‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ڈاکٹر طاہر القادری کی کتاب‬

‫میلد النبی ﷺ کا تحقیقی‬
‫جائز ہ‬
‫ل یقین تضادات اور علمی خیانتوں کی‬
‫)ناقاب ِ‬
‫حیرت انگیز تفصیل(‬
‫ولف‬
‫م ٔ‬

‫عبدالوکیل ناصر‬
‫ناشر‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ادار ہ فروِغ قران و‬
‫سنت‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬
‫فہرست مضامین‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫تقریظ‬
‫از قلم ‪:‬استاذی المکرم الشیخ خلیل الرحمن لکھوی‬
‫الحمدلله رب العالمين والصلة والسلم علی نبينصصا محمصصد والصصه واصصصحابه‬
‫اجمعين۔‬
‫ت‬
‫اما بعد! فاعوذبالله من الشيطان الرجيم ‪ ،‬قال الله تعال ٰی ! ا َل ْي َوْ َ‬
‫مل ْص ُ‬
‫م ا َک ْ َ‬
‫م ۔۔ ‘‘ )البقرة(‬
‫م د ِي ْن َک ُ ْ‬
‫ل َک ُ ْ‬
‫ومنین اگصصر‬
‫ایک یہودی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ س صے ک ہا! اے امیصصر الم ص ٔ‬
‫ہمارے یہاں سورة مائدہ کی یہ ایت نازل ہوتی کہ ’’اج میں ن صے تم ہارے لی صے‬
‫تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنصصی نعمصصت کصصو پصصورا کصصر دیصصا‪ ،‬اور‬
‫تمہارے لیے اسلم کو بطور دین کے پسند کر لیا۔‘‘تو ہم اس دن کو عید کا‬
‫دن بنا لیتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں جانتا ہوں ک صہ ی صہ ایصصت‬
‫کس دن نازل ہوئی تھی‪ ،‬عرفہ کے دن نصصازل ہوئی اور جمع صہ کصصا دن ت ھا۔‬
‫)حدیث ‪(۷۲۶۸:‬‬
‫حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ اسلم میصصں )اپن صے طصصور پصصر(‬
‫دنوں کے منانے کا کوئی تصور نہیں۔ دوسری حدیث کصصا مف ہوم ہے اسصصلم‬
‫میں صرف دو ہی عیدیں ہیں۔ عیدالض ٰحی اور عید الفطر۔‬
‫صحیحین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ’’مصصن احصصدث فصصی‬
‫امرنا هذاا ما ليس منه فهورد‘‘ کہیں فرمایا ’’ان الله حجب التوبة عن کل‬
‫صاحب بدعة حتی يدع بدعته‘‘ )طبرانی عن انس(‬
‫معلوم ہوا کہ بدعت ایک انتہائی مذموم عمل ہے۔ جب تک انسان اس س صے‬
‫توبہ نہ کرے ‪ ،‬دوسرے گناہوں سے متعلق بھی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ صصصاحب‬
‫بدعت کو توبہ کی توفیق کم ہی ملتی ہے ‪ ،‬کیصصونکہ بصصدعتی وہ عمصصل نیکصصی‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫سمجھ کر کصصر ر ہا ہوتصصا ہے اور شصصیطان اس کصے اعمصصال اس کصے سصصامنے‬
‫خوشنما بنا کر پیش کر رہا ہوتا ہے۔‬
‫سید المرسلین محمد ﷺ نے یہ بات پہلے ہی فرما دی تھی کہ اخصصری زمصصانے‬
‫میں ایسا گروہ وجود میں ائے گا جن کی رگ رگ میں بدعت سصصرایت کصصر‬
‫جائے گی۔ سنن ابی داود میں حضرت معصاویہ رضصی اللصہ عنصہ سصے مصروی‬
‫ہے ‪:‬‬
‫’’ال ان من کان قبلکم من ا ھل الکتاب افصصترقوا۔۔۔۔ وانصصه سصصيخرج فصصی‬
‫امتی اقوام تتجاری بهم ال ھواء کما يتجاری الکلب بصاحبه ول يبقصصی منصصه‬
‫عرق ول مفصل الدخله‘‘‬
‫اپ ﷺ کی یہ پیش گوئی عصر حاضر پر من و عن صادق ا ر ہی ہے ۔ دنیصصا‬
‫میں بے شمار گروہ پیدا ہو چکے ہیں ۔ خاص کصصر برصصصغیر پصصاک و ہنصصد میصصں‬
‫طرح طرح کے بدعی عقائد و اعمال پھیلئے جا رہے ہیصصں۔ اسصصی گصصروہ کصے‬
‫)موجودہ( سرخیل ڈاکٹر طاہر قادری صاحب نصے میلد مروجصہ موضصوع پصر‬
‫ایک ضخیم کتصصاب لک ھی ہے۔ جصصس کصصی بنیصصادیں کمصصزور دلئل اور باطصصل‬
‫تاویلت پر قائم ہیصں۔ موجصودہ دور میصں بصدعت کصے سصیلب کصے اگصے بنصد‬
‫باندھنے کی اشد ضرورت ہے۔ جو شیعت اور بریلصصویت ک صے روپ میصصں دن‬
‫بدن زور پکڑتا جا رہا ہے۔‬
‫ش نظر ‪ ،‬عزیز القصدر فاضصل محقصق میصرے تلمیصذ رشصید‬
‫اس جذبے کے پی ِ‬
‫مولنا عبدالوکیل ناصر صاحب جن ہوں نصے علمصصی تحقیصصق اور جسصصتجو کصصا‬
‫خوب ذوق پایا ہے ‪ ،‬انہوں نے قادری صاحب کی کتاب کا مدلل جواب تیصصار‬
‫کیا ہے۔ جو وقت کی اشد ضرورت تھی۔ مجھے امید ہے کہ اللہ رب العصصزت‬
‫ولف کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرماتے ہوئے بصصدعت و ضصصللت‬
‫م ٔ‬
‫میں ڈوبے ہوئے حضرات کے لیے ذریعہ ہدایت بنائیں گے۔ ان شاء اللصصہ واخصصر‬
‫دعوانا ان الحمدلله رب العالمين‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬
‫کتبہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫خلیل الرحمن لکھوی‬

‫رئیس معھد القران الکریم‬

‫تقریظ‬
‫از قلم ‪:‬استاذی المکرم الحافظ عبدالحنان سامرودی‬
‫فاضل نوجوان برادر عزیز مولنا عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ نے اس رسالہ‬
‫میں مروجہ میلد پر طاہر القادری کا خوب تعاقب کیا اور مدلل و مفصصصل‬
‫جواب دیا ہے۔ اللہ تعال ٰی ان کی کاوشیں قبول فرمائے اور طاہر القادری و‬
‫دیگر جشن و جلوس میلد کے شائقین کو اتباع سنت نبوی ﷺ کصصی توفیصصق‬
‫دے۔ امین‬
‫اللہ تعال ٰی نے امت مسصصلمہ پصصر ج ہاں اپ ﷺ کصصی بعثصصت ک صے ذریع صہ احسصصان‬
‫م ‘‘ نصازل فرمصصا کصصر ایصصک اور بصصڑا‬
‫فرمایا وہیصصں ’’ا َل ْي َصوْ َ‬
‫م د ِي ْن َک ُص ْ‬
‫ت ل َک ُص ْ‬
‫مل ْص ُ‬
‫م ا َک ْ َ‬
‫احسان فرمایا۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ خصصاتم النبیصصاء‬
‫والرسل ہیں۔ اپ کی حیات مبارکہ ہی میں اللہ تعال ٰی نے اپ کی بعثت کے‬
‫مقصد کو پورا کیا۔ اور تکمیل دین کی بشارت دی۔ اپ کے بعصصد ن صہ کصصوئی‬
‫رسولﷺ نبی ائے گا نہ اب کوئی اور دین کو پایہ تکمیل تک پہنچانے وال پیدا‬
‫ہوگا۔‬
‫بعض علماء کی صفوں میں موجود ایسے ڈاکٹر پروفیسر اور علمہ جیسے‬
‫جو دین مصطف ٰی ﷺ کو بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں ان‬
‫القابات رکھنے والے ہیں‬
‫کصصی تحریصصر و تقریصصر سصے اسصصلم کصصی مخصصالفت اور احکامصصات شصصریعہ کصصا‬
‫استہزاء ان کے مقاصد و عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ کسی اور کصصے‬
‫لیے کام کر رہے ہیں‪ ،‬ورنہ ایک عالم جو اللہ سے سب س صے زیصصادہ ڈرن صے وال‬
‫ہوتا ہے وہ قران و حدیث میں تحریف‪ ،‬بے جا تاویل اور کذب و افتراء سصصے‬
‫باطل کو ثابت کرنے کی کوشش کر ہی نہیں سکتا۔‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ڈاکٹر موصوف نے تصو تضصصاد بیصصانی اور ملمصصع سصصازی سصے کصصام لیتصے ہ ہوئے‬
‫متبعین سنت اور بدعات کے مخالفین سے ایسی بے سصصروپاباتیں منسصصوب‬
‫کر دیں اور اپنا ہمنوا ثابت کرنا چاہا کہ ’’سبحانک هذا بهتان عظيم!‘‘‬
‫اگر موصوف اپنی تحریر پر سنجیدگی سے غصصور کریصصں تصصو ممکصصن ہے ک صہ‬
‫ب‬
‫انہیں احساس ندامت ہو جائے یا ایسے رسومات کو دین و ایمان اور حصص ِ‬
‫رسول سمجھنے وال کوئی انصاف پسند ایسی خرافات سے تائب ہو جائے‬
‫کہ اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے۔‬
‫اللهم ارنا الحق وارزقنا اتبنناعه وارنننا الباطننل بنناطل وارزقنننا‬
‫اجتنابه وصلی الله علی نبينا محمد وآله وصحبه اجمعين‬
‫کتبہ ‪ /‬ابو حمید عبدالحنان سامرودی‬
‫‪ ۲۱،۲،۱۴۳۲‬ھجری‬

‫پیش لفظ‬
‫عیدالفطر اور عید الضحی کی شرعی حیثیت ثابت کرنے ک صے لی صے کصصوئی‬
‫کتاب کیوں نہ لکھی گئی ؟ اس سوال کا اسان جصصواب ی صہ ہے ک صہ اہلسصصنت‬
‫مکاتب فکر کے درمیان ان کی شصرعی حیصصثیت اس قصدر مسصصلمہ ت ھی کصہ‬
‫ضرورت ہی نہ سمجھی گئی ۔ اج ایک فرقہ عید میلد النبی ﷺ کے نام س صے‬
‫ایک تیسری عید کو دیصصن اسصصلم میصصں شصصامل کرنصے کصے لیصے کوشصصاں ہہہے‬
‫دراصل اس فرقے نے اپنی اس خود ساختہ عید کو اپنی گروہی شناخت بنا‬
‫لیا ہے اور گروہی شناخت کا مسئلہ فرقوں ک صے لی صے زنصصدگی اور مصصوت کصصا‬
‫مسئلہ بن جاتا ہے ۔ پیدائش اور موت کے سالنہ ایام منانا یہود و نصار ٰی کا‬
‫کلچر ہے۔ جو بذریعہ اہل تشیع مسلمانوں میصصں داخصصل کرنصے کصصی کوشصصش‬
‫کی جاتی رہی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی میں اور اپ ﷺ کصے بعصد صصصحابہ‬
‫کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں کسصصی کصصی مصصوت یصصا پیصصدائش کصصی‬
‫بنیاد پر کوئی سالنہ دن منصانے کصا اہتمصام کرنصصا کصصوئی مصائی کصا لل ثصابت‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫نہیں کر سکتا‪ ،‬جبکہ یہی مقدس ادوار انے والے مسصصلمانوں ک صے لی صے مثصصال‬
‫ہیں۔ عید الفطر یا عید الضحی کی نسبت بھی کسی کی پیدائش یا موت‬
‫سے نہیں۔‬
‫ایام منانا ان کی مجبوری ہوتی ہے جو کہ پورے سال اپنی ان شخصیات کو‬
‫فراموش کیے رہتے ہوں جن سے محبصصت کصے دعویصصدار ہیصصں حصصالنکہ سصصچی‬
‫محبت کرنے والے تو محبوب کی یاد سے کبھی غافل ہوتے ہی نہیصں۔ ایصک‬
‫مسلمان کے لیے نبی کریم ﷺ کی زندگی اس کی زنصصدگی کصصا قیمصصتی اثصصاثہ‬
‫ہوتی ہے۔ مسلمان جانتا ہے کہ ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سصصکتا کصہ‬
‫جب تک نبی رحمت ﷺ کی محبت دنیا کی تمام محبتوں پر غالب نہ اجصصائے‬
‫اور شخصیت کی محبت دنیا کی تمام محبتوں پر غصصالب ہو تصصو ی صہ کیس صے‬
‫ممکن ہے کہ وہ اس شخصیت کصو یصاد کرنصے کصے لیصے کسصی دن منصانے کصا‬
‫محتاج ہو۔ نبی رحمت ﷺ کے چاہنے والوں کے لیے ہر دن اور دن کا ہر لمحہ‬
‫اپ ﷺ سے محبت کے اظہار کے لیے ہے اور وہ اپنی محبت کصصا اظ ہار پیصصارے‬
‫نبی ﷺ کے لئے ہوئے دین کو اختیار کر کے کرت صے ہیصصں۔ وہ خوشصصی و غمصصی‪،‬‬
‫مصیبت و معاشرت‪ ،‬کاروبار و ملزمت بلکہ زندگی کے تمصصام انفصصرادی اور‬
‫اجتماعی معاملت اپنے محبوب نبی ﷺ کی سیرت کے مطابق انجصصام دیت صے‬
‫ہیں اور اس طرح ہہوہہہ نبی ﷺ کے سچے محب ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ کیونکہ‬
‫خود نبی کریم ﷺ نے بھی عمصل سصے محبصت کصا اظ ہار کرنصے کصی ترغیصب‬
‫دلئی تھی فرمایا تھا‪’’ :‬من احب سنتی فقد احبنی‘‘‬
‫ترجمہ‪) :‬جس نے میرے طریقے سے محبت کصصی اس نصے مجصھ سصے محبصصت‬
‫کی(‬
‫جب اپنا فرقہ یا گروہ اور اس کی شناخت ہر چیز سے محبوب بن جائے تو‬
‫پھر محبت رسولﷺاور عشق رسولﷺ کے دعصصوے سیاسصصت کصے ایشصصو بصصن‬
‫جاتے ہیں۔ جبکہ عمل ً رسول اللہ ﷺ کی نصصا فرمصصانی وطیصصرہ بنصصی ر ہتی ہے۔‬
‫دلئل اور سچائی گروہی تعصبات کی گرد میں چھپ جصاتے ہیصصں اور فرقصہ‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫پرست مذہبی قیادت اپنصصی لیصڈری اور سیاسصصت چمکصصانے کصے لیصے گرو ہی‬
‫تفردات کو دین کی بنیادی تعلیمات بنا کصصر پیصصش کرتصصی ہے۔ ڈاکصصٹر طصصاہر‬
‫القادری کی ‪850‬صفحات پر مشصتمل کتصاب ’’میلد النصبی ﷺ ‘‘ کصو اسصی‬
‫تناظر میں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے‬
‫لیے ہزاروں دلئل اور ہزاروں صصصفحات کصصی ہزاروں کتصصابیں ب ھی ناکصصافی‬
‫ں بلکہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے لک ھا جصصانے وال ہر صصصفحہ‬
‫رہتی ہی َ‬
‫اور دی جانے والی ہر دلیل جھوٹ کو مزید ج ھوٹ ثصصابت کرن صے کصصا سصصبب‬
‫ہوتی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی مذکورہ کتاب کا علمی پوسٹ مارٹم کر‬
‫کصے میصصرے دوسصت اور ب ھائی مولنصا عبصصدالوکیل ناصصر صصصاحب نصے جصصس‬
‫طرح تضادات اور علمی بددیانتیوں کو اجاگر کیا ہے اس ک صے بعصصد ک ہا جصصا‬
‫سکتا ہے کہ طاہر القادری کصصی کتصصاب ’’ مروج صہ عیصصد میل دالنصصبی ﷺ ‘‘ ک صے‬
‫بدعت ہونے پر دلیل ہے۔ فرقوں کی محبت اچھے خاصے صاحب علم ادمی‬
‫کو علمی دنیا میں کس طرح رسوا کراتصصی ہے ڈاکصصٹر طصصاہر القصصادری اس‬
‫کی مثال بن گئے ہیں۔ مولنا عبدالوکیل ناصر صاحب نے مذکورہ کتصصاب کصصا‬
‫تعاقب ہفت روزہ حدیبیہ کے صفحات میں شصصروع کیصصا ت ھا ‪ ،‬حسصصب عصصادت‬
‫انہوں نے اس تعاقب کو علمی اعتبار سے جاندار بنانے کے لیے بڑی محنصصت‬
‫کی۔ حدیبیہ کے قارئین نے اس سلسلے کو بصصڑی پصذیرائی بخشصصی اور اکصصثر‬
‫قارئین نے اسے کتابی صصصورت میصصں شصصائع کرنصے کصے مشصصورے ب ھی دیصے۔‬
‫مجھے امید ہے کہ مولنا عبدالوکیل ناصر صاحب کی ی صہ کصصاوش علمصصاء اور‬
‫عوام دونوں طبقصوں میصں مفیصد سصمجھی جصائے گصی۔ اور دعصوتی سصعی‬
‫میں ہر ایک کے لیے اعتماد کا باعث ہوگی۔‬
‫سید عامر نجیب‬
‫ایڈیٹر ہفت روزہ حدیبیہ کراچی‬

‫ولف‬
‫عرض م ٔ‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫بسم الله والصلة والسلم علی رسول الله وعل ٰی آله وصننحبه‬
‫اجمعين‬
‫مروجہ جشن میلد و عیصصد میلد النصصبی ﷺ کصے سلسصصلے میصصں سصصوالت کصصی‬
‫کثرت اور مبتصصدعین کصصی طصصرف سصے اس مسصصئلہ کصے منکریصصن پصصر فتصصاوے‬
‫دیکھ ‪/‬سن کر بڑی تمنا تھی کہ اس موضصوع پصصر تفصصیلی مطصالعہ کصر کصے‬
‫کوئی باضابطہ تحریر قلم بند کی جائے۔‬
‫پھر بفضل اللہ تعال ٰی یہ موقعہ مجھے مل گیا اور میں نے بتوفیق اللصہ کصصوئی‬
‫تین ہزار صفات کے لگ بھگ ورق گردانی کصی جصس میصں مختلصف علمصاء‬
‫کرام کے مضامین شامل تھے جو کہ مختلف مکتبہ فکصصر س صے تعلصصق رکھت صے‬
‫ہیں۔ کچھ کتابیں مروجہ جشن و میلد کے اثبات میں تھیں اور کچھ اس کے‬
‫انکار میں ۔‬
‫اس موضوع پر قدرے ضخیم کتاب جناب طاہر القادری صصصاحب کصصی ت ھی‬
‫جو کہ اثبات میں لکھی گئی تھی اور بظاہر بڑی مصصدلل ت ھی۔ مگصصر چصصونکہ‬
‫قادری صاحب کے بارے میصں راقصم کصو ’’متنصازعہ تریصن شخصصیت‘‘ طصاہر‬
‫القادری کصصی علمصصی خیصصانتیں ‘‘ ’’ خطصصرے کصصی گھنصصٹی‘‘اور مولنصصا یح ٰیص ی‬
‫گوندلوی رحمہ اللہ کے بہت سے ’’ تعاقبات قادری‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہو چکصصا‬
‫تھا اور علم تھا کہ ’’موصوف‘‘ اس درجہ ’’خائن‘‘ ہیں کہ کوئی مکتبصہ فکصصر‬
‫انہیں فخریہ طور پر ’’اپنا‘‘ کہنے کو تیار نہیں۔ اگرچہ جناب کصصا دعصصو ٰی فکصصر‬
‫بریلی سے منسلک ہونے کا ہے۔‬
‫بہر کیف اس تناظر میں جناب کصصی کتصصاب ’’میلد النصصبی ﷺ کصصو ذرا غصصور و‬
‫خوض سے پڑھا اور ایک نسخے پر حواشی وغیرہ لکھے ‪ ،‬مگصصر قصصدراللہ مصصا‬
‫شاء فعل وہ نسخہ کوئی اور صاحب دبا بیٹھے اور پھر مجھے ایک اور نسخہ‬
‫لے کر اس کی از سر نو قراءت کرنی پڑی اور میصصں ی صہ دیک صھ کصصر حیصصران‬
‫ہوگیا کہ اس جدید نسخے میں کافی صفحات پہلصے نسصصخہ کصصی نسصصبت کصصم‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ہیں اور مواد بھی ’’بعض جگہ سے‘‘ ہٹادیا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ سصصوال‬
‫تو شاید جناب ہی حل کر سکیں۔‬
‫بہرحال اس موضوع پر میسر تمام کتب سے جناب کی تصصصنیف کصصا تقابصصل‬
‫کرتا رہا۔ ان کے ذکر کردہ حوالہ جات کصصو ب ھی اصصصل مراجعصصات و مصصصادر‬
‫سے چیک کرتا رہا اور بالخر اللصہ کصصی مصصدد کصے سصصاتھ حاصصصل مطصصالعہ کصصو‬
‫تحریر میں ضبط کرنا شروع کیا۔ اس طرح کہ تجزیہ و تبصرہ بھی ہوتا رہے‬
‫اور علمی اغلط و خیانتوں کی نشاندہی بھی اور ’’گھر کے بھیدیوں‘‘ کی‬
‫باہمی رسہ کشی بھی نظر اتی رہے۔‬
‫)میں اس میں کس قدر کامیاب ہوا یہ فیصلہ تو قارئین ہی کر سصصکیں گ صے‬
‫جصصو انصصصاف پصصر قصصائم ہیصصں۔ ( پ ھر اس تحریصصر کصصو بالقسصصاط ہفصصت روزہ‬
‫’’حدیبیہ‘‘ کراچصصی میصصں بھیجتصصا ر ہا اور تقریبصا ً دس )‪ (۱۰‬اقسصصاط میصصں یصہ‬
‫موضوع مکمل ہوا۔ یہ موضوع قلمی نام سے تحریر کیا گیا تھا۔ پھر اساتذہ‬
‫کرام ‪ ،‬طلبہ دین اور احباب جماعت کی حوصلہ افصصزائی و اصصصرار پصصر اس‬
‫مواد کو کتابی شکل میں بتعاون احباب جمع کیصصا۔ جصصو پیصصش خصصدمت ہے۔‬
‫اگر میں حق بات کہہ گیا تو یہ محض اللہ کی توفیصصق و عنصصایت ہے اور اگصصر‬
‫غلط کہہ گیا تو یہ میری غلطی ہوگی۔ جس کی نشاندہی اگصصر کصصر دی گئی‬
‫تو ان شاء اللہ تصحیح کی طرف توجہ دوں گا۔‬
‫ہر دلعزیز ‪ ،‬خواص عوام میں مقبول شخصیت شیخ الحدیث محمود احمد‬
‫حسن صاحب حفظہ اللصہ ن صے ہمیش صہ ہی مشصصفق والصصد کصصی طصصرح حوصصصلہ‬
‫افزائی فرمائی ہے اور اس تحریر پر تو شیخ صاحب نے )بصصاوجود طصصبیعت‬
‫کی ناسازی کے( جو مقدمہ درج فرمایا ہے وہ شصصیخ کصصی مخصصصوص علمصصی‬
‫خطابت کا شاہکار ہے۔ فجصصزا ہ اللصصه احسصصن الجصصزاء وعافصصا ہ وتقبصصل جهصصود ہ‬
‫الدينيه۔ امين‬
‫استاذی المکصصرم شصصیخ خلیصصل الرحمصصن لک ھوی صصصاحب حفظصہ اللصہ تعصصال ٰی‬
‫ورعاہ ‪ ،‬میرے مربی و شیخ الحدیث ہیں۔ ان کی مصروفیت دینیہ اظہر من‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫الشمس ہیں اور فی الوقت شیخ کچھ بیمار بھی ہیں مگر اس کے بصصاوجود‬
‫شیخ نے مسودہ پر نظر عنصصایت فرمصصا کصصر تقریصصظ ثبصصت فرمصصائی اور میصصرا‬
‫حوصلہ بڑھایا ہے۔ اللہ تعال ٰی انہیں صحت کاملہ و عصصاجلہ عطصصا فرمصصائے ۔ ان‬
‫کی عمر میں عافیت کے سصصاتھ برکصصت عطصصا فرمصصائے ۔ ان کصصی سصصعی کصصو‬
‫میزان حسنات کا ذخیرہ بنائے۔‬
‫کتاب ہذا پر تقریظ لکھنے پصصر اسصصتاذ محصصترم شصصیخ عبصصدالحنان سصصامرودی‬
‫صاحب حفظصہ اللصہ کصصا انت ہائی مشصصکور ہوں کصہ ان ہوں نصے بصصاوجود عصصدیم‬
‫الفرصصصتی ک صے نصصاچیز کصصی تحریصصر کصصو لئق التفصصات سصصمجھا اور شصصفقت‬
‫فرمائی۔ جزا ہ الله خير الجزاء فی الدنيا والخرة۔‬
‫پیش لفظ لکھنے پر برادر محترم سید عامر نجیب حفظہ اللہ )ای صڈیٹر ہفصصت‬
‫روزہ حدیبیہ( کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے کتاب کی رونق کصصو دو‬
‫چند کیا اور ان کے مشورے ہمیشہ ہی میرے لیے کار امد رہے ہیں۔ جزا ہ الله‬
‫خير الجزاء‬
‫اخر میں اجمال ً تمام شیوخ ‪ ،‬احبصصاب جمصصاعت اور کتصصاب ہذا کصصی نشصصر و‬
‫اشاعت میں معاونین کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔‬
‫وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين ‪ ،‬وصلی الله علی نبينننا‬
‫محمد وعلی آله وصحبه اجمعين‬
‫راجی عفوربہ عبدالوکیل ناصر‬

‫ڈاکٹر طاہر القادری کی کتاب ’’میل د النبی ﷺ ‘‘ کا‬
‫تحقیقی جائزہ‬
‫ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب نے زیر نظر و زیر تبصرہ کتاب میں گیارہ ابواب‬
‫قائم کئے ہیں جبکہ باب اول میں دو فصلیں ہیں اور باب ہشتم میں اٹھ‬
‫فصلیں بنائی ہیں۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫باب اول کا عنوان ڈاکٹر صاحب تحریر کرتے ہیں ’جشن میلد النبی صصصلی‬
‫اللہ علیہ وسلم اور شعائر اسلم ‪ ،‬تاریخی تناظر میں ‘ اور پھر فصصصل اول‬
‫قائم کر کے لکھتے ہیں‪ :‬کسی واقعہ کی یاد منانا شعائر اسصصلم س صے ثصصابت‬
‫شدہ امر ہے۔‬
‫پھر اس کے تحت ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ک صہ ’نمصصاز‘ انبیصصاء علی ہم السصصلم‬
‫کی یادگارہے۔‬
‫فصل دوم کے تحت رقصصم طصصراز ہیصصں کصہ ’جملصہ مناسصصک حصصج انبیصصاء علی ہم‬
‫السلم کی یادگار ہیں‘ اور پھر بڑی تفصیل سے ارکان و مناسصصک حصصج کصصو‬
‫فردا ً فردًامختلصصف انبیصصاء علی ہم السصصلم کصصی یادگصصار ثصابت کیصصا ہے۔قصصادری‬
‫صاحب کا شعائر اسلم سے استدلل صحیح نہیں۔‬
‫گویاکہ اس طرح طاہر القادری صاحب ’مروجہ جشن و جلوس‘ کو شعائر‬
‫اسلم اور دین اسلم کا ثابت شدہ امر ‪ ،‬ثابت کرنا چاہتے ہیں‪:‬‬
‫اول ً ہم کہتے ہیں کہ جناب اگر یہ جشصصن و جلصصوس اور مروج صہ میلد شصصعائر‬
‫اسلمی اور ثابت شدہ امر ہیں تو پھر خیر القصصرون کصے لصصوگ اس ’علمصصی‬
‫نکتہ‘ سے کیوں بے بہرہ رہے؟‬
‫قادری صاحب خود فرماتے ہیصصں‪ :‬قصصرون اولص ٰی کصے مسصصلمانوں نصے جشصصن‬
‫میلد کیوں نہیں منایا؟‬
‫)صفحہ ‪ 450‬باب ہفتم(‬
‫اس عنوان کے تحت ’جناب‘ نے بڑی دور دراز کی تصاویلت و توجی ھات کصا‬
‫سہارا لیا ہے مگر خلصہ کلم یہ نکل کہ ’قرون اول ٰی کے مسلمانوں میں اہم‬
‫ملی اور مذہبی اہمیت کے دن بطصصور ت ہوار منصانے کصا کصوئی رواج نصہ ت ھا‘۔‬
‫)صفحہ ‪(498‬‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫گویا جناب کہنا چاہتے ہیں کہ اصحاب قرون اول ’اصحاب رسول صلی اللصصہ‬
‫علیہ وسلم‘ دین اسلم کے ’ثابت شدہ امر‘ کوجان ن صہ سصصکے۔ انصصا للصصه وانصصا‬
‫اليه راجعون ۔‬
‫ثانیًا‪ :‬کیا ارکان اسلم نماز و حج وغیرہ کو انبیاء علیھم السلم کی یادگصصار‬
‫مان کر ’مروجہ جشن و جلوس میلد‘ ثابت ہو جاتا ہے؟‬
‫اگر ہاں! تو جناب کصو اس پصر مزیصد لکھنصے کصی حصاجت کیصوں محسصوس‬
‫ہوئی؟‬

‫ایک مقلد کو استدلل کی اجازت ن ہیں‪:‬‬

‫ثالثًا‪ :‬جناب قادری صاحب ’حنفی المشرب‘ اور کٹر قسم ک صے مقلصصد ہیصصں‬
‫اور مقلد کیلئے اجتہاد و استنباط کا دروازہ بند ہے اور نہ ہی وہ اس کے ا ہل‬
‫ہوتے ہیں بلکہ ان پر لزم ہوتاہے کہ وہ اپنے ’امام‘ )جصصس ک صے وہ مقلصصد ہیصصں(‬
‫سے دلیل نقل کریں یا ’امام‘ کا قول پیش کریں۔‬
‫ذرا قادری صاحب یہی ’نکتہ قیمہ‘ )جو مذکورہ بال ہے( امام ابو حنیفہ رحمہ‬
‫اللہ سے ثابت کردیں؟‬
‫باب دوم کے تحت عنوان قائم کرتے ہیں ’واقعات مسرت و غم کصصی یصصاد ‘‬
‫اور اس عنوان کے تحت مختلف انبیاء علیہم السلم کے واقعات کی مثصصال‬
‫ذکر کرنے کے بعد سصطور اخیصصرہ میصں فرمصاتے ہیصں‪’ :‬اس پصوری بحصث کصا‬
‫خلصہ یہ ہے کہ گزشتہ واقعات کے حوالے سصے خوشصصی اور غمصصی کصا اظ ہار‬
‫کرنا اور ان کیفیات کصصو اپنصے اوپصصر طصصاری کصصر لینصصا سصصنت مصصصطفی ہے‘۔‬
‫)صفحہ ‪(143‬‬
‫ہم اس سلسلے میں اول ً یصہ سصصوال کرتصے ہیصصں کصہ جنصصاب کیصصا اس طصصرح ’‬
‫مروجہ میلد و جشن‘ بھی ’سنت مصطفیﷺ ‘ ثابت ہو جائے گا؟‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اختیار کرنصصے‬
‫سے تو ’مروجہ میلد‘ کی نفی ہوتی ہے کیونکہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نصصے‬
‫’مروجہ میلد‘ منایا ہی نہیں اور نہ ہی منانے کصصا حکصصم دیصصا ی ہی وج صہ ہے ک صہ‬
‫قرون مفضلہ اس سے خالی دکھائی دیتے ہیں اور اس طرح ’استنبا طات‘‬
‫کے ذریعے جناب کچھ ثابت کس طرح کرسکتے ہیں کہ موصصصوف تصصو مقلصصد‬
‫ہیں اور اس کے اہل ہو ہی نہیں سکتے۔‬
‫ولدت کے سلسلے میں سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے ک صہ اس‬
‫دن روزہ رکھا جائے۔‬
‫مگرقادری صاحب روزہ کیوں رکھیں کہ اس دن تصصو وہ اور انکصے ہم خیصصال‬
‫خصوصی طعام و شصصراب اور نصصذرانوں س صے ’بطصصن شصصریف‘ کصصو تسصصکین‬
‫پہنچاتے ہیں۔‬
‫ثانیًا‪ :‬کیا اتنی سی بات بھی ’موصوف‘ کی عقل میصں نہیصں اتصی کصہ ک ہاں‬
‫غم کی کیفیت طاری کرنا اور کہاں ’مروجہ جشن‘ میں شصصور و غوغصصا اور‬
‫اتش بازی کا مظاہرہ ‪،‬کیا یہ برابر ہے؟‬
‫اور یہ بھی کہ کیا جناب اور جناب کے ہم مکتبہ فکر کبھی ’غم رسول صلی‬
‫اللہ علیہ وسلم‘ اپنے اوپر طاری کر کے سنت صحابہ زندہ کرتے ہیصں۔ حاشصصا‬
‫وکل۔‬

