Submitted by
Submitted by
SUBMITTED BY
عمارہ عباس
پروگرام :ایم اے
رول نمبر0000263773:
لفظ “ تحقیق ” عربی زبان کا مصدر ہے جس کا مادہ ‘حق ّق ،ی ُ َح ق ّ ُق ،ت َحقیقا ً سے ماخوذ ہے جو
باطل کی ضد ہے۔حق کا مطلب ْثابت کرنا ،ثبوت فراہم کرناہے۔
تحقیق کا کام حال کو بہتر بنانا ،مستقبل کو سنوارنا ،اور ماضی کی تاریکیوں کو روشنی عطا
کرنا ہے۔تحقیق کا ایک اہم کام گمشدہ دفینوں کو دریافت کرنا اور ماضی کی تاریکیوں کو دور
کرکے اسے روشنی عطا کرنا ہے۔بقول ِ سید عبدہللا:
“ تحقیق کے لغوی معنی کسی شے کی حقیقت کا اثبات ہے۔اصطالحا ً یہ ایک ایسے طرز
مطالعہ کا نام ہے جس میں موجود مواد کے صحیح یا غلط کو بعض مسلمات کی ر وشنی میں
پرکھا جاتا ہے۔تاریخی تحقیق میں کسی امر واقعہ کے وقوع کے امکان و انکار کی چھان بین
مد نظر ہوتی ہے۔”)( 1
تحقیق ماضی کی گمشدہ کڑیاں دریافت کرتی ہے اور تاریخی تسلسل کا فریضہ انجام دیتی ہے
اور ادب کو اس کے ارتقا کی صورت میں مربوط کرتی ہے۔تحقیق موجو د مواد کو مرتب کرتی
ہے ،اس کا تجزیہ کرتی ہے ،اس پر تنقید کرتی ہے اور پھر اس سے ہونے والے نتائج سے
آگاہ کرتی ہے۔مالک رام ادبی تحقیق کے حوالے سے رقمطراز ہیں :
“ تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے۔اس کا مادہ ‘ ح’ ۔ق۔ق’ جس کے معنی ہیں کھرے اور کھوٹے
کی چھان بین یا بات کی تصدیق کرنا۔دوسرے الفاظ میں تحقیق کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم
اپنے علم و ادب میں کھرے کو کھوٹے سے ،مغز کو چھلکے سے ،حق کو باطل سے الگ
کریں۔ انگریزی لفظ ” ریسرچ “ کے بھی یہی معنی اور مقاصد ہیں۔ “() 2
اردو میں خالص ادبی تحقیق کا آغازبیسو ی صدی کے اوائل میں ہوتا ہے۔اس سلسلے میں
مولوی عبدالحق ،حافظ محمود شیروانی ،قاضی عبدالودود ،امتیاز علی عرشی ،وغیرہ بزرگوں
نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اردو زبان و ادب میں صرف کیا اور اردو تحقیق کا معیار بلند کیا۔
بیسویں صدی میں تحقیقی روایت میں توسیع کرن ے والے ایک اہم بزرگ مولوی عبدالحق ہیں۔
مولوی عبدالحق کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ انہوں نے تحقیق ِ ادب کو ایک قومی نصب العین
کی طرح قبول کیا اور اسے عمر بھر جاری رکھا۔قدیم دکنی مخطوطوں کی تالش وصحت ان
کے بنیادی کاموں میں سے ہیں۔ دکن کے غیر دریافت ادب کو منظر عام پر الکر انہوں نے
معلوم ادبی تاریخ کی دنیا کی کایا پلٹ دی۔( ) 3نو دریافت کتابوں میں ان کے مبسوط مقدمے ،
ت متن سے مستقبل کی تنقید کی راہ ہموار ہوئی۔ ” معراج العاشقین” “ ،سب
حاشیے اور صح ِ
رس” “ ،قطب مشتری”اور “ علی نامہ” وغیرہ اسی سلسلے کی کتابیں ہی ں۔ ان کا مختصر وقیع
ٔٔ خذ کی حیثیت رکھتا ہے۔
مقالہ ” اردو کی نشونما میں علمائے کرام کا کام” بنیادی ما ٔ
اردو میں تحقیق کی باضابطہ ابتدا ء حافظ محمود شیرانی سے ہوتی ہے۔ وہ پہلے محقق ہیں
