0% found this document useful (0 votes)
2K views16 pages

Submitted by

Uploaded by

waqar
Copyright
© © All Rights Reserved
We take content rights seriously. If you suspect this is your content, claim it here.
Available Formats
Download as PDF, TXT or read online on Scribd
0% found this document useful (0 votes)
2K views16 pages

Submitted by

Uploaded by

waqar
Copyright
© © All Rights Reserved
We take content rights seriously. If you suspect this is your content, claim it here.
Available Formats
Download as PDF, TXT or read online on Scribd

‫سمسٹر خزاں ‪2022‬‬ ‫کورس‪ :‬تدریسات اردو‬

‫‪SUBMITTED BY‬‬
‫عمارہ عباس‬
‫پروگرام‪ :‬ایم اے‬
‫رول نمبر‪0000263773:‬‬

‫امتحانی مشق نمبر ‪1‬‬

‫سوال نمبر ‪ :1‬اردو تدریسات میں تحقیق کے کردار پر بحث کریں؟‬

‫لفظ “ تحقیق ” عربی زبان کا مصدر ہے جس کا مادہ ‘حق ّق‪ ،‬ی ُ َح ق ّ ُق ‪ ،‬ت َحقیقا ً سے ماخوذ ہے جو‬
‫باطل کی ضد ہے۔حق کا مطلب ْثابت کرنا‪ ،‬ثبوت فراہم کرناہے۔‬

‫تحقیق کا کام حال کو بہتر بنانا‪ ،‬مستقبل کو سنوارنا‪ ،‬اور ماضی کی تاریکیوں کو روشنی عطا‬
‫کرنا ہے۔تحقیق کا ایک اہم کام گمشدہ دفینوں کو دریافت کرنا اور ماضی کی تاریکیوں کو دور‬
‫کرکے اسے روشنی عطا کرنا ہے۔بقول ِ سید عبدہللا‪:‬‬

‫“ تحقیق کے لغوی معنی کسی شے کی حقیقت کا اثبات ہے۔اصطالحا ً یہ ایک ایسے طرز‬
‫مطالعہ کا نام ہے جس میں موجود مواد کے صحیح یا غلط کو بعض مسلمات کی ر وشنی میں‬
‫پرکھا جاتا ہے۔تاریخی تحقیق میں کسی امر واقعہ کے وقوع کے امکان و انکار کی چھان بین‬
‫مد نظر ہوتی ہے۔”)‪( 1‬‬

‫تحقیق ماضی کی گمشدہ کڑیاں دریافت کرتی ہے اور تاریخی تسلسل کا فریضہ انجام دیتی ہے‬
‫اور ادب کو اس کے ارتقا کی صورت میں مربوط کرتی ہے۔تحقیق موجو د مواد کو مرتب کرتی‬
‫ہے‪ ،‬اس کا تجزیہ کرتی ہے‪ ،‬اس پر تنقید کرتی ہے اور پھر اس سے ہونے والے نتائج سے‬
‫آگاہ کرتی ہے۔مالک رام ادبی تحقیق کے حوالے سے رقمطراز ہیں ‪:‬‬
‫“ تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے۔اس کا مادہ ‘ ح’ ۔ق۔ق’ جس کے معنی ہیں کھرے اور کھوٹے‬
‫کی چھان بین یا بات کی تصدیق کرنا۔دوسرے الفاظ میں تحقیق کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم‬
‫اپنے علم و ادب میں کھرے کو کھوٹے سے‪ ،‬مغز کو چھلکے سے‪ ،‬حق کو باطل سے الگ‬
‫کریں۔ انگریزی لفظ ” ریسرچ “ کے بھی یہی معنی اور مقاصد ہیں۔ “(‪) 2‬‬

‫اردو میں خالص ادبی تحقیق کا آغازبیسو ی صدی کے اوائل میں ہوتا ہے۔اس سلسلے میں‬
‫مولوی عبدالحق‪ ،‬حافظ محمود شیروانی‪ ،‬قاضی عبدالودود‪ ،‬امتیاز علی عرشی‪ ،‬وغیرہ بزرگوں‬
‫نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اردو زبان و ادب میں صرف کیا اور اردو تحقیق کا معیار بلند کیا۔‬

‫بیسویں صدی میں تحقیقی روایت میں توسیع کرن ے والے ایک اہم بزرگ مولوی عبدالحق ہیں۔‬
‫مولوی عبدالحق کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ انہوں نے تحقیق ِ ادب کو ایک قومی نصب العین‬
‫کی طرح قبول کیا اور اسے عمر بھر جاری رکھا۔قدیم دکنی مخطوطوں کی تالش وصحت ان‬
‫کے بنیادی کاموں میں سے ہیں۔ دکن کے غیر دریافت ادب کو منظر عام پر الکر انہوں نے‬
‫معلوم ادبی تاریخ کی دنیا کی کایا پلٹ دی۔(‪ ) 3‬نو دریافت کتابوں میں ان کے مبسوط مقدمے ‪،‬‬
‫ت متن سے مستقبل کی تنقید کی راہ ہموار ہوئی۔ ” معراج العاشقین” ‪ “ ،‬سب‬
‫حاشیے اور صح ِ‬
‫رس” ‪ “ ،‬قطب مشتری”اور “ علی نامہ” وغیرہ اسی سلسلے کی کتابیں ہی ں۔ ان کا مختصر وقیع‬
‫ٔٔ خذ کی حیثیت رکھتا ہے۔‬
‫مقالہ ” اردو کی نشونما میں علمائے کرام کا کام” بنیادی ما ٔ‬

‫اردو میں تحقیق کی باضابطہ ابتدا ء حافظ محمود شیرانی سے ہوتی ہے۔ وہ پہلے محقق ہیں‬
‫جنہوں نے تحقیق کے اصول پائیدار بنیادوں پر قائم کیے اور جدید مغربی اص ولوں کو رواج‬
‫ٔٔ خذ اور ذرائع سے‬
‫دیا۔انہوں نے حوالے درج کرنے میں ذمہ داری سے کام لیا اور مختلف ما ٔ‬
‫اخذ ہونے والی معلومات پر جرح و تعدیل اور احتساب کی صحت مند روایت قائم کی۔ساتھ ہی‬
‫منطقی اصولوں پر مبنی استدالل اور مغالطوں سے گریز تحقیق کار کے لیے ضروری ٹھہرایا۔‬

