0% found this document useful (0 votes)
63 views9 pages

Maheen 2710

ujhyjuyf
Copyright
© © All Rights Reserved
We take content rights seriously. If you suspect this is your content, claim it here.
Available Formats
Download as DOCX, PDF, TXT or read online on Scribd
0% found this document useful (0 votes)
63 views9 pages

Maheen 2710

ujhyjuyf
Copyright
© © All Rights Reserved
We take content rights seriously. If you suspect this is your content, claim it here.
Available Formats
Download as DOCX, PDF, TXT or read online on Scribd

‫باغ وبہار کے مردانہ کرداروں کا تجزیاتی مطالعہ‬

‫داستان کی تعریف‬
‫‪.‬داستان کے لغوی معنی ‪ :‬داستان فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی طویل قصہ یا کہانی کے ہیں‬

‫ادبی لحاظ‬
‫ادبی لحاظ سے داستاں اس طویل قصہ یا کہانی کو کہتے ہیں۔ جس میں انسانی فطرت سے بعید واقعات حیرت انگیر کا‬
‫‪.‬نامے پرکش انداز میں بیان کیے جائے‬

‫ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے داستان کی تعریف یوں بیان کی ہے‬

‫کہنے کی چیز کو کہانی کہتے ہیں ۔ قصہ کے معنی بھی کہنا اور بیان کرنا کے ہیں ۔ داستان کہانی کی سب سے اولین‬
‫اور قدیم قسم ہے۔ اصطالح میں داستان وہ قصہ کہانی ہے جس کی بنیاد تخیل ‪ ،‬رومان اور فوق الفطرت عناصر پر ہو۔‬
‫ڈاکٹر گیان چند نے داستان کی تعریف یوں بیان کی ہے‬

‫ڈاکٹر گیان چند نے تحقیقی مقالہ " ُاردو کی نشر داستانیں" میں داستان کے مندرجہ باال فنی اصولوں کے اعادے کے بعد‬
‫داستان کی تعریف متعین کی ہے۔ رومانی داستانیں میں ایک خیالی دنیا خیالی واقعات کا بیان ہوتا ہے۔ اس پر تیلیت کا‬
‫رنگیں قر قرمزی بادل چھایا رہتا ہے۔ اس میں کوئی مافوق فطری مخلوق نہ بھی جلوہ آرا جاتے ہیں ہو تب وہ حقیقی‬
‫بھی ‪ ،‬اس میں جو سے زیادہ تخیلی واقعات بیان کیے ہوتے ہیں مافوق الفطرت کی تیزر فیزی‪ ،‬حسن و عشق کی رنگینی‪،‬‬
‫‪".‬مہمان کی پیچیدگی ‪ ،‬لطف جان انہی عناصر سے داستان عبادت ہے‬

‫ابو االعجاز حفیظ صدیقی نے داستان کی تعریف یوں بیان کی ہے‬

‫غیر معمولی"‬ ‫داستان کسی خیالی اور مثالی دنیا کی وہ کہانی ہے ‪ .‬جو محبت مہم جوئی اور سحر و طلسم جیسے‬
‫‪".‬عناصر پر مشتمل اور مصنف کے آزاد اور زرخیز تخیل کی تحلیق ہو‬

‫‪:‬داستان کے اجزائے ترکیبی‬

‫پالٹ‬
‫کہانی‬
‫کردار‬
‫مکالمہ‬
‫اسلوب بیان‬
‫دلچسپی‬
‫تخیل و رومان‬
‫مافوق الفطرت عناصر‬
‫داستان کی خصوصیات طلسماتی فضاء‬
‫زبان و بیاں‬
‫طوالت‬
‫عشق و محبت کا واقعات‬
‫نصیحت‬
‫تخیالتی‬
‫ماضی پرستی‬

‫باغ و بہار کا تعارف‬


‫باغ و بہار میر امن دہلوی کی تصنیف کردہ ایک داستان ہے جو ُانھوں نے فورٹ ولیم کالج میں جان گلکرسٹ کی فرمائش‬
‫پر لکھ ‪.‬عام خیال ہے کہ باغ و بہار کو میر امن نے امیر خسرو کی فارسی داستان قصہ چہار درویش سے اردو میں‬
‫‪.‬ترجمہ کیا ہے لیکن یہ خیال پایہ استناد کو نہیں پہنچتا‬

