افسانہ َ :قیدی
وہ جیل کا کمرہ جو دو مہینوں سے میری نظروں کا کالا نظارہ ہو رہا تھا ،ایک ایسا کمرہ جس کی ایک دیوار سے دوسری دیوار کا فاصلہ صرف چھ قدم
تھا ،دائیں ہاتھ پہ پڑا صدیوں سے پرانا اور گرم مٹکا جس میں چار دن پرانا پانی اور بائیں ہاتھ میں چھوٹا سا بیت الخلا جس میں بیٹھو تو اپ کی ناک سامنے
والی دیوار سے ضرور گھسے گی ،ایک پرانا پنکھا جو اہستہ سے گول گھومتے ہوئے ان تمام بے گناہ قیدیوں کی داستان سنائے جا رہا ہے جو ان گنت سالوں
سے اس کمرے میں ان چار دیواروں کو اپنے دل کا حال سنا کر اپنے انسوؤں سے اس کمرے کی دیوار کا رنگ اتار دیا کرتے تھے اور ایسے ہی میرے ساتھ
ایک ایسا شخص بھی موجود تھا جو ان تمام لوگوں کی فہرست میں اتا ہے ،یہ شخص ،اس نے دو مہینوں سے اس چھ فٹ کے کمرے میں مجھ سے ایک
لفظ بولنے کی زحمت نہیں کی ،حالانکہ ہر ہفتے کے دن تمام قیدیوں کو صبح نو بجے فقط 15منٹ کے لیے اپنے کمرے سے باہر نکلنے اور اس بے
رحم سورج کو سلام کرنے کی اجازت ملا کرتی تھی جو سینکڑوں سالوں سے ان دیواروں کو اپنا حال سنا کر بیزار ہو چکے تھے مگر یہ وہ واحد تھا جس کو
سورج کی روشنی سے سخت نفرت تھی ،یہ وہ واحد تھا جو ہفتے کے دن جیل کے اس کھارے پانی پہ پلے باغیچے سے ایک ہفتے کے لیے ادھار کی
خوشبو مانگنے پہ شرماتا تھا ،وہ سارا دن اپنے وجود کو ایک کالی چادر سے ڈھک کر موت کی بہن کے اغوش میں ارام فرماتا تھا اور ساری رات اپنے
کمرے کے دروازے پہ بیٹھ کر اس اندھیری رات سے قہقہے لگاتا تھا ،ادھی رات میں جب بھی میری انکھ کھلتی تو میں اس کو اس لوہے کے دروازے
،کی گود میں بیٹھا پاتا تھا ،اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ خوش نظر اتا تھا
کبھی کبھار مجھے اس سے بہت ڈر لگتا تھا ،کیوں کہ میں نے ایک دن ہفتے کی سیر کے دوران کسی کے منہ سے سنا تھا کہ یہ شخص ایک قاتل ہے ،
مگر معلوم نہیں یہ کس کا خون کر کے ایا ہے ،مگر میں نے سوچ لیا تھا کہ اج رات میں اس سے ضرور بات کرونگا ،پتا نہیں باقی کی عمر اس چار
،دیواروں کے ساتھ ساتھ اس رات کی دیوانے کے ساتھ لکھی ہے بھی یا نہیں
،رات کے ساڑھے چار بجے کے وقت محسوس ہو رہا تھا ،کچھ دیر کے بعد جیلر کی چیخ کے ساتھ ساتھ سورج کی سلامی بھی آ جانی تھی
میں اٹھا مٹکے سے ایک کلاس پانی نکالا۔
اور جلدی سے پی گیا۔ اس کو محسوس ہو گیا تھا کہ میں جاگ چکا ہوں ،اس نے پیچھے ایک نظر مجھ پہ ڈالی میں خوف سے پسینہ پسینہ ہو گیا اور
ایک دم سے اس سے مخاطب ہو کر پوچھا پانی پیو گے ؟
اس نے مجھے غور سے دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ مگر مجھے اج کسی بھی حالت میں اس سے بات کرنی تھی اس لیے میں اس پرانے مٹی سے
ایک کلاس پانی بھر کر اس کے پاس گیا اور گلاس اپنے ہاتھ میں لے کر اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا ،اس نے خاموشی سے مجھ سے گلاس لے کر برابر
میں رکھ دیا میں تھوڑی دیر کھڑے رہنے کے بعد اس کے برابر میں بیٹھ گیا ،کافی دیر تک ہم خاموش رہے میں نے خاموشی توڑنے کے لیے اس سے پوچھا