‫“ پنجاب میں اردو” ‪ “ ،‬تنقید آب حیات ”‪ “ ،‬تنقید شعرالعجم” اور ” پرتھوی راج رسوا ” جیسی‬
‫اعلی ترین‬
‫ٰ‬ ‫کتابوں کے عالوہ بیشمار مقاالت میں ان کی تحقیقی ژرف نگاہی اور بصیرت کی‬
‫مثالیں موجود ہیں۔ داخلی اور خارجی شہادتوں کی یکساں اہمیت دینے والے اس اہم محقق کو‬
‫بجاطور پر تحقیق و تدوین کو معلم اول شمار کرکے شائع کئے۔‬
‫آزادی سے پہلے اردو کی اس تحقیقی روایت کو درجہ باال بزرگوں کے عالوہ بعض دیگر‬
‫علمائے ادب و تحقیق نے بھی تقویت پہنچائی اور اپنے تحقیقی کا رناموں سے اس کی روایت‬
‫کو مستحکم کیا۔محی الدین قادری زور ‪ ،‬مولوی محمد شفیع‪ ،‬برج موہن دتاتر کیفی‪ ،‬شیخ چاند‬
‫حسن‪ ،‬حامد حسن قادری‪ ،‬موالنا امتیاز علی عرشی‪ ،‬شیخ محمد اکرام‪ ،‬نصیرالدین ہاشمی‪،‬‬
‫مالک رام اور مسعود حسین خان رضوی ادیب وغیرہ چند ایسے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنے‬
‫اپنے دائرہ کار میں تحقیق کی ذمہ داری نبھ اتے ہوئے زبان وادب کے بے شمار مخفی‬
‫گوشوں کے بے نقاب کیا اور اردو تحقیق کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ان علمائے ادب کی‬
‫تحقیقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ہے کہ آزادی سے قبل کی ربع صدی کو ادبی‬
‫تحقیق کے ارتقاء میں زرین دور شمار کیا گی ا۔اس عہد میں اردو ادب کی تاریخ میں بعض بنیادی‬
‫اضافے ہوئے اورہمارے چوٹی کے محققین نے اردو تحقیق کو اعتبار بخشا۔ ان میں سے‬
‫اکثر محققین کی تحقیق کا دائرہ کار آزادی کے بعد تک جاری رہا۔‬

‫ڈاکٹر محی الدین قادری زور| نے ترتیب متن اور مخطوطات شناسی کے فن ک و خاص رواج دیا‬
‫اور قلمی کتابوں کی فہرست سازی سے زیادہ مخطوطات کی توضیحات پر توجہ دی۔مخطوطات‬
‫شناسی ایک مشکل اور دقت طلب فن ہے۔ترقیمے پڑھنا‪ ،‬داخلی اور خارجی شواہد سے نتائج‬
‫اخذ کرنا اور حوالوں سے تصنیف اور صاحب تصنیف کے نام اور عہد کی باذیافت ایسا عمل‬
‫ہے جس میں محققانہ ذہن کی کارفرمائی ہوتی ہے۔بقول ِ آفتاب احمد آفاقی ‪:‬‬

‫“زور ؔنے مغربی ادب و تنقید اور اصول تحقیق سے استفادہ کیا ہے اور اردو میں قدیم‬
‫مخطوطات کی ترتیب و تدوین اور ادباء و شعراء کے حاالت کی بازیافت میں ان اصولوں کو‬
‫برتا ہے۔”(‪) 4‬‬

‫ڈاکٹر زور کی کتابوں میں ” اردو شہ پارے ” اور “ کلیات قلی کتب شاہ “ کی ترتیب بڑی اہم ہیں۔‬

‫اردو تحقیق کی دنیا میں قاضی عبدالودود سب سے زیادہ محتاط محقق تسلیم کئے جاتے ہیں‬
‫اور ان کے کاموں کو ‘ خالص تحقیق’ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے بقو ِل آفتاب احمد آفاقی ‪:‬‬
‫“ واقعہ یہ ہ ے کہ اردو تحقیق میں احتیاط پسندی اور مضبوط دلیلوں اور دعوؤں کی بنیاد پر‬
‫وصف خاص ہے۔ان اوصاف کی بناپر‬
‫ِ‬ ‫نتیجہ اخذ کرنے کی روش قاضی صاحب کی تحقیق کا‬
‫گیان چند جین انہیں بت شکن محقق اور رشید حسن خان’ معلم ثانی’ کہتے ہیں۔ “(‪) 5‬‬

‫سوال نمبر ‪ :2‬اسباق کی تیاری کی اہمیت اور تیاری کے تقاضے بیان کریں؟‬

‫بچہ استاد کیلئے بذات خودایک ایسا سبق ہے جس کی تیاری اسے ہر لحظہ درکار ہے چہ جائیکہ مقرر‬
‫کردہ نصاب کے مطابق روزانہ کی تدریس کیلئے سبق کی منصوبہ بندی کرنا۔‬

‫ب علم اور نصاب پر مشتمل ہے۔ہر جسم اپنے مرکز کی بناءپر متوازن رہتا‬
‫تعلم کی مثلث استاد‪،‬طال ِ‬
‫ہے۔تعلیمی عمل میں بچے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جس کے گرد تدریسی عمل کا پہیہ گھومتا ہے۔‬

‫ایسی تدریس جو طالب علم کے رجحانات اور میالنات کے تقاضوں کو پورا کر سکے وہی معاشرتی‬
‫ارتقاءمیں بھی ممد ہو گی۔جیسا کہ جان ڈیوی کے خیال میں۔"تعلیم ایک معاشرتی عمل ہے اور معاشرے‬
‫کے ارتقاءمیں معاون ہے اس لئے تعلیم کو معاشرے سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور تعلم میں معاشرتی‬
‫"رجحانات کی شمولیت از حد ضروری ہے۔‬

‫تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرتی زندگی بچے کیلئے وہ میدان ہے جہاں اس کو اپنی صالحیتوں کا‬
‫اظہار کرکے معاشرتی اکائیوں میناپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی اور معاشرے کی ضروریات کو پورا‬
‫کرنااس کا مقصد ہوتا ہے۔لہٰ ذا ایسی تعلیم مفید ہے جو بچے کی معاشرتی زندگی میں اہم کردار ادا کرے۔‬

‫سر سید کے خیال کے مطابق۔"کسی شخص کو تعلیم دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی فطری صالحیتوں‬
‫کا تجزیہ کر کے اس کو صحیح راستہ پر ڈاال جائے۔تعلیم دینا درحقیقت کسی چیز کا باہر سے ڈالنا نہیں‬
‫بلکہ بچے میں کائنات و فطرت کی سمجھ کے ساتھ ساتھ بصارت بھی پیداکرنا ہے اور اسے اس قابل‬
‫"بنانا ہے کہ وہ زندگی میں اپنی مخفی صالحیتوں کو اجاگر کر سکے۔‬
‫لہٰ ذا تعلیم کے یہ مقاصد حاصل کرنے کیلئے تدریس میں سبق کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔استاد‬
‫کیلئے سبق کا ازبر ہونا سبق کی تیاری تو کہا جا سکتا ہے لیکن ایسا الئحہ عمل اختیار کرناجس کے‬
‫ذریعے سبق نہ صرف طلبہ کو واضح طور پر سمجھ آجائے اور ذہن نشین ہو جائے بلکہ متعلقہ عنوان‬
‫کی استعداد بھی پیدا ہو‪،‬سبق کی منصوبہ بندی کہالئے گا۔‬

