6481 1
6481 1
باغ و بہار میر امن دہلوی کی تصنیف کردہ ایک داستان ہے جو اُنھوں نے فورٹ ولیم کالج میں جان
گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ عام خیال ہے کہ باغ و بہار کو میر امن نے امیر خسرو کی فارسی
داستان قصہ چہار درویش سے اردو میں ترجمہ کیا ہے لیکن یہ خیال پایہ استناد کو نہیں پہنچتا۔ حافظ
محمود شیرانی نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس قصے کا امیر خسرو سے دور دور کا بھی واسطہ
نہیں ان کے مطابق یہ قصہ محمد علی معصوم کی تصنیف ہےباغ و بہار فورٹ ولیم کالج کی دین ہے
جو انگریزوں کو مقامی زبانوں سے آشنا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور یہیں میر امن نے باغ و بہار
کو جان گل کرائسٹ کی فرمائش پر میر حسین عطا تحسین کی نو طرز مرصع سے استفادہ کرکے
تصنیف کیا۔ اس طرح یہ داستان اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے بجا طور
پر جدید اردو نثر کا پہال صحیفہ قرار دیا گیا ہے۔ اس داستان کی اشاعت کے بعد اردو نثر میں پہلی
مرتبہ سلیس زبان اور آسان عبارت آرائی کا رواج ہوا اور آگے چل کر غالب کی نثر نے اسے کمال تک
پہنچا دیا۔ اسی بنا پر مولوی عبدالحق کا کہنا ہے کہ اردو نثر کی ان چند کتابوں میں باغ و بہار کو شمار
کیا جاتا ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ہیں اور شوق سے پڑھی جائیں گی۔ بقول سید محمد" ،میر امن
نے باغ و بہار میں ایسی سحر کاری کی ہے کہ جب تک اردو زبان زندہ ہے مقبول رہے گی اور اس کی
مرور ایام کے ساتھ کوئی کمی نہ ہوگی۔" نیز سید وقار عظیم کے الفاظ میں "داستانوں
ِ قدر و قیمت میں
میں جو قبول عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا
یہ ترجمہ جان گلکرسٹ کی فرمائش پر میر امن نے کیا اور پہلی بار اشاعت ہندوستانی پریس ،کلکتہ
سے ہوئی ،کتاب کے دیباچے میں جان گلکرسٹ نے کتاب کو امیر خسرو کے قصہ چہار درویش کا
ترجمہ قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ امیر خسرو کے قصے کے کا ترجمہ پہلے عطا حسین خان نے نو
طرز مرصع کے عنوان سے کیا تھا ،لیکن عربی و فارسی استعارے اور محاورے برقرار رکھے ،اس
نقص کو دور کرنے کے لیے ،میر امن نے سادہ سہل زبان اور ریختہ کے محاورے میں منتقل کیا۔ اس
پہلی اردو اشاعت میں 269اردو کے اور 4صفحات انگریوی کے تھے اور 19صفحوں پر غلط نامہ
(کتابت کی غلطیوں کی نشان دہی) ،کتاب میں اکثر مقامات پر اعراب کا استعمال کیا گیا ہے۔ کتاب کا
دوسری بار اشاعت ،پھر اسی ہندوستانی پریس ،کلکتہ سے ہوئی ،اب کی بار اعراب کی کثرت ،قلت میں
بدل گئی۔ اس دوسری اشاعت پر غالم اکبر نے نظر ثانی کی۔ یہ نسخہ کیپٹن طامس روبک کی زیر
) (Mouatنگرانی چھپا۔ پہلی اور دوسری دونوں اشاعتوں کا انتساب بنگال انجینئرز کے جیمز مؤات
کے نام ہے۔ جو فورٹ ولیم کالج میں اردو کے سبق استاد تھے۔
داستانوں میں جو قبول عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب
نہیں ہوا۔ عوام اور خواص دونوں میں یہ داستان آج بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی آج سے پونے دو سو
برس پہلے تھی۔ اس کی غیر معمولی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس کا دلکش اسلوب اور دلنشین
انداز بیان ہے جو اسے اردو زبان میں ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔
باغ و بہار کے ُمصنّف میرامن دہلوی چونکہ فورٹ ولیم کالج سے متعلق تھے ،اس لیے اس کی تصانیف
