اردو اسمبلی رول پلے
کردار:
فراز :
مریم :
ایمان :
امی :
ابا :
اسمبلی
محترم اساتذہ اکرام اور عز یز طلبہ و طالبا ت ،اسالم علیکم!
میرا نا م عا ئشہ شا ھد ہے اور میں جماعت ہفتم کی طا لبہ ہوں ۔
آج ہم دلچسپ موضوع پر اردو اسمبلی پیش کر نے کے لئے یہاں جمع ہو ئے ہیں۔
اب میں سور ۃ الفلق کی تالوت کر نے کے لئےـــــــــــــــــــــــــــ کو دعوت دیتی ہوں جبکہ
اردو تر جمے کے لئےـــــــــــــــــــــــــــــــاور انگر یزی تر جمے کے
لئےــــــــــــــــــــــــــــــــ تشر یف ال ئیں گی۔
Allah in the name of The Most Affectionate, the Merciful.
.1
Say you, 'I take refuge with the Lord of Daybreak.
.2
From the evil of all creatures;
.3
And from the evil of the darkening one when it sets.
.4
And from the evil of those women who blow in the knots.
.5
And from the evil of the envier when he envies me.
جزا ک ہللا!!
سوشل میڈیا ایک ایسی ایجاد ہے جس کی افادیت و نقصانات دونوں ہیں ،یہ دو
دھاری تلوار ہے۔ حقیقتًا اگر دیکھا جائے تو اس کے نقصانات اس کی افادیت
سے زیادہ ہیں ،چاہے وہ مذہبی ہوں ،جسمانی ہوں یا معاشرتی و سماجی۔ اب یہ
استفادہ کرنے والوں پر منحصر ہے کہ وہ اس سے کیسے مستفیض ہوتے ہیں؟
اب جماعت ہفتم کی طالبا ت " سوشل میڈ یا کے اثرات"کے حوالے سے رول
پلے پیش کر نے کے لئے تشریف الئیں گی۔
📸 پہالسین 📸
(فراز اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا ہے۔ امی نے اسے ایک گھنٹہ پہلے کہا کہ
اپنے اسکول کا کام کرو۔
(ماں فراز کے کمرے میں داخل ہوئیں)
ماں :فراز! میں پچھلے ایک گھنٹے سے دیکھ رہی ہوں کہ تم فون سے چپکے
ہو ئے ہو؟ صرف ویڈیوز دیکھی جا رہی ہیں ؟ میر ی تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ
تم پڑ ھتے کس وقت ہو اور اسکول کا کام کیسےمکمل کرو گے ؟ امتحان سر پہ
ہیں۔
فراز :نہیں مما! ایسا نہیں ہے کہ میں معلوما تی ویڈیوز دیکھ رہا تھا تاکہ مجھے
اپنا کام سمجھنے میں مدد ملے-
ماں :مجھ سے جھوٹ مت بولو! اپنا رزلٹ دیکھا ہے؟ ہر مضمون میں بی یا سی
گر یڈ آیا ہے۔اگر توجہ سے پڑ ھتے تو رز لٹ بھی کچھ بہتر ہو تا۔
اب اس کا وا حد حل صرف یہ ہے کہ میں تمھا را فون اپنے پا س رکھوں اور
جب تک ٹیسٹ ختم نہ ہو جا ئیں ،یہ تمھیں وا پس نہیں ملے گا۔"
( امی فون اس سے چھین کر چلی جا تی ہیں فرازاداس ہو کر اپنا کام کرنے لگتا
ہے
🧃 دوسراسین 🧃
*(امی ہاتھ میں کپڑے دھونے کی ٹوکری پکڑے ہوے کمرے میں آرہی ہیں جب
انہو ں نے صوفے پر مریم کو دیکھا ،ابھی تک وہ کام پورا نہیں ہوا جو اس کو
امی نے اسے کرنے کو کہا تھا اورکام کرنے کے عالوہ اپنا فون استعمال کررہی
تھی۔ سیلفیاں بھی لے رہی تھی۔امی کو دیکھ کر جھٹ سے بیٹھ جا تی ہے)*
ماں:مریم! میں نے تم سے یہ سارے کپڑے تہہ کر نے کے لئے کہا تھا! اور یہ
ویسے کے ویسے پڑے ہیں؟ کیا ہو رہا ہے آج کل ؟ کیوں تم اتنی سست ہو رہی
ہو؟ میں نے سوچا کہ تم گھر کے کاموں میں میری مدد کرنا شروع کر دو گی،
لیکن حقیقت تویہ ہے کہ تم سارا دن صرف مو با ئل پر لگی رہتی ہو۔ اس فو ن
نے تو تمھا را دما غ خرا ب کر دیا ہے۔"
مریم :نہیں امی!!..ایسا نہیں ہے ! اب تو سا را کا م انٹر نیٹ کےے ذریعے ہو رہا
ہےاسلئے میں اپنی دوست کی مدد کرنے میں مصروف ہو گئی تھی۔۔ یہ کام میں
ابھی کر دیتی ہوں۔"
ماں :رہنے دو کو ئی ضرورت نہیں ،میں خود کر لو ں گی سب کام۔سو شل میڈیا
نے تو تم لو گو ں کا دما غ خرا ب کر دیا ہے۔دوست کی مدد کر رہی تھیں یہ !
