0% found this document useful (0 votes)
769 views17 pages

6481 1

Uploaded by

Ehsan Gujjar
Copyright
© © All Rights Reserved
We take content rights seriously. If you suspect this is your content, claim it here.
Available Formats
Download as DOCX, PDF, TXT or read online on Scribd
0% found this document useful (0 votes)
769 views17 pages

6481 1

Uploaded by

Ehsan Gujjar
Copyright
© © All Rights Reserved
We take content rights seriously. If you suspect this is your content, claim it here.
Available Formats
Download as DOCX, PDF, TXT or read online on Scribd

‫جواب نمبر ‪1‬ـ‬

‫باغ و بہار میر امن دہلوی کی تصنیف کردہ ایک داستان ہے جو اُنھوں نے فورٹ ولیم کالج میں جان‬
‫گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ عام خیال ہے کہ باغ و بہار کو میر امن نے امیر خسرو کی فارسی‬
‫داستان قصہ چہار درویش سے اردو میں ترجمہ کیا ہے لیکن یہ خیال پایہ استناد کو نہیں پہنچتا۔ حافظ‬
‫محمود شیرانی نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس قصے کا امیر خسرو سے دور دور کا بھی واسطہ‬
‫نہیں ان کے مطابق یہ قصہ محمد علی معصوم کی تصنیف ہےباغ و بہار فورٹ ولیم کالج کی دین ہے‬
‫جو انگریزوں کو مقامی زبانوں سے آشنا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور یہیں میر امن نے باغ و بہار‬
‫کو جان گل کرائسٹ کی فرمائش پر میر حسین عطا تحسین کی نو طرز مرصع سے استفادہ کرکے‬
‫تصنیف کیا۔ اس طرح یہ داستان اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے بجا طور‬
‫پر جدید اردو نثر کا پہال صحیفہ قرار دیا گیا ہے۔ اس داستان کی اشاعت کے بعد اردو نثر میں پہلی‬
‫مرتبہ سلیس زبان اور آسان عبارت آرائی کا رواج ہوا اور آگے چل کر غالب کی نثر نے اسے کمال تک‬
‫پہنچا دیا۔ اسی بنا پر مولوی عبدالحق کا کہنا ہے کہ اردو نثر کی ان چند کتابوں میں باغ و بہار کو شمار‬
‫کیا جاتا ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ہیں اور شوق سے پڑھی جائیں گی۔ بقول سید محمد‪" ،‬میر امن‬
‫نے باغ و بہار میں ایسی سحر کاری کی ہے کہ جب تک اردو زبان زندہ ہے مقبول رہے گی اور اس کی‬
‫مرور ایام کے ساتھ کوئی کمی نہ ہوگی۔" نیز سید وقار عظیم کے الفاظ میں "داستانوں‬
‫ِ‬ ‫قدر و قیمت میں‬
‫میں جو قبول عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا‬
‫یہ ترجمہ جان گلکرسٹ کی فرمائش پر میر امن نے کیا اور پہلی بار اشاعت ہندوستانی پریس‪ ،‬کلکتہ‬
‫سے ہوئی‪ ،‬کتاب کے دیباچے میں جان گلکرسٹ نے کتاب کو امیر خسرو کے قصہ چہار درویش کا‬
‫ترجمہ قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ امیر خسرو کے قصے کے کا ترجمہ پہلے عطا حسین خان نے نو‬
‫طرز مرصع کے عنوان سے کیا تھا‪ ،‬لیکن عربی و فارسی استعارے اور محاورے برقرار رکھے‪ ،‬اس‬
‫نقص کو دور کرنے کے لیے‪ ،‬میر امن نے سادہ سہل زبان اور ریختہ کے محاورے میں منتقل کیا۔ اس‬
‫پہلی اردو اشاعت میں ‪ 269‬اردو کے اور ‪ 4‬صفحات انگریوی کے تھے اور ‪ 19‬صفحوں پر غلط نامہ‬
‫(کتابت کی غلطیوں کی نشان دہی)‪ ،‬کتاب میں اکثر مقامات پر اعراب کا استعمال کیا گیا ہے۔ کتاب کا‬
‫دوسری بار اشاعت‪ ،‬پھر اسی ہندوستانی پریس‪ ،‬کلکتہ سے ہوئی‪ ،‬اب کی بار اعراب کی کثرت‪ ،‬قلت میں‬
‫بدل گئی۔ اس دوسری اشاعت پر غالم اکبر نے نظر ثانی کی۔ یہ نسخہ کیپٹن طامس روبک کی زیر‬
‫)‪ (Mouat‬نگرانی چھپا۔ پہلی اور دوسری دونوں اشاعتوں کا انتساب بنگال انجینئرز کے جیمز مؤات‬
‫کے نام ہے۔ جو فورٹ ولیم کالج میں اردو کے سبق استاد تھے۔‬
‫داستانوں میں جو قبول عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب‬
‫نہیں ہوا۔ عوام اور خواص دونوں میں یہ داستان آج بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی آج سے پونے دو سو‬
‫برس پہلے تھی۔ اس کی غیر معمولی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس کا دلکش اسلوب اور دلنشین‬
‫انداز بیان ہے جو اسے اردو زبان میں ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔‬
‫باغ و بہار کے ُمصنّف میرامن دہلوی چونکہ فورٹ ولیم کالج سے متعلق تھے‪ ،‬اس لیے اس کی تصانیف‬
‫پیش نظر رہے جن‬
‫ِ‬ ‫بھی کالج کے متعینہ مقاصد کے تحت لکھی گئیں اور ان میں وہ تقاضے بالخصوص‬
‫کی نشان دہی ڈاکٹر جان گل کرائسٹ نے کی تھی۔ فورٹ ولیم کالج کے لیے جتنی کتابیں تالیف ہوئیں ان‬
‫میں لکھنے والوں نے سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دی کہ کتاب کی زبان سادہ اور سلیس ہو اور بول‬
‫چال کی زبان اور روزمرہ محاورہ کا خیال رکھا جائے۔ چونکہ اس سے مقصود انگریز نو واردوں کو‬
‫مقامی زبان و بیان اور تہذیب و معاشرت سے آشنا کرنا تھا۔ اس لیے فورٹ ولیم کالج کے لکھے گئے‬
‫قصوں میں زبان و بیان پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ باغ وبہار کو ِمنجملہ دوسری خوبیوں کے زبان و‬
‫بیان کے لحاظ سے بھی فورٹ ِولیم کالج کی دوسری کتابوں پر فوقیت حاصل ہے۔ باغ و بہار کی اس‬
‫فوقیت کی پیش نظرسرسید کا یہ قول بہت مشہور ہوا کہ میر امن کا اردو نثر میں وہی مرتبہ ہے جو میر‬
‫کا غزل گوئی میں۔۔‬

