی ' مست ہواؤں میں سورگ کی‬
‫الپسرائیں رقص کر رہی ہوں' تو شخص اور دیوت بن پیئ ' نشہ‬
‫کی ح لت میں آ ج ئیں گ ۔‬
‫یوں دشت غزل میں خوش ہوائیں ن چیں‬
‫جوں تخت ہوا پہ اسپرائیں ن چیں‬
‫جن عط الرحمن ق ضی کی زب ن و فکر پر' دی نت داری س '‬
‫بہت کچھ لکھ ج سکت اور لکھ ج ن چ ہی ‪ .‬میں اپنی‬
‫م روض ت یہ ں پر خت کرت ہوں' ت کہ ق ری بھی' اس ذیل میں'‬
‫اپنی رائ دے سک ۔‬
‫دع ہ هللا کری ق ضی ص ح ک ق میں' مزید روانی ں رکھ‬
‫دے' ت کہ وہ زب ن و اد کی خدمت ک س تھ س تھ' عصری‬
‫م مالت کو' ک غذ ک سپرد کر سکیں۔ آت کل ش ہوں اور ان ک‬
‫کنکبوتیوں کو ہی نہیں' اس عہد ک دوسرے ب سیوں ک احوال‬
‫س آگ ہ ہو بھی سک ۔‬
‫تن ظر‬ ‫حضرت س ئیں سچل سر مست ک پنج بی کال ک اردو ک‬
‫میں مط ل ہ‬

‫برصغیر ک عظی ہ ت زب ن ش عر' عبد الوہ الم روف سچل‬
‫سرمست ‪ 1739‬میں' خیر پور ک گ ؤں درازا میں پیدا ہوئ ۔‬
‫سچل' سچ ی سچ بولن وال کو کہ ج ت ہ ' ج کہ‬
‫سرمست' مستی اور جذ کی ح لت وال کو کہ ج ت ہ ۔ وہ‬
‫ع می ادبی اور تصوف کی دنی میں' اپن ق می اور اختی ری ن‬
‫سچل سرمست س ہی م روف ہیں۔ لڑکپن میں ہی' ان ک والد‬
‫انتق ل کر گی ۔ دیکھ بھ ل ک فریضہ' ان ک چچ ن انج دی '‬
‫جو ب د میں ان ک روح نی پیشوا ٹھہرے۔ ان کی ش دی' ان کی‬
‫کزن س ہوئی' جو صرف دو س ل س تھ نبھ کر هللا کو پی ری ہو‬
‫گیئں۔ اس ک ب د انہوں ن ش دی نہ کی۔‬
‫بچپن میں' انہیں حضرت ش ہ عبد الطیف بھٹ ئی اور کئی دوسرے‬
‫صوفی ش را س ' م ن ک ات ہوا۔ انہوں ن پہ ی نظر میں'‬
‫حضرت سچل سرمست کو پہچ ن لی اور کہ ' یہ لڑک اپن ک‬
‫مکمل کرے گ ۔ آت وقتوں میں یہ کہ سچ ث بت ہوا۔ حضرت‬
‫سچل سرمست' اپن گ ؤں س کبھی کہیں نہیں گی ' لیکن ان‬
‫ک سچ ئی اور روح نیت ک پیغ ' خوش بو کی طرح' جگہ جگہ‬
‫پہنچ اور اپن خوش گوار اثرات چھوڑت رہ ۔‬
‫حضرت سچل سرمست ن ' بڑی س دہ زندگی گزاری۔ س دہ ع دات‬
‫ک م لک تھ ۔ کبھی پرآس ئش بستر پر استراحت نہیں فرم ئی۔‬
‫خوراک بھی' ع سی لیت تھ ۔ پرتک ف غذا' ان ک لئ‬
‫کوئی م نویت نہ رکھتی تھی۔ غذا میں سوپ اور دہی پسند‬
‫فرم ت تھ ۔ وہ موسیقی ک دلدادہ تھ ۔ یہ ہی وجہ ہ ' کہ‬
‫ان ک کال پر موسیقیت ک عنصر غ ل ہ ۔ انہوں ن ‪14‬‬
‫رمض ن المب رک ‪ 1829‬میں' نوے برس کی عمر میں انتق ل‬
‫فرم ی ۔‬
‫وہ س ت زب نوں پر دسترس رکھت تھ ۔ ان ک کال اردو'‬
‫ب وچی' پنج بی' سرائیکی' سندھی' عربی اور ف رسی میں م ت‬
‫ہ ۔ ان ک کال ' تصوف ک عن صر س لبریز ہ ۔ اس تحریر‬
‫میں ان ک پنج بی کال کو' اردو ک لس نی تی تن ظر میں‬
‫دیکھن کی ن چیز سی س ی کی گئی ہ ۔ ان ک کال میں'‬
‫چ شنی اور شگ تگی ک س تھ س تھ شی تگی' ورافتگی اور‬
‫والہ نہ پ ی ج ت ہ ۔ عش خدا ک س تھ س تھ' مرشد س محبت‬
‫عروج پر نظر آتی ہ ۔ ان ک کال روح کو ت زگی اور روح نی حظ‬
‫س سرفراز کرت ہ ۔‬
‫ان ک ہ ں' بہت س ایس ال ظ است م ل میں آئ ہیں' جو‬
‫اردو میں اسی ت ظ اور م نوں ک س تھ' است م ل ہوت آرہ‬
‫ہیں۔ مثال‬
‫نی روشن' ی وت نور کٹوری ں‬ ‫مونہہ وچ دو مہت‬
‫خونی خون کرینداں سچل' ت ں بھی سدا سگوری ں‬
‫‪.........‬‬
‫ح ک سخت' حکومت والی ں' س ئیں آپ سنواری ں‬
‫‪........‬‬
‫سوہن ی ر خرام ں آی ' ن ز غرور غم ز کنوں‬
‫‪........‬‬
‫بھی وقت اوہیں د ' سر دی چ ون طمع‬ ‫ویکھ عش‬
‫ان کی پنج بی ش عری ک بہت س مصرع ' اردو ک قری‬
‫ہیں۔ م مولی سی تبدی ی س ' وہ اردو ک ذخیرہءش ر میں داخل‬
‫کی ج سکت ہیں۔ ب طور نمونہ یہ مصرع مالحظہ ہوں۔‬
‫میں ط ل زہد نہ تقوی دا' ہک منگ ں محبت مستی‬
‫‪........‬‬
‫ل ل لب ں ی قوت رم نی' ع لی منص وال‬
‫‪........‬‬
‫م ضی کی ہ ' ح ل ڈس دل خست ں نوں‬ ‫استقب ل ت‬
‫مہ جر ال ظ ک اشتراک ہی نہیں' خ لص اردو ک ال ظ بھی' ان‬
‫کی پنج بی ش عری میں' پڑھن کو م ت ہیں۔ مثال‬
‫استقب ل بھی چھوڑ م ضی کوں' سچل منگ سرمستی‬
‫ابی ض کنوں‬ ‫عش دی آیت پڑھی ع شق ں' حسن وال‬
‫موتی مول مرصع ن ہیں' سو چٹس لی دے نقط‬
‫ح ک سخت' حکومت والی ں' س ئیں آپ سنواری ں‬
‫مترادف اور ہ م نی ل ظوں ک است م ل مالحظہ ہو۔ یہ ل ظ' اردو‬
‫ک لی ' غیرم نوس نہیں ہیں۔‬
‫ال ن ی دا ک مہ س نوں' مرشدی آپ پڑھ ی‬
‫‪........‬‬
‫صورت ن ل ست رے چمکن' رنگ کریندے مکھ دے‬
‫انہوں ن ' پنج بی کو نئ مرکب ت دی ہیں اور یہ مرکب ت' اردو‬
‫والوں ک لی بھی' غیرم نوس ی ن ق بل فہ نہیں ہیں۔ مثال‬
‫جھ ک جھ ک رخس ر' ی د گزشت ں' خ خی ل' تیر ب رانی' میر‬
‫امیراں' نور تج ی' خوش خورشیدی' صحیح صحی ہ' رنگ ربوبی‬
‫ال ظ مالحظہ ہوں۔‬ ‫وال‬ ‫قوافی میں' اردو میں است م ل ہون‬
‫انگن اس ڈے آویں پی را' نہ ت ں مراں مشت‬
‫اندر توں ہیں' ب ہر توں ہیں' سپہریں ہر پوش ک‬
‫تیڈے ڈیکھن کیت ' اکھ ں کوں اشتی‬ ‫سچو ہ‬
‫‪........‬‬
‫حیرانی‬ ‫موتی مونہہ اگوں شرمندے' ہیرے تھئ‬
‫دا' پرتو نور نش نی‬ ‫جھ ک جھ ک رخس ر سوہن‬
‫سچل ویکھ تجال تنھں دا' ہوئی دل دیوانی‬
‫‪........‬‬
‫م رن ڈنگ نسنگ بالئیں' درد منداں کوں د د‬
‫چشم ں قتل کریندی ں ع ش ' پئیپنبی ں دی ر ج‬
‫ج ج‬ ‫سچل سو سکندر جیئ ' ب نہ ں بدھ‬
‫‪........‬‬
‫دا' خوش خورشیدی خوبی‬ ‫ڈٹھ میں رخس ر سوہن‬
‫اکھ ں ق تل تھون قہ ری' مش ل مونہہ محبوبی‬
‫عش ق ں کوں آ کرے اسیری' عش والی اس وبی‬
‫سچل' س را رنگ ربوبی‬ ‫نہ مخ و اکھیج‬
‫ال ظ' اردو میں مست مل‬ ‫وال‬ ‫صن ت تض د میں است م ل ہون‬
‫ہیں۔ مثال‬
‫اندر توں ہیں' ب ہر توں ہیں' سپہریں ہر پوش ک‬
‫‪.........‬‬
‫میر امیراں موہن‬ ‫سچل اوہ ب دش ہ گدا ت‬
‫مشترک مست ل ال ظ‬ ‫تکرار ل ظی میں بھی' اردو اور پنج بی ک‬
‫س ' ک لیت ہیں۔ مثال‬
‫سوہن‬ ‫قطرے قطرے آ عر دے' ی ر دے مونہہ ت‬
‫‪.........‬‬
‫غیر دے خ خی ل کنوں ہن' ہ دی س نوں توبہ توبہ‬
‫آوازیں گران اور بڑھ ن زب نوں میں ع سی ب ت ہ ۔ یہ چ ن‬
‫پنج بی میں بھی م ت ہ ۔‬
‫منگ‪ :‬استقب ل بھی چھوڑ م ضی کوں' سچل منگ‬ ‫م نگ س‬
‫سرمستی‬
‫فطری مم ث ت موجود ہ ۔‬ ‫چند تشبیہ ت مالحظہ ہوں۔ اردو س‬
‫مژگ ں تیر ب رانی' کردی ں ابرو کیش کم نی‬
‫مژگ ں تیر ب رانی' کریں ابرو کیش کم نی‬
‫‪........‬‬
‫حسن دی نور تج ی سچل' ل ل ی قوتی رخ ت‬

‫حسن کی نور تج ی سچل' ل ل ی قوتی رخ پر‬
‫‪........‬‬
‫مژگ ں گزہن زور مح دی ں' ابرو کج کم ن‬

‫مژگ ں گزہن زور مح دی ں' ابرو چھپ کم ن‬

‫اردو اور پنج بی کی مشترک اصطالح ت مالحظہ مالحظہ ہوں۔‬
‫زاہد' ع بد' مالں' ق ضی کر دے ی د گزشت ں نوں‬
‫‪.........‬‬
‫جمع الجمع ک بطور جمع است م ل دیکھی ۔‬
‫اس اسم‬
‫اس می اسم‬
‫‪........‬‬
‫عش‬ ‫عش‬
‫عش ق ں عش‬
‫‪........‬‬
‫عش '‬ ‫ع شق ں' عش‬
‫ابی ض کنوں‬ ‫عش دی آیت پڑھی ع شق ں' حسن وال‬
‫عش‬ ‫عش‬
‫بھی وقت اوہیں د ' سر دی چ ون طمع‬ ‫ویکھ عش‬
‫عش ق ں عش‬
‫عش ق ں کوں آ کرے اسیری' عش والی اس وبی‬
‫نئی نہیں۔ مثال‬ ‫لی‬ ‫پنج بی کی ت میح ت اردو والوں ک‬
‫ج ج‬ ‫سچل سو سکندر جیئ ' ب نہ ں بدھ‬
‫‪........‬‬
‫مونہہ محبو دا صحیح صحی ہ' کردے دور نواب ں‬
‫مخ تف نہیں۔‬ ‫عمومی چ ن س‬ ‫ال ظ ک است م ل اردو ک‬ ‫مت‬
‫مثال‬
‫خوش ہوون خونریزی کولوں' چ ل ست دی چ دے‬
‫چ ل' ست ' خونریزی‬
‫‪........‬‬
‫صورت ن ل ست رے چمکن' رنگ کریندے مکھ دے‬
‫صورت ‪ :‬رنگ‬
‫ست رے ‪ :‬چمکن‬
‫‪...................‬‬
‫تن ظر میں لس نی تی مط ل ہ‬ ‫ب ب فرید کی ش ری زب ن ک ' اردو ک‬

‫ب ب فرید صوفی ہی نہیں' خوش فکر' خوش بی ن اور خوش زب ن‬
‫ش عر بھی تھ ۔ ان کی س ت صدیوں س زی دہ پہ کی زب ن'‬
‫آج بھی اتنی ہی' ج بیت اور لس نی تی چ شنی رکھتی ہ ' جتنی‬
‫اس دور میں رکھتی ہو گی۔ اس ن چیز تحریر میں' ان کی زب ن‬
‫ک ' اردو ک لس نی تی نظ ک تن ظر میں' مط ل ہ پیش کی گی‬
‫ہ ۔ اس س یہ واضح ہوت ہ ' کہ ب ب فرید کی ش ری زب ن'‬
‫مق می اور مہ جر ال ظ ک حوالہ س ' اس اور اس عہد کی بین‬
‫االقوامی زب ن اردو س ' کس قدر قری ہ ۔‬
‫ب ب ص ح ک کال میں' بہت س اش ر خ یف سی تبدی ی س‬
‫اردو ک ح قہ میں داخل ہو ج ت ہیں مٹال‬
‫جگ کو‬ ‫میں ج نی دکھ مجھی کو دکھ سبھ ئ‬
‫ویکھی ت ں گھر گھر ایہ اگ‬ ‫اوپر چڑھ ک‬
‫جگ کو‬ ‫میں ج نی دکھ مجھی کو دکھ سبھ ئ‬
‫دیکھی تو گھر گھر یہ ہی آگ‬ ‫چڑھ ک‬ ‫اچ‬
‫‪......‬‬
‫آپ سنواریں میں م یں' میں م ی ں سکھ ہو‬
‫توں میرا ہو رہیں سبھ جگ تیرا ہو‬ ‫ج‬
‫سکھ ہو‬ ‫س‬ ‫آپ سنواریں میں م یں' میں م ن‬
‫اگر تو میرا ہو رہیں س جگ تیرا ہو‬
‫‪......‬‬
‫اجنبی نہیں ہیں۔ مثال‬ ‫لی‬ ‫اردو والوں ک‬ ‫ب ض مصرع‬
‫تپ تپ لوں لوں ہ تھ مروڑو‬
‫‪......‬‬
‫اٹھ فرید وضو س ز صبح نم ز گزار‬
‫‪......‬‬
‫ب نم زا کتی ! ایہ نہ بھ ی ریت‬
‫‪......‬‬
‫ج لی‬ ‫ہوں برہ‬ ‫پریت ک‬ ‫اپن‬
‫‪......‬‬
‫م رگ میرا‬ ‫اس اوپر ہ‬
‫‪......‬‬
‫نہ کو س تھی نہ کو بی ی‬
‫‪......‬‬
‫ہ ۔ مثال‬ ‫مت‬ ‫ب ض مصرعوں ک غ ل حصہ اردو س‬
‫ر م نہہ‬ ‫وس‬ ‫میں' خ‬ ‫فریدا خ ل خ‬
‫‪......‬‬
‫صبر اندر ص بری' تن ایویں ج لیں‬
‫‪......‬‬
‫شیخ حی تی جگ نہ کوئی تھر رہی‬
‫‪......‬‬
‫ب ض مصرع ' م مولی سی تبدی ی س ' اردو میں داخل ہو‬
‫ج ت ہیں۔ مثال‬
‫فریدا برے دا بھال کر غصہ من نہ ہنڈھ‬

‫فریدا برے ک بھال کر غصہ من نہ پ ل‬
‫‪......‬‬
‫ج گن ای ت ں ج گ فریدا' ہوئی آ ای پربھ ت‬

‫پربھ ت‬ ‫تو ج گ فریدا' ہو گئی ہ‬ ‫ج گن ہ‬
‫‪......‬‬
‫پہر پھ ڑا' پھل وی پچھ رات‬ ‫پہ‬

‫پہر پھ ڑا' پھل ہوا پچھ ی رات‬ ‫پہ‬
‫‪......‬‬
‫ر م نہہ‬ ‫وس‬ ‫میں' خ‬ ‫فریدا خ ل خ‬

‫ر میں‬ ‫بس‬ ‫میں' خ‬ ‫فریدا خ ل خ‬
‫‪......‬‬
‫ب ب ص ح ک ہ ں' مہ جر مست مل ال ظ ہی نہیں' اردو ک‬
‫مق می ال ظ بھی بڑی روانی س است م ل میں آئ ہیں۔ مثال‬
‫آپ' ات ر' اٹھ ئی' بیڑی' بھ ی' پ س' پ نی' پرائی' تن' تھوڑا' ٹھنڈا'‬
‫ج ' جگ' جو' جی' چھیڑی' دودھ ' دھن' رہی' سو' کوئی' ک '‬
‫کھ ' کبھی' گئی' گھر' لکھ' مت' میرا میری' میں' نہ‬
‫دیون گری خط والوں ک بہت س ال ظ ب ب ص ح ک ہ ں‬
‫است م ل ہوئ ہیں اور یہ ہندو عقیدہ رکھن والوں ک ہ ں ع‬
‫است م ل میں آت ہیں ت ہ اردو والوں ک لی بھی اجنبی نہیں‬
‫ہیں۔ مثال‬
‫آسن' بھ گ' پربھ ت' پربھو' پریت ' پریت' چت' دھر ' س دھ '‬
‫سمھ ر' سوہ گنی' سہ گن' ک لی' کرپ ' م رگ' م س' ن نک‬
‫ہ ں اردو مص در ک است م ل مالحظہ فرم ئیں۔ مثال‬ ‫بب صح ک‬
‫ج گن ‪ :‬ج گن ای ت ں ج گ فریدا' ہوئی آ ای پربھ ت‬
‫گھ نہ آئی‬ ‫ج ن مر ج یئ‬ ‫جن ‪:‬ج‬
‫کو‬ ‫ہ ں'اردو مص در کی مخت ف ح لتیں' پڑھن‬ ‫بب صح ک‬
‫م تی ہیں۔‬
‫ونج ں گھت‬ ‫اٹھ ن ‪ :‬بنھ اٹھ ئی پوٹ ی' کتھ‬
‫گھ نہ آئی‬ ‫ج ن مر ج یئ‬ ‫آن ' ج ن ‪ :‬ج‬
‫ج ن ‪ :‬رہی سو بیڑی ہنگ دی' گئی کھتوری گندھ‬
‫کمالء‬ ‫کتی جوبن پریت بن سک گئ‬
‫توں میرا ہو رہیں سبھ جگ تیرا ہو‬ ‫رہن ‪ :‬ج‬
‫کھ ن ‪ :‬ک گ کرنگ ڈھنڈلی سگال کھ ی م س‬
‫جی سہ‬ ‫سہن ‪ :‬ج لن گوراں ن ل اوالہم‬
‫ہون ‪ :‬ب دل ہوئی سو شوہ لوڑو‬
‫اردو میں پک رن ی مخ ط کرن ک لی ' آخر میں الف ا‬
‫بڑھ دی ج ت ہ ۔ ب ب ص ح ک ہ ں یہ ہی چ ن پڑھن کو م ت‬
‫ہ ۔ مثال‬
‫ب نم زا کتی ! ایہ نہ بھ ی ریت‬
‫مترادف ال ظ ک است م ل مالحظہ ہو‪ .‬یہ مرک اردو والوں ک‬
‫لی ق بل ت ہی ہیں۔‬
‫اٹھ فرید وضو س ز صبح نم ز گزار‬
‫وضو س ز‬
‫م ہو میں‬ ‫وضو س زن ' وضو بن ن ک‬
‫م ہو میں۔ نم ز گزارن‬ ‫نم ز گزارن ‪ :‬نم ز ادا کرن ' پڑھن ک‬
‫اردو میں ع است م ل ک مہ ورا ہ ۔‬
‫وضوس جن ' وضو بن ن ' وضو سج ن ' وضو کرن وغیرہ بھی اردو‬
‫میں مست مل ہیں۔‬
‫اس اور ص تی س بقوں' جو ب ق عدہ ل ظ ہیں' س ترکی پ ن‬
‫وال یہ مرکب ت' اردو والوں ک لی ن ق بل فہ نہیں ہیں۔‬
‫بھ ی ریت‪ :‬ب نم زا کتی ! ایہ نہ بھ ی ریت‬
‫ٹھنڈا پ نی پی‬ ‫ٹھنڈا پ نی‪ :‬رکھی سکی کھ ء ک‬
‫پچھ ی رات‪ :‬پچھ ی رات نہ ج گیوں جیوندڑو مویوں‬
‫دور گھر‪ :‬گ یں چکڑ' دور گھر' ن ل پی رے نیہہ‬
‫ک لی کوئل‪ :‬ک لی کوئل تو کت گن ک لی‬
‫جھوٹی دنی ‪ :‬جھوٹی دنی لگ نہ آپ ونج ئی‬
‫اس اور ص تی الحقوں' جو ب ق عدہ ل ظ ہیں' س ترکی پ ن‬
‫وال یہ مرکب ت' اردو والوں ک لی ن ق بل فہ نہیں ہیں۔‬
‫لکھ نہ لیکھ‬ ‫عقل لطیف ک ل‬ ‫عقل لطیف‪ :‬ج‬
‫در درویشی‪ :‬در درویشی گ کھڑی' چالں دنی بھت‬
‫لی‬ ‫ا کچھ تشبہی مرکب ت مالحظہ فرم ئیں۔ یہ اردو والوں ک‬
‫نئ نہیں ہیں۔‬
‫تن سمندر‪ :‬تن سمندر' ار لہر' ار ت رو تریں اینک‬
‫تن سک پنجر‪ :‬تن سک پنجر تھی ت ی ں کونڈن ک گ‬
‫تنور جیوں ب لن ہڈ ب ن‬ ‫تنور‪ :‬تن تپ‬ ‫تن تپ‬
‫اردو میں جمع بن ن ک لی ' زی دہ تر یں' یوں اور یوں ک‬
‫الحق است م ل میں الئ ج ت ہیں۔ ب ب ص ح ک ہ ں بھی‬
‫جمع بن ن ک لی ان الحقوں ک است م ل ہوا ہ ۔ مثال‬
‫یں‬
‫بج ی ں‪ :‬کنک کونج ں' چیت ڈوہنہہ' س ون بج ی ں‬ ‫بج ی س‬
‫پنکھی ں‪ :‬ہوں ب ہ ری تنھ ں پنکھی ں جنگل جنھ ں‬ ‫پنکھ س‬
‫واس‬
‫مٹھی ں‪ :‬سبھو وستو مٹھی ں' ر نہ پچن تدھ‬ ‫مٹھی س‬
‫م ڑی ں‪ :‬کوٹھ منڈپ م ڑی ں ایت نہ الئیں چت‬ ‫م ڑی س‬
‫محل م ڑی ں ع است م ل ک مرک رہ ہ ۔‬
‫یں‬
‫کجھوریں‪ :‬ر کجھوریں پکی ں م کھی نئیں دہن‬ ‫کجھور س‬
‫مسجدیں‪ :‬امید مسجدیں ابو تھی ں' اکھ ں ر سوار‬ ‫مسجد س‬
‫ب ' ن ی ک س بقہ ہ اور اردو میں ع است م ل ہوت ہ ۔ ب ب‬
‫ص ح ک ہ ں' اس س بق ک است م ل اردو ک چ ن رکھت ہ ۔‬
‫ب نم زا کتی ! ایہ نہ بھ ی ریت‬
‫ن نک سو سوہ گنی جو بھ وے ب پرواہ‬
‫ہ ں کچھ اس طرح‬ ‫اردو ک م روف الحقہ گزار ب ب ص ح ک‬
‫س است م ل ہوا ہ ۔‬
‫اٹھ فرید وضو س ز صبح نم ز گزار‬
‫م نوں میں است م ل ہوا‬ ‫یہ ں گزار' پڑھ ک‬
‫کی خو صورت مصرع ہیں۔ ف عل اور ف ل ک فطری‬
‫است م ل' دیکھی ۔ اردو' عربی اور ف رسی ک ' یہ ہی چ ن ہ ۔‬
‫ر م نہہ‬ ‫وس‬ ‫میں' خ‬ ‫فریدا خ ل خ‬
‫ر میں‬ ‫بس‬ ‫میں' خ‬ ‫فریدا خ ل خ‬
‫‪......‬‬
‫صبر اندر ص بری' تن ایویں ج لیں‬

‫صبر اندر ص بری' تن یوں ہی ج لیں‬
‫ب ب ص ح ک است رتی طرز تک خو ہ ' اردو والوں ک‬
‫غیرم نوس نہیں۔‬
‫الہ‬ ‫ٹب‬ ‫فریدا من میدان کر ٹوئ‬
‫مول نہ آؤ سی دوزخ سندی بھ‬ ‫اگ‬
‫ب ب ص ح ک ہ ں است م ل ہون والی ت میح ت' زی دہ تر مہ جر‬
‫اور اردو میں مست مل ال ظ پر مشتمل ہوتی ہیں۔ مثال‬
‫اٹھ فرید وضو س ز صبح نم ز گزار‬
‫مول نہ آؤ سی دوزخ سندی بھ‬ ‫اگ‬
‫اسم ن فریدا' کھیوٹ کن گئ‬ ‫زمی پچھ‬
‫جی سہ‬ ‫ج لن گوراں ن ل اوالہم‬
‫تیں ص ح کی میں س ر نہ ج نی‬
‫بیچ دھر ' جھوٹھ نہ بولیئ‬ ‫بولیئ‬
‫شیخ حی تی جگ نہ کوئی تھر رہی‬
‫فریدا درویشی گ کھڑی' چوپڑی پریت‬
‫امید مسجدیں ابو تھی ں' اکھ ں ر سوار‬
‫اردو میں مونث بن ن ک لی ' آخر میں چھوٹی ی ی ک‬
‫است م ل کرت ہیں۔ یہ ہی طور' ب ب ص ح ک کال میں م ت‬
‫ہ ۔‬
‫کمب ی‪ :‬بھجو سجو کمب ی هللا ورسو مینہ‬
‫ک لی‪ :‬ک لی کوئل تو کت گن ک لی‬
‫اکی ی‪ :‬ودہن کھوہی مند اکی ی‬
‫اردو میں مذکر بن ن ک لی ' آخر میں الف ا ک است م ل کرت‬
‫ہیں۔ یہ ہی طور' ب ب ص ح ک کال میں م ت ہ ۔‬
‫پہر پھ ڑا' پھل وی پچھ رات‬ ‫پھ ڑا‪ :‬پہ‬
‫ج گدا‪ :‬تو ست ر ج گدا تیری ڈاہڈے ن ل پریت‬
‫الگ تر انداز‬ ‫ب ب ص ح ک ہ ں تکرار ل ظی و حرفی اردو س‬
‫و رویہ نہیں رکھت ۔ مثال‬
‫ر م نہہ‬ ‫وس‬ ‫میں' خ‬ ‫فریدا خ ل خ‬
‫تپ تپ لوں لوں ہ تھ مروڑو‬
‫ک لی کوئل تو کت گن ک لی‬
‫ویڑا سو عمر ہتھ پون‬ ‫جو جو ونج‬
‫آپ سنواریں میں م یں' میں م ی ں سکھ ہو‬
‫‪......‬‬
‫لکھ نہ لیکھ‬ ‫عقل لطیف ک ل‬ ‫ج‬
‫ٹھنڈا پ نی پی‬ ‫رکھی سکی کھ ء ک‬

