0% found this document useful (0 votes)
77 views5 pages

junoon-WPS Office

Uploaded by

Faisal G
Copyright
© © All Rights Reserved
We take content rights seriously. If you suspect this is your content, claim it here.
Available Formats
Download as TXT, PDF, TXT or read online on Scribd
0% found this document useful (0 votes)
77 views5 pages

junoon-WPS Office

Uploaded by

Faisal G
Copyright
© © All Rights Reserved
We take content rights seriously. If you suspect this is your content, claim it here.
Available Formats
Download as TXT, PDF, TXT or read online on Scribd

‫‪Junoon e ulfat‬‬

‫‪Epi:145 p3‬‬
‫‪By: Mehwish Ali‬‬
‫‪°°°°°°°°‬‬
‫پیپر ورک کلیئرنس کے بعد وہ جب باہر آیا اسکی تلاش میں نگاہیں پھیریں وہ اسے کہیں نہیں ملی۔ اسکا دماغ پہلے گھوما ہوا تھا آنکھوں میں غیظ و‬
‫غضب کے سرخ ڈورے تھے دماغیں رگیں پھول کر باہر ابھر چکی تھیں‪ ،‬بس نہیں تھا کہ ہر چیز تہس نہس کر دیتا‪ ،‬پوری دنیا میں آگ کے شعلے بھڑکا‬
‫دیتا‪ ،‬ایسے میں اسکی باتیں اور بنا بتائے ہاسپٹل سے نکل جانا ساحل شاہ کو مزید طیش دلا گیا تھا وہ انگاروں کی مانند سلگ اٹھا تھا۔۔۔ ریسپیشن پہ‬
‫بیٹھی لڑکی سے معلوم کرتے وہ جبڑا بھینچے مٹھیاں دبائے ہاسپٹل سے باہر آگیا تھا۔۔‬
‫باہر آکر اسنے اعتراف میں نظریں پھریں‪ ،‬سامنے سے گزرتے بھاگتے دوڑتے لوگوں کے درمیان میں اچانک اسکی جھلک نظر آئی۔۔ ایک گہری سرد سانس کھینچ‬
‫کر اسنے اپنے اعصاب پرسکون کرنا چاہے مگر اسے تیز بارش میں تنہا بیٹھے سسکتے دیکھتے وہ جیسے پاگل سا ہوگیا تھا تبھی تو تمام اخلاقیات بھلا کر‬
‫پاس سے گزرتی عورت کے ہاتھ سے اچانک چھاتا چھینا اور لمبے ڈگ بھرتا اسکی طرف بڑھا‬
‫ارےےے یہ کیا پاگل پن ہے!!" وہ عورت اس اچانک افتاد پہ بوکھلا گئی لیکن تب تک وہ پہنچ سے بہت دور ہو چکا تھا۔۔"‬
‫وہ جیسے قریب آیا‪ ،‬اسکے وجود سے پھوٹتی موتیے کی خوشبو نے اسکے اعصاب پہ حملہ کیا۔ وہ ڈھلتی شام‪ ،‬تیز بارش میں بھیگی تنہا بینچ پہ بیٹھی روتی‬
‫ہوئی بہار کے موسم کا اداس سا پھول لگ رہی تھی۔۔‬
‫اسکا نازک سا وجود ہچکولے کھا رہا تھا‪ ،‬اپنے ہاتھوں میں گلاب سا چہرہ چھپائے روتی ہوئی وہ ساحل شاہ کے رگ و جان میں جنون کی مانند دوڑ گئی‬
‫اسے یوں ٹوٹ کر روتے دیکھ کر ساحل شاہ کو قطعی اچھا نہیں لگ رہا تھا‪ ،‬اب شاید دنیا میں واحد یہ وجود تھا جسے وہ کبھی روتے ہوئے دیکھنا نہیں‬
‫چاہتا تھا لیکن اسکی خواہش کے باوجود وہ رو رہی تھی۔ روتی بھی کیوں ناں ایک طرح مان ٹوٹا تھا تو دوسری طرح ماں کی طرح محبت دینے والی پھوپو‬
‫بچھڑ گئی تھی۔ ایک عورت نے بیک وقت دو طرفاں اعصابی و جذباتی حملہ کیا تھا وہ نازک سی لڑکی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی تھی۔۔‬
‫ساحل نے چھاتا کھول کر اسکے سر پہ تان کر بارش اور اسکے درمیان پردہ سا حائل کردیا تھا۔ اسکی موجودگی میں کسی کو یہ اجازت نہیں تھی کہ‬
‫اسکی رو ِح جاں کو چھو سکے۔ اسے چھونے کا حق صرف ایک شخص کو تھا اور وہ شخص ساحل شاہ خود تھا۔‬
‫وہ کہتی تھی کہ ساحل شاہ کا تعلق اس سے صرف انتقام کا تھا‪ ،‬شاید وہ گزری ہوئی رات کو بھول گئی تھی۔ اگر انکا تعلق صرف انتقام کا ہوتا تو‪ ،‬وہ‬
‫جو کسی کے سامنے نہ جھکنے والا‪ ،‬اپنے دلائل سے لوگ کے دلوں کو لرزہ دینے والا‪ ،‬ناقابل تسخیر شخص اپنی ذات بھلا کر کل رات اسکی ذات میں‬
‫گم نہ ہوتا۔۔‬
‫وہ اسے کبھی یہ اختیار نہ دیتا کہ وہ اسکی دھڑکنوں میں گونجتے اسکے نام کو سن سکے‪ ،‬اگر وہ اسکے لئے کوئی معن ٰی نہ رکھتی تو وہ کبھی اپنی‬
‫سانسیں دیکر اسکی زندگی کو بچانے کی وہ بیوقوفانہ کوشش نہ کرتا۔۔۔ نہ ہی اپنی گستاخی کے بعد ٹھہر کر اسے دیکھتا اور خود کو سلینڈر کہتا۔۔‬
‫اگر روحا حیدر شاہ ساحل شاہ کیلئے کچھ نہ ہوتی‪ ،‬تو ساحل شاہ اپنے اور اسکے درمیان موجود عمر کے فرق کو بھلا کر کبھی اسکے حصول کی خواہش‬
‫اپنے باپ سے نہ کرتا‪ ،‬کیونکہ خواہش کرنا یا کچھ مانگنا اسنے کب کا چھوڑ دیا تھا مگر اس لڑکی کیلئے اسنے پہلی دفعہ اپنے باپ سے کچھ مانگا تھا۔۔‬
‫کیونکہ وہ اسکا سلینڈر بننا چاہتا تھا۔۔‬
