‫یزید بن معاوی ہ )مکمل نام‪ :‬یزید بن معاوی ہ بن ابوسفیان بن حرب بن امی ہ‬

‫الموی الدمشقی( خلفت اموی ہ کا دوسرا خلیف ہ ت ھا ۔ اس کی ما ں کا نام‬
‫میسون ت ھا اور و ہ شام کی کلبی ہ قبیل ہ کی عیسائی ت ھی‪ُ،‬اس ن ے امیر‬
‫معاوی ہ ک ے بعد ‪680‬ء س ے ‪683‬ء تک مسند خلفت سنب ھال ۔ اس ک ے‬
‫دور می ں سانح ۂ کربل می ں نواس ہ رسول صلی الل ہ علی ہ و آل ہ و سلم اور‬
‫جگر گوش ہ بتول سیدنا حسین ش ہید کئ ے گئ ے ۔ حضرت حسین علی ہ‬
‫السلم کا سر مبارک یزید ک ے دربار می ں ل ے جایا گیا تو اس ن ے سر دیک ھ‬
‫کر اشعار پ ڑھے ک ہ آج ہم ن ے بدر اور احد کا بدل ہ ل ے لیا ۔۔ روایات ک ے‬
‫مطابق اسی ن ے حضرت حسین علی ہ السلم کی ش ہادت کا حکم دیا اور‬
‫عبدالل ہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر ی ہ ذم ہ داری دی اور جب حضرت‬
‫حسین کا سر اس ک ے سامن ے آیا تو اس ن ے خوشی کا اظ ہار کیا اور ان‬
‫ک ے ا ہل خان ہ کو قید می ں رک ھا ۔اسی دور می ں حضرت عبد الل ہ ابن حنظل ہ‬
‫کی تحریک کو کچلن ے ک ے لی ے مدین ہ می ں قتل عام ہوا اور حضرت عبد‬
‫الل ہ ابن زبیر ک ے خلف ل ڑائی می ں خان ہ کعب ہ پر سنگ باری کی گئی‬
‫]دمع السجوم ص ‪[252‬‬
‫]تاریخ الخلفاء جلل الدین سیوطی صحف ہ ‪[296‬‬
‫کچ ھ اصحاب رسول رضی الل ہ تعالی عن ہم ن ے یزید کی بیعت س ے انکار کر‬
‫دیا جیس ے حضرت عبدالل ہ بن زبیر ۔ امام حسین علی ہ السلم ن ے ب ھی بیعت‬
‫س ے انکار کر دیا کیونک ہ یزید کا کردار اسلمی اصولو ں ک ے مطابق ن ہی ں‬
‫ت ھا ۔ یزید کی تخت نشینی ک ے بعد اس ن ے امام حسین علی ہ السلم س ے‬
‫بیعت لین ے کی تگ و دو شروع کر دی ۔ یزید ن ے مدین ہ ک ے گورنر اور بعد‬
‫می ں کوف ہ ک ے گورنر کو سخت احکامات ب ھیج ے ک ہ امام حسین علی ہ‬
‫السلم س ے بیعت لی جائ ے۔ یزید ن ے جب محسوس کیا ک ہ کوف ہ کا گورنر‬
‫نرمی س ے کام ل ے ر ہا ہے تو اس ن ے گورنر کو معزول کر ک ے ابن زیاد‬
‫کو گورنر بنا کر ب ھیجا جو ن ہایت شقی القلب ت ھا ۔ مورخین ن ےلک ھا ہے‬
‫ک ہ ابن زیاد ن ے یزید ک ے حکم کی تعمیل کرت ے ہوئ ے خاندان رسالت کو‬
‫قتل کیااور قیدیو ں کو اون ٹو ں پر ش ہیدو ں ک ے سرو ں ک ے سات ھ دمشق‬
‫ب ھیج دیا ۔ دمشق می ں ب ھی ان ک ے سات ھ کچ ھ اچ ھا سلوک ن ہ ہوا‬
‫مولنا قاسم نانوتوی ن ے یزید کو پلید کا خطاب دیا ۔۔ ی ہی لفظ مولنا رشید‬

‫احمد گنگو ہی ن ے استعمال کیا ۔۔ مولنا اشرف علی ت ھانوی ن ے یزید کی‬
‫مخالفت کی اور اس ے فاسق ک ہا ۔جید عالم مفتی محمد شفیع ن ے یزید کی‬
‫بیعت کو ایک حادث ہ قرار دیا ۔ ان ہو ں ن ے مستند روایات ک ے سات ھ لک ھا ک ہ‬
‫یزید ن ے تخت نشین ہوت ے ہی کچ ھ اصحاب رسول س ے زبردستی بیعت‬
‫لین ے کا حکم جاری کیا ۔ ۔ ان ہو ں ن ے ی ہ ب ھی لک ھا ک ہ جب حضرت حسین‬
‫ابن علی کا سر مبارک یزید ک ے سامن ے پیش کیا گیا تو اس ن ے ان ک ے‬
‫دانتو ں کو چ ھڑی س ے چ ھی ڑت ے ہوئ ے اشعار پ ڑھے‬
‫قبیل ہ'‬