‫نہ تی دھوتی سنبی' ستی آء نچند‬

‫کچرک ت ئیں نیر‬ ‫بھ نڈے رکھیئ‬ ‫کچ‬

‫ب ب ص ح ک کال میں' ہ صوت ال ظ ک است م ل' کم ل‬
‫ہنرمندی س ہوا ہ ۔ یہ رویہ' اردو ش ر وسخن میں بھی م ت‬
‫ہ ۔‬
‫ودہن کھوہی مند اکی ی‬
‫نہ کو س تھی نہ کو بی ی‬
‫بھجو سجو کمب ی هللا ورسو مینہ‬
‫ٹھنڈا پ نی پی‬ ‫رکھی سکی کھ ء ک‬
‫نہ تی دھوتی سنبی' ستی آء نچند‬
‫میں متض د ل ظوں ک است م ل مالحظہ فرم ئیں۔‬ ‫ایک ہی مصرع‬
‫فریدا برے دا بھال کر غصہ من نہ ہنڈھ‬
‫اسم ن فریدا' کھیوٹ کن گئ‬ ‫زمی پچھ‬
‫‪:‬ب ب ص ح کی زب ن ک مہ ورہ مالحظہ ہو‬
‫ونج ں گھت‬ ‫پوٹ ی اٹھ ن ‪ :‬بنھ اٹھ ئی پوٹ ی' کتھ‬
‫ج ن ں شوہ نڈھڑا تھوڑا م ن کریں‬ ‫م ن کرن ‪ :‬ج‬
‫دوسری زب ن ک ل ظ' اپن کرن ک حوالہ س ' زب نوں میں‬
‫آوازوں ک تب دل بڑی ع سی ب ت ہ ۔ یہ م م ہ بول چ ل اور‬
‫عمومی لہجہ اور چ ن س ت کرت ہ ۔ ب ب ص ح ک ہ ں'‬
‫اس کی مث لیں م تی ہیں۔ مثال آواز کی متب دل آواز و ہ‬
‫جیس ب چ رہ' ‪ ....‬پرانی تحریر میں بیچ رہ‪ ....‬س وچ رہ'‬
‫بردان س وردان' بدوا س ودوا وغیرہ۔ ب ب فرید ص ح ک‬
‫ہ ں یہ تب دل پڑھن کو م ت ہ ۔‬
‫گریواں‬ ‫گریب ں س‬
‫گریواں میں سر نیواں کر ویکھ‬ ‫گریواں‪ :‬اپن‬
‫ک چنمت‬ ‫راجھست نی اور میواتی میں ا اور ہ کو و میں بدلن‬
‫مقصورہ ہ نہیں‬ ‫ہ ۔ ح الں کہ ان میں الف موجود ہ ہ ں ح ئ‬
‫جس ک تب دل واؤ و است م ل ہوت آ رہ ہ جیس‬
‫ہونس و‬ ‫انڈو ی حوص ہ س‬ ‫انڈا س‬
‫ہ ں بھی یہ طور م ت ہ ۔‬ ‫بب صح ک‬
‫بھجو سجو کمب ی هللا ورسو مینہ‬
‫ورس‬ ‫برس س‬
‫ورسو‪ :‬برس ی‬
‫ک واؤ و میں تب دل مالحظہ ہو‬ ‫ب‬
‫ہوں ب ہ ری تنھ ں پنکھی ں جنگل جنھ ں واس‬
‫واس‬ ‫بسس‬
‫جنگل واس‬ ‫جنگل ب س س‬
‫جنگل واسی‬ ‫جنگل ب سی س‬
‫دال د ک تب دل و‬
‫بھ گ‬ ‫سو ر نہ بوہڑیو ویکھ بندے ک‬ ‫اج‬
‫ویکھ‬ ‫دیکھ س‬
‫دال د ک تب دل ت‬
‫تو ست ر ج گدا تیری ڈاہڈے ن ل پرییت‬
‫ج گدا‬ ‫ج گت س‬
‫اسم ن فریدا' کھیوٹ کن گئ‬ ‫آ ک تب دل ا‪ :‬زمی پچھ‬
‫اسم ن‬ ‫آسم ن س‬
‫زب نوں میں آوازیں گران اور بڑھ ن ' ع سی ب ت ہ ۔ مثال واؤ‬
‫کی آواز گرا کر' ل ظ ک است م ل مالحظہ ہو۔‬
‫ٹھنڈا پ نی پی‬ ‫رکھی سکی کھ ء ک‬
‫یہ مصرع اردو میں ڈھل سکت ہ ۔‬ ‫م مولی سی تبدی ی س‬
‫روکھی سوکھی کھ کر ٹھنڈا پ نی پی‬
‫ٹھنڈا پ نی پی‬ ‫رکھی سکی کھ ک‬
‫بھی اجنبی نہیں‬
‫واؤ کی آواز گرا کر' ل ظ ک است م ل مالحظہ ہو‬
‫ج ں کواری ت ں چ ؤ وداہی ت م م‬
‫ن کی آواز گرائی گئی ہ‬
‫کواری‬ ‫کنواری س‬
‫ع کی آواز گرائی گئی ہ‬
‫مم‬ ‫س‬ ‫م م‬
‫اس‬ ‫ق س‬ ‫ہیں' تبھی ان ک‬ ‫گہرا رشتہ رکھت‬ ‫وہ سم ج س‬
‫نہج ک ش ر نک ت ہیں۔ یہ ش ر فص حت و بالغت ک عمدہ‬
‫نمونہ ہی نہیں' اس ک مزاج بھی اردو ک قری تر ہ ۔‬
‫جگ کو‬ ‫میں ج نی دکھ مجھی کو دکھ سبھ ئ‬
‫ویکھی ت ں گھر گھر ایہ اگ‬ ‫چڑھ ک‬ ‫اچ‬
‫عقیدہ وحدت الوجود س مت ' اس ش ر کو دیکھیں اور‬
‫خواجہ درد ص ح ک ش ری اس و ک ' مط ل ہ فرم ئیں۔‬
‫آپ سنواریں میں م یں' میں م ی ں سکھ ہو‬
‫توں میرا ہو رہیں سبھ جگ تیرا ہو‬ ‫ج‬
‫شخص اپن مقدر خود بن ت ہ ' اس نظری ک تحت' یہ ش ر‬
‫ق بل توجہ ہ ۔ اس ش ر ک ش ری اس و و مزاج' اردو ک‬
‫قری تر ہ ۔‬
‫لکھ نہ لیکھ‬ ‫عقل لطیف ک ل‬ ‫ج‬
‫اردو اور دیگر زب نوں ک لس نی تی اشتراک‬

‫ہیں کہ‬ ‫آت‬ ‫یہ نظری ت م روف چ‬ ‫مت‬ ‫اردو ک‬
‫وہ لشکری زب ن ہ ۔‬
‫نک ی ہ ۔‬ ‫وہ پنج بی س‬
‫ل ظوں ک اشتراک س گم ن گزرت لگت ہ کہ اردو ان‬
‫زب نوں س ترکی پ ئی ہ ی ان س نک ی ہ ۔ اپنی اصل میں‬
‫یہ کسی زب ن س نہیں نک ی ی دوسری زب نیں اس س برآمد‬
‫نہیں ہوئیں۔ زب نیں عالق ئی ضرورت ک تحت ترکی و تشکیل‬
‫پ تی ہیں۔ ان ک ہر ل ظ ک اپن ک چر ہوت ہ اور وہ اس عالقہ‬
‫ک م حول' ح الت' ضروری ت' م مالت' حوادث اور موسموں ک‬
‫پرتو ہوت ہ ۔ بدلت ح الت ک تحت ان میں م نوی' نحوی اور‬
‫ہئتی تبدی ی ں آتی رہتی ہیں۔ ب ض ال ظ زندگی ک بدلت‬
‫سین ریو ک تحت' متروف ہو ج ت ہیں' ی کچھ ک کچھ ہو‬
‫ج ت ہیں۔ مق می اور بدیسی زب نوں ک ال ظ' ان میں داخل‬
‫ہوت رہت ہیں۔ ت ظ م نی است ماللت میں' انہیں اس زب ن کی‬
‫انگ ی پکڑن پڑتی ہ ۔ دنی کی کوئی بھی زب ن دیکھ لیں' وہ اس‬
‫س برعکس نہ ہوگی۔ اس ک ذخیرہءال ظ میں ان گنت بدیسی‬
‫ی نی مہ جر ال ظ میں ہیئتی اور ت ہیمی تبدی ی ں نظر آئیں گ ۔‬
‫عربی اور ف رسی والوں ک ' برصغیر س عرصہ دراز س ت‬
‫چال آت ہ ۔ ان کی زب نوں ن ' یہ ں کی زب نوں پر' اپن اثرات‬
‫مرت کی ‪ .‬ان کی زب نوں ک ب شم ر ل ظ' یہ ں کی زب نوں‬
‫میں داخل ہو گی ' جو آج ان زب نوں ک ' حصہ لگت ہیں۔ درج‬
‫سطور میں' کچھ زب نوں ک لس نی اشتراک ک ج ئزہ لی گی ہ ۔‬
‫ممکن ہ یہ حقیر س ک ' زب نوں پر ک کرن والوں ک کسی‬
‫ک ک نک ۔‬
‫‪....................‬‬
‫اردو‬

‫کس کی شوخی تحریر ک‬ ‫نقش فری دی ہ‬
‫پیرہن ہر پیکر تصویر ک‬ ‫ک غذی ہ‬
‫غل‬
‫کی ک‬ ‫ہ‬
‫کس‬
‫م خذ ی اس کی مترداف صورت‬ ‫س‬ ‫کس' کس‬
‫کس شخص' ج نور راس' ج کہ چیز ک لی عدد مست مل ہ ۔‬
‫مثال فی کس ایک شخص مرد اور عورت دونوں ک لی ' ایک‬
‫راس بیل گ ئ ی کوئی بھی ج نور' ایک عدد ٹی وی نمبری۔۔۔۔۔‬
‫مست مل‬ ‫لی‬ ‫زیر ہ ۔ یہ شخص ک‬ ‫نی چ‬ ‫کس میں ک ف ک‬
‫ہ ۔ مثال‬
‫کس کی ہ ۔‬ ‫یہ گ ئ‬
‫یہ گ ڑی کس کی ہ ۔‬
‫یہ ب ت ا کس کس کو بت ؤں۔‬
‫کس کس کی خبر لی ج ئ ۔‬ ‫یہ ں تو پورا م شرہ ہی مت ثر ہ‬
‫مراد شخص ہ ۔ کسی' کس ' کسو‬ ‫چ روں جم وں میں کس س‬
‫اسی کی اشک ل ہیں۔‬
‫ب وچی‬
‫چﻨـﺪے ھﻢ خی لیں ی ر‬ ‫یک شـﭙ‬
‫ھـﻤﺪل و ھـﻤﺼﺪ و سﺨﻦ سﯿﻨگ ر‬
‫دل پﺮ از مھﺮﺀ قﻮمی ھـﻤﺪردی‬
‫آتک انﺖ پﻪ قﺼـﺪ گﻨﺪک و دیـﺪار‬
‫موالن عبدهللا روانبد‬
‫)س دی ب وچست ن(‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫یک' ی ر' ھـﻤ ﺪل' و ھـﻤ ﺼﺪ ' و سﺨﻦ' دل' پﺮ' از' مھﺮﺀ' قﻮمی'‬
‫ھـﻤ ﺪردی' پﻪ' قﺼـﺪ' دیـﺪار‬
‫آتک انﺖ‬
‫شـﭙ ' چﻨـﺪے' ھﻢ خی لیں' سﯿﻨگ ر‬
‫شـﭙ‬
‫شب‬ ‫ش س‬ ‫کی متب دل آواز ہ‬ ‫پ' ب‬ ‫پ‬
‫یک ش‬ ‫یک شب‬
‫ایک رات‬
‫خی لیں مترداف ہ خی لوں‬
‫ی واؤ ک تب دل ہ ۔‬
‫خی لیں مترداف ہ خی لوں‬
‫سﯿﻨ' میں ہ گرا دی گئی ہ ۔‬
‫وال ۔ جن ک‬ ‫ج نن‬ ‫سین گ ر' سینہ گ ر‪ :‬من کی کہی ک‬
‫سینوں میں ایک سی چل رہی ہو۔‬
‫ھﻢ‬
‫اردو ک م روف س بقہ ہ ۔ مثال ہ راز' ہ درد' ہ نشین وغیرہ‬
‫ب وچی میں ہ کی آواز ہ اور بھ ری آواز ھ مست مل ہیں۔‬
‫ہ کی آوازوں کی جگہ بھ ری اور بھ ری آوازوں کی جگہ ہ کی'‬
‫آوازوں ک است م ل' اردو میں بھی ہوت آی ہ ۔ یہ کوئی الگ‬
‫س ب ت نہیں۔‬
‫گر‬
‫سﯿﻨگ ر‪ :‬گ ر' اردو میں است م ل ک الحقہ ہ ۔ مثال بیگ ر'‬
‫روزگ ر' خدمت گ ر' ک مگ ر‬
‫گ ر اپنی اصل میں ک ر ک مترادف اور ہ مرتبہ الحقہ ہ ۔‬
‫خی لیں' ہمخی ل' ہ خی ل‬
‫و‬
‫ھـﻤﺪل و ھـﻤﺼﺪ و سﺨﻦ سﯿﻨگ ر‬
‫ک انداز اردو میں بھی مست مل رہ ہ ۔‬ ‫ل ظ س تھ مال کر لکھن‬
‫واؤ الگ س نہیں بولت اردو کی طرح مال کر بولت ہیں‬
‫جیس ش و روز' عدل و انص ف' بندہ و آق ۔ یہ طور اردو ک‬
‫‪.‬مط ب ہ‬
‫پنج بی‬
‫اس تھیں چنگ‬ ‫عش نہ رچی کت‬ ‫جس دل‬
‫ننگ‬ ‫م لک دے گھر راکھی کر دے ص بر بھک‬
‫می ں محمد بخش‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫جس' عش ' نہ' کت ' اس' م لک' گھر' کر' ص بر' ننگ‬
‫اشک لی تبدی ی ں‬
‫رچی ' دل ' راکھی' دے' بھک‬
‫دل‬
‫دل میں' ک لی ے ک اض فہ۔ ل ظ دل ل ہ ' ال مشدد ہ ۔‬
‫ل ظ دل میں' دل واضح آواز میں ہ اور یہ اردو والوں ک‬
‫لی غیرم نوس نہیں‬
‫دے‬
‫ک ف ک تب دل د ہ ۔‬
‫راکھی رکھوالی‬
‫بھی ہ ۔‬ ‫لی‬ ‫اور رکھن تحویل ک‬ ‫ہ‬ ‫رکھ رکھن س‬
‫بھوک‬ ‫بھک‬
‫میں واؤ کی آواز گرائی گئی ہ ۔‬ ‫بھک‬
‫تھیں‬
‫تھیں مترادف س‬
‫چنگ‬
‫اور یہ ل ظ' پنج بی نہیں۔ چنگڑ ایک‬ ‫چنگ س ترکی پ ی ہ‬
‫قو بھی ہ ۔‬
‫رچی‬
‫رچ بس ج ن‬
‫رچن بسن‬
‫ن س شیط ن نیں بی ی تیرے' دنی تیری حور‬
‫نیں دستور‬ ‫گھوڑے اک برابر' پٹھ‬ ‫کھوت‬
‫بندے ب قصور‬ ‫ٹنگ‬ ‫صدی ں سولی ت‬
‫لکر‬ ‫جبر قہر دی ہر پ س‬ ‫ظ ' ست ت‬
‫م لک دے درب ر ج ن م لک دے درب ر‬
‫صوفی نی مت ع ی‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫ن س' شیط ن' تیرے' دنی ' تیری' حور' گھوڑے' اک' برابر'‬
‫دستور' صدی ں' سولی' ب قصور' ظ ' ست ' جبر' قہر' ہر' ل ک ر'‬
‫م لک' درب ر' ج ن‬
‫بی ی‬
‫مقصورہ ہ کی متب دل آوازیں‬ ‫سین کی اور ی ح‬ ‫ب ی ی م یں ب‬
‫ہیں گوی یہ ل ظ اپنی اصل میں سہی ی ہ ۔ یہ ں ہم رے ہ ں‬
‫سہی ی عورتوں کی ب ہمی دوستی اور بی ی مردوں کی ب ہمی‬
‫دوستی ک لی مست مل ہ ۔‬
‫بندہ‬
‫ہیں اور اردو میں‬ ‫بندہ کی پنج بی میں جمع بندے ترکی دیت‬
‫ل ظ بندے غیر م نوس نہیں۔‬
‫بندہ' خ وند کھس ک لی بھی بوال ج ت ہ ۔ اردو میں' مکتوبی‬
‫صورت خص ہ اور اس ک عربی م نی دشمن ہیں۔ دشمنی‬
‫ک لی خصومت ہی مست مل ہ ۔‬
‫ت ' دے‬
‫اور دال ک ف کی متب دل آوازیں ہیں۔‬ ‫ت ' دے‪ :‬ت‬

‫پشتو‬
‫وړ مســــتقبل تﻪ د مـ ضي روای ت‬
‫زہ د خپل حـ ل د ولـــولـو ســرہ ځ‬
‫ب ب غنی‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫وړ ' مســــتقبل' مـ ضي' روای ت' حـ ل' ولـــولـو‬
‫سرائیکی‬
‫ہئی اوق ت' اڑائیں رکھ آی ں‬ ‫کی شئ‬
‫میں ت ں اپنی ذات اڑائیں رکھ آی ں‬
‫اقب ل سوکڑی‬
‫اوق ت' وہ ں رکھ آی ہوں‬ ‫ہ‬ ‫کی شئ‬
‫میں تو اپنی ذات وہ ں رکھ آی ہوں‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫کی ' شئ ' اوق ت' رکھ' اپنی' میں' ذات‬
‫اوق ت' اردو میں بھی وق ت اور حیثیت ک لی مست مل ہ ۔‬
‫مثال اپنی اوق ت میں رہو۔ ی نی اپنی حیثیت میں رہو۔‬
‫آی ں‬
‫آی ں‪ :‬میں ں حشوی نہیں' بل کہ ہوں ک لی ہ ۔ اس میں ہو‬
‫گرا دی گی ہ اور ں ہوں ک لی است م ل ہوا ہ ۔‬
‫اڑائیں‪ :‬اڑائی' دور کر دی' ترک کر دی' گزار دی' توجہ نہ دی۔‬
‫مثال اس ن میری ب ت ہوا میں اڑا دی۔ ں ک حشوی است م ل ہوا‬
‫ہ اور یہ کوئی نئی ب ت نہیں۔‬
‫ی نی جہ ں تھ ' وہیں۔‬ ‫یہ ں مراد وہ ں ہ‬
‫رکھ آی ں‪ :‬ب م نی رکھ آی ہوں' ع است م ل ک مح ورہ ہ ۔‬
‫ت ں‪ :‬تو‬
‫ک مترادف ہ ۔‬ ‫ہئی ہ‬
‫سندھی‬
‫وحدت ں کثرت تی' کثرت وحدت کل‬
‫ح حقیقی ھیکثرو'یو الیئی می پل‬
‫ھو ھ ال چوھل' ب هللا سندوسحیٹین‬
‫ش ہ عبد الطیف بھٹ ئی‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫کثرت' کثرت' وحدت' کل' ح ' حقیقی' ب هللا‬
‫ھو ھال چوھل' م روف مہ ورہ ہ ۔ ج وحدت میں کثرت ی‬
‫کثرت میں وحدت ک چرچ ہو تو ح ل ک آن اور ہون فطری سی‬
‫ب ت ہ ۔ کم ل ک لی عش عش ی واہ واہ ک منہ س نک ن‬
‫اختی ری نہیں۔ انص ف ک تق ض بھی یہ ہی ہ ۔‬
‫اور سین کی متب دل آواز ہ ۔‬ ‫چ 'ت‬
‫ھو ھال تو ھل' ھو ھال سوھل‬
‫تو اس س‬ ‫ج عرف میں آئ‬ ‫سندوسحیٹین‪ :‬فقط هللا ہی ہ‬
‫خرابی خت ہوگی تو سندوسحیٹین ی نی امن ام ن حسن بہتری‬
‫وغیرہ تو گی۔ یہ ہی تو ح اور س س بڑی سچ ئی ہو گی۔‬
‫وحدت اں ھی کثرو‪ :‬اک ئی اپن اندر بہت کچھ رکھتی ہ ۔ ت ثیر'‬
‫کم ل تصرف کی ب شم ر صورتیں۔ ی نی وہ ایک ہ اور وہ‬
‫ایک اپن ب طن میں بہت کچھ لی ہوئ ہ ۔ ان ک اظہ ر بھی‬
‫کثرث میں آئ گ ۔ اظہ ر کی کثرت احد پر سند ہو گی۔ کثر ث‬
‫س ہ نہ کہ سین س ۔ ث جمع ک لی ہ اور سین ن ی‬
‫ک لی ۔‬
‫عربی‬
‫مریدی ھ و ط واشطح و غنی‬
‫واف ل م تش ف الس ع لی‬
‫حضرت شیخ عبدالق در جیالنی‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫ف ل مریدی' و' ط ' ع لی' غنی‬
‫الس ‪ :‬اس‬
‫ف رسی‬
‫خدا خود میر مج س بود اندر المک ں خسرو‬
‫کہ من بود‬ ‫محمد شمع مح ل بود ش ج ئ‬
‫امیر خسرو‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫خدا خود میر مج س اندر المک ں خسرو' محمد' شمع' مح ل' ش‬
‫ج ئ ' کہ‬
‫بود' من' بود‬
‫پن ہ‬ ‫نم ز' ج ئ‬ ‫جئ‬ ‫جئ‬
‫ہرج‬ ‫ج‬
‫اے محق ذات ح ب ص ت‬
‫تج ی ہیچ کہ اظہ ر نیست‬ ‫ب‬
‫ل ل شہب ز ق ندر‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫اے' محق ' ذات' ح ' ب ص ت' ب تج ی' ہیچ' کہ' اظہ ر‬
‫نیست‬
‫نیستی ک م را عمومی است م ل میں ہ ت ہ م ہی بدل گی ہیں‬
‫اور یہ کوئی انوکھی اور الگ س ب ت نہیں۔ غری م س' خص‬
‫خ وند' رق پیسوں وغیرہ ایسی سیکڑوں مث لیں موجود ہیں۔‬
‫نہوست ک حوالہ س بھی' ل ظ نیستی بوال ج ت ہ ' ت ہ نہی‬
‫اور ب ک ر ک زی دہ قری ہ ۔‬
‫اردو میں ب کثرت است م ل میں آت‬ ‫ب اور ب ' دونوں س بق‬
‫ہیں۔ مثال‬
‫ب ‪ :‬ب کردار' ب ہوش' ب م نی‬
‫ب ‪ :‬ب ک ر' ب وقوف' ب مط‬
‫گوجری‬

‫ش راں ک یہ منک موتی دل تروڑ بن ی‬
‫تند پریمی وچ پروی بنی غزل نمون‬
‫رفی ش ہد‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫ک ' یہ' منک ' موتی' دل' بن ی ' تند' غزل' نمون ' پریمی‬
‫ش راں' تروڑ' پریمی' وچ' بنی‬
‫لی‬ ‫ک‬ ‫بل کہ مت ثر کرن‬ ‫تروڑ‪ :‬توڑ یہ ں مراد توزن نہیں ہ‬
‫ہ ۔‬
‫اجنبی اور غیر‬ ‫لی‬ ‫پروی ‪ :‬مراد پرو دی ۔ پروی اردو والوں ک‬
‫م نوس نہیں۔‬
‫وچ‪ :‬میں' اندر‬
‫اور‬ ‫واؤ ک تب دل ایف ہ‬ ‫لی‬ ‫ک‬ ‫ش راں‪ :‬ش روں' جمع بن ن‬
‫یہ ف رسی طور ہ ۔ مثال‬
‫چراغ ں‬ ‫چرا س‬
‫ہوئ‬ ‫بز ' چراغ ں کی‬ ‫ذو قدح س‬
‫پری س پریمی' ی ک اض فہ کرک م ہو س لی گی ہ ت ہ‬
‫اس س مراد' پری کرن واال ہ ۔ اس ل ظ کی بنی دوں میں‬
‫م ہو محبت ہ ' یہ ں بھی محبت ک عنصر غ ئ نہیں۔‬
‫اردو میں یہ ل ظ ن مونوس نہیں۔‬
‫نمون کو ح ئ مقصورہ ک س تھ بھی لکھ ج ت ہ ۔ نمونہ۔‬
‫ح ئ مقصورہ ک الف میں تب دل ی الف ح ئ مقصورہ میں‬
‫تب دل کوئی نئی ب ت نہیں۔ مثال پت پتہ' راج راجہ' پہرا پہرہ‬
‫وغیرہ۔ آواز ک مط ب تج ی س تجال' ف صال ف ص ہ' حوصال‬
‫حوصال‬
‫بنی میں' ی ک حشوی است م ل ہوا ہ ' ورنہ بنی بھی ن موس‬
‫نہیں۔‬
‫ہندکو‬

‫اندر ی داں کہر مچ ی‬
‫نہیری آئی‬ ‫دوروں دوڑ ک‬
‫اجمل نذیر‬
‫اردو میں مست مل ل ظ‬
‫اندر' مچ ی ' دوڑ' ک ' آئی‬
‫ی داں' کہر' دوروں' نہیری‬
‫ی داں‬
‫ی داں ی دیں' ی دوں‬
‫دوروں‪ :‬دور س‬
‫نہیری‪ :‬آندھی‬
‫کہر‬
‫ک لی ' ہ صوت ہون ک سب ' ک بھی مست مل ہ ‪.‬‬
‫جیس قصور رومن میں ک س رواج میں ہ ' ج کہ ک‬
‫لی کیو اور یہ آواز موجود ہ ‪ .‬قبر' صوت میں کبر بھی سنن‬
‫کو م ت ہ ' ج کہ زیر کی صورت میں' م ہو کچھ اور ہو ج ت‬
‫ہ ۔ ق بض ک لی ک بض بھی سنن کو م ت ہ ۔‬
‫ی داں‬
‫ک لی گی ہ ۔‬ ‫ی داں میں واؤ کی متب دل آواز الف س‬
‫مخ وط‬
‫پ ک اے ابر کر‬ ‫ان فی عطش وسخ ک ات اے گیسوئ‬
‫برسن ہ رے ر جھ ر جھ دو بوند ادھر بھی گرا ج ن ں‬
‫ام احمد رض خ ں بری وی‬
‫ان فی عطش وسخ ک ات‬
‫پ ک اے ابر کر‬ ‫اے گیسوئ‬
‫برسن ہ رے ر جھ ر جھ‬
‫دو بوند ادھر بھی گرا ج ن‬
‫ان فی عطش وسخ ک ات‬
‫فی‬
‫فی‪ :‬اردو میں بھی مست مل ہ ۔ جیس فی الوقت' فی زم نہ' فی‬
‫کس۔ تینوں کی است م لی است م لی صورتیں' الگ تر ہیں۔‬
‫عط ش‬
‫اور‬ ‫ہ‬ ‫لی‬ ‫تش پی س ک‬ ‫ع کی متب دل آواز ت ہ ۔ جیس‬
‫پی س کو تشنہ کہ ج ت ہ ۔‬
‫و‬
‫و‪ :‬ش و روز‬
‫سخ ک‬
‫سخ ‪ :‬جود و سخ‬
‫ات ‪ :‬اتم حجت اردو میں مست مل ہ ۔‬
‫برسن ہ رے ر جھ ر جھ‬
‫برسن برسن‬
‫اردو میں ہ رے عمومی است م ل میں نہیں' ہ ں البتہ اردو گیتوں‬
‫میں' اس س بہت س ل ظ' پڑھن اور سنن کو مل ج ئیں‬
‫گ ۔ ل اور اس وبی اعتب ر س ' یہ ن تیہ کال ' صنف گیت س‬
‫قری ترین ہ ' اس لی یہ ل ظ متن میں اپن م ہی واضح کر‬
‫رہ ہ ۔ مرک ر جھ ' ہ رے اور برسن ک م ہی تک رس ئی‬
‫میں م ونت کر رہ ہ ۔‬
‫پ ک اے ابر کر‬ ‫اے گیسوئ‬
‫یہ ٹکڑا' ب طور ف رسی داخل متن ہ ' ج کہ اردو والوں ک‬
‫لی نی نہیں' بل کہ اردو ک ہی م و ہوت ہ ۔‬
‫ب وچی کال ک لس نی تی اشتراک‬ ‫اردو اور س دی ب وچست ن ک‬

