ہّٰللا
َنْح َم ُد ٗہ َو ُنَص ِّلی َع ٰل ی َر ُسوِلِہ اْلَک ِرْیْم َاّم ا َبْعْد َفَاُعوُذ ِباِہّٰلل ِم َن الَّش ْیٰط ِن الَّر ِج ْیْم ِبْس ِم الَّرْح ٰم ِن الَّر ِح ْیْم
وہ ایک رات چراغہ ہوا زمانے میں
ہوا بھی ہو گئ شامل دیے جالنے میں
جگمگاتی ہے زمانے کی فضا کون آیا
ہر طرف پھیلے ہیں انواِر خدا کون آیا
کھل گئے بابِ کرم دہر کےمجبوروں پر
ہوگیا درد کے ماروں کا بھال کون آیا
دین و ایمان بھی قربان مری جاں بھی نثار
کس کی تعظیم کوکعبہ ہے جھکا کون آیا
آگیا لب پہ مرے اسمِ محمدﷺ خؔا لد
بزِم احساس میں جب شور اٹھا کون آیا
ماِہ ربیع االّول کو آپ ﷺ کی والدت باسعادت کا مہینہ ہونے کی خاص حیثیت کے اعتبارسے سال بھر کے تمام مہینوں پر فضیلت
وفوقیت حاصل ہے۔ ربیع ‘‘عربی میں موسِم بہار کو کہا جاتا ہے۔۔ اس مہینے میں سروِر دو عالم حضور اقدس جناب محمد رسول
ہللا ﷺ تشریف فرما ہوئے جو سید المرسلین ہیں صاحب قاب قوسین ہیں محبوب رب العالمین ہیں اور رحمتہ للعالمین اور سراج
منیر ہیں۔۔۔خاتم النبیین اور شفیع المذنبین ہیں آپ کی شان بیان کرنا انسان کہ بس میں نہیں
مختصر یہ کہ
ال ُيْمِكُن الَّثَناُء َك َم ا َك اَن َح ُّقُه
بعد از ُخ دا بُز رگ آپ ہی قصہ مختصر
محفل کا آغاز تالوت قرآن سے کریں گے وہ قرآن جو آپ صلی ہللا علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اطہر پر نازل ہوا اور آپ صلی ہللا
علیہ وآلہ وسلم ہی صاحب قرآن ہیں
نہایت متوجہ ہو کہ قرآن پاک کی تالوت سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کریں
نظر بھی رکھے ،سماعتیں بھی ،وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی
جو خانہء الشعور میں جگمگا رہا ہے ،وہی خدا ہے
میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
اے خدا تیری حقیقت مجھے معلوم کہاں
حمد باری تعالٰی کے لیے میں دعوت دیتی ہوں حرا کو کہ ہللا تعالٰی کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت پیش کرہں
ہم تو محبت لینے آئے ہیں محت بننے آئے ہیں کہ ہمیں محبت کرنا آ جائے لیکن ہللا ہمیں خوشخبری سنا رہا ہے محبوب بننے کی
تم تو چاہتے ہو کہ تم ہللا سے محبت کرو لیکن ہللا چاہتا ہے کہ ہللا تم سے محبت کرے کیسے کرے
ُقْل ِاْن ُكْنُتْم ُتِح ُّبْو َن َهّٰللا َفاَّتِبُعْو ِنْی
کیا کرو
اے محبوب صلی ہللا علیہ وسلم! آپ فرما دیجئے کہ اے لوگو! اگر تم چاہتے ہو کہ ہللا تم سے محبت کرے تو میری اتباع کرو
ہللا کی محبت آپ صلی ہللا علیہ وسلم کی پیروی میں ہے
یا محمد ایسی عزت آپ نے پائی کہ بس
کی شب معراج رب نے وہ پذیرائی کہ بس
ایک پل میں مصطفی کو عرش پر بلوا لیا
اپنے بندے کی خدا کو ایسی یاد آئی کہ بس
گنتے گنتے تھک گئیں تاروں کی ناز انگلیاں
مصطفی کے ہیں زمیں پر اتنے شیدائی کہ بس
میں نے تپتی دھوپ میں جب چھیڑ دی نعِت رسول
رحمتوں کی ہر طرف ایسی گھٹا چھائی کہ بس
نعت کی دعوت
الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے
یہ دل کا نگرہے کہ مدینے کی فضا ہے
سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں
کلیوں کے کٹوروں پہ آپ کا نام لکھا ہے
ٓایات کی جھرمٹ میں آپ کے نام کی مسند
لفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جڑا ہے
ُاترے کا کہاں تک کوئی آیات کی تہہ میں
قرٓان آپ کی خاطر ابھی مصروِف ثنا ہے
اب اور بیاں کیا ہوکسی سے آپ کی مدحت
یہ کم تو نہیں ہے کہ آپ محبوِب خدا ہیں
نعَت محبوَب دعور سند ہوگئی
فرِد عصیاں میری مسترد ہوگئی
مجھ سا عاصی بھی آغوَش رحمت میں ہے
یہ تو بندہ نوازی کی حد ہوگئی
عدم سے الئی ہے ہستی میں آرزوئے رسول
کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجوئے رسول
عجب تماشہ ہو میداَن حشر میں ہو بے دم
کہ سب ہوں پیِش خدا اور میں روبروئے رسول
جدھر جدھر بھی گئے وہ کرم ہی کرتے گئے
کسی نے مانگا نہ مانگا وہ جھولی بھرتے گئے
میں ان کے در کی غالمی پر کیوں نہ ناز کروں
سہارا ان کا رہا دن میرے گزرتے گئے
آپ کے روضۂ اقدس کو جان کر کعبہ
نیاز مند ترے در پر سجدے کرتے گے