‫بیان میل دس ے جلوس میلد پر غلط استدلل‪:‬‬
‫باب سوم میں عنوان قائم کرتے ہیصصں ک صہ’ قصصران ‪......‬تصصذکرہ میلد انبیصصاء ‘‬
‫اس کے ذیل میں ’تذکار انبیاء سنت الھیہ ہے‘ کی ہیڈنگ لگاتے ہیصصں اور پ ھر‬
‫اس میں جو اللہ تعالی نے انبیاء علیھم السلم کصے واقعصصات بیصصان کئے ہیصصں‬
‫ان کے کچھ واقعات نقل کرتے ہیں اور ’واذکر‘ کے لفظ سے استدلل کرتے‬
‫ہوئے اپنے ترجمتہ العنوان یا باب سے مطابقت دکھانے کصصی کوشصصش کرت صے‬
‫ہیں۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫پھر اگے چل کر ایک جگہ عنوان قائم کرتے ہیں ’میلد انبیاء علی ھم السصصلم‬
‫کی اہمیت‘ اور اس کے تحت ان ایات کو ذکر کرتے ہیں کہ جن میں انبیصصاء‬
‫علیھم السلم کی ولدت کے مراحل یا دیگر بیان سیرت وغیصصرہ ک صے سصصاتھ‬
‫انکی بعثت کا ذکر ہوا۔‬
‫گویااس طرح موصوف ’ مروجہ میلد و جشن اور جلوس‘ کو سصصنت الھیصہ‬
‫بیان کرتے ہوئے اسکی اہمیت بتلتے ہیں۔‬
‫اس پر ہم یہ کہتے ہیں کہ کیا اس طرح ’ مروجہ میلد‘ کو ثابت کیا جاسصصکتا‬
‫ہے؟ یقینًانہیں۔ہاں البتہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء علیھم السصصلم کصصی‬
‫ولدت کی خبر ‪ ،‬بعثت شریفہ اور اس کصصا مقصصصد نیصصز انکصصی سصصیرت طیبصہ‬
‫بیان کی جاسکتی ہے اور ظاہر ہے اس پر کسی کو کیا اعصصتراض ہو سصصکتا‬
‫ہے کہ یہی تو متاع ایمان ہے۔ اور پھر کمال تو یہ ہے کہ خصود قصصادری صصاحب‬
‫فرماتے ہیں کصہ جشصصن میلد النصصبی صصصلی اللصہ علیصہ وسصصلم میصصں فضصصائل ‪،‬‬
‫شمائل ‪ ،‬خصائل اور معجزات سید المرسصصلین کصصا تصصذکرہ اور اسصصوہ حسصصنہ‬
‫بیان ہوتاہے۔‬
‫گویا جناب میلد کے جشن کصصی حقیقصصت کصصو بیصصان کصصر ر ہے ہیصصں مگصصر کیصصا‬
‫جلوس و اتش بازی اور شور غوغابھی میلد مصطفی ﷺکے حصے ہیں؟‬
‫دوسری بات یہ ہے کہ جناب’جشن میلد مروجہ‘ کو سنت الھیہ بارور کصصر وا‬
‫رہے ہیں مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ ’سصصنت الھی صہ‘ کسصصی ب ھی صصصحابی و‬
‫تابعی کو نظر نہ ائی ۔ اخر کیوں؟‬
‫جناب نے مذکورہ عنوان میں ایت ’ لقصصد مصن اللصصه علصصی المصصومنين اذبعصصث‬
‫فيهم رسول ً‘ کو بھی ذکر کیا ہے۔‬
‫کیا جناب کی علمی حصصالت اس قصصدر سصصطحی ہے کصہ جنصصاب ’بعثصصت‘ کصصی‬
‫حقیقت سے بھی اشنا نہیں ہیں؟‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫بعثت کا تعلق نزول قران کے ساتھ ہے جو کصہ میلد )پیصصدائش نبصصویﷺ( ک صے‬
‫چالیس سال کے بعد نازل ہواتھا اور ولدت کا تو یہاں ذکر ہی نہیں۔‬
‫سیدنا یحی ٰی علیہ السلم اور سصصیدنا عیسص ٰی علیصہ السصصلم کصے ضصمن میصں‬
‫ایات ذکر کی ہیں۔‬
‫وسلم عليه يوم ولد و يوم يموت ويوم يبعث حيا ً۔‬
‫والسلم علی يوم ولدت و يوم اموت و يوم ابعث حيا ً۔‬
‫اور پھر لکھا ہے‪ :‬اگر ولدت کا دن قصصران و سصصنت اور شصصریعت ک صے نقط صہ‬
‫نظر سے خاص اہمیت کا حامل نہ ہوتا تو اس دن بطور خاص سلم بھیجنا‬
‫اور قسم کھانے کا بیان کیا معنی رکھتا ہے؟‬
‫ہم کہتے ہیں کہ جناب پوری ایت تو پڑھیں سلم تین مقامات پر بیان ہوا ہے‬
‫تو کیا تین مقامات پر ’مروجہ میلد‘ منانصصا ہوگصصا؟ )پیصصدائش‪ ،‬وفصصات‪ ،‬بعثصصت‬
‫یوم القیامة (تو پھر مناتے کیوں نہیں؟‬

‫جشن نزول قران س ے میلد پر استدلل اور اس‬
‫کا جواب‪:‬‬
‫باب چہارم میں لکھا ہے ’جشن میلد النبی صلی اللہ علیہ وسصصلم کصصا قصصران‬
‫حکیم سے استدلل‘ اس کے ضمن میں ایصصک جگصہ لک ھا ہے ’جشصصن نصصزول‬
‫قران سے استدلل‘‬
‫حالنکہ ’جشن نزول قران ‘ تو اج تک کسی نے منایا ہی نہیں؟ تو پ ھر اس‬
‫سے استدلل کیسا؟‬
‫دوسری جگہ لکھا ہے ’جشن نزول خوان نعمت سے استدلل‘ اور اس کصصے‬
‫تحت سورہ مائدہ کی ایت ‪114‬ذکر کی ہے۔‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫حالنکہ یہ تو عیس ٰی علیہ السلم اور انکی امت کا مسئلہ ت ھا اور وہ ’شصصرع‬
‫من قبلنا‘ یعنی ہم سے قبل کی شریعت تھی جو کہ منسصصوخ ہو چکصصی ہے‬
‫اور ہماری شریعت نے اسے باقی رکھنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔‬
‫اور یہ بھی اہل علم پر مخفی نہیں ہے کہ ’تکون لنا عيدا ً‘ سے مراد ’مصصائدہ‘‬
‫خوان نعمت تھا نہ کہ یوم نزول خوان نعمت۔ فافهم۔‬
‫قادری صاحب نے یہاں )اس کے اترنے کادن( بریکٹ میں لکھ کر زبردست‬
‫خیانت سے کام لیاہے۔ اس عنوان کے اختتام پرقادری صاحب لکھتصصے ہیصصں‪:‬‬
‫جشن میلد النبی صلی اللہ علیصہ وسصصلم منانصصا نصصص قصصران سصے ثصصابت ہے۔‬
‫)صفحہ ‪(245‬‬
‫جبکہ قادری صاحب کے ممدوح امام سیوطی رحمہ اللہ فرمصصاتے ہیصصں‪ :‬اس‬
‫مسئلے میں کوئی نص موجود نہیں بلکصہ قیصصاس سصے کصصام چلیصصا جاتصصا ہے۔‬
‫)حسن المقصد فی عمل المولد(‬
‫باقی رہا قادری صاحب کے ’استدللت و استنباطات ‘ تو ہم بتا چکصے ہیصصں‬
‫کہ وہ اس کے اہل نہیں کیونکہ ’مقلد‘ ہیں ۔ ہاں البتصہ وہ یصہ بصصات اپن صے امصصام‬
‫صاحب سے ثابت کریں تو پھر دیکھا جائے گا۔‬
‫صاحب جاء الحق نے یہ بھی لکھا ہے کہ’ظاہری کتاب و سنت کو لینصصا‘ کفصصر‬
‫کی بنیاد ہے۔ قادری صاحب غور فرمائیں گے۔‬

‫صوم عاشوراء س ے استدلل اور اس کا جواب‪:‬‬
‫باب پنجم میں لکھا ہے‪’ :‬جشن میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احادیث‬
‫سے استدلل‘‬
‫اس مضمون میں قادری صصصاحب ’صصصوم عاشصصوراء‘ س صے دلیصصل لن صے کصصی‬
‫کوشش کرتے ہیں اور خود ہی فرماتے ہیں کہ‪:‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫’بعض ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کصہ ی ہود اپنصصا یصوم ازادی یعنصصی‬
‫عاشورہ کے دن روزہ رکھ کر مناتے تھے‪ ،‬جب کہ میلد النبی ﷺ کصصا دن یصصوم‬
‫عید کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن اس دن روزہ نہیں رکھا جاتا؟‬
‫پھر انتہائی ڈھٹائی سے لکھتے ہیں کہ ‪ :‬اس سوال کا جواب یہ ہے ک صہ کسصصی‬
‫مبارک دن کو یوم مسرت کے طصور پصر منانصا سصنت ہے اور اس کصو دائرہ‬
‫شریعت میں رہتے ہوئے کسی بھی شکل میں منایا جاسکتا ہے۔ اگصصر ی ہود‬
‫یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے تو اس کا ہر گصز یصہ مطلصب نہیصں کصہ یصوم‬
‫شکرانہ منانے کو صرف روزہ رکھنے کصے عمصصل تصصک محصصدود کصصر لیصصا جصصائے۔‬
‫)صفحہ‬
‫احادیث مذکورہ میں اس امر کی طرف کوئی اشارہ نہیں ۔‬
‫‪(255‬‬
‫کس قدر افسوس ہوتا ہے ان نام نہاد ’عاشقان رسول‘ پر کہ جنہیں سصصنت‬
‫مصطفی کریم ﷺ ایک انکھ نہیں بھاتی۔‬
‫خود نبی کریم ﷺ نے عاشوراء کے روزہ کو باقی رکھا مگر قصصادری صصصاحب‬
‫خود مختار ہیں کہ جو سنت رسول کو بد ل کر کسی اور صورت کو ایجاد‬
‫کرنے پر قادر ہیں؟‬
‫قادری صاحب نے اس ’تاویل‘ کا سہارا اس لئے لیا کہ کہیں میلد مصطفی‬
‫ﷺ کے دن روزہ نہ رکھنا پڑجائے کہ نبی مکرم ﷺ تو اپنی ولدت کے دن روزہ‬
‫ہی رکھا کرتے تھے۔‬
‫اور کمال یہ ہے کہ ’دروغ گورا حافظ نہ باشد‘ کصے بمصصداق خصود ہی میلد‬
‫النبی ﷺ کی دلیل رسول اللہ ﷺ کے اس عمل کو بنایا کہ اپ ﷺ اپنصصی ولدت‬
‫کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اور یہی میلد کی دلیل ہے ۔ )صفحہ ‪(281‬‬
‫غور کریں ’جناب شیخ کا قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی‘‬

‫حدیث عقیق ہ جناب کو مفید ن ہیں‪:‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اس باب میں جناب نے ’اپنے زعم میں‘ ایک اوردلیل ذکر کی ہے ک صہ ‪ :‬نصصبی‬
‫علیہ السلم نے بعد از بعثت )اعلن نبوت( اپنا عقیقہ کیا۔‬
‫ہم اس سلسلے میں اس بات سے صرف نظر کرتے ہہہوئے ک صہ اس روایصصت‬
‫کی اسنادی حیثیت کیا ہے۔ کہتے ہیں جناب کیا اپ ﷺ نے ’ولدت کے دن اور‬
‫تاریخ‘ کا اعتبار کرکے عقیقہ کیا تھا؟‬
‫یقینًانہیں ! بلکہ اپ نے تو خود لکھا ہے کہ یہ ’اعلن ‘ نبوت کے بعد تھاتو پھر‬
‫اسے ’جشن ولدت ‘ کی دلیل کس طرح بنایا جا سکتا ہے؟‬
‫اور یہ بھی یاد رہے کہ اس ’عقیقہ‘ کو دلیل تو وہ بنائے جو عقیقصہ کصصو سصصنت‬
‫مصطفی ﷺ سمجھتا ہو۔‬
‫جناب قادری صاحب تو حنفی بنے پھرتے ہیں اور فقہ حنفی میصصں ’عقیقصصہ ‘‬
‫کو دور جاہلیت کی رسم کہا جاتا ہے ۔ )موطا امام محمد(‬
‫اور غلم رسول سعیدی صاحب نے تو اسے مکروہ ثابت کیا ہے۔ معاذالله !‬
‫استغفرالله۔‬
‫ان حضرات کی سنت رسول ﷺ سے عداوت دیک صھ لیجئے ۔ مصصانتے تصصو ہیصصں‬
‫نہیں اور دلیل بنانے چلے مروجہ جشن و جلوس کی؟؟؟ ھل من مدکر ؟‬

‫ابو ل ہب ک ے بار ے میں خواب کا س ہارا قابل‬
‫استدلل ن ہیں‪:‬‬

‫اور پھر اخر میں جناب نے ابو لہب ک صے لون صڈی ازاد کرن صے کصصی روایصصت کصصو‬
‫بطور دلیل و استدلل پیش کیا ہے۔‬
‫یاد رکھئے یہ روایت مرسل ہے جیساکہ موصوف کو بھی اقرار ہے۔ )صصصفحہ‬
‫‪ (293‬اور مرسل ضعیف ہوتی ہے۔ اور یہ روایت قصصران س صے متصصصادم ہے۔‬
‫)فتح الباری(‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫یہ خواب کا واقعہ ہے جو حجت شصصرعیہ نہیصصں مسصصلمہ بصصات ہے )میلد النصصبی‬
‫احمد سعید کاظمی(‬
‫اس روایت میں عذاب کی کمی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔‬
‫اس روایت میں ہر سوموار کا بھی ذکر نہیں ہے۔‬
‫بالفرض اسے مان بھی لیا جائے تو ثابت ہوتا ہے ک صہ ابصصو ل ہب کصصی خوشصصی‬
‫طبعی تھی دینی و مذہبی نہیں‪ ،‬وہ فقط ذات مصطفی ﷺ کو مانتا ت ھا اور‬
‫بات مصطفی ﷺ کو اس نے نہ مانا۔‬

‫اج اس کی سنت کیوں زند ہ کی جار ہی ہے؟‬
‫اور میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن تو اس ن صے لون صڈی کصصو ازاد ہی‬
‫نہیں کیا)فتح الباری ‪ ،‬الصابہ‪ ،‬الوفا ابن جوزی(‬

‫قادری صاحب ک ے دلئل ائم ہ و محدثین ہیں‪:‬‬

‫باب ششم کا عنوان قائم کرتے ہیصصں ’’جشصصن میلد النصصبی صصصلی اللصہ علیصہ‬
‫وسلم ائمہ و محدثین کی نظر میں‘‘ پھر اس کصے تحصصت رقصم طصصراز ہوتے‬
‫ہیں ’’باب ھذا میں ان ائمہ کرام کے حوالہ جات دیں گے جنہہہوں ن صے انعقصصاد‬
‫جشن میلد کے احوال بیان کئے ہیں۔ )صفحہ ‪(311‬‬
‫قادری صاحب ’’ائمہ و محدثین‘‘ کی ترتیب یوں شروع کرتے ہیں۔‬
‫)‪ (۱‬حجۃ الدین امام محمد بن ظفر المکی )‪(497-565‬‬
‫اور پھر اسی طرح یعنی ’’سن‘‘ کے اعتبار سے تقریبا ً ‪ 54‬نصصام ذکصصر کرتصے‬
‫ہیں۔ جن میں اخری نام اس طرح ہے‬
‫’’علمائے دیوبند کا متفقہ فیصلہ )‪1325‬ھ(‘‘‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ہم اس سلسلے کی تفصیل میں جانے سے قبصصل ی صہ بتادینصصا چصصاہتے ہیصصں ک صہ‬
‫قارئین کرام نوٹ کرلیں کہ قصصادری صصصاحب ’’دیصصن اسصصلم کصے ثصابت شصصدہ‬
‫امر‘‘ کو ’’ائمہ و محدثین‘‘ کی تائید دلنا چصاہتے ہیصں مگصر کیصصا یصہ حقیقصت‬
‫نہیں کہ جناب نے جنہیں بل تخصیص و تفریق ’’ائمہ و محدثین‘‘ قرار دیا ہے‬
‫انکی تاریخ ‪497-565‬ھ سے شروع ہوتی ہے۔ جیسا کہ مذکور بال ہے۔‬

‫اخر کیوں؟‬
‫ائمہ اربعہ‪ ،‬ان کے اساتذہ و شیوخ اور ائمہ صحاح ستہ وغیرہ جصصو اس تاریصصخ‬
‫سے کہیں پہلے موجود رہ کر گزر چکے وہ کہاں گئے؟‬
‫قادری صاحب شاید انہیں ائمہ و محدثین ہی شمار نہیصصں کرت صے‪ ،‬یصصا پ ھر وہ‬
‫’’مروجہ جشن و میلد‘‘ کے حامی و ناصر ہی نہ تھے؟ یا پھر یصہ ’’سصصرکاری‬
‫کلچر‘‘ ان کصے دور میصں شصروع ہی نصہ ہوا ت ھا اور غالبصا ً ی ہی سصب سصے‬
‫مضبوط بصات ہے اور ی ہی دلیصصل ہے کصہ یصہ ’’عمصصل‘‘ قصصران و حصصدیث میصصں‬
‫’’مروجہ انداز و کیفیصصت ک صے سصصاتھ ‘‘ موجصصود ہی نہیصصں وگرن صہ تصصو ’’ائمصہ و‬
‫محدثین‘‘ کا دور تو قران و حدیث کی حکمرانی‪ ،‬ترویج اور بال دستی کصصا‬
‫دور تھا یہ مسئلہ اس وقت کے خیار علماء کرام سے مخفی کیسے رہ سکتا‬
‫تھا۔‬
‫اور امام مالک رحمہ اللہ نے کہا تھا ’’جو عمل اس )خیر القرن( وقت میصصں‬
‫دیصصن کصصا حص صہ ن صہ ت ھا وہ اج ب ھی دیصصن کصصا حص صہ قصصرار نہیصصں دیصصا جاسصصکتا۔‬
‫)العتصام(‬
‫قارئین کرام یاد رکھئے گصصا کصہ ہم نصے قصصادری صصصاحب کصصی ہیصڈنگ ’’ائمصہ و‬
‫محدثین‘‘ پر نظر عنایت نہیں کی وگرنہ تو نہ جانے کتنے ’’ائمہ و محصصدثین‘‘‬
‫فقط قادری صاحب کے ہاں ہی ’’ائمصہ و محصصدثین قصصرار پصصاتے۔ جمیصصع ا ہل‬
‫سنت کے ہاں نہیں۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اور یاد رہے کہ اس زیصصر بحصصث عنصصوان میصصں ’’دلئل قصصران و حصصدیث‘‘ س صے‬
‫کوئی تعرض نہیں ہے کیونکہ قادری صاحب نے اسے ’’ائمصہ و محصدثین‘‘کصی‬
‫’’نظر میں‘‘ مقید کردیا ہے۔‬
‫اور شاید یہی وجہ ہے کہ قادری صاحب کصے پیصصش کصصردہ ’’ائمصہ و محصصدثین‘‘‬
‫میں سے کسی نے شاید ہی کبھی کوئی دلیل قران و سنت سے ذکصصر کصصی‬
‫ہو!۔ حاشاوکل۔‬
‫کسی کی رائے اور نظر سے نہ تو کوئی عمل سنت قرار پاسکتا ہے اور نصصہ‬
‫ہی اس پر کسی ثواب کی نوید سنائی جاسکتی ہے اگرچصہ کہنصے والصے کہہہہ‬
‫دیتے ہیں کہ اس ’’عمصصل‘‘ پصصر اتنصصا اور اتنصصا ثصصواب ملصے گصصا اور یصہ اس کصصی‬
‫فضیلت و فوائد ہیں۔‬

‫ایئ ے کچ ھ تفصیل میں چلیں ۔‬
‫‪ 4‬۔ پر قادری صاحب نے ابو الخطاب ابن دحیہ کلبی )‪544-633‬ھ( کو ذکر‬
‫کیا ہے اور بڑی انکی مدح کی ہے جبکہ حقیقتا ً وہ ایصصک ’’وضصصاع‪ ،‬کصصذاب اور‬
‫)دیکھئے‪ ،‬تصصدریب الصصراوی‪ ،‬لسصصان‬
‫سصصلف کصصا گسصصتاخ شصصخص ت ھا۔‬
‫المیزان‪ ،‬میزان العتدال‪ ،‬راہ سنت وغیرہ(‬
‫اب یہ کیا راز ہے کہ جناب قادری صاحب ایسے بدنصیب کو ’’دلیصصل ‘‘بنصصاکر‬
‫اسکی مدح کریں؟‬
‫جنس با جنس کند پرواز‬

‫کبوتر با کبوتر باز با باز‬

‫‪5‬۔ جناب نے حافظ شمس الدین الجزری )م ‪660‬ھ( کو ذکر کرکے صصصفحہ‬
‫‪ 318‬پر ان سے نقل کیا ہے کہ‪ :‬جس سال میلد منایا جائے اس سال امصصن‬
‫قائم رہتا ہے۔‬
‫ہم اس پر کیا کہیں کہ ’’امصصن عصصامہ‘‘ اور ’’امصصن پاکسصصتان‘‘ ہمصصارے سصصامنے‬
‫ہیں۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫حصصت ٰی کصہ ’’جلصصوس میلد و جشصصن‘‘ ب ھی دھمصصاکوں اور حملصصوں سصے غیصصر‬
‫محفوظ وغیر مامون۔۔۔ کیا یہ ’’میلد مروجہ‘‘ منصصانے کصصی برکصصتیں ہیصصں اور‬
‫امن و چین کے حصول کا ذریعہ ہے؟‬
‫‪16‬۔ قادری صاحب نے ترتیصصب کصے اس نمصبر پصر ’’حصافظ زیصن الصصدین بصن‬
‫رجب الحنبلی)‪736-795‬ھ( کو رکھا ہے اور پھر ان کصصی تصصصنیف ’’لطصصائف‬
‫المعارف‘‘ سے ذکر و ولدت کی روایات سے ’’جشن میلد‘‘ کشصصید کرن صے‬
‫کی کوشش کی ہے تاکہ انہیں اپنا ہمنوا ثابت کیا جاسکے۔‬
‫حالنکہ بات واضح ہے کہاں ذکر ولدت اور کہاں جشن ولدت؟‬
‫اور پھر خود حافظ ابن رجب نے ’’لطائف المعارف‘‘ میں لکھ رکھا ہے۔‬
‫’’مسلمانوں کیلئے جائز ہی نہیں کہ وہ بنا شریعت کے بیان کصصرے کسصصی دن‬
‫کو عید قرار دیں اور شریعت کی بیصصان کصصردہ عیصصدیں سصالنہ یصہ ہیصں۔ یصوم‬
‫الفطر‪ ،‬یوم الضحی‪ ،‬ایام التشریق جبکہ ہفتہ واری عید یوم الجمعہ ہے اور‬
‫اس کے علوہ کسی اور دن کو عید قرار دینا بدعت ہے بے اصل ہے۔‘‘‬
‫نبی علیہ السلم نے فرمایا‪ :‬لتتخذوا شهرا ً عيدا ً ول يوما ً عيدا ً۔‬
‫عبدالرزاق ‪(7853‬‬

‫)مصصصنف‬

‫یعنی کسی مہینے کو )از خود عید قرار نہ دو اور نہ ہی کسصصی دن کصصو یصصوم‬
‫عید قرار دو۔ )دیکھئے لطائف المعارف ‪(228‬‬
‫حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کی عبارت بالکل واضح ہے جبکہ قادری صصصاحب‬
‫کا انہیں اپنا ہمنوا قرار دینا۔‬
‫دجل ہے‪ ،‬فریب ہے‪ ،‬دھوکہ ہے۔ ھل من مدکر؟‬
‫‪ 21‬۔ ترتیب کے اس نمبر پر ’’امام سیوطی )‪849-911‬ھ(‘‘ کا ذکر کرت صے‬
‫ہیں اور یہ بتلتے ہیں کہ وہ بھی اس ’’مروجہ میلد‘‘ کی مدح کرتے ہیں بلکہ‬
‫اسے دلئل بھی فراہم کرتے ہیں۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ہم کہتے ہیں کہ جناب بلشبہ ’’امصصام سصصیوطیؒ ‘‘ اس عمصصل ک صے جصصواز کصصی‬
‫طرف گئے ہیں مگر جہاں تصک دلئل کصا تعلصق ہے تصو خصود امصام سصیوط ؒی‬
‫فرماتے ہیں‪:‬‬
‫وهذا ان لم يردفيه نص‪ ،‬ففيصصه القيصصاس۔۔۔ )حسصصن المقصصصد فصصی عمصصل‬
‫المولد ص ‪(51‬‬
‫یعنی اس ’’عمل‘‘ پر کوئی دلیل وارد نہیں ہوئی بلکہ اس میں قیصصاس کیصصا‬
‫جاتا ہے۔ مگر قادری صاحب امام سیوط ؒی کی بصات کصو کیصوں نقصل کریصں‬
‫گے؟‬
‫‪ 30‬۔ اس نمبر پر جناب نے ’’مل علی قاری حنفصصی )م ‪1014‬ھ(‘‘ کصصا ذکصصر‬
‫کیا ہے اور انکی کتاب ’’المولد الروی‘‘ سے عبارتیں نقل کرکے انہیصصں اپنصصا‬
‫ہمنوا ثابت کیا ہے۔‬
‫بے شک علمہ مل علی قاری حنفی نے یہ کتاب لکھی ہے اور جو کچصھ لک ھا‬
‫ہے وہ بھی قادری صاحب نے اپنے الفاظ میں لکھ دیا ہے۔‬
‫مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب ’’علمہ الجصصزری‘‘ نصے اسصصتدلل کیصصا کصہ‬
‫’’جب اہل صلیب نے اپنے نبی کی پیدائش کی رات کو عید بنا رکھا ہے تصصو‬
‫اہل اسلم اپنے نبی کریمﷺکی تعظیم و تکریم کے زیادہ حقدار ہیں‘‘‬
‫تو ’’مل علی قاری‘‘ نے اعتراض کیا کہ‪ :‬لیکن اس پر سوال ہوگا ک صہ ہمیصصں‬
‫تو اہل کتاب کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے۔ شیخ نے اس سوال کا جواب‬
‫بھی نہیں دیا۔ )الموردالروی مترجم ص ‪(293‬‬
‫گویا علمہ علی قاری کے ہاں یصہ ’’مروجصہ میلد‘‘ کصصا عمصصل عیسصائیت کصے‬
‫مشابہ قرار پاتا ہے۔‬
‫مل علی قاری کا مذکورہ اعتراض مولنا کوکب نورانی نے بھی اپنی کتاب‬
‫’’اسلم کی پہلی عید‘‘ میں ص ‪ 46‬پر ذکر کیا ہے۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫مگر قادری صاحب جیسے ’’فهيم‘‘ ’’ڈاکٹر‘‘ یہ عبصصارتیں کیصصوں نقصصل کرنصے‬
‫لگے!!!‬
‫‪ 31‬۔ پر ‪،‬شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی )‪971-1034‬ھ( کا ذکصصر کیصصا‬
‫ہے اور پھر سیاق و سباق کے بغیر ایک رخ سے شیخ کی بصصات نقصصل کصصردی‬
‫ہے اور وہ بھی اس طرح کہ گویا شیخ بھی ڈاکٹر صاحب کے ہمنوا ہیں۔‬
‫ہم اس سلسلے میں قارئین کو بتاتے ہیں کہ‬
‫او ً‬
‫ل‪ :‬تو جنصصاب قصصادری صصاحب نصے شصیخ سصصرہندی کصا مکتصصوب ‪’’ 72‬کصاٹ‬
‫چھانٹ‘‘ کے بعد ذکر کیا ہے۔ دارالشصصاعت کراچصصی کصصی طبصصاعت میصصں اپ‬
‫اسے حصہ سوم کے مذکورہ نمبر پر دیکھ سکتے ہیں۔‬
‫ثانیًا‪ :‬جب تک کہ کسی شخص کی مزید تحریریں نصہ دیکصھ لصصی جصصائیں اس‬
‫وقت تک ان کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا صحیح نہیں ہوسکتا بلکہ تو‬
‫اسے ایک علمی خیانت کا نام ہی دیا جائے گا۔ شیخ احمد سرہند ؒی مکتصصوب‬
‫‪ 273‬جلد اول میں فرماتے ہیں۔‬
‫’’اپ کو لکھا جاچکا ہے کہ سماع کے منع کا مبالغہ مولود کے منع ہونے کصصو‬
‫بھی شامل ہے جو نعتیہ قصیدوں اور غیر نعتیہ شعروں کے پڑھنے سے مراد‬
‫ہے۔‬
‫لیکن برادر عزیز میر محمد خان اور بعض اس جگہ کے یا جنہوں نے واقعصصہ‬
‫میں انحضرت صلی اللہ علیہ وسصصلم کصصو دیک ھا ہے کصہ اس مجلصس مولصود‬
‫خوانی سے بہت خوش ہیں ان پر مولود نہ سننا اور ترک کرنا بہت مشصصکل‬
‫ہے۔‘‘‬

‫میر ے مخدوم!‬
‫اگر واقعات کا کچھ اعتبار ہوتا اور منامات اور خوابصصوں کصصو کچ صھ بھروس صہ‬
‫ہوتا تو مریدوں کو پیروں کی حاجت نہ رہتی۔۔۔۔۔۔ )صفحہ ‪(1/678‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫مزید فرماتے ہیں‪:‬‬
‫اس منع کرنے میں فقیر کا مبالغہ اپنی طریقت کے مخالفت کے باعث ہے۔‬
‫طریقت کی مخالفت خواہ سماع و رقصص سصے ہو خصواہ مولصود اور شصعر‬
‫خوانی سے۔‬
‫حضرت خواجہ نقشبندی نے فرمایا ہے کہ ‪’’ :‬میں نہ یہ کام کرتا ہوں اور ن صہ‬
‫ہی انکار کرتا ہوں۔‘‘‬
‫اپ نظر انصاف سے کام لیں اگر بالفرض حضرت ایشاں اس وقصصت دنیصصا‬
‫میں زندہ ہوتے اور یہ مجلس و اجتماع ان کی موجودگی میصصں منعقصصد ہوتصصا‬
‫ہوکیا ایا حضرت اس وقت دنیا میں زندہ ہہہوتے اور اس اجتمصصاع کصصو پسصصند‬
‫کرتے یا نہ‪ ،‬فقیر کا یقین ہے کہ حضرت ہرگز اس امر کو پسندنہ کرتے بلکصصہ‬
‫)صفحہ ‪ 1/681‬طبع دار الشاعت(‬
‫انکار کرتے۔۔۔‬
‫اب ازراہ انصصصاف بتصصائیں شصصیخ احمصصد سصصرہندی کصصا اس سلسصصلے میصصں کیصصا‬
‫موقف ہے؟ یقینًاقصادری صصاحب کصے خلف۔ مگصر موصصوف کصو ہر عصالم‬
‫’’مروجہ میلد‘‘ کا حامی نظر اتا ہے نہ جانے کونسی ’’عینک‘‘ جناب لگصصاتے‬
‫ہیں جو ’’مولود‘‘ تو دکھاتی ہے ’’ممنوع‘‘ نہیں دکھاتی؟؟‬
‫‪ 38‬۔ اس نمبر پر قادری صاحب نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ) ‪-1239‬‬
‫‪1159‬ھ( کو ذکر کرکے انکی عبارت سے خودساختہ ’’جواز میلد مروج صہ‘‘‬
‫کشید کرنے کی کوشش کی ہے۔‬
‫حصصالنکہ شصصاہ عبصصدالعزیز محصصدث دہلصصوی تصصو فرمصصاتے ہیصصں‪ :‬سصصال میصصں دو‬
‫مجلسیں فقیر کے مکان میں منعقد ہوا کرتصصی ہیصصں۔ مجلصصس ذکصصر وفصصات‬
‫شریف اور مجلس شہادت حسصصین۔۔۔)دیکھئے فتصصاو ٰی عزیصصزی صصفحہ ‪199‬‬
‫مترجم‪ ،‬ایچ ایم سعید کمپنی۔ کراچی(‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اور یہی شصصاہ عبصصدالعزیز دہلصصویؒ تحفصہ ’’اثنصصا عشصصریہ صصصفحہ ‪ 666‬طبصصع دار‬
‫الشاعت‘‘ میں لکھتے ہیں‪ :‬اسی طرح کسی نصصبی ک صے یصصوم تولصصد یصصا یصصوم‬
‫وفات کے دن کو عید قرار نہیں دیا گیا۔‬

‫قارئین کرام!‬
‫غور کیجئے کہ ’’قادری صاحب‘‘ کس درجہ ’’خائن‘‘ ثابت ہوتے جارہے ہیصصں‬
‫نبی علیہ السلم نے فرمایا تھا ’’مومن خائن نہیصصں ہوسصصکتا‘‘ اور نصصبی علی صہ‬
‫السلم نے فرمایا تھا ’’خیانت منافق کی نشانی ہے۔‘‘‬
‫‪ 50‬۔ ترتیب کے اس نمبر پر مولنا اشرف علصصی ت ھانوی )‪1280-1362‬ھ(‬
‫کو ذکر کیا ہے اور ان سے اثبات ’’میلد مروجہ‘‘ کرتے ہوئے اخر میں لکھتے‬
‫ہیں۔ ’’بہر حال میلد شریف منانا ان کے نزدیک جائز اور مستحب امر تھا۔‬
‫)صفحہ ‪(395‬‬
‫قادری صاحب کا بس نہیں چلتا وگرنہ تو وہ شصصاید ہر ہر تصصصنیف و ہر ہر‬
‫مصنف سے ’’مروجہ میلد و جشن‘‘ بصصذریعہ اسصصتنباط ثصابت کردیتصے یصہ تصصو‬
‫انکی نوازش ہے کہ انہوں نے اصحاب خیر القرون کو استثناء دے دیا !!!‬
‫اشرف علی تھانوی صاحب نے تو بڑی علمی گرفت کصصی ہے ’’میلدیصصوں‘‘‬
‫کی۔ وہ کہتے ہیں یہ استنباطات کرنے والصے ’’مقلصصد‘‘ درحقیقصصت غیصصر مقلصصد‬
‫ہیں کیونکہ ’’مروجہ میلد‘‘ نہ ہدایہ میں ہے اور نہ درمختار میصصں۔ )خطبصصات‬
‫میلد النبیؐ صفحہ ‪(130‬‬
‫ایک اور جگہ فرماتے ہیں‪ :‬قران و حدیث سے ممانعت اس عید مخترع کی‬
‫ثابت ہوئی۔ پھر لکھتصے ہیصں‪ :‬یصہ عیصصد میلد بصدعت اور امصصر مخصترع واجصب‬
‫الترک ہے۔ )صفحہ ‪) (86‬نیز صفحہ ‪(93‬‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫مزید فرماتے ہیں‪ :‬پس حدیث سے اتنا ثابت ہے ک صہ حضصصور صصصلی الل صہ علی صہ‬
‫وسلم نے روزہ رکھا تو تم بھی اتنا ہی کرلو باقی عیدمیلد النصصبیؐ وغیصصرہ یصہ‬
‫)خطبات میلد النبیؐ صفحہ ‪(132‬‬
‫کوئی چیز نہیں ہے۔‬
‫کیا اب بھی قادری صاحب عوام الناس کی انکھوں میصصں د ھول ج ھونکتے‬
‫ہوئے کہیں گے۔‬

‫میلد شریف منانا ان ک ے نزدیک جائز اور‬
‫مستحب امر ت ھا؟‬
‫قارئین کرام دوسرا عنوان شروع ہونے سے قبصل سصمجھ لیجئے کصہ ہم نصے‬
‫گزشصصتہ گفتگصصو میصصں طصصاہر قصصادری صصصاحب ک صے بیصصان کصصردہ جصصن ’’ائم صہ و‬
‫محدثین‘‘ کے اسماء کو بمع تبصرہ تصرک کیصصا ہے اس کصصی وجصہ تحریصصر کصو‬
‫مختصر انداز میں پیش کرنا ہے۔‬
‫اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان ’’ائمہ و محدثین‘‘ نے بھی ’’مروجہ میلد‘‘ کصصی‬
‫حمایت کبھی نہیں کی بلکہ ان ہوں نصے نفصصس ذکصصر ولدت اور بیصصان سصصیرت‬
‫طیبہ کا اثبات کیا ہے اور یہی تو لفظ میلد کی حقیقت ہے جصصس کصصا اقصصرار‬
‫قادری صاحب کو بھی ہے۔ انکی کتاب کا ابتدائیہ دیکھ لیجئے۔‬
‫نیز یہ کہ جناب کے بیصصان کصصردہ علمصصاء میصصں سصے اکصصثریت نصے اس ’’مروجصہ‬
‫میلد‘‘ کو بدعت کہا ہے‪ ،‬جو خود قادری کی تحریر میں عیاں ہے۔‬
‫حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قادری صاحب ن صے شصصیخ السصصلم امصصام ابصصن تیمی صہؒ‬
‫اور مولنا عبدالحی لکھنویؒ جیسصے علمصصاء کصصو ب ھی اپنصصا ہمنصصوا بنصصانے کصصی‬
‫کوشش کصصی ہے حصصالنکہ ان کصصا اس ’’مروجصہ عمصصل‘‘ کصصی تردیصصد کرنصصا یصصا‬
‫کراہیت بیان کرنا اظہر من الشمس ہے۔‬
‫اور یہ بھی خوب لک ھا ہے کصہ ’’محمصصد بصصن عبصصدالوہاب بصصانی غیصصر مقلصصدین‬
‫ہیں!!!‘‘‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫گویا قادری صاحب کہنا چاہتے ہیں کہ ان سے قبل غیر مقلدین نہ تھے۔‬
‫تو معلوم ہونا چاہئے کہ صحابہ تمام کے تمام‪ ،‬تابعین عظام سب کصصے سصصب‬
‫اور ائمہ حدیث اور ائمہ اربعہ وغیرہ سب ہی تقلید سے تہی دسصصت ت ھے اور‬
‫یہ کوئی عیب نہیں بلکہ ’’فخر‘‘ ہے۔ وگرنہ تو ائمہ پر موجودہ ’’مقلدین‘‘ کیا‬
‫فتو ٰی صادر کریں گے اور پھر اثبات ’’میلد مروجہ‘‘ میں تو سارے بریلصصوی‬
‫مقلد ہی غیر مقلصصد بنصے پ ھر ر ہے ہیصصں‪ ،‬کب ھی اسصصتبناط کرتصے ہیصصں کب ھی‬
‫قیاس؟‬
‫یاد رہے کہ مقلد کی ضد محقق یا متبصصع سصصنت اتصصی ہے۔ غیصصر مقلصصد نہیصصں۔‬
‫قادری صاحب زیر نظر مسئلہ میں امام ابو حنیف ؒہ سے ایک بھی قول نقصصل‬
‫نہیں کرسکے اور دوسرے کی تقلید پر چل پڑے ہیں جبکہ ان کے ہم مشرب‬
‫بھائی ’’صاحب جاء الحق‘‘ کے ہاں ائمہ اربعہ کی تقلید سے خصصروج انسصصان‬
‫کو ’’ضال مضل‘‘ بنادیتا ہے اور کبھی کب ھی ’’کفصصر‘‘ میصصں پہنچصصا دیتصصا ہے۔‬
‫)دیکھئے جاء الحق صفحہ ‪(26‬‬
‫قادری صاحب سوچ لیں؟؟؟‬