پیش نظر رہے جن
ِ بھی کالج کے متعینہ مقاصد کے تحت لکھی گئیں اور ان میں وہ تقاضے بالخصوص
کی نشان دہی ڈاکٹر جان گل کرائسٹ نے کی تھی۔ فورٹ ولیم کالج کے لیے جتنی کتابیں تالیف ہوئیں ان
میں لکھنے والوں نے سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دی کہ کتاب کی زبان سادہ اور سلیس ہو اور بول
چال کی زبان اور روزمرہ محاورہ کا خیال رکھا جائے۔ چونکہ اس سے مقصود انگریز نو واردوں کو
مقامی زبان و بیان اور تہذیب و معاشرت سے آشنا کرنا تھا۔ اس لیے فورٹ ولیم کالج کے لکھے گئے
قصوں میں زبان و بیان پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ باغ وبہار کو ِمنجملہ دوسری خوبیوں کے زبان و
بیان کے لحاظ سے بھی فورٹ ِولیم کالج کی دوسری کتابوں پر فوقیت حاصل ہے۔ باغ و بہار کی اس
فوقیت کی پیش نظرسرسید کا یہ قول بہت مشہور ہوا کہ میر امن کا اردو نثر میں وہی مرتبہ ہے جو میر
کا غزل گوئی میں۔۔
باغ و بہار اپنے وقت کی نہایت فصیح اور سلیس زبان میں لکھی گئی ہے۔ میر امن دہلی کے رہنے والے
ہیں اور اُن کی زبان ٹھیٹھ دہلی کی زبان ہے۔ میر امن صرف دہلی کی زبان کو ہی مستند سمجھتے ہیں
چنانچہ اس کو انہوں نے ہزار رعنائیوں کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ باغ و بہار کے دیباچے میں میر امن
نے اپنے کو دلی کا روڑا اور پشتوں سے دلی میں رہائش کرنے اور دلی کے انقالب کو دیکھنے کے
ناطے خود کو زبان کا شناسا بتایا ہے اور اپنی زبان کو دلی کی مستند بولی کہا ہے۔ اردو کی پرانی
کتابوں میں کوئی کتاب زبان کی فصاحت اور سالست کے لحاظ سے باغ و بہار کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
اگرچہ زبان میں کئی تبدیلیاں ہو چکی ہیں ،الفاظ و محاورات اور فقرات و تراکیب میں مختلف النوع
تغیرات آ گئے ہیں اس وقت کی زبان اور آج کی زبان میں بڑا فرق ہے لیکن باغ و بہار اب بھی اپنی
ب تحریر کا حصہ
طرز بیان اور اسلو ِ
ِ دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہے یہ دلکش اعجاز میر ا ّمن کے
ہے۔ میر امن ہر کیفیت اور واردات کا نقشہ ایسی خوبی سے کھینچتے اور ایسے موزوں الفاظ استعمال
کرتے ہیں کہ کمال انشا پردازی کی داد دینا پڑتی ہے۔ نہ بے جا طول ہے نہ فضول لفاظی ہے۔
میر امن کو اس چیز کا بہت صحیح اندازہ ہے کہ کس موقع پر کون سی بات کس حد تک پھیال کر اور
کس حد تک مختصر کرکے بیان کی جائے کہ وہ تصویر کشی ،واقعہ نگاری ،کردار اور سیرت کی
مصوری اور افسانوں میں دلچسپی کے مطالبات پورے کر سکے اور اس لیے جہاں اُن کی داستان میں
ہمیں واقعات کی تفصیالت ملتی ہیں ،ایسے موقع بھی بے شمار ہیں کہ انھوں نے اپنی بات کو سمیٹ کر
تھوڑے سے لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔ میر امن کہانی بناتے وقت یہ بات کبھی نہیں بھولتے کہ بات
کتنے لفظوں میں کہنی چاہیے تاکہ بات کا تاثر اور دلکشی برقرار رہ سکے۔ بقول سے وقار عظیم" ،میر
امن کی عبارت میں ناظر یا سامع کو اپنے اندر جذب کر لینے کی جو خصوصیت ہے اس میں اور بہت
سی چیزوں کے ساتھ اس بات کو بھی اہمیت حاصل ہے کہ ہر بات اتنے ہی لفظوں میں کہی جاتی ہے
جتنے اُسے موثر اور دل کش بنانے کے لیے ضروری ہے"۔
میر امن تصویروں کو متحرک اور زندہ تصویریں بناتے ہوئے اپنے قارئین کی ذہنی سطح کو ملحوظ
رکھتے ہیں اس میں فکری گہرائیوں کی بجائے فوری پن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ ہر آدمی
