You are on page 1of 2

‫ئ‬

‫تحریر مفتی ابولبابہ شاہ منصور‬
‫آزمائش کے دن‬

‫جب فیصلے کی گھڑی… لمحہ موعود… قریب آن لگے گی تو عجیب عجیب باتیں ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گی…‬
‫ی نے نہایت مبہم رکھی ہے۔‬‫لیکن کن عجیب باتوں کا فیصلے کے لمحے سے کس طرح کا تعلق ہے؟ یہ بات اللہ تعال ی‬
‫اتنی مبہ م کہ اس کی علمات کو بھی مبہ م رکھا گیا ہے تاکہ آزمائش کے لمحات میں امتحان پر پورا اترنے والے‬
‫خوش قسمت مبہم علمات کی بالجزم تطبیق میں خود کو کھپانے کے بجائے اپنے حصے کے کام میں لگے رہیں۔‬

‫ض مقدس سے نکالی گئی۔ پہلی بار‬‫یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک قوم اپنے کرتوتوں کی بارش میں دو مرتبہ ار ض‬
‫شریعت موسویہ کی تحریف و استہزاء پر اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی تضحیک و تکفیر پر۔ دونوں مرتبہ‬
‫انکار بھی محدود اور بوقت شریعت کا تھا اور توبہ بھی واسطے اور وسیلے دے کر کی گئی تھی‪ ،‬اس لیے انہیں‬
‫ض موعود‘‘ میں واپسی کی مشروط اجازت دے دی گئی۔ تیسری مرتبہ انکار بھی دائمی اور عالمگیر شریعت‬ ‫’’ار ض‬
‫محمدیہ کا ہے ‪ ،‬اور واپسی بھی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر کی گئی ہے‪ ،‬اس لیے اب معافی بھی نہ ہوگی‪ ،‬بلکہ پتھر‬
‫اور درخت بھی پکار پکار کر ان کے خفیہ ٹھکانوں کی آگاہی دیں گے اور ان کے کللی خاتمے میں کائنات کی ہر چیز‬
‫اپنا کردار ادا کرے گی۔‬

‫اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ کل تک ایک قوم منت سماجت کرتی تھی کہ ہمیں ’’دیوارض گریہ‘‘ کے پاس‬
‫رونے دھونے کی تھوڑی سی جگہ دے دی جائے۔ تصویری تاریخ کی کتابوں میں وہ تنگ گلی آج بھی دیکھی جاسکتی‬
‫ہے جو دیوا ضر گریہ اور اس کے ساتھ متصل مسلمانوں کے مکانات کے درمیان پائی جاتی تھی۔ ان امکانات کے بیچ‬
‫مساجد اور خانقاہیں بھی قائم تھیں۔ قو م ض یہود کو اس تنگ گلی میں کھڑے ہوکر ٹسوے بہانے کی اجازت کیا ملی کہ‬
‫اس نے اجازت دینے والوں کے مکانات اور عبادت گاہوں کو ہی مسمار کرکے چٹیل میدان میں تبدیل کردیا۔ آج بیت‬
‫المقدس کی اس غربی دیوار کے ساتھ کھلے میدان میں دنیا بھر کے غیرمقامی یہود اور ان کے ہم نوا جمع ہوکر‬
‫جب چاہ یں وہ خود ساختہ عبادت کرسکتے ہ یں جس کا شریعت موسوی میں یا تورات کی آیتوں میں کوئی وجود ہی‬
‫نہ یں‪ ،‬لیکن اسی دیوار کی دوسری طرف مسجد کی حدود میں مسلمان جمعہ کے مبارک دن بھی وہ عبادت نہیں‬
‫کرسکتے جو تمام شریعتوں میں متوارث چلی آئی ہے اور جو تمام انبیائے کرام علیہم السلم نے امام النبیاء علیہ‬
‫وۃ والسلم کی امامت میں اتنی مسجد میں ادا کی تھی۔‬‫الصل ی‬