‫بارآور تعلم کیلئے سبق کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔سبق کی منصوبہ بندی کی کیا اہمیت اور فوائد‬
‫ہیں ۔ذیل میں اس کا اجمالی خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔‬

‫‪:‬مقصد کا تعین)‪(1‬‬
‫سبق کی منصوبہ بندی سے سبق کا مقصد واضح ہو جاتا ہے اور استاد گم گشتہ گلیوں میں گھومنے کی‬
‫پر رہ کر متعین مقاصد کو حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے۔)‪ (Track‬بجائے اپنے ٹریک‬
‫اور تدریس کے مقاصد کو حاصل کر لینا ہی کامیاب تعلم کی عالمت ہے۔‬

‫‪:‬خود اعتمادی)‪(2‬‬
‫دوران تدریس آمدہ تدریسی مشکالت کااندازہ لگا کر ان کا حل تالش‬
‫ِ‬ ‫سبق کی منصوبہ بندی سے استاد‬
‫کر لیتا ہے جس سے وہ طلباءکے ا ذہان میں اُٹھنے والے سواالت کا خود اعتمادی سے جواب دے سکتا‬
‫ہے اور سبق سے متعلقہ ابہام کا بھی ازالہ کر سکتا ہے۔سبق سے متعلقہ امور پر غور و فکر کرتا ہے‬
‫اور غیر متعلقہ چیزوں سے اجتناب کرتا ہے۔‬

‫‪:‬تدریسی معاونات کی تیاری)‪(3‬‬


‫ٔانسان مشاہدے سے بہتر طور پر سیکھتا ہے۔جیسا کہ ارشادِباری ہے" تمہارے رب کی طرف سے‬
‫تمہارے پاس بصیرت افروز دالئل آ گئے ہیں اب جس نے آنکھ کھول کر دیکھا اس نے اپنا بھال کیا اور‬
‫جو اندھا بن گیا اس نے اپنا نقصان کیا اور میں تمہارا نگہبان نہینہوں"(سورہ انعام آیت ‪)104‬۔۔۔قرآن نے‬
‫بھی اسی لئے کائنات میں غورو فکرکی دعوت دی ہے۔سمعی بصری معاونات کا استعمال بچوں کیلئے‬
‫سیکھنے میں کافی مدد گار ہوتا ہے۔ سبق کی منصوبہ بندی کا یہ فائدہ ہے کہ پیش کیے جانے والے سبق‬
‫کے لئے سمعی بصری معاونات تیار کر لیتا ہے۔‬
‫‪:‬اسباق میں ربط)‪(4‬‬
‫سبق کی منصوبہ بندی سے تدریسی عمل میں تسلسل برقرار رہتا ہے۔کالس ٹیچر کی غیر موجودگی‬
‫مینمتبادل استاد آسانی سے سبق پڑھا سکتا ہے۔اور اس طر ح طلباءکے وقت کا ضیاع نہیں ہوتا۔‬

‫‪:‬تخیل اور اختراع)‪(5‬‬


‫دیے گئے نصاب کو ہو بہو َرٹا دینے سے تعلیم کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لہٰ ذا ضروری ہے کہ‬
‫نصاب کی حدود میں رہ کربچے میں متعلقہ عنوان کے بارے میں استعداد پیدا کی جائے۔استاد اپنی سوچ‬
‫کا گھوڑا دوڑا کر نئی سرگرمیاں متعارف کروا سکتا ہے۔تاکہ بچے سبق کو جلدی سمجھ سکیں ۔جائزے‬
‫کیلئے ایسے سواالت تیار کر سکتا ہے جس سے ان کے فہم کا ادراک ہو۔ سبق کے اہم نکات کی نشاندہی‬
‫کرسکتا ہے تاکہ بچوں کو سبق کا مقصد سمجھا سکے۔‬

‫ت پنجاب نے‬
‫اساتذہ خودبھی سبق کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں ۔عالوہ ازیں محکمہ تعلیم حکوم ِ‬
‫پرائمری تک ٹیچر گائیڈز مہیا کی ہیں ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔‬

‫سوال نمبر ‪ :3‬سننا اور بولنا سکھانے میں سمعی و بصری معاونات کی اہمیت بیان کریں؟‬