اس سے لطف اٹھا سکے۔ وہ اس مقصد کے پیش نظر ایسی سادہ تشبیہوں کا استعمال کرتے ہیں جو
روزمرہ زندگی سے متعلق ہیں اور اس کے باجود اپنے اندر بڑی ندرت رکھتی ہیں۔ میر امن تشبیہوں
کے عالوہ تمثیلوں سے بھی کام لیتے ہیں۔ باغ و بہار چونکہ دہلی کی نمائندہ کتاب ہے اور دہلی کی
فطرت میں ایک مالل پایا جاتا ہے اس لیے باغ و بہار کی نثر نے بھی یہ رنگ قبول کیا ہے۔ کتاب کا
کوئی بھی صفحہ پڑھنا شروع کریں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی دل میں آہستہ آہستہ نشتر چھبو
رہا ہے۔ لیکن اس سے جو درد پیدا ہوتا ہے اس میں کچھ ایسی مٹھاس اور لذت ہوتی ہے کہ نہ اُسے بیان
کرنے کو جی چاہتا ہے اور نہ اس کا بیان ممکن ہے بقول ڈاکٹر سہیل بخاری" ،باغ و بہار کی انشاء میں
"ایسا سوز و گداز رچ گیا ہے جو پڑھنے والے کے کلیجے کو گرما دیتا ہے
مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو باغ و بہار ان چند کتابوں میں سے ہے جن کی زبان اور طرز بیان
ان کے نفس مضمون سے زیادہ اہم ہے یہ ایک ایسے اسلوب کی نمائندہ ہے جس کی کوئی تقلید نہ کر
سکا۔ پھر بھی باغ و بہار کے باغ پر ہمیشہ بہار رہی ہے اور رہے گی۔ باغ و بہار کی ان خصوصیات
کے پیش نظر پروفیسر حمید احمد خان لکھتے ہیں" ،میر امن کی باغ و بہار پاکیزہ اور شفاف اردو کا
ابلتا ہوا چشمہ ہے"۔
اور اس کی زبان کے مولوی عبد الحق بھی ہمیشہ گن گاتے رہے اور یہاں تک کہہ گئے کہ" ،میں جب
اردو بھولنے لگتا ہوں تو باغ و بہار پڑھتا ہوں"۔
سادگی و پرکاری
اردو کی کم کتابوں کو تعریف و تنقیص اور تعظیم و تحقیر کے اتنے متضاد تجربے ہوئے ہوں گے
جتنے ”فسانہ عجائب “ کو سامنا کرنا پڑا۔ بعض نقادوں کا خیال ہے کہ یہ کتاب اپنے اسلوب کی وجہ
سے مقبول ہوئی۔ جبکہ کچھ نقاد اس کی طرز تحریر سے ناالں ہیں۔ مثال کے طور پر کلیم الدین احمد
لکھتے ہیں۔ ”فسانہ عجائب ایک عجوبہ روزگار ہے اس کی ممکن ہے کچھ تاریخی اہمیت ہو لیکن زندہ
“ادب میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔
اس رائے کی سب سے بڑی وجہ مسجع اور ٰ
مقفی اور آورد سے بھر پور زبان ہے۔ اُن کی عبارت آرائی
کی مثال مندرجہ ذیل ہے۔
اس نقش قدرت پر تصویر مانی و بہزاد حیران او ر صناعی آذر کی ایسے بعت حقیقت کے روبرو”
پشمان۔“ لیکن اس کے برعکس جو لوگ مرزا سرور کی ٰ
مقفی اور مسجع اور دقیق نثر پر معتر ض ہیں
انہیں مرزا کا یہ اقتباس بھی دیکھنا چاہیے۔ اس جیسے بے شمار اقتباسات فسانہ عجائب سے نقل کیے جا
سکتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فسانہ عجائب میں سہل ممتنع اور سادگی سے بھی کام لیا گیا
ہے۔ ” شہزادہ گھوڑے سے اتر کر نلکہ کے پاس گیا۔ وسم سالم بجا الیا۔ اس نے دعائے خیر دے کر
“ چھاتی سے لگایا۔ کہا :الحمدہللا تمہیں صحت و عافیت نے کامیاب کر دکھایا۔
ٰ
الہدی نے کلیم الدین احمد کی رائے کو انتہا پسندانہ قرار دیا ہے۔ ان کا خیال ہے۔ ” بالشبہ اس لیے قمر
اس انداز تحریر کو اپنایا نہیں جا سکتا ،مگر یہ ایک دور ،ایک تہذیب کا نمائندہ اسلوب ہے۔ اسے اسی
“نظر سے دیکھنا چاہیے۔
قافیہ پیمائی
یحیی تنہا کا خیال ہے کہ
ٰ ،سرور کے بارے میں
فسانہ عجائب اپنے خاص رنگ میں بہترین تصنیف ہے۔ جس کی عبارتٰ ،
مقفی و مسجع ہے۔ یہ ”
رنگینی اور قافیہ پیمائی فارسی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ لیکن اردو میں اس انداز تحریر کے آپ ہی
“موجد ہیں۔
سرور کی عبارت میں قافیہ بندی عام پائی جاتی ہے۔ وہ بعض اوقات کسی پیراگرا ف کے چند فقروں کو