‫حافظ محمود شیرانی نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس قصے کا امیر خسرو سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ان‬
‫کے مطابق یہ قصہ محمد علی معصوم کی تصنیف ہے باغ و بہار فورٹ ولیم کالج کی دین ہے جو انگریزوں کو مقامی‬
‫زبانوں سے آشنا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور یہیں میر امن نے باغ و بہار کو جان گل کرائسٹ کی فرمائش پر میر‬
‫حسین عطا تحسین کی نو طرز مرصع سے استفادہ کرکے تصنیف کیا‪ .‬اس طرح یہ داستان اردو نثر میں ایک سنگ میل‬
‫کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے بجا طور پر جدید اردو نثر کا پہال صحیفہ قرار دیا گیا ہے‪ .‬اس داستان کی اشاعت کے بعد‬
‫اردو نثر میں پہلی مرتبہ سلیس زبان اور آسان عبارت آرائی کا رواج ہوا اور آگے چل کر غالب کی نثر نے اسے کمال‬
‫تک پہنچا دیا‪ .‬اسی بنا پر مولوی عبدالحق کا کہنا ہے کہ اردو نثر کی ان چند کتابوں میں باغ و بہار کو شمار کیا جاتا ہے‬
‫جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ہیں اور شوق سے پڑھی جائیں گی۔ بقول سید محمد‪" ،‬میر امن نے باغ و بہار میں ایسی سحر‬
‫کاری کی ہے کہ جب تک اردو زبان زندہ ہے مقبول رہے گی اور اس کی قدر و قیمت میں مروِر ایام کے ساتھ کوئی کمی‬
‫نہ ہوگی"‪ .‬نیز سید وقار عظیم کے الفاظ میں "داستانوں میں جو قبول عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی‬
‫‪".‬کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا‬