‫کاش آج اس مجلس می ں بدر می ں مرن ے وال ے میر ے بزرگ اور‬
‫خزرج کی مصیبتو ں ک ے شا ہد ہوت ے تو خوشی س ے اچ ھل پ ڑت ے اور‬
‫ک ہت ے ‪ :‬شاباش ا ے یزید تیرا ہات ھ شل ن ہ ہو ‪ ،‬ہم ن ے ان ک ے بزرگو ں کو‬
‫قتل کیا اور بدر کاانتقام ل ے لیا ‪ ،‬بنی ہاشم سلطنت س ے ک ھیل ر ہے ت ھے‬
‫اور ن ہ آسمان س ے کوئی وحی نازل ہوئي ن ہ کوئي فرشت ہ آیا ہے‬
‫جس پر ایک صحابی رسول صلی الل ہ علی ہ و آل ہ و سلم حضرت ابو ہرز ہ‬
‫اسلمی رضی الل ہ عن ہ ‪ ،‬جو موقع پر موجود ت ھے ان ہو ں ن ے ک ہا ک ہ ا ے‬
‫یزید تو ان دانتو ں کو چ ھی ڑتا ہے جن کو رسوِل خدا صلی الل ہ علی ہ و آل ہ‬
‫و سلم بوس ہ دیا کرت ے ت ھے۔ تو جب قیامت کو آئ ے گا تو تیری شفاعت‬
‫ابن زیاد کر ے گا اور حسین آئی ں گ ے تو ان کی شفاعت رسوِل خدا صلی‬
‫الل ہ علی ہ و آل ہ و سلم کری ں گ ے۔ ی ہ ک ہہ کر ابو ہرز ہ مجلس س ے نکل‬
‫گئ ے۔ ۔ یزید ن ے حضرت حسین ابن علی ک ے ایک بچ ے عمرو بن حسین‬
‫کو ک ہا ک ہ سانپ کا بچ ہ سانپ ہوتا ہے یعنی حضرت حسین ابن علی کو‬
‫معاذالل ہ سانپ س ے تشبی ہ دی ۔ ۔ مفتی محمد شفیع ک ے مطابق اگرچ ہ کچ ھ‬
‫لوگ سمج ھت ے ہی ں ک ہ یزید ش ہادت حسین ک ے بعد پشیمان ہوا مگر اس‬
‫پشیمانی کو ن ہی ں مانا جاسکتا کیونک ہ اس واقع ہ ک ے بعد ب ھی یزید سیا ہ‬
‫کار ر ہا اور اس کی موت ب ھی ایس ے ہوئی ک ہ مرت ے مرت ے اس ن ے مک ہ‬
‫پر چ ڑھائی کرن ے ک ے لی ے ایک لشکر ب ھیجا ۔ یزید کو اس واقع ہ ک ے بعد‬
‫چین نصیب ن ہ ہوا اور اس کو دنیا می ں ب ھی الل ہ ن ے ذلیل کیا اور اسی‬
‫ذلت ک ے سات ھ و ہ ہلک ہو گیا ۔ یزید ن ے مدین ہ پر حمل ہ ک ے لی ے ایک‬
‫لشکر ب ھیجا حالنک ہ‬
‫حضور اکرم صلی الل ہ علی ہ و آل ہ و سلم ن ے فرمایا ک ہ 'جس ن ے ب ھی ا ہل‬