مقفی کرتے ہیں اور بعض دفعہ پورا پیراگراف ٰ
مقفی ہوتا ہے۔ کئی بار وہ جملوں کو ہم قافیہ التے ہیں ٰ
اور کئی بار اس سے زیادہ فقروں کو۔ جہاں مسلسل قافیہ بندی سے کام لیا گیاہے وہاں قافیے بدلتے
رہتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ دوتین تین جملوں یا اُن کے اجزاءکے بعد قافیہ آیا ہے۔ آئیے سرور کی
قافے ہ بندی کی ایک مثال دیکھتے ہیں۔
اس رات کی بے قراری ،گریہ وزاری ،اختر شماری ،شہزادے کی کیا کہوں ہر گھڑی بہ حال پریشاں” ،
رخ سحر ہو۔
“سوئے آسماں مضطر نگراں تھا کہ رات جلد بسر ہو جائے ،نمایاں ِ
اختصار
اس داستان میں اختصار کی وجہ سے ابتداءاور انتہا میں ایک ربط پید ا ہوا۔ جبکہ گردو پیش کے ماحول
اور حال سے متاثر ہے۔ یعنی ماضی کو حال کا رنگ دیا گیا ہے۔ جبکہ مصنف نے اسلوب کو کتاب کی
دلچسپی کی جان بنایا ہے۔ گویا اختصار اور قصوں کے درمیان باہمی ربط نے ناول کے لیے آئندہ کے
لیے راستہ بنایا۔ دوسرے دلکش اسلوب کے لیے جس کی پیروی آزاد نے کی کے لیے راستہ ہموار کیا۔
،ڈاکٹر منیر مسعود فسانہ عجائب کے اختصار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
فسانہ عجائب کا اختصار اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کہ بعد میں جو داستانیں اس سے متاثر ہو کر”
لکھی گئیں ان میں طوالت سے پرہیز کیا گیا اور اس طرح اردو ناول کے لیے راہ ہموار ہوئی۔
عزیز احمد اسی اختصار کی وجہ سے فسانہ عجائب کو ناول سے قریب مانتے ہیں ،مگر ڈاکٹر سہیل
بخاری کو اس بات سے اتفاق ہے کہ فسانہ عجائب داستان اور ناول کی درمیانی کڑی ہے اور اس کتاب
نے ناول کی پیدائش میں بہت کچھ مدد دی ہے۔
مکالمہ نگاری
سرور کی مکالمہ نگاری کی اکثر ناقدین نے تعریف کی ہے۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ سرور کی مکالمہ
نگاری میں کافی حد تک پختگی پائی جاتی ہے اور یہ انداز سرور سے پہلے کے افسانوی ادب میں
تقریبا ً مفقود ہے۔ سرور نے مکالمات میں لکھنوی لہجہ اور مزاج اپنایا ہے اور ہر کردار کے سماجی
مرتبہ و حیثیت کے مطابق اس سے بات کہلوائی ہے۔
سوداگر اور بھٹیاری کا مکالمہ سنیے
سوداگر :یہاں کون رہتا ہے
!بھٹیاری :چڑی مار
سوداگر :اس کا لڑکا خوب باتیں کرتا ہے۔
بھٹیاری :لڑکا باال تو کوئی نہیں فقط جورو خصم رہتے ہیں۔
جواب نمبر 3ـ
غالم عباس 17نومبر 1909ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم الہور میں مکمل کی۔ آل
انڈیا ریڈیو کے رسالے "آواز" اور ریڈیو پاکستان کے رسالے "آہنگ" کے مدیر رہے۔ 1954ء سے لے
کر 1967ء تک بی بی سی کی اردو سروس سے منسلک رہے۔
انہوں نے متعدد افسانے اور ناول لکھے اور صدر ایوب خان کی کتاب "فرینڈز ناٹ ماسٹرز" کا اردو
زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ اُن کے افسانوی مجموعوں میں 'آنندی'' ،جاڑے کی چاندنی'' ،کن رس'،
'دھنک' اور'گوندنی واال تکیہ'جبکہ تراجم میں'زندگی نقاب چہرے'' ،الحمرا کے افسانے' اور 'انگریزی
افسانے' شامل ہیں۔ وہ ماہنامہ "تہذیب نسواں" اور بچوں کے رسالے "پھول" کے ایڈیٹر بھی رہے۔ انہوں
نے بچوں کے لیے نظموں کی کتاب "چاند تارا" بھی لکھی۔ غالم عباس کو ان کی کتاب "جاڑے کی
ت پاکستان نے انہیں ستارہ ٔامتیاز کا
چاندنی" پر آدم جی ادبی انعام مال۔ اس کے عالوہ 1967ء میں حکوم ِ
اعزاز بھی عطا کیا تھا۔
غالم عباس 2نومبر 1982ء کو کراچی میں انتقال کر گئے اور وہیں سوسائٹی قبرستان میں آسودٔہ خاک
