‫سیکولرازم اور هسلن هعاشرہ‬

‫شاہنواز فاروقی‬

‫مغرب میں سیکولرازم کی روایت خدا اور مذہب کے انکار کی روایت ہے اسی لیے‬ ‫مغرب کی لغات میں سیکولرازم کے معنی الدینیت بتائے گئے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا‬ ‫جائے تو سیکولرازم کا مسلم معاشروں میں کوئی تعلق ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ‬ ‫اسالم کی فکری روایت ایمان اور یقین کی روایت ہے„ مغرب کی طرح ”شک“ کی روایت‬ ‫نہیں ہے۔ مغرب کے بعض دانش وروں نے امام غزالی کی فکر میں شک کا عنصر تالش‬ ‫کیا ہے اور انہیں مغرب میں شک کی روایت کا پیش رو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔‬ ‫لیکن غزالی پر اس سے بڑا الزام کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غزالی‬ ‫نے اپنی خود نوشت المنقذ من الضالل میں صاف لکھا ہے کہ ان کی زندگی میں کوئی‬ ‫لمحہ نہیں آیا جب انہیں وجود باری تعالی پر یا اسالم کے دیگر عقائد پر کوئی شک گزرا‬ ‫ہو۔ البتہ ان کی زندگی میں ایک دور ایسا ضرور آیا تھا جب انہیں اپنے دور میں موجود‬ ‫اسالم کی مختلف تعبیرات کے حوالے سے تذبذب نے گھیر لیا تھا۔ لیکن اسالم کی بنیادی‬ ‫عقائد میں شک کا پیدا ہونا اور اسالم کے حوالے سے موجود تعبیرات کے معاملے میں‬ ‫تذبذب کا الحق ہونا دو مختلف باتیں ہیں‬ ‫۔بالشبہ اسالم کی فکری تاریخ میں بعض گروہ ایسے ہوتے ہیں جن کے کفر پر امت‬ ‫مسلمہ میں اجماع ہوگیا۔ مثال ا معتزلہ۔ لیکن معتزلہ کی روایت بھی شک اور مذہب کے‬ ‫انکار کی روایت نہیں ہے۔ معتزلہ خدا اور مذہب کے قائل تھے البتہ ان کے بعض عقائد‬ ‫ایسے تھے جو خالف اسالم تھے„ چنانچہ ان عقائد کی بنیاد پر انہیں دائرہ اسالم سے باہر‬ ‫کردیا گیا۔ اسی طرح مسلمانوں میں منکرین حدیث کا بھی ایک عنصر پایا جاتا ہے لیکن‬ ‫انکار حدیث اسالم کا کلی انکار نہیں جزوی انکار ہے اور اس کا مغرب میں موجود کلی‬ ‫انکار کی روایت سے کوئی تعلق نہیں۔‬ ‫مغرب میں سیکولرازم کا ایک پہلو یہ ہے کہ مذہب اور ریاست کو الگ کرکے مذہب کو‬ ‫ریاستی امور سے بے دخل کردیا گیا اور کہا گیا کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‬ ‫ریاست مذہبی معامالت میں غیر جانب دار ہوتی ہے اور یہ کہ مذہب افراد کا ” نجی‬ ‫معاملہ“ ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مغرب میں سیکولرازم صرف فکری تجربہ‬ ‫ہی نہیں ”تاریخی تجربہ“ بھی ہے۔ لیکن مسلمانوں کی تاریخ میں سیکولرازم کبھی تاریخی‬