‫عجائبات کے اندر کیسے عجائبات چھپے ہ وئے ہیں۔ ذرا تصور تو کریں اس فریبانہ ستم ظریفی کی کوئی حد بھی ہے‬
‫کہ ایک طرف فلسطین سے سعودی عرب تک حاجیوں کو ’’براہ راست‘‘ آمدو رفت کی ’’سہولتیں‘‘ دینے کے لیے‬
‫ض حرمین کے درمیان فضائی رابطے بحال کیے جارہے ہیں۔ دوسری طرف اسی فلسطین کے‬ ‫اسرائیل اور ار ض‬
‫ی میں جمعے کی نماز کی سہولت سے محروم کیا جارہا ہے۔ دنیا‬ ‫ی‬ ‫اقص‬ ‫مسجد‬ ‫پر‬ ‫سرزمین‬ ‫اپنی‬ ‫کی‬ ‫مسلمانوں کو ان‬
‫بھر میں فرقہ واریت کی مذمت کرنے والے اپنے ہاں ان فرقوں کو مرکز بنا بناکر دے رہے اور ’’عالمی رہنمائوں‘‘‬
‫سے ان کی ملقات کروارہے ہیں جن فرقوں کو ان کی اپنی پیدائش گاہ میں ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے۔ مفروروں‪،‬‬
‫باغیوں‪ ،‬توہ ین رسالت کے مجرمو ںکو مغربی ممالک میں محفوظ و معزز پناہ گاہیں مل رہی ہیں اور ملک کی خاطر‬
‫روزض ا لول سے قربانیاں دینے اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ کرنے والے انبیائی وراثت کو سنبھالے رکھنے کے جرم‬
‫میں معتوب و مطعون ٹھہرے ہیں۔ مشرق و مغرب کے یہود و ہنود باہمی فاصلے ختم کرکے ایسے شیر و شکر ہورہے‬
‫ی بن اخطب کے باہمی معاہدوں کی یاد تازہ ہورہی ہے… جبکہ پڑوس میں مل جل کر رہنے والے‬ ‫ہیں کہ ابوجہل اور ح ل‬
‫’’نحن العرب‘‘ کے دعویدار ایک دوسرے کا ایسا بائیکاٹ کررہے ہیں کہ ازلی دشمن کسی ناقابل معافی جرم کے‬
‫مرتکب سے بھی ایسا نہ کرتا ہوگا۔‬

‫جب زمین کے باسی عجیب عجیب کام کرتے ہیں تو قدرت کی طرف سے بھی عجیب عجیب فیصلے ظہور میں آتے‬
‫ہیں۔ فلسطین کے مسلمان قبلہ الول کے تحفظ کے لیے اکیلے کھڑے ہیں‪ ،‬ان کے ساتھ پوری سرزمین عرب میں‬
‫سے ہ مدردی کے دو بول بولنے وال نہیں۔ اگر کوئی تھا تو سب مہربان مل کر اس پر نامہربان ہوگئے ہیں۔ شام کے‬
‫مسلمانوں کو ترکی کے علوہ کوئی پناہ دینے وال نہیں‪ ،‬لیکن انسانی حقوق کے تحفظ کی سب سے نادر مثال قائم‬
‫کرنے والے کے ساتھ انسانی حقوق کا ایک بھی علمبردار دور دور تک نظر نہیں آتا۔ کہاں تک گنوائیے کہ تعجب خیز‬
‫امور کی تھپیاں اوپر تلے لگی ہ وئی ہیں۔ جھوٹ ایک فن‪ ،‬ظلم ایک پیشہ اور دھوکہ فطرت بن گیا ہے۔ باطل کی گز‬
‫بھی لمبی زبان کی ہاں میں ہاں ملنے والے ہر طرف ہیں اور حق کی حمایت میں دو بول کہنے وال ڈھونڈنے سے‬
‫نہیں ملتا۔ اسرائیل کے تحفظ کے بعد اسرائیل کی توسیع کے مرحلے میں سب حصہ بقدر جث لہ کے تحت شریک ہیں۔‬

‫خوش خبری ہو ان لوگوں کے لیے جو آج بھی قبلہ الول سے آنے والی مظلومانہ صدائوں پر لبیک کہنے سے نہیں‬ ‫جھجکتے۔ آسمانوں کی برکتیں اور آخرت کی سعادتیں انہی کے لیے ہیں۔ تھوڑی سی آزمائش کے بعد ہمیشہ کی‬ ‫راحتیں انہی کے لیے ہیں۔‬ .