ہونہہ!! سیلفیاں لے لے کر!!"
اور یہ دیکھو سارا کمرہ اسی طرح الٹا پڑا ہے ۔ کسی طرف دھیان نہیں ہے۔
بس بہت ہو گیا!! ادھر ال ؤ اپنا فون ! مجھے دو۔
(امی اس کے ہاتھ سے فون چھین لیتی ہیں)
جب تک چیزوں کا صحیح استعمال نہیں سیکھو گی کو ئی فا ئدہ نہیں سہولت
دینے کا۔
مریم :نہیں مما! پلیز مجھے اپنے فون کی ضرورت ہے!ایسا نہ کریں پلیز
ماں:جب تک چیزوں کا صحیح استعمال نہیں سیکھو گی کو ئی فا ئدہ نہیں سہولت
دینے کا۔
*(مریم منہ بسورتی ہوئی اپنا فون ماں کو دیتی ہے اور ماں غصے سے کمرے
سے نکل جاتی ہے*
🐸سین تین🐸
* (امی اور ایمان صوفے پر بیٹھے ہیں جب امی ایمان سے کہتی ہیں کہ ان کے
کمرے سے ان کی عینک لے آ ئے)*
امی":ایمان جا کر کمرے سے میری عینک لے آؤ۔"
ایمان ":ٹھیک ہے لیکن وہ کمرے میں کہاں ہے "
*(توجہ نہیں دیتے ہوے اور اپنی گیم کھیلتے ہو ئے)*
امی :کمر ے میں جا ؤ گی پھر نظرآ جا ئے گی۔
ایمان :بتادیں کہاں ہو گی پھر مجھے خود جا کر ڈھونڈنا پڑے گا اور بہت وقت
لگے گا۔
امی :۔
ایمان* :توجہ نہیں* کہاں؟
امی :بیڈ کی سا ئیڈ ٹیبل پر رکھی ہو گی و۔
ایمان :ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں دیکھ لیتی ہوں۔
امی :وہاں۔ (اشارہ کرتے ہوے)
ایمان :ٹھیک ہے امی مجھے ایک منٹ دیں مجھے یہ گیم ختم کر نے دیں۔
امی :تم اٹھ رہی ہو یا نہیں (غصے سے)
ایمان :مجھے صرف ایک منٹ دیں۔
امی :ایمان ابھی اٹھو اور میرے عینک لے آؤ۔
ایمان :مما مجھے یہ گیم ختم کرنے دیں ۔
امی :ادھر ال ؤ یہ ٹیبلیٹ ،بہت ہو گیا کھیل ،اب جا ؤ کام کرو۔
ایمان :امی میں ابھی جا رہی تھی آپ اتنی نا انصا فی کیوں کر رہی ہیں؟
امی :میں نا انصا فی کر رہی ہوں؟اور تم جو سارا دن اس شیطان کو استعمال
کرتی ہو اور اپنا وقت بر با د کر رہی ہو؟
آپنے ابو کو آنے دیں میں ان کو ان تمام چیزوں کے بارے میں بتاؤں گی جو
تم تینوں نے میرے ساتھ کیں! اب میرے لیے میری عینک الؤ اور پھر سیدھا
مطالعہ کے لیے جاؤ!