‫قادری صاحب ک ے تاریخی میلد کی حقیقت‪:‬‬
‫پھر قادری صاحب عنوان قائم کرتے ہیں‪’’ :‬بلد اسصصلمیہ میصصں جشصصن میلد‬
‫النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ‘‘‬
‫اس عنوان کے تحت ایک جگہ لکھتے ہیں‪ :‬ہر اسلمی ملک اپنی ثقصافت اور‬
‫رسم و رواج کے مطابق محبت امیز جذبات ک صے سصصاتھ ی صہ مہین صہ مناتصصا ہے۔‬
‫)صفحہ ‪(402‬‬
‫*غور کیجئے کہاں قران و حدیث سے ’’ثابت شدہ امر‘‘ اور کہاں ’’رسصصم و‬
‫رواج‘‘ شاید قادری صصاحب کصا مبلصغ علصم ی ہی ہے؟ کیصا واقعصصی ’’جشصن‬
‫میلد‘‘ کی حیثیت ایک علقائی اور ملکی رسم و رواج کی ہے؟‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫تو پھر یہ قران و حدیث کا ’’ثابت شصصدہ امصصر‘‘ کیسصے ہوگصصا کصہ ہوسصصکتا ہے‬
‫بعض جگہ یہ رسم و رواج بالکلیہ ہی مفقود ہو تو کیا یہ کہا جائے گصصا کصہ اس‬
‫جگہ کے لوگوں نے قران و سنت کے ثابت شدہ امر کو چھوڑ دیا ہے؟ اور وہ‬
‫پھر بھی مسلمان ہی ہوں گے؟‬
‫’’من کان هذا القدر مبلغ علمه‬
‫والکتمان‘‘‬

‫فليستتر بالصمت‬

‫شاید انے والے وقتوں میں قادری صاحب ’’جشن میلد مروج صہ‘‘ ن صہ منصصانے‬
‫والوں پر کوئی فتو ٰی صادر کریں مگر امید ہے کہ یہ ضرور یصصاد رکھیصصں گصے‬
‫کہ یہ علقائی ’’رسم و رواج‘‘ ہے جوکہ خیر القصصرون میصصں رائج ن صہ ت ھا؟؟؟‬
‫کس کس پر فتو ٰی صادر ہوگا!!!‬
‫اگے چل کر قادری صاحب نصے مکصہ‪ ،‬مصدینہ‪ ،‬مصصر اور برصصغیر پصاک و ہنصد‬
‫وغیرہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہاں ہمیشہ سصے ’’جشصصن میلد‘‘ منصصانے کصصا‬
‫اہتمام ہوتا رہا ہے۔‬
‫ہمارا یہ سوال ہے کہ ’’اج تو مکہ و مدینہ وغیرہ میصصں یصہ عمصصل دکھہہائی نہیصصں‬
‫دیتا بلکہ وہاں کصے علمصصا نصے بصصڑی شصصد و مصصد کصے سصصاتھ ’’مروجصہ جشصصن و‬
‫جلوس‘‘ کو ’’بدعت‘‘ قرار دیا اور اس کا انکار کیا ہے اور حقیقت ہے کصصہ‬
‫ہمیشہ سے ہی )یعنی جب سے یہ مروجہ میلد شروع ہوا ہے( اہہہل علصصم اس‬
‫کا انکار کرتے چلے ارہے ہیں اور یہ بھی وضاحت کہ اس عمل میصصں نصصصار ٰی‬
‫کی مشابہت ہے نیز یہ عمل خیر القرون میں نہ تھا۔‬

‫مروج ہ میلد کو بدعت ک ہن ے وال ے علماء کی ایک‬
‫ف ہرست‪:‬‬

‫قادری صاحب نے جن ’’ائمہ و محدثین‘‘ کو ذکر کیا ہے ان میصصں سصے اکصصثر‬
‫علماء موصوف کے ’’مروجہ میلد‘‘ سے بری ہیں۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫علماء تردید و تبدیع کچھ اس طرح ہیں‪:‬‬
‫)‪ (۱‬امام تاج الدین فاکھانی‪ (۲) ،‬حافظ ابو الحسن علی بن مقدسی‪(۳) ،‬‬
‫امام ابن تیمیہ‪ (۴) ،‬قاضی شہاب الدین حنفی‪ (۵) ،‬امام شاطبی‪ (۶) ،‬امام‬
‫ابن رجب حنبلی‪ (۷) ،‬ابصو عبصصداللہ ابصصن الحصصاج‪ (۸) ،‬محمصصد بصصن عبدالسصصلم‬
‫خضر قشیری‪ (۹) ،‬رشید رضا مصری‪ (۱۰) ،‬محمد بن ابراہیصصم ال شصصیخ‪) ،‬‬
‫‪ (۱۱‬شمس الحق عظیم ابادی‪ (۱۲) ،‬شصصاہ عبصصدالعزیز دہلصصوی‪ (۱۳) ،‬مجصصدد‬
‫الف ثانی‪ (۱۴) ،‬عبدالحی لکھنوی‪ (۱۵) ،‬عبداللہ بن حمید‪ (۱۶) ،‬شصصیخ ابصصن‬
‫باز‪ (۱۷) ،‬حامد الفقی‪ (۱۸) ،‬ابو بکر الجزائری‪ (۱۹) ،‬صصصالح بصصن فصصوزان‪) ،‬‬
‫‪ (۲۰‬میاں نصصذیر حسصصین محصصدث دہلصصوی‪ (۲۱) ،‬اشصصرف علصصی ت ھانوی‪(۲۲) ،‬‬
‫سرفراز صصصفدر‪ (۲۳) ،‬عبدالشصصکور مصصرزا پصصوری‪ (۲۵) ،‬امصصام نصصصیر الصصدین‬
‫شاہی‪ (۲۶) ،‬عبدالرحمن مغربی‪ (۲۷) ،‬احمد بن محمصصد مصصصری مصصالکی‪) ،‬‬
‫‪ (۲۸‬شیخ الحنابلہ شرف الصصدین احمصصد‪ (۲۹) ،‬علمصہ حسصصن بصصن علصصی‪(۳۰) ،‬‬
‫ابوالقاسم عبدالرحمن بن عبدالحمیصصد مصصالکی‪ (۳۱) ،‬محمصصد بصصن ابصصی بکصصر‬
‫مخزومی‪ (۳۲) ،‬حافظ ابو بکر عبصصدالغنی )ابصصن نقط صہ بغصصدادی(‪ (۳۳) ،‬ابصصن‬
‫رجب افندی‪ (۳۴) ،‬فخر الدین خراسانی‪ (۳۵) ،‬شعرانی صاحب تنبیہ‪(۳۶) ،‬‬
‫مفتی رشید احمد گنگوھی‪ (۳۷) ،‬مولنا یوسف لدھیانوی‪ (۳۸) ،‬حمصصود بصصن‬
‫عبصصداللہ التصصویجری‪ (۳۹) ،‬شصصیخ محمصصد بصصن سصصعد بصصن شصصقیر‪ (۴۰) ،‬شصصیخ‬
‫اسماعیل بن محمد النصاری۔‬
‫اور بالتفاق ’’خیر القرون‘‘ کے تمام اصحاب رسو ؐل‪ ،‬تمام تصصابعین عظصصام ؒ‬
‫اور تمام اتباع تابعین کرام اور تمام ائمہ حدیث و فقہ۔ اس ’’مروجہ میلد‘‘‬
‫سے بے خبر تھے۔‬
‫پھر قادری صاحب ایک اور عنوان اس طرح قائم کرتے ہیں‪’’ :‬میلد النصصبی‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھی جانے والی گراں قدر تصانیف‘‘‬
‫گویا وہ اس طرح بھی ’’مروجصہ جشصن و جلصوس‘‘ ثصابت کرنصا چصاہتے ہیصں‬
‫حالنکہ بات صرف اتنی سصصی ہے کصہ جصن کتصابوں کصے قصصادری صصاحب نصے‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫حوالے دیئے ہیں وہ ’’مروجہ میلد‘‘ پر نہیں بلکہ ’’ذکر ولدت‘‘ فضصصائل نصصبی‬
‫مکرمؐ اور اپکی سیرت طیبہ و خصائل حمیدہ پر لکھی گئی ہیں اور عربصصی‬
‫میں چونکہ یوم ولدت‪ ،‬وقت ولدت اور جائے ولدت کو ’’میلد‘‘ سے ب ھی‬
‫تعبیر کیا جاتا ہے لہٰذا قادری صاحب نے اس لفصصظ س صے فصصائدہ اٹ ھاتے ہوئے‬
‫عوام کو مغالطے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔‬
‫اور اس طرح جناب نے تقریبا ً ‪ 116‬کتابوں کے نام گنواکر عوام الناس کو‬
‫ورطہ حیرت میں ڈال دیصصا ہے۔ حصصالنکہ ان تمصصام کتصصب میصصں سصصیرت طیبصہ‪،‬‬
‫فضائل رسول ہاشمی وغیرہ ہی بیان ہوئے ہیں۔‬

‫میلدی روایات کا تجزی ہ‪:‬‬

‫اب ایئے ہم اپ کو قادری صاحب کی ’’گراں قدر تصصصانیف‘‘ کصصی حقیقصصت‬
‫دکھلئیں۔ محمد مظفر عالم جاوید صدیقی صاحب نے ایصصک ضصصخیم کتصصاب‬
‫ترتیب دی ہے جس کا نام ہے ’’اردو میں میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘‬
‫)تحقیق‪ ،‬تنقید‪ ،‬تاریصصخ( اور مظفصصر عصصالم صصصاحب قصصادری صصصاحب ک صے ہم‬
‫مشرب و ہم مسلک ہونے کا شرف رکھتے ہیں۔‬
‫وہ اس کتاب میں لکھتے ہیں‪:‬‬
‫میلد ناموں میں روایات کا ایک لمتناھی سلسلہ قائم ہوگیا ہے‪ ،‬ان روایات‬
‫کا بظاہر نہ کوئی ماخذ ہے اور نہ مبداء‪ ،‬سینکڑوں روایات ایسصصی ہیصصں جصصن‬
‫کی صحت کو پرکھنے اور درایت کی کسوٹی پر کسنے ک صے لئے ب صے شصصمار‬
‫کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑے گا‪ ،‬بے شمار روایات ایسی بھی ہیں جو سینہ بہ‬
‫سینہ منتقل ہوتی چلی ارہی ہیں۔ بایں ہمہ بیشتر میلد ناموں میصصں ضصصعیف‬
‫بلکہ موضوع اور وضعی روایات کی بھرمار ہے۔‬
‫ان کتب کے دلئل کے بارے میں سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں‪ :‬یہی کتابیں‬
‫ہیں جنہوں نے معجزات کی جھوٹی اور غیر مستند روایتصصوں کصصا ایصصک انبصصار‬
‫لگا دیا ہے اور انہی سے میلد و فضائل کی تمام کتابوں کا سرمایہ مہیا کیصصا‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫گیا ہے‪ ،‬خوش اعتقادی اور عجائب پرستی نے ان غلصصط معجصصزات کصصو اس‬
‫قدر شرف قبول بخشا کہ ان کے پردہ میں اپؐ کے تمصصام صصصحیح معجصصزات‬
‫چھپ کر رہ گئے اور حق و باطل کی تمیصز مشصکل ہو گئی حصصالنکہ ایسصے‬
‫تمام ذخیرہ سے کتب صحاح اور خصوصا ً بخاری و مسلم خالی ہیں۔ کتصصب‬
‫دلئل کے ان مصنفین کا مقصد معجزات کی صحیح روایات کو یکجا کرنصصا‬
‫نہیں بلکہ کثرت سے عجیب و غریب واقعات کا مواد فراہم کرنصصا ت ھا‪ ،‬تصصاکہ‬
‫خاتم المرسلین ؐ کے فضائل و مناقب کے ابواب میں معتدبہ اضافہ ہوسکے۔‬
‫بعد کو جو احتیاط پسند محدثین ائے‪ ،‬مثل ً زرقانی وغیرہ‪ ،‬وہ ان روایات کے‬
‫نقل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تردید اور تضصصعیف ب ھی کرت صے گئے لیکصصن‬
‫جو چیز اس وسعت کے ساتھ پھیل گئی ہو‪ ،‬جصصو اسصصلمی لصصٹریچر کصصا ایصصک‬
‫جزو بن گئی ہو‪ ،‬جو اس کی رگ و پے میں سصصرایت کصصر گئی ہو‪ ،‬اس کصے‬
‫لئے صرف اس قدر کافی نہیں بلکہ وہ مزید تنقید کی محتاج ہے‪ ،‬خصوصصا ً‬
‫اس لئے کہ ہمارے ملک میں میلد کی مجلسوں میں جو بیانات پڑھے جصصاتے‬
‫ہیں‪ ،‬وہ تمام تر ان ہی بے بنیاد روایتوں سے بھرے ہوتے ہیں۔‬
‫اکثر و بیشتر میلد ناموں کا سرمایہ جن کتابوں سے حاصل کیا گیا ہے۔ ان‬
‫کی نشاندہی کرتے ہوئے‪ ،‬سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں‪:‬‬
‫’’انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایات و معجزات پر جو مستقل کتابیں‬
‫لکھی گئی ہیں‪ ،‬ان میصصں سصے کچصھ تیسصصرے طبقصہ میصصں اور بقیصہ تمصصام تصصر‬
‫چوتھے طبقہ کی کتابوں میصصں داخصصل ہیصصں۔ متصصاخرین نصے عصصام طصصور پصصر یصہ‬
‫سرمایہ جن کتابوں سے حاصل کیا ہے‪ ،‬وہ طبری‪ ،‬طبرانی‪ ،‬بیہقصصی‪ ،‬دیلمصصی‪،‬‬
‫بزار اور ابو نعیم اصفہانی کی تصانیف ہیں۔‘‘‬
‫مولود ناموں کے مصنفین نے مواہب اللصصدنیہ۔ معصصارج النبصصوت اور خصصصائص‬
‫الکبر ٰی کے مواد سے فائدہ اٹھایا ہے اور ان کا سرمایہ درج ذیل کتابوں سے‬
‫ماخوذ ہے‪ :‬کتاب الطبقات لبن سصصعد‪ ،‬سصصیرت ابصصن اسصصحق‪ ،‬دلئل النبصصوت‬
‫ابن قصصتیبہ )م ‪۲۷۶‬ھ( ‪ ،‬دلئل النبصصوت ابصصو اسصصحاق حربصصی )م ‪۲۵۵‬ھ( شصصرف‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫المصطفی‪ ،‬ابو سعید عبدالرحمن بن حسصصن اصصصفہانی )م ‪ ۳۰۷‬ھ( تاریصصخ و‬
‫‪ ۳۱۰‬مولصصد یحی ص ٰی بصصن عصصائذ‪ ،‬دلئل‬
‫تفسیر ابو جعفر بن جریر طصصبری )م ھ(‬
‫النبوت جعفر ابن محمصصد مسصصتغفری )م ‪۷۳۲‬ھ( دلئل النبصصوت ابصصو القاسصصم‬
‫اسماعیل اصفہانی )م ‪۵۳۵‬ھ( تاریخ و مشق ابن عساکر )م ‪۵۷۱‬ھ(‪ ،‬ان ک صے‬
‫علوہ ان رواییات کا سب سے بڑا خزانہ متاخرین کی دو کتابیں ہیں۔ کتاب‬
‫الدلئل ابو نعیم اصفہانی )م ‪۴۳۰‬ھ( کتاب الدلئل امام بیہقی )م ‪۵۳۰‬ھ(‬
‫مولنا احمد رضا خان بریلوی نے میلد میں پڑھی جانے والی منصصدرجہ ذیصصل‬
‫روایتوں کے بارے میں لکھا ہے کہ غلط ہیں‪:‬‬
‫)‪ (۱‬نبی کریمؐ کا شب معراج براق پر سوار ہوتے وقت‪ ،‬اسی طرح قیامت‬
‫کے دن ہر مسلمان کی قبر پر براق بھیجنے کا اللہ تعال ٰی سے وعدہ لینا‪ ،‬بے‬
‫اصل ہے۔‬
‫)‪ (۲‬قیامت کے دن حضرت فاطم ؓہ کا ہاتھوں میں امامین کا خون الصصود اور‬
‫زہر الود کپڑے لے کر ننگے سر برہنہ پا خدا کے سامنے عرش کا پایہ پکڑ کر‬
‫فریاد کرنا اور خون کصے عصصوض میصصں امصصت عاصصصی کصصو بخشصوانا یصہ سصصب‬
‫محض جھوٹ‪ ،‬کذب اور گستاخی و بے ادبی ہے۔‬
‫)‪ (۳‬شب معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عرش پر مع نعلین‬
‫جانا‪ ،‬محض جھوٹ اور موضوع ہے۔‬
‫)‪ (۴‬شب معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وسصصلم کصصو اپؐ ک صے والصصدین کصصا‬
‫عذاب دکھایا جانا‪ ،‬پھر اپؐ کو والدین یا امت میں سے ایک کو بخشوانے کا‬
‫اختیار ملنا‪ ،‬اپؐ کصصا والصصدین کصصو چھوڑنصصا اور امصصت کصصو اختیصصار کرنصصا محصصض‬
‫جھوٹ‪ ،‬افترا اور کذب و بہتان ہے۔‬
‫)‪ (۵‬جس رات امنہ خاتون حاملہ ہوئیں‪ ،‬دو سو عورتیں رشک و حسد سصصے‬
‫مرگئیں اس کی صحت معلوم نہیں‪ ،‬البتہ چند عورتوں کا بہ تمنائے نور نبی‬
‫کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرجانا ثابت ہے۔‘‘‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫تمام علماء نے اس قسم کی روایات موضوعہ ک صے بیصصان کصصی بصصڑی شصصدت‬
‫سے مخالفت کی ہے۔ پچھلے چند سال سے علمہ ابن حجر مکصصی ہیثمصصی)م‬
‫نعمت الکبر ٰی علی العالم فصصی مولصصد سصصید‬
‫‪۹۴۷‬ھ( کے نام سے ایک کتاب ’’‬
‫ولد ادم‘‘ دیکھنے میں ارہی ہے۔ اس میں نبی کریمؐ کے فضصصائل و محاسصصن‬
‫کے بیان کے علوہ میلد شریف منانے کے فضصصائل ب ھی بیصصان کئے گئے ہیصصں۔‬
‫اس میں خلفائے راشدین کے حوالے سے فضائل اس طرح مرقوم ہیں‪:‬‬
‫‪۱‬۔ جس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلد پڑھنے پر ایصصک‬
‫درہم خرچ کیا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا )حضرت ابو بکر صدیق رضی‬
‫اللہ تعال ٰی عنہ(‬
‫‪۲‬۔ جس شخص نے حضصصور صصصلی اللصہ علیصہ وسصصلم کصے میلد شصصریف کصصی‬
‫تعظیم کی اس نے اسلم کو زنصصدہ کیصصا )حضصصرت عمصصر فصصاروق رضصصی الل صہ‬
‫تعال ٰی عنہ(‬
‫‪۳‬۔ جس شخص نے حضرت انور صصصلی اللصہ علیصہ وسصصلم کصے میلد شصصریف‬
‫پڑھنے پر ایک درہم خصصرچ کیصصا گویصصا وہ غصصزوہ بصصدر و حنیصصن میصصں حاضصصر ہوا‬
‫)حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعال ٰی عنہ(‬
‫‪۴‬۔ جس شخص نے حضرت اکرم صلی اللہ علی صہ وسصصلم ک صے میلد شصصریف‬
‫کی تعظیم کی اور میلد کے پڑھنے کا سبب بنا۔ وہ دنیا سے ایمان کے ساتھ‬
‫جائے اور جنت میں حساب کصے بغیصصر جصصائے گصصا )حضصصرت علصصی المرتضص ٰی‬
‫رضی اللہ تعال ٰی عنہ( اس کے علوہ حضرت حسصصن بصصصری‪ ،‬جنیصصد بغصصدادی‪،‬‬
‫معروف کرخی‪ ،‬امام رازی‪ ،‬امام شافعی‪ ،‬سصصری سصصقطی وغیر ہم رضصصی‬
‫اللہ تعال ٰی عنہم کے ارشادات منقول ہیں۔‬
‫اس کتاب کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اقوال دسصصویں صصصدی ہجصصری‬
‫کے بعد تیار کئے گئے ہیں۔ نہ اس زمانے میں درہم خرچ کرنے کی ضصصرورت‬
‫تھی اور نہ ہی میلد النبی کی محافل ربیع الول کے مہینے میصصں مخصصصوص‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫تھیں۔ علمہ یوسف بن اسماعیل نبھانی نے ابن حجر مکی ھیتمیؒ کے اصل‬
‫النعمت الکبر ٰی علی العالم بمولد سيد ولد ادم‘‘ کی تلخیص نقصصل‬
‫رسالہ ’’‬
‫کی ہے۔ )‪ (۳۸۲‬جو خود علمہ ابن حجر مکی نے تیار کی تھی۔ اصصصل کتصصاب‬
‫میں ہر بات سند کے ساتھ بیان کی گئی تھی۔ اس میصصں خلفصصائے راشصصدین‬
‫اور دیگر بزرگان دین کے مذکورہ بال اقوال کا نام و نشصصان تصصک نہیصصں ہے۔‬
‫اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ ایک جعلی کتاب ہے جصصو علم صہ ابصصن حج ص ؒر کصصی‬
‫طرف منسو ب کردی گئی ہے۔‬

‫میلد ناموں کی بیان کرد ہ روایات کا جائز ہ لین ے‬
‫ک ے لئ ے درج ذیل چند‬
‫اقتباسات ملحظ ہ ہوں‪:‬‬

‫‪۱‬۔ ’’راوی لکھتا ہے کے جس رات امن ؓہ حاملہ ہوئیں‪ ،‬دو سو عصصورتیں رشصصک‬
‫و حسد سے مرگئیں۔ اس رات کو اسمان کے فرشتوں نے غلغلہ شصصادمانی‬
‫کا زمین تک پہنچایا اور اہل زمین نے طنطنہ کامرانی کا اسمان کو سصصنایا۔‬
‫جبرائیل علیہ السلم نے علم سبز خصصانہ کعبصہ پصصر نصصصب کیصصا‪ ،‬مبارکبصصاد دی۔‬
‫فرشتوں نے ارباب زمین کو دروازے بہشت کے مفتوح کردیئے۔ عالم‪ ،‬عالم‬
‫انوار اقدس سے معمور ہوگیا۔ ابلیس پہاڑوں میں جاچھپصصا‪ ،‬چصصالیس شصصبانہ‬
‫روز صحرا اور دریا میں سرگرداں رہا۔ بت روئے زمین کے سرنگوں ہوئے۔‬
‫حیوانات قریش کے بولنے لگصے اور بشصارت دی چرنصد پرنصصد کصصو کصہ اج امنصہؓ‬
‫خاتون حاملہ ہوئیں‪ ،‬اب زمانہ خیرالبشر ابو القاسم صلی الل صہ علی صہ وسصصلم‬
‫کے ظہور کا نزدیک ایا۔‘‘‬
‫‪۲‬۔ ’’روایت ہے کہ ہجوم محشر میں غیب سے اواز ائے گصصی کصہ ’’اے میصصدان‬
‫حشر کے مرد اور عورتو! اپنی اپنی انکھیصصں بنصصد کرلصصو۔ مقصصام ادب ہے کصہ‬
‫ہمارے محبوب کی بیٹی فاطمہ زہرا‪ ،‬علص ؓی شصصیر خصصدا کصصی بصی بصصی‪ ،‬حسصصن‬
‫مجتب ٰی ؓ اور حسینؓ شہید کربل کی والدہ اور زینصصبؓ مصصصیبت زدہ کصصی مصصادر‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اتی ہے۔‘‘ حالنکہ عورتوں سے عورت کا پردہ کچھ ضصصروری نہیصصں‪ ،‬مگصصر وہ‬
‫اس طرح سے اوے گی کہ عورتیں دیکھنے کی متحمل نہ ہوں گصصی۔ یصہ اواز‬
‫سنتے ہی سب اپنی اپنی انکھیں بند کرلیں گے اور عمامہ مبصصارک حضصصرت‬
‫شاہ مرداں علی رضی اللہ تعال ٰی عنہ کا خون الود دست راست میصصں لئے‪،‬‬
‫اور کرتہ زہر الود حضرت امام حسینؓ کا ایک کندھے پصصر ڈال صے اور حضصصرت‬
‫امام حسینؓ کا پیرہن خود الود دوسرے شانے پصصر رک ھے زار زار روتصصی اور‬
‫درگاہ الٰہٰی میں فریاد کرتی ہوئی تشریف لئیں گی اور عرش پروردگار کا‬
‫پایہ پکڑ کریوں کہیں گی ’’خدایا! میرے حسین کو ڈیڑھ سو خصصط بھیصصج ک صے‬
‫بلیا‪ ،‬پھر وہ سلوک کئے کہ خیمصے تصصک کصصو جلیصصا اور ریگسصصتان کصصربل میصصں‬
‫بھوکا پیاسا خنجر سے شہید کیا۔ تو ہی انصصصاف کرک صہ میصصرے بچ صے کصصا کیصصا‬
‫قصور تھا۔ اپ کے بیان سے فرشتے اسمان کے روتے روتے بیہوش ہوجائیں‬
‫گے اور پیمبر منبروں سے گرپڑیں گے۔‘‘‬
‫‪۳‬۔ جب سدرة المنتھٰی سے چلنے کا قصد کیا‪ ،‬جبرائیلؑ نے کھڑے ہوکر کہا‪:‬‬
‫اگر یک سرے موئے برتر پرم‬

‫فروغ تجلی بسوزد پرم‬

‫حضرت ؐ نے فرمایا‪ :‬اے جبرائیل! ایسے مقام پر مجھ کو تنہا چ ھوڑے جصصاتے‬
‫عاک اْلجَليل َلُتن َ‬
‫ظر ا ِٰلی جبرئيصصل‘‘ و ہاں س صے ایصصک‬
‫محمدد َ‬
‫ہو‪ ،‬ندا ائی‪َ’’ :‬يا ُ‬
‫ہاتھ نکل اور اندر حجاب کے لئے گیا۔ سصصتر حجصصاب نصصور و ظلمصصت ک صے اس‬
‫طرح طے ہوئے۔ موٹائی ہر حجاب کے پانچ سو بصصرس ک صے راہ اور مسصصافت‬
‫ایک سے دوسرے کی پانچ سو برس کا فرق۔ وہاں پر براق رفتار س صے بصصاز‬
‫رہا۔ رفرف سبز ظاہر ہوا کہ نور اوس کا افتصصاب و ماہتصصاب پصصر غصصالب ت ھا۔‬
‫اس پر بیٹھ کر ستر ہزار حجاب اور طے کئے۔ ہر پردہ ستر ہزار بصصرس کصصی‬
‫راہ‪ ،‬رفصصرف نصے سصصب پصصردوں سصے گصصذارنا۔ ایصصک پصصردہ درمیصصان عصصرش اور‬
‫حضرت کے باقی تھا کہ رفرف غائب ہوگیا۔ )‪(۳۷۵‬‬
‫‪۴‬۔ ’’صفیہ بنت عبدالمطلب سے روایت ہے کہ شب ولدت انحضرتؐ بجصصائے‬
‫دائی قابلہ کے میں خدمت گذار تھی کہ جب اپؐ پیدا ہوئے‪ ،‬میں نے چا ہا ک صہ‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫غسل دوں‪ ،‬ایک نور ظاہر ہوا کہ افتصصاب کصصو اس نصصور سصے کچصھ نسصصبت نصہ‬
‫تھی۔ ایک اواز بلند ائی کہ ’’اے صفیہ! غسل اس مولود کو نہ دے کہ ہم ن صے‬
‫پاک و پاکیزہ کرکے بھیجا ہے۔ حاجت غسل کی نہیں ہے‪ ،‬میں نصے گصصود میصصں‬
‫لیا تو معائنہ کیا کہ پشت مبارک‬
‫سو ُ‬
‫ل الل ّهِ ع ََليهِ َواله لکھا ہے۔‘‘‬
‫م َ‬
‫مد ُ‘ ّر ُ‬
‫ح َ‬
‫ه ُ‬
‫ه ا ِل ّ الل ّ ُ‬
‫َل ِال َ‬
‫‪۵‬۔ ’’حضرت امنہ فرمصصاتی ہیصصں کصہ بعصصد ولدت سصصرور عصصالم‪ ،‬تیصصن فرشصصتے‬
‫اسمان سے اترے‪ ،‬ایک کے ہاتھ میصصں افتصصابہ نقصصرئی‪ ،‬دوسصصرے کصے ہاتھ میصصں‬
‫طشت زمردیں‪ ،‬تیسرے کے ہاتھ میں جصصامہ سصصفید ت ھا۔ ان ہوں نصے حضصصرت‬
‫خواجہ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طشت میں سات بار غسل دیصصا‪،‬‬
‫پھر اس جامہ سفید کو اپؐ کے زیب جسم اطہر کیا اور کہا ’’جصصوانب چ ہار‬
‫گانہ دنیا میں اپؐ کو اختیار فرما نروائی مرحمت ہوا ہے۔ حضصصرت سصصرور‬
‫عالمؐ نے دست مبارکہ وسط طشت میں رکھا‪ ،‬غیب سصے نصصدا ائی‪ ،‬اپؐ نصے‬
‫وسط دنیا یعنی مقام بیت الل صہ پسصصند کیصصا‪ ،‬اس وجصہ سصے ہم نصے اس کصصو‬
‫مسجود خلئق فرمایا۔‘‘‬
‫‪۶‬۔ ’’حضرت عبدالمطلب نے جب خبر پائی ک صہ حضصصرت محمصصد صصصلی الل صہ‬
‫علیہ وسلم پیدا ہوئے کمال خوشی سے دیکھنے کا ارادہ کیا۔ امنہ خاتونؓ نصصے‬
‫فرمایا کہ تم حضرت کو ہرگز نہ دیکھ سصصکو گصے اس لئے کصہ جصصب حضصصرت‬
‫پیدا ہوئے ایک شخص ایا اور کہا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کصصو مکصصان‬
‫سے باہر نہ نکالنا اور تین روز تک کسی کو نصہ دکھانصصا۔ عبصصدالمطلب کصصو یصہ‬
‫سن کر غصہ اگیا اور تلوار کھینچ کر مکان میں جانے لگے ایک فرشتہ بصصڑی‬
‫عظمت وال ننگی تلوار ہاتھ میں لئے سامنے ایا اور کہا ہٹ جصصاو‪ ،‬جصصب تصصک‬
‫تمام فرشتے اسمانوں کے نبی کریم ؐ کی زیارت سے مشرف نہ ہولیں گصصے‬
‫اور سلم نہ کرچکیں گے کسصصی کصصو دیکھنصصا نصصصیب نصہ ہوگصصا۔ جصصب فرشصصتے‬
‫زیارت نبی کرچکے تب عبدالمطلب نے حضصصرت رسصصول کریصصمؐ کصصو دیک ھا۔‬
‫بہت خوش ہوئے۔‘‘‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ان متذکرہ بال چند مثصصالوں کصے علوہ میلد نصصاموں میصصں بصے شصصمار محیصصرا‬
‫لعقول روایات بیصصان کصصی گئی ہیصصں۔ کئی محققیصصن نصے ایسصصی روایصصات کصصو‬
‫صاف طور پر غلط قرار دیا ہے۔ حافظ عبداللہ کانپوری نے ایسصصی روایصصات‬
‫کے بارے میں لکھا ہے کہ‪:‬‬
‫مولود کی اکثر کتابوں میں جھوٹی روایصصتیں لک ھی ہیصصں۔ ان ہوں نصے بعصصض‬
‫وضعی روایات کی مثالیں بھی دی ہیں اور واضح طور پر کہا ہے کہ ایسصصی‬
‫باتیں کفر میں داخل ہیں۔‘‘‬
‫میلد ناموں میں لکھی گئی روایات کے بیان کے ضمن میں سصصید سصصلیمان‬
‫ندوی نے سات اسباب پر بحث کی ہے۔ ان کے نزدیک ان روایصصات کصے پیصصدا‬
‫ہونے کی بڑی وجہ ایسے مولود خواں ہیں‪ ،‬جن کصصی دسصصترس میصصں صصصحیح‬
‫روایات نہیں تھیں اور علم سے محروم تھے۔ انہوں نے اپنصصی خصصداداد ذ ہانت‬
‫اور قوت اختراع سے ان واقعات کو لطائف صوفیانہ اور مضامین شاعرانہ‬
‫میں بیان کیا مگر سننے والوں نے انہیں روایت کصصی حیصثیت دے دی یصا بعصد‬
‫میں ان بیانات نے روایت کی صورت اختیار کرلی۔ اس طصصرح س صے وقصصائع‬
‫میلد میں وضعی روایات اگئیصصں اور ان ہی روایصصات کصصو واعظصصوں اور میلد‬
‫خوانوں نے امر واقعہ سمجھ لیا اور اسے بطور معجزہ پیش کیا جصصانے لگصصا۔‬
‫سید سلیمان ندوی نے تقریبا ً تیس )‪ (۳۰‬روایات کی نشاندہی کصصی ہے جصصو‬
‫ان کے نزدیک وضعی ہیں جبکہ دیگر اہل سیر اور دیگر مصصصنفین نصے انہیصصں‬
‫فضائل نبوی میں شمار کیا ہے۔‬
‫میلد ناموں میں بیان کی گئی روایات کصصا تصصذکرہ کرت ص ے ہوئے‪ ،‬ڈاکصصٹر انصصور‬
‫محمود خالد لکھتے ہیں‪:‬‬
‫’’اردو میلد ناموں میں کئی روایات محیرا لعقول ہیں‪ ،‬مثل ً یہ کہ اللہ تعال ٰی‬
‫نے زمین و اسمان پیدا کرنے سے نو لکھ برس پہل صے نصصور محم ص ؐد پیصصدا کیصصا‪،‬‬
‫پھر لوح و قلم‪ ،‬کرسی و عرش‪ ،‬زمین و اسمان‪ ،‬ارواح اور فرشتے وغیرہ‬
‫اسی نور سے پیدا ہوئے‪ ،‬یا یہ کہ ولدت کے بعد ابر کصصا ایصصک ٹکصڑا ایصا اور ا ؐپ‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫کو اٹھا کصصر لصے گیصصا اور غیصصب سصے اواز سصصنائی دی کصہ محمص ؐد کصصو ملکصصوں‬
‫ملکوں پھراو اور سمندروں کی تہوں میں لے جاو یا یہ روایصصت کصہ جصصب ا ؐپ‬
‫اپ سے باتیں کرتا تھا اور انگلصصی‬
‫ؐ‬
‫گہوارہ میں تھے تو اپؐ چاند سے اور چاند‬
‫سے اپؐ اس کو جدہر اشارہ کرتے تھے وہ ادھر جھک جاتا ت ھا‪ ،‬معصصراج کصصی‬
‫شب عرش پر نعلین سصصمیت جانصصا‪ ،‬جیسصصی روایصصات ب ھی ان میلد نصصاموں‬
‫میں درج ہیں۔ جن کو تسلیم کرنے میں تامصصل ہوتصصا ہے۔‘‘ )اردو میصصں میلد‬
‫النبی صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ ‪ 119‬تا ‪(124‬‬

