Maheen 2710
Maheen 2710
داستان کی تعریف
.داستان کے لغوی معنی :داستان فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی طویل قصہ یا کہانی کے ہیں
ادبی لحاظ
ادبی لحاظ سے داستاں اس طویل قصہ یا کہانی کو کہتے ہیں۔ جس میں انسانی فطرت سے بعید واقعات حیرت انگیر کا
.نامے پرکش انداز میں بیان کیے جائے
کہنے کی چیز کو کہانی کہتے ہیں ۔ قصہ کے معنی بھی کہنا اور بیان کرنا کے ہیں ۔ داستان کہانی کی سب سے اولین
اور قدیم قسم ہے۔ اصطالح میں داستان وہ قصہ کہانی ہے جس کی بنیاد تخیل ،رومان اور فوق الفطرت عناصر پر ہو۔
ڈاکٹر گیان چند نے داستان کی تعریف یوں بیان کی ہے
ڈاکٹر گیان چند نے تحقیقی مقالہ " ُاردو کی نشر داستانیں" میں داستان کے مندرجہ باال فنی اصولوں کے اعادے کے بعد
داستان کی تعریف متعین کی ہے۔ رومانی داستانیں میں ایک خیالی دنیا خیالی واقعات کا بیان ہوتا ہے۔ اس پر تیلیت کا
رنگیں قر قرمزی بادل چھایا رہتا ہے۔ اس میں کوئی مافوق فطری مخلوق نہ بھی جلوہ آرا جاتے ہیں ہو تب وہ حقیقی
بھی ،اس میں جو سے زیادہ تخیلی واقعات بیان کیے ہوتے ہیں مافوق الفطرت کی تیزر فیزی ،حسن و عشق کی رنگینی،
".مہمان کی پیچیدگی ،لطف جان انہی عناصر سے داستان عبادت ہے
غیر معمولی" داستان کسی خیالی اور مثالی دنیا کی وہ کہانی ہے .جو محبت مہم جوئی اور سحر و طلسم جیسے
".عناصر پر مشتمل اور مصنف کے آزاد اور زرخیز تخیل کی تحلیق ہو
پالٹ
کہانی
کردار
مکالمہ
اسلوب بیان
دلچسپی
تخیل و رومان
مافوق الفطرت عناصر
داستان کی خصوصیات طلسماتی فضاء
زبان و بیاں
طوالت
عشق و محبت کا واقعات
نصیحت
تخیالتی
ماضی پرستی
حافظ محمود شیرانی نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس قصے کا امیر خسرو سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ان
کے مطابق یہ قصہ محمد علی معصوم کی تصنیف ہے باغ و بہار فورٹ ولیم کالج کی دین ہے جو انگریزوں کو مقامی
زبانوں سے آشنا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور یہیں میر امن نے باغ و بہار کو جان گل کرائسٹ کی فرمائش پر میر
حسین عطا تحسین کی نو طرز مرصع سے استفادہ کرکے تصنیف کیا .اس طرح یہ داستان اردو نثر میں ایک سنگ میل
کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے بجا طور پر جدید اردو نثر کا پہال صحیفہ قرار دیا گیا ہے .اس داستان کی اشاعت کے بعد
اردو نثر میں پہلی مرتبہ سلیس زبان اور آسان عبارت آرائی کا رواج ہوا اور آگے چل کر غالب کی نثر نے اسے کمال
تک پہنچا دیا .اسی بنا پر مولوی عبدالحق کا کہنا ہے کہ اردو نثر کی ان چند کتابوں میں باغ و بہار کو شمار کیا جاتا ہے
جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ہیں اور شوق سے پڑھی جائیں گی۔ بقول سید محمد" ،میر امن نے باغ و بہار میں ایسی سحر
کاری کی ہے کہ جب تک اردو زبان زندہ ہے مقبول رہے گی اور اس کی قدر و قیمت میں مروِر ایام کے ساتھ کوئی کمی
