You are on page 1of 24

1

‫ّ‬
‫مجھے آج کی ِشدت ک یوں پسند نہیں?‬
‫)از قلم۔ شبیر احمد راج محلی(‬
‫حضرات قارئیں۔یہ یات یالکل حق ہے کہ آج اہلسنت وحماعت کو سب سے زیادہ‬
‫نقصان آپسی پش ّدد اور آپسی ائتشار و افیراق کے شنب ہوا ہے۔اور ہو رہا ہے۔اور معلوم‬
‫نہیں کب یک ہویا رہے گا۔اور۔وہان نت۔قادیان نت۔رافضنت وعیرہ۔سب نے اہلسنت‬
‫ل‬‫ب ن حک ع‬
‫کی آپسی ائتشار و افیراق سے حوب قایدہ ابھایا ہے۔وہ ھی ہت مت می کے‬
‫شابھ۔[کاش ہم اس کو سمجھ یانے تو آج ہمارے گھروں‬
‫میں۔وہان نت۔رافضنت۔قادیان نت۔کے جرانیم بھنلتے نظر یہ آنے]اور ہماری الشعوری کی‬
‫حد تو یہ ہے کہ روز ہمارا کوئی یہ کوئی سنی ہم سے کٹنا نظر آرہا ہے مزید سیم یاالنے سیم‬
‫ع‬
‫یہ کہ ہماری وہ سنی عوام حو کم لمی کی وجہ سے وہانیہ۔نحدیہ۔قادیانیہ۔رافضیہ۔کے دام‬
‫ُ‬
‫فرنب میں آکر یاطل فرقہ کا شکار ہو کر اگر ا کے شابھ کھان یان یں شریک ہو نی یا نماز‬
‫گ‬ ‫م‬ ‫ی‬
‫ُ‬
‫پڑھ لی تو ان عوام الناس سنی کو نحانے ہم یکے سنی ننانے کی قکر کرنے کے ان پر اِ ننا‬
‫ُ‬
‫پش ّدد ڈھانے ہیں ان کے شابھ اپشا پریاو کرنے ہنکہ وہ م تصلب نی ئٹتے کے نحانے‬
‫س‬
‫ہ‬ ‫ت‬ ‫ش‬ ‫ی‬ ‫ہ‬ ‫ُ‬
‫م‬
‫النا م سے یدظن ہو کر کے وہائی۔نحدی۔قادیائی۔یا عی۔ بن حانے یں( عاذ‬
‫ک ع‬
‫ہللا)جنکہ ہویا تو یہ حا ہٹتے کہ ا پسے عیر علم کم علم کم فہم سنی عوام ال ناس(حو کہ م می‬
‫ل‬
‫کے شنب فرقہ یاطلہ کے دام فرنب میں آ حانے ہیں)ان کو ننار و محنت سے سمجھایا‬

‫‪2‬‬
‫ل‬‫ع‬ ‫ئ‬ ‫ُ‬
‫حانے۔اور نہلے سے زیادہ ن نار ومحنت کے شابھ ان سے تش آیا حانے۔یاکہ نے می‬
‫ع‬
‫میں وہائی۔۔قادیائی۔شتعی۔کی صحنت اخٹ نار کرنے والے یا نے می یں وہانیہ وعیرہ‬
‫م‬ ‫ل‬
‫کے نیجھے نماز ختسی عظیم عنادت کو پڑھ کر اننی عنادت پریاد کرنے والی نے علم سنی‬
‫عوام پر ش ّدت پر شدت کرکے ان کو یدظن کردیا حانے اور کیر دتونندی وہائی یا عیر مقلد‬
‫وہائی یا ب ھر قادیائی یا شتعی۔ ئٹتے کا راسیہ ہموار کر دیا حانے]معاذ ہللا )وریہ یاد رکھیں‬
‫اہلسنت وحماعت کو قایدہ ہونے کے نحانے شدید نقصان ہویا رہےگا۔میرے‬
‫بھان یوں۔آجر اپشا ک یوں ہو رہا ہے؟کہ ایک ہمارا سنی بھائی جب کسی یاطل فرقہ کے دام‬
‫س‬ ‫ُ‬
‫فرنب میں آیا ہے تو ہم بھر سے اسے م تصلب نی ننانے یں یاکام ہوحانے یں؟تو‬
‫ہ‬ ‫م‬
‫یات در اصل یہ ہنکہ ش ّدت ِدبن کا حو معنی و مفہوم آج ہم نے سمجھا ہوا ہے اور اننی‬
‫ّ‬ ‫مج‬ ‫س‬
‫ھی ہوئی شدت ِدبن کو جب ہم دوشرے پر حاری کرنے ہیں۔طاہر کرنے ہیں تو‬
‫لوگ جیران و پرپشان ہو حانے ہیں کہ یا ہللا اپسی ش ّدت ا پسے احالق وکردار کا اشالم سے‬
‫کنا لٹنا د ن نا؟جنکہ یارنخ اشالم تو یہ کہنی ہنکہ یائی اشالم اور منلغین اشالم کے احالق‬
‫ش‬ ‫ب‬ ‫ک‬ ‫ب‬ ‫ش‬ ‫س‬ ‫ی ُ‬
‫وکردار کو د کھ۔سن۔کرتو د من ا الم ھی لمہ پڑھ لنا کرنے ھے۔اور ا الم کے داعی‬
‫تو وہ ہونے بھے حوکہ۔ہر ایک کی عزت اپشان نت کو ہر حال پرفرار رک ھا کرنے بھے حاہے‬
‫اشکا نعلق کسی بھی مذہب وملت سے ہو۔ بھر ننار و محنت سے عیر کو دعوت حق د نتے‬
‫بھے۔نہی وجہ بھی کہ عیر قوم کے لوگ بھی حق کی طرف ل نکتے حلے آنے بھے مگر اِ دھر تو‬
‫حال یہ ہے کہ میں کلمہ پڑ ھتے واال ۔ننی ﷺ کا یام لٹتے واال۔ ہللا کی وحدان نت کا افرار کرنے‬
‫‪3‬‬
‫واال۔اور آج سے قنل نہی لوگ مجھے سے شالم و کالم سب کرنے بھے لنکن اب میں‬
‫ش‬ ‫ب‬ ‫م‬ ‫ل‬‫ک ع‬
‫نے م می یں کوئی علط کام کر ھی گنا تو میرے شابھ اپشا پریاو یہ الم یہ عزت‬
‫اپشان نت محفوظ اگرجہ میں حاہل ہوں لنکن تواپر کے شابھ زیان در زیان ہم نے ا نتے آقا‬
‫ع‬
‫کریم ﷺ اور صحایہ کرام لیہم الرضوان و اولناء ہللا و اکاپربن امت رحہم ہللا نعالی کے حو‬
‫ل‬‫ع‬ ‫ن‬ ‫ک‬ ‫ُ‬
‫احالق وکردار سنی ر ھی ہے اس سے تو ہی لگنا ہنکہ میری طی کے نعد میرے شابھ حو‬
‫رویہ حو پریاو اخٹنار کنا حارہا ہے یہ یہ تو ننی کریم ﷺ کے احالق وکردار سے منل کھانے‬
‫ع‬
‫ہیں یہ صحایہ کرام لیہم الرضوان یہ اولناء ہللا رحمہم ہللا کے احالق و کردار سے میچ ک ھانے‬
‫ہیں اب علطی کرنے واال وہ نندہ سو جتے لگنا ہے اِ دھر سنی یار یار اس پر ش ّدت کربں اور‬
‫ش‬ ‫ُ‬ ‫ط‬ ‫ُ‬
‫ادھر یا ل فرقہ والے یار یار اسے الم کرے حال حال تو حھے ک ھان یان شابھ کرنے کی‬
‫دعوت دے بھر کجھ ہی دن نعد اس کم علم۔کم فہم۔ سنی کو لگنا ہے میں نہلے جس‬
‫حماعت میں بھا وہ علط ہے ک یویکہ اصلی بھائی حارگی ایک دوشرے کا اجیرام واکرام تو‬
‫ع‬ ‫م‬ ‫ل‬‫ک ع‬
‫اِ ن میں یائی حائی ہے( م می کے شنب اس نحارے کو کنا لوم کہ یہ‬
‫وہائی۔قادیائی۔رافضی۔وعیرہ سب یاطل فرقے ہیں سب گسناخ ہیں)بھر کنا ہویا ہے وہ‬
‫ک‬ ‫ش‬ ‫س‬ ‫م‬ ‫ن‬ ‫ک عل س ُ‬