ہوئے۔
کتبہ
کتبہ افسانہ غالم عباس کے شاہکار افسانوں میں سے ایک نمائندہ افسانہ ہے ۔ راست اسلوب کے اس
افسانہ کا بیانہ سادہ اور اکہرا ہے ۔ جس کی بُنت بہت مضبوط ہے ۔ تحریر میں انتہائی روانی اور
سادگی ہے ۔ انجام تک پہنچتے پہنچتے قاری بھی ایک دکھ بھری سانس لے کر رہ جاتا ہے ۔ اس افسانہ
بالکل درست بیٹھتی ہے کہ زرا سی بات کو افسانہ بنا دیا ۔ اس تحریر کا پر یہ کہاوت /محاورہ
پالٹ بہت جاندار ہے قاری کو باندھ کر رکھ دیتا ہے۔
کردار نگاری
اس افسانہ میں ایک ہی مرکزی کردار ہے شریف حسین ۔ جو کہ دفتر میں کلرک ہے ۔ سارا افسانہ اسی
کے گرد گھوم رہا ہے ۔ مصنف نے یہ ایک ایسا کردار کیا ہے جس کی سادہ سی زندگی گونا گوں
پیچیدہ مسائل سے بنرد آزما ہے ۔ جو اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی تگ و دو میں نجانے
کتنی حسرتیں دل میں دبائے مر جاتے ہیں ۔ شریف حسین ایک عمدہ ذوق اور جمالیات رکھنے واال
شخص ہے ۔ لیکن ایک کلرک کی تنخواہ سے وہ جس طرح زندگی کو گھسیٹ کر جینے کے اسباب بنا
رہا ہے ،اس کی یہ حسیات اندر ہی دبی ہوئی ہیں ،اچانک کباڑیئے کے پاس ایک سنگ مر مر کا ٹکڑا
اس کی توجہ اس قدر کھینچ لیتا ہے کہ وہ ایک روپیہ میں اسے خرید لیتا ہے ۔ پھر اس کے دل میں
اپنا مکان بنانے کی خواہش بھی سر اٹھاتی ہے تو سنگ مر مر کے ٹکڑے پر اپنا نام لکھواتا ہے ۔
لیکن سالہا سال کی سر توڑ کوشش سے بھی حاالت میں بہتری نہ آئی ۔ ریٹائرڈ ہوا بچے جوان ہوئے
اور شریف حسین یہ آرزو لیے مر گیا ۔ آخر وہ سنگ مر مر کا ٹکڑا اس کی قبر پر لگا دیا جاتا ہے ۔
غالم عباس صاحب کا فن یہاں اپنے عروج پہ ہے جس چابکدستی سے انھوں نے صرف ایک ہی
کردار کے ذریعے زندگی کا ایک پورا دور اور اس کا درد قاری کو دکھا دیا ۔
منظر نگاری
افسانہ کا آغاز ہی ایک شاندار منظر نگاری سے ہوتا ہے ،کہ پورا منظر مکمل جزیات کے ساتھ قاری
کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔ کہ عمارتوں کے دفاتر میں کام کرنے والے چار ہزار افراد
سامنے چلتے پھرتے محسوس ہونے لگتے ہیں ۔ دفتروں سے نکلنے والے کلرک اپنی مکمل وضع
قطع کے ساتھ فائلیں اٹھائے گھروں کو جاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ پڑھنے واال شریف حسین کے ساتھ
تانگے پر بیٹھ کر جامع مسجد کے گرد سجنے والے بازار پہنچ جاتا ہے ۔ جہاں کی ایک ایک دکان
اور اس کے معیار کا نقشہ ایسی خوبصورتی سے کھینچا گیا ہے کہ ظروف ،گلدان ،گھڑیاں ،فوٹو
گرافر ،گراموفون ،ستار ،بھُس بھرا ہرن ،پیتل کے لم ڈھینگ ،بدھ کا نیم قد مجسمہ ۔۔۔۔ سب
نظروں میں اُتر آتے ۔
سنگ مرر کے ٹکڑے کو پسند کرنے کے محسوسات ،اس کو خریدنے اور نہ خریدنے کی کشمکش
بیان کرنے میں مصنف کو ملکہ حاصل ہے ۔ پھر آخر عمر تک اس سنگ مر مر کے ٹکڑے کے جو
رویہ اور احساس شریف حسین محسوس کرتا رہا ،غالم عباس قاری کو بھی وہی محسوس کرواتے
رہے ۔
مکالمہ نگاری
اس افسانہ میں مکالمہ نگاری نہ ہونے کے برابر ہے ،کہیں کہیں خود کالمی سے بھی ہے ۔ لیکن
جو چند ایک مکالمہ ہے وہ عین ضرورت اور کردار کے مطابق ہے ۔ فطری انداز میں ہے ۔
زبان و بیاں و اسلوب
غالم عباس کے افسانوں میں زبان و بیان کی سادگی کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ وہ ایک حقیقت نگار بھی
تھے۔انہیں اپنے انداز بیان کی سادگی کااور واقعات کی صداقت کا یقین ہوتا تھا۔ ان کے افسانے زندگی