‫سماعت کا اسالمی نظریہ‬


‫تعالی کی عطاکرد ہ بیش بہا نعمتوں میں سے ایک انمول نعمت ہے۔ قرآن مجید‬
‫ٰ‬ ‫قوت سماعت انسان کو ہللا‬
‫میں سمع و بصر یعنی سننا اور دیکھنا کا ذکر ‪ 19‬جگہوں پر کیا گیاہے‪ ،‬جن میں سے ‪ 17‬مواقع پر سمع‬
‫کا ذکر بصر سے پہلے آیا ہے ۔غور سے سننے اور سمجھنے کی بات سورہ فرقان میں سختی سے کہی‬
‫گئی ہے’’کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی‬
‫طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے‘‘۔ اگرچہ انسان کو احسن تقویم اور اشرف المخلوقات قرار دیا‬
‫گیا ہے لیکن الپروائی سے سننے والوں کو جانور قرار دیا گیا ہے۔ اگر ہم سنتے اور سمجھتے نہیں تو‬
‫تعالی کے ہاں جانوروں جیسی بلکہ ان‬
‫ٰ‬ ‫اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود ہماری حیثیت ہللا تبارک و‬
‫سے بھی بدتر ہوگی۔ یہ کیفیت اگرمسلسل رواں رہے تب انسان کے سوچنے سمجھنے کی صالحیت بھی‬
‫سلب ہو جاتی ہے۔ بالفاظ دیگر کانوں پر مہر لگا دی جاتی ہے کہ ہدایت کی کوئی بات نہ سنتے‪،‬‬
‫سمجھتے ہیں اور نہ ہی عمل کی توفیق ہوتی ہے۔ موثر سماعت اور تعمیر شخصیت کے اصول اور‬
‫کورسس مغرب نے آج وضع و مرتب کئے ہیں جب کہ مسلمانوں کو یہ تعلیمات قرآن اور سیرت النبی‬
‫صلی ہللا علیہ وسلم کی صورت میں چودہ سو سال قبل ہی فراہم کی جاچکی ہیں۔آپ صلی ہللا علیہ وسلم‬
‫نے اپنے اسوہ مبارک کے ذریعے ہمارے سامنے دنیا کے سب بہترین سامع ہونے کا مثالی نمونہ پیش‬
‫کیا ہے۔ احادیث اور سیرت النبی صلی ہللا علیہ وسلم کے مطالعے سے بھی ہمیں سماعت کی اہمیت کا پتا‬
‫چلتا ہے’’ صحابہ کرام مجلس نبوی میں اس طرح بیٹھتے تھے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے ہیں جو‬
‫ہلنے سے اُڑ جائیں گے۔‘‘لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اچھی سماعت ایک پیغمبرانہ خوبی ہے۔‬
‫سماعت کی نفسیاتی تعریف‬
‫آواز کو سننے‪،‬اس کی درجہ بندی ‪ ،‬تسلسل سے ترتیب دینا‪،‬بامعنی اور مہمل آوازوں کے مابین فرق کو‬
‫سمجھنا اور اس کے معنی و مفہوم کو اخذ کرنا سماعت کہالتا ہے۔باالفاظ دیگرپیغام کو وصول‬
‫کرنا‪،‬تشریح کرنااور اس پرردعمل پیش کر نا سنناکہالتا ہے۔سننا ابالغی و ترسیلی عمل کا ایک اہم جز‬
‫ہے۔آواز کو محسوس کرنا‪،‬پیغام کو اخذکرنا‪،‬اس کی تشریح اور اس پر رد عمل کا اظہار سننے کے عمل‬
‫میں شامل ہے۔ دیگر اکتسابی صالحیتوں کی طرح بچوں میں سماعت( سننے )کی عادت و مہارت کے‬
‫سیکھنے کا آغاز بھی گھر سے ہوتا ہے۔اساتذہ اپنی سعی و کاوش سے بہتر اور عمدہ ماحول فراہم کرتے‬
‫ہوئے نہ صرف اس صالحیت کو تیزی سے پروان چڑھا سکتے ہیں بلکہ اسکول انتظامیہ کی مدد سے‬
‫موثر سماعت کی عادات کے فروغ میں مانع عوامل پر قابو بھی پاسکتے ہیں۔بچوں کے لئے اوائل‬
‫عمری سے ہی سماعت( سننے) کی بہتر تربیت کا اہتمام ضروری ہے۔ اچھی سماعت کی عادت بہتر‬
‫اکتساب اور موثر گفتگو میں کلیدی کردارادا کرتی ہے۔ گردو پیش میں بکھری وسیع معلومات کے‬
‫حصول میں اکتساب سے مربوط اہم مہارتوں سے العلمی یا سیکھنے میں تساہل اور بے پروائی کی وجہ‬
‫سے طلبہ اکثر اپنی بہتر صالحیتوں کو پیش کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔بحیثیت استاد جب آپ محتاط‬
‫طریقوں سے طلبہ کی صالحیتوں کے فرو غ کے لئے کوشاں ہیں تو الزماًدیگر اہم مہارتوں کے ساتھ‬
‫آپ انھیں موثر طریقے سے سماعت کی( سننے کی) عادت و مہارت سے بھی متصف کرنا ہوگا۔ اساتذہ‬
‫اکتسابی سہولتوں‪،‬وسائل اور مواقعوں سے استفادہ کرتے ہوئے سماعت(سننے) کی صالحیت کو نہ‬
‫صرف صیقل کرسکتے ہیں بلکہ اکتساب اور گفتگو کی صالحیتوں کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ سماعت‬
‫ایک مہارت ‪،‬فن اور ایسی جادوئی عادت ہے جو آدمی کو ہرکام میں سکون‪ ،‬اطمینان‪،‬آسودگی اور‬
‫کے ایک )‪(Wilga Rivers‬کامیابی فراہم کرتی ہے۔سماعت کی اہمیت و افادیت کا اندازہ ولگاریورس‬
‫قول سے ہوتا ہے’’ جب ہم بات کرتے ہیں تو اسے دومرتبہ سنتے ہیں اگر پڑھتے ہیں تو چار مرتبہ اور‬
‫لکھتے ہیں تو اسے پانچ مرتبہ سنتے ہیں‘‘۔ولگا ریورس کے قول کی روشنی میں طلبہ کوسمعی‬
‫مہارتوں کی تدریس کی اشد ضرورت ہے تاکہ موثر اکتساب کویقینی بنایا جاسکے۔اساتذہ اگر سماعت کا‬
‫مادہ بچوں میں پیدا نہیں کریں گے تب کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ان کی تدریس بے اثر‪ ،‬اکتا دینے‬
‫)‪(Listening‬والی ‪،‬بوریت سے لیس ‪ ،‬بے کیف اور ناپسندیدہ ہوکر رہ جائے گی۔سننا‬
‫تدریس کی چار بنیادی )‪ (LSRW‬یعنی )‪ (Writing‬اور لکھنا )‪،(Reading‬پڑھنا)‪،(Speaking‬بولنا‬
‫مہارتیں ہیں۔بچہ جس ماحول میں پرورش پاتا ہے اسی ماحول کے زیر اثر اس کی سمعی صالحیتیں‬
‫پروان چڑھتی ہیں۔بولنا‪،‬پڑھنا اور لکھنا جیسی تدریسی بنیادی صالحیتوں کا انحصار سماعت کی‬
‫صالحیت پر ہوتا ہے۔‬
‫سماعت صرف کانوں کو کھال رکھنے اور سننے کا نام نہیں بلکہ صحت کے ساتھ سننے اور اس کے‬
‫مناسب ادراک و فہم کا نام ہے۔بہتر سماعت کی صالحیت نہ صرف طلبہ کے لئے ضروری ہے بلکہ‬