‫ک‬
‫م م نی ا ہی لوگوں کے شابھ یں زیادہ رہنا ہے[ یویکہ نی تو اِ س سے الم الم‬
‫ی‬ ‫س‬ ‫ع‬ ‫م‬ ‫ط‬ ‫ُ‬
‫یک نند کر دیا ہویا ہے یہ )اور ادھر یا ل فرقہ والےکو لوم ہے یہ نی پر لوی ہے‬
‫م‬ ‫م‬
‫ابھی ہماری طرف کمل آیا نہیں اب یہ یاطل فرقہ والے نقاقی احالق وکردار کی کمل‬
‫ط‬ ‫ُ‬
‫نصوپر بن کر ان کے شا متے ظر آنے یں ھر کنا ہویا ہے؟ یا ل فرقہ والوں کے نقاقی‬
‫ب‬ ‫ہ‬ ‫ن‬
‫‪4‬‬
‫م‬ ‫ک‬ ‫ب م‬ ‫س‬ ‫ل‬‫ع‬ ‫ک‬ ‫م‬ ‫ک‬‫م‬
‫احالق وکردار کا۔اپر ل طور سے م م عوام الناس نی پر پڑیا ہے اور ھر وہ ل‬
‫طور سے یاطل فرقہ والوں کے شکار ہو حانے ہیں اور بھر وہ یاطل حماعت کے طرقدار ہو‬
‫حانے ہیں بھر کجھ دن نعد یاطل فرقہ کا منلغ بھی بن حانے ہیں[معاذ ہللا)اے کاش‬
‫ہم نے علطی کرنے والے کو مہلت دی ہوئی ا یکے شابھ احالق جسیہ سے ئتش آیا ہویا‬
‫ح‬ ‫ن‬
‫ایکو اہلسنت کی علیم۔حق طرنقہ سے ق تقی طرح دی ہوئی۔تو آج وہ کم علم سنی اہلسنت‬
‫وحماعت کا منلغ ہویا یاکہ یاطل فرقہ کا۔تو ننارے ب ھان یوں۔ہمیں ا نتےاحالق وکردار پر نظر‬
‫یائی کی ضروت ہے۔ہمیں سوج نا ہوگا ش ّدت کا موفع محل کنا ہے اشکو دیکھنا ہوگا۔ہرحگہ‬
‫ش ّدت کریا ہم نے ش ّدت دبن سمجھ لنا ہے نہی ہماری علطی ہے‪.‬اور جس شنب سے‬
‫ع‬
‫نہت سے سنی حضرات کم لمی کی ن نا پر ہم سے یدظن ہو حانے ہیں اس شنب کو ہمیں‬
‫ا نتے سے دور کریا ہوگا۔ک یویکہ یاد رکھیں ہماری اِ ن نے حا شدت کو ڈھال و معنار ننا کر‬
‫ک ُ‬
‫ہمارے محالفین حوب اہلسنت وحماعت پر یچڑ احھا تے کی کوشش کرنے یں جس سے‬
‫ہ‬ ‫ل‬
‫ت‬ ‫م‬ ‫ک‬‫ل‬
‫کم پڑھی ھی عوام پر ہمارے الف پڑی تیزی سے قی اپرات مرنب ہونے‬
‫ح‬
‫ہیں۔میرے دوشیوں۔ہمیں اس پر حوب عور و قکر کرنے کی ضرورت ہے ک یویکہ یارنخ‬
‫اشالم کا آپ مطالعہ کربں تو کہتے پر مح یور ہو یگے کہ ہم ایک یار نہیں مرنے دم یک عوام‬
‫الناس کی علط فہم یوں کی اصالح کی کوشش کرنے رہنگے وجہ یہ ہنکہ ننار و محنت۔احالق‬
‫وکردار۔سے لوگوں کو حق کی دعوت د ن نا حق یات ن نایا۔شنت ن یوی۔اورطرنقہ صحایہ ہے دور‬
‫ک یوں حانے ہیں!نہی ہند میں منلغ اشالم عطانے رسول ہند الولی حضرت س ند مغین‬
‫‪5‬‬
‫ن‬
‫الدبن جسنی معروف یہ عرنب تواز علیہ الرحمہ‪ ،‬کے اشلوب دعوت و ن ل تعی کو ہی دیکھ‬
‫لیں کتشا بھا؟کہ دسمنان اشالم بھی ا یکے دست منارک پر کلمہ پڑھ پڑھ کر دامن اشالم‬
‫سے واپسیہ ہونے گتے‪،‬کنا ہے کوئی ہندوسنان میں عرنب تواز جسنی علیہ الرحمہ ختشا‬
‫داعی اشالم؟آج لوگ کہتے ہیں کب یک سمجھاوگے؟تو ننارے سنیں ہم سب مل کر‬
‫اس وقت یک سمجھانے۔اصالح کرنے۔راہ راست پر النے۔ کی انیھک کوشش کرنے‬
‫ع‬
‫رہیں اور امند لگانے رہیں جب یک کہ وہ سنی عوام حو کم لمی کی وجہ سے وہانیہ وعیرہ‬
‫کے فرنب میں آنے ہونے ہیں نندار یہ ہو حائیں_لنکن ہاں اگر حان توحھ کر کفریہ‬
‫عقندہ ان نالیں یا وہانیہ وعیرہ کے عقاید کفریہ پر مطلع ہو حائیں اور کہتے لگیں کہ عقندہ‬
‫وہانیہ دیانیہ یاعقاید وہانیہ ِشلفیہ یا عقاید قادنیہ۔یا عقاید شتعہ ہی صحیح ہے نب تو ہم سمجھایا‬
‫نند کرد ننگے اب ان سے دالیل کے شابھ مناطرہ کر ننگے مناجیہ کر ننگے (اور ضرف سمجھایا‬
‫نند نہیں یلکہ دوشرے سنی عوام ال ناس کو بھی ا یکے شر و فین سے نحانے کی ہر ممکن‬
‫کوشش میں لگ حائٹنگے (ان شاء ہللا)‬
‫م‬ ‫ُ‬
‫===کاش کہ اپر حانے تیرے دل یں میری یات====‬
‫مالحظہ کربں‬

‫)میری کہائی میری زیائی(‬

‫‪6‬‬
‫قارئیں حضرات‪.‬ففیر اننی کہائی آپ حضرات کو سنایا ہے ففیر قلحال ممٹنی شہر میں جس‬
‫حگہ مقیم ہے نہاں پر ایک حھویاشا مکنب بھا اور مکنب میں ہی یانچوں وقت کی نماز ہوئی‬
‫بھی لنکن نماز حمعہ نہیں ہوئی بھی جند ہی گٹنی کے نمازی بھے ففیر امام بھی ب ھا مؤذن‬
‫بھی۔پرپشائی تو یہ بھی کہ ۔کیھی کیھی فچر کی نماز میں تو ففیر امام بھی مؤذن بھی اور اقامت‬
‫کہتے واال بھی ک یویکہ ایک بھی نمازی نہیں۔کنی دفعہ ففیر نے اکنلتے ہی نماز فچر پڑی‬
‫ہے(افسوس مشلمان ک یوں حواب عقلت میں سونے ہیں)اور دعوی یہ کہ سچے ننی کریم‬
‫ﷺ کے حا ہتے والے ہم ہی ہیں(صدج تف)لنکن ففیر ن نایا حاہ نا ہے کہ زیادہ پر گِ رد وتواح‬
‫لک‬ ‫ب‬ ‫س‬ ‫ی‬ ‫ک‬ ‫ب‬ ‫م‬ ‫ُ‬
‫کے لوگ اس مسحد یں نماز کو حانے ھے حو کہ ھی نی مسحد ھی میرے یا ل فرنب‬
‫میں اب وہ مسحد دتونندی کے ق تضہ میں ہے (کٹتے افسوس کی یات ہے یہ حانے کب‬
‫یک سنی مشلمان ا پسے ہی سونے رہنگے )کاش کہ سنی مشلمان نماز پڑھ کر مسحدوں کو‬
‫نمازتوں سے آیاد ر کھے ہونے تو ضرف نہی مسحد نہیں یلکہ سنکڑوں مشاحد پر آج ان وہانیہ‬
‫وعیرہ کا ق تضہ ہے جنکہ وہ ہماری بھی آج بھی ہماری ہی ہوئی (مقام عیرت)اب ففیر‬