نہ ہوگی" .نیز سید وقار عظیم کے الفاظ میں "داستانوں میں جو قبول عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی
".کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا
داستانوں میں کردار نگاری عمومًا غیر فطری ہوتی ہے .جنوں دیوئوں اور پریوں کے عالوہ مافوق الفطری عناصر کی
وجہ سے داستان کے کردار معاشرے کے حقیقی کردار سے کوسوں دور نظر آتے ہیں .بعض دفعہ ان کرداروں کے اندر
یکسانیت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ایک کردار دوسرے کردار کا چربہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جنوں اور پریوں کے عالوہ
بادشاہوں ،درویشوں اور شہزادہ ،شہزادیوں کے کردار بھی ہوتے ہیں جو فوق الفطری عناصر سے گھرے رہنے کے
باوجود بھی کسی نہ کسی صورت میں ہمیں چلتے پھرتے عام انسانوں کے روپ میں دکھائی دیتے ہیں .اردو کی دیگر
داستانوں کی طرح باغ و بہار میں بھی اس صبح کے کردار موجو د ہیں بالخصوص مرد کرداروں میں چاروں درویشوں
.کے درمیان پیش آنے والے واقعات کے بیان میں ہر درویش ایک دوسرے کا عکس معلوم ہوتا ہے
:پہال درویش
ملک روم کے ایک تا جر خواجہ احمد کا بیٹا ہے۔ جو اپنے باپ کے انتقال کے بعد عیش پرستی میں سب کچھ لوٹا کر
عشق کی چوٹ کھا کر اپنی بہن کے پاس پہنچا ۔ جس نے اس کو تجارت کا مشورہ دیا ۔ پھر ہوا ایسا عشق ناکامی کے
بعد اس کو تجارت میں بھی نا کامی حاصل ہوئی ۔ اس نے خود کشی کا ارادہ کیا۔ لیکن ایک سبز پوش نمودار ہو کر
اس کا ہاتھ تھاما ۔اور اس سے کہا کہ تم روم چلے جاؤں ۔
جہاں اس کو تین درویش ملے گے ۔ اور وہ بھی اسکی طرح مصیبت کے مارے ہو گے ۔ سبزپوش نے درویش کو
خوش خبری دی کہ جب تم چاروں بادشاہ آزاد بخت سے ملو گے تو تمہارے دن بدل جائے گے ۔ امیر امن نے اس
درویش کا کردار کچھ اس طرح بد دماغ ہے کہ وہ نظر التفاِت نہیں ڈالتی کو اس کی محبوبہ ہوتی ہے ۔ وہ اس سے
اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے وہ اپنے احساسات بھی جھتاتا ہے جو کے ایک عاشق کو زاب نہیں دیتا۔ شہزادی دمشق
.سے موشقہ میں اس کا کردر بلند نہیں ۔ اور خوشامد کی عادت ہے
:دوسرا درویش
درویش فارس کا شہزادہ ہے۔ جو چودہ برس کی عمر میں علم و فضل سے ماال مال ہو جاتا ہے۔ جو حاتم طائی کی
سخاوت کے قصے سن کر متاثر ہوا۔ اور خود بھی حاتم طائی کی طرح سخی بنے کا فیصلہ کیا۔ اور چالیس دروازوں
والی عمارت
بنائی ۔ ہر دروازے سے جو سوالی آتا اپنا مراد پاتا ۔ ایک روز ایک فقیر آیا اور باری باری ہر دروازوں سے داخل
ہوا اور اشرفی حاصل کرتا گیا ۔ اور چالیس ردوازیں ختم ہونے کے بعد دوبارہ داخل ہوا۔ تو بادشاہ نےغصے میں آ
کر اسکو ڈانٹا تو فقیر نے کہہ کہ اگر تم سخی دیکھنی ہے تو بصری کی شہزادی کو دیکھو ۔ اور اسکی سخاوت
دیکھو ۔ اس نے سوچا کہ بصری کی طرف سفر کرتا ہوں۔ اور شہزادی سے نکاح کی درخواست کی۔ تو اس نے
سوال کیا کہ شہر نمروز میں ایک نوجوان رانی زد پیر پر سوار ہو کر اتا ہے ۔ اس نے ایک غالم گل آندم کو تلوار
سے قتل کر دیتا ہے۔ اس نہیں کہا یہ کیا معاملہ ہے تو شہزادی نے کہ یہ معاملہ حل کر لیا تو میں تم سے شادی کر لو