‫باغ و بہار اپنے وقت کی نہایت فصیح اور سلیس زبان میں لکھی گئی ہے۔ میر امن دہلی کے رہنے والے‬
‫ہیں اور اُن کی زبان ٹھیٹھ دہلی کی زبان ہے۔ میر امن صرف دہلی کی زبان کو ہی مستند سمجھتے ہیں‬
‫چنانچہ اس کو انہوں نے ہزار رعنائیوں کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ باغ و بہار کے دیباچے میں میر امن‬
‫نے اپنے کو دلی کا روڑا اور پشتوں سے دلی میں رہائش کرنے اور دلی کے انقالب کو دیکھنے کے‬
‫ناطے خود کو زبان کا شناسا بتایا ہے اور اپنی زبان کو دلی کی مستند بولی کہا ہے۔ اردو کی پرانی‬
‫کتابوں میں کوئی کتاب زبان کی فصاحت اور سالست کے لحاظ سے باغ و بہار کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔‬
‫اگرچہ زبان میں کئی تبدیلیاں ہو چکی ہیں‪ ،‬الفاظ و محاورات اور فقرات و تراکیب میں مختلف النوع‬
‫تغیرات آ گئے ہیں اس وقت کی زبان اور آج کی زبان میں بڑا فرق ہے لیکن باغ و بہار اب بھی اپنی‬
‫ب تحریر کا حصہ‬
‫طرز بیان اور اسلو ِ‬
‫ِ‬ ‫دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہے یہ دلکش اعجاز میر ا ّمن کے‬
‫ہے۔ میر امن ہر کیفیت اور واردات کا نقشہ ایسی خوبی سے کھینچتے اور ایسے موزوں الفاظ استعمال‬
‫کرتے ہیں کہ کمال انشا پردازی کی داد دینا پڑتی ہے۔ نہ بے جا طول ہے نہ فضول لفاظی ہے۔‬
‫میر امن کو اس چیز کا بہت صحیح اندازہ ہے کہ کس موقع پر کون سی بات کس حد تک پھیال کر اور‬
‫کس حد تک مختصر کرکے بیان کی جائے کہ وہ تصویر کشی‪ ،‬واقعہ نگاری‪ ،‬کردار اور سیرت کی‬
‫مصوری اور افسانوں میں دلچسپی کے مطالبات پورے کر سکے اور اس لیے جہاں اُن کی داستان میں‬
‫ہمیں واقعات کی تفصیالت ملتی ہیں‪ ،‬ایسے موقع بھی بے شمار ہیں کہ انھوں نے اپنی بات کو سمیٹ کر‬
‫تھوڑے سے لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔ میر امن کہانی بناتے وقت یہ بات کبھی نہیں بھولتے کہ بات‬
‫کتنے لفظوں میں کہنی چاہیے تاکہ بات کا تاثر اور دلکشی برقرار رہ سکے۔ بقول سے وقار عظیم‪" ،‬میر‬
‫امن کی عبارت میں ناظر یا سامع کو اپنے اندر جذب کر لینے کی جو خصوصیت ہے اس میں اور بہت‬
‫سی چیزوں کے ساتھ اس بات کو بھی اہمیت حاصل ہے کہ ہر بات اتنے ہی لفظوں میں کہی جاتی ہے‬
‫جتنے اُسے موثر اور دل کش بنانے کے لیے ضروری ہے"۔‬

‫میر امن تصویروں کو متحرک اور زندہ تصویریں بناتے ہوئے اپنے قارئین کی ذہنی سطح کو ملحوظ‬
‫رکھتے ہیں اس میں فکری گہرائیوں کی بجائے فوری پن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ ہر آدمی‬
‫اس سے لطف اٹھا سکے۔ وہ اس مقصد کے پیش نظر ایسی سادہ تشبیہوں کا استعمال کرتے ہیں جو‬
‫روزمرہ زندگی سے متعلق ہیں اور اس کے باجود اپنے اندر بڑی ندرت رکھتی ہیں۔ میر امن تشبیہوں‬
‫کے عالوہ تمثیلوں سے بھی کام لیتے ہیں۔ باغ و بہار چونکہ دہلی کی نمائندہ کتاب ہے اور دہلی کی‬
‫فطرت میں ایک مالل پایا جاتا ہے اس لیے باغ و بہار کی نثر نے بھی یہ رنگ قبول کیا ہے۔ کتاب کا‬
‫کوئی بھی صفحہ پڑھنا شروع کریں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی دل میں آہستہ آہستہ نشتر چھبو‬
‫رہا ہے۔ لیکن اس سے جو درد پیدا ہوتا ہے اس میں کچھ ایسی مٹھاس اور لذت ہوتی ہے کہ نہ اُسے بیان‬
‫کرنے کو جی چاہتا ہے اور نہ اس کا بیان ممکن ہے بقول ڈاکٹر سہیل بخاری‪" ،‬باغ و بہار کی انشاء میں‬
‫"ایسا سوز و گداز رچ گیا ہے جو پڑھنے والے کے کلیجے کو گرما دیتا ہے‬
‫مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو باغ و بہار ان چند کتابوں میں سے ہے جن کی زبان اور طرز بیان‬
‫ان کے نفس مضمون سے زیادہ اہم ہے یہ ایک ایسے اسلوب کی نمائندہ ہے جس کی کوئی تقلید نہ کر‬
‫سکا۔ پھر بھی باغ و بہار کے باغ پر ہمیشہ بہار رہی ہے اور رہے گی۔ باغ و بہار کی ان خصوصیات‬
‫کے پیش نظر پروفیسر حمید احمد خان لکھتے ہیں‪" ،‬میر امن کی باغ و بہار پاکیزہ اور شفاف اردو کا‬
‫ابلتا ہوا چشمہ ہے"۔‬
‫اور اس کی زبان کے مولوی عبد الحق بھی ہمیشہ گن گاتے رہے اور یہاں تک کہہ گئے کہ‪" ،‬میں جب‬
‫اردو بھولنے لگتا ہوں تو باغ و بہار پڑھتا ہوں"۔‬