کے دائمی عمل کو پیش کرتے ہیں۔ وہ فرد کی بجائے معاشرے کی تشکیل کو موضوع بناتے تھے۔ وہ
کسی خاص موضوع ،اسلوب یا جذباتی فضا میں بند بیانیہ سے افسانہ تخلیق نہیں کرتے بلکہ ایک
صورت حال ہوتی ہے جو بیان اور کردار کے تفاعل کو ہمارے لئے قاب ِل قبول بناتی ہے ۔ بیان غالم
عباس کے یہاں وسیلہ ہے جس سے کہانی وجود میں آتی ہے۔ انہوں نے رواجی موضوعات کی بجائے
عام زندگی کے گوشے نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے ۔
غیر جانبداری
فسادا ت کے موضوع پر لکھتے ہوئے بہت سے اہل قلم صرف تصویر کا ایک رخ بے ان کرتے ہیں۔
پاکستا ن سے تعلق رکھنے والوں نے غیر مسلموں کے ظلم و تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور
ہندوستان کے لکھاریوں نے مسلمانوں کو اس بربریت کا ذمے دار ٹھہرایا اور ا س نکتہ نظر سے لکھے
گئے بہت سے افسانے جانبداری اور رواداری کی گر د میں ہمیشہ کے لیے گم ہو گئے۔ تاہم منٹو کے
بعد ندیم و ہ اہم افسانہ نگار ہیں جس نے اپنے افسانوں میں یہ بات کہنے کی کوشش کی ہے کہ یہ حاالت
ہوتے ہیں جو کسی بھی قوم یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو مطمئن یا مشتعل کر سکتے
ہیں اور یہ کہ انسان دوستی کے عناصر آفاقی ہیں یہ صرف مسلمانوں ،ہندوئوں ،سکھوں ،عیسائیوں تک
محدود نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں اُ ن کا افسانہ ”پرمیشور سنگھ“ بہت ہی اہم ہے۔
انسانی نفسیات سے آگاہی
ندیم نے اپنے افسانوں میں قبائلی دور کے انسان کے انتقام اور رقابت کے اس موضوع کو بھی اپنی
تحریروں میں شامل کیا ہے جو معمولی سے جھگڑے ،نام نہاد اناپرستی یا جھوٹی غیرت کی بدولت
انسانوں کو خاک و خون میں نہال دینے کا پس منظررکھتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ندیم انسانی نفسیات سے
آگاہی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پتھر سے پتھر دل انسان میں بھی محبت
اور رحم کے جذبات ضرور ہوتے ہیں اور کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی غیر محسوس طریقے سے اپنا
اظہار بھی کرتے ہیں۔ نیکی او ر بدی کے جذبات انسانی کردار کی تکمیل کا ایک حوالہ ہیں۔ کوئی انسان
مکمل طور پر نیک نہیں ہو سکتا اور کوئی انسان پوری طرح کمینہ نہیں ہوتا۔ انسان صرف انسانہوتا ہے
جس میں اچھائی اور برائی کے عناصر اپنی نسبت کے حوالے سے کم و بیش ہوتے رہتے ہیں اور شاید
اسی سے انسان کی پہچان ممکن ہوتی ہے ورنہ تو وہ فرشتہ بن جائے یا پھر شیطان کہالئے۔ ندیم نے
اس موضوع پر جو افسانے لکھے ہیں ان میں انسانی نفسیات سے آگہی اور بیا ن میں فنی گرفت کے
تمام عوامل پوری طرح اپنی موزنیت کا احساس دالتے ہیں اس ضمن میں ان کے مشہور افسانے
”گنڈاسا“ کی مثال دی جاسکتی ہے جس میں ندیم نے ایک بہت ہی نازک لیکن جمالیاتی ،نفسیاتی حقیقت
کی ترجمانی کی ہے۔
موضوعات کا تنوع
زندگی کا ہر جذبہ ایک دوسرے سے زنجیر کی کڑیوں کی طرح مال ہوا ہوتا ہے کوئی جذبہ اپنی ذات
میں اکیال نہیں ہوتا۔ پھول کی خوشبو میں مٹی کی مہک کے ساتھ ساتھ روشنی کی دھنک اور ہوا کی
سرسراہٹ بھی شامل ہوتی ہے۔
ندیم ایسا فنکار ہے جس نے ان نازک جزئیات کو محسوس بھی کیا ہے اور ان کے فنکارانہ اظہار میں
اپنے فنی قدو قامت کی بلندی کا ثبوت بھی بہم پہنچایا ہے۔ یہاں ایک اور اہم بات کی وضاحت از حد
ضروری ہے کہ کسی بھی افسانہ نگار کے لیے وجہ امتیاز یہ نہیں ہے کہ اس کے یہاں موضوعات ِ
زندگی کے تنوع میں سیاست ،جمالیات ،مذہب اور فلسفی موجود ہے یا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ان کی