سگریٹ پیو گے ؟
اس نے بغیر کوئی جواب دیے مجھ سے سگریٹ لی ،میں نے دل ہی دل میں یہ تسلی کر لی کہ شکر ہے یہ گونگا نہیں ہے اگر یہ گونگا ہوتا تو شاید بہرا
،بھی ہوتا
ہم دونوں چھ فٹ کے کمرے کے دروازے پہ بیٹھ کر تمباکو نوشی کے ساتھ ساتھ خاموشی کا بھی بھرم رکھتے ہوئے ا رہے تھے تو ایسے میں اچانک سے
اس نے کہا کس جرم میں ائے ہو؟
میں تھوڑی دیر تک تو اس کے بھاری آ واز کے خمار میں کھویا رہا مگر پھر کش لگا کر کہا ،چوری کے جرم میں
اس نے پوچھا کیا چرایا تھا؟
،میں نے کہا آٹے کی ایک بوری اور کچھ چاول
،وہ ہلکا سا مسکرایا اور ایک بھرپور کش لگاتے ہوئے کہنے لگا
،مطلب بھوک سے بغاوت کے جرم میں ائے ہو
میں نے کہا ہاں ایسے ہی سمجھ لو
،پھر خاموشی کی چادر اوڑھ لی
کچھ دیر بعد اس نے کہا ،یہ آکاش کے انگن میں چمکتے ہوئے چاند کی روشنی دیکھ رہے ہو؟
میں نے کہا ہاں۔
کہنے لگا یہ ایک دھوکہ ہے اس کے پاس بھی اسی کی روشنی ہے جو صبح کو سینکڑوں مزدوروں کی پیٹھ جلا کر لال کرتا ہے۔
میں نے کہا یعنی سورج ؟
کہنے لگا اور نہیں تو۔
میں نے کہا تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ یہ دھوکہ ہے ،کیا یہ خوبصورت نہیں ہے؟
کہنے لگا جب چکور چاند تک پہنچ جائے گا تو چاند چاند نہیں رہے گا اور چکور چکور نہیں۔
میں اس کی باتیں سن کر ایک خمار میں گم سا ہو گیا اس کی باتیں سن کر میرے دل میں عجیب سی سوالوں نے ایک ساتھ جنم لینا شروع کیا ،جیسے
کیا تم نے کبھی محبت کی ہے؟
یہاں تم نے واقعی کسی کا قتل کیا ہے؟
میری بے چینی میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے لگا مجھے سمجھ نہیں ارہا کہ میں پہلے کیا پوچھوں؟
،میں دیر تک سوچتا رہا اور اس حد تک سوچا کہ میرا سگریٹ بھی ڈر کے مارے ختم ہو چکا تھا ،میں نے بڑی ہمت کر کے اس سے ایک دم سے پوچھا
کیا تمہیں کبھی محبت ہوئی ہے؟
وہ کچھ دیر خاموش رہا ،اور ایک لمبی سانس لے کر کہنے لگا میں اب بھی محبت کرتا ہوں۔
میں نے پوچھا کیا وہ بھی تم سے محبت کرتی ہے ؟
اس نے کہا ہاں کرتی تھی۔
میں نے پوچھا تھی؟
مطلب؟
اس نے کہا میری بیوی ۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہی ،مجھے معاف کرنا۔
،کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے اس سے پوچھا
یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم ایک قتل کے جرم میں یہاں ہو۔ کیا یہ سچ ہے؟
،اس نے بڑی بے حسی سے میری انکھوں میں گھور کر دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا
میں دیر تک اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا رہا اور دوبارہ پوچھا۔
تم نے کس کا قتل کیا ہے؟
،،وہ اپنی ختم ہونے والی سگرٹ کو اپنے ہونٹوں پر لا کر زور سے کش لگاتے ہوئے کہنے لگا
اپنی بیوی کا۔۔۔۔۔
میں ٹھہر گیا جیسے میرے ساتھ ساتھ میرے دل کی دھڑکن میری انکھوں کا پلکیں چھپکانا پنکھے کا داستان سنانا سب کا سب ٹھہر گیا بچا وہ شخص
جو اپنے اخری الفاظ پہ کائنات کے ہونٹوں پہ تالا لگا کر بھی مسکرا رہا تھا۔
• The End
مصنف :گلزار احمد