‫مروج ہ میلد ک ے موجد کون؟‬
‫کیا ہی اچھا ہوتا اگر قادری صاحب یہ بھی بتا دیتے ک صہ اس ’’مروج صہ میلد‘‘‬
‫کی ابتدا ’’فاطمی شیعوں‘‘ نے کی تھی بلکہ تو ی صہ انصصصاف کصصا تقاض صہ ت ھا‬
‫کیوں کہ قادری صاحب نے تو ساری دنیا سے اسے ’’ثابت شدہ امر‘‘ ثصصابت‬
‫کرنے کی کوشش کی ہے۔‬
‫’’مروجہ میلد‘‘ کی ابتداء ’’فاطمی شیعوں‘‘ نے کی تھی درج ذیل کتابوں‬
‫میں یہ بات موجود ہے‪:‬‬
‫)‪ (۱‬علمہ مقریزی کی )المواعظ وال عتبار بصصذکر الخطصصط وال ثصصار(‪(۲) ،‬‬
‫علم صہ بخیصصت المطیعصصی الحنفصصی کصصی )احسصصن الکلم فیمصصا یتعلصصق بالسصصنہ‬
‫والبدعۃ من الحکام(‪ (۳) ،‬ابو العباس احمد بن علی القلقشندی کی )صبح‬
‫العشی فی صناعۃ النشصصاء(‪ (۴) ،‬شصصیخ علصصی محفصصوظ کصصی) البصصداع فصصی‬
‫مضار البتداع(‪ (۵) ،‬الستاذ سید علی فکصصری کصصی )المحاضصصرات الفکری صہ۔‬
‫عنوان البدع فی الموالد(‪ (۶) ،‬حسن بن ابراہیم اور طہ احمد شصصریف کصصی‬
‫)کتاب المعزلدین اللہ(‪ (۷) ،‬احمصصد مختصصار العبصصادی کصصی )التاریصصخ العباسصصی‬
‫والفاطمی(‪ (۸) ،‬قاضی دوحصہ قطصر احمصد بصن حجصر )بصدعات کصا شصرعی‬
‫پوسٹمارٹم(‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫تفصیل کے لئے )رسائل فی حکم الحتفال بالمولد النبصصوی‪ ،‬جزثصصانی‪ ،‬طبصصع‬
‫ریاض اور دین الحق بجواب جاء الحق(‬
‫شاید قادری صاحب کو اس حقیقت کا علم ہی نہ ہوا؟‬
‫یا پھر کسی مخصوص ’’حکمت عملی‘‘ کے تحت اسے چھپا لینا ہی ان ہوں‬
‫نےایمان سمجھا ہو۔ کیونکہ قادری صاحب ’’اتحصصاد امصصت‘‘ کصے ب ھی داعصصی‬
‫ہیں اور سب سے بڑھ کر تو انہیں فاطمیوں اور رافضیوں سے خطصصرہ ہوتصصا‬
‫ہے کہیں وہ ’’ناراض‘‘ نہ ہوجائیں‪ ،‬اسی لئے وہ ماہ محرم الحرام میں جصصس‬
‫طرح ’’میڈیا‘‘ پر گفتگو کرتے دکھائی دیتصے ہیصصں۔ معلصصوم ہوتصصا ہے کصہ بصصس‬
‫’’شیعہ سنی بھائی بھائی‘‘ جناب کھل کر رونے پیٹنے کا ڈھونگ رچاتے ہیصصں‬
‫کہ اخر ’’اتحاد امت‘‘ کیلئے یہ ’’حکمت و مصلحت‘‘ ناگزیر جصصو ٹ ھہری اور‬
‫اپنے نام نہاد ’’سنی‘‘ مقلدین کو دکھانے کے لئے ’’یوم عاشوراء‘‘ کصصو عیصصد‬
‫کا دن لکھ رکھا ہے اور ماہ محرم میں اسے ’’یصصوم مصصاتم‘‘ بنصصانے میصصں لگصے‬
‫رہتے ہیں۔‬
‫کیونکہ ’’عید لکھدینا‘‘ اسان ہے مگر ’’منانا‘‘ حکمت قادری کے منافی؟ذرا‬
‫دیکھے جناب کی میلد النبی صفحہ ‪(255‬‬

‫صحاب ہ کرام رضی الل ہ عن ہم ن ے جشن میلد‬
‫ن ہیں منایا‪:‬‬

‫باب ہفتم کا عنوان قادری صاحب یوں قائم کر تے ہیں ’’ قرون اول ص ٰی ک صے‬
‫مسلمانوں نے جشن میلد کیوں نہیں منایا‘‘؟‬
‫پھر اس کی توضیح بیان کر تے ہوئے ہیڈنگ لگاتے ہیں )‪ (۱‬صصصحابہ رضصصی اﷲ‬
‫عنہم کیلئے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا سانحہ ارتحال انتھائی غصصم انگیصصز‬
‫تھا۔‬
‫اور پھر اس کے تحت رقم طراز ہو تے ہیں‪:‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اگصصر ان ہوں ن صے اپ صصصلی اﷲ‬
‫علیہ وسلم کا یوم ولدت تزک و احتشام س صے نہیصصں منایصصا تصصو اسصصکی ایصصک‬
‫خاص وجہ تھی جیسا کہ سب جانتے ہیصں حضصور نصبی اکصرم صصلی اﷲ علیصہ‬
‫وسصصلم کصصا یصصوم ولدت اپ صصصلی اﷲ علی صہ وسصصلم ک صے وصصصال کصصا ب ھی دن‬
‫تھا ۔۔۔۔۔۔ )‪ 454‬صفحہ(‬
‫گویا اس طرح قادری صاحب بتانا چاہتے ہیں کصہ بصصوجہ غصصم جصصدائی رسصصول‬
‫صلی اﷲ علیہ وسلم صحابہ کرامؓ ’’ مروجہ جشن‘‘ نہ منصصاتے ت ھے۔ ہمیصصں تصو‬
‫ایسا معلوم ہو تا ہے کہ قادری صاحب شصصاید ’’ اعصصداء صصصحابہ ‘‘ س صے میصصل‬
‫جول بڑھانے کی وجہ سے ان کے اثرات قبول کر چکے ہیں اسصصی وجصہ سصے‬
‫وہ صحابہ کے بارے میں یہ بات لکھ گئے جو اوپر ذکر کی گئی ہے ی صہ کیس صے‬
‫ممکن ہے کہ جو ’’صحابہ کرام ‘‘ قران و حدیث کی ترویصصج و ابیصصاری کیلئے‬
‫اپنی خواہشات کو بال طاق رکھ دیا کر تے تھے‪ ،‬اپنے ہر عمل کی نفصصی کصصر‬
‫دیا کرتے تھے وہ اپنے غم میں قران و حدیث کے ’’ثابت شدہ امر‘‘ کو ب ھی‬
‫بھل دیتے؟ یا پھر یہ عمل ’’ثابت شدہ امر‘‘ ہی نہ تھا۔ اور ان کصصے دور میصصں‬
‫تو واقعی نہ تھا جیسا کہ خود قادری صاحب کے حوالوں میں جا بجصصا لک ھا‬
‫ہے’’مروجہ جشن و جلوس اور محفل میلد‘‘ خیر القرون ‪ ،‬قصصرون اول ص ٰی ‪،‬‬
‫قرون ثلثہ وغیرہ میں نہ تھا۔‬
‫مگر یہاں قادری صاحب نے صحابہ پر الزام دھر دیا کہ وہ ’’غم ‘‘ میں مبتل‬
‫ہو نے کی وجہ سے خوشی کا اظہار نہ کر سکے۔ معاذ اﷲ‬
‫اور پھر اس کے بالکل برعکس بھی لک صھ دیصصا‪ :‬سصصو وہ ولدت کصصی خوشصصی‬
‫میں جشن مناتے نہ وصال کے غم میں افسردہ ہوتے؟؟؟ )صفحہ ‪( 454‬‬
‫پہلے کہا غمزدہ ہوتے پھر کہا نہ وصال کے غم میں افسردہ ہوتے!!‬

‫اب کیا صحیح اور کیا غلط؟‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫قادری صاحب نے مذکورہ بال صصفحے پصر مزیصد دو ہیصڈنگز لگصائی ہیصصں )‪(1‬‬
‫انسانی فطرت لمحات غم میں خوشی کا کھل اظ ہار نہیصصں کرنصے دیصصتی )‬
‫(کیفیات غم کی شدت قرون اول ٰی میں جشن منانے سے مانع تھی‬
‫‪2‬‬
‫غور کیجئے کس قدر معصومانہ انداز میں قادری صاحب لوگوں کو د ھوکہ‬
‫دے رہے ہیں کہ وفات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کی حالت و کیفیت‬
‫کی طرف اپنی گفتگو کا رخ موڑ دیا ہے‪ ،‬ہم یہ عرض کر تے ہیں کہ قصصادری‬
‫صاحب اپکی ’’ عوام کا ل نعام‘‘ ہوگی تو ہو گی مگر بحمد اﷲ ہم سصصلفی‬
‫حضرات اپکے چکر میں انے والے نہیں ہمارا اپ سے سوال ہے کہ ہم نے اپ‬
‫سے یہ پوچھا ہی کب ہے کہ صحابہ کرامؓ نے وفات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم‬
‫کے بعد ’’جشن میلد‘‘ منایا تھا یا نہیں بلکہ سوال تو یہ ہے کہ بعصصد از اعلن‬
‫نبوت خود نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کم و بیش ‪ 23‬سصصال تصصک صصصحابہ‬
‫کے درمیان موجود رہے اس دوران یہ ’’مروجہ جشن میلد‘‘ کیصصوں نصہ منایصصا‬
‫گیا؟‬

‫غم تو وفات ک ے بعد شروع ہوا ت ھا ن ہ ؟‬

‫صحابہ کرامؓ کے غم کی چند ایک مثالیں ذکر کرنے کے بعد قصصادری صصصاحب‬
‫ایک جگہ لکھتے ہیں‪ :‬جب محبوب خدا صلی اﷲ علیہ وسلم کصصی جصصدائی پصصر‬
‫غم و اندوہ اور اضطراب دل کی یہ کیفیت ہو اور ی ہی دن اپکصصی ولدت بصصا‬
‫سعادت کا بھی ہو تو کس کے اندر اتنی تاب ہو سصصکتی ت ھی ک صہ وہ جشصصن‬
‫ولدت منانے کا سوچے ؟ )صفحہ ‪( 468‬‬
‫* ہمارا سوال یہی ہے کہ وفات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم س صے قبصصل حیصصات‬
‫النبی صلی اﷲ علیہ وسلم میں صحابہ کرامؓ نے ’’مروجہ جشن میلد‘‘ کیوں‬
‫نہ منایا؟؟‬
‫قادری صاحب کا وفات کیلئے لفظ ’’وصال‘‘ استعمال کرنصصا ب ھی صصصوفی‬
‫ازم کی ترجمانی ہے قران و سنت کصصی نہیصصں اور ج ہاں تصصک تعلصصق ہے ‪12‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ربیع الول کا یوم وفات ہونا تو یہ ہمیں تسصصلیم ہو یصصا نصہ ہو! مگصصر قصصادری‬
‫صاحب کے مسلکی ہم زلف کو کب نصصورانی صصصاحب کصصو یصہ تاریصصخ ہر گصصز‬
‫قبول نہیں وہ کہتے ہیں‪:‬‬
‫یہ خادم اپ کو چیلنج کر تا ہے کہ اپ تقویم سے اس سال ربیع الول میصصں‬
‫‪ 12‬تاریخ پیر کے دن ثابت کر دیں۔۔ حاشیہ میں لکھتے ہیصصں‪ :‬حضصصور صصصلی‬
‫اﷲ علیہ وسلم کے اس دنیا سے رحلت فرمصصانے کصصی تاریصصخ یکصصم یصصا ‪ 2‬ربیصصع‬
‫الول ہے۔ )دیکھئے اسلم کی پہلی عید صفحہ ‪( 31‬‬
‫اب یہ مسئلہ تو قادری اور نورانی اوکاڑوی خود ہی حصصل کریصصں ک صہ صصصحیح‬
‫موقف کیا ہے؟ مذکورہ بحث میں قادری صاحب نے جصصو ’’د ھول جھونصصک‘‘‬
‫کہ ثابت کر نیکی کوشش کی ہے وہ تو واضح ہو چکا مگر یہ موقف بفصصرض‬
‫تسلیم خود علماء بریلی کو بھی منظور نہیں بلکہ علم صہ ابصصو الحسصصن زیصصد‬
‫فاروقی فرماتے ہیں‪ :‬اس وقت مسلمان کو گھر بیٹھنے کی فرصصصت ک ہاں‬
‫تھی جہاد فی سبیل اﷲ اور تبلیغ دین اور دیگصصر بصڑے بصصڑے کصصام کرنصے میصں‬
‫مصروف ت ھے‪ ،‬اب وہ کصصام ک ہاں ہیصصں۔ )دیکھئے خیصصر المصصورد فصصی احتفصصال‬
‫المولد صفحہ ‪ 560‬مطبوع فی رسائل میلد مصطفی ناشر قادری رضوی‬
‫کتب خانہ لہور(‬
‫اب قادری صاحب علمہ زید کو بھی سمجھائیں کہ صحاب ؓہ نے کیوں نہ منایا‪،‬‬
‫کو کب صاحب کو بھی پڑھائیں کہ تاریخ وفات النبی صلی اﷲ علیصصہ وسصصلم‬
‫ولدت با سعادت کی طرح ‪ 12‬ربیع ال ول ہی تھی ہم تو ی صہ کہیصصں گ صے ک صہ‬
‫علمہ زید فاروقی نے صحیح لکھا ! اج بریلویت کے پاس صصصحابہ والصے کصصام‬
‫کہاں ہیں؟‬
‫شاید اسی لیے یہ ’’مروجہ جشن و جلوس‘‘ میں لگے ہوئے ہیں۔‬
‫قادری صاحب اگے چل کر لکھتے ہیں‪ :‬یہی کیفیت )یعنی غم کصصی کیفیصصت(‬
‫تابعین اور تبع تابعین کے ادوار میں بھی رہیں۔ )صفحہ ‪( 482‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫قادری صاحب گئ ے غم رسول ﷺ ب ھول گئ ے مگر‬
‫غم حسین رضی الل ہ عن ہ۔‬
‫پھر عنوان قائم کر تے ہیں’’ولدت کصصی خوشصصی غصصم و صصال پصصر بعصصد ازاں‬
‫غالب اتی گئی‘‘‬
‫ہم کہتے ہیں قادری صاحب یہ اپ ہی کا ظرف ہے کہ نبی رحمت صصصلی اﷲ‬
‫علیہ وسلم کے غم کو اپ نے اپنی مرضی سے‪ ،‬منہج صصصحابہ و تصصابعین سصے‬
‫انحراف کر کے ’’ولدت‘‘ کی خود ساختہ خوشی سے ختم کر دیا !!!‬
‫یہی اپ کی محبت و عشق کی حقیقت ہے‪ ،‬اچھا ذرا یہ بتائیں کہ بعصصد ازاں‬
‫غم رسول رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم تو اپ بھول گئے مگر کیا وجہ ہے کصہ‬
‫’’غم نواسہ رسول ؐ ‘‘ نہیں بھول پاتے؟‬
‫شرم مگر تم کو نہیں اتی۔‬
‫غم رسول رحمتﷺ اس قدر سستا؟ اور غصصم حسصصین رضصصی اللصہ عنصہ اس‬
‫قدر گراں؟‬
‫کچھ تو ہے جسصصکی پصصردہ داری ہے!!! قصصادری صصصاحب انتظصصار کریصصں جصصب‬
‫حوض کوثر پر تمہیں کہا جائے گا ’’سحقا سحقا لمن غير بعدی ‘‘ اللهصصم ل‬
‫تجعلنا مع الظالمين اور پھر ظلم تو یہ ہے کہ قادری صاحب نے اپنے موقف‬
‫کو صحیح ثابت کرنے کیلئے ایک ضعیف حدیث کو دلیل بناتے ہوئے نبی علیہ‬
‫السلم کی وفات کو ’’رحمت ‘‘ سے تعبیر کر ڈال۔‬
‫ہیڈنگ لگاتے ہیں‪’’ :‬حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کی ولدت اور رحلت دونصوں‬
‫رحمت ہیں‘‘‬
‫قادری صاحب کی دلیلیں اکثر و بیشتر ضعیف بلکہ ضعیف تر ہو تصصی ہیصصں‬
‫جبکہ صحیح روایات تو ان کے حلق سے اتصصر تصصی ہی نہیصصں خصصواہ وہ صصصحیح‬
‫بخاری و صحیح مسلم میں ہی کیوں نہ ہوں۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫موصوف کی پیش کر دہ روایت حياتی خير لکم۔۔۔ضعیف ہے۔ شصصیخ البصصانی ؒ‬
‫لکھتے ہیں‪:‬‬
‫خلصہ کلم یہ ہے کہ یصہ حصصدیث تمصصام طصصرق کصے سصصاتھ ضصصعیف ہے اور اس‬
‫سلسلے میں قدرے بہتر حدیث بکر بن عبد اﷲ المزنی ہے مگصصر وہ مرسصصل‬
‫ہے اور مرسل تو ضعیف احادیث کی اقسام میں سے ہہہوتی ہہہے۔ محصصدثین‬
‫عظام کے نزدیک۔ پھر حدیث ابن مسعودؓ ہے اور وہ مبنی بر خطاء ہے جبکہ‬
‫اس سلسلے میں انتہائی نا مناسب حدیث انس ہے اپنے دونصصوں طصصرق کصے‬
‫ساتھ۔ )سلسلہ ضعیفہ ‪۲/۴۰۶‬۔ رقم ‪( 975‬‬
‫امام شاطبی رحمہ اﷲ نے صحیح فرمایا تھا کہ اہل بدعت کا اعتماد ضصصعیف‬
‫‪ ،‬سخت کمزور اور ان روایات پر ہو تا ہے جنہیں اصول میں ماہر محصصدثین‬
‫قبول نہیں کرتے۔ )ال عتصام ‪( 152/1‬‬

‫قارئین کرام!‬
‫ہو سکتا ہے کہ قادری صاحب اور ان کے ہمنوا یہ کہیں کہ حدیث ضصصعیف ہہہو‬
‫تو پھر کیا ہوا ہے تو حدیث ہی نا!!!‬
‫اس سلسلے میں ہم یہ عرض کر تے ہیں کہ کیا ائم صہ و محصصدثین رحم ہم اﷲ‬
‫اجمعین نے جو رجال کی چھانٹ پھٹک کر تے ہوئے ہزاروں صفحات تحریصصر‬
‫کیے ہیں جو سینکڑوں کتابی شکل میصں موجصود ہیصصں۔ یصہ سصصب بیکصصار ہے‪،‬‬
‫فضول ہے؟‬
‫اگر ضعیف اور موضوع روایات بھی دلیل و حجت ہیں تصصو پ ھر صصصحیح اور‬
‫ضعیف کی اصطلح بنانے کا کیا فائدہ ؟‬
‫اور پھر خود فکر بریلی کے علمبر دار کیا کسی روایت کو ضعیف ک ہہ کصصر‬
‫اسے نا قابل عمل قرار نہیں دیتے؟‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫بالکل قرار دیتے ہیں ہم بحمد اﷲ اس کے حوالے بھی دینے کو تیار ہیصصں۔ ان‬
‫شاء اﷲ‬
‫قادری صاحب اگر ’’وفات ‘‘ کو ’’رحمت‘‘ ہم قرار دیتے تو شصصاید گسصصتاخ‬
‫و بے ادب قرار پاتے مگر اپ تو اپ ہی ہیں نا!‬
‫جو چاہے اپکا حسن کرشمہ ساز کرے‬

‫کیا قادری صاحب صحابہ و تابعین کو امت مسلمہ سے‬
‫خارج کرتے ہیں؟ معاذاللہ‬
‫قادری صاحب بے سوچے سمجھے مزید ’’جسصصارت‘‘ کصصر ت صے ہیصصں فرمصصاتے‬
‫ہیں!‬
‫حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے موقع پر سصصوگ منانصصا اور‬
‫غم کرنا امت مسلمہ کا وطیرہ اور شیوہ نہیں اس لیے کہ سوگ نعمصت کصے‬
‫خاتمے پر کیا جا تا ہے )صفحہ ‪( 488 ، 487‬‬
‫ت کرم ہے سر پہ تو غصصم کصصس لی صے کریصصں‘‘ )صصصفحہ‬
‫مزید لکھتے ہیں‪’’ :‬دس ِ‬
‫‪( 488‬‬
‫قادری صاحب ہم نہیں کہتے اپ سوگ منائیں کیونکہ اپ کے ہاں تو ’’سوگ‬
‫اور غم‘‘ بھی عرس )شادی ( کہل تا ہے۔‬
‫مگر کیا صحابہ کرام کا غم نعمت کے خاتمے پر تھا؟ یا پھر کصصوئی اور وج صہ‬
‫تھی؟‬
‫کیا انہیں معلوم نہ تھا کہ وفات تو رحمت ہے؟ غم نہ کرت صے ک صہ دسصصت کصصرم‬
‫سر پہ ہے شاید یہ سب قادری صاحب کو ہی مل ہے صحابہ و اتباع صحابہ تو‬
‫اس سے شاید اشنا ہی نہ تھے۔ جبھی ہر سال غم و اندوہ میں مبتل ہوجاتے‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫تھے شوخ ال سلم صصصاحب اپ کصصو اپنصصا ’’مبلصصغ علصصم‘‘ مبصصارک ہو‪ ،‬اپ تصصو‬
‫صحابہ کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔‬

‫قادری صاحب کی فطرت اور بدعت‪:‬‬
‫پھر قادری صاحب ایک اور انداز سے استدلل کی کوشصصش کصصر ت صے ہیصصں‘‘‬
‫)صفحہ ‪( 491‬‬
‫اظہار خوشی بدعت نہیں تقاضائے فطرت ہے‘‘‬
‫سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا ’’ عدم اظہار خوشی‘‘ فطرت کے منافی ہے؟‬
‫تو کیا نعوذ با ﷲ ثم نعوذ با ﷲ صحابہ‪ ،‬تابعین اور ساتویں صصصدی ہجصصری تصصک‬
‫کے تمام اولیاء کرام اس ’’فطرت ‘‘ سے محروم تھے؟‬
‫اور یہ تو قادری صاحب نے کہا کہ’’بدعت‘‘نہیں‪ ،‬مگر بدعت کہنے والوں کصے‬
‫مقابلے میں قادری صاحب ’’چے پدی اور چہ پدی کا شصصوربہ‘‘ کصے مصصصداق‬
‫ہیں۔ ان کے اپنے ہی پیش کر دہ کئی علما نے اسے بصصد عصصت قصصرار دیصصا ہہہے۔‬
‫ہمارا خیال ہے کہ قادری صاحب نے اپنی خواہشات کصصو ’’فطصصرت‘‘ کصصا نصصام‬
‫دیدیا ہے۔ بس جس کام کی دلیل نہ ہو کہدیا یہ تو فطر ی عمصصل ہے؟ بصصڑی‬
‫ڈھٹائی سے قادری صاحب ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں’’ اس س صے بصصڑھ‬
‫کر اگر یہ کہاجصائے تصو چنصدا ں غلصط نصہ ہو گصا کصہ محافصل میلد کصا انعقصاد‬
‫اسلمی ثقافت کا جزول ینفک بن گیا ہے۔ )صفحہ ‪( 494‬‬
‫حالنکہ اسلم جس ہستی مقدسہ و مطہرہ پر نازل ہورہا تھا اسی پر اسصصی‬
‫کی زندگی میں مکمل ہو گیا تھا اور ایسا مکمل کہ جس میصں کصوئی شصبہ‬
‫ہی نہ رہا اور اس تکمیل کا منکر ’’کا فصصر‘‘ ہہہی قصصرار پصصا تصصا ہہہے اب کیصصا یصہ‬
‫ممکن ہے کہ اسلم مکمل ہو اور اسصصلمی ثقصصافت غیصصر مکمصصل ؟ اور پنصصدر‬
‫ہویں صدی میں قادری صاحب یہ سند جاری کریصصں ک صہ اج ’’مروج صہ میلد‘‘‬
‫سے اسلمی ثقافت کی تکمیل ہو تی ہے؟‬
‫اور پھر ’’شوخ ال سلم‘‘ صاحب کصصی شصصوخیاں تصصو ملحظصہ کریصصں کب ھی‬
‫’’مروجہ میلد‘‘ قران و حدیث سے ثابت کرنیکی کوشش کصصر ت صے ہیصصں تصصو‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫کبھی ’’ائمہ و محدثین‘‘ سے اور جب اصحاب خیر القرون سے ثابت نہ کصصر‬
‫سکے تو پھر اسے ’’اسلمی ثقافت ‘‘ کا جزو ل ینفصصک قصصرار دیصصدیا ہے اور‬
‫اس س صے قبصصل اس صے ’’ثصصابت شصصدہ امصصر‘‘ کصے سصصاتھ سصصاتھ ’’رسصصم و رواج‬
‫علقائی‘‘ بھی کہنے کی جسارت کر چکے ہیں۔‬

‫کلچر کی بات اور نیا دور‪:‬‬
‫گویا ابھی تک جناب یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے ک صہ اس ’’مروج صہ میلد‘’‘ پصصر‬
‫حکم کیا لگائیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے غم‬
‫والم کو بیان کرنے کے بعد پھر ایصصک اور لغوبصصات کہتصے ہیصصں ’’قصصرون اولص ٰی‬
‫میں جشن مسرت منانے کا کلچر عام نہ تھا ‘ ‘ صفحہ )‪(494‬‬
‫گویا یہ ’’مروجہ میلد‘‘ فقط ایک علقائی کلچر کصصی حیصصثیت رکھتصصا ہے اور‬
‫قرون اول ٰی میں یہ عام نہ تھا اور بس تو پھر بتایا جائے کہ یہ قران و سصصنت‬
‫کا ثابت شدہ امر کیسے ہوا اور پھر گزشتہ صفحات میں یہ لکھنصے کصصی کیصصا‬
‫ضرورت تھی کہ ’’کیفیات غم کی شصصدت قصصرون اولص ٰی میصصں جشصصن منصصانے‬
‫میں مانع تھی‘‘ )صفحہ ‪( 454‬‬
‫اس باب کے اخر میں قادری صاحب لکھتے ہیں ’’ نئے دور کے نئے تقاضے‘‘‬
‫)صفحہ ‪( 498‬‬
‫اور پھر خود ہی لکھتے ہیں ’’قرون اول ٰی کے مسلمانوں میں ا ہم ملصی اور‬
‫مذہبی اہمیت کے دن بطور تہوار منانے کا کوئی رواج نہ ت ھا اور اس وقصصت‬
‫کی ثقافت میں ایسی کوئی روایت کا ر فرمانہ تھی جس کے تحت صصصحابہ‬
‫کرامؓ یوم نزول قران یوم بدر اور یوم فتح مکہ مناتے۔ )‪ 498‬صفحہ(‬
‫شاید قادری صاحب اسلم کے ظہور کے بعصصد ب ھی علقصصائی رسصصم و رواج‬
‫چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں جبکصہ مسصصلمانوں کصصا عقیصصدہ‪ ،‬ت ہذیب و تمصصدن اور‬
‫ثقافت اسلمی تعلیمات کا مظہر ہو تی ہے۔ مگر قصصادری صصصاحب کصصو اس‬
‫سے کیا وہ تو لبرل ہیں اور نظریہ ارتقاء سے متاثر دکھائی دیتے ہیصصں جصصس‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫کی بدولت ’’نئے دور کے نئے تقاضے‘‘ اسلمی نظر انا شروع ہوجاتے ہیصصں۔‬
‫قادری صاحب کا اسلم بھی ترقی پذیر رہتا ہے۔ اگے اگ صے دیکھئے ہوتصصا ہے‬
‫کیا!!!‬