‫ایک اچھے انسان‪،‬استاد‪،‬منتظم‪،‬مہتمم اور رہنماکے لئے بھی اسے منظم طریقے سے سیکھنے کی‬
‫کو ایک ہی معنی میں استعمال ‪ Listening‬اور‪ Hearing‬ضرورت ہے۔ عموماًلوگ انگریزی کے الفاظ‬
‫کا مطلبہوتا ہے صرف سننا مگر‪Hearing‬کرتے ہیں مگر ان میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔‬
‫کامطلب صرف ‪Hearing‬کا مطلب ہے بات سننے کے ساتھ ساتھ سمجھنا۔ باالفاظ دیگر‪Listening‬‬
‫‪(Hearing‬عام سماعت )‪(Listening‬کا مطلب مو ثر سماعت ہے۔موثر سماعت‪Listening‬سماعت اور‬
‫عام سننے)سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔عام طور پرموثرسماعت(شعوری سماعت‪،‬تفہیمی سماعت) اور‬
‫عام سماعت(غیر شعوری سماعت )ایک دوسرے سے باہم مربوط ہوتی ہیں اور اکثر دونوں کو ایک‬
‫جیسا ہی تصور کیا جاتا ہے جب کہ دونوں کے درمیان نمایاں طورپر قابل فہم اور لطیف فرق پایا جاتا‬
‫شعوری و غیر )‪ (Transmission‬ہے۔ دماغ تک مختلف ذرائع سے پیدا شدہ آوازں کی قبولیت و ترسیل‬
‫کوکہتے ہیں )‪(Hearing‬شعوری طور پر لہروں کی شکل میں ہوتی رہتی ہے۔سنناغیر شعوری سماعت‬
‫اور جب دماغ شعوری طور پر صداؤں کی شنوائی میں معنی و مقصد شامل کرلیتا ہے تو اسے موثر(‬
‫کا بیان دونوں )‪(Harold Janis‬کہاجاتا ہے۔ہارولڈ جانیس)‪Listening‬شعوری سماعت یاتفہیمی سماعت‬
‫سماعتوں کے مابین بہتر تفریق کرتا ہے ’’ موثر یاشعوری سماعت عام سننے کا نام نہیں ہے یہ آوازوں‬
‫کی قبولیت کی اس سطح کا نام ہے جس میں فہم و ادراک کا کام انجام پاتا ہے اور سامع اورمتکلم دونو ں‬
‫‪ (Listening is not merely hearing,it is a state‬بھی تبادلہ خیال میں برابر کے شریک رہتے ہیں۔‬
‫‪of receptivity that permits understanding of what is heard and grants the listener‬‬
‫اسی لئے شعوری طور پر )‪full partnership in the communication process.Harlod Janis‬‬
‫سننا اسے کہتے ہیں جس میں موصول کرد ہ سمعی آوازوں میں مقصد ‪،‬مطلب و معنی کا رنگ شامل‬
‫ہو۔عام سننا موثر و شعوری سماعت میں اس وقت تبدیل ہوجاتا ہے جب اس میں مقصد و معنویت کا پہلو‬
‫شامل ہوجاتا ہے۔ ماسوابہروں کے سماعت ایک قدرتی صالحیت ہے لیکن بات ا ور سمعی آوازوں کو‬
‫سمجھنے کے لئے غور سے سننا ضروری ہوتا ہے۔ سماعت اس وقت موثرہو جاتی ہے جب اس کے‬
‫اغراض و مقاصد مخصوصں ومعتین ہوں۔ جب کسی گفتگویا بات چیت کامطلب نہ سمجھاجاسکے تب‬
‫سماعت کا عمل بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔بات چیت کے مفہوم کو سمجھناانسان کی اپنی فہم و فراست‬
‫پر منحصر ہوتا ہے۔فہم اور سماعت دونوں مہارتوں کا ایک دوسرے پرانحصار ہوتا ہے اسی لئے یہ‬
‫بہت ضروری ہے کہ بولنے والے کے کالم کو نہ صرف توجہ سے سنا جائے بلکہ اس سے مفہوم بھی‬
‫اخذ کیا جائے۔مفہوم کا اخذ و حصول‪ ،‬سماعت کا الزمی حصہ ہوتا ہے۔طلبہ میں باشعور وموثر سماعت‬
‫کی عادت کے فروغ کے ذریعے دو گراں قدر اوصاف جاگزیں کئے جاسکتے ہیں۔‬
‫کے )‪ (Verbal Memory‬موثرسماعت طلبہ میں معلومات کے اضافے کے عالوہ زبانی یاداشت)‪(1‬‬
‫فروغ میں بھی ممد ومعاون ثابت ہوتی ہے۔‬
‫صحت مند شعوری سماعت انسان میں سلیقہ گفتگو پیدا کرتے ہوئے شخصیت کو چارچاند لگا دیتی )‪(2‬‬
‫ہے۔سلیقہ مند گفتگو کے لئے صحت مند شعوری سماعت بے حد ضروری تصور کی جاتی ہے۔بہتر‬
‫سماعت سے گفتگو میں سلیقہ اور تاثیر پیدا ہونے کی وجہ سے بین شخصی تعلقات میں بھی بہتری پیدا‬
‫ہوتی ہے۔‬
‫بچوں میں سننے کی ابتدا پیدائش کے بعد ہی ہوجاتی ہے۔ابتدا میں بچوں کا مسکرانا‪،‬ہنسنا اور‬
‫رونا‪،‬سننے کے ردعمل کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔اسکولی زندگی کے آغاز سے قبل ہی بچے آوازوں جیسے‬
‫افراد خاندان کی آوازیں‪،‬پڑوسیوں کی آوازیں‪،‬رشتہ داروں کی آوازیں‪،‬فقیروں‪،‬راہ گیروں‪،‬پھیری والے‬
‫کاروباری افراد کی آوازیں‪،‬دوکاندار‪،‬مداری وغیرہ کی آوازیں‪،‬مذہبی رسومات جیسے اذان‪،‬نماز‪،‬تالوت‬
‫‪،‬پوجا پاٹ وغیرہ کی آوازوں سے آشنا ہوجاتے ہیں۔حصول علم و اکتساب میں سننے کا عمل اساسی‬
‫اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔اسکول کی زندگی سے قبل بچے غیر شعوری طور پر تلفظ اور صوتیات سے‬
‫واقف ہوجاتے ہیں۔اسکول انہیں فہم و ادراک فراہم کرتا ہے۔سننے کا مطلب کانوں تک پہنچنے والی‬
‫ہربات نہیں ہے بلکہ صحت و فہم کے ساتھ سننے کو موثر سماعت کہاجاتا ہے۔سماعت زندگی بھر‬
‫سیکھنے کے عمل اور معنی خیز ابالغ و معاشرت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔گفتگو کے سلیقے اور‬
‫سماعت کے شعور کے لئے منظم تربیت و رہنمائی درکار ہوتی ہے۔سامع سمعی پیغامات سے مقاصد کا‬
‫استخراج اپنے سابقہ تجربات ‪،‬ذخیرہ علم و فہم اور شرح ارتکازسے کرتا ہے۔سماعت کا عمل ذہنی‬
‫اعتبار سے تین مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔‬
‫پیغامات کی ترسیل کرنے والی آوازوں کو وصول کرنا)‪(1‬‬
‫آواز سے پیداشدہ محرکہ پر توجہ مرکوز کرنا)‪(2‬‬
‫سمعی محرکہ کو معنویت عطا کرنا)‪(3‬‬