‫انس نی اصالح وفالح اور انس نوں ک ب ہمی خ وص و اخالص‬
‫ک رشتوں کی استواری ک لی ' انبی کرا اور صالحین‬
‫تشریف الئ اور اس ذیل میں' مقدور بھر کوششیں بھی کرت‬
‫رہ ۔ ان کی ان تھک اور ب حد کوششوں ک نت ئج' ہمیشہ‬
‫محدود رہ ۔ انس ن ہ ' کہ ہمیشہ ایک دوسرے کو ک ٹ دین‬
‫میں' مصروف رہ ہ ۔ پیٹ بھر م ن اور سیر ح صل کھ ن‬
‫ک ب وجود' اس کی آنکھ کی بھوک' کبھی خت نہیں ہو پ ئی۔‬
‫س کچھ میسر ہوت ' ہ نہ کی مہ ک بیم ری اس الح رہی‬
‫ہ ۔ هللا ک احس ن ت ک شکریہ ادا کرن کی سوچ س ' یہ‬
‫ہمیشہ کوسوں دور رہ ہ ۔ غیر تو غیر' یہ کبھی اپنوں ک نہیں‬
‫بن ۔ اس ک برعکس زب ن جو صرف اس ک اپن لی نہیں' بل‬
‫کہ دوسروں س رابط ک لی ہ ' اس کی طرح' محدود‬
‫دائروں کی متحمل نہیں رہی ہ ۔ وہ ہر کسی کی اور اس کی‬
‫مرضی و منش ک مط ب ' بنی ہ ۔ ہر طور ک اظہ ر ک‬
‫م م ہ میں' س تھ دیتی آئی ہ ۔‬
‫پیش نظر سطور میں' موالن عبدهللا روانبد' جو س دی ب وچست ن‬
‫ک عرفی ن س شہرہ رکھت ہیں' ک ب وچی کال ک اردو‬
‫ک س تھ لس نی تی اشتراک ک حوالہ س ' مط ل ہ کی گی ہ ۔‬
‫مجھ اپنی ک ع می ک شدت س احس س ہ ' احب اس پہ نہ‬
‫ج ئیں' میری اس پرخ وص س ی پر نظر رکھیں کہ زب نیں ایک‬
‫دوسرے ک کتن قری ہیں اور ایک دوسرے کی قربت ک‬
‫حوالہ س ' بخل س ک نہیں لیتیں۔ کی انس ن اپنی زب ن ک‬
‫اس طور کو اختی ر نہیں کر سکت ۔ ذاتی مط بری ک لی '‬
‫کسی بھی سطع پر ج سکت ہ ۔ اس س بڑھ کر' کوئی دوسرا‬
‫بڑا مط کون س ہو سکت ہ ' کہ وہ ایک دوسرے ک قری‬
‫نہیں' قری ترین آ کر' ایک دوسرے ک دکھ سکھ میں س نجھ‬
‫اختی ر کرے۔‬
‫ش رے چہ موالن عبدهللا روانبد' میں کل اک سی اش ر ی نی ایک‬
‫سو ب سٹھ' مصرع ہیں۔ آغ ز مصرعہ ک پچ سی ل ظ ایس‬
‫ہیں' جو اردو میں بھی مست مل ہیں۔‬
‫یک' ھـﻤﺪل' دل' گ ﻪ' م ' مھـﺮی' ق فـ ﻪ' سـﺮ' تﻮ' ھچ' حﻖ' آ‬
‫کﻪ'ع ـﻢ' تـﺨﺘﻪ' ھﺮ' راہ' پﺮ' گﻮں' آخﺮ' ﻇ ـﻢ' زور' حﻖ' ﻇ ـﻢ'‬
‫فﻄﺮت' دایﻢ' کج' اشﺘﺮ' فﺮبھ ں' الغﺮ' فﺮبﻪ' اے' فﺮبﻪ' پر' الغﺮ'‬
‫گﻮں' ھچ' گ ہ' سنگ' اس' سرب ز' بﻨﺖ' کل' چ کﺮ' ن می'‬
‫رھﺰنی' ب حی ' دسﺘـی' چﻮڑا' گوں' دایﻢ' قومی' اژدھ ' جنت'‬
‫ن دل' زار' ہرکس' رہ' بگی' دیﺮ' ب ر' ک ر' ب ز' ب کﻨ ' گوش' بﺮ'‬
‫پﺸﺖ' تنگ' ش ل' ظ ' ھر' قدر' بیت' پر' توکل' ح‬
‫ہیں۔‬ ‫گی‬ ‫ل ظ ک ٹ دی‬ ‫وال‬ ‫است م ل میں آن‬ ‫نوٹ‪ :‬ایک س‬
‫وال‬ ‫آخر میں است م ل ہون‬ ‫ک‬ ‫مصرع‬ ‫پہ‬ ‫اسی نظ ک‬
‫بیس ل ظ اردو میں بھی مست مل ہیں۔‬
‫ھـﻤﺪردی' کــﻮچ' مـﺤﺮو ' دنﯿ ' گند س گﻨﺪیﻢ' خ ﻖ' ن مﯿﮟ'‬
‫سﺮارے' سﯿ س' دلگﻮش' کﺲ' پﺮچ ' ب ﻮچ نی' گﺮدون' صﺒﺮ'‬
‫زور' فﺮی د' اسﺘﯿﻦ' سﺒﺰیﮟ' امﯿﺪ‬
‫سنت لیس ال ظ' اردو میں ع‬ ‫وال‬ ‫ب طور ق فیہ است م ل ہون‬
‫است م ل ک ہیں۔‬
‫ی ر' دیـﺪار' اﻇـھ ر' بﯿـﺪار' بﯿـﺰار' سـ الر' انـک ر' حقﺪار' ب زار'‬
‫آزار' بﯿﻤ ر' سﺮدار' زردار' تﺠ ر' بﯿگ ر' ایﺜ ر' اقﺮار' دشﻮار'‬
‫رفﺘ ر' بﺴﯿ ر' تﯿﻤ ر' انگ ر' عﯿ ر' مک ر' گ ﺘ ر' آبﺪار' انﺒ ر'‬
‫ش ﻮار' خﻀﺪار' سﺮب ر' کﺮدار' مﻨکﺮ' ب ر' ک ر' بﯿﻤ ر' کھﺴ ر'‬
‫پﺮخ ر' ن ھــﻤﻮار' رھﻮار' ن چ ر' م ر' ک ر' آتﺸﺒ ر' سﺮگﻮار' ھ ر'‬
‫گ ﺰار' قھ ر‬
‫ی م مولی‬ ‫ق فیہ ک چھ ال ظ میں آوازوں ک تب دل ہوا ہ‬
‫س غور وفکر ک متق ضی ہیں۔‬
‫سﯿﻨگ ر' گـﺪار‪ -‬غدار' بﯿﺖ گ ر' آوار‪.‬آوارہ' ش ک ر‪.‬ش ہک ر'‬
‫گﻤﺴ ر‪.‬غمس ر‬
‫ان اکی سی اش ر میں' اردو میں مست مل ی م نوس ال اظ کی‬
‫فہرست مالحظہ ہو۔‬
‫یک' ھﻢ' حی لین ی ر' ھـﻤﺪل' ھـﻤﺼﺪ ' سﺨﻦ' دل' پﺮ' از' مھﺮ'‬
‫قﻮمی' ھـﻤﺪردی ' پﻪ' قﺼـﺪ' دیـﺪار' وقﺘ ' کﻪ' دور' ھـﻤـﺪگﺮ'‬
‫نﺸـﺖ' گ ﻪ' اے' رنگ' اﻇـھ ر' تﻮ' ب ' نہ' بﯿـﺪار' دیﺮیﮟ' مــﺪت '‬
‫بﯿـﺰار' جـــﺮس آواز' کــﻮچ' مھـﺮی' م ں' راہ' بﻨﺖ' ق فـ ﻪ' سـﺮ'‬
‫سـ الر' ھـﻢ' حـق ' م ک' ھچ' کﺲ' حـﻖ' انـک ر' چﯿﺰے' ب یﺪ'‬
‫حﻖ' جﻨﺖ' حقﺪار' مـ ' ب ﻮچﺴﺘ ن' جﺰو' ایﺮان' آ کﻪ' دسﺖ'‬
‫کﻮت ہ' سﺮدسﺖ' خ ئﻦ' گـﺪار' جﻮان' جﭧ' ج ھﻞ' تﻨﺒﻞ' رسﻮا' بﺮ‬
‫سﺮ ب زار' ع ـﻢ' فﺮھﻨگ' دانﺶ' مـﺤﺮو ' تـﺨﺘﻪ' مﺸـﻖ' حﯿ ﻪ'‬
‫آزار' دار' ھﺮ' گﻮر' بﯿﻤ ر' ن ' راہ' نﯿﻢ' بﯿﺖ'مﺮد ' جنگ' سﺮدار'‬
‫ھﻤﺸ ' زردار الگﺮیﮟ'حـﻤ ل' ریﺶ' تـﺠﻮری' تﺠ ر' دھک ن'‬
‫مـﺤﺼﻮل' آخﺮ' دوا' مﯿﺮ' وقﺖ' فﺮی د' جﻮا ' ق ﺲ' ش ھﯿـﻦ' کﺠ '‬
‫ک راں' مﺜﻞ' اشﺘـﺮ' بﯿگ ر' آسـﻤ ن' ﻇ ـﻢ' ﻇ ـﻤ ت' دنﯿ ' عﺪل'‬
‫ھــﻤﺖ' ایﺜ ر' زور' چﻢ کﻮر' گﻮش' حﻖ' پﻪ' آس نی' اقﺮار' پﯿﺶ'‬
‫زب ن' دراجی' ﻇ ـﻢ' ن دانی' فﻄﺮت' خ ﻖ' فﻄﺮت' ب ز' بﯿﺖ دشﻮار'‬
‫دایﻢ' دنﯿ ی' رواج' کج' چﺮخ' گﺮدش' رفﺘ ر' اشﺘﺮ' بﺴﯿ ر' فﺮبھ ں'‬
‫ک ہ' الغﺮ' تﯿﻤ ر' جﺴﺖ' تﻮ' حکﻤﺖ' جﻮا ' مﺮد' ب مﺖ'‬
‫ب س ر' الغﺮ' دلگﻮش' فﺮبﻪ' انگ ر' سﯿ سﺖ' پﺮ' عﯿ ر' جﻮ'‬
‫سﯿﺮ'ھ بﯿﻞ' کﺲ' شﺘﻨﺖ' م ں' ق بﯿ ی' مک ر' کﯿ ' فﺮی د' کﺴی'‬
‫گﻮش ں' قﻮم ں' کﻨ ں' بﺮات' گ ﺘ ر' دسﺖ' سﻨگ'بﻨﺪر' سﻨگ'‬
‫شﯿﺸﻪ' آبﺪار' آس انﺒ ر' سﺮب ز' داں' سﺮحﺪ' حﺪ' بﻨﺖ' گﻮریں' کﻞ'‬
‫ب ﻮچ' لﻮگ' فﺮزنﺪ' ش ﻮار' ن ' ایﺮانی' حﺐ' سﯿﺒی' خﻀﺪار'‬
‫چ کﺮ' گﻮھﺮ' ب ﻮچ ں' پﺮ' ن می' رھﺰن' اشﺮار' رھﺰنی' س نﮉانی'‬
‫گﻮر' عﯿﺐ' ع ر' ب حﯿ ' بﺮات' دسﺘـی' چﻮڑا' ت مﺪار' دایﻢ'‬
‫سﺮب ر' رسﻢ' قﻮمی' مﺮدانی' کﺮدار' اژدھ ' گﻮر' ن مﺮد' دل'‬
‫جﻨﺖ' لﻮگ' حﯿ ' رحﻢ' زار' ھﺮکﺲ' کﻪ' اسال ' مﻨکﺮ' ب ی' م ں'‬
‫دری ی' رہ' قﻮ ' گ ر' بﯿگﻮاہ' بگی' دیﺮ' ب ر' زیﺮ' ک ر' دوا' صﺒﺮ'‬
‫ب ز' بﯿﺖ' بﯿﻤ ر' ب کﻨ ' گﺮدون' گﻮش' از' گﻮشﻪ' کھﺴ ر'‬
‫ھــﻤ 'حﺪ' صﺒﺮ' بﺮ' کﻮہ' آبﺪ'رپﺮ خ ر' پﺸﺖ' اے' کﻮھ ں' بﯿﺖ'‬
‫آخﺮ' راہ' ن ھــﻤﻮار' تﻨگ' راہ' رھﻮار' ش ل' مﺪا ' ھــﻢ نﺮخ' ﻇ ـﻢ'‬
‫ن چ ر' ھﺮ' وقﺖ' نﻮبﺖ' جﻨﺖ' زور' م ر' قﺪر' ک ر' گﺪا'‬
‫ب زار' جﻨﺖ' فﺮی د ' بﯿﺖ' جﻮا ' تﻮپ' آتﺸﺒ ر' اسﺘﯿﻦ' کﻮہ'‬
‫کﻮچگ ں' سﺮگﻮار' ھــﻤﺪسﺖ'ھ ر' بﻨﺖ' ش خ' بھ رے' بﯿﺖ' جھ ن'‬
‫سﺒﺰ' خﺮ گ ﺰار' امﯿﺪ' تﻮکﻞ' پﻪ' ر ' واحﺪ'القھ ر' حﻖ' آواز' تﻮ'‬
‫اگﺮ' نـﺌـ‬
‫اردو ال ظ پر مشتمل ہیں۔ مثال‬ ‫مصرع‬ ‫بہت س‬
‫ب ﻮچﺴﺘ ن جﺰو ایﺮان انﺖ‬ ‫مـ‬
‫جﻮان جﭧ و ج ھﻞ و تﻨﺒﻞ‬ ‫م‬
‫وت و رسﻮا بﺮ سﺮ ب زار‬ ‫ب‬
‫ع ـﻢ و فﺮھﻨگ و دانﺶﺀمـﺤﺮو‬
‫آ کﻪ سﺮدسﺖ نﺖ خ ئﻦ و گـﺪار‬
‫تـﺨﺘﻪ مﺸـﻖ انﺖ حﯿ ﻪ و آزار‬
‫ﻇ ـﻢ و ﻇ ـﻤ ت ﺀ پﻮشﺘگ دنﯿ‬
‫ﻇ ـﻢ و ن دانی فﻄﺮت انﺖ خ ﻖﺀ‬
‫کج رواجﯿﮟ چﺮخﺀگﺮدش و رفﺘ ر‬
‫اوشﺘﻨﺖ م ں ق بﯿ ی کﺶ ﺀ مک ر‬
‫ھﺮکﺲ کﻪ اسال ﺀ بﺒﯿﺖ مﻨکﺮ‬
‫فرشتہ صورتین فرخندہ دیدار‬
‫زلیخ زینت ء‪ ،‬یوسف جم لیں‬
‫صنوبر قدء‪ ،‬سنبل خطء‪ ،‬خ لیں‬
‫قمر پیش نی ء‪ ،‬بروان ھاللیں‬
‫ب ' ب ' ن ' ہ اردو میں ع است م ل ک س بق ہیں۔ موالن‬
‫عبدهللا ک ہ ں' ان ک ب طور نمونہ است م ل مالحظہ ہو۔‬
‫ب‬
‫نی ترا زیبیت گشگ ب فخر و ش ن‬
‫ب‬
‫درخش ایت ھمچو م ہ ء ب غب رء‬
‫ب حﯿ کﻪ پﭩﯿﺖ م ت ﺀ پﻨﺪولﺀ‬
‫رہ چﺸﯿﮟ قﻮ ﺀ گ ر و بﯿگﻮاہ انﺖ‬
‫شنگ و ش نگنت ب ر و بی فکری چﻪ کوچ‬
‫ن‬
‫ھﺴﺖ انﺖ سﺮکﭗﺀ ن چ ر‬ ‫ایﺮ کﭙ‬
‫ھﻢ‬
‫چﻨـﺪے ھﻢ حﯿ لﯿﮟ ی ر‬ ‫یک شـﭙ‬
‫ش ل مﺪا ھــﻢ نﺮخ نﺒﯿﺖ گﻮں ش ر‬
‫ھـﻤﺪل و ھـﻤﺼﺪ و سﺨﻦ سﯿﻨگ ر‬
‫کال‬ ‫ا کچھ اردو الحق مالحظہ ہوں' جو موالن موصوف ک‬
‫میں است م ل ہوئ ہیں۔‬
‫ﺒر‬
‫گﻨگ بﯿﺖ جﻮا ﺀ تﻮپ آتﺸﺒ ر‬
‫ﺪار‬
‫ب یﺪ انﺖ حﻖ ﺀ پﺪ بـﻪ جﻨﺖ حقﺪار‬
‫کﻨﺪیﺖ مﯿﺘگﺀ سﺮدار‬ ‫پﺮ گ‬
‫زار‬
‫توے شیرین من ں تی ع ش ء زار‬
‫بﯿﺖ جھ ن سﺒﺰ و خﺮ و گ ﺰار‬
‫ﺰن‬
‫ن می بﯿﺖ دز و رھﺰن و اشﺮار‬
‫ست ن‬
‫شمع ء_ شبست ن‬ ‫من ں پروانہ تو‬
‫شکرست ن‬ ‫دھن تی حقہ ء‪ ،‬ل‬
‫منء‪ -‬اوم ن کنت تی ک ک ست ن‬
‫ء‪ ،‬سرسبزیں گ ست ن‬ ‫بھ ریں ب‬
‫کر‬
‫طراز‬
‫نگ رانی طراز بندیں رق ک ر‬
‫گر‬
‫ھـﻤﺪل و ھـﻤﺼﺪ و سﺨﻦ سﯿﻨگ ر‬
‫ﻮار‬
‫م دنﯿﮟ راہﺀ چﻨﻨﺖ رھﻮار‬
‫ژنﺪ بکﻨﺖ کﻮہ و کﻮچگ ں سﺮگﻮار‬
‫ا حضرت موالن ص ح ک کچھ مرکب ت مالحظہ فرم ئیں' جو‬
‫اردو والوں ک لی نئ اور غیرم نوس نہیں ہیں۔‬
‫لکیران رند ء‪ ،‬قرط س ن بہ سینگ ر‬
‫بکش سنجیدھیں سطراں بہ قط ر‬
‫ع ـﻢ و فﺮھﻨگ و دانﺶﺀمـﺤﺮو‬
‫نی ترا زیبیت گشگ ب فخر و ش ن‬
‫ن می بﯿﺖ دز و رھﺰن و اشﺮار‬
‫شنگ و ش نگنت ب ر و بی فکری چﻪ کوچ‬
‫ک می بی ک ر و کوشستی برنت‬
‫نی ترا زیبیت گشگ ب فخر و ش ن‬
‫قیمتی جنس مکن چو ستک و سوچ‬
‫فرشتہ صورتین فرخندہ دیدار‬
‫زلیخ زینت ء‪ ،‬یوسف جم لیں‬
‫فرشتہ صورتین فرخندہ دیدار‬
‫ب ر ھــﻤ جﻮگﯿﻦ لﯿﮍو زیﺮ انﺖ‬
‫کﻪ دور ھـﻤـﺪگﺮ نﺸـﺖ انﺖ‬ ‫وقﺘ‬
‫تـﺨﺘﻪ مﺸـﻖ انﺖ حﯿ ﻪ و آزار‬
‫س دی ب وچست ن ک کال میں' مت ال ظ ک است م ل' کم ل کی‬
‫خوبی ک ح مل ہ ۔ مزے کی ب ت یہ ہ ' کہ وہ اردو والوں ک‬
‫لی اجنبی' نہیں ہیں۔ چند مث لیں مالحظہ ہوں‬
‫ق بی لولو انگیزین گھر گوار‬
‫نگ رانی طراز بندیں رق ک ر‬
‫از غزالست نء ت ت ر‬ ‫غزال‬
‫مث لء یوسفء مصری بہ ب زار‬
‫ق الم س ء‪ ،‬قرط سوں حریر انت‬
‫جنک‪ ،‬رنگ ء‪ ،‬رخء‪ -‬بدرء منیر انت‬
‫ش ء مھت ء‪ ،‬شمسء خ ور انت مئ‬
‫زلیخ زی ء‪ ،‬بدرء انور انت مئ‬
‫پدء سستیں منء‪ ،‬گل پیکیرین م ہ‬
‫بہ صد افسوسء‪ ،‬دردء‪ ،‬ن لہ ء‪ ،‬آہ‬
‫دایﻢﺀ دنﯿ ی ﺀ رواج ایﺶ انﺖ‬
‫کج رواجﯿﮟ چﺮخ ﺀ گﺮدش و رفﺘ ر‬
‫ن ' اردو میں اسی ن س ' م روف ہیں۔‬ ‫بہت سی اشی ک‬
‫ہ ں ان ک است م ل مالحظہ ہو۔‬ ‫موالن ص ح ک‬
‫سﻨگ و شﯿﺸگ چﻪ بﻨﺪر ﺀ سﯿ د انﺖ‬
‫پﺮوشﺘگ اے سﻨگ ﺀ شﯿﺸﻪ آبﺪار‬
‫داں جـــﺮس آواز نکﻨﺖ کــﻮچﺀ‬
‫مھـﺮی م ں راہ ﺀ نﻪ بﻨﺖ کـﺘ ر‬
‫الگﺮیﮟ حـﻤ ل ﺀ کﻮڑہ ں ریﺶ انﺖ‬
‫گﻮں تـﺠﻮری ﺀ وشﺪل انﺖ تﺠ ر‬
‫مﻦ جﻮا داتگ کﻪ چﻮن کﻨ ں بﯿالں‬
‫در ق ﺲ ش ھﯿـﻦ نکﻨﺖ ھﻨﺰار‬
‫داں جـــﺮس آواز نکﻨﺖ کــﻮچﺀ‬
‫مھـﺮی م ں راہ ﺀ نﻪ بﻨﺖ کـﺘ ر‬
‫ایک س‬ ‫کئی عہدوں اور پیشہ ورانہ ن اردو اور ب وچی ک‬
‫ہیں۔ مثال‬
‫ق فـ ﻪ چـﻮن چـﻮن کﭙﯿﺖ کﺸـکﺀ‬
‫سـﺮ مکـﺸﯿـﺖ داں قـ ف ﻪ سـ الر‬
‫دھک ن کﻪ ج نﺸﻮد انﺖ وتی ھﯿﺪاں‬
‫چہ آیی مـﺤﺼﻮل ﺀ کﭧ کﻨﺖ ھـﭙﺘ ر‬
‫چ کﺮ و گﻮھﺮا ﺀ ی ﯿﮟ پﺴگ‬
‫نﯿ ﻨﺖ م ں النکﺒﻨﺪ ﺀ بﺶ ﺀ لﯿگ ر‬
‫قﺪر یک بﻤﺐ ھﺴﺘﻪ ای کﻨﺖ ک ر‬
‫دہ گﺪا ب زار ﺀ جﻨﻨﺖ فﺮی د‬
‫است م ل‬ ‫ن ایک طور س‬ ‫ب وچی اور اردو میں' امرجہ ک‬
‫میں آئ ہیں۔ مثال‬
‫ھراتء کوچگء‪ ،‬ب خء‪ ،‬بخ را‬
‫نہ در چین ء‪ ،‬نہ کشمیر ء‪ ،‬نہ ک بل‬
‫نہ ایرانء‪ ،‬نہ تورانء‪ ،‬نہ زابل‬
‫ب ﻮچﺴﺘ ن جﺰو ایﺮان انﺖ‬ ‫مـ‬
‫لی ' اں' وں' یں‬ ‫ک‬ ‫اردو کی طرح 'ب وچی میں بھی جمع بن ن‬
‫ک الحقوں س ' ک لی ج ت ہ ۔ مثال‬
‫اں‬
‫بکش سنجیدھیں سطراں بہ قط ر‬
‫دلون دلدار گیسواں اسیر انت‬
‫لکیران رند ء‪ ،‬قرط س ن بہ سینگ ر‬
‫وں‬
‫ق الم س ء‪ ،‬قرط سوں حریر انت‬
‫یں‬
‫طالئیں مورت ء‪ ،‬شش ک لکیں گور انداز‬
‫طالئیں مورت ء‪ ،‬شش ک لکیں گور انداز‬
‫ء‪ ،‬سرسبزیں گ ست ن‬ ‫بھ ریں ب‬
‫عط رد پیکر ء‪ ،‬زھرہ مث لیں‬
‫شکر بچکندگء‪ ،‬طوطی مق لیں‬
‫صنوبر قدء‪ ،‬سنبل خطء‪ ،‬خ لیں‬
‫ین‬
‫فرشتہ صورتین فرخندہ دیدار‬
‫ک طور موجود ہ ۔ مثال‬ ‫ب وچی میں بھی' جمع الجمع بن ن‬
‫حروف ن‬ ‫حروف اور حروف س‬ ‫حرف س‬
‫حروف ن رد بکن چو درء ش ھوار‬
‫ت میح ت‬
‫ب وچی اور اردو کی ت میح ت الگ س نہیں ہیں‪ .‬ان ک‬
‫اسست م ل ک چ ن اور رویہ' ایک س ہ ۔ مثال‬
‫گن ھ ن وت بگوش استغ ر هللا‬
‫ت لی هللا عج خوبین جم ل‬
‫نھ م کء قیصر ء‪ ،‬فغور ء‪ ،‬دارا‬
‫مث لء یوسفء مصری بہ ب زار‬
‫زلیخ زینت ء‪ ،‬یوسف جم لیں‬
‫عط رد پیکر ء‪ ،‬زھرہ مث لیں‬
‫توے شیرین من ں تی ع ش ء زار‬
‫چو فرھ دء‪ -‬مدا رنجور ء‪ ،‬بیم ر‬
‫کپودر آخرء بیت گوں منء را‬
‫صنوبر صورتیں سروء گل اندا‬
‫تشبیہ ت ک است م ل ک انداز' ب وچی اور اردو ک حیرت ن ک‬
‫مم ث ت ک ح مل ہ ۔ ب طور نمونہ چند ایک مث لیں مالحظہ ہوں۔‬
‫صنوبر صورتیں سروء گل اندا‬
‫طالئیں مورت ء‪ ،‬شش ک لکیں گور انداز‬
‫قمر پیش نی ء‪ ،‬بروان ھاللیں‬
‫لذیذیں کندگء‪ ،‬ب قیسی گ ت ر‬
‫شمع ء شبست ن‬ ‫من ں پروانہ تو‬
‫دھن تی حقہ ء‪ ،‬ل شکرست ن‬
‫اردو ش عری میں عموم پ نچ اطوار‪ :‬بی نیہ' حک یتی' خط بیہ‬
‫است س ری اور تمث لی م ت ہیں۔ س دی ب وچست ن ک ہ ں' یہ‬
‫پ نچوں اطوار م ت ہیں۔ مثال‬
‫بی نیہ‬
‫جﻨﺠﺮے آسـﻤ ن ﺀ نـﻪ جﻨﺖ اسﺘ ر‬
‫ﻇ ـﻢ و ﻇ ـﻤ ت ﺀ پﻮشﺘگ دنﯿ‬
‫چﯿﺮی چﺖ عﺪل و ھــﻤﺖ و ایﺜ ر‬
‫زورﺀچﻢ کﻮر و گﻮش سﯿﻪ چﭙﺖ انﺖ‬
‫حﻖ ﺀ پﻪ آس نی نکﻨﺖ اقﺮار‬
‫جﻮ تﺮا دنﺖ و پﯿﺶ کﻨﺖ گﻨﺪیﻢ‬
‫گﻮں زب ن دراجی کﻨﺖ تﺮا بﯿﻮار‬
‫ﻇ ـﻢ و ن دانی فﻄﺮت انﺖ خ ﻖ ﺀ‬
‫فﻄﺮتﺀ سﻨﺪگ ب ز بﯿﺖ دشﻮار‬
‫دایﻢﺀ دنﯿ ی ﺀ رواج ایﺶ انﺖ‬
‫کج رواجﯿﮟ چﺮخ ﺀ گﺮدش و رفﺘ ر‬
‫حک یتی‬
‫چﻨـﺪے ھﻢ حﯿ لﯿﮟ ی ر‬ ‫یک شـﭙ‬
‫ھـﻤﺪل و ھـﻤﺼﺪ و سﺨﻦ سﯿﻨگ ر‬
‫دل پﺮ از مھﺮﺀ قﻮمی ھـﻤﺪردی‬
‫آتک انﺖ پﻪ قﺼـﺪ گﻨﺪک و دیـﺪار‬
‫کﻪ دور ھـﻤـﺪگﺮ نﺸـﺖ انﺖ‬ ‫وقﺘ‬
‫گ ﻪ اش اے رنگ ﺀ کﺘـگ اﻇـھ ر‬
‫خط بیہ‬
‫در ق ﺲ ش ھﯿـﻦ نکﻨﺖ ھﻨﺰار‬
‫مﻦ کﺠ اے ک راں کﭙ ں ب ریﻦ‬
‫اے سﯿ سﺖ چﻪ بﻨﺪرﺀ گﻮن انﺖ‬
‫رھﺒﻨﺪﺀ رونﺖ عﯿ ر‬ ‫پﺮ ھــﻤ‬
‫سﻨگ و شﯿﺸگ چﻪ بﻨﺪر ﺀ سﯿ د انﺖ‬
‫پﺮوشﺘگ اے سﻨگ ﺀ شﯿﺸﻪ آبﺪار‬
‫است س ری‬
‫یکیﺀجﺴﺖ کﺖ ای چﻪ اسﺮارے؟‬
‫انﺖ حکﻤﺖ اے ک ر؟‬ ‫تﻮ بگﻮش چ‬
‫تمث لی و تشبیہی‬
‫جنک دوست انت منء آھو غزالیں‬
‫منیریں مشتری بدرالکم لیں‬
‫زلیخ زینت ء‪ ،‬یوسف جم لیں‬
‫قمر پیش نی ء‪ ،‬بروان ھاللیں‬
‫عط رد پیکر ء‪ ،‬زھرہ مث لیں‬
‫شکر بچکندگء‪ ،‬طوطی مق لیں‬
‫حسنی ص ح ‪ :‬سال مسنون‬ ‫مکر بندہ جن‬

‫ک فی عرص ک ب د نی ز ح صل کر رہ ہوں۔ آپ ک مض مین‬
‫برابر دیکھت رہ ہوں البتہ لکھن ک موقع ک ہی مال ہ ۔ آپ‬
‫کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہ کہ کس قدر مشقت ط ک کیسی‬
‫دل جم ی س سر انج دیت رہت ہیں۔ آج کل تحقی و تنقیح‬
‫ک سنجیدہ ک اردو میں بہت ک ہو گی ہ ۔ نئی پود کو کوئی‬
‫شو نہیں ہ اورپرانی اٹھتی ج تی ہ ۔ م و نہیں اس کمپیوٹر‬
‫ک ہ تھوں اردو ک کی بن گ ۔ اہل اردو پہ ہی سہل انگ ر اور‬
‫غیر ذمہ دار ہیں۔ آگ بہتری کی امید کیس کی ج ئ ۔‬
‫آپ ک زیر نظر مضمون بہت دلچسپ ہ اور ایک نظر میں ہی‬
‫م و ہوج ت ہ کہ یہ ک کتنی محنت س کی گی ہ ۔ کسی‬
‫ک کال ک ایک ایک مصرع پڑھن ‪ ،‬اس ک لس نی تجزیہ کرن اور‬
‫پھر اس مواد کی شیرازہ بندی کرن م مولی ک رن مہ نہیں ہ ۔ هللا‬
‫اپ کو ق ئ رکھ ۔ اردو انجمن میں آپ ن تحقی کی دا بیل‬
‫ڈالی ہ ۔ خدا کرے کہ کچھ لوگ اس ج ن توجہ کریں۔ مضمون‬
‫ک لئ شکریہ اور دلی داد قبول کیجئ ۔‬

‫سرور ع ل راز‬
‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=10159.0‬‬
‫ف رسی کال ک‬ ‫تن ظر میں حضرت بوع ی ق ندر ک‬ ‫اردو ک‬
‫لس نی تی مط ل ہ‬

‫برصغیر ک ' ایران س مخت ف حوالوں س رشتہ' صدیوں پر‬
‫محیط ہ ۔ برصغیر ک یودھ ' ایران کی فوج میں ش مل تھ ۔‬
‫ایک دوسرے ک ہ ں بیٹی ں بی ہی گئیں۔ مخت ف ش بوں س‬
‫مت لوگ' برصغیر میں آئ ۔ رشد و ہدایت ک لی ص لیحین‬
‫کرا ' برصغیر میں تشریف الت رہ ۔ یہ ں کی خواتین س ان‬
‫کی ش دی ں ہوئیں اور ان کی نسل یہ ں کی ہو کر رہ گئی۔ کچھ‬
‫کنبہ سمیت یہ ں آئ ' ان آن والوں کی نسل ن بھی' برصغیر‬
‫کو اپنی مستقل اق مت ٹھہرای ۔ ان تم امور ک زیر' اثر رس و‬
‫رواج' ع می و ادبی اور سم جی روائتوں ک تب دل ہوا۔ اشی اور‬
‫شخصی ن یہ ں کی م شرت ک حصہ بن ۔ اس میں دانستگی ک‬
‫عمل دخل نہیں تھ ' یہ س ازخود ن دانسہ اور ن سی تی سطع پر‬
‫ہوت رہ ۔ یہ ہی وجہ ہ کہ صدیوں پران ' تہذیبی اور لس نی‬
‫اثرات' برصغیر میں واضح طور پر محسوس کی ج سکت ۔‬
‫یہ ں حضرت بوع ی ق ندر ک ف رسی کال ک ' اردو ک تن ظر‬
‫میں' ن چیز س لس نی تی مط ل ہ پیش کی گی ہ ' جس س یہ‬
‫کھل ج ئ گ کہ یہ دونوں زب نیں' آج بھی ایک دوسرے س‬
‫کتن قری ہیں۔ آخر میں' تین اردو ش را ک دو چ ر مصرع '‬
‫مع ج ئزہ' اپن موقف کی وض حت ک لی درج کر دی ہیں۔‬
‫اس مط ل میں کئی صورتیں اختی ر کی گئی ہیں' وہ ل ظ الگ‬
‫کی گی ہیں' جو آج بھی اردو والوں ک است م ل میں ہیں۔‬
‫کچھ ل ظ ایس الگ کی گی ہیں' جو آوازوں کی ہیر پھیر‬
‫س ' اردو میں مست مل ہیں۔ کچھ اش ر ب طور نمونہ پیش کی‬
‫گی ہیں' جن میں محض ایک دو ل ظوں کی تبدی ی کی گئی اور‬
‫ا وہ اردو ک ذخیرہ اد خی ل کی ج ئیں گ ۔ میں ن ب طور‬
‫تجربہ کچھ اش ر اردو انجمن پر رکھ ' جن سرور ع ل راز‬
‫ایس بڑے‬
‫اردو دان ن ' انہیں غیراردو نہیں کہ ۔ ان ک کہن ہ ‪:‬‬
‫ک ش یہ ترجمہ ب وزن بھی ہوت تو مزا دوب ال ہو ج ت ۔ خیر م نی‬
‫ق ری تک پہنچ دین بھی بہت ‪.‬بڑا ک ہ‬
‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.p‬‬
‫‪hp?topic=10160.0‬‬