‫نئ ے عنوانات اور اس ک ے جوابات‪:‬‬
‫باب ہشتم کا عنوان موصوف یوں قائم کصصر تصے ہیصصں‪’’ :‬جشصصن میلد النصصبی‬
‫صلی اﷲ علیہ وسلم کے اجزائے تشکیلی ‘‘‬
‫پھر اجزائے تشکیلی کے عنوانات اجمالی طور پر ذکصصر کصصر کصے فصصصل اول‬
‫قائم کر تے ہیں اور پھر اس کے تحت لکھتے ہیں۔‬
‫’’مجصصالس و اجتماعصصات کصصا اہتمصصام‘‘ پ ھر اس کصصے ذیلصصی عنوانصصات رقصصم‬
‫مسلسل کے ساتھ بیان کر تے ہیں )‪ (۱‬حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا اپنصصی‬
‫ولدت سے قبل اپنی تخلیق کا تذکرہ۔‬
‫)‪ (۲‬حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا اپنے میلد کے بیان کے لیے اہتمام اجتماع‬
‫)‪ (۳‬بیان شرف و فضلیت کے لیے اہتمام اجتماع‬
‫قارئین کرام غور کیجئے ’’قصصادری صصصاحب‘‘ اپنصصی کتصصاب کصصا حجصصم بڑ ھانے‬
‫کیلئے کس طرح نئے نئے زاویوں سے مسئلے کو بیان کر رہے ہیصصں۔ حصصالنکہ‬
‫بات سیدھی سی ہے کہ اگر زیر نظصصر ابصصواب و عنوانصصات میصصں بیصصان کصصر دہ‬
‫احادیث سے ’’ مروجہ میلد‘‘ کو دلئل عطا ہوتے ہیصصں تصصو انہیصصں ’’دلئل ‘‘‬
‫میں بیان کردینا چاہئے تھا؟ تکرار خواہ عنوان بدل کر ہو یصصا پ ھر ابصصواب و‬
‫تراجم بدل کر بہر حال تکرار ہے کیا ہی اچھا ہو تصا ہے کصہ قصادری صصاحب‬
‫اپنے ہم مشرب مولنا کو کب نورانی کصصی طصصرح فقصصط ‪ 56‬صصصفحات کصصی‬
‫کتاب لکھ دیتے تاکہ عوام بریلی پر بوجھ نہ پڑتا۔۔۔۔۔۔ مگر پھر موصوف کصصو‬
‫’’شیخ ال سلم‘‘ کیسے باور کیا جا تا؟‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫قادری صاحب کا قائم کردہ پہل عنوان ان ک صے’’مروج صہ جشصصن میلد‘‘ کصصی‬
‫دلیل نہیں بن سکتا کیونکہ اس میں توجناب نے ’’تخلیق و نبصصوت‘‘ کصصا ذکصصر‬
‫کر رکھا ہے اور اگر یہ دلیل ہو بھی تو ’’جشن تخلیق ونبوت‘‘ کہا جصصائے گصصا‬
‫نہ کہ ’’جشن عید میلد‘‘ ۔ فافهم‬
‫باقی بظاہر دو نظر انے والے موضوع اور عنوان معنوی اور روایتی اعتبصصار‬
‫سے ایک ہی ہیں۔ جناب نے بلوجہ دوسرخیاں لگا کر عصوام کصی تصوجہ اپنصے‬
‫’’علم ‘‘ کی طرف مبصصذول کصصروائی ہے۔ اور پ ھر یصہ تینصصوں مصصل کصصر ب ھی‬
‫’’مروجہ میلد‘‘ کی دلیل نہیں بن سکتے کیونکہ‬
‫)‪ (۱‬اس میں ربیع ال ول کا ذکر نہیں۔‬
‫)‪ (۲‬اس میں ‪ 12‬تاریخ کا ذکر نہیں۔‬
‫)‪ (۳‬اس میں ہر سال اس اہتمام کا ذکر نہیں۔‬
‫)‪ (۴‬اس میں مروجہ طریقہ کار بھی موجود نہیں۔‬
‫)‪ (۵‬اس ذکر کصردہ عمصصل کصو ب ھی صصحابہ کصرامؓ ‪ ،‬تصابعین عظصامؓ اور ائمصہ‬
‫محدثین ؒ نے اختیار نہیں کیا چہ جائیکہ اس سے وہ لصصوگ ’’میلد مروجصہ‘‘ کصصا‬
‫استنباط کرتے۔‬
‫اور اگصصر قصصادری صصصاحب نصے از خصصود ان احصصادیث سصے’’مروجصہ میلد‘‘ پصصر‬
‫استدلل کیا ہے تو وہ اس کے اہل ہو ہی نہیں سکتے کیصصونکہ وہ تصصو ’’مقلصصد‘‘‬
‫ہیں۔ مجتھد نہیں۔‬
‫پھر قادری صاحب’’فصل دوم‘‘ قصصائم کصصر کصے عنصصوان لکھتصے ہیصصں ’’ بیصصان‬
‫سیرت وفضائل رسول صلی اﷲ علی ہ وسلم ‘‘ پھر نمبر وار ترتیب س ے ہیصصڈ‬
‫نگز لگاتے ہیں )‪ (۱‬احکام شصصریعت کصصا بیصصان )‪ (۲‬تصصذکار خصصصائل مصصصطفی‬
‫صلی اﷲ علیہ وسلم )‪ (۳‬تذکار شمائل مصطفی صصصلی اﷲ علی صہ وسصصلم )‪(۴‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫تذکار خصائص و فضائل مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم )‪ (۵‬ذکر ولدت اور‬
‫روحانی اثار و علئم کا تذکرہ۔‬
‫* غور فرمائیے ! قادری صاحب نے یہ نئے عنوان قائم کصصر ک صے ’’تکصصرار ب صے‬
‫جا‘‘ کی ہے۔ کتاب کا حجم بڑھایصا یصا پ ھر واقعصی یصہ ایصک نیصا عنصوان ہے؟‬
‫یقینًاعلمی دنیا میں یصہ کصصوئی نیصصا عنصصوان نہیصصں ہے بلکصہ گزشصصتہ فصصصل کصے‬
‫عنوانات کے مترادف ہے۔ سابقہ عنوانات سیرت و فضائل سے ہی عبصصارت‬
‫ہیں حتی کہ ’’ائمہ حدیث‘‘ نے قادری صاحب کے علیحدہ علیحدہ بیان کصصر دہ‬
‫عنوانات کو ایک ہی عنوان ’’المناقب و الفضائل‘‘ میں بیان کیا ہے۔ مگصصر‬
‫قادری صاحب فریب دیتے ہوئے ایک ہی عنوان کے متون و روایات کو الصصگ‬
‫الگ سرخیاں دیکر اپنی ’’علمی دھاک‘‘ بٹھانا چاہتے ہیں۔‬
‫قادری صاحب کا مذکورہ عنوانات کو ’’میلد مروجہ‘‘ کے اجزائے تشصصکیلی‬
‫قرار دینا بھی عجیب منطق ہے کیا درج بال موضصوعات فقصط ربیصع ال ول‬
‫کے ساتھ خاص ہیں اور وہ بھی فقط ایک دن؟‬
‫اگر نہیں تو پھر اس سے ’’مروجہ میلد‘‘ پر استدلل کیسا؟؟؟‬
‫اور شاید یہ حقیقت ہی ہے کہ ’’فکر بریلی‘‘ کے ’’علماء و عوام‘‘ سال کے‬
‫بقایا دنوں میں ’’قادری صصصاحب‘‘ کصے بیصصان کصصر دہ موضصصوعات سصے عمل ً‬
‫محصصروم رہتصے ہیصصں اور فقصصط فکصصر رضصصا اور مسصصلک کصوفہ پصصر ہی سصصاری‬
‫توانائیاں خرچ کر ڈالتے ہیں۔‬
‫حیران کن بات تو یہ ہے کہ فصصصل دوم ک صے نمصصبر )‪ (۱‬میصصں قصصادری صصصاحب‬
‫’’احکام شریعت کا بیان‘‘ لکھ کر اسے موضوع میلد و جزء میلد قرار دے‬
‫رہے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل صفحہ ‪ 509‬پر احکام الٰہٰی اعمال و اخلق کے‬
‫مضامین کو موضوعات میلد سے خارج قرار دے چکے ہیں!!!‬
‫۔۔۔۔جو چاہے اپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔۔۔۔‪:‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫فصصل سصوم میصں قصادری صصاحب پ ھر ایصک عنصوان ’’نیصا ‘‘ قصائم کصر تصے‬
‫ہیں’’مدحت و نعت رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم ‘‘ بصصات کصصو اگ صے بڑھہہاتے‬
‫ہوئے نمبر کی ترتیب سے لکھتے ہیں )‪ (۱‬قران میں نعصصت مصصصطفی صصصلی‬
‫اﷲ علیہ وسلم )‪ (۲‬حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود اپنی نعت سنی۔‬
‫اور پھر اگے نبی مکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا اپنصے مختلصصف اصصصحاب سصے‬
‫نعت سننے کا ذکر کیا ہے اور معروف نعت خواں صحاب ؓہ کا ذکر کیا ہے۔‬
‫ہم اس سلسلے میں عرض کر چکے ہیں اور مزیصصد عصصرض کصصر تصے ہیصصں کصہ‬
‫جناب یہ کوئی سیرت و فضائل اور شمائل و خصائل سصے جصصدا چیصصز نہیصصں‬
‫ہے‪ ،‬جسے اپ نے اپنی کتاب کو طول دینے کیلئے علیحصصدہ ہیصڈنگز کصے سصصاتھ‬
‫بیان فرمایا ہے۔‬
‫کیا قادری صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مصصدحت و نعصصت مصصصطفی صصصلی اﷲ‬
‫علیہ وسلم کا موضوع بیان سیرت و فضائل سے جدا ہے؟ اگر ہاں تصو اس‬
‫کا معنی یہ ہوا کہ جناب کو سیرت و فضائل نبوی صلی اﷲ علیصہ وسصصلم کصصا‬
‫معنی و مفہوم بھی نہیں اتا اور شاید یہی وجہ ہے کصہ جنصاب کصو ’’شصیخ ال‬
‫سلم‘‘ نہیں بلکہ ’’شوخ ال سلم‘‘ کہنا زیادہ مناسب دکھائی دیتا ہے۔‬
‫پھر کیا یہ بھی ضروری ہے کہ نعت و مدحت مصطفی صلی اﷲ علیہ وسصصلم‬
‫خود سرور گرامی قدر صلی اﷲ علیہ وسلم نے ربیع الول کصصی بصصارہ تاریصصخ‬
‫کو سنی تھی؟‬
‫ہر سال اس سماعت کا اہتمام ہو تا تھا؟‬
‫اور کیا یہ سلسلہ سماعت و بیان ہر سال مخصوص تاریصصخ کصے اہتمصصام کصے‬
‫ساتھ اصحاب خیر القرون وائمہ اربع صہ اور دیگصصر محصصدثین عظصصام ن صے ب ھی‬
‫جاری رکھا؟‬
‫اور پھر اس میں تو ’’مروجہ میلد‘‘ کا کوئی شائبہ دکھائی ہی نہیں دیتصصا نصہ‬
‫جشن نہ جلوس نہ جھنڈے!!!‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫تو پھر یہ کس طرح ’’مروجہ میلد‘‘ کی دلیل و اجزاء ثابت ہوا ؟؟؟‬
‫قادری صاحب کے ہم خیصصال مکتصصب فکصصر رضصصا نصے اسصصی طصصرح ’’اجصصزائے‬
‫تشکیلی‘‘ کی اڑ میں خود ساختہ صلۃ غوثیہ‪ ،‬صلۃ تنجینا‪ ،‬درود ماہی‪ ،‬درود‬
‫لکھی وغیرہ ایجاد کر ڈالے ہیں اور جب کوئی سمجھائے کصہ ب ھائی دیصصن تصو‬
‫مکمل ہے یہ اضافہ کیوں تو کہتے ہیں ۔ دیکھو درود پڑھنا تو جائز ہے‪ ،‬رکصصوع‬
‫کرنا‪ ،‬سجدہ کرنا تو جائز ہے۔ سبحان اﷲ العظیم اور ابھی دیکھتے جائیے ک صہ‬
‫کیا کچھ ’’ایجاد و اختراع‘‘ ہو تا ہے اور دلیل یہی ہو گی ک صہ اس ’’اخصصتراع‘‘‬
‫کے اجزائے تشکیلی تو خود قران وسنت میں موجود ہیں۔‬
‫انتظار کیجئے جصصب قصصادری صصصاحب اور ان کصے ہم مکتصصب فکصصر رضصصا کصے‬
‫داعیان شام غریباں‪ ،‬تعزیہ داری اور ماتم‪ ،‬ہولی ‘دیوالی‪ ،‬بسنت اور ویلصصن‬
‫ٹائن ڈے وغیرہ کو ’’بذریعہ اجزائے تشکیلی‘‘ ’’بدعت حسنہ‘‘ قراردیکرسصصند‬
‫جواز فراہم کر دیں۔ معاذ اﷲ‬
‫دیکھئے کسی کے گ ھر جانصا‪ ،‬اس کصا مہمصانوں کصا اکصرام و ضصیافت کرنصا‪،‬‬
‫بہترین طعام و شراب پیش کرنا اور احباب کی دلجوئی کرنا وغیصصرہ سصصب‬
‫صحیح ہے‪ ،‬قران و سنت میں اس کے دلئل مصصل سصصکتے ہیصصں مگصصر کیصصا ان‬
‫مذکورہ اعمال کو ’’اجزائے تشکیلی‘‘ کا نام دیکر میت کے گھر میں جمصصع‬
‫ہونا خصوصا ً کھانے کیلئے اور پھر بہترین طعصصام تنصصاول کرنصصا اور اس میصصت‬
‫کے ورثاء کی دلجوئی کرتے ہوئے سے کھلتے ہوئے خود اپنے شکم کو بھرنصصا‬
‫اور پھر اس طرح تیجہ‪ ،‬چالیسواں اور کڑوی روٹی کا بطصور اصصطلح کصے‬
‫رواج دیا جانا جائز ہوگا؟‬
‫یقینًانہیں!! کیوں کہ اس پر کوئی دلیل ہی نہیں ملصصتی اور ی ہی وجصہ ہے کصہ‬
‫خود فکر بریلی کے بانی مولنا احمد رضا خان نے اس طرح کے اجتمصصاع و‬
‫)احکصصام‬
‫طعصصام کصصو ’’بصصدعت شصصنیعہ و قصصبیحہ اور ناجصصائز قصصرار دیصصا ہے۔‬
‫شریعت صفحہ ‪( 320‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫قادری صاحب ! فقط’’اجزائے تشکیلی‘‘ کے ٹائٹل س صے ناجصصائز کصصام جصصائز‬
‫نہیں ہوجا تا اگر ایسا ہو تا تو سیدنا عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کب ھی‬
‫بھی مخصوص انداز و کیفیت سے ذکر کرنے والوں کو غلط قصصرار نصہ دیتصے‬
‫اور نہ ہی انہیں گمراہی کا دروازہ کھولنے والصے قصصرار دیتصے۔ فصصافہم۔ )سصصنن‬
‫دارمی دیکھئے(‬
‫فصل چہارم میں عنوان لکھتے ہیں ’’صلۃ و سلم‘‘ اور پھر حسصصب سصصابق‬
‫نمبر کی ترتیب سے بات اگے بڑھاتے ہیں۔‬
‫حضور صلی اﷲ علیہ وسلم پر صلۃ و سلم بھیجنا اﷲ تعال ٰی کی سصصنت‬
‫)‪(۱‬‬
‫اور حکم ہے )‪ (۲‬سلم کی اہمیصصت )‪ (۳‬سصصلم کصصی مسصصتقل حیصصثیت۔ دیگصصر‬
‫مضامین کے عنوانات تقریبا ً اس صلۃ و سلم کے حوالے سے ہیں۔‬
‫قارئین کرام! یہ وہی اجزائے تشکیلی کصصا موضصصوع ہے جصصس پصصر ہم کصصافی‬
‫وافی تبصرہ کر چکصے ہیصصں یقینصًا’’صصصلۃ وسصصلم‘‘ بھیجنصصا اﷲ کصصا حکصصم ہے ‪،‬‬
‫اسکی بڑی اہمیت و فضلیت ہے۔ مگر کیا ’’ مخصصصوص تاریصصخ ‘ مخصصصوص‬
‫مہینے کے ساتھ اسے خاص کر دینا‪ ،‬مخصوص انداز اختیار کرنا یہ بھی حکم‬
‫الٰہٰی اور سنت رب العالمین ہے؟؟؟ کیا فقصصط رکصصوع‪ ،‬سصصجود‪ ،‬قیصصام‪ ،‬قعصصدہ‬
‫وغیرہ کے اجزائے تشکیلی سے مخصوص ہیئت و محدود رکعات کصصی نمصصاز‬
‫ایجاد کی جا سکتی ہے؟؟‬
‫ایک نیا حج‪ ،‬ایجصصاد کیصصا جاسصصکتا ہے کصہ اس کصے اجصصزائے تشصصکیلی موجصصود‬
‫ہوں؟؟؟‬
‫اور پھر قادری صاحب کے پیش کردہ دلئل میں تو تاریخ و مصصاہ اور مروج صہ‬
‫جشن میلد کا کوئی ذکر ہی نہیں تو پھر یہ دلیل کیا دلیل ہوئی؟‬
‫قادری صاحب طعن و تشنیع ’’صلۃ و سلم‘‘ پر کصصوئی مسصصلمان کصصر ہی‬
‫نہیں سکتا مگر وہ کیسا مسلمان ہو گا جو ’’دین ایجصصاد ‘‘ کرن صے میصصں لگصصا‬
‫رہے اور دلیل ’’اجزائے تشکیلی ‘‘ کو قرار دے۔ یقینادین کی تکمیل کے بعد‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫دین میں اختراعی اعمال کو رواج دینے وال بد بخت بدعتی ہی قصصرار پصصائے‬
‫گا۔‬
‫۔۔۔من عمل عمل ليس عليه امرنا فهورد ۔۔۔)الحدیث(‬
‫۔۔۔ من احدث فی امرنا ھذا ماليس منه فهورد۔۔۔ )الحدیث(‬

‫قادری صاحب کی حدیث میں خرد برد ۔۔۔؟‪:‬‬
‫قارئین کرام ہم اپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ زیر نظر ’’فصل‘‘ میں قادری‬
‫صاحب کی پیش کردہ احادیث ضعیف ہیں اور بالکصصل اسصصی طصصرح ان ک صے‬
‫استدللت بھی ضعیف تر ہیں مثل ً‬
‫صفحہ نمبر ‪ 587‬پر ’’القادری‘‘ صاحب نے حدیث لکھی ہے ’’وصلو ا علصصی‬
‫و سلوا‘‘۔۔۔۔‬
‫قارئین کرام اس حدیث کے نقل کرنصے میصصں موصصصوف نصے کیصصا گصصل کہلئے‬
‫ہیں؟ ائیے ہم اپکو بتاتے ہیں ۔‬
‫حدیث پوری نقل نہیں کی‪ ،‬جس کے شاہد جناب کے نقل کردہ الفاظ ب ھی‬
‫ہیں کیونکہ ’’واو‘‘ سے قبصصل جملصہ موجصصود ہ ہی نہیصصں جبکصہ واو مصصا قبصصل کصصا‬
‫متقاضی ہے۔‬
‫حدیث’’ل تجعلواقبری عيدا ً‘‘ سے شروع ہوتی ہے مگر موصوف ی صہ الفصصاظ‬
‫گول کر جاتے ہیں کیوں کہ یہ الفاظ جناب کے نظریہ ’’عرس و جشن‘‘ کی‬
‫نفی کرتے ہیں۔ دیکھ لیا کس درجہ خائن ہیں جناب؟؟‬
‫اور دوسری خیانت یہ کی ہے کہ ’’ابن کثیر‘‘ کصصا حصصوالہ لکھنصے کصے بصصاوجود‬
‫حافظ ابن کثیر کے مکمل الفاظ نہیں لکھے اور وہ یہ کہ ’’ فی اسناد ہ رجل‬
‫لم يسم وقد روی من وجصصه اخصصر مصصر سصل ً‘‘ یعنصصی اس روایصصت میصں ایصصک‬
‫مجہول راوی ہے جبکہ دوسری طرف سے یہ مرسل )ضعیف( ب ھی روایصصت‬
‫کی گئی ہے۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اگر قادری صاحب حافظ ابن کثیر رحمہ اﷲ کی بات نقصصل کصصر دیتصے تصصو ان‬
‫کے استدلل کی عمارت خود ہی زمین بوس ہوجاتی نا !!‬
‫اور یاد رہے کہ تقریبا ً ہر روایت کو انہوں نے ابتداء سے نقل نہیں کیا کیصصونکہ‬
‫شاید انکی پیش کر دہ ہر حصصدیث میصصں ہی ’’ل تجعلصصو ا قصصبری عیصصدًا‘‘ کصے‬
‫الفاظ ائے ہیں جوکہ ’’عرس‘‘ وغیرہ کصصی نفصصی کصصی دلیصصل ہیصصں اور قصصادری‬
‫صاحب تو ’’عرس‘‘ میں ’’وجد‘‘ و ’’سرور‘‘ میں رقص پر اتصصر ات صے ہیصصں۔‬
‫استغفر اﷲ‬
‫ہمارا تبصرہ زیادہ طول نہ پکڑ جائے اس لیے ہم روایات کی اسنادی حیثیت‬
‫پر تفصیلی کلم سے معذرت خواہ ہیں اور سر دست عرض کر تے ہیں کصصہ‬
‫یہ فصل بھی اجزائے تشکیلی کی قسم سے ہے اور فقط اجصصزائے تشصصکیلی‬
‫سے کسی ’’خود ساختہ‘‘ عمل کو سنت الٰہٰی اور سنت مصطفی صلی اﷲ‬
‫علیہ وسلم قرار نہیں دیا جا سکتا جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں۔‬

‫قادری ’’قیام ‘‘ اور اس کی حقیقت‪:‬‬
‫فصل پنجم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میصصں ’’قیصصام‘‘ کصصا عنصصوان‬
‫قائم کیا گیا ہے۔‬
‫اس عنوان کی تفصیل صفحہ نمبر ‪ 603‬پر لکھتے ہیں ‪ :‬عبادت اور تعظیصصم‬
‫میں یہ فرق بہر حال ملحوظ رکھنا لزمی ہے کہ یہ حصصالت عبصصادت کیلئے ہے‬
‫اور یہ تعظیم کیلئے۔‬
‫تو کیا ہم القادری صاحب کے اس بیان پر یصہ سصمجھیں کصہ اﷲ کصصی عبصصادت‬
‫میں اﷲ کی تعظیم نہیں ہوتی؟؟‬
‫’’ماقد روا اﷲ حصصق قصصدر ہ۔۔۔۔۔۔ مصصالکم ل تصصر جصصون للصصه و قصصارا ً‘‘ کیصصا بغیصصر‬
‫تعظیم الٰہٰی کے بھی کسی عبادت کا تصور مسلمانوں کے ہاں پایصصا جصصا تصصا‬
‫ہے؟؟‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ایک جگہ موصوف نے ’’اقسام قیام‘‘ لکھ کر تقریبا ً سات اقسا م کے قیصصام‬
‫اپنے استدللی جوہر سے ثابت کیے ہیں۔ مگر یہ عجیب ہے کہ ’’قیام تعظیصصم‬
‫‘‘ جسے نمبر ‪ 4‬پر ذکر کیا ہے اس کوئی تائیدی دلیل نہیں پیش کر سصصکے۔‬
‫ہاں البتہ ’’قیام اسصصتقبال اور قیصصام تعظیصصم میصصں فصصرق ‘‘ کصے عنصصوان سصے‬
‫گفتگو کر تے ہوئے کچھ استدللت ظاہر کیے ہیں۔‬
‫قارئین کرام کہیں اکتانہ جائیں اس لئے ہم فصل پنجم کصی بقایصا بحصث اور‬
‫اجزائے تشکیلی کی دیگر فصصصلوں پصصر دو ٹصصوک علمصصی اور ٹ ھوس گفتگصصو‬
‫کرکے اس بحث کو پایہ تکمیل تک پہنچصصاتے ہیصصں اور اس سلسصصلے میصصں ہم‬
‫’’القادری‘‘ صاحب کی خود ساختہ تفسیر و تایل اور تحریف کی نشاندہی‬
‫سرسری انداز میں ہی کریں گے۔ جبکہ تبصرہ بفضل اللہ اسی قدر ہوگا کہ‬
‫قارئین کرام کی تشنہ لبی قدرے سیراب ہوجائے۔ وبالله التوفيق۔‬
‫موصوف ’’قیام استقبال‘‘ کے تحت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ والی حدیث‬
‫جس کصصا ترجمصہ کیصصا ہے‬
‫لئے ہیں جس میں ہے کہ ’’قوموا الی سيدکم‘‘‬
‫’’تعظیمًا‘‘ کھڑے ہوجاو۔ صفحہ ‪ 607‬پر لکھتے ہیں‪:‬‬
‫یہ گمان کرنا کہ یہ قیام تعظیم اور اسصصتقبال کصے لئے نہیصصں بلکصہ ایصصک بیمصصار‬
‫شخص کی اعانت کے لئے تھا‪ ،‬متن حدیث کے خلف ہے۔‬
‫قارئین کرام توجہ فرمایئے گا کہ‪:‬‬
‫)‪ (۱‬قادری صاحب نے ترجمہ حدیث میں تحریصصف کصصردی ہے۔ حصصدیث میصصں‬
‫نہیں ہے۔جبکہ ترجمہ ’’لسيدکم ‘‘ وال کیا گیا ہے۔‬
‫’’قوموالسيدکم‘‘‬
‫)‪ (۲‬اعانت کی بات کو متن حصصدیث کصے خلف کہنصصا درحقیقصصت جنصصاب کصصی‬
‫دجل فریبی ہے یا پھر جناب کو علم ہی نہیں کہ مسصصند احمصصد ‪ 142/6‬میصصں‬
‫ہے ’’قوموا الی سیدکم فأ نزلوہ‘‘ یعنی اپنے سردار کی طصصرف اٹصھ کھہہڑے‬
‫ہو اور انہیں اترنے میں مدد دو۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫)‪ (۳‬صفحہ ‪ 607‬پر موصوف نے قیام تعظیم اور قیام استقبال کو ایک ہی‬
‫معنی میں لیا ہے تو ہمارا یہ سوال ہے کہ پھر اقسام قیصصام میصصں انہیصصں الصصگ‬
‫الگ کیوں رکھا تھا؟ شاید صفحات بڑھانے کیلئے؟؟؟‬
‫اور مزیدار بات یہ ہے کہ صصصفحہ ‪ 612‬پصر‪ ،‬قیصصام اسصصتقبال اور قیصصام تعظیصصم‬
‫میں فرق بھی بیان کیا ہے۔‬
‫صفحہ ‪ 613‬پر جو قیام تعظیم کی دلیل ذکر کی ہے وہ ضعیف ہے دیکھئے‬
‫ابصصو داود حصصدیث نمصصبر ‪ 4775‬اور ی صہ ب ھی حقیقصصت ہے ک صہ جصصب مجلصصس‬
‫برخاست ہوتی ہے تو سب ہی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ی صہ قیصصام اسصصی قبیصصل‬
‫سے تھا جیسا کہ مل علی قاری الحنفی نے بھی لک ھا ہے کصہ ’’یصہ تعظیمصصی‬
‫قیام نہ تھا۔ کیونکہ صحابہ کرام تعظیمی استقبال کے لئے کھڑے نہ ہوتے تھے‬
‫تو گھر کو لوٹتے ہوئے کیسے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ )مرقاۃ ‪ 86/9‬بحوالہ دین‬
‫الحق ‪(175/2‬‬
‫مسند احمد ‪ 151/3‬میں ہے کہ صحابہ کرامؓ کے لئے نبی مکصصرمﷺ س صے بصصڑھ‬
‫کر محترم کوئی بھی نہ تھا مگر وہ نبی علیہ السصصلم کصے اسصصتقبال کصے لئے‬
‫تعظیما ً کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اپ صلی اللہ علیصصہ وسصصلم‬
‫اس قیام کو ناپسند فرماتے ہیں۔‬
‫ابو داود حدیث نمبر ‪ 5230‬میں ہے عجمیصوں )غیصر مسصلموں( کصی طصرح‬
‫کھڑے نہ ہوجایا کرو کہ جیسے وہ ایک دوسرے کو تعظیم دیتے ہیں۔‬
‫غور کیجئے کہ جب اقا علیہ السلم بنفس نفیس ائیصصں تصصو صصصحابہ ک ھڑے نصہ‬
‫ہوں‪ ،‬اپؐ انہیں منع فرمائیں اور امت کو دیکھیں کہ جن کے پاس اپ صلی‬
‫اللہ علیہ وسلم کے محفل میلد میں انے کی کوئی دلیل ہی نہیں وہ ’’قیام‘‘‬
‫کو سنت سے ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وياللفهم والعقول‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫قارئین کرام! اگر اپ مولوی عبدالسمیع کی ’’انوار سصصاطعہ‘‘ اور مولصصوی‬
‫احمصصد رضصصا خصصان کصصی ’’اقام ۃ القیننام ۃ علننی طنناعن القیننام لنننبی‬
‫ت ھام ۃ‘‘ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ قیام عند ذکر ولدت شعائر اللصصہ‬
‫کی تعظیم میں سے ہے اور پیغمبر زماں صلی اللہ علیہ وسلم کصصی تعظیصصم‬
‫و محبت کی وجہ سے ہوتا ہے اور تعظیم و محبت رسول مقبول صلی اللصصہ‬
‫علیہ وسلم واجب ہے۔ )اس محبت و تعظیم کے وجوب میں کسی کصصو کیصصا‬
‫اعتراض ہوسکتا ہے(‬
‫مگر پھر خود ہی لکھتے ہیں کہ ’’اسے بہت سے علماء نصے مستحسصصن رک ھا‬
‫ہے۔‘‘ )اقامۃ القیامہ ص ‪) (40 ،52‬انوار ساطعہ ص ‪ 346‬وغیرہ(‬
‫غور کیجئے! اگر قیام محبت و تعظیصصم رسصصول صصصلی الل صہ علی صہ وسصصلم کصصا‬
‫سبب ہے تو اسے بھی واجب ہی ہونا چاہئے نا!!! اہل علم کا قاعدہ ہے۔ مال‬
‫یتم الواجب الب ہ ف ھو واجب۔ جس کے بغیر واجب ادا نہ ہو وہ عمصصل خصصود‬
‫واجب ہوتا ہے۔‬
‫احمد رضا خان پھر ایک مستحسن و مباح چیز پر اس قصصدر جصصذباتی ہوتے‬
‫ہیں کہ فرماتے ہیں‪’’ :‬جو شخص قیام کو بصصدعت و ضصصللت کہہہے وہ خصصبیث‪،‬‬
‫بدعتی‪ ،‬احبار و رھبان پرست ہے۔ )ص ‪(60‬‬

‫خان صاحب کو دلیل کی حاجت ن ہیں‪:‬‬

‫قارئین کرام قادری صاحب تو مروجہ قیام و مولصصود کصصو دلیصصل سصے مصصدلل‬
‫بنانا چاہتے ہیں مگر ان کے امام احمد رضصا خصان کہتصے ہیصں‪ :‬پصس مجلصصس‬
‫میلد و قیام و غیرھا بہت امورِ متنازع فیھا کے جواز پر ہمیصصں کصصوئی دلیصصل‬
‫قائم کرنے کی حاجت نہیں‪ ،‬شرع سے ممانعت نہ ثابت ہونا ہی ہمصصارے لئے‬
‫دلیل ہے۔ )ص ‪(65‬‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اب قادری صاحب کو اگر ’’خان صاحب‘‘ کے علم کا اندازہ ہوتصصا تصصو شصصاید‬
‫وہ اتنی موٹی کتاب کبھی نہ لکھتے کیونکہ اس مسئلہ پر تو دلیل قائم کرنے‬
‫کی حاجت ہی نہیں؟؟؟‬
‫خان کے حواریوں کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر شرع سے ممصصانعت کصصا‬
‫ثابت نہ ہونا ہی دلیل ہے تو پھر تعزیہ نکال کرو‪ ،‬شیعوں کی طصصرح اذان دیصصا‬
‫کرو‪ ،‬محرم میں کالے اور سبز کپڑے پہنا کرونا ۔۔۔ مگر اس س صے قبصصل ذرا‬
‫خان صاحب کی ’’احکام شریعت‘‘ دیکھ لینا۔‬

‫قادری صاحب کا ’’معاذالل ہ‘‘ ک ہنا‪:‬‬

‫اب ذرا قادری موصوف کی ’’علمصصی ببضصصاعتی‘‘ دیکھئے‪ :‬صصصفحہ ‪ 640‬پصصر‬
‫لکھتے ہیں‪ :‬معاذ اللہ ہم ہر گز یہ نہیں سمجھتے کہ رسصصول اکصصرم صصصلی الل صہ‬
‫علیہ وسلم کی ولدت لمحہ موجود میں ہوئی ہے لہٰذا ہمیں قیام کرنا ہے یصصا‬
‫یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس میں تشصصریف لر ہے ہیصصں اور‬
‫ہم اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امد پر قیام کررہے ہیں۔ یہ کسی مسصصلمان‬
‫کا عقیدہ ہے نہ ہمارا قیام استقبال کا مظہر۔۔۔‬
‫دیکھا اپ نے کہ موصوف معاذ اللہ کہہ کر جس نظریہ کی تردید کررہے ہیصصں‬
‫وہ نظریہ موجودہ مبتدعین عوام الناس ہی میں نہیں پایا جاتا بلکہ اس سے‬
‫قبل مولنا احمد رضا خان اور مولوی عبدالسمیع انصاری کی کتصصاب س صے‬
‫بھی اشکار ہوتا ایا ہے۔‬
‫قادری صاحب بتائیں کہ اگر یہ اس قدر غلط نظریہ ہے کہ معاذ الل صہ ک ہہ کصصر‬
‫اسے بیان کیا جائے تو پھر اپ کی عوام اور حت ٰی کے اپ کے امصصام پصصر کیصصا‬
‫فتو ٰی لگے گا؟؟؟‬
‫قادری صاحب کے مسلک کے تمام علماء اور عصصوام النصصاس و ہی عقیصصدہ و‬
‫نظریہ لیکر ’’قیام‘‘ کرتے ہیں جس کصصی تردیصصد قصصادری صصاحب نصے ’’معصصاذ‬
‫اللہ‘‘ کہہ کر کی ہے۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اور خود قادری صاحب کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ نبی مکرم صصصلی اللصہ علیصہ‬
‫وسلم ’’لمحہ موجود‘‘ میں تشریف لئے ہیں۔ جناب کی عبصصارت دیک صھ کصصر‬
‫فیصلہ کیجئے۔ فرماتے ہیں‪:‬‬
‫ہم اس گھڑی کو اپنے تصور و تخیل میں رکھتے ہوئے محبت اور فرحت کصا‬
‫اظہار کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں جصس میصں حضصور اکصرم صصلی اللصہ علیصہ‬
‫وسلم اس دنیائے اب و گل میں تشریف لئے۔‬
‫)صفحہ ‪(644‬‬
‫اور صفحہ ‪ 642‬پر خود ہی لکھتے ہیں‪ :‬یہ قیام اس لئے بھی نہیصصں کیصصا جاتصصا‬
‫کہ ’’معاذ اللہ‘‘ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللصہ علیصہ وسصصلم‬
‫لمحہ موجود میں متولد ہورہے ہیں۔ کوئی احمق اور فاتر العقل شخص ہی‬
‫ایسی سوچ رکھ سکتا ہے۔‬
‫دیکھ لیجئے قادری صاحب خواہ کتنے حیلے بہانے کریں معاذ اللہ کی گصصردان‬
‫کریں یا خود کو اور اپنی ذریت کو احمق اور فاتر العقل گردانیں مگصصر وہ‬
‫اپنے موروثی عقیدہ کے اظہار سے باز نہیں رہ سکتے!!!‬
‫قارئین تجربہ کرکصے دیکصھ لیجئے تمصصام قصصائلین قیصصام و مولصصود مروجصہ ایصصک‬
‫مخصوص ٹائم میں لمحے میں ہی قیام کرتے دکھائی دیں گے۔ پصصوری رات‬
‫کی محفل میں نہیں۔ کیوں اخر کچصھ تصو ہے نصا ہم کہتصے ہیصں۔ معصاذ اللصہ‪،‬‬
‫احمق‪ ،‬فاتر العقل۔ لوگ‬
‫اور یہ جو موصوف نے لکھا ہے کہ حضصصور صصصلی اللصہ علیصہ وسصصلم کصصی روح‬
‫محافل میلد میں جلوہ گر ہوسکتی ہے تو جناب ہم بصصصد احصصترام پصصوچھتے‬
‫ہیں اس عقیدہ پر کیا دلیل ہے؟؟‬
‫نیز یہ کہ کیا اس وقت جسد اطہر قبر مبارک میں بل روح رہ جاتا ہے؟؟ تصصو‬
‫پھر عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اپ کصصا ابصصائی عقیصصدہ ہے وہ‬
‫کیسے سلمت رہے گا؟؟؟‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫یہ بھی یاد رہے کہ قادری مشرب کے ممدوح امام علمہ ہیتمی فرماتے ہیں‪:‬‬
‫اثناء مولدہ الشریف قیام کرنا بدعت ہے۔ نہیں جصصائز۔ یصہ ایسصصی بصصدعت ہے‬
‫جس کی کصوئی ب ھی دلیصصل وارد نہیصں ہوئی عصصوام تصو اس سلسصلے میصصں‬
‫معذور ہوسکتے ہیں مگر خواص نہیں۔ فتاو ٰی حدیثیہ صفحہ ‪ 112‬قدیمی(‬

‫چراغاں کی دلیل ک ہاں س ے لئیں بجلی ہی‬
‫ن ہیں ت ھی‪:‬‬

‫فصل ششم میں لکھتے ہیں‪ :‬اہتمام چراغاں اور اس کے تحصصت اپن صے زعصصم‬
‫میں دلئل جمع کرنے کی سعی لحاصل کی ہے۔‬
‫جبکہ یہ حقیقت ہے کہ قادری صاحب کے ذکر کردہ واقعصصات س صے جصصو کچ صھ‬
‫قادری صاحب نے اخذ کیا ہے وہ اج تک کسی امام و محدث کو نظصصر نہیصصں‬
‫ایا حت ٰی کہ خود فکر رضا کے علمبردار بھی یہی کہتے نظر اتے ہیں کہ بھائی‬
‫صحاب ؓہ کے دور میں بجلی ہی نہیں تھی۔ تو چراغاں کیسے ہوتا؟؟؟‬
‫اور یہ بھی یاد رہے کہ قیامت سے قبل مساجد سجی دھجی ہوں گی جیسا‬
‫کہ احادیث میں وارد ہوا ہے اور ہر کوئی فخر جتلئے گصصا ک صہ میصصری مسصصجد‬
‫میری مسجد اور اج واقعتا ً ایسا معاملہ ہوچکا ہے۔ واللہ المستعان‬
‫کہاں وقت ولدت خروج و ظہور نور اور روشنی‪ ،‬سصصتاروں کصصا چمکنصصا اور‬
‫جھلملنا اور کہاں یہ مطلقا ً چراغاں مصنوعیہ۔ کیا قادری صاحب اور انکصصی‬
‫عصصوام ب ھی وقصصت ولدت ہی کصصی روشصصنی اور چراغصصاں کصصا اہتمصصام کرتصے‬
‫ہیں؟؟؟ یقینا ً نہیں!!! تو پھر ان کی ذکر کردہ روایات سے کس طرح انکی‬
‫مستدلت ثابت ہوں گی؟؟؟‬
‫فصل ہشتم میں اطعام الطعام )کھانا کھلنا( لکھتے ہیں۔ دلیل کے طور پر‬
‫اطعام طعام کے دلئل ذکر کرتے ہیں‪:‬‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ اس کتاب میصصں قصصادری صصصاحب کصصس درجصہ اجتھہہاد‬
‫کررہے ہیں مگر پھر بھی مقلد کے مقلد ہی ہیں۔ افسوس صد افسوس کصصہ‬
‫جناب کو کوئی مجتھد نہیں مانتا!!‬
‫کیا ذکر کردہ دلئل میں ربیع الول اور پھر خصوصا ً تاریخ ولدت پصصر کھانصصا‬
‫کھلنے کی کوئی دلیل ملتی ہے؟ یقینا ً نہیں تو پ ھر اسصصتدلل کیسصصا؟ یصہ تصصو‬
‫ایسا ہی ہوگیا کہ جیسے جناب دعو ٰی کردیں بلوضصصو نمصصاز ہوجصصاتی ہے اور‬
‫جب لوگ اصرار کریں کہ دلیل دیں تو فرمصصائیں پچصصاس دفعصہ تصصو میصصں نصے‬
‫پڑھی ہے!!!‬
‫مسئلہ خاص پر دلیل عام نہیں چلتی۔ ذرا علماء ہی سے پوچھ لیں۔‬
‫یاای ھاالصذین امنصو ان کصثیرا ً مصن الحبصار والر ھبصان لیصاکلون امصوال النصاس‬
‫)التوبہ‪(34 :‬‬
‫بالباطل ویصدون عن سبیل الل ہ۔‬
‫اے ایمان والو! یقینا ً بہت سے علماء اور دوریش )تم( لوگوں کا مال باطل‬
‫طریقے سے کھاتے ہیں اور )تمہیں( اللہ کے راستے سے روکدیتے ہیں۔‬

‫موجود ہ بریلویوں کا جواب‪ ،‬مگر قادری‬
‫صاحب ۔۔۔۔!!‪:‬‬
‫فصل ہشتم میں لکھتے ہیں‪’’ :‬جلوس میلد‘‘‬
‫اب ظاہر ہے کہ پبلک شاہراہوں پر جب نماز ہی پڑھنا صصصحیح نہیصصں تصصو پ ھر‬
‫جلوس کیسے جائز ہوگا اور جلوس میلد تو کبھی ثابت ہونہیں سکتا۔ مگر‬
‫قادری صاحب تو بڑی چیز ہیں۔ انہوں نے اس کصصی ب ھی دلیصصل مہیصصا کصصردی‬
‫ہے۔ اور حوالہ صحیح مسلم کا دیا ہے۔ سبحان اللہ۔‬
‫انکی دلیل پڑھ لیجئے پھر بتایئے کہ یہ دلیل مروج صہ جلصصوس میلد کصصی دلیصصل‬
‫ہے؟ یا ہجرت مدینہ پر مدینہ امد پر خوشی کے اظہار کی دلیل ہے۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫کہاں ولدت و میلد کا جلوس اور کہاں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے‬
‫مدینہ انے کی خوشی میں لوگوں کا والہانہ انداز میں گھروں سے نکصصل کصصر‬
‫چھتوں پر چڑھ جانا اور گلیوں میں نکل انا۔‬
‫کیا وہ بھی اج کے میلدی کی طرح اور شیعہ کے نقالوں کی طرح جلصصوس‬
‫نکالتے تھے قطعا ً نہیں۔‬
‫لوگوں کا استقبال میں ازدحام و اجتماع ہوجانا الگ بات ہے جبک صہ مروج صہ‬
‫جلوس بالکل ایک الگ عمل ہے۔‬
‫اور پھر یہ دلیل بھی مقلد کو مفید نہیں کہ اس سے استنباط مجتھد کا حق‬
‫ہے اور اجتہاد مقلدین کے ہاں چوتھی صدی سے عنقا ہے۔‬
‫اور کون نہیں جانتا کہ یہ مروجہ جلوس نکالنے کا سلسلہ خود پاکستان میں‬
‫‪ 1933‬؁ء میں شروع ہوا۔ اس سے قبل کیوں نہ تھا؟ کیونکہ دلیصصل دین صے‬
‫والے قادری صاحب نہ تھے اسی لئے نا!‬
‫حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ولدت نبوی صلی اللہ علیصہ وسصصلم پصصر اتصصش کصصدہ‬
‫ایران بجھ گئے۔ اور اج اس ولدت ہی کے نام پر جلوس میصصں اتصصش بصصردار‬
‫لونڈے محبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار کرنے چلے۔ھل من مدکر؟‬