‫تجربہ نہیں رہا۔ مسلمانوں کی تاریخ میں ملوکیت ہے„ بادشاہت ہے مگر سیکولرازم نہیں‬ ‫ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں مذہب کبھی سیاست سے الگ نہیں رہا اور نہ ہی اسے کبھی‬ ‫فرد کا نجی معاملہ قرار دیا گیا۔ مغل بادشاہ اکبر نے دین الہی ایجاد کیا اور یہ تجربہ اسالم‬ ‫کی ضد تھا لیکن اس میں مذہب کے انکار کی وہ صورت نہیں تھی جو صورت مغرب‬ ‫میں پائی جاتی ہے پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اکبر نے اپنے آخری زمانے‬ ‫میں دین الہی سے رجوع کرلیا تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سیکولرازم مسلمانوں‬ ‫کی فکری تاریخ اور مسلمانوں کے تاریخی تجربے میں ایک اجنبی عنصر کی حیثیت‬ ‫رکھتا ہے لیکن یہ سیکولرازم اور مسلم معاشروں کے تعلق سے گفتگو کا محض ایک‬ ‫زاویہ ہے۔‬ ‫گفتگو کا دوسرا زاویہ یہ ہے کہ سیکولرازم خدا اور مذہب کا انکار کیے بغیر ہماری‬ ‫انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تباہی مچا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سیکولرازم کی‬ ‫اس صورت کا ”تشخص“ کیا ہی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسالم کا ایک تصور‬ ‫آخرت ہے اور ایک تصور دنیا۔ اس تصور کے دائرے میں ”دین داری“ یہ ہے کہ آخرت‬ ‫کو دنیا پر کامل غلبہ حاصل رہے اور انسان کی زندگی آخرت کی محبت کی عالمت ہو۔‬ ‫اس تصور کے دائرے میں دین داری کی ضد یہ ہے کہ انسان دنیا کی محبت میں مبتال‬ ‫ہوجائے اور دنیا آخرت پہ غالب آجائے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ دنیا ہماری‬ ‫آرزوﺅں اور تمناﺅں میں آخرت پر غالب ہو۔ اس کی ایک شکل یہ ہے کہ دنیا ہمارے‬ ‫خیاالت میں آخرت پر غالب ہو۔ اس معاملے کا ایک رخ یہ ہے کہ دنیا ہمارے منصوبوں‬ ‫میں آخرت پر غالب آجائے اور اس مسئلے کا ایک زاویہ یہ ہے کہ ہماری زندگی آخرت‬ ‫پر دنیا کے غلبے کا مظہر بن جائے۔ غور کیا جائے تو سیکولرازم کی یہی وہ صورت‬ ‫ہے جو خدا اور مذہب کا انکار کیے بغیر ہماری زندگی میں نہ صرف یہ کہ سرایت‬ ‫کرچکی ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔‬ ‫اس صورت حال کا ایک استعارہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی زر پرستی ہے۔ اسالمی‬ ‫معاشرے میں فضیلتیں صرف دو ہیں تقوی کی فضیلت اور علم کی فضیلت۔ لیکن مسلم‬ ‫معاشروں میں ان فضیلتوں کا فضیلت ہونا نہ ظاہر ہے نہ ثابت ہے۔ تقوی کا دوسرا نام‬ ‫شرافت ہے اور شریف آدمی کو ہمارے معاشرے میں بے وقوف آدمی سمجھا جاتا ہے۔‬ ‫جہاں تک علم کا تعلق ہے تو مسلم معاشرے تقریبا ا علم سے بے نیاز کھڑے ہیں اور مسلم‬ ‫معاشروں کے بازار میں علم ایک ایسی شے ہے جس کا کوئی خریدار نہیں۔ مسلم‬ ‫معاشروں میں اگر کسی چیز کی اہمیت ہے تو وہ دولت ہے لیکن دولت کا معاملہ یہ ہے‬