موجود گی یا غیر موجو د گی میں انسانی فکر نظر اور ادراک و تیقن کوکس حد تک وسعت دے سکتا
ہے۔ اور اس کا نکتہ نظر میں کتنی انفرادیت ،ہمہ گیری ،توازن اور مرکزیت ہے۔
توازن اور غیر جانبداری
گوپی چند نارنگ نے درست کہا ہے کہ مقصد اور فن کا حسین توازن ندیم کی کامیابی کی ضمانت بن
گیا ہے۔ ندیم ترقی پسند تحریک کے سرگرم رکن اور عہدیدار بھی رہے ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ
وہ اتنا بڑ ا ترقی پسند نہیں جتنا بڑ افنکار ہے۔ اگرچہ اس کی ذہنی و فکری تشکیل میں مارکسزم کا ایک
نمایاں کردار ہے۔ تاہم و ادب میں پروپیگنڈے کی بے اعتدالی کا کبھی شکارنہیں ہوا۔ اس کی جڑیں اپنی
مٹی میں بڑی گہری ہیں۔ یوں وہ ایک غیر جانبدار مصنف کے روپ میں ابھر تے ہیں جن کے ہاں
نظریے کی آمیزش سے تیار کیے گئے افسانے جابجا نظر آتے ہیں اور دوسری طرف رومان کی حسین
فضا اور وطن کی مٹی سے محبت کا حوالہ بھی اُن کے افسانوں کا بنیادی خاصہ ہے۔
مجموعی جائزہ
ندیم کے افسانوں میں زمین اور انسان سے ان کی بے پایاں محبت اور بھی کھل کر سامنے آتی ہے۔ ان
کا تخیل پنجاب کی فضائوں میں چپے چپے سے روشناس ہے اور اس نے لہلہاتے کھیتوں ،گنگناتے
دریائوں اور دھوپ میں جھلستے ہوئے ریت کے ذروں کو ایک نئی زبان دی ہے ،نئی معنویت عطا کی
ہے۔ پنجاب کی رومانی فضاءاور وہاں کے لوگوں کی معصومیت و زندہ دلی ،جرات وجفاکشی
اورخدمت و ایثار کی تصویریں ان کے افسانوں میں آخر الزوال ہو گئی ہیں۔ ان کے ہاں غم و غصے،
تعصب و نفرت اور تنگ نظر و تشدد کا شائبہ تک نہیں۔ ہر کہیں مہر و محبت ،خلوص و وفااور صدق و
صفا کا سونا چمکتا محسوس ہوتا ہے اوریہی ان کی بڑائی کی دلیل ہے۔
جواب نمبر 5ـ
کردار نگاری
مولوی نذیر احمد کے اس ناول کی امتیازی خصوصیت کردار نگاری ہے۔ ویسے تو مراۃ العروس میں
بہت سے نمایاں کردار ہیں لیکن چند ایک اہم کردار وں کے نام یہ ہیں۔ دور اندیش خان ،اکبری،
اصغری ،خیراندیش خان ،اکبر اور اصغری کی ساس ،ماما عظمت ،محمد عاقل ،محمد کامل ،محمد
فاضل۔ سیٹھ ہزاری مل ،تماشا خانم ،حسن آرائ ،جمال آراء ،شاہ زمانی بیگم ،سلطانی بیگم ،سفہن ،جیمس
صاحب ،کٹنی لیکن یہاں پر چند ایک جاندار اور جن کے گرد کہانی گھومتی ہے کاذکر تفصیل کے ساتھ
کیا جاتاہے۔
اکبری کا کردار
اس کہانی میں سارا حسن اکبری کے کردار سے پیدا ہواہے۔ اکبر ی کی بدمزاجی ،پھوہڑ پن ،بد سلیقگی،
الہڑ پن اور اس کی بے عقلی کی حرکتوں میں ایک بھول پن کی وجہ سے اس کہانی میں خوبصورتی
پیدا ہو گئی ہے۔ اکبری بے پروا لڑکی ہے اور شادی کرنے کے بعد بھی اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں
ہوتی۔ وہی بچوں والی حرکتیں اور بچوں والے کھیل۔ لیکن اُس کی اس بد مزاجی اور الڈلے پن میں اس
کی تربیت کابڑا ہاتھ ہے۔ یہی بدمزاجی اس کے لیے آگے چل کر بہت سے مسائل کا سبب بنتی ہے۔
اکبری اپنے بدمزاجی کی وجہ سے سسرال والوں سے روٹھ جاتی ہے اور اپنے شوہر کو عالحدہ رہنے
کا کہتی ہے۔ لیکن عالحدہ گھر میں اس کی بے وقوفی اور بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ اور یہاں ایک عورت
اس کے سارے زیور چرا کر لے جاتی ہے۔ لیکن آخرمیں ہم دیکھتے ہیں کہ اکبری جو کسی کی نہیں
سنتی تھی واقعات کے تھپیڑوں نے اسے کس طرح ایک گھریلو عورت بنا دیا اور پھر اپنی چھوٹی بہن
اصغری کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگی۔