‫یہ امر' اس ب ت ک واضح اور زندہ ثبوت ہ ' کہ اردو اور‬
‫ف رسی قری قری کی زب نیں ہیں۔ دونوں کی لس نی تی عمر ک‬
‫ت ین اس س الگ ب ت ہ ‪ .‬ت ہ حضرت بوع ی ق ندر ک دور‬
‫تک تو عمر ک ت ین ہو ہی ج ت ہ ۔‬
‫‪..............‬‬
‫ہست در سینہ م ج وہ ج ن نہ م‬
‫بت پرستی دل م ست صن خ نہ م‬
‫سینہ ج وہ بت دل صن خ نہ‬
‫بت پرستی‬ ‫بت پرستی ‪:‬‬
‫جنں‬ ‫جنن‬ ‫ج ن نہ‪:‬‬
‫اے خضر چشمہ حیوان کہ بران می ن زی‬
‫بود یک قطرہ ز درتہ پیم نہ م‬
‫اے خضر چشمہ حیوان یک قطرہ تہ پیم نہ‬
‫مزید براں‬ ‫براں‬ ‫بران‬
‫نز‬ ‫ن زی‬
‫مثال کسی خ تون ک فرح ن ز ن ہ ' ی ئ مصدری ک اض ف‬
‫اور الڈ پی ر س عرفی ن ' ن زی بھی سنن کو آت رہت ہ '‬
‫گوی ل ظ ن زی' اردو والوں ک لی نی نہیں' تہہ میں م ہی بھی‬
‫تقریب وہ ہی پوشیدہ ہیں۔‬
‫جنت و ن ر پس م ست بصد مرح ہ دور‬
‫می شت بد بہ کج ہمت مردانہ م‬
‫جنت و ن ر پس بصد مرح ہ دور بہ کج ہمت مردانہ‬
‫شت بی‬ ‫شت‬ ‫شت بد‪:‬‬
‫فتد بر سر افالک برین‬ ‫جنبد از ج ئ‬
‫بشنود عرش اگر ن رہ مست نہ م‬
‫بر سر افالک عرش اگر ن رہ مست نہ‬ ‫از ج ئ‬
‫عرش بریں‬ ‫بریں‬ ‫برین‪:‬‬
‫گ ت و شنید‬ ‫شنید‬ ‫بشنود‬
‫ہمچو پروانہ بسوزی و بس زی ب ش‬
‫اگر آں شمع کند ج وہ بک ش نہ م‬
‫پروانہ و اگر شمع ج وہ‬
‫سوزی‬ ‫سوز‬ ‫بسوز‬ ‫بسوزی ‪:‬‬
‫عش‬ ‫بش‬ ‫بش ‪:‬‬
‫آنحضرت‬ ‫آں‪:‬‬
‫ک ش نہ‬ ‫بک ش نہ‪:‬‬
‫م بن زی بتو خ نہ ترا بسپ ری‬
‫گر بی ئی ش وصل تو درخ نہ م‬
‫خ نہ ترا گر ش وصل تو در خ نہ‬
‫ن زی ‪ :‬ن ز ن زی‬
‫تو‬ ‫بتو‪:‬‬
‫گ ت اوخندہ زن ن گریہ چو کرد بدرش‬
‫بو ع ی ہست مگر ع ش دیوانہ م‬
‫خندہ گریہ بو ع ی مگر ع ش دیوانہ‬
‫گ ت گ تگو گ ت ر‬ ‫گ ت‪:‬‬
‫کر‬ ‫کرد ‪:‬‬
‫'''''''''''''''''''''‬
‫اے ثن ئت رحمتہ ال لمین‬
‫فیض تو روح االمین‬ ‫یک گدائ‬
‫اے رحمتہ ال لمین یک فیض تو روح االمین‬
‫ثن‬ ‫ثن ئت‪:‬‬
‫گدا‬ ‫گدائ ‪:‬‬
‫ذوالجالل‬ ‫اے کہ ن مت را خدائ‬
‫زد رق بر جبہہ عرش برین‬
‫ذوالجالل رق عرش برین‬ ‫اے کہ خدائ‬
‫ن‬ ‫ن مت‪:‬‬
‫ن مزد ق مزد‬ ‫زد‬ ‫زد;‬
‫جبہ جبین‬ ‫جبہہ‪:‬‬
‫برب د برسراقتدار برسرپیک ر برسرروزگ ر‬ ‫بر‪:‬‬
‫مشل‬ ‫آست ن ع لی تو ب‬
‫زمین‬ ‫ہست ب الئ‬ ‫آسم ن‬
‫مشل زمین‬ ‫آست ن ع لی تو ب‬
‫آسم ن‬ ‫آسم ن ‪:‬‬
‫ط‬ ‫ب التر ب الئ‬ ‫ب الئ ‪ :‬ب ال‬
‫آفرین بر ع ل حسن تو ب د‬
‫تست ع ل آفرین‬ ‫مبتالئ‬
‫آفرین بر ع ل حسن تو ع ل آفرین‬
‫ب د‪ :‬آب د برب د زندہ ب د مردہ ب د ش د ب د‬
‫عش‬ ‫مبتالئ‬ ‫مبتالئ ‪:‬‬
‫یک کف پ ک از در پر نور او‬
‫ہست م را بہتر از ت ج و نگین‬
‫یک کف پ ک از در پر نور بہتر از ت ج و نگین‬
‫ازاں ازیں از قصور ت پ ن پت‬ ‫از‪:‬‬
‫خرمن فیض ترا اے ابر فیض‬
‫ہ زمین و ہ زم ن شد خوشہ چین‬
‫خرمن فیض ترا اے ابر فیض ہ زمین و ہ زم ن خوشہ چین‬
‫خت شد‬ ‫شد‪:‬‬
‫بین مس‬ ‫از جم ل تو ہم‬
‫ج وہ در آینہ عین الیقین‬
‫از جم ل تو ج وہ آینہ عین الیقین‬
‫بینی‬ ‫بین خوردبین دوربین کت‬ ‫بی ن ‪:‬‬
‫درب ر درگ ہ درپیش درگزر درکن ر‬ ‫در‪:‬‬
‫را آغ ز و انج از تو ہست‬ ‫خ‬
‫اے ام اولین و آخرین‬
‫آغ ز و انج از تو اے ام اولین و آخرین‬ ‫خ‬
‫غیر ص وۃ و سال و ن ت تو‬
‫بو ع ی را نیست ذکر دلنشین‬
‫غیر ص وۃ و سال و ن ت تو بو ع ی ذکر دلنشین‬
‫'''''''''''''''''''''‬
‫اے شرف خواہی اگر وصل حبی‬
‫زن روز و ش جون عندلی‬ ‫ن لہ م‬
‫خیر خواہ خیر خواہی‬ ‫خواہی‪ :‬خواہ‬
‫زن‪ :‬موجزن غوطہ زن خیمہ زن‬
‫اگر وصل حبی‬ ‫ہ‬ ‫اے شرف چ ہ‬
‫ن لہ کرت رہ روز و ش جون عندلی‬
‫من مریض عشق و از ج ن ن ور‬
‫دست بر نبض من آرد چون طبی‬
‫عش‬ ‫عشق ‪:‬‬
‫مریض عش اور ب زار از ج ن ہوں‬
‫طبی‬ ‫مرے دست بر نبض کیوں رکھ‬
‫پر' ت ہ بر‬ ‫پ میں بدل گئی ہ‬ ‫کی آواز پ‬ ‫بر‪ :‬اردو میں ب‬
‫بھی فقرے میں ق بل فہ ہ ۔‬
‫طبی‬ ‫مرے نبض پر دست کیوں رکھ‬
‫رس و راہ م نداند ہر کہ او‬
‫در دی ر ع شقی م ند غری‬
‫کہ ہر کوئی‬ ‫رس و راہ نہ ج ن‬
‫دی ر ع شقی میں م نند غری‬
‫شربت دیدار دلداران خوش است‬
‫گر نصی م نب شد ی نصی‬
‫دلداران‪ :‬دل داران‬
‫دل داروں کو‬ ‫شربت دیدار خوش آت ہ‬
‫ی ہوں میں ب نصی‬ ‫نصی میں ہ‬
‫م‬ ‫م ازو دوری دور اے وائ‬
‫از رگ ج ن است او م را قری‬
‫دوری‬ ‫دوری ‪:‬‬
‫وائ ' اردو میں مست مل ہ‬ ‫ہئ‬ ‫وائ ‪:‬‬
‫م‬ ‫م ازو دوری دور اے وائ‬
‫میں دور ہوں‬ ‫ہئ‬ ‫دور ہ ئ‬ ‫اس س‬
‫بھی وہ مرے قری‬ ‫مگر رگ ج ن س‬
‫بر سر جنبیدہ تیغ محتس‬
‫در دل پوشیدہ اسرار عجی‬
‫سر‬ ‫سر ‪:‬‬
‫دل‬ ‫دل ‪:‬‬
‫تیغ محتس‬ ‫سر پر تنی ہ‬
‫دل میں پوشیدہ اسرار عجی‬
‫بو ع ی ش عر شدی س حر شدی‬
‫این چہ انگیزی خی الت غری‬
‫شدی‪ :‬شدہ‬
‫اردو میں خت شد' تم شد' ش دی شدہ وغیرہ مرکب ت مست مل‬
‫ہ یں‬
‫بو ع ی ش عر ہوا س حر ہوا‬
‫انگیزی خی الت غری‬ ‫کرے ہ‬
‫'''''''''''''''''''''‬
‫اگر رند اگر من بت پرست‬
‫قبول کن خدای ہر چہ ہست‬
‫رند‬ ‫رند ‪:‬‬
‫پرست ‪ :‬پرست‬
‫قبول ‪ :‬قبول‬
‫اگر رند ہوں اگر میں بت پرست ہوں‬
‫جو جیس بھی ہوں‬ ‫قبول کر خدای‬
‫ندار ننگ و ع ر از بت پرستی‬
‫کہ ی ر بت بود من بت پرست‬
‫ندارد‬ ‫ندار ‪:‬‬
‫بت پرست‬ ‫بت پرست ‪:‬‬
‫یر‬ ‫یر ‪:‬‬
‫از' ادو میں مست مل ہ‬
‫ننگ و ع ر نہیں بت پرستی س‬
‫میں بت پرست ہوں‬ ‫کہ ی ر بت ہ‬
‫عش افت د آنگہ‬ ‫بہ پیچ و ت‬
‫دل اندر زلف پیچ ن تو بست‬
‫بہ‪ :‬اردو میں مست مل ہ‬
‫دور افت دہ‬ ‫افت د‬ ‫افت د ‪:‬‬
‫بستہ بستی بند و بست‬ ‫بست ‪:‬‬
‫عش میں گرفت ر ہوں‬ ‫پی چ و ت‬
‫دل اندر زلف پیچ ن ک بسیرا ہ‬
‫'''''''''''''''''''''‬
‫ہ شرح کم ل تو نگنجد بہ گم نہ‬
‫ہ وصف جم ل تو نی ید بہ بی نہ‬
‫شرح کم ل' شرح کم ل‬
‫گم ن' بی ن' تو‬
‫مست مل ہیں‬ ‫اردو میں ہ اور ہ ئ‬ ‫لی‬ ‫ک‬ ‫ہ ‪ :‬جمع بن ن‬
‫یک واقف اسرار تو نبود کہ بگوید‬
‫از ہیبت راز تو فرد بستہ زب نہ‬
‫واقف اسرار' ہیبت راز' فرد بستہ‬
‫زب نہ زب ن ہ‬
‫م مرح ہ در مرح ہ رفتن نتوانی‬
‫توصیف تو بگستہ عن نہ‬ ‫در وادئ‬
‫توصیف‬ ‫مرح ہ در مرح ہ' ادئ‬
‫رفتہ' رفت ر‬ ‫رفتن‪:‬‬
‫نتوانی ‪ :‬ن توان ی ن تواں‬
‫عن ن حکومت‬ ‫عن نہ ‪ :‬عن ن ہ‬
‫حسن تو عجی است جم ل تو غری است‬
‫حیران تو دلہ و پریش ن تو ج نہ‬
‫دلہ و پریش ن‪ :‬دلہ و پریش ن‬
‫ج نہ ‪ :‬ج ن ہ‬
‫حسن تو عجی ' جم ل تو غری ' حیران' پریش ن‬
‫چیزے نبود جز تو کہ یک ج وہ نم ید‬
‫گ در نظر م ست مکینہ و مک نہ‬
‫جز' تو کہ' گ ' نظر‬
‫چیزے‪ :‬چیز‬
‫یک ج وہ‬
‫مکینہ ‪ :‬مکین ہ‬
‫مک نہ ‪ :‬مک ن ہ‬
‫یک ذرہ ندیدی کہ نبود ز تو روشن‬
‫جستی ز اسرار تو در دہر نش نہ‬
‫یک ذرہ' اسرار تو‬
‫روشن' دہر‬
‫ندیدی ‪ :‬دید' ن دید' ن دیدہ‬
‫جستی ‪ :‬جست‬
‫نش نہ ‪ :‬نش ن ہ‬
‫یک تیر نگ ہت را ہمسر نتوان شد‬
‫صد تیر کہ برجستہ ز آغوش کم نہ‬
‫یک تیر' صد تیر' تیر نگ ہ' آغوش کم ن‬
‫نگ ہت‪ :‬نگ ہ‬
‫کم نہ ‪ :‬کم ن ہ‬
‫ہمسر' برجستہ‬
‫دارد شرف از عش اے فتنہ دوران‬
‫فغ نہ‬ ‫در سینہ نہ ن آتش و در ح‬
‫فغ ں‬ ‫فتنہ دوران ‪ .‬فتنہ دوراں' نہ ن آتش۔ آتش نہ ں' ح‬
‫اے' عش ' سینہ' ح‬
‫فغ نہ ‪ :‬فغ ن ہ‬
‫'''''''''''''''''''''‬
‫من کہ ب ش از بہ ر ج وہ دلدار مست‬
‫ن ید نظر در خ نہ خم ر مست‬ ‫چون من‬
‫بہ ر ج وہ دلدار مست نظر در خ نہ خم ر مست‬
‫ب ش' اردو میں ش ب ش' ش ب ش' پرب ش‬ ‫س‬ ‫ب ش ‪ :‬می ہٹ ن‬
‫مست مل ہیں۔‬
‫نی ید در دلش انگ ر دنی ہیچ گ ہ‬ ‫م‬
‫زاہدا ہر کس کہ ب شد از س غر سرش ر مست‬
‫دلش‪ :‬شین ہٹ دیں دل‬
‫انگ ر دنی ہیچ گ ہ زاہدا ہر کس کہ از س غر سرش ر مست‬ ‫م‬
‫دلش‪ :‬شین ہٹ دیں دل‬
‫ج وہ مست نہ کردی دور ای بہ ر‬
‫شد نسی و ب بل و نہر و گ زار مست‬
‫ج وہ مست نہ دور ای بہ ر نسی و ب بل و نہر و گ زار مست‬
‫کردی‬
‫ردی‬ ‫س‬ ‫ک ف ہٹ ن‬
‫کر‬ ‫س‬ ‫دی ہٹ ن‬
‫سردی گردی وردی‬ ‫دی اور دی س‬ ‫س‬ ‫کر ہٹ ن‬
‫من کہ از ج الست مست ہر ش کہ سحر‬
‫در نظر آید مرا ہر د درو دیوار مست‬
‫کہ از ج مست ہر ش کہ سحر نظر مرا ہر د درو دیوار مست‬
‫الست' اردو میں الست مست مرک‬ ‫س‬ ‫الست ک می گران‬
‫مست مل ہ‬
‫چون نہ اندر عش او ج وید مستیہ کنی‬
‫ش ہد م را بود گ ت ر و ہ رفت ر مست‬
‫ج وید ش ہد گ ت ر و ہ رفت ر مست‬ ‫نہ اندر عش‬
‫چون‪ :‬اردو میں چونکہ مست مل ہ‬
‫مستیہ کو الگ الگ لکھیں مستی ہ ' صرف مکتوبی صورت‬
‫اس ل ظ کو اردو میں داخل کر دیتی ہ ۔‬
‫ت اگر راز شم گوید نہ کس پروا کند‬
‫زین سب ب شد شم را محر اسرار مست‬
‫ت اگر راز نہ کس پروا زین سب محر اسرار مست‬
‫غ فل از دنی و دین و جنت و ن ر است او‬
‫در جہ ن ہر کس کہ میب شد ق ندر وار مست‬
‫غ فل از دنی و دین و جنت و ن ر در جہ ن ہر کس کہ ق ندر وار‬
‫مست‬
‫'''''''''''''''''''''‬
‫تن ظر میں تجزیہ پیش‬ ‫نو اش ر ک ' اردو ک‬ ‫بوع ی ق ندر ک‬
‫ہ ۔‬
‫لی‬ ‫نو قوافی درج ہیں۔ یہ اردو والوں ک‬ ‫ان نو اش ر ک‬
‫اجنبی نہیں ہیں۔۔‬
‫آد ' دم د ' ابک ' محر ' اعظ ' پیہ ' اعظ ' آر ' مس‬
‫لظ‬ ‫پہ‬ ‫مصرعوں ک‬
‫جم لت' کہ' اگر' ہزاراں' اگر' تو' بر' مالئک' کس ' حری‬
‫لی‬ ‫مرکب ت' اردو والوں ک‬ ‫وال‬ ‫کال میں است م ل ہون‬
‫غیریت نہیں رکھت ۔‬
‫روئ آد ' جم ہ آد ' ہزاران سجدہ' جم ہ اسم ' حری قدس' کورا‬
‫زب ن' نوشتہ بر جبین' عرش اعظ ' ص ح ن ' اس اعظ '‬
‫صورت پ ک' جم ل ال یزالی‬
‫اردو میں مست مل ال ظ‬
‫اندر روئ آہزاراند کہ م شرف بر جم ہ آد اگر نقطہ‬
‫عزازیل ہزاران سجدہ دم د آد منکشف جم ہ اسم ئ مالئک‬
‫اندران ج کس کورا زب ن بستہ حری قدس محر ن م چند‬
‫فص نوشتہ بر جبین عرش اعظ ن را ج ن بہ قرب ن ن دور‬
‫پیہ خوش ن م و خوش ص ح ن بہ جز اس اعظ بہ عش‬
‫دنی و دین مست اگر مست نہ آوازے بر آر شرف در صورت‬
‫عی ن دید جم ل ال یزالی مس‬
‫وال‬ ‫اردو میں داخل ہون‬ ‫ی م مولی تبدی ی س‬ ‫آوازیں گران‬
‫ال ظ۔‬
‫آوردے م ندہ ثن ئش رود ن مش‬ ‫جم لت بودش دانست‬
‫جم ل۔ جم ل' اردو میں ع است م ل ک‬ ‫س‬ ‫گران‬ ‫جم لت‪ :‬ت‬
‫لظہ ۔‬
‫بھی مست مل ہ ۔‬ ‫رو‪ .‬روئ‬ ‫س‬ ‫گرا دین‬ ‫روئ ‪ :‬ئ‬
‫بودش‪ :‬بود' بود و ب ش‬
‫دانست ‪ :‬دانست' دانستہ' مرک دیدہ دانستہ‬
‫لی‬ ‫آوردے‪ :‬آورد' آمد آورد دونوں اصطالحیں اردو ش عری ک‬
‫مست مل ہیں۔‬
‫م ندہ‪ :‬پس م ندہ' درم ندہ‬
‫ثن ئش‪ :‬ثن ء‬
‫پک‬ ‫س‬ ‫پ کش‪ :‬شین گران‬
‫ک ن ہ ۔‬ ‫رود‪ :‬رود کوثر شیخ اکرا کی کت‬
‫ن مش‪ :‬شین گرا دیں ن‬
‫ت میح ت' جو اردو میں بھی است م ل ہوتی ہیں۔‬
‫آد عزازیل سجدہ اسم مالئک حری قدس عرش اس اعظ ال‬
‫یزالی مس‬
‫س بقہ ال‬
‫است م ل میں ہ ۔ مثال الی نی‬ ‫ال یزالی‪ :‬ال ک س بقہ اردو ک‬
‫الح صل‬
‫امرجہ‬
‫دنی حری قدس عرش اعظ‬
‫ا کال پڑھیں' اردو اور ف رسی کو' قری قری کی زب نیں'‬
‫محسوس کریں گ ۔‬
‫آد‬ ‫جم لت بود اندر روئ‬
‫بودش شرف بر جم ہ آد‬ ‫کہ م‬
‫عزازیل‬ ‫اگر این نقطہ دانست‬
‫ہزاران سجدہ آوردے دم د‬
‫بر آد منکشف جم ہ اسم ئ‬
‫مالئک اندران ج م ندہ ابک‬
‫کورا زب ن بر بستہ نبود‬ ‫کس‬
‫حری قدس او را نیست محر‬
‫ثن ئش چند فص‬ ‫چہ ن م‬
‫نوشتہ بر جبین عرش اعظ‬
‫رود آن ن را ج ن بہ قرب ن‬
‫کن آں ن را من دور پیہ‬
‫و خوش آن ص ح ن‬ ‫خوش ن م‬
‫بہ جز ن مش نب شد اس اعظ‬
‫بہ عش او شود دنی و دین مست‬
‫اگر مست نہ آوازے بر آر‬
‫شرف در صورت پ کش عی ن دید‬
‫جم ل ال یزالی را مس‬
‫'''''''''''''''''''''‬
‫جدید‬
‫غ ل کی ایک م روف غزل ک چ ر مصرعہءث نی پیش ہیں'‬
‫ردیف ک سوا ب قی ال ظ' ف رسی والوں ک لی غیر نہیں ہیں۔‬
‫ہو‬ ‫س م ن صد ہزار نمک داں کئ‬
‫ہوئ‬ ‫س ز چمن طرازی دام ں کئ‬
‫ہوے‬ ‫ج ں نذر دل فریبی عنواں کئ‬
‫ہوئ‬ ‫سر زیر ب ر منت درب ں کئ‬
‫‪:‬غ ل ش عر‬
‫‪.........‬‬
‫جدیدتر‬
‫عالمہ ط ل جوہری ک ان چ روں مصرعوں میں' تین ل ظوں‪:‬‬
‫کی' میں اور ہو ک سوا کوئی ل ظ ف رسی والوں ک لی‬
‫اجنبی نہیں ہو گ ۔‬
‫اے فکر جواں! ص حہءدانش پہ رق ہو‬
‫اے فر گم ں! ع کی دہ یز پہ خ ہو‬
‫اے خ مہء ج ں! دشت م نی میں ع ہو‬
‫اے طبع رواں! زی دہ نون و ق ہو‬
‫لی‬ ‫کو دیکھیں اردو اور ف رسی والوں ک‬ ‫ا اس مصرع‬
‫غیر نہیں ہ ۔‬
‫ب سطوت افک ر و بہ جوش م نی‬
‫‪:‬ط ل جوہری ش عر‬
‫‪.........‬‬
‫جدید ترین‬
‫مالحظہ فرم ئیں‪:‬‬ ‫یہ مصرع‬ ‫ا مہر افروز ک‬

‫عش ہ ' خوا ہیں‪ ،‬میرے د س ز‬
‫ہیں میرے‬ ‫ہ‬
‫د سز‬ ‫عش خوا‬
‫میری دیوانگی کی عمر دراز‬
‫میری کی‬
‫دیوانگی عمر دراز‬
‫انداز‬ ‫نئ‬ ‫ہوں عط عش ک‬
‫ہوں ک‬
‫انداز‬ ‫عط عش نئ‬
‫دشت بیچ رگی میں گ آواز‬
‫م یں‬
‫دشت بیچ رگی گ آواز‬
‫ش عر‪ :‬مہر افروز‬
‫دونوں زب نوں ک لس نی تی اشتراک' ن دانستہ طور پر اور مستقل‬
‫روی پر انحص ر کرت ہ ۔ غ ل ک دور' انگریز اور انگریز‬
‫س پہ س مت ہ ۔ مغ یہ عہد ن نہ د سہی' پرانی روش‬
‫اور روای ت س مت تھ ۔ پرانی روای ت برقرار تھیں۔ ط ل‬
‫جوہری' انگریز ک آخری اور تقسی ہند ک ب د س ت‬
‫کرت ہیں' ج کہ مہر افروز موجود ی نی تقسی ہند ک ب د‬
‫س ' ت کرتی ہیں۔ ان کی زب ن میں ف رسی ک ن و نش ن تک‬
‫نہیں ہون چ ہی ' لیکن ان ک ہ ں است م ل میں آن وال ل ظ'‬
‫اہل ف رسی ک لی غیرم نوس اور اجنبی نہیں ہوں گ ۔ یہ ل ظ‬
‫ان ک ہ ں آج بھی مست مل ہیں۔‬
‫حضرت خواجہ م ین الدین چشتی کی ف رسی ش عری اور اردو‬
‫زب ن‬