ایمان :ٹھیک ہے.....
🐝سین چار🐝
(آخری منظر)
(امی اور ابا الؤنج میں بیٹھے ہیں جب تینوں بچے آئے اور احتجاج کرنے لگے)
وہ تینوں نعرے لگا رہے ہیں :ہمیں ہمارے گیجٹس دو! ہمیں ہمارے گیجٹس دو!
ہمیں ہمارے گیجٹس دو!
ابا :رکو ،کیا ہوا؟
فراز :امی نے ہم سے ہمارے گیجٹ چھین لیے!
ابا :کیو ں بھئی یہ ظلم کیو ں کیا؟ ( امی کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے)
امی :یہ سب بہت ال پرواہ ہو گئے ہیں۔ سارا دن فون پر ٹک ٹک کرتے رہتے
تھے۔ میری کو ئی با ت نہیں سنتے۔"
ابا :اچھا !!! کیا یہ سچ ہے بچوں؟
مریم :ٹھیک ہے ،لیکن انہیں ہمارا نقطہ نظر بھی تو سمجھنا ہوگا۔
امی :تم لوگ میری بے عزتی کرتے ہو ؟ اور میں سب سمجھتی ہو ں کہ تم لو
گ کیا کر تے پھر تے ہو۔"
ابا :تم لوگوں نے اپنی امی کی بے عزتی کی! یہ با ت تو قا بل قبول نہیں ہے!
پھر تو انہو ں نے صحیح فیصلہ کیا ہے! اور یہ آپ کی اپنی بھالئی کے لیے ہے۔
گیجٹس کے زیا دہ استعمال نے آپ لوگوں پر برا اثر ڈاال ہے جو کہ ظاہر ہے۔
اب اپنی امی کے فیصلے کا احترام کریں اور جب تک آپ پڑ ھا ئی پر تو جہ
نہیں دیں گے وہ آپ کے گیجٹ رکھ سکتی ہیں۔
ایمان :لیکن پا پا-
والد :فیصلہ ہو گیا ہے۔ بس پہلے کام پھر آرام.جلدی سے میرے اور اپنی امی کے
لئے اچھی سی چا ئے الؤ پھر میں تم سب کی اسا ئنمنٹ چیک کر وں گا۔
دیکھوں تو !میرے ال ئق بچے ،،پڑ ھا ئی میں کہا ں تک پہنچے ہیں۔۔"
( سب کمر ے سےچلے جا ئیں گے اور ماں سوشل میڈیاکے با رے میں حا
ضرین کو پیغام دیں گی۔)
بہت خوب!! نہا یت خو بصورت انداز سے سوشل میڈیا کے استعمال اور اس کے
نقصا نا ت و فوا ئد سے بخوبی آگا ہی دال ئی گئی۔
اب جما عت ہفتم کی سارہ علیااور ______ کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ سوشل میڈیا
پر اپنی مزاحیہ نظم اور اس کے حوالے سے ہمیں کچھ دلکش لفظ پیش کریں-
دنیا کی تمام چیزوں میں شر و خیر کا پہلو چھپا ہوتا ہے۔ اب یہ ہماری استعداد
پر منحصر ہے کہ ہم کون سا پہلو اختیار کرتے ہیں۔ اگر کسی چیز کا استعمال
صحیح اور جائز کاموں کے لئے کیا جائے جس سے دنیائے انسانیت فیض یاب
ہوتی ہوتو ظاہر سی بات ہے کہ اس کے فیوض و برکات اور ثمرات بہت فائدہ مند
ہوں گے۔ یہی حال سوشل میڈیا کے استعمال کا بھی ہے۔ کیو نکہ ہر چیز کی زیا
دتی نقصان دہ ہو تی ہے۔ بعض اوقات یہ عمل انسان کو انسان سے دور کر دیتا ہے
اور اس کے اثرات انسا نی رویوں اور سوچ پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس جدید دور میں کا غذ ،قلم ،کتا ب اور انسان کا گہرا تعلق قا ئم رہنا چا ہئے کیو
نکہ جو علم آپ اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں وہ کوئی مشین نہیں سکھا سکتی۔
ز بر دست!
اب آپ سب سے درخواست ہے کہ قومی ترا نے کے احترام میں کھڑے ہو جا ئے۔