‫باغ و بہار ایک زندہ نثر ہے‬


‫کامیاب داستان گوئی کا گر یہ ہے کہ داستان گو اپنی شخصیت کو ہمیشہ پس پردہ رکھے‪ .‬پروفیسر کلیم الدین احمد کا یہ‬
‫خیال اگر صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے اور یہ مان بھی لیا جائے کہ میر امن نے باغ و بہار میں اپنی شخصیت کو‬
‫چھپانے کی پوری کوشش کی ہے‪ .‬تب بھی یہ تسلیم کرنا ذرا مشکل ہے کہ میر امن باغ و بہار میں کہیں بھی ظاہر نہیں‬
‫ہوئے اور ان کی شخصیت خود کو چھپانے کی پوری کوششوں کے باوجود انعکاس ماحول‪ ،‬انداز بیان اور لب ولہجہ کی‬
‫چلمنوں کے پیچھے سے جلوہ نما نہیں ہوئی۔ باغ و بہار کی کہانی پرانی سہی مگر اس کو لکھنے واال پرانا نہ تھا۔ وہ میر‬
‫اسن ولی واال تھا‪ .‬انیسویں صدی کی دلی کا اور یہ اسی ولی والے کا اعجاز ہے کہ باغ و بہار اردو نثر کی پہلی زندہ‬
‫کتاب قرار پائی ہے اور ملک روم کے بادشاہ آزاد بخت اور چار درویشوں کی فرضی داستان ہونے کے باوجود وہ کچھ‬
‫اس طرح جیتی جاگتی کہانی یا کہانیوں کا مجموعہ علوم ہوتی ہے کہ گویا سچ مچ کسی بادشاہ یا چار درویشوں کی کچی‬
‫اگر چه خیال انگیز سرگزشت ہے‪ .‬باغ و بہار کا یہ بحر یا معجزہ فن کی یہ نمود کن عناصر مختلف کی رہین منت ہے اس‬
‫کا مختصر جواب اس مضمون میں پیش کیا جاتا ہے‪ .‬سطور باال میں‪ ،‬میں نے عرض کیا ہے کہ باغ و بہار اردو نثر کی‬
‫پہلی زندہ کتاب ہے۔ پھر کیا باغ و بہار سے پہلے اردو نٹر اس نعمت زندگی سے بہرہ دور نہ تھی بے شک انہ تھی یوں‬
‫زندگی کے ابتدائی مراحل وہ ضرور طے کر رہی تھی‪ .‬اردو نثر بھی ان درجوں سے گزرتی جارہی تھی یہ باغ و‬
‫بہارہی تھی جس نے فورٹ ولیم کالج کے لیے نئے ماحول میں اردو نٹر کو زندگی کی اس منزل سے روشناس کیا جو‬
‫‪.‬بقات وجود میں اشرف الخلوقات کو حاصل ہے‬
‫مصنف کا تعارف‬
‫اردو میں زندہ نثر کی ایک ایسی کتاب بھی ہے‪ ،‬جس کا جادو دو سو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود قائم ہے اور‬
‫جس کی شہرت و مقبولیت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ اس کتاب نے اردو نثر کو ایک نئی سمت‬
‫اور روشنی دی ہے۔ وہ کتاب بنیادی طور پر ترجمہ ہے مگر اس کی شہرت اصل کتاب سے کہیں زیادہ ہے۔‪.‬ترجمہ اتنا‬
‫خوبصورت اور سلیس ہے کہ طبع زاد کا گمان گزرتا ہے اور اس کی خوبی یہ ہے کہ اس ترجمہ کا نہ صرف انگریزی‬
‫میں ترجمہ ہوا بلکہ اردو کے مشہور محقق گارساں دتاسی نے فرانسیسی میں اس کا ترجمہ کیا۔ گفتگو کی زبان میں لکھی‬
‫گئی یہ کتاب ’باغ و بہار‘ کے نام سے مشہور ہے‪ .‬اس کے مصنف میراّم ن فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے ہندوستانی شعبے‬
‫میں تیسرے درجے کے مالزم تھے اور ان کی تنخواہ بھی دوسرے مصنفین اور مترجمین کے مقابلے میں معمولی تھی‬
‫مگر محنت اور لگن نے میراّم ن کے باغ و بہار کو آج بھی سرسبز رکھا ہے‪ .‬میراّم ن دہلی میں ‪ 1748‬کے لگ بھگ پیدا‬
‫ہوئے‪ .‬ان کا خاندان شہنشاہ ہمایوں کے زمانے سے عالمگیر ثانی کے عہد تک منصب داروں میں شامل رہا ہے‪ .‬ان کے‬
‫پاس اچھی خاصی جاگیر تھی مگر سورج مل جاٹ نے ان کی جاگیر چھین لی‪ ،‬ادھر احمد شاہ دّرانی نے اس طرح تباہی‬
‫مچائی کہ سب کچھ تاراج ہو گیا‪ .‬میر اّم ن پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا‪ .‬وہ کسی طرح عظیم آباد (پٹنہ) پہنچے‪ .‬وہاں کچھ‬
‫برس قیام کیا مگر وہاں بھی حاالت نے ساتھ نہیں دیا‪ .‬مجبورًا کلکتہ کا سفر کرنا پڑا‪ .‬وہاں بھی کچھ دن بیکاری میں‬
‫گزارے۔ اس کے بعد نواب دالور جنگ نے اپنے چھوٹے بھائی میر کاظم خاں کی اتالیقی پر مامور کر دیا۔ یہاں بھی دو‬
‫سال کے بعد طبیعت اچاٹ ہو گئی‪ .‬یہاں کے بعد میر بہادر علی حسینی کے توسط سے جان گل کرسٹ سے شناسائی ہوئی‬
‫اور میرامن فورٹ ولیم کالج میں مالزم ہو گئے‪ .‬جہاں ‪ 4‬جون ‪ 1806‬تک تصنیف و تالیف کا کام کرتے رہے‪.‬فورٹ ولیم‬
‫کالج سے وابستگی کے بعد میراّم ن کو پہال کام قصہ ’چہار درویش‘ کے اردو ترجمہ کا مال‪ .‬انہوں نے جان گل کرسٹ کی‬
‫ہدایت کے مطابق ٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو میں اس کتاب کا ترجمہ کیا اور اتنا عمدہ ترجمہ کیا کہ کالج کی طرف سے اس‬
‫پر ‪ 500‬روپیہ کا انعام دیا گیا۔ انہوں نے عطا حسین خان تحسین کے ’نو طرز مرصع‘ کو سامنے ضرور رکھا مگر اپنے‬
‫طور پر اتنی تبدیلیاں کر دیں کہ اصل کتاب گم ہو گئی۔ ’باغ و بہار‘ میں چار درویشوں کی سرگزشت ہے اور آزاد بخت‬
‫اس کے مرکزی کردار ہیں۔ میراّم ن نے ترجمہ میں عربی‪ ،‬فارسی سے گریز کر کے ہندوی کا استعمال کیا ہے بلکہ دّلی‬
‫کی زبان استعمال کی ہے اور مروجہ قواعد سے بھی انحراف کیا ہے‪ .‬یہی وجہ ہے کہ ناقدین نے باغ و بہار میں قواعد‬
‫کی غلطیاں بھی نکالی ہیں اور یہ لکھا ہے کہ اس میں واحد جمع اور تذکیر و تانیث کا بھی خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ اس‬
‫کے باوجود باغ و بہار کی نثر بے مثال اور بے نظیر ہے‪".‬باغ وبہار" کے عالوہ ’گنج خوبی‘ بھی میراّم ن کی ترجمہ کی‬
‫ہوئی کتاب ہے۔ مال حسین واعظ کاشفی کی ’اخالق محسنی‘ کا یہ ترجمہ ہے مگر اسے ’باغ و بہار‘ جیسی مقبولیت‬
‫نصیب نہیں ہوئی‪ .‬میراّم ن کے سوانحی حاالت تذکروں میں نہیں ملتے‪ .‬اس لیے ان کی تاریخ پیدایش کے بارے میں‬
‫‪.‬قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا‪.‬دیگر احوال بھی نہیں ملتے۔ کہا جاتا ہے کہ ‪ 1806‬میں میر اّم ن کا انتقال ہو ا‬
‫باغ وبہار کے کرداروں کا جائزہ‬
‫باغ و بہار میں دو قسم کے کردار ملتے ہیں‪ ،‬مرد کردار اور نسوانی کردار۔ مردانہ کرداروں میں چاروں درویشوں کے‬
‫‪ .‬عالوہ آزاد بخت اور خواجه سگ پرست بھی شامل ہیں‪ .‬چاروں درویش دراصل کہانی کے اصل ہیرو ہیں‬