‫زب نیں م رد' مرک آوازوں اور ل ظوں کی س نجھ ک حوالہ‬
‫س ' ایک دوسرے ک قری ہیں۔ ہ ں البتہ ان ک است م ل کی‬
‫ذیل میں' اپنی مرضی اور لس نی تی م مالت کو اولیت دیتی ہیں۔‬
‫جس زب ن س ل ظ اختی ر کرتی ہیں' اس زب ن ک ج نو بھی'‬
‫اپنی زب ن ک ل ظوں کی پہچ ن س ' دور رہت ہ ۔ مثال‬
‫لیڈی ں' پنس یں' کریمیں ل ظ کسی انگریز کی پہچ ن میں نہ آ‬
‫سکیں گ ۔‬
‫حور' احوال' اوق ت کوئی عربی واحد تس ی نہیں کرے گ ۔‬
‫ب وجود' عربی نہیں رہ ۔‬ ‫ہونس و' ف س و م ہومی قربت ک‬
‫دور ک بھی‬ ‫ح ی ' غری ' خص ک م نوی اعتب ر س ' عربی س‬
‫رشتہ نہیں رہ ۔‬
‫ک می' ہ دیسی لوگوں ک لی ق بل فہ ہ ' اجنبی نہیں ہ '‬
‫لیکن ج پ نی م نی قط ی الگ س ہیں‪ .‬ش ید انہیں یہ م و نہ‬
‫بھ لو‬ ‫ہو گ کہ اس ل ظ کی اصل کس عالقہ س مت ہ ۔‬
‫میں اور بھال میں قربت موجود ہ گوی اردو کی بنگ ہ س '‬
‫س نجھ نکل رہی ہ ۔‬
‫غرض ایسی سیکڑوں مث لیں پپش کی ج سکتی ہیں' لیکن اپنی‬
‫اصل ک مط ب یہ اردو ک ل ظ بھی نہیں ہیں۔ بولت '‬
‫سمجھت ' پڑھت اور لکھت وقت م ں بولی وال بھی یہ نہیں‬
‫ج نت ' کہ وہ کس زب ن ک ل ظ کو کس طرح اور کس انداز‬
‫س ' است م ل میں ال رہ ہیں۔‬
‫اردو اس وقت است م ل میں آن والی' دنی کی دوسری بڑی‬
‫زب ن ہ ۔ لچک پذیری' ال ظ گھڑن اور اختی ر کرن میں فراخ‬
‫دل واقع ہوئی ہ ۔ انگریز ک ابتدائی عہد ک عالوہ' سرک ری‬
‫سطع پر' اس کی کبھی بھی سرپرستی ی حوص ہ افزائی نہیں‬
‫ہوئی۔‬
‫میں ن زب نوں ک اشتراک ک مط ل ہ ک دوران محسوس کی‬
‫ہ ' کہ اس ن دیسی اور بدیسی زب نوں س ' ہی و ہ ئ‬
‫رکھن میں کبھی بخل اور تھوڑدلی س ک نہیں لی ۔‬
‫صوفی کرا ک کال ک مط ل ہ کرت ' میں ن محسوس کی کہ‬
‫انس ن ہی اانس ن س دور رہت ہ ' ورنہ زب نیں تو ایک دوسری‬
‫ک قری ہیں۔ اگر کوئی م مولی س غور کرے تو اردو کو‬
‫دوسری زب نوں ک قری تر پ ئ گ ۔‬
‫حضرت خواجہ م یین الدین چشتی ک کچھ ف رسی کال ک‬
‫مط ل ہ پیش کر رہ ہوں۔ اس مط ل کو پڑھن ک ب د' ش ید‬
‫اردو زب ن ک ق ری ان ک وجد آمیز کال س لطف اٹھ سک‬
‫گ۔‬
‫ہست‬
‫ہ ۔‬ ‫لی‬ ‫ک‬ ‫ہستی وجود موجود ی نی ہون‬
‫‪...........‬‬
‫س‬ ‫آواز بڑھ ن‬
‫نتواں‪ :‬ن تواں‬
‫‪...........‬‬
‫درست ہر دو ی نی در اور ست‬ ‫است‪ :‬الف گرا کر ست' ست س‬
‫ف رسی میں مست مل ہیں۔‬
‫استر‬ ‫س‬ ‫س تھ ر بڑھ ن‬ ‫است ک‬
‫‪...........‬‬
‫س‬ ‫آوازیں گران‬
‫‪:‬گہش‬
‫گہ' گ ہ‬
‫س زد‪ :‬س ز‬
‫ب ب ی ‪ :‬ب بل‬
‫ب الں‪ :‬ب ال‬
‫رازے‪ :‬راز‬
‫دم ‪ :‬د‬
‫‪...........‬‬
‫س‬ ‫آواز می گران‬
‫بوست ن ‪ :‬بوست ن‬
‫وجود ‪ :‬وجود‬
‫دل‬ ‫دل ‪:‬‬
‫‪...........‬‬
‫س‬ ‫آواز می گران‬
‫گوی ‪ :‬گوی‬
‫گن ہی ‪ :‬گن ہی‬
‫خواہی ‪ :‬خواہی‬
‫گی ہی ‪ :‬گی ہی‬
‫مصط ئی ‪ :‬مصط ئی‬
‫گدائی ‪ :‬گدائی‬
‫لولوئی ‪ :‬لولوئی‬
‫گن ہ' گن ہی‬ ‫گن ہی ‪:‬‬
‫‪...........‬‬
‫خیر خواہی‬ ‫خواہی‪:‬‬
‫بیگ نوں کی بھی خیر خواہی چ ہی ہ ۔‬ ‫آپ کری ن‬
‫خدائی‪ :‬خدائی فیص ہ‬
‫مصط ئی ‪ :‬مصط ئی‬
‫مصط ئی میں خدائی ہ ۔‬
‫گی ہی ‪ :‬آ و گی ہ‬
‫ہیں‬ ‫خوش ح ل رہ‬ ‫گی ہی عالق‬
‫گدائی ‪ :‬گدائی‬
‫کہیں بڑھ کر‬ ‫در کی گدائی' دنی کی ب دش ہی س‬ ‫حضور کری ک‬
‫ہ ۔‬
‫‪...........‬‬
‫س‬ ‫مرک آواز ی گران‬
‫ب گن ہ‬ ‫گن ہی ‪ :‬گن ہ‬
‫خواہی ‪ :‬خواہ خیر خواہ‬
‫گی ہی ‪ :‬گی ہ آ و گی ہ‬
‫آمدی ‪ :‬آمد' خوش مد‬
‫گوی ‪ :‬گو گ تگو‬
‫‪...........‬‬
‫مرک آواز ی اردو میں بھی مست مل ہ ۔ مثال‬
‫کری ‪ :‬انگریزی سپری ' آئس کری ‪ -‬عربی عبدالکری ' حری ; حری‬
‫غ ئ عالمہ مشرقی ک ش ری مجموع ک ن ‪ -‬شمی ' نسی‬
‫ح ی ‪ :‬مق می سطع پر ایک پکوان ک ن ہ ۔‬
‫‪...........‬‬
‫س‬ ‫آواز ے گران‬
‫‪:‬سرودے‬
‫پر سرودے ج ن پڑھ‬ ‫پڑھن‬ ‫سرود' سرود ج ن ض فت س‬
‫جئ گ۔‬
‫‪:‬درودے‬
‫پر‬ ‫ڑھن‬ ‫ی نی اض فت س‬ ‫درود پ ک دال ک نیچ زیر ہ‬
‫درودے پ ک پڑھ ج ئ گ ۔‬
‫‪...........‬‬
‫‪:‬در‬
‫درک ر' درگزر' دراصل‬
‫مگو‬
‫مرک ل ظ‪ :‬گومگو‬
‫حق‬
‫حق ; حق نی' حق نیت' حق ئی' حق رت حقیقت‬ ‫ح س‬
‫حقیر‪ :‬ح پر یر ک الحقہ‬
‫خ لی‬ ‫جس میں حقیقت کی کمی ہو' حقیقت س‬
‫م مولی'‬
‫تھوڑا س‬
‫‪...........‬‬
‫جہدست‪ :‬جہد' جہد است جہد دست‬
‫مرک ‪ :‬جدوجہد‬
‫‪...........‬‬
‫م رد آواز‬
‫‪:‬و‬
‫ب ند و ب ال' سی ہ و س ید' ش و روز‬
‫‪...........‬‬
‫مرک آوازیں‬
‫‪:‬چوں‬
‫چوں کہ' چونکہ‬
‫‪:‬از‬
‫از قصور ت اجمیر' ازاں‬
‫‪:‬بز‬
‫دو اسموں ترکی پ ی ل ظ‪ :‬بزدل‬
‫‪:‬امت‬
‫امت ں‪ :‬پنج بی اور قدی اردو میں جمع بن ن ک اں الحقہ‬
‫مست مل تھ ۔ ا یں رائج ہ ; امتیں' حوریں' راہیں‬
‫م ین‬ ‫م ین س‬
‫اردو اور خصوص پنج بی میں پک رن ی بالن ک لی ے‬
‫بڑھ دیت ہیں۔ جیس فضل فج ' شوکت س شوک ' نور‬
‫س نورے‬
‫برکت بی بی س‬ ‫ہیں۔ جیس‬ ‫عرفی ن ک لی ے بڑھ دیت‬
‫برکت ' کرامت بی بی س کرامت‬
‫‪:‬بشنود; شنود‬
‫کو‬ ‫خوشنود احمد' خوشنود ع ی' خوشنود حسین' ن سنن‬
‫م ت ہیں۔ خوشنودی بھی است م ل میں ہ ۔‬
‫‪...........‬‬
‫بہ‬
‫‪....‬بچش ‪ :‬بہ چش ' بہ چش ن‬
‫بب ز‪ :‬بہ ب ز کبوتر بہ کبوتر ب ز بہ ب ز‬
‫بگذری‪ :‬بہ گذری‬
‫ہیں۔ مثال ب ذو '‬ ‫س تھ' ک س تھ ک لی بہ ب س بقہ بڑھ ت‬
‫ب وف ' ب ہمت' ب وردی' مشبہ بہ‬
‫ہذف ہو‬ ‫س تھ لکھت‬ ‫مقصورہ ہ ۔ ل ظ ک‬ ‫الف ک تب دل ح ئ‬
‫جت ہ ۔‬
‫‪...........‬‬
‫مصدر گ تن س ل ظ ترکی پ ئ ہیں ت ہ اردو میں اس کی‬
‫بنی دی صورت گ ت رہی ہ اور اسی س ل ظ اور مرک‬
‫تشکیل پ ئ ہیں۔ اردو میں' گ ت شگ ت وغیرہ ک کوئی مصدر‬
‫موجود نہیں' لیکن اس نوع ک بہت س ل ظ' کثرت س رواج‬
‫رکھت ہیں۔‬
‫گ ت‪ :‬گ ت ر' گ تگو' گ ت و شونید‬
‫ف رسی میں گ ت کی اشک ل دیگر اشک ل جو حضرت خواجہ‬
‫ص ح ک ہ ں است م ل میں آئی ہیں۔‬
‫گ تن گوی بگو گ تنی گ تی بگ ت گ تمش گ تند‬
‫‪...........‬‬
‫گشت‪ :‬فورسز میں ع است م ل ک ل ظ ہ ۔ گشتی' ف حشہ ک‬
‫لی است م ل ہوت ہ ۔‬
‫آنکہ‪ :‬آں کہ‬
‫خطوط میں عموم لکھ ج ت تھ‬
‫صورت احوال آنکہ‬
‫یہ بھی است م ل میں تھ‬
‫کہ‬ ‫صورت احوال یہ ہ‬
‫ل ظوں کو اکٹھ لکھ ج ن ع رواج میں تھ ۔ یہ رواج آج بھی‬
‫موجود ہ ۔ جیس اسکی' اسک ' انک وغیرہ۔ اکٹھ لکھت‬
‫نون غنہ نون میں بدل ج ت ہ ۔ مثال کروں گ س کرونگ ۔‬
‫بولن میں کروں گ ہی آت ہ ۔‬
‫س بق‬
‫‪:‬ب‬
‫ب ذو ' ب عزت' ب جم عت‬
‫‪:‬بر‬
‫براعظ ' برصغر' بحر و بر' برتؤ‬
‫‪:‬م‬
‫م قبل' م ب د' م نع‬
‫داد‬
‫دادرسی‬
‫داد دین ' داد فری د' داد و فری د‬
‫در‬
‫درب ن' درکن ر' درگزر‬
‫درگ ہ' درب ر' درم ندہ' درک ر‬
‫درست' درستی' درندہ' درندگی‬
‫درگزر' درحقیقت'درکن ر' درجہ' درمن‬
‫میں دونوں ایک‬ ‫درگ ' ن دیوی دال ک اوپر پیش ہ ۔ دیکھن‬
‫س ہیں لیکن دونوں ک ت ظ ایک نہیں۔‬
‫در و دیوار‬
‫‪:‬چو‬
‫چور' چورس' چوگرد‬
‫الحق‬
‫‪:‬را‬
‫ہم را' تمہ را' سہ را' کھ را' گ را‬
‫‪:‬چہ‬
‫چن نچہ' خواں چہ خوانچہ' دیگ چہ دیگچہ' ب غیچہ‬
‫مخواں‪ :‬خواں‬
‫قرآن خوان' ن ت خوان' مرثیہ خوان' نوحہ خوان‬
‫س ‪ :‬قرآن خوانی' ن ت خوانی' مرثیہ‬ ‫ی ئ مصدری بڑھ ن‬
‫خوانی' نوحہ خوانی‬
‫‪:‬داد‬
‫خداداد‬
‫‪:‬شد‬
‫خت شد‬
‫‪:‬خواہ‬
‫خوامخواہ' بدخواہ‬
‫‪:‬کرد‬
‫ح صل کردہ' ک رکردگی‬
‫کن‪ :‬ک رکن' رکن‬
‫کنہ‬ ‫س‬ ‫مقصورہ بڑھ ن‬ ‫ہہ‬
‫کنی‪ :‬دو رکنی' ک ن کنی‬
‫دانی‬
‫ل ظ دانی اردو میں ب طور الحقہ رواج رکھت ہ ۔ مثال ص بن دانی‬
‫گو‬
‫من نمی گوی ان الح ی ر می گوید بگو‬
‫چوں نگوی چوں مرا دلدار می گوید بگو‬
‫‪:‬گوی نگوی‬
‫بولوں کہ نہ بولوں‪ .‬کہ ' نہ کہ ‪ .‬کی ' نہ کی‬
‫کچھ مرک آوازیں جن ک کوئی ذاتی م نی نہیں ہوت لیکن‬
‫ل ظوں کو نئی م نویت س ہ کن ر کرتی ہیں۔ مثال ئی اور ئ‬
‫ئی‪ :‬دری ئی' گرم ئی' شرم ئی‬
‫ہ ں اس ک است م ل مالحظہ ہو۔‬ ‫خواجہ ص ح ک‬
‫ایں دوئی را از می ں بر دار می گوید بگو‬
‫ئ ‪ :‬آئ ' پ ئ ' ج ئ‬
‫ہ ۔ مثال‬ ‫متت‬ ‫س‬ ‫ج ئ ' جگہ اور ج ن‬
‫گ۔‬ ‫وہ ج ئ‬
‫گی۔‬ ‫پن ہ میسر آ سک‬ ‫روز شیط ن کو ج ئ‬ ‫قی مت ک‬
‫ہ ں اس ک است م ل مالحظہ ہو۔‬ ‫خواجہ ص ح ک‬
‫رب نی شد‬ ‫ت کہ من مست از تج ی ہ ئ‬
‫ال الہ ہست حسین‬ ‫حق کہ بن ئ‬

‫اردو میں رائج ال ظ‬
‫ش ہ حسین ب دش ہ دین دین پن ہ سر دست یزید کہ بن ئ ال الہ‬
‫ج ن منزل ج ن ن محمد صد کش دل از ج ن ب و دیگر قرآں‬
‫بست ن محمد غ اے آ و گل ج ن و دل ت بہ یژ افغ ن دیگر‬
‫برسر واں کہ ی ور برہ ن محمد خون ع ش عش اگر ہدر فردا‬
‫دوست ت وان درد زخ عصی ں غ مرہ ش عت درم ن محمد‬
‫مستغر ہرچند عذر پژمردہ ب ران گ ست ن احمد مرج ں عم ن‬
‫محمد ی ر کہ اندر نور ح ف نی مط ع انوار فیض ذات سبح نی‬
‫ذرہ ذرہ از ط ل دیدار ت کہ مست از تج ی ہ ئ رب نی زنگ‬
‫غیرت مرآت دود عش ت واقف اسرار پنہ نی بیروں ظ مت‬
‫ہستی ت نور ہستی دانی گر دود ن س ظ مت پ ک سوختہ‬
‫امتزاج آتش عش تو نورانی خ راہ را بدشواری اے ع ک هللا‬
‫کہ ب رے ب س نی د بد روح القدس اندر م ینی مگر عیسی ث نی‬
‫اگر حقیقت وجود خود بینی قی جم ہ اشی ء بہبود خود بینی دجود‬
‫ن ر موسوی اگر از سر تو دود خود بینی ق ر لجہ توحید عش‬
‫کہ گنج مخ ی ح را ن ود خود بینی بہ قصر عش ترا پ یہ از سر‬
‫کہ تخت ہر دو جہ ں خود بینی تو فرشتہ نظر جم ل دوست نہ‬
‫ل یں کہ ہمیں سجود خود بینی ش ید کہ ت دن خود بینی آ و نور‬
‫دوست نگر تو چند شیشہ سرخ و کبود خود بینی اگر آئینہ زنگ‬
‫حدوث بزوائی جم ل ش ئد ح شہود خود بینی بند دیدہ اعی ں کہ‬
‫ت ز عین عی ں وجود دوست ج ن وجود خود بینی بز گدای ں شہ‬
‫نش ں خودی کہ ت نتیجہ احس ں وجود خود بینی آ بہ مج س‬
‫مسکیں م ین شوریدہ کہ نقل و ب دہ گ ت و شنود خود بینی ان‬
‫الح ی ر مرا دلدار ب ر اندر صوم ہ ب زاہداں ب تح ش سر ب زار‬
‫محر ب در و دیوار سر منصوری نہ ں حد ہ ہ دار آتش عش‬
‫درخت ج ن من زد ع ب موسی آں ی ر نی مدا اسرار اے صب‬
‫کہ پرسدت ط ل دین س ط ن محمد م یں دوئی می ں دار خویش‬
‫خ نہ بروں ازیں خ نہ بروں ازیں‬
‫خویش‪ :‬اول خویش ب د درویش' م روف مقولہ ہ ۔‬
‫ش ئع ہوت رہ ہ ۔‬ ‫امروز‪ :‬ایک اردو اخب ر اس ن س‬
‫‪..................‬‬
‫چ روں ابتدائی ل ظ اردو میں بھی‬ ‫ک‬ ‫اس م روف چومصرع‬
‫مست مل ہیں۔‬
‫ش ہ ہست حسین پ دش ہ ہست حسین‬
‫دین ہست حسین دین پن ہ ہست حسین‬
‫سر داد نداد دست در دست یزید‬
‫ال الہ ہست حسین‬ ‫حق کہ بن ئ‬
‫‪..................‬‬
‫قوافی مالحظہ ہوں‬ ‫دس ش روں ک‬ ‫اگ‬
‫ج ن ن' ج ن' گ ست ن' ب ران' ب ران' ت وان' س ط ن' برہ ن' افغ ن'‬
‫بست ن‬

‫در ج ن چو کرد منزل ج ن ن م محمد‬
‫صد در کش در دل از ج ن م محمد‬
‫م ب ب ی ب الں در گ ست ن احمد‬
‫م لولوئی و مرج ں عم ن م محمد‬
‫مستغر گن ہی ہر چند عذر خواہی‬
‫پژ مردہ چوں گی ہی ب ران م محمد‬
‫از درد زخ عصی ں م را چہ غ چو س زد‬
‫از مرہ ش عت درم ن م محمد‬
‫امروز خون ع ش در عش اگر ہدر شد‬
‫فردا ز دوست خواہ ت وان م محمد‬
‫م ط ل خدایئ بر دین مصط ئی‬
‫بر در گہش گدائی س ط ن م محمد‬
‫از امت ں دیگر م آمدی برسر‬
‫واں را کہ نیست ی ور برہ ن م محمد‬
‫اے آ و گل سرودے وی ج ن و دل درودے‬
‫ت بشنود بہ یژ افغ ن م محمد‬
‫و بوست ن دیگر مخواں م ین‬ ‫در ب‬
‫ب غ بشست قرآں بست ن م محمد‬
‫خواجہ م ین الدین چشتی‬
‫‪..................‬‬
‫ال ظ' اردو میں رواج‬ ‫مت‬ ‫قوافی س‬ ‫ان س ت اش ر ک‬
‫رکھت ہیں‬
‫ف نی' سبح نی' رب نی' پنہ نی' دانی' نورانی' ب س نی' ث نی‬

‫ایں من ی ر کہ اندر نور ح ف نی شد‬
‫مط ع انوار فیض ذات سبح نی شد‬
‫دیدار گشت‬ ‫ذرہ ذرہ از وجود ط ل‬
‫رب نی شد‬ ‫ت کہ من مست از تج ی ہ ئ‬
‫زنگ غیرت را ز مرآت دل بزدود عش‬
‫ت بک ی واقف اسرار پنہ نی شد‬
‫من چن ں بیروں شد از ظ مت ہستی خویش‬
‫ت ز نور ہستی او آنکہ می دانی شد‬
‫گر ز دود ن س ظ مت پ ک بود سوختہ‬
‫ز امتزاج آتش عش تو نورانی شد‬
‫می گ تند کیں راہ را بدشواری روند‬ ‫خ‬
‫اے ع ک هللا کہ من ب رے ب س نی شد‬
‫د بد روح القدس اندر م ینی می دمد‬
‫من نمی دان مگر عیسی ث نی شد‬
‫خواجہ م ین الدین چشتی‬
‫‪..................‬‬
‫قوافی اردو میں مست مل ال ظ ہیں۔‬ ‫ان آٹھ اش ر ک‬
‫ی ر' دلدار' ب ر' ب زار' دیوار' دار' ی ر' اسرار' دار‬
‫من نمی گوی ان الح ی ر می گوید بگو‬
‫چوں نگوی چوں مرا دلدار می گوید بگو‬
‫ہر چہ می گ تنی بمن ب ر می گ تی مگو‬
‫من نمی دان چرا ایں ب ر می گوید بگو‬
‫آں چہ نتواں گ تن اندر صوم ہ ب زاہداں‬
‫تح ش بر سر ب زار می گوید بگو‬ ‫ب‬
‫گ تمش رازے کہ دار ب کہ گوی در جہ ں‬
‫نیست محر ب در و دیوار می گوید بگو‬
‫سر منصوری نہ ں کردن حد چوں منست‬
‫چوں کن ہ ریسم ں ہ دار می گوید بگو‬
‫آتش عش از درخت ج ن من بر زد ع‬
‫ہر چہ ب موسی بگ ت آں ی ر می گوید بگو‬
‫گ تمش من چوں نی در من مدا می دم‬
‫من نخواہ گ تن اسرار می گوید بگو‬
‫اے صب کہ پرسدت کز م چہ می گوید م یں‬
‫ایں دوئی را از می ں بر دار می گوید بگو‬
‫خواجہ م ین الدین چشتی‬
‫‪..................‬‬
‫ابتدائی ال ظ اردو میں بھی مست مل ہیں۔‬ ‫ان اش ر ک‬
‫اگر' قی ' کہ' تو' نہ' بب ز' جم ل' یہ' وجود' در‬
‫اجنبی نہیں۔‬ ‫لی‬ ‫ردیف خود بینی اردو والوں ک‬
‫اگر بچش حقیقت وجود خود بینی‬
‫قی جم ہ اشی ء بہبود خود بینی‬
‫دجود ہیزمیت ن ر موسوی گردد‬
‫اگر بروں کنی از سر تو دود خود بینی‬
‫ز ق ر لجہ توحید در عش برار‬
‫کہ گنج مخ ی ح را ن ود خود بینی‬
‫بہ قصر عش تراپ یہ از سر جہدست‬
‫کہ تخت ہر دو جہ ں را فرود خود بینی‬
‫تو چوں فرشتہ نظر بر جم ل دوست گم ر‬
‫نہ چوں ل یں کہ ہمیں در سجود خود بینی‬
‫ازیں حضیض و دن یت چو بگذری ش ید‬
‫کہ ت دن فتدلی ص ود خود بینی‬
‫بب ز خ نہ بروں آ ونور دوست نگر‬
‫تو چند شیشہ سرخ و کبود خود بینی‬
‫اگر ز آئینہ زنگ حدوث بزوائی‬
‫جم ل ش ئد ح در شہود خود بینی‬
‫بہ بند دیدہ ز اعی ں کہ ت ز عین عی ں‬
‫وجود دوست چو ج ن وجود خود بینی‬
‫بی بز گدای ں شہ نش ں خودی ست‬
‫کہ ت نتیجہ احس ں وجود خود بینی‬
‫در آ بہ مج س مسکیں م ین شوریدہ‬
‫کہ نقل و ب دہ ز گ ت و شنود خود بینی‬
‫خواجہ م ین الدین چشتی‬
‫‪..................‬‬
‫حضرت امیر خسرو ک ایک گیت اور جدید گ ئیکی‬

‫نین ں مالئی ک‬ ‫چھ پ ت ک س چھین لی ری موس‬
‫بہت س فن ک روں ن اپن اپن انداز اور رنگ میں‘ گ ی ہ ۔‬
‫اس گیت کو گ ن ک لی ‘ کئی طرح کی ل اور طور اختی ر‬
‫کی گی ہیں۔ ہر ل اور طور‘ ق بل تحسین ہ ۔ گیت چوں کہ‬
‫۔۔۔۔ س زی دہ پران ‘‬ ‫ت‬ ‫س ڑھ س ت سو س ل ۔۔۔۔‬
‫اس لی اس کی گ ئیکی ک لی ‘ کالسیکل میوزیکل‬
‫انسڑرومنٹ ک است م ل ہون ‘ فطری سی ب ت ہ ۔ مجھ یہ ہی‬
‫گیت‘ ظال خ ں کی آواز میں‘ سنن ک ات ہوا ہ ۔ جدید لب س‘‬
‫جدید طور‘ جدید انداز اور جدید سر س ز ک یہ رنگ‘ ب ظ ہر‬
‫عجی اور حیرت س خ لی نہیں۔ ایک آدھ کو سر س ز س‬
‫مت لوگ پسند نہیں آئ ۔ مثال کہ گی ہ ‪ :‬۔۔۔۔۔۔۔‬
‫‪Can someone edit this video and remove the stupid guy in purple.‬‬
‫اگر غور کی ج ئ تو یہ اوروں س الگ تر ہی نہیں‘ بڑھ کر‬
‫بھی ہ ۔ گ ئیک تو ب کم ل ہ ہی‘ لیکن اس ک ہر دو س زندے‬
‫اپن جوا نہیں رکھت ۔ اس گیت کو پہ سن ج ئ ۔ سم عی‬
‫آالت‘ بیک وقت گی رہ س زوں ک پت دیں گ اور یہ گ ئیک کی‬
‫آواز س ہ آہنگ ہیں۔ یہ س ز‘ گ ئیک کی آواز کو حسن بخش‬
‫رہ ہیں۔ ان س زوں کی آوازکو‘ اگر گ ئیک کی آواز س الگ‬
‫کر دی ج ئ ‘ تو موجودہ لطف کی صورت قط ی برقرار نہیں‬
‫رہ گی۔‬
‫دوسری ب ر اس دیکھ اور سن ج ئ ‘ تو حیرت کی انتہ نہ‬
‫رہ گی‘ کہ فقط ایک س زندہ ک کر رہ ہ ‘ جس ک ہ تھوں‬
‫کی انگ ی ں حرکت میں ہیں‘ س تھ میں ایک پ ؤں اور سر متحرک‬
‫ہیں۔ ہر دو اعض ‘ کسی س ز کی آواز پیدا نہیں کر رہ ‘ ہ ں‬
‫البتہ‘ پ نچ س زوں کی آواز پیدا کرن اور گ ئیک کی آواز س ہ‬
‫آہنگ کرن میں‘ م ون ث بت ہو رہ ہیں۔ عق میں ایک‬
‫نوجوان جدید رقص میں مصروف ہ ۔ اس ک پورا جس مصروف‬
‫عمل ہ ۔ اس ک ک منہ‘ ہ تھ میں پکڑے م ئیک میں گھس ہوا‬
‫ہ اور وہ منہ س ‘ چھ قس ک س زوں کی آوازیں نک ل رہ‬
‫ہ ۔ یہ چھ س زوں کی آوازیں‘ گٹ ر س برآمد کی ج ن والی‬
‫پ نچ آوازوں اور گ ئیک کی آواز س ہ آہنگ ہیں۔‬
‫چھ قس ک س زوں کی آواز نک لن ک لی ‘ اس ک منہ‘‬
‫گال‘ پھپھڑے اور زب ن مشقت میں ہیں۔ بالرقص‘ ان نک ن والی‬
‫چھ س زوں کی آوازیں‘ ٹھہراؤ اور یک رنگی ک شک ر ہو‬
‫ج ئیں گی۔ ہر سہ فنک ر عہد قدی ک اس پرکیف اور روح نیت‬
‫س لبریز گیت کو‘ عہد جہد جدید س ہ کن ر کرن کی ک می‬
‫کوشش میں‘ مصروف ہیں۔ ان کی فنی صالحیت اور اختراحی‬
‫فکر اور کوشش کی داد نہ دین ‘ زی دتی ک مترادف ہو گ ۔ کسی‬
‫اچھ اور نئ طور و چ ن کی تحسین نہ کرن ‘ سراسر زی دتی‬
‫ک‬ ‫ک مترادف ہوت ہ ۔ ب ور رہن چ ہی کہ پران گیت‘ طب‬
‫بغیر گ ئ ہی نہیں ج سکت ۔ ہر دو س زندوں ن یہ کمی‬
‫ب خوبی پوری کر دی ہ ۔ سم عی غور کریں گ ‘ تو احس س ہو‬
‫ج ئ گ کہ یہ گیت بالطب ہ گ ی نہیں گی ۔‬
‫مش ہدے میں آی ہ ‘ کہ گ ئیک حضرات کال میں اکثر گ ت‬
‫سم ‘ کمی بیشی کرت رہت ہیں۔ مکتوبی صورت ی پھر ہدایت‬
‫ک ر ک بھی اس میں عمل دخل ہوت ہ ۔ امیر خسرو ک گیت مع‬
‫اصالحی صورت کچھ یوں ہ ۔‬

‫پ س گئی‬ ‫جو میں پی ک‬ ‫اپنی چھ بن ئی ک‬
‫ج چھ دیکھی پیو کی تو اپنی بھول گئی‬

‫نین ں مالئی ک‬ ‫چھ پ ت ک س چھین لی ری موس‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫ب ت ادھ کہہ دی نی رے مو س‬
‫‪..........‬‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫چھ پ ت ک س چھین لی ری موس‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫اپنی ہی کر لی نی موس‬
‫چھ پ‪ :‬چھ‬
‫موس ‪ :‬مو س‬
‫ری‪ :‬رے‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫چھ پ ت ک س چھین لی ری موس‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫چھ ت ک س چھین لی نی رے مو س‬
‫‪..........‬‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫اپنی ہی کر لی نی موس‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫اپنی ہی کر لی نی رے مو س‬
‫‪..........‬‬
‫پری بھٹی ک مدھوا پال کر‬
‫نین مالئی ک‬ ‫متوالی کر لی نی موس‬
‫متوالی‪ :‬متواری‬
‫پری بھٹی ک مدھوا پالئی‬ ‫ک‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫متواری کر لی نی رے مو س‬
‫‪..........‬‬
‫بل بل ج ؤں میں تورے رنگ رجوا‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫اپنی ہی کر لی نی رے مو س‬
‫ت ہ ہی قری تر لگت ہ‬ ‫سی بھی آت ہ‬
‫‪..........‬‬
‫بل بل ج ؤں‬ ‫خسرو نظ ک‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫ہی رنگ میں رنگ لی نی رے موس‬ ‫اپن‬
‫بل بل ج ئی‬ ‫کھسرو نج ک‬
‫نین ں مالئی ک‬ ‫ہی رنگ میں رنگ لی نی رے مو س‬ ‫اپن‬
‫‪..........‬‬
‫‪link:‬‬
‫‪https://www.youtube.com/watch?v=sUyfhQtT30g&nohtml5=False‬‬
‫ایک قدی ی د گ ر ب رہ ام‬

‫بچپن ہی س ' اپنی والدہ م جدہ محترمہ سیدہ سردار بیگ دختر‬
‫سید برکت ع ی س بقہ اق متی ننگ ی' امرتسر س ' میں صبح‬
‫سویرے ب رہ ام سنت آ رہ تھ ۔ ان میں س پہ تین' آج تک‬
‫مجھ زب نی ی د تھ ۔ جس مسودے س وہ یہ پڑھتی تھیں'‬
‫انتہ ئی بوسیدہ تھ ۔ انیس سو ست ون ی اٹھ ون میں' انہوں ن یہ‬
‫کسی س ایک پ کٹ ڈائری پر نقل کروای ۔ ن قل کوئی زی دہ پڑھ‬
‫لکھ نہ تھ ۔ چوں کہ انہیں یہ زب نی ازبر تھ ' اس لی لکھ ئی‬
‫ک اچھ ی برا ہون س کوئی فر نہ پڑا۔ اصل مسودہ انہوں‬
‫ن ایک چھوٹ س بکس میں مح وظ کر دی ' جو ان ک‬
‫مرحو والد کی نش نی تھ ۔‬
‫‪1996‬‬ ‫میں ج ان ک انتق ل پرمالل ہوا' تو بڑے بھ ئی ص ح‬
‫مرحو مک ن س م ن پر ق بض ہو گئ ' ان س چھوٹی ک‬
‫حصہ میں جھ ڑ پونچھ آ گی ۔‬
‫میں ن قی فہ س ' چھوٹی نصرت شگ تہ س کہ ممکن ہ وہ‬
‫بکس' جس میں مسودہ تھ ' آپ ک ہ ں س مل ج ئ ۔ آپ عمر‬
‫رسیدہ ہون ک سب ' حواس میں نہیں ہیں' اس لی چھوٹی‬
‫ہی کو' آپ ک گھر س کوڑ کب ڑ پھرولن پڑا۔ ب چ ری کو کچھ‬
‫نہ مال۔ میں ن پھر ہمت بندھ ئی۔ میری درخواست پر دوب رہ‬
‫س س ر کی ص وبت اٹھ کر آپ ک گ ؤں گئی اور اب مرحو‬
‫ک کال ک ایک رجسٹر تالشن میں ک می ہو گئی اور یہ دفتر'‬
‫اپن پی ر ک تح ک طور پر' اپن بوڑھ بھ ئی کو بھجوا‬
‫دی ۔ یقین م نیئ ' اس کی ک می بی پر دل گ ال گال اور آنکھیں‬
‫ک ی ک ی ہو گئیں۔ وہ ب چ ری کی ج ن ' میری سوئی' اس‬
‫مسودے اور پ کٹ ڈائری پر رکی ہوئی تھی۔ اس پھر س '‬
‫کوشش کرن پڑی۔ آخر اس ن پ کٹ ڈائری ڈھونڈ ہی نک لی۔ یہ‬
‫وہ ں س م ی' جہ ں اس ک ہون ک گم ن بھی نہیں کی ج‬
‫سکت تھ ۔ اس کی ح لت بڑی خستہ اور ق بل رح ہ ۔ میں ن‬
‫پوری توجہ س اس پڑھ کر یہ ں درج کی ہ ۔‬
‫اپنی اصل میں یہ اردو میں ہ لیکن اس پر پنج بی ک گہرے‬
‫اثرات م ت ہیں۔ یہ کوئی ایسی نئی ب ت نہیں۔ قوافی میں ر ک‬
‫س تھ ڑ ک قوافی بھی م ت ہیں‬
‫تو ہوئی کڑ کڑ‬ ‫ج گوشہ پکڑا ع ی ن‬
‫‪..........‬‬
‫سڑ‬ ‫زمین ج ئ‬ ‫کیوں سٹ ں ف ک فرش ت‬
‫‪..........‬‬
‫ہیں۔‬ ‫قوافی ک بھی است م ل ہوئ‬ ‫س تھ بھ ری آوازوں ک‬ ‫رک‬
‫ڑھ‬
‫ج م راج ہوا ام کو ت سیس نیزے چڑھ‬
‫گھ‬
‫کوفی وڈے ل نتی پ ید جھوٹ گھر‬
‫بھ‬
‫شری ت طریقت دا اوہ دیوے ج بھر‬
‫ان مرکب ت کو ایک نظر دیکھیئ ' پرلطف ہی نہیں' فصحیح و‬
‫ب یغ بھی ہیں۔‬
‫مکر زن' خوشی چین' سردار ص دقین' صد سیتی' نبی ک‬
‫رتن' ر ک رفی‬
‫جھوٹ گھر' کہہ کر بہت بڑا عالقہ مراد لی گی ہ ۔ کم ل ک‬
‫م نوی وس ت ک حوالہ س ' یہ مرک ہ ۔‬
‫مجھ اس کال س ' دل چسپی تھی اور ہ ۔ صدیوں پرانی‬
‫بزرگوں کی نش نی ہ ۔ اس میں پہ ام میں' جو م وم ت‬
‫فراہ کی گئی ہیں' مروجہ ت ریخی قصص س ' قط ی ہٹ کر ہیں'‬
‫ت ہ انہیں یہ کہہ کر رد کر دین ' کہ کسی ش یہ ک کہ ہ ' مبنی‬
‫برانص ف نہیں۔ ان س ہٹ کر لوگ بھی ک ہل پر نہ یت ہوئ‬
‫ہیں۔ جدھر دیکھو 'س عین غین صورت نظر آئ گی۔ پیٹ' ضد‬
‫اور ش ہ گم شتگی میں مصروف ہیں۔ خصوص مولوی تو ب یقین‬
‫اور تقسی ک دروازے کھولن واال رہ ہ ۔ اصح بہ کرا کی‬
‫گ برگہ وغیرہ میں آمد اور موجودگی ک آث ر م ت ہیں۔ قراتہ‬
‫ال ین حیدر ک ہ ں س دات کی لڑائیوں ک ذکر م ت ہ ۔ اسی طرح‬
‫ک‬ ‫حضرت امیر م ویہ ک عہد میں ‪ 44‬ہجری میں بھی حم‬
‫سرا م ت ہ ۔ ق ضی نجی ک ہ ں منصورہ میں ف طمی‬
‫حکومت ک بھی پت م ت ہ ۔ ابن ق س اسی کو ن بود کرن آی‬
‫تھ ۔ یہ ہی سچ اور یہ ہی حقیقت ہ ۔ ا یہ نئی ب ت س من آئی‬
‫‪.‬ہ‬
‫ام موال ع ی ص در‬ ‫اول ک‬
‫زیر کر‬ ‫جو م ک سندھ ک فراں س لی‬
‫تو ہوئی کڑ کڑ‬ ‫ج گوشہ پکڑا ع ی ن‬
‫ڈر‬ ‫ت ن رہ ہوا حیدری س ک فر گئ‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬

‫تو ہوئی کڑ کڑ‬ ‫ج گوشہ پکڑا ع ی ن‬
‫یہ مصرع کھولت ہ کہ ام ع ی یہ ں خود تشریف الئ ۔ خیبر‬
‫تک آن ک تو مروجہ ت ریخ میں' واضح ثبوت م ت ہ ۔ اس‬
‫مصرع میں کہ گئ کو رد کرن ' ب الشبہ زی دتی ہو گی۔ ت ہ‬
‫کوئی غیر مس ی پھر مورکھ نہیں' مورخ ہی ک کر سک گ ۔‬
‫ام موال ع ی ص در‬ ‫اول ک‬
‫زیر کر‬ ‫جو م ک سندھ ک فراں س لی‬
‫تو ہوئی کڑ کڑ‬ ‫ج گوشہ پکڑا ع ی ن‬
‫ڈر‬ ‫ت ن رہ ہوا حیدری س ک فر گئ‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫حسن‬ ‫عیک‬ ‫دوسرے ام بیٹ‬
‫جو زہر آندی ک فراں اور دی مکر زن‬
‫زہر کو تقدیر لئی من‬ ‫ج حسن دیکھ‬
‫سڑ‬ ‫زمین ج ئ‬ ‫کیوں سٹ ں ف ک فرش ت‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫‪.......‬‬
‫حسین‬ ‫عیک‬ ‫تیسرے ام بیٹ‬
‫تقصیر کرو م ف پک راں دن رین‬
‫میں منگت ہوں حسین ک دکھ ؤ خوشی چین‬
‫ج م راج ہوا ام کو ت سیس نیزے چڑھ‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫‪.......‬‬
‫سخی زین ال بدین‬ ‫ام بیٹ‬ ‫چوتھ‬
‫سید مرس ین‬ ‫ہیں حسین ک‬ ‫بی ٹ‬
‫کوفی ں سردار ص دقین‬ ‫ج زیر کیت‬
‫کوفی وڈے ل نتی پ ید جھوٹ گھر‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫محمد ب قر ضرور‬ ‫پ نچویں ام تھ‬
‫ام منوں پ نچواں وہ پ ک ذاتی نور‬
‫ک مہ کہو رسول ک س ک ر ہووے دور‬
‫شری ت طریقت دا اوہ دیوے ج بھر‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫‪........‬‬
‫چھیویں ام ج ر ص د مذہ جن ک پ ک‬
‫والد جن ک محمد ب قر سردار ع لی ذات‬
‫خود کرشن پھر حشر دے میدان‬ ‫اوتھ‬ ‫تی ج‬
‫در‬ ‫یقین سوال اس‬ ‫۔۔۔۔۔ ت‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫‪......‬‬
‫ام ک ظ س تویں صد سیتی من‬
‫دل پ ک ص ف ہوا تن‬ ‫س‬ ‫کم‬
‫رتن‬ ‫فرزند اور نبی ک‬ ‫سخی ج ر ک‬
‫تو ک ٹو اس ک سر‬ ‫جو غیر کو ام کہ‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫‪......‬‬
‫آٹھویں ام موسی ع ی رض‬
‫لوالک اہل بیت نوں‬ ‫ر دی ہ‬
‫جو ر کی ب ت‬
‫قرب ن قرب ن میں حسین تھیں‬
‫صبر‬ ‫جس کی ہ‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫‪.......‬‬
‫ک‬ ‫ام منوں اس کو آل نبی اوالد مرتض‬
‫ش ک‬ ‫س قی کوثر وارث ہ‬ ‫حیدر بن‬
‫جو دشمن ہووے غیر تھیں چ ک ٹو اس ک سر‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫‪.......‬‬
‫دسویں ام توں قرب ن کراں سیس‬
‫نقی ام ن جس ک وہ ر ک رفی‬
‫منوں اس کو مومنوں یہ نبی کی حدیث‬
‫عزیز ممبر چڑھ‬ ‫کی یہ رسول ن‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫‪.......‬‬
‫گی رویں ام حسن عسکری ع یہ السال‬
‫تیری پشت پ ک ت بخشو چ ان‬
‫میدان‬ ‫مدد ہو پھر حشر ک‬ ‫اوتھ‬ ‫ایتھ‬
‫فقیر ک سوال بخشو دین ایم ن زر‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫‪.......‬‬
‫زور‬ ‫ب رہویں ام کو ر دی ہ‬
‫مہدی ن اس ک نہیں ث نی اس ک ہور‬
‫م رے گ دج ل کو ج موزی پ ی زور‬
‫ام کو ج ۔۔۔۔۔۔‬ ‫فتح ہ‬
‫ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر‬
‫حدود ایک ج ئزہ‬ ‫س ختی ت اور اس ک‬

‫س ختی ت ایک صحت مند فکری روی ‪ ،‬ہمہ وقت ترقی پذیر‬
‫سم جی ضرورت اورانتھک تحقی و دری فت ک ن ہ جو سوچ‬
‫کوکسی مخصوص‪ ،‬زم نی ومک نی کرے تک محدود رہن نہیں‬
‫دیتی ۔ یہ نہ صرف م و (ڈسکورڈ)مگر غیرا ستوار کروں س‬
‫ت استوار کرتی ہ ب کہ ان س رشت ن ت دری فت کرتی‬
‫ہ ۔ اس ک دائرہ ک ر یہ ں تک ہی محدود نہیں رہت ب کہ م و‬
‫مگر غیر دری فت شدہ کروں کی طرف پیش قدمی کرک ان ک‬
‫حوالوں کو اشی ‪ ،‬اشخ ص اور ان س مت ق ت وغیرہ کی جذ‬
‫و اخذ کی صالحیتوں س پیوست کر دیتی ہ ۔ یہ پیوستگی‬
‫مخصوص‪ ،‬محدود اور پ بند لمحوں کی دری فت تک محدود نہیں‬
‫رہتی اور نہ ہی تغیرات کی صور ت میں ج مد وس کت رہتی ہ ۔‬
‫اس ک رد س خت ک ح قہ ہمیشہ المحدود رہت ہ ۔‬
‫کچھ لوگ س خت شکنی کو س خت س انحراف ک ن دیت ہیں‬
‫ی سمجھت ہیں۔ یہ سوچ س خت ک ضمن میں درست من س‬
‫اور’’ وارہ کھ ن ‘‘ والی نہیں ہ ۔ س خت شکنی درحقیقت‬
‫موجودہ تشریح کو مستردکرک آگ بڑھن ک ن ہ ۔ ش خت‬
‫شکنی ک بغیر کسی نئ کی دری فت ک سوال پیدا ہی نہیں اٹھت ۔‬
‫س خت شکنی کی صورت میں ن م و ک ئن تیں دری فت ہوکر کسی‬
‫بھی دال ک س تھ بہت س رے مدلول وابستہ ہو ج ت ہیں۔‬
‫کوئی دال غیر لچکدار اور ق ئ ب لذات نہیں ہوت ۔ لچک‪ ،‬قطرے ک‬
‫سمندر کی طرف مراج ت ک ذری ہ ووسی ہ ہ ی اس ک حوالہ‬
‫س قطرے ک سمندر بنن ہ ۔ س خت شکنی س ہی یہ آگہی‬
‫میسر آتی ہ کہ قطرہ اپن اندر سمندر بنن ک جوہر رکھت ہ ۔‬
‫دال کوغیرلچکدار قرار دین آگہی ک پہ زین پر کھڑے‬
‫رہن ہ ۔ ہر زندہ اور لچکدار سوچ ازخود آگہی کی ج ن بڑھت ہ‬
‫۔زندہ اورلچکدار سوچ کو دائرہ ک قیدی ہون خوش نہیں آت اور‬
‫نہ ہی اس کسی مخصوص دائرے س منس ک کی ج سکت ہ ۔‬
‫یہ ان گنت سم جی رشتوں س منس ک ہوت ہ ۔ اسی بنی دپر‬
‫گریم ک کہن ہ‬
‫گوشواروں پر مبنی‬ ‫س ختی تی نظ ممکنہ انس نی رشتوں ک‬
‫ہ‬
‫ہیں‬ ‫ڈاکٹر وزیر آغ اس ضمن میں کہت‬
‫س ختی ت ن ش ری ت کو ثق فتی دھ گوں ک ج ل قرار دی ہ ۔ وہ‬
‫تصنیف کی لس نی اک ئی ی م نوی اک ئی تک محدود نہ رہی ب کہ‬
‫اس ن تصنیف ک اندر ثق فتی تن ظرہ ک بھی اح طہ کی‬
‫تشریح وت ہی ک وقت ش رح ک وجود م دو ہوج ت ہ اور فکر‬
‫موجودہ تغیرات ک نت ئج س مدلول اخذ کرتی چ ی ج تی ہ‬
‫جبکہ وقوع میں آن وال مدلول پھر س نئی تشریح وت ہی‬
‫کی ضرورت رہت ہیں۔ اس ک لئ تغیرات ک نت ئج اور‬
‫دری فت ک عوامل پھر حرکت کی زدمیں رہت ہیں۔ اس س رد‬
‫س خت ک مواقع بڑھ ج ت ہیں ۔ اگران لمحوں میں ش رح جو‬
‫ق ری بھی ہ ‪ ،‬ک وجود کو استحق میسر رہ گ ی اس ک ہون‬
‫اور رہن قرار واق ی سمجھ ج ئ گ تودری فت ک عمل رک ج ئ‬
‫گ ۔ مصنف کو لکھت اور ش رع کو تشریح کرت وقت غیر‬
‫ش وری طور پر م دو ہون پڑے گ ۔ ش وری صورت میں ایس‬
‫ہون ممکن نہیں کیونکہ ش ی شخص اپنی موجودہ شن خت‬
‫س محرو ہون کسی قیمت پر پسند نہیں کرت ۔‬
‫واسطوں‬ ‫م ہی اور نئ‬ ‫ش وری عمل میں نئی تشریح ت ‪ ،‬نئ‬
‫کی دری فت ک دروا نہیں ہوت ۔‬
‫مصنف‪ ،‬ق ری اور ش رح نہ صرف دری فت ک آلہ ک رہیں ب کہ‬
‫ہر دال ک س تھ ان ک توسط س نی مدلول نتھی ہوت چال‬
‫ج ت ہ ۔ اس ضمن میں اس حقیقت کوکسی لمح نظر انداز‬
‫نہیں کی ج سکت کہ ج تک مصنف ‪،‬ق ری اور ش رح دری فت‬
‫ک عمل ک درمی ن م دو نہیں ہوں گ ‪،‬نی مدلول ہ تھ نہیں‬
‫لگ گ ۔ اسی طرح کسی دال ک پہ مدلول کی موت س نی‬
‫مدلول س من آت ہ ۔ پہ کی حیثیت کوغیر لچکدار اور اس‬
‫ک موجودہ وجود ک اعتراف کی صور ت میں نئی تشریح ی‬
‫پھر نئ مدلول کی دری فت ک کوئی حوالہ ب قی نہیں رہ پ ت ۔’’میں‬
‫ہوں‘‘ کی ہٹ م م کی دیگر روشوں تک رس ئی ہون نہیں‬
‫دیتی۔‬
‫وجوہ و نت ئج‬ ‫اور تغیرات ک‬ ‫‪ ،‬اصول ‪ ،‬ض بط‬ ‫روی‬
‫اورعوامل کی نیچر اس تھیوری س مخت ف نہیں ہوتی۔ تغیرات‬
‫ایک س ہوں‪ ،‬ایک طرح س ہوں‪ ،‬ایک جگہ ایک وقت س‬
‫مخت ف نہ ہوں ی پھر ہو بہو پہ س ہوں‪ ،‬س زی دہ کوئی‬
‫احمق نہ ب ت نہیں۔ اگر تغ رات ایک س وجوہ اور ایک س‬
‫عوامل ک س تھ جڑے نہیں ہوت توان ک نت ئج ایک س اور‬
‫پہ س کیس ہو سکت ہیں۔ ایس میں نئی تشریح کی‬
‫ضرورت کوکیونکر نظرانداز کی ج سکت ہ ۔‬
‫موہنجوداڑو کی تہذی و ثق فت س مت پہ ی تشریح ت‪،‬‬
‫موجودہ وس ئل اور فکر کی روشنی میں ب م نی ٹھہری ہیں‬
‫ان کی م دومی پر نئی تشریح ت ک ت ج محل کھڑا کی ج‬
‫سکت ہ ۔ ایس میں م دو تشریح ت پرا نحص ر اور ان س‬
‫کمٹ منٹ نئی تشریح ت کی راہ ک بھ ری پتھر ہوگی ۔’’ہ ‘‘ اور‬
‫’’ہوں‘‘کی عد م دومی کی صورت میں محدود حوال ‪،‬‬
‫مخصوص تشریح ت ی پہ س موجو د م ہی ک وجود‬
‫کواستحق میسر رہ گ ۔‬
‫دہران ی ب ر ب ر قرات ک مط یہی ہ کہ پہ س انحراف‬
‫کی ج ئ ت کہ نئ حوال اور نئ م ہی دری فت ہوں۔ پہ ی ی‬
‫کچھ ب ر کی قرات س بہت س م ہی ک دروازے نہیں‬
‫کھ ت ۔ ذراآگ اور آگ ہی مزید کچھ ہ تھ لگ سکت ہ ۔ یہ‬
‫درحقیقت پہ س موجود س انحراف نہیں ب کہ جو اس‬
‫سمجھ گی ی جو کہ گی ‪،‬س انحراف اور اس کی موت ک اعالن‬
‫ہ ۔ اگر وہ درست ہ اورعین وہی ہ ‪ ،‬جو ہ تونئی تشریح ت‬
‫ک عمل کوئی م نی نہیں رکھت اور نہ ہی کثیر االم نی کی فالس ی‬
‫کوئی حیثیت اور وق ت رکھتی ہ ۔‬
‫ہیں‬ ‫‪ :‬ڈاکٹر گوپی چند ن رنگ کہت‬
‫اگر پہ س تحریر (اد ) ک وجود نہ ہو تو کوئی ش عر ی‬
‫مصنف کچھ نہیں لکھ سکت ۔ جوکچھ اگ وں ن لکھ ہر فن پ رہ‬
‫اس پرا ض فہ (نئ م ہی ‪ ،‬نئی تشریح ک ن بھی دے سکت‬
‫ہیں ) ہ‬
‫دہران ک عمل ’’جو ہ ‘‘ تک رس ئی کی تگ ودو ہ ۔ ی نی‬
‫جو اس سمجھ گی وہ ‪ ،‬وہ نہیں ہ ی پھر اس موجودہ‪،‬‬
‫ح الت اور ضرورت ک مط ب سمجھن کی ضرورت ہ ۔ اس‬
‫اسی طرح سمجھن کی تشنگی‪ ،‬جس طرح کی وہ ہ ‪ ،‬ک‬
‫حوالہ س س ختی ت کبھی کسی تشریح ی ت ہی کو درست اور‬
‫آخری نہیں م نتی۔وہ موجود کی روشنی میں آگ نہیں بڑھتی‬
‫کیونکہ یہ موجود کی ت ہی ہوگی اور اصل پس منظر میں چال‬
‫ج ئ گ ۔ اس سین ر یو میں دیکھئ کہ اصل نئ سیٹ اپ ک‬
‫بھنور میں پھنس گی ہوت ہ ۔‬
‫س ختی ت متن اور قرات کو بنی دمیں رکھتی ہ ۔ ان دونوں ک‬
‫حوالہ س تشریح وت ہی ک ک آگ بڑھت ہ ۔ کی یہ تحریر ک‬
‫وجود ک اقرار نہیں ہ ۔ متن درحقیقت خ موش گ تگو ہ ۔’’‬
‫خ موشی‘‘ ب پن ہ م نویت کی ح مل ہوتی ہ ۔‬
‫متن ک ہر ل ظ کسی نہ کسی ک چر س وابستہ ہوت ہ ۔ اس ک چر‬
‫ک موجود سیٹ اپ اور لس نی نظ ک مزاج س شن س ئی‬
‫ک ب د ہی موجودہ (نئی) تشریح ک لئ ت ن ب ن بن ج سکت‬
‫ہ ۔ اس تن ظر میں متن کی ب رب ر قرات کی ضرورت محسوس‬
‫ہوتی رہ گی۔‬
‫دوران قرات اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کی ج سک گ کہ ل ظ‬
‫اس ک چر ک موجودہ سیٹ اپ ک ہ تھ تھ کراس سیٹ اپ کی‬
‫اک ئیوں س وحدت کی طرف س ر کرت ہ اور کبھی وحدت س‬
‫اک ئیوں کی طرف بھی پھرن پڑت ہ ۔ ہر دو نوعیت ک س ر‪،‬‬
‫نئی آگہی س نوازت ہیں ۔’’یہ نئی آگہی‘‘ ہی اس ل ظ کی‬
‫موجودہ تشریح وت ہی ہوتی ہ ۔ قرات ک لئ س ل اور صدی ں‬
‫درک رہوتی ہیں۔ اسی بنی د پر ڈاکٹر سہیل بخ ری ن کہ تھ‬
‫ہزاروں س ل کسی زب ن کی عمر میں کوئی حقیقت نہیں رکھت‬
‫س ختی ت موضوعیت س انک ر کرتی ہ ۔ موضویت‬
‫چیز‪،‬م م ی پھر متن ک ح ق محدود کرتی ہ ۔ اس س‬
‫صرف مت قہ ح ق ک عن صر س ت استوار ہو پ ت ہ اور‬
‫ان عن صر کی انگ ی پکڑ کر تشریح وت ہی ک م م ہ کرن‬
‫پڑت ہ ۔ کی یہ ضروری ہ کہ ل ظ ی کسی اصطالح کو کسی‬
‫مخصوص لس نی اور اصطالحی نظ ہ میں مالحظہ کی ج ئ ۔‬
‫اس کئی دوسرے لس نی و اصطالحی سٹمز میں مالحظہ کی‬
‫ج سکت ہ ۔ اس طر ح دیگر ش بہ ہ ئ حی ت ک میدان بھی کبھی‬
‫خ لی نہیں رہ ۔ ایس بھی ہوت ہ کہ اس ایک مخصوص‬
‫اصطالحی سٹ ک مخصوص ح قوں تک محدود رکھ ج ت ہ‬
‫ی پھر مخصوص حوالوں کی عینک س مالحظہ کی ج ت ہ ۔‬
‫س ختی ت اس گمراہ کن رویہ قرار دیتی ہ اور نہ ہی موجود‬
‫ک درج پر ف ئز کرتی ہ ۔‬
‫ش ر ک کسی ل ظ ی اصطالح کو محض روم نی سٹ س‬
‫کیونکر جوڑا ج سکت ہ ۔ اس ک عالوہ دیگر ک ئن توں‪ ،‬سم جی‬
‫‪ ،‬م شرتی ‪ ،‬م شی ‪ ،‬سی سی ن سی تی ‪ ،‬بی لوجی‪ ،‬تصوف وغیرہ‬
‫س اس ک رشتہ کیوں غ ط اور الی نی سمجھ ج ئ ۔ حقیقی‬
‫ک س تھ مج زی ‪ ،‬عالمتی‪ ،‬است رتی وغیرہ کرے بھی تو‬
‫موجود ہیں۔ است رہ ایک عالمت کیوں نہیں ی کسی است رے‬
‫ک لئ ‪ ،‬عالمتی کرے ک دروازہ کیوں بندرکھ ج ئ ۔ ی یہ‬
‫دیکھ ج ئ کہ مصنف ن فالں ح الت ‪ ،‬ضرورتوں اور تغیرات‬
‫س مت ثر ہوکرق اٹھ ی ۔ مصنف لکھت ہی ک ہ وہ تومحض‬
‫ایک آلہ ک ر ہ ۔ تحریر ن خود کولکھ ی تحریر خود کو لکھتی‬
‫ہ ۔ اس ضمن میں چ رلیس چ ڈو ک کہن ہ‬
‫لس نی لح ظ س مصنف صرف لکھن ک ایک ایم ہ ۔ جس‬
‫طرح ’’میں‘‘ کچھ نہیں سوا ایک ایم ’’میں ‘‘ ک ۔ زب ن ایک‬
‫ف عل کو ج نتی ہ (اس کی) شخصیت کو نہیں‬
‫ق ری جو ش رح بھی ہ مصنف ک ح الت اور ضرورتوں س‬
‫الت ہوت ہ ۔ وہ الگ س کروں میں زندگی گزار رہ ہوت ہ ۔‬
‫اس ک سوچ ک پنچھی مصنف ک کروں س ب ہربھی پرواز‬
‫کرت ہیں ب لکل اسی طرح جس طرح مصنف اپن س ب ہرکی‬
‫ب ت کر رہ ہوت ہ ۔ ق ری اور مصنف جن جن کروں میں‬
‫زندگی کر رہ ہوں ان میں ذہنی طور پر ایڈجسٹ بھی ہوں‪،‬‬
‫الزمی امر تونہیں۔ ان کی فکری جڑیں کئی اور بہت ک ئن توں‬
‫میں ہوسکتی ہیں ب کہ ہوتی ہیں۔ سوچ لیونگ کرے س ب ہر‬
‫متحرک ہوت ہ ۔ اس ب ت کو یوں بھی کہ ج سکت ہ کہ‬
‫لیونگ کرے میں اس ک سوچ ک ‪ ،‬لیونگ کرہ قرار نہیں دی‬
‫ج ت ۔’’یہ ں‘‘ا س ک سوچ ہمیشہ مس فٹ رہت ہ ۔ اس تن ظر میں‬
‫’’یہ ں‘‘ س آزادی مل ج تی ہ ج کہ ’’وہ ں‘‘ ک مط ب‬
‫قرات عمل میں آئ گی اور تشریح ک فریضہ ’’وہ ں‘‘ ک‬
‫مط ب انج پ ئ گ ۔ اس (موجود) کرے میں ان کی موت ک‬
‫اعالن کرن پڑے گ ۔ قرات اور تشریح ک لئ ’’اس‘‘ تک اپروچ‬
‫کرن پڑے گی۔‬
‫سوچ کوئی ج مد اور ٹھوس ش نہیں۔ اس سیم کی طرح‬
‫قرار میسر نہیں آت ۔یہ ج ن کن کن کروں س گزرت ہوئ‬
‫الت داد تبدی یوں س ہمکن ر ہوکر م و س ن م و کی طرف‬
‫بڑھ گی ہو۔ ایس میں قرات اور تشریح وت ہی ک لئ ان سین‬
‫اور ان نون کی دری فت الز ٹھہرے گی ۔ بصورت دیگر ب ت یہ ں‬
‫(موجود) س آگ نہ بڑھ سک گی۔ سکوت موت ہ اورموت‬
‫س نئی صبح ک اعالن ہوت ہ ۔‬
‫س ختی ت ایک ی ایک س زی دہ م ہی کی ق ئل نہیں۔یہ بہت س‬
‫اور مخت ف نوعیت ک م ہی کو م نتی ہ ۔ پھر س ‪ ،‬اس ک‬
‫س یقہ اور چ ن ہ ۔ کثرت م نی کی حصولی اس وقت ممکن ہ‬
‫ج ل ظ ی ش ک زی دہ س زی دہ حوال رشت دری فت کئ‬
‫ج ئیں ۔ یہ کہ ں ب ہر ک عمل نہیں ب کہ تخ ی ک اپن‬
‫اندرچپ اختی ر کئ ہوت ہ ۔ دری فت ‪ ،‬چپ کو زب ن دین ہ ۔ اس‬
‫‪ :‬بنی د پر الک ں کہت ہ‬
‫یہ دیکھن ضروری نہیں کہ کرداروں کی تخ ی ک وقت کون‬
‫س ن سی تی عوامل محرک گردان ج ت ہیں ب کہ سگین ئرز‬
‫ی دال کو تالش کرک یہ دیکھ ج ن چ ہی کہ ان میں س کون‬
‫س عالمتی م نی م ت ہیں اور الش ور ک کون س دب‬
‫ہوئ عوامل ہیں جو تحریر ک ج مہ پہن کر ممکنہ مدلول کی‬
‫نش ندہی کرت ہیں۔‬
‫عالمت‪ ،‬جودکھ ئی پڑرہ ہ ی سمجھ میں آرہ ہ وہ نہیں ہ ‪،‬‬
‫کی نم ئندہ ہ ۔ دکھ ئی پڑن وال کرے س اس ک سرے س‬
‫کوئی ت نہیں۔ تندوے کی طرح اس کی ٹ نگیں ان کروں میں‬
‫بھی پھی ی ہوئی ہوتی ہیں جو ان سین اور ان نون ہیں ۔‬
‫کی تندوے کی ٹ نگوں اور ان کی پہنچ کو تندوے س الگ رکھ‬
‫ج سکت ہ ۔ گوی کوئی متن محدود نہیں ہوت جتن کہ عموم ً اس‬
‫سمجھ لی ج ت ہ ۔ کسی ک چر کرے کی سروائیول ک انحص ر بھی‬
‫اس ب ت پر ہ کہ اردگرد س اس منس ک رکھ ج ئ ۔ وہ ں‬
‫درآمد و برآمد ک س س ہ ت اور رشتہ ک حوالہ س پ ؤں‬
‫پس رت ہ ۔ اس حوالہ س ل ظ ک ’’ کچھ م نی‘‘ ک فی نہ ں‬
‫ہوت ۔ کثیر م نوں پر ل ظ کی حیثیت اور بق ک انحص ر ہوت ہ ۔‬
‫ب ض ح ال ت میں ل ظ ک مخصوص اک ئیوں س پیو ست ہون‬
‫ضروری ہو ج ت ہ ۔ ت ہ اک ئیوں س وحدت کی طرف اس‬
‫ہجرت کر ن پڑتی ہ ۔ ل ظ کی س خت میں لچک تس ی کرن کی‬
‫صورت میں ہر قس ک س ر آس ن اور ممکن ہوت ہ ۔ اس حوالہ‬
‫س بڑی وحدت میں نتھی ہون ک لئ کثیر م نوں ک ف س ہ‬
‫الی نی نہیں ٹھہرت ۔‬
‫ل ظ ت اصطالحی روپ اختی ر کرت ہ اور انس نی بردار ک ورثہ‬
‫ٹھہرت ہ ج اس ک است م ل کرن وال بخیل نہیں ہوت ۔‬
‫اس ل ظ کی اصطالحی نظ اور انس نی زب ن میں ایڈجسٹمنٹ‬
‫اس کی لچک پذیری کو واضح کرتی ہ اور یہ بھی کہ وہ س‬
‫ک اور س ک لئ ہ ۔ ل ظ نقش کو بطور مث ل ل لیں یہ ب‬
‫شم ر کروں میں کسی وقت ک بغیر متحرک ہ اور ب شم ر‬
‫م ہی میں بیک وقت مست مل ہ ۔ مزید م ہی س پرہیز نہیں‬
‫رکھت ۔‬
‫ہر ل ظ ک س تھ ب رب ر دہرائ ج ن ک عمل وابستہ ہ اور یہ‬
‫عمل کبھی اور کہیں ٹھہراو ک شک ر نہیں ہوت ۔ ہ ں بکھراؤ کی‬
‫ہر لمحہ صورت موجود رہتی ہ ۔‬
‫نزدیک‬ ‫‪ :‬ڈاکٹر وزیر آغ ک‬
‫ش ری ت بطور ایک ثق فتی سٹ تخ ی ک ت رو پود میں ہی نہیں‬
‫ہوتی ب کہ اپنی ک رکردگی س تخ ی کو صورت پذیر بھی کرتی‬
‫ہ ق ری ک ک تخ ی ک پرتوں کو ب ری ب ری ات رن اور‬
‫ش ری ت کی ک رکردگی پر نظر ڈالن ہ‬
‫تخ ی ک پرتوں کو ب ری ب ری ات رن ‪،‬دہرائ ج ن ک عمل‬
‫ہ جبکہ ش ریت کی ک رگزاری پر نظر ڈالن دری فت کرن اور‬
‫نئی تشریح تک رس ئی کی برابر اور متواتر س ی ک ن ہ ۔ یہ‬
‫س ت ممکن ہ ج فکر‪،‬عم ی اور فکری تغیرات کی زد میں‬
‫رہ اور اسی کی آغوش میں پروان چڑھ ۔ اس صورتح ل ک‬
‫تن ظر میں یہ کہن بھی غ ط نہیں لگت کہ ل ظ تغیرات کی زد میں‬
‫خود کو منوان اور ظ ہر کرن ک لئ ہ تھ پ ؤں‬
‫م رت رہت ہ ۔‬
‫س ختی ت دراصل اندر ک ثق فتی نظ کی ق ئل ہ ۔ کروچ ک‬
‫مط ب داخل ‪ ،‬خ رج میں متشکل ہوت ہ ۔ اس ب ت کو یوں بھی‬
‫کہ ج سکت ہ کہ س کچھ ب طن میں ط پ ت ہ ی جو کچھ‬
‫داخل میں محسوس کرت ہ خ رج میں بھی ویس ہی دیکھت ہ‬
‫۔ گال محض ایک ش ہ ۔ داخل ن اس اس ک داخ ی اور‬
‫خ رجی حوالوں ک س تھ محسوس کی دیکھ اور پرکھ ۔ اس‬
‫ان گنت ک ئن توں س منس ک کرک ن اور م ہی عط کئ ۔‬
‫ب رونی تغیرات کی صورت میں جو ا ور جیس محسوس کی ‪،‬‬
‫اسی ک مط ب تشریح و ت بیر کی۔ ت ہ بقول ڈاکٹر گوپی چند‬
‫‪:‬ن رنگ‬
‫قرات (محسوس کرن ‪ ،‬دیکھن اور پرکھن ) اور ت عل تہذی ک‬
‫اندر اور ت ریخ ک محور پر ہ ی نی م نی بدلت رہت ہیں اور‬
‫کوئی قرات ی تشریح آخری وقت آخری نہیں ہ ۔‬
‫آخری تشریح اس لئ آخری نہیں کہ مخت ف عوامل ک تحت‬
‫اندر ک موس بدلت رہت ہیں ۔داخل کسی ثق فتی سٹ کو‬
‫الی نی کہہ کر نظر انداز نہیں کرت ۔‬
‫ل ظ ج ایک جگہ اور ایک وقت ک چنگل س آزادی ح صل‬
‫کر ت ہ توثق فتی تبدی ی ک ب عث پہ م نی رد ہوج ت ہیں‬
‫۔اگرچہ ان لمحوں تک پہ م نی پہ کرے میں گردش کر‬
‫رہ ہوت ہیں ی پھر تغیرات ک زیر اثر ی کسی نئی تشریح ک‬
‫حوالہ س پہ م ہی کو رد کر دی گی ہوت ہ ۔ نئی اور پرانی‬
‫ک ئن توں میں ردِّس خت ک عمل ہمیشہ ج ری رہت ہ ۔ ب ت یہ ں‬
‫پر ہی ٹھہر نہیں ج تی ۔ مکتوبی تبدی ی ں بھی وقوع میں آتی‬
‫رہتی ہیں ۔ تڑپھ س تڑپ ‪ ،‬دوانہ س دیوانہ ‪ ،‬کھس س خص‬
‫‪ ،‬ب دش ہ س ش ہ اور ش ہ س شہ مکتوبی س خت ک عمدہ‬
‫نمونہ ہیں۔‬
‫ًً جم ہ بوالج ت ہ ۔ ’’وہ توب دش ہ ہ ‘‘ ل ظ ب دش ہ مخت ف‬
‫ثق فتی سسٹمز میں مخت ف م ہی رکھت ہ ۔ م ہومی اختالف‬
‫پہ م ہو کو رد کرک وجود میں آی ہ ۔ ب رب ر کی قرات‬
‫پہ کو یکسر رد کرتی چ ی ج تی ہ ۔ اس س نئ م ہی پیدا‬
‫ج ئیں گ ۔ مثالً ب دش ہ‬ ‫‪ :‬ہوت‬
‫ال ن ن قوت ‪ ،‬ڈاکٹیٹر‬ ‫حکمران‪ ،‬س اسی نظ میں ایک مط‬