‫اسکے باوجود وہ کہہ رہی تھی ساحل شاہ کیلئے وہ بس انتقام تھی‪ ،‬کیا انتقام میں آنے والی لڑکی پہ پوری رات جاگ کر اپنی شدتیں لٹاتے ہیں؟ یا اپنے منہ‬
‫زور جذبوں پہ بندھ باندھ کر اسکے بےوقوفانہ ایکسکیوز سنتے ہیں؟ اگر واقعی یہ انتقام ہے تو ہاں ساحل شاہ کیلئے وہ انتقام تھی‪ ،‬ایسا انتقام جسکے بغیر اب‬
‫سانس لینا ناممکن تھا‪ ،‬ایسا انتقام جو ضد و جنون بن جائے‪ ،‬ایسا انتقام جسکے بغیر جینے کا تصور پاگل کردے۔۔۔‬
‫بارش کے اچانک رک جانے پہ روحا نے اپنے چہرے سے انگلیاں نیچے سرکا کر اوپر آسمان کی طرف سر اٹھایا‪ ،‬لیکن اپنے سامنے کھڑے وجود پہ نظریں پڑتے‬
‫ہی اسکا دل پوری شدت سے لرز اٹھا‪ ،‬رونے کی شدت سے سرخ ہوئے چہرے نے رنگ بدل کر سپید پڑا تھا۔۔‬
‫ماں میری مری ہے لیکن دماغ تمہارا کام کرنا چھوڑ چکا ہے‪ ،‬اتنی تیز بارش میں یہاں بیٹھ کر کس کا ماتم کر رہی ہو؟" چھاتے کی اسٹیک کو سختی "‬
‫سے مٹھی میں دبوچے وہ سرد لہجے میں غرایا تھا‬
‫اسکے لب و لہجے پہ روحا کو مزید رونا آنے لگا۔۔ " آ۔ آپ سے م۔مطلب؟" وہ ہچکیوں سے روتی اپنا رخ دوسری طرف پلٹ گئی۔ اسکی بیوقوفانہ حرکت اور‬
‫تڑخ کر جواب نے اعصاب جھنجھوڑ دیے‬
‫تمہارا ہر مطلب مجھ سے ہے روحا حیدر شاہ! تمہیں کیا لگتا ہے ابھی جو اندر بکواس کرکے آئی ہو اسے سن کر میں تمہیں آزاد کردوں گا؟" چبھتے "‬
‫لہجے میں پوچھتے جھک کر اچانک اسکی کلائی کو سخت گرفت میں پکڑ کر جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا تھا‬
‫آہہہ۔۔" روحا اس اچانک افتاد پہ چیخ کر درخت کی کٹی ہوئی ٹہنی مانند لہراتی اسکے چوڑے سینے سے آلگی۔ اسکے ایک ہاتھ میں اتنی طاقت کی "‬
‫تھی کہ وہ جسے چاہے اسکے وجود کو گھما سکتا تھا‬
‫تت۔۔تو اب آپ کو کیا چاہیے؟ آپ کو لگتا تھا کہ میں نے آپکے حصے کی محبت اپکی مام سے چھینی ہے اسلئے مجھے سزا دینے کیلئے پہلے آپ "‬
‫نے میری جان لینے کی کوشش کی اور پھر مجھ سے شادی کی‪ ،‬اب تو وہ چلی گئیں اور میں نے بھی اپنا سب کچھ آپ کو دے دیا اا۔اب کک۔کیا‬
‫چاہتے ہیں؟؟" اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتی وہ غصے سے روتے ہوئی بولی‬
‫ابھی لیا ہے کیا ہے میں نے تم سے ہاں؟ ایک رات ساتھ گزارنے سے سالوں کا حساب تو تمام نہیں ہو جاتا‪ ،‬کتنے سال ساتھ گزارے ہیں تم نے میری "‬
‫جگہ میری ماں کے سینے سے لگ کر‪ ،‬تمہیں کیا لگتا ہے ایک رات مجھے دے کر تم اپنے جرم کا حساب بےباک کرلو گی؟ تمہاری ایک رات کی قربت‬
‫میرے سینے میں دہکتی سالوں کی آگ کو بجھا دے گی؟ اگر تم یہ سوچتی ہو تو تم ایک احمق لڑکی ہو۔۔۔‬
‫ابھی تو تم نے میرے انتقام کے ذرے کا حساب بھی نہیں چکایا‪ ،‬اتنی جلدی میں تمہیں چھوڑ دوں گا یا مرنے دوں گا کیا اتنا پاگل نظر آتا ہوں میں تم‬
‫لوگوں کو ہاں؟؟؟" اسکا بازو اسکی پشت کی جانب مروڑتے ہوئے وہ اسکے چہرے پہ جھک کر نیچی آواز میں غصے سے دھاڑا تھا‬
‫اسکی سرمئی سرخ ڈورے والی خونخوار آنکھوں میں دیکھتے روحا کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اسکی باتوں نے رہی سہی کسر بھی نکال دی وہ بے آواز رونے‬
‫لگی۔۔‬
‫آپ پپ۔پاگل ہیں ش۔شاہو۔۔۔" وہ اپنا آپ چھڑوانے کیلئے مزاحمت کرتی ہچکیوں سے رونے لگی۔ خوف سے اسکا دل سینے کی دیواروں میں تھرتھرا رہا تھا"‬
‫" آپکو غ۔غصہ آتا ہے آپ کبھی م۔مجھے مارنے کی کوشش کرتے ہیں کک۔کبھی اپنی ماں ک۔کو مار دیتے ہیں۔۔مجھے نہ۔نہیں رہنا ایسے شخص کے ساتھ۔۔۔‬
‫ااا۔۔اگر آپ کو انتقام لینا ہے تو ایک ساتھ لے لیں لل۔لیکن مجھے آزاد کردیں۔۔مم۔میں نہیں رہنا چاہتی آپ۔ آپ کے ساتھ۔۔۔ آ۔ آپ دونوں ماں۔۔ماں بیٹے ک۔‬
‫کسی کے نہیں سو سکتے۔۔ ک۔کسی کے نہیں۔۔" وہ کہہ کر پھوٹ پھوٹ کر روتی چلائی‬
‫مم۔میں نے آپکی مام سے اتنی محبت کی لیکن انہوں نے بدلے میں میری معصوم بہن کو برباد کردیا اور ج۔جب میں نے آپ سے م۔محبت کی تو آپ۔"‬
‫آپ نے اپنی مام کو مار دیا۔۔۔۔کیوں کیا آپ نے ایسا ہاں؟ آ۔ آپ تو کہتے تھے آپ اچھے لوگوں کے وکیل ہیں ش۔شاہو؟ اچھے لوگوں کے وکیل قتل تو نہیں‬
‫کرتے۔۔" وہ اسکی پہنی بنیان کو مٹھیوں میں دبوچ کر اسے جھنجھوڑتی تھک کر سینے پہ سر رکھتی سسک پڑی‬
‫ساحل نے آنکھیں میچ کر اس درد کو سینے سے اتارتے ہوئے اسکے گرد بازوؤں کا گھیرا ڈالا اور اپنے سینے میں چھپایا۔۔‬