جنہوں نے تحقیق کے اصول پائیدار بنیادوں پر قائم کیے اور جدید مغربی اص ولوں کو رواج
ٔٔ خذ اور ذرائع سے
دیا۔انہوں نے حوالے درج کرنے میں ذمہ داری سے کام لیا اور مختلف ما ٔ
اخذ ہونے والی معلومات پر جرح و تعدیل اور احتساب کی صحت مند روایت قائم کی۔ساتھ ہی
منطقی اصولوں پر مبنی استدالل اور مغالطوں سے گریز تحقیق کار کے لیے ضروری ٹھہرایا۔
“ پنجاب میں اردو” “ ،تنقید آب حیات ” “ ،تنقید شعرالعجم” اور ” پرتھوی راج رسوا ” جیسی
اعلی ترین
ٰ کتابوں کے عالوہ بیشمار مقاالت میں ان کی تحقیقی ژرف نگاہی اور بصیرت کی
مثالیں موجود ہیں۔ داخلی اور خارجی شہادتوں کی یکساں اہمیت دینے والے اس اہم محقق کو
بجاطور پر تحقیق و تدوین کو معلم اول شمار کرکے شائع کئے۔
آزادی سے پہلے اردو کی اس تحقیقی روایت کو درجہ باال بزرگوں کے عالوہ بعض دیگر
علمائے ادب و تحقیق نے بھی تقویت پہنچائی اور اپنے تحقیقی کا رناموں سے اس کی روایت
کو مستحکم کیا۔محی الدین قادری زور ،مولوی محمد شفیع ،برج موہن دتاتر کیفی ،شیخ چاند
حسن ،حامد حسن قادری ،موالنا امتیاز علی عرشی ،شیخ محمد اکرام ،نصیرالدین ہاشمی،
مالک رام اور مسعود حسین خان رضوی ادیب وغیرہ چند ایسے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنے
اپنے دائرہ کار میں تحقیق کی ذمہ داری نبھ اتے ہوئے زبان وادب کے بے شمار مخفی
گوشوں کے بے نقاب کیا اور اردو تحقیق کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ان علمائے ادب کی
تحقیقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ہے کہ آزادی سے قبل کی ربع صدی کو ادبی
تحقیق کے ارتقاء میں زرین دور شمار کیا گی ا۔اس عہد میں اردو ادب کی تاریخ میں بعض بنیادی
اضافے ہوئے اورہمارے چوٹی کے محققین نے اردو تحقیق کو اعتبار بخشا۔ ان میں سے
اکثر محققین کی تحقیق کا دائرہ کار آزادی کے بعد تک جاری رہا۔
ڈاکٹر محی الدین قادری زور| نے ترتیب متن اور مخطوطات شناسی کے فن ک و خاص رواج دیا
اور قلمی کتابوں کی فہرست سازی سے زیادہ مخطوطات کی توضیحات پر توجہ دی۔مخطوطات
شناسی ایک مشکل اور دقت طلب فن ہے۔ترقیمے پڑھنا ،داخلی اور خارجی شواہد سے نتائج
اخذ کرنا اور حوالوں سے تصنیف اور صاحب تصنیف کے نام اور عہد کی باذیافت ایسا عمل
ہے جس میں محققانہ ذہن کی کارفرمائی ہوتی ہے۔بقول ِ آفتاب احمد آفاقی :
“زور ؔنے مغربی ادب و تنقید اور اصول تحقیق سے استفادہ کیا ہے اور اردو میں قدیم
مخطوطات کی ترتیب و تدوین اور ادباء و شعراء کے حاالت کی بازیافت میں ان اصولوں کو
برتا ہے۔”() 4
ڈاکٹر زور کی کتابوں میں ” اردو شہ پارے ” اور “ کلیات قلی کتب شاہ “ کی ترتیب بڑی اہم ہیں۔
اردو تحقیق کی دنیا میں قاضی عبدالودود سب سے زیادہ محتاط محقق تسلیم کئے جاتے ہیں
اور ان کے کاموں کو ‘ خالص تحقیق’ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے بقو ِل آفتاب احمد آفاقی :