‫جواب نمبر ‪2‬ـ‬


‫سرور کی لکھی ہُوئی داستان ہے۔ بقول شمس الدین احمد‬
‫ؔ‬ ‫فسانہ عجائب رجب علی بیگ‬
‫فسانہ عجائب لکھنؤ میں گھر گھر پڑھا جاتا تھا اور عورتیں بچوں کو کہانی کے طور پر سنایا کرتی‬
‫“تھیں اور بار بار پڑھنے سے اس کے جملے اور فقرے زبانوں پر چڑھ جاتے تھے۔‬
‫سرور ‪1786‬ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور ‪1867‬ء کو بنارس میں وفات پائی۔ سرور کو فارسی اور‬
‫اردو پر پوری پوری دسترس حاصل تھی۔ شعر و شاعری کے بڑے شوقین تھے۔ فسانہ عجائب ان کی‬
‫سب سے مشہور تصنیف ہے جو ایک ادبی شاہکار اور قدیم طرز انشا کا بہترین نمونہ ہے۔ اس کی‬
‫مقفی اور مسجع‪ ،‬طرز بیان رنگین اور دلکش ہے۔ ادبی مرصع کاری‪ ،‬فنی آرائش اور علمی‬
‫ٰ‬ ‫عبارت‬
‫گہرائی کو خوب جگہ دی گئی ہے۔‬
‫اگرچہ فورٹ ولیم کالج کی سلیس نگاری نے موالنا فضلی اور مرزا رسوا کے پرتکلف انداز تحریر پر‬
‫کاری ضرب لگائی تھی۔ اور اس کا ثبوت باغ و بہار کی سادہ و سلیس نثر ہے۔ تاہم پھر بھی اکثر ادبا ہٹ‬
‫دھرمی کا ثبوت دیتے ہوئے قدیم طرز کے دلدادہ اور پرستار رہے۔ رجب علی بیگ سرور بھی اسی‬
‫لکیر کو پیٹ رہے تھے۔ چنانچہ باغ و بہار کے آسان اور عام فہم اسلوب پر اس زمانے میں اعتراضات‬
‫کیے جانے لگے اور سرور نے جوابا ً ”فسانہ عجائب“ کی صورت میں مشکل اورمقفی عبارت لکھ کر‬
‫باغ و بہار کی ضد پیش کی اور اس زمانے میں خوب داد حاصل کی۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری‬
‫معلوم ہوتا ہے کہ فسانہ عجائب جو میر ا ّمن کی باغ و بہار کے جواب میں لکھی گئی تھی‪ ،‬اس کے‬
‫جواب میں دہلی کے فخر الدین حسین نے سروش سخن تحریر کی۔ بعد ازاں سروش سخن کے جواب میں‬
‫منشی جعفر علی شیون کاکوروی نے طلسم حیرت نامی داستان رقم کی جس پر باآلخر اس داستانی‬
‫مقابلے کا خاتمہ ہوا۔‬
‫‪:‬ڈاکٹر عابدہ بیگم فسانہ عجائب کے متعلق لکھتی ہیں‬
‫فسانہ عجائب اپنے دور کی مقبو ل ترین کتا ب تھی۔ یہ متاثرین فارسی کی انشاپردازی کا اردو جواب”‬
‫“تھی۔ سرور نے کچھ ایسا جادو جگایا جو تیس سال تک اردو نثر کے سر پر چڑھا رہا۔‬
‫فسانہ عجائب کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ اس کی عبارت از اوّل تا آخر‬
‫ٰ‬
‫مقفی اور مسجع ہے۔ سرور موقع و محل کے مطابق زبان اختیار کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔‬
‫منظر کشی‪ ،‬مختلف فنون کی اصطالحیں‪ ،‬ہر قسم کے سازو سامان کی تفصیالت‪ ،‬عوام الناس کے‬
‫مختلف طبقوں کا طرز کالم‪ ،‬گویا ہر قسم کا بیان اس کے مناسب اور موزوں الفاظ میں کیا گیا ہے۔‬
‫عبارت آرائی اور قافیہ بندی میں سرور کو قدرت اور استادانہ مہارت حاصل تھی۔ اور یہ کتاب اردو نثر‬
‫پر کئی حوالوں سے اثر انداز ہوئی۔‬
‫اس کتاب سے ایک ادبی روایت کی مستحکم بنیاد پڑی۔ اردو کی کم کتابوں نے اپنے عہد کی زبان اور ”‬
‫“ادب پر اتنا اثرڈاال جتنا فسانہ عجائب نے۔‬
‫فسانہ عجائب کی زبان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک قسم سلیس اور بامحاورہ زبان اور‬
‫دوسری قسم وہ پیچیدہ اور گراں بار زبان ہے جس کو سمجھنے کے لیے قاری کو فرنگی محل کی‬
‫گلیوں کی خاک چھاننا پڑتی ہے۔‬

‫سادگی و پرکاری‬
‫اردو کی کم کتابوں کو تعریف و تنقیص اور تعظیم و تحقیر کے اتنے متضاد تجربے ہوئے ہوں گے‬
‫جتنے ”فسانہ عجائب “ کو سامنا کرنا پڑا۔ بعض نقادوں کا خیال ہے کہ یہ کتاب اپنے اسلوب کی وجہ‬
‫سے مقبول ہوئی۔ جبکہ کچھ نقاد اس کی طرز تحریر سے ناالں ہیں۔ مثال کے طور پر کلیم الدین احمد‬
‫لکھتے ہیں۔ ”فسانہ عجائب ایک عجوبہ روزگار ہے اس کی ممکن ہے کچھ تاریخی اہمیت ہو لیکن زندہ‬
‫“ادب میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔‬
‫اس رائے کی سب سے بڑی وجہ مسجع اور ٰ‬
‫مقفی اور آورد سے بھر پور زبان ہے۔ اُن کی عبارت آرائی‬
‫کی مثال مندرجہ ذیل ہے۔‬
‫اس نقش قدرت پر تصویر مانی و بہزاد حیران او ر صناعی آذر کی ایسے بعت حقیقت کے روبرو”‬
‫پشمان۔“ لیکن اس کے برعکس جو لوگ مرزا سرور کی ٰ‬
‫مقفی اور مسجع اور دقیق نثر پر معتر ض ہیں‬
‫انہیں مرزا کا یہ اقتباس بھی دیکھنا چاہیے۔ اس جیسے بے شمار اقتباسات فسانہ عجائب سے نقل کیے جا‬
‫سکتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فسانہ عجائب میں سہل ممتنع اور سادگی سے بھی کام لیا گیا‬
‫ہے۔ ” شہزادہ گھوڑے سے اتر کر نلکہ کے پاس گیا۔ وسم سالم بجا الیا۔ اس نے دعائے خیر دے کر‬
‫“ چھاتی سے لگایا۔ کہا‪ :‬الحمدہللا تمہیں صحت و عافیت نے کامیاب کر دکھایا۔‬
‫ٰ‬
‫الہدی نے کلیم الدین احمد کی رائے کو انتہا پسندانہ قرار دیا ہے۔ ان کا خیال ہے۔ ” بالشبہ‬ ‫اس لیے قمر‬
‫اس انداز تحریر کو اپنایا نہیں جا سکتا‪ ،‬مگر یہ ایک دور‪ ،‬ایک تہذیب کا نمائندہ اسلوب ہے۔ اسے اسی‬
‫“نظر سے دیکھنا چاہیے۔‬

‫قافیہ پیمائی‬
‫یحیی تنہا کا خیال ہے کہ‬
‫ٰ‬ ‫‪،‬سرور کے بارے میں‬
‫فسانہ عجائب اپنے خاص رنگ میں بہترین تصنیف ہے۔ جس کی عبارت‪ٰ ،‬‬
‫مقفی و مسجع ہے۔ یہ ”‬
‫رنگینی اور قافیہ پیمائی فارسی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ لیکن اردو میں اس انداز تحریر کے آپ ہی‬
‫“موجد ہیں۔‬
‫سرور کی عبارت میں قافیہ بندی عام پائی جاتی ہے۔ وہ بعض اوقات کسی پیراگرا ف کے چند فقروں کو‬
‫مقفی کرتے ہیں اور بعض دفعہ پورا پیراگراف ٰ‬
‫مقفی ہوتا ہے۔ کئی بار وہ جملوں کو ہم قافیہ التے ہیں‬ ‫ٰ‬
‫اور کئی بار اس سے زیادہ فقروں کو۔ جہاں مسلسل قافیہ بندی سے کام لیا گیاہے وہاں قافیے بدلتے‬
‫رہتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ دوتین تین جملوں یا اُن کے اجزاءکے بعد قافیہ آیا ہے۔ آئیے سرور کی‬
‫قافے ہ بندی کی ایک مثال دیکھتے ہیں۔‬
‫اس رات کی بے قراری‪ ،‬گریہ وزاری‪ ،‬اختر شماری‪ ،‬شہزادے کی کیا کہوں ہر گھڑی بہ حال پریشاں‪” ،‬‬
‫رخ سحر ہو۔‬
‫“سوئے آسماں مضطر نگراں تھا کہ رات جلد بسر ہو جائے‪ ،‬نمایاں ِ‬

