0% found this document useful (0 votes)
25 views2 pages

Translation

Uploaded by

Iqra Liaquat
Copyright
© © All Rights Reserved
We take content rights seriously. If you suspect this is your content, claim it here.
Available Formats
Download as PDF, TXT or read online on Scribd
0% found this document useful (0 votes)
25 views2 pages

Translation

Uploaded by

Iqra Liaquat
Copyright
© © All Rights Reserved
We take content rights seriously. If you suspect this is your content, claim it here.
Available Formats
Download as PDF, TXT or read online on Scribd

‫‪Lecture 17: Translation‬‬

‫‪Exercise No.: Translate the following Urdu paragraphs into English by keeping in view‬‬
‫‪figurative expressions/idiomatic expression.‬‬
‫اس امر سے کوئی اتتلف نہین کر سکتا کہ ایک مہذب معاشرے مین قانون کی االدستی ہے جب کہ غیر مہذب معاشرون مین قانون موم‬
‫کی ناک ہوتا ہے جسے طاقتورجس طرح چاہین موڑ لیتے ہین۔ یہان قانون کی نہین الکہ افراد کی حکمرانی ہوتی‬
‫ہے۔ ان معاشرون مین قانون کو روایتی طور پر تو مان لیا جا تا ہے مگر عملی طور پر اس کی پیروی نہین کی‬
‫جاتی۔‬

‫مینار پاکستان کھڑا ہے اہت سے مسلمان رہنما ایک اہت اڑا فیال‬
‫ر‬ ‫‪٢٣‬مارچ‪١٩۴٠‬ع کو ٹھیک اس جگہ جہان آج‬
‫کرنے کہ لیے جمع ہوئے تھے۔ وہ لوگ اپنے وطن کو انگریزون سے آزاد کرانا چاہتے تھے وہ غلمی کی زندگی‬
‫سے تنگ آ چکے تھے۔ وہ آزادی حاال کرکے اپنے وطن مین حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔‬

‫سوئس اینک کہ ڈائریکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی شہریون کے ‪ ١٩٧‬ارب ڈالر سوئٹزرلینڈ کے اینکون مین‬
‫جمع ہین۔ ظاہر ہے یہ ایسی رقوم ہین جو ملکی وسائل کو للوٹ کر سوئس اینکون کے تفیہ کھاتون مین جمع کرائی‬
‫اعلی افسران شامل ہوتے ہین‬
‫ی‬ ‫جاتی ہین ۔ اس عمل مین االعموم حکمران‪ ،‬ارکان پارلیمنٹ ‪ ،‬فوجی اور غیر فوجی‬
‫جاکہ ان افراد کو آئین اور قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے عوام کے لیے مثال اننا چاہیے۔‬

‫انسان نے پرندون کو فضا مین اڑتے دیکھا تو اس کے جی مین اھی اڑنے کی تواہش پیدا ہوئی۔ وہ سوچتا کاش‬
‫فضاون مین اڑتا پھرتا۔ امریکی فوج ‪ ١٩٠٣‬ع مین ہوائی جہاز انانے کی کوشش‬ ‫و‬ ‫میرے اھی پر ہوتے اور مین اھی‬
‫مین ماروف تھی۔ جہاز تو ان گیا مگر اڑآن نہ اھر سکا۔ ایک امریکی اتاار "نیویارک ٹائمز" نے لکھا کے شاید‬
‫اڑنے والی مشین انانے مین دس لکھ سال سے لے کر ایک کروڑ سال تک کا عراہ لگ جائے مگر ااھی اس اات‬
‫کو ارف آٹھ روز ہی گزرے تھے کہ دو آدمیون نے یہ ناقاا رل یقین کارنامہ سرانجام دے کر اہل دنیا کو حیرت مین‬
‫ڈال دیا۔‬

‫اھارت جتنی اھی کوشش کرے دنیا پر روز روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے کہ مقاوضہ کشمیر پر اس نے‬
‫کےیوم جمہوریہ کو‬
‫ر‬ ‫غاااانہ قاضہ کر رکھا ہے۔ اور کشمیری عوام ہرگز اس کہ ساتھ نہین رہنا چاہتی۔ اھارت‬
‫یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہین۔ اس دن ریلیان نکالی جاتی ہین‪ ،‬تعلیمی‬
‫مقاوضہ کشمیر اور آزاد کشمیرکے لوگ ر‬
‫اور کاروااری ادارے اند رہتے ہین۔‬