‫کے شابھ دوشری پرپشائی یہ بھی کہ گٹنی کہ حو کجھ نمازی بھے وہ پڑی مشکل سے ایک‬
‫دو وقت کی نماز کنلتے آنے بھے لنکن یہ حضرات بھی حمعہ کی نماز فرنب والی مسحد میں‬
‫دتونندی مولوی کے نیجھے حاکر ادا کرلٹتے بھے (افسوس قکر کربں دل شکنی کا عالم کنا‬
‫ن‬
‫ہوگا)ئتسری پرپشائی یہ بھی کہ ہر حمعہ کو ن ل تعی حماعت والے پڑی پڑی حماعت لنکر‬
‫اِ رد گرد دکاتوں مکاتوں میں گھوم گھوم کر حکر یہ حکر لگا کر لوگوں کو ا نتے طرف کھیچ رہے‬
‫‪7‬‬
‫بھے وہ بھی ضرف نماز کی دعوت کے نہانے (دل حون کے آپسو رویا بھا)حوبھی پرپشائی‬
‫ن‬
‫یہ بھی کہ اگر کجھ کہنا حاہنا ن ل تعی حماعت کے نعلق سے یا ذکر کریا کسی سے تو ہمارے‬
‫ہی لوگ کہتے بھے موالیا صاجب ایک دوشرے کے حالف تول نا صحیح یہ ہوگا جنگ و حدال‬
‫یک یات آحکی نہلے۔ایک دوشرے کو ح ھیڑا حھاڑی اننک یازی کی وجہ سے۔ ماحول جراب‬
‫ہو حکا ہے اِ نہی یاتوں کے وجہ سے۔ تو پرانے مہریائی۔آپ فطعا دتونندی پریلوی یہ کربں‬
‫ل‬‫ھ‬ ‫ح‬ ‫ل‬‫ھ‬ ‫ح‬ ‫ح‬ ‫ی‬ ‫ُ‬
‫پس آپ اننا کام کربں اور ا کو ان نا کام کرنے دبں (سن کر گر نی نی ہو حایا‬
‫بھا)یانچوی پرپشائی یہ بھی کہ نیچواہ اننی کم بھی کہ مجھ سے قنل نہت سے علمانے کرام‬
‫آکر کنی یار ضرف نیچواہ کی کمی کے شنب اس حگہ کو حھوڑ کر حلے گتے بھے ایک تو نیچواہ‬
‫پرانے یام بھر ک ھان یان کی کوئی شہولت نہیں نہاں یک کہ غشل وعیرہ کنلتے دوشری‬
‫حگہ حایا پڑیا بھا امام کے لتے ر ہتے کا الگ کوئی روم نہیں اور آیادی بھی مشلم کی حاروں‬
‫طرف کم ہے۔عیر مشلم آیادی زیادہ ہے دور دور دو ئین کرکے مشلم گھر ہے اور‬
‫نندرہ۔‪١٥‬۔کے فرنب مشلم گھر یالکل فرنب ہے حو کہ ہمارے اور جس مسحد میں دتون ندی‬
‫مولوی نماز پڑھانے ہیں دوتوں کے درمناں ہیں لنکن شارے گھروں کی حالت اپسی کہ‬
‫دتونندی پریلوی کنا سب بھنک ہے واال معاملہ ہے نعنی نہلے سب گھر کے مرد و عورت‬
‫یکے سنی بھے مگر ننل تع یوں نے محنت کرنے کرنے ایک ایک گھر میں زیادہ نعداد اننی‬
‫ننادی اور اب ہر گھر میں کوئی ایک سنی نحا بھا نکا واال(وہ بھی ففیر سمجھنا ہے یہ حو کجھ‬
‫یکے سنی نچے بھے اشکی وجہ ہللا عزوحل کا کرم اور وہاں لٹتے ایک پزرگ ولی کا ق تصان‬
‫‪8‬‬
‫ن‬
‫)ہے پس )وریہ ننل تع یوں نے خٹنی محنت کی ہے سب کے سب ن ل تعی بن گتے ہونے‬
‫یاقی اِ رد گِ رد احھی مارکٹ اور نہت شاری ُدکائیں ہیں کام کرنے والوں کی اکیرنت مشلمان‬
‫کی ہے مگر سب حمعہ والے نمازی بھے (مستقنل کی قکر نے صیر کا نیمایہ لیرپز کردیا دیا‬
‫) بھا‬
‫المح تضر)یہ کہ بھر میں نے عور قکر کنا سوچ و نحار کرنے لگا تو دل نے کہا‪،‬یم شارے‬
‫مولوی اپشا ہی سو جتے رہے‪،‬اور نہاں سے حانے رہے‪،‬کوئی مستقل ڈپرا ڈال کر نہاں رہا‬
‫نہیں‪،‬تو وہ دن دور نہیں کہ نہاں ایک بھی سنی یہ نچ یائیں کہیں اپشا یہ ہو کہ سب‬
‫وہائی دتونندی کے مکر و فرنب کا شکار ہو حائیں‪،‬ایک تو کجھ ہی سنی وہ پرانے یام نچے‬
‫ہیں‪،‬کہیں وہ بھی م تصلب وہائی دتونندی یہ ہوحائیں‪ ،‬اور نہاں کلٹنا وہانیہ دیانیہ کی حاگیر‬
‫‪،‬داری یہ ہو حانے‪،‬دل سے آہ نکلی‪،‬گویا دل کی دھڑکن نے کہا‪،‬صیر سے کام لے‬
‫‪،‬اشتقامت دیکھا‪،‬ابھی نمہاری عمر ہی کنا ہوئی‪،‬حو مستقنل کی اننی قکر میں ڈونے حارہا ہے‬
‫کجھ شٹ نت کی قکر بھی تو کر‪ ،‬بھوڑی محنت و مشفت تو کر‪،‬بھر اِ سی سوچ و قکر میں دو‬
‫شال یک کا وقت ففیر نے گزار دی۔جب ئتسرا شال۔ففیر کا شروع ہوا رمصان شرنف‬
‫کے نعد وظن گنا ب ھا وظن سے ممٹنی واپسی ہوئی ایک دن نماز فچر کے نعد‪،‬حانے توسی‬
‫کنلتے یاہر شڑک پر آیا‪،‬تو ا نتے میں دتونندی مؤذن بھی نماز پڑھ کر یاہر نکلے اس کے شابھ‬
‫ایک نمازی بھی بھے جنکو میں اس وقت حاننا یک نہیں بھا ‪،‬ہاں اننا حان نا ب ھا کہ روزایہ‬
‫نماز فچر میں حاص کر آنے ہیں لنکن دتونندی امام کے نیجھے ہی نماز پڑ ھتے ہیں میرے‬
‫‪9‬‬
‫ُ‬ ‫ی‬
‫نیجھے کیھی نماز پڑ ھتے یہ آنے‪ ،‬انقاق د یں یں جس دکان یں حاہے توسی کو گنا‪،‬اسی‬
‫م‬ ‫م‬ ‫ھ‬ ‫ک‬

‫ُدکان میں دتونندی مؤذن بھی اس مق ندی کے شابھ نہیچ گنا‪،‬میں نیہا بھا شابھ کوئی یہ‬
‫بھا‪ ،‬حانے توسی ہوئی‪،‬ایک عیر مشلم مرابھی کی ُدکان بھی۔ حانے احھی ننانے‬
‫بھے۔حانے توسی کے نعد۔مین نے یانچ رو نیہ نکالے اس وقت ایک حانے یانچ رو نیہ کی‬
‫بھی‪،‬اب تو ‪ ٨‬رو نیہ ہوگنی ہے۔ا نتے میں وہ حاحا حو دتون ندی مؤذن کے شابھ بھے کہتے‬
‫لگے ‪،‬موالیا صاجب آپ ئتسہ یہ دبں‪،‬میں د ننا ہوں‪،‬میں نے عرض کنا ‪,‬نہیں حاحا آپ‬
‫ر ہتے دبں‪،‬لنکن وہ مانے نہیں بھر حاحا (یام یہ لکھا حکمت کے شنب )نے ئین حانے‬
‫کی قیمت ادا کردی یہ حاحا سے میری نہلی یات ج نت بھی وہ بھی نہت مح تضر میں۔بھر‬