‫الپرواہ‬

‫ع ری‬ ‫نی ز ‪ ،‬اللچ اور طم ہ س‬ ‫ب‬
‫فیص وں میں‬ ‫ح پر مبنی نہ ہوں‪ ،‬جس ک‬ ‫جس ک فیص‬
‫انص ف‬ ‫توازن نہ ہو‪ ،‬ب‬
‫کس وقت غص ن ک‬ ‫پتہ نہیں کس وقت مہرب ن ہوج ن‬
‫واال‬ ‫واال‪ ،‬اپنی کرن‬ ‫مرضی ک م لک‪ ،‬کسی ک مشہورہ نہ م نن‬
‫حقدار کو محرو اور غیرحقدار پر نواز شوں کی ب رش کرن‬
‫واال‬
‫واال‬ ‫ک چھین ل ‪ ،‬غض کرن‬ ‫نہ ج ن‬
‫ک ن ک کچ ‪ ،‬الئی لگ‬
‫انتہ اختی رات ک م لک‬ ‫ب‬
‫ولی هللا ‪ ،‬صوفی ‪ ،‬درویش ‪ ،‬پیر ‪ ،‬فقیر ‪ ،‬گرو‪ ،‬را‬
‫هللا ت لی‬
‫م لک ‪ ،‬آق‬
‫واال‪ ،‬سخی‬ ‫ب نٹ کرن‬
‫امیر کبیر‪ ،‬ص ح ثروت‬
‫تھ ن دار ‪ ،‬چوہدری ‪ ،‬نمبردار ‪ ،‬وڈیرا‪ ،‬ک رک ‪ ،‬سنتری‪ ،‬تیز‬
‫رفت ر ڈرائیور‪،‬‬
‫پہ وان ‪،‬حج ‪ ،‬فوجی‬
‫واال‬ ‫وقت پر ادائ گی نہ کرن‬
‫واال‬ ‫مکرج ن‬
‫وعدہ خالف‬
‫شر ‪ ،‬ڈھیٹ ‪ ،‬ضدی‬ ‫ب‬
‫نشئی‬
‫وقوف ‪ ،‬احم‬ ‫ب‬
‫واال‬ ‫غض کرن‬
‫ل ظ ب دش ہ کی ن مکمل ت ہی پیش کی گئی ہ ۔ ان م ہی ک لغت‬
‫س کوئی ت نہیں۔ اس‬
‫ت‬ ‫۔ مخت ف تہذیبی وفکری کروں س‬ ‫ج ئی‬ ‫کو دہرات‬
‫استوار کرت ج ئی ۔ پہ م ہی رد ہوکر نئ م نی س من‬
‫آت ج ئیں گ ۔ ہر کرے ک اپن انداز ‪ ،‬اپنی ضرورتیں‪ ،‬اپن‬
‫ح الت ‪ ،‬اپن م حول وغیرہ ہوت ہ اس لئ سی سی غالمی کی‬
‫صور ت میں بھی کسی اور کرے ک پ بند نہیں ہوت ۔ لہذا کہیں‬
‫او رکسی لمح س خت شکنی ک عمل جمود ک شک ر نہیں ہوت ۔‬
‫اس س رے م م میں صرف ش وری قوتیں متحرک نہیں‬
‫ہوتیں ب کہ الش وری قوتیں بھی ک کررہی ہوتی ہیں ۔ تخ ی‬
‫اد ک م م ہ اس س بر عکس نہیں ہوت ۔‬
‫‪:‬اس ضمن میں الک ں ک کہن ہ‬
‫تخ ی اد کی آم جگ ہ الش ور ہی کو سمجھ ج ت ہ کیونکہ‬
‫اس میں مقصد‪ ،‬ارادہ ی س ختی تی زب ن میں تخ یقی تحریریں ف ل‬
‫‪.‬الز میں لکھی ج تی ہیں‬
‫س ختی ت مرکزیت کی ق ئل نہیں ۔ مرکزیت کی موجودگی میں رد‬
‫س خت ک عمل الی نی اور س ی ال ح صل ک سواکچھ نہیں۔ ایسی‬
‫صورت میں ل ظ ی ش کو پرواز کرن ی مخت ف حوالوں ک‬
‫ذائق ح صل کرن ک ب د مرکزے کی طر ف لوٹ کر اس ک‬
‫اصولوں ک بندی بنن پڑت ہ ۔ لوٹن ک یہ عمل کبھی اس ک‬
‫پیچھ نہیں چھوڑت ۔ ایسی صور ت میں نئی تشریح ت اور نئ‬
‫م ہی کی کیونکر توقع کی ج سکتی ہ ۔ ل ظ آزاد رہ کر پنپت اور‬
‫دری فت ک عمل س گزرت ہ ۔ ل ظ ’’ب دش ہ‘‘ محض س اسی‬
‫کرے ک پ بند نہیں ۔ یہ ں تک کہ س اسی کرے میں رہ کر بھی‬
‫کسی مرکزے کو محور نہیں بن ت ۔‬
‫بڑی عجی اور دلچسپ ب ت تو یہ ہ کہ س ختی ت مصنف ک‬
‫اور ل ظ ک ب طن )‪ (Poetic‬وجود کو نہیں م نتی ب کہ ش ریت‬
‫میں چھپی روح کوم نتی ہ ۔ اس ک نزدیک تخ یقی عمل ک‬
‫دروان مصنف م دو ہوج ت ہ ۔ تحریر خو د کولکھ رہی ہوتی‬
‫ہ نہ کہ مصنف لکھ رہ ہوت ہ ۔ س ختی ت ک اس کہ ک ثبوت‬
‫خو دتحریر میں موجود ہوت ہ ۔ ش عر‪ ،‬ش عری میں ب دہ وس غر‬
‫کی کہہ رہ ہوت ہ جبکہ وہ سرے س م خوار ہی نہیں ہوت ۔‬
‫ممکن ہ اس ن شرا کوکبھی دیکھ ہی نہ ہو۔ م م ہ بظ ہر‬
‫م خ ن س جڑ گی ہوت ہ لیکن ب ت ک میخ ن س کوئی‬
‫ت نہیں ہوت ۔ اس س یہ نتیجہ اخذ کرن غ ط نہیں کہ تحریر‬
‫کسی بڑے اجتم ع میں متحرک ہوتی ہ یہ س تحریر ک اندر‬
‫موجود ہوت ہ ۔‬
‫‪:‬ڈاکٹر وزیر آغ ک کہن ہ‬
‫ب عث پوری‬ ‫ک‬ ‫ش ری ت کوڈز اور کنونشنز پر مشتمل ہون‬
‫انس نی ثق فت س جڑی ہوتی ہ‬
‫اس کہ ک تن ظر میں تشریح ک لئ مصنف ش عر ک‬
‫مزاج ‪،‬لمحہ موڈ‪ ،‬م حول ‪ ،‬ح الت وغیرہ ک حوالہ س تشریح‬
‫)‪ (Sign/Trace‬ک ک ہون ممکن نہیں ۔ تحریر ی کسی نش ن‬
‫کو کسی مرکزیت س نتھی کرک مزید اور نئ نت ئج ح صل‬
‫کرن ممکن نہیں اورنہ ہی تشریح و توضیح ک عمل ج ری رکھ‬
‫ج سکت ہ ۔‬
‫ل ظ بظ ہر بول رہ ہوت ہیں ۔ اس بولن کو م نن گمراہ کن‬
‫ب ت ہ ۔ ل ظ بولت ہیں تو پھر تشریح و توضیع کیسی اور‬
‫کیوں ؟ ل ظ اپنی اصل میں خ موش ہوت ہیں ۔ ان کی ب رب ر‬
‫قرات س کثرت م نی ک ج ل بن ج ت ہ ۔ قرات انہیں زب ن دیتی‬
‫ہ ۔ خ موشی ‪ ،‬فکسڈ م ہی س ب ال تر ہوتی ہ ۔ اس م م‬
‫پر غور کرت وقت اس ب ت کو مدنظر رکھن پڑے گ کہ ق ری‬
‫قرات ک وقت م دو ہوج ت ہ ۔ وہ اجتم عی ثق فت ک روپ‬
‫میں زندہ ہوت ہ ی یوں کہہ لیں کہ وہ اجتم عی ثق فت ک‬
‫بہروپ ( الش وری سطح پر)اختی ر کر چک ہوت ہ ۔‬
‫قرات ک دوران ج ل ظ بولت ہ تو اس ک م ہی اس ک‬
‫لیونگ ک چر ک س تھ ہی اجتم دعی ک چر ک حوالہ س‬
‫دری فت ہورہ ہوت ہیں۔ مصنف جولکھ رہ ہوت ہ اس ک اس‬
‫کی زندگی س دور ک بھی واسطہ نہیں ہوت ۔ اس طرح ق ری جو‬
‫ت ہی دری فت کر رہ ہوت ہ اور جن کروں س مت دری فت‬
‫کر رہ ہوت ہ ان س وہ کبھی منس ک نہیں رہ ہوت ۔ یہ بھی‬
‫ممکن ہ کہ عم ی زندگی میں وہ ان ک شدید مخ لف رہ ہو ۔ی‬
‫ان تجرب ت س گزرن ک اس کبھی موقع ہی نہ مال ہو۔ ش ہد‬
‫ب زی ی ش ہد نوازی س ق ری مت ہی نہ ہو لیکن اس حوالہ‬
‫س م ہی دری فت کر رہ ہو۔ ل ظ کی م نوی خ موشی ت ہی ک‬
‫جوہرن ی ہ ۔ خ موشی ‪ ،‬ق ری کو پ بندیوں س آزادی دالتی‬
‫ہ ۔ اگر م ن لی ج ئ کہ ل ظ بولت ہ توق ری م دو نہیں‬
‫ہوت ت ہ اس کی حیثیت کنویں ک مینڈک س زی دہ نہیں ہوتی۔‬
‫اس حوالہ س اجتم عی ثق فت اور اجتم عی ش ور ک ہر حوالہ‬
‫ب م نی ہوج ت ہ ۔‬
‫س ختی ت ک ب رے یہ کہن کہ اس میں ایک ہی کو ب رب ر دہرای‬
‫ج ت ہ ‪ ،‬مبنی برح ب ت نہیں ہ ۔ بالشبہ کسی ایک نش ن کی‬
‫ب رب ر قرات عمل میں آتی ہ لیکن اس ک موجودہ تشریح کو‬
‫مستردکرک کچھ نی اور کچھ اور دری فت کی ج رہ ہوت ہ ۔‬
‫‪:‬پروفیسر جمیل آزار ک کہن ہ‬
‫اد اثر کر ت ہ بطور سم جی تشکیل کی ایک خود مخت ر ’’‬
‫سطح ک اد حقیقت ک آئینہ ی اصل کی نقل ی حقیقت ک مثنی‬
‫نہیں ب کہ (الگ س ) ایک سم جی قوت ہ جواپن ت ین ت اور‬
‫اثرات ک س تھ اپنی حیثیت رکھتی ہ اور اپن بل اور اپنی‬
‫قوت پر ق ئ ہ‬
‫اس حقیقت ک تن ظر میں یہ کہن کہ دہران ک عمل فوٹو ک پی‬
‫س مم ثل ہ درست ب ت نہیں۔ اس میں جو نہیں ہ ک کھوج‬
‫لگ ی ج ت ہ ۔ کسی نش ن س جو مدلول اس س پہ وابستہ‬
‫نہیں ہوت ‪ ،‬جوڑا ج ت ہ ۔مزے کی ب ت یہ ہ کہ وہ مدلول‬
‫پہ س اس دال میں موجود ہوت ہ لیکن دری فت نہیں کی‬
‫گی ہوت ۔‬
‫بھی مم ثل ہ ۔ یہ کسی قس کی‬ ‫س ختی ت س ئنسی عمل س‬
‫پراسرایت اور م وارئیت کو نہیں م نتی ۔ اس ک رشتہ ہمیشہ‬
‫حق ئ س جڑ ارہت ہ ۔ ردِّس خت ک وقت امک ن ت ک ن ت‬
‫حق ئ س جڑا رہت ہ ۔ اس طرح الی نیت اور ب م نویت اس‬
‫ک لغت س خ رج ہو ج ت ہیں ۔ سپن بنن ی خی لی تصورات‬
‫پیش کرن اس ک دائرے میں نہیں آت ۔ یہ ہ کو جو پہ نہیں‬
‫ہ ‪ ،‬س استوار کرتی ہ ۔ کسی نش ن ک نی حوالہ اور نی‬
‫م ہو دری فت کرن اس کی ذمہ دار ی میں آت ہ ۔‬
‫‪:‬ڈاکٹر دیویندارسر ک کہن ہ‬
‫ہر متن اپنی مخصوص س خت اور شکل میں ہی اپن م نی‬
‫ح صل کرت ہ ۔ یہ س خت دوسری س ختوں ک انسالک اور‬
‫دریت ک ب وجود ج تک اپنی ان رادیت اور خصوصیت شن خت‬
‫ق ئ رکھتی ہ تو اس ک م م ہ اسی س خت ک تحت کرن ہی‬
‫موزوں ہوگ کیونکہ ایک س خت کی تشکیل (اور التشکیل) ک‬
‫لئ جوہنر اور آالت درک ر ہوت ہیں ضروری نہیں کہ وہ‬
‫دوسری س خت ک لئ بھی ک رآمد ہوں‬
‫نش ن کی جو موجودہ شکل ہ ی رہی ہوگی اس ک اندر کو‬
‫ٹٹوالج ئ گ ۔ اسی ک مط ب م ہی (مدلول) دری فت کئ ج ئیں‬
‫گ ۔ نش ن نہیں تومدلول کیس ؟ پہ نش ن پھر مدلول ۔ س رتر‬
‫کی وجودیت بھی تو یہی ہ ۔ وجود پہ جوہر اس ک ب د ۔وہ‬
‫جیس بنت ہ ‪ ،‬ویس ہی ہوت ہ ۔نہ اس س زی دہ نہ اس س ک ۔‬
‫وجودس وابستہ م ہی نظری ت مستر دہوسکت ہیں‪،‬وجود‬
‫گ ویس ہی ہوگ ۔‬ ‫نہیں۔ وہ جیس بنت ج ئ‬
‫ایم ن ک ی زی دہ ہوت رہت ہ ۔ اسی طرح وجود س وابستہ‬
‫م ہی اور نظری ت بھی بدلت رہت ہیں ۔ گوی وجود ایک خود‬
‫مخت ر اک ئی ہ اس ک س تھ منسو حرکت اور ف یت بدلتی‬
‫رہتی ہ ۔ ایک ہی نش ن ’’آدمی‘‘ ک س تھ چوکیدار ‪ ،‬ک رک ‪،‬‬
‫تحصی دار ‪ ،‬امیر ‪،‬گرے ‪ ،‬مق می ‪ ،‬غری ‪ ،‬فقیر ‪ ،‬ب دش ہ ‪ ،‬ولی‬
‫‪ ،‬نبی ‪ ،‬دی لو‪،‬کنجوس ‪ ،‬رکھواال ‪ ،‬چور ‪،‬ق تل ‪،‬جھوٹ ‪ ،‬راست ب ز‪،‬‬
‫شیط ن ‪ ،‬نیک ‪ ،‬ج ہل ‪،‬ع ل وغیرہ ہزار وں من ی و مثبت مدلول‬
‫وابستہ ہوت ہیں ۔نش ن ن خود کو جیس بن ی ہوت ہ وہ ویس‬
‫ہی توہوت ہ ۔ قرات ک دوران ق ری م دو ہوکر بطور نش ن‬
‫متحرک ہوت ہ ۔ وہ جیس خود کو بن ت ہ ویس ہی بنت چال‬
‫جتہ ۔‬
‫ج حر ف ک ر ن اڑن کھٹول ک تصویر پیش کی تو بظ ہر ب‬
‫م نویت اور الی ینت س منس ک تھ لیکن پس س خت نش ن‬
‫’’اڑان‘‘ موجود تھ ۔ نش ن اڑان کبھی ب م نویت اور م دومی‬
‫س دوچ ر نہیں ہوا۔ دیکھن یہ ہ کہ ’’اڑن کھٹول ‘‘ک نظریہ‬
‫دیت وقت حرف ک ر ’’تھ ‘‘ ی م دو ہوچک تھ ۔ پہ ی صورت میں‬
‫(تھ ) اڑن کھٹول ک تصور وضع نہ ہوت جو اس ک مش ہدے‬
‫میں نہیں تھ کیوں اورکیس وجود ح صل کرسکت تھ ۔ وہ‬
‫(مصنف) نہیں تھ لیکن تصوراڑان تھ ۔ تصور ن وجود میں‬
‫آن ک لئ مصنف کو بطور آلہ ک ر است م ل کی ۔ یہ بھی کہ‬
‫مت قہ‬ ‫سوچ اڑن کھٹول ک مٹیریل ‪،‬خال اور کئی اس س‬
‫حوالوں س جڑ گی تھ ۔‬
‫پس ش ور اورنگ س یم ن موجو د تھ ۔ ذرا پیچھ مڑیں' حضور‬
‫کری اور برا ک تصور کو موجود پ ت ہیں۔ م م ہ ذرا آگ‬
‫بڑھ تو نش ن ’’اڑان‘‘ہی ک اندر س م نی ’’ہوائی جہ ز ‘‘‬
‫برآمدہ ہوئ یہ کوئی آخری تشریح نہیں ہ اور نہ ہی آخری‬
‫مکتوبی تبدی ی ہ ۔ ’’اڑان ‘‘کی اس ک ب د بھی قرات ہوتی‬
‫رہ گی اور اس ک مدلول بدلت رہیں گ کیوں کہ رد س خت‬
‫ک عمل ہمیشہ ج ری رہت ہ ۔ ت ہی وتشریح ک س ر م ورائیت س‬
‫ب ال تر رہت ہ ۔ اس ک حقیقی اور واق ی س رشتہ استوار رہت‬
‫ہ ۔‬
‫س ختی ت اگر م ورائیت پر استوار ہوتی تو ک کی م دو ہوکر‬
‫نئی م نویت س استوار ہوچکی ہ ۔ نش ن ’’س ختی ت‘‘ بطور‬
‫وجود موجود ہ لیکن اس س وابسطہ م ہی بدل رہ ہیں‬
‫اور بدلت رہیں گ ۔ آنکھیں بندکرن س ب ی نہیں ہوتی اس‬
‫میں غ ط کی ہ ۔ بند آنکھوں ک حوالہ س س ختی ت کہتی ہ‬
‫ب ی نہیں ہ ۔ کھ ی آنکھوں کی صورت میں ب ی ہ اور یہی‬
‫سچ ئی ہ ۔ یہ م ہی دیگر کروں (بند‪ ،‬کھ ی) س رشتہ‬
‫استوار ہون ک سب وضع ہوت ہیں۔بصورت دیگر آنکھیں‬
‫محض بین ئی ک آلہ رہ گ ۔ ن صرعب س نیر ن بڑی خوبصورت‬
‫‪:‬ب ت کہی ہ‬
‫اس‬ ‫س ختی ت دراصل س خت ک عق میں موجود رشتوں ک‬
‫نظ کی بصیرت ہ جس ع وفکر کی متنوع جہتوں ن‬
‫مس کی (ہوت ) ہ‬
‫ن صر عب س نیر ن م و مگر عد وجود کو کسی نش ن ک‬
‫حوالہ س وجود دین کو س ختی ت س پیوست کی ہ ۔ انہوں‬
‫ن وجود (نش ن) کی حقیقت کی واضح ال ظ میں تصدی کی‬
‫ہ جوس خت کو اہ قرار دین ک مترادف ہ ۔‬
‫سچ ئی کوئی خودسر‪ ،‬خود ک راورخود ک یل اک ئی نہیں ہ جو‬
‫اس ک زندگی ک دوسرے حوالوں س رشتہ ہی نہ ہو۔ آنکھیں‬
‫بندکرن زندگی ک ایک حوالہ ضرور ہ ۔ اس ک عم ی نمونہ‬
‫‪ 1857‬س پہ ک لکھنو ہ جو نوا شج ع الدولہ کی‬
‫شکست ک نتیجہ تھ‬
‫س ختی ت آنکھیں بند کرن ک عمل س رشتہ کیوں خت کرے۔‬
‫اس ن بال امتی ز (من ی اور مثبت) پوری دی نت اور رواداری‬
‫س ت ق ت کو وس ت دین ہ ۔ یہ ں ہیگل ک ضدین ک‬
‫ف س کو بطور مث ل لی ج سکت ہ ۔ ہ ‪ ،‬نہیں ہ اور نہیں‬
‫ہ ‪ ،‬ہ کی شن خت ہ ۔‬
‫‪:‬اس ضمن میں ڈاکٹر فہی اعظمی ک کہن ہ‬
‫ک مط یہ ہوا کہ ہ اس لس نی نظ ک‬ ‫کسی چیز کوج نن‬
‫ہیں ی پہ س دئی ہوئ ن س اس‬ ‫تحت ایک ن دیت‬
‫منس ک کرت ہیں۔ ایس کرت وقت ہم رے تصور میں صرف‬
‫اس چیز کی شکل نہیں ہوتی ب کہ وہ تم چیزیں ہوتی ہیں‬
‫جس س یہ چیز مخت ف ہوتی ہ‬
‫اس نظری ک تن ظر میں ہ ‪ ،‬نہیں ہ ‪ ،‬دونوں متوازی رواں‬
‫دواں ہیں۔دونوں ک ج و میں الت داد م ہی چل رہ ہیں۔ یہ‬
‫بھی کہ ان ک اندر ابھی الت داد م ہی ک سمندر ٹھ ٹھیں م ررہ‬
‫ہ ۔ بند‪ ،‬کھ ی اور ب ی تو محض ڈسکورڈ کرے ہیں۔‬
‫مصنف بیک وقت مصنف‪ ،‬ق ری‪ ،‬ش رح ‪،‬م ہر لس نی ت اور نہ‬
‫ج ن کی کچھ ہوت ہ ۔ لکھت وقت وہ فنی تق ض پورے کر‬
‫رہ ہوت ہ ۔ س تھ میں موجو دکو رد کرک کچھ نی دے‬
‫رہ ہوت ہ ۔ یہ عمل اگ ی اور نئی قرات ک بغیر ممکن نہیں‬
‫ہوت ۔ اس حوالہ س ہی وہ مخت ف شن ختی حوالوں ک ح مل‬
‫ہوت ہ ۔ وہ ل ظ کی م نوی اور تشریحی ت ریخ س آگہی ک‬
‫سب مخت ف ن موں س پک ر اج ت ہ ۔ت ہ اس ضمن میں اس‬
‫حقیقت کو پس پشت نہیں ڈاالج سکت کہ اگر وہ مخصوص س‬
‫منس ک رہ گ ی پھر کسی مرکزے کی پ بندی کرے گ توپہ‬
‫کو رد کرک کچھ نی پیش نہیں کرسک گ ۔ لکھت ی تشریح‬
‫کرت وقت اس ک سوچ مخت ف لس نی وتہذیبی کروں میں‬
‫متحرک ہوگ ۔ ل ظ اسی تن ظر میں تحریر ک روپ اختی ر کرت‬
‫ہیں ۔کسی نش ن ک جن میں بھی یہی عمل ک رفرم ہوت ہ ۔‬
‫ضمن‬ ‫ک‬ ‫کسی تشریح ‪،‬توضیح ‪ ،‬ت ہی اور موقف کو رد کرن‬
‫‪:‬میں ڈاکٹر فہی اعظمی ک یہ ب ان خصوصی توجہ چ ہت ہ‬
‫ج کوئی شخص کال کرن ک ب د اپن موقف س مطمن‬
‫ہوج ت ہ تووہ صرف گمراہ نہیں ب کہ غ طی پر ہوت ہ ہر وہ‬
‫ب ت جوکہن وال کوغیر م نوس نہیں م و ہوتی ی جس میں‬
‫تبدی ی الن کی خواہش پید انہیں ہوتی‪،‬غ ط ہ ‘‘۔ ایسی سچ ئی‬
‫جس میں زب ن ک تض دات ک امک ن ت کو خت کرن مقصود‬
‫ہوت ہ ‪ ،‬فوراً جھوٹ بن ج تی ہ‬
‫ویکو ن ش ری ذہ نت دانشک تصور پیش کی تھ ۔ س ختی ت‬
‫ک س را ف س ہ اسی اصطالح پرا نحص ر کرت ہ ۔ مصنف ق ری ی‬
‫ان س منسو رشتوں ک انک ر ک بغیر رد س خت ک عمل‬
‫الی نی اور ب م نی ٹھہرت ہ ۔ اس مق پر لس نی وسم جی‪ ،‬ان‬
‫گنت رشت متحرک ہوت ہیں۔‬
‫ش ری ذہ نت دانش کو جن امیر ک کہ س پیوست کریں‪،‬‬
‫کہ کو دیکھیں کہن وال کومت دیکھیں ‪،‬یہ مصنف کی مو‬
‫ت ک کھال اعالن ہ اور کہ کی ت ہی ک لئ ’’کہ ک ‘‘‬
‫اندر ک ثق فتی سسٹ کی طرف توجہ دین کی ضرورت کو اہ‬
‫قرار دی گی ہ ۔ ان کی مدد اور ان ک کسی حوالہ س فکر‬
‫مزید آگ بڑھن کی پوزیشن میں ہوگی۔ یہ بھی کہ ان کوکسی‬
‫نئی فکرک تحت ق ری رد تو کرسک گ ۔ بہرطور یہ م ہی ل ظ‬
‫ک ب طنی ثق فتی نظ کو سمجھن میں م ون ث بت ہوسکیں‬
‫گ ۔‬
‫م کرین‬ ‫س ختی ت ک‬
‫ٹی ٹوڈوروز‪،‬دریدہ ‪ ،‬روالں ب رتھ‪ ،‬جولی کرسنوا‪ ،‬سوسیئر ‪،‬‬
‫شولز‪ ،‬جیکس الک ں ‪ ،‬جون تھن ‪ ،‬سٹی فش ‪ ،‬فریڈرک چمبرسن‬
‫‪ ،‬گولڈ مین وغیرہ‪ ،‬س ختی تی فکر پر ک کرن والوں میں اپن‬
‫من رد ن رکھت ہیں ۔‬
‫میں جبکہ ڈاکٹر س ی‬ ‫ڈاکٹر محمد ع ی صدیقی ن‬
‫اخترن میں س ختی ت ک ت رفی مط ل ہ پیش کی ۔ میں ڈاکٹر‬
‫ب رمیٹک ف (امریکن) ن اور لنڈا ونٹنک (امریکن خ تون) ن‬
‫انور سج د ک افس ن ’’خوشیوں ک ب ‘‘ ک س ختی تی مط ل ہ‬
‫پیش کی ہ ۔میں ڈاکٹر محمد امین ن مقصود حسنی ک مق لہ‬
‫’’ب ھ ش ہ کی ش عری ک لس نی مط ل ہ‘‘( مشمولہ کت ’’ اردو‬
‫ش ر ‪ ،‬فکری ولس نی روئی ‘‘مق لہ نمبر ) کو اردو میں‬
‫س ختی ت پر پہ ی کت قرار دی کہ جس میں کسی ش عر ک‬
‫ب ق عدہ س ختی تی مط ل ہ کی گی ہ‬
‫والی ق بل ذکر کت بیں۔‬ ‫س ختی ت پر ش ئع ہون‬
‫تخ یقی عمل ازڈاکٹر وزیر آغ‬
‫تنقید اور جدید تنقید از ڈاکٹر وزیر آغ‬
‫دستک اس دروازے پراز ڈاکٹر وزیر آغ‬
‫س ختی ت پس س ختی ت اور مشرقی ش عری از ڈاکٹر گوپی چند‬
‫ن رنگ‬
‫مختصر ت صیل‬ ‫والوں دستی‬ ‫س ختی ت پر ک کرن‬
‫ابن فرید‪ ،‬ب قر مہدی ‪ ،‬ابوذر عثم نی ‪ ،‬ابوالکال ق سمی ‪ ،‬احمد‬
‫سہیل ‪،‬جمیل آزار ‪ ،‬جمیل ع ی بدایونی ‪ ،‬ڈاکٹر دیویندراسر‪ ،‬ر‬
‫نواز م ئل‪ ،‬ری ض احمد ‪ ،‬ڈاکٹر شکیل الرحمن‪،‬شمی حن ی ‪ ،‬قمر‬
‫جمیل ‪ ،‬ڈاکٹر ع مر سج د‪ ،‬ع مر عبدهللا ‪ ،‬ڈاکٹر فہی اعظمی ‪،‬‬
‫ڈاکٹر محمدامین ‪ ،‬ڈاکٹر من ظر ع ش ہرگ نوی‪ ،‬مقصود حسنی‪،‬‬
‫ن صر عب س نیر‪ ،‬وارث ع وی وغیرہ ن اردو میں س ختی ت پر‬
‫مق الت تحریر کئ ۔‬
‫رس ئل‬
‫م ہن مہ ’’سخن ور‘‘کراچی‪ ،‬دری فت‪ ،‬ب زی فت (الہور)‪’’ ،‬اورا‬
‫‘‘سرگودھ ‪ ،‬م ہن مہ ’’فنون ‘‘الہور‪ ،‬م ہن مہ ’’عالمت ‘‘الہور ‪،‬‬
‫م ہن مہ ’’صریر ‘‘کراچی وغیرہ میں س ختی تی فکر پر مق الت‬
‫ش ئع ہوئ ۔‬
‫فکر‬ ‫مت‬ ‫م ہن مہ ’’صریر‘‘ کراچی ن س ختی تی فکر س‬
‫انگیز مراس بھی ش ئع کئ ۔‬
‫ب راں م ہ غال حضور ش ہ‬