“ واقعہ یہ ہ ے کہ اردو تحقیق میں احتیاط پسندی اور مضبوط دلیلوں اور دعوؤں کی بنیاد پر
وصف خاص ہے۔ان اوصاف کی بناپر
ِ نتیجہ اخذ کرنے کی روش قاضی صاحب کی تحقیق کا
گیان چند جین انہیں بت شکن محقق اور رشید حسن خان’ معلم ثانی’ کہتے ہیں۔ “() 5
سوال نمبر :2اسباق کی تیاری کی اہمیت اور تیاری کے تقاضے بیان کریں؟
بچہ استاد کیلئے بذات خودایک ایسا سبق ہے جس کی تیاری اسے ہر لحظہ درکار ہے چہ جائیکہ مقرر
کردہ نصاب کے مطابق روزانہ کی تدریس کیلئے سبق کی منصوبہ بندی کرنا۔
ب علم اور نصاب پر مشتمل ہے۔ہر جسم اپنے مرکز کی بناءپر متوازن رہتا
تعلم کی مثلث استاد،طال ِ
ہے۔تعلیمی عمل میں بچے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جس کے گرد تدریسی عمل کا پہیہ گھومتا ہے۔
ایسی تدریس جو طالب علم کے رجحانات اور میالنات کے تقاضوں کو پورا کر سکے وہی معاشرتی
ارتقاءمیں بھی ممد ہو گی۔جیسا کہ جان ڈیوی کے خیال میں۔"تعلیم ایک معاشرتی عمل ہے اور معاشرے
کے ارتقاءمیں معاون ہے اس لئے تعلیم کو معاشرے سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور تعلم میں معاشرتی
"رجحانات کی شمولیت از حد ضروری ہے۔
تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرتی زندگی بچے کیلئے وہ میدان ہے جہاں اس کو اپنی صالحیتوں کا
اظہار کرکے معاشرتی اکائیوں میناپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی اور معاشرے کی ضروریات کو پورا
کرنااس کا مقصد ہوتا ہے۔لہٰ ذا ایسی تعلیم مفید ہے جو بچے کی معاشرتی زندگی میں اہم کردار ادا کرے۔
سر سید کے خیال کے مطابق۔"کسی شخص کو تعلیم دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی فطری صالحیتوں
کا تجزیہ کر کے اس کو صحیح راستہ پر ڈاال جائے۔تعلیم دینا درحقیقت کسی چیز کا باہر سے ڈالنا نہیں
بلکہ بچے میں کائنات و فطرت کی سمجھ کے ساتھ ساتھ بصارت بھی پیداکرنا ہے اور اسے اس قابل
"بنانا ہے کہ وہ زندگی میں اپنی مخفی صالحیتوں کو اجاگر کر سکے۔
لہٰ ذا تعلیم کے یہ مقاصد حاصل کرنے کیلئے تدریس میں سبق کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔استاد
کیلئے سبق کا ازبر ہونا سبق کی تیاری تو کہا جا سکتا ہے لیکن ایسا الئحہ عمل اختیار کرناجس کے
ذریعے سبق نہ صرف طلبہ کو واضح طور پر سمجھ آجائے اور ذہن نشین ہو جائے بلکہ متعلقہ عنوان
کی استعداد بھی پیدا ہو،سبق کی منصوبہ بندی کہالئے گا۔
بارآور تعلم کیلئے سبق کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔سبق کی منصوبہ بندی کی کیا اہمیت اور فوائد
ہیں ۔ذیل میں اس کا اجمالی خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔
:مقصد کا تعین)(1
سبق کی منصوبہ بندی سے سبق کا مقصد واضح ہو جاتا ہے اور استاد گم گشتہ گلیوں میں گھومنے کی
پر رہ کر متعین مقاصد کو حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے۔) (Trackبجائے اپنے ٹریک