‫کیوں لوگ اچانک اتنے بدل جاتے ہیں شاہو؟ ہم جسے خود سے بڑھ کر چاہتے ہیں ہمیشہ وہی ہمیں تکلیف دینے کا باعث کیوں بنتے ہیں؟ لوگ تو کہتے "‬
‫ہیں محبت میں بہت طاقت ہوتی ہے تو ہماری محبت کیوں ان پہ اثر نہیں کرتی؟ کیوں وہ ہمیں ہرٹ کرنے سے پہلے ہماری ان سے محبت کے بارے میں‬
‫نہیں سوچتے شاہو؟؟ کیوں وہ ایسے ہوتے ہیں؟" وہ اسکے سینے سے لگی ٹوٹی بکھری شکستہ سی کہہ رہی تھی‬
‫اسکے لہجے میں سمائی اذیت پہ ساحل کی آنکھوں میں نمی آگئی۔۔‬
‫کیونکہ ہم غلط لوگوں سے توقع وابستہ کر لیتے ہیں‪ ،‬ہم بیوقوف ہوتے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ ہماری محبت انہیں بدل دے گی۔ ہم بیوقوف ہوتے ہیں ایک"‬
‫بار ٹھوکر کھا کر دوبارہ اسی شخص کی دہلیز پہ جھولی پھیلا لیتے ہیں۔۔ اور ہمیشہ بیوقوف ہی لوگ ٹھوکریں کھاتے ہیں۔۔ سمجھدار لوگ خود کے سواء کبھی‬
‫کسی سے محبت نہیں کرتے۔۔ اور ہم جیسے بیوقوف لوگ پتھروں سے تو محبت کر لیتے ہیں لیکن خود سے محبت کرنے سے ڈرتے ہیں۔۔" اسنے جواب ًا‬
‫بےتاثر سپاٹ مگر بھاری لہجے میں کہتے جھک کر اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔‬
‫وہ بھیگی آنکھوں سے اسکے چہرے کو دیکھنے لگی۔ ساحل اسے اٹھائے اپنی گاڑی کے پاس آیا اور گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر جھک کر اسے اندر سیٹ‬
‫"!!!پہ بٹھایا وہ غصے سے چیختی پھڑپھڑا اٹھی "چھوڑو مجھے شاہو‬
‫وہ ہذیانی کیفیت میں مزاحمت کرتی چلائی دفعت ًا تبھی ساحل شاہ نے اچانک اسکے جبڑے کو مٹھی میں دبوچتے ہوئے اسکا چہرہ اپنے مقابل کیا کہ وہ‬
‫اسکی بےرحمانہ سی پکڑ پہ سسک کر کراہ اٹھی‬
‫لیکن اسکی سیاہ آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو نظرانداز کرتے وہ اپنے سرد برفیلے سور نما لہجے میں گویا ہوتا اسکی روح دہلا گیا‬
‫ماں کے جانے کا غم ضرور ہے لیکن اتنا پاگل نہیں ہوا کہ تم جو آئے میرے سامنے بکواس کرو گی اور میں خاموشی سے سنتا رہوں گا‪ ،‬ایک بات ذہن"‬
‫نشین کرلو روحا حیدر شاہ کہ ساحل شاہ کی زندگی میں لوگ آتے تو اپنی مرضی سے ہیں لیکن انکا جانا میں طے کرتا ہوں تو! آج کے بعد اگر تم نے‬
‫دوبارہ مجھ سے ' آزادی' کی طلب کی تو میں تمہیں اس دنیا کے قید سے ہی آزاد کردوں گا۔۔‬
‫اگر تمہیں یہ خوش فہمی ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایسی طاقت ہے جو تمہیں مجھ سے آزاد کروا سکتی ہے تو جاؤ بلا لاؤ اسے لیکن ایک بات یاد‬
‫رکھنا‪ ،‬اسکی میت کو کندھا دینے والی صرف تم ہوگی۔۔ کیونکہ ابھی تو تم نے صرف ساحل کا محبت کرنے والا روپ دیکھا ہے اگر میں انتقام لینے پہ آیا‬
‫تو تم سکون کی سانس لینے کیلئے ترس جاؤ گی اور لوگوں سے پوچھتی پھرو گی آخر تمہاری خطا کیا تھی۔۔‬
‫میں شریف ہوں مجھے شرافت سے جینے دو‪ ،‬بگڑنے کے بعد میں اپنے باپ کی بھی نہیں سنتا تمہارا تو اللہ ہی خیر کرے پھر۔۔‬
‫میرا دماغ پہلے سے ہی بہت خراب ہوچکا ہے اسلئے شرافت سے میرے ساتھ رہو کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے تمہیں واقعی کسی پنجرے میں قید کرنا پڑے‬
‫اور پھر ساری زندگی اپنے ماں باپ کا چہرہ دیکھنے کیلئے ترستی رہ جاؤ!!!" اسکے کانوں میں سیسہ انڈیلتے ہوئے ساحل نے جھٹکے سے اسکا چہرہ‬
‫چھوڑا کہ وہ گھٹی گھٹی ہچکیوں کے درمیان جبڑے سے اٹھتی ٹیسوں پہ سسک پڑی‬
‫وہ جانتا تھا اس وقت وہ محبت کی بھاشا سے قطعی نہیں سمجھے گی‪ ،‬کیونکہ وہ اس لڑکی کی رگ رگ سے واقف ہوچکا تھا۔ وہ سنتی سب کی تھی‬
‫لیکن کرتی وہی تھی جو اسکا فسادی دماغ اس سے کہتا تھا۔۔ اور اس وقت تو وہ بالکل اپنے ہوش میں نہیں تھی اسکا آدھا ادھورا جملہ سن کر اسے ہی‬
‫اپنی ماں کا قاتل مان بیٹھی تھی‬
‫گاڑی کے ڈور لاکڈ کرتے‪ ،‬اسنے اپنی پینٹ کی جیب پہ ہاتھ لگا کر کچھ ڈھونڈا‪ ،‬اور بےساختہ اپنے قدم دائیں جانب بنے شاپ کی طرف بڑھائے۔۔‬
‫جیب سے والٹ نکال کر اسنے والٹ سے بھیگے چند سرخ نوٹ نکال کر شیشے کے کاؤنٹر پہ رکھے اور والٹ واپس جیب میں رکھ لیا۔‬
‫کیا چاہیے آپ کو سر؟؟" ابھی کچھ دیر پہلے وہ اس شخص مقابل چہرے کو اسکرین پہ فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کھڑا دیکھ چکا تھا لیکن اچانک "‬