‫داستانوں میں کردار نگاری عمومًا غیر فطری ہوتی ہے‪ .‬جنوں دیوئوں اور پریوں کے عالوہ مافوق الفطری عناصر کی‬
‫وجہ سے داستان کے کردار معاشرے کے حقیقی کردار سے کوسوں دور نظر آتے ہیں‪ .‬بعض دفعہ ان کرداروں کے اندر‬
‫یکسانیت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ایک کردار دوسرے کردار کا چربہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جنوں اور پریوں کے عالوہ‬
‫بادشاہوں ‪ ،‬درویشوں اور شہزادہ ‪ ،‬شہزادیوں کے کردار بھی ہوتے ہیں جو فوق الفطری عناصر سے گھرے رہنے کے‬
‫باوجود بھی کسی نہ کسی صورت میں ہمیں چلتے پھرتے عام انسانوں کے روپ میں دکھائی دیتے ہیں ‪.‬اردو کی دیگر‬
‫داستانوں کی طرح باغ و بہار میں بھی اس صبح کے کردار موجو د ہیں بالخصوص مرد کرداروں میں چاروں درویشوں‬
‫‪ .‬کے درمیان پیش آنے والے واقعات کے بیان میں ہر درویش ایک دوسرے کا عکس معلوم ہوتا ہے‬