‫سید غال حضور‬
‫پ ‪1988 1907‬‬

‫ہی گھر میں' اپنی ہی عزت م پ‬ ‫ہر پڑھن لکھن واال' اپن‬
‫تینویں مب رکہ س یہ جم‬
‫سنت آ رہ ہ ۔‬
‫زندگی میں کی ہی کی ہ ۔‬ ‫ت ن‬
‫رکھ ہ ۔‬ ‫گھر کو کوڑ کب ڑ بن ئ‬
‫ج ئیداد میں بس ردی ہی بن ئی‬ ‫ہی ں ت ن‬ ‫لوگ ج ئیدادیں بن ت‬
‫ہ ۔‬
‫ہیں۔‬ ‫رہ‬ ‫عموم چ ر طرح ک‬ ‫لٹیرے اور تب ہ ک ریئ‬
‫ادھر ام ں ب ب مرے ادھر آل اوالد چھنیوں کولیوں پر ٹوٹ پڑی۔‬
‫ہر کوئی زی دہ س زی دہ ک حصول میں الجھ ج ت ہ ۔ ب ب‬
‫ک ک غذات کی ٹھوک بج کر بڑی ب دردی س تالشی لی ج تی‬
‫ہ کہ ب ب ن ک غذوں کت بوں میں مختصر ی کوئی لمی چوڑی‬
‫رق نہ چھپ دی ہو۔‬
‫تالشی ک ب د ب ب ک ل ظ' جو اس کی عمر بھر کی کم ئی‬
‫ہوت ہیں ردی میں بک ج ت ہیں۔ کہیں زوراور آل اوالد ب ب‬
‫ک مرن ک بھی انتظ ر نہیں کرتی۔ یہ لوٹ م ر اور توڑ پھوڑ‬
‫ک س م ن اس کی آنکھوں ک س من ہی ہو ج ت ہ ۔ ڈھیٹ بن‬
‫کر جی رہ ہوت ہ ' ل ظوں ن قدری برداشت نہیں کر پ ت اور‬
‫اگ س ر پر بڑی حسرت اور ب بسی س روانہ ہو ج ت ہ ۔‬
‫چور ڈاکو بھی جہ ں گھر ک دوسرے س م ن کی پھروال پھرولی‬
‫کرت ہیں وہ ں کت خ ن بھی ویران میں بدل ج ت ہیں۔‬
‫کہیں اور کسی دور میں کسی ب ب ن رق ن کی چیز رکھ دی‬
‫ہو گی اور یہ شک چوروں میں نسل در نسل چال آت ہ ۔ ورنہ‬
‫ع اور سک ک ہ س ر رہ ہیں۔‬
‫حیران چوری ایس مشکل اور دقت گذار پیشہ صدیوں س چال‬
‫آت ہ ۔ ریسک ک س تھ جگ ترا ک ٹن ایس آس ن ک نہیں۔ اگ‬
‫وقتوں میں پکڑے ج ن کی صورت میں چھتر بھی کھ ن پڑت‬
‫تھ ۔عصر ح ضر میں یہ رواج نہیں رہ ۔ پہ ہی مک مک ہو‬
‫چک ہوت ہ ۔ ہ ں چھتروں ک رخ تبدیل ہو چک ہ ۔ چور شور‬
‫مچ ت ہیں اور ان ک شور کو اول ت آخر پذیرائی ح صل رہتی‬
‫ہ ۔‬
‫تیسرے نمبر پر اپن ہی م ک فتح کرن وال آت ہیں۔ یہ جہ ں‬
‫ج ن م ل اور امالک کو غ رت کرت ہیں وہ ں لکھن پڑھن‬
‫وال لوگوں کی جمع پونجی ردی کو بھی برب د کرک رکھ دیت‬
‫ہ ی ں۔‬
‫بیرونی حم ہ آواروں زب ن غیر کی مرقومہ ذہ نت و فط نت س‬
‫کی لین دین ۔ وہ زمین امالک اور سون چ ندی ک سکوں کی‬
‫چمک دمک میں اپن ہ ں کی ردی کو بھی خ طر میں نہیں الت ۔‬
‫مخدومی ومرشدی سید غال حضور ن دنی کو ‪ 1988‬میں‬
‫الودع کہ تو محترمہ والدہ ص ح ن چ تی س نسوں تک مک ن‬
‫آب د رکھ ۔ حس س ب بچ ان س ع می است دہ کرت رہ ۔‬
‫آخر مروت بھی کوئی چیز ہوتی ہ صرف دو چ ر ب ر مک ن ک‬
‫تو تکرار ہوئی۔ میری خواہش تھی کہ مخدومی ومرشدی سید‬
‫غال حضور کی اق مت گ ہ کو بہرطور آب د رہن چ ہی ۔ وہ مجبور‬
‫تھیں وقت س پہ کس طرح مر ج تیں۔ چھنوں کولیوں ک‬
‫شوکینوں کی سنی گئی اور وہ ‪ 1996‬میں انتق ل فرم گئیں۔ ک ن‬
‫دفن ک س تھ ہی کیل ک نٹوں س لیس قبضہ گروپ ن قد جم‬
‫لی ۔ میں ن غور ہی نہ کی ۔ امی اب ہی نہ رہ تھ ا میرے‬
‫لی وہ ں کی رہ گی تھ ۔‬
‫مخدومی ومرشدی سید غال حضور پنج بی ش عر تھ ۔ عالوہ‬
‫ازیں بھی اچھی خ صی ردی ورثہ میں چھوڑی تھی۔ اس ک کی‬
‫ہوا یہ ایک الگ س کہ نی ہ ۔ اس کسی دوسرے وقت ک‬
‫لی اٹھ رکھت ہوں۔ چھوٹی نصرت شگ تہ ن ایک رجسٹر مہی‬
‫کی ہ ۔ اس میں ‪ 76 ,75 ,1974‬ک کال ہ ۔ رجسٹر کی ح ت‬
‫ک کچھ نہ پوچھی ۔ اگر اس پر ت ریخیں درج نہ ہوتیں تو میں‬
‫ن اس ک حضرت آد ع س پہ ہون ک دعوی دا دین‬
‫تھ ۔ گوی میرے والد ص ح مخدومی ومرشدی سید غال حضور'‬
‫حضرت آد ع س پہ ہو گزرے ہیں۔‬
‫اس میں مخت ف نوعیت اور مخت ف اصن ف پر مبنی کال ہ ۔‬
‫ب رہ م ہ مقبول و م روف صنف ش ر رہی ہ ۔آج چوں کہ دیسی‬
‫مہین اندراج میں نہیں رہ لہذا یہ صنف اد ہی خت ہو گئی‬
‫ہ ۔ یہ بھی اس رجسٹر میں م ت ہیں۔ سن اندراج درج نہیں۔‬
‫ک ت کون ہ ٹھیک س کچھ کہہ نہیں سکت ۔ س ون ک چ روں‬
‫ش ر ہیں۔ آخری مصرع پڑھ نہیں ج رہ ۔ پھ گن ک دو مصرع‬
‫اندراج میں آئ ہیں۔ دونوں ہی پڑھ نہیں ج رہ ۔ آج چوں کہ‬
‫دیسی مہین اندراج میں نہیں رہ لہذا یہ صنف اد ہی خت ہو‬
‫گئی ہ ۔‬
‫ہر مہین ک برصغیر میں الگ س رنگ رہ ہیں۔ قدرتی طور‬
‫شخص ک جذب ت اور احس س ت ان ک حوالہ س تبدی ی آتی‬
‫ہ ۔ ش عر ب ریک بین ہوت ہ اور وہ بدلت موسموں ک س تھ‬
‫شخص ک ب طنی رنگوں ک بھی مط ل ہ کر لیت ہ اور ان‬
‫رنگوں ک اظہ ر بھی اسی طور س کرن کی کوشش کرت ہ ۔‬
‫ب ب جی ک ان ب رہ مہینوں میں ہجر کی مخت ف کی ی ت کو بی ن‬
‫کی گی ہ ۔ زب ن ب لکل س دہ اور عوامی ہ ۔ م ہی تک رس ئی‬
‫ک لی زی دہ تردد نہیں کرن پڑت ۔ البتہ دو اطوار اختی ر کئ‬
‫گئ ہیں۔ کہیں م م ہ ذات س اور کہیں سیکنڈ پرسن ک‬
‫ب ت کی ہ ۔ دونوں صورتوں کی مث لیں مالحظہ ہوں۔‬ ‫حوالہ س‬
‫غال حضور ش ہ بالوے بیٹھ کوئی سندا نئیں واج ں نوں ‪1-‬‬
‫گالں دے وچہ ٹ لی سو‬ ‫غال حضور ش ہ نوں اللچ ال ک‬

‫دکھڑے میں سن واں گی ‪2-‬‬ ‫لگ ک‬ ‫غال حضور ش ہ دے آکھ‬
‫کھوت کھوہ چ پ ی ای‬ ‫لگ ک‬ ‫غال حضور ش ہ دے آکھ‬

‫ک ع‬ ‫صنف ریختی ک عالوہ بھی صیغہ ت نیث است م ل کرن‬
‫رواج تھ ۔ ب ب جی ک ہ ں یہ رویہ م ت ہ ۔ مثال‬
‫چیت مہینہ چڑھی اڑیو میں ہن لبھن ج واں گی‬
‫لوکیں گھر وچہ بیٹھی رواں میں‬ ‫وس کھ وس کھی ٹر گئ‬
‫گھر وچہ بیٹھی دل پرچ واں کر کر ی د تیری ں ی داں نوں‬
‫ب ب جی ک ہ ں عوامی مح ورہ اور امث ل ک بڑی خوبی س‬
‫است م ل میں آئ ہیں۔ مثال‬
‫گھت کٹھ لی گ لی‬
‫کھوت کھوہ چ پ ی ای‬
‫پک راں کر کر تھکی‬
‫الی‬ ‫تیر ک یج‬
‫پر چڑھ‬ ‫م روف ہ تکیف اور دکھ چپ وٹن درست نہیں۔ کوٹھ‬
‫کر اعالن کرو۔ ب ب جی ک ہ ں است م ل مالحظہ ہو۔‬
‫چڑھ کھ وواں‬ ‫کوٹھ‬
‫بہرطور شخصی احس س اور ب طنی کی ی ت کو بڑے موثر انداز‬
‫س پیش کی گی ہ ۔ ا ب ب جی ک کال مالحظہ ہو۔ یہ تحریر‬
‫میں ک آی کچھ کہ نہیں سکت ۔ ہ ں اس رجسٹر پر ‪ 1974‬ی‬
‫‪ 1975‬میں نقل کی گی ۔ اس حس س بھی چ لیس س ل س‬
‫زی دہ عرصہ ہو گی ۔ ن قل ن کہیں ن کہیں ٹھوکر کھ ئی ہو گی۔‬
‫پڑھ نہیں ج رہ لہذا مح وظ میں بھی نہیں رہ ہوں گ ۔‬
‫شجرہ ق دریہ ۔۔۔۔۔ ایک ج ئزہ‬

‫جنت مک نی حضرت سیدہ سردار بی بی' دختر حضرت سید‬
‫برکت ع ی زوج مخدومی ومرشدی حضرت سید غال‬
‫حضور'س ب اق متی ننگ ی' امرت سر' بھ رت' متوفی ‪ 1996‬کی‬
‫پ کٹ ڈائری ک ' کس حد تک' اپن کسی مضون میں ذکر کر چک‬
‫ہوں۔ اس ڈائری میں شجرہ ق دریہ بھی درج ہ ۔ اس کی بڑی‬
‫خوبی یہ ہ کہ ش عر ک ن اور ق دریہ خ ندان س ت بھی'‬
‫داخ ی شہ دت ک طور مل ج ت ہ ۔ یہ پیر سید غال جیالنی ک‬
‫مرید تھ جو گڑھ شنکر پنج بھ رت میں' رہ ئش پذیر تھ ۔‬
‫اس ذیل میں شجرے ک یہ بند مالحظہ ہو۔‬

‫حضرت پیر غال جیالنی‬
‫مہر ع ی دے رہبر ج نی‬
‫ہر د وسن وچ دھی ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫نو‬ ‫یہ شجرہ کل ست ئس بندوں پر مشتمل ہ ۔ شجرے ک پہ‬
‫لئ‬ ‫بند کم ل کی روانی رکھت ہیں۔ اس میں شخصی ت رف ک‬
‫ص تی ک م ت س ک لی گی ہ ۔ مثال‬
‫ع ی ولی ہیں زوج بتول‬
‫ش ہ مرداں ہیں شیر خدا‬
‫بی بی زہرہ بنت رسول‬
‫حسن عسکری نورالنور‬
‫عبدال زیز ہیں یمنی ہ دی‬
‫فضل الہی‬ ‫عبدالوہ‬
‫حضرت یحیی رہبر ک مل‬
‫زہد کم ی‬ ‫ت ج الدین ن‬
‫حضرت پیر غال جیالنی‬
‫گڑھ شنکر وچ تخت مک ن‬
‫عموم پڑھن اور سنن میں بھی آی ہ کہ اردو پر پنج بی‬
‫اثرات پ ئ ج ت ہیں۔ پنج بی بھی اردو ک اثرات س مح وظ‬
‫نہیں۔ اس شجرہ ک حوالہ س اردو ک اثرات مالحظہ‬
‫فرم ئیں۔‬
‫نحوی‬
‫اس پر میرا تکیہ م ن‬
‫مہدی زم ن ک ج ن ظہور‬
‫کچھ مصرع لس نی اعتب ر س اردو اور پنج بی ک نہیں ہیں۔‬
‫اس وبی اعتب ر س اردو ک ضرور ہیں مست مل اور ق بل فہ‬
‫بھی ہیں۔‬

‫ب قر وج ر و موسی ک ظ‬
‫حسن عسکری نورالنور‬
‫خواجہ کرخی در بی ن‬
‫ابوال ب س احمد دل ش داں‬
‫حضرت یحیی رہبر ک مل‬
‫ش ہ جنید پیر بغدادی‬
‫ہم رے ہم رے ہ ں بیوی ک لئ ل ظ زوجہ است م ل کی ج ت‬
‫ہ ۔ خ وند ک لئ یہ ی اس کی کوئی شکل مست مل نہیں ہ ۔‬
‫ش عر ن خ وند ک لئ ل ظ زوج است م ل کی ہ ۔ یہ است م ل‬
‫ک حوالہ س غیرم نوس ہ ح الں کہ درست اور فصیح ہ ۔‬
‫ع ی ولی ہیں زوج بتول‬
‫مہر ع ی ن ان ست ئیں بندوں میں خو صورت مرکب ت بھی‬
‫دئی ہیں۔ مثال‬
‫سید ط لح اہل حضور‬
‫ہر د تیرا شکر احس ن‬
‫ع جز خ کی‬ ‫مہر ع ی ہ‬
‫راہ خدا ہیں ج ن فدا‬
‫حضرت یحیی رہبر ک مل‬
‫اس پر میرا تکیہ م ن‬
‫بڑے کم ل ک‬ ‫ایک مرک تو لس نی صوتی اور م نوی اعتب ر س‬
‫ہ ۔‬
‫نظر و نظری کرن نہ ل‬
‫خ لص پنج بی ک‬ ‫ہیں۔ دو مصرع‬ ‫دو نئ مہ ورے بھی دی‬
‫نہیں ہیں۔‬
‫زہد کم ی‬
‫زہد کم ی‬ ‫ت ج الدین ن‬
‫'رہبر پ ی‬
‫ک‬ ‫لہج ک اعتب ر س اردو ک نہیں ہ ۔ ورنہ اس مصرع‬
‫اردو ہون میں کوئی شک نہیں۔‬
‫رہبر پ ی‬ ‫شرف الدین ن‬
‫اردو ‪ :‬شرف الدین کو رہبرمال‬
‫پنج بی‪ :‬شرف الدین نوں رہبر م ی‬
‫شرف الدین ن رہبر پ ی ‪.....‬غیر فصیح نہیں ہ ۔ صوتی حوالہ‬
‫س بھی' ہر زب ن بولن والوں ک لئ ' سم عتی گرانی ک‬
‫سب نہیں بنت ۔‬
‫پورے شجرے میں' مصرعوں میں ایک آدھ ل ظ کی تبدی ی س '‬
‫اردو وجود ح صل کر لیتی ہ ۔‬
‫اثرات ک ن دی ج ئ ' تو بھی ب ت‬ ‫اگر اس اردو پر پنج بی ک‬
‫یکسر غ ط م و نہیں ہوتی۔‬
‫شجرہ مالحظہ ہو‬

‫شجرہ ق دریہ‬

‫هللا هللا ہر د آکھ‬
‫پک‬ ‫تن من اپن کرک‬
‫نبی محمد دے قرب ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫هللا هللا ہر د آکھ‬
‫آکھ ک است م ل ق فیہ کی مجبوری ہ ۔‬

‫نبی محمد دے قرب ن‬
‫ک‬ ‫دے کی بج ئ‬
‫قرب ن‬ ‫نبی محمد ک‬

‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫کرن‬ ‫کریں کی بج ئ‬
‫ی ر مشکل کرن آس ن‬
‫‪.........‬‬
‫خ ص خدا دا نبی پی را‬
‫امت نوں بخش ون ہ را‬
‫اس پر میرا تکیہ م ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫خ ص خدا دا نبی پی را‬
‫دا کی جگہ ک‬
‫خ ص خدا ک نبی پی را‬

‫امت نوں بخش ون ہ را‬
‫کوں‬ ‫مط ب‬ ‫نوں کی جگہ پرانی اردو ک‬
‫امت کوں بخش ون ہ را‬
‫‪..........‬‬
‫بی بی زہرہ بنت رسول‬
‫ع ی ولی ہیں زوج بتول‬
‫میں ع جز دا سر قرب ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫میں ع جز دا سر قرب ن‬
‫دا کی جگہ ک‬
‫میں ع جز ک سر قرب ن‬
‫‪..........‬‬

‫ص حبزادے نور ال ین‬
‫ی نی حضرت حسن حسین‬
‫حضرت ع بد ج ن‬ ‫صدق‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫ب قروج روموسی ک ظ‬
‫موسی رض دی ال ت الز‬
‫تقی نقی دے میں قرب ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫موسی رض دی ال ت الز‬
‫دی کی جگہ کی‬
‫موسی رض کی ال ت الز‬
‫تقی نقی دے میں قرب ن‬
‫دے کی جگہ ک‬
‫میں قرب ن‬ ‫تقی نقی ک‬
‫‪.........‬‬
‫حسن عسکری نورالنور‬
‫مہدی زم ن ک ج ن ظہور‬
‫ہر د میرا ایہو دھی ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫ہر د میرا ایہو دھی ن‬
‫ایہو کی جگہ یہ ہی‬
‫ہر د میرا یہ ہی دھی ن‬
‫‪.........‬‬
‫پنج ب رہ ہور چودہ ج ن‬
‫اہل بیت دے ح ایم ن‬
‫ص ت نہ کیتی ج بی ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫پنج ب رہ ہور چودہ ج ن‬
‫ہور کی جگہ اور۔ گوی صرف آواز ہ کو ا میں بدلن ہ ۔‬
‫پنج ب رہ اور چودہ ج ن‬
‫‪..........‬‬
‫ش ہ مرداں ہیں شیر خدا‬
‫راہ خدا ہیں ج ن فدا‬
‫خواجہ حسن بصری دل ج ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫حبی عجمی دے گھول گھم واں‬
‫ج واں‬ ‫داؤد ط ئی دے صدق‬
‫خواجہ کرخی در بی ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫حبی عجمی دے گھول گھم واں‬
‫ج واں‬ ‫داؤد ط ئی دے صدق‬
‫دے کی جگہ ک‬
‫گھول گھم واں‬ ‫حبی عجمی ک‬
‫ج واں‬ ‫صدق‬ ‫داؤد ط ئی ک‬
‫‪........‬‬
‫خواجہ سری سقطی ہ دی‬
‫ش ہ جنید پیر بغدادی‬
‫ابوبکر شب ی دا م ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫ابوبکر شب ی دا م ن‬
‫دا کی جگہ ک‬
‫ابوبکر شب ی ک م ن‬
‫‪........‬‬
‫ابوال ب س احمد دل ش داں‬
‫عبدال زیز ہیں یمنی ہ دی‬
‫شیخ یوسف دے میں قرب ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫شیخ یوسف دے میں قرب ن‬
‫دے کی جگہ ک‬
‫میں قرب ن‬ ‫شیخ یوسف ک‬
‫‪.......‬‬
‫ابوال رح طرطوسی ق ری‬
‫ابوالحسن ع ی ہنک ری‬
‫ابوس ید مخدومی ج ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫ابومحمد عبدالق در‬
‫غوث قط س در پر ح ضر‬
‫ط ل جسدا کل جہ ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫ط ل جسدا کل جہ ن‬
‫دا کی جگہ ک‬
‫ط ل جسک کل جہ ن‬
‫‪.........‬‬
‫فضل الہی‬ ‫عبدالوہ‬
‫عبدالرحی دی پشت پن ہی‬
‫رکھ ح ظ ام ن‬ ‫سید وہ‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫عبدالرحی دی پشت پن ہی‬
‫دی کی گہ کی‬
‫عبدالرحی کی پشت پن ہی‬
‫‪.........‬‬
‫حضرت یحیی رہبر ک مل‬
‫جم ل الدین ہیں ہر د ش مل‬
‫نور الدین دے پیر۔۔۔۔۔۔۔‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫نور الدین دے پیر۔۔۔۔۔۔۔‬
‫دے کی جگہ ک‬
‫پیر۔۔۔۔۔۔۔‬ ‫نور الدین ک‬
‫‪.......‬‬
‫زہد کم ی‬ ‫ت ج الدین ن‬
‫رہبر پ ی‬ ‫شرف الدین ن‬
‫محمد ی سین ہیں فیض رس ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫سید ط لح اہل حضور‬
‫سید ص لح نور النور‬
‫ہر د میرا ورد زب ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫سید یحیی الح ج آئ‬
‫سید عثم ن رہبر پ ئ‬
‫سید عبدهللا دے پیر نوں ج وے‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫سید عبدهللا دے پیر نوں ج وے‬
‫اور نوں کی جگہ کوں رکھ دیں‬ ‫دے کی جگہ ک‬
‫پیر کوں ج وے‬ ‫سید عبدهللا ک‬
‫‪.........‬‬
‫ج نو ہ دی‬ ‫سید غال مصط‬
‫ن لی ں دل ہووے ش دی‬
‫سید احمد ہیں اہل ۔۔۔۔۔۔‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫ج نو ہ دی‬ ‫سید غال مصط‬
‫ت ہ سمجھو رکھ دیں۔‬ ‫ہ‬ ‫لئ‬ ‫ج نو' ج نن ک‬
‫سمجھو ہ دی‬ ‫سید غال مصط‬
‫‪........‬‬
‫سید ع ی م ظ ق در‬
‫وچ حضوری ہر د ح ضر‬
‫ع رف ف ضل ک مل ج ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫وچ حضوری ہر د ح ضر‬
‫وچ کو میں بدل دیں‬
‫حضوری میں ہر د ح ضر‬
‫‪.........‬‬
‫حضرت ق در بخش کم ل‬
‫نظر و نظری کرن نہ ل‬
‫دوئیں تھ ئیں روشن ج ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫نظر و نظری کرن نہ ل‬
‫کرن کو کریں کر دیں‬
‫نظر و نظری کریں نہ ل‬
‫‪........‬‬
‫حضرت پیر غال جیالنی‬
‫نورانی‬ ‫ہوئ‬ ‫ق در بخش ن‬
‫گڑھ شنکر وچ تخت مک ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫گڑھ شنکر وچ تخت مک ن‬
‫وچ کو میں بدل دیں‬
‫گڑھ شنکر میں تخت مک ن‬
‫‪.......‬‬
‫حضرت دے دو بھ ئی پی رے‬
‫ق در بخش دے ہی دالرے‬
‫عط محمد ہیں درب ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬
‫حضرت دے دو بھ ئی پی رے‬
‫ق در بخش دے ہی دالرے‬
‫دے کی جگہ ک‬
‫دو بھ ئی پی رے‬ ‫حضرت ک‬
‫ہی دالرے‬ ‫ق در بخش ک‬
‫‪.........‬‬
‫غال غوث دے قرب ن‬
‫جس دے ست عی ن‬ ‫بی ٹ‬
‫ہو رحم ن‬ ‫هللا دت‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫غال غوث دے قرب ن‬
‫جس دے ست عی ن‬ ‫بی ٹ‬
‫دے کی جگہ ک‬
‫قرب ن‬ ‫غال غوث ک‬
‫ست عی ن‬ ‫جس ک‬ ‫بی ٹ‬
‫‪........‬‬
‫لنگر رکھ دے ہر د ج ری‬
‫گ زاری‬ ‫وچ درب ر رہ‬
‫سوالی خ لی نہ ج ن‬ ‫آئ‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫لنگر رکھ دے ہر د ج ری‬
‫گ زاری‬ ‫وچ درب ر رہ‬
‫اور وچ کی جگہ میں رکھ دیں‬ ‫‪.‬رکھ دے کی جگہ رکھت‬
‫ہر د ج ری‬ ‫لنگر رکھت‬
‫گ زاری‬ ‫درب ر میں رہ‬
‫‪........‬‬
‫شجرہ شریف میں کہی س را‬
‫مینوں بخشیں پروردگ را‬
‫ہر د تیرا شکر احس ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫مینوں بخشیں پروردگ را‬
‫کر دیں‬ ‫مینوں کو مجھ‬
‫بخشیں پروردگ را‬ ‫مجھ‬
‫‪........‬‬
‫حضرت پیر غال جیالنی‬
‫مہر ع ی دے رہبر ج نی‬
‫ہر د وسن وچ دھی ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫مہر ع ی دے رہبر ج نی‬
‫رکھ دیں‬ ‫دے کی جگہ ک‬
‫رہبر ج نی‬ ‫مہر ع ی ک‬
‫‪........‬‬
‫ع جز خ کی‬ ‫مہر ع ی ہ‬
‫توں س قی ں دا ہیں س قی‬
‫ش ہ جیالنی دے ایم ن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫توں س قی ں دا ہیں س قی‬
‫ش ہ جیالنی دے ایم ن‬
‫تبدی ی‬
‫س قیوں ک س قی‬ ‫تو ہ‬
‫ایم ن‬ ‫ش ہ جیالنی ک‬
‫‪.......‬‬
‫شجرہ شریف پڑھیں بھ ئی‬
‫تہ ڈے دی ہو گی ص ئی‬ ‫ق‬
‫جو ہیں ق دری خ ندان‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫تہ ڈے دی ہو گی ص ئی‬ ‫ق‬
‫تہ ڈے کو تہ رے دی کی جگہ کی‬
‫تہ رے کی ہو گی ص ئی‬ ‫ق‬
‫‪..........‬‬
‫دا وقت صبح و ش‬ ‫پڑھن‬
‫پڑھ لی جس پیت ج‬
‫قرب ن‬ ‫دا ہ‬ ‫پیر سوہن‬
‫ی ر مشکل کریں آس ن‬

‫دا وقت صبح و ش‬ ‫پڑھن‬
‫دا کی جگہ ک‬
‫ک وقت صبح و ش‬ ‫پڑھن‬
‫قرب ن‬ ‫دا ہ‬ ‫پیر سوہن‬
‫دا کی جگہ ک‬
‫قرب ن‬ ‫ک ہ‬ ‫پیر سوہن‬
‫‪.......‬‬
‫!مح مکر حسنی ص ح ‪ :‬سال مسنون‬
‫سبح ن هللا! آپ ن بہت کم ل کی ب تیں بی ن کی ہیں اس مضمون‬
‫میں۔ ایک طرف تو یہ ہم رے اسالف ک ورث کی ب زی فت ہ ‪،‬‬
‫نہ یت لطیف‪،‬نہ یت ع افروز اور نہ یت قیمتی اور دوسری ج ن‬
‫ال ظ اور تراکی ک وہ خزانہ ہ جو ا ن ی ہوت ج رہ ہ‬
‫ب کہ ہو گی ہ ۔ میں پنج بی کی بہت م مولی شد بد رکھت ہوں۔‬
‫آپ کی تحریر س م و ہوا کہ اردو اورپنج بی ایک دوسرے‬
‫س کتنی مت ثر ہوئی ہیں۔ بیشتر پنج بی میری سمجھ میں‬
‫آئی۔ایک آدھ ہی جگہ مشکل پیش آئی لیکن وہ آپ کی تشریح ن‬
‫حل کر دی۔جزاک هللا خیرا۔‬
‫اپنی عن ی ت ایس ہی ق ئ رکھئ ۔ هللا آپ کو طویل عمر عط‬
‫فرم ئ ۔ رہ گی راوی تو وہ بھی چین بولت ہ ۔‬

‫سرور ع ل راز‬
‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=9786.0‬‬