‫یہاں اور اس طرح شکستہ حال میں؟‬
‫سگریٹ اور لائیٹر" بولتے ہوئے اسے جانے کیوں ایسا لگا جیسے یہ الفاظ وہ پہلے بھی دہرا چکا ہے۔۔"‬
‫ایمبولنس آچکی تھی‪ ،‬ہارون شاہ حیدر شاہ بھی ہاسپٹل سے باہر آچکے تھے۔ ایک نظر ان پہ ڈالتے ساحل شاہ گاڑی کا ڈور کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پہ آ‬
‫بیٹھا تھا۔۔‬
‫اسکی نظروں کے سامنے‪ ،‬خوبصورت رنگوں کے لباس پہننے والی اسکی ماں آج سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی تھی‪ ،‬انکے بےجان وجود کو اٹھا کر ایمبولنس کی‬
‫طرف لے جایا جارہا تھا۔۔ وہ صرف مہکار شاہ کا نہیں ساحل شاہ کی مسکراہٹوں اسکی زندگی کے رنگوں کا میت تھا۔۔‬
‫اسنے نچلے لب پہ سختی سے دانت گاڑھ کر آنسوں کو ضبط توڑ کر پھسلنے سے روکا تھا‪ ،‬اور بےساختہ میت سے نظریں ہٹا کر ونڈو سے باہر برستی بارش‬
‫کو دیکھتے زیرلب کچھ پڑھا تھا۔۔‬
‫کیوں لوگ اچانک اتنے بدل جاتے ہیں شاہو؟ ہم جسے خود سے بڑھ کر چاہتے ہیں ہمیشہ وہی ہمیں تکلیف دینے کا باعث کیوں بنتے ہیں؟" اسکے کانوں "‬
‫میں بےساختہ پہلو میں بیٹھے وجود کے الفاظ گونجے۔۔‬
‫کیونکہ محبت یکطرفہ ہوتی ہے۔۔" اسنے سگریٹ ہونٹوں میں دبا کر لائیٹر کے ننھے شعلے سے اسے سلگایا۔۔"‬
‫حسب معمول ایک گہرا کش لیتے ہوئے‪ ،‬اسنے انگلیوں کے درمیان اسے دبایا اور دوسرے ہاتھ سے اچانک اسٹیئرنگ وہیل گھمایا۔۔‬
‫یہ پہلی دفعہ تو نہیں کہ ہم نے ٹھوکر کھائی ہے‪ ،‬ہمیں گر کر سنبھلنے کی عادت ہوگئی ہے۔۔‬
‫‪°°°°°°°°‬‬
‫دروازے پہ ہوتی مسلسل دستک سے عشاء کی نماز کے بعد جائے نماز پہ بیٹھی تسبیح پڑھتی حجاب شاہ تسبیح ہاتھ میں پکڑے زیرلب پڑھتی ہوئیں کمرے‬
‫سے باہر آئیں۔۔‬
‫آپ جائیں آرام کریں میں دیکھ لیتی ہوں۔" کمرے سے نکلتی دائی ماں کو دیکھتے انہوں نے نرمی سے کہا اور دروازے کے پاس آئیں "کون ہے؟؟" پاس"‬
‫پہنچ کر انہوں نے دروازہ کھولنے سے پہلے احتیاط ًا پوچھا مگر جواب ندارد۔۔‬
‫کون ہے بھئی جواب تو دو؟" انہوں نے غصے سے کہتے دروازہ کھولا تھا‪ ،‬مگر جونہی دروازے کے دونوں پٹ جیسے تقسیم ہوئے مقابل کھڑے بارش میں "‬
‫بھیگتے وجود کو دیکھتے حجاب شاہ کے بقیہ الفاظ انکے حلق میں کہیں دب گئے تھے وہ اپنی جگہ پتھرائی گنگ منجمد سی کھڑی رہ گئیں۔۔‬
‫میں ہوں مام! آپکی بیٹی بازل۔۔" انکے چہرے پہ نظریں پڑتے بازل نے مسکرا کر بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ مسلسل بارش میں بھیگنے سے اسکے لب"‬
‫سفید پڑ چکے تھے‪ ،‬سرمئی چمکتی آنکھیں سرخ تھیں ٹھوڑی تلے بارش کی بوندیں قطار میں زمین پہ گر رہی تھیں‬
‫بب۔بازل؟؟" حجاب شاہ کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا۔ وہ کوئی خیال تھا رات کے اس پہر اسکی بیٹی کیسے یہاں آ سکتی تھی۔۔ بھلا کھلی آنکھوں"‬
‫سے دیکھے گئے خواب حقیقت کہاں ہوتے ہیں؟ وہ جب اتنے سال ساتھ رہنے کے باوجود کبھی ماں کے پاس نہیں آئی اب کیسے آسکتی تھی؟‬
‫آنسوؤں کا بڑا سا گولا حجاب شاہ کے حلق میں آکر اٹکا تھا۔۔ یہ ضرور خواب تھا‪ ،‬دیکھنا ابھی وہ ہاتھ بڑھا کر اسے چھونے کی کوشش کریں گی وہ‬
‫روٹھے پرندے کی طرح اڑ کر ان سے دور ہوتی چلی جائے گی۔۔‬
‫اپنا نچلا لب سختی سے دانتوں تلے دبائے‪ ،‬انہوں نے آنسوؤں پہ ضبط کرنا چاہا مگر اسکے چہرے کو دیکھتے آنسوں بےاختیار ہو گئے تھے۔ وہ بے آواز رونے‬
‫لگی۔۔ "بازل میری جان۔۔" اپنے شدت سے دھڑکتے دل کے ساتھ آگے بڑھ کر کانپتے ہاتھ کو آگے بڑھاتے اسکے سرد بھیگے رخسار کو چھوا۔۔۔‬
‫کپکپاتی انگلیاں جیسے اسکے رخسار سے مس ہوئیں‪ ،‬روح میں سرسراہٹ سی پھیل گئی‪ ،‬حجاب شاہ کے لبوں سے سسکی سی نکلی۔۔ وہ خواب نہیں حقیقت‬
‫تھی‪ ،‬ابھی ہی تو وہ جائے نماز پہ بیٹھیں اسے یاد کرتی رو رہی تھیں اور اتنی جلدی اس رح ٰمن رحیم نے انکی آہ پکار سن کر انکی خواہش کو حقیقت‬
‫بنادیا‬
‫اگلے لمحے وہ آگے بڑھیں اور بازل کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اسکے چہرے کے معصوم سے نقوش کو چومنے‬
‫لگیں۔۔ "میری جان میری بیٹی میری بازل۔۔۔" اسکی آنکھیں اسکے رخسار اسکی پیشانی اسکے بھیگے سرد ہاتھوں پاگلوں کی طرح چومتے ہوئے با آواز روتے‬
‫اسے اپنے تڑپتے ہوئے سینے میں بھینچ لیا۔۔‬