‫باغ و بہار کےمردانہ کرداروں کا مطالعہ‬


‫باغ و بہار کے چار درویشوں کی کردار نگاری بہت سے ناقدین کا خیال ہے کہ مردانہ کرداروں کی کردار نگاری کرتے‬
‫وقت میر امن کسی فنکارانہ چابک دستی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ سب سے پہلے ہم داستان کے مرد کرداروں کا جائزہ‬
‫لیں گے جن میں چاروں درویشوں کے عالوہ آزاد بخت اور خواجہ سگ پرست بھی شامل ہیں۔ چاروں درویش جو کہانی‬
‫کے ہیرو ہیں‬
‫بادشاہ آزاد بخت‬
‫باغ وبہار کی داستان کا آغاز ملک روم کے بادشاہ آزاد بخت کے احوال سے ہوتا ہے ۔ میرامن نے بادشاہ آزاد بخت کو‬
‫نوشیرواں جیسا عدل اور انصاف کا حامل حاتم طائی جیسا سچی اور فراخ دل دکھایا ہے ۔ بادشاہ اوالد سے محروم‬
‫ہوتا ہے ۔ اور چونکہ جانشین سے محروم تھا۔چاڈ کی وجہ سے مایوس ہو کر طارق دنیا ہوگیا‬
‫کاروبار سلطنت میں توجہ لینا چھوڑ دیا ۔ اس سے ملک میں بد انتظامی پھیلنے لگی۔ بادشاہ کے خیرخواہوں نے وزیر‬
‫خیر مند کو کہا کہ وہ بادشاہ کو سمجھائے ۔ چنانچہ خیر مند نے بادشاہ سے کہہ کہ خدا سے دعا کیا کرئے۔ درویشوں اور‬
‫غریبوں کی مدد کیا کرئے تو شاہد آپ کی مراد پوری ہو جائے۔ بادشاہ نے یہ مشورہ پسند کیا ۔اک روز بادشاہ نے کسی‬
‫کتاب میں پڑھا کہ اگر کوئی مصیبت اور الحق بیماری میں مبتال ہوجائے تو وہ قبرستان میں جا کر دنیا کی نا پیدواری‬
‫کے بارے میں غور کرئے تو اس کے سارے غم ختم ہو جائے گئے۔ اس پر عمل کر تے ہوئے بادشاہ قبرستان گیا۔‬
‫جہاں پراس نے چراغ کی روشنی میں چار درویشوں کو پایا اور بڑی خاموشی کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھ گیا اور‬
‫ان کی باتیں سن سکے۔ ۔ آزاد بخت کی داستان میں دوسرے درویشوں کی طرح عشق کا عنصر شامل نہیں ہے‪ .‬اس کی‬
‫مہم جوئی کی جہت دوسرے درویش کے برعکس مختلف ہے‪ .‬آزاد بخت کا کردار مرکزی اور بنیادی ہے اور قاری کی‬
‫‪".‬دلچسپی کا باعث زندگی کے زیادہ قریب اور بھر پور ہے‪ .‬بقول سہیل بخاری‪ " :‬باغ و بہار کا یہ کردار زندہ جاوید ہے‬

‫‪ :‬پہال درویش‬

‫ملک روم کے ایک تا جر خواجہ احمد کا بیٹا ہے۔ جو اپنے باپ کے انتقال کے بعد عیش پرستی میں سب کچھ لوٹا کر‬
‫عشق کی چوٹ کھا کر اپنی بہن کے پاس پہنچا ۔ جس نے اس کو تجارت کا مشورہ دیا ۔ پھر ہوا ایسا عشق ناکامی کے‬
‫بعد اس کو تجارت میں بھی نا کامی حاصل ہوئی ۔ اس نے خود کشی کا ارادہ کیا۔ لیکن ایک سبز پوش نمودار ہو کر‬
‫اس کا ہاتھ تھاما ۔اور اس سے کہا کہ تم روم چلے جاؤں ۔‬
‫جہاں اس کو تین درویش ملے گے ۔ اور وہ بھی اسکی طرح مصیبت کے مارے ہو گے ۔ سبزپوش نے درویش کو‬
‫خوش خبری دی کہ جب تم چاروں بادشاہ آزاد بخت سے ملو گے تو تمہارے دن بدل جائے گے ۔ امیر امن نے اس‬
‫درویش کا کردار کچھ اس طرح بد دماغ ہے کہ وہ نظر التفاِت نہیں ڈالتی کو اس کی محبوبہ ہوتی ہے ۔ وہ اس سے‬
‫اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے وہ اپنے احساسات بھی جھتاتا ہے جو کے ایک عاشق کو زاب نہیں دیتا۔ شہزادی دمشق‬
‫‪ .‬سے موشقہ میں اس کا کردر بلند نہیں ۔ اور خوشامد کی عادت ہے‬