‫سوال نمبر ‪ :4‬پستالوزی طریقہ تدریس اور مانٹی سوری طریقہ تدریس کے اہم نکات پر مفصل نوٹ‬
‫لکھیں؟‬

‫اج ہر کوئی چاہتا ہے کہ اپنے بچوں کو مونٹیسوری طریقے کے تحت تعلیم دلوائےلیکن اکثریت‬
‫نہیں جانتی کہ یہ طریقہء تعلیم کب اورکہاں سے رائج ہوا‪ ،‬اسی لئےاج ہم ڈاکٹر ماریہ مونٹیسوری کی‬
‫کہانی بیان کرتے ہینجن کے نام پر یہ طریقہ ءتعلیم دنیا بھر میں رائج ہے۔‬

‫ماریہ مونٹیسوری ‪ 31‬اگست ‪1870‬ءکو اٹلی میں پیدا ہوئیں‪ ،‬ان کے والد ایک اکائونٹنٹ جبکہ والدہ تعلیم‬
‫یافتہ ہونے کےساتھ مطالعہ کی دلدادہ تھیں۔ ماریہ اپنے والدین کی اکلوتی اوالد تھیں‪ -‬جس ملک میں‬
‫عورت کو گھر کی زینت یا استانی کے عالوہ کسی اور روپ میں ڈھلنے کی اجازت نہیں تھی‪ ،‬وہاں‬
‫انھوننے اپنے وقت کے ماحول‪ ،‬نظام‪ ،‬روایات اور سب سے بڑھ کر اپنے والد کی سوچ کے خالف سب‬
‫سے بڑا جہاد کیا ۔ انھوں نے ‪26‬سال کی عمر میں اٹلی کی پہلی خاتوں ڈاکٹر بن کر دکھایا۔ انھیں ہر قدم‬
‫پرصنفی بنیادوں پر تعصب اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی انہوں نے ہار نہ مانی۔ ڈاکٹر‬
‫بننے کے بعد انھیں ذہنی طور پرمعذور بچوں کے ادارے میں مالزمت دے دی گئی‪ -‬جہاں انکی فطرت‬
‫میں چھپے انسانیت کے جذبے نے انھیں ان معذور بچوں پر تحقیق کی راہ دکھائی‪ -‬انھوں نے اس وقت‬
‫تک کے مشہور نفسیاتی معالجوں کی تحقیقات کا مطالعہ کیا اور ان میں سے دو فرانسیسی نفسیات دان‪،‬‬
‫‪-‬ڈاکٹر ژان اٹارڈ اور ایڈورڈ سیگن کے کام سے بہت متاثر ہوئیں‬

‫ڈاکٹر ژان اٹارڈ ذہنی طور پر معذور ‪ ،‬گونگے اور بہرے بچوں کے معالج تھے‪ ،‬جنھوں نے ایوران‬
‫نامی بچے کے عالج سے شہرت پائی‪ -‬یہ بچہ کئی سال اکیال جنگالت میں زندگی گزارتا )‪(Averon‬‬
‫پایا گیاتھا‪ ،‬اٹارڈ نے اسے انسانی ماحول اور طرز زندگی سکھانے پر کئی سال صرف کیے‪ -‬ایڈورڈ‬
‫سیگن نابینا لوگوں اور ذہنی معذور بچوں کے معالج تھے‪ -‬انہوں نے بچوں کو ‪ 11‬سے ‪19‬اور‪ 21‬سے‬
‫‪ 99‬تک گنتی سکھانے کے لئے دو بورڈ تخلیق کیے جنھیں ماریہ مونٹیسوری نے اپنے مونٹیسوری‬
‫مٹیریل میں شامل کر لیا اور جسے اج ایک سو پینتیس سال بعد بھی اسی طریقے سے مونٹیسوری کے‬
‫تعلیمی نظام میں استعمال کیا جاتا ہے‪ -‬ڈاکٹر مونٹیسوری کی انتھک اور مسلسل محنت کا نتیجہ یہ نکال‬
‫کہ ذہنی طور پر معذور‪ ،‬نابینا اور گونگے بہرے بچوں کا رزلٹ نارمل بچوں کے برابر ایا‪ ،‬جس سے‬
‫ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر معذور بچوں کا ذہنی معیار یہ ہے تو پھر نارمل بچے اس سے‬
‫بھی زیادہ بہترین نتائج دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے ان منفی عوامل پر تحقیق شروع کی جو‬
‫نارمل بچوں کی تعلیم و تربیت پر اثر انداز ہو رہے تھے‪ -‬ان کی تحقیق سے اس وقت بہت اختالف کیا‬
‫گیااور با الخر انھیناکیلے ہی تحقیق پر کام کرنا پڑا‪ -‬ماریہ مونٹیسوری دنیا کی واحد خاتون ہیں جنہوں‬
‫نے بچوں کی سوچ اور مزاج کے مطابق انکی الگ دنیا بنانے کا خیال پیش کیااور اس پر عمل بھی کیا۔‬
‫‪1907‬ءمیں‪37‬سال کی عمر میں دنیا کے پہلے’’بچوں کے گھر‘‘کی بنیاد رکھی‪ -‬انہوں نے اٹلی کے‬
‫ایک بہت ہی پسماندہ عالقے میں‪ ،‬غریب اور مفلوک الحال گھرانوں کے بچوں کے لئے(جن کے ماں‬
‫باپ دو وقت کی روٹی کے لئے مالزمتیں کرتے اور بچوں کو اکیال چھوڑ جاتے تھے) بہترین صفائی‬
‫ستھرائی اور تہذیب یافتہ ماحول فراہم کیا‪ -‬وہاں بچوں کے نہانے‪ ،‬بال بنانے‪ ،‬صاف کپڑے پہننے اور‬
‫میز پر ادب سے بیٹھ کر امراء کے بچوں کی طرح کھانا کھانے کے تمام انتظامات موجود تھے‪ -‬بچوں‬
‫کو ہر قسم کی ازادی تھی اور کوئی روک ٹوک نہ تھی‪ -‬انکی قدرتی یا فطرت کے مطابق تعلیم کے لئے‬
‫‪-‬ڈاکٹرماریہ مونٹیسوری نے مختلف مٹیریل بھی ترتیب دیے‬