‫میں ایک ہفیہ نعد فچر کی نماز پڑھ کر نہلتے یاہر نکال (حویکہ میری عادت‪ ،‬یہ زیادہ نہلتے کی‬
‫ہے یہ زیادہ حانے توسی وعیرہ کی(لنکن اب حانے توسی کی ختسے عادت سی پڑ گنی‬
‫ہے)اور یہ زیادہ کسی سے یات کرنے کی آپ اس یات سے ایدازہ لگائیں ففیرکو ممٹنی‬
‫میں حھ ‪ ٦‬شال ہوگنا ہے اور لگ بھگ یانچ مرنیہ ابھی یک حضرت محدوم ماہمی علیہ‬
‫الرحمہ و حضرت حاجی علی علیہ الرحمہ کی زیارت کریایا ہے)جیر تو دیکھا کہ دتونندی مؤذن‬
‫اسی حاحا کے شابھ یاہر نکلے مجھے نہلنا دیکھ کر اس حاحا نے کہا موالیا آ ئٹتے حانے ئٹتے‬
‫حلتے ہیں‪،‬میں نے عرض کنا نہیں حاحا‪،‬میں حانے کا عادی نہیں ہوں‪،‬پس اس دن تو‬
‫سوق سے حانے ئٹتے حال گنا بھا‪،‬جیر آپ لوگ حائیں‪،‬ا نتے میں دتونندی مؤذن تولے ارے‬
‫موالیا حلیں یہ‪،‬سب مل کر حانے ئٹتے ہیں‪،‬میں سوچ میں پڑ گنا کنا کروں‪ ،‬دل نے اواز‬
‫‪10‬‬
‫دی‪ ،‬حل وریہ یہ گمان کر ننگے‪،‬کہ گھمنڈی ہے یک یوری ہے‪ ،‬میں شابھ ہو لنا‪ ،‬حانے دکان‬
‫نہیچ کر‪ ،‬یات ج نت شروع ہوئی‪،‬حانے توسی ہوئی رہی‪،‬حاحا نے ن نایا شروع کنا ‪،‬آپ سے‬
‫نہلے حو موالیا بھے‪،‬وہ بھی اسی دکان میں حانے ئٹتے بھے‪(،‬یہ شاتق موالیا میرے دوشیوں‬
‫میں سے ہیں یام حکم نا طاہر نہیں کنا)حاحا تولے آپ بھی روزایہ اس دکان میں آحایا‬
‫کربں‪،‬اور بھی نہت شاری یائیں ہوئی‪،‬بھر میں واپس اکر کنب ئٹنی میں مشعول ہو‬
‫لن ُ‬
‫گنا‪(،‬ک یویکہ الجمد ہلل ففیر کو مطالعہ کنب کا پڑا سوق ہے کن اس وقت کنا یں زیادہ یاس‬
‫ئ‬
‫یہ بھی بھر ففیر نے کنائیں ایک ایک کرکے حمع کرئی شروع کی اور آج الجمد ہللا نہت‬
‫سی کنائیں موحود ہیں مطالعہ و نحق یق کے لتے)جیر ب ھر میں جب کیھی بھی نعد فچر یاہر‬
‫ُ‬
‫نکلنا اس حاحا کے شابھ ہویا پڑیا ک یوں کہ وہ حاحا توال لنا کرنے بھے ب ھر کجھ مہنیہ جب‬
‫گزر گنا تو میں نے ایک دن حانے توسی کے دوران حاحا سے کہا‪،‬حاحا حان آپ کیھی‬
‫میرے نیجھے بھی نماز پڑھ ل نا کربں‪،‬ضرف اِ ن لوگوں کے نیجھے ہی پڑ ھتے رہنگے کنا؟۔آپ‬
‫تو کیھی ہمارے نیجھے نماز پڑ ھتے آنے ہی نہیں۔(ا نتے میں دتونندی مؤذن تولے‪ ،‬موالیا‬
‫صاجب‪،‬آپ کے وہاں تو نمازی ہی نہیں(یات یالکل صحیح بھی)دتونندی مؤذن تولے نماز‬
‫پڑ ھتے کا مزہ ہی نہیں آنے گا حاحا جی کو آپ کےوہاں‪،‬بھر ک یوں وہاں نماز پڑ ھتے حائیں‬
‫حاحا جی؟حہاں نمازی ہی یہ ہو‪،‬بھر تولے سنیں ہمارے امام صاجب ئتس شال سے‬
‫مشلشل نہاں اس مسحد میں نماز پڑھا رہے ہیں‪،‬ا یکے نیجھے لوگ دور دور سے نماز پڑ ھتے‬
‫آنے ہیں‪(،‬وافعی یہ دتونندی امام ئتس شال سے وہی نماز پڑھا رہا بھا یہ وہی دتونندی امام‬
‫‪11‬‬
‫بھا حو سنی بن کر آیا ب ھا شالم و قنام سب کریا بھا نعد میں اننی اصل نت طاہر کنا جب تورا‬
‫ق تضہ ہو گنا نب قوم کے لوگوں کو معلوم ہوا بھا کہ ان لوگوں نے تو ایدر ہی ایدر مسحد‬
‫کے شارے کاعذات ا نتے یام کر لٹتے ہیں (سنی کے سونے کے طرنقہ پر جیرت در‬
‫جیرت ہے)جیر دتونندی مؤذن کی یات سن کر میں حاموش ہو گنا لنکن میں نے حاحا سے‬
‫شالم و کالم نند کرنے کے نحانے ‪،‬شالم وکالم زیادہ حالو کردیا‪،‬حہاں دکھائی د نتے جیر و‬
‫آق نت توحھ لنا کریا بھر ایک دن وہ حاحا مج ھے را ستے میں مل گتے دن کے وقت‪ ،‬میں نے‬
‫‪،‬شالم کنا‪،‬اس کے نعد کہا‪ ،‬حاحا آج فچر کی نماز آپ میرے نیجھے پڑھیں‪،‬انہوں نے کہا‬
‫بھنک ہے ‪،‬آج میں آیا ہوں‪،‬صیح فچر کی آذان سے نہلے ہی وہ آ گتے‪ ،‬دروازہ کھوال تو وہ حاحا‬
‫بھے‪،‬بھر مسواک وعیرہ کرنے کے نعد وضوء کنا نماز فچر کنلتے آذان دی بھرحماعت وقت‬
‫مفررہ پر کھڑی کردی‪،‬نماز کے نعد نغیر مایک کے شالم حو روز میں پڑھا کریا بھا پڑھنا شروع‬
‫کنا‪(،‬پزرگ کے مزار شرنف میں حاکر حہاں ہم نماز ادا کرنے ہیں یالکل اسی کے فرنب‬
‫ایک پزرگ کی مزار شرنف بھی ہر روز نعد فچر وہاں ففیر شالم پڑھنا ہے)شالم کے نعد‬
‫حاحا تولے‪،‬آواز تو نہت پسند آئی آپ کی‪،‬بھر حاحا تولے موالیا آج نماز پڑھکر دل حوش ہو‬
‫گنا‪،‬دوشرے حو اور مقندی بھے انہوں نے کہا حاحا آپ قالں حگہ ر ہتے ہو یہ‪،‬انہوں نے‬
‫ننایا ہاں‪،‬بھر میں نے کہا حلیں حاحا حانے ئٹتے‪،‬حاحا نے کہا جی یالکل‪،‬بھر ہم حانے‬
‫توسی کنلتے شڑک پر نکلے۔ا نتے میں دیکھا کہ دتونندی مؤذن آگ نا آنے ہی حاحا سے کہتے لگا‬
‫کنا یات ہے حاحا‪،‬آج آپ نماز کو نہیں آنے‪ ،‬حاحا نے حواب دیا (میری طرف)اشارہ‬
‫‪12‬‬
‫کرنے ہونے کہ موالیا کے نیجھے نماز پڑھ لی‪،‬بھر لگے حاحا میری نعرنف کرنے‪،‬کہ نہت‬
‫احھی نماز پڑھانے ہیں‪،‬آواز نہت احھی ہے‪،‬حو ا یکے دل میں لگا ن نان کنا‪،‬شابھ ہی شابھ‬
‫یہ بھی حاحا نے س نا دیا دتونندی مؤذن کو‪ ،‬کہ آپ کے موالیا تو ضع تف ہو گتے ہیں‪،‬ایکی تو‬