‫کچھ لوگون نے یہ وطیرہ انایا ہوا ہے کہ وہ ہر آن متتلف اہانون سے پاکستان پر تنقید کرتے رہتے ہین۔ اور اس‬
‫کاموازنہ مغرب سے کرکے ہمین یہ اتانے کی کوشش کرتے رہتے ہین کہ ہم جدید دنیا سے کتنا پیچھے رہ گئے‬
‫ہین۔ اعض اوقات تنگ آکر مین ان اڑے لوگون سے کہتا ہون "حضور آپ مغرب مین ہی تشریف لے جائیے۔‬
‫پاکستان جیسا غریب ملک آپ جیسی اڑی شتضیات کی میزاانی نہین کر سکتا۔ "‬

‫جاون کیونکہ جونہی وہ۔ مجھے دیکھتے‬ ‫اس کے اعد میری کوشش ہوتی تھی کہ مین قائد اعظم کی تدمت مین نہ و‬
‫النھین کوئی نہ کوئی سرکاری کام یاد آجاتا ۔ ‪ ١٠‬ستمار کو انھون نے مجھے کوئٹہ طلب فرمایا اور پوچھا "کیا‬
‫مجھے کوئی ضروری کاغذ دکھانا چاہتے ہو؟ " مین نے عرض کیا "نہین جناب۔ " ساتھ ہی میری آنکھون سے‬
‫آنسونکل آئے مین نے سوچا اس حالت مین اھی انھین ملک کا اتنا تیال ہے۔‬

‫مرد اور عورت ایک ہی معاشرے کا حاہ ہین الکہ الن ہی سے ایک معاشرہ وجود مین آتا ہے۔ عورت قاا رل قدر‬
‫نہین ان سکتی اور اسکی منزل کی گاڑی منزل تک نہین پہنچ سکتی عورت اور مرد ایک گاڑی کے پہئیون کی‬
‫حیثیت رکھتے ہین۔ جب تک ان دونون مین توازن نہ ہوگا‪ ،‬کوئی اھی معاشرہ اہمیت کا حامل نہین اور نہ ہی وہ اپنی‬
‫زندگی مین کوئی مقاد پورا کر سکتے ہین۔‬

‫اپنےپوشیدہ عیاوں کومعلوم کرنے کے لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارے دوست اکثرہمارے دل کےموافق ہماری‬
‫تعریف کرتے ہیں۔ اول ہمارےعیب ان کوعیب ہی نہیں لگتے یا پھرہماری تاطر کوایساعزیزرکھتے ہیں کہ‬
‫ارسکورنجیدہ نہ کرنے کےتیال سےارنکوچھپاتےہیں۔ یا پھرارن سےچشم پوشی کرتے ہیں۔ ارتالف ارس کےہمارا دشمن‬
‫ہم کوتوب ٹٹولتا ہےاورکونےکونے سےڈھونڈ کرہمارےعیب نکالتا ہے‪،‬گووہ دشمنی سےچھوٹی اات کو اڑا انا دیتا‬
‫ہے۔ مگرارس میں کچھ نہ کچھ االیت ہوتی ہے۔دوست ہمیشہ اپنےدوست کی نیکیوں کواڑھاتا ہےاوردشمن عیاوں‬
‫کو۔ ارس لیےہمیں ضروری ہے کہ ہمارے دشمن ہم کو کیا کہتے ہین۔ اپنےدشمن کا زیادہ ارحسان مند ہونا چاہیےکہ وہ‬
‫ہمیں ہمارےعیاوں سےمطلع کرتا ہے۔ ارس تناظرمین دیکھا جائےتو دشمن دوست سےاہترثاات ہوتا ہے۔‬

‫پاکستان‪ ،‬افغانستان مین امن کے لیے پرعزم ہے کیونکہ افغانستان مین امن‪ ،‬پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تاریتی‬
‫تناظر مین دیکھا جائے تو پاکستان اور افغانستان پڑوسی ار اور اسلمی ملک ہونے کے ناتے تاریتی‪ ،‬ثقافتی‪،‬‬
‫لسانی رشتون مین جڑے ہوئے ہین۔ یہ رشتے اٹوٹ ہین‪ ،‬دونون کا انحاار ایک دوسرے پر ہے اور دونون الگ‬
‫روز اول سے یہی رہا ہے کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل نکال جائے۔‬ ‫الگ رہ اھی نہین سکتے۔ پاکستان کا موقف ر‬
‫اس موقف کی حمایت چین اھی کرتا ہے۔ اس ضمن مین چین نے کہا ہے کہ افغان تنازع کا افغان قیادت مین ہونے‬
‫والے امن مذاکرات سے ہی حل ممکن ہے۔ پاکستان اور اسٹریجک شراکت داری کے لیے ‪ -‬افغان تنازع کو‬
‫مذاکرات کے ذریعے حل کرنے مین اپنا کردار ادا کرین گے۔‬

You might also like