گی ۔ اس نہیں چیلنج قبول کر لیا اور وہ صحراؤں کی خاک چاٹتے پھرتا رہتا ہے اور پھر اس نے کافی کوشش کی بعد
ناکام ہو کر حد خودکشی کا ارادہ کیا تو وہ ایک سبز پوش اتا۔ اور کہاں روم جاؤ۔
:تیسرا درویش
تیسرا درویش بھی کسی حد تک خوشامد ہے ۔ وہ بھی عشق کے میدان رہےمیں مرد نہیں البتہ دوسرا معامالت میں
جرات کا مظاہرہ کر دیتا ہے اور اس کا طرز عمل مہم جوئی اور تالش جستجو کا معدہ نظر آتا ہے۔ اور وہ خود
اعتماد ہے اور اپنی مہم جوئی پر تنہا جاتا نظر آتا ہے۔ عجیب و غریب ہرن کا پیچھا کرتا ہے ۔ اور بہت دور
نکل جاتا ہے۔ جہاں پراس کی مالقات ایک بزرگ سے ہوتی ہے ۔ پھر وہ بزرگ اس کو بھی یہی کہتا ہے کہ تم روم
چلے جاؤں۔
:چوتھا درویش
چین کا شہزادہ ہے۔ کم عمر میں یتیم ہو جاتا ہے ۔ اس کا چچا اسکے تاج پر قبضہ حاصل کر لیتا ہے۔ اور پھر وہ
مشکالت کا سامنا کر کے تھک جاتا ہے اور خودکشی کا ارادہ کرتا ہے۔ تو وہی بزرگ اسکی ملک روم جانے کا کہتا
ہے۔ یہ جو شہزادہ ہے ۔ یہ ہمیشہ لڑکیوں میں رہا اور جب اس نے خبر سنی کا اسکی شادی اسکے چچا کی بیٹی
سے ہو رہی ہے تو خوش ہو جاتا ہے ۔ اسکا کردار ہمیں کھوٹا سا دیکھتا ھے ۔ بلکہ اس کا کردار ہلکہ کمزور دکھاتا
ہے ۔ اور چوتھا درویش اخالقی طور پر بہت کمزور ،مکرو ،فریب نہیں کرتا اور عشق کے مسائل خود حل کیے ۔
:خواجه سگ پرست
یہ کردار بہت شریف اور بے وقوف ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دنیا داری اور عقل بالکل نہیں ہے۔ اپنے بھائیوں سے
دغا پر دغا کھاتا ہے مگر پھر بھی انہیں اپنا خیر خواہ سمجھتا ہے .اس کے بھائی شیطان صفت ہیں۔ ا اپنے بھائیوں سے
دھوکا کھانے کے باوجود بار بار نیکی کرنا اس کی نیکی نیکی و و شرافت اور او برداشت کی نشانی ہے۔ بھائیوں سے
شدید محبت ہے لیکن جب وہ بدلہ لینے پر آتا ہے تو ایسی سزا دیتا ہے جو کسی نے نہ دیکھی اور نہ سنی۔ اس کے ساتھ
ساتھ قصے کے چار درویشوں کی مانند خواجه سگ پرست خوشامدی بھی ہے اور زیر باد اور سراندیپ کی شہزادی کے
سامنے جہاں تہاں خوشامد کرتا اور گڑ گڑاتا ہے .دوسرے درویشوں کی طرح جنس اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے
اس لیے بوڑھا ہونے کے باوجود کم سن شہزادی سے شادی کے لیے بے تاب ہے .لیکن مختصرًا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ
.اپنی بہت کی خامیوں کے باوجود چاروں درویشوں سے یہ کردار مختلف اور منفرد ہے
حوالہ جات :
اردو لغت ریختہ ،ڈکشنری ،
رفیع الدین ہاشمی ،اصناف ادب ،سنگ میل پبلیشرز ،الہور ،2018 ،ص109
ص 110 رفیع الدین ہاشمی """"،ایضا"""
ڈاکٹر گیان چند جین ،اردو کی نثری داستانیں ،بک ٹاک میاں چیمبر 3،روڈ ،الہور،ص6
میر امن دہلوی ،باغ و بہار ،الفیصل ناشران و تاجران کتب ،غنرنی سٹریٹ اردو بازار ،الہور ،ص 07
ص10 میر امن دہلوی """"،ایضا """"
میر امن دہلوی ،باغ و بہار ،الفیصل ناشران و تاجران کتب ،غنرنی سٹریٹ اردو بازار ،الہور ،ص 53
:کتابیات