‫قادری صاحب کی طولنی اور ہمار ے جواب‬
‫ربانی‪:‬‬
‫باب نہم قائم کرکے القصصادری صصصاحب‪ ،‬ہینصڈ نصصگ لگصصاتے ہیصصں ’’ جشصصن میلد‬
‫النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نمایاں پہلووں پصصر اجمصصالی نظصصر‘‘ پ ھر اس‬
‫کی تفصیل میں جاتے ہوئے نمبر کے اعتبار سے عنوان قائم کرتے ہیں ۔‬
‫‪۱‬۔شرعی پہلو‬
‫‪۲‬۔تاریخی پہلو‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫‪۳‬۔ثقافتی پہلو‬
‫‪۴‬۔تربیتی پہلو‬
‫‪۵‬۔ دعوتی پہلو‬
‫‪۶‬۔ ذوقی وحبی پہلو‬
‫‪۷‬۔روحانی وتوسلی پہلو ) صفحہ ۔ ‪(674‬‬
‫قارئین کرام دیکھ لیجئے کہ یہ تمام موضصصوعات اس س صے قبصصل ک صہ مبصصاحث‬
‫میں مجمل ً ومطول ً گزرہی چکے ہیں مگر القادری صاحب ایک نئے زاوئیصصے‬
‫سے ترتیب بناکر اپنی کتاب کا ’’حجم‘‘ بڑھانے میں مصروف ہیں اور ی ہی‬
‫کافی ہے ان کی’’علمی بے بضاعتی ‘‘ پر دلیل ۔‬
‫‪1‬۔ شرعی پہلو ‪:‬۔‬
‫شرعی پہلو کا عنوان قائم کرکے پھر نمبر‪ ،‬۔‪۱‬پر لکھتے ہیں’’اللہ تعال ٰی کی‬
‫نعمتوں کی تذکیر ‘‘ اس س صے قبصصل ک صے ہم اس اسصصتدلل و اسصصتنباط پصصر‬
‫تبصرہ کریں اپ کو بتادینا چاہتے ہیں ک صہ قصصادری صصصاحب ک صے ہاں ’’جشصصن‬
‫میلد النبی صلی اللصہ علیصہ وسصصلم عیصصد مسصصرت ہے عیصصد شصصرعی نہیصصں ‘‘‬
‫)صفحہ ۔‪(757‬‬
‫اب بتائیے جب خود ہی تسلیم کرلیا کہ یہ ’’جشن شرعی عید نہیں ہے‘‘ تصصو‬
‫پھر اس کا شرعی پہلو کہاں سے اگیا ؟؟؟‬
‫استدلل ً جو ایت نقل کی ہے ’’ ذکر ھم بایام ال ٰل ّ ہ‬
‫صحیح نہیں ہے ۔‬

‫‘‘ تو یہ استدلل بوجوہ‬

‫اسلیئے کہ جناب مقلد ہیں اور مقلد فقط قول امام ہی پیش کرسکتا ہے‪،‬‬
‫استدلل و استنباط اور اجتہاد نہیں کرسکتا او رقول امام یہاں مفقود ہے۔‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ایام اللہ ۔ میں صرف نعمصصتیں ہی مصصراد نہیصصں بلکصہ مصصصائب و ابتلء ب ھی‬
‫شامل ہیں اور میلد و جشن میں ابتلء ومصائب کہاں ہوتے ہیصصں اور ی ہاں‬
‫تو مراد یہ ہے کہ ایام الل صہ ک صے سصصاتھ نصصصیحت کصصا سصصامان کصصرو اور قصصادری‬
‫صاحب ترجمہ ہی بدل دیتے ہیں کہ انہیں اللہ کے دنوں کی یاد دلو ؟‬
‫ذکر ھم وغیرہ کے الفاظ اور جگہ بھی ائے ہیں کیا سب جگ صہ عیصصد وجشصصن‬
‫ہی مراد ہوگا ؟‬
‫ایام صیغہ جمع ہے جبکہ جشن ومیلد ایک مخصوص تاریصصخ و دن کصو منایصا‬
‫جاتا ہے فقط ایک دن تو پھر ایام سے یوم پر استدلل کیسے ہوا ؟‬
‫‪۲‬۔ یوم نزول مائدہ کو بطور عید منانا‪:‬‬
‫اس عنوان کے تحت سورۃ مائدہ ایت نمبر ‪ 114‬لکھ کر اس سے اسصصتدلل‬
‫کرتے ہیں ۔ ) صفحہ ‪(677‬‬
‫اس کا جواب ہم پچھلے مباحث میں لکھ چکے ہیں کہ اس ایت میصصں بیصصان‬
‫کردہ عمل نصار ٰی کا ہے اور دین محمد عربی صلی اللصہ علیصہ وسصصلم میصصں‬
‫اس کی تصدیق نہیں ملتی۔لہٰذا یہ انہی کے ساتھ خاص ہوا۔‬
‫اور نعمتیں تو اس قدر ہیں کہ ’’لتحصو ھا‘‘ تو کیا ہر ہر نعمصصت پرجشصصن‬
‫میلد ہوگا ؟‬
‫مائدہ ہی سبب فرحت عید تھانہ کہ یوم نزول مائدہ ‪ ،‬سمجھ لیجئے ۔‬
‫اور یہ خود ساختہ استدلل ‪1400‬سال میں صرف جناب القصصادری صصصاحب‬
‫کو ہی سوجھا ہے حالنکہ جناب کٹر مقلد ہیصصں پ ھر نصہ جصصانے اجت ہادی ملکصہ‬
‫انہیں کیسے حاصل ہوجاتا ہے؟‬
‫‪:2‬تاریخی پہلو ۔ )صفحہ ‪(678‬‬
‫اس عنوان کے تحت وہی ابو سعید مظفر الدین کو کبری )م ‪ 630‬ھ( کصصے‬
‫حوالے سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس مروجہ جشن کو منعقد کیا تھا۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫یہ مسئلہ بھی پہلے گزر چکا ہے کہ بادشاہ مذکور ایک مسرف بادشاہ تھا جو‬
‫باقاعدہ رقص بھی کیا کرتا تھا‪ ،‬جیسا کہ کتب تاریخ میں اس کی وضصصاحت‬
‫ملتی ہے۔‬
‫اور ابن دحیہ جس نے بادشاہ ھذا کو کتاب لک صھ دی ت ھی میلد پصصر وہ خصصود‬
‫ایک گستاخ سلف صالحین اور وضاع ادمی تھا جیسا کہ ہم پہلصے وضصصاحت‬
‫کرچکے ہیں۔‬
‫اور پھر کیا تاریخ اسلم کی ابتداء ساتویں صدی سے ہوتی ہے؟ اس سصصے‬
‫قبل کے ‪600‬سال کہاں گئے؟ اس میں یقینًامروجہ میلد موجود نہ تھا اخصصر‬
‫کیوں؟‬
‫صفحہ ‪680‬۔ پر لکھتے ہیں‪ ’’:‬اس کصصی اصصصل قصصران وحصصدیث میصصں موجصصود‬
‫ہے‘‘۔‬
‫یعنی القادری صاحب مروجہ جشن مسصصرت ومیلد کصصو کہتصے ہیصصں کصہ اس‬
‫کی اصل قران وحدیث میں موجود ہے۔‬
‫سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس مسئلہ میں اتنا اختلف کیوں ہے؟پ ھر ب ھی‬
‫یہ شرعی نہیں بقول اپ کے؟‬
‫صحابہ واتباع صحابہ اس ’’اصل ‘‘ کو کیوں نہ پاسکے؟‬
‫اور کیا جسکی ’’اصل ‘‘ قران وحدیث میں ہو وہ عمصصل ب ھی ’’بصصدعت ‘‘‬
‫ہوسکتا ہے؟‬
‫خواہ اپ اسے ’’بدعت حسنہ ‘‘ ہی کہیں؟‬
‫‪3‬۔ ثقافتی پہلو ‪:‬‬
‫اس عنوان کے تحت قادری صاحب نے اپنے مخصوص اکتادینے والصصے انصصداز‬
‫میں طویل گفتگو فرمائی ہے اور اخر میں لکھا ہے‪ :‬لہٰ ذا اسصلمی ثقصافت‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫کی سب سے بڑی علمت یعنی یوم میلد النبی صلی اللہ علی صہ وسصصلم کصصو‬
‫کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔۔۔ )صفحہ ‪(684‬‬
‫قارئین ! ثقافت وکلچر ہونے کا جواب پچھلے اوراق میصصں دیصصا جاچکصصا ہے۔‬
‫دیکھ لیجئے۔ القادری صاحب نے یہاں ’’مروج صہ میلدوجشصصن کصصو‘‘ اسصصلمی‬
‫ثقافت کی سب سے بڑی علمصصت قصصرار دیصصا ہے۔ سصصوال پیصصدا ہوتصصا ہے کصہ‬
‫اسلمی ثقافت کی ابتداء اور انتہا کب ہوئی؟‬
‫کیونکہ مروجہ میلد تو یقینًاقرون ثلثہ مفضصلہ میصں نصہ ت ھا ۔ کیصا اس وقصت‬
‫ثقافت اسلمی مکمل نہ تھی؟اور اگر یہ سب سے بڑی علمت ہے تصصو کیصصا‬
‫صحابہ و اتباع صحابہ اور ائمہ ومحدثین اس ثقصصافت اسصصلمی سصے نصہ اشصصنا‬
‫تھے؟ حتی کہ خود سرور گرامی قدر امصام کائنصات صصلی اللصہ تعصال ٰی علیصہ‬
‫وسلم بھی ؟ معاذ الل ہ۔‬
‫القادری صاحب کو چاہیے کصہ اسصصلم میصصں بعصصد ا ز تکمیصصل نئے نئے ثقصصافتی‬
‫میلے ایجاد کرنے سے بچیں تاکہ کل قیامت میں رسوا ہونے سے بچ سکیں۔‬
‫والل ہ ولی التوفیق۔‬
‫اور جہاں تک العید الوطنی اور بادشاہوں کا اپنے دن منانا ہے توبات بالکصصل‬
‫واضح ہے کہ وہ اپنے ایام کو قران وحدیث کا ثابت شدہ امر نہیں قرار دیت صے‬
‫اور نہ ہی اسے عبادت سمجھتے ہیں۔ جبکہ مروج صہ جشصصن وجلصصوس کصصو تصصو‬
‫خود القادری اور ان کی ذریت قران وحدیث کا ثابت شدہ امر قصصرار دین صے‬
‫پر تلے ہوئے ہیں اور اسے محبت رسولؐ کی علمت قصصرار دیت صے ہیصصں جصصوکہ‬
‫خالصتا ً اللہ کی رضا ورضوان کے حصول کا ذریعصہ ہے اور ی ہی تصصو عبصصادت‬
‫کی تعریف ہے۔ لہٰذا مروجہ جشن کو العید الوطنی اور پاکسصصتان ڈے وغیصصرہ‬
‫پر قیاس کرنا تو ویسے ہی گستاخی دکھائی دیتا ہے۔‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اور پھر میل دی لصوگ ’’یصوم میل د‘‘ کصا اعتبصار ہی کصب کرتصے ہیصں جصوکہ‬
‫سوموار کا دن ہے بلکہ وہ تو تاریخ کا اعتبصصار کرتصے ہیصصں جصصس میصصں شصصدید‬
‫اختلف ہے۔!!!‬
‫‪4‬۔تربیتی پہلو ‪):‬صفحہ ‪(685‬‬
‫اس عنوان کے تحت قادری صاحب کے ’’کلم عارفانہ‘‘ کا خلصہ یصہ ہے کصہ‬
‫ہم مروجہ جشن میلد مناکر اپنے بچصصوں کصصو حصصب رسصصو ؐل کصصی تعلیصصم دیصصں‬
‫وثر ترین ذریعہ ہے۔‬
‫کیونکہ یہ اس کام ٔ‬
‫اور جو مثالیں انہوں نے دی ہیں وہ ماوزے تنگ‪ ،‬لینن اور خمینی وغیرہ کصصی‬
‫ہیں۔‬
‫اگر مروجہ جشن میلد ہی حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کصصا‬
‫بہترین ذریعہ ہے تو کیا ہم سوال کرسکتے ہیں کہ پھر مروجہ جشن نہ منصصانے‬
‫والے تو حب رسولؐ سے محروم ہی رہے ہوں گ صے اور اس طصصرح وہ ایمصصان‬
‫سے ہی ہاتھ دھوبیٹھے ہوں گے نا ؟‬
‫خواہ وہ صحاب ؓہ‪ ،‬اتباع صحابہ اورائمہ محدثین ہی کیوں نہ ہوں ؟ معصصاذ الل صہ ۔‬
‫کس قدر گندی اور گھٹیا سوچ ہے جناب کی !‬
‫القادری صاحب ! اگر اپ کو حب رسول علیصہ الصصصلۃ والسصصلم کصصا پصصاس‬
‫ہوتا اور اپنا ایمان بچانا مقصود ہوتا تو کبھی بھی اطاعت رسول صلی اللہ‬
‫علیہ وسلم سے دامن چھڑاکر’’تقلید شخصی‘‘ سے خود کو الودہ نہ کرتے۔‬
‫کبھی خود ساختہ طریقہ عبادات ایجاد نہ کرتے ۔‬
‫کبھی بدعات کو حسنہ کہہ کر احادیث کا استھزاء نہ کرتے ۔‬
‫کبھی قران وحدیث کو خودساختہ معنی نہ پہناتے۔‬
‫اور کون نہیں جانتا کہ ’’مقلدین احناف‘‘ کے ہاں قصصران وحصصدیث ک صے سصصاتھ‬
‫کیا سلوک کیا جاتا ہے )دیکھئے حقیقۃ الفقہ(‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫القادری صاحب‪،‬حب رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم عیصصن ایمصصان ہے‬
‫اور اس کے حصول کے اصول متعین ہوچکے ہیں نہ کہ تم ہارے خصصود سصصاختہ‬
‫جشن وجلوس ۔‬
‫فرمایا رسول رحمتﷺ نے ‪ :‬جس نے میری سنت سے محبت کصصی اس ن صے‬
‫مجھ سے محبت کی ۔‬
‫)ترمذی(‬
‫فرمایا رسول رحمتﷺ نے ‪ :‬میری سنت کا تارک ملعون ہے ۔‬
‫حاکم‪ ،‬ترمذی(‬

‫)مستدرک‬

‫فرمایا رسول رحمتﷺ نے ‪ :‬میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت کصصو‬
‫لزمی تھامو۔‬
‫)ابوداود (‬
‫القادری صاحب ! کتنی سنتیں ہیں اپ کے پاس ؟ نماز سصصنت ک صے خلف ‪،‬‬
‫روزہ کی نیت سنت کے خلف‪ ،‬اذان سے قبل سصصنت کصصی خلف ورزی اور‬
‫پھر مروجہ جشن میلد از خلف خود سنت رسولﷺ وخلف سصصنت صصصحابہ‬
‫رسولﷺ ہے۔‬
‫پیغمبر زماں صلی اللہ علیہ وسلم تو’’دن ‘‘ کصصا اعتبصصار کرک صے روزہ رکھیصصں‬
‫اور میلد ی لوگ ! اس دن کو عید کا دن قرار دیں ۔ حالنکہ عیصصد کصصے دن‬
‫روزہ نہیں رکھا جاتا ۔‬

‫۔۔۔۔۔۔ غور کریں ۔۔۔۔۔۔‬
‫اس دن روزہ رکھنا ہی اس کے عید ہونے کی نفی ہے۔‬‫‪5‬۔ دعوتی پہلو ‪) :‬صفحہ ‪(688‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اس کے تحت القادری صاحب کوئی خاص بات نہ کہہ سکے اور ویسے ب ھی‬
‫پورا سال ہی بیان سیرت طیبہ اور فضائل حمیدہ کا سلسلہ چلتصصا ہی رہتصصا‬
‫ہے اس کے لئے مخصوص دن کی ‪ ،‬تاریخ کی قید فضول ہہہے کیصصونکہ جصصس‬
‫کام میں شرع نے کصصوئی دن اور تاریصخ مقصرر نصہ کصی ہو اسصے خصود اپنصی‬
‫طرف سے لزم کرلینا ہی تو امر محدث ہے جو کہ مردود ہے۔‬
‫‪6‬۔ ذوقی وحبی پہلو ‪:‬‬
‫اس عنوان کے تحت ایک جگہ لکھتے ہیں ‪ :‬اعمال کصصی روح محبصصت رسصصول‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ ۔۔اور یہ بھی لکھا ہے کہ حضور نصصبی اکصصرم صصصلی‬
‫اللہ علیہ وسلم کی اتباع ۔۔۔اعمال کی ظاہری شکل ہے۔ )صفحہ ‪(692‬‬
‫بیشک بات صحیح لکھی ہے‪ ،‬تحریر کردہ احادیث بھی صحیح ہیں !‬
‫مگر ۔۔۔اعمال کی روح محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول ک صے‬
‫اصول متعین ہوچکے ہیں خود ساختہ اعمال حصول محبت کا ذریع صہ قطع صا ً‬
‫نہیں ہوسکتے جبکہ وہ اعمال ہوں بھی بدعات کی قبیل سے۔ اتبصصاع رسصصول‬
‫صلی تعال ٰی علیہ وسلم ہی ظاہری وباطنی شرط ہے کہ جس پر اعمال کے‬
‫صحیح اور غیر صحیح ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‬
‫مروجہ میلد‪ ،‬بدعت ہونے کی وجہ سے کبھی محبت رسول صلی اللصصہ علیصصہ‬
‫وسلم کا ذریعہ نہیں ہوسکتا ۔‬
‫القادری صاحب نے جو ظاہری اتباع کو بصصاطنی روح ومحبصصت سصے کصصم تصصر‬
‫دکھانے کی کوشش کی ہے تو یہ یوں سمجھئے کصے ’’بصصاطنیت ‘‘ کصے گنصصدے‬
‫مذہب کی ترجمانی ہے اور بس ۔ کیوں کہ خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم نے ظاہری اعمال پر ہی فیصلہ کیا ہے اور باطنی نیت کا معصصاملہ اللصہ‬
‫کے سپرد کیا ہے اور فرمایا ’’اللہ نے مجھے لوگوں کے دل چیر کردیکھنے کا‬
‫حکم نہیں دیا ہے‘‘۔)کما فی الحدیث(‬
‫‪7‬۔ روحانی وتوسلی پہلو‪) :‬صفحہ ‪(694‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اس عنوان میں بھی جناب کوئی خصصاطر خصصواہ بصصات نہیصصں کرسصصکے ہیصصں ‪:‬‬
‫شاید ’’علمی نکات‘‘ ختم ہونے لگے ہیں۔‬
‫جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ اس مروجہ جشن سے روحانی اقصصدار کصصو‬
‫فروغ ملتا ہے تو بات بالکصصل سصصیدھی سصصی ہے کصہ جصصب ایصصک چیصصز ہے ہی‬
‫مذموم‪ ،‬بدعت اور غیصصر شصصرعی )کیصصونکہ اس کصصا شصصرعی ن صہ ہونصصا تصصو خصصو‬
‫دموصوف کو بھی تسلیم ہے جیسا کہ گزرا ہے ( تو پ ھر اس س صے روحصصانی‬
‫اقدار میں کیا خاک اضافہ ہوگا ۔یہ تو ایسے ہی ہوگصصا ک صہ قصصوال کصصی قصصوالی‬
‫میں ڈھول‪،‬ڈھماکہ ‪ ،‬طبلہ وسارنگی اور چمٹے بجصاکر بدمسصتی میصں رقصص‬
‫کرنا اور پھر کہنا جی ولیت وروحانیت کے مراتب حاصل ہورہے ہیں۔‬
‫اپنی ہرغلط حرکت کو روحانیت اور باطنیت کا فصصروغ قصصرار دینصصا خالصصصتا ً‬
‫دجل وفریب پر مبنی ’’صوفیت‘‘ کا عقیدہ ہے ‪ ،‬جوکہ کتے کصے ب ھونکنے پصصر‬
‫بھی کہہ اٹھتے ہیں ‪ :‬لبیک یا سیدی ۔ استغفر اللہ ۔‬
‫اخر میں جو بڑے معصومانہ انداز میں جناب نے جو یہ لکھا ہے ک صہ ’’ ہر اس‬
‫عمل سے بچنا چاہیے جو اقائے دو جہاں کی دل ازاری کا باعث بنے )‪(696‬‬
‫ہم پوچھتے ہیں جناب کیا پیغمبر علیہ السلم کے دین میں تغیر وتبصصدل اپ‬
‫کی دل ازاری کا باعث نہیں ہے؟‬
‫رسول رحمت ﷺتو دن کا اعتبار کرکے روزہ رکھیں‪ ،‬سصصاری زنصصدگی کب ھی‬
‫جشن وجلوس نہ نکالیں اور میلدی گروہ؟‬
‫یہی تو تبدیلی ہے جس پر روز قیامت ارشاد ہوگا۔ سحقا ً سصحقا ً لمصصن غیصصر‬
‫بعد ی۔ال ٰل ّ ھم لتجعلنا مع الظالمین ۔امین ۔‬
‫قادری صاحب کی حکمت عملی یہ ہے کہ موضصصوع کصصو پیچیصصدہ بنصصا کصصر اتنصصا‬
‫طول دو کہ پڑھنے وال اکتاہٹ میں ہا ں کہنے پر مجبور ہو جائے‬

‫بدعت کی بحث‪:‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫باب دہم‪ ،‬کا عنون رکھتے ہیں’’ کیا میلد النبی صصصلی اﷲ علیصہ وسصصلم منانصصا‬
‫بدعت ہے؟‬
‫اس عنوان کے ذیل میں قادری صاحب بصصدعت کصصی لغصصوی اور اصصصطلحی‬
‫تعریف و مفہوم اہل علم حضرات سے نقل کر ک صے اسصصکی خصصود سصصاختہ و‬
‫ضاحت فرماتے ہیں اور اس سلسلے میں بد عت حسنہ اور بد عت سصصیئہ و‬
‫بدعت قبیحہ کی تقسیم بیان کر تے ہیں۔ )صصصفحہ ‪ ( 702‬اسصصی صصصفحے پصصر‬
‫ایک جگہ لکھتے ہیں‪:‬‬
‫’’جشن میلد النبی صلی اﷲ علیہ وسلم اگر چہ قرون اول ٰی میں اس شکل‬
‫میں موجود نہیں تھا جس ہیئت میں اج موجود ہے۔‘‘‬
‫قارئین کرام ذرا سا غور کیجئے گا کہ گزشتہ صفحات میں قصصادری صصصاحب‬
‫نے صحابہ کرامؓ کے رنج والم اور غم و حزن کو دلیل بنا کر نہیں کہا تھا کصصہ‬
‫انہوں نے یہ جشن میلد نہیں منایا تھا؟‬
‫یقینًایہی لکھا تھا اور کہا تھا ۔۔۔۔۔۔ مگر اب یہاں صرف یہ لکصھ ر ہے ہیصں کصہ‬
‫موجودہ شکل میں نہ تھا کہ کصوئی گنجصائش نکصل سصکے ۔۔۔ مگصر ہمصارا یصہ‬
‫سوال ہے کہ خیر القرون میں اخر وہ کون سی شکل ت ھی جصصو اج موجصصود‬
‫نہیں؟‬
‫صفحہ ‪ 703‬پر اس مروجہ میلد کو پ ھر علقصصائی ثقصصافت بصصاور کصصر انیکصصی‬
‫کوشش کر تے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ کیا علقائی ثقافت کا ہر پہلو بدعت ہے؟‬
‫اس پر تفصیلی جواب ہم دے چکے ہیں تکرار سے چنداں فائدہ نہیں۔‬
‫صفحہ ‪ 704‬پر صحابہ کرام رضصصی اﷲ عن ہم کصصی طصصرف منسصصوب کصصر ک صے‬
‫لکھتے ہیں’’حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کی ولدت کصی خوشصی منصانے میصں‬
‫بھی ان کا اپنا انداز اس دور کے کلچر کی انفرادیت کا ائینہ دار تھا۔‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ہمارا سوال وہی ہے کہ وہ انفرادی انداز کیا تھا ذرا بیان فرمائیں نصصا بحصصوالہ‬
‫نیز یہ بھی بتائیں کہ وہ سال میں فقط ایک دن کا تھا اور وہ ب ھی ‪ 12‬ربیصصع‬
‫الول کو ؟‬
‫اسی صفحہ پر لکھتے ہیں’’حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسصصلم ک صے میلد‬
‫شریف پر خوشی منانا قران و سنت سے ثابت ہے۔۔۔۔۔۔‘‘‬
‫قارئین کوئی پوچھے تو صحیح ’’شوخ ال سلم صصصاحب ‘‘ ! کیصصا پ ھر ب ھی‬
‫بدعت حسنہ ہو گا؟ جبکہ جناب خود ہی لکھتے ہیں کصہ ’’نیصصا کصصام‘‘ بصصد عصصت‬
‫حسنہ ہو تا ہے۔ کیا قران و حدیث سے ثابت شدہ امر بھی ’’ نیصصا کصصام‘‘ اور‬
‫بدعت حسنہ ہو سکتا ہے!!!اورپھر مزے کی بات یہ ہے کہ اس ’’ثابت شصصدہ‘‘‬
‫امر کے بارے میں خود ہی لکھتے ہیں!‬
‫’’حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے میلد پر اگر ہم جلسہ و جلصصوس‬
‫اور صلۃ و سلم کا اہتمام کر تصے ہیصصں تصصو اس کصصا شصصرعی جصصواز دریصصافت‬
‫کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ )صفحہ ‪( 705‬‬
‫ہم کہتے ہیں قادری صاحب شاید گھبراہٹ کصصا شصصکار ہہہو گئے ہیصصں اس لیصے‬
‫ایسا لکھ رہے ہیں جناب اگر شرعی جواز نہیصصں ت ھا تصصو اتنصصی مصصوٹی کتصصاب‬
‫لکھنے کی ضرورت کیا تھی؟‬
‫صرف ایک صفحے پر لکھ دیتے ناکہ ’’نہیں ہے دلیل‘‘ بات ختم ہو جصصاتی اور‬
‫اپ تو لکھ بھی چکے ہیں یہ ’’عید شرعی نہیں عید مسرت ہے‘‘ میرا خیصصال‬
‫ہے قادری صاحب کو اس کتاب کے چھاپنے سے معذرت کرلینی چصصاہئے اور‬
‫یہی جواب دینا چاہئے کہ‬
‫’’اس کا شرعی جواز دریافت کرنے کی ضرورت کیا ہے؟‘‘؟‬
‫صفحہ ‪ 705‬پر ہی لکھتے ہیں’’محفل میلد میں کھڑے ہو کصصر سصصلم پڑھنصصا‬
‫ثقافت کا حصہ ہے۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫قارئین کرام! قیام و سلم کی بحث گزر چکصصی ہے‪ ،‬پچھل صے مبصصاحث میصصں‬
‫دیکھ لیجئے سر دست قادری صاحب اور ان کے حواریوں سے سوال ہے کہ‬
‫’’جب قیام و سلم محفل میلد ‘‘ کی قیصصد لگصصا کصصر بیصصان کیصصا ہے تصصو پ ھر‬
‫’’محفل میلد‘‘ کے علوہ کیوں حالت قیام میں سلم پڑھا جا تا ہے؟‬