‫اختصار‬
‫اس داستان میں اختصار کی وجہ سے ابتداءاور انتہا میں ایک ربط پید ا ہوا۔ جبکہ گردو پیش کے ماحول‬
‫اور حال سے متاثر ہے۔ یعنی ماضی کو حال کا رنگ دیا گیا ہے۔ جبکہ مصنف نے اسلوب کو کتاب کی‬
‫دلچسپی کی جان بنایا ہے۔ گویا اختصار اور قصوں کے درمیان باہمی ربط نے ناول کے لیے آئندہ کے‬
‫لیے راستہ بنایا۔ دوسرے دلکش اسلوب کے لیے جس کی پیروی آزاد نے کی کے لیے راستہ ہموار کیا۔‬
‫‪،‬ڈاکٹر منیر مسعود فسانہ عجائب کے اختصار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ‬
‫فسانہ عجائب کا اختصار اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کہ بعد میں جو داستانیں اس سے متاثر ہو کر”‬
‫لکھی گئیں ان میں طوالت سے پرہیز کیا گیا اور اس طرح اردو ناول کے لیے راہ ہموار ہوئی۔‬
‫عزیز احمد اسی اختصار کی وجہ سے فسانہ عجائب کو ناول سے قریب مانتے ہیں‪ ،‬مگر ڈاکٹر سہیل‬
‫بخاری کو اس بات سے اتفاق ہے کہ فسانہ عجائب داستان اور ناول کی درمیانی کڑی ہے اور اس کتاب‬
‫نے ناول کی پیدائش میں بہت کچھ مدد دی ہے۔‬

‫مکالمہ نگاری‬
‫سرور کی مکالمہ نگاری کی اکثر ناقدین نے تعریف کی ہے۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ سرور کی مکالمہ‬
‫نگاری میں کافی حد تک پختگی پائی جاتی ہے اور یہ انداز سرور سے پہلے کے افسانوی ادب میں‬
‫تقریبا ً مفقود ہے۔ سرور نے مکالمات میں لکھنوی لہجہ اور مزاج اپنایا ہے اور ہر کردار کے سماجی‬
‫مرتبہ و حیثیت کے مطابق اس سے بات کہلوائی ہے۔‬
‫سوداگر اور بھٹیاری کا مکالمہ سنیے‬
‫سوداگر ‪ :‬یہاں کون رہتا ہے‬
‫!بھٹیاری ‪ :‬چڑی مار‬
‫سوداگر ‪ :‬اس کا لڑکا خوب باتیں کرتا ہے۔‬
‫بھٹیاری ‪ :‬لڑکا باال تو کوئی نہیں فقط جورو خصم رہتے ہیں۔‬
‫جواب نمبر ‪3‬ـ‬
‫غالم عباس ‪ 17‬نومبر ‪1909‬ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم الہور میں مکمل کی۔ آل‬
‫انڈیا ریڈیو کے رسالے "آواز" اور ریڈیو پاکستان کے رسالے "آہنگ" کے مدیر رہے۔ ‪1954‬ء سے لے‬
‫کر ‪1967‬ء تک بی بی سی کی اردو سروس سے منسلک رہے۔‬
‫انہوں نے متعدد افسانے اور ناول لکھے اور صدر ایوب خان کی کتاب "فرینڈز ناٹ ماسٹرز" کا اردو‬
‫زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ اُن کے افسانوی مجموعوں میں 'آنندی'‪' ،‬جاڑے کی چاندنی'‪' ،‬کن رس'‪،‬‬
‫'دھنک' اور'گوندنی واال تکیہ'جبکہ تراجم میں'زندگی نقاب چہرے'‪' ،‬الحمرا کے افسانے' اور 'انگریزی‬
‫افسانے' شامل ہیں۔ وہ ماہنامہ "تہذیب نسواں" اور بچوں کے رسالے "پھول" کے ایڈیٹر بھی رہے۔ انہوں‬
‫نے بچوں کے لیے نظموں کی کتاب "چاند تارا" بھی لکھی۔ غالم عباس کو ان کی کتاب "جاڑے کی‬
‫ت پاکستان نے انہیں ستارہ ٔامتیاز کا‬
‫چاندنی" پر آدم جی ادبی انعام مال۔ اس کے عالوہ ‪1967‬ء میں حکوم ِ‬
‫اعزاز بھی عطا کیا تھا۔‬
‫غالم عباس ‪ 2‬نومبر ‪1982‬ء کو کراچی میں انتقال کر گئے اور وہیں سوسائٹی قبرستان میں آسودٔہ خاک‬
‫ہوئے۔‬
‫کتبہ‬
‫کتبہ افسانہ غالم عباس کے شاہکار افسانوں میں سے ایک نمائندہ افسانہ ہے ۔ راست اسلوب کے اس‬
‫افسانہ کا بیانہ سادہ اور اکہرا ہے ۔ جس کی بُنت بہت مضبوط ہے ۔ تحریر میں انتہائی روانی اور‬
‫سادگی ہے ۔ انجام تک پہنچتے پہنچتے قاری بھی ایک دکھ بھری سانس لے کر رہ جاتا ہے ۔ اس افسانہ‬
‫بالکل درست بیٹھتی ہے کہ زرا سی بات کو افسانہ بنا دیا ۔ اس تحریر کا‬ ‫پر یہ کہاوت ‪ /‬محاورہ‬
‫پالٹ بہت جاندار ہے قاری کو باندھ کر رکھ دیتا ہے۔‬
‫کردار نگاری‬
‫اس افسانہ میں ایک ہی مرکزی کردار ہے شریف حسین ۔ جو کہ دفتر میں کلرک ہے ۔ سارا افسانہ اسی‬
‫کے گرد گھوم رہا ہے ۔ مصنف نے یہ ایک ایسا کردار کیا ہے جس کی سادہ سی زندگی گونا گوں‬
‫پیچیدہ مسائل سے بنرد آزما ہے ۔ جو اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی تگ و دو میں نجانے‬
‫کتنی حسرتیں دل میں دبائے مر جاتے ہیں ۔ شریف حسین ایک عمدہ ذوق اور جمالیات رکھنے واال‬
‫شخص ہے ۔ لیکن ایک کلرک کی تنخواہ سے وہ جس طرح زندگی کو گھسیٹ کر جینے کے اسباب بنا‬
‫رہا ہے ‪ ،‬اس کی یہ حسیات اندر ہی دبی ہوئی ہیں ‪ ،‬اچانک کباڑیئے کے پاس ایک سنگ مر مر کا ٹکڑا‬
‫اس کی توجہ اس قدر کھینچ لیتا ہے کہ وہ ایک روپیہ میں اسے خرید لیتا ہے ۔ پھر اس کے دل میں‬
‫اپنا مکان بنانے کی خواہش بھی سر اٹھاتی ہے تو سنگ مر مر کے ٹکڑے پر اپنا نام لکھواتا ہے ۔‬
‫لیکن سالہا سال کی سر توڑ کوشش سے بھی حاالت میں بہتری نہ آئی ۔ ریٹائرڈ ہوا بچے جوان ہوئے‬
‫اور شریف حسین یہ آرزو لیے مر گیا ۔ آخر وہ سنگ مر مر کا ٹکڑا اس کی قبر پر لگا دیا جاتا ہے ۔‬
‫غالم عباس صاحب کا فن یہاں اپنے عروج پہ ہے جس چابکدستی سے انھوں نے صرف ایک ہی‬
‫کردار کے ذریعے زندگی کا ایک پورا دور اور اس کا درد قاری کو دکھا دیا ۔‬
‫منظر نگاری‬
‫افسانہ کا آغاز ہی ایک شاندار منظر نگاری سے ہوتا ہے ‪ ،‬کہ پورا منظر مکمل جزیات کے ساتھ قاری‬
‫کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔ کہ عمارتوں کے دفاتر میں کام کرنے والے چار ہزار افراد‬
‫سامنے چلتے پھرتے محسوس ہونے لگتے ہیں ۔ دفتروں سے نکلنے والے کلرک اپنی مکمل وضع‬
‫قطع کے ساتھ فائلیں اٹھائے گھروں کو جاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ پڑھنے واال شریف حسین کے ساتھ‬
‫تانگے پر بیٹھ کر جامع مسجد کے گرد سجنے والے بازار پہنچ جاتا ہے ۔ جہاں کی ایک ایک دکان‬
‫اور اس کے معیار کا نقشہ ایسی خوبصورتی سے کھینچا گیا ہے کہ ظروف ‪ ،‬گلدان ‪ ،‬گھڑیاں ‪ ،‬فوٹو‬
‫گرافر ‪ ،‬گراموفون ‪ ،‬ستار ‪ ،‬بھُس بھرا ہرن ‪ ،‬پیتل کے لم ڈھینگ ‪ ،‬بدھ کا نیم قد مجسمہ ۔۔۔۔ سب‬
‫نظروں میں اُتر آتے ۔‬
‫سنگ مرر کے ٹکڑے کو پسند کرنے کے محسوسات ‪ ،‬اس کو خریدنے اور نہ خریدنے کی کشمکش‬
‫بیان کرنے میں مصنف کو ملکہ حاصل ہے ۔ پھر آخر عمر تک اس سنگ مر مر کے ٹکڑے کے جو‬
‫رویہ اور احساس شریف حسین محسوس کرتا رہا ‪ ،‬غالم عباس قاری کو بھی وہی محسوس کرواتے‬
‫رہے ۔‬
‫مکالمہ نگاری‬
‫اس افسانہ میں مکالمہ نگاری نہ ہونے کے برابر ہے ‪ ،‬کہیں کہیں خود کالمی سے بھی ہے ۔ لیکن‬
‫جو چند ایک مکالمہ ہے وہ عین ضرورت اور کردار کے مطابق ہے ۔ فطری انداز میں ہے ۔‬
‫زبان و بیاں و اسلوب‬
‫غالم عباس کے افسانوں میں زبان و بیان کی سادگی کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ وہ ایک حقیقت نگار بھی‬
‫تھے۔انہیں اپنے انداز بیان کی سادگی کااور واقعات کی صداقت کا یقین ہوتا تھا۔ ان کے افسانے زندگی‬
‫کے دائمی عمل کو پیش کرتے ہیں۔ وہ فرد کی بجائے معاشرے کی تشکیل کو موضوع بناتے تھے۔ وہ‬
‫کسی خاص موضوع ‪ ،‬اسلوب یا جذباتی فضا میں بند بیانیہ سے افسانہ تخلیق نہیں کرتے بلکہ ایک‬
‫صورت حال ہوتی ہے جو بیان اور کردار کے تفاعل کو ہمارے لئے قاب ِل قبول بناتی ہے ۔ بیان غالم‬
‫عباس کے یہاں وسیلہ ہے جس سے کہانی وجود میں آتی ہے۔ انہوں نے رواجی موضوعات کی بجائے‬
‫عام زندگی کے گوشے نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے ۔‬