اور تدریس کے مقاصد کو حاصل کر لینا ہی کامیاب تعلم کی عالمت ہے۔
:خود اعتمادی)(2
دوران تدریس آمدہ تدریسی مشکالت کااندازہ لگا کر ان کا حل تالش
ِ سبق کی منصوبہ بندی سے استاد
کر لیتا ہے جس سے وہ طلباءکے ا ذہان میں اُٹھنے والے سواالت کا خود اعتمادی سے جواب دے سکتا
ہے اور سبق سے متعلقہ ابہام کا بھی ازالہ کر سکتا ہے۔سبق سے متعلقہ امور پر غور و فکر کرتا ہے
اور غیر متعلقہ چیزوں سے اجتناب کرتا ہے۔
ت پنجاب نے
اساتذہ خودبھی سبق کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں ۔عالوہ ازیں محکمہ تعلیم حکوم ِ
پرائمری تک ٹیچر گائیڈز مہیا کی ہیں ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
سوال نمبر :3سننا اور بولنا سکھانے میں سمعی و بصری معاونات کی اہمیت بیان کریں؟
سوال نمبر :4پستالوزی طریقہ تدریس اور مانٹی سوری طریقہ تدریس کے اہم نکات پر مفصل نوٹ
لکھیں؟
اج ہر کوئی چاہتا ہے کہ اپنے بچوں کو مونٹیسوری طریقے کے تحت تعلیم دلوائےلیکن اکثریت
نہیں جانتی کہ یہ طریقہء تعلیم کب اورکہاں سے رائج ہوا ،اسی لئےاج ہم ڈاکٹر ماریہ مونٹیسوری کی
کہانی بیان کرتے ہینجن کے نام پر یہ طریقہ ءتعلیم دنیا بھر میں رائج ہے۔
ماریہ مونٹیسوری 31اگست 1870ءکو اٹلی میں پیدا ہوئیں ،ان کے والد ایک اکائونٹنٹ جبکہ والدہ تعلیم
یافتہ ہونے کےساتھ مطالعہ کی دلدادہ تھیں۔ ماریہ اپنے والدین کی اکلوتی اوالد تھیں -جس ملک میں
عورت کو گھر کی زینت یا استانی کے عالوہ کسی اور روپ میں ڈھلنے کی اجازت نہیں تھی ،وہاں
انھوننے اپنے وقت کے ماحول ،نظام ،روایات اور سب سے بڑھ کر اپنے والد کی سوچ کے خالف سب
سے بڑا جہاد کیا ۔ انھوں نے 26سال کی عمر میں اٹلی کی پہلی خاتوں ڈاکٹر بن کر دکھایا۔ انھیں ہر قدم
پرصنفی بنیادوں پر تعصب اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی انہوں نے ہار نہ مانی۔ ڈاکٹر
بننے کے بعد انھیں ذہنی طور پرمعذور بچوں کے ادارے میں مالزمت دے دی گئی -جہاں انکی فطرت
میں چھپے انسانیت کے جذبے نے انھیں ان معذور بچوں پر تحقیق کی راہ دکھائی -انھوں نے اس وقت
تک کے مشہور نفسیاتی معالجوں کی تحقیقات کا مطالعہ کیا اور ان میں سے دو فرانسیسی نفسیات دان،
-ڈاکٹر ژان اٹارڈ اور ایڈورڈ سیگن کے کام سے بہت متاثر ہوئیں
ڈاکٹر ژان اٹارڈ ذہنی طور پر معذور ،گونگے اور بہرے بچوں کے معالج تھے ،جنھوں نے ایوران
نامی بچے کے عالج سے شہرت پائی -یہ بچہ کئی سال اکیال جنگالت میں زندگی گزارتا )(Averon
پایا گیاتھا ،اٹارڈ نے اسے انسانی ماحول اور طرز زندگی سکھانے پر کئی سال صرف کیے -ایڈورڈ
سیگن نابینا لوگوں اور ذہنی معذور بچوں کے معالج تھے -انہوں نے بچوں کو 11سے 19اور 21سے
99تک گنتی سکھانے کے لئے دو بورڈ تخلیق کیے جنھیں ماریہ مونٹیسوری نے اپنے مونٹیسوری