‫آواز ہی سمجھ میں نہیں آئی ہے‪،‬کنا پڑ ھتے ہیں‪،‬دتونندی مؤذن کو ختسے کھ تکا لگا‪،‬وہ پڑا افسردہ‬
‫ہوکر دیکھتے لگا ‪،‬لنکن بھر بھی وہ دتونندی مؤذن نے حاحا کا نیجھا یہ حھوڑا‪ ،‬کہتے لگا حلے حاحا‬
‫دکان حانے ئٹتے‪،‬ب ھر ہم سب مل کر حلیں حانے توسی کے واشطے بھر حانے توسی کے‬
‫نعد واپس ا نتے ا نتے مقام کو واپس لوٹ گتے‪.‬اب حاحا روز میری اقندا میں نماز پڑ ھتے لگے‬
‫ماشاء ہللا لنکن روز وہ دتون ندی مؤذن مل نا اور کہنا کہ حاحا آپ نے تو ہماری مسحد ہی حھوڑ‬
‫دی‪،‬میں نے مؤذن سے کہا اپشان کو نماز وہی پڑھنی حا ہٹتے حہاں اشکا دل حم حانے‪( ،‬یاد‬
‫رہے اشکے نعد سے روز مجھے حاحا کے شابھ شڑک پر نکلنا پڑیا بھا)ک یویکہ مجھے معلوم ب ھا‬
‫دتونندی مؤذن حاحا کو اننی طرف دویارہ کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگا ہوا ہے‪،‬ایک‬
‫دن میں نے دتونندی مؤذن سے کہا‪،‬جناب یہ کنا طرنقہ ہے؟روز آپ توحھتے ر ہتے ہنکہ نماز‬
‫کو نہیں آنے نماز کو نہیں آنے‪،‬بھائی جب آپ کو معلوم ہے کہ حاحا روز نماز پڑ ھتے آنے‬
‫ہیں ب ھر بھی توحھتے ہو نماز کو نہیں آنے‪،‬یات جیم کرو نماز تو پڑھ رہے ہیں یہ حاحا‬
‫روز۔بھر یہ روز روز توحھتے کا مطلب کنا ہے؟ حاحا کو میری یات نہت پسند آئی۔انہوں‬
‫نے بھی کہا صحیح یات تول رہےہیں موالیا‪،‬وہ شرم سے یائی یائی ہو گنا بھر ہم نے کہا‬
‫حلو حانے ئٹتے ہیں‪،‬حانے دکان نہیچ کر حانے توسی ہوئی بھر ا نتے ا نتے مقام سب کی‬
‫‪13‬‬
‫واپسی۔بھر دھیرے دھیرے دتونندی مؤذن سے دوری ہوئی گنی حاحا کی اور مجھ سے حاحا‬
‫کی فرنت ہوئی گنی حاحا سے محنت و احوت میں مضیوطی پڑھنی گنی بھر میں روز کجھ یہ کجھ‬
‫سمجھایا رہنا اور حاحا حوب دھنان سے شٹتے ر ہتے بھر ایک دن میں نے کہا حاحا آپ‬
‫میرے نیجھےنماز تو پڑ ھتے ہیں احھی یات ہے‪،‬مگر حمعہ کی منارک نماز دتونندی امام کے‬
‫نیجھے پڑھ لٹتے ہیں پڑا افسوس ہویا ہے‪،‬حاحا نے ننار سے افسوس جنانے ہونے حواب‬
‫میں فرمایا‪،‬موالیا صاجب آپ تو نماز حمعہ پڑھانے نہیں‪،‬اور یہ پزدیک میں کوئی دوشری‬
‫مسحد ہے سنی کی‪،‬نب میں نے کہا حاحا حان ‪،‬آپ نماز حمعہ میرے شابھ پڑ ھتے حال‬
‫کربں وہ ننار ہو گتے ننایا حلو نہلے ففیر حود حمعہ پڑ ھتے دوشری حگہ گاڑی پر حایا کریا بھا اب‬
‫حاحا کے شابھ نندل حانے لگا اشکا قایدہ یہ ہوا کہ ختسے نماز حمعہ کنلتے ففیر نکلنا حو بھی‬
‫ف ُ‬
‫حان نہحان کا مل نا فیر ا پسے ہ نا لو نماز عہ پڑھ کر آنے یں‪،‬کوئی شابھ ہو حایا کوئی‬
‫ہ‬ ‫م‬‫ح‬ ‫ح‬ ‫ک‬
‫نہیں‪،‬نہی معمول ہر حمعہ کا ہوگنا دھیرے دھیرے میرے شابھ نماز حمعہ پڑ ھتے یانچ‬
‫شات لوگ حانے لگے بھر ایک دن حاحا نے کہا کٹ نا احھا ہویا اگر آپ نمازحمعہ بھی‬
‫پڑھانے (نعنی کاش کہ حہاں آپ یانچ وقت کی نماز پڑھانے ہیں وہاں نمازحمعہ بھی قایم‬
‫ہو حائی )یہ یات میرے دل کو نہت ن نار سے لگی نہت زور سے لگی سو جتے لگا کہ وافعی‬
‫اگر نماز حمعہ ہمارے نہاں ہوئی تو کٹنا نہیر ہویا اور نماز حمعہ کی وجہ سے زیادہ لوگ میرے‬
‫فرنب آنے اور وہ حضرات حو میرے نیجھے نماز پڑ ھتے ہیں دس ئتس لوگ کم سے کم ا نتے‬
‫لوگوں کی نماز حمعہ تو جراب یہ ہوئی۔جیر اسی طرح حلنا رہا بھر میں نے دل میں سوحا‬
‫‪14‬‬
‫ن‬ ‫ف‬ ‫ل‬‫ع‬
‫حمعہ شروع کنا حانے ک یویکہ دوشری طرف دوران طالب می ہی سے فیر کو فرپر کرنے‬
‫کی عادت بھی یہ شلشلہ یالکل موقوف ہو حکا ب ھا لنکن حمعہ قایم کریا آشان یہ بھا اسی‬
‫قکر میں رہ نا ب ھا کہ کنا کروں ایک دن احایک میرے ذہن میں یہ یات گردش کرنے لگی‬
‫کہ یہ حاحا جب میری یات مان شکتے ہیں اور دتونندی امام کو حھوڑ کر میرے نیج ھے نماز‬
‫پڑ ھتے لگ شکتے ہیں جب یہ میری ننل تغ سے دتونندی اور سنی کا فرق حان شکتے ہیں تو‬
‫دوشرے لوگوں کو بھی ا نتے فرنب کرنے کی کوشش کرئی حا ہٹتے بھر میں نے حکمت‬
‫عملی سے کام لٹنا شروع کنا حو لوگ میرے اِ رد گرد دتونندی کہالنے بھے ان لوگوں سے‬
‫منل حول کریا شروع کنا ئٹیھنا ابھنا حانے وعیرہ لنکن کیھی بھی اس درمنان دتونندی‬
‫پریلوی موضوع ح ھیڑا ہی نہیں بھر کنا ب ھا نہت شارے دتونندی کہالنے والے عوام‬
‫ت‬ ‫ل‬‫نن‬
‫الناس حو نہلے سب کے سب سنی ہی بھے ضرف عی حماعت یں حاکر مراہ نت کا‬
‫گ‬ ‫م‬
‫شکار ہو گتے بھے میرے یاس ئٹیھتے لگے مجھے شٹتے لگے وریہ نہلے تو شٹنا تو دور کی یات‬
‫یاس ئٹیھنا بھی پسند نہیں کرنے بھے ک یویکہ ا یکے ذہن میں یہ یات ئٹیھا دی گئ بھی کہ‬
‫سنی پریلوی عالم ضرف دتونندی وہائی ہی کرنے ر ہتے ہیں نماز و روزہ کی یات ہی نہیں‬
‫کرنے جنکہ یہ قکر ایکی علط بھی جیر حکمت سے کام لٹنا رہا کیھی حدنث س نایا کیھی کسی‬