‫‪:‬دوسرا درویش‬

‫درویش فارس کا شہزادہ ہے۔ جو چودہ برس کی عمر میں علم و فضل سے ماال مال ہو جاتا ہے۔ جو حاتم طائی کی‬
‫سخاوت کے قصے سن کر متاثر ہوا۔ اور خود بھی حاتم طائی کی طرح سخی بنے کا فیصلہ کیا۔ اور چالیس دروازوں‬
‫والی عمارت‬
‫بنائی ۔ ہر دروازے سے جو سوالی آتا اپنا مراد پاتا ۔ ایک روز ایک فقیر آیا اور باری باری ہر دروازوں سے داخل‬
‫ہوا اور اشرفی حاصل کرتا گیا ۔ اور چالیس ردوازیں ختم ہونے کے بعد دوبارہ داخل ہوا۔ تو بادشاہ نےغصے میں آ‬
‫کر اسکو ڈانٹا تو فقیر نے کہہ کہ اگر تم سخی دیکھنی ہے تو بصری کی شہزادی کو دیکھو ۔ اور اسکی سخاوت‬
‫دیکھو ۔ اس نے سوچا کہ بصری کی طرف سفر کرتا ہوں۔ اور شہزادی سے نکاح کی درخواست کی۔ تو اس نے‬
‫سوال کیا کہ شہر نمروز میں ایک نوجوان رانی زد پیر پر سوار ہو کر اتا ہے ۔ اس نے ایک غالم گل آندم کو تلوار‬
‫سے قتل کر دیتا ہے۔ اس نہیں کہا یہ کیا معاملہ ہے تو شہزادی نے کہ یہ معاملہ حل کر لیا تو میں تم سے شادی کر لو‬
‫گی ۔ اس نہیں چیلنج قبول کر لیا اور وہ صحراؤں کی خاک چاٹتے پھرتا رہتا ہے اور پھر اس نے کافی کوشش کی بعد‬
‫ناکام ہو کر حد خودکشی کا ارادہ کیا تو وہ ایک سبز پوش اتا۔ اور کہاں روم جاؤ۔‬

‫‪:‬تیسرا درویش‬

‫تیسرا درویش بھی کسی حد تک خوشامد ہے ۔ وہ بھی عشق کے میدان رہےمیں مرد نہیں البتہ دوسرا معامالت میں‬
‫جرات کا مظاہرہ کر دیتا ہے اور اس کا طرز عمل مہم جوئی اور تالش جستجو کا معدہ نظر آتا ہے۔ اور وہ خود‬
‫اعتماد ہے اور اپنی مہم جوئی پر تنہا جاتا نظر آتا ہے۔ عجیب و غریب ہرن کا پیچھا کرتا ہے ۔ اور بہت دور‬
‫نکل جاتا ہے۔ جہاں پراس کی مالقات ایک بزرگ سے ہوتی ہے ۔ پھر وہ بزرگ اس کو بھی یہی کہتا ہے کہ تم روم‬
‫چلے جاؤں۔‬