اصغری کا کردار
مولوی نذیر احمد کااس ناول میں پسندیدہ کردار اصغری کا ہے۔ اور یہی وہ کردار ہے جس کے ذریعے
سے نذیر احمد اپنا مقصد بیان کرتے ہیں۔ اصغری کا کردار اکبری کا متضاد کردار ہے۔ جہاں اکبری اس
ناول میں بدمزاج ،بد سلیقہ ،بدخو اور احمق لڑکی ہے وہاں اصغری سلیقہ مند ،ہنر مند ،عقل مند ،نرم
مزاج اور شائستہ زبان حوصلہ مند لڑکی ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ اصغری کی تربیت ہے۔ ایک
ہی گھر میں رہنے کے باوجود اصغری کی تربیت اپنی بڑی بہن کے مقابلے میں بہترین انداز میں ہوئی
ہے۔
مولوی نذیر احمد نے اصغری کے کردار کو اپنے قلم کے زور سے لکھا اور جو کچھ مولوی نذیر احمد
چاہتے تھے عورتوں کی اصالح کی غرض سے اس نے اس کردار سے لیا ہے۔
شادی کے بعد اکبری کو مزاج دار بہو کانام سسرال والوں نے دیا ہوتا ہے جبکہ اصغر ی کو اس کی ہنر
مندی ،سلیقہ مند اور رکھ رکھائو کی نسبت سے تمیز دار بہو کا نام دیا گیا۔ جہاں اصغری اپنے ماں باپ
کے گھر میں ہوشیار ،ہنر مندی اور رکھ رکھائو والی تھی وہاں اپنے سسرال میں بھی اُس نے وہی رنگ
برقرار رکھا۔
وہ اپنے سسرال کو اپنی عقل مندی سے قرض داروں سے آزاد کر الیتی ہے اور ماماعظمت جیسی نمک
حرام کا چہرہ سب لوگوں پر واضح کرکے اُسے اپنے سسرال سے نکال باہر کرتی ہے۔
لیکن کردار کی تعریف میں بیگم شائستہ اکرام ہللا لکھتی ہیں۔
اصغری کا کردار ،سولہ آنے مثالی ہے۔ اس میں دنیا کی ہر ایک خوبی اور صفت پائی جاتی ہے۔ ”
پڑھنا لکھنا ،ہنر ،سلیقہ ،گھر کا انتظام غرض ہر چیز میں اسے ید طولی حاصل ہے۔ اور میکے سسرال
دونوں جگہ اس کی قدر و منزلت ہوتی ہے۔
ماما عظمت
مولوی نذیر احمد کے ناول میں ماما عظمت کا کردارایک نوکرانی کا ہے۔ یہ مولوی صاحب کے
دوسرے کرداروں کی طرح ایک شہرہ آفاق کردار ہے۔ کہانی میں جب ماما عظمت کا کردار آنکلتا ہے
تو کہانی میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور جب ماما عظمت اپنا رول ادا کرکے پس پردہ چلی جاتی تو
کہانی کا مزہ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ اگر سچ کہا جائے تو ماما عظمت کو گھر سے باہر نکال دینے کے بعد
کہانی کو ختم ہو جانا چاہئیے تھا۔ کیونکہ کہانی میں ماما عظمت کی چوریاں اور لوٹ کھسوٹ ساری
فضاءکو خوبصورت بناتی ہے۔ قاری ا س تجسّس میں ہوتا ہے کہ کب اصغری ماماعظمت کی چوریاں
اور لوٹ کھسوٹ کا راز افشاں کرے گی اور جب مناسب موقع پر اصغری ماما عظمت کی ساری
کرتوتوں سے پرد ہ اٹھاتی ہے اور ماما عظمت کو نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے تو قاری کا تجسّس
ختم ہو جاتا ہے۔ خود مولو ی نذیر احمد اس کردار کے بارے میں لکھتے ہیں ” ،اس ماما عظمت کی
حقیقت اس طرح ہے کہ یہ عورت پچیس برس سے اس گھر میں تھی۔ ۔۔۔ آئے دن اس پر شبہ ہوتا رہتا
تھا۔ مگر تھی چاالک گرفت میں نہیں آتی تھی۔ کئی مرتبہ نکالی گئی۔ لیکن پھر بالئی جاتی تھی۔ یوں
چوری اور سرزوی ماما عظمت کی تقدیر میں لکھی تھی۔ جتا کر لیتی اوربتا کر چراتی۔ دکھا کر نکالتی
اور لکھا کرمکر جاتی۔
محمودہ
محمودہ اصغری کی نند ہے جو ایک سادہ اور معصوم سی لڑکی ہے۔ اس کی تربیت میں اصغری کا
بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس لیے وہ بھی اصغری کی طرح سلیقہ مند اور ہنر مند ہے۔ اس کی اسی تربیت کی
بدولت اس کی شادی ایک بڑے گھر میں ہوجاتی ہے۔ اور اپھر وہ بھی اپنی ازدواجی زندگی میں خوش و
خرم رہتی ہے۔