‫جواب نمبر ‪4‬ـ‬


‫دراصل جس زندگی سے افسانہ نگار کی واقفیت درست اور براہ راست ہو اسے اپنے تخیل میں خام مواد‬
‫کے طور پراستعمال کرنا سونے پر سہاگے کے مترادف ہوتا ہے۔ یہاں ایک بات یہ بھی کہی جا سکتی‬
‫ہے کہ ندیم نے ممکن ہے متوسط یا دیہات کی زندگی کا انتخاب یہ سوچ کر کیا ہو کہ متوسط یا زیادہ تر‬
‫نچلے طبقوں کی زندگی میں جو زمین میں اپنی جڑیں مضبوط رکھتے ہیں اور مٹی سے جن کا ناتا بڑ‬
‫بھر پور ہوتا ہے بنیادی انسانی محرکات کا مطالعہ جس بے ساختگی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے اتنا شاید‬
‫ان لوگوں کے حوالے سے ممکن نہ ہو جو اپنی فطرت ِ انسانی کو مصنوعی تہذیب‪ ،‬معاشرت کا لبادہ‬
‫پہنا دیتے ہیں اور یوں ان کا مصنوعی پن ان کے رہن سہن کے تمام بنیادی رویے مصنوعی بنا دیتا ہے۔‬
‫اگرچہ منافقت کے حوالے سے مختلف کرداروں پر لکھے گئے ندیم کے افسانوں کے بنیادی موضوعات‬
‫وہ معاشرتی قدغنیں ہیں معاشی ناہمواریاں ہیں جو ہماری زندگی میں قدم قدم پر موجود ہیں اور بھیس‬
‫بدل بدل کر ہمارا استحصال کرتی ہیں انہی کی وجہ سے ظلم و انتقام کی بے شمار شکلیں ہمارے سامنے‬
‫آتی ہیں اور سیاست و مذہب کے ٹھیکیدار اپنے مفادات کی بقا کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر ان‬
‫فاصلوں کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔‬

‫جنگ عظیم کے اثرات‬


‫اسی طرح ان کے افسانوں کے موضوعات میں مقامی جنگوں کے عالو ہ عالمی جنگیں بھی ہیں جن کی‬
‫تباہ کاریوں کا نشانہ وہ ضرور ت مند بنتے ہیں جن کے پیٹ روٹی مانگتے ہیں اور جن کے بدن لباس‬
‫کو ترستے رہتے ہیں اور جو اپنی مادی ضروریات کے ہاتھوں مجبور ہو کر بخوشی غیر حکومت کے‬
‫مقاصد کی تکمیل غیر محسوس طریقے سے کرتے ہیں۔ اور یوں غیروں کی جنگ میں ایندھن کا کام‬
‫دیتے ہیں۔ ندیم کے ایسے افسانوں میں خصوصیت کے ساتھ ”ہیروشیما سے پہلے۔ ہیروشیما کے بعد“ کا‬
‫نام لیاجا سکتا ہے جو اردو کے بہترین اور بڑے افسانوں میں سے ایک ہے اور جس سے ہمیں یہ اندازہ‬
‫بھی ہوتا ہے کہ جنگیں اپنے اختتام کے باجود بھی ایسے کئی سماجی مسائل پیدا کر جاتی ہیں جن میں نہ‬
‫انسانوں کی عزت و عصمت محفوظ رہتی ہے نہ خاندانوں کی عظمت و آبرو۔‬
‫وسعت نظر‬
‫ادیب کا کام اپنے دور کی زندگی کی ترجمانی اپنے دور کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر عہد کے لیے کرنا‬
‫ہوتی ہے۔ افسانے ”ہیرو شیما سے پہلے۔ ہیرو شیما کے بعد“ میں ہیرو شیما پر بم گرا کر جاپانیوں کو‬
‫شکست دینا دوسری عالمگیر جنگ کا شدید ترین واقعہ تھا لیکن ندیم صرف اس واقعے کے حوالے سے‬
‫نہیں بلکہ پوری جنگ کے پس منظر میں اس کا اثر پنجاب کے دیہات کی زندگی پر دکھاتا ہے۔ اس‬
‫جنگ کی وجہ سے پنجا ب کے گمنام سے گھرانے میں جو انقالب آیا وہ ساری جنگ کی اشاراتی‬
‫ترجمانی کرتا ہے۔ اس کی ہولناکیوں کا غماز ہے۔ معلوم ہوتا ہے جنگ کا ایک ایک لمحہ ایک ایک‬
‫واقعہ گائوں کی زندگی میں رچ بس گیا ہے اور صدیوں سے روایت کے ایک ہی محو ر پر زندگی‬
‫گزارنے واال یہی معاشرہ کشمکش اور تذبذب کا شکار ہو گیا ہے۔ بے یقینی کی کیفیت لہجوں میں جنم‬
‫لینے لگی ہے۔ ہیرو کا باپ گزرتے لمحوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش رکھنے واال‪ ،‬غربت کے حصار‬
‫سے نکلنے کے خواب دیکھنے واال۔ ہیرو کی غیر موجود گی میں اپنے فطری تقاضوں سے شکست‬
‫کھانے والی اور دوسرے مرد کے ساتھ بھاگ جانے والی ہیرو کی بیوی اور خود ہیرو وقت کے ساتھ‬
‫انسان کی تذلیل اور برباد ہونے والی انسانیت کی ایک عالمت ۔‬
‫فسادات‬
‫ندیم کے افسانوں کا ایک اہم موضوع وہ فسادات ہیں جو تقسیم ہند کے موقعے پر رونما ہوئے اور جن‬
‫کے پس منظر میں ظلم‪ ،‬جبر‪ ،‬درندگی اور بربریت کی ایسی ایسی داستانیں پنہاں ہیں جن سے انسانیت‬
‫کی تذلیل تکمیل تک پہنچی اورانسانی فطرت و ذہنیت کے انتہائی پست پہلو سامنے آئے۔ یہ موضوع ایسا‬
‫ہے جس نے اردو افسانے کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایااور اردو کے تقریبا ً سبھی قدآور افسانہ‬
‫نگاروں نے اس موضوع کو مثبت یا منفی حوالوں سے برتا۔ ندیم نے ان واقعات کے پس منظر میں جو‬
‫افسانے لکھے وہ اس حوالے سے بڑے اہم ہیں کہ ان میں جانبداری نہیں برتی گئی۔ ندیم اس سچائی کا‬
‫ادراک رکھتے ہیں کہ اچھے برے لوگ معاشرے کے تمام طبقوں میں ہوتے ہیں اور کوئی بھی قوم بہ‬
‫حیثیت مجموعی ساری کی ساری ظالم یا مظلوم نہیں ہوتی۔ زیادہ تر انفرادی رویے ہوتے ہیں جن کے‬
‫پس منظر میں انسان کی محرومیاں‪ ،‬ناکامیاں یا نفسیات کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ اسی لیے ندیم نے اس‬
‫حقیقت کے باوجود کہ اسے اپنی مٹی کی خوشبو عزیز ہے اسے اپنی پاکستانیت پر فخر ہے۔ فسادات کے‬
‫حوالے سے افسانے لکھتے ہوئے چھوٹی چھوٹی جزئیات پیش کرنے میں اپنی جذباتیت کو غالب نہیں‬
‫آنے دیا اور ایک بالغ النظر ادیب کے طور پر اپنے فرائض سے روگردانی نہیں کی۔‬

‫غیر جانبداری‬
‫فسادا ت کے موضوع پر لکھتے ہوئے بہت سے اہل قلم صرف تصویر کا ایک رخ بے ان کرتے ہیں۔‬
‫پاکستا ن سے تعلق رکھنے والوں نے غیر مسلموں کے ظلم و تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور‬
‫ہندوستان کے لکھاریوں نے مسلمانوں کو اس بربریت کا ذمے دار ٹھہرایا اور ا س نکتہ نظر سے لکھے‬
‫گئے بہت سے افسانے جانبداری اور رواداری کی گر د میں ہمیشہ کے لیے گم ہو گئے۔ تاہم منٹو کے‬
‫بعد ندیم و ہ اہم افسانہ نگار ہیں جس نے اپنے افسانوں میں یہ بات کہنے کی کوشش کی ہے کہ یہ حاالت‬
‫ہوتے ہیں جو کسی بھی قوم یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو مطمئن یا مشتعل کر سکتے‬
‫ہیں اور یہ کہ انسان دوستی کے عناصر آفاقی ہیں یہ صرف مسلمانوں‪ ،‬ہندوئوں‪ ،‬سکھوں‪ ،‬عیسائیوں تک‬
‫محدود نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں اُ ن کا افسانہ ”پرمیشور سنگھ“ بہت ہی اہم ہے۔‬
‫انسانی نفسیات سے آگاہی‬
‫ندیم نے اپنے افسانوں میں قبائلی دور کے انسان کے انتقام اور رقابت کے اس موضوع کو بھی اپنی‬
‫تحریروں میں شامل کیا ہے جو معمولی سے جھگڑے‪ ،‬نام نہاد اناپرستی یا جھوٹی غیرت کی بدولت‬
‫انسانوں کو خاک و خون میں نہال دینے کا پس منظررکھتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ندیم انسانی نفسیات سے‬
‫آگاہی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پتھر سے پتھر دل انسان میں بھی محبت‬
‫اور رحم کے جذبات ضرور ہوتے ہیں اور کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی غیر محسوس طریقے سے اپنا‬
‫اظہار بھی کرتے ہیں۔ نیکی او ر بدی کے جذبات انسانی کردار کی تکمیل کا ایک حوالہ ہیں۔ کوئی انسان‬
‫مکمل طور پر نیک نہیں ہو سکتا اور کوئی انسان پوری طرح کمینہ نہیں ہوتا۔ انسان صرف انسانہوتا ہے‬
‫جس میں اچھائی اور برائی کے عناصر اپنی نسبت کے حوالے سے کم و بیش ہوتے رہتے ہیں اور شاید‬
‫اسی سے انسان کی پہچان ممکن ہوتی ہے ورنہ تو وہ فرشتہ بن جائے یا پھر شیطان کہالئے۔ ندیم نے‬
‫اس موضوع پر جو افسانے لکھے ہیں ان میں انسانی نفسیات سے آگہی اور بیا ن میں فنی گرفت کے‬
‫تمام عوامل پوری طرح اپنی موزنیت کا احساس دالتے ہیں اس ضمن میں ان کے مشہور افسانے‬
‫”گنڈاسا“ کی مثال دی جاسکتی ہے جس میں ندیم نے ایک بہت ہی نازک لیکن جمالیاتی‪ ،‬نفسیاتی حقیقت‬
‫کی ترجمانی کی ہے۔‬