‫ولی ہللا کی کرامت سنا د ننا اگرجہ شٹتے والے ایک دو ہی ک یوں یہ ہونے کجھ یہ کجھ سنایا‬
‫رہنا نہاں یک کہ میں نے فصایل اعمال دتونندی کناب سے یاب درود شرنف پڑھ کر‬
‫سنانے لگا وہ کہتے بھے موالیا یہ تو حماعت والوں کی کناب ہے؟حواب میں کہنا جی یالکل‬
‫‪15‬‬
‫ن‬
‫ن ل تعی حماعت کی کناب ہے‪،‬میں کہنا ک یوں پڑھ نہیں شک نا کنا ؟حماعت والوں کی‬
‫کناب؟حواب ملنا جی یالکل پڑھ شکتے ہیں‪ ،‬بھر آہسیہ آہسیہ ففیر عقاید اہل شنت‬
‫دتونندی کناب سے یانت کرنے لگا‪،‬کناب شا متے رکھ کر دیک ھایا بھا وہ لوگ جیرت میں پڑ‬
‫ک‬ ‫ک‬ ‫م ل‬
‫حایا کرنے بھے‪،‬کہ یہ یات بھی فصایل اعمال یں ھی ہوئی ہے۔ ھی ھی یں کہنا‬
‫م‬ ‫ی‬ ‫ی‬ ‫ک‬

‫بھا۔کنا آپ لوگوں کو نفویة اال نمان۔نحذپر الناس ۔قناوی رس ندیہ ۔حقظ اال نمان۔پراہین‬
‫القاطعہ۔ کا یام معلوم ہے؟کہتے نہیں بھر ان وہائی مولوتوں کا یام ننایا کہتے یہ سب کون‬
‫ہیں؟(مقام نعجب)میں سوچ و قکر کی د ن نا میں ڈوننا حال گنا (ہللا ہللا )یہ کنا حہالت ہے‬
‫ا پسے لوگ بھی ہیں جنکو کجھ نہیں معلوم اور یار یار مجھے ا نتے ماضی کے قکر و نظر پر‬
‫افسوس ہویا ب ھا‪،‬ک یویکہ ماضی میں میرے ذہن و دماغ کے ایدر ان حضرات کنلتے نفرت‬
‫ہی نفرت بھری بھی‪،‬میں سو جتے لگا ‪،‬یہ ا نتے کم علم ہیں کہ جب سنی بھے نب بھی کم‬
‫ب ک ع‬
‫علم بھے آج ھی م می یں ہی رہ رہے یں‪،‬پس حما نی النے یں۔ حاالیکہ ا ل‬
‫ص‬ ‫ہ‬ ‫کہ‬ ‫ع‬ ‫ہ‬ ‫م‬ ‫ل‬
‫میں سب سنی ہی بھے بھر مجھ سے شالم وکالم کرنے شلشلہ اننا عام ہو گنا کہ‬
‫سب۔حہاں بھی ملتے‪،‬شالم وکالم حال حال دریاقت کرنے۔بھر کیھی کیھی میں دوران‬
‫ت‬ ‫ل‬‫نن‬
‫گقنگو۔سوال کریا بھا احھا ایک یات نناو یہ عی حماعت حو ہر عرات کی شام کو آئی‬
‫م‬‫ح‬
‫ہے مسحد میں‪،‬یہ لوگ حمعرات ہی کو ک یوں آنے ہیں؟اور کنا ہر حمعرات کو حماعت آیا‬
‫ن‬
‫ضروری ہے۔؟ب ھر کہ نا میں نے تو ن ل تعی حماعت کے اکاپربن کی کناتوں میں بھی کہیں‬
‫ّ‬ ‫ن‬
‫نہیں پڑھا کہ۔ن ل تعی حماعت کے حال میں نکلنا۔فرض۔ہے یا واجب۔یا شنت ہے۔بھر‬
‫‪16‬‬
‫ہر حمعرات کی شام کو اِ نکا آیا کیھی پرک یہ کریا۔آجر کنا وجہ ہے؟اور بھر سب کے گھر گھر‬
‫دکان دکان یہ لوگ حانے ہیں آجر کنا سمجھانے ہیں؟حواب ملنا کہ نماز کا طرنقہ سمجھانے‬
‫ہیں۔میں سوال کریا بھان یوں ایک یات نناو آپ نماز پڑھنا حا نتے ہیں؟حواب ملنا جی‬
‫ہاں۔میں سوال کریا ب ھر ننل تغ والےآپ کو کوپسی نماز سنک ھانے آنے ہیں؟کنا ننانے آنے‬
‫ہیں ؟آپ تو نماز بھی پڑ ھتے ہیں اور پڑھنا بھی حا نتے ہیں‪،‬ان ننل تغ والوں کو نماز کے‬
‫ن‬ ‫ی‬ ‫ُ‬
‫یارے میں ن نانے کا اننا ہی سوق ہے تو ا کو ننا یں حاکر حو لوگ نماز یں پڑ ھتے یا پڑھنا‬
‫ہ‬ ‫ئ‬
‫ہی نہیں حا نتے میری یائیں سن کر سب کہتے ہاں یات تو آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔مجھے‬
‫لگا کہ میری ننل تغ کام کر رہی ہے وقت گزریا گنا لوگوں سے محنت احوت پڑھنی گئ ایک دن‬
‫میں نے ا نتے مٹ تظم حضرات سے کہا کہ اپشا ہے نماز حمعہ شروع کنا حانے وہ جیرت‬
‫ایگیز ایداز میں کہتے لگے موالیا صاجب آپ حہاں نماز پڑھانے ہیں وہ مکنب ہے‬
‫۔اور۔شرکاری کاعذات میں بھی مکنب ہی کا یام درج ہے اور حویکہ نچے نہیں پڑ ھتے آنے‬
‫اس شنب نماز قایم کی گنی ہے میں نے کہا و پسے ہی نماز حمعہ بھی قایم ہو حانے گی‪.‬ان‬
‫شاء ہللا‪ ،‬مٹ تظم حضرات کہتے لگے نماز حمعہ کنلتے احازت مشکل لگنا ہے بھر کہتے لگے نماز‬
‫ہ‬ ‫ک‬‫ی‬
‫حمعہ کنلتے نہت سے نمازتوں کی ضرورت ہے میں نے کہا د یں ا ل شنت وحماعت کا‬
‫ھ‬
‫کام کریا ہے اور قوم کے توحواتوں کو وہان نت سے نحایا ہے تو یہ حمعہ قایم کریا نہت ضروری‬
‫ل‬ ‫ح‬ ‫ب‬ ‫ح‬ ‫م‬‫ظ‬‫مٹ ت‬
‫ن‬
‫ہو گنا ہے نماز حمعہ شروع کرایا حانے ین ضرات کو ھی یہ یات ہت ا ھی گی‬
‫کہتے لگے آپ علماء کرام سے رانے لیں کہ کنا حمعہ شروع ہو شکنی ہے نہاں۔میں نے‬
‫‪17‬‬
‫علماء کرام سے رانظہ کنا رانے بھی لی علماء کرام نے حوسی کا اظہار بھی کنا اور فرمایا یاتو‬
‫(شبیر )ک یوں نہیں یالکل نماز حمعہ شروع کر شکتے ہو میں نے مٹ تظم اعلی سے کہا کہ‬
‫علماء کرام نے حکم صادر کردیا ہ نکہ حمعہ شروع کر شکتے ہیں بھر مٹ تظم اعلی نے کہا کہ‬
‫ن‬
‫ہمارے لٹتے ج لیج یہ ہنکہ نمازحمعہ میں نمازی زیادہ کتسے ہو؟ نمازی زیادہ یہ ہونے تو‬
‫یدیامی ہوگی ان تطامیہ کو یہ قکر ہونے لگی میں نے کہا قکر یہ کربں فظرہ فظرہ سے دریا نتے‬
‫گا (ان شاء ہللا)‬
‫بھر کنا بھا صیر کرنے کرنے رمصان المنارک فرنب آگنا اس درمنان لوگوں میں ففیر‬
‫پرسنلی ننل تغ حالو رک ھا جب رمصان الم نارک کا مہنیہ شروع ہوا تو نماز حمعہ شروع کردی گنی‬