‫۔۔۔ اپن ے مذکور ہ الفاظ پر غور کرلیں ۔۔۔‬
‫صفحہ ‪ 706‬پر لکھتے ہیں ’’میلد النبی صصصلی اﷲ علی صہ وسصصلم پصصر ارائش و‬
‫زیبائش ثقافت کا حصہ ہے‘‘ دلیل یہ ہے کہ ’’یا بنی ادم خذوازینتکم عند کل‬
‫مسجد ‘‘۔ ال عراف ‪ 31‬۔‬
‫پھر لکھتے ہیں اس پہلو کا تعلق احکام شریعت سے نہیں ثقافت سے ہے۔‬
‫قارئین! قادری صاحب کو شاید بھولنے کی عادت ہے یا پھر مسلسل کذب‬
‫بیانی کی وجہ سے ایسا ہوجا تا ہے حالنکہ وہ گزشتہ مباحث میں اپنے زعصصم‬
‫کے مطابق ارائش و زیبائش ‘ چراغاں وغیرہ کو دلیصصل دینصے کصصی کوشصصش‬
‫کر چکے ہیں اور یہاں اسے فقط ثقافت ک ہہ کصصر جصصان چ ھڑا لصصی ہے۔ اخصصر‬
‫کیوں؟‬
‫ہمارا یہ سوال ہے کہ اپ کہتے ہیں کہ ’’خذوا زینتکم عند کصصل مسصصجد‘‘ بھہہی‬
‫احکام شریعت سے نہیں۔۔۔ جبکہ یہ قرانی حکصصم ہے تصصو ذرا سصصمجھائیے ک صہ‬
‫حکم شرع پھر کیسے معلوم ہو گا؟‬
‫حکم شرعی اگر قران سے نہیں ملتا تو پھر کیا اپکی ’’شوخی‘‘ سے ملصصے‬
‫گا؟؟‬
‫صفحہ ‪ 707‬پر پھر دوبارہ ’’بدعت‘‘ کی وضاحت کی طرف لوٹ ات صے ہیصصں‬
‫حالنکہ اصول ً پہلے ایک بحث کو مکمل کرنا چاہئے ۔۔۔ مگر ی صہ ب ھی قصصادری‬
‫صاحب کی کوئی چالکی ہی دکھائی دیتی ہے کصہ اس طصصرح خلصصط مبحصصث‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫سے قارئین ان کے داو پیچ کو سمجھ نہیں پاتے اور ’’وہ‘‘ اپنا کام کصر جصاتے‬
‫ہیں۔‬
‫لکھتے ہیں‪ :‬بدعت کا حقیقی تصور۔۔۔‬
‫قارئین کرام اپ جان چکے ہیں یا پھر جان لیجئے کہ قادری صصصاحب صصصفحہ‬
‫‪ 701‬پر بدعت کا اصطلحی مفہوم بیان کر چکے ہیں۔ گویا اصطلحی اور‬
‫حقیقی نیز لغوی یہ تین اصطلح قادری صاحب کصصی اخصصذ کصصردہ ہیصصں جبک صہ‬
‫ائمہ اور محدثین کے ہاں یا تو لغوی بحث ہوتی ہے یصصا اصصصطلحی علیحصصدہ‬
‫سے حقیقی تصور کی بات نہیں ہوتی۔‬
‫خود ساختہ تعریف بدعت کا علمی محاسبہ‪:‬‬
‫صفحہ ‪ 709 ، 708 ، 707‬اور ‪ 710‬وغیرہ میں حدیث ’’ من احدث فی‬
‫امرنا ھذا مالیس من ہ ف ھورد‘‘ پر بحث کرکے خود ساختہ معنصصی کشصصید کصصر‬
‫تے ہیں کہ ‪ :‬کسصصی ب ھی محصصدثہ کصے بصصدعت و ضصصللت قصصرار پصصانے کیلئے دو‬
‫شرائط کا ہونا لزمی ہے‪:‬‬
‫)‪ (1‬دین میں اس کی کوئی اصل ‪ ،‬مثال یا دلیل موجود نہ ہو‬
‫)‪ (2‬یہ محدثہ نہ صرف دین کے مخالف اور متضصصاد ہو بلک صہ دیصصن کصصی نفصصی‬
‫کرے اور احکام سنت کو توڑ دے۔ وغیرہ وغیرہ۔‬
‫ہم قادری صاحب کی مکمل بحث میں سے بھہہی یصہ کشصصید کصصردہ معنصصی و‬
‫مفہوم نکالنے میں محروم رہے ہیں چہ جائیکہ یصہ خصود سصاختہ کشصیدہ کصاری‬
‫کسی امام و محدث زماں سے دکھا سکیں۔ ذرا قادری صاحب اور ان کے‬
‫حواری ہی ہمیں یہ کشید شدہ معنی و مفہوم اپنی یا کسی امام و محصصدث‬
‫کی بحث میں دکھا دیں۔ بڑی نواز ش ہوگی۔‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اور یہ بھی بتائیں کہ ’’مروجہ ہیئت کذائیہ‘‘ کے ساتھ مخصصصوص )‪ (12‬تاریصصخ‬
‫کی ’’مروجہ میلد‘‘ منانے کی کیا اصل ہے یا کیصصا مثصصال ہے؟ یصا پ ھر کصوئی‬
‫دلیل ہی دیں؟‬
‫اگر نہیں دے سکتے تو پھر خود ہی اپنی اداوں پر ذرا غور کریں ہم عصصرض‬
‫کریں گے تو شکایت ہو گی۔‬
‫کیا بدعت و ضللت کیلئے محدثہ کا دین مخالف اور سنت کو توڑ دینے وال‬
‫ہونا ضروری ہے؟‬
‫تو پھر بتائیں‬
‫میت کے گھر میں تین دن یا چالیس دن بیٹھنا اور پان چھالیہ کھانصصا )انکصصی‬
‫طرف سے( کیوں دعوت ناجائز و بدعت شنیعہ وقبیحہ ہے؟ اپ ک صے اعل ص ٰی‬
‫حضرت نے احکام شریعت صفحہ ‪ 320‬میں ایسا ہی لکھا ہے اخر کیوں؟‬
‫نہ اس میں دین کی مخالفت ہے اور نہ یہ عمل سنت توڑ دینے وال ہے۔‬
‫قادری صاحب یہ خود ساختہ شروط و قیود ذرا اپنے امام ابصصو حنیف صہ ؒ س صے‬
‫بھی ثابت کر دیں نا تاکہ حق تقلید تو ادا ہوجائے۔‬
‫صفحہ ‪ 711‬پر لکھتے ہیں‪ :‬عھد نبوی میصں احصداث فصی الصدین سصے مصصراد‪:‬‬
‫مزید لکھتے ہیں‪:‬‬
‫احداث فی الدین یعنی کفرو ارتداد کے فتنوں کا اغاز۔۔۔۔۔۔‬
‫صفحہ ‪ 719‬پر لکھتے ہیں‪ :‬اس سے معلوم ہوا کہ احصصداث فصصی الصصدین س صے‬
‫مراد خلفائے راشدین کے دور میں وقوع پذیر ہونے وال فتنہ ارتداد تھا۔‬
‫صفحہ ‪ 724‬پر اپنی بات کی وضاحت یصوں فرمصاتے ہیصں‪ :‬بصد عصصات ضصللتہ‬
‫سے مراد چھوٹے اورہلکی نوعیت کے اختلفات نہیں بلکہ ان سے مصصراد اس‬
‫سصصطح کصے فتنصے ہیصصں کصہ ان میصصں سصے ہر فتنصہ خصصروج عصصن ال سصصلم اور‬
‫’’ارتداد‘‘ کا باعث بنے۔۔۔۔۔۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ہمارا خیال ہے کہ قادری صصصاحب ہمیشصہ بصے مقصصصد بصصا ت کصصو طصصول دیکصصر‬
‫اکتاہٹ کا شکار ہوجانیوالوں کو ہاں کہنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔‬
‫جو کچھ بھی قادری صاحب نے لکھا ہے کہ کیا یہ کسصی امصام یصا محصدث یصا‬
‫کسی حدیث صحیحہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے؟ ہر گز نہیصصں حصصتی ک صہ خصصود‬
‫قادری صاحب جن کے مقلد ہیں ان سے بھی نہیں۔‬
‫کیا ’’احکام شریعت ازا حمد رضا‘‘ میں ناجائز‪ ،‬بدعت شنیعہ و قبیحہ قرار‬
‫دی گئی دعوت باعث خروج عن ال سلم ہے؟ باعث ارتداد ہے؟‬
‫سیدنا عبد اﷲ بن عمرؓ نصے اذان کصے بعصد نمصاز کیلئے بصآ واز بلنصد بلنصے کصو‬
‫بدعت کہا ہے۔ )ابو داود(‬
‫کیا یہ بلنا باعث خروج عن ال سلم تھا؟‬
‫ابن عمرؓ نے صلۃ الضح ٰی کو بدعت کہا )بخاری بحوالہ کتاب البدعۃ قصصادری‬
‫موصوف(‬
‫کیا یہ نماز باعث خروج عن ال سلم تھی؟‬
‫ابن عمرؓ نے جمعہ کی پہلی اذان کصصو بصصدعت ک ہا ۔ )مصصصنف ابصصن بصصی شصصیبہ‬
‫بحوالہ کتاب البدعۃ(‬
‫کیا یہ اذان باعث ارتداد تھی؟ سنت توڑ دینے کے مترادف تھی؟‬
‫احادیث میں دوران نماز بسم اﷲ جھری پڑھنے کو بدعت ک ہا گیصصا )ترمصصذی‬
‫مع التحفہ ‪( 2/62‬‬
‫فجر کی نماز میں دائمی قنوت کو محدث ) بدعت ( کہا گیا )ترمذی مصصع‬
‫التحفہ ‪( 2/450‬‬
‫اشعار نہ کرنے کے قول کو بدعت کہا گیا )ترمذی مع التحفہ ‪( 3/771‬‬
‫وطا ‪( 208‬‬
‫عبد اﷲ بن زبیرؓ نے متجرد کو دیکھا تو کہا بدعۃ ورب الکعبہ )م ٔ‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫کیا قادری صاحب یہ فرمائیں گے کہ یہ تمصام امصور جنہیصں بصد عصت ک ہا گیصا‬
‫باعث ارتداد و خروج عن ال سلم ہیں۔ نعوذ با ﷲ من ذلک۔‬
‫لہٰذا ثابت ہوا کہ قادری صاحب کا خود کشید کردہ معنی و مفہوم سراسصصر‬
‫باطل ہے اور بہت سی احادیث کے خلف ہے۔‬
‫یاد رہے کہ مذکورہ امور کو بطور مذمت و تردید بدعت اور محدث کہا گیصصا‬
‫ہے یہ حسنہ بھی قرار نہیں دئیے جا سکتے اور حسنہ کی بحث تو ابھی ارہی‬
‫ہے۔‬
‫صفحہ ‪ 726 ,727 ,729‬وغیرہ پر قادری صاحب جمصصع القصصران فصصی ع ہد‬
‫الصدیق ؓ کو با جماعت تراویح فی عہد عمرؓ کو اور نمصصاز جمع صہ س صے قبصصل‬
‫دوسری اذان فی عہد عثمانؓ کو بدعت حسنہ سے تعصصبیر کصصر ت صے ہیصصں۔ اور‬
‫اس طرح مروجہ میلد کو بدعت حسنہ ثابت کرنیکی کوشش کی ہے۔‬
‫معاذ اﷲ استغفر اﷲ ! قادری صاحب کو کیا ہو گیصصا کصہ نصصبی رحمصصت صصصلی‬
‫اﷲعلیہ وسلم تو اپنے خلفاء راشدین کے عمل کو سنت قرار دیکصصر لزمصصی‬
‫تھامنے کا حکم دیں )ابو داود وغیرہ( اور ’’شوخ ال سلم‘‘ ان کے عمل کو‬
‫کہ جس پر دیگر صحابہ کا اجماع سکوتی بھی ہے اسصے بصدعت قصصرار دیصں‬
‫اور پھر اسے حسنہ کا لبادہ عطا کریں۔ اﷲ انہیں ہدایت دے صصصفحہ ‪ 732‬پصصر‬
‫قادری صاحب ائمہ و محدثین کی بیان کر دہ اقسام بد عت کا عنوان قائم‬
‫کر تے ہیں اور بدعت کو پانچ اقسام سے گزارتے ہیں۔۔۔‬
‫سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ایا اس تقسیم پر کوئی شرعی دلیصصل ب ھی ہے یصصا‬
‫نہیں؟ ہے تو پیش کی جائے یہ تقسیم تو از خصصود بصصدعت قصصرار پصصاتی ہے کصہ‬
‫قادری صاحب کے بقول ’’ دین میں اس کی کوئی اصصصل‪ ،‬مثصال یصاد دلیصل‬
‫موجود نہ ہو ‘‘ )صفحہ ‪( 709‬‬
‫اور یہاں ایسا ہی ہے اس تقسیم کی کوئی اصل‪ ،‬مثال یصا دلیصل دیصن میصں‬
‫نہیں ہے۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫صفحہ ‪ 735‬پر جناب نصے مل علصی قصاری حنفصی سصے کصل بصدعۃ ضصللۃ کصا‬
‫صحیح مفہوم بیان کر تے ہوئے بدعت کی تقسصصیم پصصر یصصا بصصدعت حسصصنہ پصصر‬
‫حدیث ’’ من سن فی ال سلم سن ۃ حسن ۃ‘‘ سے استدلل کی کوشش کی‬
‫ہے۔‬
‫اس طرح کا استدلل و استشھاد صصصفحہ ‪ 739‬اور ‪ 740‬پصصر ب ھی کرنیکصصی‬
‫کوشش کی ہے۔‬
‫اور پھر یہ بھی عجیب بات ہے کہ خود ہی کہتے ہیصصں‪ :‬بصدعت حسصنہاور سصصی ٔہ‬
‫کی تقسیم مبنی بر حدیث ہے محض قیاسی نہیں بلکہ سیدنا عمصصر فصاروق ؓ‬
‫کے قول پر قائم ہے )صفحہ ‪( 729‬‬
‫پہلے تو یہ فیصلہ کیا جائے کہ تقسیم بد عت کا استدلل کس حدیث و قصصول‬
‫سے ہو گا اور پھر اس استدلل کو مقلصصدین اپن صے امصصام اعظصصم س صے ثصصابت‬
‫کریں تاکہ حق تقلید ادا ہو اور ’’غیر مقلصصد‘‘ کصصا فتصصو ٰی ب ھی ان پصصر نصہ لصصگ‬
‫سکے۔‬
‫نیز قول عمر فاروق ؓ ’’نعمت البصصدع ۃ ھذ ہ‘‘ دلیصصل نہیصصں بصصن سصصکتا کیصصونکہ‬
‫قادری صاحب خود ہی لکھتے ہیں‪:‬‬
‫ہر وہ نیا کام جس پر دلیل شرعی موجود ہو شرعا ً بدعت نہیں ۔۔۔ اگر چ صہ‬
‫لغوی اعتبار سے وہ بدعت ہو گا ۔ )صفحہ ‪( 711‬‬
‫اور قول عمرؓ با جماعت تروایح کے بارے میصصں ہے اور تراویصصح بصصا جمصصاعت‬
‫خود رسول مقبول صلی اﷲ علیہ وسلم سصے ثصصابت ہے اور اس کصصی اصصصل‬
‫موجود ہے۔ لہٰذا سے شرعا ً بدعت نہیں کہا جا سکتا لہٰذا اس سصے اسصصتدلل‬
‫باطل ہوجا تا ہے۔‬
‫اور یہ بھی یاد رہے کہ ’’سصصن ۃ الخلفصصاء الراشصصدین‘‘ کصے الفصصاظ خصود ان کصے‬
‫عمل کے سنت ہو نیکی دلیل ہے اسصے بصصدعت کہنصصا تصصو تصصوہین رسصصالت کصے‬
‫زمرے میں اتا ہے جس کا ارتکاب قادری صاحب کر رہے ہیں۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫امام شافعی رحمہ اللہ کا کلم‪ ،‬قادری صاحب کو مفید نہیں‪:‬‬
‫صفحہ ‪732‬پر قادری صاحب نے عنوان قائم کیصصا ہے ’’ائم صہ ومحصصدثین کصصی‬
‫بیان کردہ اقسام بدعت ‘‘‬
‫ا۔ امام شافعی ‪150-204‬ھ لکھ کر ان کی عبارت نقل کرتے ہیں کہ جصصس‬
‫میں بظاہر بدعت ضللت اورمحدثہ غیر مذمومہ وغیرہ کا ذکر موجود ہے۔‬
‫قارئین کرام امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کیصصاہوا اقتبصصاس ب ھی قصصادری‬
‫صاحب کو چنداں مفید نہیں ہے کیونکہ جناب امام ابو حنیفہ رحم صہ الل صہ ک صے‬
‫مقلد ہیں لہٰذا انہیں اپنے موقف کی تائید میں انپے امام اعظم سے ہی کچھ‬
‫نقل کرنا چاہیے۔‬
‫‪۲‬۔امام شافعی رحمہ اللہ کے نقل کئے گئے اقتبصصاس میصصں بصصدعت کصصی پانصصچ‬
‫اقسام نہیں ہیں جیسا کہ قادری صاحب نے دعو ٰی کیا ہے۔‬
‫‪۳‬۔امام شافعی رحمہ اللہ نے اس بدعت کو ضللت قرار دیا ہے کہ جو کتاب‬
‫وسنت‪ ،‬اثار صحابہ اور اجماع امت کے مخالف ہو اور کہا ہے کہ ’’ومااحدث‬
‫من الخیر لخلف فی ہ لواحد من ھذا ‘‘یعنی جو کام مبنی برخیر ہو اور ان‬
‫مذکورہ چیزوں سے سے کسصصی ایصصک ب ھی مخصصالفت ن صہ کصصرے تصصو وہ )کصصام(‬
‫بدعت مذمومہ نہیں۔۔۔‬
‫جب یہ بات بالکل واضح ہے تو ہمارا قادری صاحب سے سصصوال ہے ک صہ کیصصا‬
‫’’مروجہ میلد‘‘ کو کتاب وسنت ‪ ،‬اثصصار صصصحابہ اور اجمصصاع امصصت کصصی تائیصصد‬
‫حاصل ہے؟ یقینًانہیں تو پھر ی صہ مصصذکورہ چیصصزوں ک صے خلف ب ھی ہوانصصا! اور‬
‫امام شافعی رحمہ اللہ ایسے ہی عمل کو بدعت ضللت کہتے ہیں؟ قصصادری‬
‫صاحب بڑے بھولے پن سے اپنے خلف وارد ہونے والی دلیصصل کصصو اپن صے حصصق‬
‫میں نقل کرجاتے ہیں۔‬
‫’’اس سادگی پر کون نہ مرجائے اے خدا‘‘‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اور پھر یہ بھی انتہائی قابل غور بات ہے کہ عبارت امصصام شصصافعی ک صے اخصصر‬
‫میں قول عمرؓ نعمت البدعۃ ھذہ سے قیام رمضان کو بدعت مصصذمومہ س صے‬
‫خارج کیا گیا ہے کیونکہ تراویح وقیام رمضان کی اصل اور دلیل تو موجصصود‬
‫ہے اور ایسی چیز لغۃ بدعت کہی جاتی ہہہے اصصصطلحا ً نہیصصں جیسصصا کصہ خصصود‬
‫قاری صاحب نے لکھا ہے کہ ’’ ہر وہ نیا کام جس پر دلیل شرعی موجود ہو‬
‫) صصصفحہ‬
‫شرعا ً بدعت نہیں اگر چہ لغصصوی اعتبصصار س صے وہ بصصدعت ہوگصصا ۔‬
‫‪(711‬‬
‫توثابت ہوا امام شافعی رحمہ اللہ نے لغوی اعتبار سصے بصدعت ضصصللت اور‬
‫بدعت غیر مذمومہ کی بات کی ہے‪ ،‬شرعی اعتبصصار سصے نہیصصں۔ اب قصصادری‬
‫صاحب ہی اس قول سے بدعت شرعی کی اقسام خمسہ ثابت کرنصصے پصصر‬
‫تل جائیں تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔!!!‬
‫’’جوچاہے اپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘‬

‫تقسیم بدعت پر جوابات‪:‬‬
‫صفحہ ‪733‬پر شیخ عزالدین بن عبدالسصصلم ‪577-660‬ھ س صے بصصدعت کصصی‬
‫پانچ اقسام ثابت کرنیکی کوشش کی ہے۔‬
‫قارئین کرام! سوال تو کیجئے قادری صاحب !کیا امصصام شصصافع ؒی اور شصصیخ‬
‫عزالدین ؒ کے درمیان جو سینکڑوں سال کا عرصصہ ہے‪ ،‬کصصوئی محصصدث اور‬
‫امام نہیں گزرے جنہوں نے بدعت کی کوئی تقسیم بیان کی ہو اور وہ ب ھی‬
‫شصصرعی اعتبصصار سصصے؟ یقینصصًاکوئی نہیصصں! ورنصصہ قصصادری صصصاحب ضصصرور‬
‫ذکرفرماتے!!!معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقسیم ہے ہی محل نظصصر جیسصصا کصہ امصصام‬
‫شاطبی رحمہ اللہ نے ’’العتصام‘‘ میں کہا ’’ ھذا امر مخترع لم یصصدل علی صہ‬
‫دلیل شرعی‘‘ اس تقسیم کصصی کصصوئی شصصرعی دلیصصل نہیصصں ی صہ تقیصصم تصصو از‬
‫خودہی بدعت ہے!!صصصفحہ ‪734‬پصصر و ہی کلم جصصو شصصیخ عزالصصدین ؒ کصصا ہے‬
‫ملعلی قصصاری حنفصصی سصے لکصھ مصصارا ہے تصصاکہ کچصھ تصصو کتصصاب وزنصصی ہو!!‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫موصوف نے ملعلی قاری سے ’’کل بدعۃ ضللۃ‘‘ کا صحیح مفہوم یہ بیصصان‬
‫کیا ہے کہ ’’ کل بدعۃ سیءۃ ضللۃ‘‘ یعنی ہر بری بدعت گمرا ہی ہے۔ اس‬
‫سلسلے میں عرض ہے کہ یہ قید بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل مفقصصود ہے؟‬
‫اور امام مالک رحمہ اللہ جیسصے امصصام کصے سصصامنے ’’قصصادری صصصاحب‘‘ کصے‬
‫’’قاری‘‘ کی کیا حیثیت ! امام مالک رحمہ اللہ نے کہا ت ھا ک صہ ’’ مصصن ابتصصدع‬
‫فی السلم بدعۃ ویصصرا ھاحسصصنۃ‘‘یعنصصی جصصو شصصخص اسصصلمی میصصں بصصدعت‬
‫ایجادکرے اور پھر اسے حسنہ باور کرائے تو گویصصا اس )بدنصصصیب( ن صے اپن صے‬
‫پیغمبر کو خائن قرا ر دیدیا نعوذ باللہ استغفراللہ )العتصام دیکھئے(‬
‫لہذا یہ تقسیم خود ساختہبدعت سی ٔہ اور بدعت حسنہ بدترین جسصصارت ہے‬
‫جس کا ارتکاب قادری صاحب اور ان کے ہم مشربوں کے حصے میصصں ایصصا‬
‫ہے۔صفحہ ‪736‬پر قادری موصوف نے علمہ ہیتمصصی س صے ’’بصصدعت محرم صہ‘‘‬
‫کی بات کرکے یہ بتصصانے کصصی کوشصصش کصصی ہے وہ ب ھی اس تقسصصیم محصصدثہ‬
‫مخترعہ کے قائل ہیں ۔ تو جنصصاب ذرا یصہ ب ھی دیکصھ لیجئے کصہ علمصہ ہیتمصصی‬
‫فرماتے ہیں۔جن علماء نے بدعت کوحسن اور غیر حسن میں تقسصصیم کیصصا‬
‫‪370‬صصاو ٰی‬
‫ہے تو اس سے مصراد بصدعت کصصی لغصصوی تقسصصیم ہہہے ۔ )صصصفحہ فت‬
‫حدیثیہ‪ ،‬قدیمی(نیز فرماتے ہیں ۔ بدعت شرعیہ فقط ضللت ہی ہوتی ہے‬
‫)حوالہ مذکورہ( مزید فرماتے ہیں۔ قول عم ؓر نعمت البصصدع ۃ ھذ ہ سصصے مصصراد‬
‫بھی لغوی بدعت تھی نہ کہ شرعی۔ )حوالہ مذکورہ( امیدہے قادری صصصاحب‬
‫کے مقلدین ومتوسلین ان کی تمام سابقہ بحث کو علمہ ہتیمی کے بیانصصات‬
‫کی روشنی میں ’’ دجل وفریصصب‘‘ س صے تعصصبیر کریصصں گ صے۔ ان شصصاء الل صہ ۔‬
‫مذکورہ صفحہ پر ہی قادری صاحب ’’تقسیم بدعت ‘‘ کا عنوان قائم کرتے‬
‫ہیں۔ قارئین! اپ کو معلوم ہے کہ اس سصے قبصصل جنصصاب ’’اقسصصام بصصدعت‘‘‬
‫کی ہیڈنگ لگاچکے ہیں اب ظاہر ہے یہ بے مقصد کا طول دینے والی بات ہے‬
‫وگرنہ تو تقسیم اور اقسام میں اخر فرق ہی کیا ہے۔‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫موصوف فرماتے ہیں‪:‬بنیادی طور پر بدعت کی دو اقسصصام ہیصصں )ا( بصدعت‬
‫حسنہ )‪(۲‬بدعت سی ٔہ ۔ اور پھر مجموعی طور پر ان کی ذیلی اقسام کے‬
‫تحت پانچ قسم کی بدعات کا تعارف پیش کرتے ہیں۔ مزید ی صہ ک صہ تقسصصیم‬
‫بصصدعت پصصر متصصن حصصدیث ’’ مصصن سصصن فصصی السصصلم سصصن ۃ حسصصن ۃ‘‘سصصے‬
‫استشھادکرتے ہیں۔‬
‫قارئین عظام! موصوف صرف بے مقصد کی ہانک رہے ہیصں نصہ تصو تقسصیم‬
‫بدعت پر ہی کوئی دلیل ان کے پاس ہے اور نہ ہی ’’ من سن فی السصصلم‬
‫سنۃ حسنۃ‘‘کا وہ معنی ہے جو جنصصاب لینصصا چصصاہتے ہیصصں۔تفصصصیل کصے لئے اس‬
‫حدیث کا سبب بیان دیکھا جاسکتا ہے نیز اہل علصصم ن صے اس کصصی وضصصاحت‬
‫میں جوکچھ لکھا ہے وہ بھی مشعل راہ ہے۔ تقسیم بدعت اگر ہے تو باعتبار‬
‫لغت کہ ہے جیسا کہ علہتیمی اور دیگر اہل علم نے صراحت کی ہے۔ جبک صہ‬
‫قادری صاحب اس تقسیم کو شصصرعی و اصصصطلحی قصصرار دینصے پصصر مصصصر‬
‫دکھائی دیتے ہیں۔‬

‫گ ھر کا ب ھیدی ۔۔۔۔‪:‬‬
‫قادری صاحب کی جانی پہچانی اور ممصصدوح شخصصصیت شصصیخ مجصصدد الصصف‬
‫ثانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ )بدعت حسصصنہاور سصصی ٔہ کصصی تقسصصیم کصصی نفصصی‬
‫کرتے ہوئے( یہ فقیر ان بصصدعتوں میصصں س صے کسصصی بصصدعت میصصں حسصصن اور‬
‫نورانیت مشاہدہ نہیں کرتا اور ظلمت وکدورت کے سصصواء کچ صھ محسصصوس‬
‫نہیں کرتا۔ اگرچہ اج مبتدع کے عمل کو ضعف بصارت کے باعث طراوت و‬
‫تازگی میں دیکھتے ہیں لیکن کل جب کہ بصیرت تیز ہوگی تو دیکھ لیں گے‬
‫کہ اس کا نتیجہ خسارت وندامت کے سواء کچھ نہ تھا۔ حضرت خیر البشصصر‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ’’ من احدث فی امرنا ھذا مالیس من ہ‬
‫ف ھورد‘‘جس نے ہمارے امر میں ایسی نئی چیصصز ایجصصاد کصصی جصصو اس میصصں‬
‫سے نہیں ہے تصصو وہ مصصردود ہے‪ ،‬بھل جصصو چیصصز مصصردود ہووہ حسصصن کیصصا پیصصدا‬
‫کرسکتی ہے۔کچھ اگے چل کر لکھتے ہیں‪ :‬پس جب ہرمحدث بدعت ہے اور‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫بدعت ضللت پھر بدعت میں حسصصن کصے کیصصا معنصصی ہوئے۔ نیصصز جصصو کچصھ‬
‫احادیث سے مفہوم ہوتا ہے وہ یہ کہ ہربدعت سنت کی رافصصع ہے بعصصض کصصی‬
‫کوئی خصوصیت نہیں پس ہر بدعت سی ٔہ ہے۔ )تفصصصیل دیکھئے ‪ ،‬مکتوبصصات‬
‫امام ربانی مکتوب نمبر ‪(186‬‬
‫یہی شیخ ربانی رحمہ اللہ نے مجلس مولود خصوانی کصی بصڑی سصختی سصے‬
‫تردید کی ہے۔ )دیکھئے مکتوب نمبر ‪ (273‬قارئین کرام! حوالے مزید دئی صے‬
‫جاسکتے ہیں مگر طوالت کے خوف سے ہم اسی پصصر اکتفصصا کرتصے ہیصصں اور‬
‫چلتے ہیں قصصادری صصصاحب کصصی کتصصاب کصصی طصصرف۔ صصصفحہ ‪742‬پصصر قصصادری‬
‫صاحب علمی جوہر لٹاتے ہیں‪ :‬قران وحدیث میصصں جشصصن میلد کصصی اصصصل‬
‫موجود ہے‘‘ ہم کہتے ہیں ۔ سبحان اللہ ! کیا علصم ہے جنصاب کصا کیصصا تقریبصا ً‬
‫ساڑھے سات سو صفحات کے بعد ظاہر ہوا ک صہ ’’جشصصن میلد‘‘ کصصی اصصصل‬
‫یی موصوف صصصفح ٔہ‪705‬پصر ہارمصان‬
‫قران وحدیث میں موجود ہے!!حالنکہ ہ‬
‫بیٹھے یہ کہتے ہوئے کہ ’’ اس کا شرعی جواز دریافت کرنے کی کیا ضرورت‬
‫ہے؟‘‘‬
‫حیرت کی بات ہے کہ جب ’’مروجہ جشن میلد‘‘ کی اصصصل قصصران وحصصدیث‬
‫میں موجود ہے تو پھر اسے ’’بدعت حسنہ‘‘ کیوں تسلیم کیا جارہا ہے ؟؟؟‬
‫یادرہے ہم لکھ چکے ہیں کہ قادری صاحب کے ممدوح امصصام سصصیوطی رحمصہ‬
‫اللہ فرماتے ہیں‪’’ :‬و ھذا وان لم یردفی ہ نص‪ ،‬ففی ہ القیاس‘‘)حسن المقصصصد‬
‫صفحہ ‪ (51‬یعنی زیر بحث مسئلے میں نص ‪) ،‬اصل( موجودنہیں بلکصصہ اس‬
‫میں قیاس کرنا ہوگا ۔صفحہ ‪743‬پر موصوف نے اپنی مخصوص فکصصر کصصے‬
‫طبقے کو ’’جمہورامت‘‘ اور ’’سواد اعظم‘‘ قرار دینصے کصصی کوشصصش کصصی‬
‫ہے۔‬
‫ہمارا جواب یہ ہے کہ کنویں کا مینڈک اخر کنویں میں ہی ٹراتا رہتا ہے اسصصے‬
‫معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کنویں سے باہر ب ھی ایصصک وسصصیع دنیصصا ابصصاد ہے۔‬
‫قادری صاحب بھی بالکل اسی مینڈک کی طرح حرکت کررہے ہیں۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫کسے نہیں معلوم کہ جناب کی فکر بریلصی فقصط پصاک وہنصد کصی فضصا کصو‬
‫الودہ کررہی ہے جبکہ اس کے علوہ تمام عالم اسلم اور دنیا عصصالم ان ک صے‬
‫ایجاد کردہ نئے دین سے نااشنا ہے۔اور اگر پاک وہند کا ایک مخصوص طبقہ‬
‫جس کی کل زندگی بمشصصکل ڈیصصڑھ سصصو سصصال سصے کچصھ ہی اوپصصر ہے وہ‬
‫’’جمہورامت‘‘ اور ’’سواداعظم‘‘ ہے تصصو الل صہ ہمیصصں اس جم ہور اور سصصواد‬
‫سے محفوظ ہی رکھے۔ امین۔‬
‫شاید انہیں معلوم نہیں کہ جن بزرگوں کے نام پر یہ ’’دکانیں‘‘ چلر ہے ہیصصں‬
‫ان میں سے کوئی بھی نہ تو حنفی تھا اور نہ ہی بریلوی اور قصصادری ۔ اگصصر‬
‫تھا تو ذرا حوالہ دیں نا امام ابو حنیفؒہ ‪ ،‬اما م محمد‪ ،‬امام ابو یوسف‪ ،‬امصصام‬
‫زفر‪ ،‬شیخ عبدالقادر جیلنی ؒ کوئی تو’’قادری‘‘ ثابت ہو!!‬
‫باب یازدھم میں قادری صاحب عنوان قائم کرتے ہیں جشن میلد النبی ﷺ‬
‫کی اعتقادی حیثیت‬
‫ذیلی عنوانات میں ترتیب کے اعتبار سے لکھتے ہیں۔‬
‫‪1‬۔ میلد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اصطلح کا استعمال‬
‫‪2‬۔ کتب لغت میں لفظ میلد کا استعمال‬
‫‪3‬۔ کتب احادیث و سیر میں لفظ میلد کا استعمال‬
‫‪4‬۔ تصانیف میں لفظ میلد کا استعمال‬
‫ان تمام عنوانات ابواب میں قادری صاحب اپنے زعم میں دلئل بھی ذکصصر‬
‫کرتے ہیں گویا وہ اس طرح لفظ میلد ثابت کرنا چاہتے ہیصصں‪ ،‬حصصالنکہ لفصصظ‬
‫میلدپر تو کسی کو کصصوئی شصصکوہ ہی نہیصصں کیصصونکہ یصہ لفصصظ بمعنصصی وقصصت‬
‫ولدت تو کتصصب احصصادیث و سصصیر میصصں وارد ہوا ہے۔ اور ی ہی کچصھ قصصادری‬
‫صاحب کے طویل انداز تحریر کا خلصہ ہے۔مگر ہمارا سصصوال تصصو یصہ ہے کصہ‬
‫مروجہ ہیئت کذائیہ کے اعتبار سے میلد کصصو دلئل س صے ثصصابت کیجئے جس صے‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اپکے امام اعظم کے قول کی تائید بھی حاصل ہوکہ تواصوابا لتقلید کا یہی‬
‫تقاضا ہے۔ لفظ ولد‪ ،‬یلد یا میلد و مولد سے مروجہ جشن و جلصصوس ہرگصصز‬
‫ثابت نہیں ہوسکتا بالکل اسی طرح کہ جیسے متعو ھن سے متعہ ثابت نہیصصں‬
‫ہوسکتا۔‬
‫لہذا قادری صاحب کے بیان سے اتنا ہی معلوم ہوتا ہے کہ عقیدہ رک ھا جصصائے‬
‫کہ لفظ میلد بہرحال احادیث و سصصیر میصصں اسصصتعمال ہوا ہے اور بصصس۔۔۔۔‬
‫فیصلہ قادری ۔۔۔۔۔ پھر صفحہ ‪ 757‬پر رقم طراز ہوتے ہیں‪:‬‬

‫جشن میلد النبی ﷺ عید مسرت ہے عید شرعی‬
‫ن ہیں‪:‬‬

‫ہم کہتے ہیں کہ قادری صاحب نے یہ عنوان قائم کرکے گویافیصلہ ہہہی کردیصصا‬
‫کہ اس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر پھر سوال یہ پیدا ہوتصا ہے‬
‫جس کی اصل قران و سنت میں موجود ہو )بقول موصوف کے( حتی کے‬
‫ایات و احادیث بھی اس کی تائید کرتی ہوں وہ عمل جشن پھر ب ھی عیصصد‬
‫شرعی کیوں نہیں؟؟؟؟؟ اور جہاں تک تعلق ہے کہ یہ عید مسرت ہے یہ بھی‬
‫قادری صاحب کی خود ساختہ اصطلح ہے کیا وہ اس طصصرح ی صہ کہنصصا چصصاہتے‬
‫ہیں کہ عید شرعیہ الفطر و الضح ٰی مسرت و سرور سے خالی ہوتی ہیں؟‬
‫یا پھر وہ رنج و الم اور نفرت کی عیدیں ہیں؟ معاذ الل ہ۔ثم معاذ الل ہ۔‬
‫صفحہ ‪ 758‬پر لفاظی کرتے ہوئے فرماتے ہیں‪ :‬بنظصصر غصصائر دیک ھا جصائے تصو‬
‫یوم میلد ان عیدوں سے کئی گنا بلند رتبہ اور عظمت کصصا حامصصل ہے۔اپ ﷺ‬
‫ہی کے صدقہ و توسط سے ہمیں تمام عیدیں۔۔۔۔۔‬
‫اس کا مطلب تو گویا یہ ہوا کہ جب نبی علیہ السلم ہی ک صے توسصصط س صے‬
‫مکمل دین ہم تک پہنچا ہے تو اس جملے کو دلیل بنا کر کچھ بھی ایجاد کیا‬
‫جاسکتا ہے۔ مثل ً انے والے ادوار میں قادری صاحب اور ان کی ذریصصت اگصصر‬
‫صلۃ المیلد یا صلۃ ولدت رسول ﷺ صدقہ بصصر ولدت بصصا سصصعادت کصے نصصام‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫سے مخصوص ہیئت وشکل میں ایجاد کریں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں‬
‫ہونا چاہیے کہ دین تو مل ہی مصطف ٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سصصے‬
‫ہے؟؟؟‬
‫قارئین کرام ! غور کیجئے قادری صاحب کس طرح الفاظوں سے کھیلتصصے‬
‫ہوئے تکمیل اسلم کےمسلمہ مسئلہ کو چیلنج کرنے کصصی جسصارت کصصر رہہہے‬
‫ہیں؟؟‬
‫اگر الفاظوں سے کھیل کر ہی اپنی بات منوانی ہو تو پھر کیا کچھ اخصصتراع‬
‫و ایجاد نہیں کیا جاسکتا؟ اج نبی علیہ السلم کی ولدت کا جشن بل دلیل‬
‫‪ ،‬کل ہوسکتا ہے کہ جشن ولدت والد رسول ﷺ منایا جائے پھر کہا جصائے کصہ‬
‫اصل تو وہی ہیں انہی کو اللہ نے ولدت رسول ﷺ کےلئے سبب بنایا تھا لہذا‬
‫ان کا بھی جشن ولدت ہونا چاہیے اور پ ھر ہوسصصکتا ہے کصہ والصصد کصے والصصد‬
‫)عبدالمطلب( کا بھی سلسلہ اسی طرح شروع کر دیا جائے ؟؟؟ تو بتائیے‬
‫یہ سلسلہ کہاں جا کے رکے گا؟؟؟ واللہ المستعان۔‬
‫اور یہ بھی یاد رکھئے کہ جب عمل ہی خود ایجاد کردہ ہو تو پھر اسصصے بلنصصد‬
‫رتبہ اور عظمت کا حامل قرار دینا ب ھی کصوئی اچھنبصے کصصی بصات نہیصں کصہ‬
‫موجد کے ہاں وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ بہرحال اس بحث سے یہ عقیدہ ثصصابت ہو‬
‫اہے کہ جشن میلد النبیﷺ عیصصد شصصرعی نہیصصں ہے ۔بالکصصل صصصحیح بصصات ہے‬
‫جناب!!!‬
‫صفحہ ‪ 760‬سے لے کر ‪ 769‬تک قادری صاحب نے جصصو کچصھ لک ھا ہے اس‬
‫میں کوئی خاطر خواہ بات مروجہ جشن میلد کی تائید نہیصں کرتصصی اور نصہ‬
‫ہی ائمہ حدیث و سیر نے اس معنی میں لفظ میلد استعمال کیا ہے۔ مگصصر‬
‫پھر بھی قادری صاحب نے اپنصصی مخصصصوص حکمصصت عملصصی ک صے تحصصت ب صے‬
‫مقصد بحث کو طول دیصا ہے تصاکہ اکتصا کصر ک ہا جصائے حضصرت نصے صصحیح‬
‫فرمایا!!!‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫قارئین ! ہم پہلے اپ کو بتا چکے ہیں کہ قادری صاحب مسلسل کذب بیانی‬
‫کی وجہ سے اپنے حافظے پر کنٹرول نہیں رکھ پاتے کبھی کچھ کہتے ہیصصں اور‬
‫کبھی کچھ ۔مثل ً باب ہشتم کی فصل دوم میں میلد ک صے اجصصزائے تشصصکیلی‬
‫بیان کرتے ہوئے لکھا ت ھا بیصصان سصصیرت و فضصصائل رسصصول ﷺ اور اب صصصفحہ‬
‫‪ 763‬پر بیان میلد کو بیان سیرت سے جد ا قرار دیتے ہیں!! ایسصصالگتا ہے‬
‫کہ قادری صاحب کو اپنے بیان کردہ دلئل و نکات پصصر ب ھی اطمینصصان قلصصب‬
‫حاصل نہیں اسی لئے کبھی ہاں اور کبھی نہ ‪ ،‬کا اسلوب اختیار کرتے ہیں۔‬