‫موضوعات کا تنوع‬
‫زندگی کا ہر جذبہ ایک دوسرے سے زنجیر کی کڑیوں کی طرح مال ہوا ہوتا ہے کوئی جذبہ اپنی ذات‬
‫میں اکیال نہیں ہوتا۔ پھول کی خوشبو میں مٹی کی مہک کے ساتھ ساتھ روشنی کی دھنک اور ہوا کی‬
‫سرسراہٹ بھی شامل ہوتی ہے۔‬
‫ندیم ایسا فنکار ہے جس نے ان نازک جزئیات کو محسوس بھی کیا ہے اور ان کے فنکارانہ اظہار میں‬
‫اپنے فنی قدو قامت کی بلندی کا ثبوت بھی بہم پہنچایا ہے۔ یہاں ایک اور اہم بات کی وضاحت از حد‬
‫ضروری ہے کہ کسی بھی افسانہ نگار کے لیے وجہ امتیاز یہ نہیں ہے کہ اس کے یہاں موضوعات ِ‬
‫زندگی کے تنوع میں سیاست‪ ،‬جمالیات‪ ،‬مذہب اور فلسفی موجود ہے یا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ان کی‬
‫موجود گی یا غیر موجو د گی میں انسانی فکر نظر اور ادراک و تیقن کوکس حد تک وسعت دے سکتا‬
‫ہے۔ اور اس کا نکتہ نظر میں کتنی انفرادیت‪ ،‬ہمہ گیری‪ ،‬توازن اور مرکزیت ہے۔‬
‫توازن اور غیر جانبداری‬
‫گوپی چند نارنگ نے درست کہا ہے کہ مقصد اور فن کا حسین توازن ندیم کی کامیابی کی ضمانت بن‬
‫گیا ہے۔ ندیم ترقی پسند تحریک کے سرگرم رکن اور عہدیدار بھی رہے ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ‬
‫وہ اتنا بڑ ا ترقی پسند نہیں جتنا بڑ افنکار ہے۔ اگرچہ اس کی ذہنی و فکری تشکیل میں مارکسزم کا ایک‬
‫نمایاں کردار ہے۔ تاہم و ادب میں پروپیگنڈے کی بے اعتدالی کا کبھی شکارنہیں ہوا۔ اس کی جڑیں اپنی‬
‫مٹی میں بڑی گہری ہیں۔ یوں وہ ایک غیر جانبدار مصنف کے روپ میں ابھر تے ہیں جن کے ہاں‬
‫نظریے کی آمیزش سے تیار کیے گئے افسانے جابجا نظر آتے ہیں اور دوسری طرف رومان کی حسین‬
‫فضا اور وطن کی مٹی سے محبت کا حوالہ بھی اُن کے افسانوں کا بنیادی خاصہ ہے۔‬

‫مجموعی جائزہ‬
‫ندیم کے افسانوں میں زمین اور انسان سے ان کی بے پایاں محبت اور بھی کھل کر سامنے آتی ہے۔ ان‬
‫کا تخیل پنجاب کی فضائوں میں چپے چپے سے روشناس ہے اور اس نے لہلہاتے کھیتوں‪ ،‬گنگناتے‬
‫دریائوں اور دھوپ میں جھلستے ہوئے ریت کے ذروں کو ایک نئی زبان دی ہے‪ ،‬نئی معنویت عطا کی‬
‫ہے۔ پنجاب کی رومانی فضاءاور وہاں کے لوگوں کی معصومیت و زندہ دلی‪ ،‬جرات وجفاکشی‬
‫اورخدمت و ایثار کی تصویریں ان کے افسانوں میں آخر الزوال ہو گئی ہیں۔ ان کے ہاں غم و غصے‪،‬‬
‫تعصب و نفرت اور تنگ نظر و تشدد کا شائبہ تک نہیں۔ ہر کہیں مہر و محبت‪ ،‬خلوص و وفااور صدق و‬
‫صفا کا سونا چمکتا محسوس ہوتا ہے اوریہی ان کی بڑائی کی دلیل ہے۔‬
‫جواب نمبر ‪5‬ـ‬
‫کردار نگاری‬
‫مولوی نذیر احمد کے اس ناول کی امتیازی خصوصیت کردار نگاری ہے۔ ویسے تو مراۃ العروس میں‬
‫بہت سے نمایاں کردار ہیں لیکن چند ایک اہم کردار وں کے نام یہ ہیں۔ دور اندیش خان‪ ،‬اکبری‪،‬‬
‫اصغری‪ ،‬خیراندیش خان‪ ،‬اکبر اور اصغری کی ساس‪ ،‬ماما عظمت‪ ،‬محمد عاقل‪ ،‬محمد کامل‪ ،‬محمد‬
‫فاضل۔ سیٹھ ہزاری مل‪ ،‬تماشا خانم‪ ،‬حسن آرائ‪ ،‬جمال آراء‪ ،‬شاہ زمانی بیگم‪ ،‬سلطانی بیگم‪ ،‬سفہن‪ ،‬جیمس‬
‫صاحب‪ ،‬کٹنی لیکن یہاں پر چند ایک جاندار اور جن کے گرد کہانی گھومتی ہے کاذکر تفصیل کے ساتھ‬
‫کیا جاتاہے۔‬

‫اکبری کا کردار‬
‫اس کہانی میں سارا حسن اکبری کے کردار سے پیدا ہواہے۔ اکبر ی کی بدمزاجی‪ ،‬پھوہڑ پن‪ ،‬بد سلیقگی‪،‬‬
‫الہڑ پن اور اس کی بے عقلی کی حرکتوں میں ایک بھول پن کی وجہ سے اس کہانی میں خوبصورتی‬
‫پیدا ہو گئی ہے۔ اکبری بے پروا لڑکی ہے اور شادی کرنے کے بعد بھی اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں‬
‫ہوتی۔ وہی بچوں والی حرکتیں اور بچوں والے کھیل۔ لیکن اُس کی اس بد مزاجی اور الڈلے پن میں اس‬
‫کی تربیت کابڑا ہاتھ ہے۔ یہی بدمزاجی اس کے لیے آگے چل کر بہت سے مسائل کا سبب بنتی ہے۔‬
‫اکبری اپنے بدمزاجی کی وجہ سے سسرال والوں سے روٹھ جاتی ہے اور اپنے شوہر کو عالحدہ رہنے‬
‫کا کہتی ہے۔ لیکن عالحدہ گھر میں اس کی بے وقوفی اور بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ اور یہاں ایک عورت‬
‫اس کے سارے زیور چرا کر لے جاتی ہے۔ لیکن آخرمیں ہم دیکھتے ہیں کہ اکبری جو کسی کی نہیں‬
‫سنتی تھی واقعات کے تھپیڑوں نے اسے کس طرح ایک گھریلو عورت بنا دیا اور پھر اپنی چھوٹی بہن‬
‫اصغری کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگی۔‬

‫اصغری کا کردار‬
‫مولوی نذیر احمد کااس ناول میں پسندیدہ کردار اصغری کا ہے۔ اور یہی وہ کردار ہے جس کے ذریعے‬
‫سے نذیر احمد اپنا مقصد بیان کرتے ہیں۔ اصغری کا کردار اکبری کا متضاد کردار ہے۔ جہاں اکبری اس‬
‫ناول میں بدمزاج‪ ،‬بد سلیقہ‪ ،‬بدخو اور احمق لڑکی ہے وہاں اصغری سلیقہ مند‪ ،‬ہنر مند‪ ،‬عقل مند‪ ،‬نرم‬
‫مزاج اور شائستہ زبان حوصلہ مند لڑکی ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ اصغری کی تربیت ہے۔ ایک‬
‫ہی گھر میں رہنے کے باوجود اصغری کی تربیت اپنی بڑی بہن کے مقابلے میں بہترین انداز میں ہوئی‬
‫ہے۔‬
‫مولوی نذیر احمد نے اصغری کے کردار کو اپنے قلم کے زور سے لکھا اور جو کچھ مولوی نذیر احمد‬
‫چاہتے تھے عورتوں کی اصالح کی غرض سے اس نے اس کردار سے لیا ہے۔‬

‫شادی کے بعد اکبری کو مزاج دار بہو کانام سسرال والوں نے دیا ہوتا ہے جبکہ اصغر ی کو اس کی ہنر‬
‫مندی‪ ،‬سلیقہ مند اور رکھ رکھائو کی نسبت سے تمیز دار بہو کا نام دیا گیا۔ جہاں اصغری اپنے ماں باپ‬
‫کے گھر میں ہوشیار‪ ،‬ہنر مندی اور رکھ رکھائو والی تھی وہاں اپنے سسرال میں بھی اُس نے وہی رنگ‬
‫برقرار رکھا۔‬