‫مدین ہ ک ے سات ھ ناانصافی کی یا ان ہی ں خوفزد ہ کیا ۔ اس شخص پر الل ہ کی‬
‫لعنت اور فرشتو ں کی لعنت اور سب لوگو ں کی لعنت ہوتی ہے‬
‫]البدای ہ والن ہای ہ )اردو( جلد ‪ 8‬صفح ہ ‪ 1147‬۔ نفیس اکی ڈمی[‬
‫بعد ازا ں یزید اسلمی تعلیمات ک ے خلف اقتدار پر قابض ہوا بلِد اسلم‬
‫می ں ملوکیت ک ے آغاز کا موجب بنا ۔ امام حجر عسقلنی رحم ۃ الل ہ علی ہ‬
‫فتح الباری می ں اس ذیل می ں لک ھت ے ہی ں ک ہ حضرت ابو ہریر ہ رضی الل ہ‬
‫عن ہ فرمایا کرت ے ک ہ ’’ا ے الل ہ می ں سن سا ٹھ ہجری اور تخت سلطنت پر‬
‫نوعمر لون ڈو ں ک ے حکمران بن کر بی ٹھن ے س ے تیری پنا ہ مانگتا ہو ں‬
‫اور سن سا ٹھ ہجری کا سورج طلوع ہون ے س ے پ ہل ے مج ھے دنیا س ے‬
‫ا ٹھالینا‘‘ ۔ اسی طرح مروان بن حکم جب حضرت ابو ہریر ہ رضی الل ہ‬
‫عن ہ س ے یزید کی خلفت کیلئ ے بیت لین ے آیا تو آپ ن ے مسجد نبوی می ں‬
‫مروان س ے خطاب کرت ے ہوئ ے فرمایا ‪ :‬ا ے مروان! می ں ن ے صادق نبی‬
‫صلی الل ہ علی ہ وآل ہ وسلم کو فرمات ے ہوئ ے سنا ک ہ ’’قریش ک ے خاندان‬
‫می ں س ے ایک گ ھران ہ ک ے نادان‪ ،‬بیوقوف لون ڈو ں ک ے ہات ھو ں میری امت‬
‫برباد ہوجائ ے گی‘‘ ۔ یعنی آپ صلی الل ہ علی ہ و آل ہ و سلم ن ے اپنی ذریت‬
‫ک ے قتال کو اپنی امت کی بربادی پر محمول فرمایا ۔‬
‫]فتح الباری شرح صحیح بخاری از امام حجر عسقلنی[‬
‫بعد ازا ں جب سانح ہ کربل ک ے نتیج ہ می ں ا ہل حجاز ن ے یزید کی بیت‬
‫تو ڑدی تو و ہ مدین ہ منور ہ اور مک ہ معظم ہ پر حمل ے کا مرتکب ہوا اور‬
‫واقع ہ حر ہ ک ے دورا ں اپنی افواج ک ے ذریع ےمک ہ معظم ہ پر پت ھرو ں کی‬
‫بارش کی اور خان ہ کعب ہ کی چ ھت کو جل دیا‪ ،‬مقدس مقامات کی ب ے‬
‫حرمتی کی اور ہزار ہا افراد کو ش ھید کیا جن می ں ب ہت س ے صحاب ہ اکرام‬
‫ب ھی شامل ت ھے‬
‫ن[‬
‫البدای ہ و الن ہای ہ از ابن کثیر‪،‬الكامل في التاریخ از ابن الثیر‪ ،‬تاریخ اب ِ‬
‫خلدون از ابن خلدون‪ ،‬تاریخ بغداد از الخطیب البغدادي اور تاریخ دمشق‬
‫]از ابن عساكر وغیر ہ‬
‫اسک ے علو ہ معاصری ں اور مورخی ں ن ے یزید کو اعلنی ہگنا ِ ہ کبیر ہ ک ے‬
‫ک نماز وغیر ہ( اورعام ۃ الناس کو اسکی‬
‫ارتکاب )زنا‪ ،‬شراب نوشی‪ ،‬تر ِ‬
‫طرف مائل کرن ے کی وج ہ س ے اس ے فاسق و فاجر قرار دیا ۔ جیسا ک ہ امام‬

‫ابن کثیر‪ ،‬البدای ہ و الن ہای ہ می ں نقل کرت ےہی ں۔‬
‫ذکروا عن یزید ما کان یقع من ہ من القبائح في شرب ۃ الخمر وما یتبع ذلک‬
‫من الفواحش التي من اکبر ھا ترک الصلو ۃ عن وقت ھا بسبب السکر‬
‫فاجتمعوا علي خلع ہ فخلعو ہ‪ .‬عند المنبر النبوي‬
‫ترجم ہ‪ :‬یزید ک ے کردار می ں جو برائیا ں ت ھی ں ان ک ے بار ے می ں بیان کیا‬
‫جاتا ہے ک ہ و ہ شراب پیتا ت ھا‪ ،‬فواحش کی اتباع کرتا ت ھا اور نش ے می ں‬
‫غرق ہون ے کی وج ہ س ے وقت پر نماز ن ہ پ ڑھتا ت ھا ۔ اسی وج ہ س ے ا ہل‬
‫مدین ہ ن ے اس کی بیعت س ے انکار پر اتفاق کر لیا اور منبر نبوی ک ے‬
‫قریب اس کی بیعت تو ڑ دی ۔‬
‫]البدای ہ و الن ہای ہ از امام ابن کثیر[‬
‫اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز‪ ،‬یزید کو امیرالمومنین ک ہن ے س ے‬
‫سختی س ے منع کرت ےاور آپ ن ے ایک شخص کو اس بنا پر بیس کو ڑو ں‬
‫کی سزا دی کیونک ہ اس ن ے یزید کو امیرالمومنین ک ے لفظ س ے یاد کیا ۔‬
‫صواعق المحرق ہ از علم ہ ابن حجر مکی[‬

Sign up to vote on this title
UsefulNot useful