‫قادری صاحب ل جواب ہوگئ ے!!‪:‬‬

‫صفحہ ‪ 769‬پر لکھتے ہیصصں‪’’:‬میلد النصصبی ﷺ پصصر شصصرعی دلیصصل طلصصب کرنصے‬
‫والوں کی خدمت میں۔‘‘‬
‫قارئین کرام! ہم سمجھے کہ اب تو قادری صصصاحب ضصصرور بالضصصرور دلیصصل‬
‫شرعی دے ہی دیں گے مگر انہوں نے توپھر لفاظی بے جا شروع کردی کصصہ‬
‫جس کا خلصہ یہ ہے کہ میلد نہ منانے والے ہزاروں خوشیاں منا تے ہیں اس‬
‫وقت قران و حدیث کو کیوں نہیں دیکھتے؟؟‬
‫اللہ اکبر ! سصصبحان اللصہ! واہ قصصادری صصصاحب واہ!! ی ہی اپکصصامبلغ علصصم ہے۔‬
‫مبارک ہو جناب!‬
‫ارے کیا اتنا بھی نہیں معلوم کے عادات و عبادات میں فصصرق ہوتصصا ہے‪ ،‬کیصصا‬
‫عادات کو قران و حدیث میں تلش کیا جاتا ہے؟ نبی مکرم ﷺ کی نسصصبت‬
‫سے جو عمل کیا جائے گا وہ عبادت کے درجے میصصں ہوگصصا اور عبصصادات کصصی‬
‫دلیل شرعی دینا ہوتی ہے۔ مگصصر قصصادری صصصاحب نصے دلیصصل شصصرعی نصہ دی‬
‫کیونکہ ان کےپاس ہے ہی نہیصصں اور ویسصے دلیصصل شصصرعی دے ب ھی کیسصے‬
‫سکتے ہیں جبکہ وہ تو خود میلد مروجہ کو کہتے ہیصصں ی صہ عیصصد شصصرعی نہیصصں‬
‫)صفحہ ‪ (757‬اور یہ بھی فرماتے ہیں‪ :‬اس کا شرعی جواز دریصصافت کرنصصے‬
‫کی کیا ضرورت ہے؟ )صفحہ ‪(705‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫میلد منانا عمل توحید ہے‪) ،‬مگر قادری توحید ہے کیا؟؟(‬
‫صفحہ ‪ 773‬پر لکھتے ہیں‪:‬‬
‫اور پھر وضاحت کرتصے ہیصصں کصہ جسصصکی ولدت منصصائی جصصائے وہ خصصدا نہیصصں‬
‫ہوسکتا۔‬
‫قارئین! ہم عرض کرتے ہیں کہ بظاہر تو بالکل صحیح بات ہے مگر ی صہ ب ھی‬
‫ایک حقیقت کہ قصادری صصاحب نصے اپنصے درس میصں معصراج النصبی ﷺ بیصان‬
‫کرتے ہوئے کہا‪ :‬ہک ‪ ،‬ہک‪ ،‬ہک ہے‪ ،‬جہڑا ہک نوں دو اکھے ‪ ،‬کافر تصصے مشصصرک‬
‫ہے )یہ سی ڈی میں بیان ہے( یعنی خصصالق و مخلصصوق )الل صہ اور رسصصول (کصصو‬
‫الگ الگ ماننا کفر و شرک ہے اب بتائیے عمل توحید کے دعوے دار کون؟‬
‫دوسری بات یہ ہے کہ عمل توحید فقط دعوے سے ہی توحید ی نہیں ہوجاتصصا‬
‫بلکہ توحید نام ہے متابعت رسول ﷺ کا )شصصرح عقیصصدہ طحصصاویہ (اور مروج صہ‬
‫میلد میں متابعت رسول ﷺ نہیں بلک صہ مخصصالفت رسصصول ﷺ ہوتی ہے ۔ ہم‬
‫میلد یوں کو اس مسئلہ پر بدعتی کہتے ہیں جبکہ یہ فرمان الہی بھی قابصصل‬
‫غور ہے۔‬
‫ام ل ھم شرکاء شر عوال ھم من الدین مالم یاذن ب ہ الل ہ‬
‫صفحہ ‪ 774‬پر لکھتے ہیصصں‪’’:‬جشصصن میلد النصصبی ﷺ پصصر خصصرچ کرنصصا اسصصراف‬
‫نہیں‘‘‬
‫اور پھر تفصیلی بحث میں کار خیر میں مطلقا ً اسراف کا انکار کیا ہے ۔‬
‫حالنکہ ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعال ٰی ن صے فرمایصصا‪ :‬کلصصو اواشصصربو ا ول تسصصرفوا۔‬
‫کھانے اور پینے میں اسراف ممکن ہے جب ھی تصصو ک ہا گیصصا ول تسصصرفوا۔ اور‬
‫کھانا پینا کارخیر ہی ہےنہ کہ شر!!!‬
‫اور پھر ضرورت سے بڑھ کر روشنی ‪ ،‬چراغاں اور مشعل برداری جیس صے‬
‫کام تو برامکہ قوم کی طرف سے ائے ہیں جو کہ اتش پرسصصت ت ھے اور ی صہ‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫سجاوٹ و تزئین مساجد تو تشبہ بالیھود ہے جیسصصا کصہ سصصیدنا ابصصن عبصصاس‬
‫رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے نیز علمت قیامت میصصں ب ھی ہے۔ اور ی صہ سصصب‬
‫کچھ اس عمل کے لئے کیا جاتا ہے جو دلئل شرعیہ سے اراستہ نہیں ہے۔ تصصو‬
‫پھر یہ کار خیر کیسے ہوگیا؟! اور جب کارخیر ہی نہ رہا تصصو اس کےلئے کصصار‬
‫خیرمیں اسراف نہیں‪ ،‬سے استدلل کیسا؟؟؟‬

‫قادری صاحب کا شکو ہ۔۔۔۔ میلدیوں کی خدمت‬
‫میں‪:‬‬
‫اگے کے صفحات میں قصصادری صصاحب کصصوئی خصصاص بصات نصہ کرسصصکے البتصہ‬
‫میلدیوں کےلئے چند باتیں انہوں نے لکھی ہیں وہ پیش خدمت ہیں۔ فرماتے‬
‫ہیں‪:‬‬
‫یہ دیکھنے میں اتا ہے کصہ جلصصوس میلد میصصں ڈھول ڈھمکصے‪ ،‬فحصصش فلمصصی‬
‫گانوں کی ریکارڈنگ ‪،‬نوجوانوں کے رقص و سصصرور اور اختلط مصصرد و زن‬
‫جیسے حرام اور ناجائز امور بے حجابانہ سر انجام دی صے جصصاتے ہیصصں جصصو ک صہ‬
‫انتہائی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے اور ادب و تعظیم رسول ﷺ کصصے‬
‫سراسر منافی ہے۔اگر ان لوگوں کصو ان محرمصات اور خلف ادب کصاموں‬
‫سے روکا جاتا ہے تو وہ بجائے باز انے کے منع کرنے وال صے کصصو میلد النصصبی ﷺ‬
‫کا منکر ٹھہرا کر اصلح احوال کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے۔‬
‫ان نام نہادعقیدت مندوں کو سختی سے سمجھانے کی ضصصرورت ہے ورن صہ‬
‫جشصصن میلد النصصبی ﷺ ان ادب ناشصصناس جھلء کصصی اسصصلم سصصوز رسصصوم و‬
‫رواج کے باعث پاکیزگی اور تقدس سے محروم ہو کصصر محصصض ایصصک رسصصم‬
‫بن کر رہ جائے گا۔‬
‫قابل افسوس بات یہ ہے کہ اس برائی کے خلف کہیں اواز بلند کصصی جصصاتی‬
‫ہے نہ حکومت کی طرف سے حکمت یا سختی ک صے سصصاتھ اس قبیصصح روش‬
‫کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔مذہبی طبقے کی خاموشی کی سب سے بڑی وجہ )ال‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ماشاء اللہ( پیٹ کا دھندا ہے جو ان قبیح رسموں کو روکنے میں اڑے اجاتصصا‬
‫ہے۔ مفاد پرست حلقوں کی سصصوچ ی صہ ہہہے ک صہ اگصصر ان غیصصر اخلقصصی و غیصصر‬
‫شرعی امور کی سختی سے گرفت کصصی گئی تصصو شصصائد جلسصے جلوسصصوں‬
‫میں ان علماء کی د ھواں د ھار تقریصصر ختصصم ہوجصصائیں گصصی اور کاروبصصار ی‬
‫حضرات سے ملنے والے معاوضے اور چندے بند ہو جائیں گے۔کتنے افسوس‬
‫کا مقام ہے کہ مالی مفادات اور ان گروہی اور نا م ن ہاد محصصدود مسصصلکی‬
‫منفعتوں کی خاطر یہ لوگ میلد النبی ﷺ کے تقدس اور عظمت کو پامصصال‬
‫کررہے ہیں۔‬
‫مزید فرماتے ہیں‪:‬‬
‫ہم نے میلد اور سیرت کے نام پر مسصصلمانوں کصصو دوحصصصوں میصصں تقسصصیم‬
‫کردیا ہے کوئی صرف میلد کا داعی بن گیصصا اور کصصوئی صصصرف سصصیرت کصصا‬
‫نام لیوا ۔ میلد کا نام لینے وال سیرت سے کتراتا ہے اور سیرت کصصا داعصصی‬
‫میلد کو ناجائز کہہ کر اپنی دانش مندی اور بقراطیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔‬
‫یہ سوچ ناپید ہے کہ اگر میلد نصہ ہوتصصا تصصو سصصیرت ک ہاں سصے ہوتی اور اگصصر‬
‫سیرت کے بیان سے احتراز کیا تو پھر میلد کا مقصد کیسصے پصصورا ہوسصصکتا‬
‫ہے۔‬
‫قارئین کرام ! دیکھ لیا ا پ نے! سن لیا اپ نے! اب ہماری سنئے!!‬
‫ع۔لو اپ اپنے دام میں صیاد اگیا۔‬
‫واخر دعوانا ان الحمدلل ہ رب العالمین‬
‫علی ٰی نبینا محمد وعل ٰی ال ہ وصحب ہ اجمعین‬
‫تعال ٰ‬
‫وصلی الل ہ‬

‫ابو لہب کا لونڈی ازاد کرنا۔۔۔ تحقیقی بحث‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫ولف کا یہ مضمون ‪ www.urduvb.com‬پر شائع ہوا تھا۔‬
‫م ٔ‬
‫میلد النبی ﷺ کے موقع پر عید کا سا‪ ،‬سامان کرنے والے اورجلوس نکالنے‬
‫والے کہتے ہیں کہ ابولہب جیسے لوگوں نے میلد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار‬
‫کرتے ہوئے لونڈی ازاد کی تھی اور اس کی وجہ سے اس کے عذاب میں ہر‬
‫پیر کو کمی کی جاتی ہے اور اسے پیاس بجھانے کے لئے پانی بھی دیا جاتصصا‬
‫ہے اور یہ بات صحیح بخاری شریف میں بیان ہوئی ہے۔‬
‫جبکہ حقیقت حال اس سے مختلصصف ہے جصصس کصصی تفصصصیل بیصصان کصصر دینصصا‬
‫مقصود ہے تاکہ ’’لیھلک من ھلک عن بینصۃ و یحصصی مصن حیصصی عصصن بینصۃ ‘‘کصصا‬
‫مصداق ہوجائے مگرتفصیل سے قبل اس روایت کو بیان کر دینصصا ضصصروری‬
‫ہے جس سے استدلل کرتے ہوئے عید میلد النبی صلی اللہ علیصہ وسصصلم پصر‬
‫جلوس و جشن کا اہتمام ہوتا ہے اور یہ بھی حقیقت اشصکار کرنصا ضصصروری‬
‫ہے کہ بخاری میں انے والی یہ روایت کس انداز س صے روایصصت کصصی گئی ہہہے‪،‬‬
‫کیا یہ وہی صحیح ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا؟‬
‫روایت یہ ہے )طوالت سے بچنے کے لئے صرف ترجمہ پیش خدمت ہے(‬
‫’’ام المومنین ام حبیب ؓہ بنت ابی سفیانؓ سے مروی ہے کہ ان ہوں نصے عصصرض‬
‫کیا کہ یا رسول اللصہ ! میصصری ب ہن )ابوسصصفیان کصصی لڑکصصی( سصے نکصصاح کصصر‬
‫لیجئے۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے پسند کرو گصصی ) ک صہ‬
‫تمہاری بہن ہی تمہاری سوکن بنے؟()وہ کہتی ہیں( میں نے عرض کیا کہ ہاں‬
‫میں تو پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی اپ کی بیوی ہوتی تو پھر پسند نصصہ‬
‫کرتی ‪ ،‬اگر میرے ساتھ میری بہن بھلئی میں شریک ہو تو میں کیصصونکر ن صہ‬
‫چاہونگی ۔)غیروں سے تو بہن ہی اچھی ہے(۔ اپ صلی اللہ علیہ وسصصلم نصصے‬
‫فرمایا وہ میرے لئے حلل نہیں۔سیدہ ام حبیبہ رضی الل صہ عن ہا فرمصصاتی ہیصصں‬
‫اللہ کے رسول ﷺ لوگ کہتے ہیں اپ ابو سلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے‬
‫بطن سے ہے نکاح کرنے والے ہیں۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایصصا اگصصر‬
‫وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی )یعنی میری بیوی کصصی بیصصٹی‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫نہ ہوتی( جب بھی میرے لئے حلل نہ ہوتی ‪ ،‬وہ دوسصصرے رشصصتے س صے میصصری‬
‫دودھ بھتیجی ہے‪ ،‬مجھ کو اور ابو سلمہ کو )یعنی اس لڑکی ک صے بصصاپ کصصو(‬
‫ثوبیہ نے دودھ پلیا ہے۔ دیکھو ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کصصو مجصھ‬
‫سے نکاح کرنے کے لئے نہ کہو۔‘‘‬
‫عروہ رحمہ اللہ نے کہا ثویبہ ابولہب کی لونڈی تھی‪ ،‬ابولہب نے اسے ازاد کصصر‬
‫دیا تھا ‪ ،‬اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلیا تھا۔جب ابو لہب مر‬
‫گیا تو اس کے کسی عزیز نے اس کو خواب میں دیکھا)برے حال میں( تصصو‬
‫پوچھا کیا گزری ؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جد ا ہو ا ہوں ‪ ،‬کب ھی‬
‫ارام نہیں مل مگر ایک ذرا سا پانی پلیا گیا تھا بمقدار اس کے )یعنصصی اس‬
‫نے اشارہ کیا اس گڑھے کی طرف جو انگلی اور انگوٹھے کے درمیصصان ہوتصصا‬
‫ہے۔( اور یہ ثویبہ کو ازاد کرنے کی وجہ سے تھا۔‬
‫)صحیح بخاری ‪ ،‬کتاب النکاح(‬
‫یہ حدیث کہیں مختصر ا ً اور کہیں مطول ً کتاب النکصصاح ک صے علوہ ب ھی وارد‬
‫ہوئی ہے‪ ،‬رقم احادیث اس طرح ہیں۔ ‪ ۵۱۳۳ ،۵۱۰۷ ،۵۱۰۶‬اور ‪۵۳۷۲‬۔‬
‫اب پچھلے دعاوی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حدیث پر غور کریں!‬
‫کیا اس میں یہ ہے کہ ابولہب نے لونڈی )ثویبہ( کو میلد النبی صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم کے دن ازاد کیا تھا اور اس کی وجہ میلد النبی کی خوشی تھی؟‬
‫کیا اس میں یہ ہے کہ جو پانی اسے پلیا گیا ت ھا اس س صے اس ک صے عصصذاب‬
‫میں تخفیف )کمی( ائی تھی؟‬
‫کیا اس میں یہ ہے کہ ہر سوموار )پیر(کو پانی پلیا جاتاہے؟‬
‫یقینًااس میں سے کسی سوال کا جواب بھی ہاں میصصں نہیصصں ہوسصصکتا۔ تصصو‬
‫پھر ہمیں ماننا ہوگا کہ اقارب اور اجانب کی زبان زد عصصام دعصصوے بل دلیصصل‬
‫ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ان دعووں کی کوئی دلیل نہیں اجانب کصصو‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫تو جانے دیں حیرت تو ان اقارب پر ہے جو بل دلیل بات نصہ کرنصے نصہ سصصننے‬
‫اور نہ ہی ماننے کے دعوے دار ہیں۔ وہ بھی ابولہب اور اس کصصی لون صڈی ک صے‬
‫بارے میں ایسا ہی کچھ بیان کرتے ہیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون‬

‫ہ م ہ ی سو گئ ے داستاں ک ہ ت ے ک ہ ت ے‬
‫احباب علم و دانش کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ذمہ داراسصصٹیجوں س صے اج غیصصر‬
‫ذمے دارانہ بیانات بڑھتے جارہے ہیں!!!‬
‫اب ائیے اس روایت کی حقیقت کی طرف مگر اس س صے قبصصل ی صہ سصصمجھ‬
‫لیجئے کہ ائمہ محدثین و دیگر اہل علم و فضل ن صے صصصحیح بخصصاری شصصریف‬
‫کصصی مرفصصوع متصصصل روایتصصوں کصصو صصصحیح قصصرار دیصصا ہے‪ ،‬نصہ کصہ معلقصصات و‬
‫مرسلت اور منقطع روایات کو۔ کمال یخفی علی اھل العلم و المعرفۃ‬
‫‪ (۱‬یہ روایت مرسل ہے جیسا کہ اس کے سیاق و سباق سے ظصصاہرہے۔ قصصال‬
‫عروۃ‪ .......‬کے الفاظ پر غور کیجئے۔‬
‫حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے‪ :‬مرسل ارسل ہ عرو ۃ ولصصم یصصذکر مصصن‬
‫حدث ہ ب ہ )فتح الباری( یعنی یہ خبر مرسل ہے عروہ رحمہ اللہ نے اسے مرسل‬
‫بیان کیا ہے اور یہ بیان نہیں کیا کہ ان سے کس نے اس )خبر( کصو بیصان کیصصا‬
‫ہے۔‬
‫شیخ ابوبکر الجزائری حفظہ اللہ لکھتے ہیں‪ :‬یہ خبر مرسل ہے اور مرسصصل‬
‫سے نہ احتجاج کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس سے کصصوئی عقیصصدہ و عبصصادت ثصابت‬
‫ہوتی ہے۔ )النصاف فیما قیل فی المولد من الغلو وال حجاف(‬
‫ڈاکٹر طاہر القادری بھی لکھتے ہیں ‪ :‬یہ روایت اگر چ صہ مرسصصل ہے‪ ،‬لیکصصن‬
‫مقبول ہے۔‬
‫)میلد النبی صفحہ ‪(۳۹۳‬‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫یاد رہے کہ فقہ حنفی میں رد و قبول کے پیمانے بھی جناب کی طرح شصصوخ‬
‫ہو سکتے ہیں۔ وہاں ایات کو اپنے احبصصاب ک صے نظرئی صے کصصی مخصصالفت میصصں‬
‫دیکھ کر منسوخ قرار دیدیا جاتا ہے۔‬
‫)اصول کرخی دیکھئے(‬
‫تنبیہ‪ :‬یہ جو مرسل کی بات ہو رہی ہے تو اس سے مراد صرف وہ ٹکصصڑا ہے‬
‫جو قال عروہ سے شروع ہوکر اخر تک چل جاتا ہے۔ پوری روایت نہیں کہ وہ‬
‫تو متصل ہی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں دیکھا جاسکتاہے۔‬
‫‪ (۲‬دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ خصصبر متصصل ب ھی ہوتی تصو دلیصل نہیصصں بصن‬
‫سکتی تھی کیونکہ یہ ایک خواب کا معاملہ ہے۔ یہ بات بھی حافظ ابن حجصصر‬
‫رحمہ اللہ نے لکھ رکھی ہے۔ حصصافظ ابصصن حجصصر مزیصصد لکھتصے ہیصصں‪ :‬ائمصہ نصے‬
‫تصریح کی ہے کہ خواب کے ذریعے شرعی احکصصام ثصصابت نہیصصں ہوتے ۔ چنصصد‬
‫سطور کے بعد لکھتے ہیں‪ :‬اگر سویا ہواادمی خصصواب میصصں دیک ھے ک صہ نصصبی‬
‫علیہ السلم اسے کسی چیز کا حکم دے رہے ہیصصں تصصو کیصصا اس کصصی تعمیصصل‬
‫ضروری ہے یا یہ ضروری ہے کصہ اسصے ظصصاہری شصصرع پصر پیصصش کیصا جصائے؟‬
‫فرماتے ہیں دوسری بات قابل اعتماد ہے)فتح الباری(‬
‫غور کیجئے کہ حالت خواب میں دیا جصانے وال حکصصم نبصوی صصصلی اللصہ علیصہ‬
‫وسلم بھی موجود ظاہر شرع پر پیش کیا جائے گا! یاد ر ہے ک صہ خصصواب کصصا‬
‫حجت شریعہ نہ ہونا خود مکتب بریلی کے ہاں بھی مسلمہ ہے ۔‬
‫)دیکھئے میلد النبی از سعید احمد کاظمی(‬
‫اج بہت سے احناف نے اپنے معتقدات کی دلیل خوابوں کو ہی بنا رکھا ہے ۔‬
‫ایسے ہی لوگوں کی خدمت میں ایک خواب عرض کیا جاتا ہے جو سندا ً تو‬
‫صحیح ثابت ہے۔ دیکھتے ہیں یہ خواب ان کے ہاں کیا حیثیت رکھتاہے۔‬
‫مشہور ثقہ امام قاضی ابوجعفر احمد بن اسحاق بن بہلول بن حسصصان بصصن‬
‫سنان التنوخی البغدادی رحمہ اللہ )متوفی ‪۳۱۸‬ھ( نے کہا کہ میصصں عراقیصصوں‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫کے مذہب پر تھا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خصصواب میصصں‬
‫دیکھا ‪ ،‬اپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نصے دیک ھا کصہ اپ پہلصصی تکصصبیر میصصں اور‬
‫جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیصصدین کرت صے ت ھے۔‬
‫)سنن دارقطنی حدیث ‪(۱۱۱۲‬‬
‫حافظ زبیصر علصی زئی حفظصہ اللصہ تعصالی فرمصاتے ہیصں ‪ :‬وسصند ہ صصحیح ‪،‬‬
‫اسکی سند صحیح ہے )موطا امام امالک بروایۃ ابن القاسم( تحصصت حصصدیث‬
‫‪ ۱۲۱‬صفحہ ‪۲۰۹‬۔ اب ظاہر ہے کہ حنفی کہلصصوانے والصے حضصصرات اس سصصچے‬
‫اور نیک ادمی کے خصواب کصو کب ھی ب ھی صصصحیح بصاور نہیصصں کرینگصے ۔ تصو‬
‫معلوم ہوا کہ کسی امتی کا خواب حجت نہیں ہوسکتا اگر چہ وہ رسول اللہ‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لینے کا دعوی ہی کیوں نہ کرے۔‬
‫‪ (۳‬تیسری بات یہ ہے کہ اس مرسل خبر میں ظاہری الفاظ س صے ی صہ معنصصی‬
‫لیا جاسکتا ہے کہ ابولہب کا لونڈی ازاد کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسصصلم‬
‫کو دودھ پلنے کے عمل سے قبل تھا مگر یہ بات ا ہل سصیر کصی بیصصان کصصردہ‬
‫حقیقت کے منافی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابولہب کے لونڈی ازاد کرنے میصصں اور‬
‫نبی علیہ السلم کے دودھ پلنے کی مدت میں ایک طویل عرص صہ حصصائل ہے‬
‫)یہ بات بھی حافظ ابن حجر نے لکھی ہے فتح الباری میں(‬
‫اس بات کی وضاحت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے الصابہ میں اس طصصرح‬
‫کی ہے‪:‬‬
‫ابن سعد کہتے ہیں کہ ہمیں واقدی نے ایک سے زیادہ اہل علصصم سصے یصہ خصصبر‬
‫نقل کی ہے کہ وہ کہتے تھے‪ :‬ثویبہ نبی اکرم صلی اللصہ علیصہ وسصصلم کصصی مصصر‬
‫ضعہ تھیں اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں رہت صے ہوئے ان ک صے سصصاتھ‬
‫صلہ رحمی فرمایا کرتے تھے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عن ہا ب ھی ثصصویبہ کصصا‬
‫اکرام کیا کرتی تھیں تا حال کہ وہ )ابھی( ابولہب کی ملکیت ہی میں تھیں‬
‫‪ ،‬سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ابولہب سے کہا اسے )یعنی ثویبہ کو( مجھے‬
‫بیچ دو تو ابولہب نے اس بات سے انکار کردیا ۔ جب نبی کریصصم صصصلی الل صہ‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫علیہ وسلم نے )مدینہ( ہجرت فرمائی اس وقصصت ابصصولہب ن صے ثصصویبہ کصصو ازاد‬
‫کردیا‪......‬‬
‫)الصابہ جزء ‪(۴‬‬
‫طبقات ابن سعد کا مطالعہ کرنے سے حافظ ابن حجر رحمہ اللصہ کصے بیصصان‬
‫کی تائید ملتی ہے ۔‬
‫حافظ ابن عبدالبر اور امام ابن جوزی کے کلم سے اس قول )یعنصصی ا ہل‬
‫سیر کے قول( کی تائید ہوتی ہے۔‬
‫حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے الستیعاب فی اسماع الصحاب میں لک ھا‬
‫ہے۔ ثویبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسصصلم ‪ ،‬حمصصزہ بصصن عبصصدالمطلب اور‬
‫ابو سلمہ بن عبدالسد کو دودھ پلیاتھا۔ نبی کریصصم صصصلی الل صہ علی صہ وسصصلم‬
‫ثویبہ کا اکرام فرماتے ‪ ،‬ثویبہ نبی علیصہ الصصصلۃ والسصصلم کصے پصاس ایصصا جایصا‬
‫کرتی تھیں جبکہ نبی علیہ السلم سیدہ خصصدیجہ رضصصی الل صہ عن ہا س صے نکصصاح‬
‫فرما چکے تھے‪ ،‬سیدہ خدیجہ بھی ان کے اکرام و احترام کو ملحوظ خصصاطر‬
‫رکھتیں ۔ جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منصصورہ کصصی طصصرف‬
‫ہجرت فرمائی تو )اس وقت ( ابولہب نے ثویبہ کو ازاد کردیا‪) .....‬ملخص صا ً۔‬
‫الستیعاب(‬
‫امام المحب الطبری نے ذخائر العقبی فی منصاقب ذوی القربصصی میصصں اس‬
‫کلم کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے اسی طرح نقل کیصصا ہے۔ امصصام ابصن‬
‫جوزی رحمہ اللہ نے الوفا فی احوال المصطفی میصصں لک ھا ہے‪ :‬سصصب سصے‬
‫پہلے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابصصولہب کصصی لونصڈی ثصوبیہ نصے دودھ‬
‫پلیاتھا )چند دن ( پھر حلیمہ سعدیہ تشریف لئیں‪ .......‬سیدہ خدیجہ رضصصی‬
‫اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ثویبہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایا‬
‫کرتی تھیں۔ اپ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھما )ثویبہ کا( اکصصرام فرمصصاتے‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اور وہ )ثویبہ( اس وقت )بھی( ابولہب کی لونڈی تھیں‪ ،‬پھر )اس ک صے بعصصد(‬
‫ابو لہب نے انہیں ازاد کر دیا‪......‬‬
‫ان تمام دلئل و براہین س ے بالکل واضح ہے ک ہ ابولہب کصصا لون صڈی کصصو میلد‬
‫النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن )خوشی میں ( ازاد کرنا ثابت ہی نہیصصں‬
‫بلکہ سیدہ خدیجہ سے شادی کے بعد ہجرت مدینہ سے بھی بعد میصصں کسصصی‬
‫وقت ابو لہب نے بغیر کسی خوشی اور غمی کے ثویبہ کو ازاد کیا تھا۔‬
‫اس کے برعکس اگر کسی نے اس )ثویبہ( کی ازادی کو پیدائش نبی اکرم‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کے ساتھ خاص مانا ہے تو اسے شصصدید مغصصالطہ‬
‫لگا ہے یا پھر اہل بدعت نے دیدہ دانستہ حقیقت کو پردہ میصصں چھپادیصصا ہے ۔‬
‫والل ہ اعلم بالصواب۔‬
‫اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سصصیدہ خصصدیجہ‬
‫رضی اللہ عنہا سے ازدواجی زندگی کا اغاز اپ کی عمر کے پچیصصس سصصال‬
‫مکمل ہونے کے بعد ہوا اور اس وقت تصصک ثصصویبہ ابصصولہب کصصی ملکیصصت میصصں‬
‫تھیں ‪ ،‬ازاد نہ تھیں ۔ کما مرانفًا‪.....‬‬
‫‪ (۴‬چوتھی بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ اس مرسل خبر سے معلوم ہوتصصا‬
‫ہے کہ کافر کو اس کا عمل صالح ) مرنے کے بعد( نفع دیتصصاہے)یعنصصی کبھہہی‬
‫کبھی( مگر یہ بات تو نصوص قرانی ک صے بالکصصل خلف ہے۔ اللصہ تعصصالی کصصا‬
‫ارشاد ہے وقد منا الی ما عملو من عمل فجعلنا ہ ھبآء ثورا ً )سورۃ فرقان‬
‫ایت ‪ (۲۳‬ترجمہ‪ :‬اور جو عمل ان )کافروں نے( کئے ہوں گصے ‪ ،‬ہم ان کصصی‬
‫طرف متوجہ ہوں گے تو ان کو اڑتی ہوئی خاک بنا دیں گے۔‬
‫اور ابولہب کے مال کا اس کو نفع نہ دینا تو قران سے ہی ثصصابت ہے۔ تبصصت‬
‫یدا ابی ل ھب و تب‪ ،‬ما اغنی عن ہ مال ہ وما کسب )سصصورة الل ھب ایتص ‪۲‬۔‪(۱‬‬
‫ترجمہ‪ :‬ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ برباد ہوجائے نہ اس کصصا‬
‫مال اس کے کام ایا اور نہ اس کا عمل۔‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫قران مجیدنے صراحت کردی ہے کہ ابصصولہب کصصو اس کصے مصصال و عمصصل نصے‬
‫کوئی نفع نہیں پہنچایا۔ لہذا اس صراحت کو مرسل خبر عروہ سے ہرگز ہر‬
‫گز رد نہیں کیا جاسکتا اور تمام اہل علم جانتے ہیں کہ لونڈی بھی مال کی‬
‫ایک شکل ہے‪ ،‬اگر خوشی میں ازاد بھی کی ہوتی تو اسے مرن صے ک صے بعصصد‬
‫نفع نہ دیتی اور ازاد کرنا ) اس موقع خاص پر( تصصو ثصصابت ہی نہیصصں۔ جصصس‬
‫کی تفصیل گزر چکی ہے۔ قران کے ظاہر سے ٹکر ا کر صحیح روایصصات کصصو‬
‫رد کردینے والے کس طرح مرسل خبر کو حجت قرار دیتے ہیں؟!‬
‫‪ (۵‬پانچویں بات یہ ہے کہ ابولہب کا لونڈی ازاد کرنا اگر تسلیم بھی کصصر لیصصا‬
‫جائے تو اس کا یہ عمل ایک طبعی خوشی کے نتیجے میں تھا کہ اپ صصصلی‬
‫اللہ علیہ وسلم اس کے بھتیجے تھے نہ کے اس نے اپ کصصی نبصصوت و رسصصالت‬
‫کو تسلیم کرتے ہوئے اس خوشی کا اظہار کیا تھا فقط ذات رسول صصصلی‬
‫اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی ‪،‬اور بات رسصصول الل صہ صصصلی الل صہ علی صہ‬
‫وسلم سے انکار و عداوت ہی ابولہب کی تباہی کا سبب بنصصی ت ھی اور اج‬
‫جو لوگ اس خبر مرسل کو دلیصصل بنصصا کصصر فقصصط ایصصک مخصصصوص دن عیصصد‬
‫وجشن کا اظہار کرتے ہیں کیا وہ یہ بتانا چاہتے ہیصصں کصہ ہم ب ھی فقصصط ذات‬
‫رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوے دار ہیں؟؟؟؟‬
‫ویسے ان کا عمل بھی اسی کی عکاسی و غمصصازی کرتصصا ہے کیصصونکہ بصصات‬
‫رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تو اس طرح کے جشن ‪ ،‬جلوس اور خود‬
‫ساختہ تیسری عید پر کوئی دلیل نہیں ملتی ؟؟؟‬
‫اور اس جلوس و جشن کا عید شرعی نہ ہونا تو خود طاہر القادری شصصوخ‬
‫السلم کو بھی تسلیم ہے ۔‬
‫)دیکھئے‪ :‬میلد النبی از طاہر القادری(‬
‫طاہر القادری کا اسے عیصصد فرحصصت قصصرار دینصصا ب ھی خصصود سصصاختہ شصصریعت‬
‫سازی ہے کیونکہ اسلم میں جو دو عیدیں بتائی گئی ہیں وہ عیصصد نفصصرت و‬
‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫عداوت یا عید رنج و الم نہیں بلکہ جہاں وہ عبادت کا درجہ رکھتی ہیں وہاں‬
‫وہ فرحت و سرور کا باعث بھی ہیں۔‬
‫‪ (۶‬چھٹی بات یہ ہے کہ جہاں تصصک ابصصولہب کصے عصصذاب میصصں تخفیصصف و کمصصی‬
‫اجانے کا معاملہ ہے تو یہ بات کہیں ہے ہی نہیں ‪ ،‬حصصتی ک صہ اس خصصبر مرسصصل‬
‫میں بھی نہیں جسے لوگ دلیل کا درجہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔‬
‫اس روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ غیرانی سقیت‪ .....‬مجھے )فقط( پانی پلیصصا‬
‫گیاہے۔‬
‫نہ ہر سوموار کا ذکر ہے اور نہ ہی اس پانی کی بدولت عذاب میں کمی کا‬
‫کوئی ذکر؟!‬
‫یہ تخفیف ہو بھی کیسے سکتی ہے کہ ابو لہب تو ’’سیصلی نارا ً ذات ل ھب‘‘‬
‫کے بمصداق نار جہنم میں ہے اور وہاں تو پانی بھی ایسا ہوتاہے کہ اللہ کصصی‬
‫پناہ۔‬
‫وان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمهل یشوی الوجو ہ‪ ،‬بئس الشراب‪ ....‬ترجمصصہ‪:‬‬
‫اور اگر وہ )جہنم میں( فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پصصانی س صے ان‬
‫کی داد رسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح )گصصرم ہوگصصا اور‬
‫جو( چہروں کو بھون ڈالے گا بہت برا یہ)پینے کا( پانی ہوگا۔‬
‫)سورۃ الکھف ایت ‪(۲۹‬‬
‫اور مزید فرمایا گیا ’’تسقی من عین انی ہ ‘‘ایصصک ک ھولتے ہوئے چشصصمے کصصا‬
‫پانی ان کو پلیا جائے گا ۔‬
‫)سورۃ الغاشیہ(‬
‫و سقوا مآًء حمیما اور وہ کھولتا ہو ا پانی پلئے جائیں گے۔ )سورہ محمد(‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬

‫تحقیقی جائز ہ‬

‫میلدالنبی ﷺ کا‬

‫اس سے واضح ہوا کہ خبر مرسل سے لفصصظ پصصانی کصصو لصے کصصر عصصذاب کصصی‬
‫تخفیف کا دعوی نصوص قرانی سے متصادم ہے ل ہذا سراسصصر باطصصل ہے۔‬
‫پھر مرسل میں تو تخفیف کا بیان ہی نہیں۔ فافھم‬
‫جہنم میں جنت کا پانی نہیں ملے گا جو کہ پیاس بجھانے اور سیراب کرنصصے‬
‫وال ہوگا۔ اور دوزخی بہشتیوں سے)گڑگڑاکر( کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر‬
‫پانی بہاو یا جو رزق اللہ نے تمھیں عنایت فرمایصصا ہے اس میصصں سصے )کچصھ‬
‫ہمیں بھی دو(۔ وہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالی نے بہشت کصصا پصصانی اور رزق‬
‫کافروں پر حرام کردیا ہے )سورۃ اعراف ایت ‪(۵۰‬‬
‫تنبیہ ‪ :‬ابو طالب کے عذاب میں تخفیف علیحدہ مسئلہ ہے کہ وہ تصصو نصصصوص‬
‫سے ثابت ہے۔‬
‫قارئین کرام!یہ اس واقعہ کی حقیقت تھی جو بفضل اللصہ تعصالی بیصان کصر‬
‫دی ہے کسصصی ب ھی واعصصظ و خطیصصب سصے مصصذکورہ واقعصہ سصصنیں اور اس‬
‫تفصیل کے برعکس ہو تصصو ضصصرور بالضصصرور اسصے اس حقیقصصت سصے اگصصاہ‬
‫کریں۔ جزاکم اللہ خیرا‬
‫تفصیل کیلئے دیکھئے ‪:‬رسائل فی حکم الحتفال بالمو لدالنبوی‪ ،‬جزء ثانی‬
‫طبع رئاسہ ادارۃ البحوث العلمیہ والفتاء الریاض‪ ،‬المملکۃ العربیۃ السعودیہ‬

‫محکم دلئل و براہین سے مزین متنوع اور منفرد کتب پر مشتمل‬
‫مفت ان لئن مکتبہ‬
‫‪www.KitaboSunnat.com‬‬

‫‪4‬‬