‫وہ اپنے سسرال کو اپنی عقل مندی سے قرض داروں سے آزاد کر الیتی ہے اور ماماعظمت جیسی نمک‬
‫حرام کا چہرہ سب لوگوں پر واضح کرکے اُسے اپنے سسرال سے نکال باہر کرتی ہے۔‬

‫\نذیر احمد کا یہ کردار بعض خوبیوں کی بناءپر الجواب ہے‬

‫لیکن کردار کی تعریف میں بیگم شائستہ اکرام ہللا لکھتی ہیں۔‬

‫اصغری کا کردار‪ ،‬سولہ آنے مثالی ہے۔ اس میں دنیا کی ہر ایک خوبی اور صفت پائی جاتی ہے۔ ”‬
‫پڑھنا لکھنا‪ ،‬ہنر‪ ،‬سلیقہ‪ ،‬گھر کا انتظام غرض ہر چیز میں اسے ید طولی حاصل ہے۔ اور میکے سسرال‬
‫دونوں جگہ اس کی قدر و منزلت ہوتی ہے۔‬

‫ماما عظمت‬
‫مولوی نذیر احمد کے ناول میں ماما عظمت کا کردارایک نوکرانی کا ہے۔ یہ مولوی صاحب کے‬
‫دوسرے کرداروں کی طرح ایک شہرہ آفاق کردار ہے۔ کہانی میں جب ماما عظمت کا کردار آنکلتا ہے‬
‫تو کہانی میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور جب ماما عظمت اپنا رول ادا کرکے پس پردہ چلی جاتی تو‬
‫کہانی کا مزہ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ اگر سچ کہا جائے تو ماما عظمت کو گھر سے باہر نکال دینے کے بعد‬
‫کہانی کو ختم ہو جانا چاہئیے تھا۔ کیونکہ کہانی میں ماما عظمت کی چوریاں اور لوٹ کھسوٹ ساری‬
‫فضاءکو خوبصورت بناتی ہے۔ قاری ا س تجسّس میں ہوتا ہے کہ کب اصغری ماماعظمت کی چوریاں‬
‫اور لوٹ کھسوٹ کا راز افشاں کرے گی اور جب مناسب موقع پر اصغری ماما عظمت کی ساری‬
‫کرتوتوں سے پرد ہ اٹھاتی ہے اور ماما عظمت کو نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے تو قاری کا تجسّس‬
‫ختم ہو جاتا ہے۔ خود مولو ی نذیر احمد اس کردار کے بارے میں لکھتے ہیں‪ ” ،‬اس ماما عظمت کی‬
‫حقیقت اس طرح ہے کہ یہ عورت پچیس برس سے اس گھر میں تھی۔ ۔۔۔ آئے دن اس پر شبہ ہوتا رہتا‬
‫تھا۔ مگر تھی چاالک گرفت میں نہیں آتی تھی۔ کئی مرتبہ نکالی گئی۔ لیکن پھر بالئی جاتی تھی۔ یوں‬
‫چوری اور سرزوی ماما عظمت کی تقدیر میں لکھی تھی۔ جتا کر لیتی اوربتا کر چراتی۔ دکھا کر نکالتی‬
‫اور لکھا کرمکر جاتی۔‬

‫دور اندیش خان‬


‫دوراندیش خان کا کردار اس ناو ل کا ضمنی کردار ہے۔ دور اندیش خان اکبری او ر اصغری کے والد‬
‫ہیں۔ وہ پنجاب کے پہاڑی اضالع میں سرکار انگریزی کی طرف تحصیل دار ہوتا ہے۔ اس ناول میں اس‬
‫کا کردار صرف شروع اور آخر کے حصے میں خطوط کے ذریعے سے آتا ہے۔ جو وہ اصغری کی‬
‫شادی کے بعد لکھتا ہے۔ اور اصغری کو نصیحتیں کرتا ہے۔ اس کا آخری خط جو ناول کے آخر میں‬
‫ہے وہ اصغری کو اس کی اوالد کی وفات پر تسلیاں دیتا ہے۔‬

‫محمد عاقل کا کردار‬


‫محمد عاقل بھی ایک ضمنی کردار ہے جو اکبری کا شوہر ہوتا ہے وہ عام شوہروں کی طرح نہیں جس‬
‫میں غصہ ہو اور اپنی بیوی کو دبا کر رکھے۔ چونکہ وہ خود ایک شریف آدمی ہوتے ہیں لہٰذا اس‬
‫واسطے وہ اپنی بیوی اکبری کو کچھ نہیں کہتا کہ اس سے اس کی بھی بدنامی ہوگی۔ وہ ویسا کرتا ہے‬
‫جس طرح اس کی بیوی اکبری چاہتی ہے۔ وہ حاالت سے مجبور ہوتا ہے۔ اور اپنے ماں باپ سے الگ‬
‫اپنی بیوی کے ساتھ رہنے لگتا ہے۔‬

‫محمد کامل کا کردار‬


‫محمد کامل کا کردار ایک غیر اہم یعنی ضمنی کردار ہے۔ وہ بھی اپنی بیوی اصغری کے رحم و کرم پر‬
‫اعلی تعلیم یافتہ مرد ہوتا ہے۔ اس کی اپنی بیوی ہی کی تاکید پر پہلے کچہری‬
‫ٰ‬ ‫چلتا ہے اگرچہ وہ ایک‬
‫میں دس روپے مانانہ نوکری شروع کر دیتا ہے۔ اور پھرسیالکوٹ میں سررشتہ دار (مجسٹریٹ ) پچاس‬
‫روپے ماہانہ کی نوکری مل جاتی ہے۔‬

‫محمودہ‬
‫محمودہ اصغری کی نند ہے جو ایک سادہ اور معصوم سی لڑکی ہے۔ اس کی تربیت میں اصغری کا‬
‫بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس لیے وہ بھی اصغری کی طرح سلیقہ مند اور ہنر مند ہے۔ اس کی اسی تربیت کی‬
‫بدولت اس کی شادی ایک بڑے گھر میں ہوجاتی ہے۔ اور اپھر وہ بھی اپنی ازدواجی زندگی میں خوش و‬
‫خرم رہتی ہے۔‬

‫اصغری کی ساس کا کردار‬


‫یہ کردار اگرچہ ایک ضمنی کردار ہے مگراپنے دور کا ایک مکمل نمائندہ کردار ہے۔ یہ اپنے زمانے‬
‫کی شریف مسلمان عورتوں کی نمائندہ ہے۔ یہ ایک سیدھی سادی سی عورت ہے جس میں نہ اکبری کی‬
‫طرح پھوہڑ پن اور بد مزاجی ہے اور نہ اصغری کی طرح ہنر مندی اور سلیقہ مند ی ہے۔ اس کے‬
‫عالوہ باقی جتنے بھی کردار رہ جاتے ہیں وہ اگرچہ کہانی کا ایک حصہ ہیں مگر غیر اہم کردار اور‬
‫ضمنی کردار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نذیر احمد کی ناول نگاری میں کچھ خامیاں ضرور ہیں‬
‫لیکن جہاں تک فن کرداری نگاری کا تعلق ہے وہ اس میدان میں مکمل طور پر کامیا ب رہے ہیں انہوں‬
‫نے اپنے ناولوں کے ذریعے اردو ادب کو بہت خوبصورت اور بڑے کردار دیے ہیں۔‬

You might also like