‫مونٹیسوری طریقہء تعلیم کیا ہے ؟‬

‫مونٹیسوری طریقہء تعلیم میں ٹیچر بچوں کے سامنے کھڑے ہوکر پڑھانے کے بجائے ان کے ساتھ مل‬
‫کر اور ان میں شامل ہوکر انھیں ایک مرتب کردہ طریقے کے مطابق کھیل اور دیگر مشاغل میں‬
‫مصروف رکھتا ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ بچوں کو خود حرکت و عمل(ایکٹیویٹی) کا موقع دیا‬
‫جائے اور انھیں ان کے اپنے ماحول کے مطابق کھیل‪ ،‬کھلونوں اور دیگر معاون اشیاء سے’’سیکھنے‘‘‬
‫کا موقع فراہم کیا جائے۔ مونٹیسوری طریقہء تعلیم کے مطابق بچوں کو رٹا نہیں لگوایا جاتابلکہ ان کو ہر‬
‫چیز ذہن نشین کروائی جاتی ہے۔ ہر چیز کو تین حصوں میں تقسیم کردیا جاتاہے۔‬

‫پہال سبق‪ :‬چیز‪ ،‬فعل یا صفت کا نام بتانا اور یاداشت کو قائم کرنا‬
‫دوسرا سبق‪ :‬یاداشت کو دہرانا‬

‫تیسرا سبق‪ :‬یاداشت کو جانچنا‬

‫طریقہ کار کی خصوصیات یا احتیاط ذیل میں درج ہیں‬


‫ٔ‬ ‫اس‬

‫۔ چھوٹے بچے کا ذہن متضاد اشیاء کو جلدی جذب کرتا ہے‪ -‬اسے جو بھی چیزیں یا صفت متعارف ‪1‬‬
‫کرائی جائے وہ ایک دوسرے کے برعکس یا متضاد ہوں‪ -‬مثال کے طور پر سرخ رنگ کے ساتھ گالبی‬
‫یا نارنجی رنگ سکھانے سے بہتر ہے کہ نیال یا پیال رنگ سکھایا جائے‪ -‬مثال کے طور پر بنگلہ دیش‬
‫اور جاپان کا جھنڈا ایک جیسے ڈیزائن کا ہے جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے جھنڈوں کے رنگ‬
‫ایک جیسے ہیں‪ ،‬توبچے کے لئے پاکستان اور جاپان کے جھنڈے کے بارے میں سیکھنا اسان ہوگا‬
‫‪-‬کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے رنگ اور ڈیزائن میں فرق رکھتے ہیں‬

‫‪-‬۔ شروع میں صرف دو یا تین چیزیں یا خصوصیات متعارف کرائی جائیں‪2‬‬

‫۔ ایک وقت میں کسی بھی چیز کی بس ایک ہی معلومات فراہم کی جائے مثالً چھوٹا اور بڑا‪ ،‬ہلکا اور ‪3‬‬
‫‪-‬بھاری‪ ،‬وغیرہ‬

‫طریقہ کار کے دوسرے سبق کو وہاں سے شروع کریں جہاں پہ پہال سبق ختم ہوا تھا اور تیسرے ‪4‬‬
‫ٔ‬ ‫۔ اس‬
‫سبق کو وہاں سے شروع کریں جہاں دوسرا سبق ختم ہوا تھا‪ -‬یہ بالکل اسی طرح کا عمل ہے جیسے اگر‬
‫‪-‬کوئی چیز کھو جائے تو ڈھونڈنے کا سلسلہ اخری یادداشت سے ہی شروع کیا جاتا ہے‬

‫‪-‬۔ ٹیچر اپنے لہجے کو سکھانے کےانداز میں ڈھالے‪5‬‬

‫چناو کرنا چاہیے‪6‬‬


‫‪-‬۔ٹیچر کو ضرورت کے مطابق الفاظ اور حرکات کا ٔ‬
‫سوال نمبر ‪ :5‬صحافتی محضر کی تدریس کو تفصیل سے بیان کریں؟‬

‫اگر آپ تحقیقاتی صحافت کرنے بارے طریقہ کار اور رہنما اصول جاننا چاہتے ہیں تو نیچے دی گئی‬
‫گائیڈز اسی کے متعلق ہیں جن میں دنیا بھر میں ہونیوالی اعلی قسم کی تحقیقاتی صحافت کی مثالیں دی‬
‫گئی ہیں۔ زیادہ تر مواد مفت میں دستیاب ہے۔‬

‫تحقیقاتی صحافت‬

‫جدید تحقیقاتی صحافت ‪ :‬اسے مارک لی ہنٹر‪ ،‬لیوک سینجرز اورمارکس لنڈیمن نے لکھا ہے اسکے‬
‫بارے کہا جاتا ہے کہ یہ ایسی نصابی کتاب ہے ” جو اس سے آگے کی بات کرتی ہے کہ ‘کیا پڑھایا‬
‫جائے’ یہ اساتذہ کی اس بارے راہنمائی کرتی ہے کہ کیسے پڑھایا جائے اس ضمن میں طالبعلموں‬
‫کیطرف سے پوچھے جانیوالے ممکنہ سواالت (اور انکے جوابات) بھی دئیے گئے ہیں اور ساتھ میں‬
‫کالس کے دوران کرائی جانے والی مشقیں اور گھر کیلئے کام بارے مواد بھی دیا ہوا ہے اس سارے‬
‫عمل کا مقصد انکی تخلیقی صالحیتوں کو جال بخشنا ہے” ان مصنفین نے پہلے حاصل معلومات کی‬
‫بنیاد پر تحقیقات بارے بھی ایک کتاب لکھی ہے‬

‫اس بارے مصنفین کیطرف سے ‪ 2019‬کی بین االقوامی کانفرنس برائے تحقیقاتی صحافت میں پیش کئے‬
‫گئے کام کی سالئیڈیں بھی دیکھ سکتے ہیں‬

‫کتابچہ برائے تحقیقاتی صحافت‪ :‬اس کارآمد مسودے کا آغاز افریقی صحافیوں کے لئے ایک دستی گائیڈ‬
‫کے طور پر ہوا تھا جو ایک جرمن فاؤنڈیشن کونراڈ اڈناؤر اسٹیفنگ نے شائع کیا تھا اس کا تازہ ترین‬
‫ایڈیشن دُنیا بھر کے صحافیوں لئے تیار کیا گیا ہے بالخصوص انکے لئے جن کا واسطہ میڈیا کے سخت‬
‫قوانین‪ ،‬عدم شفافیت اور محدود وسائل سے ہے‬