‫کہاں تھی تم؟ کہاں چلی گئی تھی کتنا یاد کر رہی تھی میں تمہیں کیوں نہیں آئی۔۔ میرا اندر درد سے پھٹ رہا تھا میں تمہیں بتا نہیں سکتی لیکن "‬
‫میں مر رہی تھی تمہاری ایک جھلک دیکھنے کیلئے میری جان۔۔۔" وہ اسے سینے میں بھینچے اسکے سر اسکے رخسار کو چومتے ہچکیوں سے رونے لگی‬
‫ماما۔۔۔" انہیں اس طرح روتے دیکھ کر بازل کا ضبط بھی ٹوٹ گیا۔ وہ اپنے ماں کے سینے میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔"‬
‫کیوں بازل؟ کیوں اتنے سال لگا دیے اپنی ماں کے پاس آنے میں؟ ایک بار بھی ان بدنصیب اندھے ماں باپ کے بارے میں نہیں سوچا کہ جب انہیں "‬
‫سچائی معلوم ہوگی تو ان پہ کیا بیتے گی؟ کیوں بازل؟ کیوں چھپایا اپنی ماں سے اپنا درد بتاؤ۔۔۔" اسکے رونے پہ اسے اپنے سینے میں بھینچے وہ درد سے‬
‫پھٹتے دل سے کہنے لگیں‬
‫انکے سوال پہ بازل کی سسکیوں میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔۔۔‬
‫م۔میں نے ب۔بہت کوشش کی ماما۔۔ لل۔لیکن انہوں نے کبھی بتانے نہیں دیا۔۔ ان۔۔انہوں نے کہا اگر م۔میں نے ڈیڈ کو بت۔بتایا تو وہ برے انکل ڈیڈ کو"‬
‫مار دیں گے روحا اور آپ کے ساتھ بھی برا کریں گے۔۔ میں آپ لوگوں کو ایسی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی ماما۔۔ میں روحا کو اتنے درد میں‬
‫نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔ میں ڈیڈ کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔" اسکی بات سن کر حجاب شاہ اپنی جگہ برف کا مجسمہ بن کر رہ گئی۔۔‬
‫انہوں نے تڑپ کر اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرا اور بھیگی آنکھوں سے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں دیکھتی بولیں "کک۔کیا ای۔ایسا مہکار ن۔نے کہا تم سے؟؟"‬
‫انہوں نے غیریقینی سے پوچھا۔۔‬
‫بھلا کوئی عورت ایک سات آٹھ سالہ بچی کے ساتھ اتنا ظلم کیسے کر سکتی تھی۔ اسنے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ اگر اسنے اپنے ماں باپ کو اپنے‬
‫ساتھ ہوئے ظلم کا نہیں بتایا تو کسے بتائے گی؟ کیسے اتنے درد کے ساتھ تنہا زندگی گزارے گی؟ وہ تو موم کا پھول تھی کیسے مہکار شاہ ایسا کر‬
‫سکتی ایک تو اس پہ جسمانی تشدد ہوا تھا اوپر سے وہ اسے ذہنی ٹارچر کر رہی تھی۔۔۔‬
‫میرے اللہ۔۔۔" حجاب شاہ کا جیسے کلیجہ پھٹ گیا تھا۔۔ وہ ایکدم آہ کی طرح اپنے رب کو پکارتی اسے سینے میں چھپا گئی"‬
‫تمہیں اسکی نہیں سننا چاہیے تھی بازل۔۔" انہوں نے روتے ہوئے کہا۔۔ "اگر اس درندے میں اتنی طاقت ہوتی تو وہ کبھی پیٹھ پیچھے تمہارے باپ پہ وار"‬
‫نہیں کرتا۔۔ اسکی معصوم بچی پہ حملہ نہیں کرتا۔۔ وہ ڈرتا تھا تمہارے باپ سے۔۔ اگر تم بتا دیتی تو تمہارا باپ اس درندے کو چیر پھاڑ دیتا تمہیں‬
‫"کبھی اندھیروں میں جینے نہیں دیتا میری جان۔۔۔‬
‫بس یہی فرق تھا ماما۔۔۔ جو آپ نے آج کہا یہ مجھے پھوپو نے نہیں بتایا۔۔ وہ مجھے روتے تڑپتے دیکھتی تھی لیکن مجھے آپ لوگوں سے اپنا پین شیئر"‬
‫کرنے نہیں دیتی تھیں۔۔‬
‫مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی ماما۔۔ مجھے لگا تھا وہ مجھ سے میری سیونگ چھیننا چاہتے ہیں‪ ،‬میں اس سے اپنی سیونگ چھپا رہی تھی لیکن اسنے میرے‬
‫بالوں سے پکڑا اور مجھے گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔۔ میں نے آپ کو ڈیڈ کو بہت پکارا۔۔۔ ل۔لیکن آپ لوگ بہت دور تھے مجھ سے۔۔‬
‫میں آپ کے پاس آنا چاہتی تھی ماما میں آپ کو بتانا چاہتی تھی کہ میرا قصور کیا تھا؟ میں نے تو صرف اتنا پوچھا تھا کہ وہ مجھ سے نفرت کیوں‬
‫کرتی ہیں۔۔‬
‫لیکن انہوں نے جواب میں مجھے تھپڑ دے مارا اور مجھ سے کہا کہ میں مہکار شاہ ہوں میں منحوس ہوں۔۔ میں آپ کے پاس آرہی تھی میں ڈیڈ کو بتانا‬
‫چاہتی تھی کہ پھوپو بالکل اچھی نہیں۔۔۔ ل۔لیکن راستے میں کتے میرے پیچھے پڑ گئے۔۔ میں ان سے اپنی جان بچا کر ایلی کے گھر میں چھپ گئی‬
‫تب۔۔تبھی وہاں وہ آگئے۔۔۔" وہ آج سارے ضبط کھو کر ماں کے سینے سے لگی ٹوٹی بکھری شکستہ سی ہچکیوں سے روتی خود پہ بیتی وہ قیامت اپنی‬
‫ماں کو سنانے لگی۔۔۔‬
‫اور حجاب شاہ کا حال ایسا تھا جیسے کاٹو بدن میں لہو نہ ہو۔۔ ایک ماں ہوکر اپنی اولاد پہ گزری قیامت سنتے دل پہ کیا گزرتی ہے آج کوئی حجاب‬