مٹیریل میں شامل کر لیا اور جسے اج ایک سو پینتیس سال بعد بھی اسی طریقے سے مونٹیسوری کے
تعلیمی نظام میں استعمال کیا جاتا ہے -ڈاکٹر مونٹیسوری کی انتھک اور مسلسل محنت کا نتیجہ یہ نکال
کہ ذہنی طور پر معذور ،نابینا اور گونگے بہرے بچوں کا رزلٹ نارمل بچوں کے برابر ایا ،جس سے
ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر معذور بچوں کا ذہنی معیار یہ ہے تو پھر نارمل بچے اس سے
بھی زیادہ بہترین نتائج دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے ان منفی عوامل پر تحقیق شروع کی جو
نارمل بچوں کی تعلیم و تربیت پر اثر انداز ہو رہے تھے -ان کی تحقیق سے اس وقت بہت اختالف کیا
گیااور با الخر انھیناکیلے ہی تحقیق پر کام کرنا پڑا -ماریہ مونٹیسوری دنیا کی واحد خاتون ہیں جنہوں
نے بچوں کی سوچ اور مزاج کے مطابق انکی الگ دنیا بنانے کا خیال پیش کیااور اس پر عمل بھی کیا۔
1907ءمیں37سال کی عمر میں دنیا کے پہلے’’بچوں کے گھر‘‘کی بنیاد رکھی -انہوں نے اٹلی کے
ایک بہت ہی پسماندہ عالقے میں ،غریب اور مفلوک الحال گھرانوں کے بچوں کے لئے(جن کے ماں
باپ دو وقت کی روٹی کے لئے مالزمتیں کرتے اور بچوں کو اکیال چھوڑ جاتے تھے) بہترین صفائی
ستھرائی اور تہذیب یافتہ ماحول فراہم کیا -وہاں بچوں کے نہانے ،بال بنانے ،صاف کپڑے پہننے اور
میز پر ادب سے بیٹھ کر امراء کے بچوں کی طرح کھانا کھانے کے تمام انتظامات موجود تھے -بچوں
کو ہر قسم کی ازادی تھی اور کوئی روک ٹوک نہ تھی -انکی قدرتی یا فطرت کے مطابق تعلیم کے لئے
-ڈاکٹرماریہ مونٹیسوری نے مختلف مٹیریل بھی ترتیب دیے
مونٹیسوری طریقہء تعلیم میں ٹیچر بچوں کے سامنے کھڑے ہوکر پڑھانے کے بجائے ان کے ساتھ مل
کر اور ان میں شامل ہوکر انھیں ایک مرتب کردہ طریقے کے مطابق کھیل اور دیگر مشاغل میں
مصروف رکھتا ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ بچوں کو خود حرکت و عمل(ایکٹیویٹی) کا موقع دیا
جائے اور انھیں ان کے اپنے ماحول کے مطابق کھیل ،کھلونوں اور دیگر معاون اشیاء سے’’سیکھنے‘‘
کا موقع فراہم کیا جائے۔ مونٹیسوری طریقہء تعلیم کے مطابق بچوں کو رٹا نہیں لگوایا جاتابلکہ ان کو ہر
چیز ذہن نشین کروائی جاتی ہے۔ ہر چیز کو تین حصوں میں تقسیم کردیا جاتاہے۔
پہال سبق :چیز ،فعل یا صفت کا نام بتانا اور یاداشت کو قائم کرنا
دوسرا سبق :یاداشت کو دہرانا
۔ چھوٹے بچے کا ذہن متضاد اشیاء کو جلدی جذب کرتا ہے -اسے جو بھی چیزیں یا صفت متعارف 1
کرائی جائے وہ ایک دوسرے کے برعکس یا متضاد ہوں -مثال کے طور پر سرخ رنگ کے ساتھ گالبی
یا نارنجی رنگ سکھانے سے بہتر ہے کہ نیال یا پیال رنگ سکھایا جائے -مثال کے طور پر بنگلہ دیش
اور جاپان کا جھنڈا ایک جیسے ڈیزائن کا ہے جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے جھنڈوں کے رنگ
ایک جیسے ہیں ،توبچے کے لئے پاکستان اور جاپان کے جھنڈے کے بارے میں سیکھنا اسان ہوگا
-کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے رنگ اور ڈیزائن میں فرق رکھتے ہیں
-۔ شروع میں صرف دو یا تین چیزیں یا خصوصیات متعارف کرائی جائیں2
۔ ایک وقت میں کسی بھی چیز کی بس ایک ہی معلومات فراہم کی جائے مثالً چھوٹا اور بڑا ،ہلکا اور 3
-بھاری ،وغیرہ
طریقہ کار کے دوسرے سبق کو وہاں سے شروع کریں جہاں پہ پہال سبق ختم ہوا تھا اور تیسرے 4
ٔ ۔ اس
سبق کو وہاں سے شروع کریں جہاں دوسرا سبق ختم ہوا تھا -یہ بالکل اسی طرح کا عمل ہے جیسے اگر
-کوئی چیز کھو جائے تو ڈھونڈنے کا سلسلہ اخری یادداشت سے ہی شروع کیا جاتا ہے
اگر آپ تحقیقاتی صحافت کرنے بارے طریقہ کار اور رہنما اصول جاننا چاہتے ہیں تو نیچے دی گئی
گائیڈز اسی کے متعلق ہیں جن میں دنیا بھر میں ہونیوالی اعلی قسم کی تحقیقاتی صحافت کی مثالیں دی
گئی ہیں۔ زیادہ تر مواد مفت میں دستیاب ہے۔
تحقیقاتی صحافت
جدید تحقیقاتی صحافت :اسے مارک لی ہنٹر ،لیوک سینجرز اورمارکس لنڈیمن نے لکھا ہے اسکے
بارے کہا جاتا ہے کہ یہ ایسی نصابی کتاب ہے ” جو اس سے آگے کی بات کرتی ہے کہ ‘کیا پڑھایا
جائے’ یہ اساتذہ کی اس بارے راہنمائی کرتی ہے کہ کیسے پڑھایا جائے اس ضمن میں طالبعلموں
کیطرف سے پوچھے جانیوالے ممکنہ سواالت (اور انکے جوابات) بھی دئیے گئے ہیں اور ساتھ میں
کالس کے دوران کرائی جانے والی مشقیں اور گھر کیلئے کام بارے مواد بھی دیا ہوا ہے اس سارے
عمل کا مقصد انکی تخلیقی صالحیتوں کو جال بخشنا ہے” ان مصنفین نے پہلے حاصل معلومات کی
بنیاد پر تحقیقات بارے بھی ایک کتاب لکھی ہے
اس بارے مصنفین کیطرف سے 2019کی بین االقوامی کانفرنس برائے تحقیقاتی صحافت میں پیش کئے
گئے کام کی سالئیڈیں بھی دیکھ سکتے ہیں
کتابچہ برائے تحقیقاتی صحافت :اس کارآمد مسودے کا آغاز افریقی صحافیوں کے لئے ایک دستی گائیڈ
کے طور پر ہوا تھا جو ایک جرمن فاؤنڈیشن کونراڈ اڈناؤر اسٹیفنگ نے شائع کیا تھا اس کا تازہ ترین
ایڈیشن دُنیا بھر کے صحافیوں لئے تیار کیا گیا ہے بالخصوص انکے لئے جن کا واسطہ میڈیا کے سخت
قوانین ،عدم شفافیت اور محدود وسائل سے ہے
اصل مسئلے کی تہہ تک کیسے پہنچا جائے؟ اس بارے بالکان کے خطے میں کام کرنیوالے صحافیوں
کی راہنمائی کیلئے ایک گائیڈ برائے فروخت دستیاب ہے اس میں بالکان کے نیٹ ورک برائے تحقیقاتی
صحافت نے یہ گائیڈ تیار کرتے ہوئے اس بات پر خصوصی توجہ دی ہے کہ خطے کے مختلف ممالک
میں کام کرنے والے رپورٹروں کی اس بارے بالخصوص راہنمائی کی جائے کہ مطلوبہ ریکارڈ اور ڈیٹا
تک رسائی کو کیسے ممکن بنایا جائے
کولمبیا یونیورسٹی (نیو یارک) کے اسٹیبائل سنٹر برائے تحقیقاتی صحافت کی ڈائریکٹر اور مذکورہ باال
گائیڈ کی مصنف شیال کورونیل نے تحقیقاتی رپورٹنگ کے متعلق اہم باتیں شئیر کی ہیں
پہال باب مفت میں پڑھنے کو دستیاب ہے آپ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں
ڈری بوچ ڈیر ریچارے (تحقیقات کے لئے خاکہ) :اسے مارک لی ہنٹر اور لوؤک سینجرز نے تحریر کیا
اور جرمن ُزبان میں نیٹزورک ریچری نے شائع کیا۔
سچ کو بے نقاب کرنا :البانیہ میں تحقیقاتی رپورٹنگ کرنے والوں کیلئے گائیڈ
73صفحات پر مشتمل اس کتابچے میں تحقیقاتی صحافت کی بہترین مثالوں کے عالوہ آزمودہ طریقہ
کار بارے بتایا گیا ہے اسے او ایس سی ای اور بالکان کے نیٹ ورک برائے تحقیقاتی رپورٹنگ نیٹ
ورک نے البانی اور انگریزی زبان میں شائع کیا ہے
لیوک سینجرز اور مارک لی ہنٹر کی 2019کی کتاب’’ ،پوشیدہ منظر نامہ‘‘ اس بات پر توجہ مرکوز
کرتی ہے کہ کس طرح منظر نامہ بنانے سے آپ کو تفتیش میں مدد مل سکتی ہے۔ تحقیقاتی صحافت
کے مرکز سے خریداری کے لئے دستیاب ہے۔
پیسے کا پیچھا کرنا :بدعنوانی کا کھوج لگانے بارے ڈیجیٹل ہدایت نامہ
یہ مفت کتابچہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس نے انگریزی ،روسی اور جارجیائی زبان میں شائع کیا ہے
عالمی تحقیقاتی صحافت پر کیس بک :یہ کیس بک اسٹوری پر مبنی تحقیقات بارے کتابچہ کے ساتھ
دستیاب ہے (نیچے مالحظہ کریں) اس میں مختلف تحقیقاتی مضامین شائع کئے گئے ہیں اور وہ بھی
باقاعدہ پس منظر کیساتھ کہ کسطرح متعلقہ رپورٹروں نے معلومات اکٹھی کیں اور انہیں تحریری شکل
میں الئے یہ انگریزی زبان میں دستیاب ہے
عالمی تحقیقاتی صحافت کے فروغ بارے حکمت عملی :جی آئی جے این کے ڈیوڈ ای کپلن نے تحقیقاتی
صحافت کے عالمی سطح پر فروغ بارے میں ایک سروے ُمرتب کیا ہے جس میں تحقیقاتی صحافت کے
لیے مالی اعانت کے ذرائع کے عالوہ دنیا بھر کے صحافیوں کے لئے رہنما اصول بھی شامل ہیں۔
اسکی اشاعت مرکز برائے معاونت بین االقوامی میڈیا نے انگریزی زبان میں کی
شہریوں کے لیے گائیڈ :جی آئی جے این کی یہ گائیڈ 2019میں تیار کی گئی اور اسکا مقصد عام
شہریوں کی تحقیقاتی صحافت کرنے بارے راہنمائی کرنا ہے
خفیہ منظر نامہ لوک سینجرز اور مارک لی ہنٹر نے تحریر کی ہے یہ تحقیقاتی صحافت کے مرکز سے
خریداری کے لئے انگریزی زبان میں دستیاب ہے اس کتابچہ میں بتایا گیا ہے کہ کسطرح کہانی سنانے
کا فن بروئے کار التے ہوئے مضمون کی ساخت اس انداز میں ترتیب دی جاتی ہے کہ اصل توجہ
تحقیقاتی صحافت پر رہے
تعارف برائے تحقیقاتی صحافت برانٹ ہیوسٹن (پوائنٹر نیوز یونیورسٹی) نے تحریر کی ہے اس آن الئن
کورس کی الگت 29.95امریکی ڈالر ہے۔
مذہبی امور پر تحقیق کیلئے گائیڈ ڈیبرا ایل میسن اور ایمی بی وائٹ نے تحریر کیا ہے۔ یہ آئی آر ای
کی ویب سائٹ پر خریداری کیلئے انگریزی زبان میں دستیاب ہے
کتابچہ برائے تحقیقاتی صحافت :اسکی اشاعت فورم برائے افریقی تحقیقاتی رپورٹرز نے کی ہے یہ
جامع گائیڈ افریقہ بھر سے کیس اسٹڈیز کے ساتھ صحت اور اخالقیات کے موضوعات پر رپورٹ کرنے
کے لیے ُمستند راہنمائی فراہم کرتا ہے یہ انگریزی ،فرانسیسی اور پرتگالی زبان میں دستیاب ہے