‫‪ :‬چوتھا درویش‬

‫چین کا شہزادہ ہے۔ کم عمر میں یتیم ہو جاتا ہے ۔ اس کا چچا اسکے تاج پر قبضہ حاصل کر لیتا ہے۔ اور پھر وہ‬
‫مشکالت کا سامنا کر کے تھک جاتا ہے اور خودکشی کا ارادہ کرتا ہے۔ تو وہی بزرگ اسکی ملک روم جانے کا کہتا‬
‫ہے۔ یہ جو شہزادہ ہے ۔ یہ ہمیشہ لڑکیوں میں رہا اور جب اس نے خبر سنی کا اسکی شادی اسکے چچا کی بیٹی‬
‫سے ہو رہی ہے تو خوش ہو جاتا ہے ۔ اسکا کردار ہمیں کھوٹا سا دیکھتا ھے ۔ بلکہ اس کا کردار ہلکہ کمزور دکھاتا‬
‫ہے ۔ اور چوتھا درویش اخالقی طور پر بہت کمزور ‪ ،‬مکرو ‪ ،‬فریب نہیں کرتا اور عشق کے مسائل خود حل کیے ۔‬

‫‪:‬خواجه سگ پرست‬

‫یہ کردار بہت شریف اور بے وقوف ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دنیا داری اور عقل بالکل نہیں ہے۔ اپنے بھائیوں سے‬
‫دغا پر دغا کھاتا ہے مگر پھر بھی انہیں اپنا خیر خواہ سمجھتا ہے‪ .‬اس کے بھائی شیطان صفت ہیں۔ ا اپنے بھائیوں سے‬
‫دھوکا کھانے کے باوجود بار بار نیکی کرنا اس کی نیکی نیکی و و شرافت اور او برداشت کی نشانی ہے۔ بھائیوں سے‬
‫شدید محبت ہے لیکن جب وہ بدلہ لینے پر آتا ہے تو ایسی سزا دیتا ہے جو کسی نے نہ دیکھی اور نہ سنی۔ اس کے ساتھ‬
‫ساتھ قصے کے چار درویشوں کی مانند خواجه سگ پرست خوشامدی بھی ہے اور زیر باد اور سراندیپ کی شہزادی کے‬
‫سامنے جہاں تہاں خوشامد کرتا اور گڑ گڑاتا ہے‪ .‬دوسرے درویشوں کی طرح جنس اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے‬
‫اس لیے بوڑھا ہونے کے باوجود کم سن شہزادی سے شادی کے لیے بے تاب ہے‪ .‬لیکن مختصرًا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ‬
‫‪.‬اپنی بہت کی خامیوں کے باوجود چاروں درویشوں سے یہ کردار مختلف اور منفرد ہے‬
‫حوالہ جات‬ ‫‪:‬‬
‫اردو لغت ریختہ ‪،‬ڈکشنری ‪،‬‬
‫رفیع الدین ہاشمی ‪،‬اصناف ادب ‪ ،‬سنگ میل پبلیشرز ‪ ،‬الہور ‪،2018 ،‬ص‪109‬‬
‫ص ‪110‬‬ ‫رفیع الدین ہاشمی ‪""""،‬ایضا"""‬
‫ڈاکٹر گیان چند جین ‪ ،‬اردو کی نثری داستانیں ‪ ،‬بک ٹاک میاں چیمبر ‪ 3،‬روڈ ‪ ،‬الہور‪،‬ص‪6‬‬
‫میر امن دہلوی ‪،‬باغ و بہار ‪،‬الفیصل ناشران و تاجران کتب ‪ ،‬غنرنی سٹریٹ اردو بازار ‪ ،‬الہور ‪ ،‬ص ‪07‬‬
‫ص‪10‬‬ ‫میر امن دہلوی ‪ """"،‬ایضا """"‬
‫میر امن دہلوی ‪،‬باغ و بہار ‪،‬الفیصل ناشران و تاجران کتب ‪ ،‬غنرنی سٹریٹ اردو بازار ‪ ،‬الہور ‪ ،‬ص ‪53‬‬
‫‪:‬کتابیات‬

‫اصناف ادب ‪،‬از رفیع الدین ہاشمی‬

‫اردو کی نثری داستان از ڈاکٹر گیان چند جین‬


‫باغ و بہار از میرامن دہلوی‬

You might also like