‫شاہ سے پوچھتا۔۔۔‬
‫کاش آج اس طوفانی رات میں ہی قیامت آجاتی اور وہ مہکار شاہ سے اپنی بیٹی کی بربادی کا حساب لیتی۔۔۔کاش۔۔‬
‫میں نے خود کو بچانے کی بہت کوشش کی مگر اسنے میری انگلیاں توڑ دیں ماما۔۔۔ مجھے آج بھی جب چوٹ لگتی ہے تو مجھے وہی درد محسوس "‬
‫ہوتا ہے۔۔ آج بھی میرے کانوں میں میری ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آواز گونجتی ہے ماما۔۔ وو۔وہ ایک درندہ تھا۔۔ اسنے میرے ب۔بازو توڑ دیے۔۔۔ مم۔میں جب۔‬
‫جب اپنے لئے کچھ نہیں کر پائی م۔میرے ہاتھ پاؤں درد سے سن پڑ گئے ت۔تب۔۔۔تب وہ میرے جسم کو نوچنے لگا۔۔۔۔مم۔ماما۔۔۔ کاش۔۔کاش میں اس‬
‫حادثے سے پہلے مر جاتی ماما۔۔۔ کاش پھوپو تھپڑ مارنے سے پہلے اس سوال کی سزا میں میرا گلا گھونٹ دیتی ماما۔۔کاش۔۔۔‬
‫مم۔میں جج۔جتنی مض۔مضبوط بننے کی کوشش کروں آج ۔ آج بھی میری وہ چیخیں اس درندے کے ہنسنے کی آوازیں مجھے ڈرا دیتی ہیں۔۔ میں ک۔کئی کئی‬
‫راتیں جاگ۔۔جاگ کر گزارتی تھی۔۔ مم۔میں اگر سوتی تھی تو اسکا خ۔خوفناک چہرہ میرے سامنے آجاتا تھا ا۔اور میں خ۔خدا سے دعا کرتی تھی ہر دم یہی‬
‫دعا کرتی تھی م۔میں سب بھول جاؤں۔۔میں وہ درد وہ چیخیں وہ قہقہے وہ ہڈیوں سے ٹوٹنے کی آوازیں۔۔ سب۔سب بھول جاؤں مم۔میں ماضی بھول جاؤں۔۔‬
‫میرا حافظہ چھین لیا ج۔جائے ل۔لیکن مم۔ماما کچھ نہیں ہوت۔ہوتا تھا کوئی معجزہ نہیں ہوتا تھا کوئی دوا نہیں ہوتی تھی جو مجھے کسی ایک رات بھی‬
‫سکون سے سونے دیتی۔۔۔‬
‫م۔میرا بچپن تباہ ہوگیا ماما۔۔ م۔میں مم۔۔مسکرانا بھول گئی م۔مجھ سے سارے ادب و آداب چھین لئے گئے اا۔اور میں ایک بدتمیز بری بیٹی بن گئی ماما۔۔ک۔‬
‫کیوں کہ میں اکیلے درد سہتے پاگل ہوگئی تھی۔۔۔ آپ۔ آپکی بیٹی نفسیاتی ہوگئی تھی۔۔۔ اور۔اور مجھے نفسیاتی بننانے والے میرے اپ۔اپنے تھے ماما۔۔‬
‫"اگر یہ ظلم کوئی غیر کرتا تو شاید آپ کی بیٹی پھر سے مسکرا دیتی لیکن مجھے بر۔برباد کرنے والے میرے سگے تھے۔۔ میں کیسے مسکراتی ماما؟‬
‫حجاب شاہ کے وجود سے روح کھینچ لی گئی تھی‪ ،‬وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی مانند بےجان سی ہوکر زمین پہ گر گئیں۔ انہوں نے آہستگی سے بازل‬
‫کے آگے اپنے ہاتھ جوڑے اور اسکے گھٹنوں سے سر ٹکا کر وہ بلک بلک کر رونے لگیں۔۔۔‬
‫مام!!!" انکے اس طرح بکھر کر قدموں میں گرنے پہ بازل تڑپ کر انکے ہاتھوں کو تھامتی ہوئی سامنے بیٹھی اور وہی ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگاتی خود "‬
‫بھی سسک پڑی۔۔۔‬
‫ا۔ایسا مت کریں ماما۔۔۔ میں پہلے سے بہت تھک گئی ہوں سمجھ نہیں آرہا کہاں جاؤں۔۔ آپ اگر ایسا کریں گی تو میں مر جاؤں گی۔۔" وہ روتی نفی"‬
‫میں سر ہلاتی ہوئی انکے آنسوں پونچھ کر بولی‬
‫مار تو ہمیں دیا ہے اس عورت نے‪ ،‬ہمارے معصوم پھول کا یہ حال کردیا۔۔ خدا غارت کریگا اسے وہ کبھی سکون کی سانس نہیں لے سکے گی اللہ بدتر"‬
‫موت دیگا ان دونوں درندوں کو میری معصوم ناسمجھ بیٹی کو روندا ہے اللہ کبھی معاف نہیں کریگا۔۔۔‬
‫میری بچی میری جان ہمیں معاف کردو۔۔ ہم کبھی جان ہی نہ سکے کہ سانپ کو آستین میں پال رہے ہیں برباد کردیا اسنے ہمیں خدا اسے بھی برباد کرے‬
‫"میرے کلیجے کو نوچا ہے خدا۔۔۔۔‬
‫نہیں ماما۔۔۔" اس سے پہلے کہ مہکار شاہ کو ایسی آہ دیتی کہ اسکا کلیجہ بھی ایسے ہی چیر دیا جاتا بازل نے تڑپ کر انکے لبوں پہ ہاتھ رکھا۔۔۔"‬
‫کسی معصوم کو بددعا نہ دیں‪ ،،‬کیونکہ میں جانتی ہوں تکلیف کیا ہوتی ہے اور میں کسی کو اس تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔۔ جسکا قصور تھا اللہ "‬
‫نے انہیں انکے انجام تک پہنچایا۔۔‬
‫وہ ماں ہے تڑپنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پائیں گی لیکن برداشت کرنے والے سے کبھی پوچھیں اس پہ کیسی قیامت گزرتی ہے۔۔۔ پلیز کسی کے بچوں کو‬
‫بددعا مت دیں۔۔۔ وہ معصوم ہوتے ہیں بےقصور ہوتے ہیں‪ ،‬انہیں مسکرانا ہوتا ہے انکی مسکراہٹیں نہ چھینیں۔۔۔" وہ التجائیہ روتی ہوئی بولی۔ حجاب شاہ نے‬
‫سسکتے ہوئے اسکی پیشانی چومی اور اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔‬
‫وہ ماں بیٹی اپنے گھر کی دہلیز پہ بارش کی بوندوں میں بھیگتی سرد ہواؤں سے بےحس ایک دوسرے کے درد پہ روتی رہی تھیں۔ حجاب شاہ نے اسے یوں‬
‫سینے میں چھپایا ہوا تھا جیسے ابھی کوئی آکر اسے ان سے چھین لے گا۔۔ وہ دیوانگی کے عالم میں سسکتی اسکی انگلیوں کو اسکے چہرے کو بار بار‬
‫چومتی پھر سے رونے لگتیں۔۔‬
‫دائی ماں شال لیکر آئیں اور آہستہ سے حجاب شاہ کے کندھوں پہ ڈال کر انہیں بچی کو اندر لے کر چلنے کا کہا۔۔ انکی آواز پہ وہ ہوش میں آتیں بازل‬
‫کو سہارا دیکر کھڑا کرتے وہ شال خود سے اتار کر اسکے گرد ڈالی اور اپنے ساتھ لیکر اندر چلی گئیں۔۔‬
‫پیچھے دائی ماں نے سیاہ وسیع آسمان کے مالک کو دیکھتے شکر ادا کرتے نم آنکھیں پونچھ کر دروازہ بند کیا تھا کیونکہ جب وہ حجاب شاہ آئیں تھیں‬
‫کچھ کھائے پئے بغیر‪ ،‬پانچ وقت کی نماز نم لہجے میں قر آن کی تلاوت اور آنکھوں میں آنسوں تھے۔۔‬
‫یہاں بیٹھو۔۔" انہوں نے اسے بیڈ پہ بٹھایا۔ تب تک دائی ماں پانی کا گلاس لیکر آئیں جسے تھام کر انہوں نے بازل کے لبوں سے لگایا۔۔ اسنے ماں کے"‬
‫ہاتھوں سے چند گھونٹ حلق سے اتارے۔۔‬
‫وہ جب اسکے قریب بیٹھیں‪ ،‬بازل نے اپنا بھیگا کوٹ اتار کر آہستہ سے اپنا درد سے پھٹتا سر انکی گود میں رکھا اور گٹھڑی کی مانند سمٹ گئی حجاب‬
‫شاہ کے لبوں سے بے آواز سی ہچکیاں نکل گئیں انکا دل خون کے آنسوں رو رہا تھا۔۔ وہ محبت سے اسے پچکارتی اسکا سر دبانے لگیں۔۔‬
‫کاش کہ وہ بچپن میں اسے اس طرح اپنے آغوش میں چھپا کر سلاتیں تو آج اتنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوتی۔۔ دائی ماں نے گلاس سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے‬
‫آہستہ سے بازل کے گٹھڑی نما وجود کے اوپر نرم گرم سا بلینکٹ ڈال دیا۔۔۔‬
‫دیر آئے درست آئے میرے بچے۔۔" انہوں نے حجاب شاہ کے سر پہ دست شفقت کا ہاتھ رکھتے کمزور سے لہجے میں کہا۔ سچائی جاننے کے بعد وہ "‬
‫خود شاکڈ تھیں۔ اتنے دنوں سے حجاب شاہ روتے دیکھتے ناشکری سمجھ کر صبر دلاسے نصیحتیں کر رہی تھیں آج جب حقیقت معلوم ہوئی تھی خود بھی‬
‫رو پڑیں۔۔ کتنا درد تھا اس معصوم بچی کے لہجے میں غیر ہوکر بھی انکا دل لرز اٹھا‪ ،‬مہکار شاہ کس مٹی کی بنی تھی؟‬
‫گزر جائے گا میری جان یہ مشکل وقت بھی۔۔" حجاب شاہ نے اسے روتے دیکھ کر اپنی گونجتی سسکیوں پہ ضبط کرتے بےبسی سے کہا تھا۔۔ "اللہ نے"‬
‫اپنے پیارے بندوں سے وعدہ کیا ہے مشکل کے ساتھ آسانی کا‪ ،‬اللہ تمہیں اتنی خوشیاں دے گا کہ تمہاری جھولی تنگ پڑ جائے گی‪ ،‬تمہیں کبھی کوئی برا‬
‫خواب نہیں آئے گا اللہ تمہاری ساری مسکراہٹیں لوٹا دیگا اور ساری سیاہ راتیں تم سے دور چلی جائیں گی اگر کوئی رات ہوگی تو وہ ستاروں بھری روشن‬
‫رات ہوگی۔۔ تمہارے آنگن میں خوبصورت پھول ہوں گے بس اپنی ماں کی ایک بات یاد رکھنا کہ اپنے پھولوں کی دیکھ بھال خود کرنا کسی دوسرے کے‬
‫"سہارے مت چھوڑنا۔۔ لوگ باغ میں کوئی خوبصورت پھول دیکھتے ہیں تو توڑ دیتے ہیں۔۔ تم کسی کی بری نظر ان پہ پڑنے مت دینا۔۔۔‬
‫رات لمحہ بہ لمحہ سرکتی گئی‪ ،‬وہ انکی گود میں سر رکھے انکی خوبصورت دعاؤں پہ زیرلب مسکراتی آہستہ آہستہ گہری پرسکون نیند کے آغوش میں چلی‬
‫گئی۔۔۔‬
‫اسکے نیند کی وادیوں میں اترتے ہی حجاب شاہ کی گھٹی گھٹی سسکیاں فضا میں گونج اٹھیں۔۔ اسکی باتیں اسکی سسکیاں شکایتیں کانوں میں گونجتی سر‬
‫پہ ہتھوڑے کی مانند برس رہی تھیں۔۔۔‬
‫میں تمہیں بد دعا دوں بھی تو کیسی دوں؟ ایسی کوئی بد دعا ہی نہیں جسے کہہ کر میرے کلیجے میں سکون اتر جائے‪ ،‬تم نے تو جیتے جی مار دیا"‬
‫ہمیں۔۔۔کیسے جی پائیں گے ہم اس درد کے ساتھ؟‬
‫ایک لمحے کیلئے تمہیں اس معصوم پھول پہ ترس نہیں آیا؟ ڈائن کوئی تمہارے گجر کو ایسے نوچتا تو تمہیں احساس ہوتا کہ اولاد کو تڑپتے دیکھ کر ماں‬
‫پہ کیا گزرتی ہے۔۔۔ لیکن تمہیں کیسے احساس ہوتا تم کبھی ماں بنی ہی نہیں تھی۔۔۔" وہ تصور میں اس سے مخاطب ہوتیں بولی تھیں اس بات سے انجان‬
‫کہ جسے برباد ہونے کی بددعائیں دے رہی ہے وہ منوں مٹی تلے جا سوئی تھی۔۔۔۔‬
‫‪°°°°°°°°‬‬
‫ایک منٹ کا کہہ کر کمرے سے باہر آگیا‪ ،‬ایک سائیڈ کم شور والی جگہ آتے اسنے موبائل‬ ‫اچانک انجان نمبر سے آتی مسلسل کالز پہ وہ سلاور سے‬
‫"!کان سے لگایا "ایس پی دریاب خان اسپیکنگ‬