‫ارد گرد کے حان نہحان کے لوگوں کو جیرو کردی گنی بھی بھر رمصان شرنف کی پرکت سے‬
‫نہلے حمعہ میں ایک سو کے فرنب یا کجھ زیادہ نمازی بھے (الجمد ہلل )لنکن بھر بھی نہت‬
‫کم بھے ب ھر میں نے مشلشل ضرف نماز کی فصل نت‪،‬نماز کے یارک پر وعندبں‪،‬یارک صالة‬
‫کا انحام آجرت‪،‬ید اعمالی کی نناہ کاریاں‪،‬ید اعمالی کی پشان دہی‪ ،‬انہی موضوعات پر حمعہ‬
‫میں نفرپر کریا رہا‪،‬لنکن ایک شال یک۔ایک یار بھی دتونندی کا یام یک نہیں لنا حمعہ کی‬
‫نفرپر میں بھر کنا بھا میرے فرنب کی وہ مسحد حو نہلے سنی کی بھی اب دتونندی کے ق تضہ‬
‫میں ہے اب وہ مسحد نماز حمعہ میں حالی ہوئی گنی ک یویکہ سنی حضرات حو یامر مح یوری یا‬
‫حہالت کے شنب دتونندی امام کے نیجھے نماز حمعہ پڑھ لنا کرنے بھے سمٹ سمٹ کر‬
‫میرے طرف آنے لگے اور ففیر کے نیجھے نماز پڑ ھتے لگے (سیحان ہللا )اب دلچسپ یات‬
‫‪18‬‬
‫سنیں۔جب دتونندتوں نے دیکھا کی ہماری حماعت سے نمازتوں کی نعداد کم ہو رہی ہے‬
‫ُ‬
‫مشلشل شارے نمازی تو اس طرف حا رہے یں ھر ل ھن کر آجر کار دتونندتوں کی‬
‫ب‬ ‫ح‬ ‫ب‬ ‫ہ‬
‫طرف سے شکانت آئی کہ مایک کی آواز ہماری مسحد یک آئی ہے ہمارے موالیا کی آواز‬
‫سنائی ہی نہیں د ننی (وجہ دتونندی مولوی صاجب ضع تف ہو حکے بھے )بھر کجھ دن نعد‬
‫دتونندی امام کا ان تقال بھی ہو گنا ب ھردوشرا دتونندی مولوی امامت پر آیا )جیر مایک کی آواز‬
‫نند کروائی گنی حو یاہر حائی بھی ک یویکہ ہم حگھڑا نہیں حا ہتے بھے لنکن بھر شرارت شروع‬
‫ہوئی دتونندی نتے امام کی طرف سے کہ (ہم اہل شنت و حماعت کے حالف حوب‬
‫یکواس کرنے لگا مجھے جیر ہوئی کہ دتونندی ننا امام ہمارے اکاپربن پر ہمارے عقاید پر‬
‫َیک َیک کریا ہے اور ہمیں پریلوی کہہ کر ایک ننا فرقہ یانت کرنے کی حال حل رہا ہے‬
‫مشلشل‪،‬نب میں نے بھی شروع کردی دتونندتوں کا یام لنکر رد کریا وہ دالٸل کے‬
‫شابھ۔عالمایہ زیان میں۔ن یوری زیان میں نہیں۔بھر یات آگے پڑھی نہاں یک کہ ففیر‬
‫ایک یار دتون ندی موالیا کے حچرے میں حال گنا فصایل اعمال لنکر یا رسول ہللا پر نجث‬
‫ہمارے مقندی اور ا یکے مقندی کے درمنان حھڑ گنی بھی اس شنب میں نے کہا سنیں‬
‫آپ عوام حضرات کو نجث و مناجیہ کا حق نہیں ہے جشکو ہمارے کسی عقندہ میں کسی‬
‫عمل میں اعیراض ہو مجھ سے آکر یات کربں بھر نجث ہوئی میں نے یارسول ہللا کی صدا‬
‫لگانے یا رسول شالم علنک شالم پڑ ھتے کا ن یوت دتونندی موالیا کے شا متے فصایل اعمال‬
‫سے یانت کنا (الجمد ہلل)جب یات جیم ہوئی تو میں نے دتونندی موالیا سے کہا کہ اگر آپ‬
‫‪19‬‬
‫اننی نفرپر میں ہمارے حالف تو لتے رہنگے تو ہم بھر دتون ندتوں کا رد نہیں حھوڑ ننگے بھر نعد‬
‫م‬
‫میں یہ مت شکانت کریا آپ کہ ہم سنی کی نفرپر اس وقت یک کمل نہیں ہوئی جب یک‬
‫کہ دتونندی کے حالف بھڑاس یہ نکال لنا حانے اس شنب آپ بھی آرام سے رہے‬
‫ہمیں بھی آرام سے ر ہتے دبں اس کے نعد سے تو اپشا ہوا کہ ہمارے حاص مقندتوں‬
‫ن‬
‫کے یاس ن ل تعی حمان یوں کا آیا نہت حد یک نند ہو گنا(ہللا کا شکر ہے)اور بھر آج کا‬
‫ماحول ہے ہللا کے فصل و کرم سے حال یہ ہنکہ کجھ ہمارے ا پسے مقندی ہیں حو حاہل‬
‫ن‬
‫ننل تع یوں کو یاطل یانت کرنے کو کاقی ہیں لنکن بھر بھی کوئی ن ل تعی حاہل منلغ آکر کجھہ‬
‫کہتے ہیں تو سنی حضرات کہتے ہیں آپ نماز کی دعوت د نتے آ ئیں ہیں یہ ہم تو نماز پڑ ھتے‬
‫ہیں الجمد ہلل اور ہمارے موالیا ہمیں ہر حمعہ میں اور ب ھر گاہے گاہے نماز کے یارے‬
‫میں ننانے ر ہتے ہیں الجمد ہلل لھذا آپ حضرات وہاں حائیں حہاں دعوت د نتے واال کوئی‬
‫نہیں(اے کاش ہر سنی امام ا نتے ارد گرد کےلوگوں کا یہ ذہن ننادبں تو ننل تع یوں کا کوئی‬
‫جریہ کام یہ کرنگا ان شاء ہللا) قارئین حضرات۔ننائیں اگر میں ش ّدت یہ ش ّدت کریا دوری‬
‫م‬ ‫ت‬ ‫ل‬‫نن‬ ‫ُ‬
‫ن‬
‫پر دوری ننایا ہمارے ان بھا یوں سے حو کہ عی حماعت کے فرنب یں آکر سب‬
‫بھنک ہےکسی کو پرا یہ کہو ا پسے ذہن کے علمیردار ہو گتے بھے اور دتونندتوں کی حکر میں‬
‫آکر ج تکا ذہن یہ بن گنا بھا کسی کو پرا یہ کہو۔ہاں مجھے یاد آیا جب دوتوں طرف سے رد کا‬
‫شلشلہ شروع ہوا لوگ مجھے کہتے موالیا آپ دتونندی دتونندی ک یوں کرنے لگے؟ تو میں نے‬
‫کہا‪ ،‬شروع دتون ندی امام نے کنا ہے‪،‬بھر میں نے دتونندتوں کا رد شروع کنا تو پرپشائی‬
‫‪20‬‬
‫ک یوں‪،‬میں نے کہا‪،‬ایک طرف یہ دتونندی نعرہ لگانے ہیں کہ کسی کو پرا یہ کہو سب ب ھنک‬
‫ہے ایک امت بن کے رہو‪،‬بھر نناو مجھے یہ دتونندی مولوی ہم اہل شنت و حماعت کو‬
‫پریلوی مسرک پریلوی یدعنی ک یوں کہتے ہیں کنا یہ ہابھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے‬