‫کہ دولت صرف دولت نہیں ہے بلکہ وہ پوری زندگی بن گئی ہے۔ شرافت اور نجابت ہے‬ ‫تو اس کے پاس جس کے ہاتھ میں دولت ہے۔ صاحب علم اور ذہین ہے تر وہی شخص‬ ‫جس کے پاس زر کے انبار ہیں۔ طاقتور ہے تو وہی انسان جس کا بینک بیلنس صحت مند‬ ‫ہے۔ ایک وقت تھا کہ لڑکیوں کے رشتے کرتے ہوئے شرافت اور نجابت کو بنیادی اہمیت‬ ‫حاصل ہوتی تھی اور ایک وقت یہ ہے کہ شرافت اور نجابت کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔‬ ‫پوچھتا ہے تو صرف ایک چیز کو دولت کو„ نوکری کو„ تنخواہ کو„ لڑکے میں دس عیب‬ ‫ہوں تو کوئی بات نہیں مگر اس میں دولت کی قلت کا عیب نہیں ہونا چاہیے۔‬ ‫ہماری دنیا پرستی کی ایک بڑی عالمت ہمارا نظام تعلیم ہے۔ اسالمی تاریخ میں علم کے‬ ‫دو عظیم مقاصد رہے ہیں۔ ایک یہ کہ علم معرفت الہی میں مدد دے دوسرے یہ کہ علم کی‬ ‫بنیاد پر تخلیق و ایجاد کی روایت آگے بڑھے اور علم„ علم کے فروغ میں اپنا کردار ادا‬ ‫کرے لیکن ہم نے علم کو ان دو عظیم مقاصد سے کاٹ کر اس کو صرف ایک مقصد سے‬ ‫وابستہ کرلیا ہے اور یہ مقصد ہے اچھی مالزمت کا حصول۔ چنانچہ والدین اپنے بچوں کو‬ ‫حکم دیتے ہیں کہ وہ ٹھیک طرح سے پڑھیں تاکہ انہیں اچھے سے اچھا روزگار حاصل‬ ‫ہوسکے۔ عزیز رشتے دار بچے کو اسی ہدف پر توجہ مرکوز کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔‬ ‫اساتذہ کا مشن بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو بہتر سے بہتر امتحانی نتائج پیدا‬ ‫کرنے میں مدد دیں تاکہ انہیں اچھی سے اچھی مالزمت مل سکے۔ اس اعتبار سے دیکھا‬ ‫جائے تو پورا معاشرہ نئی نسلوں کو گمراہ اور تباہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور مزے کی‬ ‫بات ہے کہ اس پر فخر کرتا ہے۔ تعلیم کا یہ ماڈل سرسید کی دین ہے اور سرسید کے‬ ‫زمانے ہی سے یہ ماڈل عوام میں بے انتہا مقبول ہے۔ اس کی مقبولیت دیکھتے ہوئے‬ ‫اکبرالہ آبادی نے کہا تھا:‬ ‫سید اٹھے جو گزٹ لے کر تو الکھوں الئی‬ ‫شیخ قرآن دکھاتے پھرے پیسہ نہ مال‬ ‫اس شعر میں سرسید کا گزٹ ”نئے علم“ کی عالمت ہے اور قرآن ”قدیم علم“ کی۔ لوگ‬ ‫کہتے ہیں کہ اب قرآن دکھانے سے بھی پیسے مل جاتے ہیں اور وہ غلط نہیں کہتے مگر‬ ‫بدقسمتی سے ہم قرآن بھی دنیا کے لیے ہی پڑھ اور پڑھا رہے ہیں۔‬ ‫ہماری دنیا پرستی کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہماری صالحیت„ توانائی اور وقت کا بہترین اور‬ ‫بیشتر حصہ معاشی سرگرمی کے لیے وقف ہوگیا ہے۔ مذہبی زندگی کے لیے نہ ہماری‬ ‫بہترین صالحیتیں استعمال ہورہی ہیں نہ بہترین توانائیاں نہ بہترین وقت۔ اس سلسلے میں‬

‫مری بھیڑ ہللا کے نام کی کے اصول پر عمل ہورہاہے یعنی ہماری صالحیت „ توانائی اور‬ ‫وقت سے جو حصہ ”بچ“ جاتا ہے اسے ہم مذہبی زندگی„ مذہبی کاموں اور مذہبی‬ ‫سرگرمیوں کے لیے بروئے کار التے ہیں حاالنکہ ہللا تعالی کو یہ پسند نہیں کہ اس کے‬ ‫لیے ”بچی کھچی چیزیں“ استعمال کی جائیں۔ لیکن یہ بات نہ ہمارے انفرادی اور اجتماعی‬ ‫شعور میں کہیں موجود ہے نہ ہمیں اس پر کسی قسم کی شرمندگی الحق ہوتی ہے۔ اس‬ ‫سے ثابت ہوتا ہے کہ مذہب ہماری زندگی کا متن نہیں صرف حاشیہ ہے۔‬ ‫ہماری زندگی کا متن دنیا اور اس کی محبت ہے۔ یہ سرتاپا ایک سیکولر طرز فکر اور‬ ‫طرز حیات ہے لیکن ہم اس کے اعتراف اور ادراک دونوں سے گریزاں ہیں۔‬

Sign up to vote on this title
UsefulNot useful