‫اصل مسئلے کی تہہ تک کیسے پہنچا جائے؟ اس بارے بالکان کے خطے میں کام کرنیوالے صحافیوں‬
‫کی راہنمائی کیلئے ایک گائیڈ برائے فروخت دستیاب ہے اس میں بالکان کے نیٹ ورک برائے تحقیقاتی‬
‫صحافت نے یہ گائیڈ تیار کرتے ہوئے اس بات پر خصوصی توجہ دی ہے کہ خطے کے مختلف ممالک‬
‫میں کام کرنے والے رپورٹروں کی اس بارے بالخصوص راہنمائی کی جائے کہ مطلوبہ ریکارڈ اور ڈیٹا‬
‫تک رسائی کو کیسے ممکن بنایا جائے‬

‫کولمبیا یونیورسٹی (نیو یارک) کے اسٹیبائل سنٹر برائے تحقیقاتی صحافت کی ڈائریکٹر اور مذکورہ باال‬
‫گائیڈ کی مصنف شیال کورونیل نے تحقیقاتی رپورٹنگ کے متعلق اہم باتیں شئیر کی ہیں‬
‫پہال باب مفت میں پڑھنے کو دستیاب ہے آپ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں‬

‫ڈری بوچ ڈیر ریچارے (تحقیقات کے لئے خاکہ)‪ :‬اسے مارک لی ہنٹر اور لوؤک سینجرز نے تحریر کیا‬
‫اور جرمن ُزبان میں نیٹزورک ریچری نے شائع کیا۔‬

‫سچ کو بے نقاب کرنا‪ :‬البانیہ میں تحقیقاتی رپورٹنگ کرنے والوں کیلئے گائیڈ‬
‫‪ 73‬صفحات پر مشتمل اس کتابچے میں تحقیقاتی صحافت کی بہترین مثالوں کے عالوہ آزمودہ طریقہ‬
‫کار بارے بتایا گیا ہے اسے او ایس سی ای اور بالکان کے نیٹ ورک برائے تحقیقاتی رپورٹنگ نیٹ‬
‫ورک نے البانی اور انگریزی زبان میں شائع کیا ہے‬

‫لیوک سینجرز اور مارک لی ہنٹر کی ‪ 2019‬کی کتاب‪’’ ،‬پوشیدہ منظر نامہ‘‘ اس بات پر توجہ مرکوز‬
‫کرتی ہے کہ کس طرح منظر نامہ بنانے سے آپ کو تفتیش میں مدد مل سکتی ہے۔ تحقیقاتی صحافت‬
‫کے مرکز سے خریداری کے لئے دستیاب ہے۔‬

‫پیسے کا پیچھا کرنا‪ :‬بدعنوانی کا کھوج لگانے بارے ڈیجیٹل ہدایت نامہ‬
‫یہ مفت کتابچہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس نے انگریزی‪ ،‬روسی اور جارجیائی زبان میں شائع کیا ہے‬

‫عالمی تحقیقاتی صحافت پر کیس بک‪ :‬یہ کیس بک اسٹوری پر مبنی تحقیقات بارے کتابچہ کے ساتھ‬
‫دستیاب ہے (نیچے مالحظہ کریں) اس میں مختلف تحقیقاتی مضامین شائع کئے گئے ہیں اور وہ بھی‬
‫باقاعدہ پس منظر کیساتھ کہ کسطرح متعلقہ رپورٹروں نے معلومات اکٹھی کیں اور انہیں تحریری شکل‬
‫میں الئے یہ انگریزی زبان میں دستیاب ہے‬
‫عالمی تحقیقاتی صحافت کے فروغ بارے حکمت عملی‪ :‬جی آئی جے این کے ڈیوڈ ای کپلن نے تحقیقاتی‬
‫صحافت کے عالمی سطح پر فروغ بارے میں ایک سروے ُمرتب کیا ہے جس میں تحقیقاتی صحافت کے‬
‫لیے مالی اعانت کے ذرائع کے عالوہ دنیا بھر کے صحافیوں کے لئے رہنما اصول بھی شامل ہیں۔‬
‫اسکی اشاعت مرکز برائے معاونت بین االقوامی میڈیا نے انگریزی زبان میں کی‬

‫شہریوں کے لیے گائیڈ‪ :‬جی آئی جے این کی یہ گائیڈ ‪ 2019‬میں تیار کی گئی اور اسکا مقصد عام‬
‫شہریوں کی تحقیقاتی صحافت کرنے بارے راہنمائی کرنا ہے‬

‫تحقیقاتی صحافت کے لئے گائیڈ‪:‬‬


‫‪ 2007‬میں امریکی پبلک براڈکاسٹنگ سروس کے ذریعہ چلنے والی اس سیریز میں‬
‫ایک رپورٹر بتاتا ہے کہ کسطرح ایک اسٹوری کا انتحاب کیا جاتا ہے اور پھر تحقیقاتی انداز میں متعلقہ‬
‫لوگوں سے انٹرویوز کئے جاتے ہیں مطلوبہ اسناد کا کھوج اور حصول کو ممکن بنایا جاتا ہےاور اس‬
‫پر مبنی اسٹوری تیار کرکے شائع کی جاتی ہے یہ سیریز انگریزی زبان میں ہے‬

‫خفیہ منظر نامہ لوک سینجرز اور مارک لی ہنٹر نے تحریر کی ہے یہ تحقیقاتی صحافت کے مرکز سے‬
‫خریداری کے لئے انگریزی زبان میں دستیاب ہے اس کتابچہ میں بتایا گیا ہے کہ کسطرح کہانی سنانے‬
‫کا فن بروئے کار التے ہوئے مضمون کی ساخت اس انداز میں ترتیب دی جاتی ہے کہ اصل توجہ‬
‫تحقیقاتی صحافت پر رہے‬

‫تعارف برائے تحقیقاتی صحافت برانٹ ہیوسٹن (پوائنٹر نیوز یونیورسٹی) نے تحریر کی ہے اس آن الئن‬
‫کورس کی الگت ‪ 29.95‬امریکی ڈالر ہے۔‬

‫مذہبی امور پر تحقیق کیلئے گائیڈ ڈیبرا ایل میسن اور ایمی بی وائٹ نے تحریر کیا ہے۔ یہ آئی آر ای‬
‫کی ویب سائٹ پر خریداری کیلئے انگریزی زبان میں دستیاب ہے‬
‫کتابچہ برائے تحقیقاتی صحافت ‪ :‬اسکی اشاعت فورم برائے افریقی تحقیقاتی رپورٹرز نے کی ہے یہ‬
‫جامع گائیڈ افریقہ بھر سے کیس اسٹڈیز کے ساتھ صحت اور اخالقیات کے موضوعات پر رپورٹ کرنے‬
‫کے لیے ُمستند راہنمائی فراہم کرتا ہے یہ انگریزی ‪ ،‬فرانسیسی اور پرتگالی زبان میں دستیاب ہے‬

You might also like