‫کے اور واال معاملہ نہیں؟ تیر یالکل بھکانے پر حاکر لگنی لوگوں کو یالکل یات سمجھ آئی‬
‫ن‬
‫اور کہتے صحیح یات ہے ایک طرف تو ن ل تعی حماعت والے کہتے ر ہتے ہنکہ کسی کو پر بھال یہ‬
‫کہو بھر پریلوی مسرک پریلوی یدعنی حالنے ر ہتے ہیں‪،‬یہ تو سو جتے والی یات ہے۔میرے‬
‫ننارے بھان یوں۔مجھے لگ نا ہے میں نے حو کنا احھا کنا اگر میں ا پسے لوگوں سے م نل حول‬
‫یہ رکھنا تو کنا وہ یکے دتونندی یہ بن گتے ہونے۔؟ففیر حکمت عملی سے کام لنا پرمی‬
‫دیک ھائی اور ب ھر ان سے شالم وکالم زیادہ شروع کی ابھنا ئٹیھنا زیادہ کنا تو اس کا قایدہ یہ‬
‫ہوا کہ نماز حمعہ میں نعداد پڑھنی گنی اور اب بھی مشلشل پڑھ رہی ہے الجمد ہلل اس وقت‬
‫یارہ سو‪)١٢٠٠‬لوگ میرے نیجھے نماز حمعہ ادا کرنے ہیں ایک وقت اپشا بھی آیا کہ حگہ کی‬
‫قلت ہوئی تو بھر حگہ کی توشتع کنلتے انہی نمازتوں سے کمٹنی کے اجناب نے جندہ کریا‬
‫شروع کی میں نے کنی حمعہ مشاحد اور ننک کام پر جرچ کی فضنلت ننان کی الجمد ہلل‬
‫لوگوں نے بھر تور مدد کی اور آج ہماری مسحد کی ئین میزل عمارت گھڑی ہوگنی(ھذا من‬
‫مٹ ت‬
‫فضی رئی )آج بھی مجھے لگنا ہے اور زیادہ ہو یگے نمازی اب ہمارے ین کو یہ کر‬
‫ق‬ ‫م‬‫ظ‬
‫الحق رہنی ہنکہ اور حگہ کدھر سے توشتع کنلتے الیاحانے؟اور یانچ وقت کی نماز میں بھی‬
‫نمازی زیادہ ہو گتے الجمد ہلل ۔مجھے فچر ہے کہ میں نے اننی اس حھوئی سے زیدگی۔النف‬
‫‪21‬‬
‫میں اننی حھوئی سی دبن منین کی حدمت انحام دی کہ اور اسی حکمت عملی کا ئٹیجہ ہے‬
‫کہ آج میرے آس یاس دتون ندنت پست پڑی ہوئی ہے ہمارے طرف سے نمازتوں کی‬
‫گ‬ ‫ُ‬
‫نعداد پڑھنی ہی حا رہی مشلشل اور اس طرف نمازتوں کی نعداد نی حارہی ہے اور اب تو‬
‫ٹ‬‫ھ‬
‫ن‬
‫دتونندی ن ل تعی حماعت دو یکڑے میں نٹ حکی ہے اب ہم نے سب نچے یک کو سنک ھا‬
‫ن‬ ‫ن‬
‫رکھا ہنکہ کوئی ن ل تعی آنے تو توحھنا یم کو پسے ن ل تعی ہو؟ شعد والے۔یا سوری والے۔اگر‬
‫کہے شعد والے تو کہنا آپ کے امیر حماعت پر دارالعلوم دتونند نے گمراہ نت کا ق یوی دیا‬
‫ہے تویہ کا حکم دیا ہے نچرنف فرآن کا مچرم فرار دیا ہے تو ن ناو آپ کے امیر حماعت نے‬
‫تویہ کی کہ نہیں؟جب یہ سوال ہویا ہے تو وہ بھا گتے نظر آنے ہیں اور الجمد ہلل اب‬
‫اہلسنت وحماعت کا کام زیادہ ہورہا ہے۔ففیر نے ہرحمعرات نعد نماز غشاء نمازتوں کو‬
‫مشایل نماز ننانے کا شلشلہ شروع کنا ہوا ہے۔اور ہر رمصان۔نعد عضر درس‬
‫حدنث۔کناب الصوم۔کا شلشلہ حاری رہناہے۔اور نعد پراونح کجھ منٹ ننان کا شلشلہ‬
‫بھی حاری ہے۔اور عام دتوں میں گاہے گاہے دکاتوں میں حا حاکر نماز کی دعوت بھی‬
‫د ننا ہے یہ ففیر۔آج مجھے کیھی اکنلے نماز فچر پڑھنی نہیں ہوئی یلکہ دس ‪ ١٠‬یا ن ندرہ ‪ ١٥‬نمازی‬
‫تو کم سے کم ہو ہی حانے ہیں فچر کی نماز میں۔یاقی وقت کی نمازوں میں نعداد احھی حاضی‬
‫رہنی ہے اور سب سے احھا کام یہ ہوا کہ اب سب میرے مقندی م تصلب سنی ہیں‬
‫(ہللا کا شکر ہے)میرے بھان یوں آج کے دور میں ننار و محنت سے حکمت علمی سے ن نل غت‬
‫کی ضرورت ہے ک یویکہ آج ب ھت سے حگہ کا حال یہ ہو گنا ہنکہ ایک ہی گھر میں دو سنی‬
‫‪22‬‬
‫ہے تو دو دتونندی اور یانچ ہیں تو ایک اس میں سے عیر مقلد ہو گنا ہے(عیر مقلد سے‬
‫یاد آیا آج میرے مقندتوں دو آدمی ا پسے ہیں حو عیر مقلد نظریات کے حامل ہو گتے بھے‬
‫اب سب بھنک ہے الجمد ہلل یام (حکمنا مجہول رکھا گنا )تو میرے قوم کے‬
‫راہیروں۔منل تعوں۔اج حکمت عملی سے کام کریا نہت ضروری ہو گنا ہے ہمیں آپسی‬
‫اجنالف میں یہ الجھ کر حکمت عملی سے ہمیں زمٹنی کام کی حوب ضرورت ہے‬
‫اك اِبلْ اح ْْكَ اية َوالْ َم ْو اع َظ اية الْ َح َس َن اية َوجا ادلْهُ ْيم اِبل َّ ا ي‬
‫ت‬ ‫آج ہمیں اس آیات کرنمہ۔ا ْد ُيع اىل َسب اي‬
‫ايل َرب َي‬
‫ِ‬
‫ين (سورة‬
‫ايلي َوه َيُو َأ ْع َ ُلي اِبلْ ُمهْ َت اد َي‬
‫هي َأ ْح َس ُني ا َّين َرب َّ َكي ه َُوي َأ ْع َُيل اب َم ْني ضَ َّلي َع ْين َسب ا ا‬
‫َ‬ ‫ا‬
‫ِ‬
‫الیحل۔آنت﴿‪}۱۲۵‬پرحمہ۔(ا نتے رب کی راہ کی طرف یالؤ یکی یدتیر اور احھی نضیجت سے‬
‫اور ان سے اس طرنقہ پر نجث کرو حو سب سے نہیر ہو ئتشک نمہارا رب حوب حاننا ہے‬
‫حو اس کی راہ سے نہکا اور وہ حوب حاننا ہے راہ والوں کو‪)[،‬کیزاال نمان)سحنی سے عمل‬
‫کرنے کی ضرورت ہے۔‬
‫ک‬‫ل‬
‫قارئین۔میں نے یہ روداد پس نحدنث نعمت کے طور پر ھی ہے یاقی کوئی عرض صود[‬
‫ق‬ ‫م‬
‫نہیں)یاقی میرے اس حکمت عملی کے نجت کام کرنے میں کوئی علطی وافع ہوئی ہو‬
‫ہللا رب العزت مجھےمعاف کرے اور صحیح طرنقہ پر دبن وشٹ نت کنلتے کام کرنے کی‬
‫توق یق۔عطا فرمانے[آمین]‬
‫یارنخ۔‪٢٠١٩/١/١٣‬۔ء‬
‫العارض احفر العناد۔شبیر احمد راج محلی‬
‫‪23‬‬
24