‫موبائل کے اسپیکر سے اسکی مردانہ بھاری بارعب سی خوبصورت آواز گونجتی کچھ لمحات کیلئے مقابل وجود کو خاموش کر گئی۔۔‬
‫"اس سے پہلے کہ وہ غصے میں آکر کال ڈسکنیکٹ کرتا‪ ،‬تبھی دوسری طرف کپکپائی سی آواز گونجی "د۔دریاب م۔میں بات کر رہی ہوں۔۔‬
‫میں کون؟" اسنے اچنبھے سے نمبر دیکھا۔ بھلا 'میں' بھی کسی کا نام ہو سکتا ہے۔۔"‬
‫نویرہ کی ماں۔۔" ابکی بار انکے تعارف نے دریاب خان کو خاموش کروادیا تھا۔۔"‬
‫بتائیں کیسے یاد کیا؟" اسکا لہجہ خودبخود سپاٹ ہوگیا تھا کیونکہ اسکی آنکھوں کے سامنے اپنے بھائی کا شکستہ بکھرا سا حال گھوم رہا تھا۔ کچھ دیر"‬
‫پہلے جس طرح ٹوٹ کر وہ اسکے سینے سے لگا تھا اور جس طرح رویا تھا اسکے بعد دریاب خاان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ چغتائی اور حیدری خاندان‬
‫کے ایک ایک فرد کو پکڑ کر چیتھرے کردے‪ ،‬اسکے دل میں جو تھوڑی بہت ہمدردی تھی مسز چغتائی کیلئے آج وہ بھی ختم ہوگئی تھی۔۔‬
‫میں تم سے آج آخری بار کچھ مانگنا چاہتی ہوں دریاب۔۔"اسکے بات کرنے کے انداز کو دیکھنے کے بعد انہوں نے جھجھکتے ہوئے کہا۔"‬
‫لیکن دینے کیلئے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔۔" اسکے قطعیت بھرے جواب پہ انکے ضبط کئے ہوئے آنسوں گالوں پہ پھسل گئے۔۔"‬
‫اللہ تم لوگوں کو سب کچھ لوٹا دے گا دریاب مجھے صرف ایک بار فیروز سے ملنے دو۔۔" وہ بھیگے لہجے میں التجائیہ بولیں"‬
‫آپکی دعاؤں کیلئے شکریہ لیکن شاید آپ نے نیوز نہیں دیکھی‪ ،‬آپکے شوہر اور انکے عزیز دوست کو راستے میں ہی انکے ساتھی بازیاب کروا کر لے گئے "‬
‫ہیں۔۔" انکے مطالبے پہ وہ چونکا تھا مگر یہ ممکن نہیں تھا۔ دنیا کیلئے فیروز اور ظفران اب مر چکے تھے پھر کیسے وہ انہیں ملنے دیتا۔۔‬
‫یہ نیوز دنیا کیلئے ہے دریاب حقیقت کیا ہے اس سے ہم دونوں واقف ہیں۔ مجھ بس آخری دفع اس سے ملنے دو پھر کبھی تمہیں میری کال نہیں آئے "‬
‫"گی صرف آخری دفعہ۔۔‬
‫اگر حقیقت آپ جانتی ہیں تو آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ موت انکے منتظر ہے اب وہ کسی سے نہیں مل سکتے۔۔" وہ انکی بات کاٹ کر سختی "‬
‫سے جتا کر گویا ہوا تھا حالانکہ وہ بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا ان سے جانے کیوں مجبور تھا۔۔ انکے رونے کی آواز اسے مضطرب کرنے لگی۔۔‬
‫دریاب صرف ایک آخری بار میں تم سے بھیک مانگتی ہوں۔ میں بھی ایک ماں تھی مجھے بھی دھوکے میں رکھا گیا ناانصافی میرے ساتھ بھی ہوئی "‬
‫ہے۔۔۔"وہ موبائل کے دوسری طرف روتی گڑگڑانے لگی۔۔ اس اچانک حملے سے دریاب گڑبڑا گیا تھا۔۔‬
‫ا۔اچھا۔۔ اچھا ٹھیک ہے آپ رونا بند کریں۔۔ اگر آخری بار کی بات ہے تو میرے آدمی آپ کو کل لوکل بس اسٹاپ سے پک اپ کرلیں گے۔ لیکن یاد "‬
‫رکھئیے گا وہ آخری ملاقات ہوگی اسکے بعد نہ آپ کبھی اپنے شوہر سے مل سکے گیں نہ ہی مجھے دوبارہ کبھی کال کریں گی۔۔ میرے لئے ماضی اب‬
‫بند کتاب بن چکا ہے‪ ،‬اگر اسے کھولنے کی کوشش کی تو پھر میں تحریر کی ہر ایک سطر کا حساب لوں گا جس میں قصوروار آپ بھی ٹھہریں‬
‫گی۔۔۔" اپنی بات کہہ کر اسنے دوسری طرفین کا حرف سنے بغیر کال کاٹ دی۔۔ موبائل جیب میں رکھتے اسنے گہرا سانس بھر کر اپنے اعصاب پرسکون‬
‫کئے۔۔‬
‫نویرہ کی ماں۔۔" اسکے دماغ میں انکا تعارف گونجنے لگا"‬
‫دریاب!!" مع ًا پشت سے اسے تقو ٰی کی پکار سنائی دی۔"‬
‫جی اماں!" وہ مسکرا کر پلٹا۔۔"‬
‫"بیٹا فلائیٹ میں آدھا گھنٹہ رہ گیا ہے تم اور عرشیہ گھر جاکر پیکنگ کر آؤ اور ہاں جاتے ہوئے توقیع کو بھی گھر ڈراپ کر دینا۔۔"‬
‫جی ٹھیک ہے۔۔" اسنے فرمانبرداری سے سر اثبات میں ہلا دیا۔۔ (افسوس نہ دل اپنی کیٹی سے مل سکا نہ ہی میں اپنے رس گلے سے۔۔) وہ بیچارگی "‬
‫سے راہ داری میں آگے بڑھتی ہوئی تقو ٰی زیدی کی پشت کو دیکھتا اداسی سے سوچ کر سر جھٹک گیا۔۔‬
‫ویسے میں چاہوں تو دل توقیع سے مل سکتا ہے۔" مع ًا اچانک دماغ کی بتی جلتے اسکے چہرے پہ بھرپور مسکراہٹ آگئی۔۔"‬
‫لیکن میں ایسا کیوں چاہوں گا؟" اگلے لمحے وہ مسکراہٹ غائب تھی۔۔ وہ سر جھٹک کر واپس روم میں گھس گیا۔ بھلا اسے پاگل کتے نے کاٹا تھا جو"‬
‫"وہ ایسا کرتا "ہی ہی ہی۔۔‬
‫‪°°°°°°°°°°‬‬

You might also like